جنگل لور/باب 4

ویکی کتب سے
Jump to navigation Jump to search

غلیل اور مزل لوڈر بندوق کے درمیان میں ایک مختصر عرصہ میں نے تیر کمان سے بھی شکار کرنے کی کوشش کی تھی۔ اگرچہ اس دوران میں کبھی شکار کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا پھر بھی مجھے ان دنوں کے بارے سوچ کر انتہائی خوشی ہوتی ہے۔ تاہم میں نے فطرت سے اپنا تعلق جوڑ لیا اور اس سے سیکھی ہوئی چیزیں میرے لیے ساری زندگی ہی مسرت کا سبب بنی ہیں۔

تاہم یہ علم میں نے سیکھا نہیں بلکہ جذب کیا ہے۔ یہ وہ علم نہیں جو آپ کو کسی کتاب میں ملے، یہ علم آپ کو مسلسل اور تھوڑا تھوڑا کر کے سیکھتے ہیں اور اس میں آپ کی دلچسپی کبھی کم نہیں ہوتی اور یہ علم کبھی نہ تو پرانا ہوتا ہے اور نہ ہی مکمل ہوتا ہے۔ ساری زندگی سیکھنے کا عمل جاری رہتا ہے۔

آج بہار ہے اور آپ کے سامنے درخت پر پھول کھلے ہوئے ہیں۔ پھولوں کی کشش سے مختلف پرندے اس پر منڈلا رہے ہوں گے، بعض ان پھولوں کا رس پی رہے ہوں گے تو کئی ایسے بھی ہوں گے جو ان پھولوں پر منڈلاتی شہد کی مکھیوں کو شکار کر رہے ہوں گے، بعض پھولوں کی پتیوں سے پیٹ بھر رہے ہوں گے تو شہد کی مکھیاں شہد کی تیاری میں جٹی ہوئی ہوں گی۔ کل پھولوں کی جگہ پھل لے لیں گے اور مزید مختلف نوعیت کے پرندے اس درخت پر آئے ہوئے ہوں گے۔ ہر قسم کے پرندے کا قدرت میں اپنا کام ہوتا ہے۔ ایک قسم کے پرندے اگر فطرت کی خوبصورتی کا حصہ ہوتے ہیں تو دوسرے پرندے اپنی خوش کن آواز سے رس بھرتے ہیں تو دیگر کا کام قدرت کے باغ کی ترویج میں حصہ ڈالنا ہوتا ہے۔

موسم در موسم، سال بہ سال منظر بدلتا رہتا ہے۔ ہر بار پرندوں کی اگلی نسل اپنے پرکھوں کا کام سنبھالتی ہے اور ان کی نسل اور تعداد بدلتی رہتی ہے۔ طوفان سے درخت کی شاخیں ٹوٹتی ہیں یا درخت مر جاتا ہے تو اس کی جگہ دوسرا درخت لے لیتا ہے اور یہ سلسلہ یوں ہی جاری و ساری رہتا ہے۔

راستے میں آپ کے سامنے شاید گھنٹہ بھر قبل ایک سانپ گذرا ہے۔ یہ سانپ راستے کے دائیں کنارے سے بائیں کو جا رہا تھا اور اس کی موٹائی تین انچ کے لگ بھگ ہوگی اور آپ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ سانپ زہریلا ہے۔ کل اسی راستے پر یا کسی اور راستے پر آپ کسی اور سانپ کے نشان دیکھیں گے جو آپ سے پانچ منٹ ہی قبل بائیں سے دائیں گذرا ہوگا اور اس کی موٹائی شاید 5 انچ رہی ہو اور زہریلا نہ ہو۔

اسی طرح جو کچھ آپ نے آج سیکھا، وہ آپ کے آئندہ سیکھے جانے والے علم کا اضافہ ہوگا۔ سیکھے جانے والے علم کی مقدار کا انحصار آپ کے سیکھنے کی صلاحیت پر ہوگا اور یہ کہ آپ زیادہ سے زیادہ کتنا سیکھ سکتے ہیں۔ علم جمع کرنے کے عمل کے بعد، چاہے وہ ایک برس پر محیط ہو یا پھر 50 برس پر، آپ کو ہمیشہ یہی لگے گا کہ آپ ابھی علم سیکھنے کے پہلے مرحلے پر ہی ہیں اور فطرت کا پورا مضمون آپ کے سامنے آپ کا منتظر ہے کہ آپ کب اسے جذب کرتے ہیں۔ تاہم یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ اگر آپ کو سیکھنے میں دلچسپی نہ ہو یا آپ سیکھنا نہ چاہتے ہوں تو آپ کچھ بھی نہیں سیکھ سکیں گے۔

ایک بار میں ایک بندے کے ساتھ خوبصورت جنگل میں ایک کیمپ سے دوسرے کی طرف جاتے ہوئے 12 میل چلا۔ اپریل کا مہینہ چل رہا تھا اور چاروں طرف بہار ہی بہار چھائی ہوئی تھی۔ درخت، جھاڑیاں اور بیلیں، سب ہی پوری طرح سبز اور پھولوں سے ڈھکی تھیں۔ پھولوں پر تتلیاں منڈلا رہی تھیں اور پرندوں کی چہچہاہٹ کانوں میں رس گھول رہی تھی۔ سفر کے خاتمے پر میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا کہ سفر کیسا رہا اور کیا وہ لطف اندوز ہوا؟ جواب ملا کہ "نہیں، راستہ انتہائی دشوار تھا"۔

پہلی جنگ عظیم کے بعد میں برٹش انڈیا کے بحری جہاز کاراگولا سے بمبئی سے ممباسہ جا رہا تھا۔ ہم میں سے پانچ افراد اوپری منزل پر تھے۔ میرا ارادہ تھا کہ ٹانگانیکا جا کر ایک گھر بناؤں جبکہ دیگر چار افراد کینیاجا رہے تھے۔ ایک بندے کا ارادہ تھا کہ وہ وہاں اپنے خریدے ہوئے فارم ہاؤس کی دیکھ بھال کرے گا جبکہ دیگر تین افراد شکار کے لیے جا رہے تھے۔ چونکہ مجھے بحری سفر راس نہیں آتا، اس لیے میں نے زیادہ تر وقت تمباکو نوشی کے کمرے کے ایک کونے میں اونگھتے ہوئے گذارا۔ باقی لوگ ساتھ بیٹھے تاش کھیلتے رہے تھے۔ ایک دن جب میری آنکھ کھلی تو ان میں سب سے کم عمر ساتھی دوسروں سے کہہ رہا تھا کہ "پچھلے سال میں نے دو ہفتے فارسٹ آفیسر کے ساتھ سینٹرل پراونس میں گذارے تھے اور مجھے شیروں کے بارے سب کچھ پتہ ہے۔"

ظاہر ہے کہ یہ دو انتہائی مختلف مثالیں ہیں تاہم ان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جب تک آپ کو دلچسپی نہ ہو، تب تک آپ جس راہ پر چل رہے ہوں، آپ کو کچھ بھی دکھائی نہیں دے گا اور اسی طرح اگر آپ سیکھنا نہ چاہیں اور فرض کر لیں کہ دو ہفتوں میں آپ وہ سب کچھ سیکھ سکتے ہیں جو پوری زندگی میں بھی سیکھنا ممکن نہ ہو، تو آپ کو اس کے بارے کچھ بھی پتہ نہیں ہوتا۔