دیوان ناصر کاظمی/غزل۔48

ویکی کتب سے
Jump to navigation Jump to search
دیوان ناصر کاظمی
| شروعات | غزل۔1 | غزل۔2 | غزل۔3 | غزل۔4 | غزل۔5 | غزل۔6 | غزل۔7 | غزل۔8 | غزل۔9 | غزل۔10 | غزل۔11 | غزل۔12 | غزل۔13 | غزل۔14 | غزل۔15 | غزل۔16 | غزل۔17 | غزل۔18 | غزل۔19 | غزل۔20 | غزل۔21 | غزل۔22 | غزل۔23 | غزل۔24 | غزل۔25 | غزل۔26 | غزل۔27 | غزل۔28 | غزل۔29 | غزل۔30 | غزل۔31 | غزل۔32 | غزل۔33 | غزل۔34 | غزل۔35 | غزل۔36 | غزل۔37 | غزل۔38 | غزل۔39 | غزل۔40 | غزل۔41 | غزل۔42 | غزل۔43 | غزل۔44 | غزل۔45 | غزل۔46 | غزل۔47 | غزل۔48 | غزل۔49 | غزل۔50 | غزل۔51 | غزل۔52 | غزل۔53 | غزل۔54 | غزل۔55 | غزل۔56 | غزل۔57 | غزل۔58 | غزل۔59 | غزل۔60 | غزل۔61 | غزل۔62 | غزل۔63 | غزل۔64 | غزل۔65 | غزل۔66 | غزل۔67 | غزل۔68 | غزل۔69 | غزل۔70 | غزل۔71 | غزل۔72 | غزل۔73 | غزل۔74 | غزل۔75 | اختتام

غزل
قصے ہیں خموشی میں نہاں اور طرح کے
ہوتے ہیں غمِ دل کے بیاں اور طرح کے

تھی اور ہی کچھ بات کہ تھا غم بھی گوارا
حالات ہیں اب درپۓ جاں اور طرح کے

اے راہروِ راہِ وفا دیکھ کے چلنا
اس راہ میں ہیں سنگِ گراں اور طرح کے

کھٹکا ہے جدائی کا نہ ملنے کی تمنا
دل کو ہیں مرے وہم و گماں اور طرح کے

پر سال تو کلیاں ہی جھڑی تھیں مگر اب کے
گلشن میں ہیں آثارِ خزاں اور طرح کے

دنیا کو نہیں تاب مرے درد کی یارب
دے مجھ کو اسالیبِ فغاں اور طرح کے

ہستی کا بھرم کھول دیا ایک نظر نے
اب اپنی نظر میں ہیں جہاں اور طرح کے

لشکر ہے نہ پرچم ہے نہ دولت ہے نہ ثروت
ہیں خاک نشینوں کے نشاں اور طرح کے

مرتا نہیں اب کوئی کسی کے لیے ناصر
تھے اپنے زمانے کے جواں اور طرح کے

دیوان ناصر کاظمی