زمرہ:ردیف الف
ردیف الف
ہارمت تسلیم کر ، تُو کھیل سے باہر نہ آ
مان میری، قید میں رہ جیل سے باہر نہ آ
ناک! کستوری کی بالوں سے بھری تھیلی میں رہ
آنکھ! پھولوں کی سنہری بیل سے باہر نہ آ
آسمانوں کو پکڑ لیکن قدم دھرتی پہ رکھ
پھیل جا ہر سو مگر ’لوکیل‘ سے باہر نہ آ
حادثہ ہونا تو ہے لیکن جہاں تک ہو سکے
زندگی کی تیز چلتی ریل سے باہر نہ آ
توڑ یہ اونچی فصلیں لوگوں کی للکار سے
غیر ملکی صدر کی ای میل سے باہر نہ آ
پاؤں کا اظہار کر، پھیلا دھمک اطراف میں
آہٹوں کی نرم دھکم پیل سے باہر نہ آ
اپنا مستقبل زمانے بھر کی پیشانی پہ لکھ
ماضی مطلق سے، گزشتہ فعل سے باہر نہ آ
بجھ بھی سکتا ہے ہوائے تند کے ڈومین سے
اے چراغِ غم، وفا کے تیل سے باہر نہ آ
وادیِ نیلم میں برفانی شبوں کا راج ہے
شاردا سے مت نکل تُو کیل سے باہر نہ آ
چیخ کی آواز اپنے ہونے کا سنگیت ہے
آخری سر کی اداسی، زیل سے باہر نہ آ
خطۂ ہجراں میں بس تقسیم کے کہسار ہیں
وصل میں رہ، وادیٔ دو میل سے باہر نہ آ
دیکھنے کو چھوڑ مت ،تردید سے باہر نہ آ
عمر بھر اپنی بہشتِ دید سے باہر نہ آ
مہرو مہ کے نقشِ پا پر چل یہی اقبال ہے
تُو مقلد رہ ، کبھی تقلید سے باہر نہ آ
زندگی کی جنگ پوری سرکشی کے ساتھ لڑ
قبر میں بھی دامنِ امید سے باہر نہ آ
حملہ آور رات کے فوجی گوریلے ہی سہی
روشنی کر ، قلعۂ خورشید سے باہر نہ آ
ایسا لگتا ہے ابھی تک گفتگو خطرے میں ہے
اور لمبی بات کر ، تمہید سے باہر نہ آ
روشنی آ تیرگی سے پھر کریں بوس و کنار
صحبتِ جاناں ، ہلالِ عید سے باہر نہ آ
حضرتِ ابلیس ! میں منصور مشرک ٹھیک ہوں
تُو مگر اپنی شبِ توحید سے باہر نہ آ
پانیوں میں رقص کر، تالاب سے باہر نہ آ
چاند ہے تُو رات کے اسباب سے باہر نہ آ
سرسراتے سانپ ہیں گہری سنہری گھاس میں
جنگلوں میں پابرہنہ خواب سے باہر نہ آ
ہجر کے تاریک منظر میں یہی امکان گاہ
چاندنی سے قریۂ مہتاب سے باہر نہ آ
اک وہی رہنے دے اپنی آنکھ میں تصویر بس
ساعتِ بھرپور سے شاداب سے باہر نہ آ
آگ دوزخ کی ہے سورج کی نگاہِ ناز میں
اور کچھ دن حجلۂ برفاب سے باہر نہ آ
لاکھ دے دشنام شیخِ بدنسب کے کام کو
زندگی تُو ، منبر و محراب سے باہر نہ آ
ذات کی پاتال میں ہو گی بلندی عرش کی
ڈوب جا منصور کے گرداب سے باہر نہ آ
موج بن کر کہیں ہاتھوں کی لکیروں میں نہ آ
اے سمندر ! مرے آباد جزیروں میں نہ آ
خاک میں تجھ کوملادے گی کوئی تیز نظر
بادشاہوں کی طرح دیکھ فقیروں میں نہ آ
بند کردے گی تجوری میں تجھے تیری چمک
کنکروں میں کہیں رہ، قیمتی ہیروں میں نہ آ
جنگ شطرنج ہے، چالوں کا سلیقہ ہے فقط
ہوش کر، دیکھ برستے ہوئے تیروں میں نہ آ
عمر منصور اڑانوں میں فقط اپنی گزار
دام پہچان شکاری کے، اسیروں میں نہ آ
نیند آنی تھی کہاں سے، ہم نفس جیسا بھی تھا
برف پر آخر بچھا تھا، میٹرس جیسا بھی تھا
آخر اپنی انگلیوں نے کر لیا ہے برف برف
اُس سراپا آگ کا دوشیزہ، مس جیسا بھی تھا
اے برہمن! آنے والے سال کے کچھ پول کھول
وہ برس تو جا چکا ہے، وہ برس جیسا بھی تھا
رات کی دیوار پر تھا اک سلوگن نور کا
کچھ لکیریں تھیں عجب سی، کینوس جیسا بھی تھا
تم نے دل رکھا نہیں تسخیرِ شمعِ شہر پر
کوئی ناممکن نہیں تھا، وہ مشن جیسا بھی تھا
اِک کلی کے اب پڑا ہے پاؤں میں، اُٹھتا نہیں
دل، بہادر یارِ جنگ، آفت شکن جیسا بھی تھا
اُنگلیوں کی نرم پوریں گرم ہو جاتی رہیں
کھل تو جاتا تھا گلے کا وہ بٹن جیسا بھی تھا
غرق ہونی تھی سمندر میں محبت ایک دن
ڈوبنا تھا ٹائی ٹینک، کیپٹن جیسا بھی تھا
میں نے دینی تھی گواہی کورٹ میں اپنے خلاف
یار نے بھجوایا تھا مجھ کو، سمن جیسا بھی تھا
جو وقوعہ سے ملا ہے اُس کے بارے کیا کہوں
میری آنکھوں پر بندھا تھا، وہ ربن جیسا بھی تھا
موڑنے تو چاہیے تھے اُس طرف لیلیٰ کو اونٹ
دشت میں منصورؔ وہ فریاد رس جیسا بھی تھا
تانبے جیسا تن بدن رکھتی تھی، من جیسا بھی تھا
چال تھی اس کی غزالوں سی، چلن جیسا بھی تھا
دل چُرانا جانتا تھا، سو چُرا کر لے گیا
قابلِ تعریف تھا وہ نقب زن جیسا بھی تھا
وہ جنہوں نے لوٹ کر جانا ہے، اُن سے بات کر
مجھ کو کیا اس سے کہ وہ باغِ عدن جیسا بھی تھا
کیا کریں یہ صبحِ آزادی کہ مردہ خواب ہیں
اُس میں اک امید تو تھی، وہ قفس جیسا بھی تھا
دیر ہوتی تھی مرے دستِ سحر آثار کی
بس چمک اٹھتا تھا گنبد کا کلس جیسا بھی تھا
ایسی تنہائی میسر پھر کہاں ہو سکتی تھی
تھا نظرانداز کرنا، پیش و پس جیسا بھی تھا
وہ گراوٹ کیا پتہ لے جاتی کس پستی کے پاس
سو لٹکنا تھا مقامِ دسترس جیسا بھی تھا
میں زمانے سے نہیں گزرا، زمانے کی قسم
میں نے دیکھا ہی نہیں، وہ بوالہوس جیسا بھی تھا
ہو گئی تاریک میری آنکھ کی دہلیز بھی
بجھ چکا ہے وہ چراغِ انجمن جیسا بھی تھا
اک کبھی تھا اپنے دل کی سلطنت کا حکمراں
بادشاہ تھا، کج کلہ تھا، بانکپن جیسا بھی تھا
مجھ سے پہلے اُس کنویں سے کوئی نکلا ہی نہیں
مقتلِ عشاق تھا، چاہِ ذقن جیسا بھی تھا
مجھ کو گرماتی رہی کھڑکی سے اک رنگوں کی شال
آنچ سی آتی تھی اُس سے، وہ بدن جیسا بھی تھا
بے وفائی بھی تو شامل ہے حقوقِ حسن میں
خوبصورت تھا بلا کا وہ سجن جیسا بھی تھا
کھینچ لایا تھا لب و رخ پر غضب کے حاشیے
اُس کتابِ حسن کا اپنا "متن" جیسا بھی تھا
جانتا تھا پوٹلی میں کس کی، کتنا مال ہے
صاحبِ عرفان تھا وہ راہزن جیسا بھی تھا
اس میں شاعر تھے بڑے، منصورؔ تنہا ہے یہاں
حضرتِ غالبؔ ترا عہدِ سخن جیسا بھی تھا
لاکھ آئے پرت ، نہیں آیا
اس کا میسج فقط نہیں آیا
نقشِ پا تیرے در تک آتے ہیں
میں یہاں پر غلط نہیں آیا
کٹ گئیں میری انگلیاں لیکن
کرکے میں دستخط نہیں آیا
جھیل کی مچھلیاں پریشاں ہیں
کوئی بگلا بھگت نہیں آیا
ڈاک معمول کی تو آئی ہے
یار کا کوئی خط نہیں آیا
رائفل لے کے پھر رہا ہوں میں
وہ درندہ صفت نہیں آیا
خالی ڈی چوک ہے پڑا منصور
کوئی بھی نوری نت نہیں آیا
مر گیا میں پہ خط نہیں آیا
نامۂ تہنیت نہیں آیا
شام ہوتے ہی سب پلٹ آئے
لوٹ کر میں فقط نہیں آیا
آپ کے گھر ضرور آتا میں
اُس طرف، معذرت، نہیں آیا
دیکھئے میرے نطق پر کوئی
کلمۂ بے نقط نہیں آیا
ساٹھ برسوں سے چل رہا ہوں میں
کوچہِ ِ عافیت نہیں آیا
چشمِ گرداب میں ابھی منصورؔ
حلقۂ شش جہت نہیں آیا
نہ کوئی مثلث ہوتی ، نہ کہیں کراس ہوتا
کوئی مستطیل رشتہ مرے آس پاس ہوتا
مجھے لگ رہا ہے شاید تُو کہیں جو مل بھی جاتی
یونہی رُت ملول ہوتی، یونہی دل اداس ہوتا
سدا ہجر کا خرابہ کہے نثری نظم مجھ پر
کسی خوش بدن غزل سے کوئی وصلِ خاص ہوتا
کوئی آنکھ ووڈکا تھی، کوئی لب تھے وہسکی جیسے
مری میز پر بیئر کا بھلا کیا گلاس ہوتا
یہ وزارتِ خزانہ نہ بجٹ بناتی ایسے
یاں کوئی وزیراعظم جو مڈل کلاس ہوتا
کوئی لہجہ برفی جیسا، کوئی لب گلاب جامن
مرا بھی جہاں میں ایسا کوئی پُرمٹھاس ہوتا
کوئی درد کی گلی میں مرا غم شناس ہوتا
مرے دل پہ ہاتھ رکھتا مرے آس پاس ہوتا
ترے ہجر کی گھڑی میں ترے جیسا بھی نہیں ہے
کوئی پُر سپاس ہوتا، کوئی ہم لباس ہوتا
کوئی خواب بنتی برہن، نئے زاویے بناتی
کسی لمسِ پُر شکن کا لبِ التماس ہوتا
تری کائنات سنتی کئی لازوال نغمے
مرے سینے سے فغاں کا جو کہیں نکاس ہوتا
بھرے دن میں میری آنکھیں وہ چرا کے لے گئی تھی
کسی دزدِ نیم شب پر مجھے کیا قیاس ہوتا
میں ذرا ذرا پہنتا اسے نرم چاندنی میں
یہ شکنتلا نہ لکھتا جو میں کالی داس ہوتا
مجھے سایہ سایہ پڑھتے کہیں گیسوؤں کے بادل
میں کسی کتابِ دل کا اگر اقتباس ہوتا
کوئی میرا چہرہ ہوتا، کوئی میرا نام ہوتا
کبھی حسنِ بے وفا کا کوئی مجھ سے کام ہوتا
یہ جو رات کی گلی میں مرے ساتھ چاند سا ہے
کبھی کوئی بات کرتا، کبھی ہم کلام ہوتا
میں اکیلا جا رہا ہوں کسی کہکشاں کے پیچھے
کوئی ساتھ ساتھ چلتا، کوئی خوش خرام ہوتا
کوئی سبز سی شعاعیں مرے سینے سے نکلتیں
مرے لفظ ورد بنتے، مرا فیض عام ہوتا
کہیں قبر قبر جلتا میں دِیے کی لو پہن کر
کہیں عرش عرش سورج سے بلند بام ہوتا
مرے ہاتھ پہ دھری تھی یہ جو گردشِ زمیں تھی
میں جہاں بھی بیٹھ جاتا وہی وقتِ شام ہوتا
ترے کنجِ لب سے جس کی ہوئی ابتدا جہاں میں
وہ فسانۂ محبت بھلا کیا تمام ہوتا
کوئی رُوح رقص کرتی کسی خانۂ بدن میں
کہیں شب گزاری کا بھی کوئی اہتمام ہوتا
میسج پڑھا جو میں نے کسی کا لکھا ہوا
یک لخت اک دھماکہ مرے زیرِ پا ہوا
برسوں کے بعد اس نے کہا، دیکھ کر مجھے
پہلے بھی آپ سے ہوں کہیں میں ملا ہوا
تصویر بولنے لگی کیسے فریم میں
خاموشی پوچھتی ہے اچانک یہ کیا ہوا
کیسے ہر ایک موڑ پہ روکوں میں اپنی کار
پھر آدمی پڑا ہے سڑک پر مرا ہوا
منصور سرخ ووڈکا سورج نے رات پی
جیسے طلوع صبح ہوئی، پارسا ہوا
قوسِ قزح پہ کیسا عجب ماجرا ہوا
رنگوں کا نصف دائرہ نغمہ سرا ہوا
ٹھکرا کے جا رہا ہے وہ دولت بھی، حسن بھی
یہ پُروقار شخص تھا، کیسا بھرا ہوا
اپنا نگارِ خانۂ غم ہے نشاط گاہ
دل میں ہے آنسوؤں کا چراغاں دھرا ہوا
کیا پوچھتے ہو زخمِ جگر کی کرامتیں
جتنا بھی وقت گزرا، یہ اُتنا ہرا ہوا
منصوؔر لگ رہا ہے کہ سازش کہیں ہوئی
میرے خلاف فیصلہ آیا، برا ہوا
بستر پہ اس کو دیکھ کے یہ وہم سا ہوا
جو جا چکا ہے، مجھ میں ابھی ہے بسا ہوا
اے چاند! خوف آتا ہے تیرے خرام سے
اک ماہ رخ کا پہلے ہی میں ہوں ڈسا ہوا
جس سمت اُنگلیوں کے نشاں تھے بنے ہوئے
کہسار اُس طرف سے تھا تھوڑا دھنسا ہوا
فرعون کا نگل لیا جس نے اک ایک ناگ
آیا وہ دستِ موسیٰ میں تو پھر عصا ہوا
ملتے ہی اقتدار، خدا بن گئے ہیں لوگ
جس تک بھی تھی رسائی، وہی نارسا ہوا
شاید بہت قریب ہے دنیا کا خاتمہ
منصور ہم نے جوہری بم ہے رکھا ہوا
سارا جہاں ہے میری دُعاسے جڑا ہوا
یعنی کہ میرا دِل ہے خدا سے جڑا ہوا
آخر اسی پہ کیوں ہے مذاہب کا اتفاق
ہر اک عمل ہے روزجزا سے جڑا ہوا
آتی ہے خشک پتوں کی آوازِ پا مجھے
میں راکھ کی طرح ہوں ہواسے جڑا ہوا
پیچھا مِرا بھی کرتے ہیں آوارگانِ شہر
میں بھی فقیر کی ہوں صدا سے جڑا ہوا
پھل بانٹتے ہیں اس کے توسط سے پیڑ بھی
دریا ہے اس کی جود و سخا سے جڑا ہوا
موجود اک دماغ ہے پیچھے دماغ کے
منصورؔ رفتگاں کی نوا سے جڑا ہوا
ایسا کوئی سمجھ کو پھیر لگا
چاند اس بام کی منڈیر لگا
موت سہمی ہوئی دکھائی دی
واقعتاً وہ آج شیر لگا
رتجگوں کی سیاہ بستی میں
جب ملا وہ نئی سویر لگا
جس کے جتنے بڑے بڑے دکھ تھے
وہ مجھے اُتنا ہی دلیر لگا
پیش آنے پہ پس ہوا معلوم
وہ زبر تھا جو مجھ کو زیر لگا
جو کبھی تھا دیارِ خیر لگا
کتنا خالی ترے بغیر لگا
اس قدر ذات میں کسی میں رہے
ہم کو اپنا بدن بھی غیر لگا
چاند کو پھر گرفت میں لینا
پہلے اپنے زمیں پہ پیر لگا
ان کا دیدار کیا نصیب ہوا
زندگی کا سفر بخیر لگا
وجہ منصورؔ پوچھتے کیا ہو
یوں ہی ہم سے کسی کو بیر لگا
ہاتھ جب جرعۂ شراب لگا
میکدہ، صبحِ انقلاب لگا
کچھ بچا ہی نہیں یہاں وحشت
داؤ پر منزلوں کے خواب لگا
ایک کچے گھڑے کی چھونی میں
مجھ کو ڈوبا ہوا چناب لگا
لکھنئو دے دیا غزل سن کر
دل اودھ کا کوئی نواب لگا
رات کی دار پر ہمیشہ وار
چاند، سورج کا ہم رکاب لگا
لوٹ آئے ہیں راہ سے منصورؔ
راستہ اس قدر خراب لگا
حسن کے ساتھ کچھ خلیق لگا
جج مجھے کیس میں فریق لگا
تتلیوں کی زیادہ عمریں ہیں
مسئلہ پھول کا دقیق لگا
پاؤں پاؤں کہیں تھا بس پانی
دل کا دریا کہیں عمیق لگا
ایک تختے پہ جب بہے دونوں
سانپ کو آدمی رفیق لگا
سرغنہ قاتلوں کا باتوں سے
رحم دل سا لگا، شفیق لگا
موت سے پہلے پہلے مر جائیں
دل کو اچھا یہی طریق لگا
جب بھی منصورؔ نے توجہ کی
آسماں خاک میں غریق لگا
غم شرابی ہے اُس کو ایک لگا
چل کسی خوش بدن سے ٹیک لگا
گرمیاں آ گئی ہیں گاڑی میں
بچے! دو ٹھنڈے ملک شیک لگا
برگزیدہ ہیں لوگ یورپ کے
مجھ کو ہر شخص خود سے نیک لگا
سائے کی طرح گم ہوئے کچھ دوست
اک ذرا دھوپ کا جو سیک لگا
دوستو! وہ چراغ ٹھیک سہی
مجھ کو اللہ دین فیک لگا
روک دے یہ سفر یہیں منصورؔ
آگے ڈھلوان ہے بریک لگا
فائلوں کو نہ خالی ٹیک لگا
پہیے وہی لگا، ٹریک لگا
یہ کتابیں بڑی مقدّس ہیں
خاصا اونچا کہیں پہ ریک لگا
چل سُنا داستاں محلے کو
کھڑکیاں کھول اور ڈیک لگا
جینے کا ڈھنگ پوچھتی تھی وہی
میں جسے عمر بھر کریک لگا
اونچا بیساکھیاں نہیں کرتیں
ذہن کے نیچے کوئی جیک لگا
اُس محبت پہ بھیج تُف منصورؔ
جس میں دشنام بھی علیک لگا
رابطوں میں نہ اتنی دیر لگا
دیکھ گاڑی کو چوتھا گیر لگا
ہاتھ اُس کے بھی کاٹ دو، جس کے
ہاتھ آٹے کا ایک سیر لگا
تر دماغوں کے باغ، بستی میں
بیج بادام کے بکھیر، لگا
جب بنا مولوی میئر منصورؔ
شہر میں اسلحہ کا ڈھیر لگا
جمہوریت کے تھوڑا پیچھے رہ، مارشل لا
مت اپنی گفتگو میں کشمیر و کارگل لا
خود آپ اِک اکیلا اپنا منا جنم دن
بھیجا ہوا خود اپنا چل آپ پارسل لا
اپنی لحد سے باہر میں پھر نکل نہ آؤں
جا کر ذرا کہیں سے مضبوط ماربل لا
پیاسا بہت سہی میں اتنا نہیں ہوں لیکن
شاید شراب ہے یہ، جا، پانی نارمل لا
اس بار ووٹ بابا، دینا نہیں ہے میں نے
بھیجے ہزار من خواہ جاگیر دار غلہ
دن بھر بہارِ کوئے جاناں میں گھومنے کو
قوسِ قزح سے کوئی رنگوں کا سائیکل لا
قانون اپنے کیا ہیں طاقت کے دست و پا ہیں
نیکی بدی کے شاید، ہیں چند نیچرل لا
یہ مسئلہ ہے اپنی سانسیں جڑی ہوئی ہیں
جو قابلِ عمل ہو ایسا کہیں سے حل لا
نازک مزاج ہوں میں، تُو جانتی ہے خانم
بجلی چلی گئی ہے جلدی سے مورچھل لا
پستول کی ابھی تک وہ رینج سے ہیں باہر
نیچے سے جا کے فوراً خود کار رائفل لا
لا وصلِ سرمدی لا، امکانِ عزوجل لا
یا موت کی گھڑی کا بہتر کوئی بدل لا
آغاز کی خبر دے، انجام جانتا ہوں
یہ ساعتِ ابد لے، لا ساعتِ ازل لا
یہ دستِ زندگی ہے، اِس کو فنا کہاں ہے
اے لمحۂ قیامت! جا پنجۂ اجل لا
جلتے ہوئے تھلوں میں اک دوڑتی اداسی
کہتی ہے اونٹنی سے واپس مرا پنل لا
دے دیں گے ہم کسی کو یہ تاج و تخت ورنہ
ہر آدمی غنی ہو وہ لائحہِ عمل لا
منصورؔ پتلیاں ہیں ہم تو تماشا گر کی
خاموش بھی من اللہ، پُر جوش بھی من اللہ
میرے مقابلے میں مت میرؔ کی غزل لا
وہ اردوئے معلی، میں اردوئے محلہ
اکیسویں صدی کا گمنام سا میں شاعر
اُس پر بچھا رکھا ہے افرنگ میں مصلیٰ
میری کہاں ہے ممکن تقریبِ رونمائی
میرے کلام سے ہے خالی ہر اک مجلہ
شاعر نہیں ہیں صاحب! یہ لوگ مسخرے ہیں
دربارِ درد و غم میں مت لطفِ بیربل لا
سُر تال جانتی ہے یہ رات کی خموشی
تُو چاند کے گھڑے پہ بے گُر نہ مار چھلا
منصورؔ جنگ سچ کی ہارا نہیں مگر میں
سایہ فگن ہیں پنجتن، رحمت فگن ہے اللہ
سانس سانس طوفانی موسموں کے فساد تک پہنچا
کیمرہ نگاہوں کا، لمس کے گردباد تک پہنچا
رابطے ادھورے ہیں، دو گھروں میں وصال کیسے ہو
وائی فائی سگنل کب خانۂ خواب زاد تک پہنچا
ایک سِم بدلتے ہی، رابطوں کے نصیب ڈھلتے ہی
دل عناد تک پہنچا، سوچ کے ہر تضاد تک پہنچا
سود کی کہانی اب آخری موڑ مڑنے والی ہے
بنک کا زمانہ بھی شورشِ اقتصاد تک پہنچا
جس گلی میں پھولوں نے بجلیوں کی برین واشنگ کی
اُس گلی کی خوشبو سے درد بھی انسداد تک پہنچا
ہاتھ کی لکیروں میں لمس کی پوریں دیکھ کر منصورؔ
مال روڈ خوابوں کا برف کی گرتی یاد تک پہنچا
درجۂ حرارت جب نقطۂ انجماد تک پہنچا
اتفاق جذبوں کا وصل کے اجتہاد تک پہنچا
زخم زخم تنہائی، واہموں کے مکان میں آئی
انتظار آخر کار، ہے عدم اعتماد تک پہنچا
تیغ تیغ راہوں سے آبلوں کو پہن کے پاؤں میں
سلسلہ محبت کا، منزلوں کی مراد تک پہنچا
آگ آگ صحرا میں وحشتوں کی دھمال جاری ہے
قیس کا قبیلہ بھی، عرس کے انعقاد تک پہنچا
پہلے پہلے دھرتی پر، صرف اشرافیہ کا قبضہ تھا
پھر وہ شوقِ جاگیری، چرخ کی جائیداد تک پہنچا
کتنی لاکھ صدیوں میں، طے ہوا یہ شعور کا رستہ
خواب عرش تک پہنچے، آدمی اعتقاد تک پہنچا
جانتے نہیں ہیں وہ، جن کی آنکھیں بہار بستہ ہیں
دشت کتنی مشکل سے، موسمِ ابر و باد تک پہنچا
کائنات سے پہلے، زندگی کی نمود کیسی تھی
کون جسم تک پہنچا، کون جاں کے مواد تک پہنچا
بس یونہی روانہ رہ، ریگزارِ فراق میں منصورؔ
ہجر کا بگولا کب قریۂ خوش سواد تک پہنچا
"مانگتی ہوں رات بھر ملاپ کی دُعا‘‘
اور لکھا تھا ’’والسلام آپ کی دُعا‘‘
جب خراب ہوگئی تھی کار خواب میں
یاد ہے مجھے وہ ورکشاپ کی دُعا
سن رہا ہوں قحط سالیوں کے دشت میں
بوند بوند میگھ کے الاپ کی دُعا
نیک فال امتِ سعید کے لیے
پائے نور سے نکلتی چاپ کی دُعا
وہ لکھا ہوا ہے ’’علم میں اضافہ کر‘‘
ڈیسک ٹاپ پر ہے لیپ ٹاپ کی دُعا
لے رہی ہے کائنات کو حصار میں
وجد خیز، دف بدست تھاپ کی دُعا
ہر طرح کے درد سے نجات کی دُعا
مانگتے ہو کس لیے وفات کی دُعا
مجھ کو اپنی کامیابی کا یقین ہے
سُن رہا ہوں ساری کائنات کی دُعا
چل خرام کر قدوسِ ذوالجلال میں
مانگ ارتکازِ اسمِ ذات کی دُعا
کوئی تیغ بند لکھ زمیں کی پشت پر
کوئی پڑھ قیامِ حادثات کی دُعا
ضابطے بدل کسی طرح نصیب کے
ڈھونڈھ کوئی جسم کے ثبات کی دُعا
اختتام پہ ہیں ہجر کی سیاہیاں
لگ رہا ہے چاند مجھ کو رات کی دُعا
سُن رہا ہوں عالمی ضمیر کی دُعا
بلھے شاہؒ کی اک کلی، کبیر کی دُعا
مل گئی ہیں گمشدہ محبتیں مجھے
لگ گئی ہے آخرش فقیر کی دُعا
پاؤں پر کھڑی ہے کیسی ٹوٹ پھوٹ میں
ہے زمیں کو آسمانِ پیر کی دُعا
خار چن تمام منزلوں کے اور لے
پیچھے آنے والے راہگیر کی دُعا
احتجاج، صبح کی امید کا امام
انقلاب، رات کے اسیر کی دُعا
ساحلوں پہ لا رہا ہوں ڈوبتے ہوئے
ہم نفس ہے پیر دست گیر کی دُعا
ہے گناہ، فقر میں نمود کی دُعا
مانگ مت تُو جلوۂ شہود کی دُعا
مولا رحم کر ہمارے حالِ زار پر
ایک ہے ہزار ہا سجود کی دُعا
دونوں ہیں ضروری کائنات کے لیے
ہست کی دُعا کروں کہ بود کی دُعا
رات کو ’’خطِ لمبوت‘‘ کی پکار میں
اور دن کو ہوں خطِ عمود کی دُعا
بے مکاں وجود کا مکاں کہیں نہ ہو
ہے شعورِ وحدتِ الوجود کی دُعا
رات، پھیلتی ہوئی دکھائی دی مجھے
شہرِ لاہور میں منصورؔ وہی شیر ہوا
جس کی بھی پشت پہ داتا علیؒ ہجویر ہوا
ایک سایہ تھا جو لوگوں کو نگل لیتا تھا
یہ تماشا کسی دیوار پہ تا دیر ہوا
دوسری سمت ہیں بندوقیں دماغوں والی
دیکھئے وہ جو بہادر تھا وہی ڈھیر ہوا
اپنی چلتی ہوئی بے حال حکومت کا چلن
جیسے گاڑی کا کوئی ٹوٹا ہوا گیر ہوا
اُس کا ہر وار بہت کاری تھا تسلیم مگر
دل محمد علی کُلّے تھا کہاں زیر ہوا
صبح ابھری تو شعاعوں کا تھا پیکر منصورؔ
رات اتری تو وہ پھولوں بھری چنگیر ہوا
۔۔
اتنی آسانی سے کب کوئی ہمہ گیر ہوا
جس میں حرکت تھی وہی زخم اساطیر ہوا
جاگنا پڑتا ہے ہر اجنبی ٹھوکر پہ اسے
درد فٹ پاتھ پہ سویا ہوا رہگیر ہوا
جو نکالا تھا جگر چیر کے جراحوں نے
کیسے سینے میں ترازو وہی پھر تیر ہوا
دودھ دینے بھی اسے ماں نہیں واپس آئی
کتے کا بچہ مرے پاؤں کی زنجیر ہوا
میرے چہرے سے ٹپکتی ہوئی وحشت کو نہ دیکھ
تازہ قبروں پہ کہاں رنگِ طباشیر ہوا
میں سمجھتا ہوں ملاقات نہیں تھی ممکن
دل سمجھتا ہے کہ میں باعثِ تاخیر ہوا
کس لیے شورشِ شب اُس کے تعاقب میں ہے
ایک سپنا جو کہیں نیند میں تعمیر ہوا
میں تو غالبؔ کا طرف دار ہوا کرتا تھا
یار کے غم میں مگر معتقدِ میر ہوا
ویڈیو اُس کی بنا لی گئی خاموشی سے
عشوۂ یار امر ہو گیا، تصویر ہوا
اُس نے ساحل پہ ٹہلنے کی اجازت دی تھی
کیسے دریا کا بدن شاملِ جاگیر ہوا
میں فلسطین میں زیتون کی اک شاخِ سیہ
میں سلگتے ہوئے لبنان کی انجیر ہوا
فاختہ زخم پہنتی ہے جہاں توپوں سے
میں وہ بارود بھری جنتِ کشمیر ہوا
صرف اتنی ہے محبت کی کہانی منصورؔ
ایک سایہ سا کہیں دھوپ پہ تحریر ہوا
جس طرف میرے قدم اٹھے اُدھر رستہ پھرا
کوچۂ جاناں بھی میرے ساتھ آوارہ پھرا
دیکھتی کیا ہو مری بربادیوں کی بستیاں
خاکِ چشم و دل پہ برسوں درد کا دریا پھرا
پھر کہیں جا روشنی کی اک نظر مجھ پہ پڑی
رات بھر یہ دل شکستہ، یہ جگر خستہ پھرا
کونسی دیوار کے پیچھے کھڑا ہے بول کچھ
ہر زمانہ تیری گلیوں میں یہی کہتا پھرا
فقر کے سلطان پھرتے ہیں حریمِ عرش پر
طور پر موسیٰ کلیم اللہ سراسیمہ پھرا
میرا مسلک آگ میں جلنا تھا سو مقدور بھر
میں طوافِ شمعِ کُن میں مثلِ پروانہ پھرا
پوچھتے ہو سمت کیا تم قبلہ کی منصورؔ سے
جس طرف اُس کی نظر اٹھی اُدھر کعبہ پھرا
ذبحِ اسماعیل کا ہر آنکھ میں منظر پھرا
جب گلے پر حضرتِ شبیر کے خنجر پھرا
پھر پلٹ آئی وہی گرمی، وہی ہجراں کا حبس
اِک ذرا سا خاک پر تقدیر کا چکر پھرا
کیسے ہو پانی کی گہرائی کا اندازہ تجھے
تُو ہمیشہ میرے دریا کے کنارے پر پھرا
جیسے ہی بامِ فلک پر پاؤں رکھا اُس کے ساتھ
چرخ کی چرخی پھری، یہ گنبدِ بے در پھرا
اس کی آنکھیں دیکھ کر منصورؔ کافی دیر تک
ذہن کے میخانے میں بس شیشہ و ساغر پھرا
چاند کی شوریدگی میں رات کا دریا پھرا
میں بھی اُس شیزوفرینک رت میں آشفتہ پھرا
میرے ہاتھوں کی لکیروں میں میانوالی رہی
ہر سڑک سے گفتگو کی، ہر گلی گھوما پھرا
مجھ سے آنکھیں مانگتا تھا رتجگوں کے صحن میں
خواب اُٹھا کر پیچھے پیچھے نیند کا تکیہ پھرا
میں مزاجِ دل کہوں یا کوئی ڈپریشن اسے
بے سبب غمگیں ہوا میں، یونہی آزردہ پھرا
بس ابھی لاہور سے نکلی ہی تھی منصورؔ کار
سامنے تھا میرے کعبہ، جیسے ہی رستہ پھرا
چشم و لب کی سرچ میں جب چاک پر دن بھر پھرا
میرے چاروں اور پوری رات کوزہ گر پھرا
دیکھ کر جنرل کے ماتھے پر بس ہلکی سی شکن
بات سے اپنی اچانک میرا دانشور پھرا
اپنی جو مقبول ہو جاتی دعائے نیم شب
آسماں پر فائرنگ کرتا نہ کوئی سر پھرا
وہ دھڑک اُٹھی ہیں بیلوں میں دلوں کی جوڑیاں
وہ کنک پر ہے مسلسل چکی کا پتھر پھرا
سب خرد کے ڈاکٹر، منصورؔ سے مایوس ہیں
جانے کن حالات میں اس کا دماغِ تر پھرا
کسی کی کار میں کوئی جس آں بیٹھ گیا
وہیں یہ میرا دلِ خوش گمان بیٹھ گیا
اندھیری رات کی جانب نکل پڑا تانگہ
دئیے جلا لیے اور کوچوان بیٹھ گیا
نیاگرا سے نکلتی ہوئی، کے کاندھے پر
پرندہ بھول کے اپنی اڑان بیٹھ گیا
بڑے بزرگ اسے روکنے نکل آئے
مرے جو پاس کوئی نوجوان بیٹھ گیا
جہاں ہو ڈالنا مٹی کہیں خرابے پر
کمیشن ایک وہیں میری جان بیٹھ گیا
بڑی اداس، اکیلی کھڑی تھی وہ منصور
ذرا سا زخمِ جگر کا نشان بیٹھ گیا
کچھ اتنا اس پہ مرا اعتبار بیٹھ گیا
بغیر زین کے مجھ ساسوار بیٹھ گیا
یہ اور بات کہ اصحاب کہف تھے ہم لوگ
پناہ لی تھی جہاں پر وہ غار بیٹھ گیا
شبوں کے میر شکاری! اندھیرا فائر کر
وہ شاخِ صبح پہ تیرا شکار بیٹھ گیا
اٹھا کہ آگ لگا دوں میں ریل گاڑی کو
پر اتنی دیر میں دل کا غبار بیٹھ گیا
جسے تھا شوق بہت سردیوں کے موسم کا
وہی لپیٹ کے اونی لکار بیٹھ گیا
کسی کے ساتھ اسے دیکھ کر کہیں منصور
میں بار بار اٹھا بار بار بیٹھ گیا
ہوا میں گھات لگا کر گمان بیٹھ گیا
چراغ کھینچ کے اپنی کمان بیٹھ گیا
مثالِ اشک رواں تند و تیز بارش میں
غبارِ دل کی طرح سائبان بیٹھ گیا
بس ایک چوب نکالی گئی ستارے کی
جہاں کھڑا تھا وہیں آسمان بیٹھ گیا
نکالیں کیسے غلط فہمیوں کا وہ عفریت
جو آ کے اپنے کہیں درمیان بیٹھ گیا
کسی کے ایک اشارے میں اتنی قدرت تھی
بڑے سکون سے سارا جہان بیٹھ گیا
جہاں پہ طے تھی ملاقات اُس کنارے پر
نظر پڑی تو دلِ بد گمان بیٹھ گیا
سکوتِ شب میں کہیں ہجرِ یار بیٹھ گیا
جلا چراغ تو دل میں قرار بیٹھ گیا
بڑے بڑوں کو قرابت نہ مل سکی لیکن
خدا کے پاؤں میں خدمت گزار بیٹھ گیا
جہاں پہ گردنیں لوگوں کی کچھ خمیدہ تھیں
بچھا کے تخت وہیں شہریار بیٹھ گیا
کسی کے دل پہ زر و مال کی حکومت ہے
کسی کے ذہن میں پروردگار بیٹھ گیا
بڑھا گئے وہ دکان اپنے حسن کی منصورؔ
خرامِ عشق! ترا کاروبار بیٹھ گیا
زندگی! میرے نشانے پہ تراطائر ہونا
پھر اُسی آں کہیں اور سے فائر ہونا
حاکمِ وقت کے چہرے پہ طمانچے کی طرح
قحط کے شہر میں غلے کے ذخائر ہونا
میں محبت کی کچہری میں کئی سال سے ہوں
کب عدالت میں مرا کیس ہے دائر ہونا
اس طرح چلنا پڑا ہے ترے پیچھے جیسے
سنگ ریزوں میں کسی کار کے ٹائر ہونا
پاؤں کو چومتی تھیں قوسِ قزح کی کرنیں
رنگ لایا مرا اجمیر کا زائر ہونا
یاد آتا ہے مجھے دُکھ کا سمندر منصورؔ
اور اطراف میں تاریک جزائر ہونا
کبھی خوشبو میں، کبھی پھول میں ظاہر ہونا
کیا ضروری تھا ترا ذات سے باہر ہونا
کیسے ہونا ہے ترا حدِ خرد سے آگے
کیسے ہونا ہے مرا صرف بظاہر ہونا
کیسے ہو سکتا ہے عرفانِ الہی کا ثبوت
یہ مرا کشف و کرامات میں ماہر ہونا
کیسے ممکن ہے زر و مال پہ مرنے والو
گند میں جسم کا پاکیزہ و طاہر ہونا
دیکھیں جو شانِ رحیمی تو کہیں ہم جیسے
زیب اللہ کو دیتا نہیں قاہر ہونا
تیرے ہونے کی گواہی میں یہی کافی ہے
میرے اطراف میں فطرت کے مظاہر ہونا
اپنا ثابت ہے زمانوں کا محاصر ہونا
جینزمیں اپنے ازل زاد عناصر ہونا
موت کے روڈ پہ نکلا ہوں برہنہ تن میں
میرے مولا! تُو مرا حامی و ناصر ہونا
اچھی لگتی ہیں نکھرتی ہوئی آنکھیں مجھ کو
اچھا لگتا ہے غزالوں سے ’’متاثر‘‘ ہونا
اس سے ملنے پہ بضد رہنا کسی وحشت میں
اپنے حالات سمجھنے سے بھی قاصر ہونا
میں زمانے سے ذرا آگے نکل آیا ہوں
غالبؔ و میرؔ کو تھا میرا معاصر ہونا
ہر بصارت کو ضروری ہے بصیرت منصورؔ
دیکھنے کے لیے کافی نہیں باصر ہونا
پبلشر درد کا، تکلیف کا ناشر ہونا
ایسا ہی ہے ترے منصورؔ کا شاعر ہونا
آنکھیں اک سرخ سمندر میں رہی ہیں جیسے
عمر بھر بحری جہازوں کا مسافر ہونا
صحنِ کعبہ میں بتوں سے بھی زیادہ ہے برا
کچھ مساجد میں جلادوں کے دفاتر ہونا
ہم اِشارہ ہیں کہ آوازِ خداوندی ہیں
اپنا ہونا ہے فقط حکم کا صادر ہونا
دیکھ تو شمعِ غزل! زندہ مزاروں کی طرف
ظلم یہ تیرا کتابوں کا مجاور ہونا
مان لیتے ہیں وطن کی بھی بڑائی لیکن
کیسا رُتبہ ہے مدینے کا مہاجر ہونا
پہلے انکار ہر اک شے کا ضروری منصورؔ
اس کا ہونا بھی تو دراصل ہے کافر ہونا
کب راہِ ثواب دیکھتا تھا
جب اہلِ شراب دیکھتا تھا
حافظ کی کتاب دیکھتا تھا
جب بھی ترا خواب دیکھتا تھا
اک شخص بہشت کی گلی میں
دوزخ کے عذاب دیکھتا تھا
قسمت ہی خراب تھی کسی کی
دریا میں سراب دیکھتا تھا
دل تیرے خیال کے علاوہ
اپنا بھی حساب دیکھتا تھا
وہ میرا نصیب دیکھتی تھی
میں اُس کا شباب دیکھتا تھا
اُڑتے تھے ہجوم تتلیوں کے
کمرے میں گلاب دیکھتا تھا
وہ تیر و تفنگ چاہتی تھی
میں چنگ و رُباب دیکھتا تھا
پڑھتی تھی وہ اشتہارِ رشتہ
اور میں کوئی جاب دیکھتا تھا
رہتا تھا مکان بند منصورؔ
جب وقت خراب دیکھتا تھا
موت ہے گردن گردن مولا
مجبوری ہے کامن مولا
بھجوا دینا دس بارہ گز
لٹھا ہو یا کاٹن مولا
میٹھے کیسے ہو سکتے ہیں
پیڑ کے سارے جامن مولا
کھینچ رہی ہے ننگ کے فوٹو
چادر کی ہر کترن مولا
اس برفانی ویرانی میں
خالی پڑا ہے اوون مولا
ختم نہ ہو یہ ساون مولا
کیا ہے سندر جیون مولا!
عرش نژاد ہوں میں تو کیسے
خاک ہے میرا مدفن مولا!
اُس کھڑکی سے آئے پتھر
ہو گا کوئی دشمن مولا
شہرِ نگاراں بھول گیا ہے
رسم جنوں کا جوبن مولا
کب میرے بھی کن کہنے سے
سب کچھ ہو گا فوراً مولا!
ڈال جھٹال تُو میرے منہ میں
پہنا اپنی اترن مولا!
کوئی خواب، تمنا، خواہش
کچھ جیون کے کارن مولا!
تیرے دروازے پر جگ کی
طاقت ایک بھکارن مولا!
بس منصورؔ کے ہاتھ آیا ہے
صحرا کا خالی پن مولا!
سارا دہر فروتن مولا
کوئی جائے رفتن مولا
حسِ لطافت چیخ اُٹھی ہے
کچھ تو کارِ شگفتن مولا!
سانپوں سے محفوظ ہوں شالا
دودھ بھرے وہ برتن مولا
تیرے خوش ہونے کا مطلب
وصل کی رات بہشتن مولا
باندھ کے پلو میں پھرتی ہے
مجھ کو اک گجراتن مولا
جز منصورؔ ہیں محبوبوں میں
سب مصروف ہمہ تن مولا
میرے بڈ روم کا وال پیپر اکھڑنے لگا
کھینچا تانی میں بندِ قبا بھی اُدھڑنے لگا
پست قامت ہوئے کچھ پلازوں کی اونچائی سے
دوسرا شہر میں آسمان بھی سکڑنے لگا
اس زمین کی گذشتہ وراثت بھی معلوم کر
یہ علاقہ عجب اپنے پاؤں پکڑنے لگا
خواب کی بند کھڑکی سے آنے لگیں مہ وشیں
کچھ دنوں سے مرا چاند پر ہاتھ پڑنے لگا
اس کی پیشانی پر اس کی سچائی تحریر ہے
جیل میں جو اکیلا ہزاروں سے لڑنے لگا
وہ بھی خلقِ خدا کا نمائندہ تھا اس لیے
ہر غلط فیصلے پہ خدا سے جھگڑے لگا
جب رہائی کی خبریں عدالت سے آنے لگیں
وہ اسے اک نئے کیس میں پھر جکڑنے لگا
روح تک رنگ ہی رنگ منصور بہنے لگے
جب میں رولر سے رنگین کپڑا ربڑنے لگا
دل پہ تنہائیوں کا دباؤ سا بڑھنے لگا
کوئی خاموشی کے پیڑ سے شور جھڑنے لگا
وقت کی اندھیاں تیز رفتار ہونے لگیں
رفتہ رفتہ زمانے کا خیمہ اکھڑنے لگا
مجھ سے شہرِ محبت کی بربادیوں نہ پوچھ
درد آباد جیسے ہوئے یہ اُجڑنے لگا
سوچتا ہوں کہ مجھ کو گلے سے لگایا تھا کیوں
بار بار اس نے کل شام جب وہ بچھڑنے لگا
مہر و مہ اپنی کشتی کے لنگر گرانے لگے
کیا ہوا کیوں ہوا کا سمندر بگڑنے لگا
برف کے شخص کی داستان صرف اتنی سی ہے
آگ برساتے سورج کے در پہ اکڑنے لگا
دل عجب چیز ہے لمبی میخیں فقط ٹھونک کر
ایک دیوار جیسی پہاڑی پہ چڑھنے لگا
پہلے کچھ دیر شرمایا پہلے ورق پر مگر
پھر کتابِ بدن کوئی منصور پڑھنے لگا
پہلے پہلے اسیر ہوتا تھا
دل ترقی پذیر ہوتا تھا
اب مجھے یاد بھی نہیں آتا
جو کبھی ناگزیر ہوتا تھا
جس نے ڈھلوان سے گرایا ہے
وہ مرا دست گیر ہوتا تھا
نیک و بد کی تمیز ہوتی تھی
آدمی کا ضمیر ہوتا تھا
ایک ہوتا تھا خواب آنکھوں میں
اور جنت نظیر ہوتا تھا
نیکیوں کو خرید لیتے تھے
پاس خیرِ کثیر ہوتا تھا
وہ سراجاً منیر اب بھی ہے
جو سراجاً منیر ہوتا تھا
جس پہ اُس کی نگاہ پڑتی تھی
بے بصر بھی بصیر ہوتا تھا
اک اطاعت تھی، فرض ہوتی تھی
مومنوں کا امیر ہوتا تھا
فیض، کافر بھی تھا مسلمانا بھی
صدر کا بھی مشیر ہوتا تھا
جب وفا سے وفا جھگڑتی تھی
بیچ کی میں لکیر ہوتا تھا
اس کو ہجرت کی کیا ضرورت تھی
جو نگر میں فقیر ہوتا تھا
عقل والا بھی اک زمانے میں
بادشہ کا وزیر ہوتا تھا
پھر سے دل میں دکھائی دیتا ہے
اک ترازو جو تیر ہوتا تھا
سیٹھ! قارون کے خزانے میں
وہ جو مالِ خطیر ہوتا تھا
پیسے دیتا تھا جو مریدوں کو
ایک ایسا بھی پیر ہوتا تھا
میرے گھر کے قریب بچپن میں
ایک طورِ صغیر ہوتا تھا
کِرکِرا کرتا تھا گناہوں کو
ایک شاہد نذیر ہوتا تھا
کوئی قوسِ قزح پہنتی تھی
اک لباسِ حریر ہوتا تھا
اس کا چہرہ کلاس پڑھتی تھی
ایک لڑکا آخر ہوتا تھا
اس کی بخشش کو ہو دعائے خیر
وہ بھگت جو کبیر ہوتا تھا
کاغذوں پر قلم مچلتے تھے
اور شورِ صریر ہوتا تھا
مرثیے کی امام گاہوں میں
میں انیس و دبیر ہوتا تھا
خطہِ بے نظیر ہوتا تھا
ماروی کا ملیر ہوتا تھا
یاد آتا ہے اک خرد افروز
ناروے میں سفیر ہوتا تھا
کچھ ہیں نشتر میوزیم میں ابھی
اب بھی ہے وہ جو میرؔ ہوتا تھا
کیسے یورپ میں ہو گیا مقبول
وہ جو اپنا پنیر ہوتا تھا
دشت میں میگزین چھپتے تھے
قیس سالا مدیر ہوتا تھا
پہلے ہوتی تھی فیملی منصورؔ
آدمی کا خمیر ہوتا تھا
لہو کا داغ، بھیڑیوں کی سرخ اون سے اٹھا
نشانِ قتل، قاتلوں کے دستِ خون سے اٹھا
کچھ ایسی بات ہی نہیں ہے جانِ من، نہیں نہیں
میں سو رہا تھا بس ابھی ہوں تیرے فون سے اٹھا
سنِ بلوغت آنے سے وہ پہلے ہوتے ہیں جواں
ہے مسئلہ یہی بچوں کے کارٹون سے اٹھا
شبِ فراق کی خموشیوں پہ تازیانہ ہے
یہ بادلوں کا قہقہ جو مون سون سے اٹھا
میں سارتر، میں روسیو، میں کامیو نہیں مگر
نظر علوم سے اٹھی، خرد فنون سے اٹھا
یہ خیمہِ شعور میں ہوئی ہے جس سے روشنی
بلندیوں کا وہ دیا ایئر بلون سے اٹھا
منزہ و مبرا، حالتِ بدون سے اٹھا
یہ خیمہِ فروغِ کن ترے ستون سے اٹھا
کبھی پہنچ نہ پائے وہ مقامِ مومنیں تلک
جو عشقِ اہل بیت میں رہِ جنون سے اٹھا
جو تین سال وادیِ شعب کے یاد آگئے
کبھی درون سے اٹھا، کبھی برون سے اٹھا
نہیں تھی جب کوئی بھی شے بجز خدائے پاک کے
ترا وجودِ نور بھی انہی قرون سے اٹھا
اکیلگی کی ذات میں چھپا ہوا تھا جو کہیں
ترا بطونِ خاص بھی اسی بطون سے اٹھا
وہ نقطہ جو کہ درمیانِ نون سے اٹھا
وہی ہے حرف کے کسی گراموفون سے اٹھا
یہ واہمے لے آئے ہیں درِ فراق پر مجھے
یہ اشک و آہ کا نگر، برے شگون سے اٹھا
اٹھا دیا گیا ہے بزمِ یار سے مگر رقیب
بڑے غرور سے اٹھا بڑے سکون سے اٹھا
قصور مانتا ہوں جانتا ہوں سارے شہر میں
یہ تیری آگ کا دھواں، مرے جنون سے اٹھا
کہنا میری ذات کائنات سے پرانی ہے
کہا نہ آدمی قدیم تر زموں سے اٹھا
بس ایک آگ کا الاؤ ایک وین سے اٹھا
ہمارے سامنے دھماکہ اوکلینڈ سے اٹھا
میں نکلا رفتہ رفتہ کائنات کے حصار سے
کہ دھیرے دھیرے کچھ نشہ بیئر کے کین سے اٹھا
لکھوک بکس ہیں پڑی سٹور میں۔ یہ مسئلہ
کتاب مارکیٹ میں کتب پہ بین سے اٹھا
پچاس پیک ایک ہی شرابی کو پلا دیے
بریڈ فورڈ میں فساد بار مین سے اٹھا
چراغ سا بنا دیا سلگتی ریت کے بُبول کو
کیکٹس کا غلغلہ بھی صادقین سے اٹھا
ہوائے دشت بھی اسی کے گیت گنگناتی ہے
جہاں کا سرا غم زنبورِ عاشقین سے اٹھا
یہ شور، کائناتوں میں کئی زمینیں اور ہیں
ہے ربِ مغربین، ربِ مشرقین سے اٹھا
نہ دن میں روشنی کہیں، نہ چاند ہے نہ تارے ہیں
اٹھی افق سے صبح تو چراغ رین سے اٹھا
۔۔ایک نا ممکن مشن پر پائلٹ بھیجا گیا
یعنی خود کش معرکے میں مولا جٹ بھیجا گیا
ساٹھ برسوں کے بعد بھی احساس ہوتا ہے یہی
آسماں سے میں زمین پر دو منٹ بھیجا گیا
مست آنچل کی اڑانیں دیکھتا تھا میں مگر
صرف پہنا کر ہوا کو جارجٹ بھیجا گیا
دل کے قصے کو لہو کی داستاں بھیجی گئی
رومیو کو جولیٹ کا ناولٹ بھیجا گیا
درج تھا جس پہ ہم ایسے کوفیوں کی داستاں
وہ ہوا کے ہاتھ مجھ کو پمفلٹ بھیجا گیا
کہتا پھرتا ہے کہ اپنی آگ ہمرہ لے چلو
میری بستی میں جو اک دوزخ پلٹ بھیجا گیا
واقعہ بالکل اُلٹ تھا قتلِ ناحق کا مگر
بادشاہِ وقت کو قصہ الٹ بھیجا گیا
رقص غلمانوں کو آتا ہے بتانے کے لیے
لڑکیوں کے مدرسہ میں ایک نٹ بھیجا گیا
پارلر کے ریٹ بھی بھیجے گئے منصور ساتھ
اس کی جانب سے محبت کا بجٹ بھیجا گیا
فرض کردہ ایک کا بس واہمہ بھیجا گیا
اس پہ الجبرا کا بھی پھر مسئلہ بھیجا گیا
تین کو جب تین سے جوڑا تو دو گم ہو گئے
زوایہ پر زاویہ اک قائمہ بھیجا گیا
جذبہِ عشق و محبت کے تعین کے لیے
فارمولا بھی ریاضی کا نیا بھیجا گیا
جو بھی دکھ بھیجا گیا اس میں ہنسی رکھی گئی
غم ذرہ بھیجا گیا جو قہقہہ بھیجا گیا
جس نے چھوڑا تھا مجھے منصور کالی رات میں
اس کی جانب سے جدائی کا گلہ بھیجا گیا
باندھ کر پاؤں کسی کو کھیل میں بھیجا گیا
تخت جس کا تھا اُسی کو جیل میں بھیجا گیا
صرف ہوٹل ہی کی تصویریں نہیں بھیجی گئیں
حسن کا بھی نرخ نامہ سیل میں بھیجا گیا
ڈاک میں بھیجی گئی خوشبو بھری بوتل مجھے
پھول کا امیج دوبارہ میل میں بھیجا گیا
پھر گزارے جائیں گے امید میں کچھ اور دن
پھر یہ وعدہ تل کے کڑوے تیل میں بھیجا گیا
کی گئی جلدی پہنچنے کی بھی تاکیدِ مزید
چاند پر منصور مجھ کو ریل میں بھیجا گیا
ہر طرف فلم کا اک بورڈ نظر آتا تھا
لکشمی میں مجھے میکلوڈ نظر آتا تھا
ڈاٹ کام آپ اُتر آتے تھے چشمِ نم میں
درد ہوتا ہوا اپ لوڈ نظر آتا تھا
اس قدر اونٹ سے تھا دشتِ طلب کا رشتہ
وہ دراوڑ تھا مگر اوڈ نظر آتا تھا
اس لیے وقت نے ہندسے کی حکومت مانی
جو بھی در کھولتا تھا کوڈ نظر آتا تھا
جب مرے روم میں رہتی تھیں برونٹے سسٹرز
مجھ کو کھڑکی سے بریڈفورڈ نظر آتا تھا
بجلیاں کرتی تھیں کچھ اتنے اُجالے منصورؔ
گہرے کُہرے میں سیہ روڈ نظر آتا تھا
نرم کوپنل تھی وہ جو رارڈ نظر آتا تھا
سرو قد حسن یونہی ہارڈ نظر آتا تھا
کار جاتے ہوئے کچھ تیز کی اتنی اس نے
دور ہوتا ہوا کنکارڈ نظر آتا تھا
روز آتی تھیں کراچی میں حسینانِ جہاں
یہ گڈانی جو ہے شپ یارڈ نظر آتا تھا
کل عجب ایک تماشا یہی دیکھا گھر میں
ہم نہیں آتے تھے بس گارڈ نظر آتا تھا
پوچھتے تھے تمہیں بیمار کیا ہے کس نے
ہاتھ میں جن کے صحت کارڈ نظر آتا تھا
اب حکومت میں نظر آتے ہیں سارے انگریز
پہلے کوئی کہیں اک لارڈ نظر آتا تھا
اتفاقاً جو گئے شہرِ وفا میں منصور
وہ کلینک کا کوئی وارڈ نظر آتا تھا
وہ جو لوگوں کو نظر بند نظر آتا تھا
بس وہی مجھ کو ظفر مند نظر آتا تھا
برگزیدہ جسے احباب سمجھتے تھے مجھے
وہی ابلیس کا فرزند نظر آتا تھا
جب بصیرت مری آنکھوں کے توسط سے تھی
صاحبِ سنگ گہر وند نظر آتا تھا
اُس کرم بار کی بس ایک نگہ سے پہلے
جس طرف جاتا تھا در بند نظر آتا تھا
جب وہاں حضرتِ منصور رہا کرتے تھے
تب میانوالی سمر قند نظر آتا تھا
جب لہو سرد، بدن زرد نظر آتا تھا
کوئی نادیدہ سا ہمدرد نظر آتا تھا
آتشِ دل کے آلاو وہیں جل پڑتے تھے
جب مزاج اس کا ذرا سرد نظر آتا تھا
حضرتِ قیس بھی چہرے کو چھپالیتے تھے
جب قبیلے کا کوئی فرد نظر آتا تھا
شہر کی عورتیں گلیوں میں نکل آتی تھیں
کوئی سچ مچ کا اگر مرد نظر آتا تھا
اس جگہ میں نے گزارے ہیں کوئی ساٹھ برس
آنکھ اٹھتی تھی جدھر درد نظر آتا تھا
اپنے باطن کا تھا منصور سفرنامہ نگار
ساری دنیا کو جہاں گرد نظر آتا تھا
دایرہ آنکھ کا محدود نظر آتا ہے
پر یہی ہے جسے معبود نظر آتا ہے
اکثر اوقات یہی تجربہ ہوتا ہے مجھے
قصد کرتا ہوں تو مقصود نظر آتا ہے
قابِ قوسین کے منظر کی قسم ہے مجھ کو
کوئی حامد ہو تو محمود نظر آتا ہے
مرتکز کیجئے اللہ پہ اپنی آنکھیں
بود میں دیکھیے نابود نظر آتا ہے
سجدہِ ابن علی کی ہے شہادت حاضر
حالتِ سجدہ میں مسجود نظر آتا ہے
چاہیے ہوتی ہیں بس دیکھنے والی آنکھیں
کوئی ہوتا ہے جو موجود، نظر آتا ہے
علمِ منطق کی یہی بات بہت ہے مجھ پر
کوئی شاہد ہو تو مشہود نظر آتا ہے
یونہی منصور میں جلوہ نہیں پیدا ہوتا
آگ لگتی ہے تو بارود نظر آتا ہے
۔۔ہم تو سمجھے تھے کہ اب ختم ہے جوبن غم کا
پھر بڑھاپے میں نکل آیا ہے بچپن غم کا
رات ہوتی ہے تو رنگوں سے نہا جاتا ہوں
میرے دامن میں کھلا رہتا ہے گلشن غم کا
درد کی روٹی ہے، اشکوں کا ہے سالن اس میں
کوئی کشکول ہے دل یعنی ہے برتن غم کا
نسل در نسل وراثت میں چلا آتا ہے
درد کا آئینہ خانہ، یہی مخزن غم کا
شب اترتی ہے تو عفریت نکل آتے ہیں
دن نکلتا ہے تو کرتا ہوں میں درشن غم کا
کوئی رت بھی ہو سرِ شاخ سیہ آنسو ہیں
میرے انگن میں ہرا رہتا ہے جامن غم کا
اور کچھ داغ اداسی کے بڑھا دیتا ہے
درو دیوار سے اترا ہوا روغن غم کا
رقص گاہِ سخی شہباز قلندر میں رہوں
کیروا مجھ میں بجاتا رہے سہون غم کا
جب رگ و پے میں گھلیں کافیاں تو کھینچتا ہے
کوٹ مٹھن میں بنایا ہوا مسکن غم کا
کم نہیں صحبتِ ہجراں سے سہاگن کا وصال
میرے رخساروں پہ مل اور بھی ابٹن غم کا
برگ و بار آئے ہیں پیڑوں پہ محبت کے عجب
باغِ وحشت میں ہے منصور نیا پن غم کا
ق
پھر وہی درد کی تہذیب، تمدن غم کا
پھر وہی جلتا ہوا دل، وہی ایندھن غم کا
ایک سیلاب ہے اشکوں کا جہاں تک دیکھوں
بس مسلط ہے مرے دیس پہ ساون غم کا
چیخ سی میری سماعت میں کوئی گونجتی ہے
بس پھٹا جاتا ہے احساس میں جوبن غم کا
پاؤں میں بیڑیاں ہیں کرب و بلا کی اپنے
طوق پہنے ہوئے ہے وقت کی گردن غم کا
چاند کی چادریں چڑھتی ہیں چہکتے دن میں
ہائے منصورؔ وطن میرا ہے مدفن غم کا
یہ ابھرتا ہوا سورج بھی ہے کاہن غم کا
اس کا ہر ایک سخن صرف معاون غم کا
اپنے آنسو ہیں ریورٹیم میں، پانی تو نہیں
استعارہ ہے ہمارے لئے لندن غم کا
دیکھ کر گاڑی مری، ریس بڑھائی کیوں تھی
رات بھر بجتا رہا ذہن میں ہارن غم کا
ہجر کے شہر میں جب چاہو اُتر سکتے ہو
عشق کی ریل میں ہر ایک سٹیشن غم کا
موت کا نوحہِ وحشت ہے مرے چاروں طرف
یہ گزرتا ہی نہیں خاک سے سیزن غم کا
تجربہ تازہ انرجی کا ہوا چاہتا ہے
ریل گاڑی کو لگایا گیا انجن غم کا
ہم کو بچھڑے ہوئے منصورؔ برس بیت گیا
اب تلک سلسلہ دونوں میں ہے کامن غم کا
مرد تھا، چشم و لب و رخسار سے مارا گیا
آخری فائر پسِ دیوار سے مارا گیا
آنا مشکل تھا سہولت سے نشانے پر مرے
مولوی نکلی ہوئی دستار سے مارا گیا
اک پہاڑی راستے پر لمس کے انبار میں
پھر پرندہ جیپ کی رفتار سے مارا گیا
ناز و انداز و ادا کی فائرنگ میں آخرش
دل بچارہ، حسن کی یلغار سے مارا گیا
سوری ایسی تو نصیبوں سے ملا کرتی ہے موت
خوش ہوں کہ دلدار کی تلوار سے مارا گیا
اس کمینی سے مرا دل پورا واقف ہی نہ تھا
جھوٹے موٹے آنسوؤں کی دھار سے مارا گیا
سن چکا تھا ڈارلنگ قصے ترے ہر شخص سے
بس تری ہمدردیوں کے وارسے مارا گیا
دیس کے منصوبہ سازو! آخری امید کو
فیل کر کے خود بریکیں، کار سے مارا گیا
اک مسافر سایہِ چھتنارسے مارا گیا
بخت کی گرتی ہوئی دیوار سے مارا گیا
میں سمجھتا تھا مری سرمایہ داری سے ہے جنگ
تیر مسجد کے مگر مینار سے مارا گیا
شب چمکنے کی اجازت دیتی ہے اک حد تلک
وہ ستارہ، جراتِ گفتار سے مارا گیا
بس شفق تابی کی آوازیں سنائی دیں مجھے
دل ترے رخساروں کی للکار سے مارا گیا
متحرک دائروں میں زندگی کی گردشیں
کشتیِ جاں کو غمِ منجدھار سے مارا گیا
اس نے لکھی تھی خوشامد کی تباہی پر کتاب
خود مگر تعریف کی بھرمار سے مارا گیا
چند لوگوں کو کلاشن کَوف سے مارا گیا
باقی سارے شہر کو بس خوف سے مارا گیا
ذہن تھا اس کی فضا کے غاصبانہ سحر میں
کافکا کو آخرش چیخوف سے مارا گیا
اڑ گئے جوتوں کے تلوئے پھٹ گیا آخر لباس
قیس لیلی کی گلی کے طوف سے مارا گیا
لکھنے والوں ن تباہ کی آپ تحریرِ وطن
یعنی داغستان، حمزہ توف سے مارا گیا
پوچھ مت روباہ صفت اُس شیرنی کی داستان
سارا جنگل لومڑی بن عوف سے مارا گیا
ہونٹ ملتے تو پہنچتی یہ صدا منصور تک
وہ مخارج میں دہن کے جوف سے مارا گیا
کس خطا کس جرم کس تقصیر سے مارا گیا
کیا سویرا، ظلمتِ تقدیر سے مارا گیا
بیڑیاں پہنائی گلشن کو شبِ ظلمات میں
برگ گل بھی تیرگی کے تیر سے مارا گیا
تیغِ حیدر کی چمک ہے تا ابد پھیلی ہوئی
لشکرِ شب، طلعتِ شبیر سے مارا گیا
ہم شکاری کی نگاہِ تیز میں برسوں سے تھے
کون جانے کیوں ہمیں تاخیر سے مارا گیا
رات پھیلائی گئی، سچائی دفنائی گئی
روشنی کو جھوٹ کی تشہیر سے مارا گیا
جمع درد و غم کیے تخلیق نے منصور بس
شاعری کا حسن، رنگِ میر سے مارا گیا
غم یہی ہے زندگی کے ہاتھ سے مارا گیا
حیف دستِ قبلہِ حاجات سے مارا گیا
شہر کا ڈپٹی کمشنر قتل کا مجرم نہیں
خستہ گھر تھا وحشتِ برسات سے مارا گیا
پھر کوئی شہزادہ ہائے، پھر کوئی ماہِ عرب
اہل کوفہ، تیرے مکتوبات سے مارا گیا
لوگ مرتے آتے ہیں سیلابوں بھونچالوں میں بھی
کیا کہوں کیوں گردشِ حالات سے مارا گیا
آفتِ غمزہ و عشوہ کی فسوں سازی نہ پوچھ
شہر سارا قدرتی آفات سے مارا گیا
جان لیتا تھا نہاں خانہِ دل کی رنجشیں
میں بلا کے تیز محسوسات سے مارا گیا
ہر عدالت جانتی تھی بے گناہ ہے وہ مگر
ہند کی انگریزی تعزیرات سے مارا گیا
پھر کوئی منصور اہلِ دل، دیارِ عشق میں
مولوی صاحب کے فرمودات سے مارا گیا
چمکتی چاندی کی خالی ہیں گاگریں کیا کیا
ہزار لوگوں کے غم ہیں کنویں بھریں کیا کیا
کبھی کبھی چلا جاتا ہوں فاتحہ کے لیے
مزارِ دل پہ ہیں یادوں کی چادریں کیا کیا
سجا ہوا ہے اُڑانوں کے سات رنگوں سے
لگی ہیں وقت کو گھوڑے کو جھالریں کیا کیا
ابھی تو کارِ محبت ہے کار خانے میں
پڑے ہیں کام ابھی تو بہت، کریں کیا کیا
نصیب تھا کہ مرے ساتھ چل پڑی پیدل
وہ جس کے واسطے رکتی ہیں موٹریں کیا کیا
ابھی بھی کرتی ہے کتھک وہ سونیا عباس
ابھی بھی پیروں میں بجتی ہیں جھانجریں کیا کیا
یہ اور بات کہ چھوڑا نہیں چراغِ امید
ملی ہیں مجھ کو اداسی سے آفریں کیا کیا
وہ جس نے عہدِ حزاں میں کیا ہے صرف نظر
کی اس کی میں نے بہاروں میں خاطریں کیا کیا
ذرا سی عمر میں عاشق مزاج پورا تھا
مرے سکول میں ہوتی تھیں ٹیچریں کیا کیا
بڑے بڑوں سے انہی کی طرح ملا منصورؔ
ہیں ماری اپنے مقدر کو ٹھوکریں کیا کیا
بوجہِ مذہب و مسلک ہیں نفرتیں کیا کیا
اٹھائے پھرتا ہے احساس وحشتیں کیا کیا
یہ رتجگے، یہ میوزک، یہ چائے یہ کافی
کسی نے قرب نے ڈالی ہیں عادتیں کیا کیا
بس ایک لمس کی حدت بھری محبت میں
ہوئی ہیں لوگوں سے میری عداوتیں کیا کیا
اک ایک مصرعہ بدستِ سروش آیا ہے
خدا دی ہیں مجھے بھی بشارتیں کیا کیا
کوئی سبینہ کوئی طاہرہ کوئی فردوس
مرے نصیب میں لکھ دیں سعادتیں کیا کیا
وطن کو لیلی کہا اور عوام کو مجنوں
کشید کی ہیں ستم سے علامتیں کیا کیا
قلم کو یہ جو پکڑتی ہیں انگلیاں، چومیں
مجھے دیں اہلِ نظر نے محبتیں کیا کیا
رکھا گیا کوئی اڈیالہ جیل میں منصور
تمام ملک میں پھوٹیں بغاوتیں کیا کیا
ہر ایک موڑ پہ جمتی تھیں محفلیں کیا کیا
سفر میں ساتھ رہیں میرے منزلیں کیا کیا
بلایا تھا مجھے بلھے نے اپنے عرس پہ رات
مزارِ یار پہ بجتی تھیں پائلیں کیا کیا
خدا کے ساتھ محبت میں ہم قدم تھے رقیب
مجازی عشق میں آتی ہیں مشکلیں کیا کیا
یہ گرتی آگ کے موسم میں ٹھنڈی رہتی ہیں
لگی ہیں صحنِ ابراہیم میں سلیں کیا کیا
کسی کے سینے میں پتھر کسی کے منہ میں دراڑ
دیارِ دل میں ہمیں لوگ بھی ملیں کیا کیا
کوئی بتائے مجھے کوک میں ہے کیسا گداز
یہ بولتے ہوئے کہتی ہیں کوئلیں کیا کیا
جب آدھی رات کے سورج کو دیکھتا ہوں میں
نکلتی ہیں یہ خیالوں سے کونپلیں کیا کیا
یہ سبز لان میں رم جھم سی ہے کہ میزوں پر
کھلی پڑی ہیں شرابوں کی بوتلیں کیا کیا
یہ احتجاج کی آنکھیں ہیں یا شرارے ہیں
اٹھائے پھرتی ہے تہذیب مشعلیں کیا کیا
سیاہ دشت میں خیمے لگا رہا ہوں میں
بھری ہوئی ہیں بہاروں سے چھاگلیں کیا کیا
یہ لوگ جن کے بدن مشکبار ہیں منصور
مثالِ برگ و سمن باغ میں کھلیں کیا کیا
یہ جستہ جستہ نظامِ فلکی تو میں نے دیکھا
ادھر بھی میں تھا نقاب ڈھلکی تو میں نے دیکھا
بلند موجیں تھیں آگے، پیچھے کنارہ گم تھا
جو بات دریانے بے محل کی تو میں نے دیکھا
اٹھائے پھرتی تھی کیسے کیسے کمال سورج
کھلی جو مٹھی شبِ اجل کی تو میں نے دیکھا
وہ میرے پہلو میں آ چکی تھی چراغ لے کر
خیالِ جاناں نے جب پہل کی تو میں نے دیکھا
وہی جو اُڑتا تھا اپنا گھوڑا وہ اُڑ گیا تھا
کھلی جو زنجیر اصطبل کی تو میں نے دیکھا
اچانک آئی ابد کی منصور روشنی میں
وہ جل پری چشمہِ ازل کی تو میں نے دیکھا
بدن سے اس کے جو شال ڈھلکی تو میں نے دیکھا
چلی وہ لڑکی جو ماربل کی تو میں نے دیکھا
قریب بیٹھی تھی گھاس پر وہ گٹار لے کر
شروع جب اُس نے مری غزل کی تو میں نے دیکھا
کسی حسینہ کا دستِ نازک قریب تر تھا
گلاس سے جب شراب چھلکی تو میں نے دیکھا
نہا کے نکلی تھی اور زلفیں جھٹک رہی تھی
پھوار آئی جو ہلکی ہلکی تو میں نے دیکھا
کمر تک آیا ہوا تھا اس کے، کسی کا بازو
جب اس نے تصویر پارسل کی تو میں نے دیکھا
وہ صدرِ شعبہ تھی فلسفے کی، ذہین بھی تھی
کسی نے تعریفِ بوجہل کی تو میں نے دیکھا
چھپاتے پھرتے ہیں اپنے چہروں کو خود حواری
سنی کہانی جو بائیبل کی تو میں نے دیکھا
شکار منصورؔ اُڑ چکا تھا درختِ جاں سے
چلائی گولی جو رائفل کی تو میں نے دیکھا
اسے بھی ربطِ رہائش تمام کرنا تھا
مجھے بھی اپنا کوئی انتظام کرنا تھا
نگار خانے سے اس نے بھی رنگ لینے تھے
مجھے بھی شام کا کچھ اہتمام کرنا تھا
اسے بھی عارض و لب کے دیے جلانے تھے
مجھے بھی چاند سے کوئی کلام کرنا تھا
بروزِ عید لگانا ہے اس کو سینے سے
یہ ایک سالِ گذشتہ کا کام کرنا تھا
مراقبہ کسی بگلے کا دیکھنا تھا مجھے
کنارِ آبِ رواں کچھ خرام کرنا تھا
گلی کے لڑکوں کو سچائیاں بتانی تھیں
کوئی چراغ اندھیروں میں عام کرنا تھا
یہ کیا کہ بہتا چلا جا رہا ہوں گلیوں میں
کہیں تو غم کا مجھے اختتام کرنا تھا
بلانے آیا تھا اقبال بزمِ رومی میں
سو حکم نامے کا کچھ احترام کرنا تھا
تھرکتے تیز زمانے پہ زین کسنی تھی
ہوا کے گھوڑے کو اپنا غلام کرنا تھا
گزر سکی نہ وہاں ایک رات بھی منصورؔ
وہ جس جگہ مجھے برسوں قیام کرنا تھا
کسی کے آنے پہ دنبہ حرام کرنا تھا
خیالِ رزق علیہ اسلام کرنا تھا
بس ایک لنچ ہی ممکن تھا اتنی جلدی میں
اسے بھی جانا تھا میں نے بھی کام کرنا تھا
قصائیوں سے چرانا تھا ماس گردن کا
سگِ جہاں کا کوئی انتظام کرنا تھا
بکھیر کر مجھے گلیوں میں گولیاں دکھ کی
درست کوچہِ جاں کا نظام کرنا تھا
چراغ مجھ کو جلانے تھے فاسفورس کے
گرے ہوئوں کو ستارہ مقام کرنا تھا
اداسیوں نے اذان دی تھی یاد کی منصور
نمازِ ہجر میں غم کو امام کرنا تھا
آمدِ دلدار ہے، اب جھنڈیاں گھر پر لگا
شہر میں منصور استقبالیہ بینر لگا
ہے طواف کوچہ جاناں یہی بس ساٹھ میل
بے یقینی چھوڑ، میرے پائوں میں میٹر لگا
مجھ سے لپٹی جا رہی ہے اک حسیں آکاس بیل
یاد کے برسوں پرانے پیڑ کو کینسر لگا
موت کی ٹھنڈی گلی سے بھاگ کر آیا ہوں میں
کھڑکیوں کو بند کر، جلدی سے اور ہیٹر لگا
گر محبت ہے تماشا تو تماشا ہی سہی
چل مکانِ یار کے فٹ پاتھ پر بستر لگا
واہ کیا بھرپور بوسہ اس نے بخشا ہے مجھے
آج دن ہے، لاٹری کے آج چل نمبر لگا
یہ الگ اس مرتبہ بھی پشت پر خنجر لگا
یہ الگ پھر زخم پچھلے زخم کے اندر لگا
بند کر دے روشنی کا آخری امکان بھی
روزنِ دیوار کو مٹی سے بھر، پتھر لگا
کیا بلندی بخش دی بس ایک لمحے نے اسے
جیسے ہی سجدے سے اٹھا، آسماں سے سر لگا
پھیر مت بالوں میں میرے، اب سلگتی انگلیاں
مت کفِ افسوس میرے، مردہ چہرے پر لگا
بہہ رہی ہے جوئے غم، سایہ فگن ہے شاخِ درد
باغِ ہجراں کو نہ اتنا آبِ چشمِ تر لگا
اتنے ویراں خواب میں تتلی کہاں سے آئے گی
پھول کی تصویر کے پیچھے کوئی منظر لگا
دیکھ جا کر جنتِ مہتاب کی رعنائیاں
آج چل اپنے پرانے شہر کا چکر لگا
حاکموں سے رشتہ کچھ شادی سے بھی نازک لگا
ٹوٹنے پر کچھ خوشی دل کو ہوئی کچھ دکھ لگا
جتنے بھی یہ گدھ فضا میں ہیں انہیں مرحوم کر
دیس کی پرواز کو مهمیز دے چابک لگا
کر رہا ہے میڈیا کوریج تری پوشاک کی
کھینچ اب پتلون کی جلدی سے زپ اور ہک لگا
کیا ابابیلوں کی چونچوں سے گرائیں پر چیاں
مجھ کو اپنے شہر کا ہر آدمی ہنس مکھ لگا
دھجیاں قانون کی بکھریں گلی کوچوں کی بیچ
کورٹ کا ہر فیصلہ ہر شخص کو بے تک لگا
پھر کوئی جنرل مشرف، پھر کوئی جنرل ایوب
پھر کوئی جنرل ضیا الحق گیا ہے تھک لگا
خود سپہ سالار کو کرتا ہے دفتر میں سلوٹ
ملک کا حاکم مجھے منصور اک بھکشک لگا
میڈیا بکواس مت کر، اتنی مت بک بک لگا
ہر گلی ہر موڑ پہ مت جھوٹ کے پھاٹک لگا
اس نئے یومِ سیہ کی جتنی بھی ہے وہ تمام
اپنے چہرے پر سیاہی تھوپ لے کالک لگا
ایک ہی تیرا ڈرامہ، ایک ہی تیرا پلاٹ
بور مت کر، اپنا جا ڈی چوک پر ناٹک لگا
تیری آنکھوں کو دکھائی دے نہ لوگوں کی پکار
مشورہ خلقِ خد کا ہے یہی عینک لگا
اس کے پھوسے اڑ چکے ہیں ورق خستہ حال ہیں
اس کتابِ خاک کی اب جلد پر ابرک لگا
پھر مجھے منصور پنڈی جیل کا قیدی، عظیم
غیر فانی اعتمادِ ذات کی حد تک لگا
سچ مچ حرام زادہ ہے سوبر بنا ہوا
وہ بزم میں جو پھرتا ہے نوکر بنا ہوا
ٹینس کا کھیل اور وہ بھیگی ہوئی شعاع
تھا انگ انگ کورٹ کا محشر بنا ہوا
پردوں پہ جھولتے ہوئے سر ہیں گٹار کے
کمرے میں ہے میڈونا کا بستر بنا ہوا
یادوں کے سبز لان میں پھولوں کے اس طرف
اب بھی ہے آبشار کا منظر بنا ہوا
سہمی ہوئی یہ کتنی اکیلی ہے چاندنی
کس خوف میں ہے جون دسمبر بنا ہوا
منصور یاد آتا ہے کیلی کے ساتھ ساتھ
پیرس میں ایک اوپرا تھیٹر بنا ہوا
اس جانمازِ خاک کے اوپر بنا ہوا
ہوتا تھا آسماں میں کوئی در بنا ہوا
دیوار بڑھ رہی ہے مسلسل مری طرف
اور ہے وبالِ دوش مرا سر بنا ہوا
آگے نہ جا کہ دل کا بھروسہ نہیں کوئی
اس وقت بھی ہے غم کا سمندر بنا ہوا
اک زخم نوچتا ہوا بگلا کنارِ آب
تمثیل میں ہے میرا مقدر بنا ہوا
گربہ صفت گلی میں کسی گھونسلے کے بیچ
میں رہ رہا ہوں کوئی کبوتر بنا ہوا
ہر لمحہ ہو رہا ہے کوئی اجنبی نزول
لگتا ہے آسماں کا ہوں دلبر بنا ہوا
منصورؔ کہتے ہیں کوئی جنت کہیں پہ ہے
دیکھا نہیں ہے شہر ہوا پر بنا ہوا
دیواروں پر، تمام دروں پر بنا ہوا
ہے موت کا نشان گھروں پر بنا ہوا
بس زندگی ہے آخری لمحوں کے آس پاس
محشر کوئی ہے چارہ گروں پر بنا ہوا
آتا ہے ذہن میں یہی دستار دیکھ کر
اک سانپ کا ہے نقش سروں پر بنا ہوا
ناقابلِ بیان ہوئے کیوں اس کے خدو خال
یہ مسئلہ ہے دیدہ وروں پر بنا ہوا
کیا جانے کیا لکھا ہے کسی نے زمین کو
اک خط ہے بوجھ نامہ بروں پر بنا ہوا
اک نقش رہ گیا ہے مری انگلیوں کے بیچ
منصورؔ تتلیوں کے پروں پر بنا ہوا
آئے نظر جو روحِ مناظر بنا ہوا
ہو گا کسی کے ہاتھ سے آخر بنا ہوا
یہ کون جا رہا ہے مدینے سے دشت کو
ہے شہر سارا حامی و ناصر بنا ہوا
پر تولنے لگا ہے مرے کینوس پہ کیوں
امکان کے درخت پہ طائر بنا ہوا
یہ اور بات کھلتا نہیں ہے کسی طرف
ہے ذہن میں دریچہ بظاہر بنا ہوا
آغوشِ خاک میں جسے صدیاں گزر گئیں
پھرتا ہے وہ جہاں میں مسافر بنا ہوا
فتویٰ دو میرے قتل کا فوراً جنابِ شیخ
میں تھا کسی کے عشق میں کافر بنا ہوا
کیا قریۂ کلام میں قحط الرجال ہے
منصورؔ بھی ہے دوستو شاعر بنا ہوا
دشتِ ہجراں کی کئی ڈگریاں رکھنے والا
دل نہیں دیر تلک تلخیاں رکھنے والا
مجھ کو اس وقت بھی ہے تیز بہت تیز بخار
اور مرا کوئی نہیں پٹیاں رکھنے والا
چارپائی پہ روانہ ہوا مرقد کی طرف
اپنی کوٹھی میں کئی گاڑیاں رکھنے والا
ایک ہوتا تھا فقیہ اکبری دربار کے بیچ
اپنی دستار میں ان ہونیاں رکھنے والا
بابو سر ٹاپ کے پہلو میں ہزارہ کی طرف
اک مکاں ہوتا تھا دو چمنیاں رکھنے والا
دھول سے کیسے بچا سکتا ہے اپنی چیزیں
پائے نازک میں کئی آندھیاں رکھنے والا
یاد رکھے کہ ہوا دوش پہ رکھتی ہے غبار
دل کے کمرے کی کھلی کھڑکیاں رکھنے والا
اے جہاں زاد میں سمدھی ہوں تمہارا لیکن
ایسا ہوتا تو نہیں بیٹیاں رکھنے والا
روک اُس کو کہ کہاں کوئی ملے گا تجھکو
ایسا دل، ایسی عجب خوبیاں رکھنے والا
کوئی تھا ریت پہ پیشانیاں رکھنے والا
دشت میں مر گیا طغیانیاں رکھنے والا
کیسے مشکل سے تعلق میں مجھے ڈال گیا
میری دہلیز پہ آسانیاں رکھنے والا
جسم پر آگ برسنے کو مزا لیتا تھا
ذہن میں ہجر کی ویرانیاں رکھنے والا
صحنِ سیلاب میں خوش کتنا نظر آتا ہے
دوش پر بے سرو سامانیاں رکھنے والا
اب کسی اور محبت کا تمنائی ہے
ہر ملاقات میں حیرانیاں رکھنے والا
کیسے لاہور سے منصور نکل سکتا ہے
دل میں ہجویر کی تابانیاں رکھنے والا
قصرِ تاریک پہ مہتابیاں رکھنے والا
کیا ہوا روشنی کی چابیاں رکھنے والا
پھرتا ہے شہر میں پت چھڑ کی اداسی لے کر
دشت میں پھول سی شادابیاں رکھنے والا
کیسے مانوس ہوا ہجر کی تنہائی سے
اتنی بے چینیاں، بے تابیاں رکھنے والا
پابرہنہ پھرے اڈیالہ کی اک بارک میں
پائوں میں گوچی کی گرگابیاں رکھنے والا
چیرتا جاتا ہے کیوں آپ کنارے اپنے
ساحلوں پہ سدا مرغابیاں رکھنے والا
کتنا خاموش ہے چوکھٹ پہ تری بیٹھا ہوا
طبعِ آشفتہ میں سیمابیاں رکھنے والا
سو گیا ہے ترے کاندھے پہ یہ کیسے منصور
آنکھ میں عمر کی بے خوابیاں رکھنے والا
تھک گیا سوکھی ہوئی تیلیاں رکھنے والا
ذہن کے گھونسلے میں بجلیاں رکھنے والا
پال بیٹھا ہے پرندوں کی رہائی کا جنون
جار میں اپنے لیے تتلیاں رکھنے والا
کیسے رکھ سکتا ہے سندر سی کوئی گرل فرئیڈ
گھر میں بیدار مغز بلیاں رکھنے والا
آخری بار تجھے ملنے کی خواہش میں ہے
اپنے پستول میں دو گولیاں رکھنے والا
جانتا ہے کہ تماشا ہے مرے سانس تلک
عمر بھر رقص میں کٹھ پتلیاں رکھنے والا
بزم میں آیا نہیں کتنے دنوں سے منصورؔ
وہ پیانو پہ حسیں انگلیاں رکھنے والا
رہرو کے لیے بے چینیاں رکھنے والا
ایک ہی پیڑ تھا بس ٹہنیاں رکھنے والا
ایک بندوق بکف اپنا محافظ بھی ہے
ساری بستی کی چیرمینیاں رکھنے والا
کیسے ممکن ہے نہ ہو جلتے دئیے کا دشمن
وہ بسیروں میں سیہ رینیاں رکھنے والا
جیب کو اپنی سکڑ جانے سے بس روکتا ہے
پاس کچھ سینٹ یا کچھ پینیاں رکھنے والا
دیکھئے صاحبِ سرمایہ ہوا کرتا ہے
اپنے بچوں کے لیے نینیاں رکھنے والا
عین کی اصل سے واقف ہی نہیں ہے منصور
اپنے دفتر میں کئی عینیاں رکھنے والا
رد ہوا ذہن میں خوشحالیاں رکھنے والا
کوئی تھا ریت پہ ہریالیاں رکھنے والا
ہے دعا اپنی محبت کو ہمیشہ دیکھے
اس جھروکے میں کئی جالیاں رکھنے والا
چاہتا ہے کہ اسے کھول کے دیکھیں ہم لوگ
اس قدر خاک میں پاتالیاں رکھنے والا
اب تو ہندسوں کی کرنسی ہے جہاں میں رائج
یہ زمانہ نہیں ٹکسالیاں رہنے والا
عین ممکن ہے کہ آئندہ کا دل رکھتا ہو
اپنے چہرے پہ کہن سالیاں رکھنے والا
اک مسافر نے بڑے شہروں کی بنیاد رکھی
اپنے پہلو میں میانوالیاں رکھنے والا
پھر اچانک ہوئی شب حسنِ نظر میں منصور
آگیا کاکلیں پھر کالیاں رکھنے والا
ایک کھڑکی سے آتی ہوئی چاندنی کی تڑپ نے دیا
یہ محبت کا آتش فشاں، دید کی ایک لپ نے دیا
برف کی رات میں تم ہمیشہ رہو یہ دعا دی اسے
جس ڈرنک کارنر کا پتہ چائے کے گرم کپ نے دیا
موسمِ گل کی دہلیز پر نیم وا تھی اداسی ابھی
لیکن اس کو ’جگاوا‘ خوشی اور غم کی جھڑپ نے دیا
تیرے جیسی کئی اور تھیں تجھ سے بہتر بھی مل سکتی تھی
تیرے غم کا یوں ہی کینسردل میں برسوں پنپنے دیا
برف باری کے موسم میں، میں نے کہی دھوپ کی سمفنی
پہلے کچھ دیر آتی شعاعوں سے کمرے کو تپنے دیا
زندگی کو نئی سر خوشی پانیوں کی گلی سے ملی
آنسوؤں کو نیا زاویہ اک نہانے کے ٹپ نے دیا
خود ہمیشہ خدا کا لیا نام پانی پہ چلتے ہوئے
لیکن اس کو فقط اسمِ منصور آفاق جپنے دیا
ہجر کے وہم نے، خوفِ غم نے، دلِ مضطرب نے دیا
چائے میں گھول کر حب کا تعویز مجھ کو محب نے دیا
اب فقط اچھے لوگوں میں پینی ہیں اچھی شرابیں تجھے
کل مجھے کتنا اچھا سبق شہر کے محتسب نے دیا
گرم رومان کی نرمگی میں حلاوت قیامت کی تھی
اک نیا تجربہ صحبتِ حسنِ نو منتخب نے دیا
جانے کیا چیز تھی جو بچاتی رہی کارِ زردار سے
مشورہ جرم کا دیر تک جرم کے مرتکب نے دیا
میری شوریدگی شعر کہتی ہوئی اک غزل بن گئی
نسخہ ہائے جنوں اک عجب سامحبت کی طب نے دیا
ہر عدد بے عدد نے دیا، ہر سبب بے سبب نے دیا
تجھ کو کیا کیا بتائیں کہ کیا کیا ہمیں اپنے رب نے دیا
گفتگو جیسے کن کی غزل، دید جیسے الوہی عمل
دوستو مصرعہِ تر ہمیں یار کے چشم و لب نے دیا
جو میرے ذہن میں ہیں ابھی حرفِ غم، جاوداں ہو گئے
یہ مقام اپنی ہی غیر تصنیف کردہ کتب نے دیا
دکھ یہی ہے کہ میں مرغ کی نسل بھی دیکھتا تھا مگر
اک فریبِ محبت مجھے صحبتِ کم نسب نے دیا
تیرے عشاق سے بات ممکن نہیں کہ کروڑوں میں ہیں
یہ ہجومِ رقیباں مجھے صرف تیری طلب نے دیا
پوچھتا پھر رہا تھا میں اونٹوں سے ریگِ رواں کا چلن
اک گلہ دشت میں موسمِ ابر و باراں کا سب نے دیا
گر پڑا تھا جو بامِ افق سے سیاہی کے پاتال میں
ہم کو نہلا کے سہلا کے دوبارہ آغوشِ شب نے دیا
اس کی ہر موو میں اک عجب سا تناسب تھا ترئین تھی
کل مجھے کیسا ہم رقص منصور ڈسکو کلب نے دیا
خوابِ وصال میں بھی خرابہ اتر گیا
گالی لہک اٹھی کبھی جوتا اتر گیا
میں نے شبِ فراق کی تصویر پینٹ کی
کاغذ پہ انتظار کا چہرہ اتر گیا
رش اتنا تھا کہ سرخ لبوں کے دبائو سے
اندر سفید شرٹ کے بوسہ اتر گیا
اس خواب کے مساج کی وحشت کا کیا کہوں
سارا بخار روح و بدن کا اتر گیا
کچھ تیز رو گلاب تھے کھائی میں جا گرے
ڈھلوان سے بہار کا پہیہ اتر گیا
دل مطمئن ہے پانی ذرا سا اتر گیا
سیلابِ چشم جاری ہے، دریا اتر گیا
کوئی بہشتِ دید ہوا اور دفعتاً
آلام روزگار کا چہرہ اتر گیا
دیوار، صحنِ دل میں بنانے لگا تھا ذہن
اچھا ہوا کہ یار کا غصہ اتر گیا
اتنی تپش تھی تاج محل کے جمال میں
نکلا جو چاند، خوف سے جمنا اتر گیا
احسان کا پہاڑ پڑا تھا ضمیر پر
اب مطمئن ہوں درد کا قرضہ اتر گیا
لوٹا دیں ہجر نے مری وحشت مزاجیاں
مجھ پہ جو تیرا رنگ چڑھا تھا اتر گیا
کہتے ہیں قحطِ عشق پڑا وہ دمشق میں
اہلِ نظر کی آنکھ کا چشمہ اتر گیا
اچھا ہوا کہ دیکھا کوئی جسم کا چراغ
اُس حسنِ دلنواز کا صدقہ اتر گیا
آگے بس ایک آخری تارے نے رکھی ٹانگ
ایسے گری وہ رات کہ گھٹنہ اتر گیا
تاریخ میں کہیں نہیں ایسی کوئی مثال
منبر سے مومنیں کا خلیفہ اتر گیا
کاندھے پہ کیوں فقیر کے بیٹھا کچھ ایسے زاغ
جیسے کسی شجر پہ پرندہ اتر گیا
اس نے پلٹ کے دیکھا تھا بس ریستوران میں
اٹکا تھا جوگلے میں نوالہ اتر گیا
ہم نے اٹھایا ایک ہی بس جین کا نقاب
منصور کائنات کا برقعہ اتر گیا
دیکھا اسے دوبارہ، دوبارہ اتر گیا
دل میں ہمارے سارے کا سارا اتر گیا
پانی کے دلفریب کٹائو کی خیر ہو
دریا میں رفتہ رفتہ کنارا اتر گیا
برسوں پیا جسے تری چشمِ قدح سے ہے
وہ نشہ وہ سرور بھی یارا اتر گیا
کافی نہیں وصال میں بوسہ مگر یہ ہے
کفارہ توقسم کا تمہارا اتر گیا
میں دیکھنے لگا جو بڑے شوق سے اسے
بامِ فلک سے سرخ غبارہ اتر گیا
اترا لباسِ جیسے چراغِ سرود میں
اس پیکرِ حیا کا خمارہ اتر گیا
رکھی ملازمہ تھی فقط وصل کے لیے
اور کمپنی کا سارا خسارا اتر گیا
منصوؔر جس میں سمت کی مبہم نوید تھی
پھر آسمان سے وہ بھی ستارہ اتر گیا
صد شکر اس کی چھت پہ کبوتر اتر گیا
بھیجا جہاں اسے تھا وہاں پر اتر گیا
بارش ہوئی تو بھیڑوں نے اس میں پناہ لی
پھر بھیڑیا بھی غار کے اندر اتر گیا
وہ آگ ہے ہمارے مقدر کے دشت میں
جیسے ہی رکھا پائوں، سمندر اتر گیا
صحرا کی سرخ ریت میں حدت بلا کی تھی
بادل بھی دو گھڑی کو گرج کر اتر گیا
اس نے تو ایک بات ہی مجھ سے کہی مگر
تارِ رگِ شعور میں نشتر اتر گیا
بعد از شبِ وصال کسی خواب گاہ کی
دیوار سے پرانا کیلنڈر اتر گیا
بدنام اس قدر تھے جوانی میں چند دوست
دیکھا ہمیں توریل سے چیکر اتر گیا
باقی تمام لوگ بہت نوجوان تھے
منصور اسپِ وقت سے ہنس کر اتر گیا
خرگوش تھا کہیں کا تو کچھوا کہیں کا تھا
دونوں جہاں ملے تھے وہ چشمہ کہیں کا تھا
جو آتشیں بگولوں میں رکھتا تھا یخ بہار
وہ دشتِ جاں میں برف کا خیمہ کہیں کا تھا
کل رات اتفاقاً جسے لے اڑا تھا میں
وہ ہونٹ تھے کسی کے وہ بوسہ کہیں تھا
پھر اک فریبِ ذات ہوا اپنا شاٹ کٹ
پہنچے کہیں پہ اور ہیں سوچا کہیں کا تھا
جبہ تھا دہ خدا کا تو دستار سیٹھ کی
حجرے کی وارڈروب بھی کاسہ کہیں کا تھا
صحرا مزاج ڈیم کی تعمیر کے سبب
بہنا کہیں پڑا اسے، دریا کہیں کا تھا
ہے یہ مقامِ عزت و ذلت خدا کے پاس
چہرے پہ جو لگا تھا وہ جوتا کہیں کا تھا
اتری کہیں پہ اور مری روح کی اڑان
منصورؔ پاسپورٹ پہ ویزہ کہیں کا تھا
پھیلا ہوا ہے گھر میں جو ملبہ، کہیں کا تھا
وہ جنگ تھی کسی کی وہ جھگڑا کہیں کا تھا
سیلابِ درد و غم میں عجب موڑ ہیں کئی
دریا کہیں کا، ریت کا پشتہ کہیں کا تھا
لگتا عجب تھا ماہ جبینوں کا اتحاد
قیدی کسی کا تھا، مرا پنجرہ کہیں کا تھا
آخر خبر ہوئی کہ وہ اپنی ہے ملکیت
منظر جو آنکھ کو نظر آتا کہیں کا تھا
اے دھوپ! گھیر لائی ہے میری ہوا جسے
وہ آسمان پہ ابر کا ٹکڑا کہیں کا تھا
گاہے شبِ وصال تھی گاہے شبِ فراق
آنکھیں کہیں لگی تھیں دریچہ کہیں کا تھا
جو دشت آشنا تھا ستارہ کہیں کا تھا
میں جس سے سمت پوچھ رہا تھا کہیں کا تھا
حیرت ہے جا رہا ہے ترے شہر کی طرف
کل تک یہی تو تھا کہ یہ رستہ، کہیں کا تھا
سوکھے ہوئے شجر کو دکھاتی تھی بار بار
پاگل ہوا کے ہاتھ میں پتا کہیں کا تھا
بس دوپہر کی دھوپ نے رکھا تھا جوڑ کے
دیوارِ جاں کہیں کی تھی سایہ کہیں کا تھا
کیا پوچھتے ہو کتنی کشش روشنی میں ہے
آیا کہیں ہوں اور ارادہ کہیں کا تھا
تاروں بھری وہ رات بھی کچھ کچھ کمینی تھی
کچھ اس کا انتظار بھی کتا کہیں کا تھا
وہ جو ملا تھا دیس نکالا کہیں کا تھا
ہم تھے جہاں پہ وہ بنی گالا کہیں کا تھا
حیرت سے دیکھتا تھا میں دونوں کا اتصال
گل کی قبا کہیں کی تھی لالہ کہیں کا تھا
شاید شکم کے نامہِ اعمال میں تھا درج
منہ اپنا تھا کہیں کا نوالہ کہیں کا تھا
یہ یادگاریں پائوں پہ اتری ہیں دشت دشت
کوئی کہیں کا تھا کوئی چھالا کہیں کا تھا
میں جانتا ہوں خانقاہِ یار کی ظروف
دستِ فقیر میں وہ پیالا کہیں تھا
میں ڈھونڈتا رہا اسے اپنی زمین پر
وہ بار بار دیکھنے والا کہیں کا تھا
جلنا کہاں تھا دامنِ شب میں چراغِ غم
پھیلا ہوا گلی میں اجالا کہیں کا تھا
پڑھنے لگا تھا کوئی کتابِ وفا مگر
تحریر تھی کہیں کی، حوالہ کہیں کا تھا
منصورؔ آئینہ بھی، وہ آنکھیں بھی میری تھیں
چہرے پہ عنکبوت کا جالا کہیں کا تھا
اس نے پہلے مارشل لأ میرے آنگن میں رکھا
میری پیدائش کا لمحہ پھر اسی سن میں رکھا
سندھ رجمنٹ کی سپہ تھی ہچکیاں تھیں اشک تھے
جب جنازہ بھٹو کا ستر کلفٹن میں رکھا
خاکی وردی کیا پہن لی میرے سادہ لوح نے
آگ میں ایڑی رکھی، شہتیر گردن میں رکھا
کون مالک ہے مکاں کا، کون چوکیدار ہے
عمر بھر قبضہ گروپ نے ہم کو الجھن میں رکھا
اک دھماکہ سا بدن، پٹرول اسٹیشن کے پاس
لائیٹر نے اپنا شعلہ جیسے ایندھن میں رکھا
صحن میں پھیلی ہوئی ہے گوشت جلنے کی سڑاند
جیسے سینے میں نہیں کچھ اس نے اوون میں رکھا
جب سوئمنگ پول کے شفاف پانی سے ملی
موتیوں والا فقط اک ہار گردن میں رکھا
ہونٹ ہیٹر پر رکھے تھے اس کی یادوں پر نہیں
تھا جہنم خیز موسم غم کے جوبن میں رکھا
شرٹ کے میں نے بھی کھولے تین اوپر کے بٹن
کارتوس اس نے بھی دل کا آنکھ کی گن میں رکھا
آنکھ سے تن بیتی کی ندیا نکلنے ہی نہیں دی
آنسووں کا تیز دریا دل کی چلتن میں رکھا
کوئی سچائی نکالی ہی نہیں ہے شیلف سے
نور کالے کاغذوں کا دل کے مسکن میں رکھا
اک نئی پدما وتی کو اپنی سمرن میں رکھا
صبح کا جگ راج کارن اس کے درشن میں رکھا
فرش پر گرنے دیا آنسو نہ چشمِ یار کا
میں نے اس کا ایک اک دکھ اپنے دامن میں رکھا
تنکے تنکے کو عجب برداشت بخشی آگ کی
بجلیوں کو جمع کر کر کے نشیمن میں رکھا
صرف تیرے نام کی تسبیح سانسوں میں ہوئی
تجھ کو دل ہی میں نہیں ہر ایک دھڑکن میں رکھا
سانپ کو اس نے اجازت ہی نہیں دی وصل کی
گھر کے دروازے سے باہر دودھ برتن میں رکھا
جی میں اپنے ٹھان لی اک وصل کی پُر جوش رات
اک تعلق کا ارادہ عمر بھر من میں رکھا
شام ہوتے ہی کسی کے درد کی آواز نے
ایک شعلہ سا تری یادوں کے جوبن میں رکھا
موت سے میرے مراسم آسمانی تھے مگر
جسم کو پھر بھی زمین کے سبز مدفن میں رکھا
میں اسے منصوؔر بھیجوں کس لیے چیتر کے پھول
جس نے سارا سال مجھ کو غم کے ساون میں رکھا
روح دوزخ میں سجا دی جسم تربت میں رکھا
شامِ ہجراں نے مجھے کیسی مصیبت میں رکھا
کچھ حقیقی، کچھ مجازی سلسلے تھے وصل کے
رات نے مصروف بس کارِ محبت میں رکھا
عمر کا حاصل وہی کچھ روشنی کی ساعتیں
اس نے جتنی دیر مجھ کو اپنی صحبت میں رکھا
اہلِ زر شداد ہیں نمرود ہیں فرعون ہیں
صاحبِ عزت وہی ہیں جن کو غربت میں رکھا
اس کی حیثیت سمجھ، جس کو خدائے وصل نے
دوکمانوں کی طرح قوسینِ قربت میں رکھا
کس طرح ٹھونکے گئے ہونگے زمین میں کہسار
کس نے اتنا بھاری مقناطیس پربت میں رکھا
پُر کشش کافی تھی منفی دائروں کی روشنی
شکر ہے اس نے مجھے بس کارِ مثبت میں رکھا
یہ ہمالہ سے ملے ہیں مجھ کو روحانی علوم
مجھ کو کچھ دن اسادھووں نے ساتھ تبت میں رکھا
نسل آدم اور حوا کے تسلسل کے لیے
لمس نے دونوں کو اپنی اپنی رغبت میں رکھا
میری آزادی بگولوں کی حدوں میں قید تھی
گھر میں کیا رکھا مجھے دشتِ عقوبت میں رکھا
میں سمجھتا ہوں بہارعشق میں منصور تھا
تم کہو گے اس نے ہجراں کی صعوبت میں رکھا
اس قدر اپنے تعلق کو سہولت میں رکھا
ہم نے اپنا آپ اشیائے ضرورت میں رکھا
اتنی رنگا رنگ چیزیں اور بس چھ دن کے بیچ
ہم کو موجودات کی کثرت نے حیرت میں رکھا
کم نہیں کچھ یہ محبت بھی نگاہِ ہجر میں
اس نے برساتیں عطا کیں، غم کی رحمت میں رکھا
خرچ بھی کرتے رہے راہِ خدا میں اپنا مال
اہل ثروت نے مگر خود کو ہلاکت میں رکھا
میں نے قاضی سے کہا اتنا بھی بے غیرت نہ بن
پھر بھی اس نے قید توہینِ عدالت میں رکھا
قدرتی آقات آتی ہیں مگر منصور مان
اس زمین کو آسماں نے اپنی شفقت میں رکھا
اہلِ طاقت کو زمین پر حاکمیت میں رکھا
شیر کو دی بادشاہی، بربریت میں رکھا
کینوس پر بس وہی ہے جو ہے میرے ذہن میں
برش نے مفہوم کیا بے معنویت میں رکھا
چاندنی کو رات دی، دریا کو صحرا دے دئیے
پھول کو بھی اس نے کھلنے کی اذیت میں رکھا
جانتا ہے جھوٹ اپنی چال بازی کے طفیل
اس نے سچ کے حامیوں کو اکثریت میں رکھا
میں فقط کھلنے تلک ہوں وہ جسے معلوم ہے
اس کلی کو بھی کسی نے نرگسیت میں رکھا
جھانک کر باطن میں کی ہے سیر نامعلوم کی
خارجیت کا تماشا داخلیت میں رکھا
ہوائے شام کے بہتے حرم کو توڑ دیا
بموں نے بھرویں کے زیر و بم کو توڑ دیا
یہ احتجاج کا لہجہ نہیں بغاوت ہے
لکھے کو آگ لگا دی قلم کو توڑ دیا
قریب تر کسی پب کے مری رہائش تھی
اسی قرابتِ مے نے قسم کو توڑ دیا
ہزار بار کہانی میں میرے ہیرو نے
دعا کی ضرب سے دستِ ستم کو توڑ دیا
یہی ہمیشہ سے ظالم کی سائیکی منصور
گراں کے آ گے جھکااور کم کو توڑ دیا
شکستِ جاں سے حصارِ الم کو توڑ دیا
ہزار ٹوٹ کے بھی طوقِ غم کو توڑ دیا
قدم قدم پہ دلِ مصلحت زدہ رکھ کر
کسی نے راہِ وفا کے بھرم کو توڑ دیا
سلام اس کی صلیبوں بھری جوانی پر
وہ جس نے موت کے جاہ و حشم کو توڑ دیا
نکل پڑا میں تلاشِ یزید میں اک دن
اور احتجاج کے کالے علم کو توڑ دیا
یہ انتہا ہے دماغِ خراب کی منصورؔ
دھرم کو چھوڑ دیا اور صنم کو توڑ دیا
خود آپ پیڑ کی شاخ جلی کو توڑ دیا
مچان جس پہ بنائی اسی کو توڑ دیا
شبِ وصال نہ ٹھہری، ہزار منت کی
سو صبح ہوتے ہی اپنی گھڑی کو توڑ دیا
بچا لی فصلیں تو سیلاب سے امیروں نے
غریب پور کی جانب ندی کو توڑ دیا
گرفتِ گیسوئے افعی پہ ناز تھا جاناں
یہ دیکھ ہم نے تری ہتھکڑی کو توڑ دیا
ذرا سی دھوپ میں سایہ صفت حسینائیں
وفائیں بھول گئیں، دوستی کو توڑ دیا
عجب سرتھا ہوا نے لگایا پانی میں
میاں کی ٹوڈی نے آساوری کو توڑ دیا
لگا دی ہیر نے بیلے کو آگ پچھلی رات
گلی میں رانجھے نے بھی بانسری کو توڑ دیا
بس آ کے حمد سے پہلے خیال میں منصور
اک حرف میم نے بے صورتی کو توڑ دیا
بسیں جلادی ہیں، فوجی ٹرک کو توڑ دیا
جلوسِ درد نے دل کی سڑک کو توڑ دیا
ابھی مری بھی جوانی کے داڑھ نکلی تھی
بدن کی اس نے بھی کچی کنک کو توڑ دیا
چراغ رکھے تھے جس پر وفا نے دونوں کے
کسی نے طاقِ غمِ مشترک کو توڑ دیا
مرے فقیر کی ہلکی سی چاپ نے آخر
تری پریڈ کی ظالم دھمک کو توڑ دیا
ٹپک رہا ہے ہزارہ سے جھنگ تک منصور
کسی پکار نے افلاک تک کو توڑ دیا
مسجد سے سرخ داڑھی حاجی پہن کے نکلا
اک سود خور کیسی نیکی پہن کے نکلا
خوشبو پہن کے نکلا میں دل کے موسموں میں
اور جنگ کی رُتوں میں وردی پہن کے نکلا
لندن کے اک کلب سے بلی کی کج روی پر
ساقی کے ساتھ میں بھی وسکی پہن کے نکلا
تم جس کو دیکھتے ہو کھلتے ہوئے زمین پر
وہ عرش سے نمو کی مٹی پہن کے نکلا
چمکا نظر نظرمیں، کڑکا ہر ایک دل میں
میں بادلوں میں کل شب بجلی پہن کے نکلا
سہ پہر بھر گئی کیا رنگوں کی روشنی سے
وہ بام پہ دھنک کی چولی پہن کے نکلا
تیری طرح زمانہ شہرِ غزل میں آخر
پوشاک زندگی کی الٹی پہن کے نکلا
یک لخت چل پڑیں پھر ساری فلیش لائٹس
اک دلنواز پیکر ساڑھی پہن کے نکلا
کیسا یہ ’’گے ادب‘‘ کا اِفتی مباحثہ تھا
ہر مرد گفتگو میں تلخی پہن کے نکلا
کہتے ہیں چشم و لب کی بارش میں وسوسے ہیں
منصورؔ دوپہر میں چھتری پہن کے نکلا
برسات خیمہ زن کی، ساون پہن کے نکلا
پانی سے روحِ کل کے درشن پہن کے نکلا
سارے بدن میں آنکھیں سارے بدن پہ لب ہیں
میں ہجر کی گلی میں ساجن پہن کے نکلا
میں چاہتا نہیں تھا خنجر پہ خون لیکن
بابا کی پگڑی آگے دشمن پہن کے نکلا
صبحیں بھی دیکھتی تھیں چلتے ہوئے کسی کو
اتنی سفید کوئی، کاٹن پہن کے نکلا
مہتاب آ گیا تھا جنگل کی جھونپڑی میں
وہ ملگجا بدن جب ابٹن پہن کے نکلا
تبدیل ہو گیا تھا جغرافیہ زمین کا
انگریز آدمی جب اچکن پہن کے نکلا
اس پر شعاعوں جیسی کچھ نیلی دھاریاں تھیں
سرسوں میں پھول پیلی ساٹن پہن کے نکلا
شادابیاں گراتی پارلر سے وہ بھی نکلی
میں بھی گلی کے جم سے جوبن پہن کے نکلا
ہمجولیوں کے ہمرہ منصور گلستان سے
میرا گلاب نیلے کنگن پہن کے نکلا
بارش کو بھاپ کرتی ململ پہن کے نکلا
آنکھوں میں اپنی سورج کاجل پہن کے نکلا
پوری طرح دوپٹہ اوڑھے ہوئے وہ گزری
مہتاب اِس گلی میں بادل پہن کے نکلا
دن بھر چھپا رہا وہ کپڑوں کی جھونپڑی میں
راتوں کو بے لباسی پاگل پہن کے نکلا
اللہ دین سے بس ملنے کا خواب لے کر
کہتے ہیں حضرتِ جن بوتل پہن کے نکلا
میں نے ردِ فلک کا کھینچا تھا صرف چلہ
ذہنِ رسا بھی کیسے گنجل پہن کے نکلا
یہ کس علاقہ میں آنکھیں نکل پڑی ہیں
منصور دل دوابہ دلدل پہن کے نکلا
فائر پروف جیکٹ بزدل پہن کے نکلا
کیا کیا نقابیں میرا قاتل پہن کے نکلا
کیا پوچھتے ہو کیا ہے بے سمت زندگانی
میں راستوں پہ اپنی منزل پہن کے نکلا
کوئی نہیں وہاں تھا جانے کے بعد اس کے
محفل سے رات کوئی محفل پہن کے نکلا
وہ دیکھئے چراغاں، وہ آ گیا جزیرہ
وہ رات کا سمندر ساحل پہن کے نکلا
کشتی سے جیسے باہر پہلا قدم رکھا تو
جنگل عجیب بیمبو کِسل پہن کے نکلا
منصور پھاڑ ڈالا اپنا لباسِ دانش
اس کی گلی میں مجنوں بس دل پہن کے نکلا
دل تھا جو ترے پیار کے بولوں سے بھرا تھا
یہ ذہن مگر توپ کے گولوں سے بھرا تھا
کل رات جو کمرے کا بجھایا نہیں ہیٹر
اٹھا تو افق آگ کے شعلوں سے بھرا تھا
اک یاد تھی گزری ہوئی معصوم کلی کی
کمرہ کوئی گڑیا کے پٹولوں سے بھرا تھا
چھت ہی نہیں ٹوٹی تھی کسی کچے مکاں کی
چاول کا کوئی کھیت بھی اولوں سے بھرا تھا
بازوں کے تسلط میں فضائیں تھیں چمن کی
محفوظ تھا پنجرہ سو ممولوں سے بھرا تھا
منصوؔر کی چیخیں تھیں کہ سینے میں دبی تھیں
کمرہ تھا کہ بجتے ہوئے ڈھولوں سے بھرا تھا
پیچوں سے اٹا دل مرا، جنگوں سے بھرا تھا
یعنی کہ فلک سارا پتنگوں سے بھرا تھا
داتا علی ہجویریؒ کا تھا عرس مبارک
لاہور محمد ﷺ کے ملنگوں سے بھرا تھا
منظر ،تری آنکھیں کئی صبحوں کی امیں تھیں
خوشبو ،تراجھونکا کئی رنگوں سے بھرا تھا
اک، پائوں کسی جنگ میں کام آئے ہوئےتھے
اک راستہ بارودی سرنگوں سے بھرا تھا
اونچائی سے یک لخت کوئی لفٹ گری تھی
اور لوہے کا کمرہ بھی امنگوں سے بھرا تھا
منصورؔ فقط ہم ہی کہاں بہکے ہوئے تھے
بازارِ غزل سارا تلنگوں سے بھرا تھا
دیکھا تھا فلک ہم نے ،خلائوں سے بھرا تھا
تاحد ِنظراپنی دعائوں سے بھرا تھا
ہلکی سی بھی آواز کہیں دل کی نہیں تھی
مسجد کا سپیکر تھا صدائوں سے بھرا تھا
بجلی کے دئیے طنزیہ کرتے تھے تبسم
بارش تھی ،نگرتیز ہوائوں سے بھرا تھا
فرعون تھے نمرود تھے شداد تھے آباد
وہ شہرِ مقدس بھی خدائوں سے بھرا تھا
کچھ تیرگی کےچیف وہاں رہتے تھے منصور
آسیب زدہ گھرتھا ، بلائوں سے بھرا تھا
توحید پرستوں کے ہی بوسوں سے بھرا تھا
نسبت تھی کہ پتھر کوئی ہونٹوں سے بھرا تھا
تحریروں سے آئی کوئی جنگ و جدل تھی
سینہ مرا افکار کے زخموں سے بھرا تھا
بارود کی بارش ابھی بادل میں بھری تھی
وہ باغ ابھی بھاگتے بچوں سے بھرا تھا
جس رات لہو چلتا تھا پلکوں کے کنارے
اُس رات فلک سرخ ستاروں سے بھرا تھا
آوارہ محبت میں وہ لڑکی بھی بہت تھی
منصوؔر مرا شہر بھی کتوں سے بھرا تھا
دائروں کی آنکھ دی، بھونچال کا تحفہ دیا
پانیوں کو چاند نے اشکال کا تحفہ دیا
رفتہ رفتہ اجنبی لڑکی لپٹتی ہی گئی
برف کی رت نے بدن کی شال کا تحفہ دیا
سوچتا ہوں وقت نے کیوں زندگی کے کھیل میں
پائوں میرے چھین کر فٹ بال کا تحفہ دیا
’’آگ جلتی ہے بدن میں‘‘ بس کہا تھا کار میں
ہم سفر نے برف کے چترال کا تحفہ دیا
رات ساحل کے کلب میں مچھلیوں کو دیر تک
ساتھیوں نے اپنے اپنے جال کا تحفہ دیا
کچھ تو پتھر کو ملا ہے غم کے دریا کا خراج
کچھ مجھے اشکوں نے خدوخال کا تحفہ دیا
پانیوں پر چل رہے تھے عکس میرے ساتھ دو
دھوپ کو اچھا لگا تمثال کا تحفہ دیا
وقت آگے تو نہیں پھر بڑھ گیا منصوؔر سے
یہ کسی نے کیوں مجھے گھڑیال کا تحفہ دیا
موسموں نے تتلیوں کو پھول کا تحفہ دیا
ہم سے بھنونروں کو مگر کاکول کا تحفہ دیا
حسن کو تازہ ہوا دی گائوں کے ماحول نے
عاشقوں کو ٹائروں کی دھول کا تحفہ دیا
اصل میں اُس شخص نے جاگیرداری ختم کی
جس نے کالا باغ کو اسکول کا تحفہ دیا
کوئی خط تیرے لئے آیا نہیں ہے آج پھر
ڈاکیے نے پھر مجھے معمول کا تحفہ دیا
دو زبانوں کی حلاوت کیا جماع انگیر تھی
بوسہِ گل نے عجب محلول کا تحفہ دیا
عمر ضائع کرنے والوں سے ہوئے محفوظ ہم
فاصلوں نے صحبتِ معقول کا تحفہ دیا
رحمتیں اور عزتیں منصور ساری اُس کے نام
جس نے پہلے نسخہِ منقول کا تحفہ دیا
لمس کی قوسِ قزح دی، رنگ کا تحفہ دیا
کینوس کو وصل کی فرہنگ کا تحفہ دیا
شانزے لیزے تلک آویزہ کو اپروچ دی
حسنِ ہیرہ منڈی کو افرنگ کا تحفہ دیا
دوپہر کی دھوپ میں سردائی کیا کیا پیش کی
بھوک نے بھیگے بدن کی بھنگ کا تحفہ دیا
شام کی ویران خاموشی میں میرے درد کو
کوئلوں نے کوک کے آہنگ کا تحفہ دیا
کس لئے مدہم کیے میرے درخشاں خدوخال
آئینہِ ذات کو کیوں زنگ کا تحفہ دیا
میری جانب جاری ہے پُرجوش بوسے کی اُڑان
کتنے برسوں بعد اُس نے ڈھنگ کا تحفہ دیا
صبح دی تلوار اُس نے اشہبِ دوراں کے ساتھ
رات ہوتے ہی رباب و چنگ کا تحفہ دیا
موت کے سنگنل مجھے بھیجیں ہزاروں ڈاٹ کام
سرچ انجن نے محاذِ جنگ کا تحفہ دیا
بجلیاں اپنے رگ و پے میں دکھائی دیں مجھے
فون نے آوازِ شوخ و شنگ کا تحفہ دیا
روشنی کی لائنیں کھینچی بدن کی شال پر
تیرگی کو بھی لباسِ ننگ کا تحفہ دیا
میں نے باطن کو کیا ہے آنکھ میں زخموں سے پینٹ
روح کی تصویر کو اژرنگ کا تحفہ دیا
بادشہ سلطانیِ جمہور کے پائوں میں ہے
خاک پر مخلوق کو اورنگ کا تحفہ دیا
آسماں نے جیل میں منصوراُس کو ڈال کر
اہلِ پاکستان کو سرہنگ کا تحفہ دیا
اک ذرا تبسم بھی بے شمار لگتا تھا
دیکھنا پڑوسن کا لمس کار لگتا تھا
ادھ جلے سے سگریٹ کے ایک ایک ٹکڑے میں
لاکھ لاکھ سالوں کا انتظار لگتا تھا
لفٹ دینے والی کی کار بھی کشادہ تھی
اور پہاڑی رستہ بھی دوست دار لگتا تھا
باتھ روم میں کوئی بوند سی ٹپکتی تھی
ذہن میں ہتھوڑا سا بار بار لگتا تھا
قید اک رگ و پے میں روشنی کی دیوی تھی
جسم کوئی شیشے کا جار وار لگتا تھا
کھول کھول دیکھی تھی ایک شب کی شہزادی
زخم زخم آنکھیں تھیں ، دل فگار لگتا تھا
کوڈ کائناتوں کے کھولتا تھا جب منصور
ہر طرف ریاضی کا اختیار لگتا تھا
عرش تک میانوالی بے کنار لگتا تھا
دیکھتا جسے بھی تھا کوہسار لگتا تھا
ایک چائے خانہ تھا یاد کے سٹیشن پر
بھیگتے اندھیرے میں غمگسار لگتا تھا
بارشوں کے موسم میں جب ہوا اترتی تھی
اپنے گھر کا پرنالا آبشار لگتا تھا
منچلوں کی گلیوں میں رات جب مچلتی تھی
کوچۂ رقیباں بھی کوئے یار لگتا تھا
ایک نہر پانی کی شہر سے گزرتی تھی
اس کا یخ رویہ بھی دل بہار لگتا تھا
بیریوں کی چھاؤں میں وہ ملن کی شدت تھی
گرمیوں کا موسم بھی خوشگوار لگتا تھا
ہمسفر جوانی تھی ہم سخن خدا منصورؔ
اپنا ہی زمانے پر اقتدار لگتا تھا
مجھ پہ آم لگتے تھے، میں درخت لگتا تھا
اور تیری امی کو نیک بخت لگتا تھا
تتلیوں کی قوسیں تھیں جگنوؤں کی جھلمل میں
مجھ سا آبگینہ بھی واں کرخت لگتا تھا
اس کی بھی نگاہوں سے تیر چلتے رہتے تھے
مجھ کو بھی جگر اپنا لخت لخت لگتا تھا
وہ جہاں پہ بیٹھا تھا کوئی فوجی وردی میں
میرا تخت لگتا تھا ، تیرا تخت لگتا تھا
چھو کے اس کو دیکھا تو انگلیوں بھی حیراں تھیں
اتنا ہی وہ نازک تھا جتنا سخت لگتا تھا
وہ گیا تو دیواریں گھورتی تھیں وحشت سے
اجنبی مجھے گھر کا ساز و رخت لگتا تھا
اصل میں وہ حادث تھا پر قدیم لگتا تھا
یعنی حمد سے پہلے حرف میم لگتا تھا
اب خوشی کی آنکھیں بھی اجنبی سی لگتی ہیں
وہ بھی اک زمانہ تھا، دکھ ندیم لگتا تھا
ایک دور ایسا بھی زندگی پہ گزرا ہے
آدمی خدا سے بھی جب عظیم لگتا تھا
پہلے پہلے ہجراں کی بے چراغ بستی میں
غم کفیل لگتا تھا، دل یتیم لگتا تھا
محفلِ خضر میں کل جس سے تھا ملا منصور
نام اس کا موسٰی تھا اور کلیم لگتا تھا
حاکم ِ شہر بے لباس ملا
اوراک چھاونی کےپاس ملا
بوٹ پالش تھی ہاتھ میں اس کے
چیف کے چیف کا تھا باس ملا
اپنی تاریخ کے وہ ہیرو ہیں
جن کو وکٹوریہ کراس ملا
گھر میں صحرا دکھائی دیتا ہے
شیلف سے کیا ابو نواس ملا
یہ براہیم سے برہمن ہیں
مجھ کو دواس سے ہے داس ملا
لوگ دریا بھی بیچ دیتے ہیں
ہم کو ورثے میں سندھ طاس ملا
گولڈن رنگ رہ گیا منصور
کہیں تابنا کہیں براس ملا
شہد ٹپکا، ذرا سپاس ملا
اپنے لہجے میں کچھ مٹھاس ملا
سوکھ جائیں گی اس کی آنکھیں بھی
جا کے دریا میں میری پیاس ملا
خشک پتے مرا قبیلہ ہیں
دل جلوں میں نہ سبز گھاس ملا
آخری حد پہ ہوں ذرا سا اور
بس مرے خوف میں ہراس ملا
شہر کے راستے معطر کر
آ، ہوا میں تُو اپنی باس ملا
نسخۂ دل بنا مگر پہلے
اس میں امید ڈال آس ملا
ہے خداوند کے لیے منصورؔ
سو غزل میں ذرا سپاس ملا
خاک کا ایک اقتباس ملا
آسماں کے مگر ہے پاس ملا
دیکھتے کیا ہو زر کہ یہ مجھ کو
اپنے ہی قتل کا قصاص ملا
جلوہ بس آئنے نے دیکھا ہے
ہم کو تو حسنِ انعکاس ملا
میز پر اہلِ علم و دانش کی
اپنے بھائی کا صرف ماس ملا
کتنے جلدی پلٹ کے آئے ہو
کیا نگر کا نگر خلاص ملا
اس میں خود میں سما نہیں سکتا
کیسا یہ دامنِ حواس ملا
چاند پر رات بھی بسر کی ہے
ہر طرف آسمانِ یاس ملا
جب مجھے حسنِ التماس ملا
تیرا فیضان بے قیاس ملا
جب بھی کعبے کو ڈھونڈنا چاہا
تیرے قدموں کے آس پاس ملا
تیری رحمت تڑپ تڑپ اٹھی
جب کہیں کوئی بھی اداس ملا
تیری توصیف رب پہ چھوڑی ہے
بس وہی مرتبہ شناس ملا
یوں بدن میں سلام لہرایا
جیسے کوثر کا اک گلاس ملا
تیری کملی کی روشنائی سے
زندگی کو حسیں لباس ملا
ابنِ عربی کی بزم میں منصورؔ
کیوں مجھے احترامِ خاص ملا
انگلیوں نےتتلیوں کا غم کیا
کینوس پر برش سے ماتم کیا
پہلے کپڑوں کو اتارا اور پھر
میں نے ہیٹر کو ذرا مدھم کیا
رات کاندھے سے جو ڈھلکی بزم میں
ریشمی چادر نے بھی چم چم کیا
ویسٹ کوٹ اترا تو اس نے کار میں
ٹمپریچر چار ڈگری کم کیا
عاشقی کی داد چاہی شہر سے
ہیٹ اتارا اور سر کو خم کیا
باندھ کر بالی کےگھنگھروپائوں میں
بلھے کے دربار پر چھم چھم کیا
ہیرہ منڈی سے اٹھا لایا غزال
اور پورا بزم کا کورم کیا
نیند کی ناراضگی کو کم کیا
آیت الکرسی پڑھی اور دم کیا
اس نے شانوں پر بکھیرے اپنے بال
اور شیتل شام کا موسم کیا
لالٹین اس نے جلایا غار میں
اور نقش ِ تیرگی مبہم کیا
دھوپ میں کعبہ سے چہرہ پھیر کر
حاجیوں نے جانب ِ زمزم کیا
ایک آمر کی ہلاکت پر کہو
سرنگوں کیوں ملک کا پرچم کیا
صبح آنسو پونچھ کے ہم سو گئے
روشنی کا رات بھر ماتم کیا
مان لی ہم نے کہانی رات کی
اس نے پلکوں کو ذرا سا نم کیا
دار پر کھینچا مرے منصوؔر کو
اور سارے شہر کو برہم کیا
پہلے اپناآپ اُس میں گم کیا
قطرہِ جاں پھر کہیں قلزم کیا
آپ تک پہنچا نہیں وہ بد مزاج
اس نے مجھ کو تو کیا یا تم کیا
میں نے اک اک یاد کی خیرات کی
ہجر میں اُس وصل کا چہلم کیا
سوچنا کیوں جنتِ فردوس سے
میں نے اچھا دانہِ گندم کیا
اک مقامِ صفر کی حرکت کے ساتھ
تُو نے دس تاریخ کو یکم کیا
کتنے برسوں بعد آیا ہے خیال
ایک جملے نے مجھے گم صُم کیا
ہوگیا منصور بھی پیرِ مغاں
بزم میں روشن چراغِ خم کیا
عمر بھر دل نےکسی کا غم کیا
کیا پتہ کس اجنبی کا غم کیا
ہاتھ ملتی رہ گئیں تنہائیاں
جو پسند آیا اُسی کا غم کیا
ہرگھڑی کوئی نیاشمشان گھاٹ
زندگی بھر زندگی کا غم کیا
وہ جو دم بھر پاس آئی تھی مرے
عمر ساری اُس خوشی کا غم کیا
ہاتھ میں تبریز کا لے کر چراغ
گمشدہ اک آدمی کا غم کیا
بل دیا اوقات سے بڑھ کر کہیں
اور شب بھر روشنی کا غم کیا
رقص ماتم کی کیا ہے تال پر
وجد میں ابن علی کا غم کیا
اُس نے جب خوش منظری کا غم کیا
میں نے خالی طشتری کا غم کیا
بات کی طاقتوروں کے بر خلاف
قوم کی عصمت دری کا غم کیا
اونچی دیواریں سانسیں قید کیں
اور ہوائے سرپھری کا غم کیا
اپنا سرمایہ نکالا ملک سے
اور معاشی ابتری کا غم کیا
ساحلوں پہ کوٹھیاں تعمیر کیں
اور دشت ِبوزری کا غم کیا
قیس کی سجادگی کرتے ہوئے
اہلِ دل کی بے گھری کا غم کیا
کچھ کیا افسوس عذرا خان کا
کچھ ثمینہ چودھری کا غم کیا
بادشہ کو بھیجا پہلے آئینہ
دیر تک پھر نوکری کا غم کیا
یہ کرم پیرِ مغاں کی خالی چوکھٹ سے ہوا
رقص کرتا ہی رہا میں، نشہ تلچھٹ سے ہوا
آنسووں سے کشتِ دل سیراب کرنا پڑ گئی
پیار کا آغاز بھی تھا ایک پنگھٹ سے ہوا
جب گرا افسردگی کے آخری پاتال میں
قہقہہ سا بلند پھربھی اک غم کے جھرمٹ سے ہوا
شام کو جس نے بجھایا تھا بڑے عشووں کے ساتھ
صبح کو سورج طلوع اس کے ہی گھونگھٹ سے ہوا
عمر بھونچالوں میں گزری تھی مگر ہجراں کی رات
نیند سے بیدار اپنی آپ کروٹ سے ہوا
حسن کے رخسار پر آکر گری تھی جو یونہی
دل مرا منصورؔ گھائل بس اُسی لٹ سے ہوا
گردشِ ایام میں غم کی رکاوٹ سے ہوا
تارہ تارہ آسماں شاید تھکاوٹ سے ہوا
صرف چہرے پر نہیں سولہ سنگھاروں کی بہار
خوبصورت اس کا لہجہ بھی بناوٹ سے ہوا
شبنمی اشکوں کی بوندیں جیسے صبحِ گلستاں
کیسا سندر اپنا ویرانہ تراوٹ سے ہوا
وہ ملی تو قمقمے سے جل اٹھے انگ انگ میں
پُر بہار اپنا بدن اُس کی سجاوٹ سے ہوا
قریہءِ شعر و سخن میں دوستو معروف بس
اپنا منظر نامہ رنگوں کی ملاوٹ سے ہوا
اب تلک منصورؔ میرے منہ میں ہے اُس کی مٹھاس
شہد پیدا کیسا بوسے کی گھلاوٹ سے ہوا
سانحہ کیا روشنی کی تیز آہٹ سے ہوا
راکھ، خوابوں کا پلازہ شاٹ سرکٹ سے ہوا
خندقوں میں چھپ گئی امید کی پلٹن تمام
سامنا جب دھاڑتے ٹینکوں کی یونٹ سے ہوا
مجھ کو بھی ویزا دکھا کر اپنے گھر جانا پڑا
داخلہ سامان کا بھی ایک پرمٹ سے ہوا
جم گئی پتھرا گئی ہونٹوں میں آخر خوف سے
اک ہنسی کا سامنا صدموں کی رجمنٹ سے ہوا
جل گئیں بارہ دکانیں اور اک پٹرول پمپ
کس قدر نقصان میری ایک سگریٹ سے ہوا
وہ کہ جس کا باپ ہے لاہور کا مشہور ڈان
عشق مجھ کو دوستو اُس آسیہ بٹ سے ہوا
وقت سے نکلا ہوا براق بالکل ویسا تھا
نوری سالوں کا سفر طے جیسے راکٹ سے ہوا
میرا سندر ہٹ ہوا منصوؔر اُس گلپوش سے
اور سمندر خوبرو، پھولوں بھرے ہٹ سے ہوا
خوف پیدا جشن ہائے چودھراہٹ سے ہوا
بے تحاشا فائروں کی سنسناہٹ سے ہوا
خوبصورت تھی بڑی تازہ ہوا کی گفتگو
میں پریشاں کچھ دیے کی تھرتھراہٹ سے ہوا
راستے میں رک گئی بادِ صبا کی پالکی
باغ حیراں خوشبوؤں کی ہچکچاہٹ سے ہوا
ہسٹری کے کینوس پر مونالیزا کا خرام
اک غضب کی چیز اپنی مسکراہٹ سے ہوا
گلستاں میں موسمِ گل کا یہ فوری شور وغل
اک دوپٹے کی ذرا سی سرسراہٹ سے ہوا
پھر شعوری طور پر ٹکرا گئے دونوں وجود
حادثہ پہلےمگر کچھ بوکھلاہٹ سے ہوا
ٹمپریچر اس قدر منصور اندرکا گرا
سرد آتش دان میری کپکپاہٹ سے ہوا
یوں ہوا پھر ایک مشکل کام کرنا پڑ گیا
طے ہمیں یہ زینہِ ایام کرنا پڑگیا
تھام لی ہےناقہِ لیلی کی یاروں نے مہار
پھر ہمیں بھی دشت میں کچھ نام کرنا پڑگیا
رولزرائس کار میں نکلا برہنہ بادشہ
شہر کا سارا ٹریفک جام کرنا پڑ گیا
دن ہوا تو تلووں سے چپکی پگھلتی تارکول
شب ہوئی تو آگ پر آرام کرناپڑ گیا
یہ محبت کس قدر برداشت سے باہر ہوئی
اک خصوصی چیز کو بھی عام کرنا پڑ گیا
دھیرے دھیرےجلنا تھا اپنے لہو کی آگ میں
ہے یہی دکھ ، حسن کا بدنام کرنا پڑ گیا
چاند کیامنصور نکلا آکے کھڑکی کے قریب
دل کو بھی روشن چراغِ شام کرنا پڑ گیا
برقی زینے پر مخالف سمت چلنا پڑ گیا
حادثے سے پہلے ہوٹل سے نکلنا پڑ گیا
ساحلوں کی ریت پر گرتے ہوئے آیا خیال
کیا ہواکیوں موج سے مل کر اچھلنا پڑ گیا
آ گیا تھایاد پھرپستی نہیں میرامقام
گرتے گرتے راستے میں پھر سنبھلنا پڑ گیا
دیکھ کر لاہور کو جاتا ہوا کوئی جہاز
ایک بچے کی طرح دل کو مچلنا پڑ گیا
رفتہ رفتہ پہن لی میں نے اندھیرے کی قمیض
کیا بدلتے اس کو ، خود ہی کوبدلنا پڑ گیا
وہ بدن تھا یا کوئی آتش فشاں تھا لمس کا
آگ اتنی تھی پہاڑوں کو پگھلنا پڑ گیا
کیا کہوں کتنا بھیانک رات کا ہے انتقام
چودھویں کے چاند کو بھی دیکھ ڈھلنا پڑ گیا
درد تھا اس کی رگوں میں سلسلے تھے آگ کے
کار کے منصور انجن کو بھی جلنا پڑ گیا
کیا کہوں کیوں زندگی سے پیار کرنا پڑ گیا
اس طرح دیکھا غزل نے ، مجھ کو مرنا پڑگیا
اس کی خاطر چشمِ بینا کو کہا ’’چل جوٹھیے‘‘ ۔
مجھ کو پہلی مرتبہ خود سے مکرنا پڑ گیا
جنگ کرتا جارہا تھا میں خیالِ یار سے
آئینہ رستے میں آیا تو سنورنا پڑ گیا
میں کسی دریا کو ٹھکرا کرچلاتھا دشت میں
میرے پائوں میں مگرنازک سا جھرنا پڑ گیا
فائرنگ میں دی مجھے آواز خلقِ شہر نے
کیسی ساعت میں کہاں مجھ کو ٹھہرنا پڑ گیا
پھر کہیں جا کر ہوئی نمناک میری سرخ آنکھ
دشتِ جاں میں ہر کسی کا درد بھرنا پڑ گیا
گولیاں چلنے کی آوازیں سماعت پر گریں
نامناسب وسوسوں میں دل کا دھرنا پڑگیا
منحرف ہونے لگے ہیں لوگ میری ذات سے
اک سکوت افزا سمندر کو بپھرنا پڑ گیا
سولیوں سے گفتگو منصور کرنے کےلئے
آنسو وں کے بہتے دریا سے ابھرنا پڑ گیا
چراغ جس پہ بھی رکھاگیا ، خراب ملا
ہمیں حیات کا ہرطاقچہ خراب ملا
ہمارا رنگ بھی نکھرا ہوا تھا بچپن میں
بس ایک شہر کا پانی ذرا خراب ملا
عشائیے میں سلگتی ہوئی اداسی تھی
ہمیں وصال کا بھی ذائقہ خراب ملا
پہنچ سکی نہ کہیں عرش پہ کوئی فریاد
کہیں اٹھا ہوا دستِ دعا خراب ملا
نمازِ عصر ادا کی پھٹی ہوئی صف پر
مقام ِ صحبتِ حمد و ثنا خراب ملا
عجیب وقت ہے آیا ہماری بستی پر
سگ ِگلی سے زیادہ گدا خراب ملا
ڈھلی جو عمر تومنصور کا خیال آیا
پلٹ کےدیکھا تو ہراک قویٰ خراب ملا
ڈائریکٹ کہہ نہ کبھی،دلربا خراب ملا
ڈیفنس یہ ہے زمانہ بڑا خراب ملا
کہیں بھی کوئی سلامت نہیں تھی دل کی سڑک
مجھے تو شہرِ وفا جابجا خراب ملا
نکالوں کیا میں تری رات کے سلنسر سے
بتائوں کیسےکہ کیوں ناشتہ خراب ملا
کٹے تمام کنکشن تھے ٹوٹی تاریں تھیں
مجھے ملاپ کا ہر سلسلہ خراب ملا
ہزار ٹیکس دیے روڈ کے مگر منصورؔ
میں جس طرف بھی گیا راستہ خراب ملا
کوئی چراغ بکف، کوئی صبح یاب ملا
جو چل پڑا تو جہاں سارا ہمرکاب ملا
خیال آتا ہے دربارِ دلبری سے مجھے
سفید طشت میں کیوں کاسنی گلاب ملا
کبھی بشکلِ سحر تو کبھی برنگِ شام
ہمیشہ خون سے آلودہ آفتاب ملا
تمام دشتِ معلیٰ عدم کے دیکھے ہیں
مقامِ دل پہ فقط چشۂ غیاب ملا
مرے نصیب میں بھیدوں بھری سیاہی ہے
وہ رات ہوں جسے کوئی نہ ماہتاب ملا
علومِ وصل سے میرا بھی کچھ تعارف ہو
جو ہم کلام ہو وہ لمس کی کتاب ملا
مرے خدا مرا کوئی قصور کیسے ہے
بدستِ یار مجھے جرعۂ شراب ملا
شبِ سیاہ! ترے دکھ بڑے سہی لیکن
تُو میری شامِ غریباں سے مت حساب ملا
چراغ زادیاں مجھ سے بہت ملیں منصور
تیری نہ صحبتِ شب خیز کا جواب ملا
جو نہایت غریب پرور تھا
مافیا کا وہ گارڈ فادر تھا
اُس سلگتی سڑک پہ بچی کے
ایک ہی پائوں میں سلیپر تھا
بند درزیں تھیں رابطوں والی
اس کی دیوار پر پلستر تھا
گیس کا فارمولا بدلا تو
کرہ ِ باد کُل سمندر تھا
گیٹ جب گولڈ کا گرا منصور
سامنے اک صلیبی لشکرتھا
خواب اتنا زیادہ ابتر تھا
بامِ دوزخ پہ میرا بستر تھا
میرے آنے پہ کیوں دھڑک اٹھا
تیرا دل تو ازل سے پتھر تھا
جس کو چاہا اسی کو جیت لیا
جانے کیا اس کے پاس منتر تھا
کوئی باہوں کے دائرے میں تھی
اور تعلق کا پہلا چیتر تھا
راستے کے بڑے مسائل ہیں
مجھ سے کچھ پوچھتے تو بہتر تھا
وردِ الحمد کی صدا منصورؔ
صبح ابھری کہیں تو تیتر تھا
ہجر تھل ریت کا سمندر تھا
تیرے بن باسیوں کا یہ گھر تھا
آدھے حصے میں رنگ تھے موجود
آدھا خالی گلی کا منظر تھا
چھت زمیں بوس تھی تمنا کی
اور دل کا گرا ہوا در تھا
مملکت کی خراب حالت تھی
میں اکیلا وہاں قلندر تھا
وہ تھی یونان کی کوئی دیوی
اور قسمت کا میں سکندر تھا
اس میں بس عاجزی نہ تھی منصورؔ
ورنہ ہر چیز پہ وہ قادر تھا
مان لوں کیسے کہ رستے میں نہیں آ سکتا
چاند خود اپنے دریچے میں نہیں آ سکتا
آتی صدیاں مجھے دیکھیں گی بڑی حیرت سے
وہ سخن ہوں جو کلیشے میں نہیں آ سکتا
کیسے چھ فٹ کا بدن گھر میں چھپا سکتی ہو
جان من ، میں کسی بکسے میں نہیں آ سکتا
شکل بے شک تو بنا سکتا ہے میری لیکن
کوزہ گر میں ترے کوزے میں نہیں آ سکتا
میرے بارے میں غلط سوچ رہی ہے چھائوں
کوئی سورج کبھی سائے میں نہیں آ سکتا
ہیں مراسم عجب ابلیس سے مولا تیرے
آپ دونوں کے میں جھگڑے میں نہیں آسکتا
دھند ہے اس کی فضا اور زمیں پانی ہے
یہ جزیرہ کسی نقشے میں نہیں آ سکتا
سامنے سب کے اٹھا لائوں گا اک دن گھر سے
تجھ کو لینے میں اندھیرے میں نہیں آ سکتا
ڈال لی میں نےبھی دروازے پہ کرسی جاکر
جب کہا اس نے میں کمرے میں نہیں آ سکتا
تیری تصویر ہی رکھ سکتا ہوں اس میں جاناں
تیرا پیکرمرے بٹوے میں نہیں آ سکتا
عالم ِ طیش میں ممکن نہیں امکانِ وصال
ہاتھ چلتے ہوئے پنکھے میں نہیں آ سکتا
ابھی پہنچا ہوں شکاگو سے میں بیجنگ منصور
لوٹ کر ایک ہی ہفتے میں نہیں آ سکتا
اشک ِ مبہم ہوں سمندر میں نہیں آ سکتا
میں ابھی آخری منظر میں نہیں آ سکتا
میری کٹیا میں ترا داخلہ ناممکن ہے
اہلِ زر جائے قلندر میں نہیں آ سکتا
بازگشتوں کے تسلسل میں مقید مت کر
میں ترے گنبدِ بے در میں نہیں آ سکتا
حور و غلمان نئے بھیج بدست ِ رضواں
دام ِ موجود و میسر میں نہیں آ سکتا
آپ سے پہلی ملاقات ہے میری خانم
میں ابھی آپ کے بستر میں نہیں آ سکتا
باوجود اتنی محبت کے مری جانِ وفا
تیرا دلدار ترے گھر میں نہیں آ سکتا
جسم کا جسم ہی ہو سکتا ہے سچ مچ کا لباس
آدمی کپڑے کے شارپرمیں نہیں آ سکتا
کیا جہنم سے ڈراتے ہو فقہان ِ حرم
غیظ تو شان، پیمبر میں نہیں آ سکتا
اس کے اندر میں چلو جھانکتے ہیں کچھ دیر
اب گداز ایسا تو پتھر میں نہیں آ سکتا
صرف جمہور کی طاقت کےسہارےمنصور
وہ بضد ہیں کوئی پاور میں نہیں آ سکتا
جرم ِ ناکردہ کی دہشت میں نہیں آ سکتا
میں کماں دارکی دعوت میں نہیں آ سکتا
ساری بستی ہے ترے کارِ ستم سے نالاں
میں ترے پاس مروت میں نہیں آ سکتا
قید میں لوگ ہیں میرے سوبلانے پہ ترے
اس قدر سخت اذیت میں نہیں آ سکتا
میں نے لکھنا ہے ہجرنامہ بشکل تصنیف
میرااحوال کسی خط میں نہیں آ سکتا
تجھ سے سندر بھی کئی لوگ ملے ہیں مجھ سے
میں تجھے دیکھ کے حیرت میں نہیں آ سکتا
اس سے کہنا کہ نظر آئے نہ گلشن میں مرے
سانپ کوئی مری جنت میں نہیں آ سکتا
شہر کے قاضی کا فتوی ہے بحکم حاکم
کوئی مظلوم عدالت میں نہیں آ سکتا
جاگ سکتی ہے کسی وقت بھی یہ خلق خدا
ملک سارا تو حراست میں نہیں آ سکتا
آپ کے کتے کئی دن سے تعاقب میں ہیں
ان دنوں آپ کی خدمت میں نہیں آ سکتا
یہ جودعوی ِ خدائی ہے یہ کرتے رہیے
کہتے رہیے ،میں حکومت میں نہیں آسکتا
کسی تصویر میں امیج میں نہیں آسکتا
ہجر کاسال ہے میسج میں نہیں آسکتا
لڑکیاں میری طرف دیکھ کے ہنس دیتی ہیں
جان من میں ترے کالج میں نہیں آسکتا
ابھی آغاز محبت ہے ابھی صبر کرو
تجھ کوملنے ابھی کاٹج میں نہیں آسکتا
ہوں تری جلوہ نمائی سےپریشان لیکن
کسی سکتے ، کسی فالج میں نہیں آسکتا
اپنی بے صورتی الفاظ میں کیسے آئے
میرا عرفان مخارج میں نہیں آ سکتا
آگ پانی کو لگا سکتا ہے عاشق منصور
یہ تماشا تری نالج میں نہیں آسکتا
کیوں دیکھتی نہیں ہے میرا سکور دنیا
چھرے بکھیرتی ہے بس بارہ بور دنیا
کرنا پڑے گا دل کو کچھ توموازنہ بھی
فردوس آخری ہے ،پہلا فلور دنیا
دوشیزگی دکھائے درویش کی گلی میں
خورشید کی شعاعیں چن کربلور دنیا
یہ موڈ کی خرابی،یہ میری بد دماغی
ہم رقص سے کہےہے کتنی ہے بور دنیا
پہلے بھی مجھ سے کچھ تھا بک بینگ کہہ رہا ہے
کچھ لاکھ سال کی ہے میری نکور دنیا
تندور ہے زمانہ ثروت کی خودکشی سے
لوری ہے لورکا کی ،یہ لال لور دنیا
کرتی ہے تبصرے کیا منصور روشنی پر
پرودہ ِ شبانہ یہ چشم کور دنیا
دنیا تلاشتی ہےدیوانہ وار دنیا
کیا دلفریب ہے یہ بے اعتبار دنیا
اندر کہیں ہزاروں غم کی قیامتیں ہیں
یہ ظاہراً بلا کی ہے خوشگوار دنیا
کٹیا میں صرف میں ہوں یاکچھ ضروری چیزیں
باہر پڑی ہوئی ہےیہ بےشمار دنیا
تہذیب ان کھلے سے غنچوں کو چیرتی ہے
اندوہ ناک کتنی ہے پُر بہار دنیا
ہنس ہنس کے کہہ رہا ہےسڑکوں پہ خونِ ناحق
قتال کررہی ہے تفتیش کار دنیا
منصورخون ِ تازہ بچوں کا مانگتی ہے
یہ بد سرشت دینا ، یہ بدقمار دنیا
ہم بھاگتے ہیں لیکن کتیا قبیل دُنیا
پیچھے پڑی ہوئی ہے اپنے ذلیل دُنیا
اللہ کے خزانے مخلوق میں برابر
تقسیم کیا کرے گی من کی رذیل دُنیا
بچے بہشت جیسے پھرتے برہنہ تن ہیں
کتنی حرام زادی ہے یہ بخیل دُنیا
آنکھیں جمی ہوئی ہیں مردار پر سبھی کی
یہ راجہ گدھ ہے دنیا، یہ رانی چیل دُنیا
بد گوشت جیسے گندی، کتوں کی کھائی، نوچی
لاشیں بھری ہوں جس میں اک ایسی جھیل دُنیا
کوئی طلب نہیں ہے کوئی نہیں تمنا
کتنی ہے اپنے دل کی یہ خود کفیل دُنیا
دوراہا آ گیا ہے کیا فیصلہ کرو گے
دوچار میل عقبیٰ، دوچار میل دُنیا
کیا صحن کو سڑک سے تم نے ملا لیا ہے
گھر کے معاملے میں کیوں ہے دخیل دُنیا
قطبین نقشِ پا ہیں، پیروںمیں آسماں ہیں
مٹھی میں آ گئی ہے بے حد طویل دُنیا
پائوں بھلا چکے ہیں، آنکھیں بجھا چکی ہیں
تیرے حسین منظر، تیری جمیل دُنیا
وہ جو کتاب میں ہے وہ جو خیال میں ہے
اس کے وجود کی ہے محکم دلیل دُنیا
اپنے بغیر کوئی اپنا نہیں سہارا
اس کی گواہ دنیا، اس کی وکیل دُنیا
منصور ؔچیف جسٹس ساتھی ہے قاتلوں کا
آخر کرے کہاں پر جا کر اپیل دُنیا
درد کا طوق دیا، تحفۂ زنجیر دیا
اے وطن! بول ترا کس نے جگر چیر دیا
کون ظالم تھا وہ جس شخص نے سینے کو ترے
دشنہ و تیر دیا، نیزہ و شمشیر دیا
کس نے چھینا ہے ترے مانگ کا سیندور اے دیس!
کس نے پت جھڑ کو ترا گلشنِ کشمیر دیا
میرے محبوب وطن! تو نے ہمیشہ میرے
پائے آشفتہ کو اک جادۂ تسخیر دیا
کون بزدل تھا مرے لشکرِ جاں بازاں میں
کس نے دشمن کو مرا قریہ ِتوقیردیا
کس نے خوں ریزمذاہب کو رواداری دی
کس نے لاہور کو اخلاقِ میاں میر دیا
ہم ہی تھے سہل پسندآدمی ورنہ ہ اس نے
دستِ انسان کو بھی دامن ِ تقدیر دیا
کس کماں دار نے کس طرح کہاں پر منصور
کس کے فتراک کو یہ دیدہ نخچیر دیا
ایک الزام کے منظر نے جگر چیر دیا
حق پہ مرتے ہوئے کافر نے جگر چیر دیا
صرف دو لفظوں میں کس درجہ بھری تھی آتش
ایک انکار کے اخگر نے جگر چیردیا
سنگ ِ باری ِ ستم گرسے کہاں ہارے ہم
یار کے چھوٹےسے کنکر نے جگر چیر دیا
جنبشِ چشم کی دی داد لبِ تشنہ سے
کیا ہوا جو ترے خنجر نے جگر چیر دیا
خوشبوئےباد صبا کی تھی توقع کیا کیا
لہجہِ یار کی صر صر نے جگر چیردیا
خون کی دھند دکھائی دے دو عالم میں مجھے
کیساجراح کے نشتر نے جگر چیر دیا
اب بہترویں شہادت کا بیاں مشکل ہے
پہلے منصور اکہتر نے جگرچیردیا
اس نے کیا اپنے گریباں کا بٹن کھول دیا
لمس کو آگ لگی ، کنج ِچمن کھول دیا
وہ جنہیں رکھا تھاہم نے تری رکھوالی کو
ہم پہ فائر اسی نے ارض وطن کھول دیا
دوپہر رات کے کمرے میں پڑی سوچتی ہے
گیسوئے یار نے کیوںسرخ ربن کھول دیا
دیکھتے رہ گئے ہم اس کی زباں پر موتی
حسن نے شوق میں جب پورادہن کھول دیا
اور کچھ ہم سے محبت میں ہوا یا نہ ہوا
یہ تو طے ہے درِ امکان سخن کھول دیا
اس کا بھی حق ہے جہاں چاہے وہاں رات کرے
وہ جوکھونٹے سے بندھا تھا وہ ہرن کھول دیا
جانتے ہیں کہ حد چشم سے آگے کیا ہے
ناسا کی چابیوں سے بند گگن کھول دیا
دیکھ کے موت کے چہرے کی اداسی منصور
دستِ تقدیر نے خود بندِ کفن کھول دیا
اہل ِ حکمت پہ پریشانی کا در کھول دیا
ایک روبوٹ نے دوشیزہ سے کیا بول دیا
پھر بلٹن چلے توقیرِ وطن کے کیا کیا
صدر کے ہاتھ میں جب قوم نے کشکول دیا
صرف اک بورڈ کو تھاما تھا کسی سین کے بیچ
مجھ کو جیون کےڈائریکٹر نے یہی رول دیا
جس سے چاہی گئی شیرینی ِ انگلی کی مٹھاس
اس نے چائے میں مری کالا نمک گھول دیا
درد کے دیوتا نے جس کو کیا دل سےکشید
ہائے امرت وہ بچارن نے یونہی ڈول دیا
لمس کے کھیل کی تاریخ سے ہفتہ پہلے
میں نے بستی کو اولمپک زدہ ماحول دیا
اس پہ واجب تھا فقط باپ کا بدلہ منصور
ماں نے جس بیٹے کومقتول کا پستول دیا
غریب حسن سے صحبت کا حق نہیں رکھتا
مجھ ایسا شخص محبت کا حق نہیں رکھتا
چراغ صبح کی ساعت کا حق نہیں رکھتا
چکور چاند کی چاہت کا حق نہیں رکھتا
مجھے ملاپ کے محشر کہاں میسر ہوں
فقیر آدمی الفت کا حق نہیں رکھتا
معاشرے کے مسائل اسے نہیں معلوم
امام ِ وقت ،امامت کا حق نہیں رکھتا
سماعتوں میں ہے سیسہ ،بصارتوں میں شام
یہ حکمران ہدایت کا حق نہیں رکھتا
برہنہ اس نے کیا ہے خود اپنے لوگوں کو
سو وہ قبائے سیادت کاحق نہیں رکھتا
چراغ ہو تو تمہیں شب اجالنی ہو گی
دیا ،کسی بھی رعایت کا حق نہیں رکھتا
ملی ہے جس کی شبِ غم سے سرمگی اس کو
وہی نگاہ ِعنایت کا حق نہیں رکھتا
بس اس لئے کہ میراذاتی گھر نہیں منصور
قریب ہو کہ قرابت کا حق نہیں رکھتا
کوئی فسردگی ،کوئی قلق نہیں رکھتا
کسی کے جسم پہ دل کوئی حق نہیں رکھتا
کہیں پہ اور تُو جینے کے جا طریقے لکھ
میں اپنی پوتھی میں سادہ ورق نہیں رکھتا
نصاب ِ عشق ہے متروک اپنی بستی میں
میں مدرسہ میں کوئی ہم سبق نہیں رکھتا
تمہارے جیسے جنہیں لوگ کر سکیں روشن
میں ایسے کوئی بھی چودہ طبق نہیں رکھتا
تُو فلسفہِ محبت کی مت کتابیں کھول
خیال و خواب میں اتنے ادق نہیں رکھتا
حکیم ہو نہیں سکتے شکستہ دل عشاق
گلاب رکھتا ہوں گھر میں عرق نہیں رکھتا
میں چاہتا ہوں اک ایسے جمیل کو منصور
جو اپنے دل میں وفا کی رمق نہیں رکھتا
میں اشرفیوں کی گھر میں چمک نہیں رکھتا
جوصبح آئیں انہیں شام تک نہیں رکھتا
چھپےہیں جن میں سمگل شدہ پرانے خواب
میں وہ گراج کے باہر ٹرک نہیں رکھتا
وہ چاروں اور تراشی ہوئی بلندی پر
اک ایساگھر ہے جو کوئی سڑک نہیں رکھتا
یہ گلستاں کسی بدروح کے ہے قبضے میں
کوئی بھی پھول تمہاری مہک نہیں رکھتا
عجب مقام پہ ٹھہرا ہوا ہے اب منصور
زمین پائوں میں، سر پہ فلک نہیں رکھتا
تبصرہ اس گل بدن پر سرسری کرتا رہا
لوگ کہتے ہیں مجھے،میں کافری کرتا رہا
میں ابوجہلوں کی بستی میں اکیلا آدمی
چاہتے تھے جو، وہی پیغمبری کرتا رہا
کھول کر رنگوں بھرے سندر پرندوں کے قفس
میں بہشتِ دید کے ملزم بری کرتا رہا
جانتے ہیں سارے لیکن بولتا کوئی نہیں
کون پوری قوم کی عصمت دری کرتا رہا
بھر گیا ہےبے گنہ لاشوں سے سارا پھانسی گھاٹ
حضرتِ جلاد کیسی نوکری کرتا رہا
اس لئے میری صدی ہے بولتی مجھ میں کہ میں
روزمرہ کی زباں میں شاعری کرتا رہا
گر پڑی یہ کائناتِ ذات کس پاتال میں
کوئی جگنو سورجوں کی رہبری کرتا رہا
دیر تک سوئی رہی منصور وہ پاگل مزاج
میں لباسِ یاراٹھ کر استری کرتا رہا
بد سہی ،احمق سہی ،پاگل سہی ،کرتا رہا
اس عظیم المرتبت سے عشق ہی کرتا رہا
نیند آ جائے کسی صورت مجھے، اس واسطے
میں، خیالِ یار سے پہلو تہی کرتا رہا
دیدۂ گرداب سے پہچان کر بحری جہاز
اک سمندر گفتگو کچھ ان کہی کرتا رہا
اپنی ہٹ دھرمی پہ خوش ہوں اپنی ضد پر مطمئن
جو مجھے کرنا نہیں تھا میں وہی کرتا رہا
عمر بھر خوابیں بنیں چشم و لب و رخسار کی
کام آتا تھا یہی سو میں یہی کرتا رہا
آیتیں مفہوم ِتازہ سامنے لاتی رہیں
وقت، تشریح ِ کتاب ِ آ گہی کرتا رہا
چھوڑ کر ہجری فروغ عیسوی کرتا رہا
یعنی میں جامد دنوں کی پیروی کرتا رہا
جانتا تھا باغِ حیرت کے وہی ساتوںسوال
اک سفر تھا میں جسے بس ملتوی کرتا رہا
وہ نکل آیا سرِ بازار گھنگھرو باندھ کر
شور خاصا مثنوی میں مولوی کرتا رہا
کاروبارِبت فروشی اس قدر پھیلا کہ میں
سومناتی ، انتظارِ غزنوی کرتا رہا
اُس بھٹائی کی گلی میں چل محبت ڈھونڈنے
وہ کہ جس کامصرعہ مصرعہ ماروی کرتا رہا
ہجر کی راتوں میں غم ہی دلبری کرتا رہا
نوکِ مژگاں پہ لہو سے روشنی کرتا رہا
سارا دن اپنے کبوتر ہی اڑا کر دل جلا
آسماں کا رنگ کچھ کچھ کاسنی کرتا رہا
دشت میں موجودگی کے آخری ذرے تلک
ریت کا ٹیلا ہوا سے دوستی کرتا رہا
میں کہ پانچوں کا ملازم میں کہ چاروں کا غلام
حسبِ فرمانِ خدا، وردِ نبیﷺ کرتا رہا
دشتِ ہجراں کی اذیت کیا بتاتا میں اسے
تازہ دم تھا اس لئے باتیں بڑی کرتا رہا
وہ پسِ دیوار آنکھیں کاجلی کرتا رہا
میں پلٹ جاتا رہا بس بزدلی کرتا رہا
تھی ذرا سی روشنی سو احتیاطاً بار بار
پوٹلی میں بند پھر میں پوٹلی کرتا رہا
تیرے در کےعالمِ جبروت کا جاہ و جلال
تمکنت لرزاں ، صدائیں توتلی کرتا رہا
وہ بھی ہر تقریب میں اپنا بدلتی تھی لباس
سانپ بھی تبدیل اپنی کینچلی کرتا رہا
اب بھی پیتالیس سے شرمندہ سیتالیس ہے
یہ عدد کا کھیل کیسی دھاندلی کرتا رہا
میں نے دیکھی ہی نہیں خارج میں پھیلی رونقیں
عمر بھر حل معاملاتِ داخلی کرتا رہا
ایک مجبوری تمہارے شہر کی تہذیب تھی
سو اداکاری سدا یہ جنگلی کرتا رہا
اپنی نسلوں کو ولی ابن ِ ولی کرتا رہا
میرا دل ،مولا علی ، مولا علی کرتا رہا
دیر تک قوس قزح کو مشک بو کرتا رہا
اس کی خوشبوئے بدن کی گفتگو کرتا رہا
پا برہنہ استروں کے روڈ پر چلتے ہوئے
خنجروں کے ہار بھی زیبِ گلو کرتا رہا
پھر بھی کمرے کی کہانی ساری بستی نے سنی
کھڑکیوں کے رات دن پردے رفو کرتا رہا
وہ جو شہ راہوں کا قبرستان سمجھا جاتا ہے
میں کہانی اس سٹیشن سے شرو کرتا رہا
خون ِ دل کے آخری قطرے تلک میرا قلم
بام ِ شب آباد سے سورج طلو کرتا رہا
بلبلے لکھتے رہے مصرعے ہوا کے ریت پر
میں غزل خوانی کنارِ آب جو کرتا رہا
کیا کروں کہ مجھ کو آتا ہی نہیں نفرت کا کام
کیا کہوں کار محبت فالتو کرتا رہا
اس کے چاروں اور تھا منصور صحرائے بسیط
جو رہائی کی ہمیشہ آرزو کرتا رہا
جتنے موتی گرے آنکھ سے جتنا تیرا خسارا ہوا
دست بستہ تجھے کہہ رہے ہیں وہ سارا ہمارا ہوا
آگرا زندہ شمشان میں لکڑیوں کا دھواں دیکھ کر
اک مسافر پرندہ کئی سرد راتوں کا مارا ہوا
ہم نے دیکھا اسے بہتے سپنے کے عرشے پہ کچھ دیرتک
پھر اچانک چہکتے سمندر کا خالی کنارا ہوا
جا رہا ہے یونہی بس یونہی منزلیں پشت پر باندھ کر
اک سفرزاد اپنے ہی نقشِ قدم پر اتارا ہوا
زندگی اک جوا خانہ ہے جسکی فٹ پاتھ پر اپنا دل
اک پرانا جواری مسلسل کئی دن کا ہارا ہوا
خطۂ عشق کی لاج رکھ لی محمد علی کی قسم
قریۂ حسن کے سبز پرچم کا میں چاند تارا ہوا
ذہن کے راکھ داں کو جو جھاڑا تو کپڑوں پہ چلنے لگا
کوئی دن تھا نمل جھیل کے ساحلوں پر گزارا ہوا
تم جسے چاند کا دیس کہتے ہو منصور آفاق وہ
ایک لمحہ ہے کتنے مصیبت زدوں کا پکارا ہوا
بدن کے قفل چٹختے تھے اسم ایسا تھا
نگار خانہء جاں کا طلسم ایسا تھا
دہکتے ہونٹ اسے چھونے کو مچلتے تھے
سیہ گلابوں کی جیسی ہے قسم ایسا تھا
جگہ جگہ پہ دراڑیں تھیں ندی نالے تھے
سوادِ چشم میں پانی کا رِسم ایسا تھا
کسی کا پائوں اٹھا رہ گیا کسی کا ہاتھ
تمام شہر تھا ساکت ، طلسم ایسا تھا
ہر ایک چیز برہنہ تھی بے کے نقطے میں
الف فروزاں تھا جس میں وہ بسم ایسا تھا
یہ اور بات کہ شیشہ تھا درمیاں منصور
چراغ ہوتا ہے جیسے وہ جسم ایسا تھا
ہم میں رہتا ہے کوئی شخص ہمارے جیسا
آئینہ دیکھیں تو لگتا ہے تمہارے جیسا
بجھ بجھا جاتا ہے یہ بجھتی ہوئی رات کے ساتھ
دل ہمارا بھی ہے قسمت کے ستارے جیسا
کہیں ایسا نہ ہو کچھ ٹوٹ گیا ہو ہم میں
اپنا چہرہ ہے کسی درد کے مارے جیسا
لے گئی ساتھ اڑا کر جسے ساحل کی ہوا
ایک دن تھا کسی بچے کے غبارے جیسا
قوس در قوس کوئی گھوم رہا ہے کیا ہے
رقص کرتی کسی لڑکی کے غرارے جیسا
شکر ہے ہم نے کما لی تھی اداسی ورنہ
ہے محبت میں منافع تو خسارے جیسا
ہم جسے توڑ کے پہنچے ہیں تمہارے دل تک
اک دیا روڈ پہ تھا سرخ اشارے جیسا
ہم اُسےدیکھ کے کرتے تھے سحر کا آغاز
آدمی تھا کوئی سورج کے نظارے جیسا
ہم نہ مجنوں تھے، نہ فرہاد، نہ پنّوں ونوں
کیا کریں عشق کیا بھی تو گزارے جیسا
کشتیاں بیچ میں چلتی ہی نہیں ہیں منصور
اک تعلق ہے کنارے سے کنارے جیسا
پابجولاں کیا مرا سورج گیا تھا
صبح کے ماتھے پہ آ کر سج گیا تھا
وہ بھی تھی لپٹی ہوئی کچھ واہموں میں
رات کا پھر ایک بھی تو بج گیا تھا
کوئی آیا تھا مجھے ملنے ملانے
شہر اپنے آپ ہی سج دھج گیا تھا
پہلے پہلے لوٹ جاتا تھا گلی سے
رفتہ رفتہ بانکپن کا کج گیا تھا
مکہ کی ویران گلیاں ہو گئی تھیں
کربلا کیا موسم ِ ذوالحج گیا تھا
تُو اسے بھی چھوڑ آیا ہے اسے بھی
تیری خاطر وہ جو مذہب تج گیا تھا
وہ مرے سینے میں شاید مر رہا ہے
جو مجھے دے کر بڑی دھیرج گیا تھا
کتنی آوازوں کے رستوں سے گزر کر
گیت نیلی بار سے ستلج گیا تھا
پائوں بڑھ بڑھ چومتے تھے اڑتے پتے
تازہ تازہ باغ میں اسوج گیا تھا
وہ جہاں چاہے کرے منتج ، گیا تھا
رات کی محفل میں کل سورج گیا تھا
میں بدنصیب تھا احمق تھا پیش و پس میں رہا
تمام رات کوئی میری دسترس میں رہا
میں ایک شیش محل میں قیام رکھتے ہوئے
کسی فقیر کی کٹیا کے خاروخس میں رہا
سمندروں کے اُدھر بھی تری حکومت تھی
سمندروں کے اِدھر بھی میں تیرے بس میں رہا
کسی کے لمس کی آتی ہے ایک شب جس میں
کئی برس میں مسلسل اسی برس میں رہا
گنہ نہیں ہے فروغ بدن کہ جنت سے
یہ آبِ زندگی ، بس چشمہ ء ہوس میں رہا
مرے افق پہ رکی ہے زوال کی ساعت
یونہی ستارہ مرا ، حرکت ء عبث میں رہا
کنارے ٹوٹ کے گرتے رہے ہیں پانی میں
عجب فشار مرے موجہ ء نفس میں رہا
وہی جو نکھرا ہوا ہے ہر ایک موسم میں
وہی برش میں وہی میرے کینوس میں رہا
قدم قدم پہ کہانی تھی حسن کی لیکن
ہمیشہ اپنے بنائے ہوئے قصص میں رہا
جسے مزاج جہاں گرد کا ملا منصور
تمام عمر پرندہ وہی قفس میں رہا
ہاتھ سے ہنگامِ محشر رکھ دیا
گردشِ دوراں پہ ساغر رکھ دیا
اک نظر دیکھا کسی نے کیا مجھے
بوجھ کہساروں کا دل پر رکھ دیا
پانیوں میں ڈوبتا جاتا ہوں میں
آنکھ میں کس نے سمندر رکھ دیا
اور پھر تازہ ہوا کے واسطے
ذہن کی دیوار میں در رکھ دیا
ٹھوکروں کی دلربائی دیکھ کر
پائوں میں اس کے مقدر رکھ دیا
دیکھ کر افسوس تارے کی چمک
اس نے گوہر کو اٹھا کر رکھ دیا
ایک ہی آواز پہنی کان میں
ایک ہی مژگاں میں منظر رکھ دیا
نیند آور گولیاں کچھ پھانک کر
خواب کو بسترسے باہر رکھ دیا
دیدہ ء تر میں سمندر دیکھ کر
اس نے صحرا میرے اندر رکھ دیا
زندگی کا استعارہ جان کر
ریل کی پٹڑی پہ پتھر رکھ دیا
رکھتے رکھتے شہر میں عزت کا پاس
ہم نے گروی ایک دن گھر رکھ دیا
میری مٹی کا دیا تھا سو اسے
میں نے سورج کے برابر رکھ دیا
خانہ ء دل سے اٹھا کر وقت نے
بے سرو ساماں ،سڑک پر رکھ دیا
جو پہن کر آتی ہے زخموں کے پھول
نام اس رُت کا بھی چیتر رکھ دیا
کچھ کہا منصور اس نے اور پھر
میز پر لاکے دسمبر رکھ دیا
ہر روئیں پر ایک تارہ رکھ دیا
رفتہ رفتہ چرخ سارا رکھ دیا
رات کا قیدی بنایا اور پھر
آنکھ میں شوقِ نظارہ رکھ دیا
خاک پر بھیجا مجھے اور چاند پر
میری قسمت کا ستارہ رکھ دیا
بچ بچا کر کوزہ گر کی آنکھ سے
چاک پر خود کو دوبارہ رکھ دیا
دیکھ کر بارود صحنِ ذات میں
اس نے خواہش کا شرارہ رکھ دیا
دور تک نیلا سمندر دیکھ کر
میں نے کشتی میں کنارہ رکھ دیا
تری طلب نے ترے اشتیاق نے کیا کیا
فروزاں خواب کئے تیرہ طاق نے کیا کیا
میں جا رہا تھا کہیں اور عمر بھر کیلئے
بدل دیا ہے بس اک اتفاق نے کیا کیا
عشائے غم کی تلاوت رہے تہجد تک
سکھا دیا ہے یہ دینِ فراق نے کیا کیا
خراب و خستہ ہیں عاشق مزاج آنکھیں بھی
دکھائے غم ہیں دلِ چست و چاق نے کیا کیا
وہ لب کھلے تو فسانہ بنا لیا دل نے
گماں دئیے ترے حسن ِ مذاق نے کیا کیا
مقامِ خوک ہوئے دونوں آستانِ وفا
ستم کیے ہیں دلوں پر نفاق نے کیا کیا
ہر ایک دور میں چنگیزیت مقابل تھی
لہو کے دیپ جلائے عراق نے کیا کیا
ہر اک شجر ہے کسی قبر پر کھڑا منصور
چھپا رکھا ہے زمیں کے طباق نے کیا کیا
زمیں پلٹی تو الٹا گر پڑا تھا
فلک پر اس کا ملبہ گر پڑا تھا
میں تشنہ لب پلٹ آیا کہیں سے
کنویں میں کوئی کتا گر پڑا تھا
سُکھانا چاہتا تھا خواب لیکن
ٹشو پیپر پہ آنسو گر پڑا تھا
مری رفتار کی وحشت سے ڈر کر
کسی کھائی میں رستہ گر پڑا تھا
رکابی تھی ذرا سی ، اور اس پر
کوئی چاول کا دانہ گر پڑا تھا
مرے کردار کی آنکھیں کھلی تھیں
اور اس کے بعد پردہ گر پڑا تھا
مری سچائی میں دہشت بڑی تھی
کہیں چہرے سے چہرہ گر پڑا تھا
بس اک موجِ سبک سر کی نمو سے
ندی میں پھر کنارہ گر پڑا تھا
مرے چاروں طرف بس کرچیاں تھیں
نظر سے اک کھلونا گر پڑا تھا
اٹھا کر ہی گیا تھا اپنی چیزیں
بس اس کے بعد کمرہ گر پڑا تھا
اٹھایا میں نے پلکوں سے تھا سپنا
اٹھاتے ہی دوبارہ گر پڑا تھا
نظر منصور گولی بن گئی تھی
ہوا میں ہی پرندہ گر پڑا تھا
اتنا تو تعلق نبھاتے ہوئے کہتا
میں لوٹ کے آئوں گا وہ جاتے ہوئے کہتا
پہچانو مجھے ۔میں وہی سورج ہوں تمہارا
کیسے بھلا لوگوں کو جگاتے ہوئے کہتا
یہ صرف پرندوں کے بسیرے کیلئے ہے
انگن میں کوئی پیڑ لگاتے ہوئے کہتا
ہر شخص مرے ساتھ اناالحق سرِ منزل
آواز سے آواز ملاتے ہوئے کہتا
اک موجِ مسلسل کی طرح نقش ہیں میرے
پتھر پہ میں اشکال بناتے ہوئے کہتا
اتنا بھی بہت تھا مری مایوس نظر کو
وہ دور سے کچھ ہاتھ ہلاتے ہوئے کہتا
یہ تیرے عطا کردہ تحائف ہیں میں کیسے
تفصیل مصائب کی بتاتے ہوئے کہتا
موسم کے علاوہ بھی ہو موجوں میں روانی
دریا میں کوئی نظم بہاتے ہوئے کہتا
عادت ہے چراغ اپنے بجھانے کی ہوا کو
کیا اس سے کوئی شمع جلاتے ہوئے کہتا
میں اپنی محبت کا فسانہ اسے منصور
محفل میں کہاں ہاتھ ملاتے ہوئے کہتا
تمہیں یہ پائوں سہلانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا
سفر رستہ رہے گا بس ، کبھی منزل نہیں ہو گا
مجھے لگتا ہے میری آخری حد آنے والی ہے
جہاں آنکھیں نہیں ہوں گی دھڑکتادل نہیں ہوگا
محبت کے سفر میں تیرے وحشی کو عجب ضد ہے
وہاں کشتی سے اترے گا جہاں ساحل نہیں ہو گا
مری جاں ویری سوری اب کبھی چشم ِ تمنا سے
یہ اظہار ِ محبت بھی سرِمحفل نہیں ہو گا
سکوت ِ دشت میں کچھ اجنبی سے نقش ِ پا ہوں گے
کوئی ناقہ نہیں ہو گا کہیں محمل نہیں ہو گا
ذرا تکلیف تو ہو گی مگر اے جانِ تنہائی
تجھے دل سے بھلا دینا بہت مشکل نہیں ہو گا
یہی لگتا ہے بس وہ شورش ِ دل کا سبب منصور
کبھی ہنگامہ ء تخلیق میں شامل نہیں ہو گا
کب اپنا نام مکاں کی پلیٹ پر لکھا
یہ انتظار کدہ ہے ، یہ گیٹ پر لکھاا
پھر ایک تازہ تعلق کو خواب حاضر ہیں
مٹا دیا ہے جو پہلے سلیٹ پر لکھا
میں دستیاب ہوں ، اک بیس سالہ لڑکی نے
جوارِ ناف میں ہیروں سے پیٹ پر لکھا
لکھا ہوا نے کہ بس میری آخری حد ہے
’اب اس اڑان سے اپنے سمیٹ پر‘ لکھا
جہانِ برف پگھلنے کے بین لکھے ہیں
ہے نوحہ آگ کی بڑھتی لپیٹ پر لکھا
جناب ِ شیخ کے فرمان قیمتی تھے بہت
سو میں نے تبصرہ ہونٹوں کے ریٹ پر لکھا
ہے کائنات تصرف میں خاک کے منصور
یہی فلک نے زمیں کی پلیٹ پر لکھا
جب قریہ ء فراق مری سرزمیں ہوا
برق تجلٰی اوڑھ لی سورج نشیں ہوا
جا کر تمام زندگی خدمت میں پیش کی
اک شخص ایک رات میں اتنا حسیں ہوا
میں نے کسی کے جسم سے گاڑی گزار دی
اور حادثہ بھی روح کے اندر کہیں ہوا
ڈر ہے کہ بہہ نہ جائیں در و بام آنکھ کے
اک اشک کے مکاں میں سمندر مکیں ہوا
ہمت ہے میرے خانہ ء دل کی کہ بار بار
لٹنے کے باوجود بھی خالی نہیں ہوا
منظر جدا نہیں ہوا اپنے مقام سے
ہونا جہاں تھا واقعہ بالکل وہیں ہوا
کھڑکی سے آ رہا تھا ابھی تو نظر مجھے
یہ خانماں خراب کہاں جاگزیں ہوا
سینے کے بال چھونے لگی ہے دھکتی سانس
منصور کون یاد کے اتنے قریں ہوا
پیڑ پر شام کھلی ، شاخ سے ہجراں نکلا
پھر اسی باغ سے یہ میرا دبستاں نکلا
رات نکلی ہیں پرانی کئی چیزیں اس کی
اور کچھ خواب کے کمرے سے بھی ساماں نکلا
نقش پا دشت میں ہیں میرے علاوہ کس کے
کیا کوئی شہر سے پھر چاک گریباں نکلا
خال و خد اتنے مکمل تھے کسی چہرے کے
رنگ بھی پیکرِ تصویر سے حیراں نکلا
لے گیا چھین کے ہر شخص کا ملبوس مگر
والی ء شہر پناہ ، بام پہ عریاں نکلا
صبح ہوتے ہی نکل آئے گھروں سے پھر لوگ
جانے کس کھوج میںپھر شہر ِ پریشاں نکلا
وہ جسے رکھا ہے سینے میں چھپا کر میں نے
اک وہی آدمی بس مجھ سے گریزاں نکلا
زخم ِ دل بھرنے کی صورت نہیں کوئی لیکن
چاکِ دامن کے رفو کا ذرا امکاں نکلا
ترے آنے سے کوئی شہر بسا ہے دل میں
یہ خرابہ تو مری جان ! گلستاں نکلا
زخم کیا داد وہاں تنگی ء دل کی دیتا
تیر خود دامنِ ترکش سے پُر افشاں نکلا
رتجگے اوڑھ کے گلیوں کو پہن کے منصور
جو شب ِ تار سے نکلا وہ فروزاں نکلا
آپ کا غم ہی علاجِ غم دوراں نکلا
ورنہ ہر زخم نصیب سر مژگاں نکلا
اور کیا چیز مرے نامہ ء اعمال میں تھی
آپ کا نام تھا بخشش کا جو ساماں نکلا
محشرِ نور کی طلعت ہے ،ذرا حشر ٹھہر
آج مغرب سے مرا مہر درخشاں نکلا
آپ کی جنبشِ لب دہر کی تقدیر بنی
چشم و ابرو کا چلن زیست کا عنواں نکلا
ظن و تخمین ِ خرد اور مقاماتِ حضور؟
شیخ عالم تھا مگر بخت میں ناداں نکلا
جب بھی اٹھی کہیں تحریک سحر کی منصور
غور کرنے پہ وہی آپ کا احساں نکلا
درد مرا شہباز قلندر ، دکھ ہے میرا داتا
شام ہے لالی شگنوں والی ، رات ہے کالی ماتا
اک پگلی مٹیار نے قطرہ قطرہ سرخ پلک سے
ہجر کے کالے چرخ ِکہن پر شب بھرسورج کاتا
پچھلی گلی میں چھوڑ آیا ہوں کروٹ کروٹ یادیں
اک بستر کی سندر شکنیں کون اٹھا کر لاتا
شہرِ تعلق میں اپنے دو ناممکن رستے تھے
بھول اسے میں جاتا یا پھر یاد اسے میں آتا
ہجرت کر آیا ہے ایک دھڑکتا دل شاعر کا
پاکستان میں کب تک خوف کو لکھتا موت کو گاتا
مادھولال حسین مرا دل ، ہر دھڑکن منصوری
ایک اضافی چیز ہوں میں یہ کون مجھے سمجھاتا
وارث شاہ کا وہ رانجھا ہوں ہیر نہیں ہے جس کی
کیسے دوہے بُنتا کیسے میں تصویر بناتا
ہار گیا میں بھولا بھالا ایک ٹھگوں کے ٹھگ سے
بلھے شاہ سا ایک شرابی شہر کو کیا بہکاتا
میری سمجھ میں آ جاتا گر حرف الف سے پہلا
باہو کی میں بے کا نقطہ بن بن کر مٹ جاتا
ذات محمد بخش ہے میری۔۔شجرہ شعر ہے میرا
اذن نہیں ہے ورنہ ڈیرہ قبرستان لگاتا
میں ہوں موہجوداڑو۔مجھ میں تہذبیوں کی چیخیں
ظلم بھری تاریخیں مجھ میں ، مجھ سے وقت کا ناطہ
ایک اکیلا میں منصور آفاق کہاں تک آخر
شہرِ وفا کے ہر کونے میں تیری یاد بچھاتا
پیر فرید کی روہی میں ہوں ، مجھ میں پیاس کا دریا
ڈوب گیا ہے تھل مارو میں میری آس کا دریا
عمرِ رواں کے ساحل پر اوقات یہی ہیں دل کے
صبح طلب کی بہتی کشتی ، شب وسواس کا دریا
سورج ڈھالے جاسکتے تھے ہر قطرے سے لیکن
یوں ہی بہایا میں نے اشکوں کے الماس کا دریا
جس کے اک اک لمحے میں ہے صدیوں کی خاموشی
میرے اندر بہتا جائے اس بن باس کا دریا
لوگ ہیں آبِ چاہ شباں کے لوگ حمام سگاں کے
شہر میں پانی ڈھونڈھ رہے ہو چھوڑ کے پاس کا دریا
تیری طلب میں رفتہ رفتہ میرے رخساروں پر
سوکھ رہا ہے قطرہ قطرہ تیز حواس کا دریا
سورج اک امید بھرا منصور نگر ہے لیکن
رات کو بہتا دیکھوں اکثر خود میں یاس کا دریا
ایک حیرت کدہ ہے نگر رات کا
آسمانوں سے آگے سفر رات کا
بام و در تک گریزاں سویروں سے ہیں
میرے گھر سے ہوا کیا گزر رات کا
صبح نو تیرے چہرے کے جیسی سہی
جسم ہے برگزیدہ مگر رات کا
چل رہا ہوں یونہی کب کڑی دھوپ میں
آ رہا ہے ستارہ نظر رات کا
پوچھ منصور کی چشمِ بے خواب سے
کتنا احسان ہے شہر پر رات کا
میں جنابِ صدر ملازمت نہیں چاہتا
مگر اب فریب کی سلطنت نہیں چاہتا
مرا دین صبح کی روشنی مری موت تک
میں شبوں سے کوئی مصالحت نہیں چاہتا
میں حریصِ جاہ و حشم نہیں اِسے پاس رکھ
یہ ضمیر زر سے مباشرت نہیں چاہتا
کرے آکے گفت و شیند مجھ سے چراغ بس
کسی شب زدہ کی مشاورت نہیں چاہتا
میں کنارِ آب رواں نہیں شبِ یاد میں
کسی چاندنی سے مناسبت نہیں چاہتا
مجھے موت تیرے محاصرے میں قبول ہے
میں عدو سے کوئی مفاہمت نہیں چاہتا
شبِ ظلم سے میں لڑوں گا آخری وار تک
کوئی ظالموں سے مطابقت نہیں چاہتا
مجھے جلتی کشیاں دیکھنے کی طلب نہیں
میں مزاحمت میں مراجعت نہیں چاہتا
مرے پاس اب کوئی راستہ نہیں صلح کا
مجھے علم ہے تُو مخالفت نہیں چاہتا
انہیں ’بھوربن‘ کی شکار گاہ عزیز ہے
ترا لشکری کوئی پانی پت نہیں چاہتا
تری ہر پرت میں کوئی پرت نہیں چاہتا
میں پیاز ایسی کہیں صفت نہیں چاہتا
اسے رقص گاہ میں دیکھنا کبھی مست مست
مرے دوستو میں اسے غلط نہیں چاہتا
کسی ذہن میں ، کسی خاک پر یا کتاب میں
میں یزید کی کہیں سلطنت نہیں چاہتا
مرے چشم و لب میں کرختگی ہے شعور کی
میں سدھارتھا، ترے خال وخط نہیں چاہتا
فقط ایک جام پہ گفتگو مری شان میں
سرِ شام ایسی منافقت نہیں چاہتا
مرے ساتھ شہر نے جو کیا مجھے یاد ہے
میں کسی کی کوئی بھی معذرت نہیں چاہتا
وہ بات نہیں کرتا، دشنام نہیں دیتا
کیا اس کی اجازت بھی اسلام نہیں دیتا
بندوق کے دستے پر تحریر تھا امریکا
میں قتل کا بھائی کو الزام نہیں دیتا
کچھ ایسے بھی اندھے ہیں کہتے ہیں خدا اپنا
پیشانی پہ سورج کی کیوں نام نہیں دیتا
رستے پہ بقا کے بس قائم ہے منافع بخش
اُس پیڑ نے کٹنا ہے جو آم نہیں دیتا
اب سامنے سورج کے یہ اشکِ مسلسل کی
برسات نہیں چلتی ،غم کام نہیں دیتا
جو پہلے پہل مجھ کو بازار میں ملتے تھے
کوئی بھی خریدار اب وہ دام نہیں دیتا
بیڈ اپنا بدل لینا منصور ضروری ہے
یہ خواب دکھاتا ہے ، آرام نہیں دیتا
کوئی چہرہ کوئی مہتاب دکھائی دیتا
نیند آتی تو کوئی خواب دکھائی دیتا
خواہشیں خالی گھڑے سر پہ اٹھا لائی ہیں
کوئی دریا کوئی تالاب دکھائی دیتا
ڈوبنے کو نہ سمندر نہ کوئی چشم ِ سیہ
جام ہی میں کوئی گرداب دکھائی دتیا
توُ وہ ریشم کہ مرا ٹاٹ کا معمولی بدن
تیرے پیوند سے کمخواب دکھائی دیتا
دوستو آگ بھری رات کہاں لے جائوں
کوئی خس خانہ و برفاب دکھائی دیتا
دونوں کردار کہانی کےبرہنہ ہیں جہاں
تیرے ناول کا وہی باب دکھائی دیتا
دیکھتا دیدۂ دریا میں گذشتہ کے چراغ
وقت کا عکس سرِ آب دکھائی دیتا
َدستکیں دیتا کبھی آخری دروازے پر
آنکھ کو شہرِ اَبد تاب دکھائی دیتا
پھر مری ہوتی اذاں،ہند کے بت خانے میں
جلوۂ منبر و محراب دکھائی دیتا
قریۂ حرف میں پھرتا ہوں میں پتھر لے کر
کوئی تو گوہرِ نایاب دکھائی دیتا
دل میں چونا پھری قبروں کے اِمٰج ہیں منصور
کیسے میں زندہ و شاداب دکھائی دیتا
موسموں کا رزق دونوں پر بہم نازل ہوا
پھول اترا شاخ پراور مجھ پہ غم نازل ہوا
اپنے اپنے وقت پر دونوں ثمرآور ہوئے
پیڑ کو ٹہنی ملی مجھ پر قلم نازل ہوا
اوس کی مانند اُترا رات بھر مژگاں پہ میں
پھر کرن کا دکھ پہن کر صبح دم نازل ہوا
میں نے مٹی سے نکالے چند آوارہ خیال
آسمانوں سے کلامِ محترم نازل ہوا
یوں ہوا منصور کمرہ بھر گیا کرنوں کے ساتھ
مجھ پہ سورج رات کو الٹے قدم نازل ہوا
اک مسلسل رتجگا سورج کے گھر نازل ہوا
یعنی ہجراں کا بدن مثلِ سحر نازل ہوا
زندگی میری رہی مثبت رویوں کی امیں
میری آنکھوں پر مرا حسن نظر نازل ہوا
اس پہ اترا بات کو خوشبو بنا دینے کا فن
مجھ پہ اس کو نظم کرنے کا ہنر نازل ہوا
کوئی رانجھے کی خبردیتی نہیں تھی لالٹین
خالی بیلا رات بھر بس ہیر پر نازل ہوا
اس محبت میں تعلق کی طوالت کا نہ پوچھ
اک گلی میں سینکڑوں دن کا سفر نازل ہوا
وقت کی اسٹیج پربے شکل ہوجانے کا خوف
مختلف شکلیں بدل کر عمربھر نازل ہوا
جاتی کیوں ہے ہر گلی منصور قبرستان تک
یہ خیالِ زخم خوردہ دربدر نازل ہوا
یاد کچھ بھی نہیں کہ کیا کچھ تھا
نیند کی نوٹ بک میں تھا ، کچھ تھا
میں ہی کچھ سوچ کر چلا آیا
ورنہ کہنے کو تھا ، بڑا کچھ تھا
چاند کچھ اور کہہ رہا تھا کچھ
دل ِ وحشی پکارتا کچھ تھا
اس کی پائوں کی چاپ تھی شاید
یہ یونہی کان میں بجا کچھ تھا
میں لپٹتا تھا ہجر کی شب سے
میرے سینے میں ٹوٹتا کچھ تھا
کُن سے پہلے کی بات ہے کوئی
یاد پڑتا ہے کچھ ، کہا کچھ تھا
آنکھ کیوں سوگوار ہے منصور
خواب میں تو معاملہ کچھ تھا
سیاہ رنگ کا امن و سکوں تباہ ہوا
سفید رنگ کا دستور کجکلاہ ہوا
زمیں سے کیڑے مکوڑے نکلتے آتے ہیں
ہمارے ملک میں یہ کون بادشاہ ہوا
کئی دنوں سے زمیںدھل رہا ہے بارش سے
امیرِ شہر سے کیسا یہ پھر گناہ ہوا
شرارِ خاک نکلتا گرفت سے کیسے
دیارِ خاک ازل سے جنازہ گاہ ہوا
وہ شہر تھا کسی قربان گاہ پر آباد
سو داستان میں بغداد پھر تباہ ہوا
جلے جو خیمے تو اتنا اٹھا دھواں منصور
ہمیشہ کے لئے رنگ ِعلم سیاہ ہوا
پہلے سورج کو سرِ راہ گزر باندھ دیا
اور پھر شہر کے پائوں میں سفر باندھ دیا
چند لکڑی کے کواڑوں کو لگا کر پہیے
وقت نے کار کے پیچھے مرا گھر باندھ دیا
وہ بھی آندھی کے مقابل میں اکیلا نہ رہے
میں نے خیمے کی طنابوں سے شجر باندھ دیا
میری پیشانی پہ انگارے لبوں کے رکھ کے
اپنے رومال سے اس نے مرا سر باندھ دیا
لفظ کو توڑتا تھا میری ریاضت کا ثمر
وسعت ِ اجر تھی اتنی کہ اجر باندھ دیا
چلنے سے پہلے قیامت کے سفر پر منصور
آنکھ کی پوٹلی میں دیدہ ء تر باندھ دیا
کھینچ لی میرے پائوں سے کس نے زمیں ،میں نہیں جانتا
میرے سر پہ کوئی آسماں کیوں نہیں ، میں نہیں جانتا
کیوں نہیں کانپتابے یقینی سے پانی پہ چلتے ہوئے
کس لئے تجھ پہ اتنا ہے میرا یقیں ، میں نہیں جانتا
ایک خنجر تو تھا میرے ٹوٹے ہوئے خواب کے ہاتھ میں
خون میں تر ہوئی کس طرح آستیں ، میں نہیں جانتا
کچھ بتاتی ہیں بندوقیں سڑکوں پہ چلتی ہوئی شہر میں
کس طرح ، کب ہوا ، کون مسند نشیں ، میں نہیں جانتا
لمحہ بھر کی رفاقت میں ہم لمس ہونے کی کوشش نہ کر
تیرے بستر کا ماضی ہے کیا میں نہیں ، میں نہیں جانتا
کیا مرے ساتھ منصورچلتے ہوئے راستے تھک گئے
کس لئے ایک گھر چاہتا ہوں کہیں ، میں نہیں جانتا
پندار ِ غم سے ربط ِمسلسل نہیں ہوا
شاید مرا جمال مکمل نہیں ہوا
پھر ہو گی تجھ تلک مری اپروچ بزم میں
مایوس جانِ من ترا پاگل نہیں ہوا
ممکن نہیں ہے جس کا ذرا سا مشاہدہ
میری نظر سے وہ کبھی اوجھل نہیں ہوا
لاء ڈسٹ بن میں پھینک دیا ہست کا مگر
قانونِ بود ہم سے معطل نہیں ہوا
دست ِ اجل نے کی ہے تگ ودو بڑی مگر
دروازہء حیات مقفل نہیں ہوا
منصور اپنی ذات شکستہ کئے بغیر
پانی کا بلبلہ کبھی بادل نہیں ہوا
مری بدلحاظ نگاہ نے مجھے عرشِ جاں سے گرا دیا
وہ جو مرتبت میں مثال ہے اسی آستاں سے گرا دیا
مجھے کچھ بھی اس نے کہا نہیں مگر اپنی رت ہی بدل گئی
مجھے دیکھتے ہوئے برف کو ذرا سائباں سے گرادیا
مجھے دیکھ کر کہ میں زد پہ ہوں سرِ چشم آخری تیر کو
کسی نے کماں پہ چڑھا لیا کسی نے کماں سے گرا دیا
ہے عجب مزاج کی وہ کوئی کبھی ہم نفس کبھی اجنبی
کبھی چاند اس نے کہا مجھے کبھی آسماں سے گرا دیا
میں وہ خستہ حال مکان تھا جسے خوف ِ جاں کے خیال سے
کسی نے یہاں سے گرادیا کسی نے وہاں سے گرا دیا
وہ چشم سراپا حیرت تھی کیا میں نے کیا
وہ اس کا مکاں تھا اپنا پتہ جا میں نے کیا
ہے فکر مجھے انجام مرے ہاتھوں سے نہ ہو
آغاز کا کیا ہے اس نے کیا یا میں نے کیا
کچھ زخم گلی کے بلب تلے تحریر کئے
پھر اپنے لہوسے اپنا تماشا میں نے کیا
صد شکر دئیے کی آخری لو محفوظ ہوئی
ہے فخر مجھے دربند ہوا کا میں نے کیا
منصور وہ میری آنکھ کو اچھی لگتی تھی
سو ہجر کی کالی رات سے رشتہ میں نے کیا
خود اپنے آپ سے شرمندہ رہنا
قیامت ہے مسلسل زندہ رہنا
یہاں روبوٹ کم ہیں آسماں سے
یہ دنیا ہے یہاں آئندہ رہنا
مجھے دکھ کی قیامت خیز رت میں
محبت نے کہا ’’پائندہ رہنا‘‘
سمٹ آئی ہے جب مٹھی میں دنیا
کسی بستی کا کیا باشندہ رہنا
سکھاتا ہے مجھے ہر شام سورج
لہو میں ڈوب کر تابندہ رہنا
یہی منصور حاصل زندگی کا
خود اپنا آپ ہی کارندہ رہنا
مدت کے بعد گائوں میں آیا ہے ڈاکیا
لیکن اٹھی نہیں کوئی چشم ِ سوالیا
رہنے کو آئی تھی کوئی زہرہ جبیں مگر
دل کا مکان درد نے خالی نہیں کیا
جو زندگی کی آخری ہچکی پہ گل ہوئی
اک شخص انتظار کی اس رات تک جیا
پوچھی گئی کسی سے جب اس کی کوئی پسند
آہستگی سے اس نے مرانام لے لیا
تارے بجھے تمام ، ہوئی رات راکھ راکھ
لیکن مزارِ چشم پہ جلتا رہا دیا
تکیے پہ بُن رہا ہے ترا شاعر ِفراق
منصور موتیوں سے محبت کا مرثیا
ٹوٹا ہوا سینے میں کوئی تھا اسے کہنا
میں سنگ صفت تو نہیں رویا اسے کہنا
اک آگ لگا دیتے ہیں برسات کے دل میں
ہم لوگ سلگتے نہیں تنہا اسے کہنا
دروازے پہ پہرے سہی گھر والوں کے لیکن
کھڑکی بھی بنا سکتی ہے رستہ اسے کہنا
اے بجھتی ہوئی شام ! محبت کے سفرمیں
اک لوٹ کے آیا تھا ستارہ اسے کہنا
نازل ہوں مکمل لب و عارض کے صحیفے
ہر شخص کا چہرہ ہے ادھورا اسے کہنا
شہ رگ سے زیادہ ہے قریں میرا محمد
لولاک سے آگے ہے مدنیہ اسے کہنا
منصور مزاجوں میں بڑا فرق ہے لیکن
اچھا مجھے لگتا ہے بس اپنا اسے کہنا
غزلِ مقطعات
بجا ہے دوستو منصور کا گلہ کرنا
مگر کچھ اس کے مسائل کا بھی پتہ کرنا
بڑا ضروری ہے عشقِ مجاز میں منصور
خود اپنے آپ پہ خود کو فریفتہ کرنا
نگارِ لوح و قلم کا ہے مشورہ منصور
ہر ایک شے کا مکمل مطالعہ کرنا
بھلا دیا ہے جہنم نے وقت کے منصور
لبوں سے قوسِ قزح کا تبادلہ کرنا
بس اپنی آنکھ سے اک بار دیکھنا منصور
پھر اس کے حسنِ مکمل پہ تبصرہ کرنا
یہ عمر ایک ہی پہلو میں کاٹ دے منصور
غلط ہے روز تعلق کا تجربہ کرنا
بس ایک کام نہیں آ سکا مجھے منصور
شبِ فراقِ مسلسل کا خاتمہ کرنا
پھر اس کے بعد بدلنا اسے عجب منصور
تمام عمر میں بس ایک فیصلہ کرنا
جلا کے راکھ نہ کردے کہیں تجھے منصور
یہ برقِ طور سے شب بھر معانقہ کرنا
مرے رسول کی سنت مرے لئے منصور
زمیں پہ رہ کے فلک سے مکالمہ کرنا
جنابِ شیخ کو اچھا نہیں لگا منصور
خدا کی ذات سے اپنا مصافحہ کرنا
یہ پانچ وقت جماعت کہے مجھے منصور
نماز کیا ہے زمانے سے رابطہ کرنا
یہ کیا کہ وہ جو دھڑکتا بدن میں ہے منصور
اس ایک شخص کا ہر شخص سے پتہ کرنا
شعورِ عشقِ محمد مری نماز ہوا
گماں یقین کی ساعت سے سرفراز ہوا
تُو کائنات کا خالق ہے مانتا ہوں مگر
مرا وجود تری ذات کا جواز ہوا
ترے لبوں کی کرم بار مسکراہٹ سے
نیاز مند خدائی سے بے نیاز ہو
میں رک گیا تھا جدائی کے جس جہنم میں
وہ انتظارِ قیامت سے بھی دراز ہوا
مرے سجود کی منزل ہے میری تنہائی
میں اپنی ذات کا خود ہی حریمِ ناز ہوا
مری مژہ پہ سجاتا ہے آنسوئوں کے چراغ
مزاجِ یار عجب روشنی نواز ہوا
مری جمال پرستی بھی تجھ سے ہے منصور
مرا حبیب ترا چہرہ ئ مجاز ہوا
کبھی بارشوں سے بہنا ، کبھی بادلوں میں رہنا
یہی زندگی ہے اپنی ، یونہی آنسوئوں میں رہنا
کبھی یونہی بیٹھے رہنا تری یاد کے کنارے
کبھی رات رات بہتے ہوئے پانیوں میں رہنا
کبھی سات رنگ بننا کسی ابرِ خوشنما کے
کبھی شاخ شاخ گرتی ہوئی بجلیوں میں رہنا
مجھے یاد آ رہا ہے ترے ساتھ ساتھ شب بھر
یونہی اپنے اپنے گھر کی کھلی کھڑکیوں میں رہنا
مجھے لگ رہا ہے جیسے کہ تمام عمر میں نے
ہے اداس موسموں کے گھنے جنگلوں میں رہنا
یہ کرم ہے دلبروں کا ،یہ عطا ہے دوستوں کی
مرا زاویوں سے ملنا یہ مثلثوں میں رہنا
ابھی اور بھی ہے گھلنا مجھے ہجر کے نمک میں
ابھی اور آنسوئوں کے ہے سمندروں میں رہنا
اپنے بت ، اپنے خدا کا درد تھا
یعنی اپنے بے وفا کا درد تھا
موت کی ہچکی مسیحا بن گئی
رات کچھ اِس انتہا کا درد تھا
ننگے پائوں تھی ہوا کی اونٹنی
ریت تھی اور نقشِ پا کا درد تھا
کائناتیں ٹوٹتی تھیں آنکھ میں
عرش تک ذہنِ رسا کا درد تھا
میں جسے سمجھا تھا ہجراں کا سبب
زخم پرودہ انا کا درد تھا
رات کی کالک افق پر تھوپ دی
مجھ کو سورج کی چتا کا درد تھا
پہلی پہلی ابتلا کا درد تھا
اس کے لہجے میں بلا کا درد تھا
اس کو خالی صحن کی تکلیف تھی
مجھ کو اندر کے خلا کا درد تھا
اب تلک احساس میں موجود ہے
کتنا حرف ِبرملا کا درد تھا
دور کا بے شک تعلق تھا مگر
خاک کو عرش علیٰ کا درد تھا
رو رہا تھا آسماں تک ساتھ ساتھ
ایسا تیرے مبتلا کا درد تھا
اب بھی آنکھوں سے ابل پڑتا ہے وہ
ایسا ظالم کربلا کا درد تھا
مضمحل ہوتے قویٰ کا درد تھا
خشک پتوں کو ہوا کا درد تھا
جان لیوا بس وہی ثابت ہوا
جو مسیحا کی دوا کا درد تھا
رک گیا ، آہیں ُسروں پر دیکھ کر
ساز کو بھی ہم نوا کا درد تھا
کچھ برس پہلے مرے احساس میں
تھا ، سلوکِ ناروا کا درد تھا
مجھ کو دکھ تھا کربلائے وقت کا
اس کو خاکِ نینوا کا درد تھا
اک مقامِ پُر فضا کا درد تھا
اس کی آنکھوں میں نزع کا درد تھا
وقت کی قربان گاہ تھی دور تک
اور ازل بستہ قضا کا درد تھا
اس کی مجبوری پہ چپ تھا میں مگر
مجھ کو رغبت اور رضا کا درد تھا
ہجر کی کالک بھری برسات سے
مجھ کو صحبت کو سزا کا درد تھا
اک طرف شہد و شراب و لمس تھے
اک طرف روزِ جزا کا درد تھا
اعتبارِ باختہ کا درد تھا
ساختہ پر داختہ کا درد تھا
امن پیشہ مورچوں کے پیٹ میں
پھڑپھڑاتی فاختہ کا درد تھا
نور تھا حدِ سراب ِ طور تک
جلوہ ئ خودساختہ کا درد تھا
اک امانت کی طرح ہے لمس میں
جو کسی دو شاختہ کا درد تھا
جس کی لذت حاصل ئ احساس ہے
ایک دوشیزہ خطا کا درد تھا —
آخرش ہجراں کے مہتابوں کا مد فن ہوگیا
آنکھ کا تالاب بدروحوں کامسکن ہو گیا
دھوپ در آئی اچانک رات کو برسات میں
اس کا چہرہ آنسوئوں میں عکس افگن ہو گیا
دل چرا کر جا رہا تھا میں دبے پائوں مگر
چاند نکلا اور سارا شہر روشن ہو گیا
رو پڑا تھا جا کے داتا گنج کے دربار پر
یوں ہوا پھرراہ میں سانول کا درشن ہوگیا
بجلیاں ہیں بادلوں کے بین ہیں کمرے کے بیچ
اور کیلنڈر کہے ہے ، ختم ساون ہو گیا
کیوں سلگتی ریت نے سہلا دئیے تلووں کے پھول
یہ اذیت کیش دل صحرا کا دشمن ہو گیا
جھلملا اٹھتا تھا برتن مانجھنے پر جھاگ سے
اس کلائی سے جو روٹھا زرد کنگن ہو گیا
تیری میری زندگی کی خوبصورت ساعتیں
تیرا بچپن ہو گیا یا میرا بچپن ہو گیا
ایک جلوے کی قیامت میں نے دیکھی طور پر
دھوپ تھی ایسی کہ سورج سوختہ تن ہو گیا
بے خدا ہوں سوچتا ہوں شکر کس کا ہو ادا
میں نے جو چاہا وہی منصور فوراً ہو گیا
مرکوز رکھ نگاہ کو ، پھر نین مت لگا
فرمانِ چشمِ یار پہ واوین مت لگا
زردار! یہ جو تُونے کئے ہیں ہزار حج
اس پر امیدِ رحمتِ دارین مت لگا
جس سے تُو دیکھتا ہے ابو جہل کے قدم
اُس آنکھ سے رسول کے نعلین مت لگا
خطرہ ہے انعدام کا میرے وجود کو
باہوں سے اپنی محفلِ قوسین مت لگا
دونوں طرف ہی دشمنِ جاں ہیں خیال رکھ
اتنے قریب حدِ فریقین مت لگا
کوئی تماشا اے مرے جدت طراز ذہن
تُو عرش اور فرش کے مابین مت لگا
جائز ہر ایک آنکھ پہ جلوے بہار کے
ط
اپنی کتابِ حسن پہ تُو بین مت لگا
دیوارِ قوس رکھ نہ شعاعوں کے سامنے
لفظِ طلو کے بعد کبھی عین مت لگا
دشمن کے ہارنے پہ بھی ناراض مجھ سے ہے
مجھ کو تو اپنا دل بھی کوئی’ جین مت‘ لگا
ادارک سلسلہ ہے ، اسے مختصر نہ کر
اپنے سکوتِ فہم کو بے چین ’مت‘ لگا
جس نے تمام زندگی بجلی چرائی ہے
اس کو تو واپڈا کا چیئرمین مت لگا
لگتا ہے یہ مقدمہ یک طرفہ عشق کا
منصور شرطِ شرکتِ طرفین مت لگا
مرے نصیب پہ رو دے ،کسی کا گھر نہ دکھا
تُو خالی ہاتھ مجھے بھیج۔۔ اور در نہ دکھا
تُو اپنی شام کے بارے کلام کر مجھ سے
کسی کے بام پہ ابھری ہوئی سحر نہ دکھا
ابھی تو وصل کی منزل خیال میں بھی نہیں
شبِ فراق! ابھی سے یہ چشمِ تر نہ دکھا
گزار آیا ہوں صحرا ہزار پت جھڑ کے
فریبِ وقت! مجھے شاخِ بے ثمر نہ دکھا
میں جانتا ہوں قیامت ہے بیچ میں منصور
مجھے یہ راہ میں پھیلے ہوئے خطر نہ دکھا
آسرا کس وقت مٹی کے کھلونے پر رکھا
وقت پر پائوں کہانی ختم ہونے پر رکھا
دیکھتا کیا دو جہاں میں کہ فراقِ یار میں
دیدہ و دل کو ہمیشہ وقف رونے پر رکھا
پانیوں کو ساحلوں میں قید کر دینے کے بعد
موج کو پابند ساحل کے ڈبونے پر رکھا
چاہتا تو وقت کا ہم رقص بن سکتا تھا میں
خود سے ڈر کر خود کو لیکن ایک کونے پر رکھا
اپنی آنکھیں چھوڑ آیا اس کے دروازے کے پاس
اور اس کے خواب کو اپنے بچھونے پر رکھا
سونپ کر منصور دل کو آگ سلگانے کا کام
آنکھ کو مصروف دامن کے بھگونے پر رکھا
ٹوٹے ہوئے کواڑ کے منظر نے آلیا
آوارگی کی شام مجھے گھر نے آلیا
میں جا رہا تھا زخم کا تحفہ لئے بغیر
پھر یوں ہوا کہ راہ کے پتھر نے آلیا
میں سن رہا ہوں اپنے ہی اندر کی سسکیاں
کیا پھر کسی عمل کے مجھے ڈرنے آلیا
گزرا کہیں سے اور یہ آنکھیں چھلک پڑیں
یادش بخیر ! یادِ ستم گر نے آلیا
وہ جس جگہ پہ اُس سے ملاقات ہونی تھی
پہنچا وہاں تو داورِ محشر نے آلیا
منصور چل رہا تھاابھی کہکشاں کے پاس
یہ کیا ہوا کہ پائوں کی ٹھوکر نے آلیا
یوں خیالوں نے بدحواس کیا
ہجر کو وصل پر قیاس کیا
اپنی پہچان کے عمل نے مجھے
روئے جاناں سے روشناس کیا
کچھ فسردہ زمیں سے تھے لیکن
آسماں نے بہت اداس کیا
ہم نے ہر ایک نماز سے پہلے
زیبِ تن خاک کا لباس کیا
بھول آئے ہیں ہم وہاں منصور
کیا بسرا کسی کے پاس کیا
اے چاند پتہ تیرا کسی سے نہیں ملتا
رستہ کوئی جا تیری گلی سے نہیں ملتا
او پچھلے پہر رات کے ،جا نیند سے کہہ دے
اب خواب میں بھی کوئی کسی سے نہیں ملتا
کیوں وقتِ مقرر پہ ٹرام آتی نہیں ہے
کیوں وقت ترا میری گھڑی سے نہیں ملتا
میں جس کیلئے عمر گزار آیا ہوں غم میں
افسوس مجھے وہ بھی خوشی سے نہیں ملتا
یہ ایک ریاضت ہے خموشی کی گپھا میں
یہ بخت ِہنر نام وری سے نہیں ملتا
وہ تجھ میں کسی روز ضرور آکے گرے گی
دریا تو کبھی جا کے ندی سے نہیں ملتا
دھلیز پہ رکھ جاتی ہے ہر شام جو آنکھیں
منصور عجب ہے کہ اسی سے نہیں ملتا
مل گئے مجھ کو بھی جینے کے بہانے کیا کیا
رنگ بکھرا دئیے پھر تازہ ہوانے کیا کیا
کیسی خوشبوئے بدن آتی ہے کمرے سے مجھے
پھول وہ چھوڑ گئی میرے سرھانے کیا کیا
میں تجھے کیسے بتائوں مری نازک اندام
مجھ پہ گزرے ہیں مصائب کے زمانے کیا کیا
میری خاموشی پہ الزام لگانے والی
کہتی پھرتی ہیں تری آنکھیں نجانے کیا کیا
کیا غزل چھیڑی گئی سانولے رخساروں کی
شام کے گیت کہے بادِ صبا نے کیا کیا
میرے پہلو میں نئے پھول کھلے ہیں کتنے
مجھ کو شاداب کیادستِ دعا نے کیا کیا
یونہی بے وجہ تعلق ہے کسی سے لیکن
پھیلتے جاتے ہیں منصور فسانے کیا کیا
کنارِ صبح ِمکاں اک تبسم بار چہرہ تھا
سمندر جیسی آنکھیں تھی گل و گلزار چہرہ تھا
مری نظریں اٹھیں توپھر پلٹ کر ہی نہیں آئیں
عجب سندرسی آنکھیں تھی عجب دلدار چہرہ تھا
سنا ہے اس لئے اس نے تراشے خال و خد میرے
اسے پہچان کو اپنی کوئی درکار چہرہ تھا
ہوا کی آیتوں جیسی تکلم کی بہشتیں تھیں
شراب و شہدبہتے تھے وہ خوش گفتار چہرہ تھا
جہاں پردھوپ کھلتی تھی وہیں بادل برستے تھے
جہاں پُرخواب آنکھیں تھیں وہیں بیدار چہرہ تھا
شفق کی سر خ اندامی لب و رخسار جیسی تھی
چناروں کے بدن پر شام کا گلنار چہرہ تھا
جسے بتیس برسوں سے مری آنکھیں تلاشے ہیں
بس اتنا جانتا ہوں وہ بہت شہکار چہرہ تھا
جہاں پر شمع داں رکھا ہوا ہے یاد کا منصور
یہاں اس طاقچے میں کوئی پچھلی بار چہرہ تھا
میں زندگی ہوں وہ جانے لگا تواس نے کہا
وہ میرے ساتھ کوئی دن رہا تو اس نے کہا
مجھے زمین سے رکھنے ہیں اب مراسم بس
جب آسماں نے فسردہ کیا تو اس نے کہا
میں تتلیوں کے تعاقب میں جانے والا ہوں
کسی نے ماتھے پہ بوسہ دیا تو اس نے کہا
اداس رہنے کی عادت ہے مجھ کو ویسے ہی
گلی میں اس کی کوئی مرگیا تو اس نے کہا
مجھے بھی شام کی تنہائی اچھی لگتی ہے
مری اداسی کا قصہ سنا تو اس نے کہا
خیال رکھنا تجھے دل کا عارضہ بھی ہے
جب اس کے سامنے میں رو پڑا اس نے کہا
مجھے تو رات کی نیت خراب لگتی ہے
چراغ ہاتھ سے میرے گرا تو اس نے کہا
کوئی فرشتوں کی مجھ سے تھی دشمنی منصور
پڑھا نصیب کا لکھا ہوا تو اس نے کہا
سین ستو میں پڑ گیا ہو گا
ملک اردو میں پڑ گیا ہو گا
گر پڑا ہے افق کے شعلوں میں
دل پکھیرو میں پڑ گیا ہوگا
بے خیالی میں چھو گئے تھے لب
نیل بازو میں پڑ گیا ہو گا
اس طرف جھک گئی ہے سب دنیا
کچھ ترازو میں پڑ گیا ہوگا
ایک گجرے کے ٹوٹ جانے سے
داغ خوشبو میں پڑ گیا ہو گا
ایسا لگتا ہے عمر کادریا
ایک آنسو میں پڑ گیا ہو گا
کتنی مشکل سے روکی ہے گالی
چھالاتالو میں پڑ گیا ہو گا
ہجر کی رات شور تھا کوئی
درد پہلو میں پڑ گیا ہو گا
شام سے جا گراتھا کچھ باہر
نور جگنو میں پڑ گیا ہو گا
ہاتھ چھلکا نہیں یونہی منصور
چاند دارو میں پڑ گیا ہو گا
غریب بیچ کے بچے، خریدیں روٹی کیا
اے آسمان ! قیامت کی ہے کسوٹی کیا
ہر ایک موڑ پہ ننگا دکھائی دیتا ہے
ہوا کے ہاتھ میں ہے پیڑ کی لنگوٹی کیا
تُو دے رہا ہےاذانِ بلند مسجد میں
اے میرے مولوی!نیت تری ہے کھوٹی کیا
لڑیں گے چاند پہ جاکر بھی اپنے دشمن سے
سیاہ چین! تری سر بلند چوٹی کیا
یہ عشق ہے، ابھی آگے ہے آگ کا دریا
اٹھائے پھرتے ہو تم باتیں چھوٹی چھوٹی کیا
میں روز ایک دھماکے کے بعد گلیوں سے
سیمٹتا پھروں بچوں کی بوٹی بوٹی کیا
بکھیری رات کے پہلو میں اک ستارے نے
کھماج ٹھاٹھ کی وہ راگنی جھنجھوٹی کیا
فقیہِ شہر بتا ! ہے کہیں کتابوں میں
کوئی فقیر کا بنگلہ، ولی کی کوٹھی کیا
یہ اور کتنا جَلے گا سری نگر منصورؔ
شہید گنتی رہے گی سدا چکوٹھی کیا
جرمِ الفت حسنِ کمسن سے ہوا
کارِ ممکن، غیر ممکن سے ہوا
کائناتیں روشنی سے بھر گئیں
وہ طلوعِ درد باطن سے ہوا
کوہساروں میں ہے کیسی گونج سی
شور کیا آوازِ ساکن سے ہوا
روم میں اڑتی ہوئی تتلی کا پَر
بورڈ پر چسپاں مرے پن سے ہوا
کتنے اچھے لوگ تھے ہمسائے میں
گھریہ خالی کیا کہوں کِن سے ہوا
لڑکیاں اپنی جگہ تھیں لاجواب
ہم سخن منصورؔ جن جن سے ہوا
سجادگانِ ہجر کی صحبت میں مر گیا
زندہ وہی رہا جو محبت میں مر گیا
کتنی جڑی ہوئی تھی کسی سے یہ اپنی سانس
وہ خواب میں مرا، میں حقیقت میں مر گیا
تم خوش نصیب تھےکہ عدالت تلک گئے
میں تو سپاہیوں کی حراست میں مر گیا
اتنی بڑھا نہ عشوہ و غمزہ کی داستاں
میں تجھ پہ یونہی یار،مروّت میں مر گیا
دیکھا تھااُس کو بام پہ مسجد کے صحن سے
یعنی کہ میں خداکی حفاطت میں مر گیا
منصورؔ اک فقیر مرے نام کا کہیں
پھر دشتِ بے اماں کی مسافت میں مر گیا
درد مجموعۂ اشعار میں ملفوف کیا
جمع آنسو کئے، خاموشی کو معروف کیا
ہجر کی سردیاں سرپہ تھیں سو میں نے خود کو
لکڑیاں کاٹنے کے کام میں مصروف کیا
میں نے دیوار سے ٹکرا دی اچانک گاڑی
اِس قدر رش نے مرے ذہن کو ماؤف کیا
بادہ نوشی کی شبِ ہجر اجازت دے دی
حکم جو تُو نے دیا تھا اسے موقوف کیا
جاہلیت کو چھپانا تھا سو اکثر میں نے
اجنبی باتیں کیں اور قصۂ فلسوف کیا
لوگ کہتے ہیں کہ آئینہ صفت تھا منصورؔ
سو اُسے یار نے فہرست سے محذوف کیا
کوئی اس کو بھی جانتا ہے کیا
آدمی ہے کہ دیوتا ہے کیا
مجھ سےسرزد بھلا ہوا ہے کیا
کچھ بتا تو سہی گلہ ہے کیا
پہلے باہر نکل خدائی سے
پوچھنا پھر کہ یہ خدا ہے کیا
رہ رہا ہوں کہیں نشیبوں میں
بارشوں سے مقابلہ ہے کیا
مسکراتی ہیں دیکھ کر مجھ کو
لڑکیوں کا معاملہ ہے کیا
منتظر ہیں مرے تو ویرانے
بول تُو، تیرا فیصلہ ہے کیا
جمع کرتا ہے موت کے اشعار
ہجر کا اور مشغلہ ہے کیا
نیند آتی نہیں ہے دونوں کو
یہ تعلق کا سلسلہ ہے کیا
دھڑکنوں کی صدائیں آتی ہیں
دیکھئے تو یہ زیرِ پا ہے کیا
نیند کی کھا لے گولیاں منصورؔ
یونہی بے وجہ جاگتا ہے کیا
وہ ہے پتھر کا خدا، تجھ سے کہا
غم زدہ دل! بارہا تجھ سے کہا
بات کیوں تجھ کو سمجھ آتی نہیں
پوچھ مت اس شخص کا تجھ سے کہا
تجھ کو اپنی عفت و عصمت کی تھی
جو مرا تھا مسئلہ تجھ سے کہا
میری جانب پھینک مت لفظوں کے خار
ہوں سراپا آبلہ تجھ سے کہا
کچھ تذبذب سا ہے دستِ شوق میں
دے ذرا سا حوصلہ تجھ سے کہا
آدمی نے مرنا بھی تو ہوتا ہے
آدمی منصورؔ تھا، تجھ سے کہا
کسی چلتی ہوئی گاڑی کے رِم تبدیل کرنا
نہیں ممکن ضمیرِ معتصم تبدیل کرنا
مہذب لڑکیوں کے واسطے اچھا نہیں ہے
پتہ تبدیل کرلینا یہ سِم تبدیل کرنا
ضروری اکتسابِ روشنی کے واسطے ہے
کتاب و مدرسہ کا مہتمم تبدیل کرنا
کبھی سر کرنا پہلے آسماں کو ایک پل میں
کبھی تسخیرِیزداں کی مہم تبدیل کرنا
بدل لینا جو ممکن ہو کبھی دل کا دریچہ
کبھی منصورؔ طاقِ منقسم تبدیل کرنا
مختلف ملکوں کی ٹکٹیں جمع کیں اور چل پڑا
بہتی بندرگاہ پر نظمیں کہیں اور چل پڑا
زعم تھا اس کو بلا کا زُلف کی زنجیر پر
میں نے پائوں کی طنابیں توڑ دیں اور چل پڑا
آدمی اک ڈس رہا تھا عادتاً، سو آخرش
مار ڈالا میں نے مارِ آستیں اور چل پڑا
سن لیا میں نے کسی سے وہ ابھی تک زندہ ہے
موت سے دو چار سانسیں مانگ لیں اور چل پڑا
ایک ایسے موڑ پر پہنچا اَچانک ہجر میں
قافلے میں منزلیں شامل ہوئیں اور چل پڑا
رائے پر ڈاکہ زنی کا سن کے سارے شہر نے
آستینیں تک چڑھا منصور لیں اور چل پڑا
خواب تھا نیند کی چارپائی سے باندھا ہوا
ایک قیدی تھا اپنی رہائی سے باندھا ہوا
بد شگونی مرے ذہن میں خوف بننے لگی
گر پڑا اُس کاگجرا کلائی سے باندھا ہوا
کیسی کیسی سیہ آندھیوں میں لٹکتا رہا
دل کاتعویز شاخِ جُدائی سے باندھا ہوا
پائوں اُلجھے تھے گہری اداسی میں میرے جہاں
چاند تھا جھیل میں شب کی کائی سے باندھا ہوا
اب کے انکار کا کوئی امکان چھوڑا نہ تھا
ایک آنسو بھی تھااُس دُہائی سے باندھاہوا
وہ مرے سامنے ایستادہ ہے امکان میں
خیمۂ کائنات اِک اَکائی سے باندھا ہوا
وہ جبلت سے آزاد ہوتا تو پھر بات تھی
اِک مزاجِ وفا بے وفائی سےباندھا ہوا
بے خطا کو خطاوار منصورؔ ثابت کرے
جُرم پولیس کی کاروائی سے باندھا ہوا
رنگ خوشبو میں ملانے آیا
پھر کوئی باغ میں گانے آیا
پیڑ کی سالگرہ پر تیتر
حمد کا گیت سنانے آیا
تتلیاں مشک بکف آئی تھیں
پھول جب رنگ بہانے آیا
چیت کا چاند مرے آنگن میں
یاد کا ڈھول بجانے آیا
بال برسات نے جب جب کھولے
رَت جگا درد منانے آیا
صبح دم تیز ہوا کا جھونکا
سیب ٹہنی سے گرانے آیا
شام کو ایک سنہرا سورج
آگ دریا میں لگانے آیا
یہ بھی ہے اُس کی محبت منصورؔ
جا رہا ہوں یہ بتانے آیا
جتنا بے چین زیادہ ہوگا
اتنا یہ ذہن کشادہ ہوگا
نیند آئے گی خوشی میں کیسے
جب کبھی خواب کا وعدہ ہوگا
بادشہ مارا نہیں جا سکتا
جو مرا ہے وہ پیادہ ہوگا
کیا شبِ وصل میں حیرانی تھی
اِس قدر بھی کوئی سادہ ہوگا
جو پلٹ آیا فلک سے منصور ؔ
ہائے کیا آدمی زادہ ہوگا
کتنا انسان گزیدہ ہو گا
پیڑ جب ساٹھ برس کا ہو گا
جا رہا ہوں تری دنیا سے میں
سوچتا ہوں ترا اب کیا ہو گا
زخم مہکیں گے بہار آئے گی
عشق جب شہر میں رُسوا ہو گا
آنکھ ہی صرف نہ برسی ہو گی
اَبر بھی ٹوٹ کے رویا ہو گا
تھا کسے علم کہ تیرا دل بھی
کالے پانی کا جزیرہ ہو گا
سوچتا ہوں مرا خورشیدِ اَزل
رات کی کوکھ سے نکلا ہو گا
دل مرا تو ہےسلامت بھائی
گھر میں برتن کوئی ٹوٹا ہو گا
چیخ سی پیڑ سے آتی ہو گی
گھونسلا جب کوئی گرتا ہو گا
دُھوپ سہمی ہوئی بیٹھی ہو گی
ہر طرف شام کا سایا ہو گا
پھول کر آئے ہیں ہجرت منصورؔ
کون گلزار میں جاتا ہوگا
دانشِِ سربریدہ کی آواز ورثہ مرا
نرخروں سے اُبلتا ہوا وعظ ورثہ مرا
جو سڑک پرچلاتے ہوئے سائیکل مر گیا
وہ بگولا وہ ظالم ہواباز ورثہ مرا
مجھ کو ورثے میں گہری اُداسی کی جھیلیں ملیں
شام کےچاند کی طبعِ ناساز ورثہ مرا
میں نے گھوڑے کی کاٹھی کو اپنا بدن کر لیا
چلتے جائوں کہ پیہم تگ و تاز ورثہ مرا
میری آغوش میں منزلیں، پائوں میں آسماں
قاب قوسین کا حسنِ اعجاز ورثہ مرا
بلھے شاہؒ کو جو کتھک سکھاتی تھی بازار میں
اُس بہشتی طوائف کا اعزاز ورثہ مرا
آگے بڑھتی ہوئی زندگی میری میراث ہے
موت کے ساتھ ٹکراتے الفاظ ورثہ مرا
روشنی کو بھی سجدے کی حاجت ہمیشہ سے ہے
عرش کی سمت سورج کی پرواز ورثہ مرا
دیکھنا !پھربری اتنی حالت نہ کرنا
اب کسی شخص سے بھی محبت نہ کرنا
رات برسائے جلتے ہوئے طنز کے تیر
اب افق پراُبھرنے کی ہمت نہ کرنا
جانِ مصروفیت ! اب میں سونے لگا ہوں
اب مجھے کال کرنے کی زحمت نہ کرنا
اہلِ دل تک یہاں پر مقلد نہیں ہیں
اب حدیثِ تعلق روایت نہ کرنا
واجبِ القتل ہونا ہے مجھ کو سخن میں
مصرعۂ تر کی خواہش میں محنت نہ کرنا
ختم ہونا نہیں چاہئے عشق کا شوق
دیکھ مرجانا، ظالم کی منت نہ کرنا
پائوں پختہ جگہ پر جما لینا پہلے
وار کرتے ہوئے اُس پہ عجلت نہ کرنا
مفت میں بانٹنا علم کی تیز خوشبو
عمر بھر روشنی کی تجارت نہ کرنا
جس میں بوئے وفا بھی ہو خوئے انا بھی
ایسا مہمان منصورؔ رُخصت نہ کرنا
برف کو آگ دکھا کر پگھلا
اس کو سینے سے لگا کر پگھلا
میری قسمت کے دَھڑکتے سورج
شب کے برفاب کو آ کر پگھلا
کوئی آنسو، کوئی بہتا جذبہ
کچھ میانوالی میں لا کر پگھلا
میں سٹوریج میں کسی شیلف پہ ہوں
لمس کی دھوپ گرا کر پگھلا
یہ جو کالک سی جمی ہے منصورؔ
دَرد کے دِیپ جلا کر پگھلا
خوشی سے پاس غم کے سائے رکھنا
مرے دل! ہجر کو اپنائے رکھنا
وصالِ یار کی پاگل رُتوں میں
بدن کو بجلیاں پہنائے رکھنا
مسلسل بے یقینی کی فضا میں
بڑا مشکل ہے اپنی رائے رکھنا
برا ہے اس بڑھاپے میں یقیناً
یہ تیرا لڑکیاں بہکائے رکھنا
بھلا دوں کیسے دل کی میز پر وہ
کسی کا ،سہ پہر کی چائے رکھنا
نہیں ہوتے بسا اوقات بہتر
بلاکے خوبرو ہمسائے رکھنا
یہ کیا ہوا کہ ترا انتظار بند کیا
یہ کیسے دل نے کوئی اور غم پسند کیا
کسی کےواسطے توفیق بخشی رونے کی
خدا نے دیکھ مرے دل کودردمند کیا
مرے لئے بڑا مشکل تھا عشق کا اظہار
تری ہنسی نے مرا حوصلہ بلند کیا
یہ ٹھیک ہے مجھے آتی تھی شاعری لیکن
ترے فراق نے کچھ اور بھاگ وند کیا
نہ پوچھ وحشتِ ہجراں کہ رات بھر اس نے
یہ مضمحل مرا منصورؔ بند بند کیا
اس زمرہ میں ابھی کوئی صفحہ یا میڈیا موجود نہیں ہے۔