جنگل لور/باب 11

ویکی کتب سے
Jump to navigation Jump to search

نومبر سے مارچ تک ہمالیہ کے دامن میں موسم کی نظیر کہیں اور نہیں ملتی اور ان میں فروری سب سے خوبصورت ہوتا ہے۔ فروری میں آب و ہوا انتہائی خوشگوار ہوتی ہے اور پرندے جو اونچے پہاڑوں سے موسم سرما کی شدت سے بچنے اور خوراک کی تلاش میں نیچے آئے ہوئے ہوتے ہیں، ابھی تک واپس نہیں گئے ہوتے۔ خزاں اور سرما میں ٹنڈ منڈ درختوں پر اب نئے سرے سے کونپلیں پھوٹ رہی ہوتی ہیں جو سبز یا گلابی رنگوں کی ہوتی ہیں۔ فروری کے مہینے میں بہار ہر طرف اور ہر جگہ دکھائی دیتی ہے۔ چاہے شمالی پہاڑ ہوں یا جنوبی میدان یا پہاڑوں کا دامن، ہر جگہ بہار راتوں رات آتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ رات کو بندہ جب سونے لگتا ہے تو سردیاں چل رہی ہوتی ہیں اور صبح بیدار ہوتے ہی بہار دکھائی دیتی ہے اور ہر جاندار بہار کی آمد کی خوشی مناتا دکھائی دیتا ہے۔ ہر جاندار کو پتہ چل چکا ہوتا ہے کہ آنے والا وقت کتنا خوشگوار ہوگا کہ ڈھیر ساری خوراک، افزائش نسل اور حدت ان کی منتظر ہوتی ہے۔ مہاجر پرندے چھوٹے چھوٹے غولوں میں شامل ہونے لگتے ہیں جو آگے بڑے غولوں میں مل جائیں گے اور کسی خاص دن اپنے رہنما کے اشارے پر ہر غول شمال کے اونچے پہاڑوں کا رخ کرے گا۔ ان پرندوں میں کبوتر، طوطے، چڑیاں اور مینائیں سبھی شامل ہوتی ہیں۔ ان میں پھل اور پھول کھانے والے پرندے بھی اور حشرات اور پتنگے کھانے والے پرندے بھی شامل ہوتے ہیں۔ ہر پرندہ اپنے لیے جوڑے چن کر مخصوص جگہ پر جا کر گھونسلا بناتا اور افزائش نسل کا کام کرتا ہے۔ اس طرح پرندوں کی دنیا میں ہر روز ایک میلے کی مانند ہوتا ہے جو سورج نکلنے سے سورج ڈوبنے تک لگاتار جاری رہتا ہے۔ اس میلے میں شکاری پرندے بھی حصہ لیتے ہیں۔ سب سے اونچا اڑنے والا سرپنٹ ایگل یعنی سانپ کھانے والا عقاب ہوتا ہے جو اڑتے ہوئے آسمان پر بمشکل دکھائی دیتا ہے البتہ اس کی آواز سنائی دیتی ہے۔

ایک دن جب میں وسط ہند میں فوجیوں کو جنگل میں لڑائی کی تربیت دے رہا تھا تو ان میں سے کئی پرندوں کے شوقین بھی تھے۔ ہمارے اوپر ایک سرپنٹ ایگل انتہائی بلندی پر اڑ رہا تھا۔ ان فوجیوں میں پورے برطانیہ سے آئے ہوئے رنگروٹ شامل تھے جو برما جانے والے تھے۔ کسی نے بھی سرپنٹ ایگل نہیں دیکھا تھا۔ جب ہم کھلے میدان میں پہنچے تو میں نے انہیں آسمان پر اڑتے دھبے کی طرف متوجہ کیا۔ اگرچہ سب کے پاس دوربینیں تھیں لیکن سب افسوس کر رہے تھے کہ عقاب اتنی بلندی پر ہے کہ اسے پوری طرح نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہیں خاموشی سے ایک جگہ رکنے کا کہہ کر میں نے تین انچ لمبی سیٹی پر ایک آواز نکالی۔ یہ سیٹی ایک جنگلی پودے کے تنے سے بنی تھی جس کے ایک سرے پر شگاف تھا۔ اس سے نکلنے والی آواز مرتے ہوئے ہرن کی آواز سے مشابہہ لیکن اس سے کہیں زیادہ تیز تھی۔ میں اسے جنگل میں تربیت کے دوران میں استعمال کرتا تھا کیونکہ یہ واحد قدرتی آواز ہے جو دن ہو یا رات، جنگلوں میں کہیں بھی سنائی دے سکتی ہے اور اس بات کے کم امکانات ہوتے ہیں کہ دشمن اس سے خبردار ہو۔ اگرچہ یہ عقاب سانپ کھاتا ہے لیکن اسے دوسرے گوشت سے بھی رغبت ہوتی ہے۔ میری آواز سنتے ہی عقاب نے خاموش ہو کر پر سمیٹے اور چند سو فٹ نیچے کا رخ کیا اور پھر چکر کاٹنے شروع کر دیے۔ ہر بار میری آواز پر یہ عقاب نیچے آتا گیا اور آخرکار درخت کی پھننگ جتنی بلندی پر پہنچا تو سب فوجیوں نے اسے پورے اطمینان سے دیکھا۔ اگر اس جماعت کا کوئی فرد برما سے بخیریت واپس آیا ہو اور ابھی یہ کتاب پڑھ رہا ہو تو اسے یاد ہوگا کہ انہیں اس بات پر کتنی مایوسی ہوئی تھی کہ میں عقاب کو کسی درخت پر بٹھانے میں ناکام رہا تھا ورنہ وہ تصویر کھینچ لیتے۔ خیر، اس بات کو بھول کر اب ہم جنگل کی دیگر دلچسپیوں کو دیکھتے ہیں۔

اس جنگل والے واقعے کے بعد آپ کی معلومات میں اب تک خاطر خواہ اضافہ ہو چکا ہوگا۔ اپنے بچاؤ کے احساس نے آپ کو بتایا ہوگا کہ انسانی آنکھ 180 ڈگری تک دیکھ سکتی ہے۔ پہلے کسی آواز کو سن کر اس کے ماخذ کا اندازا لگانا کتنا مشکل ہوتا تھا اور اب آپ کے لیے بچوں کا کھیل ہوگی۔ اس کے علاوہ آپ کسی پھول کی خوشبو سے اس کو جان سکتے ہیں چاہے وہ پھول درخت کی چوٹی پر ہو یا جنگل میں کچھ فاصلے پر پوشیدہ ہو۔ چاہے آپ جتنا بھی سیکھ چکے ہوں اور اس سے خوب لطف اندوز ہوتے ہوئے اپنا تحفظ کرتے ہوں، پھر بھی بہت کچھ سیکھنے کو ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ آئیے ابھی علم میں تھوڑا سا مزید اضافہ کرتے ہیں۔

ہماری زمینوں کی شمالی حد پر سے گذرنے والی نہر جہاں لڑکیاں نہانے جاتی تھیں، ایک کھالے کی شکل میں پرانے دریا سے گذرتی ہے۔ اسے بجلی دنت یعنی بجلی والی نہر کہتے ہیں۔ سر ہنری ریمزے کی بنوائی ہوئی اصل نہر تو کئی برس قبل آسمانی بجلی گرنے سے تباہ ہو گئی تھی۔ چونکہ لوگوں کی توہم پرستی کے مطابق کسی جگہ آسمانی بجلی تبھی گرتی ہے جب کوئی شیطانی روح سانپ کی شکل میں اسے اپنی جانب بلائے، اس لیے پرانی نہر کے ستون وغیرہ کو چھوڑ کر اس کے ساتھ نئی نہر بنائی گئی جو نصف صدی سے ٹھیک جا رہی ہے۔ ہمارے دیہات کو آنے والے جنگلی جانور جو پانی سے گزرنا پسند نہیں کرتے، اس دس فٹ چوڑی نہر کے نیچے سے گذرتے ہیں۔ آئیے اسی جگہ سے چہل قدمی شروع کرتے ہیں۔

نہر کے نیچے ریت پر خرگوش، کاکڑ، سور، سیہی، لگڑبگڑ اور گیدڑ کے پگ ہیں۔ تاہم ہم صرف سیہی پر توجہ دیں گے۔ چونکہ ان پر ریت نہیں موجود، اس لیے یہ نشان اس وقت بنے جب رات کو ہوا تہم جاتی ہے۔ ہر پگ پر 5 انگلیاں اور ہتھیلی کا نشان واضح ہے۔ چونکہ سیہی دوسرے جانوروں کو شکار نہیں کرتی، اس لیے اس کے پچھلے پنجے اگلے پنجوں کے نشان کے اوپر نہیں پڑتے۔ ہر انگلی کے آگے ایک چھوٹا سا سوراخ دکھائی دیتا ہے جو سیہی کے مضبوط ناخن سے بنا ہے۔ سیہی کے پچھلے پیر نسبتاً لمبے ہوتے ہیں۔ تاہم ریچھ کے برعکس سیہی کے پچھلے پیر کی ایڑی پر کم لکیریں ہوتی ہیں۔ تاہم سیہی کے پچھلے پیر کی لکیریں دوسرے جانوروں سے فرق ہوتی ہیں۔ اگر آپ ریت پر جھک کر دیکھیں تو پگ کے پیچھے آپ کو سیہی کے کانٹوں سے بنی پتلی پتلی متوازی لکیریں بھی دکھائی دیں گی۔ سیہی اپنے کانٹے نہ تو پھینک سکتی ہے اور نہ ہی اپنی مرضی سے جھاڑ سکتی ہے، اس لیے دفاع کے وقت سیہی اپنے کانٹے کھڑے کر کے پیچھے کو بھاگتی ہے۔ سیہی کے کانٹے خاردار ہوتے ہیں اور دم پر موجود کانٹے کھوکھلے ہوتے ہیں۔ انہی کانٹوں کو کھڑکھڑا کر سیہی اپنے دشمنوں کو ڈراتی ہے اور انہیں پانی میں ڈبو کر بھرنے کے بعد سیہی اپنے بل تک پانی لے جاتی ہے تاکہ اسے ٹھنڈا کر کے مٹی سے پاک رکھے۔ سیہی عموماً سبزی خور ہوتی ہے اور پھلوں، جڑوں اور فصلوں پر گذارا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ہرنوں کے اتارے ہوئے یا جنگلی کتوں، تیندوؤں اور شیر کے مارے ہوئے ہرنوں کے سینگ بھی کھاتی ہے۔ شاید اس سے اسے کوئی ایسے غذائی اجزاء ملتے ہوں جو وہ عام طور پر نہیں کھا پاتی۔ چھوٹی جسامت کے باوجود سیہی انتہائی بہادر ہوتی ہے اور ہر صورت اپنا دفاع کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

نہر سے چند سو گز آگے تک یہ گذرگاہ پتھریلی ہے اور کسی قسم کے پگ مشکل سے دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم آگے چل کر باریک مٹی کا ایک میدان آتا ہے جہاں ہمیں پھر پگ دکھائی دیں گے۔ اس جگہ راستے کے دونوں جانب خاردار جھاڑیاں موجود ہیں جہاں سور، مور، ہرن اور جنگلی مرغ دن کے وقت چھپے ہوتے ہیں اور رات کو تیندوے، شیر اور سیہی خوراک کی تلاش میں پھرتے ہیں۔ دن کے وقت آپ یہاں جنگلی مرغیوں کو چگتے دیکھ سکتے ہیں اور ان سے سو گز دور ان کا جانی دشمن عقاب سیمل کے ٹنڈمنڈ درخت پر بیٹھا ہے۔ یہ عقاب نہ صرف جنگلی مرغیوں بلکہ موروں کا بھی دشمن ہے۔ تاہم جنگل میں چوزوں اور بڑی عمر کے پرندوں کی تعداد میں یکسانیت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ پرندے اپنا بچاؤ کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے میں نے کبھی ان پرندوں کے شکار میں مداخلت نہیں کی۔ تاہم ایک دن میں نے ہرن کی چیخ سنی تو دیکھا کہ ایک ماہ کی عمر کا چیتل کا بچہ عقاب کے پنجوں میں جکڑا ہوا تھا اور عقاب اس کے سر پر ٹھونگے مار رہا تھا۔ بچے کی ماں بار بار حملہ کر رہی تھی لیکن اس کے منہ پر لگے زخموں سے اندازا ہو رہا تھا کہ عقاب اس کے بس کی بات نہیں۔ اگرچہ عقاب کو تو میں نے مار دیا لیکن بچے کو بچانا بھی ممکن نہیں تھا کہ کیونکہ نہ صرف وہ بہت زخمی تھا بلکہ اس کی دونوں آنکھیں بھی عقاب نے نوچ لی تھیں۔ اس لیے بچے کو بھی مارنا پڑا۔ اس دن کے بعد سے کئی بار یہ عقاب میرے ہاتھوں شکار ہوئے ہیں۔ اگرچہ ان کے اتنا پاس پہنچنا مشکل ہوتا ہے کہ بندوق سے مارا جا سکے لیکن رائفل پر اچھا نشانہ ثابت ہوتے ہیں۔ تاہم ابھی ہم چونکہ سیر پر نکلے ہیں، اس لیے اس عقاب کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ میرے غلیل سے شکار والے دنوں میں میں نے اس نسل کے عقاب کی ایک خونخوار لڑائی دیکھی تھی۔ شاید عقاب نے غلطی سے ایک جنگلی بلی کو خرگوش سمجھ کر حملہ کیا تھا۔ پھر یہ جدوجہد زندگی اور موت کی جنگ بن گئی۔ بدقسمتی سے اس وقت تصویر کشی محض سٹوڈیو تک محدود رہتی تھی اور وڈیو بنانا ممکن نہیں تھا، ورنہ اس جنگ کی بہترین وڈیو بنتی۔ دونوں کے پاس اس جنگ جیتنے کے بہترین ہتھیار تھے۔ اگر بلی کی نو زندگیاں ہوتی ہیں تو عقاب کے پاس دس زندگیاں۔ اس لڑائی کا اختتام بھی کچھ ایسے ہی ہوا۔ آخرکار عقاب لڑائی جیت گیا اور دریا پر بنے ایک تالاب سے اپنی پیاس بجھانے کے بعد اس نے اپنی جان دے دی۔

ان خاردار جھاڑیوں سے کئی پگڈنڈیاں نکلتی ہیں۔ جتنی دیر ہم عقاب کو دیکھتے رہے، ایک چھوٹا کاکڑ ان جھاڑیوں سے نکلا اور آبی گذرگاہ کو روانہ ہوا۔ اس کھلی جگہ پر بھی کھروں کے بل چلتا ہوا کاکڑ ہر ممکنہ خطرے سے نمٹنے کو تیار تھا اور خطرہ دیکھتے، سنتے یا بھانپتے دوڑ پڑتا۔ بعض اوقات شکاری کاکڑ کو کمینہ اور بزدل جانور گردانتے ہیں اور اس کی آواز پر بھروسا نہیں کرتے۔ میں اس بارے ان شکاریوں سے اختلاف کرتا ہوں۔ ویسے بھی کمینگی خالص انسانی برائی ہے اور یہ بھی کہ انتہائی گھنے جنگل میں کاکڑ کی نسبت اور کوئی جانور شیروں کے قریب نہیں رہتا۔ جنگل میں پیدل شکار کرنے کے لیے کاکڑ سے بہتر مخبر کوئی نہیں۔ چھوٹا اور بے ضرر ہونے کی وجہ سے اس کے بے شمار دشمن ہیں۔ اگر ہانکے میں شیر کی بجائے جنگلی بلی یا اژدہے کو بھی دیکھ کر یہ کاکڑ بھونکے تو ہمیں اس پر ترس کھانا چاہیے نہ کہ اسے بزدل اور کمینہ گردانیں۔ اس کے لیے اژدہا اور جنگلی بلی بھی جانی دشمن ہیں اور انہیں دیکھ کر بھونکنا اس کی مجبوری ہے۔

کاکڑ کے دو لمبے اور تیز دانت بالائی جبڑے سے باہر نکلے ہوتے ہیں جو کاکڑ کے دفاع کا واحد ذریعہ ہیں۔ اس کے سینگ مڑے ہوئے اور چھوٹے ہوتے ہیں اور دفاع میں کوئی مدد نہیں دیتے۔ ہندوستانی اخبارات میں کافی عرصہ کاکڑ کی اس آواز پر بحث چلتی رہی جو دو ہڈیوں کے ٹکرانے سے مشابہہ ہوتی ہے۔ بعض لوگ یہ مانتے تھے کہ کاکڑ کی ٹانگوں میں دہرے جوڑ ہوتے ہیں اور بھاگتے ہوئے یہ آواز نکلتی ہے جبکہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی وجہ سے اس کے لمبے دانت دیگر دانتوں سے ٹکرا کر یہ آواز نکالتے ہیں۔ تاہم یہ سارے خیالات غلط ہیں۔ یہ آواز کاکڑ اسی طرح نکالتا ہے جیسے دیگر آوازیں، چاہے یہ آواز کسی انجانی چیز کو دیکھنے پر ہو، کتے کو دیکھ کر یا اپنے جوڑے کے ساتھ ہو۔ خطرے کے وقت کاکڑ کی آواز اوسط جسامت کے کتے کے بھونکنے سے مشابہہ ہوتی ہے۔

جتنی دیر کاکڑ یہ راستہ عبور کرتا، ہمارے دائیں جانب سے پھل اور کیڑے کھانے والے پرندوں کا ایک جھنڈ آن پہنچا۔ اس جھنڈ میں مقامی اور مہاجر، دونوں ہی اقسام شامل تھیں۔ جتنی دیر یہ ہمارے اوپر اڑتے اور آس پاس درختوں پر بیٹھتے رہے، مشاہدے کا عمدہ موقع تھا۔ جب پرندے بالکل قریب نہ ہوں تو ان کے بیٹھنے پر ان کی شناخت یا رنگوں کی پہچان میں اکثر مسئلہ ہوتا ہے۔ تاہم اڑتے ہوئے پرندوں کی شناخت بہت آسان ہوتی ہے جو پروں کی پھڑپھڑاہٹ اور ان کی شکل پر منحصر ہوتی ہے۔ چہچہاتے اور شور مچاتے پرندے آن پہنچے۔ کچھ اقسام کے پرندے ایسی جگہوں پر بیٹھ گئے جہاں وہ دیگر پرندوں کی چھیڑ چھاڑ سے اڑنے والے پتنگے بخوبی دیکھ سکتے تھے اور بار بار اڑ کر اپنا پیٹ بھرتے تھے۔

دو تین سو پرندے ہوں گے۔ خیر، یہ سارے پرندے اب ہمارے بائیں جانب جنگل میں گم ہو گئے ہیں اور اب ہمیں محض جنگلی مرغیوں کے دانا دنکا چگنے کی آوازیں آ رہی ہیں اور واحد پرندہ جو دکھائی دے رہا ہے، وہ سیمل کے درخت پر بیٹھا عقاب ہے جو انتہائی صابر اور شاکر پرندہ ہوتا ہے۔ خاردار جھاڑیوں کے پرے پارک نما منظر ہے اور جنگلی آلو بخارے کے بڑے بڑے درخت ہیں۔ اس سمت سے ہمیں سرخ بندروں کی خطرے کی آواز آ رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ تیندوا دکھائی دیا ہے۔ اس طرح کھلے میں پھرنے کی وجہ شاید یہ ہو کہ تیندوا شکار کی تلاش میں نہیں بلکہ دن کا گرم وقت گذارے کسی کھائی کو جا رہا ہے۔ آلو بخارے کے درختوں کے پاس گذرنے والی پگڈنڈی انسانوں اور جانوروں، دونوں کے استعمال میں ہے۔ ہمارے موجودہ مقام سے دو سو گز دور یہ راستہ اس آبی گذرگاہ سے گذرتا ہے اور میں تقریباً یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر ہم قدم بڑھا کر ڈیڑھ سو گز دور بائیں جانب چھپ کر بیٹھ جائیں تو تیندوا لازمی دکھائی دے جائے گا۔ آبی گذرگاہ پچاس گز چوڑی ہے اور بائیں جانب کے کنارے پر گھنے درختوں پر لنگور موجود ہیں۔ سرخ بندروں کی طرف سے خطرے کی اطلاع سن کر سب لنگوروں نے اپنے بچوں چھپا لیے ہیں اور ان کی آنکھیں اسی جانب ہیں جہاں سے خطرے کی اطلاع آئی تھی۔

ہمیں تیندوے کے انتظار میں آنکھیں تھکانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ چھوٹا لنگور جو درخت پر سب سے نمایاں جگہ پر بیٹھا ہے، ہمیں تیندوے کی آمد کی خبر دے گا۔ سرخ بندروں کی نسبت لنگور تیندوے کو دیکھنے پر مختلف ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ ان کا منظم ہونا یا پھر بہادری ہو۔ سرخ بندر ہمیشہ تیندوے کو دیکھتے ہی شور مچاتے اور چیختے ہوئے درختوں پر ہر ممکن حد تک تیندوے کا پیچھا کرتے ہیں۔ تاہم لنگوروں ایسا کچھ نہیں کرتے۔ جب چھوٹا لنگور تیندوے کو دیکھتا ہے تو "کھوک، کھوک، کھوک" کی آواز نکالتا ہے۔ جب غول کا سربراہ چھوٹے لنگور کی مدد سے تیندوے کو دیکھ لیتا ہے تو خطرے کی آواز خود نکالتا ہے جبکہ چھوٹا لنگور چپ ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد صرف سربراہ اور غول کی سب سے بوڑھی مادہ ہی آواز نکالے ہیں۔ بوڑھی مادہ کی آواز چھینک سے مشابہہ ہوتی ہے اور تیندوے کا پیچھا نہیں کیا جاتا۔ اب آپ دیکھیں کہ چھوٹا لنگور گردن بڑھا کر مختلف سمتوں میں دیکھ رہا ہے۔ جب اس نے تیندوے کو دیکھ لیا تو پھر بھونکتا ہے۔ ایک دو ساتھی بھی جوش کے مارے آواز نکالتے ہیں۔ اتنی دیر میں سربراہ بھی تیندوے کو دیکھ لیتا ہے اور شور کرتا ہے۔ اگلے ہی لمحے بوڑھی مادہ بھی شامل ہو جاتی ہے جو "چھ، چھ، چھ" چھینک سے مماثل ہے۔ سارے چھوٹے لنگور اب چپ ہو کر محض سر ہلانے اور مختلف شکلیں بنانے میں مصروف ہیں۔ تاہم انہیں یہ تسلی ہے کہ تیندوا بھوکا نہیں، ورنہ اس طرح کھلے میں نہ دکھائی دیتا بلکہ چھپ کر ان تک پہنچتا۔ چست اور نسبتاً وزنی ہونے کی وجہ سے تیندوے کو لنگور پکڑنے میں کوئی مشکل نہیں پیش آتی۔ سرخ لنگور ہمیشہ شاخوں کے انتہائی سرے پر آرام کرتے ہیں جہاں تیندوے کو اپنے وزن کی وجہ سے جاتے ہوئے جھجھک ہوتی ہے۔

پچاس گز دور، سر اٹھا کر شان سے چلتے ہوئے تیندوا لنگوروں کی ذرا بھی پروا نہیں کرتا۔ سورج اس کے پیچھے چمک رہا ہے اور اس کی کھال پر موجود چتیاں دلفریب دکھائی دیتی ہیں۔ کنارے پر پہنچ کر اس نے ایک بار دائیں اور بائیں دیکھا اور ہمیں نہ دیکھ سکا اور آرام سے چلتا گیا۔ دوسرے کنارے پر چڑھ کر ہماری نظروں سے اوجھل ہو گیا لیکن لنگوروں نے خطرے کی آواز سے جنگل کو آگاہی دینے کا کام جاری رکھا۔

آئیے تیندوے کے پگ دیکھتے ہیں۔ تھوڑی دور پگڈنڈی سرخ مٹی سے گذرتی ہے جو ننگے انسانی پیروں تلے خوب سخت ہو چکی ہے۔ اس مٹی پر گرد کی ہلکی سی تہہ موجود ہے۔ فرض کر لیں کہ ہم نے تیندوے کو گذرتے نہیں دیکھا اور اتفاق سے ہم تیندوے کے پگ پر آن پہنچے ہیں۔ دیکھتے ہی ہمیں پتہ چل جاتا ہے کہ یہ پگ بالکل تازہ ہیں اور تیندوا ابھی ابھی یہاں سے گذرا ہے۔ تازہ ہونے کے بارے ہمیں اس طرح پتہ چلا ہے کہ پگ کے کنارے بالکل سیدھے کھڑے ہیں اور تلوے والی جگہ مسطح ہے۔ جوں جوں وقت گذرتا جائے گا، سورج کی روشنی اور ہوا کی وجہ سے پگوں کے کنارے ٹوٹے جائیں گے۔ کیڑے مکوڑے اور چیونٹیاں بھی پگ سے گذریں گی اور ہوا سے مٹی بھی اس پر آن گرے گی اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ نشان مٹ جائیں گے۔ تیندوے، شیر، سانپ یا ہرن وغیرہ کے پگ سے ان کی "عمر" کا اندازا لگانے کا کوئی لگا بندھا اصول نہیں ہے۔ تاہم چند باتیں اہم ہوتی ہیں جیسا کہ آیا پگ کسی پوشیدہ جگہ پر ہیں کہ کھلےمیں، دن اور رات کو کون کون سے کیڑے مکوڑے کس وقت حرکت کرتے ہیں، ہوا کے چلنے کے عام اوقات کیا ہیں، شبنم کس وقت گرتی ہے وغیرہ وغیرہ کی مدد سے ہمیں تقریباً درست اندازا ہو سکتا ہے کہ یہ پگ کتنے پرانے ہیں۔ ابھی ہم نے پگ دیکھ کر اس کے تازہ ہونے کے بارے اطمینان کر لیا ہے۔ تاہم پگ سے اور بھی کئی معلومات پتہ چل سکتی ہیں، جیسا کہ یہ تیندوا نر تھا یا مادہ، نوجوان تھا کہ بوڑھا اور یہ بھی کہ آیا چھوٹی جسامت کا حامل تھا کہ بڑی جسامت کا۔ پگ کی گول شکل سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یہ پگ نر تیندوے کے ہیں۔ پنجے کے تلوے پر کسی قسم کی سلوٹوں اور لکیروں کے نہ ہونے سے ہمیں تسلی ہو گئی کہ یہ تیندوا نوجوان ہے۔ جسامت کے بارے ہم محض اندازا ہی لگا سکتے ہیں اور اندازے کے لیے ہمارے پاس مشاہدہ اور تجربہ ہونا چاہیے۔ تجربے اور مشاہدے سے آپ تیندوے یا شیر کی لمبائی کے بارے اس حد تک درست اندازا لگا سکتے ہیں جو ایک یا دو انچ ہی غلط ہوگا۔ مرزا پور کے کول لوگوں سے شیر کے پگ دکھا کر جب شیر کی لمبائی پوچھی جائے تو وہ گھاس کا ایک تنکا لے کر پگ کی پیمائش کرتے ہیں اور پھر تنکا زمین پر رکھ کر اپنی انگلیوں کی چوڑائی سے ماپتے ہیں۔ تاہم اس پیمائش کی درستی کے بارے میں کچھ کہنے سے معذور ہوں۔ میں خود پگ کی شکل سے ہی اندازا لگاتا ہوں چاہے جو بھی طریقہ آزمایا جائے، اندازا اندازا ہی رہتا ہے، سو فیصد یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

جہاں راستہ نالے سے گذرتا ہے اس سے تھوڑا آگے جا کر راستہ ریت کی تنگ سی پٹی سے گذرتا ہے اور اس کے ایک جانب اونچا کنارہ جبکہ دوسری جانب چٹان ہے۔ اس جگہ ریت سے چیتل کا غول گذرا ہے۔ جنگل میں کسی غول کے جانوروں کی کل تعداد اور اس کے مختلف اراکین کے بارے دیگر معلومات جاننا کافی مفید ہوتا ہے اور اگلی بار جب آپ اس غول کو دیکھتے ہیں تو آپ اس کے اراکین کے بارے زیادہ جان سکتے ہیں۔ اگر غول کھلے میدان میں ہو تو آپ ان کے نروں کے سینگوں کی لمبائی، مادہ اور بچوں کی تعداد کے بارے اچھا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ تاہم اگر کبھی ایسا ہو کہ کچھ جانور تو سامنے ہوں اور کچھ جنگل یا جھاڑیوں میں چھپے ہوں تو ان سب کو سامنے لانے کا ایک طریقہ بتاتا ہوں جو دس میں سے نو بار کامیاب رہتا ہے۔ چیتلوں سے مناسب فاصلے پر پہنچ کر کہ جہاں سے آپ کی آواز جا سکے، کسی درخت یا جھاڑی کے پیچھے چھپ کر تیندوے کی آواز نکالیں۔ سارے ہی جانور آواز کے ماخذ کو فوراً جان لیتے ہیں۔ جب سامنے موجود چیتل آپ کی سمت دیکھنے لگیں تو درخت کے تنے کے پیچھے سے اپنا کندھا نکال کر یا جھاڑی کے کچھ پتوں کو ہلائیں تو چیتل فوراً خطرے کی آواز نکالے گا اور فوراً ہی اس کے ساتھی جھاڑیوں سے نکل کر دائیں بائیں جمع ہو کر آپ کی طرف دیکھنے لگیں گے۔ اس طرح ایک بار میں نے پچاس چیتل ایک ساتھ دیکھے اور آرام سے ان کی تصاویر اور وڈیو لی تھی۔ تاہم ایک ضروری احتیاط کیجئے گا کہ پورا اطمینان کر لیں کہ اس جنگل دوسرا کوئی شکاری موجود نہ ہو۔ اس کے بعد بھی اپنی تسلی کے لیے مسلسل چاروں طرف سے خبردار رہیئے۔ اس کی وجہ جاننے کے لیے یہ واقعہ دیکھیں۔ ایک بار رات کو میں نے تیندوے کی آواز بار بار سنی۔ آواز سے اندازا ہوتا تھا کہ تیندوا کسی تکلیف میں ہے۔ اگلی صبح روشنی ہونے سے قبل ہی میں تیندوے کی تلاش میں نکلا کہ دیکھوں تو سہی کہ اسے کیا تکلیف ہے۔ تیندوے نے رات کو اپنی جگہ بدل لی تھی اور اب کچھ دور کی پہاڑی پر چلا گیا تھا تاہم اس کی آواز مسلسل آ رہی تھی۔ ایک جگہ جہاں راستہ کھلے میدان میں داخل ہوتا تھا، میں نے ایک پتھر کے پیچھے چھپ کر تیندوے کی آواز نکالی۔ اگر تیندوا آتا تو میں اسے فوراً دیکھ لیتا۔ ہمارے درمیان میں آوازوں کا مسلسل تبادلہ ہوتا رہا اور صاف لگ رہا تھا کہ تیندوا انتہائی احتیاط سے آ رہا ہے۔ جب تیندوا تقریباً سو گز دور رہ گیا تو میں خاموش ہو گیا۔ کہنیوں کے بل میں لیٹا ہوا تیندوے کا منتظر تھا کہ پیچھے پتوں کے سرکنے کی آواز آئی۔ مڑ کر دیکھا تو ایک رائفل کی نال سیدھی میری جانب تھی۔ گذشتہ شام میری لاعلمی میں نینی تال کے ڈپٹی کمشنر کیسلز اور کرنل وارڈ فارسٹ بنگلے آن پہنچے تھے اور انہوں نے تیندوے کا ایک بچہ شکار کیا تھا۔ رات بھر اس کی ماں اپنے بچے کو بلاتی رہی۔ صبح کو وارڈ نے ہاتھی پر سوار ہو کر مادہ تیندوے کی تلاش شروع کی۔ شبنم گری ہوئی تھی اور مہاوت اپنے کام میں ماہر تھا، اس لیے وہ میری لاعلمی میں بغیر آواز نکالے انتہائی قریب پہنچ گئے۔ تاہم وارڈ کی نظر کمزور تھی اس لیے کم روشنی میں دس گز کی دوری سے وہ نشانہ نہ لے سکا۔ مہاوت نے ہاتھی کو آگے بڑھایا اور ہاتھی نے سونڈ سے کچھ شاخیں ہٹا دیں۔ خوش قسمتی سے ہاتھی نے ایک شاخ چھوڑی تو اس کی آواز سن کر میں مڑا تو وارڈ کو بھاری رائفل سے نشانہ لیتے پایا۔

ابھی ہم پچھلی شام یہاں ریت کی پٹی پر سے گذرنے والے چیتلوں کے پگ کو دیکھ رہے ہیں۔ پگوں کے اوپر ثبت شب بیدار کیڑوں کے گذرنے اور اوس کے نشانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پگ گذشتہ شام کے ہیں۔ اگرچہ یہ غول اب نجانے کہاں ہوگا، لیکن پھر بھی میں آپ کو ان کی تعداد کے بارے بتاتا ہوں کہ کیسے پتہ چلے گی۔ فرض کیجئے کہ چیتل کھڑا ہے۔ اس کے اگلے اور پچھلے کھروں کا درمیانی فاصلہ اڑھائی فٹ ہے۔ اب ایک لکڑی لے کر آپ راستے کے آر پار ایک لکیر لگا دیں۔ پھر اس سے اڑھائی فٹ کے فاصلے پر دوسری لکیر لگا دیں۔ اب آپ چھڑی کی مدد سے تمام پگ شمار کرتے جائیں۔ جو جواب آئے، اسے دو پر تقسیم کریں۔ مثلاً 30 کھر گنے ہیں تو انہیں دو پر تقسیم کرنے سے 15 جواب آئے گا۔ یہی تعداد اس غول میں چیتلوں کی ہے۔ اس طریقے سے چاہے پالتو جانور ہوں یا جنگلی، ان کی تعداد اگر دس یا اس سے کم ہو تو بالکل درست اور اگر دس سے زیادہ ہو تو تقریباً درست پتہ چلتی ہے۔ تاہم اگلے اور پچھلے کھروں کا فاصلہ لازمی معلوم ہونا چاہئے۔ یاد رہے کہ جنگلی کتے، سور اور بھیڑ بکری میں یہ فاصلہ اڑھائی فٹ سے کم جبکہ بڑے جانوروں جیسا کہ گائے بیل اور سانبھر وغیرہ میں اڑھائی فٹ سے زیادہ ہوتا ہے۔

جو افراد میرے ساتھ جنگل میں فوجی تربیت میں شامل نہیں رہے، ان کی معلومات کے لیے بتاتا چلوں کہ جنگل میں انسانی نقشِ پا دیکھ کر بہت سی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں، چاہے یہ نشان سڑک پر ہوں، پگڈنڈی یا کسی گذرگاہ پر یا کسی بھی ایسی جگہ پر جہاں کہ یہ نشان بن سکیں۔

فرض کیجئے کہ ہم کسی ایسے جنگل میں ہیں جو دشمن کے قبضے میں ہے۔ یہاں ایک جگہ ہمیں انسانی قدموں کے نشان ملتے ہیں۔ ان کی شکل صورت، کیلوں کی موجودگی یا عدم موجودگی، حجم، لوہے کی پتری یا ہموار ایڑی، چمڑے یا ربر کے تلوے وغیرہ سے بخوبی اندازا ہو سکتا ہے کہ یہ نشان ہمارے ساتھیوں کے نہیں بلکہ دشمن کے ہیں۔ اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ یہ نشان کب بنے اور اس جماعت میں کتنے افراد تھے۔ وقت کا تعین کرنا آپ سیکھ چکے ہیں۔ اب آپ ایک نشان کی ایڑی کے ساتھ راستے پر لکیر کھینچ دیں۔ پھر اڑھائی فٹ آگے ایک اور لکیر لگا دیں۔ اس فاصلے میں موجود ایڑیوں کے نشان سے مطلوبہ افراد کی تعداد کا پتہ چل جائے گا۔ ان نشانات سے بہت مفید معلومات مل سکتی ہیں لیکن سب سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ہمیں ان افراد کے حرکت کرنے کی رفتار کا علم ہو جاتا ہے۔ عام رفتار سے چلنے سے وزن ایڑی اور پنجوں پر برابر ہوتا ہے۔ جوں جوں رفتار تیز ہوتی جائے گی، ایڑی پر کم اور پنجوں پر زیادہ وزن آتا جائے گا اور دونوں پیروں کا درمیانی فاصلہ بڑھتا جائے گا۔ پوری رفتار سے دوڑنے پر ایڑی کا معمولی سا نشان بنتا ہے جبکہ پنجے کا نشان بہت گہرا ہوتا ہے۔ اگر دس یا بارہ افراد کی جماعت ہو تو خون یا لنگڑانے کے نشانات سے ان کے زخمی ہونے کا بھی اندازا ہو سکتا ہے۔

اگر آپ جنگل میں زخمی ہو جائیں تو میں آپ کو ایک جنگلی پودا دکھاؤں گا جو عام سا دکھائی دیتا ہے لیکن خون روکنے اور زخم بھرنے میں اس کا مقابلہ کوئی دوائی بھی نہیں کر سکتی۔ یہ پودا ہر جنگل میں ملتا ہے اور ایک فٹ لمبائی تک پہنچتا ہے۔ اس کا پھول گلِ داؤدی سے مماثل ہے اور لمبا اور باریک تنا ہوتا ہے۔ اس کے پتے بھرے بھرے اور ان پر رگیں بنی ہوتی ہیں۔ طریقہ استعمال یہ ہے کہ اس بوٹی کے چند پتے توڑ کر اگر ممکن ہو تو پانی سے دھو کر گرد وغیرہ صاف کر لیں اور انگلی اور انگوٹھے کی مدد سے ان کا رس زخم پر اچھی طرح نچوڑیں۔ مزید کسی دوا کی ضرورت نہیں۔ اگر زخم گہرا نہ ہوا تو ایک یا دو دن میں بھر جائے گا۔ عرفِ عام میں اس بوٹی کو "برہم بوٹی" یا خدائی پھول کہتے ہیں۔

ہندوستان اور برما کے جنگلوں میں جنگ کے برسوں میں آپ میں سے بہت سارے لوگ میرے اچھے ساتھی تھے اور چونکہ وقت کم تھا تو آپ کی تربیت کے لیے مجھے بہت زیادہ سختی کرنی پڑی تھی۔ امید ہے کہ آپ لوگ اس وقت کی مشکلات کو بھول چکے ہوں گے۔ یہ بھی امید کرتا ہوں کہ ہم نے جو کچھ سیکھا تھا، وہ آپ کو یاد ہوگا مثلاً جنگل میں کون سے پھول، پھل اور جڑیں کھائی جا سکتی ہیں، چائے اور کافی کے متبادل کن کن اجزاء سے تیار ہوتے ہیں، بخار، چھالوں اور گلے کی خرابی کے لیے کون سے پودے، چھال اور پتے فائدہ مند ہیں، کون سی چھالوں اور بیلوں کی مدد سے سٹریچر بنایا جا سکتا ہے، بھاری سامان اور ہتھیار دریا یا کھائی پار لے جانے کے لیے رسیاں کیسے بنائی جاتی ہیں، خندق میں پیروں کو کیسےمحفوظ رکھنا ہے، گرمی سے بچاؤ، آگ جلانا، گیلے جنگل میں خشک لکڑی کا حصول، آتشیں اسلحے کے بناء جنگلی جانوروں کا شکار کرنا، دھاتی برتنوں کے بغیر چائے بنانا، نمک کا متبادل، سانپ کے کاٹے، زخموں اور پیٹ خرابی کا علاج کیسے کرنا ہے۔ اس کے علاوہ جنگل میں جنگلی حیات کو چھیڑے بغیر کیسے تندرست رہنا ہے۔ یہ سب اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ جو ہم نے ہندوستان کے پہاڑوں اور میدانوں سے لے کر برطانیہ، ریاست ہائے متحدہ امریکا سے لے کر کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور دیگر جگہوں پر ایک ساتھ سیکھا تھا۔ تاہم یہ سب سیکھنے کا مقصد جنگل میں بقیہ زندگی گذارنا نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد آپ کو جنگل میں محفوظ طریقے سے کچھ عرصہ گذارنے اور دشمنوں کو یہ بتانا ہے کہ آپ ان سے بہتر ہیں۔ تاہم اس دوران میں ہم نے جو کچھ بھی سیکھا ہے، وہ محض ابتداء ہی ہے، کیونکہ کتابِ قدرت کا نہ تو کوئی آغاز ہے اور نہ ہی کوئی انجام۔

ابھی کافی وقت باقی ہے۔ اب ہم پہاڑ پر اتنی بلندی پر پہنچ گئے ہیں کہ نباتات بدل گئی ہیں۔ جگہ جگہ انجیر اور آلو بخارے کے درخت موجود ہیں اور ان پر کئی اقسام کے پرندے موجود ہیں۔ آئیے اس بڑی چونچ والے ہارن بِل کو دیکھتے ہیں۔ ہارن بِل اپنے گھونسلے کھوکھلے درختوں میں بناتے ہیں اور انڈے سینے کے اوقات میں اپنی مادہ کو گھونسلے کے اندر قید کر دیتے ہیں۔ مادہ اپنے پرانے پر جھاڑ دیتی ہے اور بہت موٹی ہو جاتی ہے۔ جب انڈوں سے بچے نکلتے ہیں، جو عموماً دو ہوتے ہیں، تو مادہ اڑنے کے قابل نہیں ہوتی۔ مادہ عموماً دو انڈے دیتی ہے۔ نر کا کام بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ اسے پورے خاندان کو کھانا پہنچانا ہوتا ہے۔ ہارن بِل کی چونچ بہت بڑی اور آواز بھی اسی مناسبت سے اونچی ہوتی ہے۔ اڑنے میں پیش آنے والی مشکلات سے ایسا لگتا ہے کہ ہارن بِل ارتقاء کے کچھ مراحل سے نہیں گزر پایا۔ عرصہ دراز قبل شاید ہارن بِل کے دشمن بہت ہوتے تھے، اس لیے وہ اپنی مادہ کو درخت میں قید کر کے مٹی سے سوراخ بند کر دیتا ہے۔ محض اتنی سی جِھری باقی رہتی ہے کہ مادہ اپنی چونچ سے نر سے خوراک وصول کر سکے۔ تاہم تمام پرندے جو کھوکھلے درختوں میں رہتے ہیں، کے دشمن ایک جیسے ہیں۔ ان میں سے بہت سارے پرندے تو چھوٹے اور بے بس بھی ہوتے ہیں لیکن وہ اپنی ماداؤں کو قید نہیں کرتے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی طاقتور اور بڑی چونچ کے باوجود ہارن بِل اپنی مادہ کو درخت میں کیوں قید کرتا ہے؟ اس کے علاوہ ہارن بِل کی ایک اور عادت بھی ہے جو کسی اور پرندے میں نہیں پائی جاتی۔ یہ اپنے پروں پر رنگ بکھیرتا ہے۔ پیلا رنگ اس کی دم کے اوپر ایک تھیلی نما جھلی میں ہوتا ہے اور ہارن بل اپنے پروں کے بیرونی کنارے پر موجود سفید پٹی پر اپنی چونچ سے بکھیرتا ہے۔ اب ہارن بِل ایسا رنگ کیوں ڈالتا ہے جو ہر بار بارش کے بعد دھل جائے؟ شاید کیموفلاج کی وجہ سے ایسا کرتا ہو؟ تاہم موجودہ دور میں ہارن بل کے لیے خطرہ صرف تیندوے سے ہی ہوتا ہے اور تیندوے کے سامنے اس کیموفلاج کی کوئی حیثیت نہیں۔

ہارن بِل کے علاوہ بھی کئی اقسام کے پرندے انجیر اور آلو بخارے کھا رہے ہیں۔ ان میں دو اقسام کے ہریل، بلبل، طوطے اور کئی اقسام کی چڑیاں ہیں۔

انجیر کے درخت کے پاس سے فائر ٹریک گذرتا ہے اور اسے عبور کرتے ہی جنگلی جانوروں کی ایک گذرگاہ سامنے آتی ہے۔ یہ گذرگاہ سیدھا پہاڑی کو جاتی ہے جہاں نمک ملتا ہے (جنگل میں ایسی جگہ کو چاٹن کہتے ہیں) اور پانی کا ایک مختصر سا چشمہ بھی ہے۔ چشمے اور نمک کے درمیان میں ایک کٹا ہوا درخت ہے۔ اس درخت پر بہت عرصے تک چور شکاری مچانیں باندھ کر شکار کرتے رہے تھے۔ چاٹن اور پانی کے پاس بیٹھ کر شکار کرنا منع ہوتا ہے لیکن چور شکاری اس کی پروا نہیں کرتے۔ بار بار مچان اتارنے سے فرق نہیں پڑا تو میں نے درخت ہی کٹوا دیا تھا۔ تاہم درندے شکار کے سلسلے میں اس بات کی پروا نہیں کرتے اور انہیں زیادہ تر شکار ملتا ہی چاٹن اور پانی کے قریب ہے۔ ایسی جگہوں پر آپ کو مختلف مردہ جانوروں کی ادھ کھائی ہڈیاں اور سینگ ملیں گے جو سیہی چھوڑ جاتی ہے۔ چاٹن اور پانی کے آس پاس گھنا جنگل ہوتا ہے جہاں بندر اور ہرن رہتے ہیں۔

آئیے اب پہاڑی پر چڑھتے ہیں جو چاٹن کے بعد سے بلند ہونا شروع ہوتی ہے تاکہ پورے علاقے پر طائرانہ نگاہ ڈالیں۔ ہمارے سامنے موجود جنگل میں وہ نہر موجود ہے جہاں سے ہماری مٹرگشت شروع ہوئی تھی۔ یہ جنگل قدرتی ہے اور اس میں لکڑی بیکار نوعیت کی ہے اور اسی وجہ سے یہ انسانی دست و برد سے محفوظ رہا ہے۔ سامنے موجود سبز دھبے شیشم کے پودے ہیں جن کے بیج سیلاب میں بہہ کر یہاں تک پہنچے تھے۔ جب یہ پودے جوان درخت بنیں گے تو ان سے بیل گاڑی کے بہترین پہیئے اور عمدہ فرنیچر بنے گا۔ گہرے سبز رنگ کے دھبے رونی کے درخت ہیں جن کے نیچے رس بھری کی جھاڑیاں موجود ہیں۔ ان درختوں کے پھل سے کمالا پاؤڈر بنتا ہے جو ریاست ہائے متحدہ امریکا میں مکھن رنگنے کے کام آتا تھا۔ یہ پاؤڈر مختلف ادویات میں بھی کام آتا ہے اور جب رونی کے پھل کو سرسوں کے تیل میں ابالتے ہیں، تو یہ تیل گٹھیا کے مرض میں مفید ہے۔

شیشم اور رونی کے درختوں کے ساتھ ساتھ ملائم پتوں والے کھیر کے درخت بھی ہیں۔ اس درخت کی لکڑی سے ہل بھی بنتا ہے اور علاقے کے ہزاروں غریب افراد کو روزی کمانے کا وسیلہ بھی مہیا کرتا ہے۔ تاہم یہ صنعت محض سرمائی ہے اور کاجو پیدا کرتی ہے اور چار ماہ کام کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اضافی پیداوار کے طور پر خاکی رنگ بھی پیدا ہوتا ہے جو میرے علم کے مطابق میرے دوست مرزا نامی ایک شخص نے اتفاقاً دریافت کیا تھا۔ سنا ہے کہ ایک دن کھیر کے ابلتے ہوئے کڑہاؤ میں مرزا کا سفید رومال گر گیا۔ لکڑی سے اس نے رومال نکال کر دھلنے بھیجا تو واپسی پر رنگ جوں کا توں ملا۔ جب اس نے دھوبی کو بلا کر ڈانٹا تو دھوبی نے ہاتھ جوڑے کہ اس نے ہر ممکن طریقے سے رنگ اتارنے کی کوشش کی ہے لیکن ناکام رہا۔ اب یہ رنگ عزت نگر کی فیکٹری میں بنتا ہے اور مرزا دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔

سبز رنگ کے کئی شیڈز کے ساتھ ساتھ ہر درخت کا اپنا رنگ ہے۔ سبز کے علاوہ نارنجی، سنہرے، سفید، گلابی اور لال رنگ کے درخت بھی دکھائی دیتے ہیں۔ مالٹائی رنگ والے پھولوں کا درخت دھنک ہے۔ تین فٹ لمبے سنہرے پھولوں والا درخت املتاس کا ہے۔ دو فٹ لمبی املتاس کی پھلیوں میں نرم گودا ہوتا ہے جو کماؤں کے علاقے میں قبض کشا کے طور پر جانا جاتا ہے۔ بڑے اور خوبصورت پھولوں والا درخت کچنار کا ہے۔ گلابی رنگ والے درخت کسم کے ہیں۔ گلابی رنگ پھولوں کی وجہ سے نہیں بلکہ کونپلوں کا ہے۔ سرخ رنگ کے درخت سیمل کے ہیں جس سے پرندے رس چوسنے آتے ہیں۔ طوطے اور بندر اس کے پھول کھاتے ہیں اور گرنے والے پھول بعد میں ہرنوں اور سوروں کی خوراک بنتے ہیں۔ بعد میں پھولوں کی جگہ بیجوں بھری پھلیاں بن جائیں گی۔ اپریل میں گرم ہوا لگنے سے جب یہ پھلیاں پھٹیں گی تو اس سے سفید کاٹن کے بادل نکلیں گے اور ہوا کے ساتھ ساتھ اڑتے ہوئے دور دور جا گریں گے۔ چونکہ ہر بیج پرندوں اور جانوروں کی مدد سے ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں پہنچ سکتا، اس لیے ان میں مختلف اقسام کے پر وغیرہ لگے ہوتے ہیں جو پانی یا ہوا کی مدد سے انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتے ہیں۔

نہر سے آگے ہمارا گاؤں ہے جہاں سے ہمارا سفر شروع ہوا تھا۔ شوخ سبز اور سنہرے دھبے کھیتوں میں اگتی گندم اور جوان سرسوں کے ہیں۔ گاؤں کے نیچے سفید لکیر گاؤں کی دیوار کو ظاہر کرتی ہے۔ اس دیوار کو تعمیر کرنے پر دس سال لگے تھے۔ اس کے بعد پھر مسلسل گھنے جنگلوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جو افق کے پار تک چلا جاتا ہے۔ مشرق سے مغرب تک، تاحدِ گاہ جنگلات پھیلے ہوئے ہیں۔ ہمارے پیچھے اونچی ہوتی ہوئی پہاڑیوں کا سلسلہ آخرکار مستقل برف پوش پہاڑوں تک جا پہنچتا ہے۔

ہمالیہ کے دامن میں اس خوبصورت اور پرسکون جگہ جہاں ہم بیٹھے ہیں، کے ہر طرف جنگل پر بہار چھائی ہے۔ ہوا کے ہر جھونکے کے ساتھ مختلف پھولوں کی خوشبو آتی ہے۔ ہر جگہ پرندے چہچہا رہے ہیں۔ یہاں بیٹھ کر ہمیں دنیا کے غم اور فکریں بھول جاتی ہیں۔ یہاں جنگل کا قانون ہے جو انسان کے بنائے ہوئے قوانین سے کہیں بہتر اور کہیں قدیم ہے۔ یہ قانون ہر جاندار کو اپنی زندگی گذارنے کے پورے مواقع دیتا ہے اور مستقبل کی کوئی فکر نہیں دیتا۔ ہر جاندار کے لیے بے شک خطرات ہر جگہ موجود ہیں لیکن ان سے زندگی کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔ ہر جاندار خبردار اور محتاط رہتا ہے لیکن اس سے زندگی کی خوشیاں کم نہیں ہوتیں۔ یہاں ہمارے آس پاس خوشیاں بکھری ہیں۔ یہاں ہم ہر آواز کو سن کر اس کے مقام، جانور یا پرندے کی شناخت اور اس آواز کی وجہ جاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہمارے بائیں جانب مور کی ملاپ کے لیے آواز آ رہی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مور نے رقص شروع کر دیا ہے اور دم کے لمبے پر پھیلائے ہوئے ہے تاکہ مادائیں متائثر ہوں۔ اس سے نزدیک جنگلی مرغ کی آواز آ رہی ہے جس کا ساتھ دینے کو دیگر جنگلی مرغ بھی بولنے لگ گئے ہیں۔ تاہم ان کی لڑائی کے امکانات کم ہیں کیونکہ جنگل میں لڑائی کا مطلب خطرات کا بڑھنا ہوتا ہے۔ ہمارے دائیں جانب سے نر سانبھر کی آواز جنگل کے باسیوں کو اس تیندوے کے بارے بتا رہی ہے جو اس وقت مزے سے کھلے میں لیٹا دھوپ سینک رہا ہے۔ اسی تیندوے کو ہم نے لگ بھگ گھنٹہ قبل دیکھا تھا۔ سانبھر اس وقت تک چپ نہیں کرے گا جب تک تیندوا اٹھ کر گھنے جنگل میں نہ روپوش ہو جائے۔ ہمارے نیچے بلبلیں اور کئی دیگر پرندے ایک الو کے بچے کو اونگھتا دیکھ کر دوسرے پرندوں کو بتا رہے ہیں کہ یہاں خطرہ ہے۔ اگرچہ انہیں بخوبی علم ہے کہ پاس بیٹھا الو کا بچہ ان کے لیے کوئی خطرہ نہیں بن سکتا کیونکہ نابالغ الو شاذ ہی دن میں شکار کی ہمت کرتے ہیں۔ اسی طرح الو کے بچے کو بھی علم ہے کہ یہ پرندے چاہے جتنا شور مچا لیں، اس کے لیے کوئی خطرہ نہیں بن سکتے۔ جب تھک جائیں گے تو اسے سوتا چھوڑ کر آگے بڑھ جائیں گے۔ ہمارے اردگرد ہر طرف سے آوازیں آ رہی ہیں اور ہر آواز کا کوئی نہ کوئی مقصد ہے۔ ادھر کٹھ پھوڑے کی آواز آ رہی ہے جو درخت میں سوراخ کر رہا ہے تو دوسری طرف نر چیتل دوسرے نر کو دعوتِ مبارزت دے رہا ہے۔ اوپر آسمان سے سرپنٹ ایگل کی آواز آ رہی ہے۔ مزید اوپر گدھ کسی مردار کی تلاش میں اڑ رہے ہیں۔ کل انہیں پہلے کوؤں اور پھر میگ پائیوں نے بتایا تھا کہ شیر کا شکار کردہ جانور اُس جھاڑی میں پوشیدہ ہے جہاں مور ناچ رہا ہے۔ آج وہ مزید خوراک کی تلاش میں ہیں۔

اپنے دوست کے ساتھ یہاں بیٹھ کر آپ کو احساس ہوتا ہے کہ جنگل کی زبان جاننا کتنا مفید ہے اور اس سے آپ کو کتنا اعتماد ملا ہے۔ اسی وجہ سے جنگل سے آپ کو اب کوئی ڈر نہیں کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ جنگل میں آپ محفوظ ہیں۔ اگر آپ کو کبھی جنگل میں قیام کرنا پڑے تو آپ کو پتہ ہے کہ آپ بلا خوف و خطر کہیں بھی لیٹ یا سو سکتے ہیں۔ آپ کے پاس سمتوں کو جاننے کا علم ہے اور ہر وقت ہوا کے رخ کا خیال بھی رکھتے ہیں اور اب چاہے دن ہو یا رات، جنگل میں آپ کبھی بھی راستہ نہیں بھولیں گے۔ شروع میں 180 درجے کی بصارت کتنی مشکل لگتی تھی اور اب اس زاویے میں ہونے والی ہر حرکت آپ کو دکھائی دیتی ہے۔ جنگلی جانوروں کی آواز سمجھنے کی صلاحیت کی وجہ سے آپ اب جانوروں کی زندگی میں داخل ہو سکتے ہیں۔ کسی بھی آواز کے مقام کی نشاندہی کرنا، بالکل درست نشانہ لگانا بھی آپ کو آ گیا ہے۔ اگر کبھی جنگل میں آپ کو دشمن کا سامنا کرنا پڑا تو آپ کامیاب رہیں گے کیونکہ آپ نے جنگل کی زبان سیکھی ہوئی ہے اور آپ کو اس سے نہیں بلکہ دشمن کو آپ سے ڈرنا چاہیے۔

اب ہمیں واپس جانا چاہیے کہ میگی ناشتے پر ہماری منتظر ہوگی۔ واپسی کے لیے ہم اسی رستے پر جاتے ہیں جہاں سے آئے تھے اور ہمارے ہاتھ میں درخت کی ایک شاخ ہے جس سے ہم اپنے اور دیگر تمام جانوروں کے پگ مٹاتے جاتے ہیں۔ اگلی بار جب ہم آئیں گے تو ہر نشان نیا ہوگا۔