اللہ (کتاب)/سورۃ القدر

ویکی کتب سے
Jump to navigation Jump to search

سورۃ القدر

تحریر: محمد اکبر
’’ تحقیق نازل کیا ہم نے اس ( قرآن ) کو بیچ رات قدر کے٭اور کیا جانے تو کیا ہے رات قدر کی٭ رات قدر کی بہتر ہے ہزار مہینے سے٭ اترتے ہیں فرشتے اور روح پاک بیچ اس کے ساتھ حکم پروردگار اپنے کے واسطے ہر کام کے ٭ سلامتی ہے وہ یہاں تک کہ طلوع ہو فجر٭ ” (سورۃ القدر / 97 : 1تا5)

قدر کی رات لیلۃالقدر[ترمیم]

حدیثوں سے ظاہر ہے کہ یہ رات ماہ رمضان شریف کے آخری دہے (دہائی) میں آتی ہے اور اس بات کا ثبوت قرآن پاک میں بھی ہے کہ فرمایا گیا ’’قسم ہے فجر کی٭ اور راتوں دس کی٭ اور جفت کی اور طاق کی٭ اور رات کی جب چلنے لگے ‘‘ (سورۃ الفجر / 1:89تا 4) قرآن پاک کی ان آیات میں بھی سارا ذکر قدر کی رات کا ہے کہ فجر کا ذکر آیا ، دس راتوں کا ذکر آیا جو رمضان شریف کا آخری دہا (دہائی / عشرہ)ہے اور جفت اور طاق کا ذکر بتلا رہا ہے کہ وہ رات جفت رات یا طاق راتوں کا پابندنہیں ہے کوئی بھی رات قدرکی ہو سکتی ہے چاہے وہ جفت رات ہو یا طاق ۔ توجہ: ایسا مشاہدہ دیکھنے میں آتا ہے کہ جب سعودی عرب میں چاند نظر آجاتاہے تو مشرق میں پاکستان میں چاند اگلے دن نظرا ٓتا ہے ۔اس طریقے سے رات ایک ہی چلتی ہے اگر سعودی عرب میں طاق رات ہو گی تو پاکستا ن میں ( اگر اگلے دن چاند نظر آیا ہو ) وہ رات جفت ہو گی ۔اگر قدر کی رات سعودی عرب میں طاق رات میں آئے گی تو پاکستان میں جفت رات میں آئے گی اس لیے اللہ تعالیٰ دس راتوں کے ساتھ جفت اور طاق بھی کہا “اور رات کی جب چلنے لگے”سے مراد رات کے آخری حصہ تک ۔ لیکن توجہ سورۃ القدر کی اس آیت کی طرف “اترتے ہیں فرشتے اور روح پاک بیچ اس کے ٭ساتھ حکم پروردگار اپنے کے واسطے ہر کام کے” الفاظ “مِّن کُلِّ أَمْرٍ” واسطے ہر کام کے مطلب یہ کہ تمام کام کے لیے اس رات یعنی قدر کی رات حکم دئیے جاتے ہیں اور لکھے جاتے ہیں وغیرہ یہ کُلِّ أَمْر واسطے ہر کام کے۔ یہ ہر کام کون کون سے ہیں؟ جب واسطے ہر کام کا الفاظ آئے تو پوچھنے کی ضرورت نہیں کہ تمام کام آگئے زندگی کے موت کے رزق کے روزی کے وغیرہ۔ توجہ: جب ہر کام کا حکم اس رات دے دیا گیا تو پھر کسی اور رات کے لیے کوئی بھی کام نہ بچا کہ کسی اور رات کے لیے بقایا بچایا گیا ہو اور یہ کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ذریعے احکام پرعمل درآمد کرا رہا ہے اور سورۃ القدر میں اس آیت میں فرما یا کہ “ اترتے ہیں فرشتے اور روح پاک بیچ اس کے ” یہ الفاظ ثابت کر رہے ہیں کہ واقعی اسی رات فرشتوں کو تمام کام احکام بتلا دئیے جا تے ہیں زندگی دینے کے ، موت کے، روزی کے، رزق کے اور اس کے علاوہ اور کوئی رات نہیں کہ جس میں یہ کام ہو اگر دوسری راتوں میں اسی قسم کے احکام دئیے جاتے تو پھر یہ رات افضل نہ ہوتی ۔