اشعث ابن قیس کندی

ویکی کتب سے
Jump to navigation Jump to search

اشعث ابنِ قیس کندی

               اس کا اصل نام معد یکرب اور کنیت ابو محمد ہے . مگر اپنے بالوں کی پراگندگی کی وجہ سے اشعث(پراگندہ مُو) کے لقب سے زیادہ مشہور ہے . جب بعثت کے بعد یہ اپنے قبیلہ سمیت مکہ آیا تو پیغمبر نے اسے اور اسکے قبیلہ کو اسلام کی دعوت دی. لیکن یہ سب منہ موڑ کر چلتےبنے . اور ایک بھی اسلام قبول کرنے کے لئے آمادہ نہ ہوا. اور جب ہجرت کے بعد اسلام کے قدم جم گئے اور اس کا پرچم لہرانے لگا اور اطراف و جوانب کے وفد جوق در جوق مدینہ آنا شروع ہوئے تو یہ بھی بنی کندہ کے ایک وفد کے ہمراہ پیغمبر کی خدمت میں آیا اور اسلام قبول کیا. صاحبِ استیعاب لکھتے ہیں کہ یہ پیغمبر اسلام کے بعد مرتد ہو گیا اور حضرت ابو بکر کے زمانہ خلافت میں کہ جب اسے اسیر کر کے مدینہ لایا گیا تو دوبارہ اس نے اسلام قبول کیا۔ حضرت ابو بکر نے اسے رہا کر دیا اور اسی موقع پر ام فروہ سے اس کا عقد ہوا.مگر اس وقت بھی اس کا اسلام صرف دکھاوے کا تھا. چنانچہ شیخ محمد عبدہ نے حاشیہ نہج البلاغہ پر تحریر کیا ہے کہ جس طرح عبداللہ ابنِ ابی ابنِ سلول اصحاب ُ رسول میں تھا. ویسا ہی اشعث علی ابنِ ابی طالب کی جماعت میں تھا اور یہ دونوں اپنے اپنے عہد میں چوٹی کے منافق تھے
                         شبِ ضرب ابن ملجم اشعث ابنِ قیس کے پاس آیا اور دونوں علٰیحدگی میں مسجد کے ایک گوشہ میں جا کر بیٹھ گئے . کہ اُدھر سے حجر ابن عد ی کا گزر ہوا, تو انہوں نے سنا کہ اشعث ابن ملجم سے کہہ رہا ہے کہ بس اب جلدی کرو, ورنہ َو پھوٹ کر تمہیں رسوا کر دے گی. حجر نے یہ سنا تو اشعث سے کہا کہ اے کانے تو علی کے قتل کا سروسامان کر رہا ہے اور پھر تیزی سے علی ابن ابی طالب کی طرف گئے. مگر جب امیر المومنین علیہ السّلام کو نہ پا کرپلٹے تو ابنِ ملجم اپنا کام کر چکا تھا , اور لوگ کہہ رہے تھے کہ امیر المومنین قتل کر دیے گئے.
                       ا س کی بیٹی جعدہ نے حضرت امام حسن علیہ السّلام کو زہر دے کر ان کی زندگی کا خاتمہ کر دیا تھا. چنانچہ مام جعفر صادق سے روایت ہے کہ امام حسن اپنے اہلبیت سے فرمایا کرتے تھے کہ میں بھی زہر سے اسی طرح شہید کیا جاؤں گا جس طرح رسول ِ خدا ۔ لوگوں نے پوچھا ایسا کام کون کرے گا ۔آپ نے فرمایا میری زوجہ جعدہ بنت اشعث بن قیس۔معاویہ اس کے پاس پوشیدہ طریقے سے زہر بھجوائے گا اور حکم دے گا کہ وہ مجھ کو کھلا دے۔(جلاءالعیون ۔قطب راوندی)جعدہ سے یہ معاویہ نے وعدہ کیا تھا کہ تجھ کو ایک لاکھ درہم دوں گا اور اپنے بیٹے یزید سے تیری شادی کر دوں گا۔ (مروج الذہب مسعودی)                               
                        مسعودی نے لکھا ہے کہ :.  اپ کی زوجہ جعدہ بنت اشعث کندی نے آپ کو زہر دیا اور معاویہ نے اس سے یہ ساز باز کی تھی کہ اگر تم کسی طریقہ سے حسن ؑکو زہر دے دو. تو میں تمہیں ایک لاکھ درہم دوں گا اور یزید سے تمہارا عقد کر دوں گا.