ذکر منیر

ویکی کتب سے
Jump to navigation Jump to search

حمد باری تعالیٰ[ترمیم]

تیرے کرم سے پہنچا ہے ذرا کمال کو

اظہار تو نے بخشا ہے ظرفِ خیال کو


مجھ کو شرابِ عشق کا اک جام ہو عطا

سوزِ جگر وہ بخش کہ پہنچوں وصال کو


یا رب تری کریمی سے مجھکو ہے واسطہ

نظرِ کرم ہی کافی ہے مجھ پُر ملال کو


میرے حواس نے ترا ادراک کر لیا

پہنچانتا ہوں اب ترے حسن و جمال کو


تیرے کرم نے عیب بھی کھلنے نہیں دئیے

میں خود کو دیکھتا کبھی اپنے مآل کو


تیری عطا ہے کون و مکاں میں بہر طرف

پل پل اچھالتی ترے جود و نوال کو


دامن میں چند اشکِ ندامت ہیں اوج بس

کس منہ سے منہ دکھاؤ گے اس ذوالجلال کو

شاعر: مرزا حفیظ اوج


حمد باری تعالی (تضمین)[ترمیم]

یہ نطقِ بشر ہے جو ترے در کے لئے ہے

فن کا یہ سفر ہے جو ترے در کے لئے ہے

یہ اوجِ ہنر ہے جو ترے در کے لئے ہے

اِک عجز کا سر کا جو ترے در کے لئے ہے

میرا یہی زر ہے جو ترے در کے لئے ہے


یہ حرک و تحرّک یہ سکوت اور سکوں کیا

یہ ظاہر و ابطان، یہ بیرون و دروں کیا

یہ گلشنِ امکاں کے دوائر کا فزوں کیا

جز عجز سبھی کچھ ہے ترا پیش کروں کیا

بس خاک پہ سر ہے جو ترے در کے لئے ہے


مولا مرے افکار کا ہر لمحہ ہے حامد

ہے سجدہ کناں تجھ کو مرا خامہء عابد

جیسے کہ مصلّے پہ جبیں سا کوئی زاہد

ہر حرف ہے راکع، مرے الفاظ بھی ساجد

یہ حمدِ ہنر ہے جو ترے در کے لئے ہے


بیٹھا ہوں لئے سر پہ یہ تذلیل کی گٹھڑی

بس نفس کے احکام کی تعمیل کی گٹھڑی

ہر چند گناہوں کی ہی تعجیل کی گٹھڑی

تسبیح کی زنبیل نہ تہلیل کی گٹھڑی

اِک آہِ سحر ہے جو ترے در کے لئے ہے


رحمت سے تری، غم سے گذر جاتا ہوں معبود

پھر عدل ترا دیکھ کے ڈر جاتا ہوں معبود

یوں ڈوبتا ہوں اور ابھر جاتا ہوں معبود

سوچوں تری تفرید، بکھر جاتا ہوں معبود

کیسا یہ سفر ہے جو ترے در کے لئے ہے


سوچوں سے ورا ہے تو ہی بالا ہے گماں سے

ہے ذات عیاں تیری ہر اک رمزِ نہاں سے

تو آپ چھلکتا ہے ہر اک نقشِ جہاں سے

تو پاک ہے ہر در سے دریچے سے مکاں سے

تمثیلِ بشر ہے جو ترے در کے لئے ہے

شاعر: مرزا حفیظ اوج


حمد باری تعالیٰ[ترمیم]

مرا قلب جگمگایا، تجھے حمد ہے خدایا

ترا نام لب پہ آیا، تجھے حمد ہے خدایا


تری ذات ذاتِ واحد، تری شان شانِ عالی

تو ہی ہر جگہ سمایا، تجھے حمد ہے خدایا


تو زمیں، زماں کا خالق، تو ہی ہر مکاں کا مالک

تو نے ہر جہاں بنایا، تجھے حمد ہے خدایا


تو ہے لا شریک و واحد، ترا ذرّہ ذرّہ حامد

یہی نغمہ سب نے گایا تجھے حمد ہے خدایا


تری حرمتیں مسلّم، تری عظمتیں مسلّم

ترے در پہ سر جھکایا، تجھے حمد ہے خدایا


میں جو عیب سر بسر تھا، تری رحمتوں نے ڈھانپا

تجھے عیب پوش پایا، تجھے حمد ہے خدایا


تری رحمتوں کے قرباں، تری بخششوں کے قرباں

مجھے نار سے بچایا، تجھے حمد ہے خدایا


مری ماں نے اوجؔ مجھ کو، یہ سبق سدا پڑھایا

”تجھے حمد ہے خدایا، تجھے حمد ہے خدایا“


شاعر: مرزا حفیظ اوج