لیڈر شپ/لیڈرشپ کا تعارف

ویکی کتب سے
Jump to navigation Jump to search
لیڈر شپ
شروعات | ضابطہ کتاب | فہرست | لیڈر شپ کا تعارف | خصوصیات | مشورہ | مثال | اختتام

لیڈر شپ کی تعریف[ترمیم]

ویبسٹر کی ڈکشنری کی تعریف کے مطابق لیڈرشپ سے مراد ’’رہنمائی کرنے کی اہلیت‘‘ ہے۔ میرین کورز (Marine Corps) کی تعریف کے مطابق لیڈرشپ ذہانت، انسانی تفہیم اور اخلاقی کردار کی ان صلاحیتوں کا مرکب ہے جو ایک فردِ واحد کو افراد کے ایک گروہ کو کامیابی سے متاثر اور کنٹرول کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ لیڈرشپ کبھی بھی آسان نہیں ہوتی۔ کوئی لیڈر اپنے کام میں کتنا بھی ماہر کیوں نہ نظر آئے، اس کی راہ ہمیشہ چیلنجز اور حیرتوں سے پُر ہوتی ہے۔ تاہم، لیڈر چیلنج کا مقابلے کبھی بھی تنہا نہیں کرتا۔ قیادت کی تعریف ہی یہی ہے کہ قائد کے ساتھ ایک گروہ یا تنظیم ضرور ہوتی ہے جو ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے اور ہر ہدف کو حاصل کرنے کے لئے کام کر رہی ہوتی ہے۔ لیڈر کا کام بھی ہر مسئلے کو تن تنہا حل کرنا نہیں ہوتا، بلکہ اپنی اقتداء کرنے والوں کو ان مسائل کے حل کرنے کے لئے تحریک فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اچھے لیڈروں کو علم ہوتا ہے کہ ہر سوال کا جواب ان کے پاس نہیں ہے اور وہ اپنے کام کے حوالے سے مسلسل سیکھتے رہتے اور اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی آبیاری کرتے رہتے ہیں۔ یاد رکھئے کہ ماں کے پیٹ سے لیڈر بن کر کوئی نہیں آتا، سب اپنے ہاتھوں سے اپنی قائدانہ صلاحیت کو تعمیر کرتے ہیں۔ ان صفحات کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ سوچتے رہئے کہ یہاں بتائے گئے اصولوں کو آپ خود اپنی ذات پر کیسے منطبق کر سکتے ہیں۔ یہ بھی یاد رکھئے کہ یہ اصول صرف سیاسی لیڈروں پر لاگو نہیں ہوتے، ہر طرح کے لیڈر کے لئے ان کی افادیت یکساں ہے۔ آپ کسی کاروبار کی قیادت کر رہے ہوں، کسی حکومتی شعبے کا انتظام و انصرام کر رہے ہوں یا محض ان اصولوں کو اپنے گھر کی حد تک آزمانا چاہتے ہوں، یہ آپ کے لئے مفید ثابت ہوں گے۔ جب ہم کامیاب، اعلیٰ مرتبے کے حامل قائدین بارے میں سوچتے ہیں تو ہم ابراہم لنکن یا قائداعظم محمد علی جناح جیسے لوگوں کے بارے میں سوچتے ہیں، جنہوں نے مشکل ادوار میں اپنی قوم کی رہنمائی کی، یا پھر بل گیٹس کے بارے میں جو کالج کی تعلیم مکمل کئے بغیر مائیکروسافٹ کا بانی بنا اور دنیا کا امیر ترین شخص بن گیا۔ اپنے ذاتی میدان یا شعبے کے حوالے سے شاید آپ بھی ایک دو ایسے افراد کے نام گنوا سکیں جو کامیاب لیڈر کی حیثیت رکھتے ہیں، ایسے لوگ جو نابغہ روزگار معلوم ہوتے ہیں اور جن میں معاملات کو سدھارنے اور اپنے ماتحتوں کو متحرک کرنے کا ایک غیرمحسوس وصف ہوتا ہے۔ لیڈروں میں یہ اہلیت ہوتی ہے کہ وہ ایک ہدف کا تعین کریں، اس ہدف کو حاصل کرنے میں دوسروں کو اپنی اعانت کرنے پر آمادہ کریں، اور پھر اپنی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے اسے فتح سے ہمکنار کرا دیں۔ مگر قیادت کی تعریف ہے کیا؟ قیادت کی کوئی ایک متعینہ تعریف نہیں ہے۔ ایک مؤثر لیڈر بننے کے لئے اس بات کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ قیادت کے بارے میں چند عمومی تصورات اور تعریفات کچھ یوں ہیں: ٭ کسی گروہ، ٹیم یا تنظیم کا مقررہ سربراہ ایک لیڈر ہوتا ہے۔ ٭ لیڈر ایک کرشماتی فرد ہوتا ہے جو عمدہ فیصلے کرنے اور دوسروں کو ایک مشترکہ مقصد حاصل کرنے کے لئے متحرک کرنے پر قادر ہوتا ہے۔ ٭ بھرپور انداز میں دوسروں کو اپنی بات سمجھانے اور انہیں متحرک کرنے کا نام قیادت ہے۔ ٭ دوسروں پر اثر ڈالنے کی صلاحیت کا نام قیادت ہے۔ یہ تمام تعریفات اپنی اپنی جگہ پر درست ہیں۔ تاہم ان سب میں ایک بات مشترک ہے: قیادت میں صرف ایک ہی فرد کارفرما نہیں ہوتا۔ اگر افراد کا ایک گروہ آپ کی پیروی نہ کررہا ہو، آپ کی ہدایات پر عمل نہ کر رہا ہو اور آپ پر اعتماد نہ کر رہا ہو تو آپ لیڈر نہیں ہو سکتے۔ یاد رکھئے کہ ایک لیڈر کی حیثیت سے اپنے ماتحتوں، اپنی ٹیم، اپنی تنظیم، اپنے گروہ یا اپنی جماعت کو منصفانہ طور پر اور اخلاقی اصولوں کے ماتحت چلانے کی ذمہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے۔ ’’باس‘‘ یا ’’چیئرمین‘‘ کا خطاب مل جانے سے آپ لیڈر نہیں بن جائیں گے۔ اچھا لیڈر بننے کے لئے ضروری ہے کہ آپ قیادت کے نئے رجحانات کا مطالعہ کر کے اور دوسروں لیڈروں کا مشاہدہ کر کے (بشمول ان کے جو آپ کی اپنی جماعت میں موجود ہیں اور ان کے جو کہ خبروں میں نظر آتے ہیں) اپنی ذات کو مستحکم کریں اور یہ بات تسلیم کریں کہ تجربہ حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کی قیادت کا انداز بھی بدلتا جائے گا۔ مقصدیت اور مقصد، کامیاب لیڈر شپ کے لئے نہایت ضروری ہیں۔ تمام تعاریف سے قطع نظر لیڈر کے پاس ایک قابل اعتناء مقصد کا ہونا ناگزیر ہے۔ واضح مقصد کی عدم موجودی میں، لیڈرشپ اپنی سطح سے گر کر ذاتی جاہ و عظمت کے حصول کی کوشش کا روپ اختیار کر سکتی ہے۔ مثلاً پارلیمنٹ کی رکنیت حاصل کرنے سے آپ کا مقصد محض ایک اہم سیاسی لیڈر کی حیثیت حاصل کرنا نہیں ہونا چاہئے۔ اس کے بجائے، آپ کے پاس کوئی واضح مقصد ہونا چاہئے جیسا کہ حکومت کا حجم کم کرنا یا ایسی پالیسیوں کو ختم کرنا جو کہ عوام کے لئے ضرر رساں ثابت ہو رہی ہیں۔ ’’تلوار کی دھار‘‘ میں ڈیگال لکھتے ہیں کہ ایک لیڈر میں اتنی صلاحیت ہونی چاہئے کہ اس کے ماتحت افراد اس پر اعتماد کر سکیں۔ اسے اپنا تحکم و اختیار منوانے کے قابل ہونا چاہئے۔ لیڈرشپ کی ایک قسم وہ بھی ہے جسے ’’باہم اتفاقِ رائے کی لیڈرشپ‘‘ بھی ہوتی ہے۔ اس موضوع پر اظہارِ خیال کرنے سے پہلے میں ’’باہم اتفاقِ رائے‘‘ کی تعریف کا تعین کرنا چاہوں گا۔ کیا سیاسی حلقوں کے اندر اور ان سے باہر اس تصور کے اطلاق میں کوئی فرق پایا جاتا ہے؟ جب کوئی تجارتی لیڈر یا کوئی سیاسی لیڈر ’’اتفاقِ رائے پیدا کرنے والا‘‘ کہہ کر پکارا جائے تو اس کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ اولاً، لیڈر وہ ہوتا ہے جس کی پیروی دوسرے کریں۔ یہ ایک ایسا فرد ہو سکتا ہے جس کی ذات سے وہ اپنے فیصلوں کے لئے رہنمائی طلب کریں یا جس کی ہدایات پر وہ عمل کریں۔ ثانیاً، لیڈر کو متحرک اور قوت آفریں ہونا چاہئے۔ ایک عظیم لیڈر وہ ہوتا ہے جو خود راستے سے ہٹنے اور دوسروں کو رہنمائی کرنے کا موقع دینے کے ہنر سے واقف ہوتا ہے۔ لیڈر شپ کا مطلب ہمیشہ عنانِ اختیار سنبھالے رہنا نہیں ہوتا، اس کا مطلب اجتماع، نظریئے اور حقیقت کے ماتحت کام کرنا ہوتا ہے۔ نکسن کا کہنا ہے کہ بعض عظیم لیڈر ایسے بھی ہوتے ہیں جو پس منظر میں رہ کر کام کرتے ہیں۔ وہ قوت آفریں ہوتے ہیں کیونکہ راہِ حیات کوئی ہموار رستہ نہیں بلکہ ایک ہمیشہ متغیر رہنے والی صورتِ حال ہے جسے ہینڈل کرنے کے لئے حالات کے مطابق عمل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں اٹھائے جانے والے قدم پہلے سے سوچے سمجھے نہیں ہوتے، صرف ’’عمل کرنے کا انداز‘‘ سوچا سمجھا ہوتا ہے۔ تجسس اور تیقن اس ضمن میں بہترین مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ ثالثاً، ایک لیڈر کو ان کی خدمت کرنے پر کمربستہ ہونا چاہئے جو اس کی پیروی کر رہے ہیں۔ کامیابی حاصل کرنے کے لئے ان کے تجربے اور سوچ کو استعمال کرنا اور انہیں ضروری وسائل فراہم کرنا، سب سے اہم ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں اور متعلقہ تنظیموں کو چاہئے کہ اپنے ارکان کے وعدوں اور ان وعدوں کو پورا کرنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی فہرست تیار کریں۔ تب اس بات کا فیصلہ کیا جا سکے گا کہ آیا وہ مختلف اوقات میں کئے گئے اپنے وعدوں پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔ ایسا کرنے سے ہر جماعت مستقبل کے لئے اپنی صلاحیتوں اور کمزوریوں کا تعین کرنے کے قابل ہو سکے گی اور اس کے ساتھ ساتھ کرنے کے کاموں کے ناممکن ہونے یا نظرانداز کئے جانے کی وجوہات کا پتہ چلانے کے بھی۔ اگر عوام کو وسیع پیمانے پر ان اوامر سے آگاہ کیا جا سکے تو یہ کسی بھی سیاسی جماعت کے مستقبل کے لئے نفع مند ہوگا۔

حقیقی لیڈر کون ہوتے ہیں؟[ترمیم]

حقیقی لیڈر وہ ہوتے ہیں جن میں کسی معاشرے کے انفرادی ارکان کی اجتماعی خواہشات اور توقعات کا پتہ چلانے کے لئے ضروری مگر کمیاب ذہانت اور دوراندیشی کی خصوصیات موجود ہوتی ہیں، تب وہ انفرادی مفادات کو ازسرنو ترتیب دے کر انہیں اجتماعی مفادات کے حصول کی جدوجہد میں شامل کرنے اور میڈیا کے ذریعے انہیں معاشرے کے مختلف طبقات کے سامنے ایسے انداز میں پیش کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں جس سے ان کے جذبات کو تحریک ملے اور وہ اس کی حمایت کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔ کسی مضبوط لیڈر کا تصور کرتے ہی ہمارے پردئہ تخیل پر ایک ایسے فرد کی تصویر ابھرتی ہے جو لوگوں کو مختلف گروہوں میں منقسم نہیں کرتا یا جو زورِ خطابت یا دوسرے جذباتی حربوں سے لوگوں کو اپنے مقام کا قائل کرنے میں کامیاب رہتا ہے۔ لیکن اس کے بجائے، مضبوط لیڈر دیانتداری، باہمی ہمدردی اور ایک بہترین سامع ہونے کی اہلیت کو استعمال کرتا ہے تاکہ وہ مسائل کے ایسے حل نکال سکے جو عوام کے ایک بڑے حصے کے لئے قابل قبول ٹھہریں۔ لیڈر شپ کا آغاز گھر سے ہوتا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے معاشرتی فرائض قبول کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمیں خود کو اور اپنے منتخب کردہ اہلکاروں کو شہریوں کے نمائندہ کی حیثیت سے کئے گئے فیصلوں کے لئے قابل مواخذہ سمجھنا چاہئے۔ جب کسی مسئلے کے پیدا ہونے کی ذمہ داری قبول کرنے کے لئے کسی کی تلاش ہو تو آئینہ دیکھئے اور خود سے پوچھئے۔ ’’میں کیا کر سکتا ہوں؟‘‘ آنے والے لیڈروں کے پاس مستقبل کے لئے ایک تصور، اس خطے کے حسن اور انفرادیت کا گہرا احساس، دوسروں کے ساتھ افہام و تفہیم پیدا کرنے اور مل کر کام کرنے کی اہلیت، اپنے پیروئوں کے لئے احترام کا ہونا لازم ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ انہیں اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ حیثیت میں ایسی قربانیاں دینے پر آمادہ ہونا چاہئے جو کہ لیڈر بننے کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔ یہ سب تصورات زمانہ ماضی سے لے کر زمانہ حال تک رائے دہندگان کے حمایت کردہ خیالات اور اقدار کی بڑی فصاحت سے نمائندگی کرتے چلے آ رہے ہیں۔ تاہم یہ واحد کلئے کی حیثیت نہیں رکھتے۔ لیڈر شپ ان سے آگے بڑھ کر، رائے دہندگان کے خیالات اور اقدار سے اکتساب کرنے اور ان کی نمائندگی کرنے کا نام ہے۔

قائدانہ صلاحیتوں کی نمو[ترمیم]

’’قائدانہ صلاحیت‘‘ کی اصطلاح کا استعمال کیا تو بہت زیادہ جاتا ہے لیکن یہ حقیقت میں ہے کیا؟ لیڈر ایسا کیا کرتے ہیں جو انہیں لیڈر بنا دیتا ہے؟ کیا قائدانہ صلاحیتیں حاصل کی جا سکتی ہیں؟ جی ہاں، قائدانہ صلاحیتیں حاصل کی جا سکتی ہیں یعنی لیڈر شپ سیکھی جا سکتی ہے۔ یہ امر نہایت خوش آئند ہے کیونکہ ہر شعبہ ہائے زندگی میں حقیقی لیڈروں کی جتنی سخت ضرورت ہے، اتنی ہی سخت قلت بھی ہے۔ اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے ذریعے اپنی تنظیم کے مقاصد کے حصول سے ہٹ کر، ایک لیڈر کی سب سے بڑی ذمہ داری نئے لیڈر تیار کرنا ہوتی ہے۔ حقیقی قیادت کا تقاضا ہی یہی ہے کہ آپ اپنے ماتحتوں کو بھی لیڈر بنا دیں۔ ایک قائد کی حیثیت سے آپ کے بنیادی مقاصد میں سے ایک اپنے ماتحتوں کی سرپرستی اور ان کی نمو کرنا ہے تاکہ کسی وقت، ضرورت پڑنے پر، وہ آپ کی تمام ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہو سکیں۔ اگر آپ ایسا کرنے میں ناکام رہیں تو آ پ کی تنظیم یا جماعت شاید اس وقت تک ہی زندہ رہ پائے جب تک کہ آپ اس کے لیڈر ہیں۔ آپ سے تربیت پانے والے افراد، وہاں سے کام کا آغاز کریں گے، جہاں آپ چھوڑ کر جائیں گے اور آپ کے مقصد کو اتنی آگے لے جائیں گے، جہاں تک آپ اسے تن تنہا پہنچانے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اگر آپ کی جماعت یا تحریک کو زندہ رہنا اور پھلنا پھولنا ہے تو آپ کو اس کے ارکان کو بھی لیڈر بننے کی تربیت دینا ہوگی۔ کمتر درجہ کے لیڈر، دوسروں کی قائدانہ صلاحیتوں کی نمو نہیں کرتے۔ انہیں اندیشہ ہوتا ہے کہ آگے چل کر نئے لیڈر ان کی اپنی حیثیت کے لئے خطرہ بن جائیں گے۔ اپنی جماعت، اپنے مقصد اور خود اپنی بہبود کے لئے اس اندیشے سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے۔ ویسے بھی، خود سوچئے کہ ایک جماعت کے لئے کون زیادہ مفید ثابت ہو سکتا ہے، ایک لیڈر یا ایک ایسا لیڈر جو دوسروں کو بھی لیڈر بنانے کا اہل ہو؟ لہٰذا جب آپ خود لیڈر بن جائیں تو لیڈرشپ کو وسعت دیں۔ اسے اپنی ترجیح بنائیں۔ نہرو اپنی کتاب ’’تاریخ عالم کی جھلکیاں‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’ایک فرد اپنی قابلیت اور صلاحیت کی بدولت ترقی کر سکتا ہے لیکن یہ قابلیت اور صلاحیت اسے حاصل کیسے ہو؟ ایک لڑکا یا لڑکی بہت ذہین ہو سکتے ہیں اور مناسب تعلیم اور تربیت کی مدد سے ایک ہوشیار اور دانا فرد کا روپ اختیار کر سکتے ہیں لیکن اگر تعلیم یا تربیت ہی دستیاب نہ ہوگی تو وہ بیچارہ لڑکا یا لڑکی کیا کریں گے؟‘‘ آیئے، ہم اس لیڈر پر تبادلہ خیال کریں جو ہم سب کی ذات میں موجود ہے۔ ہم ان صلاحیتوں کی نمو کیسے کر سکتے ہیں؟ ہم ان سے فائدہ کیسے اٹھا سکتے ہیں؟ ہم اپنے نوجوانوں میں قائدانہ صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کیسے کر سکتے ہیں؟ ہم اپنے علاقے، شہر، ریاست اور قوم پر اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے کیسے اثرانداز ہو سکتے ہیں؟ میرا یقین ہے کہ عدم مرکزیت کے اس دور میں، ہم میں سے ہر ایک میں اتنی قوت اور اہلیت موجود ہے کہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ اپنی توقع اور امید سے بڑھ کر کر سکیں۔

لیڈرشپ کی اقسام[ترمیم]

نظریاتی تعریف کے مطابق، قیادت ایک فرد یا افراد کے ایک گروہ کی وہ اہلیت ہے جو انہیں عوام کو متاثر کرنے اور ان کے تجویز کردہ راستے کو درست سمجھنے پر آمادہ کرنے کے قابل بناتی ہے۔ سیاسی قیادت کو عمومی طور پر ایک پسندیدہ خصوصیت سمجھا جاتا ہے، ماسوائے اس صورت کے کہ جب ایک لیڈر اپنی حیثیت و مرتبے کے غرور میں اتنا مست ہو جاتا ہے کہ وہ خود کو اپنی جماعت یا انتخاب کنندگان کے سامنے جوابدہ قرار دینے سے انکار کر دیتا ہے۔ بعض رومانی یا فسطائی فلسفوں کے مطابق، قیادت ایک خصوصی حیثیت حاصل کر سکتی ہے لیکن عام جمہوری سیاست میں اسے سیاسی عمل کا ایک عمومی حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات کسی پارٹی کا حکمران طبقہ لیڈر تصور کر لیا جاتا ہے۔ سوویت یونین میں کمیونسٹ پارٹی اپنی اجتماعی لیڈر شپ پر زور دیتی رہی۔ بہت سے ملکوں میں، خصوصاً ایسے ممالک جنہوں نے حال ہی میں آزادی حاصل کی ہے اور جن کی جدید تاریخ میں قومیت پرستانہ جدوجہد شامل ہے، لیڈر کو عوام اور قوم کی اجتماعی شکل تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم تیسری دنیا کے ممالک میں، پائیدار سیاسی اداروں اور معاشی ترقی کی عدم موجودی میں لیڈرشپ کو طویل عرصے تک برقرار رکھنا اکثر ایک مشکل کام ہوتا ہے۔ تیسری دنیا کے ممالک میں، رقبے کی وسعت، آبادی کے حجم اور ملک کے مختلف حصوں میں مختلف زبانیں رائج ہونے کے باوجود بھارت میں ہمیں سیاسی عمل، قیادتوں، سسٹم اور حکومتوں کی کامیابی کے تسلسل کی ایک عمدہ مثال نظر آتی ہے۔ ماہرین عمرانیات عموماً سیاسی قیادت کو ایک ’’تابع متغیر‘‘ کے طور پر بیان کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی مخصوص دور اور جگہ میں ممکنہ قیادت معاشی، معاشرتی اور سماجی حالات کے تحت ابھر کر سامنے آتی ہے۔ جزوی طور پر اس تعریف کو درست قرار دیا جا سکتا ہے اور سیاسی لیڈر وں کو حالات کی پیداوار قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ مفروضہ سیاسی عمل کی ایک اور حقیقت کو نظرانداز کرتا ہوا نظر آتا ہے، وہ یہ کہ بعض اوقات سیاسی قیادت ایک ’’خودمختار متغیر‘‘ کی حیثیت بھی حاصل کر لیتی ہے۔ایسی قیادت معاشرے میں ایک عمل انگیز کا کام کرتے ہوئے معاشی، معاشرتی اور سیاسی میدانوں میں انقلابی تبدیلیاں لانے کا سبب بنتی ہے۔ہوچی منھ اور مائوزے تنگ جیسے لیڈروں نے اپنے معاشروں کو ایک واضح سمت اور صورت دینے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ قیادت کو ایک خودمختار متغیر قرار دینے کے نظریئے پر یقین رکھنے والے دانشوروں کا کہنا ہے کہ تاریخ کا رخ بدلنے میں لیڈروں کا کردار فیصلہ کن حیثیت رکھتا نظر آتا ہے۔ سیاست جدید میں، سیاسی قیادت اور طرزِ حکومت کی نوعیت کو سمجھنے کے لئے، مشہور جرمن ماہر عمرانیات ماکس ویبر کی متعین کردہ درجہ بندی بے حد کارآمد ثابت ہو سکتی ہے۔ ویبر نے یہ کلیہ اخذ کیا کہ بعض افراد محض عادت کی بناء پر سیاسی قیادت کا اتباع کرتے ہیں، بعض کسی مخصوص شخصیت سے وابستگی کی بنیاد پر ایسا کرتے ہیں اور بعض اس لئے کہ سیاسی قیادت ان کے کسی نجی یا عوامی مفاد کے حصول میں مدد دیتی ہے۔ کسی بھی معاشرے میں یہ تینوں طرزہائے حکومت، مختلف انداز میں نظر آتے ہیں لیکن ویبر کی تشخیص کے مطابق، ان میں سے کوئی ایک، کسی ایک معاشرے میں زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ لہٰذا ویبر کی بیان کردہ تعریف کے مطابق ہمیں لیڈرشپ کی تین منطقی اور مثالی اقسام نظر آتی ہیں۔ ایسے افراد جو محض عادت کی بناء پر کسی روایتی قیادت کو قانونی حیثیت دیتے ہیں، ایسے افراد جو کسی پُرکشش شخصیت سے وابستگی اور اعتماد کی بناء پر اسے قانونی حیثیت دیتے ہیں اور ایسے افراد جو اپنے مفادات کی بناء پر کسی قیادت کو منطقی اور قانونی قرار دیتے ہیں۔ جدید سیاست میں، پہلی درجہ بندی پر پورا اترنے والے قائدین میں ہمیں مذہبی لیڈر، قبیلے کے سردار، بادشاہ، جاگیردار اور اس قبیل کے دوسرے افراد نظر آتے ہیں۔ دوسری درجہ بندی میں ہمیں مائوزے تنگ، سوئیکارنو، کوامے انکروما، فیڈل کاسترو اور قائداعظم محمد علی جناح جیسی ممتاز شخصیات ملتی ہیں اور تیسری درجہ بندی میں جدید بیوروکریسی کی مختلف اشکال کے روپ قیادت و اختیار کے مراکز نظر آتے ہیں۔ ایسا عموماً ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔ آیئے ذرا دیکھتے ہیں کہ ہمارے اپنے ملک میں قیادت کی کون سی قسم زیادہ مروج و مقبول رہی ہے۔ ویبر کے بیان کردہ طرز ہائے قیادت کو درست تسلیم کرنے کے باوجود، پاکستان کے معاملے میں ان میں چند ترامیم کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر جاگیردار، اپنے وجود کے لئے نوآبادیاتی آقائوں کے شرمندئہ احسان تھے اور بنیادی طور پر سسٹم میں اپنی موجودی اور کردار کے لئے ’’ریاستی ڈھانچے‘‘ پر انحصار کرتے تھے۔ اپنے ’’مقامی سیاق و سباق‘‘ میں وہ روایتی حکومت و اختیار کی نمائندگی کرتے تھے لیکن قومی سطح پر اپنی اہمیت منوانے کی اہلیت ان میں بہت ہی کم تھی۔ عموماً نوآبادیاتی حکمران اس طبقے کو اپنے اشاروں پر نچاتے تھے اور نوآبادیاتی نظام کے ختم ہو جانے کے باوجود یہ نظام العمل کم و بیش اپنی ابتدائی حالت میں آج بھی برقرار ہے۔ اسی طرح مذہبی عمائدین اور پیر حضرات اپنے لوگوں کے درمیان بے حد اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور مختلف سطحوں پر اس رسوخ کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ اگرچہ ایسے قائدین نے اپنے زبان و بیان کے جواہر کے ذریعے عوام پر اثرانداز ہو کر سیاسی لیڈروں کو کافی مدد پہنچائی ہے لیکن آج تک پاکستان میں کسی مذہبی لیڈر نے اعلیٰ قیادت و اختیار حاصل کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کی۔ قبائلی سرداروں کو یا تو ساتھ ملا لیا جاتا ہے یا حکومتی عوامل کی مداخلت و نفوذ کی مزاحمت کرنے کی پاداش میں مستوجب سزا ٹھہرایا جاتا ہے۔ (روایتی اقتدار، قوت کا خودمختار مرکز نہیں ہوتا۔) چونکہ پاکستان کو اپنے قیام کے ابتدائی سالوں کے دوران ہی دو اہم سیاسی شخصیات سے محروم ہونا پڑا، لہٰذا کوئی ایسی شخصیت سامنے نہ آ سکی جو اپنی کشش کی بدولت پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر اثرانداز ہو سکتی۔بعد ازاں، ایک کرشماتی شخصیت کی حیثیت سے ذوالفقار علی بھٹو کی لیڈرشپ سامنے آئی۔ ان کی کوششیں ’’ممکنات کے فن‘‘ کی حیثیت سے سیاسیات کی جانب جانے والی درست راہ پر اگرچہ ایک قدم تھیں لیکن ان کے دورِ حکومت کے اختصار نے پاکستانی نظامِ حکومت پر کہیں زیادہ دور رس اثرات مرتب کئے۔ جہاں تک ویبر کی بیان کردہ تیسری حکومتی قسم یعنی منطقی قانونی طرزِ حکومت کا تعلق ہے، ہمارے ملکی سیاق و سباق میں بیوروکریسی کی موجودی کو ویبر کے نظریئے سے یکسر مختلف انداز میں دیکھنا پڑے گا۔ نوآبادیاتی حکمرانوں نے سول اور ملٹری اداروں کو بنیادی طور پر اپنے اقتدار کو طوالت دینے کے لئے قائم کیا تھا۔ یہ امر باعث دلچسپی ہوگا کہ سول بیوروکریسی نے اپنے قیام کے مقاصد بڑی خوش اسلوبی سے پورے کئے اور یہاں قیام کے 150 سالوں کے دوران نوآبادیاتی حکمرانوں کو کبھی پورے ملک میں مارشل لاء لگانے کی ضرورت پیش نہ آئی۔ جن عقائد و نظریات پر بیوروکریسی کے اس قلعے کی بنیاد رکھی گئی تھی، انہیں ایک ’’آزاد ملک‘‘ کی ضروریات اور توقعات کے مطابق تبدیل کرنے کی ضرورت کبھی محسوس نہ کی گئی۔ درحقیقت، مختلف عوامل کے زیراثر بیوروکریسی اپنے کردار کو وسعت دیتی رہی اور مارشل لاء پاکستان میں ایک معمول بن کر رہ گیا۔ سول اور ملٹری بیوروکریسی بار بار مسند اقتدار پر پر قابض ہوتی رہی اور ایسا کرنے میں منطقی قانونی طرزِ حکومت کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کر گئی۔ (قوت و اختیار کے حقیقی حاملین کی حیثیت سے بیوروکریسی کے کردار کو خصوصی پاکستانی سیاق و سباق میں سمجھنا ہوگا)۔ ہمیں ویبر کے پیش کردہ مثالی طرز ہائے حکومت سے پرے ہٹ کر پاکستانی سیاسی تھیٹر کے اصولوں کے مطابق چلنا ہوگا تاکہ ہم بڑے سیاسی لیڈروں (درحقیقت حکمرانوں) کی شناخت کر سکیں۔ پاکستان کو وائسریگل سسٹم ورثے میں ملا اور 1935ء کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ میں ترمیم کے بعد اسی نظام نے کام کرنا شروع کر دیا۔ ابتدائی سالوں میں، مغربی پاکستان میں تین حکومتیں برطانوی آئی سی ایس افسران نے تشکیل دیں۔ مشرقی پاکستان میں ’’چیف سیکرٹری‘‘ گورنر جنرل کے نمائندے کی حیثیت سے منتخب وزیراعلیٰ کی سرگرمیوں کی نگرانی کیا کرتا تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ برطانوی راج کے معمولات اب بھی برقرار تھے۔ دو بڑے سیاسی لیڈروں کی رحلت کے بعد، بیوروکریسی اس پوزیشن میں آ گئی کہ دوسروں کو اپنے اشاروں پر نچا سکے۔ 1951ء سے 1956ء کے دورانئے میں، غلام محمد (بیورو کریٹ) آئے جنہوں نے دستور ساز اسمبلی توڑ دی، چوہدری محمد علی (بیورو کریٹ) آئے جنہوں نے 1956ء کا آئین پیش کیا، سکندر مرزا (بیورو کریٹ) آئے جنہوں نے ایوب خان کو مارشل لاء لگانے کا موقع دیا اور ایوب خان (فوجی بیورو کریٹ) آئے جنہوں نے اکتوبر 1958ء میں اقتدار پر قبضہ جما لیا۔ صاف نظر آتا ہے کہ 50ء کی دہائی میں کلیدی عہدوں پر فائز بیوروکریٹ اقتدار میں رہے اور وہی ایسے فیصلے کرنے کے سب سے بڑے ذمہ دار تھے جنہوں نے ملکی مستقبل پر دوررس اثرات مرتب کئے۔ ان بیوروکریٹس کے پاس اقتدار تو تھا لیکن سیاسی قیادت کے حامل ہونے کے ضمن میں ان کا دعویٰ خاصا مشکوک تھا۔ چوہدری محمد علی کبھی کسی گروہ یا گروہوں کے لیڈر نہیں رہے نہ ہی نظامِ اسلام پارٹی کی مرکزی قیادت نے کبھی انہیں اپنا لیڈر تسلیم کیا۔ چونکہ یہ بیوروکریٹ کسی طرح سے بھی سیاسی قوتوں کے نمائندہ نہیں تھے، اس لئے انہیں پاکستانی سیاست کے ڈھانچے سے غیرمتعلق قرار دے دیا گیا۔ 60ء کی دہائی میں ملٹری بیوروکریٹس کی حکمرانی رہی جنہوں نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اہم ترین فیصلے کئے۔ ایوب اور یحییٰ دونوں کے پاس بے پناہ قوت و اختیار موجود تھے لیکن انہیں سیاسی لیڈر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ضیاء کا دورِ حکومت بھی ایک ایسے ملٹری بیوروکریٹ کا دورِ حکومت تھا جس نے 1973ء کے آئین کے تحت قائم ہونے والے سیاسی نظام میں خلل اندازی کی۔ محمد خان جونیجو محض ضیاء کے ہاتھوں برخواست ہو کر گھر جانے کے لئے وزیراعظم بنے۔ 1988ء کے انتخابات کے نتائج نے غلام اسحاق خان (بیوروکریٹ) کو ملک کا صدر بنوایا۔ آٹھویں ترمیم کی پشت پناہی اور اعانت کے ذریعے، انہوں نے اسمبلیاں توڑیں اور وزیراعظم کو برطرف کر دیا۔ بعد ازاں، محترم نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی حکومتیں بھی تحلیل کی گئیں اور بالآخر 1999ء میں فوج نے پرویز مشرف کے زیرسربراہی دوبارہ اقتدار سنبھال لیا۔ اس کے بعد 2007ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے نتیجے میں عوامی جذبات کا ایک طوفان اٹھا جس نے جنرل پرویز مشرف کی حکومت کو ختم کر دیا اور پاکستان میں ایک مرتبہ پھر جمہوری حکومت قائم ہوئی۔ اگرچہ پاکستان کے منظرنامے پر ابھی کوئی ایسا لیڈر نمایاں نظر نہیں آتا جو پوری قوم کو ایک جھنڈے تلے متحد کر سکے تاہم بعض ایسی مثالیں موجود ہیں جن سے کوئی امید وابستہ کی جا سکتی ہے۔ کسی کا نام لینا نامناسب ہوگا، اس کا فیصلہ ہم تاریخ پر چھوڑ دیتے ہیں۔