لیڈر شپ/مثال

ویکی کتب سے
Jump to navigation Jump to search
لیڈر شپ
شروعات | ضابطہ کتاب | فہرست | لیڈر شپ کا تعارف | خصوصیات | مشورہ | مثال | اختتام

وہ جن سے سبق لیا جا سکتا ہے[ترمیم]

اس باب میں ہم ایسی شخصیات کی زندگیوں اور طرز ہائے قیادت پر مختصر سی نظر ڈالیں گے جنہوں نے لیڈرشپ کے میدان میں نئی تاریخ رقم کی اور اپنے عہد کا عنوان بن گئے۔ اس کا آغاز ہم اس مبارک ہستی کے نام سے کر رہے ہیں جسے بلاشبہ تاریخ عالم کا ہی نہیں بلکہ کائنات کا سب سے بڑا لیڈر سمجھا جاتا ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم]

قائدین کی ایک پوری جمعیت تشکیل دینا نہایت مشکل کام ہے اور اس کے لئے ایک مسلسل عمل کی ضرورت پڑتی ہے جس سے گزرنے والا ارتقاء کے مختلف مراحل سے آشنا ہوتا ہے۔ جو لوگ لیڈر بننا چاہتے ہیں یا جن سے لیڈرشپ کی توقع رکھی جاتی ہے، ان کا اس عمل سے گزرنا بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ایسا کرنا اور ہونا عین ممکن ہے۔ اس کی بنیادی ضرورت ’’تعلیم ‘‘ ہے جس کا آغاز پڑھنے، لکھنے اور بولنے (یعنی اظہارِ خیال) سے ہوتا ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس حقیقت سے کیا جا سکتا ہے کہ انبیاء کو بھی تعلیم حاصل کرنے سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا گیا۔ نبی اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تاریخ عالم کی واحد شخصیت ہیں جنہوں نے دینی اور دنیاوی دونوں لحاظ سے غایت درجہ کی کامیابی حاصل کی۔ انہیں نبوت و رسالت کی اہم ترین ذمہ داری سونپنے سے پہلے خدائے عزوجل نے انہیں علم عطا کیا۔ Madina Munavara.JPG نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عام انسان کی حیثیت سے زندگی کا آغاز کیا اور پھر دنیا کے عظیم ترین مذہب کے بانی مبانی بننے کے ساتھ ساتھ ایک نہایت طاقتور سیاسی لیڈر بھی بنے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ عرب کے بدو قبیلے ان کے زیرقیادت متحد ہوئے اور خدا کی وحدانیت کا پیغام لئے، ایمان کے نشے میں سرشار، پوری دنیا پر چھا گئے۔ ایک چھوٹے سے جزیرہ نما سے نکلنے والے توحید پرستوں نے انسانی تاریخ کی سب سے حیران کن فتوحات کے سلسلے کی بنیاد رکھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کو چودہ سو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن ان کی ایمانی قوت کے جواہر کی درخشندگی آج بھی روزِ اول کی طرح تاباں و فروزاں ہے۔ غیرمسلم مؤرخین بھی انہیں تاریخ عالم کے بااثر ترین لیڈرز میں شمار کرتے ہیں۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ مبارک جنوبی عرب کے شہر مکہ میں 571 عیسوی میں ہوئی جو کہ اس زمانے میں دنیا کے پسماندہ ترین علاقوں میں شامل تھا۔ تجارت، فنون لطیفہ اور علم کے مراکز سے دور، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خدائے تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی وحی کے ذریعے تعلیم حاصل کی۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس جو پہلی وحی لے کر آئے، اس کے الفاظ ہی یہی تھے کہ: ’’پڑھ، اپنے رب کے نام سے جس نے تخلیق کیا۔‘‘ (العلق:1)

اس وحی کا پہلا لفظ ’’اقرا‘‘ تھا جس کے معنی پڑھنا، تلاوت کرنا یا بلند آواز میں کہنا کے ہیں۔ یہی اللہ کا پہلا پیغام تھا۔ اس خدائی حکم کا ایک مطلب یہ بھی نکالا جا سکتا ہے کہ اللہ کا پیغام پڑھا جائے اور پوری دنیا میں پھیلایا جائے۔ مکتبی تعلیم کے حوالے سے آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کچھ نہ تھا لیکن ان کے ذہن اور دل کو روحانی علوم سے مالامال کر دیا گیا اور اب وہ وقت آ گیا تھا کہ وہ دنیا کے سامنے کھڑے ہو کر خدا کی حقانیت اور اپنی نبوت کا اعلان کر دیں۔ شہر العلم بننے سے پہلے انہوں نے براہِ راست خدا سے تعلیم حاصل کی تھی۔

آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ تعلیم انسانوں کا اثاثہ اور ان کا موروثی حق ہے۔ اسے تباہ نہیں کرنا چاہئے اور اسے حاصل کرنا فرض ہے۔ لہٰذا ایک لیڈر کی شخصی تعمیر کے لئے تعلیم یعنی علم کا حاصل کرنا لازم ہے۔ علم کا مطلب ہے بنیادی تعلیم، تجربہ اور مشاہدہ۔ اپنی پہچان بنانے کے لئے علم کا اظہار کرنا ضروری ہے اور اظہارِ علم، توسیع علم کا ایک طریقہ بھی ہے۔ روحانی قیادت سے قطع نظر، تاریخ ایسے جنگجوئوں، حکمرانوں اور لیڈروں کے تذکرے سے بھری پڑی ہے جنہوں نے تربیت و ارتقاء کے مختلف مراحل سے گزر کر اپنی شخصیت کی تعمیر کی۔ قدیم طرزِ حکومت میں مذہب، عدل و انصاف اور بوقت ضرورت افواج کی کمان ایک بادشاہ کے مشترکہ فرائض میں شامل ہوتے تھے۔ شاہی خاندان کے بچوں، خصوصاً ولی عہد کو، مستقبل میں انتظامِ سلطنت یا کلیدی عہدے سنبھالنے کے لئے ان علوم و فنون کی تربیت دینا شاہی روایت کا حصہ تھا۔ ان کی پرورش کا بنیادی مقصد ہی انہیں مستقبل کے قائدوں کے روپ میں ڈھالنا ہوتا تھا اور انہیں ہر اس علم و فن کی تربیت دی جاتی تھی جس کا ایک قائد کی ذات میں ہونا ضروری سمجھا جاتا تھا۔ بہت سے مذہبی اور دیگر علماء نے مختلف ادوار میں قیادت کی امتیازی خصوصیات کی تشریح کی ہے جو ہر دور میں بہ حیثیت مجموعی کم و بیش ایک جیسی ہی سمجھی جاتی رہی ہیں۔ جہاں تک مذہبی قائدین کا تعلق ہے، انہیں ہمیشہ خدائی برکات حاصل ہوتی تھیں اور ان کی تربیت تقدیر خود کرتی تھی۔ یہ تربیت عموماً گوناگوں آزمائشوں سے بھری ہوتی تھی اور خدا کے منتخب کردہ بندوں کے لئے بھی اس راستہ پر چلنا کچھ آسان نہ ہوتا تھا۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے والد کی وفات کے بعد پیدا ہوئے۔ ان کے پاس مدرسے کی تعلیم نہ تھی، اس کے باوجود وہ علم و حکمت کا مخزن تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں آفاقی دانش سے نوازا تھا۔ ان کی شان و عظمت کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ کوئی کتنا ہی بڑا عالم و فاضل کیوں نہ بن جائے، ان کے فضائل کی گرد کو بھی پہنچنے کا تصور نہیں کر سکتا۔ میں نے نہایت عاجزی سے، جس قدر بھی میری بساط ہے، ان کے چند صفاتِ جمیلہ کی وضاحت کرنے اور تاریخ عالم کے عظیم ترین انسان کی شخصیت کی ایک جھلک دکھانے کی کوشش کی ہے۔ اس موضوع پر دفاتر کے دفاتر بھی لکھ مارے جائیں تو بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک خوبی کا بیان کرنا ممکن نہیں۔ تمام مکاتب ہائے فکر کے علماء نے ان کی شخصیت، ان کے کردار، اور نامساعد حالات میں ان کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ ان کی سیرۃ کا بیان کرنے کے لئے اور ان کی لیڈرشپ کی تشریح کرنے کے لئے مسلم اور غیرمسلم، ہر دو جوانب سے بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ایک غیرمسلم نے تاریخ عالم کی 100 عظیم شخصیات کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی ذاتِ مبارکہ کو سرفہرست رکھا ہے۔ ان کی قیادت کی امتیازی خصوصیات کا مکمل بیان کرنا بے حد مشکل ہے۔ میں ایک اور غیرمسلم لیڈر، پنڈت جواہر لعل نہرو کا حوالہ دینا چاہوں گا۔ وہ اپنی کتاب ’’تاریخ عالم کی جھلکیاں‘ میں لکھتے ہیں:

’’چند دوسرے مذاہب کے بانیوں کی مانند، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) بھی اپنے وقت کے سماجی رسوم و رواج کے باغی تھے۔ جس دین کی انہوں نے تبلیغ کی، وہ اپنی سادگی، سلاست، صراحت اور مساوات و جمہوریت کی چاشنی کی بدولت، قرب و جوار کے ملکوں کے عوام کے لئے بے پناہ کشش کا حامل تھا جو ایک عرصے سے مطلق العنان بادشاہوں اور مطلق العنان مذہبی عمائدین کے ہاتھوں پستے چلے آ رہے تھے۔ وہ پرانے نظام سے بیزار ہو چکے تھے اور تبدیلی کے لئے پوری طرح تیار تھے۔ اسلام نے ان کے سامنے یہ تبدیلی پیش کی اور لوگوں نے اسے بڑی خوشی سے قبول کر لیا، کیونکہ اس تبدیلی نے ان کے طرزِ زندگی میں بہتری پیدا کی اور بہت سی کہنہ ناانصافیوں کو ختم کر دیا۔‘‘ نہرو مزید لکھتے ہیں: ’’عربوں کی کہانی اور ایشیا، یورپ، افریقہ کے ملکوں پر ان کے تیزی سے چھا جانے اور نئی ثقافتوں اور تہذیبوں کو جنم دینے کی داستان، تاریخ کے کرشموں میں سے ایک ہے۔‘‘

تاریخ کے یہ ’’کرشمے‘‘ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذاتِ بابرکات کا اعجاز تھے اور ان کی قدر و وقعت کا اندازہ صرف اسی وقت لگایا جا سکتا ہے جب ہم ان مشکلات اور مصائب کا مطالعہ کریں جن سے نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گزرنا پڑا، جس صبر کا انہوں نے مظاہرہ کیا، جن آزمائشوں میں وہ پورے اترے اور اپنے ہمراہیوں سمیت جو پُرصعوبت وقت انہوں نے گزارا۔ ان سب کی گہرائی میں اترے بغیر ہم اس انقلاب کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔ ان اصحاب کا سب سے بڑا اثاثہ ان کا ایمان اور یقین تھا۔ اسلام نے انہیں اخوت اور بھائی چارے سے بھی آشنا کیا۔ انہیں تمام مسلمانوں کی برابری کا پیغام دیا اور اس طرح جمہوریت کی ایک شکل لوگوں کے سامنے رکھ دی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد، پہلے خلیفہ راشد حضرت ابوبکرؓ صدیق اور دوسرے خلیفہ راشد حضرت عمرؓ فاروق دونوں کے ادوارِ خلافت زیادہ طویل نہ تھے لیکن اس مختصر سے عرصے میں عربوں نے مشرقی رومی سلطنت اور ایران کی ساسانی حکومت کو شکست سے دوچار کیا، یہودیوں اور عیسائیوں کے مقدس شہر یروشلم کو فتح کیا اور پورا مصر، عراق اور ایران مسلمانوں کی نئی سلطنت کا حصہ بن گئے۔

قائداعظم محمد علی جناح[ترمیم]

محمد علی جناح کراچی کے علاقے کھارادر میں وزیرمینشن میں کرسمس یعنی 25 دسمبر 1876ء کو پیدا ہوئے۔ (ان کی پیدائش کے حتمی سال کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں)۔ ان کے والد جناح پونجا خوجہ برادری سے تعلق رکھنے والے ایک خوشحال تاجر تھے۔ Jinnah1945.jpg قائداعظم نے ابتدائی تعلیم کریسنٹ مدرسہ میں حاصل کی اور اس کے بعد کراچی کے مشن سکول میں پڑھتے رہے۔ پندرہ سال کی چھوٹی سی عمر میں ہی وہ اپنے سے دگنی عمر کے افراد کے سامنے کراچی کے مقامی واقعات کے حسن و قبح کے متعلق تقاریر کرنے اور انہیں اپنی خطابت کے سحر میں جکڑے رکھنے کے فن کے لئے شہرت حاصل کر چکے تھے۔ ان کے آس پاس کی چھوٹی سی دنیا ان کی دلچسپیوں کا محور تھی اور روزمرہ کے واقعات ان کے لئے کتابوں کی حیثیت رکھتے تھے جن کا وہ مطالعہ کیا کرتے تھے۔

خوجہ برادری کی روایات کے مطابق نوجوان محمد علی کے بڑوں کی خواہش تھی کہ وہ بھی آگے چل کر اپنے والد کا سہارا بنیں اور کاروبار میں شریک ہوں۔ 1892ء میں سولہ سال کی عمر میں وہ لندن میں تجارتی روابط استوار کرنے کا بنیادی مقصد لے کر انگلستان روانہ ہوئے لیکن ان کی اپنی خواہشات اس مقصد سے مختلف تھیں۔ وہ کسی بڑے، زیادہ بلند نصب العین تک رسائی حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اپنے طور پر فیصلہ کرنے میں انہیں مشکل پیش آئی تو انہوں نے اپنے والد سے رابطہ قائم کیا جو اس وقت تک سخت کاروباری مشکلات کے شکار ہو چکے تھے اور انہیں واپس بلانا چاہتے تھے۔ واپس آنے کے بجائے انہوں نے اپنے والد سے لندن میں قیام کرنے کی اجازت حاصل کر لی۔

لندن جیسے بڑے شہر میں وہ تنہا تھے۔ کسی وسیلہ و تعلق کے بغیر اور ہندوستانی ہونے کی حیثیت سے گوناگوں مسائل کا سامنا کرنے کے باوجود، انہوں نے وہاں اپنی جگہ بنانے کے لئے جدوجہد کا آغاز کر دیا۔ انہیں خود پر اور اپنی تقدیر پر اعتماد تھا۔ ان کی زندگی اور جدوجہد ایسے تمام افراد کے لئے ایک حوصلہ افزا مثال ہے جو آج وکالت یا سیاست کے شعبوں میں جدوجہد کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ لندن ان کے لئے ایک مختلف اور اجنبی جگہ تھی لیکن یہ جگہ ان کی اپنی سوچ کے عین مطابق بھی تھی۔

انہوں نے بار کی رکنیت کے لئے تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جلد ہی انہوں نے لندن کے تعلیمی ادارے لنکنز ان میں داخلہ لے لیا اور بار کے لئے پڑھائی شروع کر دی۔ انہوں نے کسی یونیورسٹی میں داخلہ نہ لیا اور پڑھائی سے جو وقت بچ رہتا، اس میں برٹش میوزیم کی لائبریری میں جا کر عظیم افراد کی سوانح عمریاں پڑھنے کا شغل اپنا لیا۔ پڑھائی کے علاوہ ان کی دیگر سرگرمیاں بھی قابل ذکر تھیں۔ یہ امر خود ان کے لئے، اور ان کے ملک کے لئے بھی خوش قسمتی کا باعث بنا کہ اس کچی عمر میں بھی جو تعلقات انہوں نے استوار کئے وہ نہایت صحتمندانہ نوعیت کے تھے اور ان کی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے کے موجب بنے۔ یہاں سے حاصل ہونے والے تجربات اور مشاہدات نے ہی آگے چل کر انہیں قائداعظم بنایا۔ ان کے بعض مداح اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ایسے ذہین فرد کو یونیورسٹی کی تعلیم کیوں نہ مل سکی۔

یونیورسٹی کی تعلیم تو میسر نہ آئی لیکن اس کی جگہ انہیں دادا بھائی نورو جی کا سنہرا ساتھ میسر آ گیا جو لندن انڈین سوسائٹی کے صدر ہونے کے ساتھ ساتھ لندن میں ہندوستانی طالب علموں کے سب سے بڑے سرپرست اور مربی بھی تھے۔ محمد علی جناح کی خوش قسمتی تھی کہ سیاسی تربیت میں پہلا سبق انہوں نے دادا بھائی جیسے جانے پہچانے محب وطن سے حاصل کیا۔ دادا بھائی نے لندن کے ہندوستانی طالب علموں کے لئے ایک گائیڈ، فلسفی اور دوست کا کردار بڑی خوبی سے نبھایا۔ دادا بھائی کی رہنمائی میں محمد علی جناح نے سیاسی اقدار اور منصفا نہ رویوں کا گہرا شعور حاصل کیا۔

انگلستان میں گزرنے والے طالب علمی کے پانچ یا چھ سالوں نے محمد علی جناح کو ہندوستانی طالب علموں کی بہبود کے کاموں میں حصہ لینے پر مجبور کر دیا۔ (اپنے بعد کے دوروں میں بھی انہوں نے کبھی طالب علموں کو فراموش نہیں کیا)۔ دادا بھائی کی قربت اور تربیت کے اثرات ان پر ہمیشہ برقرار رہے۔ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ محمد علی جناح نے جن اصولوں کی تعلیم حاصل کی، انہی کو بروئے کار لاتے ہوئے انہوں نے ہندوستانی طالب علموں کی رہنمائی کی۔ اور یہ امر بھی شک و شبے سے بالاتر ہے کہ انگلستان میں اپنے قیام کو انہوں نے ہندوستان کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے لوگوں کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے کے لئے استعمال کیا۔

1896ء میں 21 سا ل کی چھوٹی سی عمر میں انہیں بار کا رکن منتخب کر لیا گیا اور اسی سال وہ ہندوستان واپس لوٹ گئے۔ زندگی کی سختیاں اور تلخ حقائق انہیں اپنا مزا چکھانے کو تیار کھڑے تھے۔ واپس پہنچے تو پتہ چلا کہ ان کا خاندان مالی مشکلات کے بھنور میں غوطے کھا رہا ہے۔ وہ پُرسکون اور آرام دہ زندگی خواب و خیال ہو چکی جس کے وہ لندن جانے سے پہلے عادی ہو چکے تھے۔ اپنی عملی زندگی کے ابتدائی سال انہوں نے کٹھنائیوں کے عالم میں گزارے۔ کاروبار ڈوبنے سے پہلے محمد علی جناح کے والد نے ان کے نام سے چند کاروباری سودے کئے تھے۔ یہ بھی کوئی مثبت نتیجہ نہ دے سکے بلکہ قانونی مسائل کھڑے کرنے کا سبب بن گئے۔ لہٰذا ہندوستان پہنچ کر جناح کو نہ صرف مالی مشکلات سے واسطہ پڑا بلکہ مقدمے بازی سے بھی عہدہ برآ ہونا پڑا۔ وہ بالکل نہ گھبرائے۔ انہوں نے اپنا مقدمہ خود لڑا اور مخالفوں پر فتح حاصل کر کے وکالت کی پریکٹس میں اپنی پہلی کامیابی درج کرائی۔

اپنی بے پناہ آرزو مندی کے سبب کراچی کا شہر انہیں اپنی پریکٹس کے لئے بہت چھوٹا معلوم ہوا اور 1897ء میں وہ اپنی جوانی، حوصلہ مندی اور کچھ کر دکھانے کی دھن کے جادوئی ہتھیار لے کر بمبئی منتقل ہو گئے۔ بمبئی میں گزرنے والے پہلے تین سال ان کے لئے خاصے کٹھن ثابت ہوئے۔ جناح نے ایک دوست کے ذریعے، اس وقت کے بمبئی کے ایڈووکیٹ جنرل مسٹر میکفرسن سے تعارف حاصل کیا۔ مسٹر میکفرسن نے نوجوان جناح سے مشفقانہ سلوک کیا اور انہیں اپنے چیمبرز میں آ کر مطالعہ کرنے کی اجازت دے دی۔ کسی یورپین بیرسٹر کی طرف سے کسی ہندوستانی کو ایسی اجازت دینے کی کوئی مثال اس سے پہلے نظر نہیں آتی۔ چھوٹے موٹے مقدمات ان کے پاس آنے لگے اور ان کی عمدہ کارکردگی کی بدولت ان کی ساکھ روزبروز پھیلنے اور مستحکم ہونے لگی۔ آہستہ آہستہ جناح نے بار میں ایک لیڈر کی حیثیت حاصل کر لی۔ 1906ء میں انہیں بمبئی ہائی کورٹ کے وکیل کی حیثیت سے منتخب کر لیا گیا۔ ان کی پریکٹس کا دائرہ بے انتہا وسیع ہو گیا اور وہ بمبئی بار میں بھی ایک شاندار عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ عملی دنیا کے جھگڑوں اور سازشوں سے انہوں نے اپنے آپ کو ہمیشہ لاتعلق رکھا۔ پیچیدہ حقائق کو بھی سادہ اور قابل فہم بنا دینے میں ان کی قابلیت غیرمعمولی تھی۔ اپنے آداب و اطوار کے معاملے میں ان کا طرزِ عمل فنکارانہ خوبصورتی کا حامل تھا۔ اس کے علاوہ ان کی سوچ بڑی واضح تھی اور کامن سنس جیسی کمیاب خصوصیت ان کے پاس وافر مقدار میں موجود تھی۔ ایک وکیل اور ماہر قانون کی حیثیت سے ان کی قابلیت اور صلاحیت کا احترام تمام قانونی حلقوں میں کیا جاتا تھا۔

جن صلاحیتوں نے انہیں قانونی دنیا میں کامیاب بنایا، وہی ان کے سیاسی کیریئر کے لئے بھی نہایت کارآمد ثابت ہوئیں۔ ان میں دو نایاب خصوصیات کا بڑا طاقتور امتزاج موجود تھا۔ ولولے اور خلوص سے دہکتا دھمکتا دل اور ایک گہری بصیرت و دانشمندی۔ کہا جا سکتا ہے کہ تقدیر نے انہیں سیاست کی دنیا میں ایک اہم کردار ادا کرنے کے لئے منتخب کر لیا تھا۔ ان کا طرزِ گفتگو نہایت دلکش اور سحر انگیز تھا اور اس قدرتی تحفے کو انہوں نے زندگی کے ہر موڑ پر بڑی خوبی سے استعمال کیا۔ ان کے پاس مقناطیسی کشش، متاثر کن طرزِ بیان اور دل چھو لینے والی آواز کے تہرے اثاثے موجود تھے۔ دوسروں کو قائل کرنے کی غیرمعمولی قوت، موضوع کی باریکیوں کو اجاگر کر دینے والی گفتگو، ٹھوس اور معنی خیز دلائل اور گہرائی میں اتر کر حقائق تک رسائی حاصل کرنے والی نگاہ کی بدولت انہوں نے جلد ہی ایک عظیم مناظر کے طور پر ایک قابل رشک ساکھ بنا لی۔ جناح ابتداً کانگریسی نظریات کے حامی تھے۔ ان کے سیاسی نظریات کی تشکیل گوکھلے، دادا بھائی نوروجی، سریندر ناتھ بینر جی اور چت رنجن داس جیسے لیڈروں کے ساتھ ربط ضبط کی بدولت ہوئی تھی۔ لجسلیٹو اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے ایک موقعے پر انہوں نے کہا:-

’’میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے سیاست میں اپنا پہلا سبق سریندر ناتھ بینر جی کی ہمراہی میں حاصل کیا۔ میں ایک مقتدی کی حیثیت سے ان کے ساتھ تھا اور انہیں اپنا لیڈر سمجھتا تھا۔ اپنے ملک میں انہیں عوام کے ایک عظیم اجتماع کی حمایت اور احترام حاصل تھا اور میں بھی اس اجتماع میں شامل تھا۔ جہاں تک مسٹر داس کا تعلق ہے، وہ میرے ذاتی دوست تھے۔ میں نے ان کی میزبانی کا لطف اٹھایا ہے اور ہم دونوں نے کئی سال اکٹھے کام کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، انڈین نیشنل کانگریس کے لیڈر دادا بھائی نورو جی سے متاثر ہونے کے حوالے سے ابتداً جناح ایک پکے کانگریسی تھے۔ جب دادا بھائی نوروجی کو دارالعوام کا رکن منتخب کیا گیا تو جناح نے ان کی پہلی تقریر دارالعوام کی بالکنی میں بیٹھ کر سنی۔ 1906ء میں کانگریس کے کلکتہ میں منعقد ہونے والے تاریخی اجلاس میں جناح نے خاصی توجہ حاصل کی۔ اس اجلاس میں دادا بھائی نوروجی نے صدر کی حیثیت سے ہندوستان کے لئے سوراج یعنی خود مختار حکومت کا نظریہ پیش کیا۔ جناح اس سالانہ اجلاس میں کئی سال سے شرکت کرتے چلے آ رہے تھے۔ اس اجلاس میں انہوں نے پہلی دفعہ تقریر کی۔ اسی سال انہیں بمبئی ہائی کورٹ کے ایڈووکیٹ کے طور پر چن لیا گیا۔

قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی کا ایک اور رخ، جس سے کم افراد آشنا ہیں، یہ ہے کہ وہ ایک مزدور بھی تھے اور کام کرنے والوں کے نصب العین کے حمایتی تھے۔ 1925ء میں انہیں آل انڈیا پوسٹل سٹاف یونین کا صدر منتخب کیا گیا۔ حکومت ہندوستان کے شعبہ ڈاک کے ملازمین کی نمائندگی کرنے والی یہ یونین ستر ہزار ارکان پر مشتمل تھی۔ 35 سال سے زائد عرصے تک انڈین لجسلیٹو اسمبلی کے رکن رہتے ہوئے قائداعظم نے اسمبلی کے اندر اور باہر مزدور پیشہ طبقے کے مفادات کی مسلسل پاسبانی کی۔ یہ ایک معلومہ حقیقت ہے کہ قائداعظم نے برصغیر میں مزدور پیشہ طبقے سے متعلق قوانین بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا اور برصغیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یونین سازی کو قانونی تحفظ دلواتے ہوئے منتشر مزدوروں کو متحد کیا اور ان کے مشترکہ مفادات کے لئے جدوجہد کی۔

ماضی پر نگاہ ڈالیں تو یہ امر باعث دلچسپی دکھائی دیتا ہے کہ 1906ء میں تیس سالہ جناح ایک معتدل مزاج رہنما تھے اور سترہ سالہ نہرو انتہاپسندوں کے مداح تھے۔ اس وقت وہ لندن میں سکول طالبعلم تھے۔ سیاست ان کے لئے محض ایک ضمنی دلچسپی کی حیثیت رکھتی تھی جبکہ ان کے اپنے والد پنڈت موتی لعل نہرو خود اس سمندر میں زیادہ گہرائی تک اترنے کے متعلق شش و پنج کے شکار تھے۔ لہٰذا جہاں جناح اپنے پہلے اجلاس کے تجربے سے متاثر ہو کر ہندو مسلم اتحاد کی تبلیغ کر رہے تھے، وہاں جواہر لعل اپنی کرسمس کی تعطیلات منانے کے لئے پیرس روانہ ہونے کی تیاری کر رہے تھے۔ 1910ء کے موسم خزاں میں جب جناح کو بمبئی کے مسلمانوں کی پریذیڈنسی کی طرف سے وائسرائے کی سنٹرل لجسلیٹو کونسل (سپریم لجسلیٹو کونسل) میں نمائندے کی حیثیت سے منتخب کیا گیا تو ان کے عملی سیاسی کیریئر کا آغاز ہو گیا۔ اس کونسل کے ارکان میں کانگریس کے سابق صدر گوپال کرشن گوکھلے بھی شامل تھے جنہیں مہاتما گاندھی نے اپنا سیاسی گرو قرار دیا تھا۔ جناح کی اصول پسندی، ذہانت اور اعتدال پسندی کے لئے گوکھلے کی پسندیدگی کا اظہار اس لقب سے ہوتا ہے جو انہوں نے اپنے جونیئر رفیق کار کے لئے منتخب کیا۔ ’’ہندو مسلم اتحاد کا سفیر۔‘‘ پیچیدہ اور متنازعہ کاموں کو خوش اسلوبی سے نمٹانا اور وقف کے بل کو کامیابی سے پاس کروانا جناح کی غیرمعمولی کامیابی اور کارکردگی کا بین ثبوت ہے۔

ایک کانگریسی ہونے کی حیثیت سے جناح مسلم لیگ کے قیام کے وقت سے اس کے کاموں میں کسی طرح کی شرکت کرنے سے محروم رہے لیکن ان کی ہمدردیاں مسلمانوں اور لیگ کے اہداف کے ساتھ تھیں۔ لیگ کی درخواست پر (جو جناح کی عدم شمولیت کے باوجود ان کے لئے احترام کے گہرے جذبات رکھتی تھی) جناح نے 1910ء میں الہ آباد میں سر ولیم ویڈربرن کے زیرسربراہی منعقد ہونے والی ہندو مسلم رہنمائوں کی کانفرنس میں شرکت کی ہامی بھر لی۔ ہندومسلم اتحاد کے لئے ان کا کام جاری رہا حالانکہ اس وقت کے حالات ان کے حق میں نہ تھے۔

1912ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے آئین کو ترقی پسندانہ اور حب الوطنی کی اقدار کے حوالے سے ازسرنو تشکیل دینے کے ضمن میں کلکتہ میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ دسمبر میں پیش کی جانے والی تجاویز کا جائزہ لینے کے لئے لیگ نے ایک سپیشل کونسل میٹنگ منعقد کی اور لیگ کے رکن نہ ہونے کے باوجود جناح سے درخواست کی گئی کہ وہ اس میٹنگ میں شریک ہوں اور اپنے مشوروں سے نوازیں۔ سر آغا خان اس میٹنگ کے صدر تھے۔ ایک بالکل نئے آئین کا مسودہ تیار کیا گیا اور 22 مارچ 1913ء کو لکھنؤ میں لیگ کے خصوصی اجلاس میں بڑے جوش و خروش سے اس آئین کو اپنا لیا گیا۔ لکھنؤ کی اس میٹنگ میں جناح جو ابھی تک لیگ کے رکن نہ تھے، نے نئے آئین کی شق D کو اپنی خصوصی اور قابل قدر تائید سے نوازا جس کی رو سے کانگریس کے نظریہ ’’تاجِ برطانیہ کے زیر حفاظت ہندوستان کے لئے آئینی ذرائع سے نظامِ انتظامیہ میں مسلسل اصلاحات سے، اتحاد کو فروغ دیتے ہوئے، عوامی جذبے کی نمو کرتے ہوئے اور تمام طبقات کے باہمی تعاون سے ایک خودمختار حکومت کا قیام‘‘ کی تائید ہوتی تھی۔

1913ء کے سال سے جناح کی زندگی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ لجسلیٹو کونسل کے رکن کی حیثیت سے وہ تین سال گزار چکے تھے۔ اس سال انہوں نے بڑی کامیابی سے وقف کا بل پیش کیا اور منظور کرایا۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک پرائیویٹ رکن کی طرف سے پیش کئے گئے بل کو قانونی حیثیت دی گئی۔ 1913ء میں مسلم لیگ کو نیا آئین ملا اور مسلم لیگ کے مالی معاونوں محمد علی اور سید وزیر حسین نے جناح کو مسلم لیگ میں شامل ہونے پر آمادہ کر لیا۔ 1913ء میں جس روز وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے ممبر بنے، اسی روز انگلستان کے لئے روانہ ہو گئے۔ اپنے احساسِ وقار کے تحفظ کے لئے انہوں نے مسلم لیگ کی رکنیت کے لئے شرط پیش کی کہ مسلم لیگ اور مسلم مفادات کے لئے ان کی وفاداری کو کسی بھی طریقے سے اور کسی بھی وقت پر اعلیٰ قومی مقصد سے، جس کے لئے وہ اپنی زندگی وقف کر چکے تھے، بے وفائی کے ساتھ مشروط نہیں کیا جائے گا۔

اپریل 1913ء کے وسط میں جناح، گوکھلے کی معیت میں ایک طویل چھٹی گزارنے کے لئے انگلستان روانہ ہوئے۔ انگلستان پہنچ کر بھی وہ آرام سے نہیں بیٹھے۔ وہاں انہوں نے لندن انڈین ایسوسی ایشن کی بنیاد ڈالی اور ایک ایسے ملک میں جہاں ذاتی کردار اس طرح کی عوامی کامیابی کا ناگزیر حصہ ہوتا ہے، جناح کو برطانوی پارلیمنٹ اور برطانوی عوام کے نمائندوں کے سامنے ہندوستانی نکتہ نظر پیش کرنے کے لئے ترجمان منتخب کیا جانا ان کی ذہنی اور سماجی اہلیتوں کا بہت بڑا اعتراف تھا۔

انہوں نے ہندوستانی طلبہ پر لگی پابندیوں کے ہٹائے جانے کے لئے جدوجہد کی اور انڈین کونسل کے طریقہ عمل کا مشاہدہ کیا۔ 1915ء میں گوکھلے کی وفات کے بعد جناح ایک مرتبہ پھر سیاست میں متحرک ہوئے۔ 1916ء کے کرسمس ویک میں انہیں آل انڈیا مسلم لیگ کا صدر منتخب کر لیا گیا۔ اس سے کچھ عرصہ قبل (اکتوبر میں) میں انہوں نے احمد آباد میں بمبئی صوبائی کانفرنس کی صدارت بھی کی۔ احمد آباد میں اپنے خطاب میں انہوں نے انتظامیہ کے سامنے ان اصلاحات کی تجاویز پیش کیں جو وہ اپنے صوبے میں کرنا چاہتے تھے۔ اختیارات کی تقسیم اور عدم ارتکاز ان اصلاحات کے مرکزی اجزاء تھے۔

جناح ہمیشہ سے ہندوستانی سیاست کے دو اہم عناصر، ہندو اور مسلمانوں کے درمیان ایک حقیقی اور دیرپا افہام و تفہیم پیدا کرنے کی کوشش کرتے چلے آئے تھے اور دسمبر 1916ء میں وہ ان دونوں جماعتوں، انڈین نیشنل کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ کو ایک پلیٹ فارم پر مجتمع کرنے میں کامیاب رہے جب میثاقِ لکھنؤ کے تحت دونوں جماعتوں نے حکومت سے پہلی جنگ عظیم کے بعد ایک جیسی نمائندہ اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ میثاقِ لکھنؤ کا مسودہ جناح نے خود لکھا تھا۔ جنگ عظیم اول سے پہلے جناح برٹش انڈیا کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے ممتاز ترین نوجوان لیڈر تھے اور وائسرائے اور آئی سی ایس کابینہ کے نزدیک انہیں خصوصی قدر و منزلت حاصل تھی۔ اس کے علاوہ جنگ کے بعد بمبئی کے انتہائی قدامت پرست گورنر لارڈ ویلنگٹن کی مخالفت کرنے پر انہیں بمبئی کے نوجوان طبقے میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ جنگ عظیم اول کے بعد ہندوستان کے حالات میں کوئی مثبت تبدیلی رونما نہ ہوئی۔ رولٹ ایکٹ کی شکل میں کالے قوانین کی ایک تلوار ہندوستانیوں کے سر پر مسلط کر دی گئی جن کی رو سے جنگ کے زمانے کے مارشل لاء قوانین کو زمانۂ امن میں بھی جاری رکھا گیا۔ جناح وائسرائے کی کونسل کے پہلے رکن تھے جنہوں نے اس ایکٹ کے اجراء پر احتجاجاً یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا کہ حکومت کی ضرورت سے زیادہ پریشان اور نااہل نوکر شاہی ان قوانین کے ذریعے عدل و انصاف کے بنیادی اصولوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی کوشش کر رہی ہے۔

جناح قانون کا بے حد احترام کرتے تھے لہٰذا انہوں نے گاندھی کی طرح ان قوانین کے خلاف یا اپریل 1919ء میں امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں جنرل ڈائر کی طرف سے بے قصور عوام کے بے رحمانہ قتل عام کے خلاف احتجاج میں ’’ستیہ گرہ‘‘ جیسی کوئی انقلابی تحریک شروع کرنے کی کوشش نہ کی۔ 1920ء میں ناگپور میں منعقد ہونے والے کانگریس کے اجلاس میں انہوں نے گاندھی کے ایسے فیصلوں کے خلاف دلائل دیئے اور باور کرایا کہ یہ اقدامات مزید تشدد پیدا کرنے کے علاوہ کچھ نہ کریں گے لیکن جوش میں بھرے کانگریسی منطقی باتیں سننے کو تیار نہ تھے۔ انہوں نے بھاری اکثریت میں جناح کے دلائل کے خلاف ووٹ دیئے اور ان پر آوازے کسے۔ ان کے رویئے سے دلبرداشتہ ہو کر جناح نے کانگریس چھوڑ دی اور انگلستان چلے گئے اور اس طرح کانگریس کی لیڈرشپ بلاشراکت غیرے گاندھی کے حصے میں آ گئی۔

1915ء میں مسلم لیگ اور کانگریس، دونوں کے سالانہ اجلاس پہلی مرتبہ ایک ہی شہر ، بمبئی میں منعقد کئے گئے۔ کانگریس کے اجلاس کی صدارت ستیندرا پرسنا سنہا کر رہے تھے (جو بعد ازاں رائے پور کے تعلقہ دار بنے اور دارالامراء میں 1919ء کا ایکٹ بڑی کامیابی سے پیش کیا اور پاس کروایا) جناح کی پیش کردہ تجاویز کو اس اجلاس میں بڑی آسانی سے منظور کر لیا گیا لیکن مسلم لیگ کے اجلاس میں مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت بیرسٹر مظہر الحق کر رہے تھے جو بذاتِ خود کانگریس کے ساتھ باہمی تعاون کے حامی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتحاد پیدا ہونے کی صورت میں ہی حقیقی اور دیرپا قومی ترقی ممکن ہو سکے گی لیکن اردو بولنے والی لابی خصوصی طور پر ایسی کسی بھی ’’قومی ترقی‘‘ کے مخالف تھی۔ لہٰذا جناح کی پیش کردہ تجاویز کو مسترد کر دیا گیا۔

جناح تشدد اور لاقانونیت کا راستہ اپنانے کے بجائے آئینی ذرائع اختیار کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ خواہ نصب العین کچھ بھی ہو، وہ قانون کو توڑنے کے بجائے اس کا تحفظ کرنا چاہتے تھے۔ اس وقت تحریک خلافت اور گاندھی کی سول نافرمانی کی تحریک جناح کے نظریات کے بالکل متضاد راستوں پر عمل پیرا تھیں۔ ناگپور کے اجلاس میں ہونے والا سلوک ان کے لئے آخری تنکا ثابت ہوا اور انہوں نے ہندوستانی سیاست سے لاتعلق ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ ابتداً انہوں نے دارالعوام میں نشست حاصل کرنے کے لئے برطانوی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ اس کے بعد اپنے مسلم دوستوں کی مسلسل درخواستوں اور اپیلوں سے مجبور ہو کر وطن واپس آنے اور بے قائد و رہنما مسلم لیگ کے تن نیم مردہ میں نئی روح پھونکنے پر رضامند ہو گئے۔ انہیں ایک مرتبہ پھر توسیعی قومی اسمبلی کا رکن منتخب کر لیا گیا جس کا پہلا اجلاس جنوری 1924ء میں دہلی میں ہوا۔

1922ء میں لکھنؤ میں مولانا آزاد، پنڈت موتی لعل نہرو اور دیش بندھو سی آر داس کے زیر قیادت سوراج پارٹی قائم کی گئی جس کے ارکان نے آزادی کے لئے جدوجہد کرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں مختلف قانونی سطحوں پر دستیاب مواقع کو نظرانداز نہ کرنے کا عہد کیا۔ انہی خطوط پر چلتے ہوئے دوسری جماعت نیشنل پارٹی کے نام سے پنڈت مدن موہن مالویہ نے اور تیسری پارٹی جناح نے قائم کی جو کہ ایک مرکزی جماعت کی حیثیت سے ان کی قیادت تلے ایک خودمختار حیثیت رکھتی تھی۔ اسمبلی میں جناح نے ایک خودمختار نکتہ نظر اختیار کیا۔ بعض اوقات ان کا ووٹ آزادی پسندوں کے حق میں ہوتا اور بعض اوقات سوراجیوں کے حق میں۔ جناح اسمبلی میں مشترکہ جدوجہد کے لئے ایک اتحاد بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ حکمرانوں کے خلاف متحدہ محاذ بنانے کا ایک عظیم موقع بالآخر سامنے آیا تھا۔ لیڈران کے درمیان ابتدائی ملاقاتوں کے بعد یونائیٹڈ نیشنلسٹ پارٹی قائم کی گئی جو 76 ارکان کی واضح اکثریت پر مشتمل تھی۔ اس کا بنیادی مقصد حکومت کو مفلوج کرنا تھا لیکن بدقسمتی سے یہ اتحاد زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکا۔

کانگریس کے ناگپور کے اجلاس میں جناح کے واک آئوٹ سے لے کر 1923ء میں مونٹیگ اصلاحات کے تحت منعقد ہونے والے عام انتخابات کے درمیانی تین سالوں میں پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا تھا۔ حالات میں رونما ہونے والی سب سے اہم تبدیلی یہ تھی کہ کانگریس کا اہم ترین حصہ آئینی ذرائع سے احتجاج کرنے کی پالیسی کی طرف پلٹ آیا تھا۔

صوبوں میں مشترکہ یا جداگانہ انتخابی نظام میں سے کسی ایک کے انتخاب کا مسئلہ بڑی اہمیت اختیار کر چکا تھا۔ گذشتہ ناکامیوں کے باوجود جناح مسلسل ہندو مسلم اتحاد کے لئے کام کر رہے تھے۔ 1924ء، 25ء اور 26ء کے اجلاسوں میں جناح نے ہندوستانی آئین میں رونما ہونے والی کسی بھی طرح کی تبدیلیوں کے نتیجے میں مسلمانوں کی پوزیشن کی وضاحت کی۔ ان کی پیش کردہ تجاویز نہایت معتدل اور منصفانہ تھیں۔ کانگریس اور ہندو مہاسبھا کی طرف سے جداگانہ انتخاب کی تجویز کی سخت مخالفت کی گئی۔ لہٰذا 1927ء میں مسلم رہنمائوں نے جناح کی درخواست پر دہلی میں ملاقات کی اور اس شرط پر مشترکہ انتخابات کی تجویز منظور کرنے کی حامی بھر لی کہ سندھ کو بمبئی پریذیڈنسی سے علاحدہ کر کے الگ صوبہ بنا دیا جائے۔ دسمبر 1928ء میں جناح نے مسلم لیگ کو آل پارٹیز کانفرنس میں اپنا وفد بھیجنے پر رضامند کر لیا تاکہ مشترکہ انتخابات کی بنیاد پر مسلمانوں کے منصفانہ مطالبے پیش کئے جا سکیں۔ کانگریس کی طرف سے یہ مطالبے رد کر دیے گئے اور مسلم لیگ نے مزید بحث میں حصہ لئے بغیر واپسی کی راہ اختیار کر لی۔

جناح کو مشترکہ انتخابات کے معاملے میں لیگ کے اندر بھی اختلافی آراء کا مقابلہ کرنا پڑا۔ اس مسئلے پر مسلم لیگ میں دو گروہ بن گئے جن میں سے ایک کو جناح لیگ اور دوسرے کو شفیع لیگ کا نام دیا گیا۔ جنرل سیکرٹری کے طور پر علامہ اقبال شفیع لیگ کے ساتھ آ گئے۔ دوسرا متنازع فیہ مسئلہ سائمن کمیشن کا تھا۔ چند سالوں بعد دونوں لیگیں جناح کے زیر قیادت پھر متحد ہو گئیں۔

جناح اپنی بیٹی دینا اور بہن فاطمہ کے ساتھ لندن چلے گئے۔ وہاں جا کر انہوں نے نہایت کامیابی سے وکالت کی پریکٹس شروع کر دی اور دارالعوام کی رکنیت حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کرتے رہے جس میں انہیں کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ 1936ء میں مسلم لیگ ابھی تک خوابِ گراں میں مبتلا تھی۔ 1927ء میں اس کے ارکان کی تعداد صرف 1330 تھی اور 1933ء میں بھی اس کی سرگرمیاں اس قدر محدود تھیں کہ جماعت کا سالانہ خرچہ تین ہزار روپے سے متجاوز نہ ہو پاتا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے اس سے وابستہ اور غیروابستہ افراد کو کسی معاملے کی کوئی پروا نہیں رہی۔ کونسل کے اجلاس کا کورم پورا کرنے کے لئے 310 ارکان میں سے صرف 10 کی موجودی کافی سمجھی جاتی تھی کیونکہ اس سے زیادہ ارکان کو شرکت پر آمادہ کرنا تقریباً ناممکن ہوتا تھا۔ ’’فیاضانہ ‘‘ کمیونل ایوارڈ نے مسلم مفادات کے لئے کسی طرح کے مطالبے کی کسر بھی کم ہی چھوڑی تھی۔ دیگر مسلم جماعتیں مثلاً مجلس احرار وغیرہ جن کے پاس زیادہ انقلابی نوعیت کے معاشی پروگرام تھے، زیادہ تر اثر و رسوخ شمالی ہندوستان خصوصاً بہار میں رکھتی تھیں۔ لیگ کے باقیماندہ لیڈران کو اچھی طرح احساس ہو چکا تھا کہ اس جماعت کی بقاء اب صرف جناح کو انگلستان سے واپس لانے اور جماعت ان کے حوالے کر دینے سے ہی ممکن ہے۔ یکم اور 2 اپریل 1934ء کو لیگ کونسل کے کم و بیش چالیس ارکان نے بڑی گرمجوشی سے اس تجویز کو منظور کر لیا اور جناح سے درخواست کی کہ وہ آئندہ اجلاس کے لئے تاریخ، جگہ اور ایجنڈے کا تعین کر دیں۔ 23 اپریل کو جناح لندن واپس لوٹ گئے جہاں ان کی پریکٹس انہیں سالانہ دو ہزار پائونڈ سے زیادہ کی آمدن دے رہی تھی۔ دسمبر میں وہ بمبئی واپس لوٹ آئے لیکن لیگ کی ازسرنو تنظیم کا کام انہوں نے اکتوبر 1935ء سے پہلے شروع نہ کیا۔ اپریل 1936ء میں بالآخر بمبئی میں مسلم لیگ کا اجلاس ہوا اور جناح کو تاحیات اس کا صدر قرار دے دیا گیا۔ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ مسلم لیگ کا وجود جناح کے وجود کے ہی مرہونِ منت تھا۔ یہ جماعت ان کے ساتھ ہی زندہ رہی اور پاکستان جیسا وسیع و عریض ورثہ چھوڑنے کے باوجود ان کے ساتھ ہی مر گئی۔ اب مسلم لیگ کے فیصلے جناح کی نموپذیر خواہشات کی عکاسی کرتے تھے۔ جس منطق، قوتِ ارادی اور مستقل مزاجی کے لئے جناح کو شہرت ملی، اب وہ ان کی سیاست کے واحد عناصر نہ رہے تھے۔ اس میں گاندھی اور اس کے نہرو اور ابوالکلام آزاد جیسے چیلوں کے خلاف، جو انہیں عوام کا نمائندہ ماننے سے مسلسل انکار کرتے رہے تھے، ایک خاموش، سرد لیکن بے حد گھمبیر غصے کا عنصر بھی شامل ہو گیا تھا۔ جناح نے اپنے لئے نئے سیاسی شاگردوں کا انتخاب کیا۔ بنگال کے حسین شہید سہروردی، متحدہ صوبوں کے لیاقت علی خان، بمبئی کے اسماعیل ابراہیم چندریگر، کلکتہ کے صنعت کار مرزا ابوالحسین اصفہانی، محمود آباد کے نئے راجہ امیر احمد خان۔

3 جنوری 1937ء کو کلکتہ میں ایک عوامی اجلاس میں جناح نے ملک میں ایک تیسری جماعت کی موجودی کا دعویٰ کیا اور کہا کہ انگریز اور ہندو کے علاوہ ہندوستان کے مسئلے کا ایک تیسرا فریق بھی ہے اور وہ ہے مسلمان۔ پنجاب میں 1920ء سے قائداعظم کی مخالف یونینسٹ پارٹی اقتدار میں چلی آ رہی تھی۔ یہ شاہ کی وفادار جماعت تھی اور ملک میں انگریزوں کی حکومت برقرار رکھنے کی خواہشمند۔ یونینسٹ پارٹی کے حمایتی اخبار اس کے اشارے پر قائداعظم کے خلاف لکھ رہے تھے۔ اگرچہ مسلم لیگ اور یونینسٹ پارٹی کے درمیان ایک اتحاد موجود تھا لیکن یونینسٹ پارٹی کے جاگیردار اپنے مفادات کی پاسبانی کے لئے مسلم لیگ کو ہڑپ کرنا چاہتے تھے۔ عاشق بٹالوی نے، جو قائداعظم کی جدوجہد آزادی میں ان کے ساتھ شریک رہے ہیں، اپنی کتاب ’’ہماری قومی جدوجہد‘‘ میں اپنے مشاہدات کی بدولت اس موضوع پر بہت کچھ لکھا ہے۔ انہوں نے یونینسٹ پارٹی کے ارادوں کی تفصیل لکھنے علاوہ یہ بھی بتایا ہے کہ قائداعظم نے انہیں کیسے ناکام بنایا۔ اپنی کتاب کے صفحہ نمبر661 پر وہ لاہور کی ایک نشست کے ضمنی انتخاب اور اس کے سلسلے میں یونینسٹ پارٹی کی غداری کے متعلق لکھتے ہیں جس کے ساتھ مسلم لیگ نے 1937ء کے عام انتخابات سے اتحاد بنا رکھا تھا۔ لاہور کی نشست نومسلم منتخب رکن خالد لطیف گابا کی برطرفی کے بعد خالی رہ گئی تھی۔ خالد لطیف گابا نے اس نشست کے لئے یونینسٹ پارٹی کے امیدوار خان بہادر میاں امیر الدین کو شکست دی تھی جو ڈپٹی کمشنر کے آفس میں سب رجسٹرار کی حیثیت سے نیم سرکاری ملازم تھے۔ ضمنی انتخابات میں یونینسٹ لیڈران سکندر اور ممدوٹ اپنے شکست خوردہ امیدوار کو اس نشست پر لانے کے لئے گٹھ جوڑ کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ اس نشست پر اپنا امیدوار لانے کے بجائے ان کے امیدوار کو سپورٹ کرے جبکہ مسلم لیگ کی خواہش تھی کہ ضمنی انتخابات کے لئے ٹکٹ ، مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن (مسلم لیگ کی ذیلی جماعت) کے لیڈر عبدالستار خان نیازی کو دیا جائے۔ بٹالوی لکھتے ہیں کہ معاملہ قائداعظم تک پہنچا جو میاں امیرالدین کے لئے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر چکے تھے۔ قائداعظم خود لاہور پہنچے اور یونینسٹ لیڈروں کی خواہشات کے برعکس ٹکٹ نوجوان عبدالستار خان نیازی کو دے دیا۔ حکومت کی وفادار یونینسٹ پارٹی اور مسلم لیگ کے کارکنوں کے درمیان اس نامزدگی پر ہونے والی کشمکش ایک تنازعہ بن گئی۔ یونینسٹ پارٹی کا ارادہ تھا کہ چور دروازے سے ایک ایک کر کے اپنے لیڈر مسلم لیگ میں داخل کر دے۔ مسلم لیگ پر قبضہ کرنے کے لئے اس کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی راستہ نہ تھا۔ عاشق بٹالوی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ضمنی انتخابات کے موقع پر اپنا فیصلہ سنا کر قائداعظم لاہور سے روانہ ہو گئے اور تار کے ذریعے میاں امیر الدین کے متعلق اپنی ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا جو یونینسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ابھی تک نیم سرکاری ملازم بھی تھے۔ لیکن یونینسٹ پارٹی نے اپنے گٹھ جوڑ سے ایسی صورتِ حال پیدا کر دی کہ عبدالستار خان نیازی نے اپنی امیدواری واپس لے لی اور میاں صاحب بلامقابلہ اس نشست سے منتخب ہو گئے۔

جناح کے مرکزی پارلیمانی بورڈ کے 34 ارکان میں سے 11 کا تعلق پنجاب سے تھا۔ صرف دو ان میں سے ایسے تھے جو 1937ء کے انتخابات میں قائداعظم کی نمائندگی کرنے پر آمادہ ہوئے اور ان میں سے ایک جلد ہی یونینسٹ پارٹی میں شامل ہو گیا۔ جناح یہ قسم کھا کر پنجاب سے روانہ ہوئے کہ میں اب دوبارہ کبھی پنجاب نہیں آئوں گا۔ یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ عظیم حسین نے فضل الحسین کی سوانح عمری میں اس واقعے کا ذکر کیا ہے۔ سائمن کمیشن آیا اور عوامی احتجاج اور ایجی ٹیشن کی ایک لہر پیدا کر کے گزر گیا۔ مسٹر گاندھی اور کانگریس نے حکومت کو مفلوج کرنے کے لئے دوسری مرتبہ سول نافرمانی کی تحریک شروع کر دی۔ ہندو اور مسلم ایک دفعہ پھر حکومت برطانیہ کے خلاف نفرت کے مشترکہ جذبات کے زیراثر متحد ہو گئے۔ گولیاں چلیں، لاٹھی چارج ہوئے، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں عمل میں آئیں اور بہت سے ہندو اور مسلمان لیڈروں کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ حکومت برطانیہ کو ہندوستانیوں کے جذبات کی گہرائی کا اندازہ ہونے لگا اور انہوں نے لندن میں تمام پارٹیوں کی گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا تاکہ ہندوستان کے لئے نیا آئین بنایا جا سکے۔ گاندھی اور کانگریس نے پہلی کانفرنس کا بائیکاٹ کیا لیکن لارڈ ارون کے ساتھ معاہدہ ہو جانے پر گاندھی کانگریس کے واحد نمائندے کی حیثیت سے دوسری کانفرنس میں شرکت کے لئے لندن چلے گئے۔ صوبائی خودمختاری کے حصول سے قبل کے مشکل دور میں جناح نے مسلم لیگ کو ازسرنو منظم کر کے نئی بنیادوں پر استوار کیا۔ مسلم لیگ سال میں ایک دفعہ ملنے اور مسلمانوں کی حالت زار پر شور و غوغا بلند کرنے والے ’’آرگن ‘‘ کے بجائے ایک عوامی جماعت بن گئی جس کے پاس ایک پالیسی بھی تھی اور ایک پروگرام بھی۔ جناح نے لندن میں شیکسپئر کے ڈراموں میں اداکاری کے ذریعے جو تجربہ حاصل کیا تھا، اسے اپنے سیاسی کیریئر میں عوام کی توجہ حاصل کرنے اور ان میں جوش و جذبہ پیدا کرنے میں بڑی خوبی سے استعمال کیا۔ نشریاتی تقریریں کرنے میں ان کا طریقۂ کار بڑی حد تک چرچل سے ملتا جلتا تھا۔ چرچل کی طرح وہ بھی اپنی ریڈیائی تقریروں میں مسلمانوں کو جدوجہد آزادی کے لئے آمادہ و بیدار کرنے کے لئے الفاظ پر زور دیا کرتے تھے۔ ان کا انداز سنجیدہ مگر مؤثر ہوتا تھا۔ ان کے خطاب کی تاثیر کا راز الفاظ و تراکیب کے موزوں و مناسب انتخاب اور استعمال میں پوشیدہ تھا۔ ان کی تقاریر ڈرامائی وقفوں اور آواز کے اتار چڑھائو سے بھرپور ہوتی تھی۔

گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء کے تحت 1937ء میں پورے برٹش انڈیا میں انتخابات کا انعقاد کروایا گیا اور جواہر لعل نہرو کی زبردست انتخابی مہم کے نتیجے میں زیادہ تر صوبوں میں کانگریس واضح اکثریت سے جیت گئی۔ مسلم لیگ جسے مختلف صوبوں میں علاقائی مسلم جماعتوں کی مسابقت کا بھی سامنا تھا، کسی بھی صوبے میں واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی اور کانگریس کی 716 نشستوں کے مقابلے میں صرف 109 نشستیں اس کے حصے میں آئیں۔ اپنی کامیابی کے نتیجے میں نہرو نے دوبارہ اس امر پر زور دینا شروع کر دیا کہ ہندوستان میں صرف دو قوتیں ہی موجود ہیں، کانگریس اور برطانیہ، باقی سب کو چاہئے کہ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ ہو جائیں۔ صرف قائداعظم تھے جنہوں نے کھلے لفظوں میں اعلان کیا کہ مسلم لیگ ہندوستان کی تیسری قوت ہے۔ کانگریس نے متکبرانہ انداز میں قائداعظم کی طرف سے مخلوط وزارتیں بنانے کی تجویز مسترد کر دی۔ کٹھ پتلی مسلمانوں کو وزیر کے طور پر منتخب کر لیا گیا۔ مختصر سے عرصے میں کانگریس پر ہندو عناصر کا غلبہ ہو گیا۔ 1940ء میں لاہور کے شالامار باغ میں قائداعظم نے مسلم لیگ کے ایک لاکھ پُرجوش پیروکاروں کے سامنے ببانگ دہل اعلان کیا۔ ’’مسلمان ایک اقلیت نہیں بلکہ ایک قوم ہیں۔ ہندوستان کا مسئلہ محض داخلی نہیں بلکہ بین الاقوامی حیثیت رکھتا ہے اور اسے اسی حیثیت سے حل کیا جانا چاہئے۔‘‘ اس سے اگلے روز 23 مارچ 1940ء کو مسلم لیگ نے قراردادِ پاکستان منظور کی جس میں واضح الفاظ میں اعلان کر دیا گیا کہ حکومت برطانیہ کا کوئی آئندہ آئینی منصوبہ اس وقت تک قابل عمل یا مسلمانوں کے لئے قابل قبول نہ ہوگا جب تک کہ اس میں ہندوستان کے شمال مشرقی اور مشرقی حصوں میں واقع مسلم اکثریتی علاقوں کو علیحدہ خودمختار ریاست کی حیثیت نہ دے دی جائے۔ لاہور کا مینارِ پاکستان آج بھی اس قرار داد کی پختگی اور استحکام کا اعلان کر رہا ہے۔

قرارداد میں لفظ ’’پاکستان‘‘ کا ذکر نہیں کیا گیا تھا اور یہ سمجھنے کے لئے ٹھوس وجوہات موجود ہیں کہ بنگال کے فضل الحق کے زیر سربراہی قرار داد کا مسودہ لکھنے والی کمیٹی کے سامنے دو آزاد ریاستوں کا تصور تھا، پاکستان مغرب میں اور 1971ء کے بعد بنگلہ دیش کا نام اختیار کرنے والی ریاست مشرق میں۔ لیکن جب صحافیوں نے جناح سے سوال کیا کہ ان کے ذہن میں ایک ریاست کا تصور ہے یا دو ریاستوں کا تو انہوں بڑے پختہ لہجے میں جواب دیا۔ ’’ایک۔‘‘ یہی وجہ تھی کہ اگلے روز تمام اخبارات کی شہ سرخیوں میں اس قرار داد کو ’’قراردادِ پاکستان‘‘ کے نام سے پکارا گیا۔ کانگریس کے زیادہ تر لیڈروں اور کئی برطانوی عہدیداروں کا خیال تھا کہ جناح محض وائسرائے کی سنٹرل کونسل میں زیادہ قوت حاصل کرنے یا ہر صوبائی کابینہ میں مسلم لیگ کے ارکان کے لئے علیحدہ نشستیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بہرحال، جناح نے اپنے مطالبوں میں کسی طرح کی ترمیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کا پہلا مطالبہ یہ تھا کہ کونسل کے لئے منتخب کئے جانے والے سارے مسلمان ارکان ان کی جماعت کے نامزد کردہ ہوں، اس طرح کانگریس کے مولانا آزاد جیسے قوم پرست مسلمانوں کو اس زمرے سے خارج کر دیا۔ دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ شمال مغرب اور شمال مشرق میں مسلم اکثریتی علاقوں کو انگریزوں کے جانے کے بعد پاکستان کے نام سے علیحدہ مملکت کا روپ دے دیا جائے۔

جنگ عظیم دوم کے اختتام کے بعد، ایٹلی کے زیر سربراہی لیبر پارٹی کی حکومت نے ہندوستان میں کابینہ مشن بھیجا جنہوں نے ایک سہ جہتی وفاقی منصوبہ پیش کیا جس کی رُو سے شمال مشرق اور شمال مغرب کے صوبوں کی خودمختاری کی صورت میں پاکستان ہر اعتبار سے حاصل ہو جاتا، سوائے نام کے اور پھر اس کشت و خون کا ظہور بھی نہ ہوتا جو تقسیم کے موقع پر ہوا۔ جناح جن کے پھیپھڑے تیزی سے جواب دیتے جا رہے تھے، ایک ہچکچاہٹ کے عالم میں رضامند ہو گیا اور کانگریس نے بھی آمادگی ظاہر کر دی۔

جولائی 1946ء میں نہرو نے، جنگ کے دوران جیل میں گزرنے والے سالوں کے درمیان کانگریس کی جو صدارت چھوڑ دی، دوبارہ حاصل کر لی اور اپنے پہلے انٹرویو میں پریس کو اطلاع دی کہ ہندوستان کی آئندہ منتخب اسمبلی ایک آزاد اور مکمل طور پر خودمختار ادارہ ہوگی اور اس میں کسی مشن کا بنایا ہوا ’’صوبائی اتحادوں‘‘ کا کوئی فارمولا شامل نہ ہوگا۔ نہرو کے اس بیان کے جواب میں قائداعظم نے نہایت سخت لہجے میں ’’آئین اور آئینی طریقوں کو خداحافظ‘‘ کہہ دیا۔ اگست کے وسط میں قائداعظم نے مسلم قوم سے راست اقدام کرنے کی درخواست کی۔ کلکتہ میں ایک سال طویل خونریز خانہ جنگی شروع ہو گئی، جلد ہی اس آگ کے شعلے بہار اور بنگال سے ہوتے ہوئے پنجاب اور سرحد تک پہنچنے لگے۔ 14 اگست 1947ء کے بعد برطانوی راج کے آخری سپاہی کی یہاں سے روانگی کے بعد بھی ایک عرصے تک پورے جنوبی ایشیا میں خون کی ندیاں بہتی رہیں۔

جب اپریل 1947ء میں مائونٹ بیٹن کی ملاقات گاندھی سے ہوئی تو مائونٹ بیٹن نے پوچھا کہ امن عامہ کی بحالی کے لئے کیا اقدام کیا جا سکتا ہے، اس پر گاندھی نے اسے پُرزور مشورہ دیا کہ محمد علی جناح کو وزیراعظم مقرر کر دیا جائے۔ (یہ عہدہ اس وقت نہرو کے پاس تھا)۔ بدقسمتی سے وائسرائے نے کبھی محمد علی جناح کو ایسی پیشکش نہ کی اور نہرو کی بات مان لی جس کا کہنا تھا کہ بیچارہ گاندھی دہلی سے اتنا عرصہ دور رہنے کے بعد ملکی معاملات سے اس قدر الگ تھگ ہو گیا ہے کہ اب اس کی بات کو سنجیدگی سے لینا ممکن نہیں رہا۔

کرشن مینن اور نہرو کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے مائونٹ بیٹن نے ملک تقسیم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ مائونٹ بیٹن نے نہرو کو بڑی آسانی سے اس بات پر رضامند کر لیا کہ وہ اسے اور اس کی بیوی کو کچھ عرصہ مزید ریاست ہندوستان میں گورنر جنرل کی حیثیت سے ٹھہرنے کی پیشکش کرے، البتہ قائداعظم سے بھی ایسی ہی پیشکش کے لئے کہنے اور آمادہ کرنے کی پوری کوشش کرنے کے باوجود ان سے ہاں کہلوانے میں ناکام رہا۔ اس کے بجائے جناح نے خود گورنر جنرل بن کر مائونٹ بیٹن کے برابر کا عہدہ سنبھالنے کا راستہ چنا۔ پاکستان کے بانی کے لئے یہ اعزاز اس کی شان کے شایان تھا لیکن قائداعظم اس اعزاز سے اپنی زندگی کے آخری تکلیف بھرے سال تک ہی لطف اندوز ہو سکے۔ بھٹو 1978ء میں سزائے موت کی کوٹھری سے بے نظیر کے نام لکھے جانے والے خط میں لکھتے ہیں۔ ’’ایک وقت میں قائداعظم کو ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کے طور پر جانا جاتا تھا۔ بعد ازاں ہندو کے تنگ نظری پر مبنی قوم پرستانہ نکتہ نظر سے سابقہ پڑنے کے بعد جس کی بنیاد سیاست اور معیشت میں ہندوئوں کے غلبے پر رکھی گئی تھی، قائداعظم نے غیرمعمولی عزم کے ساتھ اپنی توجہ علامہ اقبال کے خواب کو شرمندئہ تعبیر کرنے کی طرف مبذول کر دی۔ پاکستان کی تعمیر کے خلاف ہونے والی مزاحمت پہاڑ کی ناقابل تسخیر چوٹی کی طرح تھی۔ مزاحمت انڈین کانگریس کی طرف سے ہوئی، قوم پرست مسلمانوں کی طرف سے ہوئی جن میں مودودی اور اس کی جماعت اسلامی بھی شامل تھے۔ گاندھی نے اعلان کیا کہ وہ مادرِ ہندوستان کے ٹکڑے کبھی نہیں ہونے دے گا۔ مسلم اکثریت کے صوبوں میں، مزاحمت پنجاب کے وزیراعلیٰ خضر حیات ٹوانہ اور مفاد پرست لیڈروں کی طرف سے ہوئی۔ بنگال میں یہ مزاحمت شیربنگال فضل الحق کی سیماب صفت سیاست کی طرف سے ہوئی۔ (مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سیاست بہت سے شیر پیدا کر دیتی ہے لیکن جب آزمائش کا وقت آتا ہے تو یہ شیر، بلیاں ثابت ہوتے ہیں)۔ سندھ میں مخالفتی دستے کی سرکردگی اللہ بخش کر رہے تھے لیکن 1943ء میں انہیں قتل کر دیا گیا اور جی ایم سید نے ان کی چھوڑی ہوئی جگہ سنبھال لی۔ سرحد میں مخالفوں کے سرغنہ، سرحدی گاندھی، عبدالغفار خان تھے اور یہاں مخالفت اتنی شدید تھی کہ سرحد کی مستقبل کی وابستگی کا تعین کرنے کے لئے یہاں ریفرنڈم کروانا پڑا۔ بلوچستان کے زیادہ تر بااثر سردار پاکستان کے حق میں نہ تھے۔ وابستگی کا فیصلہ کرنے کے لئے شاہی جرگے کا انعقاد کیا گیا۔ ریاست جموں و کشمیر میں اس معاملے کو بہت زیادہ ہوم ورک کی ضرورت پڑی کیونکہ شیخ محمد عبداللہ دو قومی نظریئے کے خلاف تھے۔

’’پھر پاکستان کیسے معرضِ وجود میں آ گیا؟ عوام پاکستان چاہتے تھے۔ مسلم عوام قائداعظم کے پیچھے جمع ہو گئے، اپنے روایتی لیڈروں کو چھوڑ دیا اور خون میں لتھڑے ہوئے ہاتھوں سے پاکستان حاصل کیا۔ انڈین کانگریس کی معاندانہ پالیسیاں اور حکومت برطانیہ کا منفی رویہ ان کے حوصلے کو مزید بلند کرنے کا باعث بنے۔ یہ مسلم عوام کے جذبے اور عزم کی فتح تھی جن کی قیادت ایک ناقابل شکست لیڈر (قائداعظم) کر رہا تھا۔‘‘

سکندرِ اعظم[ترمیم]

قدیم دنیا کا سب سے مشہور فاتح سکندرِاعظم تاریخ کے غیرمعمولی ترین افراد میں سے ایک تھا۔ وہ مقدونیہ (یونان) کے دارالحکومت پیلا میں 356 قبل مسیح میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ، فلپ دوم، شاہِ مقدونیہ، ممتاز قابلیت اور غیرمعمولی دانش کا حامل انسان تھا۔ فلپ نے مقدونیہ کی فوج کو وسعت دی اور ازسرنو منظم کر کے ایک اعلیٰ ترین حربی قوت بنا دیا۔ پہلے اس نے اپنی فوج کو یونان کے شمال میں موجود علاقے فتح کرنے کے لئے استعمال کیا، پھر جنوب کی طرف مڑا اور یونان کا زیادہ تر حصہ بھی فتح کر لیا۔ اس کے بعد اس نے یونان کی شہری ریاستوں ایک وفاق تشکیل دیا اور خود اس کا حکمران بنا۔ وہ وسیع ایرانی سلطنت پر حملہ آور ہونے کے منصوبے بنا رہا تھا کہ 336 قبل مسیح میں، جب اس کی عمر صرف 46 سال تھی، اسے قتل کر دیا گیا، اور محض 20 سال کی عمر میں، کسی دشواری کے بغیر، سکندر مقدونیہ کے تخت پر براجمان ہو گیا۔ AlexanderTheGreat Bust.jpg سکندر نے ایک ایسی سلطنت تشکیل دی جس کی مثال تاریخ میں بہت کم ملتی ہے۔ اس وقت کی زیادہ تر معلوم دنیا اس کے زیر نگیں ہوئی اور 30 سال کی چھوٹی سی عمر میں وہ ایک زبردست لیڈر بن کر سامنے آیا۔ اسے قدیم دنیا کا ’’سپرمین‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ کہنے والے اسے غیرمعمولی دانش رکھنے والا سیاستدان بھی کہتے ہیں اور ایک جابر حکمران بھی قرار دیتے ہیں۔ فلپ نے اپنے بیٹے کی تربیت بڑی احتیاط اور بڑی کامیابی سے کی۔ سکندر غیرمعمولی اہلیت کے حامل فوجی سالار کے طور پر سامنے آیا، شاید تاریخ کا سب سے عظیم جرنیل۔ وہ ایک بے حد حوصلہ مند شخص بھی تھا۔

قدیم تاریخ میں، میری رائے میں اور بہت سے دوسرے لوگوں کی رائے میں بھی، ایسی لیڈرشپ تشکیل دینے میں سکندرِ اعظم ایک ولولہ خیز، موزوں ترین اور دلچسپ مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ سکندر کی زندگی تاریخ میں ایک موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس نے نہ صرف ایک عظیم سلطنت قائم کی بلکہ ایک عظیم ثقافت بھی تخلیق کی۔ بہرحال، میری گفتگو کا محور اس کی لیڈرشپ تک محدود رہے گا۔ پہلی نظر میں ہی پتہ چل جاتا ہے کہ سکندر کا باپ فلپ، شاہِ مقدونیہ، سکندر کے بچپن سے ہی اپنے ولی عہد کی حیثیت سے اس کی تربیت کرنے پر خصوصی توجہ دینے لگا تھا۔ لیکن سکندر کی ماں کی توجہ اس سے زیادہ خصوصی تھی۔ سکندر خوش قسمت تھا کہ اولمپیاس جیسی خاتون اس کی ماں تھی۔ سکندر کی ماں، اولمپیاس، البانیہ کے سرحد پر واقع ایک پہاڑی ریاست ایپیرس کی شہزادی تھی۔ ایک آفاقی حکمران کی حیثیت سے سکندر کی تربیت میں اس نے سب سے اہم کردار ادا کیا۔ یہ ایک تاریخی دور تھا جب قدیم تاریخ کے دانشمند ترین افراد یونان میں پیدا ہو رہے تھے۔ دانشور، فلسفی، خطیب، سائنس دان، ماہرین ریاضیات، ماہرین تعلیم وغیرہ۔ اس دور کے افراد آج بھی مشرق و مغرب کے تحقیقی اور تعلیمی شعبوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ ان میں سقراط، افلاطون، ارسطو، فیثاغورث، انیکسا غورث، ارشمیدس اور اسی مرتبے کے اور بہت سے افراد شامل تھے۔ سکندر کی ماں ملکہ اولمپیاس نے شہر ایتھنز کے نو بہترین دانشوروں کو اپنے بیٹے کے اتالیق کے طور پر منتخب کیا۔ یہ سب علم کے مختلف میدانوں کے شہسوار تھے۔ ان میں ملکہ کے ایک عزیز لانیڈس کو بھی شامل کر لیجئے۔ لانیڈس بہترین شخصی نظم و ضبط کا حامل تھا۔ سکندر کے معاملے میں وہ خاصا سخت گیر تھا۔ بہت سی باتوں پر سکندر کو اس کی سرزنش کا نشانہ بننا پڑتا۔ سکندر کا ذاتی ساز و سامان اس کی نگرانی میں رہتا تھا۔ وہ نہ صرف یہ کہ سکندر کو رنگ برنگ شاہی لباس نہ پہننے دیتا بلکہ طرح طرح کے لذیذ اور مرغن کھانے کھانے کی اجازت بھی نہ دیتا۔ سکندر کی روز کی سرگرمیاں اس کی ماں خود ترتیب دیا کرتی تھی۔ بیٹے کی تربیت کا شیڈول اس نے خود تیار کیا جس کی پابندی تمام متعلقہ افراد پر لازم تھی۔ اس کے مطابق لانیڈس سکندر کو طلوعِ صبح سے پہلے بیدار کر دیتا اور ایک غلام کے ساتھ اس کی دوڑ لگواتا۔ محل واپس آنے سے پہلے سکندر مذہبی رسومات میں شریک ہوتا، اس کے بعد اسے ناشتہ ملتا۔ اسے جنگلی جانوروں اور پرندوں کا گوشت، ہڈیاں اور شوربہ وغیرہ کھانے کو دیا جاتا تاکہ اس کا جسم مضبوط ہو۔

اس زمانے میں یونانی معاشرے میں عیش پرستی اور عیش کوشی کا بول بولا تھا۔ ابتداً خواتین کو بڑا محترم مقام دیا گیا لیکن بتدریج گھٹتے گھٹتے یہ مقام نہایت شرمناک سطح تک جا پہنچا۔ نوبت یہاں تک جا پہنچی کہ ایک مرد اور عورت کے مابین کھلے عام ناجائز تعلقات کو قابل حرف زنی بھی نہ سمجھا جانے لگا۔ ان لوگوں نے اپنے عقائد، اور اپنی زندگیوں کو، آلودہ کر ڈالا۔ امراء و شرفاء بھی اس دوڑ میں شامل ہو گئے۔ قحبہ خانوں کو مقدس مقامات کا رتبہ دیا جانے لگا۔ طوائفوں کو مذہبی درجہ دے دیا گیا اور تمام ہوس پرستانہ سرگرمیوں کے لئے ڈایونی سس نامی دیوتا کو تخلیق کر لیا گیا۔ اس دیوتا سے منسوب کردہ شہوانی رسوم کو مذہبی رواج بنا لیا گیا۔ سکندر کی ماں ان تمام حالات کو دیکھ رہی تھی اور اپنے بیٹے پر ان کے اثرات کے متعلق فکرمند تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ سکندر کو ہمیشہ اپنی نگرانی میں رکھتی تھی۔ وہ سکندر کو خود مختلف معبدوں اور دیوتائوں کے سامنے لے جاتی اور ہمیشہ اس کے گرد خدام کا ایک حلقہ بندھا رہتا۔ سکندر کی سرگرمیوں اور اس کی تعلیمی پیش رفت پر نظر رکھنے کے لئے کئی مخبر مقرر کئے گئے تھے۔ سکندر کا باپ شاہ فلپ اگرچہ خود عیش کوشی میں کسی سے پیچھے نہ تھا لیکن سکندر کی تربیت کا خیال اسے بھی رہتا تھا۔ اسے اندیشہ ہونے لگا کہ سکندر کی ماں اسے اپنے عقائد کا زندانی بنا ڈالے گی۔ اس نے سکندر کو چار لڑکوں کی ہمراہی میں ’’میزا‘‘ نامی معبد میں بھیج دیا۔ اس وقت سکندر کی عمر 13 سال تھی۔ اس کے ساتھ جانے والے چار لڑکوں میں سے دو اس کے باپ فلپ کی ناجائز اولاد تھے۔ چاروں مختلف مزاج اور عادات کے مالک تھے۔ ان میں سے ایک شمشیر زنی کا ماہر تھا، دوسرا تیراندازی کا، تیسرا کتابوں سے نفرت کرتا تھا اور چوتھا ایک احمق خوش فکرا تھا۔ انہیں سکندر کے ساتھ بھیجنے سے فلپ کا مقصد تھا کہ سکندر مختلف انسانی مزاجوں کی تفہیم حاصل کرے اور مختلف رویوں کے حامل لوگوں کو برداشت کرنے کا حوصلہ خود میں پیدا کرے۔ ’’میزا‘‘ دراصل یونان کے عظیم دانشور ارسطو کی اکیڈمی تھی۔ سکندر کو یہاں بھیجنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ خطابت، فلسفہ اور سیاسیات کی تعلیم حاصل کرے جو کہ انتظامِ حکومت کی تدریس کے روایتی حصے تھے۔ (ارسطو بذاتِ خود یونانی نہیں تھا بلکہ افلاطون سے تعلیم حاصل کرنے کے لئے وہاں آیا تھا)۔ بادشاہ کا مقصد تھا کہ سکندر کو یہاں مستقبل میں مقدونیہ یا یونانی وفاق کی بادشاہت کے لئے تیار کیا جائے۔ لیکن ملکہ کا ہدف یہ نہیں تھا۔ ارسطو سے سکندر کو تعلیم دلوانا تو اس کی بھی خواہش تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی چاہتی تھی کہ سکندر کو سیاسیات کی سائنس کی تعلیم دی جائے اور اسے وہ تمام علوم سکھائے جائیں جو کہ وسیع و عریض اور متنوع مقاصد و اہداف کی حامل سلطنت پر حکمرانی کے لئے ضروری ہیں۔ اس نے یہاں بھی سکندر کے پیچھے اپنے مخبر بھیج دیے تاکہ پتہ چلتا رہے کہ سکندر کی تعلیم و تربیت اس کی خواہشات کے مطابق ہو رہی ہے یا نہیں۔ جغرافیہ کا علم یونانیوں کی ایجاد ہے۔ ابتدائی نقشہ جات انہوں نے ہی تیار کئے تھے (چھٹی صدی قبل مسیح میں) اور نقشہ سازی ان کے جہاز رانوں کی سیاحتوں اور جائزوں کی بدولت ہی ممکن ہوئی۔ نقشہ سازی میں سکندر کو بھی خصوصی دلچسپی تھی اور اپنے بنائے ہوئے نقشوں کو درست حالت میں رکھنے کے لئے وہ دنیا کے مختلف حصوں کو آنے جانے والے تمام راستوں کا علم رکھنا ضروری سمجھتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دیگر بہت سے فاتحین کے برعکس جو ہندوستان میں درئہ خیبر کے راستے داخل ہوئے، سکندر واحد فاتح تھا جس نے اپنی زیادہ تر فوجیں درئہ خیبر کی طرف بھیجیں اور خود درئہ ہندوکش کے راستے ہندوستان میں داخل ہوا۔ مختلف دریائوں کی گزرگاہوں اور ڈیلٹائوں کے متعلق جاننے کا اسے شوق تھا اور وہ سمندروں کی وسعت کے متعلق حتمی معلومات حاصل کرنا چاہتا تھا۔

تربیت کے دوران سکندر کو سٹائی نامی ایک لڑکی سے محبت ہو گئی جس کے ساتھ اس کی راستے میں ملاقات ہوئی تھی۔ ملکہ کو اس کا پتہ چلا تو وہ برافروختہ ہو گئی اور اس نے اپنے آدمیوں کے ذریعے لڑکی کو ایسے خفیہ طریقے سے اغوا کروایا کہ سکندر کو پتہ ہی نہ چل سکا کہ اسے زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔ اس وقت سکندر کی عمر سترہ سال تھی۔ محبوبہ کی جدائی سے دلبرداشتہ ہو کر تعلیم میں اس کی دلچسپی کم ہونے لگی۔ اس وقت تک میزا میں اس کی تعلیم و تربیت کا دورانیہ تقریباً مکمل ہو چکا تھا۔ اس کے باپ نے اس کی عملی تربیت کرنے کے نکتہ نظر سے اسے واپس بلوا کر ہیلاس پورٹ (موجودہ ڈارانیلس) بھیج دیا جہاں اس کی عملی فوجی تربیت کی جانی تھی۔ میدانِ عمل میں سکندر تین چیزوں کے ساتھ داخل ہوا۔ ایک خنجر، اس کا پالتو گھوڑا اور قدیم یونانی شاعر ہومر کی کتاب جو اس کے اتالیق ارسطو نے اسے پیش کی تھی۔ اب وہ وقت شروع ہوا جب اس نے مشاہدے اور تجربے کے ذریعے اپنی تربیت خود کرنے کے عمل کا آغاز کیا۔ اسے فوج کے کچھ حصے کی کمان دے دی گئی اور مستقبل کے سپہ سالار کی حیثیت سے اس کی تربیت شروع ہو گئی۔ جب وہ بادشاہت کی تربیت حاصل کرنے کے عمل میں داخل ہوا تو ذہنی و جسمانی اعتبار سے پوری طرح تیار ہو چکا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ وقت آ پہنچا ہے کہ جب اسے اپنی زندگی کا آغاز کر دینا چاہئے۔ اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں اس کے سب سے بڑے ہتھیار اس کا حوصلہ، علم اور دانش تھے۔ وہ نہایت بہادر اور سخت محنت و مشقت کا عادی تھا۔

سکندر کو شاید تاریخ کی سب سے ڈرامائی شخصیت کہا جا سکتا ہے۔ اس کی زندگی اور اس کی شخصیت روزِ اول سے دلچسپی اور کشش کا محور رہی ہے۔ اس کی زندگی کے حقیقی واقعات بھی اپنی نوعیت میں نہایت متاثر کن ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ اس کے متعلق بہت سی اسطوری روایات بھی مشہور ہو چکی ہیں۔ وہ تاریخ کا سب سے عظیم جنگجو بننے کا عزم کر چکا تھا اور وہ اس اعزاز کا مستحق بھی نظر آتا ہے۔ ایک انفرادی جنگجو کے طور پر اس کی کارکردگی ہمت اور مہارت کا دلکش امتزاج تھی۔ اپنی زندگی میں اسے کبھی کسی ایک لڑائی میں بھی شکست نہیں ہوئی۔

اس کے ساتھ ساتھ وہ نہایت اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں کا بھی مالک تھا۔ مسلسل محنت کرنا اس کی گھٹی میں پڑا تھا۔ مناسب تعلیم و تربیت اور دیکھ بھال نے اس کی صلاحیتوں کی نمو کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ارسطو جیسا شخص اس کا اتالیق تھا جس نے اسے ایک عظیم ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کے لئے تیار کیا۔ ایک دفعہ جب ارسطو کو پتہ چلا کہ سکندر ایک عورت کے ساتھ تعلقات بڑھا رہا ہے تو اس نے بڑی سختی سے اسے روک دیا۔ سکندر کو اس کا حکم ماننا پڑا کیونکہ ارسطو جیسے اتالیق کو ناراض کر کے وہ اپنی تعلیم سے ہاتھ دھونے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا۔ جب سکندر نے اس عورت سے ملنا جلنا ترک کر دیا تو وہ حیران ہوئی۔ تفتیش کرنے پر اسے سکندر کے استاد کے حکم کا پتہ چلا۔ اس سے اگلے روز یہ پیغام بھیج کر اس نے سکندر کو براہِ راست اپنے کمرے میں بلوا لیا کہ وہ اسے ایک بڑی اہم چیز دکھانا چاہتی ہے۔ مقررہ وقت پر جب سکندر وہاں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ وہ عورت کسی مرد کو گھوڑا بنائے ہوئے اس کی کمر پر سوار ہے۔ وہ مرد اس کا استاد ارسطو تھا اور وہ عورت اس کی کمر پر سواری کر رہی تھی۔ سکندر کو دیکھ کر ارسطو بالکل پریشان نہ ہوا۔ اس نے سکندر سے صرف اتنا کہا کہ اگر ایسی عورت ارسطو جیسے بوڑھے کو یہ کرنے پر مجبور کر سکتی ہے تو سکندر جیسے نوجوان کو وہ کیا کرنے پر آمادہ نہیں کر سکتی! اس نے سکندر کو خبردار کیا کہ اس کا سفر طویل ہے اور اسے ایسی رکاوٹوں سے بچ کر چلنا چاہئے۔ اس طرح سکندر بگڑنے سے محفوظ اور زندگی میں آگے بڑھنے میں کامیاب رہا۔

سکندر بھی اس یونانی مفروضے کا قائل تھا کہ ساری تہذیب مشرق سے مغرب تک پہنچی اور ابتداً ایشیا مختلف میدانوں میں اعلیٰ معیارات کا مرکز تھا۔ مصر کی فتح کے دوران بھی سکندر نے بہت سا علم حاصل کیا کیونکہ وہ ہمیشہ تحصیل علم کا متمنی رہتا تھا۔ وہ ارسطو کا شاگرد تھا جسے سقراط نے تعلیم دی تھی۔ لہٰذا سکندر بھی سقراط کے اس نظریئے پر یقین رکھتا تھا کہ ایک فلسفی کو بادشاہ ہونا چاہئے یا بادشاہ کو فلسفی ہونا چاہئے۔ یہی وجہ تھی کہ تمام عمر اس کی دلچسپیوں کا محور حصولِ علم ہی رہا۔ وہ حقیقی معنوں میں سقراط کے نظریات کا فلسفی تھا اور اس اعتبار سے حکومت کرنے کا حق رکھتا تھا۔ تاہم ارسطو نے سکندر کو مشورہ دیا کہ وہ یونانیوں کا سیاسی لیڈر بنا رہے اور انہیں ایک دوست کی حیثیت دے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہ وہ غیرمتمدن قبیلوں تک تہذیب کی روشنی پہنچانے کے لئے مشعل بردار کا کردار ادا کرے۔ سکندر نے اپنے اتالیق کے مشوروں پر دل و جان سے عمل کیا۔ ایتھنز میں سکندر نے ایریوپگاس نامی تاریخی مقام کا دورہ کیا جو کہ ایک قدیم دربار تھا اور جہاں بہت سے تاریخی واقعات پیش آئے اور فیصلے کئے گئے تھے۔ یونانی تاریخ میں یہ جگہ ایک منفرد مقام کی حامل تھی۔ وہاں اس کی ملاقات قدیم تاریخ کے عظیم ڈرامہ نگاروں سے ہوئی۔ درحقیقت شاہ فلپ ایتھنز کو فتح کرنا چاہتا تھا لیکن اس کے بجائے سکندر کے زیرسربراہی اس نے ایک خیرسگالی وفد بھیج دیا۔ سکندر نے یہاں آ کر بہت کچھ سیکھا۔ اس کی ملاقات سوپوکلنگ، پارٹاناس اور امپیڈوکلپس جیسے بڑے ڈرامہ نگاروں سے ہوئی۔ سکندر ہی تھا جس نے اپنے باپ کو ’’متحدہ یونان‘‘ کی تنظیم بنانے کی تجویز دی جس پر عمل کرتے ہوئے فلپ کے زیرقیادت یونانی ریاستوں کا وفاق تشکیل دیا گیا۔ سکندر نے سیاسی تعلیم اور خطابت میں مہارتِ تامہ رکھنے والے سوفسطائیوں سے ملاقات کی تاکہ ان سے کچھ سیکھ سکے۔ وہ اپنے وقت کے بڑے بڑے دانشوروں اور فلسفیوں سے ملا۔ ان میں دیوجانس بھی شامل تھا جو سکندر کی شان و شوکت سے ذرہ برابر متاثر نہ ہوا۔

سکندر کی کامیابی کا سب سے اہم نتیجہ یونانی اور مشرقِ وسطیٰ کی تہذیبوں کا باہم ملاپ تھا جس نے دونوں تہذیبوں اور ثقافتوں کو پہلے سے زیادہ متنوع اور بھرپور بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ سکندر کی زندگی کے دوران اور اس کے فوراً بعد یونانی ثقافت ایران، میسوپوٹیمیا، شام، جوڈیا اور مصر میں پھیل گئی۔ سکندر یونانی اثرات کو ہندوستان اور وسطی ایشیا تک لے گیا۔ لیکن ثقافتی اثرات کا معاملہ یک طرفہ ہرگز نہ تھا۔ سکندر کی موت کے فوراً بعد شروع ہونے والے ہیلنستانی دور میں مشرقی خیالات، خصوصاً مذہبی عقائد و نظریات یونانی دنیا میں پھیل گئے۔ ہیلنستانی ثقافت نے، جو اصلاً یونانی ہونے کے باوجود مشرقی عقائد و روایات کا گہرا اثر لئے ہوئے تھی، بعد ازاں روم کو بھی متاثر کیا۔ زیادہ تر مؤرخین نے سکندر کی عظیم فتوحات اور کامیابیوں کی بنیادی وجوہات میں دو کا تذکرہ خصوصی طور پر کیا ہے۔ اول، وہ بنیادی طور پر ایک بہادر اور بے خوف شخص تھا۔ دوم، علم کے لئے اس میں فطری تشنگی اور طلب موجود تھی جو تمام عمر برقرار رہی۔ وہ ایک دانشور اور ایک فلسفی بادشاہ تھا جس کے سر پر غیرمعمولی حوصلہ مندی اور دلیری کا تاج تھا۔ ہر جنگ میں فیصلہ کن حملے کی کمان وہ خود کیا کرتا تھا۔ یہ ایک نہایت پُرخطر کام تھا اور ایسے حملوں کے دوران وہ کئی مرتبہ زخمی بھی ہوا۔ لیکن اس کے فوجی دستے سکندر کو اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہوئے دیکھتے اور انہیں پتہ چلتا کہ سکندر نے انہیں کوئی ایسا کام کرنے کے لئے نہیں کہا، جو وہ خود نہیں کرنا چاہتا۔ اس طرح ان کا مورال آسمان کو چھونے لگتا۔

سکندر اپنے اتالیق ارسطو کے لئے محبت اور احترام کے گہرے جذبات رکھتا تھا اور علم حاصل کرنے کی راہ میں ہمیشہ اس کی نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتا رہا۔ تعلیمی زمانے میں، ایک روز وہ ارسطو کے ساتھ کہیں جا رہا تھا کہ ان کا گزر ایک خطرناک پہاڑی ندی پر سے ہوا۔ سکندر نے پہلے خود اس ندی کو عبور کیا اور اس کے بعد ارسطو کے گزرنے کا راستہ بنایا۔ بعد ازاں جب ارسطو نے پوچھا کہ اس نے پہلے اپنی جان خطرے میں کیوں ڈالی تو سکندر نے جواب دیا۔ ’’اگر ارسطو زندہ رہے تو وہ سینکڑوں سکندر اور بنا دے گا لیکن ہزاروں سکندر مل کر بھی ایک ارسطو نہیں بنا سکتے۔‘‘ 334 قبل مسیح میں سکندر ایشیائے کوچک میں داخل ہوا۔ 333 قبل مسیح میں اس نے ایران کے حکمران شاہ دارا سوم کو شکست دے کر بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ بعد ازاں دونوں میں دوبارہ جنگ ہوئی جس کے نتیجے میں دارا ایک دفعہ پھر اپنی فوجیں چھوڑ کر بھاگ گیا۔ طائر اور غزہ کو فتح کرنے کے بعد سکندر نے مصر کا رخ کیا۔ مصر اس دور میں ایران کے زیر نگیں تھا لہٰذا مصریوں نے بخوشی سکندر کی حکومت کو قبول کر لیا اس یقین کے ساتھ کہ سکندر ان کے دیوتا آمن کا اوتار ہے۔ سکندر نے سکندریہ کا شہر تعمیر کیا جو کہ بعد ازاں تجارت اور علم کا مرکز بنا۔ اس کے بعد اس نے ایک دفعہ پھر دارا کو شکست دی اور سوسا، بابل اور پیری پولیس کے شہر فتح کر لئے۔ شاہ دارا کو اس کے مقرر کردہ باختر کے گورنر بیسس نے گرفتار کر کے قتل کر دیا۔ اس کے فوراً بعد سکندر باختر پر حملہ آور ہوا اور 327 قبل مسیح میں اس نے مساگا جو کة موجودہ ضلع دیر بمقام تالاش ﴿ مچو غونڈیٴ﴾ ملاکنڈ ڈویژن کو فتح کر کے ارنونس کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ سکندر نے ارنونس کی بیٹی رخسانہ سے شادی کی تاکہ مقامی لوگوں کے ساتھ اچھے روابط استوار کئے جا سکیں۔ بعد ازاں اس نے دارا کی ایک بیٹی کو بھی اپنے عقد میں لیا۔ ایرانی سلطنت پر مکمل فتح حاصل کرنے کے بعد سکندر نے درئہ ہندوکش کے راستے ہندوستان پر حملہ کر دیا۔

ایک مرتبہ سکندر نے اپنے درباریوں کے سامنے کہا کہ میرا باپ مجھے آسمان سے زمین پر لایا لیکن میرا استاد مجھے زمین سے آسمان پر لے گیا۔ یہ مقولہ علم کے لئے سکندر کی محبت اور طلب کا پتہ دیتا ہے۔ وہ اپنی ساری زندگی اس کے لئے سرگرم رہا اور جب اور جہاں ضرورت پڑی اپنے استاد ارسطو کے ذریعے اپنے علم کو وسیع اور مؤثر بناتا رہا۔ اس نے زمین کے وسط اور چاند سورج کی حرکت کے بارے میں اپنے نظریات پیش کئے۔ ایتھنز کی دانش نے اس کے علم اور ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ کیا۔ مصر پہنچ کر اس نے مختلف علوم سے کسب فیض کیا۔ اس نے اپنے مفتوحہ علاقوں کے پرانے رسوم و رواج کو بدلنے کی کوشش کبھی نہ کی اور ہمیشہ اپنے استاد ارسطو کی نصیحت پر کاربند رہا کہ ’’جب تم کسی جگہ کو فتح کرتے ہو اور مفتوحین کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے، تو فتح کے ثمرات ختم ہو جاتے ہیں۔‘‘

ایران کی قدیم سلطنت کو ختم کرنے کے بعد، سکندر کی طلبِ علم دوبارہ عود کر آئی اور اس نے ارسطو سے رابطہ قائم کیا۔ جواباً ارسطو نے اس کے پاس اپنے چار شاگرد، کیلس تھینکس، اینگا کینکس، آنیسکٹریوس اور سٹرابیو، بھیجے۔ کیلس تھینکس، ارسطو کا شاگرد ہونے کے علاوہ اس کا بھانجا بھی تھا۔ اس وقت مقدونیہ کی تاریخ وہ لکھ رہا تھا اور سکندر کے متعلق اس نے بہت کچھ لکھا۔ وہ ایک نہایت دانشمند اور عمدہ جمالیاتی حس رکھنے والا انسان تھا، ہمہ وقت اپنی ذات میں مگن اور دنیا سے لاتعلق رہنا اس کی عادت تھی۔ اینگا کینکس، بذاتِ خود فلسفی نہ تھا لیکن سکندر کی شخصیت سے متاثر ہو کر اس کی خدمات بجا لانے کا خواہشمند تھا۔ آنیسکٹریوس ارسطو کے ان طالبعلموں میں شامل تھا جو دن رات اس کی تعلیمات کا حق ادا کرنے کے لئے کام کیا کرتے تھے۔ وہ ایک دانشور تھا۔ سٹرابیو علم جغرافیہ کا ماہر تھا اور تاریخ پر گہری نظر رکھتا تھا۔ سکندر نے ان چاروں کے علم سے بھرپور انداز میں اکتساب کیا۔ سکندر ہی مشرقی لوگوں کو مغربیوں سے اور مغربی لوگوں کو مشرقیوں سے متعارف کرانے کا باعث بنا۔ اس نے یوروایشیائی ثقافت کی بنیاد رکھی اور ایک وقت میں اس کی زیادہ تر فوج اس کے مفتوحہ علاقوں سے حاصل کئے گئے فوجیوں پر ہی مشتمل تھی کیونکہ اس کے پرانے یونانی فوجیوں میں سے اکثر واپس چلے گئے تھے۔ اس کے پاس دانشوروں، انجینئروں، فلکیات کے ماہروں اور پیش گوئوں کی ایک فوج ظفر موج تھی جس میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ اس نے مقدونی اور ایشیائی بچوں کی مشترکہ تعلیم کے لئے ایک اکیڈمی بنائی جس میں پچاس ہزار طلبہ کی گنجائش تھی اور ان بچوں کی تعلیم پر اپنی سلطنت کے اعلیٰ ترین دماغ مامور کئے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان بچوں کی عسکری تربیت کا بھی اہتمام کیا گیا۔

سکندر کے ہندوستان پر حملے کے کچھ عرصے بعد اس کی فوج کے زیادہ تر سپاہیوں اور سالاروں نے تھکن کے ہاتھوں مجبور ہو کر وطن واپسی کے لئے اصرار کرنا شروع کر دیا۔ سکندر اتنا لمبا سفر طے کر کے اور صعوبتیں جھیل کر ہندوستان تک اس لئے نہیں پہنچا تھا کہ اتنی جلدی واپس لوٹ جاتا۔ وہ ہندوستانی برصغیر کا آخری کونہ دیکھنا چاہتا تھا۔ اس نے اپنے سپاہیوں کو واپس جانے کی اجازت دے دی لیکن ان میں سے کوئی بھی واپس نہ جا سکا کیونکہ کسی کو بھی واپسی کے رستوں کا علم نہ تھا۔ بہرحال، جب سکندر دریائے بیاس تک پہنچا تو اس کی فوج نے مزید آگے بڑھنے سے انکار کر دیا اور بالآخر اسے واپسی کا فیصلہ کرنا پڑا۔ بابل میں جب اس کی وفات ہوئی تو مرنے سے پہلے اس نے وصیت کی کہ اس کی میت کا تابوت لے جاتے وقت اس کے دونوں ہاتھ تابوت سے باہر نکال دیے جائیں تاکہ اس کے انجام کو دیکھ لوگ سبق حاصل کر سکیں کہ انجام کار سب کو اس دنیا سے خالی ہاتھ ہی جانا ہے۔

سکندر نے ایشیائے کوچک کے ساتھ ساتھ شام، مصر، بابل اور ایران کی سلطنتیں بھی فتح کیں اور دریائے نیل کی وادی تک پہنچا۔ 332 قبل مسیح میں اس نے مصر کو فتح کیا اور سکندریہ کے شہر کی بنیاد رکھی۔ اس نے ایرانی سلطنت پر چڑھائی کی اور اسے بیخ و بن سے اکھاڑ کر پھینک دیا۔ باختر کو فتح کرنے کے بعدوہ مئی 327 قبل مسیح میں اس نے درئہ ہندوکش کا رخ کیا اور 326 قبل مسیح کے موسم گرما میں ہندوستان کی سرحدوں پر آ پہنچا۔ ٹیکسلا کے حکمران راجہ امبی اور دیگر چھوٹے راجائوں نے اسے خوش آمدید کہا اور اس کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ دریائے جہلم اور دریائے چناب کے درمیانی علاقے کے حکمران راجہ پورس نے بڑی بہادری سے اس کا مقابلہ کیا لیکن شکست کھائی۔ سکندر پورس کی دلیری سے بہت متاثر ہوا اور اس کی حکومت اسے واپس لوٹا دی۔ اگست 326 قبل مسیح میں اس نے دریائے راوی عبور کیا اور اس کے مشرق میں واقع سارے علاقے فتح کر لئے۔ 323 قبل مسیح میں صرف 33 سال کی عمر میں شدید بخار میں مبتلا ہو کر اس نے وفات پائی۔ اس کی شخصیت نے مشرق اور مغرب پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔

چندر گپت موریہ[ترمیم]

زیادہ تر لکھنے والوں نے اشوک، جسے اشوکِ اعظم کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے، کے کارناموں کو سراہا ہے اور ان پر بحث کی ہے۔ وجہ یہ کہ اس نے ایک وسیع و عریض سلطنت پر چالیس سال تک تن تنہا حکمرانی کی اور بدھ مت کے فروغ اور پھیلائو کے لئے بے پناہ کام کیا۔ تاریخ عالم کے پُراثر ترین افراد کی فہرست میں اشوک کو 52 واں نمبر دیا گیا جس سے اس کے مقام کا پتہ چلتا ہے جبکہ ہندوستان کی تاریخ میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جن کے کاموں پر آج بھی گفتگو کی جاتی ہو۔ میرا موضوع اثرات اور مرتبے اور وسیع سلطنت نہیں، میرا موضوع وہ عمل ہے جس سے گزر کر کوئی فرد اس مقام کا لیڈر بنتا ہے۔ میری مراد تقدیر کے اس سفر سے ہے جو بظاہر ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ اس سفر کے ارتقائی مراحل اور اس کے ادب آداب کو ایسے لوگوں کے لئے پیش کرنا میرا مقصد ہے جن کے عزائم بلند لیکن وسائل قلیل ہیں۔ اس بناء پر میں نے یہاں پیش کرنے کے لئے اشوک کے دادا چندر گپت موریہ کا انتخاب کیا ہے جس سے یہ وسیع سلطنت اشوک کے باپ بندوسرا کو ملی اور اس کے 32 سالہ دورِ حکمرانی کے بعد بالآخر چندر گپت کے پوتے اشوک کے حصے میں آئی۔ اشوک کو ملنے والی سلطنت کی سرحدیں ہرات سے لے کر آسام، کشمیر، نیپال، میسور اور مدراس تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اشوک نے اس سلطنت میں صرف کالنگا (اڑیسہ) کا اضافہ کیا جس کے نتیجے میں خلیج بنگال کا تمام ساحلی علاقہ اس کے تصرف میں آ گیا۔ گوتم بدھ کی زندگی میں اور اس کے بعد کے ادوار میں ہمیں ایسی کوئی اور حکومت نظر نہیں آتی جو پورے برصغیر پاک و ہند پر سیاسی حکمرانی کا دعویٰ کر سکے۔ اس وقت سب سے بڑی سلطنت مگدھ (بہار) کی تھی، اس کے علاوہ چھوٹی چھوٹی ریاستیں تھیں جو اس پورے رقبے پر بکھری ہوئی تھیں اور ان پر مختلف خاندان قابض تھے۔ مگدھ کی ریاست کا اثر و رسوخ روز بروز بڑھ رہا تھا۔ جب سکندرِ اعظم نے ہندوستان پر حملہ کیا تو اس وقت نند خاندان اس پر حکمران تھا۔ چندر گپت موریہ کے متعلق حتمی اور مصدقہ تاریخی مواد بہت کم ملتا ہے لیکن مختلف ذرائع اور تحقیق سے منکشف ہوتا ہے کہ وہ ایک خانہ بدوش قبیلے ’’موریہ‘‘ سے تعلق رکھتا تھا جو دریائے سندھ کے کناروں پر آباد تھا۔ اس کے خاندان کا پیشہ ملاحی تھا۔ وہ پہیلوان یا پیلان (موجودہ پپلان) ضلع میانوالی میں پیدا ہوا۔ پپلان میں موجود وسیع و عریض جنگل اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ممکنہ طور پر ماضی میں کسی وقت میں دریائے سندھ اس جگہ کے قریب سے گزرتا تھا۔ پپلان موجودہ دور میں، دریائے سندھ پر تعمیر کئے گئے چشمہ بیراج سے پانچ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ چندرگپت کی پیدائش کے چند سال بعد اس کے باپ کو ایک جھگڑے میں قتل کر دیا گیا اور اس کی بیوہ ماں اپنے ننھے بیٹے کے ساتھ تنہا رہ گئی۔ چندر کا ماموں ان دونوں کو پاٹلی پتر (موجودہ پٹنہ) لے گیا جہاں اسے ایک چرواہے کے ہاتھ بیچ دیا گیا۔ اس کہانی کو اس طرح بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اپنے باپ کے قتل کے وقت چندر گپت پیدا نہیں ہوا تھا اور اس کی پیدائش پاٹلی پتر پہنچنے کے بعد ہوئی۔ چونکہ ماموں یا اس کی ماں اس کی پرورش کی سکت نہ رکھتے تھے، اس لئے اسے ایک چرواہے کے ہاتھ بیچ دیا گیا۔ (یہ امر قابل ذکر نہیں کہ اسے پیسے لے کر بیچا گیا یا مفت دے دیا گیا)۔ موریہ لوگ ذات کے اعتبار سے اچھوت یعنی شودر تھے جو کہ ہندو ذات پات کے نظام میں سب سے اسفل طبقہ ہے۔ چرواہے نے کچھ عرصہ چندر گپت کی پرورش کی، اس کے بعد کسی نامعلوم وجہ کی بناء پر اسے ایک شکاری کے ہاتھ بیچ دیا جس نے چندر گپت کو اپنے جانوروں کی دیکھ بھال پر لگا دیا۔ چندر گپت ابھی ایک بچہ ہی تھا جب چانکیہ کوٹلیہ نے اسے دیکھ لیا۔ چندر گپت کی ذہانت اور جسمانی ساخت سے متاثر ہو کر اس نے اسے خرید لیا اور اپنے ساتھ ٹیکسلا لے گیا جہاں اس نے کئی سال تک چندر گپت کی تربیت کی اور اسے ٹیکسلا یونیورسٹی میں داخل کروایا جو اس وقت اعلیٰ ترین تعلیمی ادارے کی حیثیت رکھتی تھی۔ چانکیہ کوٹلیہ خود بھی اس یونیورسٹی میں استاد تھا۔ چانکیہ کو قدیم تاریخ کے دانشمند ترین افراد میں شمار کیا جاتا ہے۔ ٹیکسلا کی یونیورسٹی کا مرکزی حصہ ان شاہی امراء کے بچوں کے لئے مخصوص تھا جو اس کی مالی امداد کرتے تھے۔ ایک وقت میں اس میں 103 شہزادے تعلیم حاصل کر رہے تھے، اور ایک اور وقت میں یہ تعداد 500 تک جا پہنچی۔ اس یونیورسٹی میں داخلے کی کم از کم عمر 16 سال تھی تاکہ آنے والے طالب علم بنیادی تعلیم حاصل کر کے آئیں۔ یہاں کا ہر استاد اعلیٰ قابلیت اور اپنے موضوع کا ماہر خیال کیا جاتا تھا۔ ان استادوں کو گرو جبکہ ان کے شاگردوں کو چیلے کہا جاتا تھا۔ تمام استاد نہایت قابل تھے اور چانکیہ ان میں سب سے عقلمند، ہوشیار، دور اندیش اور پُرعزم تھا۔ معاشیات، ڈپلومیسی اور سیاسیات پر اس کی گہری نظر تھی۔ وہ خود بھی اسی یونیورسٹی کا پڑھا ہوا تھا۔ بہت سے شہزادے، بادشاہ، بڑے بڑے جراح اور طبیب اور سپہ سالار یہاں سے پڑھ کر نکلے تھے۔ یہاں پر داخل ہونا نہایت مشکل تھا اور بہت سے طالب علم بڑے بڑے راجائوں کی سفارشیں لے کر آتے تھے۔ چندر گپت کو چانکیہ نے یہاں داخل کروایا اور اس کے اخراجات بھرنے کی ذمہ داری لی۔ یونیورسٹی میں پڑھائے جانے والے موضوعات میں تیراندازی، شکار، فیل بانی، سیاسیات، قانون، ترتیب لغات، گرامر، تاریخ، ریاضی، نجوم، فلکیات، محاسبات (اکائونٹنگ)، ہندو مذہب اور دیومالا، ادب، مابعد الطبیعات، فلسفہ، کیمیا، طبابت، جراحی اور علم الادویہ وغیرہ شامل تھے۔ چانکیہ نے چندر گپت کے لئے ایک دوست، ایک فلسفی اور ایک رہنما کے فرائض انجام دیے۔ ایک روایت ہے کہ ایک دفعہ چانکیہ کو مگدھ (بہار) کے نند راجہ نے اپنے دربار میں مدعو کیا۔ وہاں پر کوئی واقعہ ایسا پیش آیا جس سے چانکیہ کی ہتک ہوئی اور اس نے قسم کھائی کہ ایک روز وہ نند خاندان کی حکومت کو برباد کر کے چھوڑے گا۔ ٹیکسلا میں پیدا ہونے والا چانکیہ بذاتِ خود ایک غریب اور بدصورت برہمن تھا۔ اسے کوٹلیہ کہے جانے کی وجہ اس کی کٹ نیتی یعنی ڈپلومیسی کا فن تھا جو کہ اس نے اپنی تعلیم، تجربات اور ذہانت کے ذریعے حاصل کیا تھا۔ نند خاندان کا بانی بھی ایک شودر تھا۔ پہلے نند راجہ کی حکومت کا سراغ 393 قبل مسیح کے آس پاس ملتا ہے۔ یہ راجہ ایک شاہی سازش کے ذریعے برسراقتدار آیا۔ چندر گپت نند خاندان کے رشتے داروں میں شامل تھا اور اس کا تعلق بھی اسی شودر خاندان سے تھا جو کہ بعد ازاں نند کہلایا۔

کہا جا سکتا ہے کہ نند خاندان کی حکومت نیچ ذاتوں کی قوت کے بل پر آنے والے ایک انقلاب کی بدولت ممکن ہوئی۔ اس انقلاب کی قیادت نندوں نے کی۔ بہت سے مؤرخین اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ چندر گپت موریہ بھی نند خاندان کے ورثاء میں شامل تھا لیکن آخری نند راجہ نے (جو اس سلسلے کا 9 واں راجہ تھا) اس سے لاتعلقی اختیار کر کے، مگدھ میں اس کے داخلے پر پابندی لگا دی۔ ممکن ہے کہ دونوں رشتے دار ہوں، اور ممکن ہے نہ ہوں، لیکن دونوں میں ایک مرکزی خصوصیت مشترک تھی۔ وہ یہ کہ دونوں بنیادی طور پر شودر طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ چانکیہ نند خاندان کی تاریخ سے واقف تھا اور اچھی طرح جانتا تھا کہ نند خاندان کے آخری راجہ اور چندر گپت کا شجرئہ نسب ایک ہی ہے۔ چانکیہ کا اصلی نام وشنو گپت تھا۔ اس نے چندر گپت کی پرورش اور تربیت ایک لیڈر کے طور پر کی بالکل ویسے ہی جیسے ارسطو نے سکندر کی تربیت کی تھی۔ لیکن چانکیہ کا کام ارسطو سے زیادہ مشکل تھا کیونکہ اس کا شاگرد چندر گپت، سکندر کی طرح، کسی شاہی خاندان چشم و چراغ نہ تھا بلکہ ایک عام اور ارذل شودر تھا۔ زیادہ تر لکھنے والے ایک استاد کے طور پر چانکیہ کو بھی ارسطو کے برابر مقام اور مرتبہ دیتے ہیں۔ دونوں ہم عصر تھے۔ چانکیہ نے ’’ارتھ شاستر‘‘ تحریر کی جسے برصغیر پاک و ہند میں کسی ریاست کا پہلا تحریری آئین یا مجموعۂ ضوابط قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس میں درج قاعدے اور ضابطے موریہ سلطنت کے انتظام و انصرام کے حوالے سے تحریر کئے گئے تھے۔

جب سکندر ٹیکسلا پہنچا تو یہاں کے راجہ امبی نے اس کا شاندار استقبال کیا۔ ٹیکسلا یونیورسٹی کے دانشوروں اور استادوں نے اس استقبال کو اچھی نگاہ سے نہ دیکھا۔ چانکیہ بھی ان میں شامل تھا۔ چندر گپت ان دنوں میں ٹیکسلا یونیورسٹی کے طلبہ کا قائد تھا۔ اس کے جذبات بھی اپنے اساتذہ سے ملتے جلتے تھے۔ بعض مؤرخوں کا کہنا ہے کہ چندر گپت اور چانکیہ، سکندر سے ملے اور اس کے سامنے اپنا نکتہ نظر پیش کیا۔ چانکیہ کی ذہانت نے سکندر کو متاثر کیا اور اس نے خواہش ظاہر کی کہ وہ اس کے دانشوروں کے گروہ میں شامل ہو جائے۔ مشہور مؤرخ بدھ پرکاش کا کہنا ہے کہ چندر گپت نے سکندر کو مگدھ پر حملہ آور ہونے کی ترغیب دی۔ ایک اور مشہور مؤرخ پلوٹارک لکھتا ہے کہ چندر گپت نے سکندر کو نند خاندان کی حکومت پر حملہ آور ہونے کی دعوت دی۔ لاطینی مؤرخ، جسٹن کا کہنا ہے کہ چندر گپت نے سکندر سے ملاقات کی۔ اس کی تقریر پر سکندر برافروختہ ہو گیا اور چندر گپت کے قتل کا حکم صادر کر دیا۔ جان بچانے کے لئے چندر گپت اور چانکیہ وہاں سے نکل بھاگے۔ بعض لکھنے والوں کا کہنا ہے کہ جس وقت سکندر اپنے لائو لشکر کے ساتھ ٹیکسلا میں داخل ہوا تو اس وقت چندر گپت اور چانکیہ بھی وہاں موجود تھے اور اس کے استقبال کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سکندر نے چندر گپت کے قتل کا حکم دیا اور چانکیہ کو اپنے دانشوروں میں شامل کرنا چاہا۔ بہرحال، یہ امر یقینی ہے کہ چندر گپت اور چانکیہ اپنی زندگیاں بچانے کے لئے وہاں سے کوہِ نمک کے کہستانی سلسلے کی طرف نکل بھاگے۔

چندر گپت کے سامنے بے شمار اہداف تھے لیکن چانکیہ نے اسے تین اہداف پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی۔ پہلا، ایک فوج تشکیل دینا۔ دوسرا، اقتدار یعنی مگدھ کی حکومت حاصل کرنا۔ تیسرا، پنجاب اور افغانستان سے یونانیوں کو نکال کر یہاں کے باشندوں کو ان کے تسلط سے نجات دلانا۔ چانکیہ نے چندر گپت کے دل میں عزائم کی جوت جگائی اور اس کی آتش شوق کو ہوا دیتا رہا یہاں تک کہ چندر گپت مگدھ کے تخت پر ملکیت کا دعوے دار بن گیا۔ جب سکندر ہندوستان پر حملہ آور ہوا تو تمام راجہ، راجکمار، خودمختار ریاستوں کے حکمران اور شاہی خاندان اپنی اپنی ریاستوں اور علاقوں کی آزادی کا تحفظ کرنے میں ناکام رہے۔ بہت سے مؤرخوں نے اس جدوجہد کا ذکر کیا ہے جس کا آغاز چندر گپت نے چانکیہ کے سکھائے ہوئے اصولوں اور نظریات یعنی ارتھ شاستر کی بنیاد پر کیا۔ چانکیہ نے اعلان کیا کہ غیرملکی حکومت تمام برائیوں سے بڑی برائی ہے۔ اس برائی کے خاتمے کے لئے چندر گپت نے اپنی فوج تیار کرنا شروع کر دی۔ اس نے اپنی فوج میں شامل کرنے کے لئے ایسے افراد کو ترجیح دی جو خود بھی اس کی طرح نچلی ذاتوں سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ ایک ممکنہ انقلاب کا قائد بن گیا۔ سکندر کے جانے کے فوراً بعد اس نے ایک مرکزی حیثیت کی حامل سلطنت کے قیام اور اتحاد کے لئے شروع کی جانے والی مہم کی سیاسی اور فوجی قیادت سنبھال لی۔ اپنی فوج اس نے بڑی کامیابی سے تیار کر لی۔ اس کی فوج کا زیادہ تر حصہ تمام طرح کے اچھوتوں پر مشتمل تھا جن میں چور ڈاکو اور دوسرے مجرم بھی شامل تھے۔ اس کے ساتھ پرانے یونانی بھی تھے جو سکندرِ اعظم سے پہلے یہاں آئے تھے۔ چانکیہ نے اسے ضروری تعلیم اور تربیت فراہم کی۔

مؤرخین کی اس بارے میں مختلف آراء ملتی ہیں کہ چندر گپت نے پہلے یونانیوں کے قبضے سے پنجاب چھینا یا پہلے مگدھ پر نند خاندان کی حکومت ختم کی۔ مؤرخ اوم پرکاش کا کہنا ہے کہ پہلے پنجاب کو آزادی دلائی گئی، اس کے بعد دوسرے علاقوں کی باری آئی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ چندر گپت نے اپنی فوج کوہِ نمک کے سلسلے میں اکٹھی کی۔ اس کام میں اسے چار سے پانچ سال لگ گئے۔ 322 قبل مسیح میں مگدھ کو فتح کرنے کے بعد ، وہ سکندر کی باقیات کی طرف متوجہ ہوا۔ ایک طویل جدوجہد اور ہنگامہ آرائی کے بعد وہ ایک وسیع سلطنت قائم کرنے میں کامیاب رہا جسے ’’موریہ سلطنت‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ سلطنت ہندوکش سے اتر پردیش تک پھیلی ہوئی تھی اور بہار، سندھ، بلوچستان اور افغانستان اس میں شامل تھے۔ ہندوستان پر اس خاندان کی حکومت 130 سال یعنی 187 قبل مسیح تک رہی۔ یہی سلطنت بعد ازاں اشوک اعظم کے حصے میں آئی۔ سکندر کے حملے کے بعد ہندوستانیوں کو بھی ایک مرکزی ریاست تشکیل دینے کی تحریک ملی۔ چندر گپت نے شمال مغربی علاقوں کے مقدونی حکمران سیلوکس نکاتر کے خلاف اعلانِ جنگ کیا اور اسے شکست دے کر وہ علاقے واپس حاصل کر لئے جو سکندرِ اعظم نے فتح کئے تھے۔

چانکیہ کے دانشمندانہ مشوروں کی روشنی میں، چندر گپت نے پنجاب، کابل، قندھار، گندھارا اور ایران بھی سیلوکس سے چھین لئے۔ بعد ازاں سیلوکس کی بیٹی کی شادی چندر گپت سے ہوئی۔ ’’سیلوکس اپنی حکومت کے تحفظ میں ناکام رہا اور اسے چندر گپت کے ساتھ ایک معاہدہ کرنا پڑا جس کی رُو سے اس نے اپنی سلطنت کا ایک بڑا حصہ صرف 500ہاتھیوں کے عوض چندر گپت کے حوالے کر دیا جس میں پروپنی سدائی (کابل)، آریا (ہرات)، ارچوسیہ (قندھار) اور گدروسیہ (بلوچستان) شامل تھے۔ اس معاہدے کو راسخ کرنے میں غالباً سیلوکس کی بیٹی کے ساتھ چندر گپت کی شادی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ ایک یونانی سفارتی وفد کو پاٹلی پتر کے دربار میں بھیجا گیا۔‘‘ (ہندوستان کی تاریخ اعلیٰ از آر سی موجمدار، ایچ سی رے چودھری اور کالنکر دتہ)۔ اس معاہدے کا سب سے اہم نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ چندر گپت کی شہرت دور دور تک پھیل گئی اور مغربی ممالک میں اس کی سلطنت کو ایک بڑی قوت کے طور پر جانا جانے لگا۔ مصر اور شام کے بادشاہوں نے موریہ دربار میں اپنے سفیر بھیج دیئے۔ چند دوسری روایات کے مطابق چندر گپت موریہ ایک نندشہزادے اور مورا نامی ایک داسی کا بیٹا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ چندر گپت کا تعلق کھشتریوں کے موریہ قبیلے سے رہا ہو۔ موریہ سلطنت ہندوستان کی تاریخ کی پہلی حقیقی، بڑی، طاقتور اور مرکز کے زیرانتظام چلائی جانے والی حکومت تھی۔ بالائی طبقوں میں ایک محدود امارت اور شہری اور دیہاتی سطح پر جمہوریت کے نظام کے ذریعے اس کا انتظام و انصرام بڑی خوبی سے چلایا گیا۔ پاٹلی پتر میں چندر گپت کے دربار میں یونان کے سفیر میگس تھینز نے ایسی وسیع سلطنت کے ایسے ماہرانہ انتظام پر تحسین و ستائش کا اظہار کیا۔ اس کی کتاب ’’انڈیکا‘‘ دوسرے رومی اور یونانی سیاحوں کی آراء اور تبصروں کا مجموعہ ہے۔ میگس تھینز نے موریہ سلطنت کے شہروں کی خوشحالی کے متعلق بھی لکھا ہے۔ اس کے کہنے کے مطابق، زراعت پھل پھول رہی تھی، پانی وافر تھا اور معدنی خزانے بھی بے شمار تھے۔ عام خوشحالی کے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے میگس تھینز لکھتا ہے۔ ’’ہندوستانی شوخ اور متنوع رنگوں کے کپڑے پہنتے ہیں اور زیورات اور ہیروں کا آزادانہ استعمال کرتے ہیں۔‘‘ اس نے پیشوں کے اعتبار سے معاشرتی تقسیم کا ذکر بھی کیا اور سلطنت میں بڑی تعداد میں موجود مذہبی فرقوں اور غیرملکیوں کا آمد کا بھی۔ چندر گپت جیسے قائد کا ظہور اسی وقت ممکن ہو سکا جب وہ اس طول طویل عمل سے گزرا جو ایک لیڈر کی تشکیل کرتا ہے اور تب وہ ایسی وسیع سلطنت قائم کرنے اور اسے ایسے اعلیٰ طریقے سے چلانے کے قابل ہو سکا۔ اس کی موت کے بعد اس کے بیٹے بندوسرا نے یہ سلطنت سنبھالی اور ہندوکش، نرمدا، وندھیا، میسور، بہار، بنگال، آسام، بلوچستان اور افغانستان پر حکومت کرتا رہا۔ بندوسرا کے بعد یہ سلطنت اشوک کے پاس آئی۔ نہرو ’’تاریخ عالم کی جھلکیاں‘‘ میں لکھتے ہیں۔ ’’چندر گپت کو موریہ کہہ کر پکارے جانے کی کوئی حتمی اور واضح وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ایسا اس لئے ہوا کیونکہ اس کی ماں کا نام مورا تھا، کچھ کہتے ہیں کہ اس کا نانا راجہ کے پالتو مور کا رکھوالا تھا اور سنسکرت میں مور کو میورا کہا جاتا ہے…… تاہم ہندوستان کی تاریخ میں ایک وسیع اور مضبوط سلطنت کی پہلی مثال ہمیں چندر گپت کی سلطنت کی شکل میں ملتی ہے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں۔ ’’میگس تھینز نے ہمارے لئے ان ایام کی ایک دلچسپ روداد چھوڑی ہے لیکن ہمارے پاس اس سے زیادہ دلچسپ روداد موجود ہے جو چندر گپت کی حکومت کی تمام تفصیلات بیان کرتی ہے۔ وہ ہے چانکیہ کوٹلیہ کی ارتھ شاستر۔ ارتھ شاستر کا مطلب ہے ’’دولت کی سائنس‘‘۔ راجہ کو لوگوں کی طرف سے حکومت کا اختیار ملنے پر، ہمیشہ لوگوں کی خدمت کرتے رہنا کا حلف اٹھانا پڑتا تھا۔ اسے لوگوں کے سامنے کہنا پڑتا تھا کہ اگر میں تم پر جبر کروں تو میں جنت، زندگی اور اپنی اولاد سے محروم ہو جائوں۔‘‘ ارتھ شاستر کے حوالے سے نہرو بہ حیثیت راجہ چندر گپت کی لیڈر شپ کے متعلق لکھتے ہیں۔ ’’اپنے ماتحت کی خوشی میں اس کی خوشی پوشیدہ ہے…… جو کچھ بھی اس کے ماتحت کو خوش کرے گا، وہ اسے اچھا سمجھے گا… تاہم یہ امر باعث دلچسپی ہے کہ قدیم ہندوستان میں راج پاٹ کے بنیادی تصور کا مفہوم عوام کی خدمت تھا۔‘‘

نپولین بونا پارٹ[ترمیم]

نپولین اول (1769-1821)، جسے نپولین بونا پارٹ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے فرانس کی شہنشاہیت کا تاج بزورِ بازو حاصل کیا۔ وہ اپنے وقت کا بہترین فوجی دماغ تھا اور شاید تاریخ کا سب سے عظیم جرنیل۔ اس کی تعمیر کردہ سلطنت مغربی اور وسطی یورپ کے زیادہ تر حصے پر پھیلی ہوئی تھی۔

Napoleon Bonaparte.jpg

نپولین ایک بہترین منتظم بھی تھا۔ اس نے اپنے ملک میں کئی مفید اصلاحات متعارف کرائیں جن میں ایک مضبوط اور متحرک مرکزی حکومت کا قیام بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ اس نے فرانسیسی قوانین کو ازسرنو ترتیب دیا اور ضوابط کا ایک نیا مجموعہ تیار کیا۔ آج بھی فرانس اور ماضی میں فرانس کے زیر تسلط رہنے والے علاقوں کے آئین میں نپولین کی متعارف کردہ بہت سی اصلاحات نظر آتی ہیں۔ اپنے وقت اور ماحول کے اعتبار سے نپولین کا قد اپنے ہمعصروں سے کافی چھوٹا تھا۔ 1796ء میں میلان، اٹلی کے نزدیک ہونے والی لوڈی کی جنگ میں اسے ’’ننھے کارپورل‘‘ کے خطاب سے نوازا گیا۔ اگرچہ نپولین اس جنگ میں جرنیل کی حیثیت سے حصہ لے رہا تھا لیکن اس نے توپ چلانے جیسا پُرخطر کام جو کہ عموماً کارپورل انجام دیا کرتے تھے، خود کر کے اپنے فوجیوں کو چونکا دیا اور بدلے میں یہ عرفیت حاصل کی۔ نپولین ایک بے حد متاثر کن اور ڈرامائی انداز کا حامل لیڈر تھا۔ وقت پڑنے میں وہ خاصا منہ پھٹ اور سخت گیر بھی ثابت ہو سکتا تھا لیکن عموماً اس کے کردار کا یہ رخ عوام کی نظروں سے اوجھل رہتا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ بے پناہ توانائی اور آرزومندی کا حامل تھا۔ پیچیدہ فوجی مہمات کی نگرانی خود کرنے کے ساتھ ساتھ وہ فرانسیسی پریس، پولیس سسٹم، بیرونِ ملک حکمت عملی اور اندرونِ ملک معاملات کو بھی خود ہینڈل کیا کرتا تھا۔ اپنے زیر سربراہی کام کرنے کے لئے اس نے قابل ماتحتوں کا انتخاب کیا اور پھر تمغوں، انعام و اکرام، عہدوں اور اعزازات سے انہیں بڑی سخاوت سے نوازا۔ نپولین کی آرزو مندی بالآخر اسے اپنی قوت و اختیار کو مقررہ حدود سے متجاوز کرانے تک لے گئی۔ اس کے زوال کے اسباب میں مفتوحہ علاقوں میں اٹھنے والی قوم پرستی کے لہر کے ساتھ ساتھ وہ معاشی بوجھ بھی شامل تھا جو برطانیہ کی مصنوعات کو یورپ سے نکلوانے کے چکر میں نپولین نے فرانس کی معیشت پر ڈال دیا تھا۔ جہاں اس کے لگائے ہوئے محصولات اور فوج میں جبری بھرتی کے قانون نے فرانس کی عوام میں بے چینی پیدا کی، وہیں یورپ کے مختلف بادشاہوں کے ساتھ اس کی محاذ آرائی نے بھی اسے شکست سے دوچار کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ نپولین 15 اگست 1769ء کو بحیرئہ روم کے جزیرے کورسیکا کے قصبے اجاکیو میں پیدا ہوا۔ اس کی پیدائش سے ایک سال قبل فرانس نے کورسیکاکو اطالوی شہری ریاست جینوا سے خرید لیا تھا۔ نپولین اپنے والدین کی چوتھی اولاد اور دوسرا بیٹا تھا۔ اس کے والدین کا تعلق اٹلی کے اعلیٰ طبقے کے خاندانوں سے تھا۔ اس کا باپ، کارلو بونا پارٹ، ایک بہترین وکیل ہونے کی حیثیت سے کورسیکا کے شہریوں میں ایک امتیازی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کی ماں، لیٹی زیا بونا پارٹ، ایک حسین و جمیل اور مضبوط شخصیت کی حامل خاتون تھی۔

1779ء میں 9 سال کی عمر میں نپولین کو فرانس کے نزدیکی قصبے برائن لا شیتو کے فرانسیسی ملٹری سکول میں داخل کرا دیا گیا۔ زیادہ تر مضامین میں نپولین ایک اوسط درجے کا طالب علم تھا لیکن ریاضیات میں اسے ید طولیٰ حاصل تھا۔ 1784ء میں اسے پیرس کی اعلیٰ ملٹری اکیڈمی ایکول ملی ٹیئر کے لئے منتخب کیا گیا، جہاں سے ایک سال بعد وہ گریجویشن کر کے نکلا۔ جنوری 1785ء میں، 16 سال کی عمر میں، نپولین کو فرانسیسی فوج میں آرٹلری کے سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے کمیشن دے دیا گیا۔ کچھ عرصہ اس نے ڈول کے نزدیکی قصبے آکسون کے شاہی آرٹلری سکول میں بھی تربیت حاصل کی۔ 1791ء میں اسے ترقی دے کر فرسٹ لیفٹیننٹ اور 1792ء میں کیپٹن بنا دیا گیا۔

1789ء میں انقلابِ فرانس کا آغاز ہوا۔ 1790ء کی دہائی کی ابتداء میں نپولین نے فوج سے چھٹی لے کر کئی مہینے کورسیکا میں گزارے۔ وہاں وہ کورسیکان نیشنل گارڈ میں خدمات انجام دیتا رہا۔ تاہم فرانس میں وہ ایک انقلاب پسند سیاسی جماعت جیکوبنز میں شامل ہو چکا تھا۔ اس جماعت کے زیادہ تر ارکان فرانس کو ایک جمہوری ملک بنانا چاہتے تھے۔ اس جماعت میں میں نپولین کی شمولیت کورسیکا کے گورنر پاسکوئیل پائولی کے ساتھ اس کی چپقلش کا باعث بن گئی۔ پائولی فرانس کے شاہی خاندان کی حکومت کا حامی تھا۔ جنوری 1793ء میں فرانس کی انقلابی حکومت کے ہاتھوں شاہ لوئی شش دہم کے قتل کے بعد، پائولی نے بونا پارٹ خاندان کو گردن زدنی قرار دے دیا اور وہ سب اپنی جانیں بچانے کے لئے فرانس بھاگ آئے۔ اس کے بعد نپولین فرانسیسی فوج میں شامل ہو گیا۔

جون 1793ء میں، جیکوبنز کے ارکان کے ایک گروپ نے میکسی ملین روبزپائر کے زیرقیادت فرانس کی حکومت پر قبضہ کر لیا۔ فرانس کے کئی شہروں میں اس قبضے کے خلاف بغاوت پھوٹ پڑی۔ طولون میں باغیوں کی امداد کے لئے برطانوی بحری بیڑا بھی موجود تھا۔ جب طولون میں فرانسیسی آرٹلری کمانڈر زخمی ہو گیا تو نپولین کو اس کی جگہ لینے کے لئے بھیجا گیا۔ دسمبر 1793ء میں نپولین نے آرٹلری کو بلند مقامات پر تعینات کر کے طولون کی بندرگاہ کو زد میں لے لیا اور برطانوی بحری جہازوں پر گولہ باری شروع کر دی۔ برطانوی بحری جہاز اس کی تاب نہ لاتے ہوئے واپس ہو گئے اور فرانسیسی افواج نے طولون کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ اس فتح میں نپولین کے کردار کے نتیجے میں صرف 24 سال کی عمر میں اسے بریگیڈیئر جنرل بنا دیا گیا۔ نپولین کا ستارہ عروج کی طرف گامزن تھا لیکن پھر ایک دم زوال پذیر ہونے لگا۔ جولائی 1794ء میں روبزپائر کے خلاف بغاوت ہوئی اور اسے اقتدار سے معزول کر کے قتل کر دیا گیا۔ اگست میں نپولین کو ایک ہفتہ قیدخانے میں گزارنا پڑا۔ رہائی کے بعد وہ دوبارہ فوج میں واپس آ گیا۔

1795ء میں پیرس میں نپولین کے قیام کے دوران عوام کے مشتعل گروہوں نے شاہی محل میں مقیم حکومتی نیشنل کنونشن پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ ان گروہوں کی پشت پناہی شاہی حکومت کے حامی کر رہے تھے جن کا مقصد تھا کہ کسی معتدل حکومت کے قیام سے قبل کنونشن کو ختم کر دیا جائے تاکہ شاہی حکومت دوبارہ بحال کی جا سکے۔ کنونشن کے محافظوں کا سربراہ وائی تھا جو طولون میں نپولین کے کارناموں کا مشاہدہ کر چکا تھا۔ اس نے مدد کے لئے نپولین کو بلا بھیجا۔ نپولین نے محل کی حفاظت کے لئے حملہ آوروں پر توپوں کی براہِ راست گولہ باری کروا دی۔ سینکڑوں لوگ اس گولہ باری کی زد میں آکر ہلاک یا زخمی ہوئے اور باقی بچنے والوں میں سے جس کا جدھر منہ اٹھا، بھاگ نکلا۔ نپولین کو ایک ہیرو قرار دے کر میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ نئی حکومت کو ڈائریکٹری کا نام دے کر قائم کر دیا گیا۔ اس کے پانچ ڈائریکٹرز میں سے ایک کومتے پال دباراس بھی تھا۔ 1796ء میں نپولین نے ویسٹ انڈیز سے آنے والی ایک فرانسیسی نژاد حسینہ جوزیفائن دی بیوہارنس سے شادی کر لی۔ جوزیفائن کے پہلے شوہر، وائی کومتے الیگزینڈر دبیوہارنس کو انقلابِ فرانس کے دورِ وحشت کے دوران گلوٹین کی بھینٹ چڑھا دیا گیا تھا۔ جب نپولین سے جوزیفائن کی ملاقات ہوئی تو فرانس کی فیشن ایبل سوسائٹی میں وہ ایک لیڈر کا مقام رکھتی تھی۔ عمر میں وہ نپولین سے چھ سال بڑی تھی اور پہلی شادی سے اس کے دو بچے بھی تھے۔ 1792ء سے لے کر 1795ء تک یورپ کے مختلف ملکوں کے ساتھ فرانس کی جنگیں ہوتی رہیں۔ 1796ء تک آسٹریا فرانس کے مرکزی دشمن کی حیثیت سے سامنے آ چکا تھا۔ جوزیفائن سے شادی کرنے کے چند ہی دن بعد نپولین پیرس سے فرانس اور اٹلی کے سرحد کی طرف روانہ ہو گیا جہاں 38,000 بھوکے ننگے سپاہیوں کی ایک جمعیت اس کے آنے اور کمان سنبھالنے کا انتظا رکر رہی تھی۔ حکومت کو امید تھی کہ نپولین آسٹریائی فوجوں کو اٹلی میں روکے رکھے گا اور اس دوران فرانس کی فوج کا بڑا حصہ جرمنی سے گزر کر آسٹریا کے دارالحکومت ویانا تک پہنچنے اور اسے فتح کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

نپولین نے ان کی توقعات سے بڑھ کر کارکردگی دکھائی۔ صرف فوجوں کو روکے رکھنے کے بجائے اس نے جنگ جیتنے میں کامیابی حاصل کی۔ ایک سال سے بھی کم عرصے میں اس نے 4 لشکروں کو شکست سے دوچار کیا جن میں سے ہر ایک اس کی اپنی فوج سے تعداد میں کہیں زیادہ تھا۔ 1797ء میں وہ کوہِ الپس عبور کر کے ویانا کے نزدیک جا پہنچا۔ اپنے دارالحکومت کو خطرے میں دیکھ کر آسٹریا والے صلح کرنے پر رضامند ہو گئے اور فرانسیسی حکومت کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کر دیے جس کے نتیجے میں فرانس کے رقبے میں مزید اضافہ ہو گیا۔ یوں آخری فتح نپولین کے حصے میں آئی اور وہ ایک ہیرو کی حیثیت سے پیرس واپس لوٹا۔ اس وقت تک نپولین ایک نہایت عمدہ اور کامیاب جنگی حکمت عملی ترتیب دے چکا تھا جو کہ آگے چل کر اس کے لئے مزید فتوحات کی بنیاد بنی۔ اس کا طریقہ کار یہ تھا کہ جنگ چھیڑ کر وہ فوج کا زیادہ سے زیادہ حصہ محفوظے کے طور پر رکھتا۔ اس کے بعد دشمن کی صفوں کے کمزور ترین حصے کو ڈھونڈتا اور فیصلہ کن مرحلے پر اپنی تمام قوت اس حصے پر لگا دیتا۔ حملہ کرنے کے لئے بہترین وقت کا انتخاب کرنے میں نپولین کو غیرمعمولی مہارت حاصل تھی۔ آسٹریا کو شکست دینے کے بعد جب نپولین پیرس واپس آیا تو اس وقت تک اس کے سیاسی عزائم خاصا واضح روپ اختیار کر چکے تھے۔ تاہم اسے احساس تھا کہ ابھی اس کا اثر و رسوخ اتنا نہیں بڑھا کہ وہ حکومت سنبھالنے کے بارے میں سوچ سکے۔ لہٰذا اس نے اپنی فوجی ساکھ بہتر بنانے پر پورا زور لگا دیا۔ 1797ء میں ڈائریکٹری نے اسے انگلینڈ پر کئے جانے والے ایک حملے کا سربراہ بنانے کی پیشکش کی لیکن نپولین نے یہ پیشکش مسترد کر دی اور تجویز پیش کی کہ انگلینڈ کے بجائے مصر پر حملہ کیا جائے تاکہ مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ انگلینڈ کی تجارت برباد کی جا سکے۔ ڈائریکٹری نے اس کی تجویز منظور کر لی۔ مئی 1798ء میں نپولین تقریباً 38000 فوجیوں کے ہمراہ مصر کی طرف روانہ ہو گیا۔ جولائی میں وہ مصر پہنچا۔ وہاں اس نے قاہرہ کے نزدیک اہرام کی جنگ میں مصر کے فوجی حکمران مملوکوں کو شکست دی۔ تاہم یکم اگست کو جنگ نیل میں لارڈ ہوریشو نیلسن کے زیرسربراہی برطانوی بحری بیڑے نے خلیج ابوقیر میں لنگر انداز فرانسیسی بحری بیڑے کو حملہ آور ہو کر ڈبو دیا۔ نتیجتاً مصر میں نپولین کی فوج تنہا رہ گئی۔ تب سلطنت عثمانیہ نے برطانیہ اور روس کے ساتھ اتحاد کر کے فرانس کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔ 1799ء میں نپولین کی افواج نے عثمانی شام پر حملہ کر دیا اور پیش قدمی کرتے ہوئے عقر کے قلعے تک پہنچ گئے۔ نپولین اس قلعے پر قابض ہونے میں ناکام رہا۔ اسی اثناء میں اسے اطلاع ملی کہ عثمانی فوجیں مصر پر حملہ آور ہونے کی تیاری کر رہی ہیں۔ پسپائی اختیار کر کے وہ دوبارہ مصر کو پلٹا اور ابوقیر میں ایک جنگ میں عثمانی افواج کو شکست دی۔ اب تک نپولین کو پتہ چل چکا تھا کہ آسٹریا، برطانیہ اور روس نے فرانس کے خلاف اتحاد کر لیا ہے اور اٹلی میں فرانسیسی فوجوں کو شکست سے دوچار کر چکے ہیں۔ اس نے اپنی فوج کو جنرل ژاں کلیبر کی کمان میں چھوڑا اور فرانس واپس آ گیا۔ نپولین کی آمد کے ساتھ ابو قیر میں اس کی فتح کی خبریں بھی پیرس پہنچ گئی تھیں۔ فرانسیسی عوام نے، جو ڈائریکٹری پر اعتماد کھو چکے تھے، اپنے نوجوان ہیرو کا والہانہ استقبال کیا۔ نپولین نے کلیدی سیاسی اتحاد بنائے اور 9 نومبر 1799ء کو فوجی بغاوت کے ذریعے فرانس کا اقتدار حاصل کر لیا۔ فرانسیسی عوام کی زبردست حمایت کے ذریعے ایک نیا آئین بنا کر ڈائریکٹری کو ختم کر دیا گیا اور اس کی جگہ تین افراد پر مشتمل ایک قونصلیٹ تشکیل دیا گیا۔ نپولین فرسٹ قونصل بنا۔ دوسرے دو قونصلز کی ذمہ داری صرف نپولین کو مشورے دینے تک محدود تھی۔ 10 سال کا انقلاب اور ملکی بدامنی بھگتنے کے بعد فرانسیسی عوام ایک مضبوط لیڈر کے خواہاں تھے اور ایک آمر کی حیثیت سے فرانس پر حکومت کرنے کے لئے نپولین کا راستہ ہموار ہو چکا تھا۔ فرسٹ قونصل کی حیثیت سے نپولین کی خواہش تھی کہ جتنی جلد ہو سکے امن بحال ہو جائے۔ مئی 1800ء میں وہ ایک مارچ کی قیادت کرتا ہوا، کوہِ الپس کو عبور کر کے سینٹ برنارڈ کے پاس سے گزرا اور شمالی اٹلی میں وادیٔ پو میں جا پہنچا۔ جون میں اس کی افواج نے اچانک حملہ کر کے مرینگو کی جنگ میں آسٹریائی فوجوں کو شکست سے دوچار کیا۔ اس شکست کے نتیجے میں 1801ء میں آسٹریائی حکومت نے ایک نئے معاہدے پر دستخط کر کے گذشتہ معاہدے کی توثیق کر دی اور جنگ سے باہر نکل گئے۔ انگلینڈ والے پہلے ہی جنگ کر کر کے مضمحل ہو چکے تھے لہٰذا انہوں نے امن کی خواہش ظاہر کی اور 1802ء میں معاہدئہ امیئنز پر دستخط کر دیے گئے۔ روس پہلے ہی 1799ء میں اس اتحاد کو چھوڑ چکا تھا لہٰذا دس سال میں پہلی مرتبہ براعظم یورپ کو امن کا منہ دیکھنا نصیب ہوا۔ ملکی انتظام کاری میں بھی نپولین نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اس کے بڑے کارناموں میں سے ایک فرانسیسی آئین کی ازسرنو ترتیب اور اصلاح ہے۔ اس نے سات نئے قانونی ضابطے تشکیل دیے جن کے نتیجے میں فرانسیسی عوام نے انقلاب کے ذریعے جو آزادیاں حاصل کی تھیں، ان میں سے کچھ برقرار رکھی گئیں، مذہبی رواداری کو فروغ دیا گیا اور غلامی کا خاتمہ کر دیا گیا۔ ان میں سب سے مشہور ضابطہ جسے کوڈ نپولین یا کوڈ سول کے نام سے جانا جاتا ہے، آج بھی فرانس کے سول لاء کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ نپولین نے فرانس کو مختلف انتظامی حصوں میں تقسیم کر کے ان پر اپنے منتظم مقرر کئے اور یوں فرانس کی حکومت کو ایک مرکزی شکل دے دی۔ صرف فرانس پر حکومت نپولین کے اطمینان کو کافی نہ تھی۔ اس کی ذہنی رو جلد ہی دوبارہ فتوحات کی طرف مڑ گئی۔ ابتداً وہ مغربی نصف کرے میں فرانس کا اثر و رسوخ بڑھانے کا خواہش مند تھا۔ 1800ء میں نپولین نے ہسپانیہ پر دبائو ڈال کر شمالی امریکہ میں لوئیسیانا کا حصہ حاصل کر لیا لیکن اس علاقے پر قبضے کے لئے جو فوج اس نے بھیجی وہ فرانسیسی نوآبادی ہیٹی میں غلاموں کی بغاوت اور وبائی بیماریوں کی زد میں آ کر ماری گئی۔ ذہنی طور پر الجھ کر نپولین نے مغربی نصف کرے کا خیال ذہن سے نکالا اور ایک دفعہ پھر اپنی توجہ یورپ کی طرف موڑ دی۔ 1803ء تک فرانس نے شمالی اٹلی کے علاقے پیڈمانٹ کو اپنا حصہ بنا لیا اور نپولین نے اس حصے کو جمہوریہ اٹلی کا نام دے کر اس کی صدارت سنبھال لی۔ برطانیہ کی بحری قوت کے خوف کے زیراثر، نپولین نے بقیہ یورپ سے برطانوی تجارت کے سلسلے منقطع کرنے کی کوشش بھی کی۔ اسے توقع تھی کہ جلد ہی اسے دوبارہ برطانیہ کے ساتھ جنگ لڑنا پڑے گی اور اس متوقع جنگ کے لئے پیسہ اکٹھا کرنے کی غرض سے 1803ء میں اس نے لوئیسیانا کا رقبہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ اسی سال کے اواخر میں برطانیہ کے ساتھ جنگ کا آغاز ہو گیا۔ 1802ء میں فرانسیسی عوام کی اکثریتی حمایت کی بدولت ایک آئینی ترمیم کے ذریعے نپولین کو تاحیات فرانس کا فرسٹ قونصل بنا دیا گیا تھا۔ مئی 1804ء میں فرانسیسی سینیٹ اور عوام نے بذریعہ ووٹ اسے اپنا شہنشاہ منتخب کر لیا۔ 2 دسمبر کو پیرس کے نوٹرے ڈیم چرچ میں منعقد ہونے والی تقاریب میں نپولین نے اپنے ہاتھ سے شہنشاہی کا تاج اپنے سر پر رکھا۔ 1805ء تک آسٹریا، روس اور سوئیڈن برطانیہ کے ساتھ مل کر فرانس کے خلاف ایک نیا اتحاد بنا چکے تھے۔ ستمبر 1805ء میں نپولین اپنی افواج کی قیادت کرتا ہوا جرمنی میں داخل ہو گیا۔ اکتوبر میں اس نے اولم کے مقام پر ایک آسٹریائی لشکر کو شکست دی۔ دسمبر میں اس نے آسٹرلٹز کے مقام پر آسٹریا اور روس کی افواج کو ہزیمت سے دوچار کیا لیکن اس سال کے آغاز میں لارڈ نیلسن نے ہسپانیہ کے جنوبی ساحل پر فرانس کے اتحادی ہسپانیہ اور فرانس کے مشترکہ بحری بیڑے کو ڈبو دیا۔ اس فتح کے نتیجے میں سمندر کا کنٹرول برطانوی افواج کے ہاتھ میںآ گیا اور نپولین کے انگلینڈ پر حملہ آور ہونے کے امکانات ختم ہو گئے۔ 1806ء میں پروشیہ اور روس نے مل کر فرانس کے خلاف ایک نئی جنگی مہم کی تیاری شروع کر دی۔ اکتوبر میں نپولین نے جینا اور پھر اس کے نزدیک آسٹرٹیٹ کے مقام پر پروشیائی فوجوں کو شکست دی اور جون 1807ء میں فریڈلینڈ کے مقام پر روسی افواج کو کچل کر رکھ دیا۔ 1809ء میں اس نے ایک دفعہ پھر ویانا کے نزدیک ویگرام کے مقام پر آسٹریائی افواج کو شکست سے دوچار کیا۔ نپولین کی ہر فتح کے نتیجے میں اس کی سلطنت کے رقبے میں مزید اضافہ ہوا۔ 1806ء میں اس نے اپنی سرپرستی میں کنفیڈریشن آف رائن کی بنیاد ڈالی جس میں مغربی جرمنی کی کئی ریاستیں شامل تھیں۔ اس نے جرمنی اور اٹلی کو بھی جاگیروں کی شکل دے کر اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو تحفے کے طور پر بخش دیا۔ 1806ء میں اس نے اپنے بھائی جوزف کو نیپلز کا اور دوسرے بھائی لوئی کو ہالینڈ کا بادشاہ بنایا۔ 1807ء میں اس نے اپنے بھائی جیروم کو ویسٹ فیلیا کا بادشاہ بنایا اور پروشیا کے آدھے رقبے کو ایک معاہدے کے تحت گرانڈ ڈوچی آف وارسا کے نام سے فرانس میں شامل کر لیا۔ 1809ء میں اس نے ٹسکانی کی جاگیر اپنی بہن ایلیسا کے حوالے کر دی اور الیرین کے صوبوں کو فرانس کا حصہ بنا لیا جو کہ آج کل سلووینیا اور کروشیا کا حصہ ہیں۔ 1810ء میں اس نے جرمنی کے زیادہ تر رقبے کے ساتھ ساتھ ہالینڈ کو بھی فرانس کا حصہ بنا کر اپنی سلطنت کو وسعت کے عروج پر پہنچا دیا۔ سلطنت کی وسعت کے ساتھ ساتھ نپولین کو یہ خدشات بھی لاحق ہونے لگے تھے کہ اس کی موت کے بعد اس کی سلطنت کا کیا بنے گا۔ جوزیفائن جس کی عمر اس وقت 46 برس ہو چکی تھی، کوئی اولاد پیدا نہ کر سکی لہٰذا نپولین اپنی اولاد کی صورت میں کوئی وارث حاصل کرنے سے محروم تھا۔ دسمبر 1809ء میں اس نے جوزیفائن کو طلاق دے کر ایک نوجوان خاتون سے شادی کر لی۔ اپریل 1810ء میں اس نے شاہِ آسٹریا فرانسس اول کی اٹھارہ سالہ بیٹی آرچ ڈچس میری لوئس کو بھی زوجیت میں لیا۔ 1811ء میں اس بیوی سے اس کا بیٹا پیدا ہوا جسے نپولین دوم کا نام اور شاہِ روم کا لقب دیا گیا۔ 1806ء میں نپولین نے برلن ڈیکری کے نام سے ایک قانون جاری کیا جس کی رو سے فرانسیسی انتظام کے تحت آنے والی بندرگاہوں پر برطانوی مال کی نقل و حمل ممنوع قرار دے دی گئی۔ 1807ء میں اس نے ایک اور قانون میلان ڈیکری کے نام سے جاری کیا جس کا بنیادی مقصد غیرجانبدار ممالک کے بحری جہازوں کو یورپ میں برطانوی مصنوعات لانے اور لے جانے سے روکنا تھا۔ ایسے بحری جہازوں کو فرانسیسی شاہی بحری جہازوں کے حملے کا نشانہ بننا پڑتا۔ برلن اور میلان ڈیکریز کے ذریعے برطانوی تجارت کو روکنے کے لئے تیار کئے جانے والے نظام کو براعظمی نظام کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ برطانیہ کے پرانے دوست پرتگال نے برلن ڈیکری کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ 1807ء میں فرانس نے پرتگال کے ساتھ ساتھ ہسپانیہ کے بعض حصوں پر قبضہ کر لیا۔ 1808ء میں فرانسیسی افواج مارشل جوکہم میوراٹ کی سرکردگی میں سپین کے دارالحکومت میڈرڈ تک جا پہنچیں اور شہر کو زیرنگیں کرنے میں کامیاب رہیں۔ نپولین نے ہسپانیہ کے بادشاہ فرڈیننڈ ہفتم کو تخت سے اتار کر اس کی جگہ اپنے بھائی جوزف کو بادشاہ بنا دیا۔ جوزف کی جگہ شاہِ نیپلز کا تخت سنبھالنے کے لئے مارشل میوراٹ کا انتخاب کیا گیا۔

1808ء میں ہسپانوی اور پرتگالی فوجوں نے فرانسیسی افواج کے خلاف بغاوت کر دی اور جنگ جزیرہ نما کا آغازہوا۔ جلد ہی برطانوی افواج بھی اس جنگ میں شامل ہو گئیں۔ اپریل 1814ء تک فرانسیسی افواج کو ہسپانیہ اور پرتگال پر مشتمل جزیرہ نما سے نکال دیا گیا۔ ہزاروں فرانسیسی سپاہی اس جنگ میں مارے گئے اور ہسپانیہ اور پرتگال کے ہاتھ سے نکل جانے سے نپولین کے وقار پر بھاری ضرب آئی۔ 31 دسمبر 1810ء کو زارِ روس الیگزینڈر اول نے براعظمی نظام سے علیحدگی اختیار کر لی۔ نپولین نے زار کی علیحدگی کو فرانس کے لئے خطرہ خیال کیا اور روس پر حملہ آور ہونے کے لئے ایک نئی فوج تیار کر لی۔ کئی سالوں سے جاری جنگوں نے فرانس کی حربی قوت کو خاصا کمزور کر دیا تھا تاہم نپولین چھ لاکھ سپاہیوں پر مشتمل فوج تیار کرنے میں کامیاب رہا۔ اس کی اتحادی اور محکوم اقوام بھی اس ضمن میں خاصی معاون ثابت ہوئیں۔ اس وقت روسی افواج کی تعداد تقریباً دو لاکھ تھی۔

جون 1812ء میں نپولین کی آرمی دریائے نیمن کو عبور کر کے روس میں داخل ہو گئی۔ روسیوں نے نپولین کو فیصلہ کن جنگ لڑنے کا موقع دیے بغیر پسپائی کی حکمت عملی اختیار کر لی۔ ستمبر میں ماسکو کے نزدیک بوروڈینو کے مقام پر روسی اور فرانسیسی افواج کا ایک معرکہ ہوا۔ دونوں اطراف کو خاصا نقصان پہنچا لیکن اس جنگ میں بھی کوئی واضح فاتح سامنے نہ آ سکا اور روسی ایک مرتبہ پھر پسپا ہو گئے۔ نپولین ماسکو میں داخل ہوا تو اس نے شہر کو لوگوں سے تقریباً خالی پایا۔ فرانسیسی افواج کے شہر میں داخل ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد شہر کا زیادہ تر حصہ پسپا ہوتے ہوئے روسیوں کی لگائی ہوئی آگوں کے نتیجے میں بھسم ہو گیا۔ نپولین ماسکو میں رک کر انتظار کرنے لگا کہ کب الیگزینڈر کی طرف سے صلح کی درخواست موصول ہوتی ہے لیکن اس کی توقعات پوری نہ ہوئیں۔ الیگزینڈر کی طرف سے ایسی کوئی درخواست سامنے نہ آئی۔ دوسری طرف روس کا خوفناک موسم سرما سر پر آچڑھا۔ اکتوبر کے وسط میں نپولین نے مجبوری کے عالم میں ماسکو سے ایک طویل پسپائی کا آغاز کیا۔ نقطہ انجماد کو پہنچنے والے درجۂ حرارت اور برفانی طوفانوں کی زد میں آ کر اس کے کئی سپاہی مارے گئے۔ رسد کی کمی کے نتیجے میں بھوک نے بھی بہت سوں کو نشانہ بنایا۔ روسی فوجی ہر لمحہ ان کی گھات میں رہتے اور اگر سپاہیوں کا کوئی دستہ کسی وجہ سے مرکزی کانوائے سے الگ ہو جاتا تو پھر زندہ نہ ملتا۔ چھ لاکھ کی فوج میں سے تقریباً پانچ لاکھ مارے گئے، بھاگ گئے یا پسپائی کے دوران روسیوں کے ہتھے چڑھ کر قیدی بن گئے۔

پیرس واپس پہنچ کر نپولین نے اپنے مشہور ’’29ویں بلیٹن‘‘ میں اپنی ناکامی کا اعتراف کیا۔ فرانسیسیوں نے اس کی تائید و حمایت کرنا جاری رکھا لیکن نپولین کی اس تباہ کن ناکامی کی خبروں نے پورے یورپ میں اس کے دشمنوں کے حوصلے بلند کر دیے۔ ماسکو سے واپسی پر نپولین کا واسطہ آسٹریا، برطانیہ، روس، پروشیہ اور سویڈن کے اتحاد سے پڑا۔ اپریل 1813ء میں نپولین ایک نئی فوج کے ساتھ جرمنی پہنچا اور اپنے متحدہ دشمنوں پر حملہ کر دیا۔ لٹزن، باٹزن اور ڈریسڈن کی ابتدائی جنگوں میں اسے فتوحات حاصل ہوئیں لیکن دشمن کے مقابلے میں اس کی فوجوں کی تعداد بہت قلیل تھی۔ اکتوبر میں لائپ سگ کے مقام پر دونوں فریقوں کی جنگ ہوئی جس میں نپولین کو شکست ہوئی اور اسے واپس فرانس پسپا ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔ اتحادیوں نے اس کا پیچھا کیا اور مارچ 1814ء میں پیرس پر قبضہ کر لیا۔

11 اپریل 1814ء کو فونٹین بلیو میں نپولین نے تخت چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔ اتحادیوں نے بوربن خاندان کے بادشاہ کو تخت فرانس دینے کی ٹھانی اور یوں لوئی شش دہم کے بھائی لوئی ہشت دہم کو فرانس کا بادشاہ بنا دیا گیا۔ نپولین کو فرانس سے جلاوطن کر کے اٹلی کے شمال مغربی ساحل کے نزدیک واقع جزیرہ البا کی حکومت دے دی گئی۔ اس کی بیوی کو بچے سمیت اس کے باپ شاہِ آسٹریا کے پاس بھیج دیا گیا۔ اس کے بعد زندگی میں کبھی نپولین کو اپنی بیوی یا بیٹے کی صورت دیکھنے کا موقع نہ مل سکا۔

البا میں رہتے ہوئے نپولین نے اپنی فرانس واپسی کی منصوبہ بندی کی۔ فروری 1815ء میں وہ اپنے 1100 ہمراہیوں کے ساتھ، جنہیں اس کے ساتھ ہی جلاوطن کیا گیا تھا، البا سے روانہ ہوا۔ راستے میں اپنے حمایتیوں کو اکٹھا کرتا ہوا وہ یکم مارچ کو کینز کے ساحل پر پہنچا اور پیرس کی طرف پیشقدمی شروع کر دی۔ پیرس سے مارشل مچل نی کی سربراہی میں نپولین کی گرفتاری کے لئے فوجی دستے روانہ کئے گئے لیکن اپنے پرانے قائد کی شکل دوبارہ دیکھ کر یہ فوجی بھی بڑی خوشی سے نپولین کی فوج میں شامل ہو گئے اور اسے اپنے شہنشاہ تسلیم کر لیا۔ نپولین کی آمد کی خبر پا کر لوئی ہشت دہم پیرس سے فرار ہو گیا۔ 20 مارچ کے روز نپولین پیرس میں داخل ہوا اور نعرے لگاتے ہوئے عوام نے اپنے کندھوں پر اٹھا کر اسے شاہی محل تک پہنچا دیا۔

تخت سنبھالتے ہی نپولین نے ایک نیا آئین جاری کر دیا جس کی رو سے اس کے اختیارات محدود ہو گئے۔ اس نے اتحادیوں سے وعدہ کیا کہ وہ ان کے خلاف جنگ نہیں چھیڑے گا لیکن اتحادی قائدین نپولین کو ایک ’’دشمن اور عالمی امن کو خراب کرنے والا‘‘ سمجھتے تھے۔ لہٰذا ایک دفعہ پھر دونوں فریقین نے جنگ کی تیاری شروع کر دی۔ نپولین ایک لاکھ پچیس ہزار سپاہیوں کی فوج لے کر اس امید پر بلجیم میں داخل ہوا کہ وہ برطانیہ کے ڈیوک آف ویلنگٹن اور پروشیائی مارشل گیب ہارڈ وان بلچر کی افواج کو علیحدہ علیحدہ شکست سے دوچار کر سکے گا۔ 16 جون کو فلیورس کے نزدیک لگنی کے مقام پر اس نے مارشل بلچر کو شکست دی اور 18 جون کو واٹر لو کے مقام پر ویلنگٹن کی افواج پر حملہ کر دیا۔ یہ جنگ تاریخ عالم کی مشہور ترین جنگوں میں شمار کی جاتی ہے۔ فرانسیسی سپاہیوں نے اس جنگ میں شجاعت و بہادری کا نہایت اعلیٰ مظاہرہ کیا اور ایک موقعے پر یوں معلوم ہونے لگا تھا کہ ویلنگٹن کو شکست ہو جائے گی لیکن اسی وقت بلچر کی افواج مدد کو آپہنچیں اور اپنی قلیل تعداد کے ہاتھوں فرانسیسی افواج کو ایک تباہ کن شکست سے دوچار ہونا پڑا۔

نپولین ایک دفعہ پھر پیرس کو بھاگا اور 22 جون کو ایک دفعہ پھر تخت چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔ البا سے نپولین کی پیرس واپسی سے لے کر اس کے دوسرے اعلان تک کے عرصے کو ’’سو دن‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ نپولین نے امریکہ فرار ہونے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا اور بالآخر روچ فورٹ کے مقام پر اس نے برطانوی جنگی بحری جہاز بیلروفون کے کپتان فریڈرک لیوس میٹ لینڈ کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ اگست میں اسے جنوبی بحراوقیانوس میں برطانیہ کے زیرملکیت سینٹ ہیلینا کے بنجر جزیرے پر قیدی بنا کر بھیج دیا گیا۔ سینٹ ہیلینا میں نپولین نے اپنی بقیہ زندگی کا زیادہ تر حصہ اپنے دوستوں کو خطوط کی شکل میں اپنی زندگی کی کہانی لکھنے میں گزارا۔ 5 مئی 1821ء کو معدے کے السر کے نتیجے میں (جو غالباً سرطانی تھا) اس کی وفات ہو گئی۔ ایک روایت یہ بھی ملتی ہے کہ اسے سنکھیا کھلا کر مارا گیا تھا لیکن زیادہ تر مؤرخوں نے اس روایت کو غلط قرار دیا ہے۔ نپولین کو اسی جزیرے پر دفن کیا گیا جہاں اس نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔ اپنی وصیت میں نپولین نے درخواست کی تھی کہ اسے ’’دریائے سین کے کنارے پر، ان فرانسیسی عوام کے درمیان‘‘ دفن کیا جائے ’’جن سے میں نے اتنی محبت کی ہے۔‘‘ 1840ء میں برطا نوی اور فرانسیسی حکومتوں نے اس کی باقیات کو پیرس لانے کا اہتمام کیا۔ یہاں چرچ آف ڈوم کے قبرستان میں اسے سپردِ خاک کر دیا گیا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو ’’تاریخ عالم کی جھلکیاں‘‘ میں نپولین کے متعلق لکھتے ہیں۔ ’’اپنی ذاتی زندگی میں وہ ایک نہایت سادہ انسان تھا اور اس نے کسی طرح کی انتہا پسندی کی طرف مائل ہونے کی کوشش کبھی نہیں کی ما سوائے کام میں انتہاپسندی کے۔ اس کا کہنا تھا کہ کوئی آدمی خواہ کتنا کم کیوں نہ کھائے، اس کا کھانا ہمیشہ بہت زیادہ ہوتا ہے، زیادہ کھانے سے انسان بیمار پڑ سکتا ہے لیکن کم کھانے سے کوئی بیمار نہیں پڑتا۔ اس کے سادہ طرزِ زندگی نے اسے شاندار صحت اور بے پناہ توانائی سے نوازا۔ وہ جب چاہتا، اور جتنا کم چاہتا، سو سکتا تھا۔ صبح سے لے کر سہ پہر تک کے درمیانی وقفے سے 100 میل کی گھڑسواری کرنا اس کے نزدیک معمول کی بات تھی۔‘‘ نہرو مزید لکھتے ہیں۔ ’’عظیم اور غیرمعمولی آدمیوں کے متعلق کوئی فیصلہ صادر کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنی جگہ نپولین بھی ایک عظیم اور غیرمعمولی انسان تھا۔ اپنی حیثیت میں وہ ایک قدرتی جوہر کے مشابہ تھا۔ بے پناہ قوتِ تخیل و ادراک رکھنے کے باوجود وہ مثالیات اور بے غرضانہ محرکات کی قدر سے ناواقف تھا۔ اس نے دولت اور شان و شوکت پیش کر کے لوگوں کے دل جیتنے اور انہیں متاثر کرنے کی کوشش کی۔ مذہب اس کے نزدیک محض غرباء و مساکین کو مطمئن رکھنے کا ایک ذریعہ تھا۔ ایک دفعہ اس نے عیسائیت کے متعلق لکھا۔ ’’میں کسی ایسے مذہب کو کیسے قبول کر سکتا ہوں جو سقراط اور افلاطون کو گردن زدنی قرار دیتا ہے؟‘‘ اس کا کہنا تھا کہ مذہب جنت کے ساتھ مساوات کا ایک ایسا تصور وابستہ کرتا ہے جو غریبوں کو امیروں کا قتل عام کرنے سے روکے رکھتا ہے۔ مذہب کی حیثیت وہی ہے جو بیماری سے بچائو کے لئے لگائے جانے والے ٹیکے کی ہے۔ یہ معجزوں کے لئے ہماری طلب کی تسکین کرتا ہے اور ہمیں عطائیوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ معاشی عدم مساوات کے بغیر معاشرے کا قائم رہنا ممکن نہیں اور مذہب کے بغیر معاشی عدم مساوات کا قائم رہنا ممکن نہیں۔‘‘ آگے چل کر وہ لکھتے ہیں۔ ’’اس میں عظیم آدمیوں والی شخصی مقناطیسیت موجود تھی اور وہ بہت سوں کی وفاداری حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ بادشاہ اکبر کی طرح، اس کی نظر بھی دل کھینچ لینے والی تھی۔ ایک دفعہ اس نے کہا۔ ’’میری تلوار نیام سے بہت کم باہر آتی ہے۔ میں جنگیں اپنے ہتھیاروں سے نہیں اپنی آنکھوں سے جیتتا ہوں۔ کیا تم جانتے ہو کہ سب سے بڑھ کر کون سی چیز میرے لئے باعث حیرت بنتی ہے؟ انتظام کاری میں طاقت کا غیرمؤثر رہنا۔ اس دنیا میں صرف دو طاقتیں ہیں۔ جذبہ اور تلوار۔ اور جلد یا بدیر جذبہ ہمیشہ تلوار پر غالب آنے میں کامیاب رہتا ہے۔‘‘ ایک اور جگہ پر انہوں نے لکھا۔ ’’اس نے اپنی آخری وصیت میں اپنے ننھے بیٹے کے نام ایک پیغام چھوڑا جسے اس نے شاہِ روم کا لقب دیا تھا، اور جس کے متعلق کسی خبر کو بھی اس تک پہنچنے سے نہایت بے رحمانہ انداز میں روک دیا جاتا تھا۔ اسے امید تھی کہ ایک روز اس کا بیٹا بھی حکمران بنے گا اور اس نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی کہ وہ تشدد کی طرف رجوع کئے بغیر امن و آشتی سے حکمرانی کرے۔ اس نے کہا کہ یورپ کو مسلح طاقت سے دھمکانا میری مجبوری تھی لیکن آج کے دور میں کسی کو قائل کرنے کا راستہ دلائل سے ہو کر گزرتا ہے۔‘‘ لیکن اس کے بیٹے کے نصیب میں حکمرانی کرنا نہیں لکھا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1978ء میں سزائے موت کی کوٹھری سے اپنی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا۔ ’’تم جانتی ہو کہ میں نے نپولین بونا پارٹ کو ہمیشہ سراہا ہے۔ تم انقلابِ فرانس اور نپولین کے دور کے ساتھ میری رومانی وابستگی سے بھی واقف ہو۔ انقلابیوں نے نہ صرف اپنے بادشاہ کو قتل کیا بلکہ یہی انقلاب خود انہیں بھی نگل گیا۔ روبز پائر اور ڈنٹن جیسے انقلابیوں کو تختۂ مرگ پر چڑھنا پڑا۔ بدلوں پر بدلے چکائے گئے، انتقام پر انتقام لیا گیا۔ ’’نپولین جیسے جینئس کو، کاروانِ تہذیب کے سالار کو، پہلے البا اور پھر سینٹ ہیلینا میں مقید رکھا گیا۔ نپولین کو جلاوطن کس نے کیا؟ فرانس کے عوام نے نہیں کیا۔ انقلابِ فرانس دو صدیاں پہلے وقوع پذیر ہوا لیکن انتقام اور انتقام کے بدلے انتقام کے جنون کا شکار ہو کر یہ اپنے بنیادی مقصد سے ہٹ گیا۔ اس کا مقصد داخلی اور اس کا رویہ منتقم ہوتا گیا اور فرانس کے عوام، جنہوں نے انقلاب سے بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں، انقلاب اور انقلابیوں پر اپنا اعتماد کھو بیٹھے۔ فرانس مادرِ انقلاب ہے۔ اس نے انقلاب کے بچے کو جنم دیا۔ اس وقت سے لے کر آج تک فرانس کے محنت کشوں نے فرانس کو انقلاب کے بچے سے کئی بار حاملہ کیا ہے لیکن ہر مرتبہ عین وقت پر حمل ساقط کر دیتے رہے ہیں۔ ہمیں ماضی میں زیادہ دور تک جانے کی ضرورت نہیں۔ مئی 1958ء، مئی 1968ء اور مارچ 1978ء میں بھی فرانس میں انقلاب کا اسقاطِ حمل ہوا۔ اس کی کچھ وضاحت اس تجربے کی روشنی میں کی جا سکتی ہے جو آج سے دو سو سال پہلے فرانسیسیوں کو انقلاب کی اولاد کے معاملے میں ہوا۔ اس بچے نے جتنی تعمیر کی، اتنی ہی تخریب بھی کی۔ قولِ متناقض یہ ہے کہ نیا نظام تشکیل دینے کے لئے اسے پرانے نظام کو تباہ کرنا پڑتا ہے۔ انقلابی ’’آزادی، مساوات اور مشترکہ مفاد‘‘ کے مثالیوں کو ٹھوس اداروں کی شکل دینے میں ناکام رہے۔ انقلاب نے امراء کو ختم کر دیا لیکن امارت دوبارہ نمودار ہو گئی۔ انقلاب نے بادشاہ اور ملکہ کو ختم کر دیا لیکن بادشاہ اور ملکہ پلٹ کر دوبارہ تخت فرانس پر آ بیٹھے۔‘‘

رضیہ سلطانہ[ترمیم]

رضیہ الدین (پیدائش 1205ء وفات 1240ء) کو تاریخ میں رضیہ سلطان یا رضیہ سلطانہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ 1236ء سے 1240ء تک دہلی کے تخت پر حکمران رہی۔ وہ سلجوقی ترکوں کے خاندان سے تعلق رکھتی تھی اور اس وقت کی چند دیگر مسلمان شہزادیوں کی طرح اسے بھی ضرورت پڑنے پر افواج کی کمان کرنے اور مملکت کا نطام سنبھالنے کی تربیت دی گئی تھی۔ مسلمانوں اور ترکوں کی تاریخ میں رضیہ سلطانہ پہلی خاتون حکمران تھی۔ رضیہ 1236ء میں اپنے والد سلطان شمس الدین التمش کے انتقال کے بعد تخت پر بیٹھی۔ سلطان التمش پہلا مسلمان حکمران تھا جس نے اپنی بیٹی کو ولیہ عہد کے مرتبے پر فائز کیا۔ اس سے پہلے التمش کے بڑے بیٹے کی تربیت ولی عہد کی حیثیت سے کی جا رہی تھی لیکن اس کا انتقال نوعمری میں ہی ہو گیا۔ درباری امراء التمش کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے ایک خاتون کو اپنا حکمران تسلیم کر لینے پر آمادہ نہ تھے لہٰذا 29 اپریل 1236ء کے روز سلطان التمش کے انتقال کے بعد، اس کے بھائی رکن الدین فیروز شاہ کو رضیہ کی جگہ تخت پر بٹھا دیا گیا۔ رکن الدین زیادہ عرصے تک اس منصب پر نہ رہ سکا۔ امورِ مملکت کی تمام تر ذمہ داری اس کی ماں شاہ ترکان نے سنبھال رکھی تھی اور وہ خود وہ رنگ رلیوں میں کھویا ہوا تھا۔ یہ صورتِ حال جلد ہی عوام میں اشتعال پیدا کرنے کا سبب بن گئی۔ 9 نومبر 1236ء کے روز، اقتدار سنبھالنے کے محض چھ ماہ بعد، رکن الدین اور شاہ ترکان دونوں کو قتل کر دیا گیا۔ گہرے تامل کے بعد، امراء رضیہ کو تخت پر بٹھانے پر آمادہ ہو گئے۔ بچپن اور لڑکپن میں خواتین کے ساتھ رضیہ کا اٹھنا بیٹھنا بہت کم رہا تھا، لہٰذا وہ معاشرے کے نسوانی آداب اور رکھ رکھائو سے بہت کم واقفیت رکھتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ سلطانہ بننے سے پہلے بھی، اپنے والد کی زندگی میں وہ امورِ مملکت میں گہری دلچسپی لیا کرتی تھی۔ سلطانہ بننے کے بعد، رضیہ نے نسوانی لباس کے بجائے مردانہ کپڑے پہننا شروع کر دیے، اور روایت کے خلاف، میدانِ جنگ میں فوج کی قیادت کرتے ہوئے وہ اپنا چہرہ بے نقاب رکھتی تھی۔

کاروبارِ حکومت کی گہری سوجھ بوجھ اور ذہانت کی بدولت رضیہ درباری امراء کو قابو میں رکھنے اور فوج اور عوام کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ سیاسی محاذ پر اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ اس نے اپنے خلاف اٹھنے والے باغی گروہوں کو آپس میں الجھا دیا۔ اس مرحلے پر ایسا لگتا تھا کہ رضیہ سلطانہ تخت دہلی کی تاریخ میں سب سے طاقتور حکمران بن کر ابھرے گی۔ مگر رضیہ یہ بات نہ سمجھ پائی کہ اپنے حبشی مصاحب جمال الدین یاقوت کے ساتھ اس کا گہرا تعلق کیسے گمبھیر نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ بعض روایات کا کہنا ہے کہ ان دونوں کے درمیان محبت کا رشتہ تھا، مگر زیادہ تر روایات کے مطابق، یاقوت محض اس کا قریبی معتمد اور سب سے قابل اعتماد ساتھی تھا۔ صورتِ حال کچھ بھی رہی ہو، کچھ ہی عرصے کے بعد ترک امراء میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں اور جب یاقوت کو شاہی اصطبلوں کا نگران بنا گیا تو اس پر رضیہ سلطانہ کے التفات کے خلاف حاسدانہ آوازیں اٹھنے لگیں کیونکہ یاقوت ترک النسل نہ تھا۔ بتدریج حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ بٹھنڈہ کے عامل ملک التونیہ نے، جو رضیہ سلطانہ کا بچپن کا ہمجولی تھا، دوسرے عاملین کو ساتھ ملا کر رضیہ کے خلاف بغاوت کر دی۔

بغاوت کے نتیجے میں ہونے والی جنگ میں رضیہ کو شکست ہوئی، یاقوت مارا گیا اور رضیہ کو قیدی بنا لیا گیا۔ دوسری طرف رضیہ کی غیرموجودگی میں اس کے بھائی معز الدین بہرام نے تخت پر قبضہ کر لیا۔ حالات کا پانسہ اپنے حق میں پلٹنے کے لئے رضیہ نے ملک التونیہ سے شادی کر لی اور دہلی کا تخت واپس حاصل کرنے کے لئے اپنے بھائی پر فوج کشی کر دی۔ 24 ربیع الاول 638ہجری (اکتوبر 1240ء) کے روز ہونے والی جنگ میں رضیہ اور ملک التونیہ کی فوج کو شکست ہوئی اور انہیں میدانِ جنگ سے راہِ فرار اختیار کرنا پڑی۔ راستے میں ان کی باقی ماندہ افواج بھی ان کا ساتھ چھوڑ گئیں۔ اگلے روز ان کے دشمنوں نے انہیں آ لیا اور 25 ربیع الاول 638 ہجری کے روز انہیں تلوار کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ عیسوی کیلنڈر میں یہ تاریخ 14 اکتوبر 1240ء بنتی ہے۔ معزالدین بہرام کا انجام یہ ہوا کہ کچھ ہی عرصے بعد اسے بھی نااہلی کے الزام میں تخت سے اتار دیا گیا۔

کہا جاتا ہے کہ اپنے دورِ حکومت میں رضیہ سلطانہ نے غیرمسلموں پر عائد ٹیکس ہٹانے کی کوشش کی تھی۔ امراء کی جانب سے مخالفت ہونے پر اس نے کہا کہ دین کی روح، اس کے اجزاء سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے، اور یہ کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی غیرمسلموں پر زیادہ بوجھ ڈالنے سے منع فرمایا ہے۔ اسی طرح ایک اور موقعے پر ایک نومسلم کو دربار میں عہدہ دینا چاہا مگر امراء نے ایک دفعہ پھر مخالفت شروع کر دی۔ ان دو مثالوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اپنے مختصر سے دورِ حکومت میں رضیہ سلطانہ کو اپنے امراء کی تنگ نظری کا کیسے قدم قدم پر سامنا کرنا پڑا۔ رضیہ اپنی سلطنت اور عوام کی فلاح و بہبود میں گہری دلچسپی رکھتی تھی۔ ایسی کوئی روایت نہیں ملتی جس سے پتہ چلے کہ وہ اپنے ماتحتوں سے پرے رہنے کو ترجیح دیتی تھی بلکہ اس کے برعکس یہ روایات ملتی ہیں کہ وہ اپنے غلاموں میں گھل مل کر رہتی تھی۔

رضیہ نے اپنی مملکت میں مدرسے، دارالعلوم، دارالتحقیق اور عوامی کتب خانے تعمیر کرائے جن میں قرآن و حدیث کی کتب کے ساتھ ساتھ قدیم فلاسفہ کی کتب بھی رکھی گئیں۔ مدرسوں میں اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ سائنس، فلسفہ، علم فلکیات اور ادب میں ہندو مصنفین کی کاوشوں کو بھی پڑھایا جا تا تھا۔ رضیہ کی قبر نئی دہلی میں ترکمان گیٹ کے پاس بلبل خانہ نامی گلی میں واقع ہے۔ اس شکستہ اور گرد و غبار سے اٹی عمارت کو دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ اس کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی جا رہی۔ قبر کے چاروں طرف بے ہنگم رہائشی عمارات پھیلی ہوئی ہیں۔

تیرہویں صدی میں اس مقام پر ایک جنگل پھیلا ہوا تھا اور کوئی نہیں جانتا کہ رضیہ کا جسد خاکی اس جگہ تک کیسے پہنچا۔ پاس ہی ایک اور قبر ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اس کی بہن شازیہ کی ہے۔ علاقے کے مسلمان رہائشیوں نے اس مقبرے کے ایک حصے کو مسجد کی شکل دے دی ہے جہاں باقاعدگی سے نماز ادا کی جاتی ہے۔

چنگیز خان[ترمیم]

عظیم منگول فاتح چنگیر خان 1162ء میں پیدا ہوا۔ لفظ منگول ’’منگ‘‘ سے نکلا ہے جس کے معنی بہادر اور دلیر کے ہیں۔ منگولوں کی اصل کے متعلق مؤرخوں کی آراء ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ مسلم مؤرخوں کا کہنا ہے کہ منگول بھی ترک وحشی قبیلوں کی ہی ایک شاخ ہیں۔ تاہم یہ بات یقینی ہے کہ چنگیز خان تقریباً تمام منگول قبیلوں کو ایک جھنڈے تلے متحد کرنے میں کامیاب رہا اور ان کی رہنمائی کرتا ہوا پوری دنیا پر چھا گیا۔ منگولوں کا طرزِ عمل اس امر کا شاہد ہے کہ انہیں شہروں اور شہری زندگی سے نفرت تھی۔ انہوں نے اپنا طرزِ زندگی خود بنایا اور ان کا نظم و ضبط بڑا گہرا اور مثالی تھا۔ ان کی فتوحات کا باعث ان کی کثیر تعداد نہیں بلکہ ان کا ڈسپلن اور نظم و ضبط تھا۔ اس کا سارا کریڈٹ چنگیز خان کو جاتا ہے کیونکہ منگولوں کی تنظیم اور نظم اسی کی شاندار قیادت کے سبب ممکن ہو سکے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک بہترین حربی دماغ کا مالک اور ایک زبردست لیڈر تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے اپنے کئی جرنیلوں کی بھی تربیت کی اور انہیں بھی عظیم لیڈر بنا دیا۔ اگرچہ منگولیا کے یہ وحشی قبائل جسمانی طور پر بڑے مضبوط لوگ تھے اور سختیاں اور کٹھنائیاں جھیلنا ان کے لئے معمول کی بات تھی لیکن چنگیز خان جیسے قائد کی عدم موجودی میں وہ ایسا اہم مقام حاصل کرنے میں شاید کبھی کامیاب نہ ہو پاتے۔ Genghis Khan.jpg چنگیز خان کا باپ یسوجی بتاغر ایک معمولی منگول سردار تھا۔ اس نے اپنے بیٹے کا نام تموجن (یا تموچن) رکھا۔ چنگیر خان کی عمر نو سال تھی جب اس کے باپ کو دشمن سرداروں نے قتل کر دیا۔ ان قبیلوں کی زندگی جنگلی جانوروں کے شکار اور موسم کی سختی سے محفوظ رہنے کے لئے ان کی کھال کو اپنا لباس بنانے تک محدود تھی۔ پیٹ بھرنے کے لئے شکار کرنا ازبس ضروری تھا۔ قبیلے کی قیادت حاصل کرنے کے لئے ایک اور اہم کام مویشیوں خصوصاً گھوڑوں کی چوری تھی۔ ایک بچے کی حیثیت سے چنگیز خان کو یہ سب سیکھنا پڑا اور باپ کی موت کے بعد قبیلے کے رواج کے مطابق سرداری کا بوجھ اس کے شانوں پر آ گیا۔ اس اعتبار سے وہ خوش قسمت تھا کہ اپنی سرداری کے پہلے ہی دن وہ دو پتھروں سے دو ہرنوں کا شکار کرنے میں کامیاب رہا اور واپس آتے ہوئے رستے میں اس نے ایک گیڈر کو شکار کر کے اس کی کھال حاصل کر لی۔ اپنی محنت کے بل بوتے پر وہ جلد ہی دولت کا انبار لگانے میں کامیاب رہا۔ ان دنوں میں مویشی اور کھالیں دولت کا نشان تھیں۔ چنگیز خان نے بتدریج اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا شروع کیا لیکن اسے شکار اور کھیلوں میں آزادانہ حصہ لینے کی اجازت نہ تھی کیونکہ اس کے باپ کے موت کے بعد بھی خطرہ ٹلا نہیں تھا۔ صورتِ حال اس وقت مزید بگڑ گئی جب ایک دشمن قبیلے نے نوجوان تموجن کو گرفتار کر لیا۔ فرار ہونے سے روکنے کے لئے اس کی گردن میں لکڑی کا طوق ڈال دیا گیا۔ بے بسی اور لاچارگی کی اس انتہائی حالت سے، ایک بنجر اور پسماندہ سرزمین میں ایک گنوار قیدی کے مقام سے، چنگیز خان دنیا کا سب سے طاقتور آدمی بن کر ابھرا۔ وہ قید سے فرار ہو گیا۔ اس کے بعد اس نے اپنے باپ کے ایک دوست طغرل سے، جو ایک مقامی قبیلے کا سردار تھا، رابطہ قائم کیا۔ ان دنوں مختلف قبیلوں کے درمیان مختلف وجوہاتِ نزاع کی بنیاد پر خونریز لڑائیاں ہوا کرتی تھیں۔ ان لڑائیوں میں حصہ لے لے کر چنگیز خان نے اپنی تربیت کی اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے قوت و اقتدار کی بلند ترین چوٹی تک پہنچا۔

مذہبی اعتبار سے چنگیز خان شمان مت سے تعلق رکھتا تھا جس کے عقائد میں ’’جاودانی نیلے آسمان‘‘ کی عبادت شامل ہے۔ وہ تائو ازم کے چینی راہبوں کے ساتھ طول طویل گفت و شنید کیا کرتا تھا لیکن بذاتِ خود شمان مت پر کاربند رہا اور دشواری کے عالم میں ہمیشہ آسمانوں سے رہنمائی طلب کرتا رہا۔ وہ اور اس کے پیرو، سبھی ناخواندہ تھے۔ غالباً ایک طویل عرصے تک اسے یہ بھی علم نہ رہا ہوگا کہ دنیا میں تحریر نام کی کوئی شے بھی پائی جاتی ہے۔ اس کے پیغامات زبانی اور عموماً منظوم تمثیلات و ضرب الامثال کی شکل میں ہوتے تھے۔ سوچیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ایسی وسیع سلطنت کا انتظام و انصرام محض زبانی پیغامات کے بل بوتے پر کیسے چلایا جاتا رہا۔ جب چنگیز خان کو پتہ چلا کہ تحریر بھی کوئی شے ہے تو اس نے فوری طور پر اس کی افادیت اور وقعت کا ادراک کرتے ہوئے اپنے بیٹوں اور اعلیٰ افسران کو اس کے سیکھنے کا حکم دیا۔ اس نے یہ فرمان بھی صادر کیا کہ منگولوں کے قدیم مروجہ قوانین کو بمعہ اس کے اقوال، تحریری شکل میں منضبط کیا جائے تاکہ اسے ایک ضابطے کی حیثیت سے سب پر لاگو کیا جا سکے۔ شہنشاہ خود بھی اس ضابطے کا پابند تھا لیکن منگول اس کے پابند نہ رہ سکے۔ تموجن کے عروج سے قبل، جنگجو منگول قبیلے اپنی توانائی کا بڑا حصہ ایک دوسرے کے ساتھ لڑنے پر صرف کیا کرتے تھے۔ اپنی کم عمری کے باوجود چنگیز خان نے جدوجہد جاری رکھی اور درجہ بدرجہ اس مقام تک پہنچ گیا کہ اس کی درخواست پر منگول اجتماع ’’قرولتائی‘‘ بلایا گیا اور اس کے ارکان نے متفقہ طور پر اسے اپنا سربراہ منتخب کر لیا۔ حربی مہارت، ڈپلومیسی، بے رحمی اور انتظام کاری جیسی صلاحیتوں کے امتزاج کی بدولت تموجن تمام قبائل کو اپنی قیادت کے جھنڈے تلے متحد کرنے میں کامیاب رہا اور چند سال بعد 1206ء میں منگول سرداروں کے ایک اجتماع میں اسے چنگیز خان (شہنشاہِ آفاق) کا خطاب دے دیا گیا۔ جواہر لعل نہرو اپنی کتاب ’’تاریخ عالم کی جھلکیاں‘‘ میں منگولوں کی ایک خفیہ تاریخ کا ذکر کرتے ہیں جو 13 ویں صدی میں لکھی گئی اور 14 ویں صدی میں چین میں شائع ہوئی۔اس میں چنگیز خان کے انتخاب کی نقشہ کشی کچھ اس طرح کی گئی ہے:

’’اور اس طرح، چیتے کے سال میں، جب خیموں میں رہنے والی تمام نسلیں ایک قیادت کے تحت متحد ہو گئیں، تو وہ اونن کے سرچشموں کے نزدیک اکٹھے ہوئے اور 9 ٹانگوں والا سفید پرچم بلند کر کے چنگیز کو قاآن کا خطاب دیا۔‘‘ اس وقت چنگیز خان کی عمر 51 سال تھی اور یہاں سے اس کی فتوحات کے سلسلے کا آغاز ہوا۔ چنگیز خان کی عمر رسیدگی بھی اس ضمن میں قابل ذکر ہے کیونکہ زیادہ تر فاتحین نے اپنی فتوحات کا آغاز نوجوانی کے عالم میں کیا تھا۔ 1219ء میں چنگیز خان کی قیادت میں منگول افواج نے وسطی ایشیا اور ایران کو روند ڈالا۔ ایک منگول لشکر روس پر حملہ آور ہوا جبکہ چنگیز خان نے بذاتِ خود افغانستان اور شمالی ہندوستان پر حملہ کر دیا۔ 1225ء میں وہ منگولیا واپس پلٹا جہاں 1227ء میں اس کی موت ہوئی۔ اس نے منگولوں کو منظم کرکے ایک ایسی قوت بنا دیا کہ 1279ء تک چین، روس اور وسطی ایشیا، ایران اور جنوب مغربی ایشیا کا زیادہ تر حصہ منگول سلطنت میں شامل ہو گئے۔ جب چنگیز خان کے پوتے قبلائی خان نے چین کی فتح مکمل کی تو منگول سلطنت روئے زمین اور تاریخ عالم کی سب سے بڑی سلطنت قرار پائی اور قبلائی خان کی بادشاہت کو کوریا، تبت اور جنوب مغربی ایشیا کے بعض حصوں میں تسلیم کیا جاتا رہا۔

چنگیز خان نے اپنی فتوحات کو ایسی عمدگی سے ترتیب دیا تھا اور اس کے بیٹے اور پوتے ایسے قابل جانشین ثابت ہوئے کہ اس کی موت کے بعد بھی کئی صدیوں تک ایشیا کے وسیع حصوں پر منگول حکومت برقرار رہی۔ منگول فتوحات کے نتیجے میں عارضی طور پر پورا ایشیا متحد ہو کر بیرونی حملہ آوروں سے محفوظ رہا۔ اس سے چین اور یورپ کے درمیان تجارت کو فروغ ملا۔ چنگیز خان نہ ہوتا تو 13 ویں صدی میں منگولوں کی فتوحات کا سیلاب شاید کبھی شروع نہ ہوتا۔ اس کی وفات کے بعد منگول قبیلے دوبارہ کبھی متحد نہ ہو سکے۔ اس اعتبار سے چنگیز خان انسانی تاریخ کے حقیقی مرکزی متحرکین میں شامل نظر آتا ہے۔

اپنی موت سے کچھ عرصہ قبل چنگیز خان نے اپنے تیسرے بیٹے اوغدائی کو اپنا جانشین قرار دینے کی درخواست کی۔ چنگیز خان کا یہ انتخاب بھی دانشمندانہ ثابت ہوا کیونکہ آگے چل کر اوغدائی اپنی حیثیت میں ایک نہایت شاندار جرنیل بنا۔ اس کی قیادت میں چین میں منگول افواج کی پیش قدمی جاری رہی، روس مکمل طور پر فتح کر لیا گیا اور منگول لشکروں کے قدم یورپ تک جا پہنچے۔ 1241ء میں منگولوں نے پولینڈ، جرمنی اور ہنگری کی افواج کو تباہ کن شکستوں سے دوچار کیا اور پیش قدمی کرتے ہوئے ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ سے بھی آگے نکل گئے۔ تاہم اوغدائی کی وفات کے بعد منگول یورپ سے واپس ہو گئے اور دوبارہ کبھی ادھر کا رخ نہ کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سزائے موت کی کوٹھری سے محترمہ بے نظیر بھٹو کے نام ایک خط میں لکھا۔ ’’تاریخ میں ایسے بہت سے افراد کی مثالیں ملتی ہیں جو تباہی مچانے کا ارادہ لے کر گھر سے نکلے لیکن اس کے بجائے تعمیر و ترقی میں معاون ثابت ہوئے۔ ایسے افراد کی مثالیں بھی موجود ہیں جو تعمیر کے ارادے سے آگے بڑھے لیکن تخریب کا باعث ثابت ہوئے۔ جب چنگیز خان اپنی چھوٹی سی فوج لے کر منگولیا کے ایک دور افتادہ گائوں سے نکلا تو کیا اس نے سوچا ہوگا کہ وہ اور اس کی اولاد یورپ، روس، چین اور ہندوستان میں دور تک گھسنے میں کامیاب رہیں گے اور ایک ایسا نظام بھی تشکیل دیں گے جو کئی نسلوں تک برقرار رہے گا؟‘‘

مائوزے تنگ[ترمیم]

مائوزے تنگ نے اپنی رہنمائی میں چین میں کمیونسٹ پارٹی کو اقتدار تک پہنچایا اور آئندہ 20 سال تک اس وسیع و عریض ملک کے سب سے اہم اور دوررس انقلاب کی سربراہی کرتے رہے۔ مائوزے تنگ 1893ء میں چین کے صوبہ ہونان کے قصبے شائوشان میں ایک مزدور کے گھر میں پیدا ہوئے۔ اوائل عمری سے ان کے خیالات میں بائیں بازو کی طرف جھکائو کا رجحان پایا جاتا تھا اور 1920ء تک وہ پورے طور پر مارکسسٹ بن چکے تھے۔ 1921ء میں وہ چین میں کمیونسٹ پارٹی کے 12 حقیقی بانیوں میں سے ایک بنے۔ 1935ء میں وہ پارٹی کے اعلیٰ سطحی لیڈر بن گئے۔ 14 سال کے اس دورانئے میں انہیں ایک بڑا لیڈر بننے کے تمام ارتقائی مراحل سے گزرنا پڑا۔ اس دوران انہوں نے مختلف موضوعات پر کئی لیکچرز میں شرکت کی، معروضی حالات کا مطالعہ کیا، اور مستقبل کی لیڈر شپ کے لئے خود کو تربیت دیتے رہے۔ اقتدار تک پہنچنے کے لئے کمیونسٹ پارٹی نے جو راستہ اپنایا تھا وہ بڑا غیرہموار، طویل اور سست ہونے کے باوجود بے حد ٹھوس تھا۔ مائو کی باعلم اور تربیت یافتہ لیڈر شپ کے تحت پارٹی کی قوت میں بتدریج اضافہ ہوا، کامیابیاں حاصل ہوئیں اور 1949ء میں بالآخر کمیونسٹ پارٹی چین کا اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

بچپن سے ہی مائوزے تنگ کو کتابیں پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ ان کی زندگی غربت اور وطن کی خاطر کٹھنائیاں جھیلنے سے عبارت ہے۔ چین میں 1911ء میں مانچوخاندان کی شاہی حکومت ختم کرنے کا سبب بننے والے انقلاب کے ایک سال بعد مائو انقلابی سرگرمیوں میں سرگرم ہوئے۔ سوویت روس میں 1918ء میں لینن کے زیر قیادت کمیونسٹ حکومت قائم ہونے کے بعد، مائو نے 1921ء میں چین میں کمیونسٹ پارٹی کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔ 1927ء میں انہوں نے ہونان میں ’’خزاں کی بغاوت‘‘ کروائی۔ 1930ء میں انہوں نے کیانگسی میں چائنیز سوویت ری پبلک قائم کی۔ تاہم حکومتی دبائو کے زیر اثر انہیں ری پبلک چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ 1934ء میں وہ اپنے ہمراہیوں کے ساتھ نکلے اور 3000میل کا پُرصعوبت سفر طے کر کے چین کے شمال مغرب میں واقع ینان تک پہنچے۔ چین کی تاریخ میں اس سفر کو ’’لانگ مارچ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ینان پہنچ کر انہوں نے مزدور پیشہ افراد کی مدد سے گوریلا فوج تیار کی اور حکومتی فوجوں پر حملے شروع کر دیئے۔ 1937ء میں جاپان نے چین پر حملہ کر دیا۔ مائوزے تنگ کے زیرسربراہی کمیونسٹ پارٹی نے اس مرحلے پر چینی حکومت کا ساتھ دیا اور جاپان کے خلاف جنگوں میں شجاعت و بہادری کے جوہر دکھائے۔ بیرونی حملے کے بعد ذاتی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ملک کی حفاظت کے لئے کمربستہ ہو جانے کا فیصلہ ان کی دانشمندی کا بین ثبوت ہے۔

دوسری جنگ عظیم میں 1945ء میں جاپان کو شکست ہوئی اور چین کے لئے اس طرف سے کھڑی ہونے والی مشکلات کا خاتمہ ہو گیا۔ لیکن اب چیانگ کائی شیک کی کیومن تانگ اور مائوزے تنگ کی ریڈ آرمی کے درمیان ہونے والی چپقلش کے نتیجے میں چین ایک خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ گیا۔ دونوں فریقوں کے درمیان فیصلہ کن جنگ لڑی گئی جس کے نتیجے میں مائوزے تنگ نے چیانگ کائی شیک کو شکست دے کر 1949ء میں عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد رکھ دی۔ مائوزے تنگ کی زندگی میں ان کے ہم وطن ایک دیوتا کی طرح ان کی پوجا کرتے تھے۔ انہوں نے ایک پسماندہ اور نیم جاگیردارانہ ملک کو جدید اور دنیا کے طاقتور ترین ممالک میں سے ایک بنایا۔ کمیونسٹ چین کی بحالی کے لئے ان کی جدوجہد کئی عشروں پر محیط ہے۔ اپنے ملک میں انہیں ’’چیئرمین مائو‘‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا کیونکہ وہ چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے چیئرمین ہونے کے ساتھ ساتھ سربراہِ مملکت بھی تھے۔ ’’سرخ کتاب‘‘ جو کہ مائو کی تعلیمات اور مشہور اقوال پر مشتمل ہے، چینیوں کے لئے انجیل کی حیثیت رکھتی ہے۔ مائو کمیونزم کے حوالے سے بھی ایک الگ نظریاتی سوچ رکھتے تھے اور انہوں نے مارکس اور لینن کے نظریات میں چند اہم تبدیلیاں کر کے ایک نیا نظام تشکیل دیا جسے مائوازم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جس وقت مائو نے منصب اقتدار سنبھالا، اس وقت چین غربت و افلاس کا مارا پسماندہ ملک تھا جس کی وسیع و عریض آبادی کا زیادہ تر حصہ ناخواندہ کسانوں اور مزدوروں پر مشتمل تھا۔ مائو کی اپنی عمر اس وقت 56 سال تھی اور لگتا تھا کہ وہ اپنی زندگی کا سنہرا دور گزار چکے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ مائو کی زندگی کا سب سے اہم دور اب شروع ہو رہا تھا۔ 1976ء میں ان کی وفات کے وقت تک ان کی حکمت عملیاں چین کو مکمل طور پر انقلاب آشنا کر چکی تھیں۔ اس انقلاب کا ایک پہلو پورے ملک کو جدید تقاضوں سے روشناس کرانا تھا۔ ملک کو صنعتی بنایا گیا، عوامی تعلیم میں بے پناہ اضافہ کیا گیا اور عوامی صحت کے شعبے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ مائو نہ صرف سیاسی اور معاشی سطح پر بلکہ سماجی سطح پر بھی انقلاب لانے میں کامیاب رہے۔ 1949ء سے لے کر اپنی وفات تک وہ چینی حکومت کی سب سے اہم شخصیت رہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ جب ’’آگے کو بڑا قدم‘‘ نامی مہم کا آغاز ہوا تو مائو کی عمر ساٹھ پینسٹھ کے لگ بھگ ہو چکی تھی، جب ’’ثقافتی انقلاب‘‘ کا آغاز ہوا وہ تو 70 کے ہندسے خاصے آگے نکل چکے تھے اور جب امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا عمل شروع ہوا تو وہ تقریباً 80 سال کے تھے۔ ابتداً، کارل مارکس کی سوچ کے عین مطابق، مائو کو بھی یقین تھا کہ شہروں کے صنعتی کارکن کمیونسٹ پارٹی کی سب سے مضبوط بنیاد بنیں گے لیکن بعد ازاں ان کے خیالات تبدیل ہو گئے اور وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ پارٹی کو مرکزی سپورٹ مزدور پیشہ طبقے سے ہی مل سکتی ہے۔ چیانگ کائی شیک کی قوم پرست حکومت کے خلاف جدوجہد کے دوران، مائو کی قوت کا مرکز ہمیشہ دیہی علاقوں میں رہا۔ جہاں روس میں سٹالن صنعتی ترقی پر زیادہ زور دیتا تھا، وہاں چین میں مائو زرعی اور چھوٹی صنعتوں کی ترقی پر توجہ دیتے ہوئے نظر آتے تھے۔ اس کے باوجود مائو کے زیرقیادت، چین کی صنعتی پیداوار میں ڈرامائی اضافہ ہوا۔ جتنے وسیع علاقے اور جتنی بڑی آبادی پر مائو نے حکومت کی ہے، وہ تاریخ کی کسی اور شخصیت کے حصے میں نہیں آئی۔ اس عظیم انقلابی کا انتقال 9 مارچ 1976ء کو 83 سال کی عمر میں ہوا۔ ان کی وفات کے بعد ان کے مخالفوں نے چین میں مائو کی لائی ہوئی تبدیلیوں کو ختم کرنے کی مہم کا آغاز کیا لیکن مائو نے چین کے لئے جو عظیم خدمات سرانجام دی ہیں وہ ایک تاریخی حقیقت کا روپ دھار چکی ہیں۔

تھامس جیفرسن[ترمیم]

جیفرسن 13 اپریل 1743ء کو ورجینیا کی ایک کائونٹی شیڈویل میں پیدا ہوئے۔ 1776ء میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی آزادی کا اعلان انہوں نے تحریر کیا۔ ان کے والد ایک سرویئر اور پلانٹر تھے اور اپنے بیٹے کے لئے ایک وسیع جائیداد چھوڑ کر گئے۔ دو سال تک انہوں نے کالج آف ولیم اینڈ میری میں تعلیم حاصل کی لیکن ڈگری حاصل کئے بغیر وہاں سے نکل آئے۔ بعد ازاں انہوں نے کئی سال قانون کی تعلیم حاصل کی اور 1767ء میں ورجینیا کے بار میں داخل کر لئے گئے۔ اگلے سات سال انہوں نے ایک وکیل اور ایک پلانٹر کی حیثیت سے گزارے تاوقتیکہ 1774ء میں امریکی انقلاب کے نتیجے میں عدالتیں بند ہو گئیں۔

Thomas Jefferson.jpg

تھامس جیفرسن کو ورثے میں مادی دولت ملی تھی اور یکم جنوری 1772ء کو مارتھا ویلز سکیلٹن کو رفیقہ حیات بنا کر انہوں نے محبت کی دولت بھی حاصل کر لی۔ 25 سال کی عمر میں انہیں اسمبلی کا رکن منتخب کر لیا گیا۔ 1769ء سے 1774ء تک وہ رکن اسمبلی کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ انہوں نے خود کو ایک عمدہ کمیٹی مین اور ڈرافٹس مین ثابت کیا لیکن ایک عمدہ مقرر کے طور پر اپنا لوہا منوانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ مادر مملکت (برطانیہ) کے ساتھ جدوجہد کے آغاز سے ہی جیفرسن کی حمایت پیٹریاٹس (امریکہ کی الگ حیثیت کے خواہاں افراد کا گروہ) کے ساتھ تھی۔ انہوں نے اپنی پوزیشن کا تعین بہت سوچ سمجھ کر کیا تھا اور اس کی بنیاد برطانوی تاریخ اور فلسفۂ سیاسی کے وسیع مطالعے پر رکھی تھی۔ پیٹریاٹس کے نصب العین میں ان کی سب سے اہم ابتدائی شرکت ایک نہایت متاثر کن پمفلٹ کی صورت میں تھی جس کا عنوان تھا: ’’برطانوی امریکہ کے حقوق کا ایک خلاصہ۔‘‘ یہ پمفلٹ 1774ء میں شائع ہوا۔ اسے اس سال ورجینیا کے کنونشن کے سامنے پیش کرنے کے لئے تحریر کیا گیا تھا۔ اس پمفلٹ میں انہوں نے فطری حقوق بشمول حق ہجرت پر زور دیا اور نوآبادیوں پر پارلیمنٹ کے اقتدار کو مسترد کر دیا اور مادر مملکت یعنی برطانیہ کے ساتھ بادشاہ کے علاوہ کسی طرح کا تعلق رکھنے سے انکار کر دیا۔ جیفرسن 1789ء کے اواخر میں امریکہ واپس لوٹے اور جلد ہی پہلے سیکرٹری آف سٹیٹ کے طور پر چن لئے گئے۔ کابینہ میں جیفرسن اور الیگزینڈر ہملٹن کے مابین ایک نظریاتی تصادم چھڑ گیا۔ ملک بھر میں ہملٹن کی پالیسیوں کے حمایتیوں نے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر فیڈرل پارٹی تشکیل دے دی۔ جیفرسن کی پالیسیوں کے حمایتی اکٹھے ہوئے اور نتیجے میں ڈیموکریٹک ری پبلکن پارٹی وجود میں آئی جو کہ آگے چل کر ڈیموکریٹک پارٹی کے نام سے جانی گئی۔ 1796ء میں جیفرسن نے صدارت کے انتخابات میں حصہ لیا لیکن انہیں کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ منتخب ہونے والے صدر جان ایڈمز کے بعد وہ دوسرے نمبر پر آئے۔ اس وقت کے آئینی ضوابط کے مطابق وہ انہیں نائب امریکی صدر چن لیا گیا۔ جیفرسن اور ان کے انتخابی ساتھی آرون بر نے 1800ء کے صدارتی انتخابات میں جان ایڈمز کو شکست سے دوچار کیا۔ جیفرسن کی صدارت کا اعلان کچھ ہفتوں تک نہ کیا جا سکا کیونکہ انتخابی ضوابط کے مطابق وہ اپنے انتخابی ساتھی کے ساتھ بندھے ہوئے تھے اور ان دونوں میں سے کسی ایک کو صدرِ امریکہ چنا جانا تھا۔ انتخاب کا فیصلہ دارالاراکین کے ہاتھ میں دے دیا گیا۔ فیڈرل پارٹی کے رائے دہندگان نے کئی غیرفیصلہ کن رائے شماریوں میں مسلسل بر کے حق میں ووٹ ڈالے۔ لیکن کوئی صورت کارگر ہوتے نہ دیکھ کر ان میں سے بہت سے پیچھے ہٹ گئے۔ اکثریت کا فیصلہ بالآخر غالب آیا اور جیفرسن کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے تیسرے صدر کے طور پر چن لیا گیا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ انتخاب مکمل طور پر آئین کی حدود کے اندر رہتے ہوئے کیا گیا اور جیفرسن نے اپنے پہلے صدارتی انتخاب میں اس کا خصوصی طور پر ذکر کیا۔ بہ حیثیت صدر ان کا پہلا دور خاصا کامیاب رہا۔ اس کی مختلف وجوہات تھیں جن میں سے ایک یہ بھی تھی کہ وہ ایک ایسی پارٹی کے غیرمتنازعہ لیڈر تھے جس نے حزبِ اختلاف کی حیثیت سے گزارے جانے والے وقت میں خود کو بڑی اچھی طرح متحد کر لیا تھا۔

کانٹی نینٹل کانگریس کے رکن کے طور پر (1775ء تا 1776ء)، جیفرسن کو 1776ء میں جان ایڈمز، بنجامن فرینکلن، رابرٹ لیونگ سٹون اور راجر شرمین کے ساتھ اعلانِ آزادی کا مسودہ تحریر کرنے کے لئے منتخب کیا گیا تھا۔ پورا مسودہ انہوں نے خود لکھا، بعد ازاں جان ایڈمز اور بنجامن فرینکلن نے اس میں ضروری ترامیم کیں۔ جیفرسن نے 1776ء کے موسم خزاں میں کانگریس کی رکنیت چھوڑ دی اور ورجینیا کے مقننہ میں 1779ء تک خدمات انجام دیتے رہے۔ 1779ء میں انہیں گورنر منتخب کر لیا گیا اور 1779ء سے 1781ء تک وہ گورنر کے عہدے پر فائز رہے۔

1781ء سے 1783ء تک کے مختصر ذاتی وقفے میں انہوں نے ریاست ورجینیا کے متعلق اپنے نوٹس کی تالیف کا کام شروع کیا۔ یہ نوٹس 1785ء میں پہلی مرتبہ شائع ہوئے۔ اس دستاویز میں غلامی کے مسئلے کے متعلق ان کے چند ذاتی خیالات و عقائد موجود ہیں۔ 1783ء سے لے کر 1784ء تک وہ کانٹی نینٹل کانگریس کے رکن رہے۔ 1782ء میں ان کی اہلیہ کا انتقال ہو گیا۔ (ان کی شادی کو تقریباً دس سال ہو چکے تھے اور وہ چھ بچوں کے والدین تھے)۔ اگرچہ بیوی کی وفات کے وقت ان کی عمر کچھ زیادہ نہ تھی لیکن انہوں نے دوسری شادی نہ کی۔

جیفرسن جلد ہی ریٹائرمنٹ سے باہر آ کر دوبارہ کانگریس میں داخل ہو گئے۔ یہاں انہوں نے سکوں کی تیاری کے لئے ایک اعشاری نظام کی تجویز پیش کی جو کہ قبول کر لی گئی۔ تاہم انہوں نے اوزان اور پیمانوں کے لئے بھی ایسی ہی ایک تجویز پیش کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا۔ انہوں نے ایک مزید تجویز پیش کی جس کی رُو سے تمام نئی ریاستوں میں غلامی کو ممنوع قرار دے دیا جاتا لیکن صرف ایک ووٹ کی کمی سے اسے منظور کرانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ 1784ء سے 1789ء تک جیفرسن فرانس میں مقیم رہے۔ یہاں پہلے انہوں نے تجارتی معاہدوں کے سلسلے میں ہونے والے مذاکرات کے کمشنر کے طور پر خدمات انجام دیں، اس کے بعد بنجامن فرینکلن کی جگہ وزارت سنبھالی۔ کئی اعتبار سے یہ ان کی زندگی کا سب سے بھرپور دور ہے۔ ان کی یہ رائے پختہ اور حتمی ہو گئی کہ فرانس امریکہ کا ایک فطری دوست ہے جبکہ اس مرحلے پر برطانیہ ایک فطری رقیب۔ اپنے عہدے کی معیاد کے اختتام پر انہوں نے بڑے غور و فکر اور احتیاط سے ایک رپورٹ مرتب کی جس میں فرانس میں رونما ہوتے ہوئے انقلاب کا جائزہ پیش کیا گیا تھا۔ رفتہ رفتہ فرانسیسی انقلاب کی انتہا پسندیوں نے انہیں اس سے متنفر ہونے پر مجبور کر دیا اور جب نپولین کی سرکردگی میں انقلاب بھی ایک شاہی حکومت کا روپ اختیار کر گیا تو انہوں نے اسے یکسر مسترد کر دیا۔ ان کے پہلے دورِ صدارت کی کامیابی کی ایک اور وجہ ان کے وفادار اور قابل ساتھی تھے جن میں ریاستی امور کے سیکرٹری جیمز میڈیسن اور سیکرٹری خزانہ البرٹ گیلاٹن شامل تھے۔ آخری اور غالباً اہم ترین وجہ یہ تھی کہ اپنی معاشی پالیسیوں اور محصولات میں تخفیف کی وجہ سے انہیں عامتہ الناس میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی تھی۔ سول سروس میں جیفرسن جماعتی توازن بحال کرنے میں کامیاب رہے لیکن عدلیہ کے معاملے میں انہیں اتنی کامیابی حاصل نہ ہو سکی کیونکہ جان ایڈمز کی مدتِ صدارت کے آخری دنوں میں عدلیہ میں فیڈرل پارٹی سے تعلق رکھنے والے کئی افراد کو شامل کر دیا گیا تھا۔ جانبدار ججوں کو مختلف الزامات کے تحت ہٹانے کی کوشش بری طرح ناکام ہوئی اور فیڈرلسٹ بدستور عدلیہ میں موجود رہے، یہ ایک الگ بات ہے کہ ان کی جانبداری میں پہلے کی نسبت خاصی کمی واقع ہو گئی۔

جیفرسن کی مدتِ صدارت کا سب سے قابل ذکر کارنامہ 1803ء میں لوئیسیانا کی خریداری ہے۔ رابرٹ لیونگ سٹون اور جیمز منرو کو اس سلسلے میں نپولین کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لئے فرانس بھیجا گیا۔ جو معاہدہ انہوں نے توثیق کے لئے امریکہ بھجوایا، اسے پڑھ کر جیفرسن کے ذہن میں اخلاقی حوالے سے کئی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے۔ انہیں نظر آ رہا تھا کہ اس وسیع و عریض رقبے کی خریداری یونین (یعنی ریاست ہائے متحدہ امریکہ) کا کردار بدل کر رکھ دے گی۔ لیکن انہیں یہ بھی احساس تھا کہ اس مرحلے پر سستی سے کام لینا غلط ہے۔ کسی بھی طرح کی تاخیر اس سودے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ لہٰذا ڈیڑھ کروڑ ڈالر کے عوض لوئیسیانا ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا حصہ بن گئی۔ 1804ء کے صدارتی انتخابات میں انہیں دوسری مرتبہ صدر منتخب کر لیا گیا تاہم جارج واشنگٹن کی قائم کردہ مثال کی تقلید کرتے ہوئے انہوں نے 1809ء کے صدارتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ اب بھی وہ اپنی پارٹی کے غیرمتنازعہ لیڈر تھے ، اس کے باوجود اپنی دوسری مدتِ صدارت میں اندرون اور بیرونِ ملک دونوں محاذوں پر انہیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اندرونِ ملک کھڑے ہونے والے مسائل میں سے ایک وہ سازش تھی جو ’’بر سازش‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔ سابق نائب صدر آرون بر کو اس سازش کا ذمہ دار قرار دیا گیا اور اس پر غداری کے جرم میں مقدمہ چلایا گیا۔ لیکن جج جان مارشل کے فیصلوں کی بدولت اسے مجرم قرار نہ دلوایا جا سکا۔ غلطی جیفرسن سے بھی ہوئی کہ انہوں نے مقدمے کا فیصلہ ہونے سے پہلے ہی ایک بیان میں کہہ دیا کہ آرون بر کا مجرم ہونا شک و شبے سے بالاتر ہے۔

بیرونِ ملک محاذ پر جو اہم مشکلات انہیں پیش آئیں ان میں سے ایک 1807ء میں لگایا جانے والا امتناعِ تجارت کا حکم تھا۔ جنگ اور محکومی سے بچنے کے لئے جیفرسن کو اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نظر نہ آیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں برطانیہ اور فرانس کو کسی بھی طرح کے تجارتی سامان کی برآمد بند کر دی گئی لیکن بیرونِ ملک اس فیصلے کے وہ اثرات مرتب نہ ہو سکے جن کی توقع کی گئی تھی اور ملکی معاشی صورتِ حال میں دشواریاں پیدا ہونا شروع ہو گئیں۔ اپنی صدارت کے آخری دنوں میں انہوں نے یہ حکم واپس لے لیا اور اس کی جگہ زیادہ معتدل اور نرم اقدامات کئے لیکن اس کے باوجود 1812ء میں برطانیہ کے ساتھ امریکہ کی جنگ ہو کر رہی۔ 1809ء میں جیفرسن کے وفادار ساتھی جیمز میڈیسن نے ان کی جگہ صدارت کی کرسی سنبھالی۔ اپنی زندگی کے آخری سترہ سالوں میں جیفرسن ورجینیا میں مقیم رہے۔ ان کے وقت کا زیادہ تر حصہ جان ایڈمز اور دیگر رفقائے کار کے ساتھ لمبی چوڑی اور فکر انگیز خط و کتابت میں صرف ہوتا رہا۔ ان کی آخری عظیم عوامی خدمت 1819ء میں یونیورسٹی آف ورجینیا کا قیام تھی۔ 4 جولائی 1826ء کو اعلانِ آزادی کی 50 ویں سالگرہ کے موقعے پر ان کی وفات ہوئی۔ مرنے سے پہلے جیفرسن کو اس تعلیمی پروگرام کے ایک حصے پر عملدرآمد ہوتے دیکھنا نصیب ہو گیا جس کی تجویز انہوں نے 43 سال قبل ورجینیا کے مقننہ کے سامنے پیش کی تھی۔

مارگریٹ تھیچر[ترمیم]

مارگریٹ رابرٹس 13 اکتوبر 1925ء کو برطانوی قصبے گرینتھم میں ایک چھوٹی سی پرچون کی دکان کے اوپری کمرے میں الفریڈ اور بیٹرس رابرٹس کے ہاں پیدا ہوئیں۔ جیسا کہ لیڈی تھیچر اپنی کتاب ’’شاہراہِ اقتدار‘‘ ( مطبوعہ1995ء) میں لکھتی ہیں۔ ’’میں ایک ایسے گھر میں پیدا ہوئی جو عملیت پسند، سنجیدہ اور نہایت مذہبی تھا۔‘‘

مارگریٹ ایک بہترین طالبہ تھیں۔ پرائمری سکول میں اپنی جماعت کی اعلیٰ طالبات میں شامل ہونے کے علاوہ انہوں نے گوناگوں دلچسپیاں اور شوق بھی پال رکھے تھے جن میں موسیقی اور شاعری شامل تھے۔ پانچ سال کی عمر سے والدین نے مارگریٹ کو ان کی والدہ کے نقش قدم پر چلاتے ہوئے پیانو بجانے کے اسباق دلوانے شروع کئے۔ انہیں ادب کا بھی بے انتہا شوق تھا خصوصاً رڈیارڈ کپلنگ کی کتابیں انہیں بے حد پسند تھیں جن کا وہ ہر سال کرسمس کے تحفے کے طور پر مطالبہ کیا کرتی تھیں۔ دس سال کی عمر میں انہوں نے گرینتھم کے سالانہ مقابلے میں اپنے والد کی طرف سے ملنے والی شاندار خطیبانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاعری پڑھنے کا پہلا انعام حاصل کیا۔ گمانِ غالب ہے کہ مارگریٹ کی ابتدائی زندگی کے کئی واقعات ان کی آئندہ زندگی کے عقائد و نظریات کی ترتیب و تشکیل کو متاثر کرنے کا باعث بنے اور ان عقائد و نظریات نے آگے چل کر نہ صرف برطانیہ بلکہ پوری دنیا کے لوگوں کے رویئے اور نکات ہائے نظر تبدیل کر دیئے۔ وہ ’’شاہراہِ اقتدار‘‘ میں لکھتی ہیں۔ ’’بیٹھ کر دن میں خواب دیکھنے کے بجائے ہمارے ہاں ہمیشہ سرگرم رہنے پر زور دیا جاتا تھا۔‘‘ یہی زور غالباً وہ کلیدی عامل تھا جس کی بناء پر مارگریٹ تھیچر کا نعرہ ’’اٹھو اور آگے بڑھو برطانیہ۔ بیٹھ کر انتظار مت کرو برطانیہ‘‘ وجود میں آیا۔ ایک مرتبہ انہوں نے کہا۔ ’’کسی دن کے اختتام پر جب آپ بہت زیادہ مطمئن اور خوش ہوں تو اس کا جائزہ لیجئے۔ یہ کوئی ایسا دن نہ ہوگا جس میں آپ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے وقت ٹالتے رہے ہوں گے۔ یہ وہ دن ہوگا جب آپ کے پاس کرنے کو بہت سے کام تھے اور آپ نے وہ سب کام انجام دے ڈالے۔‘‘ اسی طرح سوشلزم کے متعلق مسز تھیچر کے نظریات سے واضح طور پر عیاں ہوتا ہے کہ لوگوں کو اپنی روزی اپنی محنت سے حاصل کرنی چاہئے، حکومت کو ایسا سہارا نہیں بننا چاہئے جس پر لوگ اپنی روزی کے لئے کام نہ کرنے کے باوجود ٹیک لگانے کی توقع کر سکیں۔

ابتدائے عمر سے ہی مارگریٹ کسی نہ کسی حد تک سیاست میں سرگرم رہیں۔ اپنے ذاتی نظریئے اور خاندانی روایات کے زیراثر وہ خود کو ایک پکا قدامت پسند (کنزرویٹو) تصور کرتی تھیں۔ وہ ’’شاہراہِ اقتدار‘‘ میں لکھتی ہیں۔ ’’میں ہمیشہ سے قدامت پرست رہی ہوں۔ مجھے اس امر میں کبھی کوئی شبہ نہیں رہا کہ میری سیاسی وفاداریاں کن کے ساتھ ہیں۔ ذاتی نیک خصلت سیاسی حقیقت پسندی کا نعم البدل نہیں بن سکتی۔‘‘ 1945ء اور 1946ء میں مارگریٹ کے والد الفریڈ رابرٹس گرینتھم کے میئر منتخب ہوئے اور اس طرح مارگریٹ کو نئی سیاسی خبروں سے باخبر رہنے کا موقع ملتا رہا۔ جب 1952ء میں لیبر پارٹی نے مقامی کونسلز میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تو مسٹر رابرٹس کو بھی اپنی کرسی سے محروم ہونا پڑا کیونکہ ووٹ دینے والوں نے کمیونٹی پر پارٹی کو ترجیح دی تھی۔ بہرحال، مارگریٹ کے والد نے اپنا عہدہ بڑے وقار اور امتیاز کے ساتھ چھوڑا۔ ایک ایسے دور میں جب ایٹم کو کچھ ہی عرصہ پہلے تقسیم کیا گیا تھا، جب پلاسٹک کی تیاری کا عمل شروع ہو رہا تھا اور جب ایک نئی سائنسی دنیا ابھر کر سامنے آ رہی تھی اور نوجوان لڑکیوں کے لئے سائنس کی تعلیم حاصل کرنا کوئی عجوبہ نہ رہا تھا، مارگریٹ رابرٹس کی دلچسپیوں کا محور کیمسٹری کا مضمون بن گیا۔ جب مارگریٹ کو اوکسفرڈ یونیورسٹی کے سمرویل کالج کی طرف سے سکالرشپ کی پیشکش کی گئی تو انہوں نے کیمسٹری میں سپیشلائز کرنے کا فیصلہ کیا۔ سخت محنت میں منہمک ہونے کے باوجود مارگریٹ میتھوڈسٹ سٹڈی گروپ کی رکن رہیں اور گروپ کی طرف سے منعقد کی جانے والی دعوتوں میں شریک ہوتی رہیں۔ موسیقی کے شوق کی تسکین کے لئے انہوں نے باخ کوائر میں شمولیت اختیار کر لی۔ اس کے علاوہ وہ اوکسفرڈ یونیورسٹی کنزرویٹو ایسوسی ایشن میں بھی شامل ہوئیں اور مارچ 1945ء میں اس کے خزانچی کا عہدہ سنبھال لیا۔ یونیورسٹی کی تاریخ میں وہ اس عہدے پر فائز ہونے والی تیسری خاتون تھیں۔

1947ء میں اوکسفرڈ یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد مارگریٹ رابرٹس پہلے برٹش زائلونائٹ اور بعد ازاں ایف ایس لیونز میں ریسرچ کیمسٹ کے طور پر کام کرتی رہیں۔ 1949ء میں انہیں ڈارٹ فورڈ، کینٹ سے ٹوری پارٹی کے امیدوار کے طور پر نامزد کیا گیا لیکن انتخابات میں وہ سیٹ جیتنے میں ناکام رہیں۔ 1950ء میں مارگریٹ کی ملاقات دولتمند اور کامیاب بزنس مین ڈینس تھیچر سے ہوئی اور اگلے سال دونوں کی شادی ہو گئی۔ 1951ء میں ٹوری پارٹی نے ایک دفعہ پھر انہیں ڈارٹ فورڈ سے نامزد کیا اور مارگریٹ ایک دفعہ پھر ناکام رہیں۔ اگست 1953ء میں مارگریٹ تھیچر نے جڑواں بیٹے اور بیٹی مارک اور کیرول کو جنم دیا۔ اسی سال دسمبر میں انہوں نے بار کے امتحانات میں کامیابی حاصل کی اور اگلے سال کے اوائل میں بار کی رکن بن گئیں۔ اب مارگریٹ تھیچر ایک کل وقتی ٹیکس بیرسٹر بن چکی تھیں۔ 1959ء کے عام انتخابات نزدیک آئے تو مارگریٹ تھیچر کو فنچلے کی ’’محفوظ‘‘ سیٹ کے لئے ٹوری پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے نامزد کیا گیا۔ مارگریٹ نے یہ سیٹ بھاری اکثریت سے جیتی۔ اس سے اگلے سال کے اوائل میں مارگریٹ نے دارالعوام میں عوامی اداروں کے موضوع پر اپنی پہلی تقریر کی۔ خلافِ معمول، ان کا پیش کیا ہوا بل پاس کر کے قانون بنا دیا گیا جس پر ایک مقامی اخبار نے شہ سرخی لگائی۔ ’’ایک ستارے کا جنم۔‘‘ 1960ء میں وزیراعظم نے مارگریٹ تھیچر کو پنشنز اور نیشنل انشورنس کے لئے جوائنٹ پارلیمانی سیکرٹری مقرر کر دیا۔

1975ء میں مارگریٹ 130 ووٹ لے کر ٹوری پارٹی کی قیادت حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ اس وقت کے سربراہِ جماعت اور سابق وزیراعظم برطانیہ ایڈورڈ ہیتھ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ 1976ء میں ضمنی انتخابات کے ایک سلسلے کے بعدلیبر پارٹی اپنے کئی مضبوط قلعوں سے محروم ہو گئی اور دارالعوام میں ان کی حتمی اکثریت ختم ہو گئی۔ 1978ء کے موسم سرما میں لاری ڈرائیوروں نے ہڑتال کر دی۔ ان کا مطالبہ تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کا تھا۔ تھوڑے ہی عرصے میں خاکروب، گورکن اور ایمرجنسی سروس فراہم کرنے والے ارکان بھی ہڑتال میں شامل ہو گئے اور برطانیہ میں عدم اطمینانی پھیلنے لگی۔

28 مارچ کو لیبر حکومت پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی اور 3 مئی 1979ء کو عام انتخابات منعقد کروانے کا اعلان کر دیا گیا۔ 1979ء کی فتح سے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے برطانوی سیاست میں چلی آنے والی روایت کا تسلسل ٹوٹ گیا۔ اس وقت تک برطانوی سیاست میں ’’اجتماعی اتفاق رائے‘‘ کی روایت چلی آ رہی تھی لیکن جس کھیل کو کھیلنے کا عزم مارگریٹ نے کر رکھا تھا، اس میں اجتماعی اتفاقِ رائے کا نام و نشان تک نہ تھا۔

1974ء میں برسراقتدار آنے والی لیبر حکومت محض ایک ہلکی سی اکثریت کے بل بوتے پر کامیابی تک رسائی حاصل کر سکی تھی۔ اس حکومت کو اپنے دورِ اقتدار میں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ مہنگائی اور بے روزگاری کی شرح کا جنگ عظیم دوم کے فوراً بعد کی شرح تک پہنچتا ہوا گراف اس امر کا بین ثبوت تھا کہ آئندہ عام انتخابات میں معاشیات مرکزی کردار ادا کرے گی۔ اپریل 1976ء تک وزیراعظم نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر لیا اور وزارتِ عظمیٰ کے اختیارات لیبر پارٹی کے لیڈر جیمز کیلاہان کے حوالے کر دیے گئے۔ لیکن اس وقت تک لیبر پارٹی دو ضمنی انتخابات ہار چکی تھی اور نتیجتاً پارلیمنٹ میں اس کی سادہ اکثریت ختم ہو چکی تھی۔ کیلاہان کو علم تھا کہ عام انتخابات سر پر چڑھے چلے آ رہے ہیں لیکن لیبر کابینہ میں اس ضمن میں بہت سی متضاد آراء موجود تھیں کہ عام انتخابات کا انعقاد کب ہونا چاہئے۔ اگرچہ معیشت میں بحالی کے ہلکے ہلکے آثار نمودار ہو رہے تھے لیکن ووٹرز کے لئے یہ آثار خاطر خواہ حد تک حوصلہ افزا نہ تھے۔ ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیلاہان نے 1978ء کے بجائے 1979ء میں انتخابات منعقد کروانے کا فیصلہ کیا۔ اس کا خیال تھا کہ تنخواہوں کے متعلق اس کی پالیسی ووٹرز کو پولنگ کے دن تک مطمئن رکھنے میں کامیاب رہے گی۔ اس کی توقعات پوری نہ ہو سکیں اور صنعتی بے چینی پھیلنا شروع ہو گئی۔ اس کے بعد سے ہر چیز کیلاہان کے خلاف گئی۔ اس نے پبلک سیکٹر کی تنخواہوں میں اضافے کو 5 فیصد سے نیچے رکھنے کا حلف اٹھایا لیکن جب ٹینکر ڈرائیورز نے حکومت کو 14 فیصد اضافہ کرنے پر مجبور کر دیا تو گویا سیلاب کے راستے کھل گئے اور کیلاہان ڈوبنے لگا۔ جنوری 1979ء تک واٹر ورکرز، ایمبولینس ڈرائیورز، سیوریج ورکرز، خاکروب اور کئی دیگر شعبوں نے ہڑتال کر دی اور انتظامی بدنظمی پھیلنا شروع ہو گئی۔

یکم مارچ کو ایک اور ضمنی انتخاب میں لیبر پارٹی، ٹوری پارٹی کے ہاتھوں دو سیٹیں مزید ہار گئی۔ مسز تھیچر نے اپنا پلڑا بھاری دیکھتے ہوئے حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر دی اور 28 مارچ کو جیمز کیلاہان اس امتحان میں بھی ناکام ثابت ہوا۔ 3 مئی کو عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کر دیا گیا اور انتخابی مہم شروع ہو گئی۔ لیبر پارٹی کی شکست اور پولنگ کے دن کے درمیان صرف پانچ ہفتوں کا وقفہ آیا، اس کے باوجود یہ مہم برطانوی تاریخ کی سب سے زیادہ مشتہر کی جانے والی انتخابی مہموں میں شامل ہو گئی۔ میڈیا کوریج پوری مہم کے دوران غالب رہی اور مسز تھیچر نے اس کوریج کو بڑی عمدگی سے اپنے حق میں استعمال کیا۔ لیکن یہ مہم عملی اقدار سے یکسر خالی نہ تھی بلکہ حقیقت تو یہ تھی کہ میڈیا کے استعمال کے باوجود عملی اقدار نے اس مہم میں سب سے بڑا کردار ادا کیا۔ مسز تھیچر ماہر معاشیات تھیں اور مہنگائی ان کی اعلانیہ دشمن تھی۔ 1974ء سے لے کر 1979ء تک مہنگائی نے حکومت پر وہ حملے کئے تھے جو کسی دشمن نے نہ کئے ہوں گے اور پورے ملک کی معیشت کا بھٹہ بٹھا کر رکھ دیا تھا۔ مسز تھیچر اس گڑبڑ کی ساری ذمہ داری حکومت کے کندھوں پر ڈالنے کا تہیہ کئے ہوئے تھیں۔

جب انتخابات ہوئے تو نتائج سے صاف ظاہر ہو گیا کہ ملکی اکثریت اب جیمز کیلاہان کو حکومت کرنے کے لئے موزوں خیال نہیں کرتی اور مارگریٹ تھیچر یورپ کی پہلی خاتون وزیراعظم کی حیثیت سے پارلیمنٹ کے اجلاس میں ٹوری پارٹی کی قیادت کریں گی۔ اس وقت برطانیہ کی معیشت کی حالت بہت بری تھی اور اپنے پہلے دور میں انہوں نے اور ان کے چانسلر نے ’’مانیٹری ازم‘‘ نامی معاشی نظریئے کو اپنایا اور کاروبار اور سب سڈیز پر حکومتی ریگولیشنز میں کمی کی۔ اس کے نتیجے میں کئی ایسے کاروبار ڈوب گئے جو خاطرخواہ کارکردگی نہیں دکھا رہے تھے۔ اس سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا اور شرحِ افراطِ زر دوگنا ہو گئی۔ اس کے جواب میں انہوں نے ٹیکسوں میں اضافہ کیا اور پیسے کی فراہم میں تبدیلی لائیں جس سے افراطِ زر میں فوری کمی آئی اور عوام اور ماہرین معیشت کی مخالفت بھی مدہم پڑ گئی۔ اس وقت میں تھیچر حکومت نہایت غیرمقبول ہو چکی تھی لہٰذا موقع مناسب دیکھتے ہوئے ارجنٹائن نے جنوبی نیم کرے میں واقع ایک برطانوی جزیرے فاک لینڈز پر حملہ کر دیا۔ اس کے نتیجے میں چھڑنے والی جنگ میں حب الوطنی کے زبردست تام جھام کے شور میں تھیچر حکومت نے فتح حاصل کی اور اس کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ دوسری طرف حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت لیبر پارٹی میں تفرقہ پڑ جانے کی بدولت 1983ء کے انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کو بھاری مارجن سے فتح حاصل ہوئی۔

تھیچر حکومت نے اپنی نگرانی میں چلنے والی زیادہ تر صنعتوں کی نجکاری کر دی جن میں پانی، بجلی اور ریلوے شامل تھیں اور انہیں نسبتاً ارزاں نرخوں پر پرائیویٹ کمپنیوں کو بیچ دیا۔ انہوں نے ٹریڈ یونینز کو تہذیب کے دائرے میں لانے کے لئے سخت اقدامات کئے اور ہڑتالوں، بند دکانوں اور ’’ہمدردانہ‘‘ ہڑتالوں کو کنٹرول کرنے کے لئے قوانین پاس کئے۔ ان کی حکومت کا ایک اہم ترین واقعہ 1984ء میں پیش آیا جن کان کنوں نے ہڑتال کر دی۔ برطانیہ کے کان کن حکومت کی طرف سے ان کانوں کو بند کرنے پر احتجاج کر رہے تھے جنہیں ’’غیراقتصادی‘‘ قرار دیا گیا تھا۔ تھیچر نے رائے عامہ کو ہڑتال کرنے والے کان کنوں کے خلاف منظم کیا اور کوئی رعایت دیئے بغیر انہیں کام پر واپس آنے پر مجبور کر دیا۔ تھیچر ازم کے تحت کئے دیگر اقدامات میں کونسل ہائوسز کرایہ داروں کو بیچ دیئے گئے، سوشل سروسز پر اٹھنے والے اخراجات کم کئے گئے، چھپے ہوئے پیسے کی حد مقرر کی گئی اور یورپ میں بڑھتے ہوئے ’’فیڈرل ازم‘‘ کے لئے ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے ٹیکس بھی گھٹا دیئے۔ امریکی صدر رونالڈ ریگن کے ساتھ گہرے تعلقات استوار کر کے تھیچر نے کمیونزم اور سوویت یونین کو ایسی برائیاں قرار دیا جن کے آگے بند باندھا جانا ضروری تھا۔ ایسا رویہ اپنا کر گوربا چوف کے برسراقتدار آنے تک سرد جنگ کو زندہ رکھنے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ تاہم گوربا چوف کا استقبال انہوں نے گرمجوشی سے کیا۔ 1976ء میں وزیراعظم بننے سے پہلے کی ایک تقریر پر، جس میں انہوں نے کمیونزم کی بھرپور الفاظ میں مذمت کی تھی، انہیں سوویت میڈیا میں ’’آئرن لیڈی‘‘ کا خطاب دیا گیا اور مغربی میڈیا نے بھی جلد ہی انہیں اس نام سے یاد کرنا شروع کر دیا۔ 1984ء میں مارگریٹ تھیچر برائٹن کے ایک ہوٹل میں آئرش ری پبلک آرمی کے لگائے گئے بم سے بال بال بچ نکلیں۔ یہ بم اس بڑی مہم کا ایک حصہ تھا جو آئی آر اے نے ایک متحدہ اور خودمختار آئرلینڈ کے قیام کے لئے چلا رکھی تھی اور جس کے نتیجے میں برطانیہ کے زیرانتظام شمالی آئرلینڈ شورشوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اس دھماکے کے نتیجے میں برطانوی عوام میں ان کے لئے کسی نہ کسی حد تک ہمدردانہ جذبات پیدا ہوئے۔ حقیقت یہ تھی کہ ان کے دوسرے دورِ حکومت میں رائے عامہ ان کے خلاف گہری تقسیم کی شکار تھی اور 1987ء کے عام انتخابات میں ان کی فتح سے عوامی رائے کے تضاد کا کھل کر اظہار ہوا جب اندرونی شہروں میں کنزرویٹو پارٹی کے امیدواروں کو بری طرح ناکامی ہوئی۔ ان کے تیسرے دورِ حکومت میں دو نکات گمبھیر چپقلش کا باعث بنے رہے: یورپین یونین کی پرزور مخالفت جس پر ان کی پارٹی میں بھی پھوٹ پیدا ہو گئی، اور ’’کمیونٹی چارج‘‘ جسے دوسرے لفظوں میں ’’پول ٹیکس‘‘ کہا جاتا تھا جو اتنا غیرمقبول تھا کہ سڑکوں پر فسادات کرانے کا موجب بن گیا۔ 1989-90ء میں اقتصادی صورتِ حال خراب ہو گئی، کساد بازاری اور بلند شرحِ بے روزگاری نے برطانوی قوم کو گھیر لیا، اور پول ٹیکس نے تھیچر کی عدم مقبولیت میں بے پناہ اضافہ کر دیا۔ جماعت کے اندر شبہات پیدا ہونے لگے کہ کیا تھیچر چوتھی مرتبہ کامیابی حاصل کر پائیں گی۔ یورپی یونین کی حمایت کرنے والے ایک پارٹی ممبر مائیکل ہسٹ لائن نے تھیچر کو پارٹی کی قیادت کے لئے چیلنج کر دیا۔ تھیچر کو ہسٹ لائن سے زیادہ ووٹ ملے لیکن چار ووٹوں کے فرق سے انہیں واضح کامیابی حاصل نہ ہو سکی اور پارٹی کے دبائو پر انہوں نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ 1992ء میں انہوں نے اپنی پارلیمانی نشست چھوڑ دی اور بیرونس آف کسٹیوان کے خطاب کے ساتھ دارالامراء میں شمولیت اختیار کر کے دنیا بھر میں عوامی اجتماعات سے خطاب کا کام شروع کر دیا۔ ان کے جانے کے بعد بھی کچھ عرصہ تک ان کا اثر محسوس کیا جاتا رہا جس سے ان کے بعد آنے والوں کو کسی قدر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ 1995ء میں وہ ’’آرڈر آف گارٹر‘‘ کی رکن بن گئیں۔ فالج کے ہلکے حملوں کے ایک سلسلے کے بعد 2002ء میں انہوں نے عوامی خطابات کرنے کا سلسلہ ترک کر دیا۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ زندگی کا ہر حصہ تھیچر کے دورِ حکومت میں اپنائی گئی پالیسیوں سے متاثر ہوا اور برطانیہ کے معاشی اور معاشرتی ڈھانچے کے خدوخال تبدیل ہو گئے۔ یہ تبدیلی مثبت تھی یا منفی، اس کا انحصار آپ کے سیاسی نظریات پر ہے، اور اب بھی تھیچر کے بارے میں لوگوں کے خیالات میں خاصا تصادم پایا جاتا ہے۔ کچھ ان پر تنقید کرتے ہیں کہ انہوں نے برطانیہ کے سماجی قلب پر ضرب لگائی اور دوسرے کہتے ہیں کہ انہوں نے قوم کو جدیدیت سے آشنا کیا۔ لوگ ان سے پیار بھی کرتے ہیں اور ان سے نفرت بھی۔

جواہر لعل نہرو[ترمیم]

14 نومبر 1889ء کو رات ساڑھے گیارہ بجے پنڈت موتی لعل نہرو کی بیوی سواروپ رانی نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔ موتی لعل نے اپنے بیٹے کو جواہر لعل کا نام دیا۔ ایک ایسا نام جو اس کے بیٹے کو ساری عمر پسند نہ آیا۔ اس وقت موتی لعل نہرو ہندوستان کے معروف ترین وکلاء میں شمار ہوتے تھے اور اپنی زندگی کے تمام تر سامانِ تعیش سے بھرپور انداز میں لطف اندوز ہو رہے تھے۔ جتنا وہ خرچ کرتے تھے، اس سے کہیں زیادہ کماتے تھے۔ پیدائش سے پہلے وہ باپ کے سائے سے محروم ہو گئے اور ان کی ابتدائی زندگی مشکلات سے بھرپور رہی۔ ان کی پہلی رہائش گاہ الٰہ آباد کے گنجان آباد علاقے مری گنج میں تھی لیکن کامیابی حاصل ہوتے ہی وہ سول لائنز میں 9 الجن روڈ پر ایک وسیع و عریض بنگلے میں منتقل ہو گئے۔ یہ علاقہ سفید فام اور یوریشین خاندانوں کی رہائش کے لئے مخصوص تھا۔ ایک وقت میں ہندوستانیوں کو وہاں رہنے کی اجازت بھی نہ تھی اور رات 9 بجے سے لے کر صبح 6 بجے تک ہندوستانیوں کو اس علاقے میں گھسنے بھی نہ دیا جاتا تھا۔ Pandit Jawahar Lal Nehru.jpg یہاں منتقل ہونے کے بعد بھی موتی لعل کے خواب پورے نہ ہوئے تھے۔ بالآخر مراد آباد کے راجہ پرم آنند سے 1۔ چرچ روڈ پر واقع عظیم الشان گھر خرید کر انہوں نے اپنے سپنوں کا محل حاصل کر لیا۔ موتی لعل کو زندگی میں بہترین سے کم کسی چیز کی طلب نہ تھی۔ اس گھر کا نام انہوں نے ’’آنند بھون‘‘ رکھا یعنی جائے سکون۔ یہ الٰہ آباد کا پہلا گھر تھا جس میں سوئمنگ پول کے ساتھ بجلی اور پانی کی سہولیات بھی موجود تھیں۔

یورپ کی کوئی نئی ایجاد اتنی مہنگی نہ تھی کہ موتی لعل کی قوتِ خرید سے باہر ہو۔ روز بروز بڑھتی ہوئی نت نئی اختراعات کے جدید ترین ماڈل، بائی سائیکل اور ٹرائی سائیکل جواہر لعل کے لئے راجہ رام موتی لعل گذدار اینڈ کمپنی کے ذریعے منگوائے گئے۔ (موتی لعل اس فرم کے حصہ داروں میں شامل تھے)۔ 1904ء میں موتی لعل کے طفیل الٰہ آباد کی سڑکوں نے پہلی دفعہ کار کا منہ دیکھا۔ ایک مشہور تصویر میں وہ کوٹ اور ٹویڈ کیپ پہنے اپنی ہیٹ پوش بیٹیوں کے ساتھ اس کار میں نظر آ رہے ہیں۔ جب 1905ء میں وہ اپنے بیٹے کو لندن کے مشہورومعروف سکول ہیرو (Harrow) میں داخل کرانے کے لئے لے گئے تو وہاں انہوں نے ایک اور کار خریدی۔ 1909ء میں دوبارہ یورپ جا کر انہوں نے دو مزید کاریں خریدیں۔ ایک لانسیا اور ایک فیاٹ۔ ان کے پاس بہترین عربی گھوڑوں کا پورا اصطبل موجود تھا اور بچوں نے بڑی چھوٹی سی عمر میں ہی گھڑ سواری سیکھ لی۔ بچپن میں گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھے یا کوٹ پتلون کسے ہیٹ لگائے، 1929ء میں کانگریس کے صدر کی حیثیت سے گہرے رنگ کی شیروانی کے ساتھ کالی ٹوپی اور سفید چوڑی دار پاجامہ پہنے، اور پھر وزیراعظم کی حیثیت سے اپنے مشہور و معروف لمبے کوٹ کے دوسرے کاج میں گلاب کا پھول لگائے اور چوڑی دار پاجامے کے ساتھ سفید کھادی ٹوپی پہنے جواہر لعل ہندوستانیوں کے لئے ایک جانا پہچانا چہرہ بن گئے۔ آنند بھون کے اردگرد پھیلی زمینوں کا ایک گوشہ موتی لعل کے پسندیدہ کھیل، کشتی، کے لئے مخصوص تھا۔ وہ ملک کے بہترین پہلوانوں کو اپنے اکھاڑے میں مدعو کرتے اور بعد ازاں ان کے ساتھ مل کر سردائی سے لطف اندوز ہوتے۔ ایک دفعہ وہ ایک پہلوان کو اپنے ساتھ یورپ بھی لے گئے اور وہاں اس کے لئے نمائشی مقابلوں کا انعقاد کرایا۔ موتی لعل کی دولت اب اعداد و شمار کی حدوں سے باہر نکلتی جا رہی تھی۔ نہرو خاندان کا امیرانہ طرزِ زندگی اور ان کی شاندار ضیافتیں بہت سے ہندوستانی شہزادوں اور وائسرائے کے علاوہ حکومت برطانیہ کے تمام اہلکاروں سے کوسوں آگے تھیں۔ غربت کا کسمپرسی کا پرانا دور اب قصۂ پارینہ بن چکا تھا۔ موتی لال اور اس کے تینوں بچے، بیٹا جواہر لعل اور بیٹیاں وجے لکشمی (جسے پیار سے نن کہا جاتا تھا) اور کرشنا (عرف بٹی) کے ساتھ مغربی طرز کی ایسی تعیش پسندانہ زندگی گزار رہے تھے جس پر روایتی ہندوستانی اقدار کا ملمع چڑھا ہوا تھا۔ آنند بھون میں ابھی قوم پرستی کے جراثیم نمودار نہیں ہوئے تھے۔ نہرو خاندان نے اپنی کشمیری پہچان کو کبھی فراموش نہ کیا حالانکہ انہیں کشمیر سے آئے 200 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا تھا۔ جواہر لعل کی بہن نہرو خاندان کی پہلی فرد تھی جس نے برادری سے باہر شادی کی۔ اس کے بعد جواہر لعل کے ورثاء نے اس خاندان کو نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی امتزاج میں بدل دیا۔ اس سے پہلے نہرو خاندان میں برادری سے باہر شادی کا کوئی تصور نہ تھا۔ آنند بھون انگریزی اور ہندوستانی طرز ہائے زندگی کے شانہ بشانہ چلنے کی ایک خوشگوار مثال تھا۔ موتی لعل کو انگریزی طرزِ زندگی پسند تھا جبکہ ان کی بیوی ہندوستانی طرزِ زندگی کو ترجیح دیتی تھی اور بچے دونوں سے لطف اندوز ہوتے تھے۔

بچوں کو تعلیم گھر پر ہی دی جاتی تھی۔ جواہر لعل کے لئے دو گورنسیں تعینات کی گئی تھیں اور کچھ عرصہ انہوں نے اپنے کزن شری دھر کے ساتھ مقامی سینٹ میری کانونٹ سکول میں بھی گزارا۔ موتی لعل کو کانونٹ حسب خواہ معلوم نہ ہوا لہٰذا انہوں نے جواہر لعل کو وہاں سے اٹھا کر گھر میں پڑھوانا شروع کر دیا۔ فطری بات تھی کہ ان کے لئے بہترین سے کم کوئی چیز منتخب نہ کی گئی۔ سنسکرت پڑھانے کے لئے بلند پایہ دانشور پنڈت گنگا ناتھ جھا آتے تھے۔ نیم آئرش، نیم انگریز اور مکمل ہندوستانی قوم پرست اینی بسنٹ کی سفارش پر فرڈیننڈ ٹی بروکس نامی تھیوسوفی کے علمبردار ایک آئرش فرنچ استاد کو جواہر لعل نہرو کا ٹیوٹر مقرر کیا گیا۔ اس وقت جواہر لعل کی عمر گیارہ سال تھی۔ فرڈیننڈ سے انہوں نے تین برس تک تعلیم حاصل کی۔ موتی لعل کا ارادہ تھا کہ ان کا بیٹا بجائے کتابی کیڑا بن کر رہ جانے کے، ایک متوازن شخصیت لے کر بڑا ہو لیکن جواہر لعل کے میلانات عملی میدانوں کی طرف تھے۔ انہیں سائنس میں دلچسپی تھی اور وہ گھر میں ہی بنائی ہوئی چھوٹی سی لیبارٹری میں فزکس اور کیمسٹری کے تجربات میں مگن رہا کرتے تھے۔ (بعد ازاں کیمبرج میں انہوں نے نیچرل سائنس کو بھی توجہ کا مرکز بنایا)۔ البتہ ان کے ابتدائی ایام کا سب سے دلچسپ اثر سائنس یا ادب کے بجائے تھیوسوفی کے حوالے سے ہوا۔ جہاز اڑانے کا انہیں بہت شوق تھا اور ہیرو میں گزرنے والے دنوں میں اس میں اور بھی پختگی آ گئی۔ ان دنوں ہوابازی اپنے ابتدائی مراحل میں تھی اور نہرو اس کے حوالے سے بڑی سنسنی کے شکار تھے۔ ان کے پوتے راجیو گاندھی نے ہوابازی کو ایک پیشے کے طور پر اپنایا اور یہی شوق ان کے دوسرے پوتے سنجے گاندھی کے المیہ انجام کا سبب بنا۔ دوسری طرف موتی لعل کی ساکھ نئی بلندیوں کو چھو رہی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ سیاست کو زیادہ سے زیادہ وقت دینے کے لئے دبائو بھی بڑھ رہا تھا۔ تاہم ان کی توجہ سب سے بہتر اور سب سے مہنگا بیرسٹر بننے پر مرکوز رہی۔ جواہر لعل نے بعد ازاں اس دور میں موتی لعل کے سیاست سے احتراز کرنے کو اپنے مشاہدے کی رو سے بڑی خوبی سے ان الفاظ میں بیان کیا۔ ’’انہیں کسی ایسی تحریک یا جماعت میں شامل ہونے کی خواہش نہ تھی جہاں ان کا شمار دوسرے درجے میں کیا جائے۔‘‘ صف اول میں رہنے اور اختیار حاصل کرنے کی خواہش ایک اور شخصی خصوصیت تھی جو موتی لعل سے آگے ان کی نسلوں کو منتقل ہوئی۔ جواہر لعل نہرو کے ساتھ انڈین نیشنل کانگریس بھی عمر کی منازل طے کرتے ہوئے عنفوانِ شباب میں داخل ہو گئی۔ اس کی عمر نہرو سے صرف چار سال زیادہ تھی۔

1888ء میں الٰہ آباد کانگریس کا اجلاس ہوا۔ آنے والے 1400 مندوبین میں ’’پنڈت موتی لعل، ہندو، برہمن، وکیل ہائی کورٹ، شمال مغربی صوبہ‘‘ بھی شامل تھے۔ 1888ء میں اپنی بڑھتی ہوئی شہرت کی بدولت انہیں سبجیکٹس کمیٹی میں جگہ مل گئی۔ 1892ء میں ایک دفعہ الٰہ آباد میں کانگریس کا اجلاس ہوا، اس وقت موتی لعل استقبالیہ کمیٹی کے سیکرٹری بن چکے تھے۔ لیکن اس کے بعد تقریباً دس سالوں تک وہ کانگریس کے معاملات سے الگ تھلگ رہے اور اپنے کام اور خاندان کو اپنی توجہات کا مرکز بنائے رکھا۔ 1899ء میں وہ یورپ کے دورے پر گئے۔ غالباً اسی دورے کے دوران انہوں نے فیصلہ کیا کہ ان کے بیٹے کو سلطنت انگلشیہ کے سب سے بہترین سکول میں پڑھنا چاہئے۔ یہ سکول ہیرو تھا۔ سات سال تک جواہر لعل نہرو ملک سے باہر رہے اور اس دوران باپ بیٹے کے درمیان خط و کتابت کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہا۔ اس دوران دو مرتبہ جواہر لعل مختصر عرصے کے لئے وطن واپس آئے۔ ایک مرتبہ 1906ء کے موسم گرما میں اور دوسری مرتبہ 1908ء کے موسم گرما میں۔ موتی لعل کے دل میں اپنے بیٹے کے لئے جو بے پناہ پیار تھا، اس نے ان خطوط کو انسانی تعلقات کی عظیم دستاویز کا روپ دے دیا۔ بلکہ 1905ء میں بھیجے جانے والے ایک پوسٹ کارڈ کے ذریعے موتی لعل نے اپنے بیٹے سے وابستگی کا بڑی صراحت سے اظہار کیا۔ یہ پوسٹ کارڈ کانگریسی لیڈروں کی تصاویر کے سلسلے پر مشتمل تھے۔ 1899ء کے صدرِ کانگریس رمیش چندر دت کی تصویر والے پوسٹ کارڈ میں تصویر کے نیچے موتی لعل نے لکھا۔ ’’مستقبل کا جواہر لعل نہرو۔‘‘ دت کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جو تعلیمی، ادبی اور سرکاری خدمات کے میدان میں نمایاں مقام کا حامل تھا۔ 1869ء میں صرف اکیس سال کی عمر میں اس نے انڈین سول سروس کا امتحان پاس کیا اور بار کا رکن بھی بنا۔ موتی لعل کی بڑی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا بھی انڈین سول سروس میں شامل ہو۔ جواہر لعل نے ایک سکول طالبعلم کے لئے ضروری تمام سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ کرکٹ، فٹ بال، کراس کنٹری گھڑ دوڑ، لمبی لمبی دوڑیں، سکیٹنگ، جمنازیم کی مشقیں وغیرہ وغیرہ۔ البتہ بائبل کے مطالعے کے حوالے سے ان کی کارکردگی کچھ زیادہ اچھی نہ رہی۔

ان کے ہیڈماسٹر جوزف ووڈ ان کی تعلیمی کارکردگی سے کافی خوش تھے۔ 19 مئی 1906ء کو انہوں نے موتی لعل کو لکھا۔ ’’آپ کو اپنے بیٹے پر فخر ہونا چاہئے۔ اس کی کارکردگی بڑی شاندار ہے اور یہ سکول میں اپنا مقام بنا رہا ہے۔‘‘ البتہ جواہر لعل کے رویئے سے پتہ چلتا تھا کہ وہ ہیرو سے اکتاتے جا رہے ہیں۔ زیادہ بڑا مسئلہ یہ تھا کہ انہیں اپنے ہم جماعتوں سے زیادہ دلچسپی سیاست میں تھی اور ان کا کہنا تھا کہ ’’ہیرو میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں جس سے میں اس موضوع پر گفتگو کر سکوں۔ ایسی گفتگو کے لئے ہیرو خاصی چھوٹی جگہ معلوم ہوتی ہے ، اس لئے میں یونیورسٹی کے وسیع حلقے میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔‘‘ ہیرو میں تعلیم حاصل کرنے کا ایک غیرمتوقع فائدہ ضرور تھا۔ وہ یہ کہ بیوروکریسی یہاں کے طالب علموں کے ساتھ اچھا سلوک کیا کرتی تھی۔

ہیرو سے نکلنے والے طالب علموں میں ایسے افراد شامل تھے جنہوں نے سلطنتیں تعمیر کیں اور ایسے بھی جو سلطنتوں کی تباہی کا باعث بنے۔ ہیرو میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران بھی جواہر لعل نہرو کے سیاسی نظریات بڑے قوم پرستانہ تھے بلکہ اسی موضوع پر اپنے والد کا ساتھ ان کا پہلا اختلاف ہوا کیونکہ وہ اپنے والد کو حکومت برطانیہ کے ضرورت سے زیادہ پُرجوش حامی سمجھتے تھے۔ اس حوالے سے جواہر لعل نے اپنے والد سے تھوڑی بہت بدتمیزی بھی کی اور نتیجے میں پیار کرنے والے باپ کی ڈانٹ سہی۔ ہندوستان کی تاریخ میں یہ ہلچل کا دور تھا اور اس کے اثرات کسی بھی نوجوان کا سر گھمانے کو کافی تھے۔ سیاست میں جواہر لعل کی دلچسپی صرف ہندوستان تک محدود نہ تھی۔ انہوں نے 1906ء میں ہونے والے برطانوی عام انتخابات کا بھی بڑی دلچسپی سے مطالعہ کیا۔ سکول میں اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ مل کر انہوں نے برطانوی پارلیمنٹ کی طرز پر ایک ’’نقلی پارلیمنٹ‘‘ بھی بنائی۔ (ان انتخابات میں قدامت پرست فتح یاب رہے تھے)۔ ان دنوں موتی لعل بھی سیاست میں زیادہ حصہ لینے کے بجائے مشاہدہ کرنے پر اکتفا کرتے تھے۔ 1906ء میں جواہر لعل کلکتہ کانگریس کے اجلاس میں گئے جہاں انہوں نے اس خطاب کا متن پڑھا جو ان کے والد نے مارچ میں صوبائی کانگریس سے کیا تھا۔

ہیرو میں ایک سال گزارنے کے بعد جواہر لعل کو یقین ہو چکا تھا کہ یہاں کی تعلیم ان کے لئے کچھ فائدہ مند ثابت نہیں ہو رہی لہٰذا انہوں نے ٹرینٹی کالج میں نیچرل سائنس کے سینئر لیکچرر سر والٹر فلیچر کو ایک خط لکھ کر کالج کے داخلے کے امتحان میں شامل ہونے کی درخواست کی۔ حقیقت یہ تھی کہ اب جواہر لعل روایتی تعلیم میں دلچسپی کھو چکے تھے۔ ہیرو میں تعلیم حاصل کرنے کا غالباً سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ انہیں ہیرو سکول کے طالب علم ہونے کا اعزاز حاصل ہو گیا۔ چیمز فورڈ، ویول اور مائونٹ بیٹن کے علاوہ جواہر لعل کے دور کے سارے وائسرائے ہیرو یا ایٹن سے ہی پڑھ کر نکلے تھے۔ ذہنی نشوونما کے حوالے سے کیمبرج میں گزرنے والا دور بھی جواہر لعل کے لئے کچھ بہتر ثابت نہ ہوا۔ 19 جون 1912ء میں جواہر لعل کو قانونی تعلیم کے مشہور ادارے انر ٹیمپل میں داخلہ مل گیا۔ موتی لعل نے بڑے فخر سے اپنے بیٹے کی تصاویر کا ایک البم تیار کیا اور اس کا نام رکھا۔ ’’پنگھوڑے سے بار تک۔‘‘ جواہر لعل نے انر ٹیمپل میں پڑھائی کا آغاز تو کر دیا لیکن اس کے لئے انہیں اپنے والد کے ساتھ تھوڑی سی بحث کرنا پڑی۔ موتی لعل کی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا انڈین سول سروس میں شامل ہو جو کہ اس وقت کے ہندوستان میں کامیابی کے نکتۂ منتہا کا درجہ رکھتی تھی۔ موتی لعل کے نزدیک آئی سی ایس دنیا کی بہترین سروس کی حیثیت رکھتی تھی۔ جب جواہر لعل نے ٹرینٹی میں داخلہ لیا تو موتی لعل کو بڑی خوشی ہوئی لیکن یہاں جواہر لعل کی اوسط کارکردگی نے انہیں یقین دلا دیا کہ ان کا بیٹا آئی سی ایس کے سخت امتحان میں کبھی کامیابی حاصل نہ کر سکے گا۔ اس کے علاوہ دونوں میاں بیوی کی یہ بھی خواہش تھی کہ ان کا لاڈلا بیٹا مختلف تحصیلوں اور ضلعوں میں تعیناتی پر ساری عمر صرف کرنے کے بجائے ان کے ساتھ رہے۔ جہاں تک بار کے امتحان میں جواہر لعل کی کامیابی کا تعلق تھا، اپنی ذات پر موتی لعل کا اعتماد یقینا اپنے بیٹے پر اعتماد سے کہیں زیادہ تھا۔ برطانیہ میں سات سال گزارنے کے بعد جواہر لعل نے اور کچھ حاصل کیا ہو یا نہ کیا ہو، کم از کم ایک عمدہ لائبریری اور ایک نہایت وسیع ذہن ضرور حاصل کر لیا تھا۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں گزرنے والے وقت نے حکومت برطانیہ کے خلاف ان کی ناپسندیدگی کو پختہ کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

ایک وکیل کے طور پر پریکٹس کے آغاز کے پہلے دن موتی لعل نے جواہر لعل کو چند نصیحتیں کیں اور اسے تمام ضروری اہلیتیں حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔ کیریکٹر سرٹیفکیٹس، انگلستانی ہائی کورٹ کی رسمی رکنیت، وکیلوں والی وگ اور گائون وغیرہ وغیرہ۔ واپسی کے سفر کے لئے درکار رقم بذریعہ تار بھیج دی گئی۔ ایک وکیل کے طور پر جواہر لعل کو اپنی پہلی فیس 500 روپے کی معقول رقم کی شکل میں ملی۔ اور ابھی وہ واپسی کے بعد مسوری میں چھٹیاں ہی گزار رہے تھے، پریکٹس کا حقیقی آغاز نہ کیا تھا۔ یہ رقم رائو مہاراج سنگھ نامی ایک مؤکل کی طرف سے ایڈوانس کے طور پر پیش کی گئی تھی۔ یہ دراصل بیٹے کی اہلیت کو نہیں بلکہ باپ کی شہرت کو دیا جانے والا خراجِ تحسین تھا۔ تعلیم مکمل کرنے کے کچھ ہی عرصہ بعد فروری 1916ء میں ان کی شادی کملا نامی لڑکی سے کر دی گئی۔

1919ء میں جواہر لعل انڈین نیشنل کانگریس میں شامل ہو گئے۔ اس دور میں موہن داس گاندھی کانگریس کی تنظیم نو کر رہے تھے اور نئے افراد کو شامل کیا جا رہا تھا۔ جواہر لعل بھی ان نئے افراد میں سے ایک تھے۔ انہوں نے اپنے والد کو بھی گاندھی کے ساتھ عملی تعاون کرنے پر آمادہ کر لیا اور 1920ء کی دہائی میں باپ بیٹا دونوں قومی مقاصد کے لئے کام کرتے رہے۔ اپنے قوم پرستانہ جذبات کو تسکین دینے اور اپنی وکالت کو بچائے رکھنے کے لئے جواہر لعل نہرو نے صحافت کے میدان کا انتخاب کیا۔ آزادیٔ صحافت کے لئے ان کی عمر بھر کی جدوجہد کو مدنظر رکھا جائے تو یہ امر کچھ زیادہ تعجب خیز معلوم نہیں ہوتا۔ 20 جون 1916ء کو ہارڈنگ تھیٹر میں ان کی پہلی عوامی تقریر اس قدر تاثر انگیز تھی کہ تقریر کے بعد سر تیج بہادر نے جذبات سے مغلوب ہو کر انہیں گلے سے لگا لیا۔

اپنی خودنوشت سوانح عمری میں جواہر لعل اپنے والد کے متعلق لکھتے ہیں۔ ’’1915ء سے 1917ء تک وہ کچھ کرنے نہ کرنے کے متعلق غیریقینی کیفیات کے شکار تھے، ان کی غیریقینی سوچ اور میرے متعلق ان کے تفکرات کی بدولت اس دور کے عوامی مسائل کے متعلق کھل کر گفتگو کرنا ان کے لئے بہت مشکل ہوتا تھا۔ اکثر اوقات ہماری گفتگو ان کے اچانک بھڑک اٹھنے پر ختم ہو جاتی تھی۔‘‘ اپریل 1916ء میں جناح اور موتی لعل نے آنند بھون میں اکٹھے بیٹھ کر ’’میثاقِ آزادی‘‘ کا مسودہ لکھا۔ یہ نام بڑا مناسب تھا کیونکہ دونوں لیڈر جانتے تھے کہ اگر وہ برصغیر کے ہندو مسلم عوام میں یکجہتی پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو کوئی طاقت برصغیر کو آزادی حاصل کرنے سے نہیں روک سکتی۔ کانگریس میں صرف موتی لعل ہی ایک ایسے فرد تھے جو جناح کے ساتھ بیٹھنے اور بات کرنے کے لئے مناسب و موزوں اہلیت کے مالک تھے۔ 1912ء سے 1920ء تک آٹھ سالوں کے لئے جواہر لعل بار میں پریکٹس کرتے رہے۔ ان کی وکالت غیرمعمولی نہ تھی لیکن پھر بھی ان کا کام ہمیشہ منجھا ہوا اور ان کی تحقیق ہمیشہ تفصیلی اور مکمل ہوتی تھی۔ اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات میں منہمک ہونے کے باوجود جواہر لعل سیاست اور نظریاتی جدوجہد کے متعلق خبروں سے واقف رہنے کی پوری کوشش کرتے تھے۔ 1916ء میں نہرو نے انڈین نیشنل کانگریس کے لکھنؤ اجلاس میں گاندھی سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ گاندھی نے جواہر لعل نہرو پر بڑا گہرا اثر چھوڑا۔ نہرو کی قوم پرستی کے جذبات ایسی شدت کے ساتھ ابھر کر سامنے آئے کہ معتدل نظریات کے حامل موتی لعل پریشان ہو کر رہ گئے۔ ایک طرح سے گاندھی جلد ہی جواہر لعل کے لئے والد اور موتی لعل کے لئے رقیب کی سی حیثیت اختیار کر گئے جو نہ صرف انہیں اپنی ذاتی حیثیت کے لئے خطرہ تصور کرتے تھے بلکہ ان کے سیاسی نظریات کے متعلق بھی شبہات کے شکار تھے۔ مارچ 1919ء میں حکومت برطانیہ نے رولٹ ایکٹ کی معیاد میں اضافہ کر دیا جس کی رو سے کسی کو حکومت کے خلاف بغاوت کے شبے میں گرفتار کرنے اور بغیر مقدمے کے حراست میں رکھنے کے پہلی جنگ عظیم کے دوران لاگو کئے جانے والے اختیارات برقرار رہے۔ موتی لعل بذاتِ خود رولٹ ایکٹ کے حامی کسی صورت نہ تھے لیکن اس معاملے میں ان کی حیثیت کم و بیش جناح سے ملتی جلتی تھی۔ ایک باقاعدہ وکیل اور قانون پر یقین رکھنے والے کی حیثیت سے قانون شکنی ان کے نزدیک ہر انداز میں ناقابل قبول تھی۔ 3 اپریل 1919ء کو لیڈر نے خبر دی کہ جواہر لعل نے رولٹ ایکٹ کی نافرمانی کے سلسلے میں ستیہ گرہ تحریک کی قرارداد پر دستخط کر دیے ہیں اور دوسرے اضلاع میں اس تحریک کا پروپیگنڈہ کرنے والی کمیٹی میں شامل ہو گئے ہیں۔ موتی لعل نے جیل جانے کے خیال کو واہیات قرار دے کر مسترد کر دیا اور باپ بیٹے میں اس موضوع پر بڑی طویل بحثیں ہوئیں کہ انہیں گاندھی کا ساتھ کس حد تک دینا چاہئے۔ گاندھی نے جواہر لعل کو یہ کہہ کر ستیہ گرہ کی تحریک میں حصہ لینے سے روک دیا کہ اس مرحلے پر اپنے والد کے ساتھ ان کا تعلق تحریک میں حصہ لینے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ اس وقت جواہر لعل ایک طرح سے گاندھی کے چیلے بن چکے تھے اور بڈھے مہاتما نے بھی جواباً انہیں ایک باپ کی شفقت سے نوازا تھا۔ فروری 1920ء میں جواہر لعل نے کانگریس کی ایک ضلعی کانفرنس میں شرکت کی اور جولائی تک الٰہ آباد یونٹ کے نائب صدر بن گئے۔ موتی لعل کو اپنے بیٹے کے سیاست میں داخل ہونے پر کوئی اعتراض نہ تھا بلکہ وہ صوبائی کونسل میں جواہر لعل کو شامل کرانے کے لئے ایک انتخابی حلقے پر بھی نگاہ رکھے ہوئے تھے۔ ان کا اعتراض گاندھی کے طرزِ سیاست پر تھا جو حکومت کے ساتھ مکمل عدم تعاون کرنے پر زور دیتے تھے۔ اس عدم تعاون میں عدالتوں کا بائیکاٹ بھی شامل تھا۔ الٰہ آباد میں ایک مزدور احتجاج میں شمولیت کے دوران پہلی دفعہ انہیں مزدوروں کے دیہاتوں کی غربت اور افلاس کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ اس تجربے نے ان کی زندگی بدل دی۔ سارے شبہات اور غیریقینی کیفیات ختم ہو گئیں۔ جیسا کہ وہ اپنی سوانح عمری میں لکھتے ہیں۔ ’’سوچتا ہوں کہ اگر مجھے مسوری سے نکالا نہ گیا ہوتا اور میں اس وقت فراغت کے عالم میں الٰہ آباد میں موجود نہ ہوتا تو کیا ہوتا۔‘‘ حقیقی ہندوستان کے پہلے اور اتفاقیہ نظارے نے جواہر لعل کی شخصیت میں ڈرامائی تبدیلیاں پیدا کیں۔ غربت کا نظارہ ایک ایسا انکشاف تھا جو ان کے لاشعور پر انمٹ نقوش چھوڑ گیا۔ 1920ء ویسے بھی ان کے لئے ایک فیصلہ کن سال تھا۔ مزدوروں کا جوش و جذبہ، ان کی خستہ حالی اور امیدوں کی درخشندگی نے نہرو کو بے پناہ متاثر کیا۔ پتہ چلا کہ چیتھڑوں میں ملبوس سینکڑوں مزدوروں نے راتوں رات یہاں سڑکیں تعمیر کی ہیں تاکہ ان کی گاڑی کو ان دور دراز علاقوں میں پہنچنے میں دقت نہ ہو اور ایک موقع پر جب ان کی گاڑی ایک جگہ کیچڑ میں پھنس گئی تو مزدوروں نے گاڑی کو کندھوں پر اٹھا کر باہر نکال دیا۔ ان باتوں نے گویا ان کے دل کو چھو لیا۔ اس وقت سے یہ جذبہ ان کے سیاسی قلب و ذہن کا مرکزی جز بن گیا۔ ان کا سوشلزم کارل مارکس یا کسی دوسرے نظریئے سے متاثر ہونے کے بجائے اس غربت کو ختم کرنے کی شدید خواہش کے زیراثر ابھرا تھا۔ تین دہائیوں کے بعد جب وہ وزیراعظم بنے تو ان کے ابتدائی اقدامات میں سے ایک ’’تعلقہ داری‘‘ یعنی جاگیرداری کا خاتمہ تھا۔ جواہر لعل مزدوروں کے حقوق کے عظیم حامی بن کر ابھرے۔ اپنے والد کے اخبار ’’انڈی پنڈنٹ‘‘ میں انہوں نے مزدوروں کے نصب العین کا بڑی فصاحت سے چرچا کیا اور پورے صوبے کے دورے کئے۔ حکومت نے ان کی صحافت اور تقاریر پر قدغن لگانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی۔ حکومت کی پابندیاں توڑنے کا کوئی نہ کوئی طریقہ وہ نکال ہی لیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ بھٹی نامی مقام پر انہیں ایک اجلاس سے خطاب کرنے سے روک دیا گیا۔ جواہر لعل سارے شرکاء کو مارچ کراتے ہوئے وہاں سے ساڑھے چار میل دور کے ضلع میں لے گئے جہاں پابندی کی حدود ختم ہو جاتی تھیں۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے تقریر کی۔ جواہر لعل کو گرفتار ہونے کی اتنی جلدی تھی کہ وائسرائے ہند بھی انہیں روکنے میں ناکام رہے۔ لارڈ ریڈنگ ایک مرتبہ متحدہ صوبوں کی حکومت کو انڈی پنڈنٹ میں شرانگیز مضامین لکھنے پر جواہر لعل پر مقدمہ چلانے سے روک چکے تھے لیکن نومبر تک جواہر لعل کے رضاکار دستے بڑی کامیابی سے ایک کے بعد ایک قصبے میں ہڑتال کے ذریعے نظامِ زندگی کو معطل کرتے چلے جا رہے تھے۔ پرنس آف ویلز کے دورے نے جواہر لعل کو مزید انٹی گورنمنٹ سرگرمیوں کے لئے تحریک دی۔ یہ حکومت کے لئے یکسر ناقابل قبول تھا۔ جواہر لعل کی بدولت الٰہ آباد میں یہ تحریک نہایت کامیاب رہی۔ 6 دسمبر 1921ء کو زندگی میں پہلی مرتبہ باپ بیٹے کو گرفتار کر لیا گیا۔ ایک وقت میں ہچکچاہٹ کا شکار رہنے والا موتی لعل اس گرفتاری پر اپنے بیٹے کی طرح خوش ہوا۔ جواہر لعل کو گرفتاری کی رات لکھنؤ لے جایا گیا اور وہاں ان پر مقدمہ چلا۔ موتی لعل حکومتی مقدمے کے چیتھڑے اڑا سکتے تھے لیکن انہوں نے بڑی خوشی سے اپنی وکالت کرنے سے انکار کر دیا اور صرف اتنا کہنے پر اکتفا کیا کہ یہ ساری کارروائی ڈرامے بازی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اس ’’ڈرامے بازی‘‘ کے دوران وہ اپنی چار سالہ پوتی اندرا کو گود میں لئے بیٹھے رہے۔ جواہر لعل اور موتی لعل دونوں نے عدالتوں میں اپنا دفاع کرنے سے انکار کر دیا۔ انہیں جرمانے کے ساتھ سزائے قید سنائی گئی لیکن انہوں نے جرمانہ بھرنے سے بھی انکار کر دیا۔ اس کے نتیجے میں پولیس آنند بھون جا گھسی اور جرمانے کی رقم پوری کرنے کے لئے قیمتی اشیاء اٹھا لے گئی۔ جواہر لعل اور موتی لعل اب ہیرو بن چکے تھے اور خصوصی طور پر نوجوانوں نے جواہر لعل کی شکل میں اپنا آئیڈیل ڈھونڈ لیا تھا۔ یہ نہرو کے جیل جانے کا پہلا اتفاق تھا اور آزادی تک پہنچنے کے ربع صدی طویل سفر میں انہیں کئی بار اس تجربے سے گزرنا پڑا۔ دسمبر 1921ء اور اگست 1942ء کے درمیان جواہر لعل کو 9 مرتبہ سزائے قید سنائی گئی۔ اپنی زندگی کے 3262 دن انہوں نے متحدہ صوبوں میں لکھنؤ، نینی (الٰہ آباد)، بریلی، دہرہ دون، الموڑا اور گورکھ پور کی جیلوں میں، ریاست بمبئی کے قلعہ احمد نگر کی جیل میں اور ان سب سے بدتر، شاہی ریاست نابھہ کی جیل میں گزارے۔ پہلی قید 87 دنوں پر محیط تھی (6 دسمبر 1921ء سے لے کر 2 مارچ 1922ء تک)۔ دوسری 11 مئی 1922ء سے لے کر 31 جنوری 1923ء تک رہی۔ تیسری، نابھہ میں، 22 ستمبر سے 4 اکتوبر 1930ء تک بارہ دنوں کے مختصر وقفے کے لئے تھی۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد چوتھی مرتبہ 10 اکتوبر 1930ء سے لے کر 26 جنوری 1931ء تک۔ چھٹی قید طویل تھی جو کہ 26 دسمبر 1931ء سے لے کر 30 اگست 1932ء تک گئی۔ ساتویں مرتبہ انہوں نے ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصہ جیل میں گزارا (12 فروری 1934ء سے لے کر 4 ستمبر 1935ء تک)۔ آٹھویں دوسری جنگ عظیم کے چھڑنے کے بعد شروع ہوئی۔ اس مرتبہ وہ 31 اکتوبر 1940ء سے لے کر 3 دسمبر 1941ء تک مقید رہے۔ آخری قید باقی تمام سے کہیں زیادہ طویل تھی۔ کانگریس کی طرف سے ’’ہندوستان چھوڑ دو‘‘ نامی تحریک کے آغاز کے بعد 9 اگست 1942ء سے لے کر 15 جون 1945ء تک جواہر لعل کو آزادی کا منہ دیکھنا نصیب نہ ہوا۔ ان کی زندگی کے نو سنہرے سال برطانوی قید خانوں میں گزرے لیکن اس دوران ایک مرتبہ بھی وہ اپنی راہ سے نہیں ہٹے۔ ان وقتوں میں بھی نہیں جب ناکامی در ناکامی کے علاوہ کوئی چیز ممکن نظر نہ آتی تھی۔ بالآخر تھک ہار کر برطانویوں نے ہتھیار ڈال دیے۔

جواہر لعل نے 45 سال کی عمر میں اپنی سوانح عمری لکھی۔ انہوں کہا کہ میری جدوجہد تاریخ کے بجائے میری ذہنی نشوونما کا احاطہ کرے گی۔ 1936ء کے موسم بہار میں جب یہ کتاب شائع ہوئی تو فوراً ہی اسے عصر حاضر کے عظیم ترین ذہنوں میں سے ایک کے متعلق ایک بیش قدر دستاویز قرار دے دیا گیا۔ اس کتاب کے کئی ایڈیشن چھپے اور فروخت ہوئے۔ نہرو نے جیل کو دنیا کا سب سے منتخب سکول قرار دیا۔ اس سکول میں انہوں نے بہت پڑھا اور بہت لکھا۔ ان کی تین بہترین کتابیں جیل میں گزرنے والے دنوں کا عطیہ ہیں۔ تاریخ عالم کی جھلکیاں (1934-35ء)، ایک سوانح عمری اور ہندوستان کی دریافت (1946ء)۔ تاریخ عالم کی جھلکیاں ایک ہمیشہ سفر میں رہنے والے باپ کی طرف سے اپنی اولاد کو دیا جانے والا بہترین تحفہ تھا۔ دسمبر 1922ء میں جواہر لعل کی رہائی سے چند دن قبل، موتی لعل اور الٰہ آباد کے ایک بنگالی وکیل سی آر داس نے مل کر نیشنل کانگریس کے اندر ہی ایک جماعت سوراج پارٹی کے نام سے تشکیل دے دی۔ سوراج پارٹی تحریک عدم تعاون کے تعطل کے موضوع پر گاندھی اور ان کے پیروکاروں سے الگ نکتہ نظر رکھتی تھی۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ سوراج پارٹی کے ارکان کانگریس کی طرف سے کیا جانے والا قانونی اداروں کا بائیکاٹ ختم کرنا چاہتے تھے۔ جنگ کو دشمن کے کیمپ تک لے جانے کے لئے وہ صوبائی مقننہ میں شمولیت کے خواہشمند تھے جس کی سہولت 1919ء کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ میں فراہم کر دی گئی تھی۔ جواہر لعل نہرو اب ایک مشکل میں گرفتار ہو گئے کیونکہ وہ اپنے دونوں والدوں سے اختلافِ رائے کرنے پر مجبور تھے۔ تحریک عدم تعاون کے تعطل کے معاملے میں وہ گاندھی کے مخالف تھے لیکن برطانوی نظام پر اندر سے حملہ آور ہونے کے سوراج پارٹی کے منصوبے کے بھی خلاف تھے۔ باپ بیٹے کی چپقلش سے آنند بھون کی فضا میں ایک دفعہ پھر تنائو پیدا ہو گیا۔

تحریک عدم تعاون کے تعطل کے باوجود جواہر لعل نے تہیہ کر رکھا تھا کہ وہ دوبارہ وکالت نہیں کریں گے کیونکہ ہندوستانی قانون اب بھی حکومت برطانیہ کا قانون تھا۔ بمبئی کے کاروباری ادارے ٹاٹا نے غالباً گاندھی کی ہدایت پر انہیں ایک ملازمت کی پیشکش کی لیکن جواہر لعل نے قبول نہ کیا۔ جب نہرو نے یہ قرارداد پیش کی کہ ’’کانگریس اعلان کرتی ہے کہ ہندوستانی عوام کی منزل مکمل قومی خودمختاری ہے‘‘ تو اس وقت ہجوم میں ان کی بیٹی اندرا بھی موجود تھیں۔ فروری 1928ء میں موتی لعل یورپ سے واپس ہندوستان پہنچے۔ آنند بھون کا طرزِ حیات ایک مرتبہ پھر تبدیل ہو گیا کیونکہ موتی لعل کا ذوق مغرب کی طرف مائل ہو رہا تھا۔ جواہر لعل کے اعتراضات کے باوجود آنند بھون میں مغربی طور طریقے ایک دفعہ پھر رواج پانے لگے۔ دسمبر 1928ء میں کلکتہ میں منعقد ہونے والے آل انڈیا کانگریس کے اجلاس میں موتی لعل کو کانگریس کا صدر چن لیا گیا۔ پوری فیملی ٹرین کے ذریعے کلکتہ پہنچی۔ کانگریس کے افتتاحی اجلاس میں وہ ایک جلوس کی قیادت کرتے ہوئے پہنچے۔

1929ء میں لاہور میں منعقد ہونے والے کانگریس کے سالانہ اجلاس کا سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ صدر کانگریس کی حیثیت سے موتی لعل کا جانشین کون ہوگا۔ اگلے سال سے حکومت برطانیہ کی طرف سے کانگریسیوں کے مطالبات نہ ماننے کی صورت میں نئے صدر کو سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز کرنا تھا۔ سب کی نگاہ گاندھی پر تھی لیکن گاندھی نے اپنے بجائے بڑی گرمجوشی سے نہرو کی حمایت شروع کر دی اور نہرو کو جانشین کی حیثیت سے منتخب کر لیا گیا۔ اجلاس کے شامیانے دریائے راوی کے کنارے پر لگائے گئے تھے۔ جواہر لعل تین لاکھ دیگر مندوبین کے ساتھ وہیں ٹھہرے۔ چھ دن تک یہیں ان کا کھانا پینا اور سونا جاگنا ہوا۔ نہرو کے سامنے تجویز پیش کی گئی کہ وہ ایک سفید گھوڑے پر سوار ہو کر لاہور کی گلیوں میں سے گزریں۔ نہرو نے یہ تجویز قبول کر لی اور ہر جگہ نعرے لگاتے اور جھنڈے لہراتے ہجوم نے ان کا استقبال کیا۔ ان کی ایک جھلک دیکھنے کے منتظر لوگ گلیوں میں کھڑے اور راستے کی چھتوں اور درختوں پر چڑھے نظر آتے۔ جلوس انارکلی بازار سے گزرا اور اندرا اور کملا نے بھلہ شوز کی بالکنی میں کھڑے ہو کر اس کا نظارہ کیا۔ کانگریس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا تھا کہ ایک بیٹے نے باپ کی جگہ صدارت کی گدی سنبھالی تھی۔ (اجلاس میں مکمل خودمختاری کی قرارداد بھی منظور کی گئی)۔ جب نہرو خاندان الٰہ آباد واپس پہنچا تو ان کی شہرت ملک گیر ہو چکی تھی۔ آنند بھون ایک نجی رہائش گاہ نہ رہا تھا۔ جواہر لعل محض کانگریس کے صدر نہ تھے، وہ ایک قومی ہیرو تھے اور ان کے تمام قریبی افراد کو ان کی شان و عظمت کا تھوڑا بہت حصہ دے دیا گیا تھا۔

کانگریس کی طرف سے حکومت کو دیا جانے والا مہلت کا سال ختم ہو گیا اور 1930ء میں سول نافرمانی کی تحریک ازسرنو شروع کرنے کا بار جواہر لعل نہرو کے کندھوں پر آ گیا۔ اس تحریک میں ہندوستانی خواتین نے اہم کردار ادا کیا۔ اپریل 1930ء میں حکومت نے ایک ملک گیر کریک ڈائون کے ذریعے سول نافرمانی کی تحریک کا سیلاب روکنے کی کوشش کی۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی کو غیرقانونی قرار دے دیا گیا اور اس کے ارکان گرفتار کر لئے گئے۔ 14 اپریل کو نہرو کو گرفتار کر کے چھ مہینے کے لئے نینی جیل میں ڈال دیا گیا۔ 5 مئی کو گاندھی کی گرفتاری عمل میں آئی اور 30 جون کو موتی لعل کی۔ 8 ستمبر کو شدید بیماری کے سبب موتی لعل کو رہا کر دیا گیا۔ جواہر لعل کی رہائی 11 ستمبر کو عمل میں آئی اور جیل سے باہر آتے ہی وہ کملا اور اندرا کو لے کر موتی لعل سے ملنے کے لئے مسوری پہنچ گئے۔ 19 ستمبر کو انہیں پھر گرفتار کر لیا گیا۔ اس مرتبہ ان پر فتنہ انگیزی، لوگوں کو نمک سازی کی طرف راغب کرنے اور ٹیکس ادا نہ کرنے کا الزام لگایا گیا۔ اکتوبر 1930ء کو وہ تقریباً تین سال طویل سزائے قید کاٹنے کے لئے واپس نینی جیل پہنچ گئے۔ 26 جنوری 1931ء کو حکومت برطانیہ نے اعلان کیا کہ جواہر لعل سمیت کانگریس ورکنگ کمیٹی کے دیگر اراکین کو فوراً رہا کر دیا جائے گا۔ کملا اور جواہر لعل رہائی پا کر آنند بھون پہنچے جو بیت المرگ میں تبدیل ہو چکا تھا۔ صاف نظر آ رہا تھا کہ شدید بیمار موتی لعل اب زیادہ دیر زندہ نہیں رہیں گے۔ 4 فروری کو انہیں لکھنؤ لے جایا گیا جہاں ہسپتال میں 6 فروری 1931ء کے روز علی الصبح ان کا انتقال ہو گیا۔ جواہر لعل اور سواروپ رانی اس وقت ان کے سرہانے موجود تھے۔ بعد ازاں اسی روز وہ بذریعہ کار ان کا جسد خاکی الٰہ آباد واپس لے آئے۔

1933ء میں آزادی کے مختصر سے دور میں نہرو نے خاندان کے مالی معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی جوکہ دو سال قبل موتی لعل کی وفات کے بعد سے بری طرح الجھے ہوئے تھے۔ نہرو کو دو وجوہات کے باعث پیسے کی ضرورت تھی۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ بڑھاپے میں ان کی ماں مفلوک الحالی کی زندگی گزارے اور اس کے علاوہ وہ اندرا کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کا تہیہ کئے ہوئے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ اندرا کسی برطانوی یا یورپی ادارے سے ڈگری حاصل کرے۔ انہوں نے اور کملا نے خاندانی اثاثوں کا حساب لگایا اور فیصلہ کیا کہ تمام موروثی اثاثے اور دیگر قیمتی اشیاء جو حکومت برطانیہ کے جرمانوں کی دست برد سے بچ رہی ہیں، بیچ دی جائیں۔ جب نہرو کو کانگریس کا نیا صدر منتخب کیا گیا تو وہ یورپ میں اپنی قریب المرگ بیوی کملا کے سرہانے موجود تھے۔ کملا کے ساتھ ملاقات کے بعد انہیں یہ فیصلہ کرنے میں بڑی دشواری ہوئی کہ وہ یہاں اپنی بیوی کے ساتھ رہتے ہوئے پارٹی کی صدارت قبول کرنے سے انکار کر دیں یا اسے چھوڑ کر ہندوستان واپس چلے جائیں اور کانگریس کے سالانہ اجلاس میں شرکت کریں۔ کملا نے ان کے جانے پر زور دیا اور دلیل پیش کی کہ وہ اجلاس میںشرکت کرنے کے بعد بھی واپس آ سکتے ہیں۔ بڑی ہچکچاہٹ کے عالم میں نہرو نے 28 فروری کے لئے جہاز میں اپنی سیٹ بک کرا لی مگر بعد ازاں کملا کے ڈاکٹروں کے مشورے پر نہرو نے اپنی سیٹ کینسل کرا دی لیکن اس وقت تک کملا دیکھ بھال اور تیمار داری کی حدود سے پرے جا چکی تھی۔ 28 فروری کی صبح 5 بجے اس کا انتقال ہو گیا۔

ہندوستان کی سیاسی صورتِ حال بھی بے طرح تبدیل ہو چکی تھی۔ کانگریس نے فروری کے صوبائی انتخابات میں متاثر کن کامیابیاں حاصل کی تھیں۔ وجے لکشمی پنڈت اور اس کا شوہر رنجیت متحدہ صوبوں سے منتخب ہو چکے تھے بلکہ وجے لکشمی پنڈت نے تو برطانوی سلطنت کی پہلی خاتون وزیر بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ نہرو البتہ تھکے ہوئے اور منتشر سے تھے۔ انتخابی مہم کے لئے جولائی 1936ء سے لے کر فروری 1937ء تک انہوں نے ہندوستان کے ہر صوبے کا دورہ کیا تھا، اور ریل، کار، بیل گاڑی اور پاپیادہ تقریباً پچاس ہزار میل کا سفر کیا تھا، ایک ایک دن میں تیس تیس جلسوں سے خطاب کیا تھا اور ایک کروڑ لوگوں کے ساتھ رابطہ قائم کیا تھا۔ پھر انتخابات کے بعد کانگریس کی فتح کے نتیجے میں اقتدار و اختیارات کی کشمکش شروع ہو گئی جس سے پارٹی میں کشیدگی اور افتراق پیدا ہونے لگا۔ نتیجتاً نہرو کی عموماً عمدہ رہنے والی صحت ایک دم جواب دے گئی اور انہیں بستر کا قیدی بننا پڑا۔ انہیں آرام کی ضرورت تھی بلکہ حقیقت تو یہ تھی کہ انہیں ہندوستان اور ہندوستانی سیاست سے کچھ عرصہ کے لئے نجات کی ضرورت تھی۔

31 اکتوبر 1940ء کو نہرو کو شرانگیز تقریریں کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ ان کے مقدمے کی کارروائی بڑی تیزی سے مکمل ہوئی اور انہیں ان کی آٹھویں سزائے قید سنا کر چار سال کے لئے گورکھ پور جیل بھیج دیا گیا۔ جولائی 1942ء میں کانگریس نے ’’ہندوستان چھوڑ دو‘‘ نامی تحریک کا آغاز کر دیا۔ سیدھے سادھے لفظوں میں اس تحریک کا معنی یہ تھا کہ ہندوستان کی حکومت ہندوستانیوں کے حوالے کر دی جائے۔ 8 اگست کو گووالیہ ٹینک کے مقام پر جب جواہر لعل نہرو نے ’’ہندوستان چھوڑ دو‘‘ قرارداد پیش کی تو دیگر سینکڑوں افراد کے ساتھ اندرا اور اس کے نئے نویلے شوہر فیروز بھی وہاں موجود تھے۔ قرارداد بڑے جوش و خوش سے منظور کر لی گئی اور گاندھی کی قیادت میں آزادی کی عوامی جدوجہد کا دوبارہ آغاز ہو گیا۔ جیسا کہ گاندھی نے اجلاس میں اعلان کیا تھا، اب کچھ ’’کرنے یا مرنے‘‘ کا وقت آ گیا تھا۔ نہرونے اسے پوری دنیا میں ایک مہم کا لمحہ آغاز قرار دیا۔ قرارداد پیش کرنے کے چند ہی گھنٹے بعد 9 اگست کی صبح نہرو کو پھر گرفتار کر لیا گیا۔ اس مرتبہ وہ دو سال دس ماہ جیل میں رہے جو ان کی طویل ترین قید تھی۔

نہرو کی رہائی سے ایک دن قبل ہندوستان کے وائسرائے لارڈ ویول نے عارضی حکومت کے قیام کا اعلان کیا جس میں وائسرائے اور کمانڈر انچیف کے علاوہ تمام ارکان ہندوستان سے ہی شامل کئے جانے تھے۔ نہرو اور گاندھی کے لئے خصوصاً یہ ایک دل شکن تصور تھا۔ اس کے باوجود 2 ستمبر 1946ء کو نئی عبوری ہندوستانی حکومت کی حلف برداری کی صورت میں اختیارات کی منتقلی کے عمل کا پہلا مرحلہ انجام پا گیا۔ نہرو سربراہِ حکومت تھے اور ان کے پاس وزیراعظم کے تمام اختیارات موجود تھے اگرچہ ان کی حیثیت ایگزیکٹو کونسل کے نائب صدر کی تھی۔ نہرو نے وزارتِ خارجہ کا قلمدان بھی اپنے ذمے لیا۔

مئی 1947ء میں نہرو اور کرشنا مینن مائونٹ بیٹن اور اس کی بیگم کے ساتھ شملہ گئے۔ مائونٹ بیٹن کے ریفارمز کمشنر وی پی مینن کو صورتِ حال سلجھانے کے لئے بلایا گیا اور تین گھنٹوں کی گفت و شنید کے بعد اس نے مینن پلان کے نام سے تقسیم ہند کا ایک منصوبہ پیش کیا۔ اب ہندوستان کا اقتدار دو مرکزی حکومتوں کو منتقل کیا جانا تھا۔ ہندوستان اور پاکستان۔ جناح کو ان کا مسلم وطن مل رہا تھا لیکن یہ وطن کٹا پھٹا تھا۔ پنجاب اور بنگال کو نصانصف کاٹ دیا گیا تھا۔ 3جون کو دہلی میں کانگریسی لیڈروں نے مینن پلان منظور کر لیا۔ اگلے روز مائونٹ بیٹن نے اعلان کیا کہ 15 اگست 1947ء کو ہندوستان اور پاکستان دو آزاد مملکتوں کی حیثیت سے معرضِ وجود میں آ جائیں گے۔ نہرو نے نئے ملک کے پہلے وزیراعظم کا منصب سنبھال لیا۔ نہرو کا شیڈول نہایت سخت تھا اور انہیں روزانہ سترہ گھنٹے تک کام کرنا پڑتا۔ 1951ء سے لے کر 1954ء تک وہ وزارتِ عظمیٰ کے ساتھ ساتھ وزارتِ خارجہ، پلاننگ کمیشن کی چیئرمین شپ اور کانگریس کی صدارت بھی سنبھالے ہوئے تھے۔ تقریباً ہر روز وہ کہیں نہ کہیں تقریر کرتے، پورے بھارت کے دورے کرتے اور باقاعدگی سے غیرملکی دوروں پر بھی جاتے۔ 50ء کے عشرے کے اوائل میں انہوں نے تقریباً ہر سال امریکہ، کینیڈا، انڈونیشیا، برما، یورپ اور برطانیہ کا دورہ کیا۔

1963ء میں کانگریس میں لیڈروں کا ایک چھوٹا سا گروہ تشکیل پا چکا تھا جسے عرفِ عام میں ’’سنڈیکیٹ‘‘ کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ اس گروہ میں کام راج (وزیر اعلیٰ مدراس)، مغربی بنگال کے اتلیہ گھوش، بمبئی کے ایس کے پٹیل، سنجیو ریڈی (وزیر اعلیٰ آندھرا پردیش) اور ایس نجلنگپا (وزیر اعلیٰ میسور) شامل تھے۔ نہرو کی عمر اب 74 برس ہو چکی تھی اور ان کی صحت بھی ٹھیک نہ رہتی تھی۔ اب ان کے جانشین کا انتخاب ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بنتا جا رہا تھا۔ عوامی رائے اکٹھی کرنے والے ایک ادارے نے اس وقت اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے ایک سروے کیا۔ اس سروے کے نتیجے میں پہلے نمبر پر لال بہادر شاستری آئے، دوسرے پر کام راج، تیسرے پر اندرا اور چوتھے پر مرارجی ڈیسائی۔

27 مئی 1964ء کو دوپہر ایک بج کر چوالیس منٹ پر نہرو کا انتقال ہو گیا۔ اپنے والد کی خواہشات کے برعکس اندرا نے ہندوانہ رسوم پر عمل کرتے ہوئے ان کی نعش کو جلانے کا اہتمام کیا کیونکہ مذہبی اور سیاسی لیڈروں کا کہنا تھا کہ سیکولر طرز کی آخری رسوم عوام پر اچھا اثر مرتب نہ کریں گی۔ نہرو کے جسم کو صندل کی لکڑیوں سے بنی چتا پر رکھا گیا اور ان کے سترہ سالہ پوتے سنجے نے انہیں آگ دکھا دی۔ (راجیو اس وقت انگلستان میں تھا)۔ نہرو کی راکھ کے ایک حصے کو الٰہ آباد میں سنگم کے مقام پر مقدس پانیوں کے حوالے کر دیا گیا۔ اس راکھ کے ساتھ کملا کی بھی راکھ شامل تھی جو نہرو تین دہائیاں قبل سوئٹزر لینڈ سے اپنے ساتھ واپس لائے تھے اور پھر جہاں جہاں رہے یہ راکھ ان کے ساتھ رہی۔ بہرحال، نہرو نے اپنی وصیت میں خواہش ظاہر کی تھی کہ ان کی راکھ کا زیادہ تر حصہ ریاست ہندوستان کی ہوائوں میں بکھیرا جائے۔ کشمیر کے حصے میں آنے والی راکھ کو بکھیرنے کا کام اندرا نے خود کیا۔ وہ سری نگر پہنچیں۔ ایک چھوٹے طیارے پر سوار ہوئیں اور اپنے اجداد کی جنم بھومی کی فضائوں میں اپنے والد کی راکھ اڑا دی۔

اندرا گاندھی[ترمیم]

جب ہندوستان کی آزادی کے بعد کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو 1964ء میں فالج کے حملے کے شکار ہو کر دنیا سے رخصت ہو گئے تو اندرا کو سنجیدگی سے ان کی جانشین کے طور پر نہیں لیا گیا۔ تاہم دو سال بعد نئے وزیراعظم لال بہادر شاستری بھی اچانک انتقال کر گئے اور ملک میں قیادت کا خلا پُر کرنے کے لئے اندرا گاندھی کا انتخاب کر لیا گیا۔ راتوں رات وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی لیڈر اور شاید دنیا کی سب سے طاقتور خاتون بن گئیں۔ Indira Gandhi (cropped).jpg اندرا گاندھی 19 نومبر 1917ء کے روز الہ آباد میں جواہرلعل اور کملا نہرو کے ہاں پیدا ہوئیں۔ 1919ء میں ان کی زندگی میں اس وقت ایک بڑی تبدیلی آئی جب موہن داس گاندھی ان کے دولتمند اور ممتاز خاندان سے ملنے کے لئے آئے۔ جنوبی افریقہ میں جلاوطنی سے حال ہی میں واپس آنے والے گاندھی نے ان کے والدین کو ہندوستان کی آزادی کے لئے جدوجہد کرنے پر آمادہ کر لیا۔ نہرو خاندان نے اپنی تمام تر مغربی املاک ترک کر دیں اور ان کا گھر تحریک آزادی کا مرکز بن گیا۔ سیاسی ہماہمی اور والدین کی مسلسل عدم موجودی کے نتیجے میں اندرا گاندھی کو ایک نارمل بچپن میسر نہ آ سکا۔ اگرچہ ان کے دادا موتی لعل نہرو نے ان کے خوب لاڈ اٹھائے، مگر آگے چل کر اس دور کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ انہیں عدم تحفظ کا احساس ہوتا تھا۔ جب ان کے والد اور دادا کو ان کی سرگرمیوں پر پہلی مرتبہ جیل میں ڈالا گیا تو اندرا کی عمر صرف چار سال تھی۔ اس کے بعد قید و بند کا یہ سلسلہ جاری رہا اور اس میں ان کی والدہ بھی شامل ہو گئیں۔

بچپن کے عدم تحفظات کی بدولت اندرا گاندھی نے اپنا دل سخت کر لیا اور ارادہ کیا کہ اپنی والدہ کی طرح وہ بھی عورتوں کو جبر کا نشانہ بنانے والی سماجی روایات کو خود کو گزند پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گی۔ ایک سنجیدہ اور غیرمعمولی ذہانت رکھنے والی بچی کی حیثیت سے وہ پروان چڑھیں جس کے کھیل بھی تاجِ برطانیہ کے خلاف مزاحمت پر مبنی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، گیارہ سال کی عمر میں انہوں نے ’’ہنومان سینا‘‘ بنائی۔ رامائن کی رزمیہ داستان کی ’’بندروں کی فوج‘‘ کی نقالی کرتے ہوئے، انہوں نے اور ان کے دوستوں نے پوسٹر لکھ کر اور تقسیم کر کے، جھنڈے بنا کے، کھانے پکا کے اور پولیس کی جاسوسی کر کے مزاحمت کی جدوجہد میں حصہ لیا۔1930ء کی دہائی میں جبکہ وہ پونا میں تعلیم حاصل کر رہی تھیں تو وہاں کی جیل میں بند موہن داس گاندھی سے اکثر ملاقات کرنے جایا کرتی تھیں۔ ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ ’’گاندھی جی میری زندگی میں ہمیشہ موجود رہے۔ میری نشوونما میں انہوں نے ایک بڑا کردار ادا کیا۔‘‘

گاندھی کی عمر سترہ برس تھی کہ کینسر سے ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ اس صدمے کی حالت میں انہوں نے ہندوستان اور یورپ میں، ظاہراً کسی سمت کے بغیر، تعلیم کے پانچ سالہ دور کا آغاز کیا۔ اگرچہ انہوں نے عہد کیا تھا کہ وہ عمر بھر شادی نہیں کریں گی مگر بعد ازاں انہوں نے پارسی النسل فیروز گاندھی سے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ چونکہ نہرو خاندان برہمن تھا اس لئے شوہر کے انتخاب کو لے کر گاندھی پر خاصی تنقید ہوئی، نہ صرف ان کے والد کی طرف سے بلکہ عوام کی طرف سے بھی۔ بہرحال، مخالفت کے باوجود 1942ء میں انہوں نے شادی کر لی۔

شادی کے کچھ ہی عرصہ بعد گاندھی کو نو ماہ کے لئے جیل میں ڈال دیا گیا۔ بعد ازاں گاندھی نے اسے اپنی زندگی کا ایک اہم واقعہ قرار دیا۔ رہائی کے بعد سیاست میں ان کی دلچسپی بڑھ گئی۔ اسی دوران انہوں نے دو بیٹوں راجیو اور سنجے کو جنم دیا۔ 1947ء میں جب ہندوستان کو آزادی ملی تو گاندھی کے والد پنڈت جواہر لعل نہرو اس کے پہلے وزیراعظم بنے۔ چونکہ نہرو کی بیوی کا انتقال ہو چکا تھا اس لئے سرکاری تقاریب میں مہمان داری کا فریضہ اندرا گاندھی کے حصے میں آ گیا۔ رفتہ رفتہ ان کے اور ان کے شوہر کے درمیان دوریاں پیدا ہو گئیںاور اگرچہ ان کے درمیان کبھی باقاعدہ طور پر طلاق نہیں ہوئی تاہم 1960ء میں فیروز گاندھی کے انتقال تک دونوں الگ الگ رہتے رہے۔ گاندھی نے ایک عمر نہرو کے سائے میں گزاری مگر رفتہ رفتہ انہوں نے اپنی انتخابی مہمات اور ایسی تقاریب میں تقاریر شروع کر دیں جہاں ان کے والد موجود نہ ہوتے تھے۔ 1959ء کا سورج طلوع ہونے تک وہ انڈین نیشنل کانگریس کی صدارت کے عہدے پر فائز ہو چکے تھے۔ نہرو کے اشتراکی رجحانات کے اثر کے تحت انہوں نے پارٹی میں تازہ سوچ پیدا کی اور سیاست میں خواتین کی سرگرمی بڑھانے کے لئے اقدامات کئے۔

1966ء میں وزیراعظم شاستری کی اچانک موت کے بعد، گاندھی کانگریس پارٹی کی لیڈر بنیں اور بعد ازاں ہندوستان کی وزیراعظم بن گئیں۔ تاہم اپنی اس کامیابی کے لئے گاندھی کو خاصی بھاری قیمت چکانا پڑی کیونکہ ان کے عہدہ سنبھالتے ہی مشکلات کا ایک طوفان کھڑا ہو گیا۔ پارٹی کا رجعت پسند طبقہ سابق وزیر مالیات مرارجی ڈیسائی کے زیر قیادت ان کے اقتدار کو مسلسل چیلنج کرتا رہا۔ 1967ء کے انتخابات میں انہیں اتنے کم مارجن سے فتح ملی کہ انہیں مرارجی ڈیسائی کو نائب وزیراعظم کے طور پر قبول کرنا پڑا۔ گاندھی کی مشکلات میں ان کی اپنی شخصیت کا بھی خاصا کردار تھا۔ ایک خلوت پسند خاتون ہونے کے ناطے وہ ہجوم سے گھبراتی تھیں اور سادہ اور خاموش انداز میں زندگی گزارنے کو ترجیح دیتی تھیں۔ سیاسی چکربازیوں پر ان کے عدم اعتماد نے انہیں اپنے قریبی حلقے سے اور بھی دور کر دیا اور لوگوں نے سوال اٹھانا شروع کر دیا کہ وہ وہم و خوف کی شکار رہتی ہیں۔ اسی رویئے کی بدولت 1970ء کی دہائی میں انہیں معزولی کا سامنا کرنا پڑا۔

1971ء کے انتخابات میں گاندھی کو اپنے رجعت پسند مخالفوں پر معقول مارجن سے فتح حاصل ہوئی۔ ان کی وزارتِ عظمیٰ کے دنوں میں ہندوستان غذائی پیداوار اور صنعتی بنیاد کی تعمیر کے میدانوں میں تیزی سے ترقی کرنے لگا۔ تاہم سیاسی طور پر فضا شورش زدہ ہی رہی۔ 1971ء کے اواخر میں گاندھی نے بنگلہ دیش کے علیحدگی پسندوں کو پاکستان کے خلاف عسکری اعانت فراہم کر کے پاکستان کے مشرقی بازو کو جدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس مناقشے کے بعد 1972ء کے انتخابات میں انہیں بھاری مارجن سے فتح ملی لیکن مخالفین نے الزام لگایا کہ انہوں نے انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ الٰہ آباد کی ہائیکورٹ نے 1975ء میں ان کے خلاف فیصلہ دیا اور امکان پیدا ہو گیا کہ انہیں وزارتِ عظمیٰ سے نہ صرف ہٹا دیا جائے بلکہ ان کے سیاست میں حصہ لینے پر چھ سال کی پابندی عائد کر دی جائے۔ عدالت کا فیصلہ ماننے کے بجائے، گاندھی نے ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کر دیا، اپنے مخالفین کو جیل میں ڈال دیا اور شہری آزادیاں معطل کر دیں۔ آنے والے سالوں میں ان کی سیاسی تقدیر نے کئی کروٹیں بدلیں اور 1977ء میں ان کی جماعت اقتدار سے محروم ہو گئی۔ 1978ء میں ان کے حامیوں نے کانگریس (آئی) تشکیل دی۔ انہوں نے اپنی ذاتی نشست پر کامیابی حاصل کر لی اور اس کے دو سال بعد وہ چوتھی مرتبہ ہندوستان کی وزیراعظم بن گئیں۔ ان کا بیٹا سنجے ان کا مرکزی سیاسی مشیر بن گیا اور گاندھی خاندان کے خلاف بنائے گئے تمام مقدمات واپس لے لئے گئے۔ 1980ء میں ایک ہوائی حادثے میں سنجے کی ہلاکت کے بعد، انہوں نے اپنے بیٹے راجیو کو پارٹی کی قیادت کے لئے تیار کرنا شروع کر دیا۔

1980ء کی دہائی میں کئی ہندوستانی ریاستیں وفاق سے علیحدگی کی طلبگار ہوئیں۔ ان میں سب سے زیادہ پُرتشدد مزاحمت پنجاب میں دیکھنے میں آئی۔ جون 1984ء میں گاندھی نے سکھوں کی مقدس ترین عبادت گاہ امرتسر کے گولڈن ٹیمپل سے سکھ مزاحمت کاروں کو نکالنے کے لئے فوج بھیج دی۔ اس واقعے میں چھ سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ 31 اکتوبر 1984ء کو گاندھی کے دو سکھ محافظوں نے انہیں اس وقت قتل کر دیا جب وہ اپنے باغ میں چہل قدمی کر رہی تھیں۔ دنیا کی گنجان آباد ترین جمہوریت کے اعلیٰ ترین عہدے تک ایک خاتون، اندرا گاندھی، کی رسائی بھارتی خواتین کے لئے خصوصی اہمیت کی حامل تھی جو روایتی طور پر مردوں کی محکوم سمجھی جاتی رہی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ تیسری دنیا کی تمام اقوام کے لئے ایک مثال کی حیثیت رکھتی تھیں۔

ذوالفقار علی بھٹو[ترمیم]

ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928ء کو دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک موہنجوڈارو کی سرزمین لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔ پاکستانی سیاست کی ایک روایت کے مطابق، انہوں نے نچلے طبقات کے لئے سیاست کا دروازہ کھول دیا۔ انہوں نے عوام میں بنیادی حقوق کا شعور اور حقیقی مساوات و آزادی کی محبت پیدا کی۔ اپنی جدوجہد کے نتیجے میں وہ پاکستانی سیاست کی ماہیئت اور کیفیت میں انقلابی تبدیلیاں رونما کرنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے سیاست کے پرانے جاگیرداری کلچر کو عوامی بنا دیا یعنی عوامی سیاست، عوام کے ذریعے، عوام کے لئے۔ ان سے پہلے پاکستان میں ایسے کسی تصور کا وجود نہ تھا۔ اسے پاکستان کی بنیادی سیاست کی کیفیت میں آنے والی تبدیلی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ماہیئت میں آنے والی تبدیلی اس اعتبار سے وقوع پذیر ہوئی کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہنے والی ایک خاموش اکثریت ان کی شخصیت کے زیراثر متحرک ہو کر عملی سیاست کے دھارے میں شامل ہو گئی۔ یہ کام، خصوصاً اس دور کے معروضی ملکی حالات کے زیر نظر، آسان نہ تھا۔ اسے ایک ذہین، صاحب بصیرت، صاحب علم، بہادر، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار لیڈر ہی انجام دے سکتا تھا اور بھٹو ان اوصاف کی عمدہ مثال بن کر سامنے آئے۔ بچپن سے ہی وہ شخصی ارتقاء کے مراحل سے گزرتے چلے آ رہے تھے۔ اپنے والد کے گھر میں وہ ایک ایسے ماحول میں پیدا ہوئے جس میں سیاست رچی بسی ہوئی تھی۔ انہوں نے ایک جاگیردار خاندان کا نوجوان بنے رہنے پر اکتفا نہ کیا بلکہ آگے بڑھتے رہے اور سیکھنے کے عمل، آزمائشوں اور صعوبتوں کے ناگزیر مراحل سے گزر کر ایک اعلیٰ معیار کے بین الاقوامی لیڈر کے طور پر ابھرے۔

زمانۂ طالب علمی سے ہی بھٹو شاہی نظام کے مخالف بن چکے تھے۔ وہ معاشی خود انحصاری اور سیاسی خودمختاری پر پختہ یقین رکھتے تھے۔ اپنی مشہور زمانہ کتاب ’’آزادی کی داستان‘‘ میں انہوں نے انہی نظریات کا مفصل بیان کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو تیسری دنیا کے ان لیڈروں میں جگہ بنا چکے ہیں جنہوں نے نوآبادیاتی اور شاہی نظام کے خلاف اپنی جدوجہد کے ثمرے میں لافانی شہرت و مقبولیت حاصل کی۔ انہیں 20 ویں صدی میں اٹھنے والی تحاریک آزادی کے بہت سے ممتاز لیڈروں مثلاً مائوزے تنگ، احمد سوئیکارنو، چو این لائی، جواہر لعل نہرو، جمال عبدالناصر اور سیلواڈور اینڈے سے ملنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ دوسری جنگ عظیم کے اختتام سے لے کر سرد جنگ کے انجام تک دنیا دو بلاکوں میں بٹی رہی۔ سرمایہ دارانہ نظام کا حامی مغرب اور سوشلزم کا علمبردار مشرق۔ متذکرہ بالا تمام لیڈر معاشیات کے ایک سوشلسٹ نظام کے حامی تھے۔ بھٹو بھی ان کے ہم خیال تھے اور خود انحصاری کے ایک وسیلے کی حیثیت سے پبلک سیکٹر کے قائدانہ کردار پر یقین رکھتے تھے۔ انہوں نے سیاست کے پرانے جاگیرداری کلچر کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا اور ایک نئے سیاسی کلچر کو جنم دیا جس میں ووٹ کی طاقت غریب طبقات کے ہاتھ میں تھی اور جن کی اہمیت آج پاکستان کی سیاست میں تسلیم کی جاتی ہے۔

بھٹو نے 1937ء سے 1947ء کے دوران بمبئی کے کیتھڈرل میں تعلیم حاصل کی۔ ان کی فیملی اس وقت کارمائیکل روڈ پر گھیا مینشن میں رہائش پذیر تھی۔ ان کی تعلیم کا آغاز نو سال کی عمر سے پہلے نہ ہو سکا۔ اگلے نو سالوں تک انہیں اس تعلیمی کمی کا مسلسل سامنا کرنا پڑا۔ عام طور پر لوگ ایسی کمیوں کا ازالہ کبھی نہیں کر پاتے لیکن بھٹو نے اپنی محنت کی بدولت اس رکاوٹ پر قابو پا لیا اور تعلیمی میدان میں امتیازی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ گھر کا ماحول، آزادی اور انہیں ملنے والی دیکھ بھال ایک ایڈوانٹیج کی حیثیت ضرور رکھتے تھے لیکن اپنی تعمیر میں ان کے ذاتی ٹیلنٹ اور محنت کا کردار نمایاں رہا۔ بچپن ہی سے انہیں کرکٹ کا بڑا شوق تھا۔ وہ فرسٹ کلاس کرکٹر بننا چاہتے تھے۔ انہوں نے پہلے سکول کی جونیئر اور پھر سینئر ٹیم کی طرف سے کرکٹ کھیلی۔ سکول لائف کے دوران ہی چودہ سال کی عمر میں ان کی شادی ان کی کزن پچیس سالہ امیر بیگم سے کر دی گئی۔ یہ شادی خاندان والوں کی طے کر دہ تھی اور شادی کے روز ان کی خواہش پر ان کے والد نے انہیں کرکٹ کے بیٹ کا تحفہ دیا۔ کرکٹ کا شوق رکھنے کی بدولت بھٹو اکثر کرکٹرز کی دعوتیں کیا کرتے اور ان کی میزبانی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتے۔ اس دور کے تقریباً سبھی مشہور کرکٹروں کے ساتھ ان کے ذاتی تعلقات تھے۔ ان میں مشتاق علی بھی شامل تھے جو اس وقت ہندوستانی کرکٹ میں اعلیٰ ترین مقام کے حامل تھے اور سکول کے ہر طالب علم اور ہر کرکٹر کے لئے ہیرو کا درجہ رکھتے تھے۔ عمر قریشی جو آگے چل کر کرکٹ کے بہترین کمنٹیٹر بنے، بھٹو کے دوستوں میں شامل تھے۔ اس وقت بھٹو کی عمر سولہ سال تھی اور مشتاق علی ان سے غالباً دس سال بڑے تھے۔ پیلو موڈی کی کتاب ’’مائی فرینڈ زلفی‘‘ میں ایک جگہ مشتاق علی پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’زلفی اس وقت بھی بہت سمارٹ تھے۔ وہ اچھی انگلش بولتے تھے اور کرکٹ، کپڑوں اور اچھے کھانوں کے ساتھ ساتھ فلموں کے بھی بڑے شوقین تھے۔ وہ بے حد حساس تھے اور چھوٹی سی بات پر بھی افسردہ ہو جاتے تھے۔‘‘ پیلو موڈی کا کہنا ہے کہ 1946ء میں ہزاری باغ سٹیڈیم میں ہونے والے میچ میں مشتاق علی، ثروت اور نمبالکر کے ساتھ ساتھ زلفی (بھٹو) بھی شامل تھے۔ لیکن کرکٹ کا بھرپور شوق رکھنے کے باوجود وہ اپنے وقت کا زیادہ تر حصہ پڑھائی کو دیتے رہے اور دسمبر 1946ء میں سینئر کیمبرج کا امتحان پاس کر لیا۔ ہائی سکول کے آخری سال کی چھٹیوں کے دوران انہوں نے پہلے ٹینس، اور بعد ازاں بیڈمنٹن، سکواش اور پیراکی کو اپنے روزمرہ معمول کا حصہ بنا لیا۔ پیلو موڈی جو سکول میں بھٹو کے ہم جماعت اور دوست رہ چکے ہیں ’’زلفی مائی فرینڈ‘‘ میں انکشاف کرتے ہیں کہ وہ دونوں مل کر فلموں کے میٹنی شوز اور کلب میں جایا کرتے تھے۔

1947 میں بھٹو نے لاس اینجلس میں یونیورسٹی آف سائودرن کیلیفورنیا میں داخلہ لیا اور سائوتھ فلاور سٹریٹ میں مسز بیس جونز کی لاجنگز میں مقیم ہوئے۔ وہ ڈبیٹنگ ٹیم کے ممبر تھے۔ ان کے ہم جماعت عمر قریشی کے بقول، بھٹو اپنے مباحث میں سماجی انصاف پر زور دیتے اور ’’ہر آنکھ سے آنسو پونچھ دینے‘‘ کا عزم ظاہر کرتے۔ ان کا یہ عزم مسلسل ترقی کی منازل طے کرتا رہا۔ بعد ازاں سزائے موت کی کوٹھڑی سے بے نظیر بھٹو کے نام اپنے خط میں انہوں نے اسی سیاسی عقیدے پر زور دیا۔ ’’برصغیر کی عوامی زندگی میں میرے نام سے کئی کارنامے منسوب ہیں لیکن میرے نزدیک سب سے اہم کارنامے وہ ہیں جنہوں نے کسی غریب کے مرجھائے ہوئے چہرے پر رونق پیدا کی ہے، کسی دیہاتی کی آنکھ میں روشنی جگائی ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے لیڈروں کی طرف سے ملنے والے خراجِ تحسین کی جگہ، مجھے اس کوٹھڑی کی چاردیواری میں وہ الفاظ یاد آ رہے ہیں جو ایک غریب بیوہ نے اس وقت مجھ سے کہے جب میں نے اس کے مزدور بیٹے کو وظیفے پر باہر بھجوایا تھا۔ ’’صدقے واریاں سولہڑ سائیں۔‘‘

جنوری 1949ء میں بھٹو یونیورسٹی آف سائودرن کیلی فورنیا سے برکلے میں یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں سیاسیات کے میجر کی حیثیت سے داخل ہو گئے۔ یہاں انہوں نے 1800 آسٹن وے پر واقع گھر میں رہائش اختیار کی جو کہ ان کے ڈیپارٹمنٹ سے آٹھ بلاک کے فاصلے پر تھا۔ اس جگہ میں ہر ایک حصے میں آنے والے کاموں کا پہلے سے ہی تعین کر دیا جاتا تھا۔ بھٹو کے ذمے گھر کی صفائی اور بستر بچھانے کا کام آیا۔ قابل پروفیسر ہانس کیلسن کی رہنمائی میں بھٹو ہر سال اپنے تعلیمی مدارج کو بہتر بناتے رہے اور ہر کورس میں بہتر سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے رہے۔ انہوں نے زیادہ سے زیادہ مطالعہ کیا، اپنے ذہن کو وسعت دی اور پاکستان میں اپنے سیاسی مستقبل کے لئے خود کو تیار کرتے رہے۔ بھٹو نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں طلبہ کے معاملات کی منتظم سٹوڈنٹس یونین کونسل کی 12 نشستوں میں سے ایک کے لئے انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب رہے۔ پیلو موڈی اپنی کتاب میں تبصرہ کرتے ہیں کہ ’’وہ پہلے ایشین تھے جو اس مقابلے میں کامیاب رہے اور تمام ایشیائیوں کے لئے باعث فخر بنے۔‘‘

برکلے میں گزرنے والے وقت کے دوران بھٹو کو احساس ہوا کہ انہیں امورِ حکومت اور انتظام کاری کے معاملات میں کچھ عملی تجربے کی ضرورت ہے لہٰذا انہوں نے واشنگٹن میں پاکستان کے سفارت خانے میں اپرنٹس کی حیثیت سے تربیت لینے کا فیصلہ کیا۔ کیلی فورنیا میں انہیں مطالعے کا بڑا شوق تھا اور تاریخ سے انہیں خصوصی دلچسپی تھی۔ انہوں نے تاریخ، فلسفۂ سیاست اور معاشیات پر بے شمار کتابوں کا مطالعہ کیا تھا۔ انہوں نے بہت سے مباحث میں حصہ لیا اور ایک بہترین مباحث نگار کے طور پر سامنے آئے۔

1950ء میں انہوں نے آنررز کے ساتھ سیاسیات میں گریجویٹ کیا۔ اسی سال وہ اوکسفرڈ پہنچے اور وہاں کرائسٹ چرچ کالج میں داخل لے لیا۔ کرائسٹ چرچ اوکسفرڈ یونیورسٹی کے تمام کالجز میں سب سے بہتر تصور کیا جاتا ہے اور بہت کم کسی ایشیائی کو وہاں داخلہ نصیب ہوتا تھا۔ بھٹو نے تین سال کا کورس دو سال میں امتیاز کے ساتھ مکمل کیا۔ 1952ء میں اوکسفرڈ سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھٹو لندن چلے گئے تاکہ لنکنز ان سے بار کا امتحان پاس کر سکیں۔ ایک سال سے بھی کم عرصے میں انہیں بار کا رکن منتخب کر لیا گیا اور یونیورسٹی آف سائوتھمپٹن میں انٹرنیشنل لاء کی پروفیسری کا تقرری نامہ دے دیا گیا۔ یونیورسٹی میں ان کی تقرری ایک اور ریکارڈ تھی کیونکہ یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی دفعہ کسی ایشیائی کو اس عہدے پر فائز کیا گیا تھا۔ بہرحال ان کے والدین ان کے انگلینڈ میں مستقل قیام کے خیال سے خوش نہ تھے اور انہوں نے بھٹو کو کراچی واپس آنے پر آمادہ کرنے کے لئے دبائو ڈالنا شروع کر دیا۔ امتحانات سے فارغ ہونے کے بعد بھٹو نے مشہور و معروف سرکاری وکیل ایش لنکن کے زیر نگرانی قانون کی تربیت لینا شروع کر دی۔ نومبر 1953ء میں وہ پاکستان واپس آ گئے۔ کراچی آمد پر انہوں نے اپنے والدین کو اطلاع دی کہ وہ نصرت اصفہانی سے شادی کرنا چاہتے ہیں، اور یہ شادی ہو گئی۔

بھٹو سے شادی کے بعد بیگم نصرت بھٹو کی لاڑکانہ آمد پر انہیں برقعہ پہننے کی ہدایت کی گئی تاکہ خاندان کی پرانی روایت برقرار رہے۔ بھٹو نے بیگم نصرت بھٹو کو اس پابندی سے آزاد قرار دیتے ہوئے انہیں برقعہ اتارنے کی اجازت دے دی۔ بھٹو کی پہلی بیگم کے والد، ان کے چچا احمد خان بھٹو سیاست میں تھے۔ وہ ایک حقیقت پسند آدمی تھے اور بھٹو کی دوسری شادی پر انہوں نے کراچی کلب میں ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔ ان کے دوست بہت کم تھے۔ بیگم بھٹو نے انہیں خیال رکھنے والا شوہر اور نہایت صبر و برداشت کا حامل ایک پیار کرنے والا فرد پایا۔

بچوں کی پرورش کرنے میں ان کا انداز غیر ضروری سختی سے پاک اور تعلیمی تھا۔ بھٹو کے متعلق ایک حیران کن بات بیگم بھٹو نے یہ بتائی کہ وہ پانچ دس منٹ کی گہری نیند لینے کے بعد بھی جب اٹھتے تھے تو بالکل تروتازہ ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ اس بارے میں بیگم بھٹو کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا۔ ’’میرا ضمیر بے داغ ہے، اسی لئے میں اس طرح سو سکتا ہوں۔‘‘ ایسا وہ اکثر کیا کرتے تھے کیونکہ ان کا تمام وقت طرح طرح کی مصروفیات میں گزرتا تھا۔ تھک جاتے تو تھوڑی دیر کے لئے سو لیتے۔ رات تین بجے سو کر وہ صبح آٹھ بجے اٹھ جاتے اور پھر سے اپنے کاموں میں مگن ہو جاتے۔ وہ بہت کم سوتے تھے۔ ان کے نزدیک ایک فرد کی بہترین خصوصیات مہربانی، صداقت اور راست بازی تھیں۔ یہی تعلیم انہوں نے اپنے بچوں کو دی۔

اوریانا فلاشی بھٹو کے ساتھ اپنے انٹرویو کے متعلق لکھتی ہے۔ ’’وہ تضادات سے بھرپور تھے۔ امیر ہونے کے باوجود وہ غریبوں کی پروا کرتے تھے۔ جاگیردار ہونے کے باوجود وہ سوشلزم کے حامی تھے۔ راسخ العقیدہ مسلمان ہونے کے باوجود وہ آزاد خیالی پر بھی یقین رکھتے تھے۔‘‘

پیلو موڈی ’’زلفی مائی فرینڈ‘‘ میں بھٹو کے متعلق لکھتے ہیں۔ ’’نوجوانی کے دور میں کپڑوں اور اپنی وضع قطع کے متعلق ان کا ذوق نہایت عمدہ تھا۔ عمدگی سے سلی ہوئی پتلونیں، کھلے گلے کی شرٹیں ، چمکتے دمکتے جوتے اور بالوں میں ہلکی سی زائد چمک۔ یونیورسٹی میں زلفی ہمیشہ سپورٹس کوٹ اور ٹائی کے ساتھ نظر آتے۔ کبھی کبھی ’’بو ٹائی‘‘ بھی لگا لیتے لیکن یہ ان پر اس قدر جچتی نہیں تھی۔ ان کا عمومی لباس خاصا سنجیدہ ہوتا تھا۔‘‘ بیگم بھٹو بتاتی ہیں کہ بھٹو کو بوسکی کی قمیصیں پہننے کا بڑا شوق تھا۔

جولائی 1953ء میں بھٹو، سر شاہنواز بھٹو کے قریبی دوست بیرسٹر ڈنگومل رام چندانی کی فرم میں شامل ہو گئے۔ 12 نومبر 1953ء کو انہیں سندھ چیف کورٹ کا ایڈووکیٹ منتخب کر لیا گیا۔ بین الاقوامی اور آئینی قوانین میں بھٹو کو خصوصی مہارت حاصل تھی۔ ایک وکیل کے طور پر ان کی اہلیت کا بہترین اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اپنے نہایت اہم ’’مقدمۂ تقدیر‘‘ میں سپریم کورٹ کے سامنے اپنی نظرثانی کی درخواست انہوں نے خود پیش کی اور اس پر بحث کرتے ہوئے دلائل دیئے۔ اگرچہ وہ بیس سال کے وقفے کے بعد کسی عدالت کے سامنے پیش ہو رہے تھے، لیکن ان کی پیش کاری، دلائل کی فراہمی اور متعلقہ قوانین سے ان کی گہری واقفیت سپریم کورٹ کی تاریخ میں سامنے آنے والی بہترین کارکردگی تھی جس کا بعد ازاں اعتراف بھی کیا گیا۔ ان کی اخلاقی جرأت کا اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے جب اس امر کو مدنگاہ رکھا جائے کہ جب وہ اپنے مقدمے میں دلائل دینے کے لئے پیش ہوئے تو اس وقت ان کے سر پر سزائے موت کی تلوار مسلط تھی لیکن جس انداز میں انہوں نے پیشانی پر شکن ڈالے بغیر اپنی جان بچانے کے بجائے اس نصب العین کی سربلندی کے لئے جنگ لڑی جس کے لئے وہ ربع صدی سے جدوجہد کر رہے تھے، اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ 1954ء میں انہوں نے کراچی کے سندھ مسلم لاء کالج میں پڑھانا شروع کر دیا اور جلد ہی اپنا علیحدہ آفس قائم کر لیا۔ بھٹو پہلی مرتبہ سندھ کی چیف کورٹ میں جو پاکستانی عدلیہ کی ہائی کورٹ تھی میں پیش ہوئے جس کی سربراہی اس وقت کانسٹرنٹائن نامی انگریز کر رہا تھا۔ جب بھٹو نے اپنے دلائل مکمل کئے تو چیف جسٹس نے انہیں بھرپور تعریفی کلمات سے نوازا۔ بھٹو نے کئی دیگر پیچیدہ مقدمات جن میں قتل کے مقدمات کی اپیلیں بھی شامل تھیں، بڑی خوبی سے نمٹائے۔ انہیں سندھ یوتھ فرنٹ کا صدر بھی منتخب کر لیا گیا۔ انہوں نے ون یونٹ سسٹم پر کڑی نکتہ چینی کی اور ایک پمفلٹ بھی لکھا جس کا عنوان تھا۔ ’’پاکستان ایک جاگیرداری یا ایک ون یونٹ ریاست۔‘‘ اس پر حکومت سندھ کے سربراہ مسٹر کھوڑو نے بڑی سنجیدگی سے انہیں گرفتار کرنے کے متعلق سوچا لیکن چونکہ بھٹو ایک ممتاز لیڈر اور سندھ کی علیحدگی کے کارفرما افراد میں سے ایک کے فرزند تھے، اس لئے اس سوچ کو حقیقت کا روپ نہ دیا جا سکا۔ بھٹو کے والد اچھی طرح جانتے تھے کہ ایک نہ ایک روز بھٹو کا سیاست میں آنا اور اپنا کردار ادا کرنا ضروری ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے بھٹو کو یہ مشورہ دینا ضروری سمجھا کہ وہ انتظار کریں، سیاسیات کے فن میں ٹائمنگ بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی رائے میں اس وقت بھٹو کا سیاست میں کود پڑنا قبل از وقت تھا۔ اپنے والد کے مشورے کو مدنظر رکھتے ہوئے بھٹو صوبائی انتخابات سے باہر رہے اور دیگر سیاسی سرگرمیوں سے بھی الگ ہو گئے۔ البتہ وہ اس اقدام پر خوش نہ تھے کیونکہ ذہنی طور پر وہ سیاست میں حصہ لینے کے لئے پوری طرح آمادہ و تیار تھے۔ 1956ء تک بھٹو اپنی تمام تر توجہ اپنی زمینوں اور پیشے کو دیتے رہے اور سندھ مسلم لاء کالج میں آئینی قانون پڑھاتے رہے۔

سکندر مرزا کے ساتھ بھٹو خاندان کے قدیمی خاندانی تعلقات تھے۔ جب شاہنواز حکومت بمبئی میں وزیر تھے، اس وقت سکندر مرزا کے انکل وہاں انجینئر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ دونوں قریبی دوست تھے۔ بھٹو خاندان لاڑکانہ میں، جہاں بھٹو کے چچا نے ایک بہترین شکار گاہ قائم کر رکھی تھی، سکندر مرزا اور ایوب خان دونوں کی میزبانی کیا کرتا تھا۔ ایسے ہی ایک موقع پر 1955ء میں سکندر مرزا بھٹو کے طول طویل مباحث سے متاثر ہوئے اور مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی نمائندگی کرنے کے لئے انہیں اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے سامنے بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔ 5 مارچ 1956ء کو گورنر جنرل سکندر مرزا کو عبوری دور کے لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا صدر بلامقابلہ منتخب کر لیا گیا اور 23 مارچ کو 1956ء کے آئین کے نفاذ کے بعد انہوں نے پاکستان کے پہلے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔ نومبر 1957ء میں سر شاہنواز بھٹو کا انتقال ہو گیا۔ اس دوران ستمبر 1957ء میں بالآخر بھٹو کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھیجے جانے والے وفد میں رکن کی حیثیت سے شامل کر دیا گیا۔ اس وقت ان کی عمر صرف 29 برس تھی۔ چھٹی کمیٹی میں انہوں نے ’’جارحیت‘‘ کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ وہ اقوامِ متحدہ میں ہی تھے جب 19 نومبر 1957ء کو ان کے والد کا انتقال ہو گیا اور وہ واپس پاکستان لوٹ آئے۔ مارچ 1958ء میں بھٹو کو پاکستانی وفد کے سربراہ کی حیثیت سے اقوامِ متحدہ کی بحری قوانین کی کانفرنس میں شرکت کے لئے جنیوا بھیجا گیا جس کے بعد بہت سی حکومتوں نے حکومت پاکستان کو بھٹو کی قائدانہ صلاحیتوں اور مہارت کے متعلق تعریفی خطوط لکھے۔ خصوصاً امریکہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ جان فاسٹر ڈلس نے ان کی بے حد تعریف کی۔

1958ء تک بھٹو بڑے شوق سے فلمیں دیکھا کرتے تھے۔ وہ کراچی کے ریکس سنیما میں بیگم بھٹو کے ساتھ فلم دیکھ رہے تھے جب سکرین پر پیغام نمودار ہوا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو گورنمنٹ ہائوس میں یاد کیا جا رہا ہے۔ بعد میں انہیں پتہ چلا کہ سکندر مرزا نے انہیں حکومت پاکستان کا وزیر اقتصادیات مقرر کر دیا ہے (70 کلفٹن سے سکندر مرزا کو اطلاع ملی تھی کہ وہ اس وقت فلاں سنیما میں موجود ہیں)۔ لوگوں کا خیال تھا کہ سکندر مرزا نے بھٹو کو وزیر بنا کر سر شاہنواز بھٹو کے ساتھ کیا ہوا وعدہ نبھایا ہے۔ بہرحال، سکندر مرزا نے اپنا وعدہ نبھایا اور بھٹو کو 1958ء میں وزیر اقتصادیات بنا دیا۔ تب چیف آف آرمی سٹاف ایوب خان نے سکندر مرزا کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ فیلڈ مارشل ایوب خان پاکستان کے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن بیٹھے اور ان کی خواہش تھی کہ بھٹو وزیر کے طور پر ان کے ساتھ موجود رہیں۔ بھٹو کی والدہ اور بیگم بھٹو نے انہیں اس پیشکش کو قبول کر لینے کا مشورہ دیا لہٰذا وہ راضی ہو گئے۔ ایوب خان کی کابینہ میں وہ سب سے کم عمر، سب سے تعلیم یافتہ اور اظہارِ رائے میں سب سے مؤثر فردتھے۔ 1959ء اور 60ء کے سالوں میں انہیں قومی تعمیر نو، ایندھن، قوت اور قدرتی وسائل کی وزارتوں کے قلمدان بھی سونپے گئے۔ 1959ء، 1960ء، 1963ء، 1965ء میں اقوامِ متحدہ میں بھیجے جانے والے پاکستانی وفود کے وہ سربراہ رہے۔ 1959ء میں انہوں نے اقوامِ متحدہ میں الجزائر پر فرانس کے تسلط کے خلاف بیان دیا۔ 1960ء میں انہوں نے سوویت یونین کے ساتھ بارہ کروڑ روبل کے کریڈٹ کے ساتھ تیل اور گیس کی تلاش کا معاہدہ کیا۔ 1960ء میں ہی وہ پاکستانی وفد کے سربراہ بن کر اقوامِ متحدہ گئے اور وہاں امریکی رائے کی مخالفت کرتے ہوئے چین کو اقوامِ متحدہ کا رکن بنانے کے حق میں ووٹ دیا۔ 1963ء سے 65ء تک وہ پاکستان کے وزیر خارجہ رہے۔

اپنے سیاسی اور سماجی پس منظر کے ساتھ اور بھٹو خاندان کا چشم و چراغ ہونے کی حیثیت سے بھٹو ایک نہایت فطری پس منظر کے مالک تھے اور نظریاتی اور پیشہ ورانہ ہر دو حیثیت سے نہایت ہوشیار اور مستعد تھے۔ ان کے پاس تمام بنیادی اہلیتیں موجود تھیں۔ ایوب حکومت کو سندھ کے بااثر خاندانوں میں سے کسی نمائندے کی تلاش تھی۔ بھٹو ان کا قدرتی اور واضح انتخاب تھے۔ وہ ایسے لوگوں میں شامل نہ تھے جو آگے آنے کے لئے دوسروں کو دھکے دیتے پھرتے ہیں۔ اپنی تربیت اور مزاج کے حوالے سے وہ ہمیشہ اپنے سینئرز کا احترام کرتے، ان کی باتیں غور سے سنتے اور ان کی معاونت کرنے کی حتی الوسع کوشش کرتے۔ ان تمام اوصاف کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیمی قابلیت، ذاتی جوہر اور اقوامِ متحدہ میں شاندار کارکردگی کی بدولت بھٹو ایوب کی کابینہ میں وزیر اقتصادیات کی حیثیت سے جگہ بنانے میں کامیاب رہے۔ کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ بھٹو نے کسی ایسی چیز کا مطالبہ کیا ہو جس کے وہ حقیقی معنوں میں حقدار ثابت نہ ہو چکے ہوں۔ 1957ء میں کراچی میونسپل کارپوریشن تحلیل کر دی گئی اور صدر سکندر مرزا نے بھٹو کے سامنے خواہش ظاہر کی کہ وہ میونسپل کارپوریشن کی سربراہی سنبھال کر کراچی کے میئر کے طور پر کام کریں۔ لیکن بھٹو نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ مقررہ شرائط پوری کئے بغیر وہ کوئی بھی ایسا عہدہ قبول نہیں کر سکتے جس پر فائز ہونے والے کے انتخاب کا حق عوام کے پاس ہو۔ بہرحال، یہ ایک حقیقت ہے کہ بھٹو کے سکندر مرزا اور ایوب خان کے ساتھ اچھے تعلقات تھے، اس لئے انہیں کابینہ میں شامل ہونے پر آمادہ کرنے کے لئے ان لوگوں کو زیادہ تگ و دو نہ کرنا پڑی۔ اس دن کے لئے بھٹو نے اپنی تعلیم کے پہلے دن سے خود کو بہتر سے بہتر بنانے کا، زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرنے کا سلسلہ جاری کر رکھا تھا۔ وہ مسلسل اپنے ذہن کو وسعت دیتے رہے اور خود کو ایک ایسے سیاسی مستقبل کے لئے تیار کرتے رہے جس کے لئے ان کے ذہن میں ہچکچاہٹ اور تامل کا شائبہ تک نہ تھا۔ تاہم ان کی بنیادی دلچسپی امورِ خارجہ کے میدان میں تھی اور جب جنوری 1963ء میں انہیں وزیر خارجہ بنا دیا گیا تو وہ حقیقی معنوں میں اپنے متعین کردہ مقام پر پہنچ گئے۔

بھٹو عالمی سٹیج پر ایک لیڈر کی حیثیت سے 31 سال کی عمر میں اقوامِ متحدہ میں آنے والے پاکستانی وفد کے سربراہ کے طور پر نمودار ہوئے۔ مسئلۂ کشمیر پر حمایت حاصل کرنے کے لئے انہوں نے چین، برطانیہ، مصر اور آئرلینڈ کے کامیاب دورے کئے۔ انہوں نے بھارتی وزیر خارجہ سورن سنگھ کے ساتھ گفت و شنید کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ بہ حیثیت وزیر خارجہ، 1963ء سے لے کر جون 1965ء میں استعفیٰ دینے تک، بھٹو نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سیکیورٹی کونسل میں عالمی برادری پر اپنی خطیبانہ مہارت کے ذریعے گہرے نقوش چھوڑے۔ یہ انہی کی بصیرت کا اعجاز تھا کہ چین کے ساتھ دفاعی حکمت عملی پر مبنی تعلقات ایک ایسے وقت استوار کئے گئے جب چین کو دنیا میں تنہا کر دیا گیا تھا۔ بھٹو ایک خودمختار خارجہ پالیسی پر یقین رکھتے تھے جو کہ اس وقت تک مغربی طاقتوں کے ہاتھ کا کھلونا بنی رہی تھی۔ ان کی وزارتِ خارجہ کے دور میں ایران اور پاکستان کے تعلقات انتہائی مضبوط ہو گئے۔ ایک دوسرے سے متضاد مفادات رکھنے والی اتنی بہت سی قوموں کو کامیابی سے ہینڈل کرنے میں انہوں نے بہت سی دشواریوں کا سامنا کیا۔ یہ یقینا ان کی ڈپلومیسی کی کامیابی تھی کہ بھارت کی سوویت یونین سے قربت کے باوجود، بھٹو پاکستان اور سوویت یونین کے درمیان تیل اور گیس کی تلاش کا معاہدہ کرانے میں کامیاب رہے۔ چین کے دورے پر جانے سے قبل اچانک محمد علی بوگرہ کا انتقال ہو گیا، بھٹو نے ان کی جگہ لی اور چین کے ساتھ مذاکرات کر کے پاکستان کے لئے 750 مربع میل کا رقبہ حاصل کیا اور دونوں ملکوں کے درمیان ایک لازوال دوستی کی بنیاد بھی رکھ دی۔ جب رچرڈ نکسن کو اپنے خصوصی سفیر ہنری کسنجر کی مائوزے تنگ سے ملاقات کروانے کے لئے کسی واسطے کی ضرورت پڑی تو بھٹو نے ہی یہاں پل کا کام دیا۔

سوشلسٹ تصورات کے ساتھ ان کی وابستگی نہ تو نئی تھی اور نہ ہی اس کا ظہور اچانک ہوا۔ انہوں نے کبھی بھی ایسا دعویٰ نہیں کیا۔ ایک مرتبہ اپنے دوست پیلو موڈی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کے سوشلسٹ عقائد کی جڑیں سندھ کی غربت میں پوشیدہ ہیں، یہ ایک ایسا عزم ہے جو انسانی اقدار اور حقائق حیات کے متعلق انسانی رویوں سے پیدا ہوا ہے۔ بھٹو نے امریکہ اور برطانیہ میں ہیرلڈ لاسکی کے بہت سے لیکچر سنے اور ان کی زیادہ تر کتابوں کا مطالعہ کیا۔ بھٹو نے پیلو موڈی کو بتایا کہ انہیں سوشلسٹ بنانے کا کام لاسکی کی تحریروں اور تقریروں نے نہیں کیا، ان چیزوں نے محض ان کے عقائد اور نظریات پر مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ 1948ء میں بھٹو نے یونیورسٹی آف سائودرن کیلی فورنیا میں ’’اسلامی ورثہ‘‘ کے موضوع پر ایک لیکچر دیا جس میں انہوں نے مسلم ممالک میں سوشلزم کی ضرورت پر زور دیا۔ کئی سالوں بعد انہوں نے اپنی اس سوچ کو پاکستان پیپلز پارٹی کے پروگرام اور منشور میں منتقل کر دیا۔ دولتمند طبقے سے اپنے تعلق کے حوالے سے وہ کسی طرح کے ابہامات کے شکار نہ تھے۔ تاہم ان کا اپنا ایک نظریہ تھا جو ان کے طبقے کے مفادات کے خلاف جاتا تھا اور وہ ہمیشہ اس موضوع پر بڑے زور و شور سے بحث کیا کرتے تھے۔ 10 جولائی 1962ء کو قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے بڑے پُرزور انداز میں کہا۔ ’’میں خود مراعات یافتہ طبقے سے تعلق رکھتا ہوں، اس لئے میں بھی اس نظام کے فوائد کا اعتراف کرتا ہوں۔ لیکن جناب اس فائدے کے باوجود جو ہم میں سے چند افراد اس نظام سے حاصل کرتے ہیں، اس حقیقت کے باوجود کہ ہم میں سے چند افراد اس نظام کو برقرار رکھنے کے لئے آمادئہ جنگ بھی ہوں گے، اس نظام میں کئی پوشیدہ خرابیاں موجود ہیں۔ یہ نظام گھٹیا سازشوں کو جنم دیتا ہے، یہ عوام کا استحصال کرنے کی ترغیب دیتا ہے، یہ غریبوں کی طرف سے بے حس ہو جانے کی دعوت دیتا ہے اور یہ کاہلی و سستی کو فروغ دیتا ہے۔ لہٰذا جب جاگیردار دشمن ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں تو عوام جہاں ہیں، وہیںکے وہیں رہتے ہیں۔ ان کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ کوئی فیکٹری نہیں لگتی، کوئی سڑک تعمیر نہیں ہوتی، کوئی مواصلاتی نظام نہیں بنتا۔ گھور تاریکی اور پُرصعوبت زندگی باقی رہتی ہے۔ صرف بڑے لوگ، منتخب خوش قسمت، خوشحال سے خوشحال تر ہوتے ہیں۔ ایسے متکبر امراء اپنی منقولہ جائیداد یعنی ان کچلے مسلے لوگوں کے لئے کیا کر سکتے ہیں۔‘‘ اپنی تمام وزارتوں کے دوران بھٹو نے نہایت عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا، مسلسل سیکھتے رہے اور اپنے علم میں اضافہ کرتے رہے۔ اس عرصے میں انہوں نے بڑے جوش و خروش، حقیقی احترام، خلوص اور وفاداری کے ساتھ ایوب خان کا ساتھ دیا۔ لیکن دونوں کے درمیان اختلافات کا آتش فشاں یقینا پک رہا تھا اور یہ آتش فشاں 1965ء کی جنگ کے چھڑنے اور پھر تاشقند میں اختتام پذیر ہونے کے بعد پھٹ پڑا۔ اس کے بعد ایوب خان نے انہیں دھمکانے اور اذیتیں پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ انٹیلی جنس، پولیس اور دیگر سرکاری ایجنسیاں بھٹو، ان کے خاندان اور ان کے دوستوں پر کھلی چھوڑ دی گئیں۔ بھٹو خاندان کے آتشیں ہتھیاروں کے ذخیرے اور ان کی زمینوں کی ساتھ ساتھ ان کے عزیزوں اور قریبی دوستوں کی جائیدادوں کو ضبط کرنے کی کئی کوششیں کی گئیں۔

پاکستان واپسی سے ایوب خان کے خلاف تحریک کا آغاز کرنے تک کا عرصہ انہوں نے جدوجہد اور کڑی مشقت کے عالم میں گزارا۔ جو سلوک ان کے اور ان کے خاندان کے ساتھ ہوا، اس سے انہیں انسانی کردار اور عوامی نفسیات کے متعلق گہرے اسباق حاصل ہوئے۔ وہ سیاسی سرگرمیوں کو زندہ رکھنے میں کامیاب رہے لیکن انہوں نے اپنی تحریک کا آغاز قبل ازوقت نہ کیا۔ انہوں نے نہ صرف ایوب خان کو شکست دی بلکہ پوری حزبِ اختلاف، جس کے لیڈر ان سے کہیں زیادہ کہنہ مشق سیاستدان تھے، کی طرف سے انتخابات میں کامیابی حاصل کی ۔

1965ء کی پاک بھارت جنگ کے موقع پر وہ ایک وفد کے سربراہ کی حیثیت سے اقوامِ متحدہ گئے اور وہاں اپنی مشہورِ زمانہ تقریر کی۔ ’’ہم ایک ہزار سال تک جنگ لڑیں گے۔‘‘ (22-23 ستمبر 1965ء)۔ روس کی دعوت پر، جنوبی روس کے شہر تاشقندمیں دونوں ملکوں کی قیادتوں کے درمیان بحالی ٔ امن کے مذاکرات شروع ہو گئے۔ اور یہاں صدرِ پاکستان ایوب خان نے وزیر اعظم ہندوستان لال بہادر شاستری کے ساتھ ’’اعلانِ تاشقند‘‘ پر دستخط کر دیئے جس کی رو سے دونوں ملکوں نے اپنی اپنی فوجیں گذشتہ پوزیشنوں پر واپس بلا لیں۔ یہ بھٹو اور پاکستان کی عوام کی خواہشات کے عین برعکس ہونے کے ساتھ ساتھ موجودہ حالات میں ملکی مفاد کے بالکل خلاف تھا۔ بھٹو ایک دو فریقی خارجہ پالیسی پر یقین رکھتے تھے جس میں کوئی ملک، دوسرے ملکوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں دخل انداز نہ ہو سکے۔ اعلانِ تاشقند کی مخالفت کے نتیجے میں انہوں نے ایوب کابینہ میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اعلانِ تاشقند پر دستخط کرنے کے اگلے روز لال بہادر شاستری کا انتقال ہو گیا۔ لوگوں نے کہا کہ اس کی موت خوشی کے باعث ہوئی ہے کیونکہ جو جنگ انڈیا میدان میں ہار گیا تھا، وہ اس نے میز پر جیت لی۔ اعلانِ تاشقند کے بعد اب بھٹو بھی ایوب خان کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں کے نتیجے میں بے چین ہو رہے تھے۔ اب ملک کے لئے ان کے ذہن میں نئے مثالئے جنم لے چکے تھے۔ وہ ذہنی طور پر، اخلاقی طورپر، قابلیت اور تجربے کے اعتبار سے کسی بڑی مہم میں کودنے کے لئے پوری طرح تیار تھے۔ اس بڑی ذمہ داری کے لئے وہ ہر اعتبار سے موزوں و مناسب تھے۔ 10 جون 1966ء کو بھٹو نے وزیر خارجہ کی حیثیت سے بھٹو کو لمبی رخصت پر بھیجنے کا اعلان کیا۔ یہ ایک بڑی خبر تھی اور بین الاقوامی میڈیا میں اسے بھرپور کوریج ملی۔ اگلے روز آل انڈیا ریڈیو نے وزارتِ خارجہ سے بھٹو کی رخصت کو خوش آمدید کہا۔ برطانوی اخبار ’’گارجین‘‘ نے اس پر تبصرہ کیا کہ چاہے بھٹو نے استعفیٰ دیا ہے یا انہیں رخصت پر بھیجا گیا ہے، امریکی امداد کی بحالی کے صرف دو دن بعد ایوب خان عوامی جذبات کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے مخالفین اس اقدام کا خیرمقدم کریں گے۔ نیویارک کے ہیرالڈ ٹربیون نے لکھا۔ ’’بھٹو کی کابینہ سے علیحدگی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ جنوبی ایشیا کی سیاست سے بھی الگ ہو جائیں گے۔ حزبِ اختلاف کے لیڈر کے طور پر بھٹو کے سامنے آنے کے امکانات روشن ہیں۔ بھٹو ایوب خان کو چیلنج کرنے کے اہل ہیں۔‘‘ ایوب خان اور اس کی حکومت کو چھوڑنے کے بعد، بھٹو نے 21 ستمبر 1968ء کو پیپلز پارٹی سندھ کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ان کے اور ایوب خان کے مابین پائے جانے والے اختلافات بتدریج بڑھ رہے تھے لیکن 1965ء میں معاہدئہ تاشقند کے بعد اچانک پھٹ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ ایوب خان کی پالیسی قوم کے وسیع مفادات کے برعکس تھی۔ بھٹو نے انکشاف کیا کہ ایوب خان کے ساتھ ان کی آخری میٹنگ میں دونوں کے خیالات اور پالیسیوں میں موجود واضح فرق کی بناء پر انہوں نے وزارت سے سبکدوش ہونے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ یہ بھی کہ وہ اپنے عقائد و نظریات سے محبت رکھتے ہیں لہٰذا کوئی سرکاری عہدہ سنبھالے رکھنے کے لئے ان کی قربانی دینے پر ہرگز رضامند نہ ہوں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جب ایوب خان نے انہیں سیاست میں دوبارہ داخل ہونے کی کوشش کرنے کے حوالے سے دھمکایا تو انہوں نے جواب دیا۔ ’’دنیا کی کوئی طاقت مجھے میرے عوام سے دور نہیں رکھ سکتی۔ اگر قوم کو کسی بھی مرحلے پر میری خدمات کی ضرورت پڑی اور لوگوں نے مدد کے لئے میری طرف دیکھا تو میں ہر قیمت پر ان کی مدد کو آئوں گا۔ مجھے سیاست میں حصہ لینا چاہئے یا نہیں، اس کا فیصلہ نہ میں کر سکتا ہوں نہ ایوب خان۔ صرف عوام اس کا فیصلہ کریں گے۔ سیاست میں آنے والے کسی بھی فرد کا مستقبل عوام کی خواہشات اور حمایت سے بندھا ہوتا ہے۔ اگر عوام مجھے سیاست میں رکھنا چاہیں گے تو ایوب خان مجھے پاکستانی عوام کے خواہش کے مطابق عمل کرنے سے روک نہیں سکیں گے۔‘‘

ایوب خان کی کابینہ سے ان کے استعفے کی منظوری اور آخری ملاقات کے بعد بھٹو 22 جون 1966ء کو بذریعہ ٹرین راولپنڈی سے لاہور روانہ ہو گئے۔ عوام نے ان کے حق میں فیصلہ دیا۔ راستے کے تمام اسٹیشنوں پر عوام خصوصاً طلبہ اور وکلاء نے بڑی گرمجوشی سے ان کا خیرمقدم کیا۔ لاہور سٹیشن پر ہزاروں کے مجمعے نے، جن میں نوجوانوں کی کثیر تعداد شامل تھی، ان کا استقبال کیا۔ انہیں کندھوں پر اٹھا کر اسٹیشن سے باہر لایا گیا اور ایک جلوس کے ساتھ سینکڑوں گاڑیوں، ٹانگوں، ٹیکسیوں، رکشائوں اور ہزاروں لوگوں کی معیت میں مال روڈ کے فلیٹیز ہوٹل لے جایا گیا۔ یہ ایک حیران کن نظارہ تھا۔ یہ پاکستان میں سیاست کی ایک نئی طرز کی ابتداء تھی۔ عوام کی سیاست، عوام کے لئے، عوام کے ذریعے۔ 24 جون 1966ء کو وہ کراچی روانہ ہوئے اور ایک مرتبہ پھر ہر اسٹیشن پر عوام نے اسی جوش و خروش کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ یہ روایتی سیاست میں جاگیرداروں، وڈیروں اور شہری امراء کی اجارہ داری میں پڑنے والی دراڑ کا آغاز تھا۔ روزنامہ نوائے وقت نے اپنی 28 جون کی اشاعت میں ان نئی روایات کی ابتداء کا مشاہدہ کرتے ہوئے لکھا: ’’لوگوں نے بھٹو کو اپنے کندھوں پر اٹھایا ہے۔ انہیں ایسا خصوصی امتیاز کیوں دیا گیا؟ کیونکہ وہ پاکستان میں آزادی، وقار اور عزتِ نفس کی علامت بن کر سامنے آئے ہیں۔ بھٹو نوجوان، ذہین، تجربہ کار، محب الوطن اور تعلیم یافتہ ہیں۔ عوام نے ان سے جو توقعات وابستہ کی ہیں، انہیں ان کا حق ادا کرنا ہوگا۔ جس کے معنی ہیں مستقبل میں پاکستانی عوام کے لئے قربانی کی ضرورت پیش آنے پر وہ قربانی دے کر اس کا بدلہ چکائیں۔‘‘ یہ ایک طویل اور دقت طلب جدوجہد کا آغاز تھا جس کے نتیجے میں بالآخر ایک بے بصر اور بے مہر آمر، جس نے عوام کی خواہشات کے برعکس، تمام جمہوری ضوابط کے خلاف اور قومی مفادات کے برعکس، پاکستان پر اپنی مطلق العنان حکومت مسلط کر رکھی تھی، اقتدار سے رخصت ہو گیا۔ تاریخ نے بھٹو کو اس منفرد کردار کے لئے منتخب کیا تھا۔ یہ کردار انہیں انتہائی نامساعد حالات میں ادا کرنا تھا۔ ہر طرف سے ان پر دبائو پڑ رہا تھا۔ صنعتی سلطنت، متکبر طبقۂ امراء اور نوآبادیاتی طرز کی نوکر شاہی۔ لیکن عوام ان کے ساتھ تھے۔ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور ایک دوسرے کے لئے باعث تقویت تھے۔ یہ راستہ آسان نہ تھا۔ بہت سے لوگ حیران ہو کر سوچتے ہیں کہ بھٹو عوام کی ایسی قیادت کرنے میں کیسے کامیاب ہوئے جبکہ بہت سے تجربہ کار سیاستدان ناکام ہو چکے تھے۔ وہ اس لئے کامیاب ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنے پُرآسائش ڈرائنگ روم تک محدود رہنے اور وقتاً فوقتاً اخبارات کو بلند بانگ بیانات جاری کرنے پر اکتفا نہ کیا۔ وہ گلیوں میں نکل آئے۔ انہوں نے عوام کی نبض پر ہاتھ رکھا، لمحہ ٔ موجود کو گرفت میں لیا۔ لوگ انقلاب کے لئے تیار تھے۔ بھٹو نے انقلاب تک ان کی رہنمائی کی۔ وہ لوگوں کے احساسات کا گہرا شعور رکھتے تھے اور ان سے ان کی زبان میں گفتگو کرتے تھے۔ وہ ان کی دل کی بات اپنی زبان پر لائے، انہیں تاریک سرنگ کے دوسرے کنارے پر نظر آنے والی روشنی دکھائی۔ انہوں نے فضا میں چمکنے والی دھنک اور آسمان میں دمکنے والے ستاروں کو دیکھا۔ یہ بھٹو کا جادو تھا۔ یہ بھٹو کی کشش تھی۔ یہ بھٹو کی اثرانگیزی تھی۔ وہ اس لئے کامیاب رہے کیونکہ انہوں نے ایک مرحلہ وار عمل سے گزر کر خود کو زیورِ علم سے آراستہ کیا تھا۔ 15 جنوری کو وہ عمرے کی ادائی کے لئے سعودی عرب گئے اور وہاں سے لندن روانہ ہو گئے جہاں انہوں نے کئی عوامی اجتماعات سے خطاب کیا۔ 13 اگست کو انہوں نے کانوائے ہال لندن میں خطاب کیا۔ لندن میں ان کی مثبت سرگرمیوں سے متاثر ہو کر 15 اگست کو مشہورِ عالم فلسفی برٹرینڈ رسل نے کئی سربراہانِ مملکت کو خطوط لکھے جن میں اس بناء پر بھٹو کی اعانت کرنے کی استدعا کی گئی تھی کہ وہ بھی انہی قومی روایات کی پاسداری کر رہے تھے جو بابائے قوم قائداعظم نے قائم کی تھیں۔

بھٹو کی پاکستان میں عدم موجودی کے دوران متحرک سیاست زیادہ تر یونیورسٹیوں، کالجوں اور بار ایسوسی ایشنز تک محدود تھی۔ ان کے علاوہ مزدوروں کی یونینوں کی بھی مقامی سطحوں پر تھوڑی بہت سرگرمیاں تھیں۔ تعلیمی اداروں میں جماعت اسلامی کے طلبہ ونگ کی اجارہ داری تھی۔ یہ لوگ بے حد منظم تھے، مالی وسائل رکھتے تھے اور اپنی ڈنڈا فورس جسے وہ یوتھ فورس کے نام سے پکارتے تھے، کی مدد سے ’’زورِ بازو کی سیاست‘‘ بھی کرتے تھے۔ بھٹو کے مخالف سیاستدانوں کے ساتھ بھی ان کے روابط تھے۔ رجعت پسند ہونے کے ناطے وہ ہر ابھرتی ہوئی نئی قوت خصوصاً ترقی پسندانہ قوتوں کے سخت مخالف تھے۔ بھٹو کے لئے ان کی مخالفت فطری بھی تھی اور تحرکی بھی۔ بھٹو نے اپنا مشن جاری رکھا۔ 7 فروری کو لاہور میں انہوں نے ایک عوامی اجلاس سے خطاب کیا، 25 فروری کو لاہور کے ینگ لائیرز سرکل سے خطاب کیا اور 26 فروری 1967ء کو وائی ایم سی اے میں نوائے وقت کے حمید نظامی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ابتدائی کام کے بعد انہوں نے کنونشن مسلم لیگ سے مکمل علیحدگی کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے عوام میں خصوصاً طلبہ، وکلاء، مزدوروں، دانشوروں اور تمام شعبوں کے عوام میں اپنا سیاسی حلقہ پیدا کر لیا تھا۔ 1967ء کا سال بھٹو کے لئے خاصا مصروف اور پاکستانی عوام کے لئے خاصا ہیجان انگیز ثابت ہوا۔ کنونشن مسلم لیگ سے وہ پوری طرح لاتعلق ہو چکے تھے اور انہوں نے وزیر داخلہ کو ان کے حق انتخاب پر لاہور یا لاڑکانہ میں سے کسی جگہ بھی کھلے مباحثے کا چیلنج دیا۔ 23 اپریل کو بھٹو نے راولپنڈی میں افرو ایشین سالیڈیریٹی کمیٹی کے عوامی اجلاس سے خطاب کیا اور معاشیات، خوراک اور صنعتی سیکٹر میں حکومت کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے خودکفیل پاکستان کی ضرورت پر زور دیا۔ 24 اپریل کو انہوں نے راولپنڈی بار ایسوسی ایشن سے خطاب کیا اور امریکہ کے خلاف ویت نامیوں کی جدوجہد کی حمایت کی۔ 20 جون کو انہوں نے اپنے اعزاز میں دیے جانے والے پاکستان لیبر فیڈریشن اور پی ڈبلیو آر یونین کے مشترکہ استقبالئے سے خطاب کیا اور سماجی اور معاشی عدل کے نصب العین کے لئے تمام مزدور طبقات کے لئے اپنی تائید و حمایت کا اظہار کیا۔

23 جون 1967ء ایک ہیجان خیز، چیلنجز اور سرگرمیوں سے بھرپور دن تھا۔ اس روز بھٹو نے گول باغ (ناصر باغ) لاہور میں ایک عوامی اجلاس سے خطاب کیا۔ باغ لوگوں سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ پورے شہر سے لاہوریئے انہیں سننے کے لئے جمع ہوئے تھے۔ حکومت نے باغ کی گھاس کو پانی لگانے کے بہانے بڑے بڑے ٹیوب ویل کھول دیے۔ میں بھی اس وقت سٹیج پر تھا۔ سٹیج سے عوام کے اجتماع کو پوری طرح کنٹرول میں رکھا گیا۔ بھٹو کی آمد پر ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا لیکن جونہی انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز کیا، سرکاری غنڈوں نے سٹیج پر حملہ کر دیا۔ سٹیج پر موجود طلبہ نے، جن میں، میں بھی شامل تھا، انہیں روکنے کی کوشش کی لیکن دس پندرہ منٹ بعد انہوں نے بجلی کی تاریں کاٹ کر زمین پر پھینک دیں۔ پہلے ہی ہر طرف پانی پھیلا ہوا تھا، پورے باغ میں برقی رو دوڑ گئی۔ ہراس اور بے چینی کے زیراثر لوگ منتشر ہونے لگے۔ سٹیج کے عقب میں سرونٹس کوارٹر کے رہائشیوں نے ایک سیڑھی لا کر لگائی اور بھٹو کو اس چوک میں لے آیا گیا جو گورنمنٹ کالج کی سڑک کو زمزمہ چوک سے ملاتا ہے۔ انہیں گورنمنٹ کالج کے پرنسپل، مشہور ماہر تعلیم پروفیسر رشید کی رہائش گاہ میں لے جایا گیا۔ یہاں سے بھٹو کو ایک آٹو رکشہ میں بٹھا کر منزلِ مقصود کی طرف روانہ کر دیا گیا۔ اس واقعے کے چند ماہ بعد حکومت نے پروفیسر رشید کا تبادلہ کر دیا۔ ان کی رہائش گاہ کالج کی عمارت کے ساتھ متصل تھی۔ اس واقعے کے اگلے روز مغربی پاکستان کی اسمبلی میں حزبِ اختلاف نے جلسے میں گڑبڑ پھیلانے میں حکومت کے کردار پر شدید نکتہ چینی کی کیونکہ یہ اجلاس عربوں کی حمایت میں منعقد کیا جا رہا تھا۔

بھٹو نے اس واقعے کے بعد بھی ہمت نہ ہاری اور اپنی سرگرمیاں پہلے کی سی برق رفتاری سے جاری رکھیں۔ انہوں نے اپنا ہوم ورک مکمل کیا اور ملک کے تمام گوشوں سے طلبہ، وکلاء، مزدوروں اور دانشوروں کی حمایت حاصل کر کے عوام کو متحرک کر دیا۔ ستمبر میں انہوں نے ایک نئی جماعت کی بنیاد جلد ہی ڈالنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے اپنی جماعت میں نوجوانوں کو جگہ دینے کا ارادہ کر رکھا تھا۔ 17 ستمبر کو حیدرآباد میں ایک میٹنگ کے دوران انہوں نے اخبارات اور طلبہ کو بتایا کہ ان کی سیاسی جماعت بڑے بڑے ناموں کی اعانت سے طاقت حاصل نہیں کرے گی بلکہ یہ ایک ایسی جماعت ہوگی جو ایک تاریخی عمل سے گزر کر بڑے بڑے ناموں کو جنم دے گی۔ ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان کرنے سے پہلے انہوں نے پورے ملک کا دورہ کیا جس کے نتیجے میں پاکستان کی آئندہ سیاست کے لئے زندگی کے ہر حلقے اور ہر شعبے سے نئی قیادت ابھر کر سامنے آئی۔ اگر ہم آج کی تمام سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں پر نگاہ دوڑائیں تو معلوم ہوگاکہ ان میں سے زیادہ تر اسی دور کی پیداوار ہیں جو بھٹو کی حمایت یا مخالفت کرنے کے نتیجے میں سامنے آئے۔

بھٹو جانتے تھے کہ پاکستان کے عوام کو ایک نئی جماعت کی ضرورت ہے۔ ایک ایسی جماعت جس کا ایک پروگرام ہو، ایک منشور ہو، جو صداقت کے اصولوں پر عمل پیرا ہو اور روایتی بڑوں کو للکارنے کی ہمت رکھتی ہو۔ تبدیلی اور انقلاب کی جماعت۔ کچلے مسلے ہوئے عام آدمی کا دن بالآخر آپہنچا تھا اور بھٹو نے ایک نئی عوامی قوت تشکیل دے دی تھی۔ 30 نومبر 1967ء کو بھٹو لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام عمل میں لائے اور اس کے پہلے چیئرمین منتخب ہوئے۔ افتتاحی تقریب میں ہی 25 قراردادیں پاس کی گئیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کی 10 بنیادی دستاویزات جاری کی گئیں۔ قراردادوں میں مسلح افواج اور محترمہ فاطمہ جناح کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، پاکستان پیپلز پارٹی کی تقریب کو روکنے کی کوششوں کی مذمت کی گئی۔ اس کے علاوہ کشمیر، آسام، فوجی معاہدوں، قومی دفاع، کسانوں کے مسائل، صنعتی کارکنوں کے مطالبے، بنیادی حقوق کے لئے حزبِ اختلاف سے تعاون، دفاعِ پاکستان کے قوانین کے خاتمے، یونیورسٹی آرڈیننس کے خاتمے، آزاد جموں و کشمیر میں جمہوریت، تعلیمی آزادی، ویت نام، مشرقِ وسطیٰ، تیسری دنیا کی یکجہتی، پریس ٹرسٹ کے خاتمے، اقلیتوں کے حقوق، پناہ گزینوں کی آباد کاری وغیرہ وغیرہ کے متعلق قراردادیں پیش کی گئیں۔ 3 دسمبر کو لاہور میں ایک عوامی جلسے کے انعقاد کا اعلان کیا گیا۔ حکومت نے پہلے جلسے کا مقامِ انعقاد موچی گیٹ سے بدل کر شاہی قلعے کے نزدیک علی پارک میں منتقل کر دیا، اس کے بعد اس جگہ کو تاروں اور پولیس کے نرغے میں لے لیا۔ حکومت نے اس جلسے کو درہم برہم کرنے کی پوری کوشش کی۔ 9 دسمبر کو 70۔ کلفٹن کراچی سے 72 صفحات پر مشتمل پارٹی کے منشور کا اعلان کر دیا گیا۔ اس طرح 1967ء کے اختتام پر پاکستانی عوام کو سیلف گورننس کے حصول کے لئے سیاسی جدوجہد کرنے کا ایک پلیٹ فارم میسر آ گیا۔ یہ بھٹو کی دانشمندی اور سخت محنت کا عطیہ تھا۔

1968ء بھی سیاسی سرگرمیوں سے بھرپور تھا۔ بھٹو کے زیر سربراہی پاکستان پیپلز پارٹی نے پورے ملک میں سیاسی سرگرمیوں کا اہتمام کیا۔ بار ایسوسی ایشنز کے انتخابات میں زیادہ تر کامیابی پیپلز پارٹی سے وابستہ اور ترقی پسند سوچ رکھنے والے وکلاء کے حصے میں آئی۔ خیبر سے کراچی تک زیادہ تر طلبہ یونینز میں ترقی پسند طالب علم کامیاب ہوئے۔ جماعت اسلامی کی ذیلی طلبہ جماعت، اسلامی جمعیت طلبہ کے خلاف ترقی پسند عناصر کی یہ پہلی کامیابی تھی۔ بھٹو نے ملتان کا سفر کر کے عوامی رابطہ مہم کا آغاز کیا اور اس کے بعد خانیوال بار ایسوسی ایشن کا دورہ کیا۔ ملتان سے خانیوال جاتے ہوئے قادر پور روان کے مقام پر پولیس کے زیرنگرانی تیزدھار ہتھیاروں سے مسلح تک تقریباً دو درجن افراد نے ان کی گاڑی کے ٹائر کاٹ کر انہیں خانیوال پہنچنے سے روکنے کی ناکام کوشش کی۔ صحافت میں حکومت کے بغل بچے نئی جماعت کا مذاق اڑا رہے تھے۔ بھٹو کے مخالفین اور حکومت دونوں مل کر پیپلز پارٹی کے اجتماعات کے زیادہ تر ویگن والوں، رکشہ والوں، ڈرائیوروں، عام مزدوروں، بے زمین مزارعوں، ناپختہ طالب علموں پر مشتمل ہونے کا مضحکہ اڑانے میں مصروف تھے۔

بھٹو نے پورے ملک کے دورے شروع کر دیے۔ وہ چھوٹے چھوٹے دیہاتوں میں گئے اور ایسے قصبوں میں پہنچے جہاں ان سے پہلے کبھی کوئی لیڈ رنہ گیا تھا۔ بڑے شہروں کی ان آبادیوں میں ان کے قدم پہنچے جہاں کبھی کسی نام نہاد لیڈر کو جانے کی توفیق نہ ہوئی تھی۔ بھٹو نچلے طبقے کے غریب عوام تک پہنچے اور انہوں نے بھٹو کو اپنی باہوں کے حصار میں لے لیا۔ وہ ان میں سے ایک بن گئے۔ وہ ان کی اذیت کو، دل شکنی کو، پارہ پارہ خوابوں کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ کیوں زندگی انہیں چھوڑ کر آگے نکل گئی ہے۔ وہ اس بے رحم دنیا میں ان کے خوف کو اچھی طرح سمجھ سکتے تھے جہاں خوشحالی کے ثمرات ان کی جھولی میں ڈالنے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ وہ ان کی بے بسی اور دنیا سے ان کے کٹ جانے کو سمجھتے تھے۔ وہ ان سے گفتگو کرتے تھے اور سب کی سمجھ میں آتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ عوام جانتے تھے کہ بھٹو انہیں آمریت سے نجات دلائیں گے اور ان کی زندگیوں کو سورج کی سنہری روشنی سے بھر دیں گے۔ بھٹو ان سے استحصال اور ناانصافی کے متعلق گفتگو کرتے۔ وہ انہیں بیس خاندانوں کی معاشی اجارہ داری کے متعلق بتاتے۔ وہ انہیں بتاتے کہ کیوں ان کے بچے سکول نہیں جا سکتے، ان کے بیماروں کو ہسپتال میں جگہ نہیں ملتی اور کیوں روشنیوں کے شہر میں، امراء کی روشنی میں، ان کی بیٹیوں کے لئے شادی کی گھنٹیاں نہیں بجتیں۔ بھٹو نے انہیں بتایا اور سب جان گئے کہ جب ساری دنیا میں خوشحالی پھیل رہی ہے تو ہمیشہ غربت کے قعر مذلت میں پڑے رہنا ان کی تقدیر نہیں۔

9 جنوری کو انہوں نے ملتان بار سے خطاب کیا۔ انہیں قاسم باغ ملتان میں بھی تقریر کرنا تھی لیکن ان کی تقریر کے دوران ہنگامہ شروع ہو گیا اور پولیس کے علاوہ چند نامعلوم افراد کی کارستانیوں کے نتیجے میں کئی لوگ زخمی ہو گئے۔ ان افراد کو یقینا حکومت نے بھیجا تھا۔ ساہیوال میں 21 جنوری کو انہوں نے ایک عظیم اجتماع سے خطاب کیا۔ 23کو انہوں نے سرگودھا میں ایک عوامی جلسے میں تقریر کی۔ 24 کو چوہڑ کاہنہ (شیخوپورہ) میں، 25 کو فیصل آباد میں پہلے بار ایسوسی ایشن میں اور پھر 26 کو موسلادھار بارش کے دوران ایک عظیم عوامی جلسے کے سامنے تقریر کی۔ 27 جنوری کو وہ گجرات پہنچے اور بار سے خطاب کیا۔ 28 کو تیز بارش اور سخت سردی کے باوجود وہ لاہور پہنچے اور موچی گیٹ میں ایک وسیع و عریض مجمعے سے خطاب کیا۔ 29 کو انہوں نے لاہور کی خواتین کے سامنے تقریر کی۔ تاریخ وار ان سب واقعات کی تفصیل لکھنے سے میرا مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ ایک بڑا لیڈر بننا اور بنے رہنا کتنا مشکل کام ہے۔ بھٹو کے کئے ہوئے دوروں پر نگاہ ڈالئے۔ اسی جوش و جذبے کے ساتھ انہوں نے فروری اور مارچ میں سندھ میں یہی سلسلہ جاری رکھا، تقریباً تمام بار ایسوسی ایشنز، ورکرز، کنونشنز اور بڑے بڑے عوامی جلسوں سے خطاب کیا۔ اپریل کا مہینہ انہوں نے ایسی ہی سرگرمیوں میں مشرقی پاکستان میں گزارا۔ مشرقی پاکستان سے واپسی پر انہوں نے اسی انداز میں ملک کے دوسرے حصوں کے دورے شروع کر دیے۔ 21 ستمبر 1968ء کو حیدر آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے تمام کارکنان کا ایک کنونشن بلایا گیا اور اکتوبر میں انہوں نے سرحد کا دورہ کیا جہاں 25 اکتوبر کو انہوں نے کوہاٹ میں ایک جلسے سے خطاب کیا، 26 کو ورکرز کنونشن سے اور 27 کو چار سدہ میں ایک جلسہ منعقد کیا، 28 کو انہوں نے لائوڈ سپیکرز کے بغیر پشاور میں ایک جلسے میں تقریر کی، 29 کو ایبٹ آباد میں، 30 کو مانسہرہ اور کیمبل پور (موجودہ اٹک) میں۔ یکم نومبر کو ڈیرہ اسماعیل خان کے دورے کے دوران ان پر ایک مرتبہ پھر حملہ ہوا اور انہیں روکنے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے بڑی دلیری سے مزاحمت کرتے ہوئے پیش قدمی جاری رکھی۔ 3 نومبر کو شیرپائو میں پاکستان پیپلز پارٹی سرحد کا کنونشن منعقد ہوا اور 5 نومبر کو بھٹو نے پشاور میں تالیوں کی زبردست گونج میں ایک وسیع جلسہ عام سے خطاب کیا۔ اس کے بعد شروع ہونے والا دور ایسے واقعات کے تسلسل سے پُر ہے جو ایک قوم کی تشکیل کرتے ہیں۔

3 نومبر 1968ء کو، دریائے سندھ پر تعمیر ہونے والے تربیلا ڈیم کے ایوب خان کے ہاتھوں تاریخی افتتاح سے ایک روز پہلے، اٹک کے نزدیک جی ٹی روڈ سے تربیلا ڈیم کی طرف جانے والی سڑک پر، چیک پوسٹ پر کسٹم کے اہلکاروں اور طلبہ کے درمیان ایک جھگڑا ہو گیا۔ گورڈن کالج راولپنڈی کے کچھ طلبہ ٹور کر کے واپس آ رہے تھے۔ ٹور کے دوران انہوں نے کچھ اشیاء خریدی تھیں۔ یہ اشیاء چیک پوسٹ پر ضبط کر لی گئیں۔ اس کے علاوہ ان میں سے زیادہ تر کے خلاف ایک مقدمہ بھی بنا دیا گیا۔ 7 نومبر کو بھٹو کے استقبال کے لئے آنے والے پولی ٹیکنیک کالج کے طلبہ کے آ ملنے سے یہ طلبہ تشدد پر اتر آئے۔ حسب معمول پولیس حرکت میں آئی اور پولیس فائرنگ کی زد میں آ کر عبدالحمید نامی ایک طالب علم جاں بحق ہو گیا۔ 8 نومبر کو طالب علموں نے حکومت کے خلاف مظاہرے شروع کر دیے جو پولیس کے قابو سے باہر ہو گئے۔ شہر میں کرفیو لگا دیا گیا اور تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے۔ 9 ستمبر کو کراچی، لاہور، پشاور اور کئی دیگر شہروں کے طلبہ نے راولپنڈی کالج کے طلبہ کی حمایت میں جلوس نکالے۔ انہوں نے یونیورسٹی آرڈیننس کے اٹھائے جانے کا مطالبہ بھی کیا۔ اسی روز راولپنڈی میں دو مزید نوجوان پولیس فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے۔ اگلے روز 10 نومبر کو محمد ہاشم نامی ایک شخص نے صدر ایوب خان پر پشاور میں جلسہ عام کے دوران گولی چلا دی اور گرفتار ہو گیا۔ 8 نومبر کو راولپنڈی کی انتظامیہ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے تقریباً پچاس لیڈروں اور ورکرز کو گرفتار کر لیا۔ ان ہنگاموں میں بھٹو تیزگام کے ذریعے 9 نومبر کو پنڈی سے لاہور کے لئے روانہ ہو گئے۔ تمام اسٹیشنوں پر ایوب حکومت کے خلاف مظاہرے کرتے ہوئے ہزاروں لوگوں نے ان کا استقبال کیا۔ لاہور کا اسٹیشن عوام خصوصاً طلبہ سے بھرا ہوا تھا، لوگ نعرے لگا رہے تھے اور پولیس کے لاٹھی چارج کا مقابلہ کر رہے تھے، پولیس کی بھاری نفری وہاں پہنچ گئی اور ریلوے اسٹیشن کا پورا علاقہ نرغے میں لے لیا۔ ٹرین ڈھائی گھنٹے لیٹ پہنچی۔ بھٹو نے اپنے دورے کے دوران ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن لاہور سے خطاب کیا۔ انہوں نے کارکنوں کے اجتماعات بھی منعقد کئے۔ 12 نومبر کو ینگ لائیرز سرکل نے ان کے اعزاز میں لاہور کے دانشوروں، طلبہ اور سیاسی کارکنوں کے مرکز اور جائے ملاقات چائنیز لنچ ہوم میں ایک استقبالیہ دیا۔ بھٹو کی تیز نقل و حرکت اور ہر جگہ عوام کے بڑے بڑے اجتماعات نے حکومت کو چکرا کر رکھ دیا۔ 13 نومبر کی رات دفعہ 33(i) B کے تحت حکومت نے لاہور سے بھٹو کو گرفتار کر لیا اور انہیں سنٹرل جیل میانوالی بھیج دیا گیا۔ پوری دنیا کے نیوز میڈیا نے ان کی گرفتاری کو خبر کو نمایاں انداز میں شائع کیا۔ برطانیہ کے اخبار گارجین نے شہ سرخی اور مرکزی ادارتی شذرے کے طور پر لکھا۔ ’’کیا ایوب خان نے اپنے جانشین کو گرفتار کر لیا ہے؟‘‘ فیچر رائٹر نے بھٹو کا موازنہ غریبوں اور نچلے طبقات کے حقوق کے لئے جدوجہد کے حوالے سے پنڈت جواہر لعل نہرو سے کیا۔ بیگم بھٹو نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی۔ ہائی کورٹ تک انہیں ایک جلوس کی شکل میں لے جایا گیا۔ وہ ایک ٹانگے میں بیٹھی ہوئیں مال روڈ پر جلوس کی قیادت کر رہی تھیں۔ ان کے ساتھ طلبہ لیڈروں اور سینکڑوں لوگوں کا جم غفیر تھا جو ان کے ساتھ ساتھ ہائی کورٹ کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے۔ ٹائم میگزین نے ان واقعات کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور پیش گوئی کی کہ ’’مسٹر بھٹو، جن کے پروگرام میں نیشنلزم اور سوشلزم ایک ساتھ موجود ہیں، زیادہ روشن مستقبل رکھتے ہیں کیونکہ ان کی عمر صرف چالیس سال ہے اور ان کی مقبولیت روز بروز بڑھ رہی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ایوب خان کی عمر 61 سال ہے اور ان کی مقبولیت روز بروز کم ہو رہی ہے۔‘‘

طلبہ تحریک بتدریج ملک کے دونوں بازوئوں میں پھیل گئی۔ کوئی ایک بھی تعلیمی ادارہ ایسا نہ رہا جو اس تحریک میں شامل نہ ہو۔ لاہور میں اگرچہ تمام تعلیمی ادارے بند تھے لیکن طلبہ نے ہوسٹل چھوڑنے سے انکار کر دیا اور روزانہ سڑکوں پر حکومت کے خلاف طلبہ کے احتجاجی جلوس نکلتے رہے۔ پھر وکلاء اور بار ایسوسی ایشنز نے مختلف شہروں میں عدالتوں کے اندر اور باہر ریلیاں منعقد کرنا شروع کر دیں۔ آگے چل کر حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں نے ایوب خان کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے لئے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے ایک اتحاد بنایا جس کے زیر اہتمام مغربی پاکستان کے کئی شہروں میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے منعقد کئے گئے۔ سرحد میں پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی نے مشترکہ جلوس نکالے اور دسمبر 1968ء میں ڈھاکہ میں صحافیوں نے سخت گیر پریس قوانین کے خلاف پہلا مظاہرہ منعقد کیا۔ 7 دسمبر 1968ء کو حزبِ اختلاف کے اراکین نے ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران، اسمبلی میں ملکی بدامنی پر بحث کی اجازت نہ ملنے پر، اسمبلی کی عمارت کے باہر ایک واک کا اہتمام کیا۔ اس روز ایوب خان بھی ڈھاکہ میں موجود تھے۔

13 دسمبر کو مشرقی پاکستان کے تمام شہروں میں ہڑتال ہوئی۔ اسی روز سے لاہور کے طلبہ اور وکلاء نے وقتاً فوقتاً مشترکہ جلوس نکالنے شروع کر دیے۔ 28 دسمبر کو پاکستان پیپلز پارٹی نے اگلے صدارتی انتخابات کے لئے بھٹو کو امیدوار نامزد کرنے کا اعلان کر دیا۔ جماعت اسلامی اور پی ڈی ایم کی چند دوسری جماعتوں نے اس نامزدگی کی مخالفت کی۔ اس دوران بھٹو کو ساہیوال جیل منتقل کر دیا گیا۔ اور 7 جنوری 1969ء کو عدالت کے حکم پر انہیں لاہور جیل لے آیا گیا۔ کیمپ جیل لاہور میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک سپیشل بنچ نے جیل کے اندر بیگم نصرت بھٹو کی دائر کردہ رٹ پٹیشن پر کارروائی کا آغاز کیا ۔ یہ کارروائی 9 سے 15 جنوری تک جاری رہی۔ اس کے بعد 4 فروری سے لے کر 12 فروری تک ایک مرتبہ پھر اس کی سماعت ہوئی۔ بھٹو نے تمام حقائق کا ایک حلف نامہ داخل کیا۔ اپنے حلف نامے میں انہوں نے جیل کے اندر بدترین رہائشی سہولیات کا تذکرہ کیا اور ان حربوں کے متعلق بھی بتایا جو انہیں اذیت دینے کے لئے آزمائے گئے۔ عدالت کے حکم پر 11 فروری کو بھٹو کو جیل سے نکال کر لاڑکانہ میں ان کے گھر میں نظربند کر دیا گیا۔ 12 فروری کو وہ لاڑکانہ پہنچے۔ 13 فروری 1969ء کو نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد بھٹو نے بھوک ہڑتال کا آغاز کر دیا۔ پورے پاکستان میں سینکڑوں پارٹی ورکروں اور سیاسی عقیدت مندوں نے ان کے اس اقدام کی پیروی کی۔ اس سے اگلے روز حکومت نے انہیں رہا کر دیا۔ لاڑکانہ میں بھٹو کے زیر قیادت ایک عظیم الشان اجتماع کا اہتمام ہوا۔ میونسپلٹی کے نزدیک کسی نے ان پر گولی چلانے کی کوشش کی لیکن لوگوں نے اسے پکڑ لیا۔ اس دوران ڈھاکہ میں 8 جنوری کو حزبِ اختلاف کی 8 پارٹیوں نے مل کر پی ڈی ایم کے سربراہ نواب زادہ نصر اللہ خان کے زیر قیادت ڈیموکریٹک ایکشن کمیٹی کے نام سے پاکستان میں جمہوریت کی جدوجہد کرنے کے لئے اتحاد بنایا۔ 18 فروری کو بھٹو کے کراچی پہنچنے پر ایک بڑے جلوس کی ہمراہی میں انہیں مزارِ قائداعظم پر لے جایا گیا۔ اس شام انہوں نے کراچی پریس کلب میں صحافیوں سے خطاب کیا۔ اس دوران لاہور اور دیگر شہروں میں طلبہ کے مظاہرے مسلسل جاری تھے۔ اب مزدور بھی اپنے مطالبات لے کر اس تحریک میں شامل ہو چکے تھے۔ سب سے پہلے نیشنل بنک ایمپلائز یونین آگے آئی۔ اس کے بعد پاکستان ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین شامل ہوئی۔ پی ڈبلیو آر کے ورکرز کی شمولیت کے بعد تحریک کی رفتار میں اور اضافہ ہو گیا۔ 19 فروری 1969ء کو ایوب خان نے حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے ساتھ ایک گول میز کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا۔ شیخ مجیب الرحمن نے جیل سے اس کانفرنس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا اور مطالبہ کیا کہ اگرتلہ کیس واپس لیا جائے۔ بھٹو نے بھی شیخ مجیب الرحمن کی رہائی تک کانفرنس میں شریک ہونے سے انکار کر دیا۔ ایوب نے کانفرنس ملتوی کر دی۔ اسی روز کراچی میں کرفیو میں توسیع کر دی گئی۔ 21 فروری کو ایوب خان نے قوم سے خطاب کے دوران اعلان کیا کہ وہ اگلے صدارتی انتخابات میں کھڑے نہیں ہوں گے۔

22 فروری کو اگرتلہ سازش کیس واپس لے لیا گیا اور شیخ مجیب الرحمن کو رہا کر دیا گیا۔

24 فروری 1969ء کو بھٹو ڈھاکہ کا دورہ کرنے کے بعد لاہور ایئرپورٹ پر پہنچے۔ ہزاروں افراد کے جم غفیر نے ان کا استقبال کیا اور جلوس کی صورت میں انہیں ایک ٹرک پر مال روڈ کی طرف لے جایا گیا۔ اس روز جلوس کے اختتام پر انہوں نے اپنا اعزاز ’’ہلالِ پاکستان‘‘ جو انہیں وزیر خارجہ کی حیثیت سے شاندار کارکردگی دکھانے پر دیا گیا تھا، ایوب حکومت کو واپس کر دیا۔ 25 فروری کو انہوں نے موچی گیٹ لاہور میں ایک بڑے عوامی اجتماع کا انعقاد کیا اور گول میز کانفرنس میں شرکت کے لئے اپنی شرائط پیش کیں۔ گول میز کانفرنس کا انعقاد 26 فروری کو ہوا، بھٹو نے اس میں شرکت نہ کی اور کانفرنس کو ایک مرتبہ پھر 10 مارچ تک مؤخر کر دیا گیا۔ 26 فروری کو بھٹو نے لیاقت باغ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ایوب خان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ 8 جون کو بہاولپور میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ اگر ایوب خان صدارت سے مستعفی ہو جائیں تو وہ گول میز کانفرنس میں شریک ہونے کے لئے تیار ہیں۔ 10 مارچ کو گول میز کانفرنس منعقد ہوئی، بھٹو اور مولانا بھاشانی نے اس میں شرکت نہ کی۔ 13 تاریخ کو ڈی اے سی الائنس ختم ہو گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مولانا بھاشانی کی این اے پی نے 16 مارچ کو مستقبل کے لئے ایک نیا اتحاد بنایا۔ بالآخر ایوب خان نے اقتدار چیف آف آرمی سٹاف یحییٰ خان کے حوالے کر دیا جس نے 25 مارچ 1969ء کو ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ مارشل لاء کے نفاذ کے بعد، 31 مارچ کو عہدئہ صدارت سنبھالتے ہی یحییٰ خان نے تمام سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی۔ سرگرمیوں کے مرکز اور بنیادی قوت فراہم کرنے والے تعلیمی ادارے تھے۔ یحییٰ خان نے دھونس دھاندلی اور پیار پچکار سے طلبہ پر اثرانداز ہونا چاہا۔ بذاتِ خود اس نے جماعت اسلامی کی ذیلی جماعت اسلامی جمعیت طلبہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور اپنی چاہت کا اظہار ایک سرکاری تقریب میں اپنی وردی پر اسلامی جمعیت طلبہ کا لوگو لگا کر کیا۔ اس طرح تعلیمی اداروں میں ترقی پسند طلبہ اور عمومی سیاست میں بھٹو کی سرگرمیوں کو انتظامیہ کے ذریعے دبانے کی کوشش شروع کر دی گئی۔ ترقی پسند پلیٹ فارم سے منتخب ہونے والے تمام طلبہ عہدیداران کو دھمکی آمیز اور ادارے سے نکال دیے جانے والے انتباہات کے خطوط بھیجے گئے لیکن بھٹو نے ثابت قدم طلبہ یونینوں، بار ایسوسی ایشنز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے ساتھ اپنے روابط کا سلسلہ جاری رکھا۔ اپریل میں انہوں نے سیلاب کے دوران مشرقی پاکستان کا دورہ کیا۔ مئی کے اوائل میں انہوں نے کیمبل پور (اٹک) بار سے خطاب کیا جبکہ جون میں لاہور میں انہوں نے پیپلز پارٹی کے ورکرز سے روم میٹنگز کا سلسلہ شروع کر دیا۔ جون میں انہوں نے سیاسی موضوعات پر حیدر آباد بار ایسوسی ایشن سے خطاب کیا اور جولائی میں ڈیرہ اسماعیل خان اور پشاور کا دورہ کیا۔ جولائی کے اواخر میں یحییٰ خان نے محدود سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دے دی اور بھٹو نے جیکب آباد میں ایک جلسہ عام کا انعقاد کیا۔ اگست میں انہوں نے پہلے مشرقی پاکستان میں اور پھر ناظم آباد کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کنونشن کا اہتمام کیا۔ ستمبر میں وہ بیرون ملک گئے اور کئی ملکوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کی شاخیں قائم کیں اور بریڈ فورڈ میں پاکستانی کمیونٹی کے زیراہتمام ایک عظیم الشان جلسے کا انعقاد کیا۔ نومبر میں پاکستان پہنچ کربھٹو نے کراچی سے رابطہ عوامی مہم کا آغاز کیا اور پنجاب کے شہروں کا دورہ کیا جہاں ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا اور حکومت نے گھبراہٹ کے عالم میں ملتان کے نزدیک ان پر حملہ کروا دیا۔ ان کے چند ساتھی انہیں بچاتے ہوئے زخمی ہوگئے۔ بہرحال، انہوں نے اپنی جدوجہد جاری رکھی اور بہاولپور میں کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کیا۔ اپنے اطمینان اور اپنے سامعین کی حوصلہ افزائی حاصل کرنے کے لئے وہ پاکستان کے ایسے ایسے دور دراز دیہاتوں میں گئے جہاں اس سے پہلے کسی لیڈر کے قدم نہیں پہنچے تھے۔ یہاں تک پہنچنے کے انہوں نے ہر دستیاب ذریعۂ نقل و حمل استعمال کیا بشمول بیل گاڑیوں اور چھکڑوں کے۔

انتخابی سال کی حیثیت سے 1970ء کا آغاز سیاسی سرگرمیوں سے پابندی اٹھانے سے ہوا اور بھٹو نے نشتر پارک کراچی میں 4 جنوری کو ایک عظیم الشان جلسہ منعقد کرنے کے بعد 11 جنوری کو راولپنڈی میں ایک زبردست پبلک ریلی کا اہتمام کیا۔

ان سیاسی سرگرمیوں کے شانہ بشانہ تمام تعلیمی اداروں کے طلبہ کی سرگرمیاں بھی جاری تھیں۔ ہر روز زیادہ سے زیادہ طلبہ بھٹو کی سرگرمیوں کے مقامات پر پہنچ کر ان کے ساتھ شامل ہو رہے تھے۔ زیادہ تر بڑے تعلیمی اداروں میں انتخابات کے انعقاد کا اعلان کر دیا گیا، یونیورسٹی آرڈیننس اٹھا لیا گیا اور تمام یونیورسٹیوں میں یونینز پر پابندی ختم کر دی گئی۔ ایک سال بعد منعقد ہونے والے عام انتخابات کے دوران یحییٰ خان نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چند لیڈروں اور ورکروں مثلاً رانا مختار، مولانا کوثر نیازی، ملک غلام نبی وغیرہ کو گرفتار کر کے بھٹو کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی لیکن بھٹو کی جدوجہد اس انداز میں جاری رہی کہ پاکستانی سیاست میں کوئی لیڈر آج تک اس انداز کو اپنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ انہوں نے جیل میں پڑے ہوئے لیڈروں کو بھی ٹکٹ دے دیے جو جیل میں ہی الیکشن جیت گئے۔ ان کی رفتار بے حد تیز تھی۔ فن سیاست میں انہیں غایت درجے کی مہارت حاصل تھی اور وہ پوری طرح تجربہ کار بھی تھے۔ انہیں کسی کی سرپرستی کی ضرورت نہ تھی۔ وہ سب کے سرپرست تھے کیونکہ سارے ارتقائی مراحل سے گزر کر اس مرتبے تک پہنچے تھے۔ مزاج کے اعتبار سے فارغ بیٹھنا ان کے لئے ممکن نہ تھا۔ قائداعظم کی طرح ان کا قول بھی کام، کام اور کام تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے میدان میں موجود سارے ایسے سیاستدانوں کو شکست سے دوچار کر دیا جو ان کی آمد سے کہیں پہلے سے خارزارِ سیاست میں قدم رکھ چکے تھے۔ انہوں نے اپنے آپ کو اس لیڈر شپ کا حقیقی معنوں میں مستحق ثابت کیا۔ سابق صدر امریکہ جان ایف کینیڈی نے ایک موقعے پر بھٹو سے کہا کہ اگر وہ امریکہ میں پیدا ہوئے ہوتے تو کابینہ کے وزیر بن جاتے۔ بھٹو نے خوشگوار لہجے میں جواب دیا۔ ’’میں آپ کی جگہ بھی لے سکتا تھا۔‘‘

بقول چرچل ’’سیاست بھی جنگ کے جیسی ہیجان خیز ہے اور ویسی ہی خطرناک بھی۔‘‘ پاکستان کی روایتی سیاست میں، سیاسی جماعتوں اور لیڈروں کا یہ کلچر کبھی نہیں رہا کہ اپنے عقائد و تصورات کو عملی شکل میں پیش کرنے کے لئے ایسے تھکا دینے والے انداز میں کام کریں۔ بہت کم سیاسی لیڈر اتنی قوتِ کار کے مالک ہوتے ہیں۔ ونسٹن چرچل کو ایسا ایک لیڈر قرار دیا جا سکتا ہے۔ بیسویں صدی کے اوائل میں جب برصغیر میں سیاسی جماعتوں کا جنم ہوا، تو ان کے کارپردازان ڈرائنگ رومز میں ملاقاتیں کیا کرتے تھے، ان کا کنونشن سال میں صرف ایک دفعہ منعقد ہوتا جس میں وہ اپنے اہم فیصلوں اور آئندہ راہِ عمل کا ہلکا پھلکا تعین کیا کرتے تھے۔ 1934ء تک مسلم لیگ کا اجلاس بھی سال میں ایک ہی دفعہ ہوتا تھا۔ اس سے قطع نظر، صرف مقامی سطح پر سرگرمیاں جاری رہتیں اور فیصلے کئے جاتے۔ عوام اور ان کے مسائل کے ساتھ ان کا تعامل بہت ہی کم تھا۔ 1937ء کے انتخابات میں قائداعظم، جو پہلے سیاسی لیڈر تھے، لیگ کو گلیوں میں لے گئے اور عوام کے ساتھ ہم آہنگی قائم کی کیونکہ انہیں یقین تھا کہ اگر یہ ضرورت پوری نہ کی گئی تو شاید مسلمانانِ ہند اپنی جنگ آزادی ہار جائیں۔ قائداعظم کے بعد بھٹو دوسرے لیڈر تھے جو سیاست کو چند افراد کی غلام گردشوں سے نکال کر عام آدمی کے دروازے تک لے گئے۔ اس راہ میں انہوں نے بہت سے عوامی جلسوں سے خطاب کیا، بار ایسوسی ایشنز کے سامنے تقریریں کیں، پاکستان پیپلز پارٹی کے کنونشنز کا اہتمام کیا، جو روابط انہوں نے استوار کئے وہ پاکستان کے سیاسی لیڈر صرف خواب میں ہی بنا سکتے ہیں۔ عوامی خطابت کے فن میں مہارت رکھنے والے لیڈروں کو ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔ بھٹو کی تحاریر بڑی معنی خیز ہیں اور ان کے الفاظ کی خوبصورتی ان کے مقصد کی معروضیت سے اجاگر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر 13 اپریل 1978ء کو جبکہ وہ سزائے موت کی کوٹھڑی میں تھے اور ابھی سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی اپیل پر گفتگو کرنے کے لئے اپنے وکیل یحییٰ بختیار سے ان کی ملاقات نہ ہوئی تھی، کوٹ لکھپت جیل لاہور سے انہوں نے یحییٰ بختیار کو لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جو کہ آمر ضیاء کی طرف سے چیف الیکشن کمشنر بھی مقرر کئے گئے تھے،کے بارے میں لکھا۔ بھٹو نے لکھا۔ ’’عدالتی آراء اس قدر احمقانہ ہیں کہ صرف مارشل لاء حکومت کا مقرر کردہ چیف الیکشن کمشنر ہی ایسے حلقے کی حدود کا تعین کر سکتا تھا۔ اس نے عدل کو صداقت سے یوں الگ کیا جیسے وہ حقیقی مسلمانوں کو غیرمسلموں سے علیحدہ کر رہا ہو اور ان میں وہ مسلمان بھی شامل ہوں جنہیں وہ صرف نام کا مسلمان سمجھتا ہے۔‘‘

بہرحال، 1970ء کی طرف واپس چلتے ہیں، وہ سال جب عام انتخابات منعقد ہوئے اور مجھے جیل بھگتنا پڑی۔ بھٹو روزانہ بڑے بڑے جلسہ ہائے عام میں شرکت کر رہے تھے، بار ایسوسی ایشنز سے خطاب کر رہے تھے اور پریس کانفرنسز منعقد کر رہے تھے۔ ملک کے چھوٹے بڑے حصوں میں ان کی انتخابی مہم کے سلسلے میں کئی کئی میل لمبے جلوس نکل رہے تھے۔ ان سرگرمیوں کے دوران ان پر حملے بھی ہوئے، ان کے رفقاء کو گرفتار بھی کیا گیا اور ان کی جگہ دوسروں نے سنبھالی، ان کے علاوہ انہیں دھمکانے کے اور بھی کئی حربے اختیار کئے گئے۔ اس مہم کے دوران 113 سیاسی ملائوں نے مفاد پرست طبقے کے اشارے اور بھٹو کی سیاسی سرگرمیوں پر ان کے خلاف کفر کا فتویٰ جاری کیا۔ پاکستانی عوام نے ان کے فتوے کی دھجیاں اڑا دیں، ان کے علاوہ اعلیٰ سطح کے علماء کرام نے اس فتوے کی مخالفت کرتے ہوئے مدلل انداز میں اسے جھوٹا قرار دیا اور اعلان کیا کہ یہ ایک سیاسی فتویٰ ہے اور مذہبی اعتبار سے بے بنیاد۔ پاک و ہند کی تاریخ میں پیشہ ور ملائوں کی طرف سے جاری کیا جانے والا یہ ایسا تیسرا فتویٰ تھا۔ پہلا سرسید احمد خان کے خلاف جاری کیا گیا اور دوسرا قائداعظم کے خلاف۔ ان لوگوں نے قائداعظم کو کافر اعظم قرار دیا۔ اور یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جماعتوں اور افراد کے خلاف جاری کئے جانے والے ایسے تمام فتووں کو عوام نے ہمیشہ مسترد کر دیا۔

بھٹو کو یہ جنگ لڑنا تھی اور انہوں نے ایسی کئی گھٹیا کوششوں کو ناکام بنایا۔ وہ ان لوگوں کے خلاف لڑے جو انہیں اس لئے کافر اور دائرئہ اسلام سے خارج قرار دیتے تھے کہ وہ انصاف کی بات کرتے تھے، مساوات کی بات کرتے تھے، سوشلزم کی بات کرتے تھے۔ بھٹو نے ان کرائے کے مذہبی رہنمائوں اور بیہودہ جنونیوں کی مذمت کی جو اسلامی سوشلزم کو خدانخواستہ اسلام کی موت قرار دیتے تھے۔ پاکستانی سیاست میں، بعض مذہبی رہنما ہمیشہ اپنے سیاسی مفادات کے لئے اسلام کا نام استعمال کرتے چلے آئے ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی کبھی کامیاب نہیں ہو سکا۔ ایسی ہی ایک کوشش انتخابی سال 1970ء میں بھی کی گئی۔ یکم مئی کو یومِ مزدور کے سلسلے میں، مزدور طبقات کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے لئے بھٹو کو لاہور میں ایک جلوس کی قیادت کرنا تھی۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے جماعت اسلامی اور اس کے اتحادیوں نے 30 اپریل کو ’’یومِ شوکت اسلام‘‘ قرار دے کر یومِ مزدور سے ایک دن پہلے اپنے ایک جلوس کا اہتمام کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ اسلام کے نام پر چھوڑا جانے والا ایک نیا شوشہ تھا جس کے متعلق لوگوں نے نہ اس سے پہلے کبھی سنا تھا، نہ اسلامی تاریخ میں اس کی کوئی مثال موجود تھی اور نہ اس کے بعد دنیا کے کسی حصے بشمول پاکستان میں ایسا کوئی دن منایا گیا۔ لہٰذا عام پبلک نے اس دن میں کوئی دلچسپی نہ لی اور یہ صرف ملائوں کا شو ثابت ہوا۔ دوسری طرف یکم مئی کو بھٹو کا جلوس اتنا بڑا تھا کہ تمام مزدور یونینز اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بڑے جوش و خروش سے اس میں شرکت کی اور پورا اندرون لاہور ہر طرف سے آئے ہوئے ہزاروں لوگوں سے کھچا کھچ بھر گیا۔ بھٹو کا اوج قابل دید تھا۔ 1970ء کے عام انتخابات کے دن تک، جب انہوں نے پورے مغربی پاکستان میں انتخابی حریفوں کا صفایا کر دیا، ان کے دشمن انہیں مٹھی بھر نشستوں سے زیادہ کا کریڈٹ دینے کو کسی صورت تیار نہ تھے۔ بھٹو نے ان سب کو غلط ثابت کر دیا۔

پورے 1970ء کے دوران، بھٹو نے ایک دن بھی ضائع نہ کیا۔ انہوں نے سیاسی سرگرمیوں کو منظم کیا، بڑے بڑے جلسہ ہائے عام اور جلوسوں کا اہتمام کیا، بار ایسوسی ایشنز اور استقبالیوں سے خطاب کیا۔ ہر روز ایک سے زائد جگہوں پر ان کا خطاب ہوتا تھا۔ انسانی اعتبار سے یہ ناممکن نظر آتا ہے لیکن انہوں نے مسلسل محنت اور لگن سے پورے ملک کے نان سٹاپ دورے کئے مثلاً 4 جنوری 1970ء کو کراچی میں جلسہ عام، 7 جنوری کو بار ایسوسی ایشن سے خطاب، 11 جنوری کو راولپنڈی میں، 14 سے 17 تک پیودن، تھارو شاہ، مرو میں، 17 جنوری کو پھر کراچی، 18 سے 20 تک پشاور/سرحد، 21 تا 23 جنوری گوجر خان، دینہ، جہلم، میرپور، سرگودھا، سیالکوٹ، سادھوکے، فیصل آباد وغیرہ۔ انہوں نے یہاں پر عوامی اجلاس منعقد کئے اور جمہوریت، بنیادی حقوق اور سیاسی صورتِ حال پر تقریریں کیں۔ اسی طرح فروری میں انہوں نے سندھ اور سرحد کے دورے کئے۔ یہی سرگرمیاں مارچ میں جاری رہیں اور انہوں نے پنجاب کے دورے شروع کر دیے۔ جہلم، سرائے عالمگیر، جنڈوالا ، لالہ موسیٰ میں جلسہ ہائے عام ہوئے اور آخر میں گجرات میں ہارس شو گرائونڈ میں ایک بہت بڑا جلسہ منعقد کیا گیا۔ 2 مارچ کو انہوں نے حافظ آباد میں ایک جلسے سے خطاب کیا، 3 کو لاہور پریس کلب میں تقریر کی، 5 کو کراچی کے پریس کلب میں، 7 کو لاہور میں طلبہ برادری سے خطاب کیا۔ 8 مارچ کو پورا لاہور ایک دفعہ پھر ان کے اعزاز میں موچی گیٹ میں اکٹھا ہوا جہاں انہوں نے مسلسل تین گھنٹے تقریر کی۔ 11 کو انہوں نے فیصل آباد اور دیگر شہروں میں مارشل لاء حکومت کی طرف سے پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈروں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کے لئے اکٹھے ہونے والے کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کیا۔ 22 سے 30 تک انہوں نے سندھ گھرو، کوٹھری، بدین، میرپور خاص، عمر کوٹ، ٹنڈو الٰہ یار، ٹنڈو آدم میں جلسوں اور تقریروں کا سلسلہ جاری رکھا اور 30 کو شہدا پور میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا۔ 31 کو وہ سنگھر کے لئے روانہ ہوئے جہاں مسلح افراد نے ان پر حملہ کیا اور وہ بال بال بچے۔ اسی شام انہوں نے حیدر آباد میونسپل پارک میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کیا۔

یہ ان عوامی خطبات اور اس محنت کی چند جھلکیاں ہیں جو انہوں نے 1970ء میں عوام کو ان کی اپنی حکومت دلوانے کے لئے کی۔ اپنی محنت اور جوش و جذبے سے انہوں نے پورے معاشرے کو سیاسی رنگ میں رنگ دیا۔ ان سے پہلے یا بعد، پاکستان میں کوئی سیاسی لیڈر یہ کارنامہ انجام نہیں دے سکا۔ وہ تاریخ کی پیداوار تھے۔ ان کا ظہور مسلسل سیاسی عمل اور ان کی سخت محنت کا ایک منطقی اور فطری نتیجہ تھا۔ 1970ء کے انتخابات کے انعقاد تک وہ بلا تعطل اسی رفتار کے ساتھ کام کرتے رہے۔ ہم اپریل 19 سے 29 تک سرحد میں ان کی سرگرمیوں پر مزید ایک نظر ڈالتے ہیں۔ اس عرصے میں انہوں نے کیمبل پور، ایبٹ آباد، مانسہرہ، صوابی، چارسدہ، ہتیا اور شاہ منصور میں عوامی جلسوں سے خطاب کیا۔ سرحد کا دورہ مکمل کرنے کے بعد انہوں نے راولپنڈی میں ایک جلسہ عام کا اہتمام کیا۔ 1970ء میں انہوں نے اپنی تمام تقاریر میں پاکستانی عوام کے سامنے سیاسی سرگرمی، خطابت، دلیری، ذہانت، فلاسفی اور منطق کی بہترین شکل پیش کی۔ وہ تمام محاذوں پر اپنے سیاسی دشمنوں کے ساتھ لڑے اور اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ افراد اور میڈیا میں ان کے حمایتیوں کا مقابلہ کیا۔ کڑی مشقت کے ان دنوں میں وہ اپنا ذاتی اخبار ’’مساوات‘‘ نکالنے کا بھی اہتمام کرتے رہے۔ 7-7-1977 کو اس اخبار کی پہلی اشاعت منظر عام پر آئی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ پاکستان کے مقبول ترین اخباروں میں شامل ہو گیا۔

بھٹو نے عوام سے قوت حاصل کی۔ انہوں نے مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ نوجوان کارکنوں کو پارٹی کے ٹکٹ دیئے۔ انہوں نے ورکنگ کلاس سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کو پارٹی ٹکٹ دے کر نچلے طبقات کے ساتھ اپنی سیاست بانٹی۔ یہ لوگ بغیر پیسہ خرچ کئے انتخابات میں کامیاب ہوئے اور پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ کے لئے افلاس زدہ عوام کے دلوں میں اتر گئی۔ پہلی مرتبہ پاکستان کی سیاست میں ایک ایسی کھڑکی کھلی جو گلی کے عام آدمی کو اس کی قوت کا احساس دلاتی ہوئی اور اس میں سیاسی شراکت کا شعور پیدا کرتی ہوئی نظر آتی تھی۔ بھٹو سے کمتر کوئی فرد یہ کارنامہ انجام نہیں دے سکتا تھا۔ انہوں نے عام آدمی کو جاگیرداروں اور انفرادی سیاسی وڈیروں کو ان کے اپنے میدان میں شکست دینے کے قابل بنانے کے لئے ساڑھے چار سال تک دن رات کام کیا اور بہ حیثیت مجموعی اعلیٰ طبقات کو مجبور کر دیا کہ اگر وہ پاکستانی سیاست میں داخل ہونا چاہتے ہیں تو غریب آدمی کے دروازے پر جا کر اس سے حمایت کی بھیک مانگیں۔ یہ وہ سیاسی اثاثہ ہے جو انہوں نے عوام کو دیا، ان کے ووٹ کی طاقت اور ان کی وقعت کا احساس۔ وہ اپنے مشن کو پورا کرنے کے لئے تندہی سے کام کر رہے تھے تاکہ غریب طبقے کو سماجی اور معاشی انصاف فراہم ہو سکے۔ ان کے حلیف اور حریف، ہر دو طرح کے سیاستدانوں اور مفکروں نے عام آدمی کو آگے بڑھانے میں ان کی جدوجہد کا اعتراف کیا ہے۔

مشرقی پاکستان کے بحران پر بحث کرتے ہوئے پیلو موڈی ’’زلفی مائی فرینڈ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’بچپن سے ہی ذوالفقار علی بھٹو ایک متحدہ پاکستان کا خواب دیکھتے چلے آئے تھے اور حالیہ واقعات ان کے اس خواب کو پارہ پارہ کرنے کی طرف گامزن تھے۔ ان حالات میں انہوں نے جو لائحہ عمل اپنایا وہ بالکل فطری اور قدرتی تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مجھے ان کے تحمل، برداشت اور صبر پر حیرت ہوتی ہے۔ اگرچہ وہ پاکستان کے اتحاد پر جنون کی حد تک یقین رکھتے تھے، اس کے باوجود مشرقی بازو کے عوام کے جائز غم و غصے کی طرف سے انہوں بالکل ہی آنکھیں بند نہ کر رکھی تھیں۔‘‘ بھٹو نے اپنی کتاب ’’عظیم المیہ‘‘ میں، جو 29 ستمبر 1971ء کو اس وقت شائع ہوئی جب یہ عظیم المیہ اپنے عروج کی طرف بڑھ رہا تھا، پیلو موڈی کے خیالات کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا:

’’میرے اور مجیب الرحمن کے درمیان پایا جانے والا اختلاف اصولی تھا۔ یہ متضاد مساواتوں کی ایک کشمکش تھی۔ مجیب الرحمن کے نزدیک مساوات خودمختار بنگال میں پوشیدہ تھی اور میرے نزدیک پاکستان کی بقاء میں۔‘‘ سقوطِ ڈھاکہ کے چار روز بعد، 20 دسمبر 1971ء کو عوامی غم و غصے نے یحییٰ خان کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا، اور ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے سب سے بڑے پارلیمانی گروپ کے منتخب سربراہ کی حیثیت سے نئے صدر بن گئے۔ تقدیر کی ستم ظریفی دیکھئے کہ اس وقت پاکستان میں کوئی آئین نہ تھا۔ بھٹو 13 سال میں آنے والے پہلے سویلین بنے جنہوں نے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے عہدئہ صدارت کا حلف اٹھایا۔ 13 سال میں وہ پہلے سویلین صدر تھے۔ قوم سے اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے مرتے دم تک اسی جوش و جذبے سے پاکستان کی خدمت کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

جون 1966ء میں ایوب خان سے راستے الگ کر لینے کے بعد بھٹو نے سیاست میں بے پناہ تجربہ حاصل کیا۔ اپنے اعلیٰ عہدے کی قربانی دے کر انہوں نے سیاسی عمل سے گزرتے ہوئے پاکستانی عوام کے ذریعے اس عہدے تک رسائی حاصل کرنے کا راستہ چنا۔ اپنی روزانہ سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہوئے بھی انہوں نے پاکستانی عوام کے ساتھ اپنا رابطہ برقرار رکھا۔ پاک و ہند کی تاریخ میں اور کسی لیڈر نے ایسی مصروف سیاسی زندگی نہیں گزاری۔ کسی لیڈر نے سیاسی تصورات کے ساتھ اپنے رومان کی خاطر اتنا وقت اور پیسہ صرف نہیں کیا اور اتنی بڑی قربانیاں نہیں دیں۔ پاکستانی لیڈر علم حاصل کئے بغیر، مقررہ وقت میں مقررہ عمل سے گزرے بغیر بہت کچھ حاصل کر لینے کی تمنا رکھتے ہیں۔ وہ راتوں رات ہر چیز حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور کوشش بھی کرتے ہیں۔

اقتدار میں آنے کے بعد بھٹو نے شیخ مجیب الرحمن کو رہا کر دیا۔ ان کے سامنے سب سے اولین کام بھارت کے جنگی قیدی بننے والے پاکستانی فوجیوں کی رہائی، قوم کے لئے ایک قابل قبول آئین کی تیاری اور پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور کا عملی اطلاق تھے۔ لہٰذا عہدئہ صدارت سنبھالنے کے بعد ابتدائی مہینوں میں سب سے پہلے انہوں نے اداروں کو قومیانے، عمومی معاشی پالیسی، مزدور، اراضی، تعلیم، صحت، پولیس اور عدلیہ میں اصلاحات کا کام شروع کر دیا۔ بڑے کاموں کو شروع کرنے میں تمام بڑے لیڈروں کے لئے اجتماعی اتفاقِ رائے حاصل کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ جنگی قیدیوں کی رہائی اور مقبوضہ رقبہ واگزار کرانے کے سلسلے میں بھارت کے ساتھ مذاکرات کرنے میں بھٹو نے نہایت شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، وہ تمام مذہبی مکاتب فکر، تمام سیاسی جماعتوں، سیاسی رہنمائوں، وکلاء، مزدور یونینز، طالب علم رہنما، دانشوروں، صحافیوں غرضیکہ ہر شعبہ کے نمائندوں سے ملے، قطع نظر ان کی سیاسی وابستگیوں اور ان کی وفاداریوں کے۔ انہوں نے سب کے ساتھ ان مسائل پر گفتگو کی اور ان سب کا اعتماد حاصل کر کے شملہ روانہ ہونے کی تیاری کی جہاں وزیراعظم ہندوستان اندرا گاندھی کے ساتھ جون 1972ء میں ان کی ملاقات طے تھی۔ اسی طرح پاکستان کا آئین بنانے کے لئے انہوں نے پارلیمنٹ میں بیٹھنے والے تمام رہنمائوں اور ان کی جماعتوں کو اعتماد میں لیا۔ انہوں نے ممتاز ماہرین قانون اور ججوں کو اعتماد میں لیا اور آئین کی تشکیل کے لئے کمیٹی قائم کی۔ وہ ایسا کرنے کے اہل تھے۔ 17 اپریل 1972ء کو انہوں نے مارشل لاء ختم کر دیا اور اسمبلی نے 14 اگست 1972ء تک کے لئے ایک عبوری آئین کی منظوری دے کر قومی اسمبلی کو آئینی اسمبلی میں بدل دیا۔

بھٹو 28 جون 1972ء کو ایک وفد کے ساتھ پاک بھارت اعلیٰ سطحی کانفرنس کے لئے شملہ پہنچے۔ کانفرنس کے انعقاد سے پہلے، ابتدایئے کے طور پر دونوں ملکوں کی حکومتوں نے ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈا بند کرنے پر اتفاق رائے کیا تاکہ مذاکرات کے لئے مناسب ماحول پیدا کیا جا سکے۔ کانفرنس میں ہندوستانیوں کو بالادستی حاصل تھی۔ وہ ایسا معاہدہ چاہتے تھے جو ہندوستان کے لئے فائدہ مند ہو۔ اس مقصد کے لئے 25 جون کو نئی دہلی میں سیاسی امور کی میٹنگ میں اندرا گاندھی نے سیاسی امور کی کمیٹی کے تمام ارکان سے درخواست کی کہ وہ کانفرنس کے موقع پر شملہ میں موجود رہیں تاکہ ضرور ت پڑنے پر فوری مشورہ کیا جا سکے۔

شملہ مذاکرات ناکامی کے واضح آثار کے ساتھ تقریباً اختتام کو پہنچ چکے تھے اور شرکاء اس امید میں گھر واپسی کی تیاریاں کر رہے تھے کہ شاید آگے چل کر کسی اور کانفرنس میں اس قضئے کو نمٹایا جا سکے۔ بھٹو نے وزیر خارجہ عزیز احمد کو حکومت ہندوستان کو اطلاع کرنے کی ہدایت کی کہ پاکستانی وفد واپس جانے کے لئے تیار ہے۔ غروبِ آفتاب سے کچھ دیر قبل بھٹو کو اندرا گاندھی کے ساتھ چائے پر ملاقات کرنا تھی اور وہ اس ملاقات میں اپنی ڈپلومیسی کو ایک دفعہ پھر آزمانے کا عزم کئے ہوئے تھے۔ حیرت انگیز طور پر، اس ملاقات میں بالآخر وہ اندرا گاندھی کو یہ سمجھانے میں کامیاب رہے کہ انہیں پوری قوم کا اعتماد حاصل ہے اور ان مذاکرات کی ناکامی دونوں ملکوں کے عوام کے لئے ضرر رساں ثابت ہوگی۔ پوری دنیا کے میڈیا نے ایک مرتبہ پھر بھٹو کی اہلیت، خصوصاً امورِ خارجہ میں ان کی مہارت کا اعتراف کیا۔ زیادہ تر کا تبصرہ یہ تھا کہ شملہ معاہدہ ایک ایسی دانشمندانہ تزویراتی حکمت عملی ہے جس کے ذریعے بھٹو نے پاکستان کو ہونے والی فوجی شکست کے جبڑوں سے سیاسی فتح کھینچ لی ہے۔ ہمایوں گوہر، اطالوی صحافی اوریانا فلاشی کے سامنے بھٹو کے مندرجہ ذیل الفاظ نقل کرتے ہوئے، اس تبصرے کی تصدیق کرتے ہیں۔ ’’سیاست میں کسی وقت آپ کو بے حد نرم اور لچک دار انگلیوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ کبھی آپ نے کسی پرندے کو انڈوں پر بیٹھے ہوئے دیکھا ہے؟ ایک سیاستدان کو ایسی نرم اور لچک دار انگلیوں کی ضرورت ہوتی ہے جنہیں وہ پرندے کے نیچے گھسا کر اس طرح انڈے نکال لے کہ پرندے کو اس کا احساس تک نہ ہو۔‘‘

اس معاہدے کے نتیجے میں پاکستان نے ہندوستان کے قبضے میں آیا ہوا تقریباً پانچ ہزار میل کا رقبہ واگزار کرا لیا، نوے ہزار فوجی دشمن کی قید سے نکال لئے گئے اور اس کے بدلے میں پاکستان نے صرف اتنا کیا کہ آئندہ کے لئے ہندوستان کے ساتھ اچھے اور خوشگوار تعلقات رکھنے کا وعدہ کر لیا۔ یہ معرکہ مارنے کے بعد، تمام سیاسی پارٹیوں اور آزاد ارکان کا اتفاقِ رائے حاصل کر کے بعد بھٹو پاکستان کی تاریخ کا پہلا متفقہ آئین منظور کرانے میں کامیاب رہے۔ آئین سازی کا کام بھاری اکثریت سے انجام پایا۔ 11 اپریل 1973ء کو قومی اسمبلی نے یہ آئین منظور کر لیا۔ حزبِ اختلاف نے اپنا بائیکاٹ ختم کر دیا۔ 8 متنازعہ دفعات میں ترمیم کر دی گئی اور 13 اگست کو ذوالفقار علی بھٹو آئینی انداز میں منتخب ہونے والے پاکستان کے پہلے وزیراعظم بنے۔ 1974ء میں انہوں نے اسلامک سمٹ کانفرنس کی میزبانی کی۔

اگست 1976ء میں وزیراعظم بھٹو نے لاہور میں ڈاکٹر ہنری کسنجر کا استقبال کیا تھا۔ 10 اگست کے روز ہنری کسنجر نے انہیں فرانس سے ایٹمی پلانٹ خریدنے پر سنگین نتائج کی دھمکی دی۔ لیکن قومی مفاد کی خاطر وزیراعظم بھٹو نے حب الوطنی کی مثال قائم کر دی اور 12 اگست کو بیان دیا۔ ’’فرانس سے ایٹمی ری پروسیسنگ پلانٹ خریدنے کا معاہدہ منسوخ نہیں کیا جائے گا۔‘‘ فرانسیسی وزیراعظم جیکوئس شیراک نے امریکہ کی طرف سے آنے والی سہ فریقی سیٹلمنٹ کی تجاویز مسترد کر دیں اور 8 اکتوبر 1976ء کو صدرِ فرانس گسکارڈ ڈایسٹنگ نے ایک بیان دے کر پاکستان کو نیوکلیئر پلانٹ فروخت کرنے کے پختہ عزم کا اظہار کیا۔ اکتوبر کے مہینے میں سعودی عرب کے شاہ خالد ایک ہفتے کے لئے پاکستان آئے اور بعض بین الاقوامی معاملات پر بھٹو کے ساتھ گفتگو کی۔ اظہارِ محبت کے طور پر انہوں نے بھٹو کے ذاتی استعمال کے لئے ایک نہایت قیمتی کار تحفے میں دی لیکن بھٹو نے یہ کار حکومت پاکستان کے حوالے کر دی۔ مادی منفعت سے انہیں کبھی بھی دلچسپی نہ رہی تھی۔ ان کی محبت اپنے ملک اور اپنی عوام کے ساتھ تھی۔ بذاتِ خود وہ اسلحہ اور اسلحہ سازی میں کوئی دلچسپی نہ رکھتے تھے۔ ان کے ذہن اور روح پر صرف پاکستان کے مستقبل سے متعلق خیالات کا قبضہ تھا۔ بعد میں پیش آنے والے واقعات نے ان کی دانشمندی اور دور اندیشی کی تصدیق کی۔ آج پاکستان کے تحفظ کے ضامن ایک بڑے ڈیٹرنٹ کی موجودی چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو کا سب سے بڑا کارنامہ ہے، اگرچہ اس کی قیمت انہوں نے اپنی جان دے کر چکائی۔

4 جنوری 1977ء کو بھٹو نے مقررہ وقت سے ایک سال قبل عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کر دیا۔ بصورتِ دیگر یہ انتخابات اگلے سال 7/8 مارچ کو منعقد ہونا تھے۔ انتخابی مہم کے دوران، بھٹو مخالف قوتوں نے 11 جنوری کو ایک سیاسی اتحاد بنایا اور اس کا نام پاکستان نیشنل الائنس (پی این اے) رکھا۔ اس اتحاد میں 9 سیاسی جماعتیں شامل تھیں اور مفتی محمود اس کے سربراہ تھے۔ قومی اسمبلی کے انتخابات ہوئے تو پاکستان پیپلز پارٹی نے اکثریت حاصل کی لیکن پی این اے نے دھاندلی کا بہانہ بنا کر صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا اور پاکستان پیپلز پارٹی کی نئی حکومت کے خلاف مہم چلانا شروع کر دی۔ وزیراعظم بھٹو نے ایک مرتبہ پھر اپنی وسیع دانش کا مظاہرہ کرتے ہوئے پی این اے کے ساتھ مذاکرات کئے اور ان کے تمام مطالبات منظور کر لئے۔ انہوں نے سمجھوتہ کر لیا اور 5 جولائی کو نئے انتخابات کے انعقاد کے لئے معاہدے پر دستخط ہونا تھے لیکن 4 اور 5 جولائی کے درمیان، آدھی رات کے وقت جنرل ضیاء نے مارشل لاء لگا دیا اور پیپلز پارٹی اور پی این اے دونوں کے سرکردہ لیڈروں کو گرفتار کر لیا جن میں وزیراعظم بھٹو بھی شامل تھے۔ انہیں مری میں رکھا گیا۔ بھٹو کے ایک قریبی ساتھی نے انہیں جنرل ضیاء کا پیغام پہنچایا کہ اس وقت ان کی اور ان کے خاندان کی بہتری اسی میں ہے کہ وہ ملک چھوڑ جائیں۔ انہوں نے انکار کر دیا۔ 20 جولائی کو تمام سیاسی قیدی رہا کر دیے گئے اور بھٹو لاڑکانہ پہنچ گئے۔ 4 اگست کو جنرل ضیاء کی طرف سے محدود سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دیتے ہوئے 90 دن کے اندر انتخابات کے انعقاد کا اعلان کر دیا گیا۔

6 اگست کو بھٹو ملتان پہنچے جہاں ایک تین میل لمبے جلوس نے ان کا استقبال کیا۔ 8 اگست کو وہ لاہور پہنچے اور یہاں ایک نئی تاریخ رقم ہوئی۔ شہر کی تمام سڑکوں کا رخ جیسے ایئرپورٹ کی طرف ہو گیا۔ تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ، گاڑیوں پر، ٹانگوں پر اور پیدل ایئرپورٹ کی طرف جا رہے تھے۔ پولیس نے تمام علاقوں اور ایئرپورٹ کی طرف جانے والی سڑکوں کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔ صرف مخصوص کاروں کو ہی آگے جانے کی اجازت دی جا رہی تھی۔ تمام پابندیوں کے باوجود ہزاروں لوگ ایئرپورٹ کے اندر تک جا پہنچے اور تمام انتظامات درہم برہم کر دیے۔ بھٹو، پولیس جیپ میں بیٹھے، ایک بڑے جلوس کی قیادت کرتے ہوئے، کئی گھنٹوں بعد شادمان میں سابق وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

8 اگست 1977ء کو بھٹو کے سندھ سے تعلق رکھنے والے چند قریبی ساتھی جو ان کے ساتھ مل کر اقتدار کے مزے لوٹتے رہے تھے پاکستان پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر پی این اے میں شامل ہو گئے۔ ان میں علی احمد تالپور، رسول بخش تالپور، حاجی ملا بخش سومرو، عبدالحمید جتوئی وغیرہ شامل تھے۔ لیکن بھٹو کا سفر جاری رہا اور 11 اگست پشاور میں ان کا عظیم الشان استقبال ہوا جسے پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس شیلنگ کے ذریعے منتشر کرنے کی ناکام کوشش کی۔

3 ستمبر کو 70۔ کلفٹن سے بھٹو کو گرفتار کر لیا گیا اور اعلان کیا گیا کہ یہ گرفتاری قصور سے تعلق رکھنے والے، بھٹو کے ایک سابق منظورِ نظر کے والد، نواب محمد احمد خان کے قتل کے سلسلے میں ہے۔ اسی روز پاکستان پیپلز پارٹی کے دو مرکزی لیڈر، دونوں غلام مصطفی، ایک جتوئی اور دوسرا کھر، ایک سندھ سے اور ایک پنجاب سے، جنرل ضیاء کی حکومت میں سیاسی امور کے انچارج جنرل فیاض احمد چشتی سے ملے۔ بھٹو کی گرفتاری پر پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ضیاء حکومت کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔

13 ستمبر کو لاہور ہائی کورٹ نے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا لیکن 17 ستمبر کو انہیں ایک دفعہ پھر LMO-12 کے تحت تمام صوبوں سے پیپلز پارٹی کے مرکزی لیڈروں سمیت گرفتارکر لیا گیا۔ ان سب کو کوٹ لکھپت جیل لاہور میں رکھا گیا۔ کارکنوں کا احتجاج جاری رہا، کئی افراد گرفتار کئے جا رہے تھے اور فوجی عدالتوں کی طرف سے روزانہ انہیں سزائیں سنائی جا رہی تھیں۔ ان سزائوں میں کوڑے لگائے جانے کی سزائیں بھی شامل تھیں۔ تمام لیڈروں کو چند روز بعد ایک ایک کر کے رہا کر دیا گیا سوائے بھٹو کے۔ کیوں اور کیسے؟ کوئی نہیں جانتا۔ بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو میدانِ عمل میں آ گئیں اور انتخابی مہم میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی رہنمائی کرنے لگیں۔ 23 اکتوبر 1977ء کو ناصر باغ میں ایک جلسہ عام میں دونوں خواتین نے اپنی پارٹی کے امیدواروں کے لئے انتخابی مہم چلانے کا اعلان کیا۔ اس عظیم الشان جلسے کی صدارت بیگم نصرت بھٹو نے کی تھی اور انہوں نے اس موقعے پر خطاب بھی کیا۔ امنڈتی ہوئی سیاسی لہر سب کو نظر آ رہی تھی اور حکومت کو اس کے اثرات خصوصی طور پر محسوس ہو رہے تھے۔ بھٹو خاندان کی دونوں خواتین اپنی حیثیت میں بڑے لیڈروں کی طور پر سامنے آ رہی تھیں۔ بھٹو مخالف قوتوں اور ضیاء کی فوجی حکومت کے لئے یہ ایک بہت بڑا دھچکا تھا۔ پی این اے نے کوئٹہ میں ایک جلسہ کیا اور انتخابات سے پہلے احتساب کا مطالبہ کیا۔ بے نظیر بھٹو نے کمہار پورہ (مغلپورہ) لاہور میں ایک جلسہ عام کا انعقاد کیا جو کہ نہایت وسیع و عریض ثابت ہوا۔ اسی طرح 29 ستمبر کو اوکاڑہ میں بھی ایک بڑے جلسہ عام کا اہتمام کیا لیکن پولیس نے ساہیوال میں پیپلز پارٹی کے ایک لیڈر کے گھر سے انہیں گرفتار کر لیا۔ بیگم بھٹو بھی مختلف جگہوں پر عوامی جلسوں سے خطاب کر رہی تھیں۔ ان کی سرگرمیوں کا آخری نتیجہ یہ نکلا کہ یکم اکتوبر کو جنرل ضیاء نے تمام سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی اور انتخابات ملتوی کر دیے کیونکہ پیپلز پارٹی سب جماعتوں سے اوپر جاتی دکھائی دے رہی تھی۔ 11 اکتوبر 1977ء کو لاہور ہائی کورٹ کے بنچ نے بھٹو اور ان کے چار ساتھیوں پر فردِ جرم عائد کر دی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے لئے یہ مہینہ آزمائشوں سے بھرپور ثابت ہوا۔ زیادہ تر لیڈر جو بھٹو کے بڑے قریب رہے تھے اور اقتدار و اختیار سے لطف اندوز ہوتے رہے تھے، ان کا ساتھ چھوڑ گئے لیکن کارکن اور مڈل کلاس سے آنے والی لیڈرشپ پوری ثابت قدمی سے ان کے ساتھ رہی۔ بھٹو بے حد اناپرست تھے اور انہوں نے کبھی یہ گوارا نہ کیا کہ اپنی جان بچانے کے لئے کسی لیڈر یا کسی فرد سے آگے بڑھنے اور جدوجہد کرنے کی درخواست کریں۔ اکتوبر میں روزانہ کارکنوں کی گرفتاریاں ہوتیں، انہیں کوڑوں کی سزائیں سنائی جاتیں اور اسی روز سزا پر عملدرآمد بھی کر دیا جاتا۔ فوجی عدالتیں ان کاموں میں رات نو نو بجے تک مصروف رہتیں۔ نہایت عجیب بات یہ تھی کہ فوجی عدالت کا فیصلہ ٹی وی اور ریڈیو پر، عدالت کے اعلان سے دو تین گھنٹے پہلے ہی سنا دیا جاتا۔21 اور 22 اکتوبر 1977ء کو بھٹو کو سپریم کورٹ لے جایا گیا جہاں انہوں نے تین گھنٹے تک اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے ایک فرد کو چیف آف آرمی سٹاف مقرر کر دینا ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔

30 نومبر 1977ء پاکستان پیپلز پارٹی کا یومِ تاسیس تھا۔ اس موقعے پر سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی ایک میٹنگ ہوئی جس کی صدارت بیگم نصرت بھٹو نے کی۔ غلام مصطفی جتوئی اور مولانا کوثر نیازی اس میٹنگ میں شریک نہ ہوئے۔ لیڈر ایک ایک کر کے ساتھ چھوڑتے جا رہے تھے لیکن بھٹو خواتین اس بدترین آمریت اور جابرانہ طرزِ حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے کا تہیہ کئے ہوئے تھیں۔ 16 دسمبر 1977ء کو دونوں خواتین قذافی سٹیڈیم لاہور پہنچیں جہاں اس وقت پاکستان اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان ٹسٹ میچ کھیلا جا رہا تھا۔ ان کی آمد پر ایک بڑے ہجوم نے حکومت کے خلاف نعرے لگانے شروع کر دیے۔ پولیس نے ہجوم پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس شیلنگ شروع کر دی۔ بیگم بھٹو بری طرح زخمی ہوئیں خصوصاً ان کے سر پر شدید چوٹیں آئیں۔ انہیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں سے پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا اور بے نظیر بھٹو کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ زیادہ تر لیڈروں اور کارکنوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ 5 جنوری 1978ء کو بھٹو کی سالگرہ کا دن تھا۔ پیپلز پارٹی اور بیگم بھٹو کی طرف سے اس دن کو ’’یومِ جمہوریت‘‘ قرار دیا گیا۔ جماعت کے جلسہ عام کو روکنے کے لئے حکومت نے تمام صوبوں سے بڑی تعداد میں گرفتاریاں کیں۔ کالونی ٹیکسٹائل ملز کی لیبر یونین 5 جنوری کے لئے انتظامات کرنے میں مصروف تھی کہ 2 جنوری کو پولیس نے مرکزی گیٹ بند کر کے مزدوروں پر فائر کھول دیا۔ دو سو سے تین سو مزدور اس فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے۔ یہ حکومت کا ایک نہایت بے رحمانہ اقدام تھا۔ اور جیل میں پڑے ہوئے لیڈر کے لئے عوام کی طرف سے یہ ایک بہت بڑی قربانی تھی۔

14 فروری 1978ء کو جیل سے رہا ہونے کے بعد بے نظیر نے سندھ میں حیدر آباد، ٹھٹہ، تھرپارکر اور سنگھر کے دورے کئے۔ نواب شاہ میں وہ ایک جلسے سے خطاب کرنے والی تھیں کہ حکومت نے ان کے بولنے پر پابندی عائد کر کے انہیں واپس کراچی بھیج دیا۔ 18 مارچ کو لاہور ہائی کورٹ نے بھٹو کے لئے سزائے موت کا اعلان کیا اور اس اعلان سے پہلے حکومت نے بڑی تعداد میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔ اس کے باوجود تمام مقامات پر احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ 25 مارچ 1978ء کو بے نظیر کو کراچی سے حراست سے نکال کر کوٹ لکھپت جیل لاہور میں ان کے والد سے ملوانے کے لئے لایا گیا۔ ملاقات کے بعد انہیں واپس کراچی میں بھیج دیا گیا جہاں انہیں 70۔کلفٹن میں زیر حراست رکھا جا رہا تھا۔ 10 جنوری کے بعد سے تقریباً تین ماہ تک بھٹو کو اپنے وکلاء سے ملنے کی اجازت نہ دی گئی۔

28 اگست 1978ء کو حکومت نے سیاسی سرگرمیوں پر سے پابندی جزوی طور پر ختم کر دی۔ ’’چار دیواری کے اندر‘‘ میٹنگز منعقد کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ یہ پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنی طاقت دکھانے کی کھلی دعوت بھی تھی اور چیلنج بھی۔ بے نظیر نے یہ چیلنج قبول کر لیا۔ اس وقت تک بے نظیر پاکستان میں بھٹو خاندان کی واحد ایسی فرد رہ گئی تھیں جو آزاد اور سیاسی طور پر سرگرم تھیں، اور اپنے والد کی طرف سے پیپلز پارٹی کی ترجمانی کرنے کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر آپڑی۔

10 ستمبر کو بے نظیر بھٹو کی ہدایت پر صوبہ سرحد پہنچیں۔ آخری مرتبہ وہ اس صوبے میں اپنی والدہ کے ساتھ محض ان کی ساتھی کی حیثیت سے آئی تھیں۔ اس مرتبہ وہ تقاریر کر رہی تھیں۔ انہوں نے مردان، شیرپائو، ایبٹ آباد، سوات، کوہاٹ اور پشاور کے دورے کئے۔ عوام کی طرف سے ملنے والا ردِعمل بے ساختہ، پُرجوش اور دل گرما دینے والا تھا۔ بے نظیر اپنے والد کی ٹوپی سے ملتی جلتی ٹوپی پہنتیں اور تپتے سورج کے تلے ہزاروں کی تعداد میں اکٹھے ہونے والے افراد ان کی تقریر پر تالیوں سے آسمان سر پر اٹھا لیتے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا نشان ’’تلوار‘‘ تھی اور بہت سوں کو یقین تھا کہ ’’ذوالفقار علی‘‘ جن کے نام کا معنی ’’علی کی تلوار‘‘ ہے، ایک مرتبہ پھر برسرپیکار ہوں گے اور عوام کو فتح تک لے جائیں گے۔ بعد ازاں بھٹو کے قتل کے متعلق کئی حقائق روشنی میں آئے۔ میجر جنرل راحت لطیف، جو راولپنڈی ڈویژن کا ڈپٹی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر رہا تھا، کے متعلق کہا گیا کہ اس نے بھٹو کی پھانسی کی رات ان سے سقوطِ ڈھاکہ کے المئے اور ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کے متعلق چند دستاویزات پر دستخط کروانے کے لئے ان پر تشدد کیا تھا اور پھانسی سے پہلے ہی انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ بھٹو نے دستاویزات پر دستخط کرنے سے انکار کرتے ہوئے انہیں پھاڑ کر پھینک دیا اور چند تند و تلخ جملوں کے تبادلے کے بعد جنرل نے اپنی دلی خواہشات کی تسکین کے لئے ان پر اتنا تشدد کیا کہ ان کی موت واقع ہو گئی۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں رات ایک سے دو بجے کے درمیان سٹریچر پر ڈال کر پھانسی گھاٹ تک لے جایا گیا حالانکہ پھانسی کا وقت صبح پانچ بجے کا مقرر کیا گیا تھا۔

بھٹو کے کریڈٹ پر متعدد تاریخی کارنامے موجود ہیں۔ ان کی طرف سے پیپلز پارٹی کا قیام، ایک طویل عرصے سے دائیں بازو کے زیر فرمان رہنے والے اس ملک کی رجعت پسند قوتوں کے لئے ایک دھچکا تھا۔ ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کے نعرے نے پاکستانی سیاست کا رخ مذہب سے ہٹا کر معاش کی طرف موڑ دیا۔ یہ رخ دوبارہ کبھی تبدیل نہیںہوا۔ بھٹو نے معاش کی بلند چوٹیوں کو قومیا کر سرمایہ پرست مغرب کو ایک اور دھچکا پہنچایا۔ ان کے دورِ حکومت میں زرعی مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر وسائل کا رخ دیہی اکثریت کی طرف موڑ دیا گیا۔ 1973ء میں متفقہ طور پر منظور ہونے والا آئین بھی بھٹو کا ایک باقی رہنے والا ورثہ ہے۔ وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ اس آئین کو ہٹا کر اس کی جگہ کوئی دوسرا آئین نہیں لایا جا سکتا۔ پاکستان کے قیام سے ہی آئین سازی کا کام تین متنازع فیہ مسئلوں کی بدولت بری طرح الجھا ہوا تھا۔ (i) ریاست میں اسلام کا کردار۔ (ii) صوبائی خودمختاری کی حدود اور (iii) سربراہِ مملکت کی نوعیت۔ بھٹو تمام بڑی جماعتوں میں، جن میں اسلامی ریاست کا مطالبہ کرنے والی جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء پاکستان اور صوبائی خودمختاری کا مطالبہ کرنے والی سرحد اور بلوچستان کی عوامی نیشنل پارٹی شامل تھیں، آئین پر اجتماعی اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں کامیاب رہے اور اس طرح ہمیشہ کے لئے ان تینوں مسائل کا جھگڑا چکا دیا۔

انہوں نے پاکستان سٹیل ملز، ہیوی مکینیکل کمپلیکس ٹیکسلا، پورٹ قاسم اتھارٹی، قائداعظم یونیورسٹی، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کی بنیاد رکھی اور پاکستان کی خوشحالی اور سالمیت کو تقویت بخشی۔ وزیر خارجہ کی حیثیت سے حاصل ہونے والے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے انہوں نے افروایشین اور اسلامی ممالک کے ساتھ پاکستان کے روابط مضبوط بنائے اور 1976ء تک تیسری دنیا کے لیڈر کے مقام پر فائز ہو گئے۔ ایک مصنف کی حیثیت سے انہوں نے تیسری دنیا کے مزدوروں کی شاندار وکالت کی۔ انہوں نے نہایت کامیابی سے اسلامک سمٹ کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں تقریباً تمام اسلامی مملکتوں کے سربراہ شریک ہوئے۔ مختلف سربراہانِ مملکت، مختلف معاملات خصوصاً امورِ خارجہ میں باقاعدگی سے ان سے مشورے کیا کرتے تھے۔ بھٹو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی تھے۔ ایندھن، قوت اور قدرتی وسائل کے وزیر، صدر اور وزیراعظم کی حیثیت سے ان کی رہنمائی اور قیادت میںپاکستان واحد ایٹمی اسلامی قوت بن کر ابھرا اور اس کی قیمت انہوں نے اپنی جان دے کر چکائی۔ سزائے موت کی کوٹھڑی میں لکھی جانے والی اپنی کتاب ’’اگر مجھے قتل کر دیا گیا‘‘ میں شہید ذوالفقار علی بھٹو بیان کرتے ہیں کہ کیسے ڈاکٹر ہنری کسنجر نے کہا تھا کہ ’’ہم تمہیں عبرت کی مثال بنائیں گے۔‘‘ جس باعزت راستے کا انتخاب انہوں نے کیا، اور جس بے لوث انداز میں پاکستانی عوام کی خدمت کی، اور جس دھج سے انہوں نے پاکستان کے لئے اپنی جان قربان کر دی، اس سے ہر آرزومند فرد کو ایک قابل تقلید مثال ملتی ہے کہ لیڈر کیسا ہوتا ہے۔

محترمہ بے نظیر بھٹو شہید[ترمیم]

محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی کئی اعتبار سے متاثر کن ہے۔ ان کی زندگی کے تقریباً ہر پہلو نے پاکستان میں اداروں کی تعمیر کے عمل پر گہرا اثر ڈالا۔ ان کی سیاسی زندگی کا ہر پہلو اور ہر مرحلہ وسیع اور تجزیاتی مطالعے کا متقاضی ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اگرچہ وقتاً فوقتاً ملک کی ہیئت مقتدرہ اور دائیں بازو کی سیاسی قیادت ان کی مخالفت کرتی رہی لیکن ان کی شہادت کے بعد تقریباً ہر ایک نے پاکستان میں سیاسی شعور اور استحکام کی ترقی و ترویج میں ان کے کردار اور ان کے حصے کی تعریف کی۔ جمہوری سیٹ اپ کی بحالی کے لئے بے نظیر بھٹو کی جدوجہد اور مختلف آمروں اور جنرلوں سے معاملت کرنے میں ان کی مشکلات جو بالآخر ان کی اقتدار سے معزولی کا سبب بنیں، پاکستان میں اور بین الاقوامی سطح پر خوب جانی پہچانی ہیں۔

بے نظیر بھٹو 21 جون 1953ء کے روز کراچی میں، جو اس وقت پاکستان کا دارالحکومت تھا، سندھ کے ایک ممتاز خاندان میں پاکستان کے مستقبل کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو کے ہاں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے کراچی کے لیڈی جننگز نرسری اور کانونٹ آف جیزس اینڈ میری میں تعلیم حاصل کی۔ دو سال تک راولپنڈی کے پریزنٹیشن کانونٹ میں پڑھنے کے بعد انہیں مری کے جیزس اینڈ میری کانونٹ میں بھیج دیا گیا۔ او لیول کا امتحان انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں پاس کیا۔ اس کے بعد انہوں نے کراچی گرامر سکول سے اے لیول تک تعلیم حاصل کی۔ پاکستان میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ 1969ء سے 1973ء تک وہ ہارورڈ کے ریڈکلف کالج میں پڑھیں جہاں سے انہوں نے بی اے کی ڈگری، تقابل حکومت کے مضمون میں اعزاز کے ساتھ حاصل کی۔ انہوں نے فائی بیٹا کاپا کی سوسائٹی میں بھی منتخب کیا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے ہارورڈ میں گزرے ہوئے وقت کو ’’میری زندگی کے چار پُرمسرت ترین سال‘‘ قرار دیااور کہا کہ یہی سے جمہوریت پر ان کے یقین کی بنیاد پڑی۔ جون 2006ء میں انہیں ٹورنٹو یونیورسٹی کی طرف سے ایل ایل ڈی کی اعزازی ڈگری دی گئی۔ تعلیم کا اگلا مرحلہ انہوں نے برطانیہ میں طے کیا۔ 1973 ء سے 1977ء تک آپ آکسفورڈ کے لیڈی مارگریٹ ہال میں فلسفہ، سیاسیات اور اکنامکس کی تعلیم حاصل کی۔ اس دوران آپ نے بین الاقوامی قانون اور ڈپلومیسی میں اضافی کورس بھی کئے۔ لیڈی مارگریٹ ہال کے بعد آپ آکسفورڈ کے سینٹ کیتھرینز کالج میں داخل ہوئیں اور دسمبر 1976ء میں آپ کو آکسفورڈ یونین کی صدر منتخب کر لیا گیا۔ اس پُروقار ڈی بیٹنگ سوسائٹی کی صدر بننے والی آپ پہلی ایشیائی خاتون تھیں۔

سیاسی تحرکات کی تعلیم بے نظیر بھٹو نے اپنے عظیم المرتبت باپ ذوالفقار علی بھٹو سے حاصل کی تھی۔ تاہم جب تک ذوالفقار علی بھٹو خود اقتدار میں رہے، وہ سیاسی شخصیت کے طور پر نگاہ میں نہیں آئیں لیکن پاکستان کی سیاست میں ان کی شمولیت سے پہلے، انہیں پاکستان، جنوبی ایشیاء، امن کے حوالے سے تاریخی مواقع پر اور امت مسلمہ کی یکجہتی کے حوالے سے ہونے والی تقاریب میں وقتاً فوقتاً دیکھا جاتا تھا۔ Benazir Bhutto cropped.jpg اپنے طالب علمی کے زمانے میں انہیں بین الاقوامی سفارت کاری کے بارے میں سیکھنے کا موقع ملا۔ 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں جب بھارت کی افواج مشرقی پاکستان میں داخل ہوئیں، فوجی آمر یحییٰ خان اور اس کی حکومت نے حزبِ اختلاف میں ہونے کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو سے درخواست کی کہ وہ پاکستانی تاریخ کے اس نہایت نازک موڑ پر اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کریں۔ انہیں اپنے ملک کو مزید نقصان سے بچانا تھا۔ اس موقع بے نظیر کے والد نے انہیں بلایا اور انہیں اعلیٰ ترین سطح پر روزمرہ کی سفارتی سرگرمیوں اور ملاقاتوں میں اپنے والد کی معاونت کرنے کا موقع ملا۔ جولائی 1972ء میں ایک بار پھر، جب ان کے والد پاکستان خے صدر تھے، پاکستان کے نوے ہزار فوجی اور آٹھ ہزار مربع میل کا رقبہ بھارت کے قبضے میں تھا۔ شہید بھٹو خالی ہاتھ پاکستان کے اثاثوں کی واپسی کے مذاکرات کرنے کے لئے بھارت گئے۔ مذاکرات کا انعقاد شملہ میں ہوا۔ اس عمل میں آنے والے وقفوں کے دوران شملہ کی سڑکوں پر بھارت کی عوام اور میڈیا نے بے نظیر بھٹو کا نہایت پُرتپاک استقبال کیا۔ ان سے انٹرویوز کے لئے رابطہ کیا گیا اور عوام نے ان کی خاطرداری کی۔ ایک عام آدمی کے لئے ان کی ذات میں پائی جانے والی کشش کا یہ پہلا مظہر تھا۔ ان مذاکرات کے دوران انہیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ کیسے منٹوں میں صورتِ حال بدل جاتی ہے۔ جب سامان بندھ چکا تھا اور وفد خالی ہاتھ پاکستان واپس آنے والا تھا تو صدر بھٹو نے چائے پر آخری میٹنگ کے دوران وزیراعظم اندرا گاندھی سے چند منٹ تنہائی میں بات کرنا چاہی۔ تنہائی کی اس ملاقات میں چند جملوں کا تبادلہ ہوا اور دنیا نے اپنی طرز کی سب سے ماہرانہ اور مؤثر سیاست کا نظارہ کیا۔ واپسی کے انتظامات منسوخ کر دیے گئے اور ایک معاہدہ تیار کر کے اس پر دستخط ثبت کر دیے گئے۔ اسے شملہ معاہدہ کا نام دیا گیا جو کہ پاکستان کے لئے ایک بڑی کامیابی تھا اور جس سے پاکستان کے فوجیوں اور زمین کی واپسی ممکن ہو گئی۔ بے نظیر بھٹو کے لئے یہ ایک نہایت سبق آموز تجربہ تھا۔

ایک بار پھر 1974ء میں انہیں سیکھنے کا موقع ملا جب لاہور میں اسلامک سمٹ کانفرنس منعقد ہوئی اور انہیں اپنے والد کی اعانت کے دوران کئی مسلم ممالک کے سربراہوں سے ملنے اور گفت و شنید کرنے کا موقع ملا۔ 1976-77ء میں اپنی تعلیم مکمل کر لینے کے بعد انہوں نے دفتر خارجہ میں کچھ عرصہ باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ ان سب تجربات نے خارجہ امور اور سفارت کاری میں ان کی دلچسپی کو مزید بڑھاوا دیا۔ لیکن 5 جولائی 1977ء کے روز ان کے والد کے ساتھ، اور ان کے ملک کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس سے ان کی زندگی ہمیشہ کے لئے بدل گئی۔ انہوں نے اپنی والدہ کے ساتھ عوامی جلسوں میں جانا شروع کر دیا اور آمر جنرل ضیاء کے اعلان کردہ انتخابات کی مہم کے دوران انہوں نے چند جلسوں سے خطاب بھی کیا۔ وہ یہ سوچ لے کر ایک کٹھن مہم پر روانہ ہوئیں کہ جلد یا بدیر ان کے والد جیل سے رہا ہو جائیں گے اور ان کے لئے حالات پھر سے معمول پر آ جائیں گے۔ مگر آمر نے انتخابات کو ملتوی کر دیا اور پی پی پی کے خلاف ایک ظلم و جبر کے ایک دور کا آغاز کر دیا۔ اس نے پی پی پی کو ختم کرنے کے لئے ریاستی مشینری اور عدلیہ کا بے دریغ استعمال کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو ایک ایسے فیصلے میں موت کی سزا سنائی دی گئی جس کی نظیر آج تک پاکستان کی کسی عدالت میں دوبارہ نہیں دی گئی۔ چند مخصوص سیاسی جماعتیں اس کے ساتھ مل کر پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کی کوششوں میں شامل ہو گئیں۔ پیپلز پارٹی کے احتجاج کرنے والے کارکنوں دوسری پارٹیوں کے ورکر (بلکہ غنڈے) بری طرح مارتے تھے۔ پارٹی کے کئی لیڈر اور سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان بھاگ گئے۔ ان میں سے بعض خاموشی سے کھسک گئے۔ دوسرے حکومت کے ایجنٹ بن گئے اور پارٹی کو اندر سے تباہ کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ یوں بے نظیر بھٹو کی تقدیر، ان کا مشن ان پر مسلط ہو گیا اور ان کی زندگی کے ایک ایسے دور کا آغاز ہوا جو جہد مسلسل اور کٹھنائیوں سے عبارت ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے جیل کی کوٹھڑی سے ’’میری سب سے پیاری بیٹی‘‘ کے عنوان کے تحت ایک خط لکھنا شروع کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جواہر لعل نہرو نے بھی جیل کی کوٹھڑی سے اپنی بیٹی اندرا گاندھی کو خطوط لکھے تھے۔ اپنی بیٹی کا موازنہ نہرو کی بیٹی سے کرتے ہوئے انہوں نے لکھا: ’’تم آگ کے بیچ میں پھنسی ہوئی ہو اور یہ آگ بے رحم فوجی حکومت کی ہے۔ یہ بری اور بدصورت ہے۔ لہٰذا (تم دونوں کے بیچ) بہت زیادہ فرق ہے۔ تم دونوں کا موازنہ کیا ہی نہیں جا سکتا۔ اگر کوئی مماثلت ہے تو صرف اسی میں کہ اندرا گاندھی کی طرح تم بھی تاریخ بنا رہی ہو۔ میں اندرا گاندھی کو بہت اچھی طرح جاننے کا دعویٰ کر سکتا ہوں، حالانکہ میں اس کے باپ کو زیادہ بہتر طو رپر جانتا تھا۔ میں اس کے اوصاف کا بہت احترام کرتا ہوں مگر میں اس کے بڑے مداحین میں کبھی شامل نہیں رہا اور میں یہ بات پہلے بھی کہہ چکا ہوں۔ یہ سچ ہے کہ وہ ہندوستان کی وزیراعظم بنی اور اس اعلیٰ منصب پر گیارہ سال فائز رہی۔ وہ دوبارہ بھی ہندوستان کی وزیراعظم بن سکتی ہے۔ جب اس نے مشرقی پاکستان پر قبضہ کیا تو اسے دیوی قرار دیا گیا۔ ان سب باتوں کو جانتے ہوئے مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ میری بیٹی نہرو کی بیٹی، ہندوستان کی دیوی سے کہیں بڑھ کر ہے۔ میں کوئی جذباتی یا غیرمعروضی تخمینہ نہیں لگا رہا۔ یہ میری دیانتدارانہ رائے ہے۔‘‘

انہیں اپنے والد شہید بھٹو کی طرف سے جیل کی کوٹھڑی سے سیاست کا ایک سبق ملا اور وہ ساری عمر اس پر عمل پیرا رہیں۔ شہید بھٹو ’’میری سب سے پیاری بیٹی‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’تمہارے دادا نے مجھے فخر کی سیاست سکھائی۔ تمہاری دادی نے مجھے غربت کی سیاست سکھائی۔ اس آمیزش کے لئے میں دونوں کا احسان مند ہوں۔ میری پیاری بیٹی، تمہیں میں صرف ایک پیغام دیتا ہوں۔ یہ تاریخ کا پیغام ہے۔ صرف عوام پر یقین رکھنا، صرف نجات اور مساوات کے لئے کام کرنا۔ خدا کی جنت تمہاری ماں کے قدموں تلے ہے۔ سیاست کی جنت عوام کے قدموں تلے ہے۔‘‘ انہوں نے مزید نصیحت کرتے ہوئے لکھا۔ ’’اس کوٹھڑی سے جس میں سے میرا ہاتھ گزر نہیں سکتا، میں تمہیں کیا تحفہ دیتا ہوں؟ میں تمہیں عوام کا ہاتھ دیتا ہوں۔‘‘

اپنے والد کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد بے نظیر بھٹو نے اگلے اٹھارہ ماہ نظربندی اور رہائی کے مراحل میں گزارے اور اپنے والد کے خلاف قتل کے الزامات ختم کرانے کے لئے سیاسی حمایت مجتمع کرنے کی کوشش کرتی رہیں۔ اس میں ناکامی اور اپنے والد کی سزائے موت کے بعد انہیں بار بار گرفتار کیا جاتا رہا تاہم مقامی انتخابات میں پیپلز پارٹی کی کامیابی کے بعد ضیاء نے قومی انتخابات کو غیرمعینہ مدت تک کے لئے ملتوی کر دیا اور بے نظیر بھٹو اور ان کی والدہ کو کراچی سے لاڑکانہ منتقل کر دیا۔ فوجی حکومت کے دو سالوں میں ساتویں مرتبہ بے نظیر بھٹو کو گرفتار کیا گیا۔ بار بار کی نظربندیوں کے بعد بالآخر حکومت نے 1981ء کے موسم گرما میں سندھ کے ایک صحرائی قید خانے میں انہیں قید تنہائی میں ڈال دیا۔ اپنی کتاب ’’دختر تقدیر‘‘ میں انہوں نے اپنے بے دیوار پنجرے کے حالات کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ’’گرما کی تپش نے میری کوٹھڑی کو تنور میں بدل دیا۔ میری کھال چٹخ چٹخ کر میرے ہاتھوں سے چادر کی طرح اترنے لگی۔ میرے چہرے پر آبلے پڑ گئے۔ میرے بال جو ہمیشہ سے بڑے گھنے رہے تھے، مٹھیاں بھر بھر کے اترنے لگے۔ حشرات الارض فوج درفوج حملہ آور ہونے لگے۔ ٹڈے، مچھر، کاٹنے والی مکھیاں، شہد کی مکھیاں اور مکوڑے فرش میں پڑی دراڑوں سے اور صحن کی طرف کھلی سلاخوں سے اندر آ جاتے۔ بڑے بڑے سیاہ چیونٹے، لال بیگ، سرخ چیونٹوں کے ابلتے ہوئے دستے اور مکڑیاں۔ ان کے کاٹنے سے بچنے کے لئے چادر سر پر لے لیتی اور جب گرمی بہت زیادہ بڑھ جاتی تو اسے اتار دیتی۔‘‘ سکھر جیل میں چھ ماہ گزارنے کے بعد انہیں کئی ماہ ہسپتال میں گزارنا پڑے جس کے بعد انہیں کراچی کی سنٹرل جیل منتقل کر دیا گیا جہاں وہ 11 دسمبر 1981ء تک مقید رہیں۔ اس کے بعد انہیں لاڑکانہ اور کراچی میں بالترتیب گیارہ اور چودہ ماہ تک نظر بند رکھا گیا۔

پریس اور میڈیا پر پابندیاں اور سیاسی کارکنوں پر سختیاں بڑھیں تو بے نظیر کو احساس ہوا کہ ضیاء کی آمریت کا مقابلہ کرتے ہوئے جمہوریت بحال کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ تفرقہ ختم کر دیا جائے اور انہوں نے پاکستان قومی اتحاد کی جماعتوں کو 1980ء کے آخری ماہ میں 70 کلفٹن میں تعزیت کے لئے آنے کی اجازت دے دی۔ یہ جماعتیں اب ضیاء کی حمایت کرنے کی اپنی غلطی کا ادراک کر رہی تھیں جس کی بدولت وہ ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کرنے کی حد تک جا پہنچا تھا۔ لہٰذا پی این اے کی طرف سے مشترکہ اتحاد کے لئے مذاکرات کی پیشکش چیئرپرسن بیگم بھٹو نے پارٹی ورکروں کے شدید دبائو کے باوجود قبول کر لی۔ ان کی سوچ تھی کہ سیاسی قوتوں کا اتحاد عوام کو آمریت سے نجات دلا سکتا ہے۔ لہٰذا موومنٹ فار ریسٹوریشن آف ڈیموکریسی (ایم آر ڈی) نامی نیا سیاسی اتحاد وجود میں آیا۔ پاکستان کے عوام نے اس کی وسیع پیمانے پر حمایت کی اور فوجی حکومت نے بے رحمی سے اسے کچلنے کی کوشش کی۔ ایم آر ڈی میں پاکستانی معاشرے کے وہ طبقات شامل تھے جو ضیاء کی ’’اسلامائزیشن‘‘ کے دائرے میں نہیں آتے تھے مثلاً شیعہ، بلوچ، پٹھان اور سندھی جیسی نسلی اقلیتیں اور بھٹو کی اپنی پی پی پی۔ ایم آر ڈی نے 1981ء کے اوائل میں جمہوریت کے لئے تحریک کا آغاز کیا۔ اس تحریک کو روکنے کے لئے آمر نے بلاامتیاز سب افراد کو بوڑھے بچے عورت مرد کی تخصیص کئے بغیر ظلم و جبر کا نشانہ بنایا۔ بے نظیر کا زیادہ تر عرصہ اس دوران نظربندی یا جیل میں گزرا جبکہ ایم آر ڈی کی تحریک نے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا۔ پی پی پی کے ہزاروں ورکر شہید ہوئے اور ضیاء کے کریک ڈائون میں چالیس ہزار سے ڈیڑھ لاکھ تک کے درمیان افراد سیاسی قیدیوں کے طور پر جیلوں میں گئے۔

چھ سال کی سخت ترین قید، نظربندی اور دیگر اذیتوں کے بعد جنوری 1984ء میں ضیاء نے بین الاقوامی دبائو کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور بے نظیر بھٹو کو طبی وجوہات کی بناء پر بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت دے دی۔ سرجری کروانے کے بعد انہوں نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا اور پاکستان میں ضیاء حکومت کے ایما پر سیاسی قیدیوں کے ساتھ روا رکھی جانے والی بدسلوکی کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرانے لگیں۔ دبائو بڑھا تو اپنی حکومت کو قانونی جواز دلانے کے لئے ضیاء کو ریفرنڈم کرانا پڑا۔ یکم دسمبر 1984ء کے روز منعقد ہونے والا ریفرنڈم ایک ڈرامہ ثابت ہوا اور ریاستی مشینری کے استعمال کے باوجود صرف دس فیصد ووٹر گھروں سے باہر آئے۔ 1985ء میں بے نظیر بھٹو کے بھائی شاہنواز کو پراسرار حالات میں فرانس میں قتل کر دیا گیا۔ انہیں زہر دیا گیا تھا اور اس جرم کے مرتکب آج تک پردئہ اخفا میں ہیں۔ بے نظیر ان کی لاش لے کر پاکستان آئیں اور ان کے غم میں شریک لاکھوں افراد نے موہنجو ڈارو ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کیا۔ تدفین کے بعد ضیاء حکومت نے انہیں ایک بار پھر حراست میں لے کر ملک سے باہر بھجوا دیا۔ بین الاقوامی برادری کے مزید دبائو نے ضیاء کو یک ایوانی قانون ساز اسمبلی کے لئے غیرجماعتی بنیادوں پر انتخابات کرانے پر مجبور کر دیا۔ ایم آرڈی کے جزو کی حیثیت سے پیپلز پارٹی نے اس کے فیصلے کی پابندی کی اور یہ کہہ کر الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا کہ انہیں پاکستان کے آئین کے مطابق منعقد نہیں کرایا جا رہا۔ بے نظیر بھٹو نے فوجی حکومت کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں آواز بلند کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اور 1985ء میں سٹراس برگ میں یورپین پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’جب دنیا کا ضمیر نہایت جائز طور پر نسلی امتیاز کے خلاف اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف بیدار ہوتا ہے… تب اس ضمیر کو فوجی عدالتوں کے ہاتھوں ہونے والے ان قتلوں پر بھی آنکھ بند نہیں کرنی چاہئے جو ایک ایسے ملک میں رونما ہوتے ہیں جو خود مغرب سے امداد وصول کرتا ہے۔‘‘ ضیاء حکومت نے اس کا جواب لاہور کی ایک فوجی عدالت میں پی پی پی کے 54 ورکروں کو موت کی سزا سنا کر دیا۔

10 اپریل 1986ء کے روز بے نظیر بھٹو پاکستان واپس آئیں۔ جب انہوں نے لاہور کے ایئرپورٹ پر قدم رکھا تو دس لاکھ افراد کے جم غفیر نے ان کا استقبال کیا۔ ان لمحات کو انہوں نے اپنی سوانح عمری میں یاد رکھا: ’’ایئرپورٹ سے مینارِ پاکستان تک آٹھ میل کا راستہ طے کرنے میں پندرہ منٹ لگتے ہیں۔ 10 اپریل 1986ء کے اس ناقابل یقین دن کو ہمیں یہ فاصلہ طے کرنے میں دس گھنٹے لگے۔ ایئرپورٹ پر موجود دس لاکھ افراد کی تعداد بیس لاکھ ہوئی اور مینارِ پاکستان پہنچنے تک تیس لاکھ ہو گئی۔‘‘

ان کے اپنے بیان کے مطابق یہ ایک کامل فتح تھی اور روم میں سیزروں کی واپسی کی یاد دلاتی تھی۔ ’’لگتا تھا کہ اس روز لاہور کے رنگ صرف پی پی پی کے سیاہ، سبز اور سرخ رنگ ہیں۔ پی پی پی کے جھنڈے اور بینر گرم و خشک ہوا میں یوں لہرا رہے تھے کہ وہ ایک مستقل سائبان کی شکل اختیار کر گئے تھے۔ لوگوں نے سرخ، سبز اور سیاہ جیکٹس، دوپٹے، شلوار قمیصیں اور ٹوپیاں پہن رکھی تھیں۔ گدھوں اور بھینسوں کی ایال اور دموں پر پی پی پی کے ربن لپٹے ہوئے تھے۔‘‘ بعد ازاں انہوں نے اقبال پارک میں مینارِ پاکستان کے سائے تلے لوگوں سے خطاب کیا: ’’لائوڈ سپیکر سسٹم ٹھیک طرح سے کام نہیں کر رہا تھا اور ہمارے تخمینے سے دس گنا تعداد میں آنے والے لوگوں تک یقینا نہیں پہنچ سکتا تھا۔ لیکن گویا جیسے ٹیلی پیتھی سے میرے ہاتھ ایک اشارے پر سب خاموش ہو گئے۔ ’’ابھی اور اسی وقت، میں حلف اٹھاتی ہوں کہ میں عوام کے حقوق کی پاسداری کے لئے ہر قربانی دوں گی۔‘‘ میں نے بلند آواز میں کہا۔ ’’کیا تمہیں آزادی چاہئے؟ کیا تمہیں جمہوریت چاہئے؟ کیا تمہیں انقلاب چاہئے؟ ہاں، ہر مرتبہ گرج کی صورت میں جواب آیا، تیس لاکھ صدائیں ایک آواز کی صورت میں۔ ’’میں عوام کی خدمت کرنے واپس آئی ہوں، انتقام لینے نہیں۔‘‘ میں نے ان سے کہا۔ ’’میں انتقام کا سلسلہ ختم کرتی ہوں۔ میرے دل میں ایسا کوئی جذبہ نہیں۔ میں پاکستان کو تعمیر کرنا چاہتی ہوں لیکن پہلے مجھے تم سے ایک ریفرنڈم چاہئے۔ کیا تم ضیاء کو برقرار رکھنا چاہتے ہو؟ نہیں، آواز کی موج امڈی۔ ’’کیا تم ضیاء کو ہٹانا چاہتے ہو؟‘‘ ہاں، گرج اور بلند ہو گئی۔ ’’تو پھر فیصلہ ہے کہ ضیاء جاوے!‘‘ میں نے آواز بلند کی۔ ’’ضیاء کو جانا چاہئے۔‘‘ ’’جاوے! جاوے! جاوے!‘‘ تاریک ہوتے آسمان تلے لاکھوں آوازیں گونجیں۔‘‘ 1986ء کے دوران انہیں ایک مرتبہ پھر کراچی میں جمہوریت کے لئے اٹھنے والی اگست کی تحریک کے دوران لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا نشانہ بنایا گیا اور لاہور میں پی پی پی کی کم و بیش دس کارکنان شہید ہو گئے، سینکڑوں زخمی ہوئے اور ہزاروں کو ایم آرڈی کے جلسے روکنے کے لئے گرفتار کر لیا گیا۔

18 دسمبر 1987ء کے روز کراچی میں آصف علی زرداری سے بے نظیر کی شادی ہو گئی۔ ان کے ہاں تین بچے پیدا ہوئے: دو بیٹیاں بختاور اور آصفہ، اور ایک بیٹا، بلاول، جو کہ اس وقت تیسری نسل میں پاکستان پیپلز پارٹی کا چیئرمین ہے۔ مئی 1988ء میں جنرل ضیاء نے قومی اور صوبائی اسمبلیاں کرپشن کے الزامات لگا کر توڑ دیں اور نومبر 1988ء میں الیکشن منعقد کرانے کا اعلان کیا۔ غالباً اس کا ارادہ تھا کہ اپنی نگرانی میں الیکشن کرائے اور اپنی تابع فرمان حکومت کو اوپر لائے لیکن تقدیر نے اپنا کھیل دکھایا۔ 17 اگست 1988ء کے روز کئی قومی اور غیرملکی زعماء کو لئے ایک جہاز بہاولپور کے نزدیک کریش ہو گیا۔ اس کی حکومت حقیقی معنوں میں جل کر راکھ ہو گئی۔ چیئرمین سینیٹ غلام اسحاق خان نے صدارت کا عہدہ سنبھالا اور شیڈول کے مطابق تین ماہ بعد الیکشن ہو گئے۔

جس نشست سے بے نظیر بھٹو نے الیکشن لڑا، وہ وہی تھی جس سے ان کے والد نے حصہ لیا تھا یعنی این اے 207۔ اس سیٹ پر سب سے پہلے مرحوم سردار واحد بخش بھٹو نے 1926ء میں سندھ میں منعقد ہونے والے پہلے انتخابات میں ہندوستان کی مرکزی قانون ساز اسمبلی کے لئے انتخاب لڑا تھا۔ سردار واحد بخش کو فتح حاصل ہوئی، اور وہ نہ صرف ایک جمہوری طور پر منتخب کردہ پارلیمنٹ میں سندھ کے پہلے منتخب نمائندہ بنے بلکہ صرف ستائیس سال کی عمر میں مرکزی قانون ساز اسمبلی کے کم عمر ترین رکن بھی بنے۔ واحد بخش کے کارنامے تاریخی نوعیت کے تھے کیونکہ وہ حکومت میں شامل ہونے والے بھٹو خاندان کے پہلے فرد تھے۔ وہ ایک ایسی سیٹ سے جیتے جہاں ان کے بعد سے ہمیشہ ان کے خاندان کے افراد کھڑے ہوتے رہے۔ لہٰذا اس سلسلے کا آغاز کرنے کا سہرا انہی کے سر جاتا ہے۔ سردار واحد بخش اس کے بعد بمبئی کونسل کیرکن بھی بنے۔ 33 سال کی عمر میں ان کی بے وقت موت کے بعد ان کے چھوٹے بھائی نواب نبی بخش بھٹو نے اسی سیٹ سے الیکشن لڑا اور اپنی ریٹائرمنٹ تک ناقابل شکست رہے۔ وہی تھے جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو الیکشن لڑنے کے لئے یہ سیٹ دی تھی۔ انتخابی مہم کے دوران بے نظیر خواتین کے معاشرتی اور صحت کے مسائل کے بارے میں بشمول خواتین سے امتیازی سلوک کے مسئلے کے بارے میں آواز اٹھائی۔ انہوں نے خواتین کے پولیس سٹیشن، عدالتیں اور خواتین کے لئے ڈیویلپمنٹ بینک قائم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا۔ ان میں سے کئی منصوبے پایۂ تکمیل کو پہنچے مگر ان کی حکومت ختم ہو جانے کی وجہ سے پوری طرح پروان نہ چڑھ سکے۔

16 نومبر 1988ء کے روز ایک دہائی سے زائد عرصہ بعد پہلے آزاد انتخابات منعقد ہوئے اور پیپلز پارٹی کو قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل ہوئیں۔ 2 دسمبر کے روز بے نظیر بھٹو کو ایک مخلوط حکومت کی سربراہ کے طور پر وزیراعظم کا حلف دلوایا گیا۔ 35 سال کی عمر میں وہ کم عمر ترین اور مسلم دنیا کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم بن گئیں۔ حلف اٹھانے کے فوراً بعد وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے اعلان کیا کہ طلبہ یونینز اور ٹریڈ یونینز پر لگائی گئی پابندی ختم کر دی جائے گی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے دسمبر 1988ء میں چوتھی سارک سمٹ کانفرنس کی میزبانی کی۔ کانفرنس کے نتیجے میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان امن کے تین معاہدے پایۂ تکمیل کو پہنچے۔ مگر جلد ہی بے نظیر بھٹو کی حکومت کو سیاسی محاذ پر مشکلات کا سامنا ہونے لگا۔ اے این پی نے پیپلز پارٹی کا ساتھ چھوڑ دیا اور یکم نومبر 1989ء کے روز حزبِ اختلاف نے بے نظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پیش کر دی۔ بے نظیر بھٹو 12 ووٹوں کی اکثریت سے اس قرارداد کو شکست دینے میں کامیاب رہیں۔ پیپلز پارٹی کی اتحادی بننے والی ایم کیو ایم بھی الگ ہو گئی اور سندھ میں مشکلات پیدا کرنا شروع کر دیں۔

1989ء میں بے نظیر بھٹو کو لبرل انٹرنیشنل کی طرف سے پرائز فار فریڈم دیا گیا۔ بھٹو اسقاطِ حمل کے خلاف تھیں اور اس کے خلاف آواز بلند کرتی رہتی تھیں جس میں قابل ذکر قاہرہ میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس برائے آبادی و ترقی میں ان کی تقریر جہاں انہوں نے مغرب کو الزام دیا کہ ’’وہ ایسے افراد، اور معاشروں اور مذہب پر ناجائز تعلقات، اسقاطِ حمل، جنسی تعلیم اور ایسے دیگر معاملات ٹھونسنے کی کوشش کر رہا ہے جو اپنی ذاتی معاشرتی مکارمِ اخلاق رکھتے ہیں۔‘‘ بے نظیر بھٹو موجودہ اور سابقہ خاتون وزرائے اعظم اور صدور کی تنظیم کونسل آف ویمن ورلڈ لیڈرز کی سرگرم اور بانی رکن تھیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت اور ہیئت مقتدرہ کے درمیان سنگین نظریاتی اختلافات پیدا ہو گئے۔ دو سال سے بھی کم عرصے کے بعد 6 اگست 1990ء کے روز ان کی حکومت کو صدر غلام اسحاق خان نے بدعنوانی کے الزامات لگا کر برطرف کر دیا جنہوں نے یہ اختیار آئین کی متنازعہ آٹھویں ترمیم کے تحت استعمال کیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور ہیئت مقتدرہ کے مابین تعلقات خوشگوار نہیں تھے۔ اکتوبر 1990ء کے الیکشن کے بعد نواز شریف اقتدار میں آ گئے۔ اگلے تین سال وہ وزیراعظم اور محترمہ بے نظیر بھٹو حزبِ اختلاف کی قائد رہیں۔ بے نظیر بھٹو 18 جولائی 1993ء کے روز صدر اور وزیراعظم دونوں کے استعفوں کے بعد دوبارہ اقتدار میں آ گئیں۔ یہ اس وقت ہوا جب جعلی انتخابات کے بارے میں میاں نواز شریف کے اپنے اتحادیوں کی طرف سے کہانیاں اور ایسی دیگر باتیں سامنے آئیں اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے ’’لانگ مارچ‘‘ یعنی نئے انتخابات کے لئے تحریک شروع کر دی۔ اس کا نتیجہ صدر اور وزیراعظم دونوں کی رخصتی کی صورت میں نکلا۔ اس کے بعد قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے نئے انتخابات کا اعلان کیا گیا۔ یہ انتخابات بالترتیب 6 اور 9 نومبر 1993ء کو منعقد ہوئے۔

انتخابات میں کسی پارٹی کو حتمی اکثریت نہ ملی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنائی۔ بے نظیر بھٹو نے 19 اکتوبر 1993ء کے روز وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھایا۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار فاروق احمد خان لغاری قائم مقام صدر وسیم سجاد کے 168 ووٹوں کے مقابلے 274 ووٹ لے کر صدر بن گئے۔ اپنی دوسری مدتِ اقتدار کے دوران بے نظیر کو حزبِ اختلاف کی طرف سے ایک بار پھر مشکلات کا سامنا رہا ۔ اس دور کا ایک نمایاں واقعہ امریکی خاتونِ اول ہلیری کلنٹن اور ان کی بیٹی چیلسی کا 1995ء میں دورئہ پاکستان تھا۔ ہلیری کلنٹن کے دورے سے پاکستان کے بارے میں دنیا کا تاثر بہت حد تک بدل گیا اور پاکستان ایک روشن خیال، جدید اور ترقی پسند ملک کی حیثیت سے سامنے آیا۔ اپریل 1994ء میں بے نظیر بھٹو نے امریکہ کا دورہ کیا اور ادائیگی کے باوجود امریکہ کی طرف سے روکے گئے ایف سولہ طیاروں کے بارے میں اپنی حکومت کا مؤقف واضح کیا۔ ان کے دورے کے نتیجے میں 21 ستمبر 1995ء کو امریکی سینیٹ سے برائون ترمیم پاس کی جس کے نتیجے میں پاکستان پر لگی پابندیاں نرم ہو گئیں۔ اس سے ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری کی آمد میں بھی مدد ملی۔ تمام تر سیاسی کوششوں کے باوجود حکومت اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے درمیان ہموار تعلقات استوار نہ ہو سکے۔ 20 ستمبر 1996ء کے روز بے نظیر بھٹو کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کو پراسرار حالات میں ایک پولیس مقابلے میں قتل کر دیا گیا۔ انہی کے دورِ حکومت میں ان کے بھائی کے اس ہائی پروفائل سے ان کے سیاسی کیریئر کو خاصا نقصان پہنچا۔ صدر اور بے نظیر بھٹو کی حکومت کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو رہے تھے۔ اختلافات اس وقت ابھرے جب حکومت کو محسوس ہوا کہ صدر حکومتی سیاسی معاملات میںدخل د ے رہے ہیں۔ 5 نومبر 1995ء کے روز صدر فاروق لغاری نے بدعنوانی اور بدانتظامی کے الزامات کے تحت آٹھویں ترمیم کے آرٹیکل 58 ٹو بی کے ذریعے ان کی حکومت ختم کر دی۔

6 اگست 1990ء کو صدر غلام اسحاق کے ہاتھوں بدعنوانی کے الزامات پر ان کی پہلی حکومت کے خاتمے کے بعد حکومت پاکستان نے انٹیلی جنس اداروں کو ہدایات جاری کیں کہ ان الزامات کی تفتیش کی جائے۔ چوتھے قومی انتخابات کے بعد نواز شریف وزیراعظم بنے اور انہیں بے نظیر بھٹو کے خلاف عدالتی کارروائی تیز کر دی۔ پورے مغربی یورپ میں، فرانس، سوئٹزر لینڈ، سپین، پولینڈ اور برطانیہ میں پاکستانی سفارت خانوں کو ہدایات دی گئیں کہ وہ اس معاملے کی تفتیش کریں۔ بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کے خلاف کئی مقدمات قائم ہوئے۔ اگرچہ الزامات کبھی ثابت نہ ہو سکے لیکن ان کے تحت آصف علی زرداری نے کم و بیش آٹھ سال کا عرصہ جیل میں گزارا۔ بے نظیر بھٹو نے ہمیشہ یہ مؤقف رکھا کہ ان کے اور ان کے شوہر کے خلاف لگائے گئے الزامات سراسر سیاسی ہیں۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی ایک رپورٹ نے ان کے دعوے کی تصدیق کی۔ اس رپورٹ سے ایسی معلومات سامنے آئیں جن سے پتہ چلتا تھا کہ بے نظیر بھٹو کی 1990ء کی حکومت اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کی انتقامی پالیسی کا نتیجہ تھی۔ اے جی پی رپورٹ میں درج ہے کہ غلام اسحاق خان نے 1990ء سے 1992ء کے دوران قانونی مشیروں کو بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر کے خلاف کرپشن کے 19 مقدمات دائر کرنے کے لئے غیرقانونی طور پر پونے تین کروڑ روپے سے زائد رقم ادا کی۔

1996ء سے 1999ء تک میاں نواز شریف کی طرف سے اور 1999ء سے 2008ء تک پرویز مشرف کی طرف سے بے نظیر بھٹو کے خلاف بے شمار کیسوں اور کرپشن کے الزامات کے باوجود بارہ سال کا عرصہ گزر کر کیسوں کے زائد المعیاد ہو جانے تک انہیں کسی ایک کیس میں بھی سزا نہیں سنائی گئی۔ 1999ء میں بے نظیر بھٹو ایک بار پھر خودساختہ جلاوطنی میں چلی گئیں۔ ان کی غیرموجودگی میں میاں نواز شریف کی بھاری مینڈیٹ والی گورنمنٹ کا تختہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے الٹ دیا جنہوں نے 12 اکتوبر 1999ء کے روز پاکستان کے ’’چیف ایگزیکٹو‘‘ کا عہدہ اختیار کر لیا۔

دبئی میں رہتے ہوئے انہوں نے اپنے تین بچوں کے ساتھ ساتھ اپنی والدہ کی دیکھ بھال کی جو الزائمر کی مریضہ تھیں اور اس دوران لیکچر دینے اور پیپلز پارٹی کے ورکروں سے رابطے میں رہنے کے لئے مسلسل سفر بھی کرتی رہیں۔ اکتوبر 2002ء کے الیکشن میں پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ ووٹ (28.42 فیصد) اور 80 نشستیں (23.16 فیصد) حاصل کیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو صرف 18 سیٹیں ملیں۔ صدر مشرف کی سرپرستی میں پیپلز پارٹی کے چند منتخب امیدواروں نے الگ ہو کر اپنا ایک دھڑا بنا لیا اور اس کا نام پاکستان پیپلز پارٹی (پیٹریاٹ) رکھا۔ اس دھڑے کی سربراہی رائو سکندر اقبال کے ہاتھ میں تھی جو بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی کے سابقہ لیڈر تھے۔ بعد ازاں انہوں نے مشرف کی پارٹی پاکستان مسلم لیگ (قائداعظم) کے ساتھ مل کر حکومت بنا لی اور بالآخر اس میں ضم ہو گئے۔

2002ء کے وسط میں مشرف نے وزرائے اعظم کے لئے دو مرتبہ سے زائد منتخب ہونے پر پابندی لگا دی۔ بے نظیر بھٹو اور مشرف کے دوسرے بڑے حریف میاں نواز شریف دو دو مرتبہ وزیراعظم منتخب ہو چکے تھے۔ عام رائے یہی تھی کہ ان دونوں کو حکومت سے باہر رکھنے کے لئے یہ پابندی لگائی گئی ہے۔ مئی 2006ء میں پاکستان کی تاریخ کا ایک عدیم المثال واقعہ رونما ہوا۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی لندن میں ملاقات ہوئی اور لمبے چوڑے مباحث کے بعد انہوں نے ’’میثاقِ جمہوریت‘‘ کے نام سے ایک دستاویز پر دستخط کئے۔ دیکھتے ہیں کہ بی بی سی نے اس واقعے کو کس انداز میں رپورٹ کیا۔ ’’پاکستان کی سابق وزرائے اعظم بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے 2007ء کے انتخابات سے قبل ایک ’’میثاقِ جمہوریت‘‘ پر دستخط کئے ہیں۔ ’’دونوں کا کہنا ہے کہ وہ انتخابی مہم میں حصہ لینے کے لئے ملک واپس جائیں گے اور جنرل مشرف کی حکومت کو ختم کرنے کے لئے کام کریں گے۔ ’’دونوں سابق وزرائے اعظم نے لندن میں ہونے والی ایک تقریب میں اس میثاق پردستخط کئے۔ اس میں پاکستان کے مستقبل کے لئے کئی اقدامات کا تذکرہ کیا گیا ہے جن میں سے کچھ آئینی ہیں۔ ’’مسز بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی اور مسٹر شریف کی پاکستان مسلم لیگ نے 2002ء کے انتخابات میں مشترکہ طور پر ایک کروڑ کے لگ بھگ ووٹ حاصل کئے تھے۔ پاکستان میں ان کی ذاتی موجودگی کے بغیر ان کی جماعتوں کی پرویز مشرف کی حکومت کے سنجیدہ چیلنج کا مقابلہ کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ ’ ’1999ء میں فوجی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد ان کے کئی ساتھیوں کے بھاگ کر پرویز مشرف کی وفادار پارٹی میں جا ملنے سے ان کی جماعتوں کو سخت نقصان پہنچا۔ ’’بی بی سی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں مسز بھٹو نے ماضی میں دونوں جماعتوں کے مابین پائی جانے والی تلخی کو غیر اہم قرار دے دیا۔ ’’یہ سچ ہے کہ ماضی میں ہم دونوں کی جماعتوں کے درمیان بڑے اختلاف رہے ہیں لیکن اب ہم دونوں فوجی آمریت کے ڈسے ہوئے ہیں اور اس لئے ہمیں وسیع تر منظرنامے کی تفہیم حاصل ہو گئی ہے۔‘‘ بے نظیر بھٹو 2007ء میں پاکستان واپس آنے کے ارادے کا اظہار کر چکی تھیں، مئی 2007ء میں انہیں انتخابات سے پہلے وطن واپس آنے کی اجازت نہ دینے کے مشرف کے بیان کے باوجود جس پر انہوں نے عمل کیا۔ جولائی 2007ء میں ان کے منجمد کردہ اثاثوں میں سے کچھ ریلیز کر دیے گئے۔ ان کے خلاف کرپشن کے مقدمات بدستور جاری رہے۔ 29 اگست 2007ء کے روز بے نظیر بھٹو نے اعلان کیا کہ مشرف آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں گے۔ یکم ستمبر 2007ء کو انہوں نے مشرف کے اتحادیوں پر الزام لگایا کہ وہ اختیارات کی تقسیم اور جمہوری اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ بن کر پاکستان کو بحران میں دھکیل رہے ہیں۔ انہوں نے اقتدار کی ہموار منتقلی اور سویلین اقتدار کی واپسی پر زور دیا اور جنرل پرویز مشرف سے مطالبہ کیا کہ وہ وردی اتار دیں۔

2 اکتوبر 2007ء کے روز مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کی حیثیت سے استعفیٰ دے کر ایک سویلین رول میں آنے کی تیاری شروع کر دی۔ 5 اکتوبر 2007ء کو انہوں نے قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او) پر دستخط کئے جس کے تحت بے نظیر بھٹو اور دیگر سیاسی لیڈروں کو ان کے خلاف دائر کئے گئے تمام مقدمات سے رہائی مل گئی۔ یہ آرڈیننس مشرف کے نہایت اہم صدارتی انتخاب سے ایک دن پہلے جاری ہوا۔ پیپلز پارٹی نے اس انتخاب میں ووٹ دینے سے احتراز کیا۔ تاہم پرویز مشرف کو صدر منتخب کر لیا گیا۔ سپریم کورٹ نے یہ اعلان کیا کہ جب تک یہ فیصلہ نہ کر لیا جائے کہ آیا آرمی جنرل رہتے ہوئے پرویز مشرف کا صدارت کے انتخاب میں حصہ لینا قانونی تھا یا نہیں، کسی کو فاتح قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بے نظیر اس خطرے سے بخوبی واقف تھیں جو پاکستان واپس آ کر انتخابی مہم میں شریک ہونے کی صورت میں ان کی جان کو لاحق ہوتا۔ 28 ستمبر 2007ء کو سی این این کے رپورٹر وولف بلٹزر کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے اعتراف کیا کہ ان پر حملہ ہو سکتا ہے۔

دبئی اور لندن میں جلاوطنی کے آٹھ سال گزارنے کے بعد 18 اکتوبر 2007ء کے روز وہ 2008ء کے قومی انتخابات میں حصہ لینے کے لئے وطن واپس آئیں۔ اس روز ایک جلسے میں شریک ہونے کے لئے کراچی جاتے ہوئے، ان کے جناح ایئرپورٹ سے نکلنے کے کچھ دیر بعد دو دھماکے ہوئے۔ وہ خود زخمی نہ ہوئیں لیکن ان دھماکوں میں جو بعد میں خودکش ثابت ہوئے 176 افراد جاں بحق ہوئے اور کم از کم 450 زخمی ہوئے۔ پیپلز پارٹی کے متعدد سینئر کارکن شدید زخمی ہوئے۔ بے نظیر بھٹو کراچی میں تقریباً دس گھنٹوں کی پریڈ کے بعد اپنے سوجے ہوئے پیروں سے سینڈل اتارنے کے لئے ٹرک کے آہنی کمانڈ سنٹر میں اتری ہی تھیں کہ دھماکے ہو گئے۔ انہیں جائے وقوعہ سے بحفاظت محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا۔ اس قاتلانہ حملے کے کچھ ہی عرصہ بعد بے نظیر بھٹو نے پرویز مشرف کو ایک خط لکھ کر چار افراد کی نشاندہی کی جن پر انہیں اس حملے میں ملوث ہونے کا شبہ تھا۔ 3 نومبر 2007ء کو صدر پرویز مشرف نے سپریم کورٹ کے اقدامات اور ملک میں مذہبی انتہاپسندی کے بہانوں کا سہارا لے کر ایمرجنسی نافذ کر دی۔ بے نظیر بھٹو اس وقت اپنی فیملی سے ملنے دبئی گئی ہوئی تھیں۔ انہوں نے اپنا دورہ مختصر کیا اور وطن واپس آ گئیں۔ ایئرپورٹ پر نعرے لگاتے کارکنوں نے ان کا استقبال کیا۔ کئی گھنٹوں تک طیارے میں بیٹھے رہنے کے بعد انہیں لاہور میں سینکڑوں کارکنوں کی ہمراہی میں ان کے گھر تک پہنچا دیا گیا۔ انہوں نے یہ بات تسلیم کی کہ پاکستان کو اس وقت سیاسی بحران کا سامنا ہے لیکن یہ بھی کہا کہ اگر ایمرجنسی نہ اٹھائی گئی تو منصفانہ انتخابات کا انعقاد محال ہو جائے گا۔ 8 نومبر 2007ء کو ایمرجنسی کے خلاف ایک ریلی سے خطاب اور اس کی قیادت کرنے سے چند گھنٹے پہلے نظربند کر دیا گیا۔

امریکہ کے نیشنل پبلک ریڈیو کو ٹیلی فون پر دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا۔ ’’مجھے گھر کے اندر نقل و حرکت کی آزادی ہے۔ گھر سے باہر نکلنے کی آزادی نہیں۔ انہوں نے گھر کے اند رپولیس کی بھاری نفری تعینات کر رکھی ہے اور گھر کے باہر چاروں طرف چار ہزار پولیس والے موجود ہیں یعنی ہر دیوار پر ایک ہزار پولیس والے۔ وہ پڑوسیوں کے گھروں میں بھی داخل ہو گئے ہیں اور میں ابھی ابھی ایک پولیس والے سے بات کر رہی تھی، میں نے کہا۔ ’’کیا تمہیں یہاں ہمارے پیچھے ہونا چاہئے؟ کیا تمہیں اسامہ بن لادن کی تلاش میں نہیں ہونا چاہئے۔‘‘ اور اس نے کہا۔ ’’معافی چاہتا ہوں بیگم صاحبہ، یہ ہمارا کام ہے۔ ہم وہی کر رہے ہیں جس کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔‘‘ اگلے روز پاکستانی حکومت نے اعلان کیا کہ بے نظیر بھٹو کی گرفتاری کے وارنٹ واپس لے لئے گئے ہیں اور انہیں سفر کرنے اور عوامی اجتماعات میں شریک ہونے کی اجازت ہوگی۔ تاہم، حزبِ اختلاف کی دوسری جماعتوں کے قائدوں کے عوامی اجتماعات میں تقریر کرنے پر لگی پابندی برقرار رہی۔

24 نومبر 2007ء کے روز بے نظیر بھٹو نے جنوری کے پارلیمانی انتخابات کے لئے اپنی نامزدگی کے کاغذات جمع کرائے۔ دو دن بعد انہوں نے لاڑکانہ کے حلقے سے دو باقاعدہ نشستوں کے لئے کاغذات جمع کرائے۔ انہوں نے ایسا اس لئے کیا کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے وطن واپسی کے نہایت دشوار مرحلے سے گزر کر پاکستان آ سکیں اور امیدواری کے کاغذات جمع کرا سکیں۔ 30 نومبر 2007ء کو فوج کے چیف کے منصب سے استعفیٰ دے دینے کے بعد پرویز مشرف نے ایک سویلین صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا تو انہوں نے 16 دسمبر 2007ء کو ایمرجنسی اٹھا لینے کے منصوبے کا اعلان کیا۔ بے نظیر بھٹو نے اس اعلان کو خوش آمدید کہہ کے ایک منشور جاری کیا جس میں داخلی محاذ پر پارٹی کے ایشوز کا خاکہ درج تھا۔

4 دسمبر 2007ء کو بے نظیر بھٹو نے نواز شریف سے ملاقات کی تاکہ جنوری کے پارلیمانی انتخابات سے پہلے ایمرجنسی اٹھانے کے لئے پرویز مشرف سے مشترکہ مطالبہ کیا جائے اور مطالبہ منظور نہ ہونے کی صورت میں انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دی جائے۔ انہوں نے ایک کمیٹی بنانے کا وعدہ کیا جو کہ پرویز مشرف کو ان کے انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے شرائط پر مبنی ایک فہرست پیش کرے گی۔

27 دسمبر 2007ء کو بے نظیر بھٹو کو اس وقت شہید کر دیا گیا جب وہ راولپنڈی کے لیاقت باغ سے پیپلز پارٹی کی ایک ریلی سے خطاب کرنے کے بعد نکل رہی تھیں۔ اس روز انہوں نے جنوری 2008ء کے انتخابات سے پہلے اپنے کارکنوں سے خطاب کیا تھا۔ اپنی بلٹ پروف گاڑی میں بیٹھنے کے بعد، وہ ہجوم کے نعروں کا جواب دینے کے لئے گاڑی کی سن روف سے باہر نکلیں۔ اس وقت ایک بندوق بردار نے ان پر گولیاں چلائیں اور اس کے گاڑی کے نزدیک دھماکے ہوئے جن میں کم و بیش 20 افراد جاں بحق ہو گئے۔ بے نظیر بھٹو شدید زخمی ہوئیں اور انہیں فوراً راولپنڈی کے جنرل ہسپتال پہنچایا گیا۔ 5 بج کر 35 منٹ پر انہیں سرجری میں لے جایا گیا اور 6 بج کو 16 منٹ پر ان کی شہادت کا اعلان کر دیا گیا۔ آصف علی زرداری اور ان کے بچے جمعرات کو رات گئے دبئی سے واپس پہنچے اور ان کے جسد خاکی کو فوج کے خصوصی طیارے میں لے کر راولپنڈی سے لے کر سندھ میں ان کے آبائی گائوں گڑھی خدابخش میں پہنچے۔ لاکھوں سوگواروں کی موجودگی میں انہیں ان کے والد کے پہلو میں ان کے آبائی قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔

ان کی شہادت کے فوراً بعد فسادات شروع ہو گئے جن میں قریباً بیس افراد جاں بحق ہوئے جن میں سے تین پولیس والے تھے۔ ڈھائی سو کے لگ بھگ کاریں جلائی گئیں۔ غم و غصے کے مارے ہوئے بے نظیر کے حامیوں نے اس ہسپتال پر پتھرائو کیا جہاں انہیں رکھا گیا تھا۔ 29 دسمبر 2007ء کے روز حکومت پاکستان نے کہا کہ بلوائیوں نے نو الیکشن آفس، 176 بینک، 34 گیس سٹیشن، ریل کی 72 بوگیاں، 18 ریلوے سٹیشن، اور سینکڑوں کاریں اور دکانیں جلا دیں۔ صدر مشرف نے تین دن کا سوگ منانے کا اعلان کیا۔

بے نظیر بھٹو کی شہادت پر بین الاقوامی برادری کی طرف سے پُرزور مذمتی بیانات جاری کئے گئے۔ اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے ہنگامی میٹنگ کا انعقاد کیا اور ان کے قتل کی بالاتفاق مذمت کی۔ حکومت پاکستان نے بے نظیر بھٹو کی سالگرہ پر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا نام دے کر ان کی یاد کو عزت بخشی۔ سندھ کے شہر نواب شاہ کا نام ان کے اعزاز میں بے نظیر آباد رکھ دیا گیا۔ پاکستان کے غریب ترین طبقات کو مالی اعانت فراہم کرنے والے پروگرام، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام ان کے نام پر رکھا گیا ہے۔ 2009ء میں چھ دیگر افراد کے ہمراہ اقوامِ متحدہ کی طرف سے انہیں انسانی حقوق کے شعبہ میں یونائیٹڈ نیشنز پرائز دیا گیا۔

بے نظیر بھٹو نے تین کتابیں اور متعدد مضامین لکھے۔ شہادت کے وقت تک ان کی تیسری کتاب ’’مفاہمت: اسلام، جمہوریت اور مغرب‘‘ کا مسودہ ہارپرکولنز پبلشرز کو موصول ہو چکا تھا۔ مارک سیگل کے ساتھ مل کر لکھی جانے والی اس کتاب کو فروری 2008ء میں شائع کیا گیا۔

چند مختصر خاکے[ترمیم]

ارسطو[ترمیم]

ارسطو، یونانی دانشور، فلسفی اور سائنسدان، قدیم تاریخ کے عظیم ترین دماغوں میں شامل تھا۔ فلسفیانہ اور سائنسی نظام ہائے عمل کی ترقی و ترویج میں اس کے کردار نے مغربی دانشورانہ سوچ کے لئے معیارات کا تعین کیا۔ سائنسی دنیا میں اس کی اہمیت بے مثال ہے۔ ارسطو نے روایتی منطق کے مطالعہ کی ایجاد کی اور اس کے اصولوں کا اطلاق طبیعیات، کیمیا، حیاتیات اور حیوانیات پر کیا۔ اس کے علاوہ، انسانی وجود کے مظہر پر اس کی نگاہ نفسیات اور ادب کے شعبوں تک محیط تھی۔ سیاسی اور اخلاقی نظریات پر ارسطو کی تحاریر اور تقاریر کو جدید فلسفہ میں آج بھی پڑھا جاتا ہے اور ان پر بحث کی جاتی ہے۔

چارلس ڈیگال[ترمیم]

سپاہی، مصنف اور سربراہِ مملکت چارلس ڈیگال نے دوسری جنگ عظیم کے دوران فرانسیسی مزاحمت کی علامت کے طور پر عالمگیر شہرت حاصل کی۔ وہ فرانس کی پانچویں جمہوریہ کے بانی صدر بنے اور 1958ء سے لے کر 1969ء تک خدمات انجام دیں۔ پہلی جنگ عظیم میں ایک لیفٹیننٹ کی حیثیت سے حصہ لیتے ہوئے ڈیگال تین مرتبہ زخمی ہوئے اور جنگی قیدی کی حیثیت سے تین سال دشمن کے اسیر رہے۔ دوسری جنگ عظیم چھڑنے کے بعد ڈیگال کو ترقی دے کر انڈر سیکرٹری آف وار بنا دیا گیا۔ جرمنوں کی حمایتی وچی گورنمنٹ کے قیام پر ڈیگال انگلینڈ چلے گئے۔ ریڈیو پر فرانسیسی عوام سے مزاحمت اور جدوجہد جاری رکھنے کی اپیلیں کرنے پر ان کی غیرحاضری میں انہیں سزائے موت سنا دی گئی۔ اس کے باوجود، ڈیگال نے فرانس کی آزادی اور مزاحمتی قوتوں کی تیاری کا کام جاری رکھا۔

بالآخر ڈیگال اتحادی افواج کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے اور 1944ء میں انہیں عارضی حکومت کا صدر بنا دیا گیا۔ 1958ء میں ایک مرتبہ پھر نئی حکومت بنانے کے لئے ان کی طرف رجوع کیا گیا اور وہ پانچویں جمہوریہ کے صدر بنے۔۔

کنفیوشس[ترمیم]

کنفیوشس چین کے مشہور ترین استاد، فلسفی اور سیاسیاتی نظریہ ساز تھا۔ اس کے تصورات اور نظریات نے پورے مشرقی ایشیا کی تہذیبوں کو متاثر کیا۔ کنفیوشس 551 قبل مسیح میں پیدا ہوا اور کم عمری میں ہی باپ کے سائے سے محروم ہو گیا۔ تعلیم کا زیادہ تر حصہ خود آموختگی پر مشتمل ہونے کے باوجود، وہ اپنے دور کا سب سے صاحب علم شخص بنا۔ اپنے وقت کے معاشرتی حالات نے اس پر گہرا اثر چھوڑا اور اس نے اپنی زندگی سماجی اصلاحات کے لئے وقف کر دی۔ اس نے بنیادی طور پر خلوص کی اہمیت پر زور دیا اور اس کی تمام تر تعلیم اخلاقیات کے گرد گھومتی تھی۔ اس کا عقیدہ تھا کہ ایک حکومت کی ذمہ داری حکمرانوں کے سامانِ تعیش کا اہتمام نہیں بلکہ عوام کی خوشحالی ہے۔

کنفیوشس کوئی ایسا سرکاری عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا جس پر رہتے ہوئے وہ اپنے اصلاحی تصورات و نظریات کا اطلاق کرنے کی کوشش کر سکتا لہٰذا اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ اس نے شاگردوں کی ایک چھوٹی سی جماعت کو تعلیم دیتے ہوئے گزارا۔ اس کی موت کے بعد اس کے شاگردوں نے اس کی تعلیمات کو جمع کیا جنہیں ’’ملفوظات‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ تعلیمات چین کے علاوہ کوریا، جاپان اور ہند چینی (میانمر، کمبوڈیا، تھائی لینڈ، لائوس اور مالے پر مشتمل خطہ) کے سماجی طرزِ زندگی کی بنیاد بنیں۔ اس اعتبار سے کنفیوشس کو غالباً دنیا کی سب سے پُراثر شخصیت قرار دیا جا سکتا ہے۔

ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور[ترمیم]

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے 34 ویں صدر اور جنگ عظیم دوم میں اتحادی افواج کے سپریم کمانڈر کے طور پر ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور کی کامیابی کا راز دیانتداری، انکساری اور مستقل مزاجی کی خصوصیات کے امتزاج میں پوشیدہ ہے۔ آئزن ہاور نے ویسٹ پوائنٹ سے گریجویشن کی اور پہلی جنگ عظیم کے دوران ایک ٹینک ٹریننگ سنٹر کی کمانڈ کرتے رہے۔ دوسری جنگ عظیم چھڑنے کے بعد، آئزن ہاور کو آرمی کے جنگی منصوبہ بندی کے ڈویژن میں تعینات کر دیا گیا جہاں انہوں نے یورپ پر اتحادی افواج کے حملے کی حکمت عملی تیار کی۔ بعد ازاں انہیں یورپ میں امریکی افواج کے کمانڈر کے طور پر منتخب کر لیا گیا۔

فوج سے ریٹائر ہو کر انہوں نے یونیورسٹی آف کولمبیا کی صدارت سنبھالی اور جنگ کے متعلق اپنی مقبول ترین روئیداد تحریر کی۔ امریکہ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں، ری پبلکن اور ڈیموکریٹک، کی خواہش تھی کہ آئزن ہاور ان کی طرف سے صدارتی انتخابات میں امیدوار کے طور پر حصہ لیں۔ آئزن ہاور نے ری پبلکن پارٹی کا انتخاب کرتے ہوئے 1952ء اور 1956ء کے صدارتی انتخابات میں حصہ لیا اور دونوں مرتبہ فتح حاصل کی۔ امریکی عوام میں انہیں بے پناہ مقبولیت حاصل تھی۔ انہوں نے معاضوں کی کم از کم حد کو بڑھانے اور سوشل سیکیورٹی کا دائرہ وسیع کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ صحت، تعلیم، عوامی فلاح اور ناسا کے ادارے بھی قائم کئے۔

فرینکلن ڈی روزویلٹ[ترمیم]

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے 22 ویں صدر فرینکلن ڈیلانو روزویلٹ نے 12 سال سے زائد عرصے تک بہ حیثیت صدر خدمات انجام دیں۔ یہ مدت امریکی تاریخ کے کسی بھی صدر کی مدتِ صدارت سے زیادہ ہے۔ امریکی معاشی انحطاط کے مشہور دور ’’گریٹ ڈپریشن‘‘ کے دوران انہوں نے معاشی بحالی پر اثرانداز ہونے کے لئے وفاقی قوت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا اور دوسری جنگ عظیم کے دوران ایک مرکزی اتحادی لیڈر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ روزویلٹ نے ہارورڈ یونیورسٹی اور کولمبیا یونیورسٹی سکول آف لاء میں تعلیم حاصل کی۔ 1910ء میں نیویارک سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے اور تین سال بعد انہیں بحری افواج کا اسسٹنٹ سیکرٹری منتخب کر لیا گیا۔ پولیو کا شکار ہونے کے باوجود وہ ڈیموکریٹک سیاست میں سرگرم رہے اور 1928ء میں نیویارک کے گورنر منتخب ہوئے۔ 1933ء میں صدرِ امریکہ منتخب ہونے کے بعد، انہوں نے بڑی تیزی سے ایک معاشرتی پروگرام منظور کروایا جسے ’’نیو ڈیل‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس پروگرام کے تحت مختلف وفاقی اداروں کے ذریعے عوام کو ریلیف، قرضے اور ملازمتیں فراہم کی گئیں۔ روزویلٹ نے فوجی مصنوعات کی صنعت کو متحرک کیا اور برطانیہ کو فراہم کی جانے والی امداد میں اضافہ کیا۔ انہوں نے برطانیہ اور سوویت یونین کے ساتھ مل کر وہ اتحاد بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا جو دوسری جنگ عظیم میں فتح یاب رہا۔

جارج واشنگٹن[ترمیم]

امریکی جنرل، امریکی انقلاب کے دوران نوآبادیاتی افواج کے کمانڈر انچیف اور بعد ازاں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے پہلے صدر، جارج واشنگٹن کو امریکہ میں بابائے قوم کے طور پر جانا جاتا ہے۔ واشنگٹن ریاست ورجینیا کے ایک دولتمند گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتداً انہوں نے ایک سرویئر کے طور پر کام کیا اور بعد ازاں فرنچ انڈین جنگ میں حصہ لے کر جنگی تجربہ حاصل کیا۔ ملک کے سر پر کھڑا امریکی انقلاب بعد ازاں انہیں قوم کی مدد کو لانے کا موجب بنا۔

George-Washington.jpg

1775ء میں واشنگٹن کو تمام نوآبادیوں کی افواج کا کمانڈر انچیف منتخب کر لیا گیا۔ اگلے پانچ سال کے دوران، وادیٔ فورج کے یخ بستہ موسم سرما میں بھی، واشنگٹن نے امریکی افواج کو محض اپنی قوتِ کردار کے بل بوتے پر مربوط و منضبط رکھا۔ 1781ء میں یارک ٹائون کے مقام پر کارنوالس کو گرفتار کر کے انہوں نے جنگ کے اختتام پر مہر ثبت کر دی۔ دونوں جماعتوں کی تائید و احترام کے مشترکہ اور واحد سزاوار ہونے کی بناء پر، واشنگٹن کو بلامقابلہ کانسٹی ٹیوشنل کنونشن کا صدر منتخب کر لیا گیا۔ 1789ء میں انہیں پہلی مرتبہ صدرِ امریکہ چنا گیا اور 4 سال بعد ایک دفعہ پھر اس عہدے کے لئے انہی کو مناسب سمجھا گیا۔

جان ایف کینیڈی[ترمیم]

جان ایف کینیڈی صرف 43 سال کی عمر میں صدرِ امریکہ منتخب ہوئے۔ امریکی تاریخ کے کم عمر ترین صدر ہونے کے علاوہ وہ پہلے رومن کیتھولک تھے جو اس عہدے تک پہنچے۔ کینیڈی نے 1936ء میں ہارورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن کی اور دوسری جنگ عظیم سے کچھ عرصہ قبل امریکی بحریہ میں شامل ہو گئے۔ بحرالکاہل میں فرائض کی انجام دہی کے دوران جاپانیوں نے ان کی کشتی PT 109 کو ڈبو دیا۔ زخمی ہونے کے باوجود کینیڈی نے اپنی کشتی کے عملے کو بچانے میں بہادرانہ کردار ادا کیا۔

کانگریس اور سینیٹ کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد، 1960ء میں کینیڈی کو صدرِ امریکہ منتخب کیا گیا۔ اپنے سٹائل، شخصی کشش اور خطیبانہ اہلیت کی بدولت وہ اندرون و بیرون ملک داد و تحسین کے مستحق ٹھہرے، لیکن 1963ء میں ایک قاتل کی گولی نے ان کی زندگی کو المیہ انجام سے دوچار کر دیا۔ ان کے کارہائے نمایاں میں امریکی امن افواج کا قیام اور کیوبن میزائل بحران سے عمدگی سے عہدہ برآ ہونا شامل ہیں۔ ان کی کتاب ’’حوصلہ مندی کے خاکے (Profiles in Courage)‘‘ نے 1957ء میں پلٹزر پرائز حاصل کیا۔

مہاتما گاندھی[ترمیم]

برٹش راج کے خلاف ہندوستانی قوم پرست تحریک کے رہنما، موہن داس ’’مہاتما‘‘ گاندھی کو ان کے ملک میں بابائے قوم کے طور پر جانا جاتا ہے۔ سیاسی اور سماجی ترقی کے حصول کے لئے اہنسا (عدم تشدد) کا نظریہ پیش کرنے پر انہیں بین الاقوامی سطح پر عزت و احترام حاصل ہوا۔

1888ء میں انگلستان میں قانون کی تعلیم شروع کرنے سے پہلے گاندھی نے ابتدائی تعلیم ہندوستان میں حاصل کی۔ جنوبی افریقہ میں کلرک کی ملازمت حاصل کرنے کی کوششوں کے دوران، وہاں پائی جانے والی نسلی منافرت اور عصبیت نے انہیں بری طرح متاثر کیا۔ وہ اپنے ہم وطن ہندوستانیوں کے ترجمان بن گئے اور حکومت کو للکارنے کی پاداش میں سزائے قید کے مستحق ٹھہرائے گئے۔ 1919ء میں شرانگیزی کے متعلق برطانوی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے وہ ہندوستانی سیاست میں داخل ہوئے۔ وہ انڈین نیشنل کانگریس کے سربراہ کے طور پر ابھرے اور انہوں نے ہندوستان کی آزادی کے لئے غیرمتشددانہ احتجاج کی پالیسی اپنانے پر زور دیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران گوناگوں سختیوں اور دبائو کا شکار ہونے کے باوجود 1947ء میں گاندھی ایک خودمختار ہندوستانی ریاست حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ اس کے ایک سال بعد انہیں قتل کر دیا گیا۔

ونسٹن چرچل[ترمیم]

مصنف، خطیب اور سربراہِ مملکت، سر ونسٹن چرچل نے دوسری جنگ عظیم کے دوران وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ کو شکست کے دہانے سے فتح تک لانے کی مہم کی قیادت کی۔ وہ 1874ء میں انگلینڈ کے قصبے اوکسفرڈ شائر میں پیدا ہوئے اور پہلی جنگ عظیم میں ایک حربی قائد کے طور پر اپنے ملک کے لئے خدمات انجام دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ رکن پارلیمنٹ کے طور پر، ہٹلر کے جرمنی کی طرف سے درپیش خطرات کے متعلق مسلسل انتباہات کرنے کے نتیجے میں انہیں 1939ء میں برطانیہ کا وزیراعظم منتخب کر لیا گیا۔

1940ء میں انہوں نے فرینکلن ڈی روزویلٹ اور جوزف سٹالن کے ساتھ مل کر دوسری جنگ عظیم کے لئے متحدہ حکمت عملی ترتیب دینے کا کام شروع کیا۔ ایک زبردست محب وطن اور اپنے ملک کی عظمت پر رومانوی یقین رکھنے والے فرد کی حیثیت سے چرچل نے اپنے عوام کو وہ مضبوط قیادت اور خلوص فراہم کیا جو کہ بالآخر برطانیہ کی حربی نجات کا سبب بنا۔ 1953ء میں انہیں ان کی کتاب ’’ورلڈ وار‘‘ کے لئے ادب کا نوبل پرائز ملا اور اسی سال انہیں ’’سر‘‘ کا خطاب بھی دیا گیا۔

ولیم جے کلنٹن[ترمیم]

سابق صدر ریاست ہائے متحدہ امریکہ 19 اگست 1946ء کو ولیم جیفرسن بلائتھ چہارم کا نام لے کر ریاست ارکنساس کے شہر ہوپ میں پیدا ہوئے۔ وہ پیدائشی یتیم تھے کیونکہ ان کی پیدائش سے تین ماہ قبل ایک ٹریفک حادثے میں ان کے والد کا انتقال ہو چکا تھا۔ ان کی عمر چار سال تھی جب ان کی والدہ نے راجر کلنٹن سے شادی کر لی۔ ہائی سکول میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران انہوں نے اپنے خاندانی نام کے طور پر کلنٹن اختیار کر لیا۔ ایک طالب علم کے طور پر انہوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس کے علاوہ انہیں سیکسو فون بجانے میں بھی مہارت حاصل تھی اور ایک موقع پر وہ سنجیدگی سے پیشہ ور موسیقار بننے کے بارے میں سوچنے لگے تھے۔ ہائی سکول میں بوائز نیشن کو بھیجے جانے والے وفد کے رکن کی حیثیت سے ان کی ملاقات وائٹ ہائوس میں صدرِ امریکہ جان کینیڈی سے ہوئی۔ اس ملاقات کے نتیجے میں انہوں نے پبلک سروس کے شعبے میں داخل ہونے کا تہیہ کر لیا۔ کلنٹن نے جارج ٹائون یونیورسٹی سے گریجویشن کی اور 1968ء میں اوکسفرڈ یونیورسٹی میں پڑھنے کے لئے رہوڈز سکالر شپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ 1973ء میں انہوں نے ییل یونیورسٹی سے لاء کی ڈگری حاصل کی اور ارکنساس کی سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا۔

1976ء میں انہیں ارکنساس کا اٹارنی جنرل اور 1978ء میں گورنر منتخب کر لیا گیا۔ دوسری مدت کے لئے گورنر کے انتخابات میں شکست سے دوچار ہونے کے 4 سال بعد انہوں نے ایک دفعہ پھر انتخابات میں حصہ لیا اور دوسری مرتبہ ارکنساس کے گورنر بننے میں کامیاب رہے۔ 1992ء کے انتخابات میں ری پبلکن امیدوار اور اس وقت کے صدرِ امریکہ جارج بش اور تیسرے امیدوار راس پیرو کو شکست سے دوچار کرتے ہوئے وہ امریکی سیاسی قیادت کی نئی نسل کے نمائندہ بن کر سامنے آئے۔ 1998ء میں ایک نوجوان خاتون کے ساتھ نامناسب تعلقات کے نتیجے میں کھڑے ہونے والے تنازعے کے سبب صدرِ امریکہ ولیم کلنٹن، امریکی تاریخ میں دار النمائندگان کی طرف سے الزامات کا سامنے کرنے والے دوسرے صدر ثابت ہوئے۔ ان پر سینیٹ میں مقدمہ چلایا گیا۔ ان پر لگائے جانے والے الزامات ثابت نہ ہو سکے۔ انہوں نے اپنے افعال کے لئے پوری قوم سے معافی مانگی جس سے ان کی مقبولیت کی شرح میں عدیم المثال اضافہ ہوا اور وہ صدرِ امریکہ کے طور پر فرائض انجام دیتے رہے۔