صراحی

ویکی کتب سے
Jump to navigation Jump to search

رباعیات

صراحی محمد اشفاق چغتائی کی کتابیں

محمد اشفاق چغتائی

انتساب

محمدطہمان فاتح کے نام
صراحی کا دیباچہ۔۔۔اشفاق/آفاق


اے طالبِ تہذیب ِ عدم اوڑھ الف
اے شام بدن، قریہ ئ غم اوڑھ الف
پھر تجھ میں سمٹ آئیں گے دونوں عالم
تُو میم پہن، میرے قلم اوڑھ الف


اے لالہ و گل ، برگ و سمن میم پہن
اے کشف بھری صبحِ چمن میم پہن
اشفاق کہے نور کی معراج اسے
اے حسن صفت، حمد بدن میم پہن


اے دیدہ ٔ زر تار سحر اوڑھ الف
اے رات کی بے نور نظر اوڑھ الف
اک موسمِ گل پوش ازل تک ہوگا
موہوم بہاروں کے شجر اوڑھ الف


تخلیق و عدم ، لوح و قلم صرف خیال
ہر سمت جہاں میں ہے بہم صرف خیال
محسوس کرو خود کو نہ اشفاق یہاں
موجود کوئی اور ہے ہم صرف خیال


ہر لمحہ ہوا آپ (ص) کا توحید بدست
مخلوق ہوئی آپ (ص) سے تمجید بدست
توصیف کریں آپ (ص) کی دونوں عالم
آفاق نماآپ(ص) ہیں خورشید بدست


اس رات کے ڈھلنے میں بڑی دیر ہوئی
سورج کے نکلنے میں بڑی دیر ہوئی
اشفاق کئی توڑے ہیں ایٹم دل نے
پتھر کو پگھلنے میں بڑی دیر ہوئی


الحمد کے پرُشوق مسافر مجھ میں
لاہوتی فضائوں کے ہیں طائر مجھ میں
صحرائے عرب دل میں ہے میرے اشفاق
اونٹوں کی قطاروں کے مناظر مجھ میں


ہے علم مجھے ٹوٹ گیا ہوں اس سے
ہے مجھ میں کہیں، اور جدا ہوں اس سے
اشفاق اسے میری ضرورت کب ہے
میں اپنے لیے بول رہا ہوں اس سے


تقدیر کے پابند کو معلوم نہیں
کچھ پیرِ خرد مند کو معلوم نہیں
یہ اپنی بصارت ہے فسانہ اشفاق
کچھ چشم ِ نظربند کو معلوم نہیں


یہ چاک گریبانی یہ دامن پہ لکیر
کافی نہیں یہ وقت کے جوبن پہ لکیر
تُو نے تو پہن رکھا ہے صوفی کا لباس
اب کوئی لگا سرخ سی گردن پہ لکیر


تسلیم یہاں جام بھی ساقی بھی ہے
تحقیق تری دید فراقی بھی ہے
تعمیر تُو کر آئینہ خانہ لیکن
یہ دیکھ کہ کچھ آنکھ میں باقی بھی ہے


اک حسن ِ دل آویز پہ مر لیں ہم لوگ
اک خوابِ ابد آنکھ میں بھرلیں ہم لوگ
وہ پھونک نہ دے صورِ سرافیل کہیں
کچھ دیر چلو نیند ہی کر لیں ہم لوگ


کس ذات کے بازار میں ہم رہتے ہیں
یوں لگتا ہے دیوار میںہم رہتے ہیں
معلوم نہیں ہوتا یہ صدیوں ہم کو
تہذیب کی کس غار میں ہم رہتے ہیں


اس عالمِ ناسوت میں آئی کیوں ہے
اس قریہ ٔ مبہوت میں آئی کیوں ہے
اشفاق کوئی روح سے پوچھے اتنا
اس جسم کے تابوت میں آئی کیوں ہے


ہر ایک گھڑی کن کی روانی کیا ہے
یہ آدمی کی نقل مکانی کیا ہے
اشفاق فقط رزق کا ہے یہ قصہ
تہذیب و تمدن کی کہانی کیا ہے


افلاک کی تنویر نظر آتی ہے
ادراک میں تقدیر نظر آتی ہے
جب شکل بناتی نہیں منطق تو پھر
کیوں ذہن میں تصویر نظر آتی ہے


اپنے دلِ ناکام سے کیا بات کریں
غم ہائے سیہ فام سے کیا بات کریں
اشفاق یہ خاموش ہے اپنے دکھ سے
اس درد بھری شام سے کیا بات کریں


آنکھوں نے کوئی خواب گنوایا کب ہے
دنیا کو لہو اپنا دکھایا کب ہے
چہرے پہ لکھی میں نے رباعی اشفاق
کاغذ پہ کوئی نقش بنایا کب ہے


اک چاند ستارہ سا علم میں رکھنا
آزاد خیالی کو دھرم میں رکھنا
اشفاق تجھے ربِ محمد(ص)(ص) کی قسم
سچائی کی طاقت کو قلم میں رکھنا


اسلام وہی اور رسالت ہے وہی
جو ایک ہو دنیا میںحکومت ہے وہی
اشفاق مدینہ ہے وفاقی مرکز
اس امتِ مسلم کی ضرورت ہے وہی


کیا قوم کہیں حاملِ تہذیب ہوئی
بارودی سرنگوں کی ہے تنصیب ہوئی
پھر امن کا بندوق سے پرچار ہوا
تعمیر کے پھر نام پہ تخریب ہوئی


نیکی کے ، عبادت کے خزینے کو کہیں
جیون میں سعادت کے قرینے کو کہیں
ہے تزکیۂ نفس کی جنت اشفاق
رمضان ثوابوں کے مہینے کو کہیں


برسات میں ، اشکوں کے مہینے میں آ
دھڑکن کی طرح درد کے سینے میں آ
اشفاق نکل کفر سے باہر کچھ دیر
آ اپنی محبت کے مدینے میں آ


سچائی نظربند نہیں ہے کوئی
اللہ کا فرزند نہیں ہے کوئی
فرعون ہو عیسیٰ ہو کہ مریم اشفاق
انسان خداوند نہیں ہے کوئی


کچھ اور نہیں ، کہیں کوئی سایہ تھا
کہتی ہے ز میں ، کہیں کوئی سایہ تھا
سورج سے بھری ہوئی گلی ہے اشفاق
کل رات یہیں کہیں کوئی سایہ تھا


برسات ہے اور جسم بھی گیلا سا ہے
بارش کا ثمر کڑوا کسیلا سا ہے
کشمیر کی وادی میں ہوں زندہ اشفاق
سردی سے بدن شام کا نیلا سا ہے


اعجازِ طلب کس میں ہے طالب ہے کون
عرفان کسے چاہیے ، کاذب ہے کون
میں دیکھتا ہوں ظرف کی وسعت اشفاق
میں سوچتا ہوں میرا مخاطب ہے کون


مجبور قوانین کی ، قدرت کی غلام
ہے ردِ عمل کوئی نہ طاقت کی غلام
آزاد ہے یہ ذہن ازل سے اشفاق
انسان کی حرکت نہیں فطرت کی غلام


ہر چیز کے انکار میں موجود ہے وہ
اس روح کے اسرار میں موجود ہے وہ
اشفاق عدم سے ہوئی وارد تخلیق
موجود کے اظہار میں موجود ہے وہ


اک نور کی یکجائی ہم آغوش ہوئی
اس ذات کی رعنائی ہم آغوش ہوئی
انسان جو اس جسم سے باہر نکلا
تنہائی سے تنہائی ہم آغوش ہوئی


احساس کے تمثال سے باہر دیکھا
افعال سے اعمال سے باہر دیکھا
مطلوبِ حقیقی ہے جو اپنا اشفاق
اس حسن کو اشکال سے باہر دیکھا


کیا گیت میں سنگیت میں ڈھالا جائے
کیا پھول سے چہرے کو اچھالا جائے
اعمال نظر آتے ہیں خال و خد سے
کیا حسن، تناسب سے نکالا جائے


کیا عرشِ علیٰ طور پہ دیکھا جائے
کیا خواب نیا طور پہ دیکھا جائے
کہسار سیہ آگ سے ہیں وہ اب تک
اللہ کو کیا طور پہ دیکھا جائے


ہے خاک سے کچھ بیر مجھے لگتا ہے
یہ میرا حرم دیر مجھے لگتا ہے
اشفاق جدا اصل سے کرنے والا
یہ جسم کوئی غیر مجھے لگتا ہے


احساس کی یکسوئی ضروری تو نہیں
شعلے کے لیے روئی ضروری تو نہیں
اشفاق بدن خاک بنا لے اپنا
ہونے کے لیے دوئی ضروری تو نہیں


پانی میں کوئی شمع جلائی تو نہیں
پھر طورکی تحریک چلائی تو نہیں
اشفاق کسی تازہ تجلی کے لیے
سورج کی طرف آنکھ اٹھائی تو نہیں


امید ، سیہ خاکِ قفس چھونے لگی
اٹھو کہ سحر تارِ نفس چھونے لگی
وہ رات کے تاریک محل کی چھت پر
دیکھو کہ کرن پیلا کلس چھونے لگی


موسیٰ نے کہیں طور کا جلوہ دیکھا
امت نے اترتا من و سلوی دیکھا
روٹی کے لیے شہر میں شب بھر اشفاق
کب خون میں ڈوبا ہوا بلوہ دیکھا


رنگوں سے کبھی درد کو تصویر کریں
تیشے سے کبھی خواب کی تعبیر کریں
تخلیق کریں جب کوئی خوش کن نغمہ
غمگین خیالات کی تشہیر کریں


سچائی پہ موہوم سی کچھ بات ہوئی
بس موت پہ ہی بزمِ سوالات ہوئی
یہ بات الگ میں نہیں یونان گیا
سقراط سے کچھ دیر ملاقات ہوئی


میں حرف ہوں الفاظ سے چھڑائے کوئی
میں لفظ ہوں جملوں سے بچائے کوئی
اشفاق عمارات بھری ہیں لیکن
مفہوم کتابوں کا بتائے کوئی


دنیا کو نیا نصاب دینا ہوگا
ہر جھوٹ کا اب حساب دینا ہو گا
کس نے ہے بھرا دروغ اتنا تجھ میں
تاریخ ! تجھے جواب دینا ہوگا


خورشید سے آشکار ہے کس کا عکس
ہر پھول میں نو بہار ہے کس کا عکس
اشفاق نہیں کوئی اگر تو پھر بول
آئینے میں بے قرار ہے کس کا عکس


اس میری زمیں کو تُو نے آفاق کیا
اس ذہنِ رسا کو پل میں براق کیا
تجسیم خیالوں کو دی، کچھ خواب بنے
اشفاق کو تُونے ہی تو اشفاق کیا


وہ نقل مکانی تو مجھے یاد نہیں
جنت کی کہانی تو مجھے یاد نہیں
ہے یادشِ مختصر یہی خاک نژاد
ماضی کی نشانی تو مجھے یاد نہیں


صورت ہو بے صورت کی ناممکن ہے
اک دید شہادت کی ناممکن ہے
ہم عرش سے اونچے بھی ہوسکتے ہیں
تسخیر اس وحدت کی ناممکن ہے


یہ پھول ، پرندے اور دریا ہیں کون
کس کی ہیں ہوائیں ، یہ صحرا ہیں کون
ہم لوگ نہیں لگتے ان سے اشفاق
اب اپنے بزرگوں کا ورثہ ہیں کون


ظلمت کے پگھلنے کی صورت ہی نہیں ہے
اس رات کے ڈھلنے کی صورت ہی نہیں ہے
اشفاق قیامت ہے وہ زلفِ تیرہ
اب دن کے نکلنے کی صورت ہی نہیں ہے


دل پہ دیمک سا تبصرہ کون کرے
اپنے دکھ کا مقابلہ کون کرے
مجھ کو قسطوں میں زندگی بخش نہیں
دھیرے دھیرے معاملہ کون کرے


ناقہ تیرے غبار پہ لاکھوں سلام
صحرا تیری بہار پہ لاکھوں سلام
ریتوں سے اٹھ رہی ہے وہ صبح ِ شعور
صدیوں کے غم گسار پہ لاکھوں سلام


راتوں میں تاروں کی چمک کب سے ہے
سورج میں گرمی کی لپک کب سے ہے
اشکوں کی پیدائش کی تاریخ ہے کیا
گردش میں بے رحم فلک کب سے ہے


میں کیسا ہوں ، جسم کا مایا ہے کیسا
کیسی ہے یہ روح ، یہ سایہ ہے کیسا
مٹی ، پانی اور ہوا سے اشفاق
کوزہ گر نے نقش بنایا ہے کیسا


تیروں کی تحریر تجھے یاد نہیں
پانی کی تصویر تجھے یاد نہیں
بادل کے قالین پہ سونے والے
کربل کا شبیر تجھے یاد نہیں


فریادی کا شوخی ٔ تحریر سے پوچھ
اور خالق کا پیکرِ تصویر سے پوچھ
مولائے لاہور ہے اب کون فقیر
ہجویری سے پوچھ، میاں میر سے پوچھ


جگ ہیرہ منڈی ہے آہستہ چل
دنیا اک رنڈی ہے آہستہ چل
پستی میں گر جانے کا خطرہ ہے
کچی پگڈنڈی ہے آہستہ چل


آنکھوں میں نیندیں تھیں، نیندوں میں خواب
خوابوں میں یادیں تھیں یادوں میں خواب
ٹوٹے پھوٹے کرچی کرچی ،پُر آب
شیشے کے ٹکڑے تھے ٹکڑوں میں خواب


پنجرے میں طوطا تھا ۔۔ کچھ یاد نہیں
شہزادہ روتا تھا ۔۔ کچھ یاد نہیں
اک دوجے میں ہوتی تھی جان مگر
پہلے کیا ہوتا تھا ۔۔ کچھ یاد نہیں


مکھن کی چاٹی کو موجود نہ جان
اس زر زن کی گھاٹی کو موجود نہ جان
اُس من کی لاہوتی آغوش میں ڈوب
اس تن کی ماٹی کو موجود نہ جان


تزئین گل و لالہ پہ پابندی تھی
بس مہر بلب رہنا خرد مندی تھی
حیرت سے مجھے دیکھ رہی تھی دنیا
میں بول پڑا تھا کہ زباں بندی تھی


یہ زنگ زدہ کالی صراحی تیری
یہ خواب سمے والی صراحی تیری
کچھ ِاس کے لیے ڈھونڈھ شرابِ کہنہ
پھر بول پڑی خالی صراحی تیری


ٹوٹے ہوئے نیزے کا قلم تھام لیا
مردوں کی طرح دامنِ غم تھام لیا
سچائی کی تحریر پہن لی میں نے
ہارے ہوئے لشکر کا علم تھام لیا


اک صبح صدا آئی یہ مے خانے سے
اب چھین ہی لو درد کو دیوانے سے
اشفاق یہ ہے آخری امیدِ کرم
شاید کہ علاج اس کا ہو مرجانے سے


سیلاب ِ سفر آنکھ کے اندر بھی ہے
پتوار بھی کشتی بھی سمندر بھی ہے
معلوم ہے منزل ہے گریزاں پھر بھی
اشفاق مقدر کا سکندر بھی ہے


پرواز کا اعجاز کہاں سے لائوں
معصوم سا انداز کہاں سے لائوں
تصویر تو کاغذپہ بنا دی میں نے
چڑیا تیری آواز کہاں سے لائوں


وحشت زدہ انسان ابھی ہے شاید
ظلمات کا سامان ابھی ہے شاید
جس روز اتر آئے گا چھت پر سورج
اس صبح کا امکان ابھی ہے شاید


چہرہ کہیں شاداب نہیں ہے کوئی
خوش دیدہ ٔ اعصاب نہیں ہے کوئی
اشفاق عجب دور میں پہنچیں آنکھیں
نیندیں ہیںجہاں خواب نہیں ہے کوئی


برکت بھرے لب، حمد وثنا سی باتیں
خوشبو بھرے الفاظ ، صبا سی باتیں
اشفاق تہجد کی گلی میں ہر روز
آتی ہیں کہاں سے یہ دعا سی باتیں


وحشت کے ہیں آثار ابھی تک مجھ میں
گرتی ہوئی دیوار ابھی تک مجھ میں
اثبات کا امکانِ مسلسل اشفاق
ہر چیز سے انکار ابھی تک مجھ میں


مایوس زمانوں کی ہوا میں صدیوں
ہم سرد جہنم کی سزا میں صدیوں
اک پل کے سویرے کی طلب میں اشفاق
رہتے رہے تاریک فضا میں صدیوں


الفاظ میں اعجازِ ہنر کیسا ہے
افکار میں سورج کا سفر کیسا ہے
اتری ہے کہاں سے تری تازہ منطق
اشفاق یہ اندازِ نظر کیسا ہے


ہم عابد و معبود جہاں سے پہلے
ہم ساجد و مسجود جہاں سے پہلے
اشفاق چمکتا تھا کہیں کوئی ستارہ
ہم لوگ تھے موجود جہاں سے پہلے


اک عرصہ ٔ امکان صراحی میں ہے
افلاک کا عرفان صراحی میں ہے
اک بار اتر روح کے اندر اشفاق
لاہوت کا دالان صراحی میں ہے


اک فطرتِ ادراک پہن لی ہم نے
اک دانشِ چالاک پہن لی ہم نے
مٹی کی کثافت میں کرامت کیا تھی
افلاک پہ ہی خاک پہن لی ہم نے


ہے نور کی پہچان سحر ہونے تک
ہے آس کا سامان سحر ہونے تک
تم دن کے اندھیروں سے شناسا کب ہو
ہے صبح کا امکان سحر ہونے تک


تحقیق ! غلط میرا تھا اندازہ بھی
کچھ میں نے سنا شہر کا آوازہ بھی
اشفاق مجھے بھی ، گھر جانے کی جلدی
زنجیر بکف، یار کا دروازہ بھی


آدم میں، کھلونے میں کوئی فرق نہیں
اس جاگنے سونے میں کوئی فرق نہیں
ہے ایک طرح کثرت و وحدت اشفاق
ہونے میں نہ ہونے میں کوئی فرق نہیں


شیخ فریدالدین عطار کے نام
ہر تخم مرادوں کا ثمر بار سہی
تعبیر کا ہر خواب سزاوار سہی
جنت سے تعاقب میں چلی آتی ہے
اشفاق تجھے موت سے انکار سہی


بیدل کے نام
یہ آگ بھرا نسخہ ٔ شر ، حرف ِ غلط
یہ خیر کا مجموعہ ٔ زر حرف ِغلط
اک لفظِ نفس سے ہے عبارت تخلیق
اشفاق صحیفۂ بشر حرف غلط


میر تقی میر کے لیے
ہر عصر کا ہم ذات رہا ہوں برسوں
میں منزل ِآیات رہا ہوں برسوں
غالب سے مراسم ہیں زیادہ لیکن
میں میر کے بھی ساتھ رہا ہوں برسوں


اک شمع تھی ۔۔ تعبیر پڑی تھی دن کی
اک موم میں تنویر پڑی تھی دن کی
اشفاق اندھیرے سے بھرا تھا کمرہ
بس میز پہ تصویر پڑی تھی دن کی


ویران تھی یادوں کی گلی خالی تھی
ٹوٹے ہوئے وعدوں کی گلی خالی تھی
میں رات بڑی دیر تلک پھرتا رہا
وہ خواب نژادوں کی گلی خالی تھی


کچھ اور ملا رنگِ کفن سے موسم
آباد رہا دار و رسن سے موسم
اشفاق پرندوں کی گرفتاری کا
جاتا ہی نہیں اپنے وطن سے موسم


اس کھیل میں ہم مات بڑی دیر سے ہیں
ٹوٹے ہوئے یہ ہاتھ بڑی دیر سے ہیں
مجذوب بدلتا ہی نہیں ہے کپڑے
موسم کے یہ حالات بڑی دیر سے ہیں


کچھ خواب مرے ساتھ بڑی دیر سے ہیں
وحشت کے خیالات بڑی دیر سے ہیں
کترا کے نکل جاتی ہے دنیا مجھ سے
آنکھوں میں سوالات بڑی دیر سے ہیں


تعمیر کرے تاج محل، خواب سفر
تحریر کرے صبحِ غزل، خواب سفر
افیون کہے لاکھ زمانہ اشفاق
کچھ اور کرے تیز عمل، خواب سفر


فردوس چنبیلی میں سمٹ آئے ہیں
آفاق، حویلی میں سمٹ آئے ہیں
طیبہ کے فقیروں کے عمل سے اشفاق
افلاک ہتھیلی میں سمٹ آئے ہیں


چھیدوں بھری جھولی کا تدارک ہی نہیں
بندوق کی بولی کا تدارک ہی نہیں
الفاظ برت سوچ سمجھ کر اشفاق
نکلی ہوئی گولی کا تدارک ہی نہیں


اس آگ کے صندوق کو پھٹنا کب ہے
خورشید کو نیزے پہ پلٹنا کب ہے
اشفاق قیامت کو ابھی دیر ہے کتنی
بھونچال سے دھرتی کو الٹنا کب ہے


جھونکوں سے درختوں کی جھڑائی نہیں ہوتی
بس شور مچانے سے بڑائی نہیں ہوتی
اشفاق سے کہنا کہ کوئی فوج بنائے
دوچار پیادوں سے لڑائی نہیں ہوتی


اک چاہئے سانسوں میں خرام ِ عالم
اک روح میں رکھنا ہے قیام ِ عالم
کچھ پاس نہیں دیدہ ٔ بینا کے سوا
تشکیل کروں کیسے نظامِ عالم


آنکھوں کو کوئی میت دکھائی دیتا
اعجاز بکف گیت دکھائی دیتا
سُر بانسری سے ایسا نکلتا کوئی
اشفاق کا سنگیت دکھائی دیتا


پانی میں کوئی شخص دکھائی دیتا
سورج پہ کوئی عکس دکھائی دیتا
اشفاق بگولوں کی طرح دامنِ دل میں
طوفان نما رقص دکھائی دیتا


عمر خیام کے نام
تشکیک و یقیں حدِ نفس تک محدود
یہ کفر یہ دیں حدِ نفس تک محدود
اشفاق اسی سانس میں رکھ جنتِ ارضی
ہے عمر ِحسیں حدِ نفس تک محدود


یہ خاک سے آزاد بدن کیسے ہیں
یہ دار پہ بھی شاد بدن کیسے ہیں
یہ کیسا تعلق ہے فلک سے ان کا
یہ فرش پہ آباد بدن کیسے ہیں


لکھتی ہے ہوا خاک پہ موسم کی خبر
تحریر کرے اوس شبِ غم کی خبر
مژگاں پہ رقم کیوں نہیں کرتے اشفاق
بے چہرگی ٔذات کے ماتم کی خبر


انداز یہ تجسیم کرامت کے ہیں
اعجاز عجب نغمہ ٔ قامت کے ہیں
دنیا مری، جلوئوں سے بھری ہے لیکن
تیرے لب و رخسار قیامت کے ہیں


اک حسنِ دل آویز کی رعنائی میں
اک زلف ِ سیہ کار کی برکھائی میں
اشفاق نہیں اور دکھائی دیتا
آباد ہمی عرش کی تنہائی میں


صبحوں سے عداوت کا مقدمہ ہم پر
سورج سے بغاوت کا مقدمہ ہم پر
بازار لگا رکھا ہے جج نے لیکن
توہین عدالت کا مقدمہ ہم پر


اک جراتِ انکار سے نکلا ہوا دن
ظلمات کے انبار سے نکلا ہوا دن
اشفاق اندھیروں سے بھرا ہوتا ہے
اک جیل کی دیوار سے نکلا ہوا دن


تخلیق کی تفصیل ہے قَابَ قوسین
بس آخری تمثیل ہے قَابَ قوسین
کچھ اور بڑھی جسم کی عظمت اشفاق
انسان کی تکمیل ہے قَابَ قوسین


اک صبح ِ ہدایت سے بھر ی ہیں آنکھیں
اک جلوہ ئ رحمت سے بھری ہیں آنکھیں
تکمیل میں انسان کہاں تک پہنچا
کثرت کی بھی وحدت سے بھری ہیں آنکھیں


اظہار صداقت کا بھلا کون کرے
انکار عبادت کا بھلا کون کرے
اشفاق خیالات تلک ہیں محکوم
اعلان بغاوت کا بھلا کون کرے


احساس میں اک چشم ِغزالی کا مزار
انوار میں اک صبح جمالی کا مزار
اس خاک کا معراج یہی ہے اشفاق
ہے خاک پہ کونین کے والی کا مزار


فردوس بدن ، لال گلابی موسم
سجدوں بھرے ، پُر حمد کتابی موسم
ویران ہے مے خانۂ وحدت اشفاق
رندوں کے کہاں کھوئے شرابی موسم


اس پر یہ دستار نئی ہے شاید
اس ہاتھ میں تلوار نئی ہے شاید
ہے پائوں کی زنجیر پرانی لیکن
انکار کی جھنکار نئی ہے شاید


ہر روز یونہی ہاتھ ہلانے سے ملا
کچھ دیکھنے سے اور دکھانے سے ملا
اس وصل کے پیچھے ہیں ہزاروں سجدے
اشفاق کوئی ملنے ملانے سے ملا


گرتے ہوئے پاتال کہاں آ پہنچے
مٹی کے یہ سُر تال کہاں آ پہنچے
ممکن ہے الٹ جائے یہ میری دھرتی
اشفاق یہ بھونچال کہاں آ پہنچے


اِترائی ہوئی خاک سے کہہ دے کوئی
افلاک کے تیراک سے کہہ دے کوئی
فرعون ہے عبرت کا نمونہ اشفاق
یہ طاقتِ سفاک سے کہہ دے کوئی


شاہوں کے محلات کہاں تک موجود
بابل کے وہ باغات کہاں تک موجود
اس وقت کے اعجاز کو سمجھو اشفاق
اک طرح کے حالات کہاں تک موجود


اک صبحِ مدارات نہ ہونے دینا
تنویر کی برسات نہ ہونے دینا
دے اور شبِ غم کو طوالت کچھ روز
سورج سے ملاقات نہ ہونے دینا