چراغ

ویکی کتب سے
Jump to navigation Jump to search

جتنے موتی گرے آنکھ سے جتنا تیرا خسارا ہوا دست بستہ تجھے کہہ رہے ہیں وہ سارا ہمارا ہوا

آگرا زندہ شمشان میں لکڑیوں کا دھواں دیکھ کر اک مسافر پرندہ کئی سرد راتوں کا مارا ہوا

ہم نے دیکھا اسے بہتے سپنے کے عرشے پہ کچھ دیرتک پھر اچانک چہکتے سمندر کا خالی کنارا ہوا

جا رہا ہے یونہی بس یونہی منزلیں پشت پر باندھ کر اک سفرزاد اپنے ہی نقشِ قدم پر اتارا ہوا

زندگی اک جوا خانہ ہے جسکی فٹ پاتھ پر اپنا دل اک پرانا جواری مسلسل کئی دن کا ہارا ہوا

تم جسے چاند کا چاند کہتے ہو منصور آفاق وہ ایک لمحہ ہے کتنے مصیبت زدوں کا پکارا ہوا