زمرہ:ردیف ت

ویکی کتب سے
Jump to navigation Jump to search

ردیف ت

دیوان ِمنصور آفاق

dewan mansoor afaq[ترمیم]



ت تمثیل

mansoor afaq poetry



 

پہلی غزل



کر کے آنکھوں سے بادہ خواری دوست
ہم نے تیری نظر اتاری دوست

اک تعلق ہے خواب کا اس سے
وہ زیادہ نہیں ہماری دوست

زد میں آیا ہوا نہیں نکلا
شور کرتے رہے شکاری دوست

اس کی اک اک نظر میں لکھا تھا
میں تمہاری ہوں بس تمہاری دوست

کیوں مہکتی ہے تیز بارش میں
اک دہکتی ہوئی کنواری دوست

راہ بنتی ہے آنے جانے سے
اور بناتے ہیں باری باری دوست

کچھ عجب ہے تمہارے لہجے میں
بڑھتی جاتی ہے بے قراری دوست

بس اداسی پہن کے پھرتے ہیں
کچھ ہماری بھی غم گساری دوست

ہم اکیلے ہیں اپنے پہلو میں
ایسی ہوتی ہے دوست داری دوست

رات بھر بیچتے تھے جو سورج
اب کہاں ہیں وہ کاروباری دوست

کیا ہیں کٹھ پتلیاں قیامت کی
برگزیدہ ہوئے مداری دوست

حق ہمارا تھا جس کے رنگوں پر
تم نے وہ زندگی گزاری دوست

ہر طرف ہجرتیں ہیں بستی میں
کیا تمہاری ہے شہریاری دوست

دشت ِدل میں تمہاری ایڑی سے
ہو گیا چشمہ ایک جاری دوست

ہجر کی بالکونی کی شاید
میلوں لمبی ہے راہداری دوست

زندگی نام کی کہیں منصور
ایک ہے دوجہاں سے پیاری دوست




دیوان منصور آفاق  





ردیف ت



 

دوسری غزل



چل رہے ہیں ایک ساتھ
میں خدا اور کائنات

عرش پر بس بیٹھ کر
کن فکاں کاچرخہ کات

مرد و زن کا اجتماع
بیچ صدیوں کی قنات

دو وجودوں میں جلی
سردیوں کی ایک رات

بند ذرے میں کوئی
کائناتی واردات

آسیا میں قطب کی
سو گئیں سولہ جہات

پانیوں پر قرض ہے
فدیہء نہر فرات

تُو پگھلتی تارکول
میں سڑک کا خشک پات

تیرا چہرہ جاوداں
تیری زلفوں کو ثبات

رحمتِ کن کا فروغ
جشن ہائے شب برات

شب تھی خالی چاند سے
دل رہا اندیشوں وات

نت نئے مفہوم دے
تیری آنکھوں کی لغات

آنکھ سے لکھا گیا
قصہ ء نا ممکنات

گر پڑی ہے آنکھ سے
اک قیامت خیز بات

تیرے میرے درد کا
ایک شجرہ ،ایک ذات

کٹ گئے ہیں روڈ پر
دو ہوا بازوں کے ہاتھ

موت تک محدود ہیں
ڈائری کے واقعات




دیوان منصور آفاق  





ردیف ت



 

تیسری غزل



گمان صبح ہے کافی ، خیالِ نور بہت
مرے لئے یہ ذرا سا چراغِ طور بہت

میں بارگاہِ محبت میں کس طرح جائوں
مرے گناہ بہت ہیں مرے قصور بہت

یہی بہت کہ خزاں میں بہار ہے مجھ پر
ہے پھول پھول۔ یہی شاخ کو شعور بہت

تمام عہد نے آنکھوں پہ ہاتھ رکھے ہیں
ہوا ہے شعر میں شاید مرا ظہور بہت

یہ میرے بیگ میں رکھ دے نا کانچ کے ٹکڑے
میں بھیج دوں گا نئی چوڑیاں، ضرور،بہت

نصیب ، نسبتِ دشتِ عرب جسے منصور
بروز حشر وہی سایہ ء کھجور بہت




دیوان منصور آفاق  

اس زمرہ میں ابھی کوئی صفحہ یا میڈیا موجود نہیں ہے۔