اللہ (کتاب)/واقعہ ذبح اسماعیل یا اسحاق

ویکی کتب سے
Jump to navigation Jump to search

واقعہ ذبح اسماعیل یا اسحاق
تحریر:محمد اکبر ”اے رب میرے بخش مجھ کو اولاد صالحوں میں سے٭ پس بشارت دی ہم نے اس کو ساتھ ایک لڑکے تحمل والے کے٭ پس جس وقت پہنچا ساتھ اس کے دوڑنے کو کہا اے چھوٹے بیٹے میرے تحقیق میں دیکھتا ہوں بیچ خواب کے کہ تحقیق میں ذبح کرتا ہوں تجھ کو پس دیکھ کیا دیکھتا ہے تو کہا اے باپ میرے کر جو کچھ حکم کیا جاتاہے تو شتاب پاوے گا تومجھ کو اگر چاہا اللہ نے صبر کرنے والوں سے٭ پس جب مطیع ہوئے دونوں حکم الٰہی کے پچھاڑ اس کو ماتھے پر٭ اور پکارا ہم نے اس کو اے ابراہیم ٭تحقیق سچ کیا تو نے خواب کو تحقیق ہم اسی طرح جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو٭ تحقیق یہ با ت وہی ہے آزمائش ظاہر٭ اور چھٹا لیا ہم نے اس کو بدلے قربانی بڑی کے٭ اور چھوڑا ہم نے اوپر اس کے بیچ پچھلوں کے٭ سلامتی ہوجیو اوپر ابراہیم کے ٭اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم احسان کر نے والوں کو٭ تحقیق وہ بندوں ہمارے ایمان والوں سے تھا٭ اور بشارت دی ہم نے اس کو ساتھ اسحاق کے جو نبی تھا صالحوں سے ٭اور برکت دی ہم نے اوپر اس کے اور اوپر اسحاق کے اور اولاد ان دونوں کی سے احسان کرنے والے بھی ہیں اور ظلم کرنے والے بھی ہیں اپنی جان پر ظاہر٭“ (سورۃ الصافات / 37 : 100 تا 113) ذبح سے متعلق اختلاف پایا جاتاہے۔ بائبل میں حضرت اسحاق علیہ السلام کا نام لکھا ہے۔ ”پیدائش:باب22 : 2۔تب اُس نے کہا کہ تُو اپنے بیٹے اضحاق کو جو تیرا اکلوتا ہے اور جسے تُو پیار کرتا ہے ساتھ لیکر موریاہ کے ملک میں جا اور وہاں اُسے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ پر جو میں تجھے بتاؤنگا سوختنی قربانی کے طور پر چڑھا“ ”عِبرانیوں: باب 11: 17۔اِیمان ہی سے ابرہام نے آزمایش کے وقت اِضحاق کونذر گْذرانا اور جِس نے وعدوں کو سَچ مان لِیا تھا وہ اْس اِکلوتے کو نذر کرنے لگا“ مسلمان علماء حضرت اسماعیل علیہ السلام سے منسوب کرتے ہیں۔ تفسیر ابن کثیر میں بھی اس بارے میں چپقلش پائی گئی ہے کہ کچھ صحابہ کرام نے بھی حضرت اسحاق علیہ السلام کہا۔ اصل حقیقت اللہ تعالیٰ کی اللہ جانے۔ شاہ رفیع الدین نے ترجمے میں اسے چھوٹے بیٹے لکھا ہے چھوٹا بیٹا تو حضرت اسحاق علیہ السلام تھے اور ان آیات میں ذکر حضرت اسحاق علیہ السلام کا ہے ۔ توجہ: حضرت اسماعیل علیہ السلام اماں حاجرہ سے پیدا ہوئے تھے جو لونڈی (غلام ) تھیں جبکہ حضرت اسحاق علیہ السلام حضرت ساحرہ بی بی سے تھے۔ ”گلتیوں: باب 4 : 22۔ یہ لکھا ہے کہ ابرہام کے دو بیٹے تھے۔ ایک لونڈی سے۔ دوسرا آزاد سے“ حقیقی وارث اولاد او ر غلام اولاد سے محبت میں فرق ہوتا ہے۔ امتحان حقیقی اولاد کے بارے میں ہو گا یا غلام کے بارے میں۔ بہرحال اس واقعہ سے سبق دیا گیا ہے۔ کہ قربانی (صدقہ) موت کو ٹال دیتی ہے۔ یہ قربانی کرنا نوری عملیات میں سے بہت بڑا عمل ہے۔