عارف نامہ

وکی کتب سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

mansoor afaq[ترمیم]


تحریر

منصور آفاق

سیدپیرمعروف حسین نوشاہی کی سرگزشت



 

دیباچہ


میں نے جب اپنے ایک دوست سے یہ کتاب لکھنے کا وعدہ کیا تھا تو یہ بات طے پائی تھی کہ اس کے سرورق پر میرا نام نہیں ہو گالیکن جب میں نے کام کیا تو میں نے کہاکہ مجھے اس کتاب کے سرورق پر اپنا نام لکھتے ہوئے فخر محسوس ہو گاکیونکہ یہ ایک ایسی شخصیت کی سرگزشت ہے جس نے صدیوں بعد مغرب کے گلیوں میں محمدالرسول اللہ کا ورد کیا ہے اور کرایا ہے، مادیت پرست معاشرے کی بدبوداراور گھٹاٹوپ تاریکیوں میںروشنی اور خوشبو کی ترسیل کی ہے۔
جل رہے ہیں ہر طرف عشقِ محمد (ص) کے چراغ
کس کی لو میں اتنی روشنی تھی ، نور تھا
میں جب پہلی بار اپنے اخبارکے انٹرویو کے لیے پیر سید معروف حسین شاہ نوشاہی کے پاس گیاتھاتومجھے حیرت سے دوچار ہونا پڑا تھا۔اٹھارہ ساوتھ فیلڈ اسکوائرکوئی ایسی جگہ نہیں تھی جو کسی پیر کی رہائش کے لیے موزوں کہی جا سکے وہاں تو کسی مل کے مزدور کا مکان ہو سکتا ہے۔ میں جب مکان کے اندر داخل ہوا تو چھوٹے سے ایک کمرے پیر صاحب زمین پر بیٹھے ہوئے کوئی کام کر رہے تھے۔ ان کے سامنے بہت سے فائلیں پڑی ہوئی تھیں ۔میں نے غور سے کمرے کا جائزہ لیا تووہ کمرہ اتنا چھوٹا تھا کہ چھوٹی چھوٹی دو سیٹوں کے رکھ دینے کے بعدوہاں کوئی اور فرنیچر شاید ڈھنگ سے نہیںرکھا جا سکتا تھا۔ اسی کے اندر ایک طرف سنیک بھی لگا ہوا تھا ۔سیٹوں کی حالت یہ بتاتی تھی کہ شاید پیر صاحب نے اپنی جوانی کے دنوںمیں خریدی تھیں کیونکہ وہ بھی پیر صاحب کے ساتھ ساتھ اب بوڑھی ہو چکی تھیں۔ایک میز بھی پڑی تھی جس پرایک بار استعمال کیے جانے والے کچھ کاغذی برتن پڑے ہوئے تھے ۔پرانے زمانے کا گیس ہیٹر جل رہا تھا۔ سنٹرل ہیٹنگ کی کوئی لوہے کی دوہری چادر کسی دیوار کے ساتھ لگی ہوئی نہیں دکھائی دے رہی تھی ۔دیواروں پر سلسلہ ئ نوشاہیہ کے شجرے اور اشتہار لگے ہوئے تھے ، کچھ تصویروں کے فریم بھی تھے ۔دیواروں کا وال پیپر صاف ستھرا تھا مگر بہت پرانے زمانے کے ڈیزائن کا تھا ۔

کارپٹ پر بیٹھ کر کام کرتے ہوئے شخص نے عینک لگا رکھی تھی۔ عام سی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی۔ عینک کے پیچھے چمکتی ہوئی متحرک آنکھوں سے ذہانت سے بھری ہوئی معاملہ فہمی ٹپک رہی تھی۔ کھردرے ہاتھ اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ انہوں نے زندگی بھر مشکل کام کیے ہیں۔وہ جب وہاں سے اٹھے تو معلوم ہوا کہ دراز قد آدمی ہیںاو ربدن قامت کے اعتبار سے متناسب ہے۔چہرے پر اطمینان تھا۔پیشانی کشادہ تھی۔پیچھے سے بال سلامت اور مائل بہ درازی تھے۔ انہیں دیکھ کر احساس ہوتا تھا کہ ان کا تعلق ضرور کسی گائوں سے ہے اورانہیں بچپن اور لڑکپن میں گائوں کی صاف ستھری ہوا اور بکریوں کا دودھ میسر آیا ہے ۔

میں جب ان کا انٹرویو لینے کے لیے دفتر سے نکل رہا تھا تو میں نے اپنے ایک اخبار کے ساتھی سے ان کے متعلق پوچھا تھا تواس کے چہرے پر کوئی اچھے تاثرات نہیں آئے تھے اور اس نے اپنی چند لفظی گفتگو میں مجھے یہ سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ اس شخص کے انٹرویو کی کوئی ضرورت نہیں ،لیکن اس شخص سے زیادہ یقین مجھے ظفربھائی ﴿ظفرتنویر ﴾ پر تھا جنہوں نے ان کے متعلق کہا تھا کہ میں ان کا بہت احترام کرتا ہوں کیونکہ انہوں نے تمام زندگی رات کی شفٹ میں کام کیا ہے اور دن کو اسلام کی تبلیغ کی ہے ۔پھر بھی میرا خیال تھا کہ پیر تو پیر ہوتے ہیں ۔مریدوں کے نذرانوں پراونچے اونچے محل تعمیر کرنے والے پیربقول اقبال

ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی



گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن

لیکن یہ شخصیت ویسی نہیں تھی جن کے ساتھ برسوں سے واسطہ پڑتا چلا آرہا تھا پھر ان کے ساتھ گفتگو سے اس بات کا احساس بھی ہوا کہ پیر صاحب خاصے پڑھے لکھے آدمی ہیں۔ فارسی اور پنجابی زبان میں شعربھی کہتے ہیں۔ فارسی سے تو میری کچھ زیادہ شدبد نہیں ہے مگر پنجابی زبان کے اسرارو رموز جاننے کا تو مجھے بھی دعویٰ ہے سو میں نے ان کی پنجابی شاعری میں دلچسپی لی اور وہ مجھے اتنی پسند آئی کہ میںنے ان کی پنجابی شاعری کے اردو زبان میں منظوم تراجم بھی کیے جو بہت جلد کتابی صورت میں شایع ہونے والے ہیں۔ پیر صاحب سے دوسری ملاقات ایک مشاعرے کے سلسلے میں ہوئی ۔میں نے پیر صاحب کو اس مشاعرہ کی صدارت کے لیے درخواست کی جو انہوں نے قبول کر لی۔ مشاعرہ سے دودن پہلے مجھے پیر صاحب کا فون آیا کہ میں مشاعرہ میں شریک نہیں ہو سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ دوستوں نے اس مشاعرہ کو ایک سیاسی اشو بنا لیا ہے کیونکہ کچھ دنوں کے بعد برطانیہ میں نیشنل اسمبلی کے انتخابات ہورہے ہیں ۔دوستوں کا یہ خیال ہے کہ یہ مشاعرہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور وہاں لیبر پارٹی کے امیدوار مارشا سنگھ سے میری ملاقات ہونی ہے۔ میں نے ان سے پو چھا آپ کا اپنا کیا خیال ہے تو انہوں نے کہا مجھے پورا یقین ہے کہ یہ سب غلط فہمی ہے مگر وقت کم ہے اور میں یہ غلط فہمی دور نہیں کر سکتا۔ اس لیے مناسب یہی سمجھتا ہوں کہ میں مشاعرہ میں نہ آئوں تاکہ کسی دوست کا دل نہ دکھے۔ میں شاعر ہوں مجھے مشاعرہ میں شریک ہونا اچھا لگتا ہے لیکن کیا میں دوستوں کے لیے اتنی قربانی نہیں دے سکتا اور مجھے پیر صاحب اور زیادہ بڑے آدمی محسوس ہوئے۔

پیر صاحب سے تیسری ملاقات اس وقت ہوئی جب میں نماز کے حوالے سے ایک ڈاکومینٹری فلم بنا رہا تھا ۔میں نے اس سلسلے میں پیر صاحب سے مدد کی درخوست کی تو انہوں نے بریڈ فورڈ کے تمام علمائے کرام کو کہا کہ مجھے اس ڈاکومینٹری کے سلسلے میں جس قسم کی کوئی مدد کی ضرورت پڑے، وہ میرے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور یوں پیر صاحب کے تعاون سے میں وہ ڈاکومینٹری بنانے میں کامیاب ہوا۔اس ڈاکومینٹری کا انتساب بھی میں نے پیر صاحب کے نام کیا تھا۔

پیر صاحب سے چوتھی ملاقات ان دنوں ہوئی جب پاکستان کے ممتاز موسیقار میاں شہر یار بریڈفورڈ میں میرے پاس آئے ہوئے تھے۔ میں نے انہیں جب پیر صاحب کا عارفانہ کلام سنایا تو انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ میں اس کلام کا ایک آڈیو کیسٹ تیار کرنا چاہتا ہوں سو اس کے لیے پیر صاحب کی اجازت ضروری تھی۔ میں انہیں ساتھ لے کر پیر صاحب کے پاس گیا۔ پیر صاحب نے بڑی خوش دلی سے اس بات کی اجازت دی۔ پیرصاحب کے عارفانہ کلام پر مشتمل وہ کیسٹ تیار ہو چکا ہے جس میں پاکستان کے نامور گلوکاروں نے پیر صاحب کے کلام کو سازو آواز کے ساتھ پیش کیا ہے۔

اس کے بعد اتفاقاً میری رہائش گاہ تبدیل ہو گئی اور میں نے پیر صاحب کے ساتھ والی گلی میں رہنا شروع کر دیا یوں پیر صاحب سے ملاقات کا سلسلہ اور بڑھتا چلا گیا ۔میں جس قدر پیر صاحب کے قریب ہوتا گیا وہ مجھے اس قدر زیادہ اچھے لگنے لگے، وگرنہ اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جب آدمی کسی شخصیت کے زیادہ قریب ہوتا ہے تو اس کے ظاہر و باطن کے تضادات دکھائی دینے لگتے ہیں اور آدمی اس سے متنفر ہوتا چلا جاتا ہے اور حافظ شیرازی کی طرح پکار اٹھتا ہے ،

واعظاں کیں جلوہ بر محراب و منبر می کنند


چوں بخلوت می رویدایںکار دیگر می کنند

اور پھر جب یہ کتاب لکھنے کے سلسلے میں مجھے پیر صاحب کے ماضی میں جھانکنے کا موقع ملاتو مجھے اس شخصیت کو زندگی میں اپنا رہنما ماننے میںکوئی تردد نہیں ہوا۔ان کی زندگی ایک جہدِ مسلسل سے عبارت ہے۔ ان کا ہرسانس اللہ کے نام کی روشنی سے بھرا ہوا ہے اور محمد(ص) کے لفظ کی رفعتوںسے سرفراز ہے۔ جوانی سے بڑھاپے تک ایک اضطراب افزائ تسلسل کے ساتھ وہ دیار مغرب میںدینِ مصطفی(ص) کی ترویج کے لیے کام کرتے رہے ہیں اور کبھی تھک کر نہیں بیٹھے ،کبھی سستائے نہیں ،کبھی اپنے پائوں کے تلووں سے خار چننے کے لیے کسی درخت کے نیچے نہیں رکے۔ مشرق کی تپتی ہوئی دھوپ ہو یا مغرب کی جمتی ہوئی برفاب ہوا، ان کا سفر جاری ہے بلکہ وہ تو غالب کی زبان میں ہمیشہ یہی کہتے ہوئے دکھائی دیئے کہ

ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں
جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر

اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جہاں ان سے محبت کرنے والوں کاجہاں آباد ہے، وہاں ان کے دشمن بھی کچھ کم نہیں لیکن ان تمام دشمنیوں کے پیچھے صرف اور صرف محبتِ رسول کا جذبہ کار فرما ہے ۔


منصورآفاق








تاریخ سا ز لمحو ں کی با ت



چین کے عظیم رہنما ما ئو زے تنگ نے ایک مختصر سی کہا نی لکھی تھی کہ ایک چینی مز دو ر نے اپنے مختصر سے کنبے کے لیے ایک کوٹھا بنایا۔ کو ٹھے کے مغر ب کی طر ف گھنا جنگل تھا ۔ اس لیے اُس نے کو ٹھے کا در وا زہ مشر ق کی طرف کھو لا ۔کو ٹھے کے آگے چھو ٹا سا صحن تھا ۔اب مصیبت یہ پیش آئی کہ مشر ق کی طر ف چٹا ن تھی جو دھو پ رو ک لیتی تھی۔ بیو ی نے کہا اب کیا کر و گے ،چینی مز دو ر نے کہا اس چٹان کو یہاں نہیں ہو نا چا ہیے میں اسے یہاں سے ہٹا دو نگا۔ بیو ی بچے ہنس کر چپ ہو گئے مگر وہ دُھن کا پکا تھا۔ اُس نے چٹا ن کو کھو دنا شر و ع کیا ،دن را ت میں جتنا و قت بھی ملتا بڑی مستعد ی سے پتھر توڑتاپھر اس کام میں بیو ی بچے بھی شر یک ہو نے لگے۔ مشقت ہو تی رہی اور آخر ایک دن ایسا آیا کہ اُسکے کو ٹھے کے در وا زے اور سو ر ج کے درمیان حا ئل ہو نے والی چٹان نیست و نا بو د ہو گئی ۔ یہ تو ایک کہا نی تھی لیکن گر ا ں خو ا ب افیونی چینی قو م کو آزا د ، خو د مختا ر، بیدا ر مغز اور مستحکم قو م بنا نے میں ما ئو اور اُسکے انقلابی سا تھیوں نے بھی طو یل مشقت اور جد و جہد کی اور با لا خر ما ئو نے اپنی بیان کر دہ کہا نی سچ کر دکھا ئی۔ چین کی تا ریخ پڑھنے والا ہر شخص کل اور آج کے چین کو دیکھتا ہے تو حیر ت اور استعجا ب سے تصو یر بن جا تا ہے۔ فی الو ا قع اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے پنا ہ قوتوں سے نواز اہے ۔ اُس نے سمند ر پھا ڑے ،پہا ڑوں کے جگر چیر کر نہریں اور سٹر کیں بنائیں،چا ند پر اپنی تسخیر کے پر چم گا ڑ آیا ، فضا ئو ں اور خلا ئو ں کو فتح کیا ،فطر ت کے بے پنا ہ او ر بے اماں مو انعا ت کو اپنی را ہ میں سے ہٹا یااور آج اس قا بل ہو گیا کہ اقبا ل کے الفا ظ میں خد ائے ذو الجلا ل کے سا منے فخر سے سر بلند کر کے کہہ رہا ہے ۔خد ایا فرشتوں کو تونے اِنیِ اَ عْلَمُ ما لاَ تعْلَمُوْن کہہ کر ،تخلیق آدم کے جو معار ف سمجھا دیے تھے ،میں نے اُنکی لا ج رکھ لی ہے۔


تُو شب آفر یدی ، چراغ آفریدم


سفا ل آفر یدی ، ایا غ آفر ید م


تُو صحرا و کہسا ر و را غ آفر یدی


خیا با ن و گلز ا ر وو با غ آفر ید م


من آنم کہ از سنگ آئینہ سا ز م


من آنم کہ از زہر نو شینہ سا زم


﴿تر جمہ :۔تُو نے را ت پیدا کی اور میں نے چرا غ بنا یا ۔ تو نے مٹی بنا ئی میں نے نفیس جا م بنا لیے۔ تو نے پہا ڑ ، راہگز ار اور جنگل بنا ئے میں نے خو بصو ر ت گلز ا ر اور پھلدا ر در ختو ں کے با غ بنا لیے۔ میں وہ ہو ں کہ پتھر سے میں نے آئینے بنا لیے اور زہر سے تر یا ق تیا ر کر لیا﴾انسانوں کو لا حق بے شما ر رو حا نی اور جسمانی امرا ض کا علا ج در یا فت کر لیا اور اپنے آپ کو بجا طو ر پر خلافت اِر ضی کا مستحق ثا بت کر دیا ۔ اس نے فطرت کے ہر چیلنج کو قبول کیا اورخدا کی عطا کردہ صلاحیتوں سے کامران وفیروزمند ہوا۔﴾


میں یہ سب کچھ اُن صا حبا ن ِ عِزم و ہمت کے تنا ظر میں لکھ رہا ہوں جو عو ام النا س سے با لکل الگ تھلگ اور نما یا ں ہیں۔ جنہوں نے اچا نک آکر تا ریخ کو عظیم تغیر اور انقلا ب سے دو چا ر کر دیا ۔آسمان حیر تو ں میں ڈو ب گیا اور زمین مسکرااٹھی کہ اسکے باد شا ہ ایسی معجز نما ئیا ں بھی رکھتے ہیں۔ چشم تصو روا کیجئے اور ما ضی کے سینے پر آفتا ب و ما ہتا ب کی نقر ئی اور طلائی کر نو ں سے لکھے ہو ئے ،وہ ابوا ب پڑ ھیے تو لفظ لفظ آ پ کو تحیر خیز سمند ر نظر آئے گا اور حر ف حر ف آپ کی نگا ہ کو زنجیر کر لے گاکہ آگے نہ بڑ ھو ۔میرے اندر ڈو ب جا ئو ’’ کر شمہ دامن دِل می کشد کہ اینجا است ‘‘


ایک طو فا ں خیز دریا اپنی طغیا نیوں اور رو انیوں میں سب کچھ بہا ئے لیے جا تا ہے، اچا نک ایک تنکا گر تا ہے اور دریا کی حشر سا ما نیوں سے الجھنے لگتا ہے ۔وہ اعلا ن کر تا ہے کہ در یا کے تند و تیز د ھا رے کا رُخ مو ڑ دے گا۔اُسے اپنے بہا ئو کو با لکل اُلٹ سمت میں بد لنا ہو گا اُ سے پیچھے کی طر ف چلنا ہو گا اور دنیا حیر ت سے تکنے لگتی ہے ۔


الجھ رہا ہے زما نے سے کو ئی دیو انہ


کشا کشِ خس و دریا ہے دید نی کو ثر


اور پھر تا ریخ یہ معجز ہ دیکھ لیتی ہے کہ دریا کی سا ر ی مو جیں اُس تنکے کے اشا ر وں پر اپنا رُخ بد ل لیتی ہیں ،دھا ر ے پیچھے کی طرف ، اپنی مخالف سمت میں بہنے لگتے ہیں ۔ ایک کو مل کو نپل دُو ر تک دہکتے انگا رو ں اور بھڑ کتے ہو نکتے شعلو ں کے جہنم میں کُو د جا تی ہے۔ اس حیرا ن کُن اعلا ن کے سا تھ کہ ان شعلو ں کو گلزا رِ پرُ بہا ر میں بد لنا ہو گا ۔ یہ انگا رے پُھو ل بن کر رہیں گے۔ ساعتوں کی نبضیںِ دھڑ کنا بند کر دیتی ہیں۔ لمحو ں کی سا نسیں رُک جا تی ہیں، وقت تھم جا تا ہے کہ ان منظرو ں کی ہو شر با ئی سمیٹ کر آ گے بڑ ھے گا اور پھر وہ کچھ ہو جا تا ہے جسے دما غ نا ممکنا ت میں شما ر کر رہے تھے ۔


یہ جو کچھ میں نے لکھا کوئی شا عر ی نہیں ، کو ئی افسا نہ نہیں ، دیو تا ئو ں کی مفر و ضہ وا دیوں کا قصہ نہیں، بھٹکتے خیالوں کے خلائوں کی با ت نہیں ، بد مست اور مد ہو ش آنکھوں میں لٹکا کوئی اند ھا خوا ب نہیں، یہ سب کچھ ہوُا ،اسی دھر تی پر ہوُ ا ، اسی آسما ن کے نیچے ہوُا ،یہی سو ر ج اسکا گوا ہ ہے ، یہی چا ند اسکی شہا د ت ہے، یہی ستا رے ،یہی کہکشا ں اسکے عینی شا ہد ہیں۔ از ل سے در بد ر بھٹکنے والی ہر گھر میں، ہر دشت و در میں ،ہر غا ر میں، ہر خا ر زا ر میں ، ہر با غ میں ، ہر دا غ میں جھانکنے والی اور ہر سمند ر کی مو ج مو ج سے لپٹ لپٹ جا نے والی ہو ا ،جگہ جگہ اسکی تصد یق ثبت کر تی پھر رہی ہے۔ انسان بڑا ہے، انسا ن عظیم ہے ، اسکی رفعتوں کے آگے سب کچھ پست ہے۔بلندیاں اس کے قدموں کے بوسے لیتی ہیں۔اسکی عظمتوں کو ساری کائنات سجدے کرتی ہے۔


وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰئِکَۃِ اسْجَدُ وْ لاٰ دَمَ فَسَجَدُوٓ ا


یہ اشر ف المخلو ق ہے، یہ سب کچھ ہے ،یہ معظم ہے ، محتر م ہے ، مکرّ م ہے ۔


وَ لَقَدْ کَرّ مَنَا بَنیْ اٰدَم


   خدا نے اسے مکر م ٹھہرا دیا، اس لیے تما م مخلو ق کو ، تما م کا ئنا تی قو تو ں کواس کا احتر ام کر نا چا ہیے، اسکی تکر یم میں سر فگند ہ ہونا چا ہیے ۔ملا ئکہ نے اس کا سجدہ کیا، یہ مسجو دِ ملا ئک ٹھہرا۔ کا ئنا ت میں اس کا ور و د اپنی سلطنت میں سلطا ن کا و ر ود ہے ۔کائنا ت کو جشن منا نا چاہیے، ذر ے ذر ے کو استقبال کے پھول نچھا و ر کر نے چا ہئیں اور ایسا ہی ہو ا۔ ایسا ہی ہو تا رہا ،زمین اپنے دفینے کھول کر اسکے قد مو ں پر لٹا رہی ہے ،سمند ر اپنے خزا نے اگل رہا ہے ،پہا ڑ اسکی ٹھو کر و ں میں ہیں ۔یہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ رو شنی اسکی جیب میں ہے ،تو ا نا ئیاں اسکی مٹھی میں ہیں، اسے کوئی بھی زیر نہیں کر سکتا بشر طیکہ یہ بیدا ر ہو، شعو ر آشنا ہو، خو د کو اپنے پر منکشف کر دے ، اپنے آپ کو پہچا ن لے ۔


تسخیر ِ کائنات ہے تسخیر ِ ذات سے


ہم لوگ آشنا نہیں اپنی صفات سے


بلا شبہ کا ئنا ت میں ایسے آدمیوں کی کمی نہیں جنہو ں نے اپنی او لوا لعز می سے ایسے ایسے کا ر نا مے کر دکھا ئے جنہیں آج بھی ہمتیں نا ممکنا ت شما ر کر تی ہیں اور جو لا نیا ں محا ل دیکھ کر مُنہ مو ڑ لیتی ہیں۔ کہہ دیا جا تا ہے یہ سب کل کی با ت ہے ،تاریخ کی کہا نی ہے ۔کیا خبر اس میں کتنی صدا قت ہے اور کتنی قلم کی رنگ آمیز ی ، کتنی سچا ئی ہے اور کتنی ،لفظو ں کی صنا عی ، کتنی مو تیوں کی اصلی چمک ہے اور کتنی جھو ٹے نگو ں کی ریز ہ کا ری ، یُوں کو شش کی جا تی ہے کہ اپنی دُو ں ہمتی کا جواز تلاش کیاجا ئے۔ اپنی پستیٔ حوصلہ اور اپنے ضعفِ عز م و عز یمت پر پر دہ ڈا ل دیا جا ئے ۔دن کو رات کہہ کر کچھو ئے کی طرح سر اپنی سنگین کھا ل میں چھپا کر سو لیا جا ئے ،مگر سو ر ج کی شعا عیں بند آنکھوں کو کھلنے پر مجبو ر کر دیں تو آدمی سو ر ج کا انکا ر کیسے کر ے ؟ آج کے رو شن پل کو گزری را ت کا تا ریک لمحہ کیسے کہا جا ئے ۔ آنے والے صفحا ت میں ایک ایسے پُر عزم اور با ہمت مر د مو من کی انتھک جد و جہد کا ذکر آرہا ہے جس نے اپنی زند گی کے ایک ایک پل سے صد یا ں کشید کی ہیں۔ ہر ہر لمحہ کو جا و دا ں کیا ہے اور جس کی جد و جہد اپنی فتح مند یوں کی تا ریخ سے سر شا ر برا بر آگے بڑھ رہی ہے، جس نے اپنے سفر میں گن گن کر قد م اٹھا ئے ہیں اور ہر ہر قد م میں سینکڑ وں میل طو یل منزلیں ما ری ہیں ۔ اُس کا سفر آج بھی جا ری ہے۔، اُس کا بڑھا پا جو ا نی سے زیا دہ جوا ن ہے اور اس سفرِ شوق میں کہیں بھی خستگی اور تھکن اسکے پائوں کی زنجیر نہ بن سکی بلکہ اُس کاہر اگلا قدم پہلے سے زیا دہ تیزی اور طو فا ں بر دو ش جولانی سے اُٹھا ہے اور وہ دعا ئیں ما نگ رہا ہے کہ سفرِ شو ق میں وہ مر حلہ نہ آئے جسے منزل کہہ کر وہ کمر کھو ل دے۔


ہر لمحہ نیا طور ، نئی برقِ تجلیٰ


اللہ کرے مرحلہ ئ شوق نہ ہو طے ۔۔۔






سر گز شت کیوں؟


تا ریخ کیا ہے؟ طا قتو روں کے ظلم اور کمز و روں کی مظلو میت کی کہا نی ، بڑے بڑے فا تحین کی جنگو ں اور مغلوب و مفتوح لو گو ں کے لُٹنے کی دا ستا ن، قتل و غا ر ت اور سلب و نہب کے قصے ، تشد د اور قہر ما نی ، ہلا کت اور تبا ہی ، چیر ہ دستی اور تِیرہ بختی کے تذکرے، دا ر او سکندر کی سر گز شت ، با د شا ہو ں اور انکے منصبدا روں کے قصیدے ۔ یہی کچھ تا ریخ تھی ۔ اس میں کسی عا م آدمی کا کو ئی گز رنہ تھا ، حا لا نکہ ہر آدمی قطع نظر اسکے کہ عام ہو یا خا ص ایک محشرِو ا قعا ت و تذکا ر ہے ۔ تا ریخ کو ہمیشہ کہا نی کی طر ح لکھا اور کہا نی کی طر ح پڑ ھا گیا ۔ قر آن حکیم نے سب سے پہلے انسا نو ں کو بتا یا کہ تار یخ صر ف کہا نی نہیں اسکا ایک فلسفہ ہے ۔قرآن حکیم نے انبیا ئ و رسُل اور اقوا م و ملل کا با ر با ر تذکر ہ کیا تو منکر ینِ قرآن بو ل اٹھے کہ قر آن کیا ہے؟ اِن ھُوَ اِلَّا اَسَا طِیْرُ الْاوَّ لِیْن۔

                   ﴿یہ تو گز رے ہو ئے لو گو ں کی کہا نیوں کا مجمو عہ ہے ﴾

قرآن نے کہا، نہیں یہ کہا نیاں نہیں، قصے نہیں، یہ تو ’’ تذکر ہ ‘‘ہے ’’تذکیر‘‘ ہے، نظا رہ نہیں ’’تنذیر‘‘ ہے۔ اس میں یاد،دلا یا گیاہے کہ تمہارا کو ئی عمل بیکا ر نہیں جا تا ۔ بڑ ے سے بڑا عمل ہو یا چھو ٹے سے چھوٹا ،اپنا نتیجہ پیدا کر کے رہتا ہے۔ فَمَنْ یّعْمَل مِثْقَا لَ ذَرَّ ۃٍ خَیْرَ اًَ یَّرَہْ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَا لَ ذَرَّ ۃٍ شَرّ اً یَرَہْ ﴿جو ذر ہ برا بر نیکی کر تا ہے وہ اس کا نتیجہ دیکھ لیتا ہے اور جو ذرہ برا بر بد ی کر تا ہے وہ اس کا نتیجہ دیکھ لیتا ہے﴾ جس طر ح یہ اعما ل ایک فر د کی انفرادی زند گی میں نتیجہ خیز ہو تے ہیں ، بالکل اسی طرح ایک قو م کی اجتما عی زند گی میں بھی ہوتے ہیں اور قر آن کے بیا ن کر دہ قصص عام کہا نیاںنہیں یہ تو عمل کی نتیجہ خیزی کے نظا ئر ہیں، شوا ہد ہیں ۔ان سے تم بصا ئر و عہداخذ کر و کہ تم ویسے عمل کر و گے تو تمہیں بھی ویسے ہی انجا م سے دو چا ر ہو نا پڑے گا۔ اَفَلَمْ یَسِیْرْوْ افِی الْاَرْضِ فَیَنْظْرُ وْاکَیْفَ کَا نَ عَا قِبَۃُ الَّذ یْنُ مِنْ قَبِلھِمْ۔ ﴿کیا وہ زمیں میں گھو متے پھر تے نہیں کہ دیکھ لیں اُن سے پہلے گز رے ہو ئے لو گوں کو کس انجا م سے دو چا ر ہو نا پڑ ا ﴾ اس طرح یہ قصے انتہا ئی نصیحت بخش اور عبرت انگیز ہیں۔ لَقَدْ کَانَ فِیْ قَصَصِھِمْ عِبْرَۃ لِاّ وُ لِی الْاَ لْباَ بِ o ﴿یقینا اِن قصو ں میں اربا بِ علم و دانش کے لیے عبر ت و مو عظت ہے﴾ یہ ہے فلسفہ تا ریخ جسے پہلی دفعہ قرآن حکیم نے متعا رف کر ایا ۔یو ں تو ہر انسان کی زند گی میں عبر ت کے لاکھوں سا ما ن ہوتے ہیں ۔اسکی حیا ت ِفانی کا ہر لمحہ اپنے پیچھے بہت سے سبق چھو ڑ جا تا ہے لیکن جن لو گو ں نے کو ئی خا ص کا ر نا مہ سر انجا م دیا ہو، کسی زا ویہ سے تا ریخ کو متا ثر کیا ہو، ا ن کی زند گیوں کو ضر و ر محفو ظ ہو نا چا ہیے کہ وہ تا ریخ کا اثا ثہ اور انسا نیت کی امانت ہیں ۔ بلاشبہ ایک انسا ن کے تما م افعا ل و اعما ل کو محفو ظ کر نا نا ممکن ہے ۔یہ کام تو کر اماً کا تبین ہی کر سکتے ہیں ۔ انسانو ں کے بس میں تو یہی کچھ ہے کہ اُسکی زند گی کے کچھ جستہ جستہ وا قعا ت ہی قلمبند کرے ۔وہ تو بس ایک خا کہ ہی مرتب کر سکتا ہے۔ ایک رف سکیچ کی کچھ آر ی تر چھی لکیر یں ہی کھینچ سکتا ہے لیکن یہی لکیریں اگرسوچ سمجھ کر کھینچی جا ئیں اور انہیں دیکھنے والا عقل و دانش سے دیکھے تو بہت کچھ حاصل ہو جا تا ہے ۔اسی لیے سر گز شتیں لکھی جا تی ہیں تا کہ بعد میں آنیو الے اُن سے رہنمائی حاصل کر سکیں ۔ شا ہر اہِ حیا ت پر سے بہت سے لو گ گزر تے ہیں اور بہت سے پا ئو ں کے نشان ادھر ادھر بکھر ے پڑ ے ہو تے ہیں مگر کہیں کہیں آدمی ٹھٹھک جا تا ہے ۔کوئی نقش پا اسکی تو جہ کھینچ لیتے ہیں ۔یہ نقش ِپارو شن ہو تے ہیںاِن سے ایک خا ص قسم کی تا بند گی پھُو ٹ رہی ہو تی ہے۔ ان سے اٹھتی ہو ئی خو شبو مشا م جِا ں میں اُتر کر پہچان کر ا دیتی ہے کہ یہ کس بد ن کی ہے ،کس رو ح کی ہے؟ نقش ِ قدم کو دیکھ کہ منزل کا راستہ اشفاق ہے لکیروں کے دل میں رکھا ہوا یعنی یہی نقش پاِ رہنما بن جا تے ہیں او ر ہمیں رو شن منز لوں تک پہنچا دیتے ہیں۔ Lives of Great Men all Reminds us We Can Make Our Lives Subl. ۔۔۔۔۔






تصو ف کی حقیقت اور اسکی تا ریخ

لفظ ’’ صو فی ‘‘ کہا ں سے آیا اور اس کا اصل مفہو م کیا ہے، اس کے متعلق محققین مختلف الرا ئے ہیں۔ عا م طو ر اسی با ت پر اتفا ق کر لیا گیا ہے کہ ’’ صو ف ‘‘ سے یہ لفظ بنا ہے ’’ صو ف ‘‘ مو ٹی اُو ن کو کہتے تھے جو رنگی ہو ئی نہ ہو ۔ اپنے جسم کو مستقل طو ر پر تکلیف میں رکھنے کیلئے زا ہد لو گ اس کا لبا س پہن لیتے تھے، پھر یہ لبا س عا جز ی و انکسا ر ی کے اظہا ر کے لیے کچھ لو گ پہننے لگے انہیں صو فی کہا جا نے لگا ۔ کہتے ہیں، حج کے مو قع پر بھی یہی لبا س بعض لو گ پہن لیتے ،ان کا مقصد بھی عجز و انکسا ر کا اظہا ر تھا۔ یہ بھی بتا یا جا تا ہے کہ ابتدا ئے اسلام میں اکثر لو گ اسے بد عت سمجھتے اور اس سے نفر ت کا اظہار کر تے تھے ۔کچھ فقہا ئ اس مخصو ص گر وہ کو ایسی منفر د صو ر ت اختیا ر کر نے پر مطعو ن کر تے تھے۔ ان کا خیا ل تھا کہ یہ لوگ عجز و انکسا ری کی بجا ئے کبرو غر و ر کے اظہا ر کے طو ر پر ایسا کر تے ہیں ۔ ایک اما میہ رو ایت میں جو حضرت جعفر صادق سے منسو ب ہے ،صو ف پہننے و الو ں کے اس فعل کو ریا کا ر ی سے تعبیر کیا گیا ہے اور بتا یا گیا ہے کہ یہ محض نما ئش ہے ۔یہ لو گ نیچے ریشم کا لبا س پہنتے ہیں ۔بتا یا جاتاہے کہ بعد میں اس لبا س کی عز ت و تو قیر بڑ ھ گئی اور ایسی رو ا یا ت بھی متعا ر ف ہو نے لگیں کہ بعض میں اسے حضرت مو سیٰ علیہ السلام کا اور بعض میں خو د حضور �ö کا لبا س قرا ر دیا گیا َ یہ تفا صیل تو اُن لو گو ں کی طر ف سے ہیںجو لفظ صو فی کو ’’ صو ف ‘‘ سے مشتق خیا ل کر تے ہیں۔ کچھ دو سرے لو گ کہتے ہیں کہ یہ یو نا نی لفظ صو فی ﴿ Sophy﴾سے ما خو ذہے ۔یو نا نی زبان میں عقل و دانش کے لیے یہی لفظ استعما ل ہو تا ہے ۔لفظ فلسفہ Philosophyکی تر کیب میں یہی لفظ استعمال ہوا ہے ۔جن لو گو ں کا یہ خیا ل ہے ،وہ استشہاد کر تے ہو ئے کہتے ہیں کہ جا بر بن حیا ن اور ان کے شا گر د صالح بن علو ی جو مشہو ر کیمیا دا ن یا کیمسٹر ی میں ممتا ز تھے، وہ بھی صوفی کہے جا تے تھے ۔ عقل و دا نش میں کئی اور معر و ف عا لم بھی ،جیسے مشہو ر شیعہ عا لم سنا نی کے استاد محمدبن ہا رو ن، مشہور معتزلی عالم عیسیٰ بن ہشیم کو بھی صو فی کہتے تھے ۔کچھ اور حضر ا ت کہتے ہیں کہ صو فی کا لفظ ’’ صفا ‘‘ سے ما خو ذ ہے ۔صا ف باطن اور پاک دل لو گ صو فی کہلا تے تھے ۔یہ خیا ل بھی بہت سے محققین سے منسوب ہے کہ صوفی کا لفظ ’’ صفہ ‘‘ سے نکلا ہے۔ اصحا بِ صفہ حضو ر �ö کے وہ اصحا ب تھے جو گھر با ر اور دو لتِ دنیا سے بے نیا ز مسجد نبو ی کے حجرے میں رہا ئش رکھتے تھے ۔ یہ جہا د اور تبلیغ کے سو اکسی اور تکلیف ِدنیا کے پا بند نہ تھے ۔ شب و رو ز عبادت میں مشغول رہتے جو انہیں ملنے آتا اس سے قرآن حکیم کے احکا م پر تبا دلہ خیا لا ت کر تے اور لو گو ں کی رہنما ئی کے لیے اپنے آپ کو و قف کیے رکھتے ۔بعد میں جن لو گو ں نے انہی کی زندگی کواپنا کر اپنی زند گی کو خد مت اسلام کے لیے وقف کیے رکھا ،صو فی کہلا ئے ۔ کہا جا تا ہے کہ مسلما نو ں میں پہلا آدمی جو صو فی کے لقب سے مشہو ر ہوا ،ابو ہا شم عثما ن بن شر یک کو فی تھا۔ پہلی خا نقا ہ ارضِ فلسطین کے شہر رَ ملّہَ ﴿ Ramallah﴾میں قا ئم ہو ئی۔ ابو ہا شم کو فے سے اسی خا نقا ہ میں آگیا ۔یہ خانقا ہ 140 �÷ ہجر ی میں قائم ہو ئی ۔ابو ہا شم یہیں 160�÷ ہجر ی میں فو ت ہو ا۔اس کے بعد حضر ت ابن ادہم کے مر شد ابو عبا د بھی یہیں رہے اور ابو جعفر قصاب بھی یہیں رہے ۔230 �÷ ہجر ی کے قر یب یر و شلم میں بھی ایک خا نقا ہ مو جو د ہو گئی، پھر دیکھتے ہی دیکھتے تصو ف کی تعلیم کے لیے قاہر ہ اور بغدا د میں منبر و جو د میں آگئے ۔قا ہر ہ میں تصو ف کا در س یحییٰ را زی دیتے اور بغدا د میں ابو حمزہ یہ کا م کر تے تھے۔ چونکہ خا نقاہوں کی ابتدا ئ ارض ِ فلسطین سے ہو ئی، اس لیے مغر بی محققین نے تقر یبا ً حتمی رائے قا ئم کی ہے کہ مسلما نو ں میں تصوف عیسا ئی رہبا نیت کی تقلید میں دا خل ہو ا۔ پھر اس کا دو سرا دو ر شر و ع ہو تا ہے جس میں نو فلا طو فی فلسفہ نے اسے متا ثر کیا۔ تیسرے دو ر میں ہند ی فلسفہ اس پر اثر انداز ہو ا مگر مسلما ن محققین کہتے ہیں زہد و تقوٰ ی کسی قو م اور کسی مذ ہب کی ملکیت نہیں ہر مذہب میں ایسے لو گ ہمیشہ مو جو د رہے ہیں جو اپنی ذ ا ت کو خدا کی عبادت کے لیے مخصو ص کر دیتے ہیں۔ دنیا اور اُس کے مشاغل سے اپنے آپ کو الگ کر لیتے ہیں۔ جہا ں تک مسلما ن صو فیا ئ کا تعلق ہے، ان کے سا منے قرا ٓن حکیم کی یہ تعلیم ضر و ر رہی کہ وَ رََھْبَانِیَّۃُ نِ ابْتَدَعُوَھَامَاکَتَبْنَاہا ﴿اور ان عیسا ئیوں نے رہبا نیت خو د گھڑلی ہم نے ان پر فر ض نہیں کی تھی﴾ مسلمان صو فیا را ہبا نہ زند گی نہیں گز ا رتے تھے ۔انہوں نے شا دیا ں کیں، بچے پیدا ہو ئے۔ اپنی بیویوں اور بچو ں کے حقوق ادا کر تے رہے ۔دنیا اور اہل دنیا کے سا تھ تعلق قا ئم رکھا۔ اسی تعلق کے با عث تو کفا ر کو مسلما ن کر تے رہے ،کسب ِمعا ش کر تے رہے ۔تصو ف کی راہ پر قد م رکھنے والے کے لیے پہلی شر ا ئط یہ تھیں ’’ اکل حِلا ل اورصد قِ مقال‘‘ یعنی حلا ل کی کما ئی کھا نا اور زبان کھو لنا تو ہمیشہ سچی با ت کر نا ۔ جہا ں پہلی شر ط ہی حلا ل کی کما ئی کھا نا ہو وہا ں کیسے کہا جا سکتا ہے کہ وہ کسبِ معا ش سے الگ رہ کر دو سر وں پر بو جھ بنے رہے ہو نگے ۔اصحا ب صُفہ کا مستقل پیشہ ہی کھجو ر کے پتو ں کی چٹائیاں بُن کر بیچنا اورمسجد نبو ی کی خدمت کر نا تھا۔ اس کے سا تھ ہی وہ پانی کے گھڑ ے بھر کر اُن گھر و ں میں پہنچا تے تھے جہا ں پا نی لا نے والا کو ئی نہیں ہو تا تھا ۔’’ صدق مقا ل‘‘ یعنی سچ بو لنا ۔یہ سو ا ل بھی تب اٹھتا ہے جب آدمی کا دو سرے لو گو ں سے تعلق ہو۔ جو آدمی اکیلا پڑا اللہ اللہ کر رہا ہے کسی سے مقا ل اور مکا لمہ کر تا ہی نہیں تو صد قِ مقا ل کا سو ال کہاں پیدا ہوتا ہے۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ مسلما ن صو فیا ئ سیا ست میں بھی بڑی حد تک د خیل رہے ،انہوں نے بادشاہو ں کو ظلم سے ممانعت کر کے امر با لمعر و ف او ر نہی عن المنکر کے فر ائض سرانجا م دیئے اور ایسی ہی با تو ں پر با د شا ہوں سے تصا دم ہو ا ،ایسی با توں پر کتنے صو فیا ئ واولیا ئ تھے، جنہیں خو د مسلما ن با د شا ہو ں نے قتل کر دیا۔ سلطا ن غیا ث الد ین تغلق جیسے نیک دل با د شا ہ نے بھی سلطا ن المشا ئخ خو اجہ نظا م الد ین محبو ب الا و لیا سے ٹکرلی ۔ پھر یہ سمجھنا کہ مسلمان صو فیا ئ اسلا می را ہب تھے، کہا ں در ست ہو سکتا ہے۔ ایک اور سو ال انتہا ئی اہم ہے کہ جب مسلما ن صو فیا ئ بھی مبلغ اسلام تھے اور علما ئ بھی، تو پھر علما ئ اور صو فیا ئ کے ما بین تصا دم کیوں ہو تا رہا اور شر یعت و طر یقت کی اصطلا حا ت کیسے وجو د میں آئیں ۔ یہ بحث بڑی اہم ہے لیکن ہم اس پر اختصا ر کے سا تھ رو شنی ڈا لیں گے کیونکہ یہ ہما را ذیلی مو ضو ع ہے ۔ قرآن حکیم میں جو احکا م وا ر دہو ئے ہیں ان کی ایک ظا ہر ی صو ر ت ہے اور ایک با طنی علِت و حکمت ۔ علما ئ نے با لعمو م ظا ہر کو دیکھا اور علتِ حکم پر غو ر نہیں کیا۔ اس لیے انہیں علما ئے ظا ہر کہا گیا ۔ صو فیا ئ نے علت پر نظر رکھی، یہاں سے شریعت اور طر یقت کی اصطلا ت و جو د میں آئیں ۔ علت پر نظر رکھنے کو دو سر ے لفظو ں میں با طنی تعبیر کہا جاتا ہے ۔علما ئ نے کہا! انسا نی ذہن احکا مِ خداوند ی کی حکمت و علت پو ر ی طر ح کہا ں سمجھ سکتا ہے کہ خدا نے انسا نو ں کو مخا طب کر تے ہو ئے فرما یا ۔ عَسٰی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئاً وَّ ھُوَ شَرُّ لَّکُمْ وَعَسٰی اَنْ تَکْرَ ھُوْا شَیئاً وَھُوَ خَیْر’‘ لَّکُمْ ﴿کتنی ہی ایسی چیز یں ہیں کہ تم انہیں پسند کر تے ہو ا ور وہ تمہا رے حق میں بر ی ہو تی ہیں اور کتنی ہی ایسی چیز یں ہیں جنہیں تم نا پسند کر تے ہو اور وہ تمہا رے حق میں اچھی ہو تی ہیں﴾ صو فیا ئ کہتے ہیں اللہ نے وحی کا در و ا زہ بندکیا لیکن کشف و الہا م کا در و ا زہ کُھلا رکھا ۔اہلِ صفا، کشف سے علت ِاحکام معلوم کر لیتے ہیں ۔جو شخص صفا ئے با طن کی مشکلا ت اور کٹھنائیوں سے بھر ی را ہ اختیا ر کر تا ہے ،وہ آخر میں جا کر اس مرتبہ پر فائز ہوجا تا ہے کہ اللہ اپنی طر ف سے اُسے با طنی علم عطا کر دے۔ اس با طنی علم کو ’’ علم لد نی ‘‘ کہا جا تا ہے ۔ اپنے اس عقید ہ اور علم ِلُد نی کی اصطلا ح کی بنیا د بھی انہو ں نے قر آن حکیم میں تلا ش کر لی ۔ قر آن حکیم میں مو سیٰ علیہ السلام کی اللہ کے ایک خا ص بند ے سے ملا قا ت ہو تی ہے ،جسے مفسرین خضر علیہ السلام کہتے ہیں۔ قرآن نے اس ملاقات کی تفاصیل یوں بیا ن کی ہیں۔

   فوَ جَدَ عَبْدً امِّنْ عِبَا دِ نَااٰتَیْنٰہُ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِ نَا وَ عَلَّمْنٰہُ مِنْ لَّدُ نَّا عِلْماً۔

﴿تو مو سیٰ علیہ السلام نے ہما رے بند وں میں سے ایک بندہ پا یا جسے ہم نے اپنی طر ف سے رحمت اور اپنی طر ف سے علم عطا فرما یا تھا ﴾ ’’ مِنْ لّدُنَّا عِلْماً‘‘ سے علم لَدُ نیَْ کی اصطلاح وجو د میں آئی ۔ آگے با ت یو ں چلتی ہے۔

        قال لہ موسی ھل اتبعک علی ان تعلمن مماعلمت رشدا

﴿مو سیٰ علیہ السلام نے اُس سے کیا کہا میں تمہا رے سا تھ چل سکتا ہوں تا کہ تو مجھے اس علم میں سے کچھ سکھا دے جو تجھے اللہ نے عطا کر رکھا ہے۔﴾ قَا لَ اِنّکَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا ہ وَکَیْفَ تَصْبِرُعَلٰی مَا لَمْ تُحِطْ بِہٰ خُبْر ًا o ﴿اس شخص نے کہا تجھ میں یہ طاقت ہی نہیں کہ تو میرے ساتھ صبروسکون سے چل سکے اور تو اس بات پر صبر کر بھی کیسے سکتا ہے جس پر تیرا علم محیط نہیں﴾ قَا لَ سَتَجِدُ نیْ اِنْ شَا ئَ اللّٰہ صَا بِراً وّ لَا اَعْصِیْ لَکَ اَمْراًٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍo

 ﴿مو سیٰ علیہ السلام نے کہا اگر اللہ نے چا ہا تو تو مجھے صبر کر نے والا پا ئیگا اور میں تیر ی کسی با ت پر مخا لفت نہیں کر و نگا ﴾
           قَالَ فَا نِ اتَّبَعْتَنِی فَلاَ تَسْئَلْنِیْ عَنْ شیْیٍ حَتّٰی اُحْدِ ثُ لک منہ ذکراہ
  ﴿اگر میرے پیچھے چلنے کا و عد ہ کر تا ہے تو میر ی کسی با ت پر سو ال نہ کر ناجب تک میں خو د اس کا ذکر نہ کر و ں ﴾

اب اس کے بعد تین عجیب و غر یب وا قعے آتے ہیں۔ فَا نَطَلَقاً حَتّٰی اِذَا رَکِبَا فِی السَّفِْینَۃِ خَرَقَہَاقالَ أَ خَرَقْتَھَا لِتُغْرِ قَ اَھْلَھَا لَقَدْ جِئْتَ شَیْئاً اِمْر اً ﴿دو نو ں چل پڑے یہاں تک کہ جب کشتی میں سوا ر ہو ئے تو اُس نے یعنی بند ئہ خاص نے اُسے پھاڑ ڈا لا۔ مو سیٰ علیہ السلام نے کہا کیا تو نے اسے پھاڑ ڈ الا کہ اس پر سوا ر لو گ ڈو ب جا ئیںیہ تو تو نے بُرا کا م کیا ﴾

               قَال اَ لَمْ اَ قُلْ اِنَّکَ لَنْ تستَطِیْعَ مَعِیَ صَبْر اًo 
       ﴿اُس نے کہاکیا میں نے کہا نہیں تھا کہ تو میرے سا تھ ہر گز صبر نہیں کر سکے گا﴾

مو سیٰ علیہ السلام معذر ت کر تے ہیں اور پھر خا مو ش رہنے کا و عدہ کر تے ہیںاور آگے کا سفر شر و ع ہو تا ہے۔

 حَتَّٰی اِ ذَا لَقِیاَ غُلٰماً فَقَتَلَہ‘ قَالَ أَ قَتَلْتَ نَفْساً زکِیَّۃً بِغَیْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جئَتَ شَیْئاً نُکْراًo 

﴿یہاں تک کہ جب ایک لڑ کا ملا اُس نے اُسے قتل کر دیا۔ مو سیٰ علیہ السلام نے کہا کیا تُو نے کسی جا ن کے قتل کے بغیر ایک بے گنا ہ انسان کو قتل کر دیا یہ تو تُونے عجیب انو کھا کا م کیا ﴾ وہ بند ئہ خا ص کہتا ہے میں نے کہا نہیں تھا کہ تم میرے فعل پر خا مو ش نہیں رہ سکو گے۔ مو سی علیہ السلام نے کہا مجھ سے غلطی ہو گئی ۔ اگر اب کسی با ت پر سو ال اٹھا ئو ں تو مجھے اپنی رفا قت ِ سفر سے محرو م کر دینا۔ پھر سفر شر و ع ہو جا تا ہے اور تیسر ا اور آخر ی وا قعہ ہوتا ہے۔

حَتَّیٰ اِذَا اَتَیاَ اَھْلَ قَرْ یَہِ نِاسْتَطْعَماَ اَھْلَھَا فَاَ بَوْا اَنْ یّضَیِفُوْ ھُمَا فَوَ جَدَا فِیْھَا جِدَا راً یُرِیْدُ اَنْ یَّنَقضَّ فَاَ قَا مَہ‘طقَالَ لَوْ شِئَتَ لَتَّخَذْ تَ عَلَیْہِ اَجْر اًo 

﴿حتیٰ کہ وہ دونو ں ایک بستی میں آئے اور وہا ں کے لو گو ں سے کھا نا ما نگا مگر اُن لو گو ں نے مہما ن نوا زی سے انکا ر کر دیا ۔ تب انہوں نے وہیں ایک دیو ا ر دیکھی جو گر ا چا ہتی تھی ۔اُس شخص نے نئی دیو ار کھڑی کر دی۔ مو سیٰ علیہ السلام نے کہا اگر تو چا ہتا تو اسی دیوا ر کی تعمیر کی اجر ت لے سکتا تھا ﴾ اس پر اس نے کہا بس اب اپنے وعدہ کے مطا بق تیرامیرا سا تھ ختم ہوا، ہاں بچھڑ نے سے پہلے میں وضا حت کیے دیتا ہوں کہ ان تین وا قعا ت کے پیچھے کیا حکمت و علت تھی ۔اب وہ ایک ایک کر کے بتا نے لگتا ہے ۔ اَمَّاالسَّفِیْنَۃُ فَکَا نَتْ لِمَسٰکِیْنَ یَعَْمَلُوْ نَ فِیْ الْبَحْرِ فَاَ رَ دْ تُّ اَنْ اَعِیْبھَا وَکَانَ وَرَاَ ئَھُمْ مَلِک’‘ یَّأ خُذُ کُلَّ سَفِیْنَۃٍ غَصْباً۔ ﴿جہا ں تک کشتی کا تعلق ہے وہ کچھ مسکینوں کی تھی جو در یا میں کا م کر تے تھے۔ وہا ں کا با دشا ہ عنقر یب تما م کشتیوں پر غاصبا نہ قبضہ کر نے والا تھا پس میں نے چا ہا کہ اُسے عیب دا ر بنادو ں تا کہ وہ با دشا ہ سے بچ جا ئے ﴾ یعنی عیب دا ر واور نا قص حا لت میں دیکھ کر با د شا ہ اُسے نا کا رہ سمجھ لے گا اور مسا کین اس معمو لی عیب کو در ست کر کے بعد میں اپنا کا م چلا تے رہیں گے اور دریا میں ما ہی گیری وغیر ہ کا کا م کر سکیں گے۔

وَاَمَّاا لْغُلاَمُ فَکَا نَ اَبْوَا ہُ مُؤ مِنَیْنَ فَخَشِیْناَ اَنْ یُّرْ ھِقَھُمَا طُغْیَا ناً وَّ کُفْراًo فَاَ رَدْناَ اَنْ یُّبْدِ لَھُمَا رَبُّھُمَا خَیْراً مِّنْہُ زَکوٰ ۃً وُّ اَ قْرَ بَ رُحْماًo

﴿اور وہ جو لڑ کا تھا اُسکے وا لد ین مسلما ن تھے اور ہمیں ڈ ر ہو ا کہ وہ انہیں سر کشی اور کفر پر آما دہ کر دے گا پس ہم نے چا ہا کہ ان دونو ں کا ر ب اس سے بہتر پاکیزہ اور مہر با نی میں اس سے زیا دہ قر یب عطا کر دے ﴾ تیسرے مر حلہ یعنی دیوا ر کی تعمیر کی علت بیا ن کر تے ہو ئے بتا یا گیا ۔

وَامَالْجوارُ فَکَا ن لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی المد یْنَۃِ وَکَا نَ تَحْتہ‘ کَنْزاً لَّھُمَا وَ کَا نَ اَبُوْ ھُمَا صَا لِحاًجفَاَرَادَرَبُکَ اَن’یّبلُغاَ اَشُدَّھُماَ وَیَسْتَخْرِجاًکَنْزَھُماَ قرَحْمَۃً مِّنْ رَبِّکَ وَمَا فَعَلْتُہ‘ عَنْ اَمْرِ ی ذٰلِکَ تَاْ وِیْلُ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عّلَیْہِ صَبْرًا o

﴿جہاں تک دیو ار کا تعلق ہے تو وہ دو یتیم لڑ کو ں کی تھی جن کا پُو رے شہر میں کوئی پُر سا نِ حا ل نہ تھا اور اُن کا والد نیک ﴿اور با صلاحیت﴾تھا اِس دیوا ر کے نیچے اُس نے ان بچو ں کے لیے خز انہ مد فو ن کر رکھا تھا ﴿جس کا انہیں علم تھا ﴾ تیر ے رب نے چاہا دیو ار در ست کر دی جا ئے تاکہ وہ با لغ اور با صلا حیت ہو ں تو اپنا خز انہ نکا ل لیں ۔یہ کا م تمہا رے رب کی رحمت سے کیا گیا ۔میں نے کچھ اپنے اختیا رسے نہیں کر دیا۔ یہ ہے حقیقت اُن با تو ں کی جن پر تم صبر نہ کر سکے﴾ اس طر ح تمام امو ر کی سر انجا م دہی کی عِلت بتا دی گئی ۔ اسر ائیلیا ت میں اس بند ئہ خا ص کے متعلق بتا یا گیا ہے کہ وہ یو نس علیہ السلام تھے لیکن یہ با ت با لکل بے اصل اور بے بنیاد ہے کیو نکہ ایک تو حضرت یو نس علیہ السلام ،حضرت مو سیٰ علیہ السلام سے کئی سو سال بعد پید ا ہو ئے تھے ،دو سرے یہ قو ل اُن صحیح احادیث کے بھی خلا ف ہے جن میں بتا یا گیا ہے کہ رسو ل خدا �ö نے فر ما یا کہ اُس بند ئہ خا ص کا نا م ’’خضر ‘‘ تھا ۔ بعض صوفیائ نے جن میں زیا دہ تر اما میہ مسلک کے ہیں خضر علیہ السلام کو ایک انسا ن قرا ر دے کر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قصہ کو بیان کر کے یہ بتا نا چا ہتا ہے کہ ایسے افرا د بھی ہو تے ہیں جنہیں با طنی علم سے سر فرا ز فر ما یا جا تا ہے ۔کچھ لو گ اس خیا ل کے بھی ہیں کہ ایسے افرا د انبیا ئ سے بھی افضل ہو تے ہیں مگر یہ قو ل جمہور متصو فین کا نہیں ہے ۔ جو کام اُس بند ئہ خِا ص نے کیے ان میں سے پہلے دو کا م یعنی کسی کی مملو کہ چیز کو خر ا ب اور نا قابل استعمال کر دینا اور کسی انسا ن کو ظا ہر ی گنا ہ کے بغیر قتل کر دینا کبھی بھی کسی شر یعت میں جا ئز نہیں رہا۔ یہ تو صا ف بتا یا گیا ہے کہ کر نے والے کو اللہ تعالیٰ نے خا ص علم عطا کر رکھا تھا اور یہ کا م اُسی خا ص علم کے تحت اللہ کے حکم سے ہو ئے تھے ۔ہم یہ جا نتے ہیں کہ اللہ کے احکا م دو طر ح کے ہیں ایک تشر یعی اور ایک تکوینی ۔تشر یعی احکا م وہ ہیں جنہیں دنیا میں نا فذ العمل کر نے کیلئے انبیائ علیہ السلام تشر یف لا ئے اور جنہیں شر یعت کہتے ہیں۔تکو ینی احکا م وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کا ئنا ت میں ہر لمحہ، ہر ثا نیہ سر انجا م دے رہاہے ۔ہو ائیں رخ بد لتی ہیں ، طو فان آجا تے ہیں ، در یا ئو ں اور سمند ر میں تلا طم خیز یا ں ہو تی ہیں کشتیا ں اور جہا ز ڈو بتے ہیں یاکنا رو ں پر بعا فیت پہنچ جا تے ہیں۔ سیلا ب آتے ہیں اور بستیو ں، کی بستیا ں دریا بر د ہو جا تی ہیں ۔ بو ڑھے ، بچے جو ا ن لقمہئ اجل ہو جا تے ہیں ۔زلزلے آتے ہیں اور ہزاروں افرا د مو ت کی تا ریک و ادیو ں میں اتر جا تے ہیں۔ اِن کی حکمت اور مصلحت خد اہی جا نتا ہے، اُن فر شتو ں کو بھی علم نہیں ہو تا جن کے ذر یعے یہ امو ر طے پا تے ہیں کیو نکہ وہ تو صر ف حکم خدا وندی کی سر انجا م دہی کے پا بند ہو تے ہیں اور وہ اوامر الہٰی سے یک سر موا نحراف نہیں کر سکتے۔ ان میں یہ طا قت نہیںکہ وہ ذر ا سی سر تا بی کر سکیں ’’ولَا یَعْصُوْ نَ اللہ ما اَمْر اللّٰہ‘‘ انکی زند گی کو محیط ہے ۔ رہے انسا ن تو انہیں اجا ز ت نہیں کہ اپنے کسی الہا م یا اطلا ع علی الغیب کی بنیا د پر شر عی احکا م کی مخالفت کر ے ۔یہ وہ امر مسلم ہے جس پر نہ صر ف تما م علما ئے شر یعت متفق ہیں بلکہ اکا بر صو فیا ئ بھی متفقہ طو ر پر اسی کے قائل و معتر ف ہیں ، چنا نچہ صا حب تفسیر ر و ح الما نی ، علا مہ محمو د آلو سی نے بڑ ی تفصیل اور شر ح و بسط کے ساتھ و ضا حت کی ہے کہ عبد الوہا ب شعر ا نی (رح)، محی الدین ابن (رح) عر بی ، مجد د الف ثا نی (رح) ، شیخ عبد القا د رجیلا نی (رح) ، جُنید بغدا دی (رح) ، سَرِ ی سقطی (رح) ، ابوا لحسین النور ی (رح) ، ابو سعید الخرا ز (رح) ، ابو العباس احمد الدِنیو ا ر ی(رح) ، اور اما م غز ا لی (رح) جیسے نا مو ر بز ر گو ں سے یہ اقو ال منقول ہیں کہ اہل تصو ف کے نز دیک بھی کسی ایسے الہا م پر عمل کر نا خو د صا حبِ الہا م تک کے لیے جا ئز نہیں ،جو نص ِشرعی کے خلا ف ہو ﴿روح المعا نی پا رہ 16 �ò صفحہ18 تا16 ﴾ مطلب یہ ہے کہ ہما رے پا س اول تو کوئی معیا ر نہیں جس پر پر کھ کر ہم سمجھ لیں کہ یہ ولی ہے اور پھرا س کا بھی کو ئی پیما نہ نہیں کہ ہم جس پر ناپ کر کہہ سکیں کہ واقعی جو با ت یہ شخص کہہ رہا ہے ،الہا م ہے اور ہم یقین کر لیں کہ فلا ں لڑ کا آگے جا کر بد کا ر ہو جا ئیگا، ا س لیے اسے یہیں ما ر دیا جا ئے۔ اس طر ح تو جو شخص کسی کو قتل کر نا چا ہے گا اپنا کو ئی الہا م تر اش لے گا اور معاشرہ فسا د سے بھر جا ئے گا ۔ انبیا ئ علیہ السلام نے بھی کبھی ایسا نہیں کیا پھر کیا یہ سمجھ لیا جا ئے کہ تما م نسل انسا نی میں صر ف ایک شخص جسے خضر علیہ السلام کا نام دیا گیا ہے، ایسا کر سکنے کا اہل تھا ۔ اس لیے محققین کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ کوئی فرشتہ تھا انسان نہیں تھا ، جیسے فرشتے انسا نی شکل میں ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے۔ آپ نے انہیں انسان گما ن کیا اور ان کے لیے بچھڑ ے کا گو شت بھُون کر لے آ ئے یا جیسے یہ لو ط علیہ السلام کے پا س خو بصو ر ت لڑ کو ں کی شکل میں آئے ۔ قر آن میں ’’ عبداً منِ عبا دنا ‘‘ کے الفا ظ آئے ہیں بعض نے اس سے استد لال کر تے ہو ئے کہاکہ حضرت خضر انسان تھے لیکن ملا ئکہ بھی تو اللہ کے غلا م ﴿عبد﴾ہیں اور ان کے لیے قرآن حکیم ہی میں یہ لفظ استعمال ہواہے ۔مثلا ً سو رہ انبیا ئ آیت نمبر26 اور سو ر ہ ز خر ف آیت 19میں دیکھ لیجئے ۔ حضو ر �ö سے جو مستند ر و ایا ت مر و ی ہیں ،ان میں بھی کسی جگہ صراحت نہیں کہ حضرت خضر علیہ السلام انسان تھے ۔ زیا دہ سے زیا دہ رجل کا لفظ آیا ہے مگر یہ لفظ صر ف انسانوں کے لیے استعمال نہیں ہو تا سو ر ہ جن میں جنوں کے لیے بھی کہا گیا ’’رجا ل’‘ من الجن‘‘غر ض جن ہو یا فر شتہ جب انسا نی شکل میں آئیگا اُسے انسان ہی کہا جائے گا۔ حضر ت مر یم علیہ السلام کے سا منے جب فر شتہ آیا تو کہا گیافَتَمثَّلَ لَہاَ بَشَراً سَوِیَّا یہاں فر شتے کے لیے ’’بشر ‘‘ کا لفظ استعمال ہو ا ۔ پس حضو ر �ö کا یہ فر ما نا کہ وہا ں انہوں نے ایک ’’ رجل‘‘ کو پا یا قطعیت کے سا تھ یہ وا ضح نہیں کر تا کہ وہ شخص انسا ن ہی تھا۔ خضر کو انسان ما ن کر جو مشکل پیش آتی ہے اسکا ہم نے ذکر کر دیا ہے، اسے رفع کر نے کی بس یہی صو ر ت ہے کہ ہم اسے ایسی مخلو ق سمجھیں جو شر ا ئع کی مکلف نہیںبلکہ کار گا ہِ مشیت کی کا ر کن ہے ،جسے خداتکو ینی امو ر پر ما مو ر کر تا ہے۔ ابن کثیر نے ما و ر دی کے حوالہ سے یہی قو ل بعض متقد مین سے منسو ب کیا ہے۔ اب سو ال پیدا ہو تا ہے کہ آخر قرآن حکیم نے اس واقعہ کو بیا ن کس لیے کیاہے ؟ محقق متصو فین کہتے ہیں کہ اللہ ابنیائ کو اطمینا ن قِلب اور حق الیقین تک لیجا نے کے لیے ایسی عجیب و غر یب صو ر ت ِ حا ل سے دو چا ر کر دیا کر تا ہے، جیسے ابراہیم علیہ السلام کو چار پر ند و ں کے زند ہ ہو نے کا وا قعہ دکھا یا یا عز یز علیہ السلام کو طو یل نیند میں ڈا ل کر مر دہ گد ھے کے زند ہ ہونے کا وا قعہ دکھا یا ۔ اس واقعہ میں یہ دکھا نا مقصو د تھا کہ اللہ کا ئنا ت میں جو کچھ کر تا ہے وہ مبنی بر حکمت ہو تا ہے۔ صو فیا ئ نے اسی سے را ضی بر ضا رہنے کا نتیجہ اخذ کیا ۔تسلیم و رضاہی مو من کی شا ن ہے۔ اصفیا ئ کے متعلق تذ کر و ں میں کئی ایک کے متعلق بیان کیا گیا کہ جب انہیں تکلیف پہنچی تو انہوں نے صبر و شکر کا مظا ہر ہ کیا ۔ کتنے اولیا ئ کو جو ان بیٹے کی وفا ت کی خبر ملی اور انہوں نے خبر سُن کر نفل پڑ ھنا شر وع کر دئیے۔ یہی وہ صفا ئے با طن ہے جو صو فیا ئ کے لیے وجہ امتیا ز بنی۔ اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحیمی کو صو فیا ئ نے اپنی ذا ت میں منعکس کرنے کی کوشش کی اور اُسکی رحما نیت اپنا نے کی پو ر ی پو ری کو شش کی اللہ تعالیٰ کی رحمت سا ری مخلو ق کو اپنی چھا ئو ں میں سمیٹے رکھتی ہے۔ اُسے اپنی سا ری مخلو ق سے پیا رہے۔ اسلام کی تعلیم بھی یہی ہے کہ ’’ ا لخلق عیا ل اللہ ‘‘ ہے سا ری مخلو ق کنبہ خدا کا یہی تعلیم ہے جو وحد ت الو جو د کی بنیا دی بنی اور اسی کو پیش نظر رکھ کر اولیا ئ پو ر ی دنیا میں پھیل گئے۔ یہ ان کا حسنِ سلو ک تھا، کر امت و عظمتِ اخلاق تھی جس کے با عث لو گ جو ق در جو ق اسلام میں داخل ہو ئے۔ یہا ں آکر ملا ئیت اور صوفیت میں اختلا ف ہو ا۔ صو فیا ئ نے کسی تمد ن کی ایسی با تو ںکو نہ چھیڑ ا جواسلام کی رو ح کے خلاف نہیں تھیں۔ چھیڑنا تو کجا ان با توں میں اپنا حصہ ڈالا اور اُن لو گو ں میںگھل مل کر ، اُن کے دکھ در د میں شر یک ہو کر انہیں سید ھا رستہ دکھا یا جب کہ خشک مو لویوں نے لو گو ں سے نفر ت کی۔ غیرو ں کو اپنا بنا نا تو کجا چھو ٹی چھو ٹی با تو ں پر خو د مسلما نو ں پر کفر کے فتوے داغنے شر وع کر دئیے یُوں �ò امت کو چھا نٹ ڈا لا ، کا فر بنا بنا کر اسلام اے فقیہو ممنو ن ہے تمہا را انہوں نے احکا مِ اسلا م کی حکمت کو نہ دیکھا ،ظا ہر ی الفا ظ پر زو ر دا ’’ من حبر ا زا رہ‘‘ کیا تھا ؟ لو گ فخر و غر و ر اور کبر و نخوت سے اپنی چا د ر یں زمین پر گھسیٹ گھسیٹ کر اور پھیلا پھیلا کر چلتے تھے۔ اسے بڑے پن کی علا مت سمجھا جا تا تھا حضور �ö نے اس سے مما نعت فر ما ئی تو مطلب یہی تھا کہ اسلام میں بڑ ا چھو ٹا کوئی نہیں، سب بھا ئی بھا ئی ہیں سب برا برہیں۔ ملا ئیت نے اصل علت کو تو ر ہنے دیا مگر ٹخنوںسے تہبند کی اونچا ئی نا پنے لگے ۔یہ تھا وہ اصو لی اختلاف جس کی بنیا د پر پیکا رِ صو فی و مُلا چھڑ ی اور بیچارے صو فی ما رے جا تے رہے ۔ بہر حا ل اشا عت ِ اسلا م صو فیا ئ کے با عث زیا دہ ہو ئی اور اب تو تما م مو رخین اس با ت پر متفق ہیں۔ صو فیا ئ کی تا ریخ بڑی طو یل ہے مختصر ا ً یہ کہ دو سری صد ی ہجر ی میں صو فیا ئ کی جما عتو ں اور سلسلوں کا آغا ز ہو گیا تھا ۔ چونکہ یہ فطری امر تھا کہ لو گ جب کسی کے زہد و تقوٰ ی کا شہر ہ سُنتے تو دو ر و نز دیک سے کھنچے کھنچے اُس کے پاس پہنچتے۔ اس طر ح پیر ِ ی مرید ی کا ایک با قا عدہ نظا م قا ئم ہو گیا۔ ابتدا ئ سے ہی تصو ف کو مقبو لیت اور ہر د لعز یز ی حا صل تھی کیو نکہ تصو ف مسا وا ت ِ انسانی کے اسلامی تصو ر کا حقیقی علمبردار تھا اسکی نظر میں امیر ‘ غر یب‘ عالم ‘ جا ہل اور شر یف و ر ذیل کی وہ تمیز نہ تھی جو اسلام سے پہلے کے تما م مذہب میں کم و بیش ہر جگہ پا ئی جا تی تھی اور انہی کی دیکھا دیکھی مسلما نو ں میں بھی پیدا ہو گئی تھی۔ خلا فت کی بجائے ملو کیت کا دو ر دو ر ہ ہو اتو اسلام کے ستو ن کہلا نے والے علما ئ میں بھی یہ تمیز و تفر یق در آئی تھی اور وہ اسلام جو ان امتیازت کو مٹا نے آیا تھا ان کی آما جگا ہ بن گیا ۔ تصو ف اسکے خلا ف مسلسل احتجا جی تحر یک کا پیغامبر تھا۔ اس میں اخو ت اور مساوات تھی ۔ اس لیے خلقِ خدا کے اجتما عی ضمیر اور خا لق کا ئنات کی منشا کا ترجمان تھا۔ مسلمان در و یش اور فقرا ئ عوا م اور اسلام کی رُو ح کے صد اقت نا مے تھے جو دو لت پر ست با د شا ہو ں اور جا ہ پسند علما ئ و فقہا ئ کو انکی کو تا ہیوں پر برا بر متنبہ کر تے رہتے تھے ۔ اس لیئے بھی صو فیا ئ ایک طر ف شا ہا ن و ملو ک کے معتو ب تھے تودوسری طر ف علما ئ و فقہا ئ کے مغضو ب ‘عر صہ دراز تک یہ جنگیں رہیں ،صو فیا ئ پر فقہا ئ فتو ے صا در کر تے اور با د شا ہ انہیں قتل کر دیتے ۔منصو ر حلا ج اسی کا نشا نہ بنا ۔ اب ہم اِن تفاصیل سے قطع نظر کر کے ما ضی قر یب کے تصو ف کی ارتقائی تا ریخ کی طر ف متو جہ ہو تے ہیں۔ وحد ت الوجو د اپنی اصل صورت میں کچھ اور تھا لیکن عا م لو گو ں نے اسے غلط سمجھا ۔یہ گہر ا فلسفیانہ مو ضو ع تھا لو گو ں نے سمجھا اگر و حد ت الو جو د کو تسلیم کیا جا ئے تو ہر چیز پھر خدا بن جا تی ہے یہ با ت علما ئ و فقہا ئ کی تھی اور یہ اعتر اض وحد ت الو جو د کی اُس نازک خیا لی کو نہ سمجھ سکنے پر پیدا ہوا خو ا جہ حا فظ نے صحیح کہا �ò


محققین کے مطا بق منصو ر حلا ج کے ’’ انا الحق ‘‘ کا وحدت الو جو د سے کوئی تعلق نہیں کیو نکہ ’’ نمی تو ا ں کہ اشا رت با و کنند ‘‘ ہی وحدت الو جو د میں سب سے بڑی حقیقت ہے اور وہا ں کہنے والا اشا رہ کر کے دعوٰی کر رہا ہے ۔ منصو ر کا ’’ انا الحق‘‘ در اصل ایک صو فی کے اُن لمحا تی تجلی سے مسحو ر ہو کر مُنہ سے نکل جا نے والا ویسا ہی بے اختیا ر ر و بے سا ختہ جملہ تھا جیسا حضرت بایز ید بسطا می کی زبا ن سے نکل گیا کہ ’’ سبحا نی ما اعظم شانی ‘‘ یہ مقدر کہ با ت ہے کہ منصو ر کو دا ر نصیب ہو ئی اور بسطا می ایسی سزا سے بچ گئے۔ ایسے اقوا ل جو بے اختیا ری اور بے سا ختگی میں مسحو رِ تّجلیٰ ہو کر زبا ن سے نکل جا تے ہیں، صو فیا ئ کے ہا ں ’’شطحیات ‘‘ کہلا تے ہیں ۔ خیر یہ الگ بحث ہے ۔ ہم کہہ یہ رہے تھے کہ وحد ت الو جو د کا نا زک فلسفہ عا م علما ئ و فقہا ئ کی فہم سے با لا تر تھا اسلیئے وجو د ی صو فیوں کی طو یل مصیبتوں کا دو ر شر و ع ہو گیا ۔ تصو ف اور روا یتی اسلا م میں دو ر دو ر تک مغائر ت آگئی اور بڑا بعد پیدا ہو گیا ۔ محی الد ین ابن عر بی کا فلسفہ زیا دہ تر عد م تفہیم کا شکا ر رہا۔ ان کے بعد عبد الکر یم الجیلی کی انسا نِ کامل دراصل دونو ں انتہا ئو ں کا فا صلہ پا ٹنے کی کو شش ہے اس طر ح و حد ت الشہود کی بات نکل آئی اور لو گو ں نے سمجھا ،یہ نیاتخیل ہے، حا لا نکہ وحد ت الو جو د اور و حد ت الشہو د میں بہت کم فر ق ہے دو نو ں کا مظقی نتیجہ ایک ہی ہے کہ خدا کے سوا کو ئی مو جو د حقیقی نہیں ،رہا انسا ن کا مل کا خیال تو یہ خیا ل بھی الجیلی کا اپنا خیال نہیں یہ خیال بھی بڑا قد یم ہے، اور اسکی اصل نو ستک فلسفہ میں ہے ،جسکی بنیا د قد یم مصر ی ’ یو نا نی امتزا ج پر ہے۔ نو سس ﴿عر فا ن یا معر فت﴾ اگر چہ یو نا نی لفظ ہے لیکن نو ستک تخیل قدیم مصر یو ں کا ہے یعنی انسا ن نے کسی اعلیٰ رو حا نی در جہ سے تنز ل کیا ہے اور اُسے دو با رہ کھو ئی عظمت حا صل کر کے اپنا کما ل بحا ل کرنایا انسان کا مل بننا ہے ۔عیسا ئیوں میں جنا ب مسیح علیہ السلام کی ذ ا ت کا تخیل بھی انسان کا مل ہی کے طو ر پر تھا ۔اسلام میں یہ پہلے شیعو ں کے تصو را مامت میں درآیا۔ جیلی کے مطا بق حضرت محمد �ö کی ذا ت ہی انسا ن کا مل ہے اور ہر زمانہ کا غو ث یا قطب حقیقت محمد ی کی مجا زی صو ر ت ہو تا ہے چنا نچہ الجیلی کہتے ہیں کہ خو د انہیں حضرت محمد �ö کی ذا ت اپنے پیر شمس الد ین جبرتی کی شکل میں نظر آئی ۔ یوں وحد ت الشہو د تصوف اور مذہب کی صلح کا با عث بنا۔ بر صغیر کے صو فی خا نو ادو ں میں سب سے زیا دہ قد یم قا د ر یہ ، چشتیہ ، سہر وردیہ اور افا عیہ ہیں یہ سلسلے مسلما نو ں میں تصو ف کے با قا عدہ آغا ز سے صد یو ں بعد پیدا ہو ئے اس وقت تک تصو ف کے تمام نظر یا ت اور عملیا ت تر تیب و تنظیم پا چکے تھے ۔ صو فیا ئ کاعا م طو ر پر خیا ل ہے کہ صو فی خر قہ کی اصل ایک گلیم سیا ہ یا منقش ہے جو جنا ب رسو ل اکر م �ö نے جنا ب علی المرتضیٰ کو فر ما ئی تھی اور پھر یہ مشا ئخ عظام کو سلسلہ در سلسلہ منتقل ہو تی رہی ان کا خیا ل ہے کہ یہ خر قہ اسرا ر ِ نبو ت و ولا یت کا نشان تھا ۔ بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ خر قہ حضور �öکو شب معرا ج میں اللہ تعالیٰ کی طر ف سے ملا تھا۔ صو فیا ئ کے متذ کرہ بالاسلسلوں میں ایک اور سلسلہ نقشبند یہ کا بھی اضا فہ ہو ا ۔صر ف یہی ایک ایسا خا نوا دہ ہے جو اپنا سلسلہ جنا ب صد یق اکبر سے ملا تا ہے لیکن اس خانوادہ کے تین مختلف شجر ے سا منے لا ئے جا تے ہیں ،جن میں ایک کی نسبت حضرت صد یق اکبر (رح) سے اور با قی دو کی جنا ب علی المر تضٰی (رح) سے بتا ئی جا تی ہے۔ جنا ب علی المر تضیٰ(رض) کے بعد بر صغیر کے صو فیا ئ چا ر ا شخا ص کو خصو صیا ت سے چا ر پیریا چار خلیفہ کا لقب دیتے ہیں وہ چا ر یہ ہیں۔ جنا ب حسن (رض) بن علی المر تضٰی(رض) ، جنا ب حسین بن (رض) علی المر تضٰی(رض) ، حضر ت خوا جہ حسن بصری (رض)اور خوا جہ کمیل بن زیا د(رض) ۔خوا جہ حسن بصر ی(رض) کے دو مشہو ر خلیفہ تھے خوا جہ عبد الو ا حدبن زید اور خوا جہ حبیب اعجمی ۔اول الذکر سے پانچ خانوا دے منسو ب ہیں یعنی زید یہ ، عیا ضیہ ، اد ہمیہ ، ہبیر یہ ، اور چشتیہ ۔ثا نی الذ کر سے نو خا نوا دے منسو ب ہیں حبیبیہ ، طیفو ریہ ، کرخیہ، سقطیہ جنید یہ ، گا ز ر ونیہ ، طو سیہ ، فرد و سیہ ، سہرو ر دیہ ۔ یہ چو دہ خا نوا دے قد یم اور اصل سمجھے جا تے ہیں با قی پھر ان کی شاخیں چلتی ہیں مثلا ً قا دریہ خا ند ا ن جو ہند و ستا ن میں بہت محتر م و مقتدر ہے ،حضرت شیخ عبد القا در جیلا نی محبو ب سبحا نی سے منسوب ہے جنکا انتقا ل 561 �÷ ھ میں ہو ا۔ چشتیہ خانوا دہ قد یم تر ین ہے کیو نکہ وہ خو ا جہ اسحا ق شا می چشتی سے منسو ب ہے جنکی سن وفا ت 329 ہجر ی ہے ۔بر صغیر میں یہ حضرت خوا جہ معین الد ین چشتی سے شر و ع ہوا۔ خوا جہ غر یب نو ا ز کی ولا دت 537 �÷ ھ اور وفا ت 633 �÷ ھ میں بتا ئی جا تی ہے ۔وہ غا لبا ً سیستا ن میں پیدا ہو ئے ،خر ا سان میں نشو و نما پا ئی اور ہند وستا ن میں اجمیر میں فیض رسا نی کر تے ہو ئے یہیں وفا ت پا ئی۔ سہر و ر دیہ خا نوا دہ شیخ شہا ب الد ین عمر سہر و ر دی سے منسو ب ہے جن کا سنِ وفا ت 632 �÷ ہجر ی ہے ۔خیا ل رہے کہ شہا ب الد ین سہر و ر دی نا م کے دو مختلف آدمی ہیں ایک یہی شیخ شہا ب الد ین عمر سہرو ر دی ہیں جنکی مشہو ر کتا ب ’’ عو ا ر ف المعا رف ‘‘ تصو ف کے مکا تب میںمد تو ں داخل در س رہی اور جس کی بہت سی صو فیا نہ شر حیں لکھی گئیں ۔دو سرے شہا ب الد ین سہر و ر دی وہ ہیں جو فلسفہ ئِ اشرا ق کے مفسر ہیں اور جنہیں اپنے عہد کے علما ئ کے فتو یٰ پر عمل کر تے ہو ئے صلیبی جنگو ں کے مشہور کُر د فا تح سلطا ن صلا ح الد ین ایو بی نے قتل کر ا دیااور ہما رے اکثر صاحبانِ علم نے ان دو آد میوں کو نا مو ں کے ایک ہو نے کے با عث ایک فر د سمجھ لیا ہے اور یہ غلطی فلسفہ ئِ عجم میں علا مہ اقبال جیسی معتبرشخصیت سے بھی ہو ئی ۔ سہر و ر دی خا نوا دے کو بر صغیر میں شیخ بہا ئو الد ین زکر یا نے متعا رف کر ایا جو شیخ شہا ب الد ین سہر و ر دی کے خلفا ئ میں سے تھے ۔انکا انتقا ل 666 �÷ ہجر ی میں ہوا ۔ان کا مز ا ر ملتا ن میں ہے۔ اکثر بے شرع اور ملا متیہ صو فی گر وہ مثلا ً رسو ل شا ہی وغیر ہ خا نوا دہ سہر و ر دیہ سے ہی ملحق خیا ل کیے جا تے ہیں۔ خا نو ا دہ نقشبند یہ کے شیخ الشیو خ خوا جہ بہا ئو الد ین نقشبند تھے جن کی ولا دت 718 �÷ ھ اور وفا ت 791 �÷ ھ میں ہو ئی۔ روحانی سلسلہ حضرت با یز ید بسطا می تک پہنچتا ہے ۔کہا جا تا ہے کہ حضرت با یز ید بسطا می کو حضرت اما م جعفر صا دق سے فیض حا صل ہوا ۔اگر چہ حقیقت یہ ہے کہ حضر ت اما م جعفر صا د ق کا انتقا ل حضرت با یز ید بسطا می کی ولا د ت سے بر سو ں پہلے ہو چکا تھا مگر نقشبندی سلسلہ میں ایسے تا ریخی معا ملا ت کوئی حیثیت نہیں رکھتے کیو نکہ وہ کہتے ہیں اس قسم کی فیض رسانی کیلئے با ہمی ملا قا ت کو ئی ضر و ر ی نہیں ۔خوا ب میں رو حا نی ملا قا ت بھی ہو سکتی ہے اور فیض بھی حا صل کیا جاسکتا ہے۔ علیٰ ھذا القیا س حضرت امام جعفر صا دق کو قا سم بن محمد بن ابو بکر کا مر ید اور اسے یعنی قا سم بن محمد بن ابو بکر کو حضر ت سلما ن فا ر سی کا مر ید تسلیم کیا جا تا ہے حا لا نکہ تا ریخی طو ر پر یہ دو نو ں با تیں بھی انتہا ئی بعید از قیا س ہیں۔ اسی طرح یہ روایت بھی نا قا بل اعتبا ر ہے کہ حضرت با یز ید بسطا می سے خر قۂ خلا فت ابو الحسن خر قا نی کو ملا حا لا نکہ ابو الحسن خر قا نی بھی حضرت با یز ید بسطا می کی وفا ت کے بعد پیدا ہو ئے ۔اس طر ح نقشبندیہ کا وہ شجر ہ جو عا م طو ر پر مر و ج ہے با لکل غیر مستند ہے لیکن جیسا کہ عر ض کیا جا چکا ہے نقشبند یہ سلسلہ کے دو اور شجر ے بھی بتا ئے جا تے ہیں ۔ایک وہ جو جنید بغدا دی ، سر ی سقطی اور معرو ف کر خی کے وا سطہ سے جنا ب علی رضا تک اور پھر آخر میں جنا ب علی المر تضٰی تک پہنچا تے ہیں بر صغیر میں نقشبندیہ تما م صو فی سلسلوں سے زیا دہ با شر ع ہو نے کا دعوٰی کر تے ہیں محققین کا خیا ل ہے کہ یہ متذ کرہ با لا چو دہ سلسلوں سے خا رج ہیں۔ وسط ہند میں نقشبندیہ کے حقیقی با نی خوا جہ عبید اللہ احرار تھے جن کا ا میرتیمو ر کے پڑ پو تے ابو سعید مر ز اپر بہت اثر تھا۔خواجہ عبید اللہ کے جا نشین ان کے فر ز ند خو اجہ یحییٰ ہو ئے۔ انہیں اور انکی اولا د کو ملا شیا نی خا ن از بک نے قتل کرا دیا اسکے بعد یہ سلسلہ پھر مشکو ک ہو جا تا ہے ،تا ہم کسی نہ کسی طر ح خو اجہ با قی با للہ اور ان کے خلیفہ شیخ احمد سر ہند ی تک پہنچتا ہے جو ستر ھو یں صد ی عیسو ی میں آتے ہیں اور بعد میں مجدد الف ثا نی کے نا م سے مشہو ر ہو تے ہیں۔ در و یش اور صو فی بر صغیر کے علا وہ تما م مسلما ن مما لک میں پا ئے جا تے ہیں اور مسلما نو ں کی مذہبی اور معا شر تی زند گی پر ان کا بہت گہر ا اثر پڑا ہے قا در یہ ، سہر و ر دیہ اور چشتیہ خانقا ہیں تقر یبا ً تما م مسلما ن مما لک میں پا ئی جا تی ہیں با لخصو ص شما لی افر یقہ ، مصر اور اُن مما لک میں جہا ں تر ک اور تا تا ر ی پا ئے جا تے ہیں تصو ف کا بڑ ا اثر ہے۔ حجا ز، نجد اور یمن میں تصوف کا ذوق نسبتا ً کم ہے اور مو جو دہ دو ر میں اسکی وجو ہا ت واضح ہیں کیو نکہ سعو دی عر ب میں نجدی خا ند ان آل سعو د کی حکو مت ہے اور وہ محمد بن عبدالو ہا ب کے مسلک کی پیر وی میں خا نقا ہو ں کو ختم کر نے اور صو فیا ئ دشمن مشہو رہے۔











سلسلہ ہا ئے ار بعہ کی خصو صیا ت

بر صغیر میں یہ رو اج عا م رہا ہے کہ ایک سلسلہ سے وا بستہ فر د کسی دو سرے سلسلہ میں بھی مر یدہو جا تا ہے۔ شا ہ ولی اللہ نے تو یہ کہا کہ وہ بیعت لیتے وقت تما م سلسلو ں کے بز ر گو ں کا نا م لیتے کہ سب کا فیض شا مل حا ل ہو۔ ان ر حجا نا ت کے نتائج یہ ہو ئے کہ ایک سلسلہ کی پا بند ی نہ رہی لیکن اسکے با وجو د ان کے طر یق ہا ئے ذکر و عبا دا ت میں فر ق و امتیا ز ہے۔ چشتیہ :۔ ان کے ذکر میں جب کلمہ ئ شہا دت کا ورد شر وع ہو تا ہے تو الا اللہ پر خا ص زو ر دیا جا تا ہے اور عمو ما ًان الفا ظ کو دہراتے ہو ئے سر اور جسم کے با ئیں حصہ کو حر کت دی جا تی ہے ۔اس سلسلہ میں سما ع کا روا ج ہے اور ان پر سما ع کے وقت عجیب و جدا نی کیفیت طا ر ی ہو جا تی ہے بلکہ جب وجد حا ل تک پہنچتے ہیں تو یہ تھک کر چو ر ہو جا تے ہیں ۔اس سلسلہ کے درو یش عمو ما ً رنگ دا ر کپڑ ے پہنتے ہیں اور ہلکے با دا می رنگ کو تر جیح دیتے ہیں۔ سہر و ر دیہ :۔ ان کے ہا ں سا نس بند کر کے اللہ ہو کا ور د کر نے کا بڑ ا رو اج ہے ۔ویسے یہ ذکر جلی بھی کر تے ہیں اور ذکر خفی بھی۔ سماع سے بے تو جہی بر تتے ہیں ۔تلا وت قر آن پر خا صا زور دیتے اور تا کید کر تے ہیں ۔ قا در یہ :۔ اکثر سنی علما ئ اسی سلسلہ سے وا بستہ ہیں ۔قا در ی حضر ا ت سما ع با لمز ا میر کے خلا ف ہیں ۔مو سیقی بغیر آلات کے سنتے ہیں۔ قا در ی در و یش سر پر سبز پگڑ ی با ندھتے ہیں۔ اور انکے لبا س کا کو ئی نہ کو ئی حصہ با دا می رنگ کا ہو تا ہے۔ ان کے ہا ں بھی ذکر جلی اور ذکر خفی دو نو ں جا ئز ہیں ۔ نقشبند یہ :۔ ذکر جلی کے خلا ف ہیں ۔ذکر خفی کر تے ہیں ان کے ہا ں مر شد مر ید و ں کے سا تھ بیٹھتا ہے اور تو جہ الی البا طن سے انکی رہنما ئی کر تا ہے۔ یہ اپنے آپکو بہت پا بند شر یعت بنا نے کی کو شش کر تے ہیں ۔ با لعمو م مر اقبہ میں آنکھیں بند کر کے یا نگا ہیں زمین پر جما کر بیٹھتے ہیں مو سیقی اور سما ع سے پر ہیز کر تے ہیں۔ بیعت کے وقت تما م سلسلوں میں سر تر شوا یا جا تا ہے، تو بہ کر ائی جا تی ہے اور کو شش کی جا تی ہے کہ بیعت سے نئی رو حا نی اور اخلاقی زند گی کا آغا ز ہو ۔


سلسلۂ عالیہ قا در یہ نو شا ہیہ

سلسلۂ عظمی نو شا ہیہ سلسلہ ئ عا لیہ قا در یہ کی ایک ذیلی شا خ ہے۔ سلسلۂ عا لیہ قا در یہ بھی با قی سلسلوں کی طر ح با ب العلم جناب علی المر تضیٰ کر م اللہ وجہہ کے وا سطہ سے حضور رحمت عا لم �ö تک پہنچتا ہے ۔ مر ید ان ِ با صفا کے لیے حضرت سید ابو الکما ل بر ق قا در ی نو شا ہی بحر العلو می نے اسے ایک دعا میں منظو م کر دیا ہے اور اسے سرا ج السا لکین حضرت پیر سید معرو ف حسین شا ہ عا ر ف تک پہنچا یا گیا ہے۔ ہم پو ر ی نظم نقل کر رہے ہیں۔ بسم اللہ الر حمن الر حیم یا الہٰی کر م فر ما مصطفےٰ کے وا سطے مشکلیں حل کر سبھی مشکل کُشا کے وا سطے حسن بصری و حبیب عجمی و حضرت شا ہ دا ئو د خو اجہ ئِ معر و ف کر خی با صفا کے وا سطے شا ہ سر ی سقطی ، جنید و شیخ شبلی ، بو الفضل بو الفر ح ، بو الحسن شا ہِ اولیا ، کے وا سطے چشمہ ئِ رشدو ہد ایت خو اجہ ئِ ما بو سعید غو ث اعظم پیر پیرا ں راہنماکے وا سطے سید عبد الوہا ب و سید صو فی با کمال عا ر ف حق ِ ، سید احمد پیشو ا کے وا سطے سید ی مسعو د حلبی اور سید شا ہ علی حضرت شا ہ میر قبلہ بے ریا کے واسطے سید شمس الد ین اور سید محمد غو ث شا ہ شا ہ مبا رک حضرت معر وف شا ہ کے وا سطے شاہ سلما ں نور ی و حا جی نو شہ گنج بخش شا ہ ہا شم شا ہ سعید پُر ضیا کے واسطے سید ابرا ہیم ، سید ملک شا ہ ، سید حسن اور غلا م شا ہ محمد مقتدا ئ کے وا سطے سید السا دات قطب ِ اولیا بحر ا لعلو م شا ہ چر اغ دیں محمد پا ر سا کے وا سطے مطلع ِ انوا رِ وحدت پیر سید بو الکمال یعنی حضرت بر ق شا ہ با رضا کے و ا سطے سا لک را ہِ طر یقت وا قف اسرا ر حق سید ی معر وف عا ر ف مہتدا کے وا سطے یا الہٰی با ب ِ رحمت ان بز ر گو ں کے طفیل کھول دے بیکس ، غر یب وبے نوا کے واسطے التجا ئ مسکین کی میرے خدا یا کر قبو ل عا ر فا نِ سلسلہ ئ ِ نو شا ہیہ کے وا سطے ﴿نقل از شجر ہ شا ئع کر دہ الحا ج صو فی محمد یو نس اویسی قا دری نو شا ہی نا ظم شعبہ نشر و اشا عت سلسلہ عا لییہ نو شا ہیہ بحر العلومیہ بریڈ فو ر ڈ انگلینڈ﴾ اس منظو م شجر ہ کی تفا صیل یہ ہیں ۔ ۱﴾ سید کا ئنا ت حضو ر سر و ر ِ عا لم �ö ۔م۔ ربیع الا ول 11 �÷ ھ مد فن پاک مد ینہ منو رہ ﴿عر ب﴾۔ ۲﴾ ابو الحسن حضرت علی المر تضٰی م ۱۲ رمضا ن ۰۴�÷ ھ مد فن نجف اشر ف ۔ ۳﴾ ابو محمد حضرت خوا جہ حسن بصر ی م ۴ محر م ۱۱۱�÷ ھ مد فن زبیر ہ ﴿بصر ہ﴾۔ ۴﴾ ابو نصر حضرت حبیب اعجمی م ۳ ربیع الثا نی ۶۵۱�÷ ھ بغدا د ۔ ۵﴾ ابو سلیما ن حضرت خوا جہ شا ہ دا ئو د الطا ئی م ۸۲ ربیع الا ول ۵۶۱ �÷ ھ بغدا د ۔ ۶﴾ ابو المحفوظ حضرت خو اجہ معر وف کر خی م ۲ محر م ۰۰۲�÷ ھ محلہ کر خ بغدا د ۔ ۷﴾ ابو الحسن حضرت شا ہ سر ی سقطی م ۳ رمضا ن ۳۵۲ �÷ ھ گو ر ستا ن شو نیز یہ بغدا د ۔ ۸﴾ ابو القا سم سید الطا ئفہ حضرت خوا جہ جنید بغدادی م ۷۲ رجب ۷۹۲�÷ ھ گو ر ستا ن مثو نیز یہ بغدا د ۔ ۹﴾ حضرت خوا جہ ابو بکر و لف شبلی م ۸۲ ذو الحجہ ۴۳۳ �÷ ھ مقبر ہ خیز ران بغدا د ۔ ۰۱﴾ حضرت ابو الفضل عبدا لو ا حد تمیمی م ۹ جما دی الا خر یٰ ۵۲۴ �÷ ھ مقبر ہ اما م احمد بن جنبل ۔ ۱۱﴾ حضرت خوا جہ ابو الفر ح طر طو سی م ۔ ۳ شعبا ن ۷۴۴�÷ ھ طر طو س ۔ ۲۱﴾ حضرت خوا جہ ابو الحسن علی الہکا ری م یکم محر م ۶۸۴�÷ ھ بغدا د ۔ ۳۱﴾ حضرت خو اجہ ابو سعید مبا ر ک مخر می م ۷ محر م الحرا م با ب الا ج بغدا د ۔ ۴۱﴾ غو ث الا عظم محبو ب سبحا نی حضرت شیخ عبد القا د ر جیلا نی م ۱۱ ربیع الثا نی بغدا د ۔ ۵۱﴾ حضرت سید سیف الد ین عبد الو ہا ب م ۔ ۵ شو ال ۳۹۵�÷ ھ بغدا د ۔ ۶۱﴾ حضرت ابو نصر سید صفی الد ین صو فی م ۳ رجب ۱۱۶�÷ ھ بغدا د ۔ ۷۱﴾ حضرت سید ابو العبا س احمد م ۵۲ رجب ۰۳۶�÷ ھ حلب اقد س ۔ ۸۱﴾ حضرت ابو البر کا ت سید مسعو د الد ین م ۵ شعبا ن ۰۶۶�÷ ھ حلب اقد س ۔ ۹۱﴾ حضرت سید ابو الحسن علی م ۲ محر م ۵۱۷�÷ ھ حلب اقد س۔ ۰۲﴾ حضرت ابو عبد اللہ سید شا ہ میر م ۸ فر و ر ی ذی قعد ۶۶۷�÷ ھ حلب اقد س ۔ ۱۲﴾ ابو محمد حضرت سید شمس الد ین اعظم م ۵۸۸�÷ ھ حلب اقدس ۔ ۲۲﴾ ابو عبد اللہ حضرت محمد غو ث بند گی م ۷ رجب ۳۲۹ �÷ ھ اُچ شر یف پاکستان ۔ ۳۲﴾ حضرت سید مبا ر ک حقا نی م ۹ شوا ل اُچ شر یف پاکستان ۔ ۴۲﴾ قطب الکو نین حضرت سخی شا ہ معر و ف ۰۱ محر م ۷۸۹ �÷ ھ خو شا ب شر یف پاکستان ۔ ۵۲﴾ شیخ المشائخ حضرت سخی شا ہ سلما ن نو ر ی م ۷۲ رمضا ن ۲۱۰۱�÷ ھ بھلوا ل شر یف پاکستا ن ۔ ۶۲﴾ اما م سلسلہ نو شاہیہ مجد دِ اعظم حضرت سید نو شہ گنج بخش قا دری م ۵ ربیع الا ول ۴۶۰۱�÷ ھ رنمل شر یف ضلع گجرات۔ ۷۲﴾ محد ث اعظم حضر ت سید محمد ہا شم در یا دل سجا دہ نشین اول م ۲۹۰۱ �÷ ھ ر نمل شریف تحصیل پھا لیہ ضلع گجرا ت ۔ ۸۲﴾ حضرت سید محمد سعید شا ہ دُو لا نو شہ ثا نی م ۹۲ ذیقعد ۸۴۱۱ �÷ ھ رنمل شر یف ضلع گجر ا ت ۔ ۹۲﴾ فقیرا عظم حضرت حا فظ سید محمد ابرا ہیم شاہ نو شا ہی م ۳۰۲۱�÷ھ رنمل شر یف ۔ ۰۳﴾ حضرت حا فظ سید خا ن محمد ملک شا ہ نو شا ہی م یکم محر م ۸۷۲۱�÷ ھ رنمل شر یف ۔ ۱۳﴾ حضرت حا فظ سید محمد حسن محمد شا ہ نو شا ہی م ۔ ۴۱ شعبا ن ۴۶۲۱�÷ ھ رنمل شر یف ۔ ۲۳﴾ قطب التکو ین حضرت سید غلا م محمد شا ہ نو شا ہی م ۲۱ ربیع الا ول ۱۸۲۱�÷ ھ ٹھیکر یا ں شر یف مقبو ضہ کشمیر ۔ ۳۳﴾ غوا ص بحر ہو یت حضرت سید نصیر الد ین احمد بحر العلوم نو شاہی ۳ ذو الحجہ ۰۴۳۱�÷ ھ چک سوا ر ی شر یف ضلع میر پور ۴۳﴾ قطب الا قطا ب حضرت سید چر اغ محمد شا ہ نو شا ہی م ۔ ۲۱ ربیع الثا نی ۶۶۳۱�÷ ھ چک سوا ر ی شر یف ۔ ۵۳﴾ مبلغ ِ اسلام حضرت سید ابو الکما ل بر ق نو شاہی سجا دہ نشین در با ر نو شاہی ڈو گہ شر یف ولا دت ۶ محر م ۳۴۳۱�÷ ھ ۶۳﴾ سر اج السا لیکن حضرت پیر سید معر و ف حسین شا ہ عا ر ف نو شا ہی ۹۲ ربیع الاول ۵۵۳۱ �÷ ھ ﴿حا ل انگلینڈ﴾ ﴿نقل از شجر ہ طیبہ شا ئع کر دہ الحا ج صو فی محمد یو نس اویسی قا دری نو شاہی نا ظم شعبہ نشر و اشا عت سلسلہ عا لیہ نو شاہیہ بحرا لعلو میہ بر یڈ فو ر ڈ انگلینڈ﴾ ّّّ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔





اُچ شر یف اور سلسلہ ٔعا لیہ قا دریہ

بر صغیر میں اسلام کے قد یم تر ین گہو ا رے سند ھ اور ملتا ن تھے۔ یہا ں اقصا ئے عالم سے علما ئ و مشا ئخ و ارد ہو تے رہے ۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہاں با لخصو ص ملتا ن میں با طنی ، اہل تشیع وغیر ہ بکثر ت آگئے تھے اور بہت جلد سند ھ ا ور ملتا ن پر قراعطہ قا بض ہو گئے تھے ۔ مغر بی پنجا ب میں اشا عتِ اسلا م کا بڑ ا مر کز ’’اُچ ‘‘ تھا جو پنجا ب کے پانچ در یا ئو ں کے سنگم پنجند کے قر یب ایک قدیمی قصبہ ہے۔ شیخ محمد اکر ام ایم اے ڈی لٹ لکھتے ہیں۔ ’’ اگر سند ھ میں شیخ ابو ترا ب کے مزا ر کو شما ر نہ کیا جا ئے تو سر زمین ہند و پا کستان میں سب سے قد یم اسلا می زیا ر ت گا ہ ’’ اُچ ‘‘ ریاست بہا و لپو ر میں شیخ صفی الد ین حقا نی گا زر و نی کا مزا ر ہے ‘‘ ﴿آبِ کو ثر طبع ثا لث 72 ﴾ یہ شیخ صفی الد ین حقا نی گا زرو نی کو ن تھے ۔ مو لو ی محمد حفیظ الد ین بہا و لپو ر ی لکھتے ہیں۔ ’’ شیخ صفی الد ین مشہو ر صو فی بز ر گ خو اجہ ابو ا سحا ق گا ز ر و نی کے مر ید ا ور خوا ہر زا دہ تھے، جو اپنی تبلیغی اور رو حا نی کوششوں کے لیے شہر ہ آفا ق ہیں ۔شیخ صفی الد ین 962 �÷ ئ میں پیدا ہو ئے ،ستر ہ بر س کی عمر میں اُچ شر یف لا ئے اور 1007 �÷ ئ میں وفات پا گئے ‘‘﴿تا ریخ اُچ ص40 ﴾ سلطا ن المشا ئخ حضرت خوا جہ نظا م الد ین محبو ب الا ولیا کی ز با نی ایک حکا یت نقل ہو ئی ہے کہ ’’ ایک مر تبہ اُچ میں ایک جو گی شیخ صفی الد ین گا زرو نی کی خد مت میں آیا اور بحث شر و ع کر دی اور شیخ سے کہا ‘‘ اگر تم سچے ہو تو کو ئی کرا مت دکھا ئو انہوں نے فر ما یا دعوٰ ی تم لے کر آئے ہو تم کو ئی کر ا مت دکھا ئو اس پر وہ جو گی زمین پر سے سید ھا اوپر کو اُڑا اور پھر اپنی جگہ پر آبیٹھا اور کہا کہ تم بھی کچھ دکھا ئو ۔ شیخ نے آسمان کی طر ف منہ کر کے در گا ہ با ر ی تعا لیٰ میں التجا کی کہ اے پر و ر د گا ر تو نے بیگا نو ں کو یہ طاقت عطا کی ہے مجھے بھی کچھ عنا یت کر دیجیے، بعد ازا ں شیخ اپنی جگہ سے قبلہ رُخ اڑے، پھر مشر ق کی سمت ،پھر شما ل کو، پھر جنو ب کی طر ف اور پھر اپنی جگہ پر آگئے۔ جو گی یہ دیکھ کر قا ئل ہو گیا اور کہا میں تو صر ف سید ھا اوپر کو اٹھ سکتا ہو ں آپ ہر سمت اڑ سکتے ہیں وا قعی آپ سچے ہیں اور ہم با طل ‘‘ ﴿فو ائد افواد بحو الہ آبِ کو ثر 73﴾ یہ رو ایت نقل کر کے شیخ محمد اکر ام لکھتے ہیں۔ ’’ فو ائد فواد میں سلطا ن المشا ئخ کے ملفو ظا ت و ا ر شا د ات مشہو ر فا ر سی شا عر امیر حسن سنجر ی نے سلطا ن المشا ئخ سے سُن کر بڑی احتیا ط سے تر تیب دیئے تھے ۔با لعمو م اس میں وہ وا قعا ت ہیں جو سلطا ن المشا ئخ یا ان کے مر شد شیخ کبر ِ با با فر ید گنج شکر یا ان کے معا صر ین کو پیش آئے ۔اس میں خا ر قِ عا د ت و ا قعا ت بہت تھو ڑے ہیں لیکن شیخ صفی الد ین اور سلطان المشا ئخ کے درمیان دو صد ی کا بعُد تھا۔ ان کے متعلق وہ پو ری تحقیق نہ کر سکتے تھے ۔لہٰذاجو رو ا یت سلطا ن المشائخ نے اپنے بز ر گو ں سے سنی بیا ن کر دی ‘‘ ﴿حا شیہ آب کو ثر 73﴾ خیر یہ کر ا مت صا د ر ہو ئی ہو یا نہ ہو ئی ہو، ہمیں اس سے بحث نہیں۔ ہمیں اُچ شر یف میں اشا عت اسلام کے مو ضو ع سے مطلب ہے۔ شیخ عبد الحق محد ث دہلو ی لکھتے ہیں۔ ’’ قصبہ ئِ اُچ ‘‘ کی بنیا د شیخ صفی الد ین گا ز ر و نی نے رکھی ۔ان کے ما مو ں شیخ ابو اسحا ق گا ز ر و نی نے انہیں نعمتِ خلافت سے فیض یا ب کر کے حکم دیا کہ تم اُونٹ پر سوا ر ہو جا ئو اور او نٹ جد ھر لے جا ئے اُسی طر ف چلتے جا ئو جب او نٹ اُ چ کی سر ز مین میں پہنچا تو ایسا بیٹھا کہ اُٹھنے سے انکا ر کر دیا، شیخ نے یہیں تو طن اختیا ر کیا ،عما ر تیں بنوا ئیں اور اس جگہ کو آبا د کیا ‘‘ ﴿اخبا ر الا خیا ر 205﴾ لیکن حقیقت یہ ہے کہ قصبہ اُچ کی تا ریخ یہاں سے شر و ع نہیں ہو تی یہ ان شہر و ں میں سے ہے جنکی آبا دی کو سکند ر ِ اعظم سے منسوب کیا جا تا ہے۔ یہ قصبہ کئی دفعہ اجڑا اور کئی دفعہ آبا د ہو ا۔ اسکے آس پا س کئی آبا دیاںہوئیں، ممکن ہے شیخ صفی الد ین نے پرانی آبا دی سے دو ر کوئی بستی بسا ئی ہو ۔ قصبہ اُچ میں سلسلہ ئِ عا لیہ قا د ر یہ کے مشا ئخ بھی آئے اور خلق خدا کو فیضیا ب کیا۔ شیخ محمد اکرا م لکھتے ہیں۔ ’’ اُ چ قد یم قصبہ ہے ‘‘ ’’ اُ چ ‘‘ کے دو بڑ ے حصے ہیں ایک گیلا نیہ کہلا تا ہے اور ایک بخا ریہ۔ گیلا نیہ وہ حصہ جہا ں قا در یہ سلسلہ کے بز ر گ رہتے ہیں۔ ﴿آبِ کوثرصفحہ 276﴾

گیلا نیہ ،مشا ئخِ قا در یہ کا آبا د کر دہ ہے جو شیخ عبدالقا در دجیلا نی ﴿گیلا نی﴾کی نسبت سے گیلا نیہ کہلا یا دو سرا حصہ بخا ریہ اس لیے کہلا تا ہے کہ یہاںسہر و ر دیہ سلسلہ کے بز ر گ سید جلا ل الد ین منیر شا ہ سر خ بخا ری ،جو شیخ بہا ئو الد ین زکر یا ملتانی کے خلیفہ تھے آکر آبا د ہو ئے تھے ۔ 

سلسلہ قا در یہ کے شیخ طر یقت حضرت محمد غو ث بند گی بھی اُچ شر یف میں وا ر د ہو ئے۔ اُن کی تا ریخ وفا ت بمطا بق شجر ہ محو لہ سا بقہ ۷ رجب ۳۲۹�÷ ھ ہے ۔وہیں انکا مز ا ر ہے ۔ا ما م سلسلہ نو شا ہیہ مجد دِ اعظم حضرت سید نو شہ گنج بخش قا ر دی ۵ربیع الا ول ۴۶۰۱ �÷ ھ کو رنمل شر یف ضلع گجر ا ت میں وا صل بحق ہوئے۔ ان کا مز ا ر شر یف ر نمل میں ہے۔با قی سلسلہ ہا ئے مقد سہ کی طر ح سلسلہ قا د ریہ نے بھی تبلیغ و اشا عت اسلام میں بڑی سر گر می سے حصہ لیا۔ سلسلہ ئِ قا د ریہ کے مشا ہیر کی فہر ست بہت طو یل ہے ان میں شیو خِ طر یقت، علما ئو فقہا ئ، ادبا ئ ، شعر ا ئ سبھی لو گ پیدا ہو ئے لیکن چو نکہ ہما را موضو ع سلسلہ ئِ عا لیہ نو شا ہیہ قا دریہ ہے، اس لیے ہمیں اسی سلسلہ تک محدو د رہنا ہے، اس سلسلہ کے بز رگا نِ دین کا اجما لی تعارف کچھ یُو ں ہے۔







تمہید سلسلہ ئ نو شا ہیہ

یو ں تو ہر روز لاکھوں لو گ پیدا ہو تے ہیں اور لا کھو ں مو ت کی تا ر یک وا دیوں میں اتر جا تے ہیں ، مگر زمین جب سور ج کے ارد گر د سینکڑ وں چکر مکمل کر تی ہے ،چا ند کر ہ ئ ارض کے ارد گر د ہزا رو ں مر تبہ گھوم لیتا ہے تو پھر کہیں جا کر کو ئی ایسی پر نور اور ضیا بخش شخصیت جنم لیتی ہے جو نئے دور کی خا لق بن کر ایک عظیم تا ریخ کی تمہید بن جا تی ہے۔ عمر ہا در کعبہ و بت خا نہ می نا لد حیا ت تا ز بز م عشق یک دا نا ئے را ز آید بر و ں

وہ ایک بر کتو ں سے بھر ا ہوا دن تھا جب وقت نے کر ب کے دو ز خ میں صد یو ں تڑ پ تڑ پ کر اپنی گر دش مکمل کر لی تھی ۔ آسمان ِولا یت کے افق پر اس غیر فا نی شخصیت کی ولا دت با سعا د ت کی ابدا ٓشنا سا عت طلو ع ہو رہی تھی جس کی پیش گوئی آقا ئے نا مدا ر، پیغمبر انسا نیت، چا رہ سا زبیکسا ں حضور سر و ر کا ئنا ت محمد �ö نے صد یو ں پہلے فر ما د ی تھی۔ حد یث مبارکہ ہے 

قا ل رسو ل �ö یبعت رجلا علی احد عشر ما نۃ سنۃ ہو نو ر عظیم اسمہ اسمی۔ ﴿جا مع الدر د بحوا لہ روضیۃ القیومیہ﴾ تر جمہ :۔ ﴿رسو ل �ö نے ارشا د فر ما یا کہ گیا ر ہوں صد ی میں ایک مر د پید ا ہو گا جو بڑا نو ر ہو گا اور اس کا نام محمد ہو گا ﴾ اہلِ علم و دا نش اس با ت پر متفق ہیں کہ گیا ر ہو یں صدی میں جس پر نو ر شخصیت کی آمد کی پیشن گو ئی حضور �ö نے فر ما ئی تھی وہ مجدد اعظم سید نو شہ گنج بخش کی ذا ت گر امی تھی اگر چہ ان کی پیدا ئش دسو یں ہجر ی میں ہو ئی مگر انہوںنے گیارہویں صد ی میں تقر یبا ً نصف صد ی دین محمد ی کے فر و غ میں گز ا ر ی ۔ سوا س لیے یہ با ت طے پا گئی ہے کہ یہی و ہ شخصیت تھی جس کے را ستے میں وقت رو شنی اور پھول لے کر کھڑا تھا اور صد یا ں انتظا ر میں چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں ۔ �ò تھک گئی ہیں زمین کی آنکھیں آسما نو ں نے دیر کر دی ہے 959 ہجر ی میں رمضا ن المبا ر ک کی تقد س بھر ی پہلی تا ریخ حجلہ ئ وقت سے پر فشا ں ہو ئی اور تقو یم نے سلطنت فقر کے تاجدار کو تا ریخ کے سپر د کر دیا مت سہل ہمیں جا نو پھر تا ہے فلک بر سو ں تب خا ک کے پر دے سے انسان نکلتے ہیں خا نوا د ہ ئ رسو ل کا یہ آفتا بِ رو حا نیت جب طلو ع ہوا تو الو ہی آگہی کی کہکشا ئو ں نے بڑ ھ کے قد م چو م لیے ۔اس ولی ِ مادر زاد کی آمد نے دنیا ئے تصو ف کو اپنی زر تا ب شعا عو ں سے منو ر کر دیا ۔ زمین مو تیو ں سے بھر گئی، آسمان پر قو سِ قز ح کے دھنک رنگ لہک لہک اٹھے ، فضا خو شبو ئو ں سے معطر ہو گئی ، دلو ں کی تا ر یکیوں میں اجا لے بکھیر نے لگے اور اس نو ر مجسم کی ضیاپاشیو ں کے منتظر سینو ں میں صبحیں کر و ٹیں لینے لگیں ، رو حو ں کو آسو دگی ملنے لگی ۔۔۔۔۔ وہ خو رشید ِ تصو ف جب اپنی مکمل آب و تا ب سے فر وزا ں ہو ا تو دنیا میں کئی لاکھ افرا د کی قسمتیں سنو رگئیں ‘جہنم کی ہولناک گپھا ئو ں میں گر نے والے لوگوں کے لیے جنت ، فر دو س کے دروا ہو گئے ۔ انسانی تاریخ میں لاکھوں غیر مسلمو ں کو مسلمان کر نے کی عر فا ن و آگہی سے بھر ی ہو ئی کر ا مت وا ر د ہو ئی۔ جس نے پنجا ب اوراس کے گر د نوا ح کی کیفیت ہی بدل دی یہی لا کھو ں مسلما ن وقت کے سا تھ سا تھ کر و ڑ وں میں تبد یل ہو ئے اور انہی کی بد و لت پاکستان معر ض وجو د میں آیا، یعنی سید نو شہ گنج بخش کے اسی پرُ سعادت عمل کا نتیجہ ہے کہ بتکد ہ ہند میں اسلام کا قلعہ تعمیر ہوا ،پاکستان بنا ، کسی نے کیا خو ب کہا ہے یہ نو شہ گنج بخش کا ہے فیض ہند میں جو بھی کہیں ملا اسے مسلم بنا دیا شا م دیا ر ِ ہند میں صبحیں بکھیر کر سب کا فرو ں کو مو من اعظم بنا دیا اپنے عمل سے نسل کا با طن اجا ل کر نو شا ہی سلسلے کو معظم بنا دیا حضرت نو شہ گنج بخش کی ذا تِ گر امی پر لا کھوں لو گو ں نے نظم و نثر میں بہت کچھ لکھا ۔ مجھے اپنی خو ش بختی پر رشک آرہا ہے کہ میں بھی اپنے حقیر لفظو ں کے نذر ا نے لے کر حا ضر ہو نے کی سعا دت حا صل کر رہا ہو ں اور یہ سعا دت مجھے پیر ِطریقت ‘رہبر شریعت حضرت سید معر و ف حسین شا ہ نو شا ہی کی گلیوں کی گدا ئی سے ملی ہے۔ یہی گلی ہے ولا یت کے نُو ر سے معمور اسی میں فقر کے عا لم پنا ہ رہتے ہیں اسی کو کہتے ہیں در با ر شا ہِ نو شا ہی یہیں پہ حضرت معر و ف شا ہ رہتے ہیں اسی گلی میں طر یقت کا آشیا نہ ہے اسی میں رشد و ہدا یت کا آستا نہ ہے اسی سے ملتا ہے ہر اک کو حوصلوں کانور شکست خو ر دہ یہیں آکے ہو گئے منصو ر اگلے صفحا ت میں ’’ بر کت نامہ ‘‘ کے عنو ان سے سید نو شہ گنج بخش کی منقبت لکھی گئی ہے �ò گر قبو ل افتد ز ہے عز و شر ف

بر کت نامہ

منقبت سید نو شہ گنج بخش (رح) بر کتوں کا مطلع ئ انوا ر نو شہ گنج بخش (رح) ہند کی سب سے بڑی سر کا ر ۔ نو شہ گنج بخش(رح) جا نشین ِ غو ث اعظم (رح) ، افتخا ر ِ اولیا ئ وا قف اسرا ر د ر اسرا ر نو شہ گنج بخش(رح) حاکم مِلک شر یعت ، مالک ، شہر سلوک در سعا د ت نقطہ ئ پر کا ر نو شہ گنج بخش(رح) آفتا ب ِ فیض ِ عالم ہیں جہا ں پر غو ث پاک(رح) اُس فلک پر ثا بت و سیا ر نو شہ گنج بخش(رح) صر ف مشر ق میں نہیں ان کی ولا یت کا ظہو ر خا کِ مغر ب پہ بھی رحمت با ر نو شہ گنج بخش(رح) بر ق نو شاہی (رح) سے لے کر حضرت معر و ف تک نیکیوں سے اک بھر ا گلز ا ر، نو شہ گنج بخش(رح) چو متے ہیں حا ملانِ جبہ ود ستا ر پا ئو ں محتر م اتنا سگ ِ در با ر ، نو شہ گنج بخش(رح) عالم ِ لا ہو ت کی صبح مقد س ان کی ذا ت رو شنی کا نر م و حد ت زار ، نو شہ گنج بخش(رح) بخش دیں بینا ئی نا بینا ئو ں کو اک دید سے ہم نہیں کہتے ہیں او تا ر ،نو شہ گنج بخش(رح) ہر قد اس شخص کا پھر بخت آور ہو گیا مہر با ں جس پہ ہو ئے اک با ر، نوشہ گنج بخش(رح) زہد و تقو یٰ ، فقر و فا قہ اور عمل کے با ب میں اک مجسم نو ر کا اظہا ر ، نو شہ گنج بخش(رح) وہ مجد د ہیں ہز ا ر وں سا ل پر پھیلے ہو ئے یو ں سمجھ لو حا صلِ ادوا ر، نو شہ گنج بخش(رح) منز ل علم و فضلیت ، رو نق را ہِ سلو ک کشف ِ مصطفو ی (ص) کے پیر و کا ر ، نو شہ گنج بخش(رح) کہتے ہیں بے رو ح جسمو ں کو جگا تا تھا مسیح مر دہ دل کر دیتے ہیں بید ار نو شہ گنج بخش (رح) ہا ں ! سر تسلیم خم کر تا ہے در یا ئے چنا ب پانیوں کے جیسے ہیں مختا ر نو شہ گنج بخش(رح) غو ث ِ اعظم (رح) کے شجر کا خو شہ ئ فقر و سلو ک قا دری گلز ا ر کے پندا ر نو شہ گنج بخش(رح) شمع ِ عر فا ن الہی ، شب زدو ں کی رو شنی سا عتِ پر نو ر سے سر شا ر نو شہ گنج بخش(رح) دا ستا نو ں میں مر ید ِ با صفا ہیں آپ کے صا حبا ں مر ز ا کے بھی کر دا ر نو شہ گنج بخش(رح) جن و انسا ں ہی نہیں ہیں آپ کے خدا م میں آپ کے قد سی ہیں خد متگا ر نو شہ گنج بخش(رح) پا ئے نو شہ کے تلے بہتے ہیں در یا ئے بہشت سا قی ئ کو ثر (ص) کے ہیں میخو ار نو شہ گنج بخش(رح) آپ کا اسمِ گرا می وقت کے ہو نٹو ں پہ ہے تذ کر ہ کر تا ہے سب سنسا ر نو شہ گنج بخش (رح) صر ف یو ر پ ہی نہیں ہے آپ کے ہیں معتقد ہند سند ھ اور کا بل و قند ھا ر نو شہ گنج بخش(رح) حکمرا نو ں کی جبینیں ان کے در پہ خم ہو ئیں مو تیو ں والے سخی سردا ر نو شہ گنج بخش(رح) مو ج بن جا ئے گی کشتی تیر ے میرے وا سطے یو ں اتا ریں گے ہمیں اس پا ر نو شہ گنج بخش(رح) اس شجر پر مو سمو ں کی ضر ب پڑ تی ہی نہیں کس تسلسل سے ہیں سایہ دا ر‘ نو شہ گنج بخش(رح) انبسا ط و لطف کا پہلو جہا ں کے وا سطے نسلِ انسا نی کے ہیں غم خوا ر ‘نوشہ گنج بخش(رح) کیوں نہ ہو ں عر فا ن کے مو تی در و دیوار میں قصرِ نو شا ہی کے ہیں معما ر‘ نو شہ گنج بخش(رح) سلسہ نو شا ہیہ کا ہر جر ی ہے اولیا ئ لشکر ِ حق کے جو ہیں سا لا ر ‘نو شہ گنج بخش(رح) آپ کے در کے فقیر وں میں قطب اقطا ب ہیں کون عظمت سے کر ے انکا ر‘ نو شہ گنج بخش(رح) نو رو ں نہلا ئے ہو ئے چہر ے کی کر نیں اور ہم کیا صبا حت خیز تھے رخسا ر‘نو شہ گنج بخش(رح) آپکے فیض ِ نظر کی دا ستا ں اتنی ہے بس سب مسلما ں ہو گئے کفا ر ‘نو شہ گنج بخش(رح) اعتما دِ ذا ت کی کچھ غیر فا نی سا عتیں آپ کے دم سے کر امت با ر‘ نو شہ گنج بخش(رح) بد عقید ہ زند گا نی کی سلگتی دھو پ میں آپ ٹھہر ے سا یہئ دیوا ر ‘نو شہ گنج بخش(رح) ابن عر بی (رح) کے تصو ف کی کہا نی کیا کر وں ہیں عد م کا اک عجب اظہا ر‘ نو شہ گنج بخش(رح) مل گئی ان کی دعا سے کتنی دنیا کو شفا امتِ بیما ر کے عطار ‘نو شہ گنج بخش (رح) سن رہا ہوں آج تک عشق ِ محمد (ص) کی اذا ں مسجد نبوی کا اک مینا ر‘ نو شہ گنج بخش(رح) فر ض ہے ہر شخص پر ذکر گرا می آپ کا ایک اک نو شا ہی کا پر چا ر‘ نو شہ گنج بخش(رح) تر دما غو ں میں یہ صبح فکر کی رعنا ئیاں ٍٍٍ آپ کے بس آپ کے افکا ر‘ نو شہ گنج بخش(رح) معتر ف ہے ذہن انسا ں آپ کے عر فان کا دل غلا می کا کر ے اقرا ر ‘نو شہ گنج بخش(رح) خا کِ رنمل کو مسیحا ئی کی رفعت مل گئی ہیں وہا ں جو دفن زند ہ دا ر‘ نو شہ گنج بخش(رح) اک ذر اچشمِ عنا یت چا ہتا ہو ں آپ کی آپ کا مجھ کو کر م در کا ر ‘نو شہ گنج بخش(رح) کھو ل در واز ے جہا ں با نی کے میر ی ذا ت پر میں بہت ہو ں مفلس و نا دار‘ نو شہ گنج بخش(رح) چہر ہ ئ انوا ر کی بس اک تجلی دے مجھے خوا ب ہی میں بخش دے دیدا ر‘ نو شہ گنج بخش(رح) حضرت معر و ف نو شا ہی کی فر ما ئش ہو ئی پرُ سعا د ت یہ لکھے اشعا ر ‘نو شہ گنج بخش(رح) منقبت منصو ر پڑ ھ پو رے ادب آداب سے سن رہے ہیں شعر خو د سر کا ر‘ نو شہ گنج بخش(رح)

حضرت نو شہ گنج بخش سے شر و ع ہو نے وا لے اس سر چشمہ ئ رشد و ہد ا یت نے ہر دو ر میں بڑ ے بڑ ے با کما ل لو گو ں کو جنم دیا ہے ۔اس لڑ ی میں ایسی ایسی رو حا نی شخصیا ت پر و ئی ہو ئی ہیں کہ جن پر دنیا ئے تصو ف ہمیشہ نا ز کر تی رہے گی۔



حضرت خو اجہ محمد ہا شم در یا دل نو شا ہی(رح)

حضرت خو اجہ محمد ہا شم در یا دل نو شاہی سید نو شہ گنج بخش کے صا حب زا دے تھے۔ ان کی سخا وت کی وجہ سے دنیا انہیں در یا دل کے نا م سے پکا ر تی تھی ۔علم ظا ہر ی میں انہو ں نے اتنا کما ل حاصل کیا کہ اپنے وقت کے تما م فقہا اور محد ثین میں سب سے ممتا ز قر ار پائے ۔علم با طنی میں ان کی قدر و منز لت ایسی کہکشاں گیر رفعتوں کی حا مل ہے کہ تا ریخ کی کتا بیں ان کی کر امتو ں بھر ی پڑ ی ہیں۔ قطب المشا ئخ حضرت سید ابو الکما ل بر ق نو شا ہی ان کے قطعہ تا ریخ وفا ت میں لکھتے ہیں ۔ پیر ہا شم شا ہ سجا دہ نشین شیخ عا لم وا ر ثِ نو شا ہ دیں آں محد ث اعظم قطب نہا ں عا ر ف حق دستگیر بے کسا ں نا صر ِ ملت اما م اصفیا ئ عا شق ِ حق ، مخز ن جو دو سخا ئ عا لم و فا ضل فقیہ و راز دا ں نا ئب نو شا ہ عا لم بے گما ں گشت چو ں آں ما ہ تا با ں زیر خا ک و صلش آمد وا ر ثِ نو شا ہ پاک 1092 ھ حضرت سید محمد سعید شا ہ دو لا نو شہ ثا نی (رح)

حضر ت سید محمد ہا شم کے صا حب زا دے سید محمد سعید شا ہ دو لا نو شہ ثا نی (رح) کا خطا ب لے کر مسندِ ولا یت پر ظا ہر ہو ئے ۔ان کی نگاہِ فیض رسا ں کے کما لا ت سے ایک دنیا کے دل رو شن ہو ئے ۔ان کے متعلق کہا جا تا ہے کہ ان کی تیز نگا ہ جہاں پڑ جا تی تھی، وہیں دل اللہ کا ذکر کر نے لگتا تھا ۔ظا ہر ی اور با طنی علو م میں یگا نہ ئ رو ز گا ر تھے۔ ان کے رو حا نی کمالات کا شہر ہ چا ر دانگ عا لم میں تھا ۔ان کے مسند سجا دگی پر فا ئز ہو نے کے بعد نو شا ہیہ سلسلہ ئ سعا د ت مآ ب کو بہت زیا دہ شہر ت اور مقبو لیت حا صل ہو ئی ۔لنگر کے انتظا مات میں بہت وسعت ہو ئی۔ بے شما ر غیر مسلمو ں نے ان کے ہاتھ پر اسلا م قبو ل کیا۔ قطب المشا ئخ حضرت سید ابوالکما ل بر ق نو شا ہی نے ان کے قطعہ تا ریخ وفا ت میں انہیں صاحبِ دستا رِ شیخ اولیا ئ قر ا ر دیا اورا ن کی دو تا ریخ وفا ت نکا لی۔ سید عا لی نسب رو شن جبیں پیر دولا پاک سجا دہ نشیں نا صرِ دیں قطب عا لم مقتدا صا حب دستا رِ شیخ اولیا چو ں بجنت رفت آں مر د رشید گفت و صلش ’’ خو ر شید وحید‘‘ 1148ھ

ایضا ٍ بر ق سا ل انتقا ل آں مر د پاک گو ’’ جنا ب وا رث نو شہ پاک‘‘ 1148ھ




حضرت سید محمد ابرا ہیم نو شا ہی (رح)

حضرت سید محمد سعید دو لا کے بعد ان کے فر زند اکبر حضر ت سید محمد ابرا ہیم نو شا ہی شا ہ مسند نشین ہو ئے۔ وہ ایک بڑ ے عالم اور صاحب تصر ف بز ر گ تھے ۔چو دہ سا ل کی عمر میں علم و فنو ن میں یکتا ہو ئے اور دستا ر ِ فضلیت حا صل کی۔ فقہ میں ان کا کو ئی ثا نی نہیں تھا ۔فقہہ ئ اعظم کے لقب سے شہر ت حاصل کی ۔کشف و کر اما ت اور تصر فا تِ با طنی میں ان کی یکتا ئی بے مثا ل سمجھی جا تی ہے۔ قطب المشا ئخ حضرت سید ابو الکما ل بر ق نو شا ہی نے ان کے قطعہ تا ریخ وفا ت میں انہیں نو ر کبر یا فر ما یا ہے ۔

سید ابر اہیم نو ر کبر یا مخز ن عر فا ن قطب الا تقیا چو ں بگفتم ہا تفا ! وصلش بجو گفت سید افضل الفقہا بکو




حضرت سید حا فظ خا ن محمد ملک شا ہ

حضرت سید محمد ابر اہیم شا ہ کے بعد ان کے بیٹے سید حا فظ خا ن محمد ملک شا ہ سلسلہ ئ نو شا ہیہ کے ایک ایسے کا مل بز ر گ گزرے ہیں ،جن کی علمیت اور کشف و کر اما ت کا شہر ہ پو رے بر صغیر میں پھیلا ۔ وہ فقیہہ اور محد ث تھے اور ایک بڑ ے عر صہ تک دارالولا یت نو شا ہیہ میں در س و تد ر یس کا فر یضہ سر انجا م دیتے رہے۔ ان کے حلقہ ئ ادا ر ت میں ایک دنیا شامل ہو ئی ۔ قطب المشا ئخ حضرت سید ابو الکما ل بر ق نو شا ہی نے ان کے قطعہئ تا ریخِ وصا ل میں انہیں زا ہدِ خو ر شید عالم قر ا ر دیا ہے ۔ آں محمد ملک شا ہ حق نما عا ر ف حق صد ر بز م اتقیا بر ق خو رشید عالم بے مثا ل ’’ ز اہد خو رشید عا لم ‘‘ انتقال






حضرت حافظ سید حسن محمد شا ہ عا ر ف

ان کے بعد ان کے فر ز ند حضرت حا فظ سید حسن محمد شا ہ عا رف سجا دہ نشین ہوئے۔ نو سا ل کی عمر میں قرآن حکیم حفظ کیا۔ بہت بڑے زا ہد اور متقی تھے۔ ان کی کر اما ت بہت مشہور ہو ئیں وہ روز انہ کئی سو نفل پڑ ھتے تھے ۔ظا ہر ی اور با طنی علو م میں اپنے زمانے میں یکتا تھے۔ ا نہوں نے اللہ تعالیٰ کی اتنی عبا دت کی جو عا م آدمی کی دستر س سے باہرہے ۔اس لیے کہا جا تا ہے کہ قدرت نے انہیں عبا د ت کر نے کیلئے ایک ایسی رو حا نی قو ت عطا فر ما ئی تھی کہ وہ مسلسل نفل پڑ ھتے رہتے تھے لیکن نہ تو انہیں تھکاوٹ ہو ئی تھی اور نہ ہی ان کے پا ئو ں سو جھتے تھے ۔ان کی تا ریخ پیدا ئش 1194 ئ ہے۔ قطب المشا ئخ حضر ت سید ابو الکما ل بر ق نو شا ہی نے ان کے قطعہ تا ر یخ وفا ت میں انہیں اما م اولیا فر ما یا ہے۔ قطب المشا ئخ حضرت سید ابو الکما ل بر ق نوشاہی لکھتے ہیں۔

اما م او لیا ئ شا ہِ مکر م محمد حسن شا ہ عا ر ف معظم معظم بو د چو ں آں شا ہ والا وصا لش بر ق گو ’’ رو ح معظم 1264ھ




حضر ت سید غلا م شا ہ نو شا ہی

حضرت سید حسن شا ہ کے بعد ان کے بیٹے حضرت سید غلا م شا ہ نو شا ہی بھی بہت بڑے بز ر گ ہو ئے ۔انہیں قطب التکو ین کہا جا تا ہے ۔وہ مادر زا د و لی تھے۔ بچپن سے ان کی طر ف سے کر اما ت کا ظہو ر ہو نا شر و ع ہو گیا تھا ۔ان کی تا ریخ پیدا ئش 1219 ھ ہے ۔انہوں نے با رہ سا ل گو شہ ئ تنہا ئی میں اللہ تعا لیٰ کی عبا د ت کی۔ مضا فا ت راجو ری کے بیسیوں قبائل ان کے ہا تھ پر مسلما ن ہوئے انہو ں نے 1280 ہجر ی میں انتقا ل فر ما یا ۔







حضرت سید نصر الد ین بحر العلو م

حضرت سید غلا م شا ہ نو شا ہی کے فر زند حضرت سید نصیر الد ین ان کے بعد مسند نشین ہوئے ۔ان کی کنیت ابو المعصو م تھی اور لقب بحر العلوم تھا ۔ان کی والد ہ سید ہ گو ہر بی بی بھی ولیہ تھیں۔ ان کی زو جیت میں را بعۂ دور اں سید ہ حسن بی بی جیسی با کما ل خاتون تھیں۔ حضرت بحر العلو م کو علم لد نی میں بہت کما ل حا صل تھا۔ وہ بڑے جلا لی ولی تھے۔ ان کے سامنے کسی کو با ت کر نے کی جرات نہیں ہو تی تھی ۔ان سے سینکڑو ں کر ا مات کا صدو ر ہوا ۔قطب المشا ئخ حضرت سید ابو الکما ل بر ق نو شا ہی نے ان کے قطعہ تا ریخ و صا ل میں انہیں صد رِ شر یعت ، امیرِ ملت اور شمس ِطر یقت قر ا ر دیا ہے اور ان کی دو تا ر یخ وفا ت نکا لیںہیں۔

           امیر ملت ، صدر شر یعت                   شہ بحرا لعلوم پاک طینت 

وریفا ! حسر تا ! وا ر فت ازما اما م و مقتدا بد رِ حقیقت چو ں پر سید م ز و صلش گفت ہا تف بگو ’’ قطب علی شمس طر یقت ‘‘

مظہر عو ن ِالٰہی سید ی بحر العلوم ایضا ً از علا مات قیا مت ست انتقا ل او چو ں بجستم بر ق و صل آںشہ والا مقا م بنظرِعون الٰہی پاک آمدسال او




حضرت سید محمد چرا غ شا ہ (رح)

سید نصیر الد ین(رح) بحر العلو م کی وفا ت کے بعد سلسلہ نو شاہیہ کے سجا دہ نشین ان کے فرزند قطب اقطا ب حضرت سید محمد چر اغ شاہ (رح) بنے ۔وہ 1296 ھ میں رنمل میں پیدا ہوئے اور 1304 ھ میں اپنی وا لد ہ کے سا تھ چکسوا ر ی میں آگئے ۔وہ بہت زیا دہ عباد ت الٰہی میں مشغو ل رہنے والے بز ر گ تھے۔ ایک دن میں قر آن حکیم کے دس سپا ر وں کی تلا وت کر نا ان کا معمو ل تھا ان سے بے شما ر کر اما ت منسو ب ہیں ۔انہوں نے فقہ کے مو ضو ع پر بہت کا م کیا ۔وہ پنجا بی زبا ن کے قا د ر الکلا م شا عر تھے اور علم لد نی کے اسرار و رمو ز بھی جا نتے تھے ۔انہوں نے شجر ہ شر یف نو شا ہیہ ، سہ حر فی نو شہ گنج بخش ، مکتوبِ منظو م ، ملفو ظا تِ چراغ دین حبیب حق تعا لی بحر العلو م، شر ح صد سی مسئلہ مجر با ت ِ قا د ریہ اور آداب طر یقت کے نا م سے سا ت مقا مش بو د ، در اقطا ب با لا کتابیں تحر یر کیں۔ قطب المشا ئخ حضرت سید ابو الکما ل بر ق نو شا ہی نے ان کے قطعہ تاریخ وصا ل میں انہیں دین ِ محمد ی کا چر اغ قر ار دیا ہے ۔ زاولا دشہ نو شا ہ حا جی فرید الد ہر بو د آں شاہ والا وصا لش با بر ق از غیب ہا تف بگفتا ’’ رحلت مخدو م ‘‘ ۶۶۳۱ھ



حضرت سید ابو الکما ل بر ق نو شا ہی

قطب اقطا ب حضر ت سید چر اغ محمد شا ہ کے چا ر صا حب زا دے ہیں ۔فر ز ند اکبر سید پیر عالم شا ہ۔ ان کے بعد سید ابو الکما ل بر ق نو شا ہی ان کے بعد سید غلام سر و ر شا ہ اور چو تھے بیٹے سید معر و ف حسین شا ہ نو شا ہی ہیں اور دو صاحب زادیاں ہیں ۔ان کی وفات کے بعد سید ابو الکما ل بر ق نو شا ہی سجا دہ نشین ہو ئے ۔ سلسلہ ئ نو شا ہیہ کے ما ضی قر یب میں وصا ل پا نے والے یہ بز ر گ اپنے وقت کے نا بغہ روز گا ر تھے ۔ان کی ہزا ر پہلو شخصیت پر کچھ لکھتے ہو ئے مجھے بنجمن فر ینکلن کا ایک حو الہ یا د آر ہا ہے۔ اگر چہ ان دو نو ں شخصیا ت کی اپنی اپنی دنیا ہے مگر سید ابو الکما ل برق نوشا ہی کی ذ ات گرا می کو سمجھنے کیلئے اس حو الے سے مدد ضر و ر ملے گی ۔ بنجمن فر ینکلن کی شخصیت پر مختصر سے مختصر مضمو ن لکھنے کا عا لمی مقا بلہ فر ینکلن لا ئبر یر ی وا لو ں نے منعقد کر ایا جس میں فرٹے ڈی سکا ٹ کے مضمو ن کو سب سے بہتر سمجھا گیا اس مضمو ن میں بس یہی دو چا ر لفظ تھے۔ ’’میں سا ری را ت بنجمن فر ینکلن پر مضمو ن لکھنے کی کو شش کر تا رہا ۔صبح سو یر ے اٹھ کر گھر کے با غیچے میں گیا تو میرا سب سے چھو ٹا بیٹا گا لف ریڈ ما ئر ادھر ادھر بھا گتا پھر رہا تھا ۔وہ مٹھی بند کر تا تھا ور پھر کھول دیتا تھا میں نے پو چھا کہ بیٹے کیا کر تے پھر رہے ہو تو کہنے لگا کہ ڈیڈی سو ر ج کی شعا عو ں کو قید کر رہا ہو ں ، سو رج کی شعا عو ں نے تو کہا ں قید ہو نا تھا مگر میر ی سمجھ میں یہ با ت آگئی کہ بنجمن فر ینکلن پر کچھ لکھنا سو ر ج کی شا عو ں کو مٹھی میں بند کر لینے کے مترا د ف ہے ۔میرا قلم رک گیا اور میں نے را ت کے کا لے نیلے کئے ہو ئے تما م صفحا ت پھا ڑ دیئے ۔‘‘ ﴿ THE SUN WITH ITS RAYS﴾ سو سید ابو الکما ل بر ق نو شا ہی کی ہزا ر پہلو شخصیت پر کچھ لکھنا ،سو ر ج کی شعا عو ں کو مٹھی میں بند کر نے کے مترا دف ہے۔وہ عظیم المر تبت رو حا نی پیشوا تھے ۔ ایک صا حب معر فت دینی رہنما تھے ۔ علم طب میں انہیں کما ل ِخا ص حا صل تھا۔ خطا بت کے میدا ن میں ان کا کوئی ثا نی نہیں تھا ۔ ایسے شعلہ بیا ں مقر ر تھے کہ تقر یر کر تے ہو ئے پا نی میں آگ لگا دیتے تھے۔ شا عرِجا دو بیا ں تھے۔ ان کی پنجا بی اور فا ر سی زبا ن کی شا عر ی ادب ِ عا لیہ کا ایک حصہ ہے ۔مقا م معرفت کے اسرار و رمو ز سے کچھ ایسے آشنا تھے کہ ان کی گفتگو تر جما ن حقیقت کبر یٰ محسو س ہو تی تھی۔ ادب کے بڑ ے با ر یک بین نقا د تھے ایک مستند مورخ تھے ۔ ایک نکتہ سنج مفسرتھے ۔ اشہبِ تحقیق کے شہسوا ر تھے ۔ ایک مسلمہ مفتی کی حیثیت رکھتے تھے ۔علم الکلا م اور فلسفے پر ان کی اتنی گہری نظر تھی کہ مشکل معا ملا ت میں علی عبا س جلا ل پو ر ی تک ان سے مشو ر ہ لیتے تھے۔ علم نفسیا ت پر بھی انہیں مکمل عبو ر حاصل تھا ۔ ما ہر عمرا نیا ت بھی تھے ۔ صر ف و نحو اور منطق پر ان کی گفتگو سنو ر سنو ر جا تی تھی ۔ بلند پا یہ منا ظر اور ایک عظیم الشان مبلغ ِاسلام تھے۔ سو ایک شخصیت جو اتنے علو م و فنو ن میں یکتا ہو ا سکے با ر ے میں کچھ کہنا سو ر ج کو چرا غ دکھا نے کے مترا دف ہے ۔ اس نا بغہ روز گا ر شخصیت کے ہر عمل میں قدر ت کی ایسی کر م نوا زیا ں نظر آتی ہیں کہ حیر تو ں کے در وا ہو نے لگتے ہیں ۔ میں سمجھتا ہو ں کہ سو ر ج نے ان کا نا م آ سمان کی بے کر اں چھا تی پر اپنی سونے سے بنی ہو ئی کر نو ں کے سا تھ تحر یر کر دیا ہے۔ مر ے خو رشید کی زر تا ب شعا عیں چن کر ظلمت شب بھی اجالو ں کے کفن بنتی ہے اس کو کیا علم کہ سو ر ج کبھی بجھتا ہی نہیں وہ تو بہر ی ہے مر ی با ت کہا ں سنتی ہے سید ابو الکما ل بر ق نو شا ہی نے اپنی چا لیس سا لہ تصنیفی زند گی میں پانچ سو سے زا ئد تصا نیف زمانے کے حو الے کی ہیں۔ یہ کتابیں علم تفسیر، علم حد یث ، علم فقہ، علم تصو ف ، علم طب ، علم منطق، علم نحو، علم صر ف، سفر نا مے تذکر ے، سیر ت، منا قب و فضائل ، وعظ، عملیا ت، مکتاب اور تار یخ گو ئی کے مو ضو عا ت پر ہیں۔ انہو ں نے 1985 میں انتقا ل فر ما یا۔ را قم الحروف کو ان کے قطعہ تا ریخ وفا ت کہنے کی سعا دت بھی نصیب ہو ئی۔ حا صل ِعلم و فضیلت صا حب عِلم لِد نی ، حا ملِ کشف القبور وار ثِ فیضا ن نو شہ ، منزل اِسرا ر کے راہی کی ر حلت کیا ہو ئی سوگئے پھر شہر کن میں مومن شب زندہ دارو عاملِ تسخیرِ ذات کُھل گیا روحانیت کا’’ بابِ رحلت ،بر ق نو شا ہی کی رحلت‘‘ کیا ہوئی ۵۸۹۱ئ

ان کے وصا ل کے بعد سلسلہ ئ نو شا ہیہ کی سجا دگی کا اعزا ز حضرت سید معرو ف حسین شا ہ عارف کے حصے میں آیا ۔سلسلہ نوشا ہیہ کے انہی عا لی مر تبت سجا دہ نشین کے کا ر ہا ئے نما یا ں اس کتا ب کا بنیا دی مو ضو ع ہیں اور یہ طو یل تمہید اس لیے ضروری تھی کہ پڑ ھنے والو ں کو اس با ت کا احسا س ہو کہ اس شخصیت کا تعلق کس قسم کے رو حا نی خانوادہ سے ہے ،اس کے بزرگوں میں کیسے کیسے عظیم لو گ شا مل ہیں اس آسمان گیر سلسلے کے رو حا نی فیو ض و بر کا ت سے کتنی دنیا منور ہو ئی ہے ۔ یعنی یہ سلسلہ ،یہ خاندا ن صد یو ں سے گنا ہو ں کی شبِ تا ریک میں ثو ابو ں کے آفتا ب بکھیر تا چلا آرہا ہے۔ ان کے دروازے سے ایک دنیا دینِ مصطفوی کی رو شنی سے فیض یا ب ہو ئی ہے ۔گیا رہو یں صد ی سے تسلسل کے سا تھ چلتا ہو ا یہ سلسلہ ئ نو شا ہیہ کہیں رکا نہیں ۔ اس لڑ ی کا ہر مو تی ایک گہر بے قیمت تھا اور اس وقت یہ سلسلہ حضرت سید معر و ف حسین شا ہ عا ر ف نو شا ہی تک پہنچا ہو ا ہے۔ جنہو ں نے اس سلسلے کو بر صغیر سے نکا ل کر پو ر ی دنیا میں پھیلا دیاہے ۔







اجا لے کا پہلا قدم

دیکھتے ہیں حضرت ِ معر و ف شا ہ کے فیض سے کفر کی تہذ یب میں دین محمد کا وقا ر خیر و بر کت کی بستیا ں بسا نے والا ایک سیدزا دہ ، چک سوا ر ی کی گلیوں کو چھوڑ کر بد کا ر اور بد قما ش رو شنیوں کے جزیرے پروا ر د ہوا ۔ یو ر پ کے بہشت ِگنا ہ آبا دمیں ثو ابو ں کی خو شبو بکھر بکھر گئی۔ آسمانو ں پر کہیںاپنے بز ر گو ں کے کر م اکر ام کے سز اوار کے نا م ۔۔۔۔۔ دیا ر ِ شر اب وشبا ب میں جہا د ِ اکبرکی مجا ہد ت لکھ دی گئی ۔ چلتے چلتے وہ سید زا دہ ایک ایسے طلسم ہو ش ربا میں نکل آیا تھا جہا ں پھولو ں کا رو پ سر و پ رکھنے والے کا نٹو ں سے دا من بچا کر چلنا ،پلِ صر ا ط پر چلنے سے زیا دہ مشکل تھا۔ جہاں قد م قد م پر شر اب خا نے تھے ۔گلی گلی میں رقص گا ہیں تھیں۔ جہا ں ثو ا بو ں اور گنا ہو ں کے در میان کھنچی ہو ئی لکیر کلخا ئی رو شنی میں بدل چکی ہے، یعنی تا ریکی آمیز رو شنی ۔۔۔۔۔۔۔اور پھر اس سید زا دے کو اس گلگشت ِگنا ہ میں صر ف دین کی تبلیغ کے لیے ہی قریہ قر یہ نہیں گھو منا پڑ ا ،لقمہ ئ حلا ل کی تلا ش میں کا ر خا نو ں کی چمنیوں کے دھو یں کا سفر بھی کر نا پڑا ۔ بد ی کے ایک حشر آبا د ما حو ل کی سر مستی ورعنا ئی اور تن تنہا وہ سید زا دہ ۔۔۔۔ مگر دنیا نے دیکھا کہ کہیں بھی اس نو جو ان کے پائے استقا مت میں کوئی لغزش نہیں آئی۔ وہ را ت بھر کپڑ ے کی مل میں کا م کرنے کے بعد صبح اپنی نیند کو تج کر نیکیوں کی تقسیم کے لیے نکل پڑ تا تھا۔ اسے اپنے با طن میں چھپی ہوئی رو شنی بے چین کر دیتی تھی۔ سو نے نہیں دیتی تھی ۔ سو دل و دما غ میں بس یہی ایک بات منو ر تھی کہ اس را ت سے بھر ی ہوئی زند گی کو اجا لو ں کی ضر و ر ت ہے۔اور پھر اس سید زا دے کے عمل نے اسے ایک قا بل احتر ام شخصیت میں بد ل دیا۔ دنیا اب اسے پیر سید معر و ف حسین شا ہ نوشاہی کے نام سے جا نتی ہے ۔ پیر سید معرو ف حسین شا ہ نو شا ہی۔ 20 جو ن1936کو جنتِ کشمیر ﴿آزا د﴾کے شہر چک سوا ر ی میں پیدا ہو ئے ،مگر میرا مسئلہ یہ نہیں کہ وہ کب پیدا ہوئے، کہا ں پیدا ہو ئے ۔ میرے لیے یہی بہت ہے کہ ایک نیکیوں سے بھر ے ہو ئے شخص نے جنم لیا۔ ایک فقیر پیدا ہوا جس میں لو گو ں کے ہا تھو ں پہ رکھی ہو ئی دعا اور خدا کے درمیا ن رو شنی اور خو شبو کی طر ح وسیلہ بننے کی صلاحیت مو جو د تھی۔ ایک ایسے در و یش کی ولا د ت ہو ئی جس کی ظا ہر ی اور با طنی زند گی میں کہیں کو ئی عملی کم ما ئے گی نہیں دکھا ئی دیتی ۔ جس کا عمل اور جس کے لفظ پکا ر پکا ر کر کہہ رہے ہیں ،دیکھو کہ جو دیکھ سکتے ہو، سنو کہ جو سن سکتے ہو۔ یہ کوئی جوئے رو اں ہے، ازل سے ابد تک جا تی ہوئی جو ئے رو اں۔۔۔ یہ کو ئی محبت کا لا ز و ال سر چشمہ ہے جس کے سو تے کبھی خشک نہیں ہو تے ۔ یہ کوئی محبت کر نے والا شا عر ہے اور محبت کر نے والے کبھی نہیں مر ا کر تے، زمین کی چھا تی ان کے جذ با ت کو اپنے اند ر نہیں سنبھا ل سکتی ۔ تر کی زبان کے عظیم شا عر یو نس ایمر ے نے کہا تھا،

کیا میں کبھی پیدا ہو ا ہو ں۔ 

کیا میں کبھی مر سکتا ہو ں میں توایک جو ئے رو اں ہو ں جو ا ز ل سے ہے اور ابد تک بہتی چلی جا رہی ہے مجھے اس سے بھی کچھ غر ض نہیں کہ دیا ر کفر میں اسم محمد کا اجا لا پھیلا نے کے اس عمل میں کو ن کون ان کے ہم رکا ب تھا، کیونکہ ایسے لو گ فر دِ وا حد نہیں ،ایک زند ہ و تا بند ہ تحر یک ہو تے ہیں۔ عشق ر سول �öکے دھڑ کتے ہو ئے دل کا نا م ہوتے ہیں اور وہ تحریک، وہ دھڑ کتا ہو ادل اس وقت ہم سے مطا لبہ کر رہا ہے کہ دو ستو ! اس چشم و لب کی کچھ کہو جس کے بغیر گلستا ن کی با ت رنگیں ہے نہ مے خا نے کا نا م سلسلہ ئ نو شا ہیہ کے اس فقیر پر مبدا ئ فیا ض کی بے پا یا ں رحمتو ں کا نز ول ہو ا۔ قسمت مہر با ن تھی کہ وہ خا نوا دہ ئ غو ث اعظم کے چشم و چرا غ تھے۔ انہیں نو شہ گنج بخش کی وا رثت ملی ۔ وہ سید چرا غ عا لم شا ہ کے گھر میں پیدا ہو ئے اور قطب اقطا ب سید ابوالکمال بر ق شا ہ ان کے برا در بز ر گ تھے۔ انہوں نے اُس علمی ، مذ ہبی اور رو حا نی خا نوا دے میں آنکھ کھو لی جہا ں صر ف و نحو کی گر دانو ں سے لے کر علم لد نی تک قد م قد م پر بکھر ا ہو ا تھا۔ ما حو ل میں خو شبو ، رو شنی اور پاکیز گی رچی ہو ئی تھی۔ علم و ادب کے خزا نے انہیں ورثے میں ملے تھے۔انہیں اس خا ندا ن میں اٹھا یا گیا تھا جہا ں صد یو ں سے ما در زادو لی پید ا ہو تے چلے آر ہے تھے، جہا ں ما ئیں و ضو کئے بغیر بچو ں کو دو د ھ نہیں پلا یا کر تیں ۔ یعنی وہ ثو ا بو ں بھر ے آنگن میں کھیل کھیل کر بڑ ے ہو ئے ۔ ابتدا ئی تعلیم اپنے وا لد محتر م حضر ت پیر سید چرا غ عا لم شا ہ سے حا صل کی اور اپنے برادرم مکر م پیر سید ابو الکما ل بر ق شا ہ نوشا ہی سے سبق لینے لگے ۔والد گرا می کی وفا ت کے بعد پیر سید ابو الکما ل برق نوشاہی نے نہ صر ف ان کی علمی و ر و حا نی تز ئین کی بلکہ ان کی کفا لت کے تم معا ملا ت بھی اپنے ذمے لے لیے اور اس گو ہر نا یا ب کی ترا ش خر ا ش کا عمل شر و ع کر دیا۔ 28 جو ن 1953 کی ایک نیکیوں سے بھر ی ہو ئی اتوا ر کے دن پیر سید معر و ف حسین شا ہ نے اپنے رو حا نی سفر کا آغا ز کیا ۔جامع مسجد نو شا ہیہ ر نمل شر یف ضلع گجر ا ت میں اپنے بر ا ددر اکبر پیر سید ابو الکمال بر ق نو شا ہی کے ہا تھ پر سلسلہ ئ نو شا ہیہ کی بیعت کی اور را ہ طر یقت پر چل پڑ ے ۔ اپنے شیخ کا مل کی تو جہ ئ خا ص کی بد و لت بہت جلد طر یقت کی وہ تما م منا ز ل طے کر لیں جن کے لیے بر سو ں کی ریا ضت در کا ر ہو تی ہے اور خلا فت و نیا بت کے اعز از سے سر فرا ز ہوئے ۔ نگا ہِ مر دِ مو من کے کر شمے دیکھنے والو مسلسل ذکر میں مصر وف دھڑ کن کیسی لگتی ہے

بچپن سے لڑ کپن اور لڑ کپن سے جو انی تک آتے آتے اس رو حا نی تر بیت نے انہیں ذکر و فکر کے اس را ستے پر ڈا ل دیا تھا جہاں ہر قد م اجا لے کا قد م ہو تا ہے ۔جہا ں ہر نظر سو ر ج کی کر ن ہو تی ہے اور جہا ں ہر خیا ل کو ثر و تسنیم سے دھلا ہوا ہوتا ہے ۔

سو ر ج جہا ں ہے ذا ت اجا لے جہا ں قد م گر تا ہے جس مقا م پر صبحو ں کا آبشا ر





                                                                                                                                    ہجر ت

وہ گھر جہا ں آدمی پیدا ہو تا ہے۔ بچپن کاسنہرا دو ر گزا ر تا ہے ،جہا ں وا لد ین ہو تے ہیں، بہن بھا ئی ہو تے ہیں ہر آنکھ میں پیا ر اور ہر ہونٹ سے نکلی ہو ئی آواز میں مٹھا س ہو تی ہے، ہر لہجہ عسلِ مصفا ہو تا ہے اُس گھر کی محبت کس دل میں نہیں ہو تی ، وہ گلیاں جن میں معصو م کھیل کھیلے جا تے ہیں، ہجو لیوں کے قہقہے ہو تے ہیں، بے فکر ی کی بھو لپن بھر ی کہانیاں ہو تی ہیں، چھو ٹے چھو ٹے خو اب ہو تے ہیں، ننھی منی خو اہشیںہو تی ہیں اُن گلیوں سے کسے وا بستگی نہیں ہوتی، آ دمی اسی گھر اور اسی گلی کے توسیعی جذبات میں اپنے شہر اور پھر اپنے ملک کو شا مل کر دیتا ہے، اُسے ما د ر وطن کہتا ہے ۔ وطن کی اسی محبت سے اُس کشش اور جاذبیت نے جنم لیا جو ایک ملک میں رہنے وا لو ں کے لیے با عث ِ جا معیت اور وجہ اتحا دو اتفا ق بنی اور اس کے بعد اس نے رفتہ رفتہ ایسا استحکا م اور اتنی پختگی حا صل کر لی کہ قو میت کا انحصا ر و طن قرا ر پا گیا اور خدا کی یہ و سیع و عر یض زمین محض پہاڑوں اور دریا ئو ں کی لکیر وں سے ٹکڑ ے ٹکڑ ے ہو کر در ند و ں کا بھٹ بن گئی اور لو گو ں نے اِن لکیر وں کو وطن کی حدو د بنا کر تعصبا ت پا لنے شر و ع کر دیئے پھر یہ تعصبا ت فطر ت ثا نیہ بن کر اس نعر ہ کی تخلیق کا سبب بنے کہ My Country Right Or Wrong یو ں عد ل و انصا ف کے معا نی ہی بدل دیئے گئے ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسا ن کا گھر اسکی جنت ہے وہ جس جگہ رہتا ہے اسکی حفا ظت ضر و ر ی ہو تی ہے۔ وہ بڑ ے ار ما نو ں سے اپنا گھر بنا تا ہے اسکی ایک ایک اینٹ پر اپنی محبتوں کی کہانیاں لکھتا ہے وہ اس میں اپنی محنت و مشقت سے کما ئی ہو ئی دو لت سمیٹ کر محفو ظ رکھتا ہے یا اسکی زیبا ئش و آ ر ئش پر صر ف کر تا ہے وہ دن بھر مختلف جگہو ں پر اپنا خو ن پسینہ بہا تا رہتا ہے اور اس جا نفشا نی کے بعد سکو ن حا صل کر نے کے لیے اُسکے قد م اپنے اسی گھر اور اسی جنت کی طر ف اٹھنے لگتے ہیں وہ شا م کو بڑ ی بیتابی سے گھر کی طر ف لو ٹتا ہے جیسے پرندے شا م کو اپنے آشیا نو ں کی طر ف لوٹتے ہیں۔ ایک مسلما ن بلا شبہ اپنے گھر با ر سے محبت رکھتا ہے او ر اسکی حفا ظت ضر و ر ی سمجھتا ہے اور جس ملک میں اس کا گھر وا قع ہو تا ہے ا س سے بھی اُسے پیا ر ہو تا ہے لیکن اسکی محبت کا اصل محو ر اللہ کی رضا ہے ارشا د خدا وند ی ہے ۔

     یعِباَ دِ یَ الَّذِیْنَ آمَنُوْ اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَۃ’‘ فَا ِ یَّا یَ فَا عْبُدْون 29/56 

﴿اے میرے وہ بند و جو میرے قو انین کی صد اقت پر یقین و ایما ن رکھتے ہو یقینا میری زمین و سیع ہے ، پس تم میری اور صرف میری محکومیت اختیا ر کر و ﴾ جیسا پہلے لکھا جا چکا ہے آدمی کو گھر سے دل بستگی ضر و ر ہو تی ہے لیکن جب حکو مت اعلا ن کرتی ہے کہ خو فنا ک سیلا بی ریلا آرہا ہے تو ما ل و متا ع اور گھر با ر کی محبت کو اپنی زند گی پر قر با ن کر دیا جا تا ہے اور آدمی اپنی اور اپنے با ل بچوں کی جا ن بچا نے کے لیے گھر چھو ڑ نے میں ہی عا فیت سمجھتا ہے اور وہا ں سے نکل جا تا ہے ۔مسلما ن جا ن سے بھی زیا دہ ضر و ری حفاظت ایما ن کو سمجھتا ہے اور ہر ایک چیز اسی پر نثا ر کر دیتا ہے ۔یہا ں تو یہ عا لم ہو تا ہے �ò نک مہا ر سجن دی وار ث جتول کہو ے اُثول چل ﴿اے وا ر ث محبو ب نے ناک میں نکیل ڈا ل رکھی ہے وہ جد ھر کہے ادھر ہی چل ﴾ اسی چیز کو ہجر ت کہتے ہیں یہی انبیا ئ اور با لخصو ص جنا ب سر و ر ِ انبیا ئ�ö کی سنت ہے ۔

                            اِنّیِ ذَاہب’‘ اِلیٰ رَبّیْ
              ﴿میں اپنے رب کی طر ف جا رہا ہو ں﴾ یہی ہے اور 
                اِنّیِْ مُہَا جِر’‘ اِلیٰ رَبِیّْ اِنَہُ ھُوَ الْعَزِْ یز الْحَکِیمْo
       ﴿اپنے رب کی طر ف ہجر ت کر کے جا رہا ہو ں یقینا وہ غا لب اور حکمت وا لا ہے ﴾

انبیا ئ کی طر ح اولیا ئ بھی ہجر ت کر تے رہے ۔تبلیغ و اشا عت اسلام کے لیے بھی اور سلا متی جا ن و ایما ن اور حصو ل رزقِ حلا ل کیلئے بھی ۔ارشا دِ ربا نی ہے

      وَمَنْ یُہَا جِرْ فِیْ سَبِیْل اللّٰہِ یَجِدْ فِیْ الْاَ رْضِ مُرٰ غَماً کَثِیْرًاوَّسَعَہo 4/100

﴿اور دیکھو جو کوئی اللہ کی راہ میں اپنا گھر با ر چھو ڑ کر ہجر ت کر یگا تو اسے خدا کی زمین میں بہت سی اقا مت گا ہیں ملیں گی اور ہر طر ح کی کشا ئش پا ئیگا ﴾






ہجر تو ں کی کہا نی

یہ وا قعہ 14 اگست 1947 کے قر ب و جوا ر کا ہے ۔اس وقت پیر سید معر و ف حسین شا ہ کی عمر گیا رہ سا ل تھی۔ ان کے والد گر امی سید محمد چرا غ شا ہ کا انتقا ل ہوا اور انہیں اپنے خا ند ان کے سا تھ چک سوا ر ی کو الو د اع کہنا پڑ ا دراصل قیا م پاکستان کی وجہ سے کشمیر کے حا لا ت بھی بہت خر اب ہو گئے تھے ۔ڈو گر ہ حکومت نے مسلما نو ں پر مظا لم کی انتہا کر دی تھی اور کشمیر ی مسلما ن پاکستان کی طر ف ہجر ت کر نے پر مجبو ر ہو گئے تھے۔ ہر طر ف قتل و غا ر ت اور ظلم و تشد د کا با ز ا ر گر م ہو گیا تھا۔ چک سوا ر ی کا علاقہ بھی چو نکہ ڈو گر ہ حکو مت کے زیر اثر تھا اس لیے وہاںرہنا بھی مشکل ہو گیا تھا، خا ص طو ر پر پیر صا حب کے خا ندا ن کے لیے کیو نکہ اسلا م اور پاکستان کے سا تھ ان کی جو غیر مشر و ط محبت تھی وہ کسی سے پو شید ہ نہیں تھی، سو پیر صا حب نے پہلی ہجر ت کی اور اپنے خا ند ان وا لو ں کے سا تھ پا کستان آگئے ۔ پاکستان آکر ان کے خا ندا ن نے جہلم ضلع کے ایک معر و ف قصبے دینہ میں قیا م کیا ۔ ان کے بڑ ے بھا ئی سید ابو الکما ل بر ق نوشا ہی طب ِیو نا نی میں بھی بڑ ی مہا ر ت رکھتے تھے سو انہوں نے دینہ میں دو ا خا نہ کھو ل لیا اور قد و س ِ ذو الجلا ل نے ان کے دستِ مبار ک کو مسیحا ئی عطا فر ما دی ۔یو ں بہت ہی کم وقت میں وہ شفا خا نہ پو رے علا قے میں مشہو ر ہو گیا۔ کشمیر کے حا لا ت تبد یل ہوتے ہی1951میں پیر صا حب اپنے خا ند ان کے سا تھ وا پس چک سوار ی لو ٹ گئے ۔کچھ عر صہ چک سوار ی میں رہے اور پھر خا ندا ن کے سا تھ ٹھل شر یف میںسکو نت اختیا ر کر لی ۔ ٹھل ضلع جہلم کا ایک خو بصو ر ت قصبہ ہے۔ یہیں پیر صا حب نے اپنے برا در بز ر گ اور مر شدِ رو حا نی سیدا بو الکما ل بر ق نوشاہی سے تر بیت حاصل کی ۔ میٹر ک کا امتحا ن انہو ں نے گو ر نمنٹ ہا ئی سکو ل چک سوا ر ی سے پا س کیا ۔ اس کے بعد دا ر العلوم اہلسنت مشین محلہ جہلم شہر میں دا خلہ لے لیا اور بڑ ے بڑے جید اساتذہ سے تعلیم حا صل کی ۔اس کے بعد وہ مدر سہ غو ثیہ مور گا ہ را و لپنڈی میں آگئے جہا ں انہو ں نے مفتی صا دق گو لڑ وی جیسے صا حب بصیر ت و بصا ر ت سے اکتسا ب ِفیض کیا اور پھر اگلی منز ل کی طر ف رو انہ ہو گئے یعنی دا ر العلو م احسن المدا ر س را و لپنڈی میں پہنچ گئے جہا ں حضرت مو لا نا اللہ بخش ، حضرت مولانا حا فظ محمد عظیم اور حضرت مو لا نا اسرا ر الحق حقا نی جیسے نا مو ر اسا تذہ سے رو حا نی اور دینی علو م حاصل کیے ۔ مفکر اسلام حضرت عبدا لقادر جیلا نی سے فا رسی زبان کی تعلیم حا صل کی اور 1961 میں تمام علو م کی تکمیل کے اعزاز سے سرفراز ہو کر وا پس ٹھل شر یف چلے گئے مگر وہا ں قیا مت صغر یٰ کی صو ر تحا ل تھی ہر شخص کی زبا ن پر یہی تھا کہ منگلا ڈیم کی تعمیر ان کے گھروں کو بہا لے جا نے والی ہے۔ ان کے مکا ن، ان کے اجدا د کی قبر یں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پانی کے تلے آنیوا لی ہیں۔ وہ جو اپنے والد کی وفا ت کے بعد دو مر تبہ ہجر ت کے خو فنا ک عمل سے گز ر چکے تھے ایک تیسر ی ہجر ت انہیں دکھا ئی دے رہی تھی۔ ایک اور نقل مکا نی ان کے پا ئو ں میں تھی، ہجر تو ں کے اس تسلسل کو ختم کر نے کیلئے انہو ں نے ایک بڑ ی ہجر ت کا فیصلہ کیا اور اپنے برادر ِ بز ر گ پیر بر ق شا ہ کے مشو رہ سے بر طا نیہ جا نے کا پر و گرا م بنا لیا۔ یقینا پیر سید ابو الکمال بر ق شا ہ نو شا ہی کی دو ر س نگا ہ دیکھ رہی تھی کہ ان کا بر طا نیہ جا نا، سلسلہ نو شا ہیہ کے فیض کو عا لم گیر کر نے کی پہلی کڑ ی ہے اور پھر وقت نے یہ ثا بت کیا کہ اس ہجر ت نے سلسلہ ئ نو شا ہیہ کی شہر تیں چہا ر دانگ پھیلا دیں۔ ہجر ت کا عمل شرو ع ہوا پیر سید معر و ف حسین شا ہ نے بر طا نیہ ہجرت کی اور ان کا خا ندا ن ٹھل سے ہجرت کر کے ڈو گے منتقل ہو گیا یعنی ہجر ت مکمل ہو گئی بر طا نیہ میں اس نو جو ان کی آمد یقینا کئی تبد یلیوں کے امکان سا تھ لے کر آئی تھی ۔اس نو جو ان بھی نے ایک نئی دنیا سے متعا ر ف ہو نا تھا اور اس دنیا نے اس نوجوان کو بھی دیکھنا تھا کہ دنیا میں ایسے لو گ بھی ہو تے ہیں ۔ وہ نو جو ان بر طا نیہ کی گلیو ں میں گھو منے لگا اور یہ سو چنے لگا ۔ دیکھتا پھر تا ہو ں اک دنیا گنا ہو ں سے بھر ی یہ کہا ں لے آئے مجھ کو، ہجر تو ں کے سلسلے


              بر طا نیہ میں نو شا ہی رو شنی کی پہلی کر ن 

دو سر ی جنگ عظیم کے بعد لو گ کام کر نے کیلئے با قا عد ہ انگلستا ن آنا شر و ع ہو گئے تھے ،خا ص طور پر پچا س سے ستر کی دھا ئی تک بہت زیا دہ لو گ بر طا نیہ آئے ۔ ان کے آ نے کی و جو ہا ت دو طر ح کی تھیں ۔ ایک تو بر طا نیہ کی دم تو ڑ تی ہو ئی معیشت کو اپنی زندگی بچا نے کیلئے سستی اور بے زبا ن لیبر در کا ر تھی ا وربر طا نو ی حکو مت نے اس سلسلے میں بر صغیر پا ک و ہند سے یہ ضرورت پو ر ی کر نے کا فیصلہ کیا تھا ۔ دو سرا اس وقت پاکستان اور بر طا نیہ کے در میا ن ویز ے کی پا بند ی نہیں تھی کو ئی بھی شخص پاکستان سے یہا ں آکر آسا نی سے کا م ڈھو نڈ سکتا تھا اور پاکستان کے مقا بلے میں یہا ں کا م کر نے والے مز دو ر بہت زیا دہ اجر ت حاصل کر تے تھے ۔یہ 1960 کے مو سم سر ما کی دھو پ بھر ے دن کا وا قعہ ہے ۔ ایک شخص جو بر طا نیہ میں مز دو ر ی کر تا تھا کچھ دنو ں کیلئے واپس اپنے وطن گیا اور جب اس نے درِ نو شا ہی پر حا ضر ی دی تو اس کے بیٹھنے کیلئے با قا عدہ چا ر پا ئی پر چا در بچھا ئی گئی جو قد رے میلی تھی، جس پر اس شخص کے ما تھے پر شکنیں ابھر یں یعنی اس با ت پر نا لا ں تھا کہ وہ چا در میلی کیو ں تھی ۔ پیرسید معر و ف حسین شا ہ ،ان دنوں نو جو ان تھے انہو ں نے یا د کیا کہ یہ وہی شخص ہے کہ بر طا نیہ جا نے سے پہلے جب کبھی ہمارے پاس آتا تھا اور اسے بیٹھنے کیلئے خس کی بنی ہو ئی چٹا ئی مل جا تی تھی تو یہ اپنے لیے اعزا ز سمجھتا تھا اور آ ج جب اسے چادر کا میلا ہو نا پسند نہیں آرہا اس تبد یلی کے پس منظر میں اس شخص کی معا شی استقا مت ہے۔ چند سال بر طا نیہ میں مز دو ر ی کرنے کی وجہ سے یہ شخص اور اس کا خا ند ان ما لی طور پر اتنا مستحکم ہو گیا ہے کہ علا قے میں ان لو گو ں کی حیثیت بد ل کر رہ گئی ہے

اسکے سا تھ سا تھ پیر صا حب نے یہ بھی محسو س کیاکہ لو گ معا شی طو ر پر مضبو ط ہو تے جا رہے ہیں اور ان کا خا ند ان ہجر تو ں کے زخم کھا کھا کر اور نڈ ھا ل ہو تا جا رہا ہے اور پھر ایک ہجر ت سر پر کھڑ ی ہے سو پیر صا حب نے اپنے خا ندا ن کی معا شی حالت بد لنے کیلئے بر طا نیہ جا نے کا ذہنی طو ر پر فیصلہ کر لیا مگر قدر ت نے کچھ اور سو چ رکھا تھا قدر ت پیر صا حب کو صر ف معاشی استحکا م کیلئے بر طا نیہ نہیں بھیج رہی تھی وہ جا نتی تھی کہ آنے والے بر سو ں میں بر طا نیہ میں تبلیغ اسلام کے لیے اس نو جوا ن کی ضرورت ہے۔ اس نو جو ان کے حصے میں یو رپ کے کلیسا ئو ں میں اسلام کی شمع فر و ز اں کر نے کی سعادت لکھ دی گئی تھی ۔

پیر صا حب نے پا سپو ر ٹ کے لیے اپلا ئی کیا تو پا سپو ر ٹ آفیسر نے ان کا با ر یش چہر ہ دیکھ کر کہا ’’ کیا آپ بر طا نیہ میں نماز پڑھا نے جا رہے ہیں ‘‘ پیر صا حب نے کسی نہ کسی طر ح اس وقت تو پا سپو ر ٹ آفیسر کو مطمئن کر لیا لیکن اس وقت یہ با ت نہ وہ پاسپو رٹ آفیسر جا نتا تھا اور نہ پیر صا حب جا نتے تھے کہ قد وس ذوالجلا ل نے انہیں لا کھو ں افرا د کی نماز و ں کی تکمیل کیلئے منتخب کر لیا ہے۔ ان کے مقدر میں وہ سعا د ت رقم کر دی گئی ہے جو بر طا نیہ کی تا ریخ ان سے پہلے کسی کو حا صل نہیں ہو ئی۔ پیر صاحب بھی اس وقت کچھ نہیں جا نتے تھے کہ آنے والی صبحوں میں ان کے متعلق کیا لکھا ہوا ہے ۔ بر طا نیہ آنے سے پہلے پیر صا حب ایک شخص کو ملنے گئے جو تا زہ تازہ بر طا نیہ سے لو ٹ کر آیا تھا ۔وہ شخص جب بر طا نیہ گیا تھا تو اس کے چہر ے پر سنتِ رسول(ص) مو جو د تھی اور اب جب وا پس آیا تو اس نے کلین شیو کی ہو ئی تھی۔ پیر صا حب کو یہ با ت عجیب محسوس ہو ئی مگر اس با ت سے زیا دہ حیر ت وہا ں بیٹھے ہو ئے ایک نمبر دا ر کے عمل پر ہو ئی ۔ اس نمبر دا ر کو جب اس با ت کا علم ہوا کہ پیر صاحب بھی انگلستا ن جا رہے ہیں تو اس نے اس شیو کرا نے والے بر طا نیہ پلٹ شخص کی طر ف دیکھتے ہو ئے اپنے چہر ے پر ہا تھ پھیر تے ہو ئے اس طر ح کا تا ثر دیا کہ بر طا نیہ میں پیر صا حب کی دا ڑھی کا بھی وہی حا ل ہو گا جو ا س شخص کی دا ڑ ھی کا ہو ا ہے یعنی وہا ں جا کر پیر صا حب بھی کلین شیو ہو جا ئیں گے اور پھر وہ وقت بھی آیا جب پیر صا حب کی اس نمبر دا ر سے برطانیہ میں ملاقات ہو ئی اور انہو ں نے اپنی دا ڑ ھی پر ہا تھ پھیر تے ہو ئے، اسے اس با ت کا احسا س دلا یا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکر م سے یہ اسی طرح مو جو د ہے جس پر اس بیچا رے نمبر دا ر کو بے پناہ شر مند گی ہو ئی۔ لیکن اس شخص کی شر مند گی بہت کر بنا ک تھی جس نے نئے نئے آئے ہو ئے سید معرو ف حسین کا ایک دن زکام میں مبتلا دیکھ کر کہا ’’ تھو ڑی سی برا نڈی پی لیا کر و، یہ زکا م و کا م کبھی نہیں ہو گا ‘‘ اور پیر صا حب خا مو شی سے یہ جملے سن کر اس جگہ سے چلے گئے۔ مگر کئی بر سو ں کے بعد وہی شخص رو تا ہو ا پیر صا حب کی خد مت میں حا ضر ہو ا کہ حضور میرے لیے دعا کر یں مجھے میر ی بیوی اور بچے ما رتے ہیں اور گنا ہو ں کی دلد ل میں دھنسے جا رہے ہیں۔ مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آ تا کہ میں کیا کر وں پیر صا حب نے اس کے لیے دعا کی لیکن اسے یہ بھی ضر و ر کہا کہ آدمی جس طر ح کی فصل بوتا ہے اسی طر ح کی فصل کا ٹتا ہے اور پھر ایک دن اس شخص نے اپنی بیو ی اور بیٹی کو قتل کر دیا اور با قی زند گی بر طا نیہ کی جیلوں میں گزا ر دی ۔ پیر صا حب 26اپر یل 1961میں انگلستا ن کی سر زمین پر وا رد ہوئے۔ بر منگھم میں قیا م کیا اور پھر چند ہفتو ں کے بعد بر یڈ فور ڈ آگئے بر یڈ فو رڈ اس وقت ٹیکسٹائل کی صنعت کے حوالے سے پو ری دنیا میں مشہو ر تھاا س شہر میں کپڑا بنا نے کی بے شما ر ملیں تھیں ۔با ہر سے آنے والو ںکو یہا ں آسانی سے کا م مل جا تا تھا اور اس شہر میں بہت سے ایسے لو گ ملوں میں بھی کا م کرتے تھے جن کا تعلق آزا د کشمیر سے تھا ۔ سو پیر صا حب بھی دو سرو ں کے نقشِ قد م پر پا ئو ں رکھتے ہوئے بر یڈ فورڈ آگئے اور ایک دیا نتد ا ر ہنر مند کی طر ح فیکٹر یو ں میں کا م کر نے لگے ۔ شر و ع ہی سے پیر صا حب زیا دہ تر را ت کی شفٹ میں کا م کرتے تھے اور ریٹا ئر منٹ تک زیا دہ تر رات کی شفٹ میں ہی کا م کیا ۔ اس سے ان کو یہ فا ئدہ ہو ا کہ دن کو انہیں دین اسلام کے کا مو ں کیلئے کا فی وقت مل جا تا تھا ،ویسے تو رات بھر کا م کر نے والے لو گ دن کو صر ف آرام سے سو تے ہیں مگر پیر صا حب نے اپنی نیند وں کو اپنے دین کی خا طر قر با ن کر دیا۔ وہ بہت کم وقت میں اپنی نیند پوری کر لیتے تھے اور پھر دین کے کا مو ں کیلئے نکل کھڑ ے ہو تے تھے اس نیند کی قر با نی نے یو ر پ میں اسلا م کے فر و غ میں بڑ ا اہم کر دا ر اد اکیا۔ ذرا سو چیے را ت کو آٹھ دس گھنٹے فیکٹر ی میں کام کر نے والے شخص کے پا س اسلام کی تبلیغ کے لیے کتناوقت ہو تا ہو گا۔ لازمی با ت ہے ایک ڈیڑھ گھنٹہ تو فیکٹر ی آنے جا نے میں بھی لگتا ہو گا پھر اس وقت کھا نا بھی خو د پکا نا پڑ تا تھا اور اگر دو وقت کھا نا پکا یا جا ئے تو دو تین گھنٹے اس میں بھی لگ جا تے ہیں، پھر صحت مند رہنے کیلئے پانچ چھ گھنٹوں کی نیند بھی انسا نی جسم کیلئے ضر و ر ی ہے ،ایسی صور تحا ل میں پانچ وقت کی نماز با جما عت ادا کر نا بلکہ اما م کی حیثیت سے نما ز پڑ ھا نا اور پھر دین اسلام کی تبلیغ کیلئے گلی گلی شہر شہر جا کر لو گو ں کو اکٹھا کر نا اور یہ سب کچھ اپنی جیب سے کر نا ،اسی رقم سے کر نا جو را ت بھر فیکٹری میں کا م کر نے سے حاصل ہو تی ہے کو ئی آسان کام نہیں ۔ پیر صا حب جب بریڈ فو رڈ میں آئے تو انہیں یہاں کے مسلما نو ں کی حالت زار دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ یہا ں بہت سے پاکستانی اور کشمیر ی لو گ رہ رہے تھے جو اپنے دین کو مکمل طو ر پر بھلا چکے تھے، لہو و لہب میں ڈو بے ہو ئے تھے ،شرا ب کا چسکا لگ چکا تھا جوئے کی عا دت پڑ چکی تھی، با زا ر ی عو ر ت زند گی کا حصہ بن گئی تھی، لو گ دینی معا ملا ت سے تقر یبا ً نا آشنا اور لا تعلق ہو چکے تھے ۔ نما ز روزہ تو کہا ں کسی کو یا دتھا لو گو ں کو تواس با ت کی بھی خبر نہیں تھی کہ عید آئی ہے یا نہیں اور لوگ یہ جا ننے کی ضر و ر ت محسوس نہیں کر تے تھے ۔ان کا خیا ل تھا کہ اس ملک میں مسلمان بن کر رہنا شا ید بیو قو فی ہے ۔ یہاں ہمیں گوروں کی طر ح رہنا چاہیے اور اس طر ح رہنا نہ صر ف عقل مند ی کی علا مت ہے بلکہ ہما ری مجبو ری بھی ہے ،سو تقر یبا ً زیا دہ تر لو گو ں نے اپنی زندگیو ں کو گور وں کے سٹا ئل میں ڈ ھال رکھا تھا ۔پانچ دن پو ری طر ح کا م کر تے تھے اور دو ن جو کچھ کما تے تھے وہ گوریوں اور شرا ب خا نو ں میں لٹا دیتے تھے ۔ہر معا ملے میں گو ر وں کے نقشِ قد م پر چلنے کی کو شش کر تے تھے ۔ عید نہیں منا تے تھے مگر کرسمس میں ضر و ر دلچسپی لیتے تھے، اجتما عی سطح پر گنا ہو ں میں شر یک ہو تے تھے ۔کسی کو کسی کا کو ئی شر م و حیا نہیں تھا۔ با پ اور بیٹا اکٹھے بیٹھ کر شرا ب پینے میں عا ر محسو س نہیں کر تے تھے۔ دنیا کی وہ تما م بر ائیاں جو انگر یز کلچر کا حصہ ہیں مسلما نو ں نے اپنا رکھی تھیں اور یہ سب کچھ پیر صا حب کے لیے بہت تکلیف دہ تھا ۔ انہیں اس با ت کا کچھ احسا س تو یہاں آنے سے پہلے بھی تھا، لوگوں سے یہاں کے متعلق بہت سی با تیں سن رکھی تھیں مگر اپنی آنکھوں سے مسلما نو ں کو دو زخ کی پستیوں میں گر تا ہو ا دیکھ کر انہیں بہت افسو س ہو تا تھا سوا نہوں نے اپنے اوپر یہ فر ض کر لیا کہ یہاں کے مسلما نو ں کو جہنم کی پستی سے نکا لنا ہے، انہیں اس بات کا احسا س دلا نا ہے کہ تم مسلما ن ہو اور مسلما ن کیسے ہو تے ہیں۔ شر و ع شر و ع میں اس سلسلے میں انہیں بہت تکلیفیں اٹھا نی پڑیں ۔لو گو ں نے ان کی بہت دل شکنی کی بلکہ یہاں تک کہا کہ یہ شخص دا ڑ ھی رکھ کر انگلستا ن کیو ں آگیا ہے۔ اسے اگر اپنے مذہبی فر ائض سر انجا م دینے تھے تو یہا ں آنے کی کیا ضرو ر ت تھی مگر پیر صا حب کے سینے میں ر و حا نیت کی شمع فر و ز اں تھی سو اس نے انہیں کبھی ما یو س نہیں ہو نے دیا۔ اسکے اند ر کے انسا ن نے پیر صاحب کو ہمیشہ احمد افرا ز کے الفا ظ میں یو ں حوصلہ دیا۔ یہ جس مسافت پہ ہم چلے ہیں وہ حر ف حق کی مجا ہد ت ہے ہمیں نہ جا ہ و حشم ، نہ ما ل منا ل کی آرزو ر ہی ہے نہ ہم کو طبل و علم ، جمال و جلا ل کی آر ز و رہی ہے بس ایک سچ ہے کہ جس کی حر مت کی آگہی ہم فقیر و ں کا کل اثا ثہ ہے، آبر و ہے پیر صا حب نے اپنی زند گی اسی فقیر ی میں گزا ر دی۔ اپنی اک اک سا نس بر طا نیہ اور یو ر پ میں بھٹکتے ہو ئے مسلما نو ں کو راہ راست پر لا نے میں خر چ کر دی ۔ پیر صا حب جب بر یڈ فو ر ڈ آئے اور جس مکا ن میں قیا م کیا اس میں ان سے پہلے چو بیس آدمی رہتے تھے انہوں نے دیکھا کے ان چو بیس میں سے اکثر وہ تما م کا م کرتے ہیں جن کی اسلا م میں کو ئی گنجا ئش مو جو د نہیں انہو ں نے اس مکان میں باجماعت نما ز پڑ ھا نے کا سلسلہ شر و ع کیا ۔کچھ لو گو ں کا وہ بہت بر ا لگا مگر اتفا ق سے ما ہ رمضا ن کا مہینہ تھا سو مکان میں رہنے والے سا تھیو ںنے شر مسا ر ہو کر ان کا سا تھ دینا شر و ع کر دیا۔ اس وقت ان تما م سا تھیوں کا یہ خیا ل تھا کہ ما ہ رمضا ن ختم ہونے پر پیر صا حب نما ز و ں کا سلسلہ منقطع کر دیں گے اور رفتہ رفتہ انہی جیسے ہو جا ئیں گے مگر صور ت حال مختلف ثا بت ہوئی یہ نو جو ان کو ئی عجیب و غر یب شخص تھا ۔ ایک طر ف ایک دنیا تھی ایک طر ف وہ ایک اکیلا ۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ وہ اکیلا نہیں تھا اس کی پشت پر تو سلسلۂ نو شا ہیہ کے بڑ ے بڑ ے ولی مو جو د تھے۔ اسکے قدم کیسے ڈگمگا سکتے تھے ۔ وہ حا لا ت کے سیلا ب میں بہنے والو ں میں سے نہیں تھا اس نے ایک لمحہ ضا ئع نہیں کیا اور ظلمت اور گمرا ہی کے اند ھیر وں کے سا منے پو ری استقا مت سے کھڑ ا ہو گیا اور اپنے عمل سے لو گو ں کو بتا نا شر وع کر دیا ۔ سال کے چا ر دہم سینکڑ ے پلکو ں پہ رکھو ں میر ی تہذ یب کا حاصل ہیں عقا ئد میرے پیر صا حب نے اپنے اجدا د کے نقشِ کف پا پہ چلتے ہو ئے یہ ثا بت کیا کہ ان کی رگو ں میں جو خو ن دو ڑ رہا ہے اس میں پاکیزگی ہے ، سچا ئی ، دیا نت ہے ہمت اور قو ت ہے ۔ اسی خو ن کا ،اسی ما ں با پ کی تر بیت کا کر شمہ تھا کہ پیر صا حب مشکل ترین حا لا ت میں اپنے کا م کو آگے بڑ ھا تے چلے گئے۔ رہ ِ یا ر کو قد م قدم یا د گا ر بنا نے والی اس شخصیت کا لب و لہجہ اور اس کی سائیکی اپنے ہر عمل میں یہی بتا تی رہی

والد ہ سنتِ نبو ی کا نمو نہ تھیں مر ی

اور مضبوط عقید ہ کے تھے وا لد میرے پیر صا حب نے سب سے پہلے ان لو گو ں کو تلا ش کر نا شر و ع کیا جن کے اندر کہیں ایما ن کی کو ئی رمق بچی تھی ۔ وہ کہتے تھے کہ ایک وقت آئے گا جب یہ سب اپنی ا صل کی طر ف لو ٹ آئیں گے مگر ایسے احبا ب کی اشد ضر و رت تھی جو ان کے شا نہ بشا نہ چل کر لو گو ں کو دین کی طر ف لا نے میں ان کی مد د کر یں۔ پیر صا حب کی گو ہر شنا س نگا ہ نے بہت کم وقت میں ایسے سا تھی تلاش کر لیے جن کے دلوں میںابھی دین محمد ی کا چرا غ ٹمٹما رہا تھا اور پھر ان لو گو ں کی طر ف تو جہ شر و ع ہو ئی جن کی زندگیاںشر ا ب کی بو تل میں بند ہو چکی تھیں۔ جو سینما بینی کو خو بصو ر تی سمجھتے تھے۔ جنہیں سر عام بے حیا ئی میں کسی شر مند گی کا احسا س نہیں ہو تا تھا ۔ ان لو گو ں نے بھی پیر صا حب کو اپنے عمل سے با ز رکھنے کی بڑ ی کوشش کی، ان کے را ستو ں میں بڑ ی بڑی رکا و ٹیں کھڑ ی کیں، مگر پیر صا حب بھی حو صلو ں اور ارادوں کی مضبو ط چٹا ن ثا بت ہو ئے ۔ جنہیں کو ئی ایک انچ بھی سرکانے میں کا میا ب نہیں ہو سکا ۔ بلکہ دنیا خو د پیر صا حب کے رستے پر چلنے لگی ۔ میں اکیلا ہی چلا تھا جا نب منزل لو گ آ تے گئے کا روا ں بنتا گیا حلقہ ئ احبا ب میں اضا فہ ہو تا گیا ۔وہ لو گ جو کل تک شرا ب و شبا ب میں ڈو بے ہو ئے تھے انہیں بھی رو شنی کی کر ن دکھائی دینے لگی اور دنیا پیر صاحب کے ارد گر د جمع ہو تی چلی گئی ۔یو ر پ کے عبر ت سر ائے جسم و جا ں میں مسلما نو ں کی موجو دگی کا احسا س ہونے لگا اور اب ضر و ر ت اس با ت کی محسو س ہو نے لگی کہ ان لو گو ں کو کیسے منظم کیا جا ئے اور ایک تحریک کی صو رت میں اس کا م کو آگے بڑ ھا یا جا ئے تا کہ زیا دہ سے زیادہ لو گو ں تک روشنی پہنچ سکے۔






مد ح پیر سید معر و ف حسین شا ہ نو شاہی

پیر پیراں حضرت سید معرو ف حسین شا ہ نو شاہی نے زند گی کو خدا کی اما نت سمجھا اور اس احسا س کے سا تھ گزار رہے ہیں کہ ایک ایک قطر ہ کا مجھے دینا پڑا حساب خو ن ِ جگر و دیعتِ مثر گا ن یا ر تھا ان کے شب و روز جس جہاد میں گزر رہے ہیں اسکی تفصیل آگے آرہی ہے پہلے ذر ا شعرو ں میں جا مع تعا رف ہو جائے۔ پیر سید معرو ف حسین شا ہ نو شاہی کے متعلق اہل علم و قلم نے بہت کچھ لکھا، مگر میں سمجھتا ہو ں کہ اُن کی ذا ت کے لیے سب سے بڑا عزا ز سید ابو الکما ل بر ق نو شا ہی کی نظم ہے جو انہو ں نے ہا لینڈ میں اُن کے لیے کہی تھی ۔قطب ارشا د سید ابو الکما ل بر ق نوشاہی وہ شخصیت ہیں جن کے ہا تھ پر پیر سید معرو ف حسین شا ہ نو شا ہی نے بعیت کی تھی وہ انکے بڑے بھا ئی بھی تھے اور جب کوئی مرشد، کو ئی بڑ ا بھا ئی اپنے مر ید یا اپنے چھو ٹے بھا ئی کے متعلق نظم لکھتا ہے تو وہ اسی صو ر ت میں لکھی جا سکتی ہے جب وہ مر ید، وہ چھو ٹا بھا ئی اپنے ذا ت میں ایسی صفا ت رکھتا ہو کہ جن پر مر شد ناز کر سکے، قطب ار شا د ابو لکما ل بر ق نو شا ہی لکھتے ہیں ۔ شب الحادِ مغر ب ہو گئی سہا ب پا جس سے وہ کی معرو ف نو شاہی نے ایما ں کی سحر پیدا نہاں، امرو زِ روشن میں ہے اک فرد ائے روشن تر تما شا کر اگر ہے دید ہ و دل میں نظر پیدا کئی صد یو ں کی ظلمت نو ر سے جنکے گر یز اں ہو نہیں ممکن کہ ہو ں ہر دور میں وہ راہبر پیدا ’ ہز ا ر و ں سا ل نر گس اپنی بے نو ر ی پر رو تی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہر چمن میں دیدہ ور پیدا‘ قطب ارشاد ابو الکمال بر ق نو شاہی نے اس نظم میں پیر صا حب کی جو صفا ت بیا ن کی ہیں اس میںکوئی شک نہیں کہ پیر صاحب میں وہ تمام صفا ت مو جو د ہیں۔ پیر صا حب وا قعی ایک رہبر کا مل ہیں، وہ ایک ایسی شخصیت ہیں جن کے با رے میں اقبال کا یہ شعر کو ڈ کیا جا سکتا ہے کہ ہزارو ں سا ل نر گس اپنی بے نو ر ی پر رو تی ہے بڑ ی مشکل سے ہو تا ہے چمن میں دید ہ ور پیدا قطب ارشا د ابو الکما ل بر ق نو شا ہی کے علا وہ بھی بہت سی شخصیا ت نے پیر صا حب کی مد ح میں بہت کچھ لکھا ہے۔ قمر یز دانی کا نذ را نہ عقید ت بھی اس با ت کا اظہا ر کر تا ہے کہ کیسے کیسے قا در العلو م شا عر پیر صا حب کی عظمتو ں کے معتر ف ہیں اور اُن کے مد ح خو اں ہیں۔ قمر یز دا نی کہتے ہیں۔

اما م عا ر فا ں فخر المشا ئخ شہِ روحانیاں فخر المشا ئخ وقار خسرو اں فخر المشا ئخ مطاع این و آں فخر المشا ئخ محبت کی زباں فخر المشا ئخ صدا قت کا نشا ںفخر المشا ئخ خدا کے ترجما ں فخر المشا ئخ خودی کے راز داں فخر المشا ئخ خطیب حق بیا ں فخر المشا ئخ فقیہہ نکتہ داںفخر المشا ئخ شہیدِ عشق محبو ب دو عالم قرار ِعاشقاںفخر المشائخ وہ سر خیلِ گر وہ اغنیا ئ ہیں ہیں مر دِ را ہ داں فخر المشا ئخ انیس ِدر د مندا ںِزمانہ سبھی کے مہر با ں فخر المشا ئخ جہا ں میں اولیا ئ و اتقیا کے امیر کا رو اں فخر المشا ئخ وہ اخلا ق و محبت کے بلا شک ہیں بحر بے کر اںفخر المشا ئخ حریم بر ق نو شاہی کی زینت وقا ر ِ خا ند اں فخر المشا ئخ بلا شک ہیں جما ل قا دریت ہیں معرو ف جہاں،فخر المشا ئخ ہے نو شہ پور شریف اُن سے در خشا ں چرا غِ ضو فشاں فخرا لمشا ئخ معین و احسن اور سید حسن کے طر اوت بخش ِجا ں فخر المشا ئخ بیاں او ج مر ا تب کا ہو کیسے ہیں یکتا ئے زماں فخر المشا ئخ ہے ان سے نو شہ پورکی زیب و زینت مہا ربے خزا ں فخر المشا ئخ ہو پاکستا ن یا بر طا نیہ بھی بہر سو ضو فشا ںفخر المشا ئخ چہ نسبت خا ک رابا عالم پاک کہا ں ہم اور کہا ں فخر المشا ئخ قمر یزدانی ان کا مد ح خو اں ہے ہیں اس کی جا نِ جا ںفخر المشا ئخ قمر یر دانی کے اس نذرانہ ئ عقید ت کو پڑ ھ کر اس با ت کا بھی احسا س ہو تا ہے کہ پیر صا حب رو حا نی سطح پر کس مقا م پر فا ئز ہیں اور ان کے چا ہنے والے انہیں کس نگا ہ سے دیکھتے ہیں ۔ پنجا بی زبا ن کے شا عر محمد ابر اہیم عا صی کچھ اس انداز میں پیر سید معرو ف حسین شا ہ عا ر ف نو شاہی کی شا ن میں رطب اللساں ہیں۔ پیر سید معرو ف حسین عا ر ف مر دِ قا در ی نیک انسان جیو ے مبلغِ اسلام مشہو ر عالم خدمت دیں اندر انگلستا ن جیوے

                           پنجاب کا سیلاب صفحہ۴۱

میں نے بھی پیر صا حب کی شا ن میں ایک نظم کہی ہے جس میں یو رپ کے گنا ہ آبا د ما حو ل میں دین اسلا م کی شمع جلا نے کے حوالے سے پیر صا حبص کی مدح سر ائی کی گئی ہے ۔ دیکھتے ہیں حضرت معرو ف شاہ کے فیض سے

کفر کی تہذیب میں دین محمد(ص) کا وقا ر 

﴿ہفت روزہ راوی﴾ پیر سید معرو ف حسین شا ہ عا رف نو شاہی کے ایسے ایک منظوم مکتوب جو انہیں قطب ارشا د ابو الکما ل بر ق نو شاہی نے لکھا ۔ اسے پڑ ھ کر اس با ت کا احسا س ہو تا ہے کہ قبلہ قطب ارشا د پیر صا حب سے کتنی محبت کر تے ہیں یقینا پیر صا حب کواپنے بھا ئی اور اپنے مر شد کی یہی محبت رو حا نیت کے ان مدا ر ج کی طر ف لے گئی ہے ، جو تصوف کی دنیا میں ہر طالب کا مطلو ب ہو تے ہیں، وہ لکھتے ہیں ۔ ’’ بنا م سر اج السا لکین پیر سید معر وف حسین شا ہ عا ر ف نو شاہی مقیم بر یڈ فو رڈ انگلینڈ


’’ لکھ وا ر سلا م دعا اکھا ں سنت نبی احمد ذو الجما ل دی اے 

رکھے رب سلامتی نا ل تینو ں آرز و میرے وال وال دی اے ترے باہجھ نہ چین قرا ر دل نو ں گھڑ ی فر قتا ند ی سو سو سال دی اے رکھی دلا ند ے دکھ نو ں ویکھ کے تے نو ک قلم پئی نیرا چھال دی اے تیرے ہجر دے گئے نی چیر سینہ ہو یا کالجہ مثل غر بال دی اے پلک پلک اندر کر اں یا د تینوں اگ فر قتاں دی جگر جا ل دی اے یک یک سا ہ مر چ سو سو طو فا ں غم دے شا مت اپنے کے اعما ل دی اے عجب بدلیا رنگ تقر یر مری بھا نبرنویں توں نوا ں پئی با ل دی اے گئے بیت اوہ سمے آزا د یاں دے آئی سر یتے گھڑ ی زوا ل دی اے بند بندا سیر کمند اندر قدم قدم تے پھا ہی جنجا ل دی اے کد ے بحرفر اق وچ کھاں غو طے ، کد ے طبع وچ مستی ابا ل دی اے کد ے یا دو چھیناں بیلیاں دی کد ے فکر اذ کا را شفا ل دی اے کد ے اپنے آپ تھیں دو ر دسا ں، کدے سو چ سب اہل اعیا ل دی اے میریاں ویکھ پر وا ز یاں نو ں رو ح تڑفدی پئی اقبال دی اے اب عشق دا بھا ر نبا ہ دیو ے خو اہش سدا جا م اتصا ل دی اے ما ہی ، با بجھ ہر شے من دو ن اللہ کوئی حر ص نہ ما ل منا ل دی اے سر و ر ویر نو ں کیئں سلام میرا نالے جو سنگت تر ے نال دی اے کر کے یا د حسنا ت دن را ت تینو ں فو ٹو انگلیاں نال دسا ل دی اے گلا ں مٹھیاں نال پر چائے سا نو ں تیرے پتے نت پچھد ی بھا ل دی اے تیرے خطا ں نو ں چم کے لا ئے سینے نال شو ق پیار سنبھا ل دی اے بھا ئیاں با ھجھ نہ ونڈ دا در د کوئی دنیانال بہا نیاں ٹا ل دی اے سکھ چین اقبا ل نصیب ہو وی ایہو انتہا ئ میرے احوا ل دی اے مکن وچہ نہ آوند ی مول ویرا لمی دا ستان رنج ملا ل دی اے جانے رب کد ملا ں گے پھر مڑ کے فکر کو چد ے کھر ے گھڑ یا ل دی اے عا ر ف ہویں معروف کو نیں اند ریہ دعا بر ق ابو الکما ل دی اے

مکتو با ت بر قیہ

                                   صفحہ ۸۱۔۹۱۔۰۲

اس خط میں قطب ارشا د ابوالکما ل بر ق نو شاہی نے پیر صا حب کو ’’ سرا ج السا لکین‘‘قرار دیا ہے ۔ ایک خط میں وہ ’’ سراج العا رفین ‘‘ لکھتے ہیں ، اس با ت میں کو ئی شک نہیں کہ قطب ارشا د ابو لکمال بر ق نو شاہی رو حا نیت کے اس مقام پر فا ئز تھے جہاں آدمی کسی شخص کے با طن میں جھا نکنے کی قو ت رکھتا ہے اس لیے میں سمجھتا ہو ں کہ اگر قطب ارشا د ابو لکمال بر ق نو شاہی نے پیر صاحب کو سرا ج اسا لکین اور سرا ج العارفین لکھا ہے تو وہ یو نہی انہیں ان خطا با ت سے نہیں نواز سکتے ، دو سرا خط ملا حظہ کیجئے۔ یہ خط وا لد ہ کی وفا ت کے مو قع پر انہو ں نے پیر صاحب کو لکھا تھا ۔ بنام’’ سرا ج العا رفین مبلغ اسلام حضرت پیر سید معرو ف شا ہ عا ر ف نو شاہی با نی حمیتہ تبلیغ الا سلام بریڈ فو رڈ انگلستا ن

اول رب دی سب تعر یف آکھا ں بے نیاز مو لیٰ ذو الجلا ل ویرا اوہ ہے حییّ قیو م کر یم قا در اس دی ذا ت نو نئیں زوا ل ویرا بعد حمد نعتِ مصطفی لکھاں ختم جنہاں تے سا ر ا کما ل ویرا پڑ ھا ں نت درود سلا م ادبو ں اپر ّنبی کر یم دی آل ویرا میر اں پیر حقیقت ذا ت ازلی اند ر اولیا دے بے مثا ل ویرا سید پیر نو شہ کیتا جگ ر وشن فقر قا دری د ا دیو ا با ل ویرا حضر ت بحرِعلو م دی ذا ت اگے سجد ے ادب مر ے کر ن ابد ال ویرا اس تھیں بعد سلام سنوں تحفہ کر اںپیش محبتا ں نال ویرا لکھاں بعد سلام احوال سا را نینوں خو ن دی ند ی اچھا ل ویرا اکی ما ہ رمضان شریف دی نوں کیتا وا لد ہ نے انتقال ویرا قا صد وچ ٹو پے عثما ن دتا آن پیغا م و صا ل ویرا لگا تیر کلجیڑے وچ آکے آئے دلے وچ سو سو ابال ویرا ٹر یا ا ٹھ بے وس مجبو ر ہو کے قد م چکنا ں ہو یا محال ویرا بہتا چک سوا ر ی شر یف اند رآن دیدا ر جما ل ویر ا اج با غ ِامید ویرا ن ہو یا کیتا روز آرنج و ملال ویر ا کوئی واہ دو انہ مول چلی لا یا مو ت صیا د ے جال ویرا سایہ ما پیا ند ا بے شک ظل ربی ایدے وچ نہ شک روا ل ویرا ہے افسو س اج اسیں محرو م ہوگئے مر ضی جیو یں اب لا یز ال ویرا سنجا ںبستر ا ویکھ کے بلن بھا بڑاگ فر قتا ں دی رہی جا ل ویرا اکھا ں سا منے پاک تصو یر پھر دی کسے وقت نہ بھلداخیا ل ویرا روز جمے دے بعد عشا ہورا ں کیتاجنتوں آ ستقبال ویرا کلمہ پڑ ھد یا ں رو ح رواںہو یا کیتا رب بلند اقبال ویرا دو ر دو ر تو ڑیں لوگ آن پتے کر ن راز یا ں ہو کے بے حال ویرا آکے وچ جنا زے دے ہو ئے شا مل غو ث قطب او تا ر ابدا ل ویرا تو بہ کنب گئے زمیں آسما ن ستے آندامو ت نے سخت بھو چال ویرا

        مخلو قا ت  دے وچ  تڑ خا ٹ آ یا رنی  خلق سا ری پلے  ڈال ویرا        

سر و ر شا ہ نا لے پیر ویر دنو یں رور وکے ہو ئے نڈ ھا ل ویرا صغرٰ ی فا طمہ ہوربیتا ب ہوئی غشا ں کھا وند ی ہوئی بے حا ل ویرا کون چپ کر اوس رونڈری نو ں دکھیں رو ند یاں گذر سن سا ل ویرا صبح و شا م کر آہ وففاںعا جز کڈھے ولید ے پئی ا با ل ویرا اچن چیت و چھو ڑے دی وا جھلی ظا لم مو ت دتی اگ با ل ویرا آتش غماد ی اس طر ح بھڑ ک اٹھی دتوس حا ل میرا وال وال ویرا کون سنے فر یا د فریادں دی آئی با ہجھ ہے مر ن بحا ل ویرا الو دا ع پکا رکے اٹھ چلے ہین رونقا ں جہان دے نال ویرا میرے دل دی دلی بر با د ہو ئی ہو یا کا لجہ مثل عر با ل ویرا کس نو ں درد مسکین مسا فر اند ا کو ن دکھیا ند ی کر سی بھا ل ویر ا جہا ں دلاں نو ں درد اسا ڈ اسی ستے وچ قبرا ں پر دے ڈا ل ویرا دید انہاں دی اکبر ی حج ہیسی اے پر اج نہ کیتا جما ل ویرا بد نصیبا ں رکھیا دور مینو ں حا ئل راہ وچ رہے جنجا ل ویرا نالے امر انج قادر قد یر داسی دیند ا کیویں قضا میں ٹا ل ویرا راضی ہا ں میں جیو یں رضا ربی کر اں عذر کی میر ی مجا ل ویرا کیتا رب پر دیس نصیب اندر بختاں بھیڑ یا ں پاکے وبا ل ویرا رب جا ندا حال دکھیا ریا ں دا اوکھی فر قتا ں دے وچ حا ل ویرا کر اں گلہ کی گر د ش فلک دا میں قسمت اپنی اپنے نا ل ویرا اگے تیرے فر اق نے ما ریا سی اتوں ہو ر پے گیا ز و ال ویر ا گلا ں دل دیا ں دل دے وچ رہیاں جا سن حسر تا ں وچ قبر نا ل ویرا اک جا ں تے درد ہز ا ر لکھاں سر تے کھڑ ک دا مو ت گھڑ یا ل ویرا عین حق حقیقت عشق ازلی ہو ر خا م تما م خیا ل ویرا حق حق تحقیق نہ شک کو ئی پر دہ دو ئی دا اہل و عیا ل ویر ا انہاں راز حقیقت نو ں سمجھیا اے پیتا جنہاں کا سات الو صال ویر ا ہو کے آپنے آپ وچ گم اوہ تے بنے محر م حرمِ جلا ل ویرا جنہاں آپنا آپ اجا ڑ یا ئی پیتے اوہ وچ بز م و صا ل ویرا دیر و حرم دی قید و ں آزا د ہوئے جہڑ ے عشق نے کیتے حلا ل ویرا اینو یں طبع دی تیز پر وا ز ہوگئی بڑے دو ر ٹرگیا خیا ل ویرا گھوڑا قلم دا صفحے قر طا س اتے انجے ٹر پیا اوپر ی چا ل ویرا رکھے رب سلا متی نال تینوں صبح و شا م میں کر اں سوال ویرا نو شہ پیردیاں کر م فر ما یاں تھیں ودھی روز بر وز اقبال ویرا میری خو شی ایوکفر ستا ن اندر رکھیں شمع تو حید دی با ل ویرا لکھیا چک سوا ر یوں خط تینوں آیا دلے وچ جو ش ابا ل ویر ا سولا ں فر و ر ی ہجر دی رات کالی لکھی داستان رنج و ملا ل ویرا تیرے ملن دی سک بیتاب کیتا گھڑی فر قتا ند ی وا نگوں سال ویرا کلمہ نبی دا آکھ زبان وچوں روکے قلم بر ق ابو الکما ل ویرا ﴿ مکتو با تِ بر قیہ صفحہ 249﴾







فر یضہئِ تبلیغ

اللہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ کو با قی اقوام عِا لم میں امتیا زی حیثیت عطا کر تے ہوئے اُس کا فر یضہ بھی وا ضح کر دیا۔

 کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِ جَتْ لِلناّ س تَا مَرُ وْنَ بِا لْمعْرُوْ فِ و تَنْھَوْ نَ عَنِ الْمنْکَرِ

﴿تم وہ سعا د ت مند امت ہو جسے نسل انسانی سے چھا نٹ کر الگ کر لیا گیا ہے تا کہ تم امر با لمعر و ف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجا م دو﴾ بھلا ئی کو فرو غ دینا اور برا ئیوں سے رو کنا، یہ ہے امتِ مسلمہ کے ہر فر د کا فر یضہ ۔ اس فر یضہ کو جنا بِ رسالتما ب �ö نے جس اندا ز سے سر انجام دیا، مسلما نو ں کو بھی اسی انداز میں یہ فر یضہ سر انجا م دینا چا ہیے کیو نکہ

             لَقَدْ کَا نَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْ لِ اِللّٰہِ اُسْوَ ۃ’‘ حَسنَۃ’‘              
          ﴿تمہا رے لیے رسو ل اللہ �ö کی زند گی میں حسین تر ین نمو نہ ہے﴾

اس ارشا د کے مطا بق حضو ر �ö کے اندا ز ہا ئے تبلیغ میں سے کسی ایک طر یقہ کو وقت اور ما حو ل کے تقا ضو ں کو دیکھ کر اپنانا ہے سب سے پہلی با ت تو یہ ہے کہ تبلیغ کر نے والے کے قو ل و فعل میں مطا بقت ہو نی چا ہیے۔ اہل کتا ب کے مذہبی پیشوا ئو ں کی فر دِ قرا ر دا دِمجر م سنا تے ہو ئے قرا ٓن حکیم نے انہیں مخا طب کر تے ہو ئے کہا ۔

               اَ تَائْ مُرُ وْ نُ الناَّ سَ باِلْبرِّ وَ تَنْسَوْ نَ اَنْفْسَکُمْ
           ﴿کیا لو گو ں کو تو نیکی کا حکم دیتے ہو ا ور اپنی جا نو ں کو بھو ل جا تے ہو ﴾

شعرا ٔ کی زند گی کا بھی ایک بد تر ین پہلو اجا گر کرتے ہو ئے فر ما یا۔

                     وَ اَنَّھُمْ یَقُوْلونَ مَا لَا یَفْعَلُوْن
           ﴿اور وہ زبا ن سے وہ با تیں کہتے ہیں جن پر خو د عمل نہیں کر تے﴾

حضو ر �ö کے قو ل و فعل میں انتہا در جہ کی مطا بقت رہی۔ اس لیے اسلام کے ہر مبلغ کو یہی انداز اپنانا چاہییہر مبلغ کا فر ض ہے کہ وہ دعو تِ حق و صدا قت لو گو ںتک پہنچا کر انہیں عذا ب کی گر فت سے بچا ئے ۔ �ò اگر بینی کہ نا بینا و چا ہ است وگر خا مو ش بنشینی گناہ رست ﴿ اگر تو دیکھے کہ اندھا جا رہا ہے اور اس کے آگے کنُو اں ہے۔ اس وقت اگر تو خا مو ش بیٹھا ر ہے گا، تو یہ خا مو شی گناہ ہے﴾ اسی لیے فر ما یا۔

    یَأ یّہاَ الرَّ سُوْ لُ بَلِّغِْ مَا اُنْزِ لَ اِلَیْک مِنْ رَّ بِّکَْ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَا لَتہ‘۔

﴿اے رسول خِدا جو آپ پر اپنے رب کی طر ف سے نا ز ل کیا گیا اُسے پو رے کا پو را لو گو ں تک پہنچا دے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو فر یضہ ئِ رسا لت ادا نہیں کیا ﴾ غو ر کیا جا ئے تو اس پر دہ میں اصل تخا طب امتِ مسلمہ کے افرا د سے ہے کیونکہ اللہ کے رسول �ö اور وہ بھی محمد �ö کے متعلق کب یہ تصو ر کیا جا سکتا تھا کہ وہ فر یضہ ئِ رسا لت کی ادا ئے گی میں ذراسی بھی کو تا ہی کر ینگے۔ آپ یہ کب دیکھ سکتے تھے کہ انسا ن ہلا کتو ں کے جہنم کی طر ف بڑ ھتے چلے جا ئیں ، آپ یہ کب گوا را کر سکتے تھے کہ اپنی جہا لت اور لا علمی کے باعث آدمی بر با د ہو اور تبا ہی کی آگ میں گر رہا ہو اور آپ خا مو ش بیٹھے رہیں۔ آپ کا سینہ تو انسا ن کی ہمد ردی سے لبر یز تھا۔ آپ نے تو اس جا نکا ہی اور جگر کو خو ن کر دینے والی مشقت سے فر یضۂ رسا لت ادا کیا اور اس طر ح دن را ت کا چین اپنے اوپر حر ام کر لیا کہ خو د خد ائے قد وس نے کہا ۔

            لَعَلَّکَ با خِع’‘ النَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْ نُوْامؤ مِنِیْنo

﴿اے محبو ب تم تو شا ید اس رنج و غم میں اپنی جا ن ہی کھو د و گے کہ وہ سب لو گ ایما ن لا نے والو ں میں سے کیو ں نہیں ہو

جا تے﴾ 
اللہ تعالیٰ نے حضو ر �ö کی اسی شد ت ِ احسا س اور روز و شب کے اضطر ا ب کا ذکر کر تے ہو ئے ،دو سر ی جگہ فر ما یا۔ 
  فَلَعَلَّکَ با خِع’‘ نَّفْسَکَ عَلیٰ اٰثَارِھِمْ اِ نْ لَّمْ یُؤمِنُوْابِھٰذا الْحدِ یْثِ اَسَفاً

﴿اے محبو ب آپ کی حا لت توایسی ہو رہی ہے کہ جب یہ لو گ واضح با ت بھی نہ ما نیں توا نکی ہدا یت کے پیچھے ما رے افسوس کے آپ اپنی جا ن ہی ہلاکت میں ڈا ل دیں گے﴾

ایک اور جگہ آپ کی اسی بے تا بی و بے قرا ر ی کا نقشہ کھینچتے ہُو ئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ آپ اس طر ح جا ن نہ گھلا ئیں یقینا تبلیغ آپ کا فر ض ہے اور آپ بطر یق اِحسن پُو را کر رہے ہیں، آگے ان کا مقدر ہے۔ انہیں انکے حا ل پر چھوڑ دیں۔ اللہ آپ کی دعو ت حق کے جوا ب میں انکے اعرا ض کو دیکھ رہا ہے ۔ 
        فَلاَ تذ ھَبْ نَفْسَکَ عَلَیْھِمْ حَسَرٰ ت ط اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْم’‘ بِمَا یَصْنَعُوْن۔ 

﴿اے محبو ب دیکھئے ان لو گو ں پر غم کھا نے سے آپ کی جا ن ہی نہ چلی جا ئے یہ وا قعہ ہے کہ یہ لو گ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ اس سے پو ر ی طر ح با خبر ہے ﴾ آپ کو تبلیغ میں اس انتہا در جہ کی جا نکا ہی اور جگر کا وی سے باز رکھنے کیلئے اللہ نے فر ما یا ۔

       فَاِنْ اَ عْرَ ضُوْ ا فَمَا اَرْ سَلْنٰکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظَاًَط اِنْ عَلَیْکَ اِلاّ الْبَلٰغ ط

﴿اے محبو ب اگر وہ گر دن پھیر کر چل دیں تو جا نے دیجیے ہم نے آپ کو ان کا محا فظ و نگرا ن بنا کر نہیں بھیجا آپ کی ذمہ دا ر ی اسکے سوا کچھ نہیںکہ آپ پیغا م پہنچا دیں﴾ آپ انہیں فر ائض و وا جبا ت یا د دلا تے جا ئیں انہیں اعما لِ بد کے نتا ئج و عو ا قب سے آگا ہ کر تے جا ئیں ۔انہیں نکوکاری کے نتائج میں حا صل ہو نے والی شا د کا م و با مرا د زند گی کی خو شخبر یا ں سنا تے جا ئیں اور بس۔

            فَذَ کِرّ اِ نّما اَنْتَ مُذَ کَِّرْ ط لَسْتَ عَلَیْھِمْ بِمُصَیْطِرْo 

﴿یا د دہا نی کرائیں کیو نکہ آپ یا د دہا نی اور نصیحت کر نے والے ہی ہیں آپ کو کوئی ان لو گو ں پر دا ر و غہ تو مقر ر نہیں کیا گیا ﴾ پس وہ با ت جس میں تبلیغ کے سلسلہ میں کو تا ہی کا اند یشہ ظا ہر ہو تا تھا آپ کے پر دہ میں امت مسلمہ کے در میا ن حق و صداقت کے لیے تھی۔ اسی سلسلہ میں یہ وضا حت بھی کر دی گئی کہ تبلیغ حسین تر ین انداز میں اللہ کا پیغا م پہنچا نا ہے اور بس ، آگے لو گو ں کی مرضی ہے انہیں اپنا را ستہ خو د منتخب کر نا ہے ۔ زبردستی اُن سے کچھ نہیں منوا نا انہیں جبر کے زور سے را ہ حق پر نہیں لا نا۔

             لَا اِکْرا ہَ فیِ الدِّ یْن قَدْ تَبَیَّنَ الرَُّ شْدُمِنَ الْغَیّیِ
           ﴿دین میں کوئی جبر و اکر اہ نہیں حق اور با طل کے را ستے ممینر ہو چکے﴾

اند ھیر وں میں رو شنی پھیلا نا مبلغ کا فر ض ہے اسکے بعد اگر کو ئی دیکھ بھا ل کر کنو ئیں میں گر تا ہے تو اسکی مرضی مبلغ کوتبلیغ کے اثرا ت دیکھنے کے لیے بے صبر ی سے کا م نہیں لینا چا ہیے۔ اُسے پو رے صبر و سکو ن اور د لجمعی سے استقا مت کے ساتھ حق وا ضح کر تے رہنا چاہیے۔

          وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُ کَ اِلا بِا للّٰہِ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْھِمْ 

﴿عز م و استقلا ل سے اپنا کا م کئے جا ئو تمہیں یہ صبر و استقلا ل قو انینِ خدا وندی کے اتبا ع سے حا صل ہو گا اور ان لو گو ں کے رویہ سے رنجید خا طر مت ہو جا ئو﴾

                        فَا صْبِرْ صَبْراً جَمِیْلاً۔ 
         ﴿پُر جما ل استقلا ل کے سا تھ اپنے مشن کی سر انجام دہی میں جمے رہو ﴾

مبلغ کو اپنا کا م کئے جا نا اور صبر و سکو ن سے نتا ئج کا انتظا ر کر ناہوتا ہے ۔

    وَقُلْ لِلَّذِ یْنَ لَایُؤ مِنُوْنَ اعْمَلُوْاعَلیٰ مَکَا نْتِکُمْ اِناّ عٰمِلُون وانْتَظِرُوْاِنّاَ

مُنْتَظِریْن ﴿اور جو لو گ دعو تِ حق و صدا قت پر یقین نہیں رکھتے ان سے صا ف صا ف کہہ دو کہ تم اپنے پر و گرام کے مطا بق کا م کر تے رہو ہم اپنے پر و گرا م کے مطا بق کا م کر رہے ہیں۔ تم ظہو ر نتا ئج کا انتظا ر کر و اور ہم بھی اپنے اعما ل کے نتا ئج کا انتظا ر کر رہے ہیں﴾





تبلیغ کا طر یق ِ کا ر

تبلیغ فر یضہ خدا وندی ہے کسی انسا نی انجمن کی طر ف سے یہ فر یضہ کسی انسا ن پر عا ئد نہیں کیا گیا اس لیے ایک مبلغ کسی اجر کا طالب نہیں ہو تا۔ اس کا اجرا للہ کے ذمہ ہو تا ہے اسی لیے تمام ابنیائ نے آکر یہ اعلا ن کیا کہ لو گو میں تمہا ری بھلا ئی کی لیے دن را ت کا م کر تا ہو ں شب و روزتمہیں تمہا ری اپنی فلا ح کی طر ف بلا تا ہو ں لیکن اسکا اجر میں تم سے نہیں ما نگتا ۔

                       اِ نْ اَجْرِ یَ اِلّاَعَلَی اللّٰہ۔ 
                 ﴿میرا اجر تو میرے رب کے ہی ذمہ ہے﴾

رہے تم تو اگر تم را ہ حق پر آگئے تو سمجھو میرا معا وضہ مجھے مل گیا حضور �ö کو بھی حکم ہو ا کہ

       قُلْ مَا اسَْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِلّامَنْ شَآ ئَ اَن یَّتَّخذَ اِلیٰ رَبِّہٰ سَبِیْلاً
 ﴿کہہ دو کہ میں اسکے سوا کو ئی اجر تم سے نہں ما نگتا کہ تم میں سے جو چا ہے اپنے ر ب کی طر ف لے جا نے والا ر ستہ اختیار کرلے﴾

ایک مبلغ کے اخلا ص اور للہیت کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ پیغا مبر ی میں اتنا مخلص ہو کہ کسی قیمت پر بھی اپنا پیغا م چھو ڑنے پر آما دہ نہ ہو ،اسے کو ئی تر غیب اور کوئی تر ہیب اپنی دعو ت سے با ز آجا نے پر تیا ر نہ کر سکے۔ اُس پر پتھربرسائے جائیں اور وہ کہے۔

          اِ عْمَلُوْ ا عَلیٰ مَکا َ نَتِکُمْ اِنِیّ عَا مِلْ ۔ سَوْ فَ تعْلَمُوْ ن
        ﴿تم اپنا کا م کئے جا ئو میں اپنا کا م کئے جا تا ہو ں فتحمند کو ن ہے جلد وا ضح ہو جا ئیگا ﴾

�ò ستمگر تجھ سے امید کر م ہو گی جنہیں ہو گی ہمیں تو دیکھنا یہ ہے کہ تو ظالم کہا ں تک ہے ادھر سے پتھر پھینکے جا تے ہیں او رادھر سے دعا ئو ں کے پھول بر سا ئے جا تے ہیں ۔

                  رَبِّ اِھْدِ قَوْ مِیْ فَاِ نَّہُمْ لَا یَعْلَمُوْ ن۔ 
           ﴿پر و ر دگا ر میری قو م کو ہد ایت دے وہ لوگ علم سے بے بہر ہ ہیں﴾

تر غیب کا یہ عالم ہے کہ مخا طب کہہ ر ہے ہیں ’’ محمد �ö ما نگو جو کچھ ما نگتا ہے ۔ہم سب کچھ حا ضر کر دیں گے حتی کہ ہم عر ب کی با د شا ہی تم پر نثا ر کر نے کو تیا ر ہیں ،ہم تخت سِلطنت تمہا رے قد مو ں میں بچھا ئے دئیے جا تے ہیں بس تم یہ کر و کہ اپنی دعوت سے با ز آجا ئو ‘‘ اور اللہ کا رسو ل �ö کہتا ہے ’’ نہیںاگر تم میرے ایک ہا تھ پر سو ر ج اور دو سرے پر چا ند رکھد و توبھی میں اپنی دعو ت حق و صد ا قت سے باز نہیں آئو نگا ‘‘ ۔ پیغا م کی صد ا قت اور پیغمبر کے اخلا ص کی یہ بڑ ی دلیل ہے کہ وہ کسی قیمت پر پیغا م اور پیغا مبر ی سے صر فِ نظر پر تیا ر نہیں ہو تا اُس کے لیے وہ ہر پیشکش کو ٹھکر ا دیتا ہے اور ہر وقت جا ن کی باز ی لگا ئے رکھتا ہے پھر یہ کہ اسکا اپنا اس میں کوئی دنیاوی مفا د نہیں، مفا د ہے تو انہی لو گو ں کا دنیاوی اور اخر و ی مفا د ہے جو مخا طب ہیں۔ وہ اپنی معا ش اور روزی کما نے کیلئے خو د مشقت کرتا ہے مگر زیا دہ وقت اس تبلیغ کو دیتا ہے جو لو گو ں کے مفا د میں ہے۔ ایک ڈا کٹر کو مریض کے امرا ض کا علم ہو تا ہے وہی بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے کہ کڑ وی دوا دینی ہے یا میٹھی ۔اگر جسم کا کوئی حصہ زہر آلو د ہو گیا ہے اور اس سے اندیشہ ہے �; کہ با قی جسم کو زہرزدہ کر کے زند گی ختم ہو سکتی ہے تو اُسے کس وقت کا ٹ دینا ہے مر یض نہیں جا نتا۔ وہ وا ویلا کر تا ہے اور اپنی بے علمی کے باعث وہ ایسا کر نے پر مجبو ر ہو تا ہے وہ ڈا کٹر کو گا لیا ں دیتا ہے ۔احتجا ج کر تا ہے ،مز ا حمت کر تا ہے لیکن ڈاکٹر اُسکے جو ا ب میں گا لیا ں نہیں دیتا۔ مز احمت پر ما ر پیٹ نہیں کر تا مبلغ بھی ایک ڈاکٹر ہو تا ہے بلکہ ڈاکٹر سے بہت بڑ ھ کر ہو تا ہے کیو نکہ ڈا کٹر تو فیس لیتے ہیں، دو ائیوں کی قیمتیں و صو ل کر تے ہیں مگر مبلغ جیسا کہ واضح کیا جا چکا ہے کسی طر ح کے اجر کا طا لب نہیں ہو تا مبلغ ایک ایسا ڈاکٹر ہو تا ہے جسے ہر حا ل میں مر یض کا مفا د سو چنا ہے اُسے اپنے لیے کچھ نہیں لینا، اُسے مر یض سے پو ر ی ہمد ر دی ہے اور شب و روز اسی فکر میں ہے کہ کسی طر ح مر یض صحتیا ت ہو جا ئے ۔ مبلغ کا قو ل اور عمل دو نو ں تبلیغ کے ذر ائع ہیں اور ہر مر حلہ کے تقا ضے سمجھ کر وہ اپنا طر ز عمل اپنا تا ہے جہا ں تک قو ل کا تعلق ہے ،وہ تحر یر و تقر یر کے ذر یعے یہ فر یضہ ادا کر تا ہے۔ قر آن حکیم اس سلسلہ میں بھی مبلغ کی رہنما ئی کر تا ہے۔ وہ بتا تا ہے کہ مخا طب اگر باربار کے سمجھا نے پر بھی اپنی ہٹ پر اڑا ر ہتا ہے تو مبلغ کو جھنجھلا نہیں اٹھنا چا ہیئے، اسے مخا طب کی مجبو ر ی کو سمجھنا چا ہیئے، اُسے دیکھنا چاہییکہ مخا طب کو وہ ایسے عقا ئد تر ک کر ا نا چا ہتا ہے جو اسکی گھٹی میں شامل ہیں، اسکے مزا ج اور اسکی عا د ات کا حصہ ہیں اسکی جذ با تی عقید توں نے انہیں محتر م بنا رکھا ہے۔ یہ عقا ئد صد یو ں سے متوا ر ث چلے آرہے ہیں ۔اسکے اسلا ف اور اُسکے ما ں با پ نے اِن سے محبت کی ہے اور پر و ان چڑ ھا یا ہے اس لیے وہ مجبو ر ہے ،وہ انہیں فو ر ا ً نہیں جھٹک سکتا اُسکے ذہن میں کئی زلزلے بپا ہو نگے ،کئی آتش فشا ں دہک اٹھیں گے، تغیر اور انقلا ب ِ حا ل کے کئی طو فا ن آئینگے۔ کئی جھکڑ چلینگے آخر �ò کس طر ح کوئی کہنہ روا یا ت چھوڑ دے ما ں کا مزا ج با پ کی عا د ا ت چھو ڑ دے اسلا ف سے ملے ہیں جو جذ با ت چھو ڑ دے گھٹی میں ہیں جو حل وہ خیا لا ت چھو ڑ دے کس جی سے کوئی رشتہ ئِ او ہا م تو ڑ دے ور ثے میں جو ملے ہیں وہ اصنا م تو ڑ دے یہ سب کچھ چھو ڑ دینے پر اور ا س بے پنا ہ تو ڑ پھوڑ پر آما دہ کر نے کیلئے مبلغ کو بڑی حکمت اور دانائی سے کا م لینا ہو گا۔اللہ کا ارشا د ہے ۔

             اُ دْ عُ اِلیٰ سَبِیْلِ رَبِّکَ بالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْ عِظَۃِ الْحَسَنَۃ
     ﴿اللہ کے را ستے کی طر ف بلا نے کے لیے حکمت و دا نش اور خو بصو ر ت مو عظت سے کا م لے﴾
اور اگر مخا طب بحث و منا ظر ہ اور حجت و تکرا ر پر اتر آئیں تو بحث کا انتہا ئی خو بصو ر ت انداز اختیا ر کیا جا ئے ۔
                     وَ جَا دِ لْھُمْ با لَّْتِیْ ھِیَ اَحسَن۔(16/125)
        ﴿اور اُن سے بحث آپُڑ ے تو بحث کا وہ طر یقہ اختیا ر کر جو انتہا ئی خو بصو ر ت ہو ﴾

تبلیغ کے سلسلہ میں قد م قدم پر اللہ تعالیٰ نے رہنما ئی کی ہے اور جز ئیا ت تک بیا ن کر دی ہیں۔ سب سے پہلی با ت جس کا خیال رکھا جا ناچاہیییہ ہے کہ اہل با طل سے نفر ت نہیں ،ہمد ر د ی مقصو د ہو ویسی ہی جیسی ہم نے ڈا کٹر اور مر یض کے سلسلہ میں وضا حت سے لکھ دی ہے ۔

                  وَ ذَکِّرْ بِہٰ اَنْ تُبْسَلَ نَفْس’‘م بِمَا کَسَبَتْ۔ (6/70)

﴿ قرآن کے ذ ریعے حقا ئق انکے سا منے لا تے رہو اس احسا س کے سا تھ کہ کہیں ایسا نہ ہو کوئی انسان اپنی بد عملی کی وجہ سے ہلاکت میں چھو ڑ دیا جا ئے ﴾ اس کے بعد اگلا اور سب سے ضر و ر ی قد م یہ ہے کہ مخا طب کے معبو د ان ِ با طل کو بُرا نہ کہا جا ئے ۔انہیں ہد فِ دشنا م نہ بنا یا جائے

               وَ لَا تسبوا الذین ید عو ن من دو ن اللّٰہ 
             ﴿اور ان کو تم بُرا نہ کہو جنہیں وہ اللہ کے چھو ڑ کر پکا رتے ہیں ﴾

ان کے مبعو د ان با طل کو بُرا نہ کہو کیو نکہ یہ برا ہ ِ را ست اُنکے جذ با ت پر حملہ ہو گا وہ جو اب میں تمہا رے معبو د ِحقیقی کو بُرا کہیں گے پھر ممکن ہے تم اپنے جذبا ت پر قا بو نہ رکھ سکو ۔ عام طو ر پر یہی ہو تا ہے کہ ابتدا ئ میں مبلغ یہی با ت کر بیٹھتے ہیں پھر یہ با ت بڑ ھ کر ہا تھا پا ئی اور قتل و غا ر ت تک پہنچ جا تی ہے اور اصل مسئلہ وہیں رہ جا تا ہے یہ تبلیغ کا وہ انداز نہیں جسے ’’ با لحکمتہ ‘‘ کہا گیا ہے۔ تبلیغ کے راستہ میں دو سری حکمت جسے اختیا ر کر نا ہے وہ با ت کر نے کا سلیقہ ہے ۔مطلب ایک ہی ہو تا ہے لیکن با ت کرنے کے انداز مختلف ہو تے ہیں الفا ظ کا اثر ہو تاہے ۔الفا ظ میں اپنا حسن ہو تا ہے پھر انداز بیا ن میں فر ق ہو تا ہے۔ حسن الفا ظ کو فصاحت کہتے ہیں۔ انداز ِ بیا ن کا اثر الگ ہے ۔حضو ر �ö نے بجا فر ما یا’’ ان من البیا ن لسحر‘‘﴿بلا شبہ ایسا انداز بیا ن بھی ہے کہ جس میں جا دو ہو ﴾ آدمی کی زبا ن سے با ت نکلتی ہے اور وہ سُننے والے کے دل میں اُتر جا تی ہے ۔حسن بیا ن کی اس ادا کو بلا غت کہتے ہیں۔ اللہ نے جنا ب ر سا لتما ب �ö کو حکم دیا ہے ۔

                  قُلْ لَّھُمْ فِیْ اَنْفُسِھِمْ قَوْ لاً بَلیْغا ً۔﴿4/63﴾
     ﴿اُنکے سا تھ نصیحت اور مو عظت کی با ت اس انداز میں کیجئے کہ با ت سید ھی دل میں اتر جا ئے ﴾

با ت کر نے کا انداز فصا حت و بلا غت کے سا تھ رحمت و محبت کا آئینہ دا ربھی ہو نا چاہییاور شیر یں و ملا ئم بھی ۔لفظ لہجے کی حلاوت میں ڈوبے ہو ئے ہوں۔

  فَبِماَ رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ وَلَوْ کُنْتَ فَظّاً غَلِیظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضّْوْا مِنْ حَوْ لِکَ(3/159)

﴿اور یہ آپ(ص) پر اللہ کی بڑی ہی رحمت ہے کہ آپ اُن لو گو ں کے لیے اس قد ر نر م مز اج وا قع ہو ئے ہیں اگر آپ سخت مزا ج ، سخت دل ہوتے یہ لو گ آپ کے پاس سے بھا گ کھڑ ے ہو تے ﴾ اس قو لی تبلیغ کے سا تھ ایک اور بڑ ی تبلیغ مبلغ کا عمل ہے اور اُس میں بھی سر و ر ِ عالم �ö کی زند گی حسین تر ین نمو نہ ہے اگر آپ زبا ن سے کہتے رہیں کہ آپ مخا طبین کو ہلا کت ِدنیا و آخر ت سے بچا نے کیلئے انہیں دعو ت حِق دے رہے ہیں تو با ت اپنے آپ کی در ست ہے لیکن عمل سے اسکی تصد یق ہو نی چاہیے۔آپ کے عمل سے ثابت ہو نا چا ہیے کہ آپ ان کے ہمدرد ہیں۔ آپ زند گی کے چھو ٹے بڑے معا ملا ت میں ان کے سا تھ ہمد ر دی کر یں گے تو وہ آپ کے قر یب آجا ئیں گے ۔آپ کی دعوت تو جہ سے سنیں گے اور ان کے دل میں یہ با ت بیٹھ جا ئے گی کہ آپ یقینا ان کے ہمدردہیں پھر عین ممکن ہے کہ وہ عقا ئد و اعما ل کے سلسلہ میں بھی آپ کو ہمد رد اور دمسا ز سمجھنے لگ جا ئیں اور اپنے سا بقہ عقا ئد سے دستبر دا ر ہو جا ئیں ۔ بڑ ا مشہو ر وا قعہ ہے کہ مکہ کی ایک بڑ ھیا روز انہ اپنی چھت پر بیٹھ کر حضو ر �ö کا انتظا ر کر تی۔ ادھر آپ (ص) گزر تے ادھر وہ گند گی اور کوڑے کی ٹوکری آپ(ص) پر الٹ دیتی ایک دو ر روز اُس نے ایسا نہ کیا اور وہ چھت پر نظر نہ آئی تو پوچھنے پر حضو ر �ö کو بتا یا گیا کہ وہ بیمار ہے۔ آپ �ö اس کے گھر چلے گئے ۔دیکھا تو وہ بخا ر میں تپ رہی تھی اور بے ہوش پڑ ی تھی اس کا کوئی پر سا نِ حا ل نہیں تھا ۔آپ اس کیلئے دوا ئی لا ئے اس کے گھر کی صفا ئی کی ،پا نی کا گھڑ ا بھر لا ئے ۔اُس کے ما تھے پر گیلی پیٹاں رکھیں ایک دو ر وز آپ(ص) نے اسکی خد مت کی و ہ تند ر ست ہو گئی اور جب اُسے معلو م ہو ا کہ اسکی تیمار دا ر ی کر نے والے وہی محمد �ö ہیں جن پر وہ ہررو ز گند گی کی ٹو کر ی پھینکنااپنے لیے عبا دت و سعا د ت سمجھتی تھی تو اس کا دل جھک گیا اور اس نے اسلام و ایما ن قبول کر لیا یہ ہے وہ عملی تبلیغ جو قو لی تبلیغ کے سا تھ جا ری رہی اور جسکی در خشا ں مثا لو ں سے حضور �ö کی زند گی معمو ر ہے ۔ یہی وہ زند گی ہے جسے اپنے دعو ٰ ی کی تصد یق کے طو ر پر بھی آپ (ص) نے پیش فر ما یا ۔

                    فَقَدْ لَبِثْتُ فِیکُمْ عُمْراً اَفَلاَ تَعْقِلُوْ ن ۔ 
              ﴿میں نے تمہا رے اند ر عمر گزا ری کیا تم عقل سے کا م نہیں لیتے ﴾

یعنی اس پو ر ی عمر میں جو تمہا رے اندر بیت گئی کیا تم نے کوئی مو قع ایسا دیکھا کہ میں نے سچ نہ بو لا ہو۔ میں نے جھو ٹ بو لا ہو کسی کی اما نت میں خیا نت کی ہو اپنی ذمہ دا ر ی نبھا نے میں کو تا ہی کی ہو، غلط اندازِ زندگی اختیا ر کیاہو۔ کسی پر ذرہ بر ابر ظلم کیا ہو ۔ نہیں تم کوئی ایک واقعہ بھی ایسا پیش نہیں کر سکتے، میں کا ذب نہیں تھا صا دق تھا ، میں خائن نہیں امین تھا ، میںظا لم نہیں ہمدرد تھا، میں نے زخم نہیںلگا ئے مر ہم رکھے ہیں۔ زخمو ں کا اندما ل کرنے کی بھر پو ر کوشش کی ہے۔ چا رہ سا زی اور غمخوا ری کی ہے ۔ تمہا رے دکھو ں پر صر ف آنسو نہیں بہا ئے ،حتی الا مکا ن ان کا مدا وا کیا ہے ، کسی سے کوئی تنا زع نہیں کیا، تمہا رے تنا ز عا ت ختم کئے ہیں، تمہا رے جھگڑ ے مٹا ئے ہیں جن اختلا فا ت پر تم تلوا ریں سو نت رہے تھے انہیں ختم کیا ہے ۔میں ہمیشہ امن ، سکو ن اور صلح کا شہزا دہ رہا ہو ں ، یہ تھا عملی تبلیغ کا وہ انداز جسے اولیا ئے امت نے اپنا یا اور شر یعت کے دوش بد و ش طر یقت کا سفر شروع ہو اجس کے لیے تصو ف کی عظیم اصطلاح و ضع ہو ئی ۔











اشا عِت اسلا م

اشا عتِ اسلا م دو طر ح سے ہو ئی ، مسلما نو ں کی حکمر ا نی بلا شبہ اشا عت اسلا م کا با عث بنی اور اس کے سا تھ ہی مسلما ن اولیائ نے اسلام کی تو سیع و اشا عت میں بھر پور حصہ لیا۔ مسلما ن حکمرا نو ں کی اشا عتِ اسلا م سے اس تا ریخی مغا لطہ کی طرف ذہن نہ جا ئے جو ایک عر صہ تک مغر ب کے متعصب مئو ر خین دہر ا تے رہے کہ ’’ اسلا م تلوا ر کے زور سے پھیلا ‘‘ اور جسے با لا ٓ خر مغر ب ہی کے غیر متعصب اور معقولیت پسند مئو رخین نے بے بنیا د اور جھو ٹا پر و پے گینڈ ا کہہ کر رد کر دیا اور دنیا جان گئی کہ ’’ حقیقت خو د کو منوا لیتی ہے ما نی نہیں جا تی ‘‘ حقیقت یہ ہے کہ اسلا م میں جار حا نہ جنگ کا کوئی و جو د نہیں ۔اسلا م میں مدا فعا نہ جنگ ہے یا مصلحا نہ ۔ مد ا فعا نہ جنگ تو اپنی بقائ کے لیے نا گز یر ہے اور مصلحا نہ جنگ یہ ہے کہ جس جگہ ایسا ظا لم حا کم ہو کہ اپنی رعیت پر اور با لخصو ص اپنی مسلمان رعا یا پر مظا لم کی انتہا کر رہا ہواور اسلا می حکو مت کی با ر با ر کی مصلحا نہ کو ششو ں کے با و جو د را ہِ را ست پر نہ آئے تو خلق خِدا کو اُسکے ظلم اور تشد دسے نجات دلا نے کیلئے خدا مسلما نو ں کو اسکے خلا ف تلوا ر اٹھا نے کی اجا زت دیتا ہے ۔ مگر ایہ اجا زت قطعی نہیں دیتا کہ مفتو حہ ممالک میں بزور و جبر لو گو ں کو اپنا مذ ہب تبد یل کر نے پر مجبو ر کیا جا ئے۔ اسکے بر عکس وہ کہتاہے کہ ہر ایک کو پو ر ی پو ر ی آزادی دی جا ئے، کیو نکہ لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّ یْنِ ﴿دین میں کوئی جبر و اکرا ہ نہیں﴾ ۔فرا نس کا مشہو ر ما ہر تمد ن و عمرا نیا ت ڈا کٹر گستائو لی با ن اپنی مشہو ر کتا ب ’’ تمد ن ِ عرب ‘‘ میں با ر با ر اس حقیقت کا اعتراف کر تا ہے کہ ’’ خلفا ئے اسلا م نے مفتو ح ممالک میں اپنا دین پھیلا نے کی ذر ہ بھر بھی کو شش نہیں کی۔ اسکے برعکس انہوں نے مفتوح اقوا م کو اپنے مذہب اور معا شر ت کی پو ر ی پو ری آزا دی دیے رکھی‘‘ ﴿تمد نِ عر ب از ڈا کٹر گستا ولی با ن 131 ﴾ جنا ب فا رو ق جب فا تح کی حیثیت سے بیت المقد س میں وا ر د ہوئے تو کیا ہوا، اسی مصنف کی زبا نی سنئے ’’ بیت المقدس کی فتح کے وقت حضرت عمر کا اخلا ق ہم پر وا ضح کر تا ہے کہ مسلما ن فا تحین اپنی مفتو حہ اقوا م کے سا تھ کیسا نر م اور فرا خدلا نہ سلو ک کرتے تھے۔ حضرت عمر (رض) نے شہر میں دا خل ہو تے ہی منا دی کرا دی ’’ میں ضما نت دیتا ہو ں کہ با شند گان شہر کے ما ل و منال اور انکی عبا د ت گا ہو ں کا پو را پو را احترا م کیا جا ئیگا اور ہر شہر ی کی عز ت ِنفس کا پو ر پورا خیا ل رکھا جائے گا۔ رعیت کے تما م افرا د مسا دی حقو ق کے مالک ہو نگے ۔قا نو ن کی نظر میں سب کے سب برا بر ہو نگے ہر ایک کو عد ل و انصا ف ملے گا ‘‘ایضاً 132 ایسی بہت سی مثا لیں پیش کر کے مصنف مذ کو ر نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ مسلما ن فا تحین ایک تو مفتوحہ اقوام کو پہلی حکو متو ں کے مظالم سے نجا ت دلا تے تھے دو سرے انکے سا تھ ایسا فیا ضا نہ سلو ک کر تے تھے کہ لو گو ں کے دل ان کے حق میں نر م ہو جا تے فاتح مفتو ح قر یب آجا تے اور پھر حکمر انو ں کا دین اختیا ر کر لیتے ۔یہ عمل خا لصتا ً حکمرا ن قو م کے طر زِ عمل اور اعلیٰ اخلا ق سے سرانجا م پا تا اس میں تلوا ر کا کوئی دخل نہ تھا ۔ بر صغیر میں اسلام محمد بن قاسم کی فتح سند ھ سے بہت پہلے آچکا تھا لیکن محمد بن قا سم جب بطو ر فا تح آیا ، اس نے راجہ دا ہر کے مظام سے لو گو ں کو نجا ت دلا ئی اور پھر لو گو ں کے سا تھ ایسا سلو ک کیا کہ اہل ہند اُسے دیو تا ما ننے لگے، دین اسلا م کے ساتھ ان کا تعصب دو ر ہوا،اور وہ مسلمانو ں کے دین کی تعلیما ت غو ر و فکر سے سننے لگے اور انکے ذہنو ں نے اسلا م کی صد اقت و حقانیت کو تسلیم کر لیا ۔ اس طر ح مسلما ن حکمرا ن بلا شبہ اپنے اعلیٰ اخلا ق کے با عث اشا عت اسلا م میں بڑے ممد و معا و ن ثا بت ہو ئے ۔لیکن ان سے بھی زیا دہ جو لوگ اسلا م کی اشا عت کا با عث بنے وہ اولیا ئ اللہ تھے جنہیں صو فیا ئ کہا جا تا ہے ۔ حکمرا نو ں کے با عث اشا عت اسلا م کا جب ذکر کیا جا تا ہے تو یہ خیا ل پیدا ہو تا ہے کہ عین ممکن ہے بعض مو قع پر ست حکمرانوںکا قر ب حا صل کر نے کے لیے دکھا وے کے طو ر پر مسلما ن ہو گئے ہو ں اورا سلام اُن کے دل ود ما غ میں داخل نہ ہوا ہو ۔ بلا شبہ یہ با ت در ست ہے یقینا ان لو گوں میں ایسے افراد ہو نگے ۔ کسی کے دل کو چیر کر ایما ن وا خلاص دیکھا نہیں جا سکتا لیکن وہ کثیر التعداد لو گ جو صو فیا ئ کے با عث مسلما ن ہو ئے اور جنہیں صو فیا ئ نے کلمہ ئ شہا دت پڑ ھایا اُن کے متعلق تو کمزورسا اشتبا ہ بھی پیدا نہیں ہو سکتا کہ کسی حر ص و طمع نے انہیں اسلا م کی طر ف کھینچا ہو۔ انِ فقیرو ں کے پاس کیا تھا کہ لو گو ں کو تحر یص و ترغیب ہوئی ۔


آغا زِ سلسلہ ئ تبلیغ و تد ریس

نو شا ہی سلسلے کا کوئی بر گز یدہ شخص ایما ن کی ، یقین کی تحر یک بن گیا اسلام کے شعو ر کی تبلیغ کے لیے یو ر پ میں رب کے دین کی تحر یک بن گیا سا حلو ں پر بکھر ی ہو ئی ریت کے بر فا ب ذر ے سو ر ج کی شعا عو ں سے اپنے بد ن گر ما رہے ہیں ۔نا ئٹ کلبو ں اور پبو ں میں جوش اور ولو لوں سے بھر ی ہوئی شر م و حیا سے منز ہ تہذ یب اپنے باز وفضا میں لہرا لہرا کر کہہ رہی ہے با بر بہ عیش کو ش کہ عالم دو با رہ نیست اور عر یا نی وفحا شی کو دیکھ دیکھ کر ہر طر ف زمین نے گھا س میں منہ چھپا رکھا ہے۔ ۔۔ یہ یو ر پ ہے ۔۔ کا گ اڑاتی شمپین کی بوتلوں کا یو رپ ۔۔ عر یا نی کے گیت گا تی ہو ئی مے گی کا یو ر پ ۔۔۔۔ جس کے بغیر ا نجیلِ مقد س کا نیا عہد نا مہ مکمل نہیں ہو تا ۔۔۔ تہذبیوں پر گفتگو کر تے ہو ئے بر ٹینڈر سل کا یو ر پ ۔۔۔ جو خدا کے وجو د سے خا لی معا شرے کی تلا ش میں ہے ۔۔۔۔ بر نارڈ شا کا یو ر پ ۔۔۔ جہا ں مر د مر دسے مل کر مکمل ہو تا ہے اور اس میں پیر سید معرو ف حسین شا ہ میرے ہم سفر ہیں ہم دونوں سا تھ سا تھ چل رہے ہیں مگر اپنے اپنے را ستے پر ۔۔۔۔ میں اس وقت ہر وہ ایشا ئی فر د ہو ں جس کی آنکھیں مغر بی تہذیب و تمد ن کی چکا چو ند سے خیرہ ہو چکی ہیں۔ ہم دونو ں چل رہے ہیں دو ر تک نر م گر م سا حلو ں کی ریت سن با تھ لے رہی ہے۔ یہ سپین ہے پیر سید معرو ف حسین شا ہ پو چھ رہے ہیں ۔کیا یہ وہی سپین ہے جو کبھی اسلا می تہذ یب و تمد ن کا گہوا رہ تھا اس وقت مسجد قر طبہ سے اٹھتی ہوئی اذانو ں کی صد ائو ں سے لے کر کر کشتیا ں جلا نے والے مجا ہد وں کے حو صلو ں اور ارا دو ں کی تاریخ ان کے رگ وپے میں دو ڑ رہی ہے ۔وہ سر ما یہ اور شر اب کی گر د ش سے جنم لینے والی ثقا فت کو اپنے پا ئو ں تلے رو ند تے ہوئے چلتے جا رہے ہیں۔ ان کی آنکھو ں کے سا منے جبل الطا ر ق ہے۔ آٹھو یں صد ی عیسویں کا کوئی دھو پ سے نکھرا ہوا دن ان کا ہم رکاب ہے ، سمند ر کا پانی قد مو ں کے نشا ن چو م چو م کر ان کا استقبال کر رہا ہے۔ سا حلو ں پر بھے گی بھے گی ہو ا ،دھیمے دھیمے سر و ں میں خو شی کے گیت گا رہی ہے اور بچیوں کی طر ح کھلکھلاتی اور مسکرا تی ہو ئی مو جیں ہوا کی تال پر دف بجا رہی ہیں۔ جبرا لٹر کے صو بے دا ر کے محل میں اس کی بیٹیوں کے چہر ے تمتا اٹھے ہیں۔ انہیں پورا یقین ہے کہ ان کی عز ت لو ٹنے والے سپین کے با د شا ہ کاآخر ی وقت آگیا ہے ۔وہ بہت جلد سپین کی گلیوں میں سر اٹھا کر چلنے کے قابل ہو نیوالی ہیں۔ یور پ کی سیا ہ را ت میں نو ر کے خنجر بو نے والے سا حل پر اتر چکے ہیں۔ سا حل سمند ر پر بے شما ر کشتیا ں کھڑ ی ہیں۔ آنے والے مطمئن ہیں کہ شکست کی صو رت میں واپسی کا راستہ مو جو د ہے اور سپین کا با دشا ہ بھی یہ خبر سن چکا ہے کہ بہت سے لٹیر ے جبر الٹرکے سا حل پر لنگر انداز ہو چکے ہیں۔ وہ خو ش ہے کہ جبر الڑ کے باغی صو بے دا ر کی مشکلا ت میں اضا فہ ہو رہا ہے مگر جبر الڑ پر یشا ن ہیں ۔سو چ رہے ہیں کہ اس مر تبہ لٹیر ے دو ر تک بستیوں کو لوٹنے کا ارا داہ لے کر آئے ہیں۔ اس سے پہلے تو کبھی لٹیرو ں کی اتنی بڑ ی تعدا د ان سا حلو ں پر لنگر اندا ز نہیں ہوئی ۔ افواہیں گردش میں ہیں کہ خو د صو بے دا ر نے ان لیٹر وںکو بلا یا ہے اور انہیں لا نے والی کشتیا ں خو دصوبے دار کی اپنی ہیں۔ اللہ خیر کرے نجا نے صو بے دا ر کیا چا ہتا ہے اور پھر لو گو ں نے دیکھا کہ لیٹر وں کے سپہ سا لا ر نے کشتیوں کو آگ لگوا دی ہے سپاہیوں کی آنکھیں سمجھ گئی تھیں کہ اب شکست کا مفہو م صر ف اور صر ف مو ت ہے ۔ غر یب الو طنی کی مو ت ۔۔ مگر شہا د ت ۔ اور پھر جبر الڑ کے صو بے دا ر کے تعا و ن سے مسلما نو ں کا لشکر آگے بڑ ھنے لگا ۔فتح کیلئے ہتھلیوں پر سرسو ں کے چرا غ جلالئے گئے ایک نئی تا ریخ رقم کر نے والے معر کے شر و ع ہو گئے ۔ رفتہ رفتہ کشتیوں کی راکھ سو نا بنتی چلی گئی ۔ سپین میں داخل ہونے والے سا ت ہزا ر مجا ہد لا کھوں میں تبد یل ہو گئے۔ یو رپ میں پہلی اسلا می سلطنت وجو د میں آگئی۔ زمین سے کھجو ر وں کے بلند قا مت در خت ابل پڑ ے ۔ آب رسا نی کے

نظام نے مٹی کو زرخیز تر کر دیا۔ نئی تعمیرا ت اور نئی سہو لیا ت سے زند گی کا رنگ رو پ بد لنے لگا صد یو ں کے پا نی مسلما ن باد شا ہو ں کے محلا ت کی سیٹرھیو ں کے آخر ی ز ینے چو م چو م کر آگے بڑ ھنے لگے ۔ 

میں نے پیر صا حب کے ہا تھ پر ہا تھ رکھاا ور وہ تصو ر کی دنیا سے پلٹ آئے ۔سا حل نے ہم سے کوئی صد یو ں پر انی سر گوشی کی اور منظر بدل گیا ۔ پیر سید معر و ف حسین شا ہ کی آنکھیں پتھر ہو گئیں ، درد سے پتھر ، لیکن پھر بھی وہ دیکھتے رہے ۔ آٹھویں صد ی میں کشتیا ں جلا نے والے سمند ر کی تہہ میں اتر تے جا رہے ہیں جس پا نی پر صد یو ں تک ان کی جلا ئی ہو ئی کشتیوں کی راکھ اڑ تی رہی تھی وہا ں شا ر ک مچھلیوں کے بھنو ر انہیں اپنے اند ر کھینچ رہے ہیں ۔ مو ت کی حکمر انی ہے ۔ ہر طرف مو ت ۔ ہر مسلما ن کی مو ت ۔ کلیسا ئو ں کی سر زمین کو پاک کر نے کے لیے اسے مسلما نو ںکے لہو سے نہلا یا جا رہا ہے ۔ گلیو ں میں لا شیں ہی لا شیں پڑ ی ہیں۔ جلتے ہو ئے مکا نو ں میں سو ختہ ہو تے ہوئے مسلما ن خا ندا ن ۔ بر بر یت کی کچھ نئی مثالیں۔ بچوں کو چھو ڑ کر ہجر ت کر تے ہو ئے ما ں با پ ۔ کیا کہیں کوئی مسلما ن رہ تو نہیں گیا ۔ نہیں نہیں ۔ کوئی نہیں ۔ کوئی نہیں ۔ کہیں نہیں رہا ۔ صرف بچے رہ گئے ہیں انہیں عیسا ئی بنا لیا جا ئے گا۔ میں نے پھر پیرصا حب کے ہا تھ پرہاتھ رکھا اور وہ تصو ر کی دنیا سے پلٹ آئے ،مگر اس مر تبہ آبد یدہ تھے۔ پتھرا تی ہو ئی آنکھیں چھلک پڑ ی تھیں۔ کہنے لگے ’’ چو دھویں صد ی عیسو ی میں یو ر پ سے اسلام کو با رہ پتھرباہر کر نے کے ہو لنا ک واقعہ کے بعد کوئی شخص ایسا نہیں پیدا ہوا جس نے یو ر پ میں اسلا م کی تبلیغ کے متعلق کچھ سو چا ہو یا اس پر عمل کر نے کی سعی کی ہو ۔ اور وہ خا موش ہو گئے اپنے اند ر سے آتی ہو ئی کسی آواز کو سننے لگے شا ید وہ آوازا نہیں یہی کہہ رہی تھی ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تم اکیلے یو ر پ کے سا حلو ں پر اتر ے ہو مگر تمہیں اتا ر نے والے نے تمہیں یو نہی یہا ں نہیں بھیجا تم نے وہ کام کرنا ہے جس کا سلسلہ یہا ں پانچ سو سال پہلے ختم کر دیا گیا تھا۔ تم نے پھر سے یو ر پ میں احیا ئے اسلام کی تحر یک شروع کر نی ہے مگر اب اس کاو سیلہ تلوا ر کو نہیں اپنے عمل کو اپنے کر دا ر کو بنا نا ہے ۔اپنی سچا ئی کو بنا نا ہے۔ سچا ئی وہ خو شبو ہے، جسے پھیلنے سے کوئی نہیں روک سکتا، کر دا ر وہ رو شنی ہے جس نے ما حو ل کو منور کر نا ہی ہو تا ہے اور عمل وہ حیر ت انگیز آواز ہے جو دلو ں کو اپنے سحر میں لے لیتی ہے۔ اور پھر یو ں ہو ا کہ پیر سید معرو ف حسین شا ہ نے اس سلسلے میں اپنے اند ر ایک جما عت ،ایک تنظم، ایک تحریک کے قیا م کا فیصلہ کر لیا جو یو رپ میں اسلا م کی تبلیغ کے لیے صد یو ں تک جا ری ہے ۔ وہ 1963 کی کیا پر سعا د ت صبح تھی جب پیر صا حب نے اپنے سا تھیوں کو جمع کر کے ایک جما عت کے قیا م کا اعلا ن کیا اس جما عت کا نام جمعیت تبلیغ الا سلا م رکھا گیا اور اس کا مقصد فر و غِ دین مصطفوی قر ا ر دیا گیا بنیا دی طو ر پر تین کا م سا منے رکھے گئے ۔ ﴿ 1 ﴾ یہا ں مو جو د مسلما نو ں میں بید ار ی کے لیے کا م کیا جا ئے تا کہ مسلما ن جمعیت تبلیغ الا سلام کا حصہ بن کر اسلا م کی ترویج کے لیے کا م کر سکیں۔ ﴿2 ﴾مسا جد اور مدا ر س کا قیام عمل میں لا یا جا ئے اور اسلامی ممالک سے بڑے بڑے علما ئے کر ام کو یہا ں بلا کر ان سے دین مصطفوٰی کی تبلیغ کا کا م لیا جا ئے ۔ ﴿3 ﴾ ایسے مسلما ن بنا نے کی کو شش کی جا ئے جن کے کر دا ر کو دیکھ کر غیر مسلم اسلام کی طر ف راغب ہو ں تاکہ یورپ میں اس انداز سے دین اسلا م کے شجر کی آبیا ری ہو کہ آنے والی صدیو ںمیں، کو ئی اسے اکھا ڑ نہ سکے۔ چو د ھو یں صد ی عیسو یں میں سپین میں اسلا م کی تر ویج و تبلیغ کے خا تمے کے بعد یو ر پ میں یہ وہ پہلی جما عت ہے جس نے منظم انداز میں اسلام کو متعا رف کر انے کی سعی کی۔ اس میں بڑی حد تک کا میا بی بھی حا صل کی ۔ جس وقت پیر سید معر و ف حسین شا ہ نو شاہی نے اس کا م کا آغاز کیا اسو وقت بر طا نیہ میں صر ف ایک مسجد تھی جسے مسجد شا ہجہا ں کہتے ہیں۔ ڈاکٹر لا ئٹ نر نے ۹۸۸۱میں اسے اپنے مسلما ن طا لب علمو ں کی سہو لت کے لیے تعمیر کرا یا تھا۔ اس کی رقم ملکہ بھو پا ل شا ہجہا ن بیگم نے دی تھی ۔ جس کی وجہ سے اس مسجد کا نام شا ہجہا ن رکھا گیا تھا۔ ۹۹۸۱ میں ڈاکٹر لا ئٹنر کی وفا ت کے بعد اس مسجد کو بند کر دیا گیا تقریبا ً تیرہ سا ل یہ مسجد بند رہی۔ اس کے بعد اسے عبا د ت اور نماز کے لیے کھول دیا گیا ۔یہ مسجد سرے کاونٹی کے قصبے ووکنگ میں ہے جہا ں مسلما نو ں کی آبا دی بہت کم ہے ۔ذوالفقا ر علی بھٹو کے دو ر سے حکومتِ پاکستان اس مسجد کے لیے ہر سا ل فنڈ فرا ہم کر تی ہے پیرسید معرو ف حسین شا ہ جب یہا ں آئے اور انہو ں نے دیکھا کہ شہر میں خا صی تعدا د میں مسلما ن مو جو د ہیں اور نماز پڑھنے کے لیے کوئی مسجد مو جو د نہیں تو انہو ں نے اس کا ر خیر کا آغا ز اپنے وہیں سے کیا، جہا ں انہو ں نے رہا ئش رکھی ہو ئی تھی ، اسی مکان میں با جما عت نماز پڑ ھا نے لگے۔ پھر بر یڈ فو رڈ 8 کے سا و تھ فیلڈ سکو ا ئر میں 18 نمبر کا مکان خر ید ا اور اس کے ایک کمرے کو تبلیغ اسلا م کی سر گر میوں کا مر کز بنا لیا۔ پیر صا حب آج بھی اسی مکان میں رہا ئش پذ یر ہیں اور آج بھی وہی مکا ن تبلیغ اسلا م کی سر گر میوں کا مر کز ہے یہ الگ با ت کہ جمعیت تبلیغ الا سلام کا دا ئرہ پو رے یو ر پ میں پھیل چکا ہے، بے شما ر مساجد قا ئم ہو چکی ہیں ، مدا ر س بن چکے ہیں۔ دعا دیں گے مر ے بعد آنے والے میری و حشت کو بہت کا نٹے نکل آئے ہیں میرے سا تھ منز ل کے اگر چہ ورلڈ ٹر یڈ سنٹر کی تبا ہی سے شر و ع ہو نے والی امر یکہ کی دہشت گر دی کے خلا ف جنگ کسی حد تک مسلما نو ں کے خلا ف ایک تحر یک ہے اور مغر بی طا قتو ں نے امر یکہ اور یو ر پ میں اسلام کے پھیلنے کے عمل کا بغو ر جا ئز ہ لینا شر و ع کر دیاہے ۔ وہ غو ر کر رہے ہیں کہ لو گ اسلا م کی طر ف کیو ں را غب ہو رہے ہیں اور انہیں کیسے روکا جا سکتا ہے مگر پیرسید معرو ف حسین نوشاہی کے سلسلہ ئ تبلیغ میں کو ئی رکا و ٹ نہیں آئی اس کی وجہ یہی ہے کہ انہو ں نے اپنی تبلیغ کی بنیا د نفر ت پر نہیں، محبت پر رکھی ہوئی ہے۔ ان کے ہاتھ میں تلو ا ر نہیں پھول ہیں اور وہ خو شبو بکھیر تے ہیں ،خو ن نہیں بہا تے ۔ وہ یو ر پ میں اسی طر ح �òاسلام پھیلا نے کی کوشش کر رہے ہیں جس طر ح دنیا بھر میں صو فیا ئے کر ام نے اسلا م پھیلا یا ہے۔ دنیا میںیہ بہت کم ہوا ہے کہ کسی شخص نے خو ف کی وجہ سے اپنا مذہب بدل لیا ہو ہمیشہ یہ ہوا ہے کہ کہیں کوئی ایسی شخصیت پید ا ہو جا تی ہے جس کی با تو ں سے پھو ل جھڑ تے ہیں، جس کے عمل میں کہکشا ئیں دکھا ئی دیتی ہیں۔ پیر صا حب نے یو ر پ میں بہت سے غیر مسلمو ں کو مسلما ن کیا ہے میرے خیا ل یو ر پ میں اور کو ئی بز ر گ شخصیت ایسی نہیں جس نے اتنے لو گو ں کو مسلما ن کیا ہو جتنے لو گو ںنے پیر صا حب کے دستِ مبا ر ک پر اسلا م قبو ل کیا ہے یہ اور با ت کہ اس وقت یورپ میں کئی ایسے بہر وپیے بھی مو جو د ہے جنہو ں نے ایک شخص کو بھی مسلما ن نہیں کیا مگر دعوٰ ی ہزا وں کا کر تے ہیں یو ر پ کے با رے میں مجھے یہ پیش گوئی کر تے ہوئے کوئی ہچکچا ہٹ نہیں ہو رہی کہ چالیس پچا س سا ل کے بعد یو رپ میں مسلما نو ں کی تعدا د کر و ڑو ں تک پہنچ جا ئے گی اور یو ر پ کا کو ئی شہر ایسا نہیں رہے گا جہاں اسلا می مدا ر س اور مساجد نہ ہوں اور میرے خیا ل میں یو ر پ میں ہو نے والی نیکیوں کے اجر کے سب سے بڑے حق دا ر ،سید معرو ف حسین شا ہ ہی ہو ں گے ،جنہو ں نے یہا ں جمعیت تبلیغ الا سلا م کی بنیا د رکھی۔ خیر کا اجر تر ے نام قیا مت تک ہے دہر میں نغمہ ئ اسلا م قیا مت تک ہے مو ت کی دھول مٹا سکتی نہیں ہے تجھ کو کہ ترا نا م تر ا کا م قیا مت تک ہے آج اگر یو ر پ کی گلیوں سے اذا نو ں کی صد ائیں سنا تی دیتی ہیں تو اس کا کریڈ ٹ پیر سید معرو ف حسین شا ہ کے علا وہ کسی اور کو نہیں دیا جا سکتا ۔ آج اگر یو ر پ کے کئی شہر و ں میں مسجد کے سپیکر پر اذا ن دینے کی اجا ز ت ہے تو اس کے پیچھے پیر صا حب کی فکر رسا اور جہد ِمسلسل ہے ۔ اس وقت پیر صا حب کے زیر نگرا نی د نیا بھر میں 23 مسا جد قا ئم ہو چکی ہیں اور اس کے علا وہ بہت سا رے دینی مدا ر س بھی کا م کر رہے ہیں۔ صر ف بر یڈ فو ر ڈ، شیفیلڈاور اولڈ ھم میں 17 ادا رے قا ئم ہو چکے ہیں ۔ہا لینڈ اور فرا نس میں بھی مسا جد بن چکی ہیں اور انشا ئ اللہ یہ سلسلہ جا ر ی رہے گا۔

کتا بو ں کے دو ست

ایک چھو ٹا سا بچہ ۔ اپنے گھر کے ایک کمر ے میں اکیلا کھیل رہا ہے ۔ کھلو نے کے طو ر کھیلنے کے لیے اس کے پا س صر ف کتا بیں ہیں۔ مختلف سا ئز کی کتا بیں۔ وہ ان کتا بو ں سے اپنے خو ابو ں کا محل تعمیر کر نے کی کوشش کر رہا ہے اس نے کمرے کے فر ش کے طو ر پر ایک جہا زی سا ئز کی ہد یہ شر یف نیچے رکھ دی ہے ۔فقہ کی یہ کتا ب علما ئے کر ام کے خیا ل میں مسا ئل شر یعت کے بیان میں بنیا دی حیثیت رکھتی ہے ۔ دائیں طر ف کی دیو ار کے طو ر پر گلستا نِ سعد ی کو کھڑ ا کر دیا ہے اور با ئیں طر ف کی دیوا ر بوستان سعد ی سے بنا لی ہے۔ سعد ی شیر از ی کی یہ د ونو ں کتا بیں علم کی وہ مضبو ط فصیلیں ہیں جن پر صدیو ں سے جہا لت کی منجنیق پتھر بر سا ر ہی ہے مگرکسی دیوا ر کو ذرا سا بھی نہیں سر کا سکی ۔ پچھلی دیو ار کے طو ر پر شہا ب الد ین سہرور دی کی کتا ب المعارف العا رف کھڑی کر دی ہے۔ دنیا ئے تصو ف کی یہ وہ کتا ب ہے جو صو فیو ں کو بھٹکنے سے رو کتی ہے۔ اور چھت کے طور پر عمر خیا م کی ربا عیوں کا مجمو عہ رکھ دیا ہے ۔ ربا عیا ت عمر خیام وہ میکدہ ئ خیا ل ہے جہا ں شا عر ی کے پر جلتے ہیں وہ کئی اور بھی کمر ے بنا تا ہے جن میںبخا ر ی شر یف ، منطق استخر ا جیہ، کیمیا ئے سعادت ، تا سین، فتوحا ت ، مکیہ اور نجا نے کو ن کونسی کی کتا بیں دیو ا ر وں اور چھتو ں کے طو ر پر استعمال ہو جا تی ہیں ۔ بچے کا محل تیا ر ہو چکا ہے اور اب وہ اس محل میں داخل ہو نے کی کوشش کر رہا ہے یہی کو شش کر تے کر تے بچہ جو ان ہو جا تاہے ۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ اس نے گلستا ن و بو ستا ن سعد ی کی دیوار یں پہن رکھی ہیں ۔مسلم و بخا ری کو چھتو ں کے طو ر پر اوڑ ھ رکھا ہے ۔ اس کا سینہ علم کے اعجا ز سے بھرا ہوا ہے اور دما غ میںرب زدنی علما کاور د جا ری ہے ۔ وہ با ر با ر کہہ رہا ہے ۔اے رب میرے علم میں اضا فہ کر۔ اس نے اسرا رِ کا ئنا ت کے راز دا ں یہ الفا ظ زند گی کا حاصل بنا ئے ہوئے ہیں کہ ما ں کی گو د سے لحد کی آرا م گا ہ تک علم حاصل کر و۔ اور اس حد یث کو اپنے ہر سفر کی بنیا د بنا رکھا ہے کہ علم حا صل کر و چاہے تمہیں چین ہی کیو ں نہ جا نا پڑ ے ۔ کتا بو ں سے کھیلنے والا وہ بچہ علم کی تلا ش میں کہا ں تک پہنچ گیا۔ آئیے دیکھتے ہیں اس بچے کی لا ئبر یر ی جو ا ب بچے کے سا تھ ساتھ بز ر گ تر ہو تی چلی جا رہی ہے ۔ یہ لا ئبر یر ی بر یڈ فور ڈ میں تقریبا ً دس کمروں پر مشتمل ہے ۔اس میں دنیا بھر سے نا یا ب کتا بیں جمع کی گئی ہیں۔ وہ بچہ دنیا کے جس ملک میں گیا وہا ںسے رو شنی کا یہی ذخیر ہ وافر مقدا ر میں اٹھا لا یا اس نے زند گی میں جو کچھ محنت مشقت سے کما یا اس کا زیا دہ حصہ اسی کا رخیر پر صر ف کردیا اور نہ صرف خو دا ن کتا بو ں سے اکتساب فیض کیا بلکہ ہر علم کے متلا شی کے لیے اس کے در و ازے وا ر کھے۔ مجھے منصو ر حلا ج کے شعر ی مجمو عہ ’’ دیو ان منصو ر ‘‘ کی تلا ش، اس لا ئبر یر ی تک لے گئی تھی۔ میں نے حیر ت سے بریڈ فورڈ جیسے شہر میںاس ذا تی لا ئبر یر ی کو دیکھا ۔اس میں اردو ، فا ر سی ، عر بی ، اور انگر یزی زبان کی ہزاروں کتا بیں مو جو د تھیں ۔ علمی مذہبی اور ادبی معلو ما ت پر کتا بوں کا اتنابڑ ا ذخیر ہ مجھے بر طا نیہ میںکسی اور شخص کے پا س نہیں دکھا ئی دیا ۔ تفا سیر کے شعبے میں دو سو کے لگ بھگ تفا سیر مو جو د ہیں۔ تقر یبا ً ہما رے قر ب جوا ر میں بو لی جا نے والی ہر زبان کے اندر لکھی گئی تفسیر وہا ں مو جو د ہے ۔ ابوا لفضل کی غیر منقو ط تفسیر القرا ن بھی نظر آئی۔ محمد علی لا ہو ری کی بیا ں القران بھی وہاں مو جو د تھی ۔ تفسیر ابن کثیر تو خیرا ب ہر جگہ مل جا تی ہے۔ میرے لیے حیر ت کی با ت یہ تھی کہ ایسی تفا سیر جو مسلک کے اعتبا ر سے ان کے ساتھ لگا نہیں کھا تیں وہ بھی وہا ں پڑ ی ہو ئی تھیں۔ احا دیث کی تما م کتا بو ں کے علا وہ شر و حا ت احا دیث پر بھی بے شما ر کتا بیں اس لا ئیر بر ی میں ہیں اور اصول حد یث پر جو کتا بیں وہا ں پڑ ی ہیں انہیں نو درا ت میں شما ر کیا جا تا ہے۔ فقہ کے حو الے سے بھی وہ کتب خا نہ کما ل کی جگہ ہے اصول فقہ پر کونسی کتا ب ہے جو وہا ں مو جو د نہیں ، فلسفہ اور منطق کے با ب میں کوئی کمی نہیں۔ معا نی ، بدی ،صر ف اور نحو کے مو ضو ع پر بھی اعلیٰ سے اعلیٰ کتاب وہا ں نظر آتی ہے ۔عر بی لغت پر کتا بوں کا ایک وسیع ذخیر ہ مو جو د ہے ۔ صو فی از م پر ہر ممکنہ کتا ب جمع کی گئی ہے۔ ایسے قلمی نسخے جو صر ف بڑی بڑی لا ئبر یر یوں میںپڑ ے ہو ئے ہیں ان کی عکسی کا پیا ں تیار کر ائی گئی ہیں۔ یو ں مجھے یہ بات کہنے میں کوئی ہچکچا ہٹ نہیں ہو رہی کہ جمع کر نے والی شخصیت وا قعی کتا بوں سے سچا عشق کر تی ہے اور اس شخصیت کا، اس بچے کا نام ہے ،پیر سید معر و ف حسین شا ہ ۔ جو شخص اس لا ئبر یر ی سے گز ر کر ان تک پہنچتا ہے اسکی نگا ہ اس شخصیت کو کسی اور نگا ہ سے دیکھنے لگتی ہے۔




’’ سفر ‘‘

پر انے زما نہ میں سفر کیا تھا ؟ ایک عذا ب تھاا سی لیئے عر بوں کے ہا ں ایک مقو لہ تھا ۔ ’’ اَ السَّفَرْ سَقْر’‘ وَّ لَوْ کَانَ فَرْ سُخا ً ‘‘ ﴿سفر سقر یعنی دو زخ ہے چاہے ایک میل کا ہی کیو ں نہ ہو ﴾

اور یہ مقولہ یو نہی وجو د میںنہیں آگیا تھا اپنے زمانے کی تکلیف دہ مسافتوںسے نکلا تھالو گ پید ل یا او نٹو ں گھو ڑ و ں پر ایک جگہ سے دو سری جگہ جا تے تھے ۔را ستے دشوا ر گزا ر تھے ۔مو سم تو نا قا بل اعتبا ر ہو تا ہی ہے ۔مسا فر ہر قسم کے مو سم کا مقا بلہ کر نے کے لیے سا زو سا مان سا تھ لے کر اتنی گر انبا ری میں کہا ں چل سکتا تھا۔ دو ر دو ر تک آبا دی کا نام و نشا ن تک نہ ہو تا تھا زا دِ را ہ بو قت تما م ساتھ رکھنا ہو تا مگر اسکے ہر وقت کم پڑ جا نے کا خطر ہ ہو تا تھا ۔اپنے سا تھ اپنی سوا ر ی کا بھی کھانے پینے کا سا ما ن سا تھ رکھنا ہو تا تھا پھر یہ علم نہیں کہ کہا ں مسا فر یا اسکی سوا ر ی کے جا نور کو کوئی بیما ری لا حق ہو جا ئے ایک جگہ سے دو سر ی جگہ منتقل ہونے میں ہفتے ، مہینے اور سا ل لگ جا تے تھے را ہِ منزل کا تعین دشوا ر تھا ۔ را ستے مصئو ن و ما مو ن نہ تھے۔ ہر قدم پر رہز نو ں کا خطر ہ ہو تا تھا ۔ اکیلا آدمی سفر کی جر ات نہ کر سکتا تھا ۔کئی کئی روز قا فلوں کا انتظا ر کیا جا تا کوئی قا فلہ تیا ر ہو تا تو اسکے بھی را ستے میں لُٹ جا نے کا خطر ہ رہتا تھا کیو نکہ کوئی کا رو اں اپنے سا تھ فو ج لے کر تو نہیں چل سکتا تھا ادھر ہر قدم پر راہ بھٹک جا نے کے ہو لنا ک اند یشے رہتے اس وجہ سے لو گ سفر کو دوز خ سے تعبیر کر تے اور حتی الا مکا ن اس سے پر ہیز کر تے تھے ۔ قرآن حکیم نے پہلی دفعہ لو گو ں کو سفر پر اکسا یا اور بتا یا کہ پوری دنیا انسا ن کا وطن ہے۔ سفر کر و زمین میں گھو مو پھر و تو تُم دو سر ی قو مو ں کے عبر تنا ک حا لا ت و وا قعا ت دیکھ سکو گے ۔اجڑ ی ہو ئی بستیو ں کو دیکھو گے اور تمہیں معلو م ہو گا کہ اللہ کی نا فر ما نی پر کتنے لو گو ں کو خو د انکی بد کا ر ی نے گھیر لیا اور عذا ب خدا وند ی کی گر فت میں آکر تہس نہس ہو گئیں ۔تمہیں معلو م ہوگا کہ زمین میں بقا صر ف اسی کو حا صل ہو تی ہے جو نسل انسانی کے لیے نفع بخش ہو ۔ 

واَ ما ماَ یَنْفَعُ النَا سَ فَیَمْکْثْ فِی الْا ر ْضِ ۔ ﴿بقا اسی کو حا صل ہو گی جو نو عِ انسا ن کے لیے نفع بخش ہو گا ﴾ یہی اللہ کا قا نو ن ہے ۔پیغمبر یہی قا نو ن آکر بتا تے رہے اور اسی قا نو ن سے اعر ا ض بر تنے والو ں کو اُنکے انجا م سے خبر دا ر کرتے تھے۔

قُلْ سیْرُ وْ ا فِی الْاَرْ ض ثُم َ انْظرو ا کَیْفَ کَاَ نْ عَا قِبَۃْ المکذبین

﴿ اے اللہ کے رسو ل فر ما دیجیے، لو گو زمین میںچلو پھر و اور دیکھو کہ جن لو گو ں کوانجا م بد سے ڈرا یا جا تا رہے اور وہ نہ ما نے تو ان کا انجا م کیا ہو ا﴾

اشا عتِ اسلا م کے لیے اور خدا کے پیغا م کو دنیا کے ہر گو شے تک پہنچا دینا بھی سفر پر اُکسا تا اور اسکی تر غیب بنتا رہا ۔ یہ بھی بتا یا گیا کہ حکمت و دانش مو من کی گمشد ہ چیز ہے، پس اسے چا ہیے کہ وہ اسے دنیا میں تلا ش کر ے اور اس تلا ش و جستجو میں دو ر درا ز کے سفر تک سے دریغ نہ کرے۔ حضور �ö ’’ ا طلبو العلم و لوکانا با لصین‘‘

﴿علم تلا ش کر و چا ہے اسکی جستجو میں تمہیں چین کے دو ر درا ز ملک میں ہی کیو ں نہ جا نا پڑ ے ﴾ اس طر ح سفر بھی ایک طر ح کی عبا د ت بن گیا۔ مسلما ن خلفانے را ستے مصئو ن کئے۔ رہز نو ں کا قلع قمع کیا۔ سٹر کیں اور شاہراہیں بنوا ئیں۔ سڑ کو ں پر سا یہ دا ر در خت لگوا ئے ۔جگہ جگہ سرا ئیں بنوا ئیں کنو ئیں کُھد وا ئے اور سفر کے لیے ہر طر ح کی آسانیاںمہیا کیں۔ اہلِ علم میں بلا ذر ی اور یا قو ت حموی جیسے لو گ پیدا ہو ئے، جنہو ں نے دو ر درا ز کے ملکو ں اور شہر و ں کا تعارف کر ایا۔ وہا ں کے مو سموں اور پیدا وا ر وں سے شنا سا ئی فر اہم کی اور علم جغر افیہ کی بنیا د پڑی ۔ بر ی اور بحر ی سفر شر و ع ہوئے اور عر بو ں کا قد یم مقولہ بد ل گیا ۔ بقو ل مو لا نا حا لی یہ حا لت ہو گئی کہ �ò سفر جو کبھی تھا نمو نہ سقر کا وسیلہ ہے اب وہ سر اسر ظفر کا پیر معرو ف شا ہ صا حب کی زند گی کا بیشتر حصہ بھی سفر میں گز ر ا۔اور یہ سا را سفر تبلیغی مقا صد کے لیے ہوا ۔انہو ں نے سفر کی تفا صیل اپنی ڈا ئر یو ں میں محفو ظ کیں جن سے ہم نے انکے سفر نا مے تر تیب دیئے ۔ ان میں سب سے زیا دہ پر سعادت سفر تو سفرِ حج ہے۔ انہو ں نے ابتک چا ر دفعہ یہ سعا دت حا صل کی۔ انکا سفر نا مہ ئِ حج شا مل ِ کتا ب کر نے سے پہلے ہم یہ وضا حت ضر و ر ی سمجھتے ہیں کہ انکے نز د یک حج کے مقا صد کیا ہیں ۔ آئندہ صفحا ت میں انکی تحر یر و تقر یر سے ترتیب پا نے وا لا مقالہ ’’ حج اور مقاصد حج‘‘ آر ہا ہے ۔

حج اور اس کے مقا صد

قر آن حکیم انسا نی تمد ن کی ابتدا ئ کا ذکر کر تے ہو ئے بتا تا ہے ۔

کاَ نَ النَّا سُ اُمَّۃً وَّ احِدَۃً فَا خْتَلَفُوْ ا (1019)

﴿نسل ِ انسانی شر و ع میںامت ِ وا حد ہ تھی پھرا ختلا فا ت پیدا ہو گئے﴾ فکر و نظر کا یہ اختلا ف آہستہ آہستہ وسیع ہوتا گیا ۔قبائل تقسیم ہو ئے پھر نسلو ں اور قو مو ں تک یہ اختلا ف پھیلتا گیا اور صورت حال یہ ہو گئی کہ آدمی آدمی کا دشمن ہو گیا۔ قو میں قو مو ں کو آگ اور خو ن میں ڈبو نے لگیں ۔زمین پر لکیر یں کھینچ دی گئیں اور قومیت و طینت کے نام تعصب ، بغض و حسد اور با ہمی نفر ت و عدا و ت کے جہنمی الاؤ دہکنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے انسا نو ں میں یہ در ند گی پیدا ہو تے دیکھی تو انبیا ئ و رسل کی تر سیل کا سلسلہ زر یں شر وع کیا اور وحی کی رہنما ئی کا آغا ز کر دیا ار شا د ربا نی ہے۔ کَانَ النَّا سُ اُمَّۃً وَّ حِدَ ۃً قف فَبَعَثَ اللّٰہ البِنّٰیِیّن‘َ مُبَثِّرِ یْنَ وَ مُنْذرِ یْنَ وَ اَ نْزَ لَ مَعَھُمْ الْکِتَا بَ با لْحَقِّ لِیَحْکْمُ بَیْنَ النَّاس فِیْمَااخْتَلَفُوْ ا فِیْہ(2/213) ﴿نسل انسا نی امت ِ وا حد ہ تھی پھر اس میں اختلا فا ت نمودا ر ہو ئے، پس اللہ نے انبیا ئ کو بشا ر ت دینے والے اور ڈر انے والے بنا کر بھیجا اور انکے سا تھ بر حق کتا ب نازل کی تا کہ وہ لو گو ں کے با ہمی اختلا فا ت کو ختم کر یں﴾ یو ں سلسلہ تر سیل انبیا ئ کا مقصد لو گو ں میں تما م قسم کے اختلا فا ت ختم کر کے نسلِ انسانی کو پھر امت ِ وا حد ہ میں ڈھا لنا تھا ان انبیا ئ نے وضا حت کی کہ رنگ ، نسل ، زبان ، وطن کے اختلاف کے با و جو د سب انسا ن برا بر ہیں ، ایک امت ہیں،اس لیے ان میں اتحا د و اتفا ق ہو نا چا ہیے۔ انبیا ئ نے چا ہا کہ ایک امت کی تشکیل کے لیے ایک اجتما عی نظا م ہو۔ اب چو نکہ ایک اجتماعی نظا م کے لیے ایک مر کز محسو س ہو نا چاہییتھا ۔یہ مر کز محسو س کعبہ کے نا م سے شہر مکہ میں حضر ت ابر اہیم علیہ السلام کے ہا تھو ںکرا یا گیا اور اس تعمیر میں ان کے فر زند جلیل حضرت اسمعیل علیہ السلام ان کے ساتھ شریک رہے۔ ’’اِنَّ اَوَّل بَیْتٍ وُّ ضِعَ لِنَّا سِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مَّبَا رَ کاً وَّ ھُدً ی لِّلْعَا لَمِینo ﴿3/96﴾ ‘‘ ﴿حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں سب سے پہلا گھر ﴿جو رنگ ، نسل ، قو م ، وطن کے امتیا زا ت سے بلند ہو کر ﴾ خا لص انسا نیت کے لیے وجو د میں آیا وہ مکہ کی مبا ر ک وا دی میں خا نہ کعبہ تھا ﴾ اسے تما م انسا نی نسبتو ں سے بلند اور ار فع قر ا ر دینے کے لیے خدا نے اسے ’’ اپنا گھر ‘‘﴿بیتی2/25 ﴾ کہا اسے ’’ الناس ‘‘ یعنی انسا نی ہیئت ِ اجتما عیہ کا مر کز قر ار دیا ۔کعبہ اور حج کے سلسلہ میں قر آن حکیم میں جتنی آیا ت وا ر د ہو ئی ہیں تمام میں ’’ النا س ‘‘ ہی کا لفظ استعمال ہو ا ہے چو نکہ اللہ کا مقصد انسا ن کی عا لمگیر برا در ی کی تشکیل ہے اسلیئے جس مقا م کو اس کا اجتما عی مر کز بنا یا گیا اُسے ’’اللنَّاس ‘‘ ہی کہاجا نا چا ہیے تھا ۔ نو عِ انسا نی کی اس مر کز یت سے مقصو د کیا تھا ؟ اسکی وضا حت کر تے ہو ئے فر ما یا ۔ ’’جَعَلَ اللّٰہُ الْکَعْبَۃ البَیْتَ الْحَراَم قِیاَ ماً لِلّنَّا س وَ اَمْناًo ﴿2/125 ﴾‘‘ ﴿اللہ تعا لیٰ نے کعبہ کو واجب الا حتر ام قر ار دیا تا کہ اس کی مر کز یت سے نو ع ِ انسا نی اپنے پا ئو ں پر کھڑ ی ہو سکے اور عا لمگیر امن قا ئم ہو ﴾ اس سے دو مقا صد سا منے آتے ہیں۔ ایک قیا م نسل انسانی اور دو سرے بین الا قو امی امن کا قیا م اقوا م عالم ہمیشہ دو گر و ہو ں میں بٹی رہی ہیں ایک سپر پا ور ز یعنی مہیب قو تو ں کی ما لک قو میں اور دو سر ی کمز ور اور پسما ند ہ قو میں ۔یہ کمز ور قو میں سپر پا ورز کا ،’کھا جا ‘ہو تی ہیں اس لیے وہ کوشش کر تی ہیں کہ زیا دہ سے زیا دہ کمز و ر قو میں انکے ساتھ ہو ں اور ہر سپر پاور زیا دہ سے زیادہ امدا د اور قر ض کا لا لچ دے کر زیا دہ سے زیا دہ کمزور قو مو ں کو اپنے سا تھ ملا تی ہے۔ اسکی یہ بھی کو شش ہو تی ہے کہ کمزور قو م کبھی طا قتو ر نہ بن پا ئے ،کبھی اپنے پا ئو ں پر کھڑ ی نہ ہو سکے، تا کہ ہمیشہ اس کی محتا ج رہے لیکن اگر قو میتو ں کا تصو ر ختم ہو جائے اورسا ری نسل انسانی امتِ وا حد ہ بن جا ئے تو اسے اپنے پا ئو ں پر کھڑا ہو نے کے لیے کسی اور سہا رے کی ضرورت نہیں رہے گی ۔تر قی ہو گی تو تب جب سا ر ی نسل انسا نی تر قی کے ثمرا ت سے بہر ہ ور ہوگی ۔یہ ہے ’’ قیمٰا لًلِنَّاسِ‘‘ کا اصل مفہو م اور یہ ہے کعبہ کی مر کز یت کا پہلا مقصد ۔ دو سر ا مقصد قیا م اِمن عا لم ہے ، جب تک نسل انسا نی بٹی رہے گی، بڑے چھوٹے کی تمیز باقی رہے گی۔ ایک دو سرے کے وسا ئل پر قابض ہو کر اپنی بڑ ائی کی شا ن بڑ ھا تی رہے گی۔ قو مو ں کی تفر یق برقر ا ر رہے گی تو ایک دو سرے سے مقابلہ بھی بر قرا ر رہے گا اور یہ مقا بلہ اسی طر ح جنگو ں کو جنم دیتا رہے گا جیسی صو ر ت حا ل آج ہے قومیں اپنے عوا م میں دوسری قوم کے عوا م کے خلا ف خوا ہ مخواہ کے تعصبا ت پیدا کر تی اور نفر تیں بڑ ھا تی رہتی ہیں۔ عوا م پر جنو ن سوا ر کر دیا جا تا ہے اور قو میں ہمہ وقت ایک دو سرے کے خلاف حالت جنگ میں رہتی ہیں۔ کھلا ڑی کھیل کے میدا ن میں ایک دوسرے کا مقا بلہ کر رہے ہیں اور عو ام گھر میں بیٹھے اعصابی تنا ئوکا شکا ر ہیں ۔ذر ا ئع ابلا غ اس تنا ئو کو بڑ ھا وادے رہے ہیں۔ ادھر زعما ئے سیا ست اپنی بیا ن با زی سے ہر وقت آگ بھڑ کا تے رہتے ہیں۔ اور لو گو ں کو جنگ کے خو ف میں مبتلا رکھتے ہیں۔ تا کہ وہ انکے نیچے سے کر سیا ں کھسکا نے کے متعلق نہ سو چ سکیں اور پھر کسی وقت بھی جو الا مکھی پھٹ جا تا ہے اور جنگ چھڑ جا تی ہے۔ بڑی قو تیں بری اسی لیے بنی ہیں کہ انکے پا س ہو لناک اسلحہ اور وسا ئل ہلاکت ہیں ۔انکے اسلحہ کے بے پنا ہ کا ر خا نے ہیں ۔ ملکی وسائل کا زیا دہ حصہ اسلحہ سا زی میں جھو نکا جا تاہے انہیں اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے یہی اسلحہ کمز ور اقوام پر بیچنا ہے اس لیے وہ اپنے خر یدا ر پیدا کر نے کے لیے ملکو ں کو حا لتِ جنگ میں مبتلا رکھتے ہیں تا کہ انہیں اپنی بقا کا سوا ل ستا تا رہے وہ زیا دہ سے زیا دہ اسلحہ خر یدتے رہیں ۔ پھر آج کی جنگیں پہلی جنگو ں کی طر ح نہیں کہ محدو د انسا نی ہلا کتو ں کے بعد جنگ ختم ہو جائے۔ آج جنگ چھڑ تی ہے تو کئی ملک اس میں شامل ہو تے ہیں اور اسلحہ ایسا ہے کہ ایک بم کتنے شہرو ں کو بھسم کر دیتا ہے ۔بیسویں صد ی اس لحا ظ سے تا ریخ کی انتہا ئی ہلاکت خیز صد ی تھی کہ صد ی کے پہلے پچاس بر س میں دو دفعہ پو ری انسا نی برادری بر با د یو ں کا شکا ر ہو ئی اور دو سر ی جنگ عظیم میں ایٹم بم بھی استعما ل کر دیا گیا۔ ہیرو شیما اور نا گا سا گی جیسے شہر دہکتے ہوئے انگا رے بن گئے دنیا چیخ اٹھی ’’ امن ، امن‘‘ بیت اللہ کا دو سر ابڑا مقصد عا لم انسا نیت میں قیام اِمن ہے۔ وہ خو د بھی جا ئے امن ہے اور دو سرے قو مو ں کو بھی امن و امان اور حفا ظت و سلا متی فر اہم کر تا ہے ۔ ’’وَاِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَا بَۃً لِّلنّاِ س ِ وَ اَمْناًo﴿2/125﴾‘‘ ﴿اور ہم نے کعبہ کو نو ع ِ انسا نی کی اجتما عیت کا مر کز اور مقام امن بنا یا ﴾ اور یہ کہ

   ’’ وَمَنْ دَخَلَہ‘ کَا نَ آمِناًo ﴿3/97 ﴾‘‘

﴿جو یہاں دا خل ہو گیا ما مون و محفوظ ہو گیا ﴾ انسان تو بڑی چیز ہے اور اسلا م کے نز دیک کسی ایک انسا نی جا ن کا قتل سا ری نسل انسا نی کا قتل ہے یہا ںتو مکھی اور مچھر تک کو امان مل جا تی ہے کسی چڑ یا تک کو نہیں ما را جا سکتا ۔ مگر کیا صر ف کعبہ کی عما رت دنیا کو امن فر اہم کر دیتی ہے اور انسا نیت کو اپنے پا ئو ں پر کھڑ ا کر دیتی ہے، نہیں یہ کا م وہ امت کر تی ہے جو کعبہ کو اپنا مر کز بنا تی ہے ،جیسے ہم کہتے ہیں لند ن کی یہ پا لیسی ہے وا شنگٹن کا یہ موقف ہے تو اس سے وہ شہر مرا د نہیں ہوتے، وہ مملکتیں مرا د ہو تی ہیں جنکے یہ شہر دا ر الحکو مت ہیں ۔ دنیا کو امن اور انسا نیت کو قیا م عطا کر نے والی بھی وہ امت ہو گی جس کا مرکز کعبہ ہے یہ امت دنیا میں انصا ف کر ے گی تما م اقوا م عِالم کے کر دا ر کی نگرا ن ہو گی جب ایک قوم دو سری قو م پر زیادتی کر نے لگے گی۔ یہ اُسے اس زیا دتی سے رو ک دے گی ۔ یہ عد ل و انصا ف کو فر و غ دے گی اور ظلم ودراز دستی سے مما نعت کرے گی ۔ ’’کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِ جَتْ لِلنَّا سِ تَأ مُرُ وْنَ بِا لْمَعْرُوْ فِ وَ تَنْھَوْ نَ عَنِ الْمنْکرَ‘‘ ﴿تم وہ بہتر ین امت ہو جسے نو ع انسا نی سے چھا نٹ کر الگ کر لیا گیا ہے تاکہ بھلا ئی کو فر و غ دو اور بر ائی سے رو ک دو﴾ جو امت امر با لمعر و ف اور نہی المنکر کے فرا ئض سرا نجا م دے گی، عد ل و انصا ف کر کے امن کے قیا م کا ذر یعہ بنے گی،زیا دتی کرنے والوں کو زیا دتی کر نے سے رو کے گی۔ اُسے طر ف دا ر ی اور جا نب داری سے دو ر ہو نا چا ہیے کسی ایک طر ف جھکا ئو اور دو سری طرف سے بیز ا ر ی کا رویہ نہیں اختیا ر کر نا چا ہیے ہر ایک سے اسکا فا صلہ یکسا ں ہو نا چا ہیے اس لیے اس امت کو امتِ وسطیٰ یعنی در میان کی امت کیا گیا ۔ ’’وَکَذٰ لِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّ سَطاً لِّتَکُوْ نُوْ ا شُھَد َ ا ئَ عَلیَ النَّا سِ وَ یَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْداً‘‘(2/143) ﴿اور اسی لیے ہم نے تمہیں ایسی امت بنا یا جو تما م اقوا م عالم سے یکسا ں فا صلے پر رہے تاکہ انکے اعما ل و کردا ر کی نگرا نی کرسکے اور رسو ل تمہا رے اعما ل و کر دار پر نگرا ن ہو ﴾ حج کی تما م آیا ت میں لفظ ’’ الناس ‘‘ استعما ل کیا گیا ہے اور امتِ مسلمہ کو ’’الناس‘‘ کی اما مت سو نپی گئی ہے۔ امت ِ مسلمہ کا دوسرانام ملتِ ابر اہیمی ہے ۔یعنی وہ امت جو رو ش ِ ابر اہیمی پر چلتی ہے اور یہ رو شں صر ف مسلما ن قو م ہی کی ہے بر اہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہو تی ہے ہوس چھپ چھپ کے سینو ں میں بنا لیتی ہے تصو یر یں جنا ب ابر اہیم علیہ السلام کے سر پر تا ج اما متِ انسا نی رکھا گیا ۔ ’’اِنّیْ جَا عِلُکَ لِلنَّا سِ اِ مَا ماًo ﴿2123﴾‘‘ ﴿ ہم تجھے نسل انسا نی کا اما م بنا ئے دیتے ہیں﴾

اسی لیے امت مسلمہ کو کہا گیا ۔ 

’’وَ اتَّخِذُ وْ ا مِنْ مَّقَا مِ اِبْرَ ا ھِیْمَ مُصَلیّٰo ﴿2/125﴾‘‘ ﴿تم منصب و مقا م ابرا ہیمی کو اپنی تما م تگ و تا ز کی جو لا ں گا ہ بنا لو ﴾ حج عظیم اجتما ع ہے جس میں با ہمی مشا ور ت سے امت دیگرا قو ام کے نز اعی امو ر کا فیصلہ کر ے گی اور اپنی آئندہ سا ل کی پالیساں زیر بحث آئینگی۔ اس لیے حج کا اذنِ سا ری نسل ِ انسا نی کے لیے ہے اور حکم خا ص امتِ مسلمہ کے لیے ۔ چنانچہ ابر اہیم علیہ السلام سے کہا گیا ’’وَ اَذِّنْ فِی النَّا س بِا لْحَجِo ﴿22/27﴾‘‘ ﴿تم اے ابرا ہیم (ع) تما م انسا نو ں کو دعو ت دو کہ وہ حج کے لیے آئیں﴾ اس اسو ئہ ابرا ہیمی کی اتبا ع میں ،ملت ابرا ہیمی پر یہ فر یضہ عا ئد کر دیا گیا کہ وہ حج کا اہتما م کر یں ظا ہر ہے کہ حج کا اجتما ع اصو لاً تو امت کی با ہمی مشا ور ت کے لیے ہے ،اس لیے افرا د ملت اسلامیہ ادا ئیگیِ فر ض کے لیے اس میں شر یک ہو نگے لیکن ’’النَّاس‘‘ بطو ر مبصر شر یک ہو سکتے ہیں اسی لیے امت ِ مسلمہ کو کیا گیا ۔ ’’وَ لِلّٰہِ عَلیَ النَّا سِ حِجُّ الْبَیْتَ مَنِ اِسْتِطَا عَ اِلَیْہِ سَبِیْلاًo ﴿3/96﴾‘‘ ﴿جو لو گ بھی وہا ں تک پہنچنے کی استطا عت رکھتے ہو ں انہیں چا ہیے کہ ان مقا صد کے حصو ل کے لیے جو خدا نے مقر ر کر رکھے ہیں حج کے اجتما ع میں شر کت کریں﴾ حج ابر اہیم علیہ السلام سے شر وع ہو۔ عر بو ں نے بھی اسے اختیا ر کئے رکھا لیکن حج کی رو ح ختم ہو گئی۔ اب یہ ایک رسم ہو گیا۔اسکی حیثیت ایک میلہ سی ہو گئی۔ جہا ں وہ لو گ ہرطر ح کی مشر کا نہ اور فا سقانہ رسو م ادا کر تے تھے تا ہم اسکی اہمیت با قی رہی۔ قریش حج کا اہتما م کر تے اس لیے کعبہ کی تو لیت بھی انہی کے پا س تھی اور معا شرہ میں بھی انہیں محترم اسی وجہ سے سمجھا جا تا تھا ۔حج کے لغو ی معنی ما دہ کے اعتبا ر سے قصد وا رادہ کے بھی ہیں اور رو ک دینے کے بھی۔ زمانہ قبل اسلا م میں اگر چہ حج کو ایک بے روح رسم بنا دیا گیا تھا لیکن ایک بڑی اہم با ت مو جو د تھی اور وہ یہ کہ لو گ اس میں اپنے منا قشا ت پیش کر تے اور انکے تنازعات مٹا ئے جا تے، جس کی طر ف سے تعد ی اور زیا دتی ہو تی اسے اس تعد ی سے رو ک دیا جا تا ۔ اور یہ رو کنا بز ور و جبر نہ ہو تا اسے دلا ئل و بر اہین سے قا ئل کر دیا جا تا کہ اس کا اقدا م غلط تھا ۔ یہیں سے لفظ ’’ حجت ‘‘ ہے اور س لیئے قرآن حکیم اپنے بصیر ت افر وز دلا ئل کو’’اَلحجۃاللّٰہ البا لِغہَ‘‘(6/149)کہتا ہے ۔غر ض حج کا مقصد یہ تھا کہ قو م ، نسل ، رنگ ، وطن یہ تمام امتیا زا ت کو با طل سمجھ کر ایک وسیع انسا نی برا دری کا قیا م عمل میں لا یا جائے جس کی اما مت امت مسلمہ کے پا س ہو اور وہ ساری دنیا میں امن اور انصا ف قا ئم کر ے ۔حج کے یہی مقا صد اعلیٰ تھے جنہیں جنا ب رحمت اللعا لمین �ö نے اپنے اس خطبہ میں دہرا یا جسے خطبہ حجتہ الو دا ع کہا جاتا ہے اور جو نسل انسا نی کے لیے منشورِ حیات کی حیثیت رکھتا ہے ۔آپ نے فر ما یا ﴿سُن لو کہ جا ہلیت کے اند ھیرے دنو ں کے تمام آئین و ضو ا بط میرے قد مو ں سے کچلے پڑ ے ہیں﴾ ’’اَیَّھَا النَّا س الا ان ربکم وا حد ، وان ابا کم واحد ۔ الا لا فضل لعربی علی عجمی ولا لعجمی علی عربی ولا لا حمر علی اسود لا لاسود علی احمر الا با لتقوٰی‘‘ اے افراد ِ نسل انسانی خو ب غو ر سے سُن لے کہ تم سب کا رب ایک اور تم سب کا با پ ایک ہے اس لیے کسی عر بی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کوکسی عر بی پر ،کسی گو ر ے کو کسی کالے پر، کسی کا لے کو کسی گو رے پر، کوئی فضلیت نہیں مگر تقوٰ ی کے سبب۔ ’’ایہا الناس کلکم من واٰ دم واٰدم من تر اب‘‘ اے افرا د ِ نسل انسا نی تم سب آدم کی اولا د ہو ا ور آدم مٹی سے پیدا کیا گیا تھا ۔ اس خطبہ میں تما م تفا صیل بیا ن کر نے کے بعد آپ جا نب منیٰ رو انہ ہو ئے تو فر ما یا ’’ان الز مان قد استدا ر کھیئۃ یو م خلق اللّٰہ السمو ت و الارض‘‘ ﴿زما نہ پھر پھر ا کر آج پھر اسی مر کز پرآگیا جس پر اللہ تعا لیٰ نے تخلیق ارض و سمٰوٰت کے رو ز اسے متعین کیا تھا ﴾ یہی وہ مقصو د حقیقی تھا جس کے اعلا ن کے بعد آپ (ص) نے فر ما یا ۔ لو گو بتا ئو ’’الا ھل بلغترسالتہً ﴿بو لو کیا میں نے پیغا م خدا و ند ی تم تک پہنچا دیا ﴾ سا را مجمع یک زبا ن ہو کر پکا ر ا یقینا آپ نے بطر یق احسن فر یضہ ئِ رسا لت سر انجام دیا آپ نے فرما یا ’’اللھم اشھد‘‘ ﴿اے اللہ تو گوا ہ ہو جا﴾ تین مر تبہ یہی ہوا پھر فر ما یا ’’فلیبلغ لشا ہد الغا ئب‘‘ ﴿تو جو لو گ یہا ں مو جو د ہیں۔ وہ یہ پیغا م ان لو گو ں تک پہنچا دیں جو مو جو د نہیں ﴾ اس طرح امتِ مسلمہ پر فرض ہو گیا کہ یہ پیغا م قیا مت تک نسل انسا نی کو پہنچا تی چلی جا ئے ۔ اس خطبہ میں حضور �ö نے بھی ’’ النا س ‘‘ فر ما یا اور تما م نسلِ انسا نی کو بتا یا کہ انسا نو ں اور انسا نو ں میں پید ا کر دہ سارے امتیا زات با طل ہیں ۔معیا ر فضیلت صر ف تقوٰ ی ہے اور وہ معیا ر اللہ کے پا س ہے ۔ ’’اِنَّ اَکْرَ مَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ‘ ﴿تم میں اللہ کے نز دیک زیا دہ قابل تکر یم و احتر ام وہی ہے جو زیا دہ متقی ہو﴾ پہلی جنگ عظیم کے بعد اقو ام عِالم نے محسو س کیا کہ کوئی ایسا ادا رہ ہو نا چاہیے جو اقو ام عالم کے با ہمی تنا ز عا ت کا تصفیہ کرے اور ’’ انجمن ِ اقو ام ‘‘ کے نام سے ایک ادا رہ قائم کیا گیا مگر یہ ادا رہ جن قو مو ں پر مشتمل تھا وہ خو د ہی غا صب تھیں ۔اقبا ل نے اس ادا رہ کے قیا م پر بڑی خو بصو ر ت با ت کہی تھی �ò من ازیں بیش ند انم کہ کفن دز دے چند بہر تقسیم قبور انجمنے سا ختہ اند ﴿تر جمہ : میں اس سے زیا دہ نہیں جا نتا کہ چند کفن چو رو ں نے قبر یں تقسیم کر نے کے لیے ایک انجمن بنا ئی﴾ اور ان کفن چو ر وں کی انجمن کے منشو ر کی سیا ہی بھی خشک نہیں ہو تی تھی کہ یہ تہس نہس ہو گئی اور دوسر ی جنگ عظیم چھڑ گئی اسکی ہلاکت خیز یو ں کے بعد اقوا م متحد ہ کا ادا رہ وجو د میں آیا جس کی کا ر کر دگی دنیا کے سامنے ہے ۔اسکی با گ دو ڑ مکمل طو ر پر غاصب چو دھر یو ں کے ہا تھ میں ہے اور اس نے آج تک کو ئی مسئلہ حل نہیں کیا ۔ اقبال نے انجمن اقوام کے قیا م پر دنیا کو ملتِ اسلا میہ کے وجو د کی طر ف متو جہ کر تے ہو ئے کہا تھا �ò مکہ نے دیا خا ک جنیوا کو یہ پیغا م جمعیت اقو ام کہ جمعیت آدم مگر مکہ کا پیغا م جب ملتِ اسلامیہ ہی بھو ل گئی تو خا کِ جنیوا کا کیا قصو ر ؟ پا سبا ن جب سو جا تے ہیں تو راہز نو ں کا را ج ہو جا تا ہے حج آج بھی با قی ہے اور دنیا بھر سے کرو ڑ وں مسلما ن یہ فر یضہ ادا کر نے کے لیے حا ضر ہو تے ہیں مگر حج کا مقصد ان پر واضح نہیں، جن مسلما نو ں پر حج کے مقاصد وا ضح تھے انہیں اللہ نے وہ قوت بخشی تھی کہ وہ کہتے تھے �ò عا لم ہے فقط مو منِ جا نبا ز کی میرا ث مومن نہیں جو صا حب لو لا ک نہیں ہے ان کے سا منے اسر ائیل کی کیا حیثیت تھی مگر آج مسلما ن کر و ڑ وں کی تعدا د میں مو جو د ہیں، کئی مما لک میں ان کی حکو متیں قائم ہیں کئی اسلا می مما لک میں دو لت کی ریل پیل ہے حج کے اجتما عا ت میں خشو ع و خضو ع سے اسرا ئیل کی تباہی کی دعا ئیں ما نگی جا تی ہیں مگر وہ روز برو ز مستحکم سے مستحکم تر ہو تا جارہا ہے ۔ اقبال نے کتنی سچی با ت ابلیس کی زبا نی کہلو ائی تھی �ò یہ ہما ری سعی پیہم کی کرا مت ہے کہ آج صو فی و مُلا ملو کیت کے بند ے ہیں تما م ہے طو ا ف و حج کا ہنگا مہ اگر با قی تو کیا کُند ہو کر رہ گئی مو من کی تیغ ِ بے نیام جس بھی فر یضہ کے مقا صد حقیقی نگا ہو ں سے او جھل ہو جا تے ہیں تو وہ آہستہ آہستہ بے رو ح ورسم ہو جا تی ہے یہی حال آج حج کا ہو گیا ہے ہر سا ل حا جیو ں کی تعد اد میں ہز ارو ں ، لا کھو ں کا اضا فہ ہو جا تا ہے جنہیں سنبھا لنا ، مشکل ہو جا تا ہے پھر یہ کہ ان میں خو د بڑی بد نظمی ہو تی ہے ،کئی پا ئو ں تلے کچلے جا تے ہیں ،جو ایک دفعہ گر جا تا ہے پھر اُسے زند ہ اٹھنا نصیب نہیں ہو تا خواتین کے لیے تو تما م ارکا ن بہ سہو لت ادا کر نا نا ممکن ہے۔ اسی لیے اقبال نے اسے ’’طو ا ف و حج ‘‘ کا ہنگا مہ کہا ہے جب مقا صد فنا ہو جائیں تو فر ائض یو نہی سا ہنگا مہ بن جا تے ہیں ۔ پیر صا حب پہلی دفعہ سفر حج پر گئے تو انہیں احسا س ہو گیا کہ مسلمانو ں کے زو ال کے اسبا ب میں سب سے بڑا سبب ارکا نِ اسلام کے حقیقی مقاصد سے صر ف نِظر کر لینا ہے اور وہ اقبال کے ہم آہنگ ہو کر کہنے لگے �ò رگو ں میں وہ لہو با قی نہیں ہے وہ دل وہ آر زو با قی نہیں ہے نما ز و رو زہ و قر با نی و حج یہ سب با قی ہے تو با قی نہیں ہے یہی وہ تڑ پ تھی جس نے انکے دل میں تبلیغ اسلام کی مہم میں خو د مسلما نوں کو اسلام کی رو ح سے آشنا کر نے کی جد و جہد بھی شامل کر لی اور اسی کے تحت دو سرے سفرِ حج میں ’’ ور لڈ اسلا مک مشن ‘‘ کا قیا م عمل میں آیا ۔ ورلڈ اسلا مک مشن کے قیا م پر بحث اپنے مقام پر آئے گی فی الحا ل ہم اُن کے سفر نا مہ حج کو سا منے لا تے ہیں۔ یہ سفر نا مے انکی ڈا ئر ی کے مند رجا ت ہیں ۔اس لیے انہیں تر تیب دے کران کی اپنی تحر یر شا مل کی جا رہی ہے۔







کعبہ مطہر ہ

بعض رو ایا ت میں ہے کہ کعبہ کی او لیں تعمیر حضرت آدم علیہ السلام کے ہا تھو ں سے ہو ئی لیکن علا مہ ابن کثیر ان روا یا ت پر بحث کر تے ہو ئے انہیں صحیح قرا ر نہیں دیتے ان کا خیا ل ہے ۔ ’’ یہ رائے در ست نہیں کہ کعبہ کے معمارِ اول آدم علیہ السلام تھے کیونکہ قرآن حکیم کی آیا ت اس امر کی دلیل بنتی ہیں کہ کعبہ شر یف کے پہلے معما ر جنا ب ابرا ہیم علیہ السلام ہیں۔ ﴿بے شک پہلا گھر جو لو گو ں کی عبا د ت کے لیے بنا یا گیا وہی ہے جو مکہ مبا رک میں ہے اور وہ اقوام عِالم کے لیے ہدایت ہے اس میں وا ضح نشا نیا ں ہیں ان میں سے ایک مقا م ابرا ہیم ہے جو بھی اس میں دا خل ہو تا ہے محفو ظ ہے ﴾‘‘ ﴿اسیر ۃ النبو یہ صفحہ 270ازحافظ ابن کثیر ﴾ روا یا ت میں ہے کہ کا فی عرصہ تک عما ر ت اپنی حالت میں کھڑ ی رہی تھی۔ بعض رو ایا ت کے مطا بق یہ عما ر ت ابرا ہیمی پہلے منہدم ہو گئی تو عما لقہ نے اسے بنا یا ۔پھر کوئی سیلا ب آیا اور عما ر ت گر گئی۔ اب قبیلہ جر ہم نے اسے دو با ر ہ تعمیر کر دیا بعد کی تا ریخ جو زیا دہ یقینی ہے وہا ں سے شر و ع ہو تی ہے جب قر یش کو اسکی تعمیر نو ِ کا خیا ل آیا۔ اُس وقت یہ عما ر ت محض پتھرو ں کی چا ر دیواری تھی ۔ اس پر چھت بھی نہیں اور پتھر وں کے اوپر پتھر رکھ کر چا ر دیوار ی کھڑی کر دی گئی تھی۔ تا ہم اس وقت بھی اس عمارت کو انسا نی عقید تو ں کے مر جع کی حیثیت حا صل تھی اس وا دی غیر ذی روح کے لو گو ں کو کعبہ ہی کے تو سط سے رز ق ملتا تھا ۔لوگ دو ر دور سے گر می ، سر دی ہر مو سم میںاس کا طوا ف کر نے آتے تھے اور یہا ں کے باشندو ں کی روز ی کا سا ما ن ہو جاتا تھا قرآن نے اسی لیے کہا ۔ ﴿پس انہیں چاہیے کہ اس گھر کے رب کی عبا د ت کر یں جس نے انہیں بھو ک میں طعا م اور حا لتِ خو ف میں امن و سکو ن فر اہم کیا ﴾ قر یش اس کے متو لی و سر پر ست تھے اور اسی فضل و شر ف نے ان میں بے انتہا کبر و نخو ت اور جا ہلی غر ور پیدا کر دیا تھا ۔ وہ اپنے آپ کو دو سرے لو گو ں سے الگ مخلو ق سمجھنے لگے تھے ۔ اور انہو ں نے جنا ب ابر اہیم علیہ السلام کے دین حنیف میں عجیب شر منا ک رسمو ں کا اضا فہ کر دیا تھا وہ خو د کو کیا سمجھتے تھے ابنِ ہشا م کا بیا ن ہے کہ وہ کہتے ۔ ’’ ہم ابرا ہیم علیہ السلام کے فرز ند ان جلیل الشان ہیں۔ ہم عز ت و عظمت کے ما لک ہیں۔ بیت اللہ کے نگرا ن ہیں۔ مکہ کے باشندے ہیں ہما رے حقو ق الگ اور بر تر ہیں ہما رے مقا م و مر تبہ کو کو ن پہنچ سکتا ہے ‘‘ اور بقو ل ابن ہشا م ایک دوسرے کو تا کید کر تے کہ’’ حِل یعنی حر م سے با ہر کی اسطر ح تعظیم و احترا م مت کر و جس طر ح تم حرم کی تعظیم کر تے ہو ایسے کیا تو تم عر بو ں کے نز دیک اپنی عظمت کھو بیٹھو گے‘‘ ﴿اسیر ۃ النبو یہ جلوا صفحہ 216﴾ 9 ذو الحج کو تما م لو گ میدا ن ِ عر فا ت میں جمع ہو تے ۔وہا ں سے طو اف افا ضہ کے لیے مکہ مکر مہ آتے ۔میدا ن ِ عر فا ت حدو د ِ حرم سے با ہر تھا ۔ اس لیے ان کی رسم کے مطا بق اسکی تعظیم میں ان کی تو ہین تھی۔ اس لیے قر یش اور انکے حلیف قبائل کفا نہ اور خزاعہ میدا ن عر فا ت میں وقو ف کے لیے نہیں جا تے تھے ۔انہو ں نے یہ پا بند ی بھی عا ئد کر لی تھی کہ حالتِ احر ام میں وہ کسی مکان تو کجا عا م خیمو ں کے نیچے بھی نہیں آئینگے، چا ہے دھو پ کتنی ہی شد ت کی ہو، ہا ں صر ف ایسے خیمو ں کے سا یہ میں آسکتے ہیں جو چمڑے کے بنے ہو ئے ہو ں ۔ انہو ں نے بیرو ن مکہ سے آنیو الے حا حیو ں پر یہ پا بند ی بھی ڈا ل دی تھی کہ وہ حا لت احرا م میں اپنے سا تھ لا ئے ہو ئے سا ما ن ِ رسد سے کھا نا پکا کر نہیں کھا سکتے ۔انہیں ہر حا ل میں قر یش کا پکا یا ہو ا کھا نا لینا پڑے گا ۔ طوا ف کے وقت قر یش سے کپڑ ے لے کر پہن سکتے ہیں اور کو ئی کپڑا نہیں پہن سکتے اگر قر یش کا کپڑ ا کسی کو میسر نہیں آتا تو اسے بر ہنہ طوا ف کرنا پڑے گا یہ اور اس قسم کے دیگر خرا فا ت کو وہ ’’ الحمس ‘‘ کہتے تھے یہ سب اپنے جہا لت بھر ے غر و ر اور جلب زِر کے لیے تھا ۔ بہر حا ل کعبہ ان کیلئے سا ما نِ رِزق اور امن و سکو ن کا ذر یعہ تھا ۔ وہ جا ئز نا جائز د ونو ں طر ح کعبہ سے فا ئدہ اٹھا رہے تھے بہر حا ل کعبہ کی عما ر ت اسی طر ح نا مکمل حا لت میں کھڑ ی تھی کئی دفعہ قر یش کو خیا ل آیا کہ اسکی تعمیر نو کر یں لیکں وہ ایسا کر نے کی ہمت نہیں کر سکتے تھے ، کیو ں ؟ اسکے کچھ اسبا ب تھے ۔روا یا ت میں ہے کہ تعمیر نو کے لیے ضر و ر ی تھا کہ پہلی عما ر ت گرا دیں مگر وہ اسے گرا نے کی جرات نہیں کر تے اور ڈر تے تھے ۔وہ ابر ہہ اور اسکے لشکر کا خو فنا ک انجا م دیکھ چکے تھے یہ بھی کہتے ہیں کہ کعبہ کے اندر ایک کنوا ں تھا زا ئر ین، زیورا ت اورر دیگر قیمتی اشیا ئ کعبہ شر یف کی نذ ر گزا ر تے تھے ۔وہ سب اسی کنوئیں میں ڈال دی جاتی تھیں۔ اس کنو ئیں میں ایک خو فنا ک اژ دہا تھا وہ کبھی کبھی نکل آتا اور آکر کعبہ شر یف کی دیوا ر پر دھوپ میں لیٹ جا تا تھا اُسکا بھی انہیں خو ف رہتا ۔ اتفا ق یہ ہو اکہ ایک روز اژدہا دیوا ر پر لیٹا ہو ا تھا ۔فضا سے ایک بڑ اسا پر ند ہ جھپٹا اور اس اژدہا کو اٹھاکر لے گیا اس طر ح اژدہا کا خو ف دو ر ہو گیا ۔ ادھر تعمیر نو کے خیا ل کو اس سے بھی قو ی تحر یک ہو ئی کہ ایک را ت کچھ چو رو ں نے کعبہ شر یف سے کچھ قیمتی اشیا ئ چر الیں جب انکی تلا ش شر و ع ہو ئی تو یہ اشیا ئ بنو ملیح بن عمر و خز اعی کے آ زاد کر دہ غلا م دو یک کے پاس مل گئیں ۔ قر یش نے اشیا ئ حا صل کر لیں اور چو ر ی کے جر م میں دو یک کا ہا تھ کا ٹ دیا اس سے انہیں کعبہ کی تعمیر کا خیا ل آیا کہ کعبہ کی متا ع محفوظ کر لی جا ئے اور اسکی نذ ر نیا ز کی اشیائ آئندہ کو ئی نہ چرا سکے ۔ رئو سا ئے قر یش نے مل کر فیصلہ کیا کہ کعبہ کی عما ر ت میں حلال کی کما ئی صر ف کی جا ئے ۔نا جا ئز کما ئی کا ایک پیسہ بھی استعما ل نہ کیا جا ئے۔ سب پو رے اخلا ص سے اپنی حلا ل کی کما ئی تعمیر کعبہ فنڈ میں جمع کر انے لگے اتفا ق سے انتہا ئی قیمتی لکڑ ی بھی ہا تھ آگئی وہ یو ں کہ قیصر روم نے حبشہ کے ایک گر جا کے لیے جسے ایرا نیو ں نے جلا دیا تھا اچھی قسم کی لکڑ ی ایک کشتی میں بھیجی دیگر سا ما ن تعمیر بھی اس میں تھا سمند ر ی طو فا ن نے کشتی کا تبا ہ کر دیا ۔ یہ حا د ثہ شعیبہ کی بند ر گا ہ کے پا س رو نما ہو ا شیخ ابرا ہیم عر جون لکھتے ہیں ’’ قر یش کو اس کا علم ہو ا تو انہو ں نے لکڑ ی کے یہ قیمتی تختے خر ید لیے اور کعبہ کی تعمیر کے متعلق با قوم سے با ت کی وہ ان کے ساتھ مکہ مکر مہ آگیا ‘‘ ﴿محمد رسول اللہ ،از، ارجو ن جلد ا صفحہ87﴾ با قو م لکڑی کا ما ہر کا ریگر تھا۔ کعبہ شر یف کے در وا زے شہتیر ، با لے وغیر ہ بنا نے کا کا م اس کے سپر د کیا گیا ﴿سیر ت ابن ہشا م ج اص 209﴾اس طر ح جب کعبہ کی تعمیر نو کے لیے کچھ وسا ئل بھی پیدا ہوگئے اور قر یش سردا رو ں نے بھی عز مِ مصمم کر لیا تو قر یش سر دا ر ابو و ھب نے کہا ’’ اے گر وہ قر یش خو ب غو ر سے سن لو تعمیر کعبہ کا مر حلہ ہے خبر دا ر اس میں اپنی پاک اور حلا ل کما ئی کے سوا کچھ نہ استعما ل ہو نے پائے، کسی بد کا ر عو ر ت کی کما ئی ، کو ئی سو د کا پیسہ ، کسی آدمی پر ظلم سے حاصل کی ہوئی دو لت اس میں شا مل نہ کر لینا ‘‘ ﴿اسیر ۃ النبو یہ ابن کیثر جلد ا صہ 277 و دیگر کتب سیر ت﴾ یہ ابو و ھب حضو ر �ö کے والد حضرت عبدا للہ کے ما مو ں تھے جو اپنی شر ا فت اور سخا وت میں بہت مشہو ر تھے ۔ جب ضر و رت کا سا مان بھی مہیا ہو گیا اور دو سرے انتظا ما ت بھی مکمل ہو گئے تو اب کا م شر و ع ہو نا تھا ۔اژدہا کا خو ف دو ر ہو چکا تھا اور اس واقعہ کو انہو ں نے تا ئید غیبی سمجھا تھا مگر پھر بھی پہلی عما ر ت کے انہد ام سے ڈر تے تھے اور ابر ہہ کا انجا م سا منے آجا تا تھا مگر یہ انہدا م کسی بد نیتی سے نہیں تھا اس لیے بہت سے دل آما دہ تھے آخر ولید بن مغیر ہ آگے بڑ ھا اور اس نے کہا ’ ’ میں اس عما ر ت کے گرا نے کی ابتدا ئ کر تا ہو ں۔ اس نے کد ال لی اور جنو بی دیو ار کے چند پتھر گرا ئے وہ پتھر بھی گرا رہا تھا اور یہ دعا بھی ما نگ رہا تھا ‘‘ اے اللہ ہمیں خو فز دہ نہ کر نا اے اللہ ہم صر ف خیر کا ارا دہ رکھتے ہیں‘‘ ﴿سیر ت ابن ہشام جلد ا صفحہ211﴾ سب نے کہا اگر را ت بخیر گز ر گئی تو ہم سمجھ جا ئینگے کہ اللہ کی رضا نے ہما ری تا ئید کی بصو ر ت دیگر ہم یہ پتھر اٹھا کر اسی طرح اگلی حا لت پر رکھد یں گے اور اس کا م سے باز آ جائیں گے ۔را ت بخیر گز ر ی اور آخر کعبہ کی پہلی خستہ عما ر ت گرا دی گئی ۔ انہد ام اور تعمیر نو کا کام انہو ں نے آپس میں تقسیم کر لیا ۔مشر قی دیوا ر جس میں خا نہ کعبہ کا در وازہ نصب ہے، بنو عبد منا ف اور بنو زہر ہ قبائل کی ذمہ دا ر ی تھی جنوبی دیوا ر، حجر اسو د سے لے کر رکن یما نی تک بنو مخزوم اور کچھ دیگر قریشی قبا ئل کے ذمہ تھی مغر بی دیوا ر یعنی پشت ِ کعبہ کی تعمیر بنو جمع بنو سہم وغیر ہ کے سپر د ہو ئی۔ شما لی دیوا ر جس طر ف حطیم ہے بنو اسد ، بنو عبدا لدا ر اور بنو عد ی کے ذمہ آئی۔ اس طرح سب نے مل کر بڑ ے خلو ص سے تعمیر کعبہ کا کا م شر و ع کر دیا۔ حضور �ö کی عمر اُس وقت پینتیس35 سال کے قریب تھی اور آپ بھی بڑی محبت سے اس کا م میں شر یک تھے اور کند ھو ں پر پتھر اٹھا اٹھا کر لا تے رہے ۔قر یش کو تعمیر کے وقت ہی معلو م ہوگیا کہ ان کا جمع کر دہ سا ما نِ تعمیر کم پڑے گا۔ اس طر ح وہ ان بنیا دو ں پر عما رت مکمل نہیں کر سکیں گے جن پر حضرت ابر اہیم علیہ السلام نے انہیں اٹھایا تھا اس لیے انہو ں نے فیصلہ کر لیا کہ وہ جہا ں تک چھت ڈا ل سکیں گے چھت ڈا ل دیں اور با قی رقبہ کی چھو ٹی دیو ار سے حد بند کر دیں تاکہ طوا ف کر نے والے سا رے رقبہ کا طو ا ف کر سکیں سا ما ن تعمیر میں یہ کمی اس لیے وا قع ہو ئی تھی کہ انہو ں نے اپنے اوپر پا بند ی لگا دی تھی کہ وہ اس میں صر ف حلا ل کی کما ئی شا مل کر ینگے اور جس ما ل کے متعلق ذرا سا بھی اشتباہ ہو کہ اس میں نا جا ئز اور حرا م شا مل ہو گیا ہے اسے استعمال نہیں کر یں گے ۔ اس لیے رئوسا ہو تے ہوئے بھی وہ پورا سا ما ن مہیا نہ کر سکے ۔بہر حا ل بڑ ے خلو ص سے تعمیر جا رہی رہی ۔سب قبا ئل ایک ہی دھن میں تھے کہ اللہ کا گھر تعمیر ہوا س لیے انکے دلو ں اور دما غو ں میں با ہمی محبت اور پیار بسا ہوا تھا اور کا م خو ش اسلو بی سے آگے بڑ ھ رہا تھا لیکن جب حجر اسو د رکھنے کا وقت آیا تو ہر قبیلہ کے دل میں یہ خو اہش بے قرا ر پیدا ہوئی کہ یہ اعزا ز اسکے حصہ میں آئے اور اگر دو سرے قبائل اسے یہ اعزاز دینے پر آما دہ نہ ہو ں تو بزو ر شمشیر یہ اعزا ز حا صل کیا جا ئے وہ خون میں ہا تھ ڈبو ڈبو کر قسمیں کھانے لگے ۔قبا ئلی سر دا رو ں نے جب چا ر پا نچ روز کی رد و کد کے بعد کسی ایک فیصلہ پر اتفا ق نہ کیا تو ابو امیہ بن مغیر ہ جو عمر میں سب سے بڑ اتھا اور ولید بن مغیر ہ کا بڑ ابھا ئی تھا اس نے کہا ’’ میر ی با ت ما نو اختلا ف اور جھگڑ ے میں اپنا اخلاص سے کیا ہو ا کام ضا ئع کر بیٹھو گے اس با ت پر متفق ہو جا ئو کہ کل صبح سو یر ے سب سے پہلے جو اس مسجد کے در وا ز ہ سے دا خل ہو اسی کو سب حکم تسلیم کر لیں گے اور اسی کا فیصلہ ما ن لیں گے‘‘ اس پر سب متفق ہو گئے دو سری صبح سب سے پہلے حر م کے در وا زہ سے جسے با ب بنی شیبہ کہا جا تا ہے حضور �ö حر م مسجد میں دا خل ہو ئے ۔آپ کو دیکھ کر لو گو ں کو بے حد خو شی ہو ئی کیو نکہ آپ کی انصاف پسند ی اور غیر جا نبدا ر ی پر سب کو یقین تھا لو گ پکا ر اٹھے ﴿یہ محمد ہیں یہ امین ہیں ہم سب انکے فیصلہ پر را ضی ہیں ﴾ ﴿سیر ت ابن ہشا م ج 214 ﴾ حضور �ö نے جو فیصلہ کیا وہ انتہا ئی دا نشمندا نہ تھا۔ دو سرا کو ئی بھی فیصلہ کر تا وہ کسی ایک قبیلہ کو یہ سعا دت دے دیتا اور اپنے فیصلہ کے جواز میں اس قبیلہ کی کوئی فضیلت بیا ن کر دیتا یہ فیصلہ اُسکے نز دیک معقول و مد لل ہو تا ضرو ری نہیں تھا کہ سب اس فضیلت کے با عث اسے اس سعا د ت کا حقدا ر سمجھتے اور اگر وقتی طور پر یہ فیصلہ تسلیم کر بھی لیا جا تا تو دلو ں میں انقبا ض با قی رہتاا ور اگلا کام اس محبت سے نہ ہو سکتا جیسا ابتک ہو اتھا ۔آپ (ص) نے اپنے مبنی بر حکمت فیصلہ سے سب کو اس سعا د ت میں شر یک کر لیا آپ نے فر ما یا چا در لے آئو چا در لا ئی گئی حجر اسود اس میں رکھدیا گیا سب سردا ر و ں نے چاد ر پکڑ کر حجر اسود اٹھا یا جب وہ مقا م تنصیب تک بلند ہو گیا تو آپ نے اُسے اٹھا کر نصب کر دیا اس طرح سا را تنا ز ع انتہا ئی خو ش اسلو بی سے طے ہو گیا ۔سب خوش ہو گئے اور ہر زبان اس دا نشمندانہ فیصلہ کی تعر یف میں نغمہ سر ا ہو گئی ایک قا در الکلا م شا عر ہبیرہ بن و ھب المخز و می نے اس پر حکمت و پر دا نش فیصلہ پر لو گو ں کے جذ با ت کی تر جما نی کر تے ہو ئے اپنے قصید ہ میں لکھا ہے �ò تشا جر ت الا حیا ئ فی فصل خطۃ جر ت بینھم با لخس منِ بعد اسعدٰ ﴿ایک با ت میں قبا ئل کا اختلا ف ہو گیاا ور یہ اختلا ف لو گو ں کو سعا د ت کے بعد نحو ست کی راہ پر ڈا لنے وا لا تھا﴾ فلما ر اینا الا مر قد جد جد ہ ‘ و لم یبق شیئی ’‘ غیر سل المہندٰ ﴿جب ہم نے دیکھا معا ملہ ازحد سنگین ہو گیا ہے اور اسکے سوا کو ئی چا رہ نہیں رہا کہ تیز تلوا ر یں تڑ پ کر میا نو ں سے با ہر آجائیں﴾ رضینا و قلنا العد ل اول طا لعٍ یجیئ من البطحا ئ من غیر مو عدٰ ﴿ہم اس پر متفق ہو گئے کہ کل صبح جو شخص پہلے حر م میں دا خل ہوگا وہی عد ل کر یگا ﴾ ففاجا ئ نا ھذا الا مین محمد (ص) فقلنا رضینا با لا مین محمد ٰ(ص) ﴿پس اچا نک یہ امین ہی پہلے آگیا جس کا اسم گرا می محمد (ص)ہے اسے دیکھ کر ہم نے کہا ہم اس پر راضی ہیں یہ محمد (ص) ہے یہ امین ہے﴾ بخیر قر یش کلھا امس شیمۃً وفی الیو م مع ما یحد ث اللہ فی غدٰ ﴿وہ اپنے شما ئل کر یمہ کے با عث کل بھی اور آج بھی تما م قر یش سے افضل ہے اور آنے والے کل میں یہ جو مہر با نیا ں کر نے والے ہے اس کا ہم اندازہ نہیں لگا سکتے ﴾ فجا ئ با مر لم یر ی النا س مثلہ اعم وا ر ضی فی العو اقب و البد ئٰ ﴿انہوں نے یعنی محمد کریم �ö نے اس مسئلہ کا ایسا فیصلہ کیا جس کی مثا ل لو گو ں نے آج تک نہیں دیکھی اس کا فیض عام تھا جس کا آغا ز اور انجام دونو ں دلو ں کو خو ش کر دینے والے تھے ﴾ وکل رضینا فعلہ و ضیعہ فا عظمِ بہ من را ی ھا دٍ و مھتدٰ ﴿ہم سب اسکے اس فیصلہ کے کا ر نا مے اور اس کے شا ند ار عمل پر را ضی ہو گئے اور اس ہا دی و مہد ی کی رائے کتنی عظیم الشا ن تھی ﴾ و تلک ید منہ علینا عظیمۃ بر وح لھا ھذ الرٰ ما ن و یغتد ﴿ہم پر آپ (ص) کا یہ جلیل القد ر احسان ہے جس نے آج بھی ہمیں گر وید ہ کر د یاہے اور آنے والے کل میں بھی ہم اسے فرا مو ش نہیں کر سکیںگے﴾ ﴿سیر ۃ ابن ہشا م ح ا صہ 214﴾ غر ضیکہ حضو ر �ö کے اس انتہا ئی قا بل قِدر فیصلہ کے مدتو ں چر چے رہے ،کیو نکہ اس نے حا لا ت کا رخ پلٹ دیا کعبہ کی تعمیر کا کام رُ کا ہو اتھا کیو نکہ حجر اسو د کی تنصیب کا مسئلہ ما بہ النز ا ع بن کر بڑ ی رکا وٹ بنا ہو ا تھا۔ اب رکا و ٹ دو ر ہو گئی تو اسی ذو ق و شوق اور عقید ت و خلو ص سے دو با ر ہ کا م شر و ع ہو گیا اب جو عما ر ت تعمیر ہو ئی اسکی بلند ی اٹھا رہ ہا تھ تھی۔ چھ سا ت ہاتھ رقبہ شما لی جانب سے دا خل نہ کیا جا سکا، صر ف ایک در وا زہ مشر ق کی جا نب رکھا گیا اور وہ بھی سطح زمین سے کافی بلند ی پر تھا۔ مقصد محض یہ تھا کہ ان لو گو ں یعنی اعیا ن قر یش کی اجا ز ت کے بغیر کوئی کعبہ میں دا خل نہ ہو سکے ۔ ام المو منین حضر ت عا ئشہ صدیقہ (رض) سے مر وی ہے کہ ’’ رسو ل �ö نے مجھے مخا طب کر تے ہوئے فر ما یا ’’ اے عا ئشہ (رض) تو دیکھتی ہے کہ تیر ی قو م کا سر ما یہ کم پڑ گیا تو انہو ں نے حجر کا رقبہ کعبہ سے نکا ل دیا اگر تیر ی قوم کفر سے نئی نئی تائب نہ ہوئی ہو تی تو میں کعبہ کو گرا دیتا نئی عما ر ت تعمیر کر ا تا حجر کا رقبہ کعبہ میں دا خل کر دیتا اور اس کے دو دروازے رکھتا ایک مشر ق میں ایک مغر ب میں ‘‘ ﴿صحیح بخا ری ، صحیح مسلم ﴾ علامہ ابن کثیر کی تحقیق کے مطا بق ’’ سب سے پہلے کعبہ پر سفید رنگ کے اس کپڑ ے کا غلاف چڑ ھا یا گیا جو مصر میں تیا ر ہو تا تھا اور جسے قبا طی کہتے تھے ۔اس کے برو د کا یعنی یمنی چا در و ں کا غلا ف تیا ر کر کے چڑ ھا یا گیا۔ دیبا ج کا غلا ف سب سے پہلے حجا ج بن یو سف ثقفی نے پہنا یا تھا ‘‘ ﴿السیرۃ النبویہ از حا فظ ابن کثیر ج ا 282 ﴾ خا نہ کعبہ کی یہی عما ر ت حضو ر �ö اور خلفا ئے را شد ین کے عہد بلکہ اسکے کچھ عر صہ بعد تک قا ئم رہی ۔ 64 �÷ ھ حضر ت عبداللہ بن زبیر جب مکہ کے حکمرا ن ہو ئے یز ید نے اپنا لشکر حصین بن نمیر کی قیا د ت میں بھیجا ۔عبد اللہ بن زبیر مقا بلہ کی تا ب نہ لا کر حرم شر یف میں محصو ر ہو گئے ۔حملہ آور لشکر نے منجنیقو ں سے پتھر بر سا ئے۔ اس سنگ با ری سے کعبہ کی عمارت میں جگہ جگہ شگا ف پڑ گئے۔ ابھی سنگ با ر ی جا ری تھی کہ حصین بن نمیر کو یز ید کی مو ت کی خبر ملی اس نے محا صر ہ اٹھا لیا اور چلا گیا۔ حضرت عبد اللہ بند زبیر نے کعبۃ اللہ کی خستہ عما ر ت کو گرا دیا اورا نہی بنیا دو ں پر نئی عما ر ت تعمیر کی جن بنیا د وں پر حضر ت ابراہیم نے اسے اٹھا یا تھا۔ دو دروازے سطح زمین کے برا بر رھے۔ ایک مشر قی جا نب ایک مغر بی جانب ، ایک دا خل ہو نے کے لیے اور دوسرا با ہر نکلنے کے لیے۔ حضرت ابن زبیر کا اقتدا ر زیا دہ عر صہ تک نہ رہ سکا ۔حجا ج بن یو سف مکہ پر حملہ آور ہوا۔ حضرت عبدا للہ بن زیبر شہید ہو گئے اور حجا ج مکہ کا گو رنر مقر رہوا۔ اس نے اموی خلیفہ عبدالملک بن مرو ان کو کعبہ کی تعمیر کے متعلق لکھا ۔اس نے حکم دیا کہ ابن زبیرکی بنا ئی ہو ئی عما رت کعبہ کو گرا دیا جائے اور اسے انہی بنیا دو ں پر دو با رہ تعمیر کیا جا ئے جن پر یہ پہلے تھی ۔ حجر کو اسی طر ح با ہر رکھا جا ئے اس کا جواز یہی پیش کیا گیا کہ حضور �ö اور خلفا ئے را شد ین کے دور میں جو عما ر ت جیسی تھی ویسی ہی اللہ کو مطلوب ہے ۔ بنوا میہ کا دو ر ِ حکومت ختم ہو ا۔ بنو عبا س نے اقتدا ر سنبھا لا ۔ عبا سی خلیفہ مہد ی نے ارا دہ کیا کہ اس عما ر ت کعبہ کو گرا دیا جائے اور ابرا ہیمی بنیا دو ں پر یہ عما رت اسی طرح تعمیر کی جا ئے جیسے ابن زبیر (رض) نے کیا تھا انہو ں نے اما م ما لک رحمۃ اللہ علیہ السلام سے فتو ٰ ی طا لب کیا اما م مالک نے جوا ب میں بڑی خو بصو ر ت با ت کی انہو ںنے لکھا ’’ میں اس با ت کو پسند نہیں کر تا ۔اس طر ح تو کعبہ با د شا ہو ں کا کھلو نا بن جا ئے گاجس کا جی چا ہے گا پہلی عما ر ت کو گرا کر اپنے نا م سے نئی عما ر ت کھڑ ی کر دیگا اس طر ح اس کا تقد س مجر و ح ہو گا ‘‘

                                   ﴿سیر ۃ ابن کثیر ج ا 282 ﴾

خلیفہ مہد ی کو اما م ما لک کی رأے بڑی منا سب معلو م ہو ئی اور اُس نے اپنا ارا دہ تر ک کر دیا اس طر ح آج تک کعبہ کی وہی عمار ت قا ئم ہے ۔




حج کا طر یقہ

حج صر ف ذو الحج کے مہینہ کی مخصو ص تا ریخو ں میں ہو سکتا ہے عمر ہ جب چا ہو کر سکتے ہو۔ حج کے دو رکن ہیں۔ طوا ف زیارت اور عرفا ت میں ٹھہر نا عمر ہ کاصر ف ایک رکن طو اف زیا ر ت ہے حج کی تین قسمیں ہیں ۱﴾ قران:۔حج اور عمر ہ ملا کر کر نا اور دونو ں کے لیے بیک وقت احر ام با ند ھ لینا قرا ن کہلا تا ہے ۔ ۲﴾ افرا د :۔صر ف حج کر نا سا تھ عمر ہ نہ کر نا حج افرا دہے ۳﴾ تمتع:۔حج اور عمر ہ علیحدہ علیحدہ احرا مو ں کے سا تھ کر نا حج تمتع ہے ۔ عام طو ر پر مسلما ن حج تمتع ہی کر تے ہیں۔ اس کا طر یقہ در ج ذیل ہے ۔ حج کے تین فر ائض ہیں ایک شر طِ حج اور دو ار کا ن ِ حج ۔ احرا م با ند ھنا شر طِ حج ہے مختلف اطرا ف سے حج کی خا طر آنے والو ں کے لیے کچھ مقا ما ت مقر ر کر دیے گئے ہیں جہا ں پہنچ کر احر ام با ند ھنا ہو تا ہے ان مقا ما ت کو ’’ میقا ت ‘‘ کہتے ہیں ۔پاکستان اور بھا ر ت کی طر ف سے آنے والو ں کے لیے میقات ’’ یَلملم ‘‘ ہے ۔یہ سمند ر میں کا مرا ن سے نکلنے کے بعد یمن کے علاقہ میں ایک پہا ڑی ہے جہا ں سے حا جی احرا م باندھتے ہیں۔ حجا ج کو لے جا نے والے بحر ی جہا ز یہا ں سے گز ر نے لگتے ہیں توا حرا م با ند ھ لیتے ہیں بعض لوگ کا مرا ن سے نکلتے ہی احرا م با ند ھ لیتے ہیں احر ام کا طر یقہ یہ ہے کہ پہلے سنت کے مطا بق غسل کیا جا ئے پھر بغیر سلی دو چا در یں لے کر ایک کو تہبند کے طو ر پر باند ھ لیا جا ئے اور دو سری کو جسم پر اس طر ح ڈال لیا جا ئے کہ سر اور منہ کُھلا رہے جو تا اسطر ح کا ہو کہ پہننے سے پا ئو ں کی در میا نی ہڈی کُھلی رہے خو شبو ملنا سر مہ لگا نا ، دا ڑ ھی اور با لو ں میں کنگھا کر نا غر ضیکہ ہر طر ح سے پاک صا ف ہو نا اور پھر دو ر کعت نفل ادا کر نا ہے ۔ان کی نیت اس طرح ہے ’’ نیت کر تا ہو ں میں دو ر کعت نفل نما ز احر ام کر وا سطے اللہ کے مُنہ کر تا ہو ں خانہ کعبہ کی طر ف اللہ اکبر ‘‘ پہلی رکعت میں سو رہ فا تحہ کے بعد ’’سو ر ۃ الکفرو ن ‘‘یعنیقُلْ یَا ایہا الکِفٰرُوْنَ لَا اَعْبُدْ مَا تَعْبُدُوْ نَ پڑ ھنا اور دو سری رکعت میں سور ہ اخلا ص یعنی قُل شریف پڑ ھنا بہتر ہے۔ حضور �ö نے یہی سورتیں پڑ ھی تھیں اگر یہ یادنہ ہو ں تو جو یا د ہو ں وہی پڑ ھ لے یہ بھی خیال رکھنا ہے کہ مکر وہ اوقا ت میں نفل نہ پڑ ھے یعنی فجر کے بعد سے سو ر ج بلند ہو نے تک عین دو پہر کے وقت اور عصر کے بعد سے مغر ب پڑ ھنے تک نفل نہ پڑ ھنے جا ئیںنفل پڑھ کر یہ دعا ما نگی جا ئے ۔ ’’اَللّٰھُمَّ اِنِّی اُرِ یْدُ الْعمرۃ ﴿الحج﴾فَیَبِّرق ھَا لِیْ تَقَبَّلْھَا مِنِّیْ‘‘ ﴿اے خد امیں عمر ہ کر نے کا ارا دہ رکھتا ہو ں اس سفر کو میرے لیے آسان فر ما اور میرا عمر ہ قبول فر ما ﴾ اس کے بعد ’’ تلبیہ ‘‘ پڑ ھنا ہے تلبیہ کی عبا ر ت یہ ہے ’’لَبَّیْک اَللّٰھُمَّ لَبَّیْک لاَ شَرِ یْکَ لَکَ لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وْ ا لنِّعمَۃَ لَکَ وَ الْملْکَ لَا شَرِ یْکَ لَکَ‘‘ ﴿اے خد ائے ذو الجلا ل میں حا ضر ہو ں تیرا کوئی شر یک نہیں یقینا تعر یف تیر ے ہی لیے ہے نعمت تیر ی ہی عطا کی ہو ئی ہے بادشا ہی تیر ی ہے تیرا کو ئی حصہ دا ر نہیں ﴾ تلبیہ کہنے کے بعد احرا م مکمل ہو گیا اب آدمی محر م کہلا ئیگا اور اس پر یہ پا بند یا ں عائد ہو جا ئینگی ۔ ۱۔ سر پر کپڑ ا نہیں ڈال سکتا شیعہ حضرا ت تو اس کے قا ئل ہیں کہ سر پر کسی چیز کا سا یہ بھی نہیں ہو نا چاہیے حتیٰ کہ اگر وہ بس میں سفر کر تے ہیں تو احرا م با ند ھنے کے بعد بس کے اندر بیٹھنے کی بجا ئے بس کی چھت پر بیٹھ جاتے ہیں تا کہ سر پر سا یہ نہ پڑ ے ۲۔ سر کی طر ح منہ بھی نہیں ڈھا نپ سکتا ۳۔ سِلا ہوا کپڑ ا نہیں پہن سکتا ۴۔ بیو ی سے صحبت بلکہ صحبت کی با ت چیت بھی نہیں کر سکتا ۵۔ جسم کا کوئی با ل یا نا خن اکھیڑ نہیں سکتا ۔ ۶۔ خشکی کے جا ندا رو ں کا شکا ر نہیں کر سکتا حتٰی کہ کھٹمل اور جو ں بھی نہیں ما رسکتا ۔ ۷۔ اب اس کے لیے ضر و ر ی ہے کہ وقتا ً فو قتا ً جب مو قع ملے تلبیہ کہتا رہے خصو صا ً صبح کے وقت ، سو کر اٹھتے وقت ، قافلو ں سے ملتے وقت ، نما زو ں کے بعد ، بلند ی پر چڑ ھتے اور پستی میں اتر تے وقت ، سوار ی پر چڑھتے اتر تے وقت ، ۸۔ جب مکہ میں داخل ہو کر بہتر ہے کدا ئ کی طر ف سے دا خل ہو ۔یہ مکہ مکر مہ کا ایک را ستہ ہے اسے ثینہ العلینیٰ بھی کہتے ہیں۔ ۹۔ مکہ مکر مہ پہنچ کر اپنے سا مان وغیر ہ کا انتظا م کر کے جہا ں تک ممکن ہو جلد ’’ تلبیہ ‘‘ کہتا ہوا اور اضطبا ع کی حالت میں مسجد حر ام میں دا خل ہو اگر ہو سکے تو با ب شیبہ سے دا خل ہو نگا ہیں نیچی ہو ں چہرے پر خوف کے آثا ر ہو ں دل خو ف خدا سے کا نپ رہا ہو پہلے دایا ں پا ئو ں مسجد میں رکھے اور کہے ’’بِسْمِ اللّٰہِ وَا لصَّلوٰۃ وَ السَّلاَ مُ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ الَلّٰھُمَّ اَفْتَحْ لِیْ ابَوْ بَ رَ حْمَتِکَ وَ ا دْ خِلْنِیْ فِیٰھْاَ‘‘ ﴿اللہ کے نام سے اور سب تعر یفیں اللہ کے لیے ہیں اس کے رسو ل پر صلو ۃ و سلا م اے اللہ مجھ پر رحمت کے در وا زے کھول دے اور مجھے اپنی رحمت کے گھر میں داخل کر ﴾ جب کعبہ شر یف پر نظر پڑ ئے تو دعا ئیں ما نگے۔ دعا میں غفلت نہ کی جا ئے کیو نکہ یہ وقت قبو لیت خا صہ کا ہے۔ پھر کعبہ شر یف کی طر ف بڑھے سب سے پہلے حجر اسود پر آئے اُسکی طر ف مُنہ کر کے نما ز کی تکبیر اولیٰ کی طر ح ہا تھ اٹھا ئے اور اللہ اکبر کہہ کر حجر اسود کو ہا تھ سے چھو کر بو سہ دے ۔اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو چھڑ ی سے چھو کر ایسا کر ے اگر ہجو م بہت زیا دہ ہو اور چھڑ ی بھی وہا ں تک نہ پہنچ سکے تو حجر اسو د کی طر ف دو نو ں ہھتیلیا ں بڑ ھا کر انہیں چو م لیا جا ئے اور یہ دعا کہ کہی جا ئے ’’بسم اللّٰہ الر حمٰنِ الر حیم اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ ذُنُوْ بِیْ وَ طَہِرّ لَیْ قَلْبِیْ وَ ا شْرَ حْ لِیْ صَدرِی وَ یَسّرْ لِیْ اَمْرِ یْ وَ عَا فِنِیْ فِیْمَنْ عَا فِیْت‘‘ ﴿اللہ کے نا م سے جو رحمن اور رحیم ہے۔ اے اللہ میرے گنا ہ معا ف فر ما میرے دل کو پاک کر دے میرا سینہ کھول دے میرا کام آسا ن کر دے ۔مجھے امن و عا فیت عطا کر دے اور ان لو گو ں میں شا مل کر دے جنہیں امن و عا فیت حا صل ہے ﴾ پہلے لکھا جا چکا ہے کہ مسجد حر ام میں اضطبا ع کی حا لت میں آنا چا ہیے۔ اضطبا ع یہ ہے کہ جو ا حرا م کی چا در اوڑ ھ رکھی ہے اس کا دا یا ں کند ھا کھولے اور کپڑ ا با ئیں بغل سے نکال کر با ئیں کند ھے پر ڈا ل دے۔ اسکے بعد طو ا ف کر ے یعنی سات چکر اس طرح لگا ئے کہ ہر چکر حجر اسو د پر شر و ع ہو اور وہیں آکر ختم ہو ہر چکر پر حجر اسو د اور رکن یما نی کو چو متا جا ئے اس طو ا ف میں پہلے تین چکر و ں میں ’’ رمل ‘‘ کر نا ہے ۔رمل یہ ہے کہ سینہ نکا ل کر کند ھے ہلا تا ہواپہلو انو ں کی طر ح اکڑ تا ہو ا چلے ۔ دو سرے چار چکر و ں میں معمول کی رفتا ر سے چلے۔ خیا ل رہے کہ جس طوا ف کے بعد ’’ سعی ‘‘ ہے اس میں رمل اور اضطبا ع دو نو ں ہیں ﴿بحوا لہ فتا وٰ ی عا لگیر ی ﴾ طو ا ف سے فا رغ ہو کر مقا م ابر اہیم پر آنا ہے اور وہا ں دو ر کعت نفل طو اف پڑ ھے بہتر ہے کہ پہلی رکعت میں سو رۃ الکفر و ن اور دو سر ی میں سور ہ اخلا ص ﴿نفل احرا م کی طر ح ﴾پڑ ھے ۔ بعد میں کوئی دعا پڑ ھے پھر ز مز م پر جا کر آب ِ زمز م پیے ممکن ہو تو اسکے چھینٹے اپنے سینے پر بھی ما ر ے اور یہ دعا ما نگے ’’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلْکَ رِزْقاً اسِعاً وَّ عِلْماً نافعاًوَ شِفاَ ئً مِّنْ کُلِّ دَا ئٍ‘‘ ﴿ اے اللہ میری در خوا ست ہے کہ مجھے رز ق و سیع ، نفع بخش علم اور ہر مر ض سے صحت عطا فر ما ﴾ پھر حجر اسو د کو آکر بو سہ دے اور ہو سکے تو ملتزم سے لپٹے۔ ملتز م دیوا ر کعبہ کا وہ حصہ ہے جو حجر اسو د اور در وا زئہ کعبہ کے در میا ن ہے۔ اسکے بعد ’’ السعی بین الصفا و المر وہ ‘‘ کا مر حلہ آتا ہے ۔بہتر یہ ہے کہ با ب الصفا سے نکلے ،صفا پہا ڑ پر تین چار سیڑ ھیا ں کعبہ کی طر ف منہ کر کے دعا ئیں ما نگے ،اللہ کی حمد اور حضور(ص) پر صلو ۃ و سلا م پڑ ھے ۔ان سیڑ ھیو ں سے اتر کر مر وہ کی طر ف آہستہ آہستہ چلے جب سبز ستو ن کے پا س پہنچے تو دو ڑ لگا ئے اور دوسرے ستو ن تک دو ڑ تا جا ئے۔ یہ د و نوں ستو ن مسجد حرا م کی دیو ار میں نصب ہیں آہستہ چلتا ہو ا مروہ کی پہا ڑی تک جا ئے وہا ں بھی چند سیڑ ھیا ں چڑ ھ کر کعبہ کی طر ف منہ کر کے حمد و صلو ٰ ۃ پڑ ھے اور دعا ئیں ما نگے یہ ’’ سعی‘‘ کا ایک چکر ہے۔ ایسے ہی سا ت چکر مکمل کر کے احرا م کھو ل دے۔ یہ عمر ہ ہو گیا۔ اب سر منڈ ائے سلے ہو ئے کپڑ ے پہن لے اور مکہ مکر مہ میں رہے۔ اللہ تعالیٰ ہمت و تو فیق عطا کرے تو وقتا ً فو قتا ً طو ا ف ِ کعبہ کا شر ف حا صل کر تا رہے اور ہر طوا ف کے بعد دو رکعت نما ز طوا ف کے نفل غیر مکر وہ اوقا ت میں ضر و ر پڑ ھتا رہے ۔اگر کبھی نماز عصر کے بعد طو اف کا اتفا ق ہو تو یہ نفل بعد نماز مغر ب تک مئو خر کر دے۔ 7 ذو الحجہ کو مسجد حر م شر یف میں یا مکہ مکر مہ میں جہا ں رہا ئش ہے۔ وہیں سے حج کے لیے احر ام با ند ھ لیا جا ئے اسکے بعد اسی طر ح کر ے جیسے عمر ہ میں کر چکا ہے ۔احرا م کے بعد کی مختصردعا میں ’’ عمرہ ‘‘ کی جگہ ’’ حج ‘‘ کا لفظ کہ دے، پھر تلبیہ کہے ،اس روز حرم شر یف میں اما م حج خطبہ دیتا ہے جس میں حج کے مسا ئل و احکا م بیا ن کئے جاتے ہیں بہتر ہے یہ خطبہ بغو ر سنا جا ئے ۔ حج میں کل تین خطبے ہو تے ہیں سا ت تا ریخ کو حر م محتر م میں نو تا ریخ کو عر فا ت میں اور گیا رہ تا ریخ کو منیٰ میں ، سا ت اور گیا رہ کے خطبے زوال کے بعد مگر نما زِ ظہر سے پہلے ہو تے ہیں۔ سا ت ذو الحج کو حج کا احرا م با ند ھا گیا تو اسی روز دن، یا را ت کو طوا ف کر لیا جا ئے، اسے طو اف ِ قد وم کہتے ہیں ۔یہ حج کا پہلا طواف ہے یہ اضطبا ع اور رمل کیسا تھ کیا جا تا ہے ۔پھر عمر ے کی طر ح سعی بین الصفا و المر وہ ہے۔ آٹھ تا ریخ کو سو ر ج طلو ع ہو نے کے بعد منیٰ کو طر ف رو انگی ہو تی ہے ۔ تلبیہ کہتے رہنا چا ہیئے۔ منیٰ پہنچ کر وہا ں پانچ نماز یں ادا کر نی ہیں ۔ نو ذو الحجہ کی فجر کی نماز منیٰ میں پڑ ھ کر عر فا ت کو رو انگی ہو جاتی ہے۔ عر فا ت میں غر و ب آفتا ب تک ٹھہر نا ہے ۔حضو ر �ö نے جبل ِ رحمت کے قریب قیا م کیا تھا اس لیے اس سنت پر عمل کر نے کی کوشش کر تے ہیں اگر یہا ں جگہ مل جا ئے تو فہو ا لمر اد، ویسے جہا ں جگہ ملے ٹھہر جا نا ہے، مگر خیا ل رکھنا چاہییکہ را ستو ںپر ڈیر ے نہ ڈا لے جا ئیں کہ آنے جا نے والو ں کو تکلیف نہ ہو عر فا ت کو جا تے ہو ئے را ستے میں مز دلفہ کا مقا م آتا ہے مگر عرفات کو جا تے ہو ئے یہا ں رکنانہیں سیدھا عر فا ت پہنچنا ہے، اگر ممکن ہو تو بعد زوال غسل کر لیا جا ئے اگر ظہر کی نماز با جماعت مسجد نمرہ میں پڑ ھنے کا مو قع حا صل ہو جا ئے تو ز ہے نصیب ،یہا ں ظہر اور عصر کی دو نماز و ں کو اکٹھا پڑ ھا جا تا ہے اسے جمع بین الصلوٰ تین کہتے ہیں ۔ایک ہی وقت میں ایک اذا ن اور دو تکبیروں کے سا تھ یہ نماز یں اکٹھی کر کے پڑ ھی جا تی ہیں اگر اپنے ڈیر ے پر نماز پڑ ھیں تو پھر ظہر الگ اور عصر الگ الگ پڑ ھی جا ئینگی ۔اور اپنے اپنے وقت پر معمو ل کے مطابق پڑھی جا ئینگی ان سے فا رغ ہو کر بہتر ہے جبل ِ رحمت کے پاس نہیں تو اپنے ڈیرے پر تسبیح تکبیر درود شر یف پڑ ھتا رہے ۔اور دعائیں ما نگتا رہے اور اللہ کا ذکر کر تا رہے۔ غر و ب آفتا ب تک یہیں ٹھہر نا ہے ۔سو ر ج ڈو بنے کے بعد نما ز مغرب پڑھے بغیر یہاں سے وا پس منیٰ کی طر ف چل پڑ ے۔ را ستے میں مز د لفہ ٹھہر نا ہے یہاں مغر ب اور عشا ئ کی نماز یں جمع کر کے پڑ ھی جائینگی ،نماز با جما عت پڑ ھیں یا تنہا ،جمع بہر حا ل کر نی ہیں۔ نماز با جما عت میں اما م ایک اذا ن اور تکبیر سے جما عت کر ائیگا مز د لفہ سے ہی جمر و ں کی رمی کر نے کے لیے چھوٹے چھو ٹے چنے کے د انے کے برا بر کنکر کم از کم انچاس چُن لیے جا ئیں اسکے بعد ذکر الہیٰ کر یں یا سو جا ئیں کوشش کی جا ئے کہ قیا م قر ج پہا ڑ کے قر یب صبح آفتا ب طلو ع ہو نے کے قر یب ہو تو مز دلفہ سے منیٰ کو روا نہ ہو جا نا ہے۔ منی ٰ پہنچ کر سب سے پہلے جمر ہ ئِ عقبہ پر پہنچے ۔اسے بڑا شیطا ن کہنے لگے ہیں ۔بطن ِ وادی میں کھڑ ا ہو کر ایک ایک کر کے سات کنکر اس کو ما رنے ہیں ہر کنکر پر اللہ اکبر کہا جا ئے یہ رمی ﴿کنکر ما رنا ﴾ ز وال سے پہلے ہو جا نی چاہیے۔رمی کے بعد یہاں نہیں ٹھہر نا ۔پہلے قر با نی کی جا ئے پھر سر منڈا ئے نا خن کٹوا ئے مکہ مکر مہ جا کر کعبہ کا طوا ف کر ے اسے طوا ف زیا رت کہتے ہیں، یہی طو اف حج میں فر ض کا در جہ رکھتا ہے۔ اس کا وقت با رہ ذو الحج کی شام تک ہے مگر بہتر یہ ہے کہ دس ذوا لحج کو ہی کرلے کہ حضور �ö نے اسی تا ریخ کو کیا تھا ۔ طوا ف ِ زیا ر ت میں رمل ، اضطبا ع اور سعی نہیں یہ کا م ، طوا ف قد و م میں ہو چکے ہیں حجا ج کے لیے نمازِ عید نہیںبا رہ تا ریخ تک منیٰ میں ہی قیا م رہے گا ۔ گیا رہ تار یخ کو زوا ل کے بعد تینو ں جمر و ں ﴿آجکل کی زبا ن میں تینوں شیطا نو ں ﴾ کو کنکر ا سطر ح ما رے کہ پہلے جمر ہ اولیٰ ، پھر جمر ہ ئِ وسطی پھر جمر ہ ئِ عقبہ۔ پہلے دو نو ں شیطا نوں کو کنکر ما ر کر دو نو ں مقا ما ت پر دیر تک ٹھہر ے اور دعا ئیں ما نگتا رہے مگر آخر ی شیطا ن یعنی جمر ئہ ِ عقبہ کو کنکر ما ر کر وہا ں نہیں ٹھہر نا نہ دعا ما نگنی ہے۔ اپنے ڈیرے پر آجا نا ہے پھر با رہ تا ریخ کو بھی زوا ل کے بعد اسی تر تیب سے رمی کر نی ہے اور اسی روز رات سے پہلے مکہ مکر مہ وا پس آجا نا ہے اگر تیرہ تاریخ بھی منیٰ میں گزار یں تو پھر تینو ں جمروں پر رمی کر کے مکہ مکر مہ وا پس آنا ہے۔ رمی کے متعلق خیا ل رکھنا چاہییکہ دس تا ریخ کی رمی زوا ل سے پہلے اور گیا رہ با رہ کی رمی زوال کے بعد ہے اب حج مکمل ہو چکا ہے لیکن جب تک حجا ج مکہ مکر مہ میں رہیں طوا ف کر تے رہیں بڑی سعا د ت ہے اور اگر اس دور ان اپنے عز یزوں کی طر ف سے عمر ے کر تے رہیں تو بہت بہتر ہے ۔ان عمرو ں کا طر یقہ یہ ہے کہ حدو د حرم سے با ہر جا ئیں بہتر ہے مقا م تنعیم تک جائیں۔ وہا ں مسجد عا ئشہ (رض) سے احرا م با ند ھ لیں پھر طو اف اور سعی کے بعد سر منڈا لیں۔ اگر ایک دن میں ایک سے زیا دہ عمر ے کر یں تو بھی ہر عمر ے کے بعد سر پر استر اپھر والینا ہو گا۔ طوا ف و دا ع :۔مکہ مکر مہ سے رخصت ہو تے ہو ئے جو آخر ی اور الو دا عی طوا ف کر تے ہیں اُسے طوا ف ، و دا ع کہتے ہیں ۔ یہ طو ا ف رمل اور اضطبا ع کے بغیر دو سرے طوا فوں کی طر ح ہی ہو گا ۔ با قی طر یقہ یہ ہے کہ طوا ف کے نفل پڑھ کر زم زم پر جا ئے قبلہ رو ہو کر تین سا نسو ں میں پیٹ بھر کرزم زم پئے ممکن ہو تو سر بلکہ جسم پر بھی بہا لے بیت اللہ شر یف پر آئے چو کھٹ کو بو سہ دے اپنے دونوں ہا تھ بیت اللہ کی طر ف پھیلا ئے اور یہ دعا پڑ ھے ۔ ’’اَلسَّا ئِلْ بِباَ بِکَ یَسْأ نکَ مِنْ فَضْلِک وَمَغْفِرتَکَ وَ یَرْجُوْ ارَحمَتَک ‘‘ ﴿تیرے در وا زہ کا بھکا ری تجھ سے تیرا فضل اور بخشش ما نگتا ہے اور تیر ی رحمت کا امیدا وار ہے ﴾ آئندہ حج کی تو فیق ار ز ا تی کی دعا ئیں ما نگتا ہو ا ،با ب ودا ع سے نکلے اور ہو سکے تو مکہ مکر مہ کے نچلے راستہ سے نکلے جسے کدیٰ یا ثنیہ سفلیٰ کہتے ہیں ۔

حج بدل

وہ لو گ جن پر حج فر ض ہو مگر اپنی کسی معذ ور ی کے با عث حج کر نا ان کے لیے نا ممکن ہو تو وہ اپنی جگہ دو سرے کو حج پر بھیج سکتے ہیں مگر اس طر ح جیسے خو دحج پر جا رہے ہو ں یعنی گھر سے واپس گھر تک تمام اخرا جا ت اُسی طر ح بر دا شت کر ے جیسے خو د حج پر جا تا تو اخرا جا ت ہو تے ۔ لو گ اپنے اُن عز یز و ں کی طر ف سے بھی حج بد ل کر ا تے ہیں جو یہ فر یضہ ادا نہیں کر سکے ۔ یہ سب کچھ تو ٹھیک ہے لیکن آجکل ایک عجیب رسم نکل آئی ہے جو لو گ حج خو د کر رہے ہیں وہ وہیں کسی آدمی کو کچھ رقم دے کر احرا م کا کپڑ ا بھی دے د یتے ہیں۔ اور اپنے مر حو م بز رگو ں اور عز یزوں کے طر ف سے حج ادا کر نے کو کہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انکا حج ادا ہو گیا ہے یہ طر یقہ با لکل غلط ہے۔

خوا تین کا حج

عور تیں مر دو ں کی طرح تما م ارکا نِ حج ادا کر یں گی لیکن کچھ فر ق رہے گا ۱﴾ عو ر ت احرا م کی حالت میں ان سِلے کپڑ ے نہیں پہنے گی اسی طر ح قمیض شلوار یا تہبند ﴿جو اس کا لبا س ہے ﴾ دوپٹہ پہنے گی ۔ عو ر ت کا احرا م میں سر کھو لنا بھی ضر و ری نہیں صر ف منہ کھو لے رہے گی ۔ ۲﴾ اگراحرا م کے وقت حا لتِ طہر میں نہیں تو احرا م کے نفل نہیں پڑ ھے گی بلکہ نفل پڑ ھے بغیرغسل کر کے احرا م با ند ھ لے گی۔ ۳﴾ عور ت تلبیہ آہستہ کہے گی ۔ ۴﴾ طوا ف کے وقت اضطبا ع بھی نہیں کر ے گی اور رمل بھی، بلکہ معمو ل کی رفتا ر سے چل کر طو اف مکمل کر ے گی تما م کپڑے پہنے رہے گی ۔ ۵﴾ صفا اور مرو ہ کے درمیا ن سعی بھی نہیں کر ے گی معمو ل کی رفتا ر سے چل کر را ستہ طے کر ے گی ۔ ۶﴾ طوا ف کے سلسلہ میں بھی یہ امر پیش نظر رہے کہ وہ طوا ف ِ زیا رت کر یگی اگر مکہ مکر مہ میں داخل ہو تے وقت وہ حالت طہر میں نہیں تو وہ مسجد حر م شریف میں بھی نہ آئے اور طوا ف نہ کر ے ،نہ صفا ئ مر وہ کی سعی کر ے بلکہ بعض صور تو ں میں اس پر طو اف ِ قد وم معا ف ہو جا تا ہے ۔ ۷﴾ اگر عمرہ کے احرا م سے مکہ میں دا خل ہو اور حج تک طہر نہ ہوسکے تو عمر ہ چھو ڑ دے صر ف حج کر ے ۔ ۸﴾ اگر طوا ف ِ زیا ر ت کے عرصہ میں حا لتِ طہر میں نہیں تو طوا ف ِ زیا ر ت مئو خر کر دے گی۔ جب حا لتِ طہر میںآئے گی توا طوا ف ِ زیا ر ت کر ے گی ۔ ۹﴾ اگر وہ طوا فِ زیا ر ت کر نے کے بعد نماز کے قابل نہیں رہی ﴿یعنی حا لت طہر میں نہیں رہی ﴾ اور مکہ مکر مہ سے روانگی ہو گئی تو طوا ف ِ ودا ع معا ف ہے۔ غر ض طوا فِ زیا ر ت کے سوا طوا ف قد وم اور طوا ف و دا ع معاف ہوسکتے ہیں طوا ف ِ زیا ر ت رہ جا تا ہے ۔ ۰۱﴾ عور ت سر نہیں منڈا ئے گی بلکہ ایک پو ر بھر با لو ں کی نو کیں کا ٹ دے گی ۔








پہلا سفر ِ حج

آج ذیقعد 1387 �÷ ھ کی 20 تا ریخ انگر یز ی کیلنڈر کے مطا بق 17 فر وری 1968 �÷ ہے۔ ہفتہ کا دن ہے۔ ہما را ہو ائی جہا ز کل کے قسطنطیہ اور آج کے استنبو ل سے اُڑا اور جد ہ پہنچا ۔ آج کل جد ہ بہت بڑا اور عظیم الشا ن شہر بن گیا ہے۔ پرا نی طر ز کی عما ر تیں اب یہا ں نا پید ہو رہی ہیں جگہ جگہ امر یکی انداز کے بنگلے بنے ہو ئے ہیں۔ جد ہ مکہ معظمہ سے تقر یبا ً 46 میل دو ر مغر ب کی سمت میں ہے اس لیے یہا ں قبلہ بالکل مشر ق کی طر ف ہے یہا ں سے مکہ معظمہ تک بہت کشا دہ اور پختہ سڑ ک ہے ۔دور و یہ سڑ ک ہے۔ جگہ جگہ در خت لگے ہو ئے ہیں، بجلی ٹیلیگرا ف اور ٹیلی فون کا جد ید تر ین نظا م ہے ،جو بہت عمد گی سے کا م کر رہا ہے، یہا ں تقر یبا ً تما م ممالک کے سفیر و ں کی خوبصورت قیا م گاہیں ہیں یہا ں پا نی بافر اط ملتاہے اور مفت ملتا ہے یہا ں وہا ں ادھر ادھر پا نی کے نل لگے ہیں پیو، کپڑ ے دھولو ،غسل کر و پا نی عام ہے ۔ جد ہ میں گر میو ں میں سخت گر می پڑ تی ہے مچھر بہت ہو تے ہیں اور بڑ ے خو نخوار ، یہاں سے رابغ کو بھی پختہ سڑک جا تی ہے۔ رابغ جد ہ سے 96 میل کے فا صلہ پر ہے اس آگے رستہ مد ینہ منورہ جا تا ہے ۔ جد ہ میں ہمارے معلم محمد اسما عیل متعی موجودتھے ۔ جد ہ سے ہم مکہ مکر مہ رو انہ ہو گئے، کشا دہ دو ر ویہ سڑ ک پر گا ڑی گو یا تیر رہی تھی۔ کا ش ہر آدمی کی زند گی کی سڑ ک بھی ایسی ہی صاف کشا دہ اور ہموا ر ہو تی۔ حا لا ت کے نشیب و فرا ز نہ ہو تے ،ٹھوکر یں نہ ہو تیں ،ہچکولے نہ کھا نا پڑ تے ،سڑ ک کے دو نو ں طرف سا یہ دا ر در خت نئی نئی کو نپلو ں سے آرا ستہ ہو رہے تھے ۔مو سم انکا لبا س بدل رہا تھا انہی خیا لات اور دعا ئو ں میں کھو ئے ہوئے حدود ِ حرم میں پہنچ گئے حر م کی حدو د شر و ع ہو تے ہی ہم گا ڑی سے اتر پڑ ے مقا م ابر اہیم پر دو رکعت و اجب ادا کئے رات ہو چکی تھی ، مکہ کی را ت ، پیا ری پیا ری پر تقد س را ت ، پاکیز ہ اور با بر کت لمحو ں کی امین را ت ، اپنی خو ش نصیبی پر مجھے رشک آنے لگا ۔ دل کی دھڑ کنیں کہنے لگیں ’’ اے خدا ئے کعبہ تو کتنا مہر با ن ہے کہ میرے جیسے خطا کا ر کو وہ شہر دکھا یا جسکی تو نے قسمیں کھا ئی ہیں اس لیے کہ اس شہر کی گلیوں کی خا ک نے تیرے محبو ب کے مبا رک پا ئوں کو بو سے دیے ’’لَااُ قْسِمُ بِھٰذ َا لْبَلَدِ وَ اَنْتَ حِلّ’‘ بِھٰذَ الْبَلَد‘‘ ﴿ارے نہیں ، میں تو قسم کھا تا ہو ں اس شہر کی کیو نکہ اے محبو ب آپ ان گلیوں میں چلتے پھر تے ہیں ﴾ یہا ں وہ قد م محو ِ خرا م رہے کہ وہ با غ میں آجا ئیں تو بہا رو ں کے بھاگ جا گ اٹھیں بقول اعلیٰ حضر ت وہ سوئے لا لہ زا ر پھر تے ہیں تیر ے دن اے بہا ر پھر تے ہیں را ت بڑی پر سکو ن گز ری ،مکہ کی ہوا ئو ں نے تھپک تھپک کر ایسی شفقت بھر ی لو ریا ں سنا ئیں کہ سا ری تھکن ختم ہو گئی۔ تہجد تا زہ دم ہو کر ہر پڑھی ہر ہر آیت نو ر کی شعا عو ں کی طر ح دل و دما غ میں اتر تی گئی، لڑکپن کی ابتدا ہی سے تہجد پڑ ھنے کی سعا دت ورثہ میں مل گئی تھی، مگر تہجد کا لطف آج شر و ع ہو رہا تھا ۔ ہر ہر سا نس سر شا ر ہو رہی تھی ۔ نماز فجر کے بعد ہلکا نا شتہ کیا اور زیارت کے لیے نکل گئے آج درج ذیل مقا ما ت کے زیا رت نصیب ہو ئی ۔ ۱﴾ مولد النبی �ö :۔ وہ مکا ن جہاں سر و رِ انبیا ئ �ö کی ولا د ت با سعا دت ہو ئی پہلے حضرت عقیل (رض) بن ابی طا لب کی ملکیت میں رہا، پھر حجا ج بن یو سف ثقفی کے بھا ئی محمد بن یو سف ثقفی نے ایک لا کھ دینا ر میں خر ید لیا اوراس جگہ کو اپنے مکان میں شا مل کر لیا چو نکہ اس مکا ن پر سفید چو نے کا پلستر کیا گیا تھا اس لیییہ ’’ البیضا ئ‘‘ کے نام سے مشہو ر ہو گیا ۔عر ضہ درا ز تک اسے دار ابن یو سف کہا جا تا رہا۔ ابن دحیہ کی روا یت کے مطا بق مشہور عبا سی خلیفہ ہا رو ن الرشید کی وا لد ہ خیز ران جب حج کے لیے آئی تو اس نے یہ مکان خر ید کر گر ا دیا اور یہا ں مسجد تعمیرا کرا دی۔ صا حب سیرۃ الحلبیہ کی روایت ہے کہ ہا رو ن الر شید کی انتہا ئی نیک دل ملکہ زبیدہ خا تو ن حج کے لیے آئیں تو انہو ں نے ابن یو سف کے مکا ن سے مولد ِ رسول کا حصہ نکال لیا اوروہاں مسجد تعمیر کرا دی ۔دو نو ں روا یا ت میں تطبیق کے لیے یہ کہا گیا ہے کہ پہلے والد ہ ہارون خیزران نے مسجدتعمیرکر ائی ہو گی، پھر ملکہ زبیدہ نے اسے زیا دہ خو بصو ر ت انداز میں بنوایا ہو گا ۔ ﴿سیرۃ الجلیہ جلد ا صہ 59﴾ علا مہ ابو لقا سم السہیلی نے صر ف یہ جملہ لکھا ہے ۔ ’’ ملکہ زبیدہ حج کے لیے آئیںتو انہو ں نے مو لدِ رسو ل کی جگہ مسجد بنا دی ‘‘ ﴿الر رض الا نف ج ا صہ 184﴾ مو لا نا مفتی احمد یا ر خا ن صا حب نعیمی کی تحقیق یہ ہے ۔ ’’ حر م شر یف کے قر یب محلہ سو ق العیا ل میں ایک چھو ٹی سی مسجد جسے مسجد النبی �ö کہتے ہیں یہ بھی مشہو ر ہے کہ یہی حضور کی جا ئے پیدا ئش ہے مگرا کثر محققین کے نز دیک یہ با ت صحیح نہیں صحیح جا ئے پیدا ئش وہ ہے جو محلہ سوق الفیل میں واقع ہے یہاں پہلے قبہ بنا ہوا تھا مگر اسے سعو دی حکومت نے گرا دیا ہے اور ایک دو بڑی لا ئبر یری قائم ہے ‘‘ ﴿حکیم الا مت کا سفر 92﴾

شیخ ابرا ہیم عر جو ن لکھتے ہیں ۔ 

’’ مکہ مکر مہ میں حضو ر �ö کی جا ئے ولا دت مشہور و معر و ف ہے اب وہا ں دار لحد یث بنا دیا گیا ہے۔ 1370 - 71 �÷ ھ میں جب میں مکہ مکر مہ حا ضر ہوا تو دا ر لحد یث کی عما ر ت کی بنیا دیں دیکھیں جو زیر تعمیر تھی ‘‘ ﴿محمد رسو ل اللہ ۔ ازاابر اہیم عربوں ج ا 102﴾ بہر حال اب وہا ں لا ئبر یری ہے جو مقرر اوقا ت پر کھلتی ہے اکثر مقفل رہتی ہے ۔ ۲﴾ مو لدِ علی کر م اللہ وجہہ :۔ یہ حضرت ابو طا لب کا مکا ن تھا یہ جگہ محلہ علی میں ہے۔ اب اس جگہ کو ئی عما ر ت نہیں کہا جاتا ہے کہ یہاں پہلے عما ر ت تھی مگر سعو دی حکو مت نے گرا دی اور اب تو اس جگہ کو ڑے کے ڈھیر دیکھنے میں آئے ۔حضرت علی المرتضٰی کی والدد ہ محترمہ فاطمہ بنت اسد کو بیت اللہ میں دود ِزہ شر وع ہو ا اور یہا ں آکر ولا دت ہو ئی اس وجہ سے یہ روا یت مشہو ر ہے کہ حضرت علی المر تضٰی مو لود کعبہ ہیں ۔علما ئے اہل سنت کہتے ہیں کعبہ شر یف میں ولا دت ممکن نہیں۔ اب اس مکا ن کی جگہ ایک معلم کا جد ید انداز کا مکا ن ہے ۔ ۳﴾بیت ام ہا نی (رض) :۔ یہ حضرت اُم ہا نی کا مکا ن ہے حضو ر سر ور عا لم �ö اسی مکا ن سے معرا ج کے لیے تشریف لے گئے تھے اس گھر کو حد ود ِ حر م میں شامل کر دیا گیا ہے ۔ اور اب یہ با ب ام ہا نی کہلا تی ہے۔ ۴﴾بیت ابو بکر صد یق:۔حضرت صد یق رضی اللہ عنہ کا یہ گھر محلہ کہا سیہ میں واقع ہے اسی گھر میں ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کی ولا دت بھی ہوئی اور اسی گھر سے حضور �ö نے ہجر ت کے سفر کا آغا ز کیا۔ اب اس جگہ نیچے مختلف دکا نیں ہیں اور اوپر مسجد ہے ۔ بر و ایت عر وہ بن زبیرحضور �ö کا حضرت عا ئشہ سے نکا ح بھی اسی گھر میں ہوا

۵﴾بیت ار قم :۔یہ وہی جگہ ہے ہا ں حضور �ö نے کفا ر کے شر سے محفو ظ رہنے کے لیے اپنا ٹھکا نا بنا یا ہوا تھا ۔یہ جگہ صفا سے چند قدم آگے مر وہ کی جا نب سے یہیں حضرت عمر فا رو ق (رض) دو لت ِ ایما ن سے سر فرا ز ہو ئے ایک چھو ٹی گلی کے سر ے پر یہ مقا م وا قع ہے اب یہا ں مد ر سہ قا ئم ہے گو یا یہ کل بھی در سگا ہ تھی اور آج بھی در سگا ہ ہے اسے اب مسعیٰ میں شامل کردیا گیا ہے۔

۶﴾مو لدِ حضر ت فا طمۃ الز ہر ا رضی اللہ عنہ :۔یہ حضر ت خد یجہ الکبر ٰ ی کا مکان ہے جسے حضور �ö کی رہائش گا ہ کا شر ف حا صل رہا ۔ یہیں حضرت فا طمۃ الز ہرا پید اہو ئیں یہ جگہ محلہ کشا شیہ میں سبز ی منڈی کی دا ئیں طر ف ہے اب یہا ں بھی ایک مدر سہ ہے ۔ ۷﴾جنت معلی:۔ مکہ مکر مہ کا قدیم تر ین قبر ستا ن یہی ہے ا سکے تین حصے ہیں ایک سڑ ک ان تینو ں حصو ں میں رابطہ کا ذریعہ بنتی ہے ۔قبر ستا ن کے دو سرے حصہ میں حضرت خد یجہ الکبر ٰ ی کی قبر ہے۔ یہا ں حضو ر �ö کی پہلی زو جہ اور آپ کی بہت زیا دہ مو نس و غمخوا ر ، آپ کی جا ن نثا ر و وفا دار اور اپنا سب کچھ آپ (ص) پر اور دین حق پر نچھا ور کر دینے والی رفیقہ حیات آرام فر ما ہیں حضور �ö کی سا ر ی اولا د سو ائے ایک بیٹے حضرت ابر اہیم کے انہی زو جہ محتر مہ کے بطن سے تھی ۔ اُم المو منین حضر ت خد یجہ الکبر ٰ ی سے حضو ر �ö کو بڑی محبت تھی اور یہ محبت آخر دم تک قا ئم رہی ۔اس قبر مبا رک پر بھی آل ِ سعو د کی حکو مت نے سخت پہر ہ بٹھا ر کھا ہے اور کسی کو قر یب جا نے نہیں دیتے ۔قبر بھی شکستہ حا لت میں ہے اس سے کچھ فاصلہ پر مشر قِ میںحضو ر �ö کے اجدا د حضرت ہا شم عبد المنا ف ، عبد المطلب کی قبر یں ہیں۔ عبد اللہ بن عمر ، عبدالرحمن حسن ، ابن زبیر اور انکی والد ہ اسما ئ کی قبر یں یہیں ہیں ۔ مگر سب شکستہ حا لت میں ہیں۔ قبر ستا ن کا پہلا حصہ اب بہتر بنا دیا گیا ہے قبرستا ن میں عو ر تو ں کو جا نے کی اجا ز ت نہیں ۔ ۸﴾مسجد جن:۔یہ مسجد جنت ِ معلی سے ذراآگے مسجد جن ہے اسی جگہ جنا ت نے حضور �ö سے قرآن حکیم کی آیات سنیں اور ایما ن لے آئے ۔یہی وہ واقعہ قرآنِ حکیم کی سو ر ہ جن میں مذ کو ر ہو کر ہمیشہ کے لیے محفو ظ ہو گیا ۔ بعد میں اس جگہ یہ مسجد بنی مگر اب یہ مقفل رہتی ہے یہاں قر یب قر یب سبز مینا ر کی دو مسا جد ہیں پہلی نہیں دو سری مسجد جن ہے۔ ۹﴾کو ہِ صفا :۔یہ وہ تا ریخی پہا ڑ ی ہے جس پر جنا ب سر و رِ انبیا ئ �ö نے اپنی نبو ت کا اعلا ن عام کیا اور دعو تِ حق و صدا قت پیش کی اس دعو ت کا ذکر کر تے ہو ئے مو لا نا الطا ف حسین حا لی نے اپنی مثنو ی مد و جز ر اسلام المعر و ف مسد س حا لی میں در ج ذیل اشعا ر لکھے �ò وہ فخر عر ب زیب محر اب و منبر تما م اہل مکہ کو ہمرا ہ لے کر گیا ایک دن حسب ِ فر ما نِ داور سُو ئے دشت اور چڑ ھ کے کو ہِ صفا پر یہ فر ما یا سب سے کہ اے آل ِ غا لب مجھے تم سمجھتے ہو صا د ق کہ کا ذب کہا سب نے قو ل آج تک کوئی تیرا کبھی ہم نے جھوٹا سُنا اور نہ دیکھا کہا گر سمجھتے ہو تم مجھکو ایسا تو با ور کر و گے اگر میں کہو نگا کہ فو جِ گرا ں پشت کو ہِ صفا پر پڑ ی ہے کہ لُو ٹے تمہیں گھا ت پا کر کہا تیر ی ہر با ت کا یا ں یقین ہے کہ بچپن سے صا د ق ہے تو اور امین ہے کہا گر مر ی با ت یہ دلنشیں ہے تو سُن لو خلا ف اس میں اصلا نہیں ہے کہ سب قا فلہ یا ں سے ہے جا نیوالا ڈر و اس سے جو وقت ہے آنیوا لا ہے اک ذاتِ وا حد عبا د ت کے لا ئق زبا ن اور دل کی شہا د ت کے لا ئق اُسی کے ہیں فر ما ں اطا عت کے لا ئق اسی کی ہے سر کا ر خد مت کے لا ئق لگا ئو تو لو اپنی اس سے لگا ئو جھکا ئو تو سر اس کے آگے جھکا ئو

اور اسی دن سے آپ (ص) کو صا د ق و امین کہنے والے، آپ (ص) کی ہر با ت کا یقین کر نے والے اپنے تما م معا ملا ت میں آپ کو حکم تسلیم کر نے والے اور آپ کے ہر فیصلہ پر بصد احترا م سر جھکا نے والے اچا نک آپ (ص) کے دشمن ہو گئے۔ کو ہِ صفا کو دیکھ کر یہ سا را منظر جیسے ایک دفعہ پھر زند ہ ہو کر میرے سا منے آگیا اب میں جیسے گز ر ی صد یو ں کی سا ر ی مسافتیں چیرکر اُن لمحو ں میں پہنچ گیا اور میرا رواں روا ں وہ سب کچھ دیکھنے اور سننے لگا ۔ کوئی بڑ ی شیر یں آواز میں مجھے سمجھا نے لگا کہ لو گو ں کے بخشے ہو ئے اعزا زا ت اور انکی طر ف سے پیش کئے ہو ئے احترام و اکر ام سب جھو ٹ ہیں ۔ اصل اعزاز و اکرام وہ ہے جو اللہ کی طر ف سے عطا ہو تا ہے ۔ لو گ سر جھکا ئے کھڑ ے ہو ئے ہیں، لیکن جب لبوں سے حر فِ حق صا در ہو تا ہے تو وہی احترا ما ً جھکے ہو ئے سر اٹھتے ہیں، ادب میں بند ھے ہو ئے باز و کھل جا تے ہیں اور آگے بڑ ھتے ہیں کہ حر فِ حق کہنے والے کا سر کا ٹ لیں۔ کتنی سچی با ت کہی تھی میر زا صائب نے �ò اعلا نِ صد ق ما یہ ئ آزار می شود چو ں حر فِ حق بلند شود دار می شود اور پھر حضور �ö کی پو ر ی زند گی آنکھوں کے آگے پھر نے لگی اور دل کی ایک ایک دھڑ کن بو لنے لگی کہ مکہ مکر مہ آئے ہو، کوہِ صفا دیکھا ہے تبلیغ حِق و صدا قت کے عز م کو عز یمت میں بد لو اور تما م مصا ئب کا مقا بلہ کر نے کے لیے تیا ر ہو جا ئو �ò اذیت ، مصیبت ، ملا مت ، بلا ئیں تر ے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا یہیں مجھے خیا ل آیا کہ کتنے غلط اند یش ہیں وہ لو گ جو ایسی یا د گا رو ں کو مٹا تے پھر تے ہیں ۔یا د گا ر یں تو خا مو ش مبلغ ہو تی ہیں یہ تو رہنما ئی اور ہد ایت کی کتا بیں ہو تی ہیں ۔یہ تو روشنی کے مینا ر ہو تی ہیں ، یہ تو بڑ ی پر وقا ر اور متین در سگا ہیں ہوتی ہیں۔ یہ پیغا م بھی دیتی ہیں اور یہ بھی بتا دیتی ہیں کہ اس پیغا م پر عمل کیسے کیا جا تا ہے۔ یا د گا رو ں سے محر وم ہو جا نا تو تا ریخ سے محر وم ہو جا نا ہے اور جو قو م تا ریخ سے محر و م ہو جا تی ہے، اسکی حا لت اس شخص کی سی ہو جا تی ہے جو اپنا حا فظہ کھو بیٹھے ۔

یا د گا ریں قبر کی صو ر ت میں بھی ہو ں تو مٹی کے انبا ر نہیں ۔در س گا ہیں ہیں مر نے والے کی پو ری زند گی کی کتا ب ہیں جن سے عبر ت و مو عظت بھی حا صل ہو تی ہے اور اپنی منز لیں متعین کر نے کا حو صلہ بھی اقبا ل نے سچ کہا  �ò 

زیا ر ت گا ہِ اہل عز م و ہمت ہے لحد میری کہ خا ک رِا ہ کو میں نے بتا یا را زِ الو ند ی ۰۱﴾مسجد بلال:۔یہ مسجد کو ہ ِ صفا کی چوٹی پر ہے ۔ مشہو ر روا یت یہ ہے کہ فتح مکہ کے روز حضور �ö کے حکم سے حضر ت بلا ل (رض) نے پہلی اذا ن یہیں دی حضرت بلا ل (رض) کا نام آتا ہے تو کیا کچھ یا د نہیں آجا تا افسو س کہ رہ گئی رسم اذان رو ح بلا لی نہ رہی وہ حبشی غلا م جس نے اسلام کی را ہ میں حشر خیز مصا ئب صبر و حو صلہ سے بر دا شت کئے، ہر طر ح کا ستم تو ڑ ا گیا مگر ہر ستم ایما ن کو اور پختہ کر تا گیا ۔ جنا ب عمر فا روق نے اسلام زید بن ار قم کے گھر قبو ل کیا اور اسکا اعلا ن کو ہِ صفا کی چو ٹی پر چڑ ھ کر اسی جگہ کھڑ ے ہو کر کیا ۔ جنا ب ابرا ہیم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر مکمل کر لی تو یہیں کھڑ ے ہو کر پکا ر بلند کی ’’تعا لو اِعبا د اللّٰہ الی بیت اللّٰہ‘‘ ﴿اللہ کے بند و اللہ کے گھر کی طر ف آئو ﴾

۱۱﴾شق القمر :۔یہ جگہ کو ہِ صفا پر مسجد بلال سے قر یبا ً پچا س قد م کے فاصلہ پر ہے کہتے ہیں یہیں کھڑ ے ہو کر آپ (ص) نے شق القمر کا معجز ہ دکھا یا تھا مفسر ین نے قرآن حکیم کی آیت اقتر بۃ السا عہ وا نسشق القمر سے اسی معجز ہ کی طرف اشارہ بیا ں کیا ہے۔ کہتے ہیں یہاں پہلے مسجد تھی جو ا ب گرا دی گئی ہے دیوا ر یں کھڑ ی ہیں ۔ 

۲۱﴾مزار عثما ن ہا رو نی :۔محل کے قر یب خو اجہ معین الد ین اجمیر ی اور بہت سے اولیا ئے کر ام کے پیر و مر شد حضرت خواجہ عثما ن ہا رو نی کا بھی مز ا ر ہے ۔ یہ تو گو یا اندرو ن مکہ مکر مہ یا قر ب و جوا ر کی زیا رات تھیں جن سے ہم لو گ خدا کے فضل و کر م سے مشر ف ہو ئے میں نے کوشش کی کہ آنکھو ں کے سا تھ دل بھی بیدا ر رہے تا کہ سا رے انوار سمیٹ سکو ں میرے سا تھ محمد اسلم ، غلا م سر و ر ، شا ہ ولی اور فتح عالم تھے، چا لیس دیگر مما لک کے افرا د بھی ہما رے سا تھ تھے۔ میں نے کوشش کی کہ اپنے سا تھیوں کو ہر مقا م کی مختصر ا ً تاریخ بھی بتا تا جا ئو ں تا کہ انہیں بھی اخذِ تجلیا ت و انوار میں اپنے سا تھ شر یک رکھو ں ۔


ہر لحظہ نیا طو ر

اس سفر نامہ میں کہیں وہ تفا صیل چھوڑے دے رہا ہو ں جوطوا ف حر م اور عبا د ات کے متعلق ہیں میں چا ہتا ہو ں کہ حج کے طریق کا ر میں جو کچھ آگیا ہے وہ سب کچھ تو اپنے رفقائ کے سا تھ میرا سر انجا م دنیا معہو د ذہنی Under Stood ہے ۔ میں اس سفر نا مہ کے ذر یعے ار ض القرا ن کی اُن زیا رات سے اپنے قارئین کو رو شنا س کر ا تا چلو ں جن کے دیدا ر سے میں مشرف ہوا ۔دو سرے دن میں نے یہ پر و گر ام بنا یا کہ مکہ معظمہ کے ارد گر د کے تا ریخ سا ز مقا ما ت دیکھے جا ئیں ویسے توا س علاقہ میں با ر با ر بھٹکتے رہے کہ جو چا ہتا ہے کیونکہ یہ گلیا ں ، یہ کو چہ و با ز ا ر یہ پہا ڑ ،یہ رہگزار یہ بیابا ن ، یہ نخلستا ن اُسی محبوب دلنوا ز کی یا دو ں کے امین ہیں، جس کی محبت سب محبتو ں سے بلند تر اور پاکیز ہ تر ہے ۔ اس مٹی کے ذر ہ ذر ہ پر سلام کہ یہیں عا لمگیر امن و سلا متی کا شاہز ادہ اپنے مقدس نعلین کی خو شبو بکھر تا رہا ۔بہر حا ل پر و گرا م کے مطا بق ہماراگلا مقا م زیا ر ت جبل نو ر تھا ۔ جبل نو ر:۔یہ پہا ڑ مکہ مکر مہ کی اصل آبا دی سے تقر یبا ً تین میل کے فا صلہ پر تھا مگر اب شہر مکہ بہت وسیع ہو گیا ہے اورا سکی حدود جبل نور تک پہنچنے لگی ہیں یہ پہا ڑ بھی اپنے ار د گر د کے دیگر پہا ڑ و ں کی طر ح خشک اور بے آب و گیا ہ ہے۔ یہیں غا ر ِ حرا ہے جس میں نبی �ö آکر مشغو ل عبا د ت ہو جا تے اور یہیں سے نز ول وحی کا آغاز ہو ا ۔ غا ر حرا :۔ یہ غا ر چا ر گز لمبی اور دو گز چو ڑی ہے۔ اس میں ایک آدمی با آسانی لیٹ سکتا ہے اگر چہ اس طر ح کے غا ر اردگر د کے پہا ڑ و ں میں اور بھی بہت ہیں لیکن حضور �ö نے غا رِ حرا کا انتخا ب اس لیے کیا کہ یہاں بیٹھنے سے بیت اللہ شر یف کی زیارت بھی ہو سکتی تھی۔ یہ غار جبل النورکی چو ٹی پر ہے را ستہ بہت دشوار گزار اور کٹھن ہے تقر یبا ً ڈیڑ ھ میل چڑھا ئی ہے۔ پتھر چکنے ہیں اور راستہ تنگ ہے ۔کنا رہ پر کوئی روک نہیں سید ھی او نچا ئی پر چڑ ھا ئی ہے۔ ذرا پا ئو ں پھسلے تو نیچے گر جا ئیں جہا ں ہڈیاں سر مہ ہو جا ئیں ۔ رو ایات میں آتا ہے کہ حضور �ö نبوت سے پہلے کچھ سا ما نِ خو ر دو نو ش لے کر اسی غا ر میں غو ر و فکر ور ذکر الہیٰ کے لیے آجاتے تھے علامہ احمد بن زینی دجلدن نے لکھا ہے ۔ ’’ اس غا ر میں قیا م کی مد ت متعین نہ تھی۔کبھی تین را تیں ، کبھی پا نچ کبھی سا ت کبھی رمضان کا پورا مہینہ یہا ں قیا م فر ما یا کر تے تھے ‘‘ ﴿اسیر ۃ النبویہ جلد ا صفحہ163﴾ حضو ر �ö کا یہ دو ر آنکھو ں کے سا منے پھر نے لگاقرآن حکیم نے اس دو ر میں حضور کی حا لت کا ذکر کرتے ہو ئے ’’ضال‘‘ کا لفظ استعما ل کیا ہے ۔ ’’وو جد ک ضا لا ً ‘‘ضا ل کے معنی بھٹکا ہو ا اور را ہ گم کر دہ کے بھی ہیں اور تلا ش منز ل میں سر گردا ں بھی ایک گمرا ہ تو وہ ہو تا ہے جو را ستہ بھٹک جا تا ہے مگرا سے یقین ہو تا ہے کہ وہ صحیح را ستے ،پر ہے اُسے اپنی گمرا ہی کا احسا س تک نہیں ہو تا ،دو سرے اُسے را ہِ راست پر لا نے کی کوشش کر تے ہیں تو وہ ان سے جھگڑ نے لگتا ہے ،ضد کر تا ہے کہ جس را ہ پر وہ چل رہا ہے یہی راہ ِ را ست ہے ۔ایسا شخص کبھی منزل حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا ،اُس کا ہر قد م اسے منزل سے دو ر تر کر تا جا تا ہے انہی لو گو ںکا ذکر سو ر ہ فا تحہ میں ہے۔ ’’ غَیْرِ ا لْمَضُوْ بِ عَلَیْھِمْ وَ لاَ الضَّا لِیِنْ‘‘ ﴿اے اللہ ہمیں ان لو گو ں کی راہ پر ڈا ل جن پرتو نے پر انعا م کیا جو تیرے مغضو ب نہیں اور نہ را ہ گم کر دہ ہیں﴾ ان کے بر عکس جو لو گ تلا ش منزل میں سر گر دا ں ہو تے ہیں انہیں منزل مل سکتی ہے کیو نکہ وہ دو سر و ں کی دکھا ئی ہو ئی را ہ پر چل پڑ تے ہیں حضور �ö کی بھی بعثت سے پہلے یہی حا لت تھی ’’وَوَجَدَ کَ ضَا لاً فَھَدَ ی‘‘ ﴿اس نے یعنی اللہ نے تجھے تلا ش منزل میں سر گرداں پا یا تو سید ھی راہ پر ڈال دیا ﴾

حضور �ö کی اسی دو ر کی کیفیت بیا ن کر تے ہو ئے کا ر لا ئل لکھتا ہے 

’’ شر و ع سے ہی چلتے پھر تے آپ کے دل میں ہزا رو ں سو الا ت پیدا ہو تے تھے میں کیاہو ں ؟ کائنات کا یہ لا متنا ہی سلسلہ کیا ہے ؟ز ند گی کیا ہے ؟ مو ت کیا ہے؟ مجھے کس چیز پر ایما ن رکھنا چاہیے؟ کیا کر نا چاہیے؟ بہتر زند گی کیا ہے ؟ حرا ئ کی پہا ڑ یا ں ، ریت کے ٹیلو ںکا سکو ت ، ان سوا لا ت کا کو ئی جوا ب نہ دیتے تھے ۔ ان سوا لا ت کا کہیں سے کو ئی جوا ب نہیں ملتا تھا ۔ ان سوا لا ت کا جو ا ب انسا ن کی اپنی رو ح اور خدا کی اس وحی سے ملنا تھا جو اس رو ح کو اپنا مکسن بنا لے ‘‘ ﴿ HEROES AND HEROWORSHIP P. 49 ﴾ ُٓ اپنے رفقائ کے سا تھ یہا ں نو افل ادا کیے ۔آدمی اگر غا ر ِ حرا ئ کو اس حا ل میں دیکھے کہ اُسکا دل بیدا ر ہو اور رو ح اخذ انوار کے لیے تیا ر تو اللہ تعا لیٰ اور رسو ل انسا نیت �ö کی تجلیا ت سے سر شا ر ہو جا تا ہے کتنی بڑی نواز ش ہے خدا ئے ذوالجلال کی کہ اُس نے ہمیں یہ تو فیق بخشی کے ہم یہ سعا دتیں حا صل کر تے پھر رہے ہیں۔ غا ر ِ حرا ئ اور جبل نو ر میں وہ کشش اور جا ذبیت پا ئی کہ اپنے آپ کو انہی پتھر و ں میںجذ ب ہو تا محسو س کیا۔ وقت کھینچتا کہ واپس چلو مگر ہم جیسے وقت کی گر فت سے بہت آگے نکلے ہو ئے تھے ۔ صد یو ں کے بعد بے معنی ہو رہا تھا ۔ ہمیں یو ں معلو م ہو رہا تھا جیسے سجی ہے بز م ابتک اور دولھا ابھی اس بز م سے اُٹھ کر گیا ہے دل کے کا نو ں سے سنُو تو را ستے بو لتے ہیں ، پتھر خو ش آمد ید کہتے ہیں اور حضو ر �ö جیسے اپنے ریشم قد م ان پر ٹکا تے چل رہے ہیں یہا ں جذ ب و کیف کے عالم میں بہت سا وقت گزرا آخر وا پسی ہو ئی نیچے ہو ٹل ہے چا ئے ، قہو ہ اور دیگر اشیا ئے خو ردو نو ش دستیا ب ہیں۔ ہم کچھ دیر وہا ں بیٹھے رہے پھر چل پڑ ے۔ لیکن ذہن میں غا ر ِ حرا کی پر نو ر فضا ئیں بسی ہو ئی تھیں۔ یہیں سے دنیا کی تار یخ کو نئے جہا نوں سے رو شنا س کر انے والی تحر یک طلو ع ہو ئی تھی یہیں سے نسل انسا نی کے لیے عا لمگیر منشور حیا ت کا حر ف اول صا در ہو ا تھا ۔ یہیں سے قر آن عظیم کے نز ول کا آغاز ہوا تھا اس انقلا ب آ فریں کتا ب کا آغاز ہو ا جو قیا مت تک کے لیے انسا ن کی رہنما ہے �ò آں کتا ب ِ زند ہ قرآن حکیم حکمت اولا یزال است و قد یم فا ش گو یم آنچہ در دل مضمر است ایںکتا ب نیست چیز ے دیگر است


طا ئف کی زیا ر ت

مکہ شر یف کے جنو ب مشر ق میں 70 میل کے فا صلہ پر شہر طا ئف ہے۔ طا ئف میں حضو ر �ö کے دو ر میںقبیلہ بنو ثقیف آباد تھا ۔ یہ شہر ایک دلکشا اور پر فضا پہا ڑ ی سلسلہ میں آبا د تھا ۔یہا ں گر می نہیں ہو تی مو سم خو شگوا ر رہتا ہے۔ بنو ثقیف زرا عت پیشہ لوگ تھے اور زر عی معا ملا ت میں خا صی مہا ر ت رکھتے تھے۔ اسی مہا ر ت نے طا ئف اور اسکے قر ب و جوا ر کو رشک جنت بنا رکھا تھا ۔ آج بھی یہ علا قہ سبز ی اور پھل بکثر ت پیدا کر تا ہے انگو ر، انا ر ، انجیر ، بہی ، تھو ر کا پھل جسے قر وش کہتے ہیں، یہا ں و افر مقدار میں پیدا ہو تا ہے اور بہت ارزا ں ملتا ہے ۔جا بجا پا نی کے چشمے ہیں ۔ پا نی ٹھنڈ ا اور میٹھا ہے آج بھی وہا ں گرمیوں میں برف کی ضر و رت محسو س نہیں ہو تی ۔مکہ کے رئو سا ئ نے بھی وہا ں مو سم گرِ ما کے لیے اپنی رہا ئش گا ہیں بنا رکھی تھیں بعض قر یش سرداروںکے یہا ں زر عی رقبے بھی تھے ۔ طا ئف کے با شند ے ما لی لحاظ سے خو شحا ل تھے ، اس لیے وہ اپنی اولا د کو تعلیم و تر بیت سے آرا ستہ کر نا بھی ضر و ری سمجھتے تھے جب سا را عر ب جہا لت کے اند ھیرو ں میں ڈ و با ہو اتھا ۔ یہا ں علم و حکمت کی خا صی رو شنی تھی، یہا ں طب و حکمت کے ما ہر ا ور منجم موجو د تھے ۔حا ر ث بن کلا ہ جیسا ما ہر طب بھی وہا ں مو جو د تھا جس نے علم طبِ ایرا ن کے ما ہر اطبا ئ سے حاصل کیا تھا ۔اسی طرح مشہو ر منجم عمر و بن امیہ بھی اسی طا ئف کا با شند ہ تھا وہ علم نجو م میں مہا ر ت رکھتا تھا اور علمی طر یقہ سے ستار و ں کی رفتا ر اور اوقا ت ِ طلو ع و غر و ب کا مشاہد ہ کر سکتا تھا۔ کہتے ہیں ستا رو ں کی نقل و حر کت کا مشاہد ہ کر نے کے لیے اس نے با قاعدہ رصد گا ہ قا ئم کر رکھی تھی ۔ اس شہر کے ارد گر د ایک فصل تھی یعنی ایک بڑی دیوا ر جس نے شہر کو ہر طرف سے گھیرا ہوا تھا ۔ اور گو یا شہر کا طواف کر تی تھی اس لییاس کی منا سبت سے شہر کا نا م طا ئف پڑ گیا تھا ۔ پو رے جز یرئہ عر ب میں وا حد شہر تھا جسے فصیل نے گھیر رکھا تھا مؤ رخین لکھتے ہیں ’’ اس شہر کے ایک شخص نے کسر ائے ایرا ن کی غیر معمو لی خد اما ت سر انجا م دی تھیں ۔ با د شا ہ نے کہا تھا اپنی خدما ت کا صلہ طلب کر و اس نے یہی صلہ ما نگا کہ اس کے شہر کے گر د فصلِ تعمیر کر دی جا ئے تاکہ کوئی دشمن اسے فتح کر کے پا ما ل نہ کر سکے با د شا ہ نے یہ با ت منظو ر کر لی اور ایرا نی انجینئر و ں نے بڑی مہا ر ت سے یہ فصیل تعمیرکرادی۔ اسی فصیل کے با عث شہر کا نا م طائف پڑ گیا شہر میں ایک پہا ڑ ی ٹیلہ ہے جس پر لا ت کا بت نصب تھا ۔ جو مشر کین کے تین اعلیٰ معبو رو ں میں سے ایک تھا مسلما نو ں کے غلبہ کے بعد یہ بت مسما ر کر دیا گیا تھا ‘‘ ﴿نظر ۃ جد ید ۃ ص 144﴾ حضور �ö نے اپنی تبلیغ کے سلسلہ میں طا ئف سے بڑی امید یں وا بستہ کر رکھی تھیں۔ آپ کا خیا ل تھا کہ اس شہر میں چو نکہ کافی حد تک علم کی رو شنی مو جو د ہے اس لیے قبولیت حق کے لیے یہا ں کے ذہن آما د ہ ہو نگے نیز یہا ں کے لو گو ں کی خو شحا لی سے بھی امید تھی کہ وہ تند خونہیں خو ش مز اج اورنر م مز اج ہو نگے۔ اللہ نے ان پر جو نعمتیں کھول رکھی ہیں ان کا انہیں احسا س ہو گا اور وہ حق کا راستہ اختیا ر کر نے میں ویسے بد طن ثا بت نہیں ہو نگے جیسے مکہ کے لو گ ثا بت ہو رہے تھے چنا نچہ بعثت کے دسو یں سا ل ما ہِ شوال میں حضور �ö مکہ سے طا ئف رو انہ ہو ئے۔ علا مہ ابن اسحا ق کے مطا بق آپ (ص) تنہا پا پیا دہ طا ئف گئے لیکن محمد بن سعد نے ’’ طبقا ت ‘‘ میں لکھا ہے کہ وہ ’’ اس سفر میں حضور �ö کے خادم خا ص حضرت زید بن حا رثہ آپ کے سا تھ تھے ‘‘ آپ نے سردا ر ان طا ئف سے ملا قا تیں کیں او ر انہیں پیغا م حق پہنچا یا لیکن کسی میں قبو لیت حق کے لیے آما دگی نہ تھی۔ آخر میں آپ یہاں کے انتہا ئی سر برا ٓور دہ سر دا ر وں کے پا س گئے۔ یہ تین سر دا ر تھے اور تینو ں سگے بھا ئی تھے۔ یہ تھے عبد یا لیل بن عمرو، مسعو د بن عمر و اور جیب بن عمرو ۔ان میں سے ایک کی شا دی قر یش کے بنو جمح خا ندا ن سے ہوئی تھی ان تینو ں بد قسمتوں نے حضو ر �ö کی دعو ت کو برے استخفا ف سے ٹھکر ا دیا ایک نے کہا ’’ اگر اللہ نے، آپ کو رسو ل �ö بنا دیا تو کیا میں نے غلا ف کعبہ کو پا رہ پا رہ کر دیا تھا ۔ دو سرا بو لا ’’ کہا تمہا رے بغیر اللہ کو اور کوئی نہیں مل سکتا تھا جسے وہ رسول بنا تا ‘‘ تیسرے نے کہا ’’ اللہ کی قسم میں تم سے با ت بھی نہیں کر و نگا کیو نکہ اگر تم اللہ کے رسول ہو تو تمہا ری شا ن بلند ہو گئی میں یہ تاب نہیں رکھتا کہ تم سے با ت کر سکو ں اور اگر تم اللہ پر جھو ٹ با ند ھ رہے ہو تو اتنے بڑے در و غ گو سے کلا م کر نا مجھے زیب نہیں دیتا ‘‘ ﴿اسیرۃ النبویہ از ابن کثیر جلد 2 صفحہ 149﴾ انہوں نے حضو ر �ö کو کہا ۔ ’’ تم ہما رے شہر سے فو ر اً نکل جا ئو ہمیں اند یشہ ہے تم ہما ر ے شہر کے نو جو ا نوں کو بگا ر ڈ دو گے ‘‘ اسکے علا وہ انہو ں نے ’’ شہر کے اوبا شو ں اور نو جوا ن چھو کر و ں کو آپ (ص) کے پیچھے لگا دیا ۔وہ آواز ے کستے پھبتیا ں اڑ اتے ، گا لیا ں بکتے ، اپنے بتو ں کے نعرے لگا تے ۔حضو ر �öکے پیچھے لگ گئے ادھر شہر کے لو گ دو ر ویہ صف بیٹھ گئے ۔حضو ر �ö جد ھر سے گزر ے ان لوگوں نے پتھر بر سا ئے ان کے پتھر و ں کا نشا نہ خا ص طو ر پر آپ (ص) کے قد م رہے۔ آپ کے پا ئو ں زخمی ہو گئے اور خو ن بہنے لگا آپ (ص) درد کی شد ت سے بیٹھ جا تے تو وہ نا ہنجا ر با زو ئو ں سے پکڑ کر آپ کو اٹھا دیتے اور پھر پتھر بر سا نے لگتے اور قہقہے بلند کرنے لگتے حضرت زید بن حا رثہ بھی آڑ بننے کی کوشش میں زخمی ہو ئے ۔اس طر ح طا ئف کے بد بخت شہر یو ں نے اپنے معززو محتر م مہما ن کو رخصت کیا ۔ آپ زخمو ں سے چو ر شہر سے نکلے قر یب ہی ایک با غیچہ تھا انگوروں کی بیل کے نیچے بیٹھ گئے ‘‘ ﴿سبل الہدٰی والر شاذ جلد 2 صفحہ 577﴾ ہیں آپ نے دو ر کعت نفل ادا کئے اور زخمی ہا تھ دعا کے لیے اٹھ گئے ’’ اے خدا ئے بز ر گ و بر تر میں اپنی نا توا نی ، اپنی قو ت عمل کی کمی ، لو گو ں کی نگا ہو ں میں اپنی بیکسی کا شکو ہ تجھ سے کر تا ہوں۔اے ارحم الر احمین تو کمز ورو ں کا بھی رب ہے، میرا بھی رب ہے تو مجھے کس کے حو الے کر رہا ہے کیا ایسے دو ر درا ز کے دشمن کے جو تر ش رو ئی سے میرے سا تھ پیش آتا ہے یا اپنو ں کے جو مجھے اذیت پہنچا نے میں مسر ت محسو س کر تے ہیں۔ خیر مجھے ان تکلیفو ں کی کو ئی پر وا نہیں اگر تو مجھ پر خو ش ہے ۔

تیر ی طر ف سے عا فیت اور سلا متی میرے لیے دلکشا ہے میں تیرے نو ر کی پنا ہ میں آنا چا ہتا ہو ں جس سے سب اندھیرے روشن ہو جا تے ہیں اور دنیا و آخر ت کے سا رے کا م سنورجا تے ہیں ۔تیر ی ذا ت کے بغیر نہ میرے پاس کوئی طا قت ہے نہ قوت انگورو ں کا یہ با غیچہ اسلا م کے بد تر ین دشمن ربیعہ کا تھا۔ اس کے دو نو ں بیٹے عتبہ اور شیبہ اس وقت با غ میں مو جو د تھے۔ انہوں نے حضو ر �ö پر اہل طا ئف کی ستمر انی کے منا ظر بچشم خوش دیکھے تھے ۔انکے دلو ں میں کسی قدر نر می پیدا ہو ئی۔ انہوں نے اپنے نصر انی غلا م عداس   سے کہا کچھ انگو ر طشتر ی میں لے کر اس زخمی کے پا س لیجائو اور اسے کھا نے کو کہو ۔ عداس  نے ایسا ہی کیا حضور �ö نے بسم اللہ الر حمن الر حیم پڑ ھا اور انگو ر کھا نے لگے۔ عداس نے چہر ئہ ِ انور پر نظر ڈا لی اور کہا ’’ اس بستی کے لو گ تو کھا نے سے پہلے یہ کلمہ نہیں پڑ ھا کر تے ۔ حضور �ö نے پوچھا ’’ تم کہا ں کے رہنے والے ہو اور تمہا را مذہب کیا ہے‘‘ اس نے کہا ’’ میں نصر انی ہو ں اور نینوا کا رہنے وا لا ہو ں ‘‘ آپ نے فر ما یا وہی نینوا جو اللہ کے نیک بند ے یونس بن متی کا شہر ہے ۔ اس نے پو چھا ’’ آپ یو نس بن متی کو کیسے جانتے ہیں ‘‘ آپ نے فر ما یا وہ میرا بھا ئی ہے۔ وہ بھی اللہ کا پیغمبر تھا اور میں بھی اللہ کا پیغمبر ہو ں ۔عد ا س   پر کچھ ایسا اثر طار ی ہو ا کہ اٹھا اور اٹھ کر حضور �ö کے سر کو بو سہ دیا پھر ہا تھ چومے پھر قد مو ں کو بوسے دینے لگے ۔عقبہ اور شیبہ یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے انہو ں نے کہا ’’ یہ غلا م اب ہما رے کا م سے گیا۔ اس پر اُس نے سحر کر دیا۔ عداس جب وا پس آیا تو انہو ں نے اُسے جھڑ ک دیا اور پو چھا یہ سب کچھ تم کیو ں کر رہے تھے ۔اُس نے صا ف کہہ دیا آپ لو گ میرے آقا ہیں ۔ میں سچ کہتا ہو ں اس وقت اس زمین پر اس سے بہتر کوئی شخص نہیں ۔اس نے مجھے ایسی با تیں بتائیں جو صر ف خدا کے نبی ہی بتا سکتے ہیں ۔ جنگ بد رمیں جب یہی عقبہ اور شیبہ جا رہے تھے تو اسی عد اس نے کہا تھا ’’ تم جس کا مقا بلہ کرنے جا رہے ہو اسکے مقابلہ میں تو پہا ڑ بھی نہیں ٹھہر سکتے ‘‘ مگر بد نصیب اس وقت بھی نہ سمجھ سکے اور آج ہم اس طائف میں کھڑ ے تھے جہا ں جو کچھ ہوا تھا حضو ر �ö جب بھی اُسے یا د کر تے غمز دہ ہو جا تے ام المو منین حضر ت عائشہ صد یقہ کہتی ہیں ۔ 

’’ میں نے حضور �öسے پو چھا یا رسول اللہ کیا احد کے دن سے بھی کوئی سخت دن آپ پر گزرا آپ نے فر ما یا ’’ میری قوم کے ہا تھو ں مجھے جو تکلیفیں یو م العقبہ کو پہنچیں وہ بہت زیا دہ سخت تھیں میں نے جس روز بنو ثقیف کے سردا رو ں عبد مالیل وغیر ہ کو دعوت حق دی اورا نہو ں نے اسکے بد لے میں میرے سا تھ جو سلو ک کیا وہ زیا دہ سخت تھا ‘‘ ﴿سبل الہد ٰ ی وار شا د جلد 2 صفحہ 579﴾ ہم طا ئف کی پر ُبہا ر فضا ئو ں سے آنسو ئو ں کا انبا ر سمیٹتے اس چھو ٹی سی پہا ڑی کی طرف نکل گئے جہا ں سے اہل نجد احرا م باندتھے ہیں اور جس پہا ڑی کا نام قر ن الثعا لب ہے یہاں مجھے ایک اور واقعہ یا د آگیا جو میں نے سا تھیوں کو سنا یا ۔ ’’ حضور �ö نے طا ئف سے واپسی کا ذکرکر تے ہو ئے فر ما یا ‘‘ میں لو ٹا تو سخت غمز دہ اور پر یشا ن خا طر تھا ۔میں اپنی پریشانیوں میں کھو یا ہو ا تھا، چلتے چلتے جب قرن الثعا لب پہنچا تو میں نے سر اٹھا یا ،اور دیکھا کہ با دل کا ایک ٹکڑا مجھ پر سایہ کئے ہو ئے ہے۔ میں نے غو ر سے دیکھا تو مجھے حضرت جبرا ئیل دکھا ئی دیے ۔انہو ںنے مجھے پکا ر کر کہا اللہ تعالیٰ نے سب کچھ دیکھا اورسنا اب اس نے پہا ڑو ں کا فر شتہ آپ کے پا س بھیجا ہے ۔حکم دیں وہ کیا کر ے ‘‘ پہا ڑو ں کے فرشتے نے عر ض کیا آپ حکم دیں تو میں پہاڑوں کو آپس میں ملا دو ں اور یہ سب ظا لم لو گ پس کر رہ جا ئیں ‘ میں نے کہا ‘‘ نہیں، میں امید کر تا ہو ں کہ انہی لو گو ں کی پشتو ں سے وہ او لا دیں پیدا ہو نگی جو میر ی دعو ت قبو ل کر یںگی۔ اللہ کی عبادت کر ںگی اور شر ک چھو ڑ دیں گی ‘‘ ﴿اسیر ۃ النبویہ از ابن کثیر ج2 صفحہ152 و سبل الہدٰ ی وا لر شا د ج2 ص579﴾ ہم یہا ں سے چل پڑ ے اور پھر نخلہ کا مقا م دیکھا۔ یہا ں طا ئف سے واپسی پر حضور �ö نے را ت بسر کی تھی ۔ اور نماز فجر میں اس عجز و نیاز سے تلا وت ِ کلا م پاک کی کہ شجر و حجر جھو منے لگے۔ یہ آواز قر یب سے گز ر نے والے جنوںکے ایک قا فلہ نے سنی ۔ اسی واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے سو رہ الا حقا ف میں یو ں بیاں فر ما یا ۔ ’’ اور جس وقت ہم نے جنا ت کی ایک جما عت کو آپ کی طر ف متو جہ کیا کہ وہ قرآن سنیں وہ آپ کی خد مت میں پہنچے اور بولے خامو شی اور تو جہ سے سُنو ۔ جب تلا وت ہو چکی تو وہ اپنی قوم کی طرف گئے ۔انجا م بد سے ڈر ا تے ہو ئے اور کہا اے ہماری قوم ہم نے آج ایک کتا ب سُنی ہے جو اللہ کی طر ف سے اتاری گئی ہے۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کی کتا ب کی تصدیق کر نے والی ہے ، رب کی طر ف رہنما ئی کر تی ہے، سید ھی را ہ دکھا تی ہے، اسے قبو ل کر لو ۔ اے ہما ری قو م والو! قبو ل کر لو اللہ کی طرف سے بلا نے والے کی دعو ت کو اس پر ایما ن لا ئو۔ اللہ تمہا رے گنا ہ بخش دے گا اور تمہیں عذ اب سے بچا لے گا۔ ﴿سور ہ الا حقا ف آیا ت 30 - 29 ﴾ علامہ احمد بن زینی نے اپنی سیر ت کی کتا ب ج ا 273 پر اور محمد ابو ز ہر ہ نے اپنی کتا ب میں ج ا 342 پر لکھا ہے کہ حضور مقا م نخلہ میں کئی روز قیا م کیا ۔






                 طا ئف کی زیا رت 

۱﴾رو ضہ حضرت عبد اللہ بن عباس :۔ یہ تر جما ن القرا ن حضرت بن ِ عبا س کی آرا مگا ہ مسجد ابن عباس کے با ئیں ہاتھ پر مستصل ہے ۔مو جو د حکو مت نے اپنی عا د ت کے مطا بق اس رو ضہ کی زیا ر ت میں بھی موا نعات کی دیو ا رکھڑ ی کی کررکھی ہے پھر بھی یہ لو گو ں کا مرجع ہے ۔ ۲﴾مسجد علی (رض) :۔یہ مسجد طا ئف سے جنو ب میں ایک میل کے فا صلہ پر وا قع ہے۔ پیلا رنگ ہے اذا ن کے لیے ایک مینا ر ہے برا بر میں آب رو اں کا چشمہ ہے ۔ ۳﴾بیرنبی :۔یہ کنو اں مسجد علی سے مشر قی جا نب وا قع ہے ۔روا یت ہے کہ غز وئہ طا ئف کے مو قع پر حضور �ö نے اس میں لباب دہن ڈا لا جس سے اس خشک کنو ئیں میں بکثر ت پانی آگیا اب بھی اس میں بہت پانی ہے۔ ۴﴾مسجد نبی (ص) :۔یہ چھو ٹی سی مسجد علی سے جا نب جنو ب دو سو قد م پر وا قع ہے پہا ڑ کے دا من میں ہے، اسکے سا تھ ہی میٹھے پا نی کا ایک جا ری چشمہ ہے ،مشہو رہے کہ طا ئف کے تبلیغی سفر میں حضور �ö نے یہا ں نما ز پڑ ھی تھی ۔ ۵﴾حجرا لنبی :۔ یہ پتھر اسی مسجد نبی کی دیو ار میں نصب ہے اسکے متعلق مشہور ہے کہ اس پر حضور کے پنجہ اور کہنی کے نشان کا اثر مو جو د ہے۔ حکو مت نے اسے دیوا ر مسجد میں بند کر دیا ہے۔ ۶﴾روضہ حضرت عکر مہ :۔مسجد نبی سے جنوب میں دو میل کے فاصلہ پر ایک پہا ڑ ی پر حضرت عکر مہ(رض) بن ابی جہل کامزارہے جو شکستہ حا لت میں ہے ۔ ۷﴾جبل غزالہ :۔طا ئف سے مغر ب میں ایک میل کے فا صلہ پر ایک پہاڑی ہے۔ مو لا نا مفتی احمد یا ر خا ن نعیمی کے مطابق یہی وہ پہا ڑی ہے جہا ں ہر نی والا وا قعہ پیش آیا جو بہت مشہور ہے ایک ہر نی کو ایک یہو دی نے جا ل میں پھانس لیا حضور �ö نے یہ واقعہ دیکھا۔ ہر نی نے حضور �öسے عر ض کیا کہ وہ بچو ں کو دود ھ پلا کر واپس آجا ئے گی ۔حضور �ö نے یہو دی کو ضما نت دی کہ ہر نی بچو ں کو دودھ پلا کر واپس آجا ئے گی۔ اگر نہ آئی توآپ اسکی قیمت ادا کر دیںگے۔ ہر نی دود ھ پلا کر بچو ں کو لے کر واپس آگئی ۔ یہو د ی شکا ری نے نہ صر ف اسے آزا د کر دیا بلکہ خو د بھی اسلا م قبول کر لیا کہتے ہیں ۔ ہر نی کا دودھ پہا ڑ پر ٹپکتا گیا، وہا ں سے ایک بو ٹی پیدا ہو ئی جسکی ڈنڈی لمبی سر خ رنگ کی ہو تی ہے۔ اب بھی کہیں کہیں مل جا تی ہے یہ بو ٹی آنکھوں کے لیے بہت مفید ہے ۔ ۸﴾بستا نِ علی (رض) :۔ یہ حضرت علی (رض) کا با غ تھا جو آپ نے عام مسلما نو ں کے لیے وقف کر دیا اس میں انار ، انگو ر اور انجیر بہت پیدا ہو تے ہیں۔ ۹﴾وا دی ا لنمل :۔قرآن حکیم میں ایک وا قعہ ہے کہ سلیما ن علیہ اسلام کا لشکر آرہا تھا تو ایک چیو نٹی نے کہا تھا اے چیونٹیو اپنے بل میں داخل ہو جا ئو سلیما ن کا لشکر آرہا ہے اور تم رو ند ی جا ئو گی اسی واقعہ کی نسبت سے پور ی سور ہ مبا رکہ کا نا م سورہ النمل ہے ۔ یہ جگہ طا ئف سے تقر یبا ً 7 میل جا نب مغر ب ہے ۔ اکثر تاریخ نو یسو ں نے اسی کو وا دی النمل کہہ کرا ُسی وا قعہ کی طرف منسوب کیا ہے جو قرآن حکیم میں مذکو ر ہے اور جس کی طر ف ہم نے اوپر اشا رہ کیا ہے ۔ لیکن دیگرمحققین کہتے ہیں کہ اس وادی میں چیو نٹیو ں کی کثر ت تھی جس کے با عث یہ وا دی النمل مشہو ر ہو گئی وگر نہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے لشکر کی یہ گزرگاہ نہیں تھی ۔






                   عُکا ظ 

سا رے جز یرئہ عرب میں گنتی کے چند شہر تھے جن میں مکہ اور طا ئف بہت مشہور تھے۔ مکہ کی شہر ت خا نہ کعبہ کے با عث تھی اور طائف اپنی آب و ہوا اور زر خیز زمین کے با عث مشہور تھا۔ با قی آ با دی وسیع و عر یض صحرا ئو ں میں بکھر ی ہو ئی تھی ۔ کہیں کہیں کوئی گا ئو ں یا قصبہ دکھا ئی دیتا ور نہ بیشتر لو گ خا نہ بد و ش تھے جہا ں پا نی اور چا رہ نظر آیا خیمہ بستی آبا د کر لی کچھ روز رہے اور پھر بہت زمین کی تلاش میں آگے چلے گئے ۔را ستے غیر ما مو ن تھے۔ ڈاکوئو ں کا خطر ہ ہر قد م پر تھا ، قبا ئلی دشمنیا ں بھی آزا دا نہ سفر میں رکا وٹ بنتی تھیں۔ قبا ئل کے سردا رو ں نے با ہمی مشا ور ت سے یہ طے کیا کہ سال کے مختلف ایا م میں مخصو ص مقا ما ت پر تجارتی منڈ یا ںلگا ئی جا ئیں تا کہ تا جر اور دستکا راپنی اشیا ئ لے کر وہا ں پہنچ جا ئیں اور لو گ اپنی ضر و رت کی چیز یں خر ید سکیں ۔ ان طے شدہ مقا ما ت پر جتنے روز ایسے میلے منعقد کئے جا تے ان ایا م میں لو گوںکے جا ن و ما ل کی حفا ظت کی ضما نت دی جا تی ہے ۔ ان ایا م میں پو را عر ب ان اصو لو ں کا احتر ام کر تا حتیٰ کہ اگر کسی کے با پ یا بیٹے کا قا تل بھی اسکے سا منے آجا تا تو وہ اس پر ہا تھ نہ اٹھاتا ۔ یہ میلے ایک طرف تجا ر تی منڈ یو ں کی حیثیت رکھتے ،دو سری طرف ثقا فتی سر گر میو ں کا مر کز بھی ہو تے پھر یہ کہ ثقا فت کا اہم شعبہ یعنی فنو ن لطیفہ کی بھی یہا ں نما ئشیں ہو تیں ،ادبی محفلو ں کا انعقا د ہو تا ،خطیب فصاحت و بلا غت کے دریا بہا دیتے شعر ائ اپنے قبائلی اور اپنے آبا ئ وا جدا د کی شجا عت ، فیا ضی اور سیر چشمی کے گُن گا تے اور قصا ئد سنا تے ۔ان قصا ئد کو پر کھا جا تا اور داددی جا تی ۔ ان میلو ں میں زیا دہ مشہور تین تھے۔ عُکا ظ ، ذوا لمجا ز ِ اور مجنّٰہ ، عُکا ظ نخلہ اور طا ئف کے در میا ن وا قع ہے ۔ذوا لمجا ز عر فہ کے پیچھے اور مجنہ مرا لظہر ان میں ۔ معرو ف مسلما ن جغر ا فیہ دان یا قوت حمو ی نے ان میلو ں کی جا ئے انعقا د کامحل و قو ع یہی بتا یا جو ہم نے اوپر لکھا ہے۔ اس نے یہ بھی بتا یا ہے کہ یہ تینو ں میلے یکے بعد دیگر ے ہو تے تفصیل اس طر ح بیا ن کی گئی ہے ۔ ’’ یہ تجا رتی منڈ یا ں قر یش اور تمام اہل ِ عر ب کی مشتر کہ منڈ یا ں تھیں اور عکا ظ سب سے بڑی منڈی تھی ۔کہتے ہیں کہ عکاظ شوال کا پورا مہینہ لگی رہتی پھر وہاں سے لو گ مجنہ آجا تے تھے، وہا ں ذی قعدہ کے پہلے بیس دن یہ منڈی رہتی پھر لو گ ذوا لمجا ز آجا تے۔ یہ منڈی ایا م ِ حج شر و ع ہو نے تک رہتی اسکے بعد حج ادا کر کے لو گ وا پس ہو تے ‘‘ ﴿معجم البلدان ج ۴ ص 142﴾ ان سب میں عُکا ظ سب سے بڑ ا میلہ تھا۔ اسکی وجہ تسمیہ بیا ن کر تے ہو ئے علا مہ یا قو ت حمو ی لکھتے ہیں ’’ سہیلی کی رو ایا ت ہے کہ عر ب جب عکا ظ کے میلہ میں جمع ہو تے تو وہا ں ایک دو سرے کے مقا بلہ میں لڑ ائی اور فضیلت و عظمت کا اظہا ر کر تے ۔جب کو ئی آدمی دو سرے کے مقا بلہ میں اپنی بر تر ی کا اظہا ر کرے تو عرب کہتے ہیں عکظ الر جل صا حبہ ﴿ اس آدمی نے اپنے سا تھ والے پراپنی بر تر ی جتا ئی ﴾ ان اجتما عا ت میں شعرائ بھی شر کت کر تے اور اپنے قبا ئل کی برتری اور فضیلت جتا تے اور اس مو ضو ع پر اپنے تازہ قصا ئد سنا تے ان میں جو قصید ہ زیادہ مقبو ل قرا ر دیا جا تا ہے اُسے سنہر ی حرو ف سے لکھ کر کعبہ کے دروازہ پر لٹکا دیا جا تا ، انہی لٹکے ہو ئے قصا ئد کو متعلقا ت کہا جا تا ‘‘ ﴿معجم البلدان ج 4 ص 142﴾ حضور �ö بھی ان میلو ں میں جا تے اور مختلف قبا ئل سے مل کر دعو ت حق پیش کر تے، سفر طا ئف سے واپسی پر بھی ان میں تشر یف لے گئے اور دعو ت حق پیش کی ۔ابو طا ر ق (رض) سے روا یت ہے کہ میں نے حضور �ö کو ذو المجا ز کی منڈی میں دیکھا آپ لو گو ں سے کہ رہے تھے ۔ ’’ لو گو کہو اللہ تعالیٰ کے بغیر کو ئی عبا د ت کے لا ئق نہیں ۔تمہیں دو نو ں جہانو ں میں سر خرو ئی حاصل ہو گی ۔آپ (ص) کے پیچھے ایک آدمی کھڑا تھا۔ اسکے با ل د ونو ں طر ف سے اسکے سینے پر لٹک رہے تھے۔ وہ آپ (ص) کے پا ئو ں پر پتھر بھی ما ر رہا تھا اور کہہ رہا تھا لو گو اس کی با ت نہ ما ننا ۔یہ شخص جھو ٹا ہے میں نے اپنے والد سے پو چھا ۔یہ کو ن ہے انہو ں نے کہا یہ ان کا چچا ہے نا م عبد العز ی اور کنیت ابو لہب ہے ‘‘ ﴿اسیر ۃ الحلبیہ ازامام محمد ابو زہرہ ج ا ص 397﴾ ایسا ایک وا قعہ منیب العا مر ی ہے۔ عکا ظ میں آپ کی تبلیغی سر گر میو ں کے متعلق تفصیل بیا ن کر تے ہو ئے وہ کہتا ہے ۔ ’’ مد ر ک نے کہا میں نے ز ما نہ ئِ جا ہلیت میں رسول �ö کو تبلیغ کر تے ہو ئے دیکھا آپ فرما رہے تھے لو گو اللہ کے سوا کسی کی عبا د ت نہ کر، دو نو ں جہا نو ں میں سر خر و ہو جا ئو گے۔ لو گ یہ سنتے اور در شنی سے پیش آتے کسی نے حضور کے روئے انور پر تھو کنا شر و ع کیا، کسی نے آپ پر مٹی پھینکی۔ بعض لو گ گا لیاں بکنے لگے۔ دوپہر تک یہ سلسلہ جا ری رہا۔ پھر ایک بچی پا نی لے کر آئی۔ حضور �ö نے اس سے ہا تھ منہ دھو ئے اور فر ما یا ’’ میر ی بیٹی اپنے با پ کے متعلق یہ خو ف نہ کر و کہ کوئی اسے مغلوب کر لے گا یا وہ رسوا ہوگا۔میں نے پو چھا یہ بچی کو ن ہے لو گو ں نے بتا یا یہ حضور �ö کی بیٹی ہے اس کا نا م زینب ہے ‘‘ ﴿سبل الہدٰی والر شا د ج ۲ ص 594﴾ حج کے مو قع پر منٰی و عر فا ت میں عر ب قبا ئل آکر ٹھہر تے آپ ایک ایک قبیلہ کے پا س جا تے اور اپنا پیغا م پہنچا تے ہم ایک ایک جگہ پھر رہے تھے اور پو ر ی تاریخ ہما رے سا تھ چل رہی تھی سیرۃِ طیبہ کا ایک ایک نقش اجا گر ہو رہا تھا ۔

منٰی کی زیا را ت

۱۔ مسجد البیعۃ :۔ اس مقا م پر بیعت عقبہ وا قع ہو ئی تھی مگر اب یہا ں مسجد نہیں یہ جگہ مسجد خیف سے قر یب ہے ۔ ۲۔ مسجد خیف :۔ منٰی کی مشہو ر مسجد ہے یہا ں پیغمبر و ں نے نماز پڑ ھی اور ستر کے قر یب انبیا ئ کی قبر یں بھی یہا ں ہیں ۔ ۳۔ مسجد الکبش :۔ یہاں حضر ت اسما عیل علیہ السلام کا ذبح کا واقعہ ہوا۔ پہلے یہا ں مسجد تھی اب اس کا وجو د نہیں بس ایک نشا ن سا ہے جس کی زیا ر ت منجا نب حکو مت ممنو ع ہے ۔ ۴۔ غا ر مر سلا ت :۔ یہ جگہ مسجد خیف کے قر یب ہی ہے اس غا ر میں حضور �ö پرسو ر ہ مر سلا ت نا ز ل ہو ئی ۔ ۵۔ مز د افہ:۔ میں مشعر حرا م اور عر فہ میں مسجد نمر ہ مشہو ر تا ریخی جگہیں ہیں۔

شعب ابی طا لب

حضرت ابو طا لب حضور �ö کے وہ جا ن نثا ر چچا تھے جنہو ںنے ہمیشہ کو شش کی کہ وہ حضور �ö کو اپنی عا فیت کے حصار میں لیے رکھیں۔ جنا ب اسد اللہ الغا لب حضرت علی کر م اللہ وجہیہ جیسے فر ز ند جلیل اور پر وا نہ ٔ رسو ل کے والد ِ محترم نے بڑ ی شا ن سے اپنے عظیم المر تبت بھتیجے کو عمر بھر تحفظ فر اہم کیا ۔ قر یش مکہ نے جب دیکھا حضور کی دعو تِ حق آہستہ آہستہ پھیلتی اور وسعت اختیا ر کر تی جا رہی ہے تو انہو ں نے آپ کے خلاف را ست اقدا م کا فیصلہ کر لیا وہ جا نتے تھے کہ انکی را ہ کا سنگ ِ گِرا ں جنا ب ابو طا لب تھے ۔چنا نچہ بر و ایت ابنِ ہشام رئوسائے قر یش کا ایک نمائندہ وفد جس میں در ج ذیل لو گ شا مل تھے ۔ ’’ عتبہ ، شیبہ ، پسرا ن ربعیہ ، ابو سفیا ن بن حر ب بن امیہ ، ابو البختر ی ، العا ص بن ہشا م، الا سو د بن مطلب ، ابو جہل ، ولید بن مغیرہ ، نبیہ اور منبہ پسرا ن حجا ج بن عا مر اور عا ص بن و ائل ، جنا ب ابو طالب کے پاس گیا ۔ ﴿سیر ت ابن ہشام ج ا ص276﴾ انہو ں نے کہا ’’ اے ابو طا لب آپ کا بھیتجا محمد ہما رے خدا ئو ں کو ملا مت کر تا ہے ہما رے مذ ہب میں عیب جو ئی کر تا ہے ہمیں نا دا ن اور ہما رے آبا ئو وا جدا د کو گمر اہ کہتا ہے یا تو آپ اسے رو ک لیں یا آپ درمیا ن سے ہٹ جا ئیں ہم خو د اسے رو ک لیں گے۔ حضرت ابو طا لب نے بڑی نر می سے اس مر تبہ انہیں ٹا ل دیا۔ وہ سمجھے حضرت ابو طا لب سمجھا دیں گے اور حضور �ö تبلیغ سے رُک جا ئیں گے ۔لیکن جب انہو ں نے دیکھا کہ اس وفد کی ملا قا ت کے بعد بھی تبلیغ میں کو ئی کمی نہیںآئی اور دین حق کی تحر یک مز ید پھیل رہی ہے تو ان کے جذبا ت عدا وت میں بھی شد ت آنے لگی اور وہ دعو ت ِ حق کو رو کنے کے لیے طر ح طرح کی تد بیر یں سو چنے اور منصو بے بنا نے لگے۔ اور پھر ایک نما ئندہ وفد حضر ت ابو طالب کے پاس گیا گفتگو کا آغا ز بڑے سلیقے سے کیا گیا کہنے لگے ۔ ’’اے ابو طا لب : عمراور عز و شر ف کے اعتبا ر سے آ پ کو پو ر ی قو م میں ممتا ز مقا م حا صل ہے۔ ہم پہلے بھی آئے تھے اور آپ سے عرض کیا تھا کہ آپ اپنے بھتیجے کو اپنی تبلیغ سے باز رکھیں مگر وہ سب کچھ جو ہم چا ہتے تھے نہیں ہوا ۔اب ہما رے صبر کا پیما نہ لبر یز ہو گیا ہے ۔ اب ہم اپنے مذ ہب کی مز ید تو ہین بر دا شت نہیں کر سکتے ۔اب بھی اگر آپ کا بھتیجا ،سیا دت اور با دشا ہی چا ہتا ہے تو ہم اسے اسکا حقدا ر سمجھتے ہیں مگر مذہب کی تو ہین نا قا بل بر دا شت ہے ۔ آپ اسے روک دیں اور اگر آپ ایسا نہ کر یں تو پھر ہما ری آپ کے سا تھ کھلی جنگ ہو گی اور یہ جنگ جا ری رہے گی۔ جب تک ہم میں سے ایک فر یق فنا نہ ہوجا ئے ۔ حضر ت ابو طا لب سمجھ گئے کہ اب معا ملہ ٹا ل مٹو ل اور افہا م و تفہیم سے آگے بڑ ھ گیا ہے اور قریش وہ کچھ کر گز ریں گے جو کہہ رہے ہیں۔ وہ بہت پر یشان ہو گئے ۔وہ پو ر ی قو م سے دشمنی مو ل نہیں لینا چا ہتے تھے لیکن وہ حضو ر �ö کو تنہا بھی چھو ڑ نا نہیں چا ہتے تھے ۔انہوں نے حضور �ö کو بلا یا قر یش کی دھمکی بھی سنا ئی اور کہا ’’ پیارے بیٹے میرے حا ل پر بھی رحم کر و اور اپنی ذا ت پر بھی ۔ دیکھو مجھ پر ایسا بو جھ نہ ڈالو جسے اٹھا نے کی مجھ میں ہمت نہیں ‘‘ چچا کی با تیں سن کر حضور �ö کو خیا ل ہو ا کہ حضر ت ابوطالب کمزور پڑ گئے ہیں ۔ اور آپ کی حما یت سے دستبر دار ہو نے والے ہیں۔ آپ نے بڑے استقلا لِ مز ا ج سے کہا :۔ ’’ چچا جا ن ! اگر وہ سو رج میرے دا ئیں ہا تھ پر اور چا ند میرے با ئیں ہا تھ پر لا کر رکھ دیں تو بھی میں دعو ت حق سے با ز نہ آئونگا ۔یہ اللہ نے مجھ پر فر ض عا ئد کیا ہے اور مجھے ہر حا ل میں نبھا نا ہے۔ میرا کا م جا ری رہے گا ۔ یہا ں تک کہ یا تواللہ اپنے دین کو غا لب کر دے گا اور یا میں اپنی جا ن کھو بیٹھو نگا ‘‘ ﴿اسیر ۃ النبو یہ ابن کثیر ج ا ص 474﴾ آپ (ص) کی زبا ن سے یہ جملے نکل رہے تھے اور آپ کی آنکھوں میں آنسو لر ز رہے تھے ۔آپ نے یہ کہا اور اٹھ کر چل پڑے ۔چچا نے وا پس بلا لیا اور کہا ’’ بھتیجے یہ با ت تو اپنا کا م جا ری رکھو میں کسی قیمت پر آپ کو ان دشمنو ں کے حو الے نہیں کر و نگا ‘‘ ابن کثیر کے مطا بق حضرت ابو طا لب نے کچھ اشعا ر پڑ ھے جن میں سے ایک یہ شعر ہے �ò واللّٰہ من یصلو الیک بجمعھم حتی اُوَ سَّدَ فی الترا ٓب دفینا ﴿خد کی قسم وہ تجھ تک نہیں پہنچ سکتے جب تک مجھے مٹی میں دفن ، نہ کر دیا جا ئے﴾ اہلِ مکہ کو حضرت ابو طا لب کے اس فیصلہ کا علم ہوا تووہ اور پر یشا ن ہو گئے انہوں نے ایک اور تر کیب سو چی وہ ولید بن مغیرہ کے جو اں سال اور توا نا بیٹے عما رہ کو سا تھ لے گئے اور جا کر بڑ ے اد ب سے کہا ۔

’’ اے ابو طا لب اب ہم ایک سو دا کر نے آئے ہیں مکہ کے سردا ر و لید بن مغیر ہ کا یہ خو بصو ر ت ، جوا ن رعنا ، تند رست و توانا اور فنو ن رزم و بز م میں مہا ر ت رکھنے والا فر ز ند ہم آپ کے حو الے کر تے ہیں۔ یہ آج سے آپ کا بیٹا ہو گا۔ آپ کا دست و بازو ہو گا۔ آپ کے اشا رو ں پر سر کٹا نے کو ہمہ وقت تیا ر رہے گا ۔ ما را جائے گاتو اس کی میت آپ کو ملے گی ،ہر میدا ن میں آپ کا سا تھ دے گا۔ ولید بن مغیر ہ اسکا حقیقی با پ ہے مگر اب اس کا اس سے کوئی سر و کا ر نہ ہو گا۔ ہما را بھی اس سے کوئی تعلق نہ ہو گا آپ اسے قبول فر ما ئیے اور اسکے بدلہ میں اپنا بھتیجا ہما رے حوالے کر د یجیے، وہ جس طر ح کا اور جیسا ہے آپ اچھی طر ح جا نتے ہیں ۔ وہ آپ کے اور آپ کے آبا ئو اجدا د کے معبو دو ں کو بر ا بھلا کہتا ہے۔ وہ آپ کے اور ہما رے مذہب کا دشمن ہے۔ اس نے قر یش کی وحد ت کو پا ر ہ پا رہ کر دیا ہے ۔قو م و و طن کا مخالف ہے ۔ہم اس کے سا تھ جو چا ہیں گے سلو ک کر یں گے ۔یقین جا نئے اس سود ا میں آپ کا کوئی خسا رہ نہیں۔ الٹا پو ری قو م کا فا ئد ہ ہے ، انکی با تیں سن کر حضرت ابو طا لب کہنے لگے ’’ واہ کیا سو دا ہے تم کتنا براسودا کر نا چا ہتے ہو۔ اپنا بیٹا مجھے دے رہے ہو کہ میں اسکی پر و رش کر و ں اور خا طر مدا را ت کر و ں ۔میرا بیٹا لے رہے ہو کہ تم اسے قتل کر ڈالو، بخدا یہ سودا کبھی نہیں ہو گا ‘‘ 

مطعم بن عد ی بن نو فل بن عبد منا ف بو لا ’’ خدا کی قسم اے ابو طا لب تیری قو م نے تیرے سا تھ بڑ ا انصا ف کیا ہے اور حتی المقدور کو شش کی ہے کہ تمہیں پر یشا نی سے نجا ت دلائے تم نے ان کی پیشکش ٹھکر ا کر ثا بت کر دیا ہے کہ تمہیں مفاہمت کی کو ئی صو ر ت پسند نہیں اور تم ہر حا ل میں فتنہ کو ہو ادینا چا ہتے ہو ’’ حضرت ابو طا لب نے کہا ‘‘ اے مطعم میری قو م انصا ف نہیں ۔ظلم کر نا چا ہتی ہے اور تم پر افسو س ہے کہ تم نے بھی میرا سا تھ چھو ڑ دیا اور میرے خلا ف مخا لف قو م کی مد د کی ہے یہ بڑ ی زیا دتی ہے ‘‘ یہ وفد نا کا م لو ٹا تو مخا لفت بہت شد ت اختیا ر کر گئی۔ کئی قر یبی رشتہ دا ر قطع رحمی کر تے ہوئے مخا لف صفو ں میں شامل ہو گئے۔ اس زہر آلو د ما حو ل میں حضرت ابو طا لب نے اپنو ں کی بے وفا ئی کا شکو ہ ایک قصید ہ میں کہا جس کے چند اشعا ر یہ ہیں �ò ارٰ می اکو یا ض ابنیا و افدا اذا سُئلا قالا الی غیر نا امر ﴿میں اپنے دو سگے بھا ئیوں کو دیکھتا ہوں کہ جب ان سے صو ر ت حال در یا فت کی گئی تو بولے ہما رے اختیا ر کی لگامیں غیروں کے ہا تھ میں ہیں﴾ بلیٰ لھما امر ولکن تَجْر جَمَا کما حبر جمت من را س ذی علق صخر ، ﴿نہیں، انکے اختیا ر میں تو سب کچھ تھا لیکن وہ دونو ں اپنے مقا م سے گر گئے جیسے ذی علق پہا ڑ پر سے پتھر لڑ ھک جا تا ہے﴾ اخصُّ خُصُو صا ً عبد شمس ونو فلا ھما نبذ ا نا مثل ما ینبذ الجمر ، ﴿مجھے خا ص طو ر پر عبد الشمس اور نو فل کی اولا د سے شکو ہ ہے جنہو ں نے ہمیں اس طر ح دو ر پھینک دیا جیسے دہکتے انگا رے کو دور پھینک دیا جا تا ہے ﴾ اب مخا لفت اور بھی شدت اختیا ر کر گئی ۔ کفا ر متحد ہو کر اسلا م کے استحصال کے پر و گرا م بنا نے لگے۔ حضر ت ابو طا لب نے محسوس کیا کہ وہ تنہا اس یلغا ر کا مقا بلہ نہیں کر سکیںگے۔ انہو ں نے ایک طو یل قصید ہ لکھا جس میں بنو ہا شم کی غیر ت کو مہمینر کیا اور جو ش دلا یا کہ جس طر ح دو سرے قبا ئل متحد ہو کر حملہ آور ہو رہے ہیں اسی طر ح بنو ہا شم کو بھی متحد ہو کر دفا ع کر نا چاہیے اور متحد ہ محا ذ بنا لینا چاہیے ۔اس طو یل اور انتہا ئی اثر خیز قصید ہ کے چند اشعاریہ ہیں ۔ وَلما را ئیت القو م لا و د فیھم و قد قطعوا کل العر ی و الو سا ئل ، ﴿جب میں نے قوم کو دیکھا کہ ان میں محبت کا نام و نشا ن بھی با قی نہیں رہا اور انہو ں نے محبت و قر ابت کے سا رے رشتے قطع کر دییہیں ﴾ و قد صا ر حُو نا با لعد ا وۃ والا ذیٰ وقد طا ئو عُو امر العد و المز امل ﴿اور انہو ں نے کھلم کھلا ہما ری عدا وت اور ایذار سا نی شر وع کر دی اور ہما رے دشمنو ں کا سا تھ دینے لگے ﴾ و قد حا لفو ا ما علینا اظنۃ یعضو ن غیظا خلفنا با لا نا مل ﴿انہو ں نے ہما رے دشمنو ں کے سا تھ دو ستیوں کے معا ہدے کر لیے ہیں اور ہما ری پیٹھ پیچھے غصے سے اپنی انگلیا ں کاٹتے ہیں ﴾ صبر ت لھم نفسی بسمرا ئَ سمحۃ وَ ابیض عضب من تر اثِ المقا ول ﴿میں نے اپنے نفس کو صبر کر نے کی تلقین کی اور میرے ہا تھ میں گندم گو ں لچکد ار نیز ہ تھا اور سفید تیز تلوا ر تھی اور یہ کچھ ہمیں اپنے بز رگ سردا رو ں سے ور ثہ میں ملا تھا ﴾ وا حضرت عندا لبیت رھطی و اخو تی وا مسکت من اثوا بہ با لو صا ئل ﴿سب نے بیت اللہ کے پا س اپنی قو م اور اپنے بھا ئیوں کو اکٹھا کیا اور میں نے بیت اللہ کا سر خ دھا ریو ں والا غلاف پکڑ رکھا تھا ﴾ کذ بتم وبیت اللہ نتر ک مکۃ وَ نظعن الا امر کم فی بلا بل ﴿اللہ کے گھر کی قسم تم نے یہ جھو ٹ بو لا ہے کہ ہم مکہ چھو ڑ جا ئیں گے اور یہا ں سے تعلق تو ڑ لیں گے نہیں ایسا ہو ا بھی تو اسوقت ہو گا جب تمہا ری حا لت تبا ہ ہو گی اور تم ہز یمت سے ٹو ٹ جا ئو گے ﴾ کذ بتم و بیت اللہ نبز ی محمدا ً و الما نطا عن دو نہ و ننا ضل ﴿بیت اللہ کی قسم تم نے جھو ٹ بو لا ہے کہ ہم محمد �ö کو چھو ڑ دیں گے ۔ ہم تو اس کے دفا ع میں نیز وںاور تیر وں کی بوچھاڑیں کر ینگے ﴾

ونسلمہ حتی نصر ع حو لہ و نذ ھل عن ابنا ئ سنا و الحلائل ﴿ہم کیسے اُسے تمہا رے حوا لے کر دیں گے اس سے پیشترکہ ہما ری لا شیں اسکے گر د خا ک آلود پڑ ی ہو ں اور ہم اپنے بچوں بلکہ بیو یو ں کو بھی فرا مو ش کر چکے ہو ں ﴾ وا بیض یسستقی الغما م بو جھہ ثما ل الیتمی و عصمۃ الا ر امل ﴿میرا بھیتجا گو رے رنگ والا ہے جس کے چہر ے کی بر کت سے با ر ش طلب کی جا تی ہے وہ یتیموں کا ملجا اور بیو ائو ں کے ناموس کا پا سبا ن ہے ﴾ یلو ذ بہ الھلا ک من آل ھا شم فھو عند ہ فی رحمۃ و فوا ضل ﴿یہی تو وہ جو اں مر د ہے کہ آل ِ ہا شم کے نا دا رو ں کا سہا ر ا بنتا ہے وہ جب بھی اسکے پاس جا تے ہیں وہ ان پر رحم و کر م کی با ر ش بر سا دیتا ہے﴾ حضور �ö کے دفا ع کے لیے بنو ہا شم اور بنو عبدا لمطلب کو متحد کر نے کی یہ کوشش با ر ور ثا بت ہو ئی۔ ان دو نو ں خا ندا نوں نے وعد ہ کیا کہ وہ دشمنو ں کے مقا بلہ میں محمد �ö کو اکیلا نہیں چھو ڑینگے بلکہ دشمنو ں کے ہروا ر کے سا منے ڈھا ل بن کر آپ کی حفا ظت کر ینگے ۔ صر ف ایک بد بخت ابو لہب تھا جو حضور �ö کا سگا چچا اور خا ندا ن بنو ہا شم کا سر کر دہ شخص تھا مگر اس نے قسم کھا لی تھی کہ ہر قدم پر حضور �ö کی مخا لفت میں سر گر م رہے گا۔ اسکے اس عمل میں اسکی شر یک اسکی بیو ی تھی انکی زند گی کا لمحہ لمحہ حضور �ö کو دکھ پہنچا نے اور آپ پر ظلم و ستم تو ڑنے میں صر ف ہو تا تھا ۔ابو الہب اس پر نا زا ں تھا ۔ کفا ر کو سب سے زیا دہ ذہنی اذیت اس وقت ہو ئی جب جناب حمزہ (رض) اور عمر فا رو ق (رض) مسلمان ہو گئے۔ اس پر انہو ں نے فیصلہ کر لیا کہ جب تک حضور �ö کا ﴿معا ذ اللہ ﴾ کا م تما م نہ کر دیا جا ئے اسلام کو رو کا نہیں جا سکے گا ۔ اب یہی سازشیں ہو نے لگیں کہ کسی طر ح سر چشمہ نو ر کو بند کر دیا جا ئے ۔حضر ت ابو طا لب تک یہ با تیں پہنچنے لگیں۔ انہو ں نے قبیلہ بنو ہا شم کے تما م افراد کو جمع کیا اور صو ر ت حا ل سا منے رکھی بنو ہا شم اور بنو مطلب نے حضور �ö کی حفا ظت کے لیے سر د ھڑ کی با زی لگا نے کا عہد کیا اب حضرت ابو طا لب نے ایک فیصلہ کیا علا مہ بلا ذر ی لکھتے ہیں۔ ’’حضرت ابو طا لب اپنے پیا رے بھتیجے کو لے کر بنو ہا شم اور بنو طا لب کی محبت میں اس گھا ٹی میں منتقل ہو گئے جو شعب ابی طالب کے نام سے مشہو ر تھی اور ان سب نے یہ معا ہد ہ کیا کہ جب تک ہم میںسے ایک فر د بھی زند ہ ہے ہم کفا ر کو حضور �ö پر دراز دستی نہیں کر نے دینگے ‘‘ دو اونچے پہا ڑو ں کے در میا ن تنگ گھاٹی یا وا د ی کو عر بی میں شعب کہتے ہیں۔ یہ گھا ٹی حضرت ابو طا لب کو ورثہ میں ملی تھی ۔ اور شعب ابی طا لب کے نام سے مشہو ر تھی ۔ کفا ر نے جب یہ دیکھا کہ حضر ت ابو طا لب اپنے سا رے افرا د کو لے کر خودہی شعب ابی طا لب میں چلے گئے ہیں یا دو سرے لفظو ں میں قلعہ بند ہو گئے ہیں تو انہو ں نے متحد ہو کر سو شل با ئیکاٹ کا فیصلہ کر لیا ۔ اس سلسلہ میں ایک معا ہد ہ کیا گیا اور یہ معا ہدہ بڑ ی حفا ظت سے کعبہ کے اندر آویز اں کر دیا گیا ۔ علا مہ ابن کثیر معا ہد ہ کی تفا صیل بیان کر تے ہو ئے لکھتے ہیں۔ ’’ سا رے مشر کین ایک جگہ جمع ہو ئے اور سب نے متفقہ طو ر پر یہ طے کیا کہ وہ وان لو گو ں کے سا تھ کوئی تعلق نہیں رکھیں گے ۔ ان کے ہا تھ کوئی چیز فر و خت نہیں کر ینگے ان کیسا تھ کسی طر ح کا معا ملہ نہیں کیا جائے گا جب تک یہ لو گ حضور �ö کو انکے حو الے نہیں کر ینگے انہو ں نے یہ معا ہد ہ ایک صحیفہ میں تحر یر کیا اسکی پا بند ی کا پختہ عہدلیا اور اسے کعبہ کے اندر آو یز ا ں کر دیا ۔ ﴿سیر ت ابن کیثر ج 2 ص 48﴾ اس معا ہدہ کے تحت بچی کا رشتہ دینا بھی شعب ابی طا لب کے با شند و ں کو ممنو ع ہو گیا اور کو ئی انہیں کوئی چیز فر و خت بھی نہیں کر تا تھا ۔ اما م سہیلی لکھتے ہیں ۔ ’’ اگر بیرو ن مکہ سے کو ئی تجا ر تی قا فلہ آتا اور مسلما ن کچھ خر ید نے کے لیے پہنچتے تو ابو لہب ان تاجر وں کو کہتا تم انہیں اتنے بھا ئو بتا ئو جوا نکی قو ت خر ید سے باہر ہو ں اور فکر نہ کر نا یہ نہیں خر ید ینگے تو میں تمہیں نقصا ن نہیں ہو نے دو نگا ۔ یہ خسا رہ میں پورا کر دونگا ۔ شعب ابی طا لب کے مکین بھو ک سے بلکتے ہو ئے بچو ں کو چھو ڑ کر سا ما ن خر ید نے جا تے ۔انہیں پا نچ دس گنا زیا دہ درم بتا ئے جا تے اسطر ح وہ کچھ نہ خر ید سکتے اور اپنے بچو ں کی بھو ک نہ مٹا سکتے ۔ ﴿الر وض الا نف ج 2 ص 127﴾ یہ ظا لما نہ مقا طعہ ﴿سو شل با ئیکا ٹ﴾ تین سا ل تک جا ری رہا۔ کفا ر نے پہرے دا ر بھی لگا رکھے تھے اور اگر کو ئی معا ہد ہ کی خلاف ورز ی کر تے ہو ئے پکڑا جا تا تو اس کے خلا ف سخت تا دیبی کا رو ئی ہو تی لیکن اس سنگدلانہ ، ما حو ل میں کچھ ایسے نیک دل لو گ بھی تھے، جو چھپ چھپا کر بھی کھا نے کی کو ئی چیز حسب ِ استطا عت پہنچا دیا کر تے ۔ان میں ہشا م بن عا مر الفہری سر ِ فہر ست تھے ،جو بعد میں مشر ف بہ اسلا م بھی ہو گئے تھے۔ ایک را ت وہ خور ا ک کا سا ما ن تین اونٹوں پر لا د کر شعب ابی طالب میں لے گئے ۔ کفا ر کو پتہ چل گیا انہو ں نے سخت با ز پر س کی ہشا م بن عمر نے آئندہ یہ فعل نہ دہرا نے کے وعدہ پر گلو خلا صی کر ائی لیکن دوسر ی را ت پھر وہ کچھ سا ما ن لا د کرلے گئے ،کفا ر کو علم ہو گیا اور ان پر ملامتو ں کی بو چھا ڑ کر دی۔ کچھ تو انہیں قتل کر نے پر بھی تیا ر تھے۔ احمد بن زینی دحلا ن کہتے ہیں کہ ابو سفیا ن نے ان کی جا ں بخشی کر ائی ۔ یہی احمد بن زینی ایک دو سرا واقعہ بیا ن کر تے ہیں کہ ایک دفعہ حکیم بن خر ام اپنے غلا م سے گند م کی بو ری اٹھوا ئے شعب ابی طا لب کی طر ف جا رہے تھے ۔ وہ یہ غلہ اپنی پھو پھی ام المو منین خد یجۃ الکبرٰ ی کو پہنچا نا چا ہتے تھے ۔راستے میں ابو جہل مل گیا اس نے رو ک لیا اور کہا یہ گند م آگے نہیں جا سکتی۔ میں تمہیں مکہ لے جا کر خوب رسوا کر و نگا اتنے میں ابو البختر ی وہا ں آگیا ۔ وہ معا ملہ کی نز اکت کوسمجھ گیا۔ اس نے ابو جہل سے کہا میں جا نتا ہو ں یہ گند م کی بو ری اصل میں پھو پھی کی ہی ہے جو اسکے پا س اما نت تھی، اب یہ اسے لو ٹا نے جا رہا ہے۔ ابو جہل نہ ما نا ، جھگڑا شر و ع ہو گیا ، تلخ کلا می بڑ ھتی گئی۔ کسی او نٹ کے جبڑ ے کی ہڈ ی پاس پڑ ی تھی ابو البختر ی نے ابوجہل کے سر پر دے ما ری خو ن بہنے لگا پھر ابو لبختر ی نے ابو جہل کو اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا اور اسکی چھا تی پر چڑ ھ کر اسے خو ب ر گیدا ‘‘ یہ سب کچھ تھا مگر ایسے نیک دل لو گ ایک تو کم تھے، دو سرے انکی کوشش سخت پہرے کی وجہ سے بہت کم کا میا ب ہو تی تھی ۔ شعب ابی طا لب میں محصو ر ین کو بڑی مشکلا ت کا سا منا کر نا پڑ ا اور زند گی سخت دشوا ر ہو گئی ۔ ان کے مصا ئب کا ذکر کرتے ہو ئے علا مہ سہیلی لکھتے ہیں ۔ ’’ الصحیح میں ہے کہ شعب ابی طا لب میں محصو ر لو گو ں کو بڑ ے مصا ئب جھیلنے پڑ ے ۔بھو ک اور خورا ک کی عد م دستیا بی کا یہ عالم تھا کہ وہ لوگ در ختو ں کے پتے کھا کر بھو ک مٹا نے کی کوشش کر تے۔ ان محصو رین میں حضرت سعد بن (رض) وقا ص بھی تھے انہو ں نے بتا یا کہ ایک دفعہ میں بہت بھوکا تھا را ت کو اند ھیرے میں میرا پا ئو ں کسی گیلی چیز پر پڑ گیا ۔ میں نہیں جا نتا وہ کیا چیز تھی میں نے اسے اٹھا کر منہ میں ڈا لا نگل گیا ابتک مجھے علم نہیں کہ وہ کیا چیز تھی اسی طر ح ایک اور رو ایت میں ہے کہ ایک دفعہ انہیں اونٹ کی خشک کھا ل کا ٹکرا مل گیا اسی کو دھو کر اور جلا کر کھا تے رہے ‘‘ یہ محا صر ہ تین سا ل رہا ۔ ایک روز جنا ب رسو ل �ö کو اللہ نے آگا ہ کیا کہ با ئیکا ٹ کا جو معا ہد ہ تحر یر ی صو ر ت میں تھا اور جسے محفو ظ کر کے خا نہ کعبہ میں آویز اں کیا گیا تھا، وہ اند ر سے دیمک نے چا ٹ لیا ہے اس پو ر ی تحر یر میں جہا ں جہاں اللہ تعالیٰ کا نام لکھا تھا۔ وہ بچ گیا با قی سب کچھ ختم ہو گیا ۔ حضور �ö نے یہ غیبی خبر حضرت ابو طا لب کو بتا ئی وہ بولے ۔ ’’ کیا آپ کو اپنے رب نے یہ با ت بتا ئی ‘‘ آپ (ص) نے اثبا ت میں جو اب دیا تو انہو ں نے کہا ٹھیک ہے کیو نکہ آج تک تیر ی کوئی با ت غلط نہیں نکلی ۔ در خشا ں ستار ے گوا ہ ہیں کہ تو سچا ہے‘‘ وہ اپنے خا ندا ن کے چند افرا د کو سا تھ لے کر قر یش کے پا س گئے اور کہا ذرا اس صحیفہ کو لے آئو ہم بھی دیکھیں، ممکن ہے ان شرائط میں سے کسی پر ہما را سمجھو تہ ہو جا ئے۔ وہ صحیفہ لے آئے حضرت ابو طا لب نے کہا ’’ میں آج ایک منصفانہ حل لے کر تمہارے پاس آیا ہو ں۔ میرے بھتیجے نے کہا اور وہ جھو ٹ کبھی نہیں بو لتا کہ اس صحیفہ کی سا ری دفعا ت اللہ کے نام کے سوا دیمک نے چا ٹ لی ہیں ۔اسے کھول کر دیکھو اگر میرے بھتیجے کی با ت سچ ہو ئی تو ہم اسے ہر گز تمہا رے حو الے نہیں کر ینگے ۔اور اگر جھو ٹ ہو ا تو ہم اسے تمہا رے حو الے کر دینگے ۔قر یش نے کھول کر دیکھا تو حضور �ö کی با ت سچی تھی ان کو حق قبول کر لینا چاہیے تھا ،مگر ضد ی اور ہٹ دھر م لو گو ں نے کہا ‘‘ ابو طا لب یہ تیرے بھتیجے کا جا د وہے۔ حضرت ابو طا لب واپس آگئے ۔ جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں یہ سا رے کا سا ر ا معاشر ہ و حشی در ندو ں سے بھر اہوا نہیں تھا ان کی اکثر یت ضر و ر تھی مگر ان میں ایسے لو گ یقینا مو جو د تھے جواس طر ح خوا تین اور معصو م بچو ں کو بھوک سے تڑپا نا اور اپنے ہی ا قر با ئ کو اس طر ح بھوکا پیا سا رکھ کر ان سے اپنی با ت منوا نے کی کو شش کر ناشا ن مر دا نگی کے خلا ف سمجھتے تھے ۔ان کے نز دیک مجبو رو ں پر ہا تھ اٹھا نا بز دلی تھا ۔ یہ لو گ قلیل التعدا د تھے اس لییچھپ چھپ کر اجنا س خو ر دنی بھیجنے کی کو شش کر تے رہتے تھے ۔ ان میں ہشا م بن عمر و بن حار ث کا نام سر فہر ست ہے یہ اسو وقت مسلمان نہیں ہو ئے تھے لیکن بنو ہا شم سے قریبی رشتہ داری کے با عث دل ہمد ر دی سے لبر یز تھا۔ ایک روز وہ حضرت عبدا لمطلب کی صا حبز ا دی حضرت عا تکہ کے بیٹے زہیر کے پاس جا کر کہنے لگے ۔

اے زہیر کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ تم تو انو ا ع و اقسا م کے لذ یذ کھا نے کھا ئو ۔عمد ہ لبا س زیب تن کر و، اپنی بیو ی بچو ں کے سا تھ راحت و آر ام کی پر لطف زند گی گز ا ر و اور تمہا رے ننھیا ل بھوکے پیا سے چتھڑو ں میں ملبو س خستہ حا ل ہو ں اور طرح طر ح کی مصیبتو ں میں مبتلا دُکھ کی گھڑ یا ں گن گن کر گزا ر رہے ہو ں ۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہو ں کہ اگر تم ابو الحکم ﴿ابو جہل ﴾کے ننہا ل کے خلا ف ایسا قد م اٹھا تے اور اسے دعو ت دیتے کہ وہ بھی اس میں تمہا را شر یک حا ل بنے تو وہ کبھی تمہا ری با ت نہ ما نتا ‘‘ یہ با ت بڑ ی معقو ل و مد ئل تھی زہیر نے سر جھکا کر کہا ‘‘ افسو س صد ا فسو س اے ہشام میں اکیلا ہو ں ۔اگر مجھے ایک بھی ہمنوا مل جا ئے تو میں تمہا رے سا تھ ہو ں ۔زہیر نے کہا پھر اپنے سا تھ ایک اور آدمی بھی تلاش کر و ہشا م مطعم بن عد ی کے پا س گیا اور کہا! اے مطعم کیا یہ با ت تمہیں پسند ہے کہ بنی عبد منا ف کے دو خا ند ان بنو ہا شم اور بنو عبد المطلب بھو ک سے جا ں بلب ہو کر ہلا ک ہو جا ئیں اور تم غیرو ں کی پشت پنا ہی کر تے رہو ۔سو چو اگر تم ان لو گو ں کے رشتہ دا رو ں کی ایسی ہلا کت کے در پے ہو تے تو کیا وہ تمہا را سا تھ دیتے کیا وہ سب مل کر تم پر حملہ آور نہ ہو جا تے مطعم نے کہا تم ٹھیک کہتے ہو لیکن میں تنہا پو ر ی قو م کا مقا بلہ کیسے کر سکتا ہو ں ہشا م نے کہا تم اکیلے نہیں دوسرا آدمی میں بھی ہوں ۔ مطعم نے کہا کوئی تیسر ابھی تلا ش کر و۔ ہشا م بو لا وہ بھی میں نے تلا ش کر لیا ہے۔ وہ زہیر بن امیہ ہے۔ اس طر ح ہشا م نے ابو البختر ی ، زمعہ بن الا سود اور بر و ایت طبقا ت ابن سعد ایک اور سا تھ عد ی بن قیس بھی تلاش کر لیا ان میں سے ہشا م ، زہیر عد ی بن قیس کو بعد میں اسلا م قبول کر نے کی سعا دت نصیب ہو ئی ۔یہ تما م حضرا ت را ت کو حجو ن کے مقا م پر اکٹھے ہو ئے اور معا ہد ہ کوکا لعد م کر نے کا پر و گرا م تر تیب دیا۔ زہیر نے کہا اس کا م کاآغا ز میں کر و نگا ۔ 

صبح ہو ئی تو رئو سا ئے قر یش حسب ِ معمول اپنی اپنی مجا لس میں بیٹھے تھے کہ زہیر بڑ ی شا ن اور آن با ن سے حر م میں داخل ہوا اس نے لباس فا خر ہ زیب تن کر رکھا تھا۔ اس نے بڑے پر وقا ر انداز میں بیت اللہ کا طوا ف کیا اور پھر مو جو د لوگو ں کو مخا طب کر کے کہا ۔ ’’ اے مکہ کے با شند و ! کتنے شر م کی با ت ہے کہ ہم پر لطف کھا نے کھا ئیں ،عیش و راحت میں شب و رو ز بسر کریں اور خاندا ن بنو ہا شم کے افرا د بھو کے مر رہے ہو ں۔ ان کے پا س تن ڈھا نکنے کو کپڑ ا بھی نہ ہو کیایہی مر دا نگی ہے کہ ہم ان کے ہاتھ قیمت پر بھی کوئی چیز بیچنے کو تیا ر نہ ہو ں۔ خدا کی قسم میں اسوقت تک نہیں بیٹھو نگا جب تک اس قطع رحمی کر نے والی ظا لما نہ اورشر منا ک دستا ویز کو پا ر ہ پا رہ نہ کر دو ں ‘‘ ابو جہل غصہ سے در پیج و تا ب کھا تا ہو ا اٹھا اور گر ج کر بو لا ’’ تم جھو ٹ کہہ رہے ہو اس صحیفہ کو ہر گز نہیں پھا ڑ ا جائے گا ‘‘ اس پر ازمعہ بن اسود فو را ً کھڑا ہو گیااس نے ابو جہل کو مخا طب کر کے کہا ‘‘ سب سے بڑے جھوٹے تم ہو ہم تو پہلے بھی اس تحر یر کے حق میں نہیں تھے ‘‘ پھر ابو البختر ی کھڑ اہو گیا زمعہ نے سچ کہا ہے ہم اس معا ہد ہ کو نا پسند کر تے ہیں اور اسے باقی نہیں رہنے دینگے ۔ مطعم نے کہا اے زہیر ، زمعہ اور ابو البختر ی تم سچ کہتے ہو اور با قی جو بھی کچھ کہتا ہے جھو ٹ بکتا ہے پھر ہشا م نے بھی انکی تا ئید کی مطعم نے دستا ویز پر ہا تھ ڈا لا یہ دیمک کی چا ٹی ہو ئی تھی ۔ اسے پر زہ پر زہ کر دیا گیا ۔یو ں شعب ابی طا لب کے ایک طر ح کے قید خا نے سے رسو ل �ö آپ کے اعزہ و اقر با ئ اور آپ کے ساتھیوں کو نجا ت ملی ۔ حضرت ابو طا لب نے اس پر ایک تا ریخی قصید ہ لکھا جس کے چند اشعار یہ ہیں �ò فیحنبر ھم ان الصحیفۃ مز قت وا ن کل صا لم یر ض اللہ مفسد ﴿انہیں اطلا ع مل گئی کہ وہ د ستا ویز پا رہ پا رہ کر دی گئی جس چیز کو اللہ پسند نہ کر ے وہ اسی طر ح فنا ہو جا تی ہے﴾ جز ی اللہ رھطا ً با لحجو ن تتا بعوا علی ملا ئ ٍ یھد ی لحزم ویر شند ﴿اللہ اس گر وہ کو جز ا ئے خیر دے جو حجو ن کو مقا م پر جمع ہو ا اور ایسا فیصلہ کیا جو مبنی بر ہد ایت ودانش تھا ﴾ ھم رجعوا سھل بن بیضا را ضیا ً وسر ابو بکر بھا و محمد ﴿وہی لو گ ہیں جنہوں نے سہل بن بیضا ئ کی را ضی کر کے لو ٹا یا اور ابو بکر و محمد �ö کو خو ش کر دیا ﴾ ہم شعب ابی طا لب میںپھر رہے تھے ایک ایک پتھر اور ایک ایک ذر ہ دعو ت و عزیمت کی عظمت بھر ی داستا ن سنا رہا تھا ۔ میرے اندر تبلیغ کا شوق لہر یں لے رہا تھا میں ان ذرو ں سے ہمتیں سمیٹ رہا تھا ۔ حو صلے چن رہا تھا اور خو ا ب بن رہا تھا جنکی تعبیر یں اکٹھی کر نے میں با قی عمر گز ار نا چا ہتا تھا ۔




ہجرت مدینہ

مکہ مکر مہ میں جو کچھ ہو ناتھا ہو چکا حضور �ö نے اتنی مشقت اور جا نکا ہی سے فر یضہ تبلیغ و دعوت حق ادا کیا کہ خو د خدائے قد وس کو کہنا پڑا ’’لَعَلَّٰکَ بِا خِع’‘ نَفْسَکُ اَلّٰا یَکُوْ نُوْا مُؤمِنْیِنْo ﴿26/3﴾‘‘ ﴿آپ تو اس رنج میں اپنی جا ن ہی کھو دینگے کہ وہ لو گ ایما ن لا نے والو ں میں سے کیو ں نہیں ہو جا تے ﴾ فر یضہ ئِ رسا لت عا ئد کر تے ہو ئے اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا تھا ۔ ’’اِنْ تُبْسَلْ نَفْس’‘ بِمَا کَسَبَتْo ﴿6/70﴾‘‘ ﴿کہیں ایسا نہ ہو کہ کو ئی انسا ن اپنی بد عملی کی وجہ سے ہلا کت میں چھو ڑ دیا جا ئے ﴾ یعنی ایسا نہ ہو کہ کوئی آدمی ایسا رہ جا ئے کہ وہ کہے اس تک حق و صدا قت کی آواز نہیں پہنچی تھی اور آپ نے اس شا ن سے آواز پہنچا ئی اور کفر کی راہ پر چلنے والو ں کو عذ اب سے بچا نے کے لیے اتنی دلسوزی دکھا ئی کہ اللہ نے فر ما یا ’’فَلَعَلّٰکَ بَا خِع’‘ نَّفَسَکَ عَلیٰ آثَا رِ ھِمْ اِ نْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِھذٰ ا لْحَدِ یْثَ اَسَفاًo ﴿18/6﴾ ﴿اے نبی �ö آپ کی حا لت تو ایسی ہو رہی ہے کہ جب یہ لو گ وا ضح با ت بھی نہ ما نیں تو عجب نہیں کہ آپ (ص) انکی ہدایت کے پیچھے ما رے حسر ت و افسو س کے اپنی جا ن ہلا کت میں ڈا ل دیں۔ دو سری جگہ فر ما یا ﴾ ’’فَلاَ تذھب نَفْسُکَ عَلَیْھِمْ حَسَرٰتٍ ط اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْم’‘ بِمَا یَصْنعوْن﴿35/8﴾‘‘ ﴿دیکھیے ان لو گو ں پر غم کھا نے سے آپ (ص) کی جا ن ہی نہ چلی جا ئے یقینا جا نتا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں﴾

اپنے فر ض کو اتنی جا نکا ہی اور مشقت سے نبھا نے کا اعترا ف کر تے ہو ئے فر ما یا گیا 

’’فَاِنْ اَعْرَ ضُوْ ا فَمَا اَرْ سَلْنٰکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظاً اِنْ عَلَیْکَ اِلاَّ الْبَلاْ غ ﴿42/48﴾‘‘ ﴿اگر وہ منہ پھیر کر چل دییتو جا نے دیجیے آپکو ان کا نگرا ن بنا کر نہیں بھیجا گیا آپ کو تو پیغام حق پہنچا نا تھا ، پہنچا دیا﴾

’’فَذَ کِرّ اِنَّماَ اَنْتَ مُذَ کِّرْ لَسْتَ عَلَیْھِمْ بِمَصَیْطِر o ﴿88/21﴾‘‘

﴿آپ (ص) تو صر ف یا د ہا نی کر انے والے ہیں ،کر اتے جا ئیں ان پر دا ر و غہ تو آپ کو مقر ر نہیں کیا گیا ﴾ اور جب انکی طر ف سے ہٹ دھر می کی انتہاہو گئی تو آپ (ص) کو کہہ دیا گیا ۔

’’ فَا عْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَ لیّٰ ۔ عَنْ ذِکْرِ نَا وَ لَمْ یُرِ دْ اِلاَّ الْحَیٰو ۃَ الد نیا﴿53/29﴾‘‘ ﴿تو اے پیغمبر آپ (ص) ان لو گو ں سے اعر اض بر تیں جو ہما رے ذکر سے گردن مو ڑ کر چل دیتے ہیں اور دنیاوی زند گی کے مفا د کے سو اکسی اور با ت کا ارا دہ نہیں رکھتے ﴾

یہ تک فر ما دیا ۔ 

’’ فَا صْفَحْ عَنْھُمْ وَ قُلْ سَلٰم’‘ فَسَوْ فَ یَعْلَمُوْ ن﴿ 34/89﴾‘‘ ﴿پس آپ ان سے در گز ر کیجیے اور کہہ دیجئے کہ اب تمہا را خدا حا فظ ، چنا نچہ کچھ عر صہ کے بعد وہ خو د ہی جا ن لیں گے ﴾

تما م انبیا پر یہ مر حلہ آیا اور جب حضور �ö ،حضرت ابرا ہیم علیہ السلام پر یہ مر حلہ آیا تو انہو ں نے بھی اپنی قو م سے برأت کا اظہا ر کر نے کے بعد فر ما یا 

’’ اِنّیِ مُہاَ جِر’‘ اِلیٰ رَبّیِْ ، اِنَّہ‘ ھُوَ الْعَزِ یْزُ الْحَکِیمْ﴿29/26﴾‘‘ ﴿ میں یہا ں سے ہجر ت کر کے ادھر جا رہا ہو ں ،جد ھر میرے ر ب نے مجھے حکم دیا اور وہ غا لب اور حکمت والا ہے ﴾ عین اسی طر ح اس مر حلہ پر حضور �ö کو بھی مد ینہ چلے جا نے کا حکم ہو ا۔پہلے آپ (ص) نے اپنے پر وا نو ں کو ہجر ت حبشہ اور پھر ہجر ت مد ینہ کا حکم دیا او ر اللہ کا پیغا م سنا یا ۔ ’’ یِعٰباَ دِ یَ الَّذِ یْنَ آمَنُوْ ا اِنَّ اَرْضِیْ وَ اسِعَۃ’‘ فَا یِاَّ یَ فَا عْبَدُ وْ ن﴿29/56﴾‘‘ ﴿اے میریے بند و جو میرے قو انین کی صد اقت پر ایما ن لا ئے ہو تمہیں صر ف میرا ہی محکو م بن کر رہنا ہے ﴿اگر یہا ں میری حکومت تمہیں میسر نہیں آتی تو میری زمین وسیع ہے﴾ اور آخر میں خو د حضور �ö کو جا نا تھا ۔ مشر کین مکہ مسلما نو ں کی ہجر ت دیکھ رہے تھے اور خو ش ہو رہے تھے کہ ہمیں انہیں جلا وطنی کی سزا نہ سنا نا پڑ ی وہ خو دہی ہما رے خو ف سے جلا وطن ہو رہے ہیں لیکن ان پر بہت جلد کھل گیا کہ اس طر ح تو مسلما ن قوت پکڑ رہے ہیں۔ آخر انہو ں نے فیصلہ کر لیا کہ حضور �ö کو ﴿معا ذ اللہ ﴾ ختم کر کے سر چشمہ ئِ نو ر بند کر دیا جا ئے ۔ انہوں نے سو چا کہ اگر کوئی شخص فر د وا حد کی حیثیت سے یہ خو ن اپنی گر دن پر لیتا ہے، تو بنو ہا شم کے با اثر اور معزز خا ندا ن کی عد وا ت کا با ر نہیں اٹھا سکے گا، اس لیے سب مل کر یہ کچھ کر ڈالیں۔ یہ تجو یز سب کو پسند آئی قر آن حکیم نے اسی واقعہ کی طر ف اشارہ کر تے ہو ئے فر ما یا ’’اِ نَّھُمْ یَکِیْدُ وْنَ کَیْداً وَّ اَکِیْدُ کَیْداً۔ فَمَھّلِ الْکٰفِر یْنَ اَ مْھِلْھُمْ رُوَ یْداً﴿86/15-17﴾‘‘ ﴿ یہ وا قعہ ہے کہ وہ اپنی خفیہ تد بیر و ں میں لگے ہو ئے ہیں اور میں اپنی خفیہ تد بیر میں ہو ں۔ پس اے پیغمبر �ö آپ(ص) منکر ین حق کو اپنا کا م کر نے دیں اور دیکھیں کو ن اپنی تد بیر وں میں کا مر ان ہو تا ہے﴾ حضور �ö کو انکی سا ز شو ں کا علم تھا ۔آ ُپ (ص) نے بمشا ور ت حضرت صد یق اکبر، ہجر ت کا سا ما ن مکمل کر ایا ۔ با لا ٓ خر ایک را ت فیصلہ ہو گیا کہ آپ مکہ چھو ڑ دیں۔ جناب علی المر تضیٰ (رض) حضو ر �ö کے پا س تھے انہو ں نے دیکھا کہ حضور �ö کچھ پریشا ن ہیں تو انہیں عجیب معلو م ہوا کیو نکہ احکا م الہٰی کی پیر و ی میں آپ (ص) کو کبھی تردد نہیں ہو ا تھا ۔ ہجر ت کی تیا ری کا سا را کام حضر ت صدیق (رض) اکبر کے سپر د تھا اس طر ف سے بھی پریشا نی نہیں تھی ، پھر چہرے پر فکر کے آثا ر کیو ں تھے؟ حضرت علی نے پو چھ لیا۔ آپ (ص) نے فر ما یا علی (رض) با ت یہ ہے کہ میرے پاس اہل مکہ میں سے بعض لو گو ں کی اما نتیں ہیں سو چتا ہوں وہ کیسے واپس ہو نگی ۔ حضرت علی (رض) نے فر ما یا’’ اس پر پر یشا ن نہ ہو ں وہ میرے سپر د فر ما دیں۔ میں اسو قت تک ہجر ت کا ارا دہ نہیں کر و نگا جب تک اما نتو ں کی ایک ایک پا ئی انہیں لو ٹا نہ دو ں۔ یہ پر یشا نی دو ر ہو گئی۔ را ت گئے حضور �ö اپنے رفیق باوفا حضر ت صدیق (رض) کے سا تھ مکہ سے نکل گئے ۔یہ سفر 2 صفر 13 �÷ نبو ی کو شر وع ہوا ۔

غا ر ثو ر

مکہ سے تین چا ر میل کے فاصلہ پر پہا ڑ کی چو ٹی پر ایک غا ر ہے جسے غا ر ِ ثو ر کہتے ہیں قر آن حکیم میں اصحا ب کہف کی غا ر کا ذکر آیا ہے اور غا ر ِ ثو ر کا بھی ۔ حضور اور حضرت صد یق اکبر (رض) نے غا ر ثو ر میں ہی ٹھکا نا کیا تھا۔ جب مشر کین مکہ تعا قب میں تھے قرآن محا کا تی انداز میں کہتا ہے ۔ 

’’ اور جب دو نو ں غا ر میں تھے تو دونو ں میں سے دو سرا یعنی صد یق (رض) کہنے لگا کہ ہم دو ہیں ‘‘﴿9/40﴾

جنا ب صد یق (رض) پر یشان تھے ۔انہیں اپنی جا ن کی تو فکر نہ تھی کہ جا ن تو وہ اسی روز دا ئو پر لگا چکے تھے۔ جب اسلا م قبو ل کیا تھا ۔ انہیں حضور �ö کی فکر تھی اس لییپر یشا نی کا اظہا ر کر دیا کہ ’’ ہم دو ہیں اور ہما رے تعا قب میں آنے والے بہت ‘‘ آپ (ص) نے کمال طما نیت سے فر ما یا نہیں اے رفیق صد یق ہم تین ہیں۔ 

’’لَاتَحْزَ نْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا﴿9/40﴾‘‘ ﴿اے دو ست فکر نہ کر اللہ ہما رے سا تھ ہے﴾

رو ایا ت میں ہے کہ غا ر کے منہ پر ایک طر ف کبو تر ی نے گھو نسلہ بنا کر انڈے دیے اور انڈو ں پر بیٹھ گئی اور ادھر مکڑی نے جالا تن دیاتھا ۔تعا قب کر نے والے آئے انہو ں نے یہی سمجھا کہ اس غا ر میں کوئی دا خل ہو ا ہو تا تو یہ جا لا کیسے سا لم رہتا اور یہ گھونسلا ا ور پھر گھو نسلے میں انڈو ں پر اطمینا ن اور بے خو فی سے بیٹھی ہو ئی کبو تر ی۔ یہ سب کچھ دیکھ کر وہ خا سر و نا مرا د وا پس ہو گئے ۔ اسی غا ر کے متعلق یہ رو ایا ت بھی آتی ہیں کہ یہا ں حضور �ö جنا ب صد یق کے زا نو پر سر رکھ کر سوگئے سا نپ نے آکر ﴿بعض روا یا ت میں زہر یلا بچھو بتا یا گیا ﴾ کا ٹ لیا۔ حضرت صد یق (رض) نے یہ اذیت بر دا شت کر لی اور حر کت نہ کی مبا دا محبوب کی نیند میں خلل پڑے شد تِ تکلیف سے آنسو ٹپک کر حضور �ö کے چہر ے پر ٹپک گیا اور آپ (ص) کی آنکھ کھل گئی صور ت حا ل معلو م ہوئی تو لعاب دہن سے اذیت دو ر کر دی ۔ 

ہما را ایک خا ص مقا مِ زیا ر ت غا ر ِ ثو ر بھی تھا ۔ ہمیں بتا یا گیا کہ غا رِ ثو ر کی حا ضر ی کوئی آسا ن کا م نہیں مگر جس کام کی خاطر ہم سفر کر رہے تھے۔ وہ خو دہی مشکلا ت را ہ آسان کر رہا تھا ۔ محلہ مسفلہ سے گز ر تے ہو ئے، ٹیکسی نے 45 منٹ میں ہمیں کو ہِ ثو ر پر پہنچا دیا ۔روا یت میں ہے کہ اس غا ر تک حضرت صد یق اکبر نے حضور �ö کو کندھے پر اٹھا کر لے گئے تھے ۔مجھے بے اختیا ر عبد الطیف افضل کی لکھی ہو ئی قصیدہ صدیقیہ نظم یا د آگئی ہے۔ اوڈ سڈا غمخوار نبی دا اوڈسدا غا ر دے اندر یا ر نبی دا اوہ ڈسد ا ڈا چی لے کے آیا در تے ہجر ت دی تیا ری کر کے چھڈ کے دیس تھیا پر دیسی بن کے خد متگا ر نبی دا اوہ ڈسدا پیاں بھا ر قد م نیں لا ندا ثو ر پہا ڑ تے چڑھدا جا ندا صد قے ہو ہو پیا اٹھا ندا پشت تے پیا را بھا نبی دا او ڈ سد ا کیتا فضل خدا و ند با ری یا ر نے خو ب نبھا ئی یا ر ی دے کے پلکا ں نا ل بہا ری صا ف چا کیتا غا ر نبی دا اوڈ سد ا عشق نے کتیا حا ل فقیر اں کپڑ ے کر کے لیرا ں لیر اں بند سورا خ چا غا ر دے کیتے نئیں منظو رآزا ر نبی دا اوڈ سدا ڈنگ گیا جا ں نا گ تلی نو ں در د ہو یا تا ں جا ن جلی نو ں اتھر و دا ہک قطرہ ڈ ٹھا گر م ہو یا ر خسا ر نبی دا اوڈ سدا کا فر تک کے غا ر کنا رے یا نبی صد یق پکا رے نا ں ڈر نا ں ڈر یا پیا رے کہنا نا ل پیا ر نبی دا او ڈسدا حضر دا سا تھی سفر دا سا تھی خند ق ، احد ، بد ر دا سا تھی قبر دا سا تھی حشر دا سا تھی ، کون نکھیڑ ے یا ر بنی دا او ڈسدا ثانی کہہ کے رب و ڈیا لقب اصحا ب خدا تھیں پا یا ذکر قرآن دے اندر آیا صا ف اس یا ر غا ر نبی دا اوڈِسدا افضل جے اس غا ر تے جا وا ں میں نینا ں دا فر ش و چھا وا ں جھتے بیٹھے نبی پیا رے نا لے عا شق زار نبی دا اوڈِسدا اوڈِسدا غمخواری نبی دا اوڈِسدا راہ پیچید ہ اور دشوار گز ار ہے ۔اکثر جگہ خا ر دا ر جھا ڑیا ں ، چکنے یا پا ئو ں میں چبھنے والے اور جو تو ں کے تلو ے پھا ڑ دینے والے پتھر ہیں بہت احتیا ط سے قد م رکھنے پڑ تے ہیں ۔اب نجدی حکومت نے محلہ مسفلہ سے منیٰ و عر فا ت کو جو نئی سڑ ک نکالی ہے وہ مکہ شر یف سے جنو ب مشر ق کی جا نب ہے اس سڑ ک پر تقر یبا ً سا ت میل جا کر یہ سڑ ک چھو ڑ دی جا تی ہے تقر یبا ً ایک میل کچی سڑ ک پر یہ پہا ڑ وا قع ہے۔ غا ر ِ ثو ر تک چڑ ھا ئی تقر بیا ً تین میل ہے ۔اس طر ف سے را ستہ تنگ اور چکنا نہیں ہے قدرے کھلا ہے۔ اکثر جگہ دو طر فہ اور کہیں یک طر فہ دیوار کر کے سیڑ ھیا ں بنا دی گئی ہیں دیوا ر پر تیر وں کے نشا ن رہنما ئی کرتے جا تے ہیں ۔چا ر جگہ غا ر ملتے ہیں جن سے دھو کا ہو سکتا ہے مگر اس طر ف سے تیسرے نمبر کا غا ر اصل غا ر ہے یہا ں عربی میں ’’ ھذا غا ر ثور ‘‘ اور انگریزی میں ﴿ The Holy Cave﴾ لکھا ہو اہے ۔ایک کمرے کے برا بر بڑ ا سا پتھر ہے ۔سوراخ ایسا ہے کہ لیٹ کر اندر دا خل ہو ا جا سکتا ہے۔ اندر بمشکل چا ر پا نچ آدمی بیٹھ سکتے ہیں غا ر کے اند رکی زمین بھی ہموا ر نہیں جگہ جگہ سے ابھری ہو ئی ہے۔ میرے لیے چڑ ھنا مشکل تھا مگر یقین کیجیے نظم مذکو رہ کاہر شعر را ستہ آسان کر تا گیا اور ایسی کیفیت طا ری ہو ئی جیسے وا قعی جناب صد یق (رض) اکبر دکھا ئی دے رہے ہو ں اور رہنما ئی کر رہے ہوں ۔ اس غا ر سے جو فیضا ن حا صل ہو ابیان سے با ہر ہے ۔


دیا ر حبیب �ö کی طر ف

�ò مکہ سے سا رے کا رو ں اب صف بصف چلے شہر بکا سے شہر دعا کی طر ف چلے بلا شبہ مکہ شہر بکا ہے ۔مسلمان جب کعبہ کو دیکھتے ہیں تو انکی چیخیں نکل جا تی ہیں کس میں ہمت ہے کہ اتنا بڑ ا مقا م دیکھ سکے جسے اللہ نے بڑی شا ن سے اپنا گھر کہا یہا ں پہنچ کر دل تڑ پنے لگتا ہے اپنے گنا ہ یا د آجا تے ہیں ۔ کوئی اند ر کچو کے دینے لگتا ہے اے نا ہنجار کیا تو اس قابل ہے کہ اس گھر کو دیکھ سکے ، کیا تو اس قابل ہے کہ اتنے بڑ ے با د شا ہ کے در با ر میں حاضر ہو جہا ں شہنشا ہوں کے سر جھکتے ہیں ۔ جہا ں انبیا ئ مقد سین لر ز تے دا خل ہو تے ہیں۔ کعبہ میں دبد بہ ہے جلا ل ہے ہیبت ہے ۔مد ینہ شہر جمال ہے۔ یہ اس کا شہر ہے جو سب کو معا ف کر کے گلے لگا لینے وا لا با د شا ہ ہے ،جو اپنے اوپر پتھر بر سا نے والو ں کو مثر دہ سنا تا ہے لا تثر یب علیکم الیو م جو کہتا ہے ہم نے پتھر بر سا ئے کہ تمہا رے پا س پتھر و ں کے سوا کچھ نہ تھا تمہا رے اندر با ہر پتھر تھے ۔ میں پھول بر سا ئو نگا کہ میرے پا س پھو لو ں کے سوا کچھ نہیں۔ مکہ میں رو نا ہے گر یہ وزا ر ی ہے مد ینہ میں تسلیا ں ہیں دلدا ر ی ہے ۔ مکہ شر یف میں ہم نے حج کے تما م ار کا ن بحسن و خوبی ادا کر لیے ،جی بھر کے یا د گا رو ں کی زیاد تیں کیں اب ہم دیا ر حبیب کی طر ف جا رہے ہیں ۔یہاں مجھے اقبال بے طر ح یا د آئے انہوں نے ار مغا ن ِ حجا ز کا پہلا حصہ اسی پر شو ق سفر کے لیے لکھا تھا افسو س ہے انہیں یہ سفر نصیب نہیں ہو سکا مگر وہ ذہنی طو ر پر ہمیشہ اس سفر میں رہے اور آج بھی ہر قا فلے کے سا تھ محو سفر ہیں میں انکے سا تھ ہو لیا ۔ اقبال نے اس مکہ سے مد ینہ کا سفرا ختیا ر کر نے پر کس قیا مت کا شعر لکھا ہے �ò تُو با ش اینجاو با خا صا ں بیا مینر کہ من دا رم ہو ا ئے منز ل دو ست ﴿ اے خدا الو دا ع تو یہیں رہ اور اپنے خا صا ںِ با ر گا ہ کے سا تھ محفل سجا ،میرے سر میں تواپنے یا ر کے گھر جا نے کا سوادا سما گیا ہے ﴾ تُو جا ن تیرے در با ر کے خو اص جا نیں ہم تو اپنے یا ر کی طرف چلتے ہیں۔ بہر حا ل ہم نے مکہ سے مد ینہ منور ہ کا سفر اختیا ر کیا ۔وا د ی ئ فا طمہ سے گزا رہوا ۔ وا دی را بغ پہنچے۔ را بغ جد ہ سے 96 میل جانب شما ل ہے یہ گو یا مکہ اور مد ینہ کے در میا ں کا پڑا ئو ہے۔ یہا ں نما زادا کی یہا ں کنو ئیں بھی ہیں بعض لو گ یہاں غسل بھی کر رہے تھے مگر را بغ کے کنو ئیں ایسے ہیں کہ کچھ پا نی نکلے تو مٹی آنے لگتی ہے ، را بغ کے بعد بیر عشر ہ آیا، یہ منز ل را بغ سے اٹھارہ میل جانب شما ل ہے یہا ں تر بو ز و ں کی گو یا منڈی ہے۔ یہ تر بوز میٹھے بھی ہو تے ہیں مگر زیا دہ لذید نہیں ۔وہا ں سے بیر عنبر ی پہنچے ۔یہ بیر عشر ہ سے دس میل جا نب شما ل ہے ۔ اس جگہ ایک کنوا ں ہے جسے بیر ی کہتے ہیں یہ بھی اس لحاظ سے تا ریخی کنو اں ہے کہ اس پر حضور �ö قیا م فر ما تے تھے خو د بھی پا نی پیتے اور او نٹو ں کو بھی پلاتے۔ اس کنو ئیں کا پا نی با لکل ز مز م کی طر ح ہے ایک ہی رنگ ایک ہی مز ہ ، بیر عنبر ی سے 32 میل آگے منز ل لیہ ہے۔ لیہ سے 43 میل آگے مسیب ہے۔ یہا ں کے ہو ٹلو ں کا عجب دستو ر ہے رو ٹی کے پیسے الگ پا نی کے الگ ، سا یہ میں بیٹھ کر کھا نا کھا ئو تو سا ئے کی الگ قیمت دو۔ نہیں تو دھوپ میں بیٹھ کر کھا ئو ، مسیب سے 21 میل آگے منزل ،قر یشہ ہے ۔القر یشہ سے 24 آگے بیر علی ہے۔ بیر علی سے صر ف 4 میل آگے جا نب شمال مدینہ منور ہ ہے بیر علی کہ سر ز مین سر سبز ہے جگہ جگہ کنو ئیں ہیں یا ٹیو ب ویل سمجھئے ، پا نی نہا یت شیر یں اور ہلکا ہے ،کھجو ر کے باغات ہیں۔ یہا ں مو لیا ں ، کھجو ر یں ، انگو ر ککڑ یا ں وغیر ہ کثر ت سے ہیں۔یہا ں حضرت علی (رض) کی تعمیر کرائی ہوئی ایک عا لیشا ن مسجد ہے اسی مسجد سے حضور �ö اور خلفا ئے را شد ین حج کا احر ام با ند ھتے تھے ۔ یہ اہل مد ینہ کا میقا ت ہے ۔ خیا ل رہے کہ اسی بیر علی کا پر ا نا نا م ذو الحلیفہ ہے۔ مسجد کے سامنے ایک کنواں ہے جو حضر ت علی المر تضی سے منسو ب ہے اس میں پانی تک سیڑ ھیا ں لگی ہوئی ہیں۔ یہاں کے انگو ر بہت میٹھے اور پُرذائقہ ہیں۔ یہاں ہم نے غسل کیا سب دوستو ں نے خو ب خو ب عطِر ملا ، دو سری عید ین تو ہر سال آجا تی ہیں مگر یہ یا ر کی دید کی عید ہے ۔جو ہم سے دور افتاد گا ن کو عمر میں کبھی کبھی اور کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے ۔ بیر علی سے رو انہ ہو ں تو آگے ایک میل کے فا صلہ پر ایک اور کنوا ں ہے جسے بیر عر وہ کہتے ہیں۔ سا تھ ہی مسجد ہے اس کا نام مسجد عر وہ ہے ۔یہ کنوا ں وہی ہے جس کا پانی پہلے بہت کھا ر ی تھا۔ حضو ر �ö کے ہا تھ ڈبو نے سے یہ پا نی میٹھا ہو گیا یہی وہ کنواں ہے، جس میں ایک روز جنا ب آقا ئے کا ئنا ت �ö پا ئو ں لٹکا ئے بیٹھے تھے پھر جنا ب صد یق (رض) وفا روق (رض) آگئے آپ(ص) نے انہیں جنت کی بشا ر ت دی وہ اسی طر ح پا ئو ں لٹکا کر دا ئیں با ئیں بیٹھ گئے پھر جنا ب عثما ن غنی آئے حضور (رض) نے انہیں بھی جنت بشا ر ت دی وہ آپ(ص) کے سا منے اسی انداز میں پا ئو ں لٹکا بیٹھ گئے۔ یہا ں ہم سب نے رک کر کنو یں کا پانی پیا اور اس مسجد میں شکر کے نوا فل پڑ ھے پھر آگے بڑھ گئے ایک چھو ٹی سی پہا ڑ ی آتی ہے۔ اس بلند ی پر چڑ ھے تو گنبد خضر ا اور دو مینا ر صا ف دکھائی دینے لگے۔ زبان سے بے اختیار الصلو ۃ و السلام علیک یا رسو ل اللہ کا وجد آور ترا نہ ئِ مقد سہ جا ر ی ہو گیا ۔ یہاں سے صر ف ڈیڑ ھ دو میل چل کر مد ینہ منور ہ میں با ب عنبر ی سے دا خل ہو ئے، یہا ں شا ندا ر مسجد ہے اور بائیں طر ف حکومت کا کسٹم آفس ہے ۔یہا ں سے تقر یبا ً نصف میل رو ضہ ئِ مطہر ہ ہے۔ با بِ جبر یل سے دا خل ہو ئے۔ یہا ں حضور �ö نما ز تہجد ادا کیا کرتے تھے ۔ ہم نے یہاں نفل تحیہ المسجد اور سلا م پڑ ھے ۔ پھر منبر رسو ل کا دید ا ر کیا۔ حضرت حلیمہ سعدیہ اور حضرت عبا س کے مزا را ت پر حا ضر ی دی ، مسجد فتح دیکھی۔ رو ضہ ئِ رسول(ص) پر زبا ن سے پہلے دل پہنچ چکا تھا۔ اپنے اندر جیسے صلوۃو سلا م لہو بن کر شریا نوں میں رو اں تھے ۔ حضر ت ابو ایو ب انصا ری کے مکا ن کی زیا ر ت کی ،مد ینہ پہنچ کر حضو ر �ö کی او نٹنی یہیں آکر بیٹھ گئی تھی۔ پھر ہم جنا ب خلیفہ حضرت عثما ن (رض) کے مکا ن پر گئے یہی مکا ن جا ئے شہا د ت بھی ہے کہ یہ عظیم خلیفہ ٔرا شدجسکی حدو د سلطنت افغا نستا ن تک وسیع تھیں ،پو را جزیر ہِ عِر ب جس کے زیر نگیں تھا۔ وہ اپنے ہی گھر میں کسمپر سی کے عا لم میں تنہا ما را گیا اور یہ سب کچھ مٹھی بھر شر پسند و ں نے کیا۔ لو گ کہتے رہے آپ اعلا ن کر دیں۔ ان شر پسند و ں سے لڑ نا جہا د ہے۔ مسلما ن مجا ہد ین ابھی ان کا صفا یا کر دیں گے۔ مگر آپ یہی کہتے رہے’’ میں مسلما نو ں کی تلوا ر یں مسلما نو ں کے خلاف بے نیا م نہیں ہو نے دو نگا ، کیا ہو گا میر ی جا ن ہی تو جا ئے گی ‘‘ کہتے ہیں سیدا میر علی نے یہ جملے حضرت عثما ن (رض) کے متعلق لکھا ہے ۔ THE MAN WHO DID NOT KNOW HOW TO LIVE AN HONOURABLE LIFE BUT WHO KNEW HOW TO DIE AN HONOURABLE DEATH. مجھے جملے کے پہلے حصہ سے اختلا ف اور دو سر ے حصہ سے پورا پورا، اتفاق ہے ۔ حضر ت عثما ن (رض) کا یہ مکان اور جا ئے شہا دت دو نوں با ب ِ جبر یل سے متصل یعنی مسجد نبو ی سے متصل شر قی جا نب وا قع ہیں۔ پہلی گلی میں دا رِ عثما ن (رض) اور دو سر ی گلی میں دار ِ ایو ب (رض) انصا ر ی ہے ۔را ت ہو گئی مگر یہ را ت کہا ں تھی ۔ ایسی را تو ں پر کرو ڑ و ں روشن دن قر با ن کر دیے جا ئیں ۔اس را ت تو بخت بیدا ر ہو رہے تھے ۔ خو ش نصیبیاں جا گ اٹھی تھیںاورروحین صلو ٰۃ و سلا م کے زمزموں سے سرشا ر تھیں ۔ �ò محمد (ص) شمع ِ محفل بُو د شب جا ئے کہ من بو د م را ت بسر ہو گئی ۔ نئے دن کا آغا ز مسجد نبو ی میں نو افل تہجد کی ادا ئے گی سے ہو ا ۔پھر وہیں نماز ِ فجر ادا کی پھر تلا وت کی درود و سلام پڑ ھا ،نماز ِ اشرا ق محر اب النبی میں نصیب ہو گئی۔ محرا ب النبی ریا ض الجنتہ میں منبر شر یف کے با لکل قر یب ہے۔پھر علامہ ضیا ئ الد ین صا حب کی محفل میں گئے ۔علا مہ ضیا ئ الد ین اعلٰحضر ت اما م احمد رضا خا ن بر یلو ی کے شا گر د ِ رشید اور خلیفہ ئِ مجا ز ہیں ، بیس سا ل کی عمر میں بغدا د شر یف آئے تھے ۔ دس سا ل وہا ں قیا م کیا پھر مد ینہ منور ہ آگئے ۔اب کئی سا ل سے یہاں مقیم ہیں مد ینہ منو ر ہ میں با ب مجید ی کے قر یب آپ کا دو لتکدہ ہے۔ یہ حر مِ مسجد نبو ی کے با لکل قریب ہے ۔بس دونوں کے درمیا ن ایک سڑ ک وا قع ہے ۔ علامہ ضیا ئ الد ین کا دو لتخا نہ مد ینہ منور ہ میں اہل سنت کا قلعہ ہے آ پ بلا شبہ اولیا ئے دو را ں میں سے ہیں ۔اعلیٰ حضر ت مجد دما ئتہ حا ضر ہ مو لا نا احمد رضا خا ن بر یلو ی کے ایک دو سر ے شا گر د مو لا نا عبدا لعلیم صدیقی میر ٹھی تھے ۔انہو ں نے اعلیٰ حضرت کے ارشا د پر غیر مسلمو ں میں تبلیغ اسلا م کا فر یضہ سنبھا لا تھا ۔ انہو ں نے امر یکہ ، انگلینڈ ، افر یقہ سنگاپور ، ملا یا میں بھی تبلیغ اسلا م کی لیکن انکی زیا دہ تو جہ انڈو نیشیا پر رہی ۔ انڈو نیشیا کی حکو مت نے تمد ن انڈو نیشیا نا م کی کتا ب شا ئع کی تھی جس کے صفحا ت 540 تا 545 میں مو لا نا صد یقی مر حوم کے حا لا ت لکھے ہیں اور بتا یا گیا ہے کہ انہو ں نے اندو نیشیا میں تبلیغ اسلا م کا بہت کا م کیا اور بہت سے لو گو ں کے حلقہ بگو ش اسلا م کیا ۔مو لا نا شا ہ احمد نورا نی ،انہی مولا نا عبدا لعلیم صد یقی میر ٹھی کے فرزند ہیں۔ جو میرٹھ سے ہجر ت کر کے کرا چی ﴿پاکستان ﴾ میں مقیم ہو ئے ۔ مو لا نا عبد العلیم صاحب نے ملک ملک دو رے کئے لیکن ان کی نگا ہ ہمیشہ مد ینہ منورہ پر رہی اور دل بھی یہیں رہا یہیں انہو ں نے اپنا مکا ن بنوایا۔ 1954 �÷ ئ میں فو ت ہو ئے اور مد ینہ منور ہ میں ہی فوت ہو ئے جنت البقیع میں ام المو منین حضرت عا ئشہ کی قبر مبارک کے پا ئو ں میں دفن ہو ئے �ò پر د در و سعتِ گر د وں یگا نہ نگا ہِ اوبشا خِ آشیا نہ مو لا نا عبد العلیم صد یقی میر ٹھی کے فر ز ند مو لا نا شا ہ احمد نو را نی کی شا دی، علا مہ ضیا ئ الد ین کی پو تی سے ہو ئی ہے۔ غر ض ہم اہل سنت کے لیے با لخصو ص علامہ ضیا ئ الد ین کا آستا نہ ایک مر جع ِ را حت اور مر کزِ سکو ن و قر ا ر بنا ہو اہے ۔ صا حبز دہ محمد جمیل احمد شر قپو ری ، مو لا نا محمد شر یف نو ر ی قصو ری ، مو لا نا شاہ احمد نو را نی ،صا حبزا دہ محمد شر قپو ر ی ، مو لا نا محمد شریف نو ر ی قصو ری ، مو لا نا شا ہ احمد نو را نی، قا ری مصلح الد ین، صا حبز ادہ محمد انو ر شا ہ صاحب سجا دہ نشین آستا نہ عالیہ علی پو ر شریف ، سید محمد محمو د شا ہ ہزا ر و ی اور ایک عمر رسید ہ در و یش سیدخا ن بہادر بخشی مصطفی علی خان سے یہیں ملا قا ت ہو ئی، ڈ اکڑ چراغ سے بھی یہیں ملا قا ت ہو ئی ۔ڈ اکٹر صا حب را ولپنڈی کے رہنے والے ہیں اور یہیں علامہ ضیا ئ الد ین صا حب کے ہاں مقیم ہیں بعد میں اپنے چند رفقا ئ کے سا تھ مسجد نما مہ کی زیا ر ت کی اور وہاں نوا فل پڑ ھنے کی سعا د ت نصیب ہو ئی ۔ شام کو مو اجہ شر یف میں پھر حا ضر ہو ئے۔ اچا نک ذہن میں اقبا ل کے وہ دو شعر گو نجنے لگے۔ جو نجا نے کس عا لم میں لکھے گئے کہ ذہن میں آتے ہیں تو بدن پا نی بن کر آنکھوں سے ٹپک جا نے کو بیقرا ر ہو جا تا ہے �ò تُو غنی از ہر دو عا لم من فقیر روزِ محشر عذ ر ہا ئے من پذ یر در تو می دا نی حسا بم نا گز یر از نگا ہِ مصطفےٰ پنہا ں بگیر ﴿اے اللہ تو دو نو ں جہا نو ں سے بے نیا ز مالک کل ہے اورمیں فقیر ِ بے نواہو ں ، میراکیا حسا ب لیتا ہے قیا مت کے روز میرے عذ ر قبو ل فر ما لے اور اگر تو میرا احسا ب لینا لا زمی سمجھتا ہے تو صر ف ایک عرض ہے کہ میراحسا ب میرے آقا اور اپنے محبو ب �ö کے سا منے نہ لینا ان کی نگا ہو ں سے چھپا کر لینا ﴾ میں یہ اشعا ر پڑ ھتا رہا اور رو تا رہا پھر جیسے ذہن دھل گیا کوئی جیسے خرا م نا ز میں آہستہ آہستہ چلتا ہو ا فر ش ِ دل پر اپنے ریشم پیر ٹکاتا ہو ا آر ہا تھا یہ دل کی دھڑ کن نہیں تھی اُسکے پا ئو ں کی سکو ن بخش چا پ تھی �ò پھر یہ طو فا ن بڑھے آتے ہیں آقا سائیں اپنی کملی میں چھپا لے مجھے مو لا سا ئیں یہ آر ا مگا ہ تو حجر ہ ئِ عا ئشہ (رض) ہے۔ اس حجر ہ کی قسمت کے کیا کہنے ۔ آنکھو ں میںبا دل بر س کے کُھل گئے ۔ اجا لے ہو گئے روشنیوں نے ہر دھند کو صا ف کر دیا ۔ پھر اچا نک ذہن کا ایک اور در واز ہ کُھل گیا ۔ مجھے ام المو منین صد یقہ ئِ کا ئنا ت حضرت عائشہ صد یقہ (رض) کے وہ دو شعر یا د آگئے جو انہو ں نے حضور �ö کی را ت عشا ئ کی نماز کے بعد تشر یف آور ی پر کہے تھے ۔ اور جوادب کی جا ن ہیں شا عر ی کی آبر وہ ہیں �ò لنا شمس والآ فا ق شمس وشمسی خیر من شمس السما د فا ن الشمس تطلع بعد صبح وشمسی تطلع بعد العشا ئٰ ﴿ہما را بھی ایک سو ر ج ہے اور کا ئنا ت کا بھی ایک سو رج ہے میرا سو ر ج آسما ن والے سو ر ج سے بہتر ہے وہ تو صبح کے بعد طلوع ہو تا ہے مگر میرا سو رج عشا ئ کے بعد بھی طلو ع ہو جا تا ہے ﴾ یہی وہ خو بصو ر ت خیا ل ہے جسے چر اکر متنبی نے اپنے ایک قصید ہ کا غیر فا نی مطلع بنا لیا �ò فد ینا ک من ربع و ان زد تنا کر با فا نک کنت الشر ق لِلشمس وا لغر با ﴿اے کھنڈر ہو جا نے والے مکان کے گر ے پڑے در و ازے میں تیر ے قر با ن کہ میرے سو رج کا مشر ق بھی تو تھا اور مغرب بھی تو تھا ﴾ یہیں آپ کے رفقائے خا ص میں سے جنا ب صد یق اکبر اور جناب عمر فا رو ق محو ِ خوا ب ہیں۔ دو نو ں کو یہ شر ف بھی حا صل ہے کہ ان کی دخترا نِ نیک اختر امہا ت المو منین ہو ئیں۔ ام المو منین عا ئشہ صد یقہ تو وہ ہیں کہ حضو ر �ö نے فر ما یا آدھا علم دین عا ئشہ (رض) کے پا س ہے اور آدھا علما ئے عالم کے پا س اور ام المو منین حضرت حفضہ (رض) وہ کہ قرا ٓن عظیم کا وہ نسخہ جسے اُم المصاحف کا در جہ حا صل ہے اور جسے خو د حضو ر سر و ر ِ عالم �ö نے اپنی نگر ا نی میں مر تب کیاتھا انہی کی تحو یل میں رہا اور یہ امین المصحف قرا ر پا ئیں۔ خدا یا ان ہی مقد س وا سطو ں سے دعا ہے کہ ہم بھٹکے ہو ئے مسلما نو ں کو متحد کر کے را ہِ ہدا یت پر لا اور ہمیں اپنی رحمتو ں سے نواز کہ آج ہم جس حا ل میں ہیں تجھ سے پو شید ہ نہیں �ò اے خا صہ ئِ خا صا نِ رُسل وقت ِ دعا ہے امت پہ تر ی آکے عجب وقت پڑ اہے جو دین بڑی شا ن سے نکلا تھا وطن سے پر دیس میں وہ آکے غر یب الغر با ئ ہے











مد ینہ اور جوا ر ِ مد ینہ کی زیا را ت

مد نیہ منو رہ کا پرا نا نا م ’’ یثر ب ‘‘ تھا ۔یثر ب کے معنی مصیبت اور تکلیف کے ہیں یہو دیو ں کی ریشہ دو انیوں اور قبیلو ں کی با ہمی عداو تو ں اور قتل و غا ر ت سے یہا ں کے با سیو ں کا ہر گھر مبتلا ئے عذ اب رہتاتھا ۔ اس لیے اسے مصیبت کی بستی کہا جا نے لگا قر آن حکیم میں بھی اس کا یہی پر انا نا م منافقین کی ز با ن سے ادا ہو ا ۔ حضور �ö یہا ں تشر یف لا ئے اور یہ شہر اسلا می نظا م کا مر کز بنا تو آپ نے اسے یثر ب کہنے سے منع فر ما دیا اور اسکا نا م مد نیہ النبی یعنی نبی �ö کا شہر قرار پا یا اب اسے ’’ یثر ب کہنا گنا ہ ہے ‘‘ مگرا فسو س ہے کہ فا ر سی اور اردو کے شا عرو ں کو علم نہیں اور وہ یہ نا م بے تکلف استعما ل کر دیتے ہیں۔ خدا، انہیں معا ف کرے مد ینہ منو ر ہ کا ہر ذر ہ یا د گا ر ہے ہرگلی یا د گا ر ہے، ہر گھر یا د گا ر ہے۔ کچی دیوا رو ں اور کھجو ر کے پتو ں کی چھتو ں والا مدینہ اب با قی نہیں رہا۔ پر انی عما رتیں نا پید ہو گئی ہیں ۔اب یہا ں خو بصو ر ت عا لیشا ن عمارتیں ہیں ۔اور یہ شہر پیر س کا نمو نہ بن گیا ہے۔ حر م مدینہ کے دس در وا زے ہیں ۔مغر بی جا نب با ب السلا م ، با ب الصد یق ، با ب الر حمت اور با ب السعو د ہیں۔ شما لی جا نب با ب عمر ، با ب عبد المجید، اور با ب عثما ن ہیں مشر قی جا نب باب النسا ئ ، با ب جبر یل اور با ب عبد العز یز ہیں ۔ جنوبی دیو ار یعنی دیوا ر قبلہ میں کوئی در و ازہ نہیں۔ چند خا ص زیا را ت جن سے ہم بطور خا ص مشر ف ہو ئے در ج ذیل ہیں۔ ۱۔ مسجد قبا ئ :۔یہ مد ینہ منورہ سے تقر یبا ً تین میل کے فا صلہ پر پر انے مدینہ میں وا قع ہے۔ اس مسجد کے بڑے فضائل ہیں قر آن حکیم نے بھی اس کی بڑی تعر یف کی ہے ۔احا دیث میں بھی اسکی فضیلتیں بیا ن کی گئی ہیں جو گھر سے یعنی اپنی قیا م گا ہ سے وضو کر کے جا ئے اور مسجد قبا ئ میں دو نفل پڑ ھے اُسے عمر ہ کا ثو ا ب ملتا ہے اس مسجد کے چا ر وں طر ف ہر ے بھرے با غا ت ہیں جن میں کھجو ر اور انا ر کے در خت بکثر ت ہیں۔ مسجد کی جنوبی دیوا ر قبلہ سے ایک گو ل سورا خ ہے اسے طا ق ِ کشف کہتے ہیںروایت ہے کہ یہاں بڑ ا معجز ہ ظہو ر پذیر ہوا تھا۔ مہا جر ین کی بیتا بی دیکھ کر یہا ں آپ (ص) نے کشف کے طور پر انہیں مکہ میں رہ جا نے والے اپنے عز یز وا قا ر ب سے ملا قا ت کر ا دی تھی ۔ بلکہ ان کی با تیں بھی کر ا دی تھیں نجدسی حکو مت نے اس طاق کو بند کر ا دیا ہے ۔ ۲۔ بیرا ر یس :۔اسے بیرا ریس بھی کہتے ہیں۔ اور بیر خا تم بھی یہ و ہ کنواں ہے جس میں حضور �ö کی ایک انگو ٹھی حضرت عثما ن غنی (رض) کے ہا تھ سے گر کر گم ہو گئی تھی اور پھر ڈھو ند نے پر بھی نہیں ملی تھی اب یہ کنو اں بند پڑا ہے ۔ ۳۔ ثنیۃ الوا دع :۔یہ وہ جگہ ہے جہا ں مد ینہ منورہ کی بچیو ں نے حضور �ö کا استقبال کیا تھا اور مسر ت آمیز گیت گائے تھے �ò

طلع البد ر علینا من ثنیا ت الودا ع وجب الشکر علینا اذا دعا للہ دا ع ﴿ثنیۃ الودا ع سے چا ند ہما رے لیے طلو ع ہو ا جب تک دعا کر نے والے اللہ سے دعا کر تے ہیں اس وقت تک ہم پر خدا کا شکر ادا کر نا ضر و ر ی ہو گیا ﴾ ثنیۃ الو دا ع مسجد قبا کے قریب ایک چھو ٹی سی پہا ڑ ی ہے۔ حضو ر �ö جب کسی کو کہیں کا حا کم مقر ر کر تے تو اسے رخصت کرنے کے لیے یہا ں تک تشر یف لا تے۔ آپ سے پہلے بھی مد ینہ کے لو گو ں کا دستو ر تھا کہ جب اپنے کسی معز ز مہما ن کو رخصت کر تے تو یہا ں تک اسکے سا تھ آتے ۔ یہا ں ایک مسجد بھی ہے۔ جسے مسجد الو دا ع کہتے ہیں۔ یہا ں اب ایک بڑی ما رکیٹ بن گئی ہے ۔ ۴۔ خمسہ مسا جد :۔یہ پانچ مسجد یں ہیں۔ مسجد ابو بکر صد یق (رض) ، مسجد عمر فا رو ق (رض) مسجد علی (رض) ، مسجد سلما ن (رض) فا ر سی اور مسجد النبی ۔یہ وہ مقا ما ت ہیں جن پر غز وہ خند ق کے مو قع پر حضور �ö نے صد یق (رض)، عمر (رض) ، علی (رض) ،سلمان(رض) رضوا ن اللہ علیھم کو رات کے وقت نگر انی کے لیے مقر ر کیا تاکہ کفا ر شب خو ن نہ ما ر دیں۔ اور آپ(ص) اپنی جگہ ﴿مسجد النبی ﴾بیٹھ کر فتح کی خوشخبری دی اس مسجد کو مسجد فتح بھی کہتے ہیں ۔ایک چھو ٹا سا چبو تر ہ بھی ہے جسے مصلی فا طمہ کہتے ہیں ۔ ۵۔ مسجد ذو قبلتین:۔یہ وہی مسجد ہے جہا ں نما ز تو حسبِ سا بق بیت المقدس کے قبلہ کی طر ح شر و ع کی گئی لیکن دو ر انِ نماز حکم آگیا ۔ فَو ل وِجْھک شطر ا المسجد الحرا م ﴿اب آپ کعبہ کی طر ف منہ پھیر دیجیئے﴾ اور آپ نے نماز میں منہ کعبہ کی طرف پھیر دیا اور آپ کے پیچھے مسلما نو ں نے بھی منہ پھیر دیے ۶۔ مسجد مباہلہ :۔ یہیں حضور �ö نے نجرا ن کے عیسا ئی وفد کو دعو ت مبا ہلہ دی جس کا ذکر قر آن حکیم میں بھی ہے عیسا ئی مقا بلہ پر تیا ر ہو ئے کہتے ہیں۔ اس جگہ تر کو ں نے مسجد بنو ا ئی تھی مگر نجد یو ں نے گرا دی آثا ر اب بھی مو جو د ہیں اہل مدینہ اسے مسجد بغلہ بھی کہتے ہیں۔ ۔ ۷۔ مسجدغما مہ :۔عر بی میں با دلو ں کو غما م کہتے ہیں۔ یہ مسجد حضور �ö کے زما نے میں اہل مد ینہ کی عید گا ہ تھی گرمیوں میں جب آپ اس مسجد میں نماز عید کے لیے جا تے تو آپ پر با د ل سا یہ کئے رہتا تھا۔ اس لیے اسے مسجد غما مہ کہا جا نے لگا ۔یہ با ز ا ر منا خہ کے با لکل متصل وا قع ہے ۔ ۸۔ مسجد صد یق :۔ کہتے ہیں کہ یہ زمین خر ید کر جنا ب صد یق (رض) اکبر نے مسجد کے لیے وقف کی تھی اس لیے اسے مسجد ابو بکر صدیق کہتے ہیں ۔ ۹۔ مسجد فا طمہ (رض) :۔ یہ مسجد غما مہ کے قر یب ہی ہے وجہ تسمیہ کی صحیح تحقیق نہیں ہو سکتی عا م رو ایت ہے کہ یہ حضرت علی (رض) کا گھر تھا اور شا دی کے بعد جنا ب فا طمۃ الز ہر ا (رض) اسی گھر میں لا ئی گئی تھی۔ ۰۱۔ مسجد عمر (رض):یہ مسجد فا طمہ کے قر یب ہے غا لبا ً حضرت عمر فا روق (رض) کے اوقا ف میں سے ہے ۔ ۱۱۔ مسجد علی (رض) :۔ یہ مسجد عمر کے نز دیک ہے حضرت علی (رض) سے منسو ب ہے ۔ ۲۱۔ مسجد بلا ل:۔یہ مسجد علی المر تضیٰ کے قر یب ہے مسجد کے صحن میں کھجو ر کا ایک پر انا در خت ہے اور ایک بیر ی کا در خت بھی، معلو م نہیں ان در ختو ں کی زند گی کب سے ہے اور کب تک ہے ۔مسجد کے با لا ئی حصہ میںسر کا ر ی دفتر ہے اور ارد گر د مسافروں کے لیے کمر ے بنے ہو ئے ہیں۔ ۳۱۔ رو ضہ حضرت ما لک (رض) بن سنا ن انصا ر ی:۔یہ مز ا ر شر یف با ب السلام کے مغر بی جا نب ہے اور بہت عالیشان عما ر ت میں ہے ایک روا یت میں ہے کہ حضرت مالک بن سنا ن جنگ میں شہید ہو ئے تھے۔ جنگ سے سپا ہی وا پس آرہے تھے جنا ب صد یق اکبر (رض) بھی آرہے تھے حضرت ما لک بن سنا ن (رض) کی والد ہ نے ان سے پو چھا ’’ میرا بیٹا کہا ں ہے ‘‘ جنا ب صد یق (رض) اکبر نے کہہ دیا ’’ پیچھے آر ہے ہیں ‘‘ اللہ کو یہ گوا ر انہ ہو ا کہ صد یق (رض) کی کو ئی با ت جھو ٹ ثا بت ہو اللہ نے شہید کو عارضی زند گی دے دی اور وہ اپنی وا لد ہ کے پاس پہنچے اور پھر وفا ت پا ئی ۔ ۴۱۔ مسجد شمس :۔یہ مسجد قبا سے دو فر لا نگ کے قر یب دُور ہے اب یہ شکستہ حا لت میں ہے مشہو ر ہے کہ حضور �ö نے اسی جگہ ڈوبا ہو ا سور ج وا پس بلا یا تھا ۔ اس مسجد سے ایک فر لا نگ کے فا صلہ پر بیر غر س ہے جو اب خشک پڑ ا ہے اس کنو یں کا پانی حضو ر �ö بہت رغبت سے پیتے تھے اور آپ کو بعد وصا ل اسی پانی سے غسل دیا گیا ۔

بد ر عظیم القدر کی زیا ر ا ت

میدا نِ بدر تا ریخ کا عظیم تر ین مو ڑ ہے یہیں اسلام کی پہلی جنگ ہو ئی وہ جنگ جس میں تین سو تیر ہ بے سر و سا مان مجا ہد ین نے کفا ر کے لشکر جرا ر کو شکست دی �ò نہ تیغ و تیر پر تکیہ نہ خنجر پر نہ بھا لے پر بھر و سا تھا تو اک سا دہ سی کا لی کملی والے پر یہیں ابو جہل جیسا اسلام کا اور پیغمبر اسلا م کا کمینہ دشمن دو مسلمان لڑ کو ں معا ذ بن عفر ا (رض) اور معا ذ بن عمر و کے ہا تھو ں جہنم رسید ہوا اور اسکے سا تھ ہی چو ٹی کے قریش سر دا ر جو اسلا م دشمنی میں سر خیل تھے ،ما رے گئے یہا ں اسلا م کی اس سلطنت کے ناقا بل ِ تسخیر ہو نے کا اعلا ن ہوا جسے محدود پیما نے پر قا ئم ہو ئے بمشکل دو سا ل ہو ئے تھے ۔ بد ر شر یف مکہ معظمہ کے را ستے پر ہے، یہ مد ینہ شر یف سے ایک سوا ڑ تا لیس کلو میٹر ہے اور مد ینہ سے بد ر چند منزل ہے آجکل بد ر ایک بڑ اور خو بصو ر ت شہر ہے اسکی اچھی خا صی آبا دی ہے یہا ں بہت سے پا نی کے چشمے ہیںچشمے کیا ہیں زمین دوز نہر یں ہیں جو جگہ جگہ سے کھول لی گئی ہیں۔ خو د بدر میں اور بد ر کے را ستے پر کجھورو ں کے با غا ت ہیں کھجو ر کے در ختوں کے در میا ن سر سبز کھیت ہیں جہا ں گند م ، اپنی ہریا لی لہرا تی دکھا ئی دیتی ہے پہا ڑ و ں کے دامن میں یہ ہر ے بھر ے کھیت بہت ہی خوبصورت منظر پیش کر تے ہیں ۔

بد ر میں حسب ِ ذیل زیا ر ا ت ہیں۔ مسجد عر یش:۔ جہا ں حضور �ö نے را ت کے وقت آر ام سے سو جا نے کو کہا اور خو د عا میں مشغو ل ہو گئے اب اس جگہ حکو مت نے ایک عظیم الشا ن جا مع مسجد بنا دی ہے دو سری جگہ وہ ہے جہا ں حضور �ö نے آغا زِ جنگ سے قبل طو یل سجد ہ کیا حضرت صد یق (رض) اکبر نے آپ کو سجد ہ سے اٹھا یا آپ (ص) نے اٹھ کر مٹھی بھر کنکر کفا ر کی طر ف پھینکے اسی واقعہ کی طرف اشارہ کر تے ہو ئے قر آنِ حکیم میں ہے ’’ وَمَا رَمیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلَکٰنَّ اللّٰہ رَمَیٰ‘‘ ﴿یعنی اے نبی (ص) وہ کنکر تو نے نہیں پھینکے بلکہ اللہ نے پھینکے تھے﴾ یہاں بھی مسجد ہے ۔ مد فن شہد ائ یا گنج شہیدا ن:۔یہاں تیر ہ شہدا ئے بد ر دفن ہیں ۔چو دھو یں غا زی زخمو ں سے چو ر مد ینہ شر یف لے جا ئے جا رہے تھے کہ مقا م حمرا ئ میں وصا ل ہو گیا اور وہیں دفن کئے گئے ، گنج شہیدن ابھی با لکل ویرا ن کر دیا گیا ہے ۔آس پا س چھو ٹی سی چا ر دیوا ر ی ہے ۔ مسجد اجا بت :۔ مسجد اجا بت مسجد مبا ہلہ کے سا تھ ہی تھی مگر اب صر ف ڈھیر با قی ہیں کہتے ہیں یہا ں حضور �ö نے اپنی امت کے لیے دعا ئیں ما نگیں :َ

۱﴾  میری امت پر دو سری امتو ں کی طرح آسمانی عذا ب نہ آئے ۔ انکی پردہ پو شی رہے۔

۲﴾ آپس میں جنگ نہ ہو پہلی دو دعا ئیں قبو ل ہو ئیں۔ مسجد جمعہ :۔قر یب ہی ایک اور مسجد ہے جسے مسجد جمعہ کہتے ہیں مشہو ر ہے کہ یہاں حضور �ö نے پہلا جمعہ ادا فر ما یا تھا ۔ مسجدبنی نجار :۔اسی جگہ بنو نجا ر کی لڑ کیو ں نے حضور �ö کے خیر مقد م کے گیت گا ئے تھے جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں مسلما نو ں کے لیے مکہ اور مد ینہ کا ایک ایک ذر ہ یا د گا ر ہے پھر پو رے جز یر ہِ عر ب میں جہا ں جہا ں حضور �ö یا آپ (ص) کے صحا بہ کرا م کے قد وم میمنت لز وم پہنچے وہ جگہیں یا د گا ر بنتی گئیں۔ زند ہ قو میں اپنی یا د گا رو ں کو تو بڑی با ت ہے مر دہ قو مو ں کے کھنڈرو ں کو تلا ش کر کے محفو ظ کر تی پھر تی ہیں کہ تا ریخ انسا نی کی سا ری کڑ یا ں مر بو ط کر یں مگر کتنے غلط اند یش ہیں وہ لوگ جو اپنی قو می یا د گا رو ں کو مٹا تے پھر تے ہیں ۔انہیں کو ن سمجھا ئے کہ تم ایسا کر کے اسلا م کی کوئی خد مت نہیں کر رہے یہ جو تم حج کرتے ہو اور جس حج کی کما ئی سے تمہا ری حکو متیں دولت مند بنتی ہیں یہ حج کیا ہے کیا یہ ابر اہیم (ع) و اسمعٰیل (ع) اور حضرت حاجر ہ کی یاد گا ریں ہیںسعی بین الصفا و المر وہ کیا ہے ؟ مگر جب عقل ٹیڑ ھی ہو تو سو ر ج بھی سیا ہ گیند دکھا ئی دیتا ہے کا ش وہ شر ک کا مفہو م جا نتے :۔ ان یا د گا رو ں سے تو ایما ن جو ان ہو تا ہے جس قبر پر جا ئیں وہ عز یمت کی دا ستانیں سنا تی اور دلو ں میں ذہنو ں میں اور رو حو ں میں رو شنی پھیلا تی ہیں۔ �ò یہ نا ہموا ر چٹیل سلسلے کا لی چٹا نو ں کے اما نتدا ر ہیں گو یا پرا نی دا ستا نو ں کے جبل سَلع :۔ یہ پہا ڑ مد ینہ منور ہ کی مغر بی جا نب شہر سے متصل ہے مد ینہ منور ہ کے ایک طر ف غیر پہاڑ ہے ، دوسری طر ف احد ، سلع مغر بی جا نب ہے یہا ں بھی ایک مسجد ہے جسے مسجد نبی حر ام کہتے ہیں یہا ں نبی کریم �ö نے بہت عبا د ت کی ہے اور بعض دفعہ امت کی بخشش کے لیے اتنا رو ئے ہیں کہ جا نو رو ں نے کھا نا چھو ڑ دیا۔ مشہو ر ہے کہ بعض دفعہ خاتون جنت آپ (ص) کو اٹھا کر لا تی تھیں اسکے نیچے تہ خا نہ ہے اوپر مسجد ہے جو تر کو ں نے بطو ر یا د گا بنا ئی ہے بیر رو مہ :۔ یہ و ہ تا ریخی کنوا ں ہے جو حضرت عثما ن (رض) غنی نے ایک یہو دی سے تین ہزا ر درہم میں خر ید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا تھا اور یہ اسوقت ہو ا جب مد ینہ میں میٹھے پا نی کی سخت کمی تھی اور مسلما ن خا ص طو ر پر سخت مصیبت میں تھے کیو نکہ بیر رو مہ کا میٹھا پا نی یہو دی ما لک نے مسلما نوں کے لیے ممنو ع قر ا ر دے رکھا تھا جب مفسدو ں نے حضرت عثما ن(رض) غنی کا محا صر ہ کر رکھا تھا اور آپ نے ایک روزانہیں مخا طب کر کے سمجھا نے کی کوشش کی تھی تو اپنی خد ما ت میں اس کنو ئیں کا بھی ذکر کیا تھا اور فر ما یا تھا ’’تمہیں یا د ہے مد ینہ میں میٹھے پا نی کا ایک کنوا ں بیر رو مہ تھا اور یہو دی مالک نے اسے مسلما نو ں پر رو ک رکھا تھا اور حضور �ö نے فر ما یا تھا کو ن ہے جو یہ کنوا ں خر ید کر مسلمانو ں کو پانی کی قلت کی مصیبت سے چھٹکا ر ا دلا ئے تو بتا ئو وہ کون تھا جس نے یہ کنو اں اپنے پیسو ں سے خر ید کر عام مسلما نوں کے لیے وقف کر دیا تھا ‘‘ مفسد باغیوں نے خد ما ت کا اعترا ف کر تے ہو ئے کہا ‘‘ اے عثما ن وہ تم ہی تھے‘‘ حضرت عثما ن (رض) نے کہا حیف تم پر آج تم نے اس کنو ئیں کا پانی مجھی پر رو ک رکھا ہے ‘‘ اب اس کنو ئیں کو بیر عثما ن کہتے ہیں اب یہا ں پا ئیپ لگا ہے ہر طرف کھیتی ہے ۔برا بر میں حو ض ہے اسکا پا نی بہت میٹھا اور صحت بخش ہے ۔ بیر بضا عہ:۔ یہ بھی میٹھے پانی کا کنوا ں تھا حضور �ö نے اس کنو ئیں کا پانی پیاا ور اس سے غسل بھی فر ما تے رہے کتب فقہ و حد یث میں اس کنو ئیں کا بکثر ت ذکر آیا ہے اب اس پر پائیپ لگا ہوا ہے بہت پا نی نکلتا ہے آس پاس کھیت اور باغا ت ہیں کھجو ر اور انا ر کے در خت ہیں ۔ میدا ن خا کِ شفا ئ:۔ بیر عر یس کے آگے وسیع میدا ن ہے جس کی مٹی سفید ہے ،اسی سے خا کِ شفا ئ کی ٹکیا ں بنائی جا تی ہیں اس میں ایک چبو تر ہ ہے لو گ یہا ں سے تبر کاً مٹی لے جا تے ہیں ۔

ایک رو ایت مشہور ہے کہ جنگ بد ر کے کچھ زخمی صحا بہ اسی طر ف سے لو ٹ رہے تھے۔ اسی مٹی سے انہیں فو را ً صحت ہو گئی اور یہ بھی مشہور ہے کہ حضور (ص) نے یہا ں کھڑ ے ہو کر دعا فر ما ئی تھی 

مسجد اما م زین العا بد ین:مشہور ہے کہ حضور �ö اس جگہ اکثر تشر یف لا تے یہا ں کنواں تھا پا نی سے وضو کرتے اور پھر بعداز عبا د ت آرام فر ما تے جہا ں آپ آرا م فر ما تے وہیں اب مسجد ہے مسجد تر کو ں نے بنا ئی تھی اسکی وجہ تسمیہ سے پر دہ نہیں اٹھا سکایہاں بیر یو ں کے در خت ہیں بیر میٹھے اور بڑے بڑے ہیں ۔ با غِ سلما ن (رض) فا ر سی :۔مسجد زین العا بد ین سے تقر یبا ً تین فر لا نگ کے فا صلہ پر یہ با غ ہے اس میں کھجو ر کے دو درخت ہیں جو اور در ختو ں سے ممتا ز ہیں شکل و صو ر ت میں بھی اور پھل کی شیر ینی و لطا فت میں بھی مشہور رو ایت ہے کہ یہ دو نو ں درخت خو د حضور �ö نے اپنے دستِ مبا رک سے کا شت کئے تھے اس سلسلہ میں کہ یہ در خت آپ (ص) نے کیو ں بو ئے ایک اور رو ایت یہاں مشہو ر ہے کہتے ہیں یہ با غ ایک یہو دی کی ملکیت تھا حضرت سلما ن فا ر سی (رض) اس یہو د ی کے غلا م تھے اور اسی با غ میں کا م کر تے تھے انہو ں نے اسلا م قبو ل کر لیا تو یہو دی مالک نے کہا ’’ جس رسو ل �ö پر تم ایما ن لا ئے ہو اگر وہ اس با غ میں کھجور کا بیج لگا ئے اور در خت ایک ہی ما ہ میں مکمل ہو کر بار آور ہو جائیں تو میں بھی اسی رسو ل کا دین قبو ل کر لو ں گا کہتے ہیں ۔ حضور �ö نے یہ معجز ہ دکھا دیا وہ یہو دی مسلمان ہو گیا اس نے با غ حضر ت سلما ن فا ر سی (رض) کو بخش دیا مشہور ہے کہ یہ تین درخت تھے جن میں سے دو ابتک مو جو د ہیں ان در ختو ں کا پھل مہنگا بکتا ہے ۔ مسجد فضیخ:۔ جب شر اب حرا م ہو ئی تو صحا بہ کرا م کا ایک گر وہ یہا ں مصر و ف میخوا ری تھا انہو ں نے حر مت کا اعلان سنا تو سب کھڑ ے ہو گئے اور شرا ب کے تما م جھو ٹے بڑے بر تن تو ڑے دیے۔ حضو ر �ö نے انہیں جنت کی بشارتیں دیں۔ پہلے پہل شر ا ب کے بر تن یہیں تو ڑے گئے تھے جہا ں اب مسجد فضیخ ہے اس مسجد کے محرا ب میں ایک سیا ہ پتھر نصب ہے اس میں حضور �ö کے انگو ٹھے اور انگلیوں کے نشا نا ت ہیں کہتے ہیں حضور �ö نے معجز ہ دکھا تے ہو ئے ا س پتھر کو مٹھی میں بھر کر نچو ڑا تھا اور اس سے پانی ٹپکنے لگا تھا پتھر کی شکل با لکل ایسی ہی ہے کہ ظاہر ہو تا ہے اسے مٹھی میں بھر کر نچو ڑا گیا ہے۔ مسجد امِ ابر اہیم:۔یہ وہ جگہ ہے جہا ں رحمتِ عالم �ö کے فر زند حضرت ابرا ہیم ایک دا ئی کی گو د میں پر ور ش پا رہے تھے حضور اکثر انہیں دیکھنے یہاں تشر یف لا تے یہیں حضور �ö کی گو د میں انکا انتقال ہو ایہاں تر کو ں نے ایک عا لیشا ن مسجد بنوا دی تھی ۔نجد ی حکو مت نے وہ مسجد گر ائی تو نہیں مگر اسکے گرد دیوا ر کھینچوا دی ہے ہم نے اس مسجد کی زیا ر ت کی اس علا قہ کو عو الی مدینہ کہتے ہیں ۔ یہ سا را علا قہ بڑا سر سبز و شا دا ب کھیت ہیں ،با غا ت ہیں کنو ئیں ہیں ،ہر منظر دل کے سا تھ آنکھ کو بھی فرحت بخشتا ہے ۔ قبرحضرت عبدا للہ بن عبد المطلب :۔ جنا ب رسو ل �ö کے والد گرا می کی یہ قبر با ب السلام سے غر بی جا نب محلہ عبدا للہ میں ہے قبر بڑی عالیشان عما رت میں ہے لیکن نجد ی حکومت نے در وا زہ اس طرح بند کیا ہے کہ قبر کو دیکھا نہیں جا سکتا قبر جس عالیشان عما ر ت میں ہے اس کے در وا زہ پر حضرت عبدا للہ کا نام اور فا ر سی زبان میں قطعا ت کند ہ ہیں فا ر سی قطعا ت کی توجیہ سمجھ نہیں آسکی ۔

’’جنت البقیع ‘‘

جنت البقیع میں با رہ ہز ار کے قر یب صحا بہ مد فو ن ہیں جن میں سے در ج ذیل حضرا ت کے مزا را ت کی زیا ر ت نصیب ہو تی ہے نجد ی حکو مت نے ان یا د گا رو ں کو مٹا نے کی ایسی نا مرا د کو ششیں کی ہیں کہ خو د انکے ہم عقید ہ لو گ بھی جن کا احسا س زند ہ تھا رو ئے اور تڑ پے بغیر نہ رہ سکے ۔ شو ر ش کا شمیر ی ایڈ یٹر ہفت روزہ چٹا ن تقر یبا ً نجد یو ں کا ہم عقید ہ تھا مگر اپنی کتاب ’’ شب جائے کہ من بو د م ‘‘ میں نجد یو ں کی اس حر کت پر نو حہ کنا ں ہے بہر حال جو کچھ دیکھا جا سکتا ہے وہ یہ ہے۔ جنت البقیع سے با ہر حضرت فا طمہ بنت اسد وا لد ہ حضرت علی (رض) اور حضرت ابو سعید خدر ی کے مزا را ت ہیں یہ دو نو ں قبر یں حضرت حلیمہ سعد یہ کے گو شہ کی طر ف قبر ستا ن سے با ہر وا قع ہیں کسی قبر پر کوئی قبہ یا سا ئبا ن نہیں صر ف نشان ہیں پتھر لگا کر بجر ی ڈا ل دی گئی ہے۔ جنت البقیع کے اند ر حضرت فا طمۃ الز ھر ا ئ ، حضرت عبا س (رض) ، حضرت اما م حسن (رض) ، حضرت اما م زین (رض) العا بدین، حضرت امام جعفر (رض) صا دق، حضرت اما م با قر (رض) ، حضرت زینب (رض) ، حضرت رقیہ (رض) ، حضرت کلثو م (رض) بنا تِ رسول �ö حضر ت عا ئشہ (رض) ، حضرت ام سلمہ (رض) حضرت زینب (رض) ، حضرت حفصہ (رض) اور دیگرا مہما ت المو منین ، حضر ت عقیل (رض) بن ابی طالب ، حضرت سفیا ن (رض) بن حا رث حضرت امام ما لک (رح) ، حضر ت با فع مو لیٰ ابن عمر ، حضرت ابرا ہیم ابن رسول �ö حضرت عثما ن (رض) غنی ، حضرت حلیمہ (رض) سعد یہ کی قبر و ں کے نشا نا ت ملتے ہیں جنت البقیع سے متصل با ہر حضو ر �ö کی پھو پھیا ں حضر ت عا تکہ ، حضرت صفیہ ، حضرت ام بنین، حضرت اسما عیل بن اما م جعفر صا دق بیر و ن ِ بقیع جا نب شہر ہیں تر تیب یہی ہے جس طر ح ہم نے تحر یر کی ہے جنت البقیع میں سا رے سو رج ، چاند مد فو ن ہیں مگر افسو س ہے کہ نا شنا سو ں نے تا ریخ کو مٹا نے کی نا رو ا کوشش کی ہے اور سمجھا ہے کہ ہم اسلا م کی خد مت کر رہے ہیں۔ خستہ و شکسۃ حا لت میں یہ سڑ ک سے تقریبا ً ایک میل جنوب کی طرف ہے بد رکی مسا جد :۔بد ر می اسو قت تیس مساجد ہیں مسجد عر یش ، مسجد را قہ مسجد سعو د جو سڑک کے سا تھ بد ر کا کنو اں:۔وہ کنوا ں جس کی منا سبت سے اس میدا ن کا نام میدا ن بد ر پڑ ا تھا ۔ وہ بالکل لا پتہ ہو چکا ہے او نچی مسجد :۔گنج شہیدا ں کے پاس جو اونچی مسجد شکستہ حا لت میں ہے یہ وہی جگہ ہے جہا ں حضور �ö نے جنگ سے ایک روز پہلے مقتو لین بد ر کے ہلا ک ہو نے کی جگہیں بتا دی تھیں کہ کل یہا ں ابو جہل مر ے گا ، یہا ں ابو لہب وغیر ہ


’’ احد شر یف ‘‘

جنگ احد کی جگہ ایک احا طہ میں سید الشہدا ئ، حضرت امیر حمز ہ (رض) اور حضرت عقیل (رض) کے مزا ر ہیں دو سرے احا طہ میں شہدا ئے احد کے مزا ر ا ت ہیں کچھ آگے پہا ڑ کے دا من میں حضور �ö کے دندا ن مبا ر ک شہیدہو نے کی جگہ پہا ڑ کے او پر وہ غا ر ہے جہاں بعدا ز جنگ حضو ر �ö نے آرام فر ما یا مگرا ن جگہو ں پر جا نے کی سخت مما نعت ہے اس جگہ پر مسجد امیر حمز ہ (رض) بھی ہے اور نہر زر قا ئ کا چشمہ بھی جہا ں پا نی ایک حو ض کی شکل میں جمع ہو کر بہتا ہے۔سامنے ہی وہ گھا ٹی ہے اور درہ بھی جہاں سر و رِ کو نین �ö نے صحا بہ کو متعین کیا تھا کہ کچھ بھی ہو جا ئے تم یہاں سے نہ ہلنا مگر انہو ں نے سمجھا کہ مکمل فتح ہو گئی اور جگہ چھو ڑدی اور حضرت خا لد بن ولید کا دستہ آیا اور فتح مبد ل بہ شکست ہو گئی۔

خیبر کا سفر

آج خیبر کی زیا ر ا ت دیکھنے کا مو قع مل رہا تھا ۔ سا تھیو ں کے سا تھ ایک مو ٹر کرا یہ پر لے کر رو انگی ہو ئی۔ احد شر یف اور مد ینہ منورہ کے ہو ائی اڈ ہ کے قر یب سے گز ر تے ہو ئے اس سڑ ک پر آگئے جو مکہ مکر مہ سے تبو ک کو جا تی ہے سڑ ک پختہ ہے اور اچھی حا لت میں ہے ۔با لک پتھر یلا علا قہ ہے ۔ایک سو بیس کلو میٹر تک کو ئی منزل یا آبا دی نہیں آئی۔ ذہن آج سے صد یو ں پیشتر کے سفر پر سو چنے لگا۔ اس وقت اور آج کے وقت میں کتنا تغیر آگیا ہے۔ حضور �ö جب مسلما نو ں کا لشکر لے کر یہاں سے گزر ے ہو نگے توکن مشکلا ت کاسا منا کیا ہو گا ۔ ہم تصو ر کر تے ہیں تو دل ہو ل کھانے لگتا ہے ایک سو بیس کلو میٹر پر ایک آبادی آئی جس کا نا م ’’ سلسلہ ‘‘ ہے یہا ں کچھ گھر و ں کی چھو ٹی سی بستی ہے اور چا ئے کا ہو ٹل ہے یہاں سے تقر یبا ً چا لیس کلومیٹر کے فا صلہ پر خیبر ہے۔ یہاں پا نی کا اچھا انتظا م ہے پا نی میٹھا ہے ایک چھو ٹی سے مسجدبھی ہے یہاں سے چل کر تھوڑی دیر بعد ہم خیبر پہنچ گئے ۔ آج خیبر پہا ڑو ں کے در میا ن کھجو ر و ں اور انا ر کے در ختو ں کے خو بصو ر ت اور دلکش با غا ت میں گھر ی ہو ئی ایک چھو ٹی سی بستی ہے خیبر تو اس کا پر انا نام ہے اور ابتک اسکے سا تھ ہے اسکے دو اور نا م بھی ہیں اسے قر یہئِ بشر بھی کہتے ہیں اور مکیدہ بھی قریہ ئِ بشر اس لیے کہ یہاں ایک صحا بی حضرت برا ئ بن بشر (رض) کا مزا ر ہے اور مکیدہ اس لیے کہ یہیں یہو دیو ں نے ’’ کید ‘‘ یعنی مکر و فریب سے کا م لے کر حضو ر �ö کو زہر ملا گو شت کھلا یا تھا ۔ یہا ں سے مد ینہ منورہ ایک سو سا ٹھ کلو میٹر ، تبو ک جا نب شما ل 5سو کلو میٹر ہے ۔یہی سڑک تبو ک سے عما ن اور پھر بیت المقد س کو نکل جا تی ہے ۔ خیبر کے متصل پہا ڑو ں کے دامن میں تھوڑے تھو ڑے فا صلہ پر بہت سے بستیا ں ہیں۔ جو با غا ت ہی میں گھر ی ہو ئی ہیں یہاں سات قلعے ہیں سب سے بڑا قلعہ سب سے بڑ ی بستی میں ہے یہی وہ قلعہ ہے جسے شیر خدا جنا ب علی المر تضیٰ نے فتح کیا تھا ۔ خیبر میں مند رجہ ذیل زیا را ت ہیں ۔ ۱۔ عین علی (رض) :۔یہ چھوٹا سا چشمہ خیبر سے مغر بی جا نب وا قعہ وا قع ہے۔ مشہو ر ہے کہ یہاں حضرت علی (رض) نے خیبر کے مشہور پہلو ان مر حب پر اپنی تلو ار ذوا لفقار کا راس قو ت سے وا ر کیا کہ تلوا ر ڈھا ل ، خو د سر ، بد ن اور گھو ڑے کو کاٹتی ہو ئی زمین کو چیر گئی اسی جگہ یہ چشمہ پھو ٹ آیا جو ابتک جا ری ہے ۔ ۲۔ مسجد علی (رض):۔عین علی کے قر یب یہ مسجد ہے فتح خیبر کے بعد حضرت علی (رض) نے یہاں شکر انہ کے نفل پڑھے تھے ۔ ۳۔ قلعہ خیبر :۔ خیبرمیں سا ت قلعے ہیں لیکن سب سے بڑا اور مشہور قلعہ یہی ہے جہا ں اب سر کا ر دفا تر ہیں اسکے گرد خندق تھی جو ختم ہو گئی قلعہ کا دروازہ حضرت علی (رض) نے اکھا ڑا تھا اسکے نشا ن ابھی تک مو جو د ہیں اور صا ف معلو م ہو تا ہے یہاں دروا زہ تھا ۔ ۴۔ گو ر ستا نِ شہیدا ں :۔یہ خیبر کی مغر بی جا نب تبو ک والی سڑ ک پا ر کر کے آتا ہے یہاں پہا ڑ کے دا من میں سترہ17 صحا بہ شہیدا دفن ہیں۔ جن میں سے صر ف حضر ت سلمہ بن اکو ع اور حضرت برا ئ بن بشر کے نام معلو م ہو سکے ہیں با قی نا م ہما را گائیڈ بھی نہ بتا سکا ۔ ۵۔ مسجد شمس :۔دو پہا ڑو ں کے دامن میں خیبر سے تین میل کے فا صلہ پر ایک وا د ی ہے جسے وا دی ئِ صحبا ئ کہتے ہیں یہا ںوہ جگہ ہے جس کے متعلق مشہو ر ہے کہ حضرت علی کے نماز قضا ہو نے پر حضور �ö نے سو رج لو ٹا یا تھا ۔ یہ مسجد تو ڑپھو ڑ کا شکا ر ہو گئی لو گو ں نے نشا ن با قی رکھنے کے لیے پتھر و ں سے اسکی حدود کھڑ ی کر دی ہے اور ٹھیک اس جگہ جہا ں بیٹھ کے حضور �ö نے معجز ہ دکھا یا تھا وہا ں محر ا ب بنا دی گئی ہے۔ ۶۔ با غ فد ک:۔یہی وہ مشہور با غ تھا ۔ جسکی بحثیں خو ب خو ب چھڑ تی آتی ہیں۔ شیعہ حضرا ت کہتے ہیں یہ حضور �ö نے اپنی لختِ جگر حضرت فا طمۃ الز ہرا (رض) کو تحفہ کے طو ر پر دیا تھا جسے جنا ب صد یق اکبر (رض) نے اپنی خلا فت کے دو ر ان چھین لیا اہل سنت کہتے ہیں کہ یہ با غ خا تو ن جنت کو عا ر ضی تمتع کے لیے دیا گیا تھا جو جنا ب صد یق (رض) نے و اپس لے لیا ۔حکو متیں ایسے معا ملا ت کر تی رہتی ہیں جب خا تو ن جنت کو ضر و ر ت ہو گی انکی خا نگی ضر و ریا ت کی کفا لت کے طو ر پر ایساکیا گیا جب ضرورت مت گئی ۔حکو مت نے سمجھا کہ کشا ئش حا صل ہو گئی بیت الما ل کا یہ عو امی ما ل وا پس لے لیا گیا ۔ تا ریخ میں تو یہ بحثیں بھی آتی ہیں کہ اسی با غ پر دو نو ں میں جھگڑ ے رہے اور جنا ب علی المر تضٰی بھی اپنی زو جہ محتر مہ کی حما یت میں جنا ب صد یق (رض) سے ناراض رہے مگر ہم سا دہ دل مسلما ن تو ایسی با تو ں میں نہیں پڑ تے ہما را تو اللہ کے اسی فر ما ن پر ایما ن ہے کہ صحا بہ کے کیسے جھگڑ ے ۔ اِنَّ مُحمدَّ رَّ سُوْ لُ اللّٰہ وَالَّذِیْنَ مَعَہ‘ اَشِدَّا ئُ عَلیَ الْکُفّا رِرُحَمَا ئُ بَیْنَھُمْ۔ ﴿محمد اللہ کے رسو ل ہیں اور ان کے سا تھی وہ ہیں جو کفا ر کے لیے سخت اور آپس میں رحیم و کر یم ہیں ﴾ یہ با غ خیبر سے تیس میل کے قر یب دور ہے کہا جا تا ہے کہ یہ دو مر بع میل تک پھیلا ہوا تھا مگر اب وہا ں با غ نہیں خا لی زمین پڑی ہے

ابوا ئ شر یف میں حا ضر ی

ابو ائ شر یف کی حا ضر ی کا خیا ل مد ت سے دل میں پا ل رہا تھا۔ الحمد اللہ کہ اب کے سفر میں وہ پورا ہو گیا ذرا اس مقا م کی تا ریخ بیان کر لو ں کہ سعا د ت مند و ں کے ذکر میں بھی سعا د تمند ی ہے اسی سے تو ذہن بر کتو ں سے سر شا ر ہو تے ہیں حضرت عبدا لمطلب کے وا لد محتر م حضرت ہا شم نے مد ینہ ﴿قد یم یثر ب﴾ کے بنو نجا ر خا ند ا ن کے رئیس عمر و بن لبید کی دختر سلمیٰ سے شا دی کی تھی ۔ اسی کے بطن سے حضرت عبد المطلب پید ا ہو ئے جنکا نام شیبہ رکھا گیا تھا ۔ حضرت عبدا للہ شا دی کے بعد اپنے تجا ر تی سفر پر شام گئے وا پس آنے لگے تو خیا ل آیا کہ کچھ روز اپنے والد کے ننھیا ل میں گزارلیں چنا نچہ ’’ یثر ب ‘‘ میں ٹھہر گئے۔ یہا ں بیما ر پڑ گئے اور یہیں انتقا ل ہو گیا اور وہیں مد فون ہو ئے ۔ انکی زوجہ حضرت آمنہ حا ملہ ہو چکی تھیں۔ علا مہ ابن جو زی نے اپنی سند کے سا تھ حضر ت آمنہ کا یہ قو ل در ج کیا ہے ۔ ’’ مجھے معلو م ہی نہ ہو اکہ میں حا ملہ ہو چکی ہو ں ،سنتی تھی کہ حمل سے بو جھ محسو س ہو تا ہے اور طبعیت نڈ ھا ل رہنے لگتی ہے لیکن میرے سا تھ ایسا کچھ نہیں ہوا بس یہ معلو م ہوا کہ ایا م ما ہوا ر ی بند ہو چکے ہیں ایک روز خوا ب اور بیدا ر ی کے بنِ بنِ حا لت میں تھی کہ کوئی آنے والا آیا اور اسکی آوا ز سنا ئی دی اس نے کہا ’’ آمنہ تجھے علم ہے تو حا ملہ ہے ‘‘ میں نے کہا ’’ نہیں میں نہیں جانتی ‘‘ اس نے کہا ’’ تجھے حمل ہے اور تیرے پیٹ اس قوم کا سردا ر خدا کا ایلچی ہے ‘‘ جس روز یہ وا قعہ پیش آیا وہ سو موا ر کا دن تھا ‘‘ ﴿الو فا ئ ۔ ابن مو زی ج ا ص 88﴾

حضرت آمنہ چند رو زہ رفا قت کے بعد بیو ہ ہو گئی تھیںمگر یہ وا قعہ ہو چکا تھا کہ �ò بصد انداز یکتا ئی بغا یت شا نِ زیبا ئی امیں بن کر اما نت آمنہ کی گو د میں آئی جب حضرت آ منہ کا لعل چھ سا ل کا ہوا آپ نے سمجھا کہ اب بچہ سفر کی صعو بتوں کو بر دا شت کر لے گا تو اپنی بے قرا ر اور مد تو ں مضطر ب رہنے والی خو اہش کا اظہا ر عبدا لمطلب کے سا منے کیا کہ وہ اپنے سر تا ج کی قبر دیکھنا چا ہتی ہیں ۔ حضرت عبدا لمطلب نے انکی بیقرا ر ی کو سمجھ لیا اور ایک کنیز ام ِ ایمن کو ہمرا ہ کر دیا اور سفر کی اجا ز ت دے دی ۔ امِ ایمن کا اصل نا م بر کت تھا اور یہ حبشی نسل تھیں ۔ اسطر ح حضرت آمنہ اپنے لخت جگر کو لے کر ام ِ ایمن کے ہمرا ہ مد ینہ پہنچ گئیں بنو نجا ر کے ہا ں ایک ما ہ تک قیام کیا حضو ر �ö جب ہجر ت کے بعد مد ینہ تشر یف لا ئے تو کبھی کبھی اپنی یا دیں تازہ کر تے اور اس عا رضی قیا م کا ذکر فرمایا کر تے اسی طر ح ایک وا قعہ احمد بن زینی دحلا ن نے لکھا ہے۔ ’’ ایک مکا ن کو دیکھا تو حضور �ö نے فر ما یا ۔ اس مکا ن میں میں اپنی وا لد ہ کے سا تھ ٹھہر ا تھاا ور میں نے بنو عد ی بن نجا ر کے اس تا لا ب میں تیرا کی سیکھی تھی ‘‘ ﴿اسیر ۃ النبویہ ج ا ص 65 ﴾ واپسی کے سفر میں جب یہ مختصر قا فلہ ابوا ئ کے مقا م پر پہنچا تو حضرت آمنہ کی طبعیت نا سا ز ہو گئی ابو نعیم نے اپنی کتا ب ’’ دلا ئل النبو ہ ‘‘ میں اسما ئ بنت در ھم کی یہ رو ایت نقل کی ہے وہ کہتی تھیں۔ میری ما ں حضر ت آمنہ کی وفا ت کے وقت انکے پا س بیٹھی تھیں۔ حضو ر �ö کی عمر پانچ اور چھے سال کے در میان تھی آپ اپنے ننھے ننھے ہا تھو ں سے اپنی نیم بیہو ش وا لد ہ کا سر دبا رہے تھے۔ آپ کا ایک آنسو حضرت آمنہ کے رخسا ر پر گر ا ما ں کو ہو ش آگیا اس نے دو پٹہ کے پلو سے آپ کی آنکھیں پو نچھیں اور انکی زبا ن سے ارتجا لا ً یہ اشعا ر جا ری ہو گئے ۔ اِنْ صَحَّ مَا اَبْصَرْ ت فِی اْلَمنَا مِ فَاَنْتَ مَبْعُوْ ث’‘ اِلَی الْاَ نا مِ ﴿میں نے خوا ب میں جو کچھ دیکھا اگر وہ سچ ہے تو میرے بیٹے تو لو گو ں کی طر ف نبی بنا کر بھیجا گیا ہے ﴾ فَا للّٰہُ اَنْھَا کَ عَنِ الا صَنَا مِ وَاَلاّ تُوَ الِیْھَا مَعَ الْاَ قَوَا مِ ﴿میں خدا کا و اسطہ دے کر کہتی ہو ں کہ دو سرے لو گو ں کے سا تھ مل کر بتو ں کی محبت دل میں نہ پا لنا ﴾ علا مہ زر قا نی نے اپنی کتا ب ’’ شر ح موا ہب الد ینہ ‘‘ میں یہ اشعا رنقل کر کے علا مہ جلا ل الد ین سیو طی (رح) کا حوا لہ دیا ہے اور ان سے استد لال کر تے ہو ئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ حضر ت آمنہ مو حد ہ تھیں ۔ یہاں میں چا ہتا ہو ں کہ حضو ر �ö کے و الدین کے ایما ن کے با ر ے میں علما ئے اہل سنت کی تحقیق بیان کر تا چلو ں اس سلسلہ میں یہ تو متفق علیہ با ت ہے کہ حضور �ö کے وا لد ین کر یمین نجا ت یا فتہ ہیں اور جنتی ہیں علما ئ محققین کے اس بارے میں تین مسلک ہیں

مسلکِ اول حضو ر �ö کے والد ین جس زما نہ میں ہو ئے اُسے زما نہ ئ، فتر ت کہتے ہیں یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد چھ سو سا ل کا زمانہ فتر ت کا زما نہ ہے جس میں کوئی رسو ل نہیں آیا ۔ اب لو گ کہا ں سے نور ہد ایت حا صل کرتے اور جب ایسا نہیں تو پھر انہیں ان کے اعما ل پر عذا ب میں کیو ں ڈا لا جا ئے جبکہ اللہ کا و اضح ارشا د ہے ۔ وَمَا کُناَّ مْعَذِّ بِیْنَ حَتَّی نَبْعثَ رَ سُوْ لاً ﴿ہم کسی کو عذ ا ب نہیں دیتے جب تک ان میں رسو ل مبعو ث نہ فر ما ئیں ﴾ علا مہ بر ہا ن الد ین لکھتے ہیں ۔ ’’ علا مہ ابن حجرا الہیتھی نے کہا ہے روز ِ رو شن کی طر ح وا ضح با ت جس پر کو ئی شک و شبہ کا گر دو غبا ر نہیں یہی ہے کہ اہل فتر ۃ سب نجا ت یا فتہ ہیں۔ اہل ئِ بنی اسر ائیل کے ابنیا ئ کو تو یہ حکم ہی نہیں تھا کہ بنی اسر ائیل سے با ہر کے لو گو ں کو تبلیغ کر یں اور اہل عر ب بنی اسر ائیل سے با ہر تھے ‘‘ ﴿اسیر ۃ الحلبیہ اما م محمد ابو زہر ہ ج ا ص 103﴾ علما ئ کر ام کے نز دیک اہل فتر ت تین طبقوں میں منقسم ہیں پہلا طبقہ وہ ہے جس میںشامل لو گو ں نے اپنی دا نش اور اپنی بصیر ت سے عقید ہ ئِ تو حید تک رسا ئی حا صل کی اور شر ک سے مجتنب رہے۔ جیسے قُس بن سا عد ہ ، زید بن عمر و بن لفیل اور قو م تتبع کے بعض با د شا ہ یہ طبقہ جنتی ہے ۔ دوسرا طبقہ ان لو گو ں کا ہے جنہو ں نے دین ابرا ہیمی کو بگا ڑا ۔شر ک کا را ستہ نہ صر ف خو د اپنا یا بلکہ دو سر وں کو بھی اس را ہ پر چلنے کے لیے مجبو ر کیا جیسے عمر و بن لحی الخز اعی لاور اسکے ہمنوا ۔ یہ طبقہ جہنمی ہے تیسرے وہ لو گ ہیں جو اپنی غفلت اور بے خبر ی کی وجہ سے کسی بھی عقید ہ سے وا بستہ نہ ہو ئے تو حید کی راہ اپنا ئی نہ شر ک کی اس طبقہ کو عذا ب سے مستثنیٰ رکھا گیا اور آیت کر یمہ ۔ ’’وَمَا کُناَّ مْعَذِّ بِیْنَ حَتَّی نَبْعَتَ رَ سُوْ لا‘‘کے مصد اق یہی لوگ ہیں۔ حضو ر �ö کے وا لدین کو بعض علما ئ زما نہ ئ فتر ت میں ہو نے کی وجہ سے نجا ت یا فتہ بتا تے ہیں ۔ مسلک ثانی علما ئ محققین کا دوسرا اگر وہ وہ ہے جو کہتا ہے کہ حضور �ö کے والد ین کا دامن کبھی شر کت سے آلو دہ نہیں ہو ا ۔ وہ دین ابراہیمی پر تھے۔ تو حید اور یو م حشر پر انہیں پورا یقین تھا اور وہ اخلا ق عالیہ کا پیکر تھے۔ علامہ فخر الد ین رازی کا یہی مسلک ہے لکھتے ہیں ۔ �ò ’’ یقینا ابنیا ئ علھیم السلام کے وا لد ین کا فر نہیں ہو تے ۔آزر بھی حضر ت ابرا ہیم علیہ السلام کے وا لد نہیں چچا تھے ، دا دا پر بھی اب کااطلا ق ہو تا ہے اور جہا ں تک حضور �ö کا معا ملہ ہے تو اللہ تعا لیٰ فر ما تا ہے ’’ میری وہ ذا ت ہے جو آپ (ص) کو دیکھتی ہے جب آپ کھڑ ے ہو تے رہے اورجب آپ سجد ہ کر نے والو ں کی پیشا نیو ں میں منتقل ہو تے رہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضور �ö کا نو ر ایک سجد ہ کر نے والی پیشا نی سے دو سر ی سجد ہ کر نے والی پیشا نی میں منتقل ہو تا رہا اس سے واضح ہوا کہ آپ (ص) کے جملہ ابا و اجدا د مسلما ن تھے ‘‘ علامہ جلا ل الد ین سیو طی(رح) لکھتے ہیں۔ ’’ ابو نعیم نے دلا ئل النبو ۃ میں کئی سند و ں سے حضرت ابن عبا س سے رو ایت کیا کہ نبی کر یم �ö نے ارشا د فر مایا کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے مجھے پاک پشتو ں سے پاکیز ہ رحمو ں میںمنتقل فر ما تا رہا۔ ہر آلا ئش سے پاک کر کے ہر آلو دگی سے صاف کر کے جہاں کہیں سے دو شا خیں پھو ٹیں وہا ں اللہ تعالیٰ نے مجھے اس شا خ میں منتقل کیا جو ان دو نوں میں سے بہتر تھی ‘‘ ’’ اما م تر مذی نے یہی رو ایت اپنی کتا ب سنن تر مذی میں اور اما م بیہقی نے اپنی کتاب میں حضرت ابن عبا س سے ان الفا ظ میںنقل کیا ہے کہ رسو ل �ö نے فر ما یا ’’ بے شک اللہ نے مجھے پیدا فر ما یا تو بہتر ین مخلوق میں سے کیا ، قبائل سے بہتر ین قبیلہ میں افرا د میں سے بہتر ین بند و ں سے اور بہتر ین خا ند ان سے پیدا گیا ‘‘ ’’ طبرا نی نے او سط میں حضرت عا ئشہ صدیقہ (رض) سے رو ایت کیا کہ حضور �ö نے فر ما یا مجھے جبر یل نے کہا میں نے دنیا کے سا رے کو نے چھا ن ما رے۔ مجھے بنو ہا شم سے افضل خا ند ا ن اور اے رسو ل محترم �ö آپ (ص) سے افضل انسا ن نہیں دیکھا ‘‘ علامہ سیو طی (رح) یہ رو ایا ت نقل کر نے کے بعد علا مہ ابن حجر کا یہ قول فیصل نقل کر تے ہیں ۔ ’’ یہ با ت صریحا ً‘‘ عیا ں ہے کہ کسی کا بہتر ہو نا ،خدا کا ہر گزید ہ ہو نا ، کسی پسند یدہ قر ا ر دیا جا نا او ر اپنی با ر گا ہ اور اپنی مخلو ق میں افضل قر ار دینا اس حا ل میں نہیں ہو سکتا کہ وہ مشر ک ہو ‘‘ حضور �ö نے غز وہ حنین میں فخر سے فر ما یا انا النبی لا کذ ب انا ابن عبد المطلب ﴿میںنبی ہو ں اس میں کوئی جھو ٹ نہیں میں عبدا لمطلب کا بیٹا ہو ں ﴾ تو اگر عبد المطلب بھی شر ک کے مر تکب ہو تے تو یہ اُس پیغمبر کے لیے کو ئی قا بل ِ فخر با ت نہ تھی جو پیغا م تو حید لے کر آ یا ہو اور جسکی بعثت کا مقصد ہی شر ک کو جڑ سے اکھا ڑ نا ہو ۔ مسلک ثالث

تیسرے مسلک کے علما ئ کہتے ہیں کہ اللہ نے حضور �ö کے وا لد ین کو پھر زند ہ کیاا ور وہ حضور �ö پر ایما ن لے آئے اس گر وہ میں ’’ ابن شا ہین ، خطیب بغدا دی ابو لقا سم سہیلی ، ابو عبدا للہ القر طبی ، محب طبر ی ، علا مہ نا صر الد ین ابن المینر وغیر ھم ‘

﴿مسا لک الحنفا ئ صفحہ 56﴾ دو ر حا ضر کے عظیم محقق اما م محمد ابو زہر ہ نے طو یل بحث کر کے فر ما تے ہیں ۔ ’’ جو شخص یہ کہتا ہے کہ حضور �ö کے وا لدین دو زخ میں ہو نگے ، میں جب اسکی با ت سنتا ہو ں تو میرے ذہن پر ہتھوڑے بر سنے لگتے ہیں اور میرے کا ن جلنے لگتے ہیں ‘‘ ﴿خا تم حضرت اما م محمد ابو زہر ہ ج ا صفحہ 139﴾

غر ضیکہ حضور �öکے وا لدین اللہ کے فضل سے صا حب ایما ن تھے اور انہیں جنت الفر دو س میں اعلیٰ مقا م حا صل ہو گا ۔ 

حضرت ابو طا لب کا ایما ن یہاں ایک اور بحث بھی سامنے آگئی ہے اور وہ ہے حضر ت ابو طا لب کا ایما ن ہم پیچھے کہیں حضور �ö کے لیے جنا ب ابو طا لب کی قر با نیا ں اور ایثا ر کی مثالیں بیان کر تے آئے ہیں انکی ایک ایک قر با نی ایسی ہے کہ حضو ر �ö سے محبت کی قا بل تقلید مثا ل قا ئم ہو جا تی ہے۔ کفا ر کے مقا بلہ میں انہو ں نے ہر جگہ حضور �ö کی تحفظ بخش ڈھال کا کا م دیا۔ شعب ابی طا لب میں گزا ری ہو ئی ایک ایک سا عت خدا کے ہا ں کتنی عظمتو ں کی حا مل ہو گی اس کا ہم تصو بھی نہیں کر سکتے مگر عا م خیا ل یہی ہے انہو ں نے اسلا م قبول نہیں کیا اور ایمان نہیں لا ئے اس لیے انکی بخشش مشکو ک ہے اس سلسلہ میں حا فظہ ابن کثیر ایک وا قعہ بیا ن کر تے ہیں۔ ’’ جب کفا ر حضرت ابو طا لب کے پاس آئے اور انہو ں نے حضو ر �ö کو بلا یا اور مشرکین آپ (ص) کی با تو ں سے ما یو س ہو گئے کہ کسی صو ر ت میں مصا لحت نہیں ہو سکتی تو حضر ت ابو طا لب نے بھیتجے پر نا ر اضگی کا اظہا ر نہیں کیا بلکہ یہ کہا ’’ بھتیجے میں نے نہیں دیکھا کہ تم نے ان سے کسی غلط با ت کا مطا لبہ کیا ہو تو حضور �ö کے دل میں خیا ل پیدا ہوا کہ اب اگر کہا جا ئے تو شا ید ابو طا لب کلمہ پڑ ھ لیں اور مسلما ن ہو جا ئیں مگر آپ (ص) کے کہنے پر انہو ں نے کہا ‘‘ اے میرے بھتیجے اگر ا س بات کا اند یشہ نہ ہو تا کہ میری مو ت کے بعد لو گ تمہیں اور تمہا رے بھا ئیوں کو طعنہ دیں گے کہ تمہا رے با پ نے مو ت کے خو ف سے کلمہ پڑھا ہے تو میں ضر و رکلمہ پڑ ھتا اور صر ف تمہیں خو ش کر نے کے لیے پڑ ھتا ۔ جب مو ت کا وقت قریب آگیا تو حضر ت عباس نے دیکھا کہ ان کے ہو نٹ ہل رہتے تھے ۔انہو ں نے اپنے کا ن لگا دیے اور سُن کر کہا ’’ اے بھتیجے خدا کی قسم میرے بھائی نے وہی کلمہ پڑ ھا ہے۔ جس کے پڑ ھنے کے لیے تم نے کہا تھا ‘‘ حضور �ö نے فرما یا لم اسمع میں نے نہیں سنا ‘‘ ﴿اسیر ۃ النبویہ ابن کثیر ج ا ص 124 تا123﴾ حا فظ ابن کثیر کی عبا ر ت آپ پڑ ھ چکے اب یہ تفا صیل بھی دیکھیئے۔ حضرت ابو طا لب کی زند گی کی شمع بجھنے والی ہے۔ قبیلہ کے سر کر دہ لو گ اکٹھے ہیں اس وقت آپ وصیت کر تے ہیں۔ اے گروہِ قر یش ، تمہیں خد انے اپنی مخلو ق میں سے چن لیا ہے ۔تم عرب کا دل ہو اچھی طر ح جا ن لو کہ تم نے سب سے اچھی صفا ت اپنے اند ر مجتمع کر لی ہیں۔ شر ف اور عزت کے سا رے مدا ر ج تم نے حا صل کر لیے ہیں انہی اوصا ف کی بنا ئ پر دو سری قو مو ں پر تمہیں بر تر ی اور فضیلت ملی ہے ۔ میں تمہیں اس گھر ﴿بیت اللہ ﴾ کی تعظیم و احتر ام کی وصیت کر تا ہو ں کیونکہ اسی میں خدا کی خو شنو دی ہے اسی سے تمہارا دبد بہ قائم ہے اور اسی سے تمہیں معا شی آسا نیاں ملی ہو ئی ہیں۔ قر یبی رشتہ دا رو ں سے صلہ رحمی کر نا قطع رحمی سے بچنا ۔ بغا وت اور سر کشی تر ک کئے ر ہنا کہ اسی سے قو میں بر با د ہو ئیں ۔دعوتیں رد نہ کر نا ، سا ئل کو خالی نہ لو ٹا نا ، کیو نکہ اسی میں زند گی اور مو ت کی عز ت ہے ۔سچ بو لنا ، اما نت میں خیا نت نہ کرنا یہ وہ اوصا ف ہیں جو خوا ص میں محبو ب بنا تے ہیں اور عوا م میں معزز ۔ میں تمہیں وصیت کر تا ہو ں کہ محمد �ö کے سا تھ بھلا ئی کر نا کیو نکہ پو رے قبا ئل قر یش اسے امین و صا دق کہتے ہیں ۔جن اوصا ف کی میں نے تمہیں وصیت کی ہے وہ ان کا جا مع ہے۔ بخد امیں دیکھ رہا ہو ں کہ عرب کے مفلسو ں اور نا دا رو ں نے کمزوروں اور دو ر درا ز کے علا قو ں کے با شند و ں نے اسکی دعو ت قبو ل کر لی ہے۔ اس کے دین کی تعظیم کی ہے گو یا میں دیکھ رہا ہو ں کہ اس دین کی بر کت سے وہ لو گ قر یش کے سر دا ر بن گئے ہیں ۔ اور قر یش جو سر دار تھے پیچھے رہ گئے ہیں ان کے محلات غیر آبا د ہو گئے ہیں۔ عر ب کے سا رے با شند ے اس سے دل کی گہر ا ئیوں سے محبت کر نے لگے ہیں۔ اسکی محبت اور عقید ت میں ان کے دل ڈو ب گئے ہیں انہو ںنے اپنی قیا د ت کی با گیں اس کے ہا تھو ں میں تھما دی ہیں ۔ اے گر وہ ِ قر یش اپنے بھا ئی کے مد د گا ر بن جا ئو ۔ جنگو ں میں اس کے مد د گا ر بن جا ئو۔ خدا کی قسم جو اس کی راہ پر چلے گا ہد ایت پائیگا او رجو اس کے دین ہدا یت کو قبول کر لیگا وہ خو ش بخت اور بلند اقبال ہو جائے گا اگر میری زند گی مجھے مہلت دیتی اور میری موت میں کچھ تا خیر ہو تی تو میں ہر میدا ن میں اسکے سا تھ ہو تا اور اس کا دفا ع کر نا ‘‘ اس وصیت کے بعد آپ کی مو ت وا قع ہو گئی ‘‘ ﴿سبل الہد ٰ ی والر شا د ج 2 ص 565 ﴾

یہ سب کچھ کیا ہے؟ اسکے سا تھ وہ قصا ئد بھی دیکھ لیجئے جو حضور �ö کی شا ن میں حضرت ابو طالب نے کہے تھے ۔ تو کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت ابو طا لب صا حب ِ ایما ن نہیں تھے ۔ حا فظ ابن کثیر پر خدا ر حم کر ے انہو ں نے یہ سب کچھ لکھا مگر پھر کہتے ہیں ۔ 

’’ ابو طا لب ان تما م امو ر میں یہ جا نتے تھے کہ رسو ل �ö صا دق ہیں ،ر اشد ہیں لیکن اسکے با وجو د آپ کا دل ایما ن نہیں لا یا دل کے جا ننے اور ما ننے میں فر ق ہے ‘‘ ﴿اسیر ۃ النبو یہ از حا فظ ابن کیثر ج2 ص124﴾ اس پر شیخ محمد ابو زہر ہ لکھتے ہیں۔ ’’ گو یا ابن کثیر ابو طا لب کے جا ننے کو یہو دیو ں کے جا ننے سے مشا بہت دے رہے ہیں جن کے متعلق قر آن نے کہا ’’یعرفو نہ کما بعر فون ابنأ ھم‘‘ ﴿یہو دی نبی (ص) کو پہچا نتے ہیں جس طر ح اپنے بیٹو ں کو جا نتے اور پہچانتے ہیں ﴾ لیکن اسکے با وجو د ایما ن نہیں لائے تھے۔ میں اجا زت چا ہو نگا کہ حا فظ ابن کثیر کے اس خیا ل کی مخا لفت کر و ں اور جیسے انہو ں نے ابو طا لب کے جا ننے کو یہو د کے جا ننے پر منطبق کیا اسکی تر دید کر و ں ۔ میں کہتا ہو ں یہو د کے جا ننے اور حضرت ابو طا لب کے جا ننے میں زمین آسما ن کا فر ق ہے ابو طا لب کا علم ایسا ہے جس کے سا تھ تصدیق اور یقین پا یا جا تا ہے اور آپ کی سا ری زند گی اور سا رے قصید ے اسکی تا ئید کر تے ہیں اس لییمیں کہتا ہو ں یہ ممکن ہی نہیں کہ حضرت ابو طا لب مشرک ہو ں ‘ ‘ ا س کے بعد شیخ ابو زہر ہ حضرت ابو طا لب کی خد ما ت گناِتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضرت ابو طا لب کے شر ک دشمن ہو نے کا اس سے بڑ ا ثبو ت اور کیا ہے پھر لکھتے ہیں۔ ’’ لیکن اگر کسی کے نز دیک دو سری رو ا یا ت قا بل قبو ل ہو ں تو بھی اسے حق نہیں پہنچتا کہ حضرت ابو طا لب کے حق میں کوئی ناشا ئستہ با ت کہے ان کی بے مثا ل خد ما ت کا صلہ ہمیں یہ نہیں دینا چاہییکہ ہم منبر و ں پر کھڑ ے ہو کر اپنا سا را زور بیان انہیں کافر ثا بت کر نے پر صر ف کر یں۔ اس سے بڑھ کر نا شکر ی اور احسان فر ا مو شی کی اور کو ئی مثا ل نہیں ‘‘ علا مہ محمو د آلو سی لکھتے ہیں ’’ حضرت ابو طا لب کے ایما ن کا مسئلہ اختلا فی مسئلہ ہے اور جو لو گ آپ کے مسلما ن ہو نے کے قا ئل نہیں ان کے لیے بھی یہ جا ئز نہیں کہ اپنی زبان پر کوئی نا ر و اجملہ لے آئیں کیو نکہ اس سے سید نا علی کر م اللہ وجہہ کی اولا د کو اذیت پہنچتی ہے اور یہ کہاں بعید ہے کہ خو د سر و رِ کا ئنات �ö کا دل بھی رنجیدہ ہو تا ہو ‘‘ ﴿تفسیر روح المعا نی سورہ مقص آیت55﴾ اور سب سے بڑی با ت یہ کہ حضرت عبا س نے بھی شہا دت دی تھی قر یش کچھ بھی ہو ں جھو ٹ نہیں بو لتے تھے، حضرت ابوسفیان(رض) کو دیکھو کہ زما نہ ئِ کفر میں بھی نجا شی کے در با ر میں حضور �ö کی صفا ت کا کس طر ح بر ملا اعترا ف کیا ۔ رجو ع الی المو ضو ع با ت مقا م ابو ائ کی زیا ر ت کی ہو رہی تھی اور رہو ا ر ِ قلم دو ر نکل گیا ۔ مگر بے لگا م نہیں ہوا میںاپنے جوش ِ عقید ت کی بنا ئ پر یہ با تیں ضر و ر ی سمجھتا تھا بہر حا ل ذکر حضر ت آمنہ کی وفا ت کا ہو رہا تھا ۔ آپ کے آخر ی الفاظ یہ تھے ۔ ’’ ہر زند ہ مو ت کی وا دی میں اتر یگا ہر نئی چیز پر انی ہو جا ئے گی اور ہر کمال کو زوال ہے میں تو مر رہی ہو ں مگر میر ی یا دیں اور میرے تذکر ے با قی رہیں گی کہ میں نے ایک پاکبا ز بچے کو جنم دیا ہے ۔ ﴿شر ح مو اہب الدینہ از علا مہ زر قانی وسیرۃ دحلدن ج ا ص 66﴾ حضرت آمنہ (رح) کی رو ح قفسِ عنصر ی سے پر و از کر گئی۔ آپ کی کنیز حضرت ام، ایمن نے وہیں آپ کو دفن کر دیا اور حضور �ö کو سا تھ لے کر مکہ آگئیں یو ں ایک سیا ہ فا م حبشی عو رت پر اللہ کا کر م ہوا اور پیغمبر انسا نیت اسکی گو د میں آگیا جسے آگے چل کرانسا نو ں میں رنگ ، نسل ، وطن اور قو میت کے با طل امتیا زات کو مٹا کر عالمگیر انسا نی برا در ی قا ئم کر نی تھی اللہ نے آپ (ص) کو دو مائو ں کی محبت عطا فر ما ئی جنا ب آمنہ (رح) کے بعد حضرت ام ایمن نے بھی آپ (ص) کو اپنی ما ں جیسی محبت شفقت اور جا ں نثا ری دی اور آپ نے بھی ہمیشہ انہیں ما ں ہی سمجھا ۔ اما م محمد ابو زہر ہ لکھتے ہیں۔ ’’ ایک دفعہ آپ (ص)نے سنا کہ آپ کے ایک صحا بی نے کسی کو عا ر دلا تے ہو ئے کہا ۔ یا ابن السو دا ئ ﴿اے کا لی ما ں کے بچے ﴾ اس پر حضور �ö بو ل اٹھے ۔ ﴿پیما نہ چھلک گیا ، پیما نہ چھلک گیا ، پیما نہ چھلک گیا ، کسی سفید رنگ والی ما ں کے بیٹے کو کسی کالے رنگ والی ماں کے بیٹے پر کوئی فضیلت نہیں، فضیلت کا معیا ر تقوٰ ی ہے محمد سفید رنگ والی ما ں کا بیٹا ہے اُسے کالے رنگ والی ما ں نے پالا، پس وہ ایک سا تھ دونوں کا بیٹا ہے ﴾ ﴿خاتم النبیین ج ا ص131﴾ مدنیہ شر یف سے جو سڑک مکہ جا تی ہے اس پر مدینہ شر یف سے 208میل ،کلو میٹر کے فا صلہ پر ایک منزل مستور ہ ہے ۔وہا ں سے سڑ ک چھو ڑ کر چا ر کلو میٹر پیچھے۔ مد ینہ کی جا نب آکر ریگستا ن میں چلنا ہو تا ہے جو بالکل مشر ق کی سمت ہے ابوا ئ یہاں سے تیس کلو میٹر کے فا صلہ پر ہے یہاں چھو ٹی چھو ٹی پہا ڑیا ں ہیں بالکل سا منے والی پہا ڑی کی چو ٹی پر حضرت آمنہ (رح) کا مزا ر ہے دس پند رہ منٹ میں آدمی پہا ڑ ی کی چو ٹی پر پہنچ جا تا ہے کہتے ہیں پہلے مزا ر شر یف میں نہا یت شا ند ا ر قبہ تھا سا منے مسجد بھی تھی یہ دو نو ں عما رتیں نجد ی حکومت نے گرا دیں پھر اہل مکہ نے بنا دیں اور حکومت نے گرا دیں اب وہاں کالے پتھر و ں کی ڈھیر ی ہے اس کے اردگر د ایسے ہی پتھر وں کو جو ڑ کر چا ر دیو اری بنا دی گئی ہے ۔ اس علاقہ میں پا نی بالکل نہیں۔ یہاں جا نے والے پا نی سا تھ لے کر جا تے ہیں یہاں سے تین میل کے فا صلہ پر بستی ابوا ئ ہے یہاں بکثر ت سبز یا ں اور با غا ت ہیں یہ سبز یا ں مدینہ منورہ ٹر ک کے ذر یعے لا ئی جا تی ہیں اسی بستی میں آکر حضرت آمنہ (رح) طاہر ہ بیما ر ہو ئیں۔ اور تھو ڑی سی علا لت کے بعد فو ت ہو گئیں ۔ حضر ت بی بی آمنہ (رض) کے مزا ر پر انوا ر پر بڑی تجلیا ت ہیں جنہیں اہل بصیر ت سمیٹ سکتے ہیں یہاں ہمیں بے انتہا ر و حانی سکون نصیب ہو ا۔








سفر سے واپسی

سفر ِ حج اختتا م پذیر ہو ا ۔اللہ کی مہر بانی سے تیر ہ سا تھیوں کے سا تھ بصحت و سلامتی وا پسی ہو ئی یہ پہلا سفر ِ حج تھا یہ سفر جسما نی ہی نہیں رہا رو حا نی بھی رہا جی بھر کے زیا ر ت کیں اور جہا ں بھی گئے ذہن پر ا س مقا م کی پو ر ی تا ریخ قد م قد م گز ر تی رہی عا لمِ خیا ل میں ہم صدیو ں کوپھلا نگ کر اسی عہد سے پہنچ جا تے تھے اسی لئیے میں نے سفر نا مہ لکھا تو سا تھ پو ر ی تا ریخ بھی لکھنے کی کوشش کر تا گیا ۔ اور اپنی ذہنی وا ر دا ت بھی ۔ سفرِ حج کا سب سے بڑ ا فا ئدہ یہی ہے کہ حضور �ö کی پو ری تبلیغی زند گی آنکھوں کے سا منے پھر نے لگتی ہے اور ان دما غو ں کر تحر یک ملتی ہے اور تحریک کے لیے رہنما ئی بھی ملتی ہے جو دما غ اپنے اند ر تبلیغی جو ش رکھتے ہیں۔ میں بھی چو نکہ اسی را ہ کا راہی ہوں مجھے تواس سفر سے نئی زند گی نصیب ہو ئی۔ دل میں ولولے جوا ن ہو ئے امنگو ں میں جولا نی آئی۔ حضور �ö کی جگر کاویوں اور جا نفشا نیوں کا تصو ر پیش نظر رہا اور رو ح ندا مت سے کا نپتی رہی کہ اس دور میں جب ہمیں ہر طر ح کی آسا نیاں اور سہولتیں میسر ہیں ۔مخا طب تعلیم یا فتہ ہیں ان میں وہ وحشت اور بر بر بت نہیں ۔ ہم لو گ فر یضہ ئِ تبلیغ کی ادا ئے گی میں کتنی کو تا ہی سے کا م لے رہے ہیں کیا ہمیں اس کا حسا ب نہیں دینا پڑے گا ۔ آج ذر ائع رسل و رسا ئل ایسے ہیں کہ ایک لمحہ میں با ت ساری دنیا تک پہنچ جا تی ہے اور ہم دو سر و ں کو تو کجا اپنے آپ کو بھی مسلما ن نہیں بنا سکتے ۔ ہما ری زند گیا ں شر مند گیا ں بن چکی ہیں۔ سفر ِ حج سے لو ٹنے والا یقینا ایک نیا انسا ن بن کر لو ٹتا ہے ،بشر طیکہ یہ سفر اس نے دل و دما غ کی پوری بیدا ر ی کے سا تھ کیا ہو۔ میں نے سفر نا مہ میں کئی مذہبی بحثیں چھیڑ ی ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ بحثیں غیر متعلق نہیں ہما ری محفلو ں میں یہ سا ری بحثیں چھڑتی رہیں تما م مو ضو عا ت زیر گفتگو رہے ہر ایک نے اپنے علم کے مطا بق ان بحثو ں میں حصہ لیا میں نے سب احبا ب کی دا نشورانہ اور عا لما نہ با تو ں کو یکجا کر کے مقا لا ت کی شکل دے کر سفر نامے کا حصہ بنا لیا۔ سفر کوئی بھی ہو اس میں ایک فا ئد ہ یہ بھی ہو تا ہے کہ نئی نئی زمینو ں کے سا تھ نئے نئے آدمیوں سے بھی تعا رف ہو تا ہے نئی نئی صحبتو ں کے فیضا ن بر ستے ہیں۔ ہما رے سفرِ حج میںایسے کئی اصحا ب سے ہم متعا ر ف ہوئے جو بلا شبہ اولیا ئ اللہ تھے اور جن کی صحبت وہی صحبت تھی جس کے متعلق مو لا ئے رو م نے فر ما یا �ò یک زما نہ صحبتے با اولیا ئ بہتر از صد سا لہ طا عت بے ریا ئ کئی دو ستو ں کی رفا قتیں حاصل ہو ئیں۔ اور انکی یا دیں دل و دما غ پر نقش ہوتی گئیں۔ جب تنہا ئی کے مہر با ن لمحے آئیں گے یہ یا دیں گھٹا کر کے آئینگی ۔ اور دل سے دو ر دو ر تک رو شنیا ں پھیل جا ئینگی ۔ نمبر دا ر دیو ان علی چو دھر ی ، صد ر دین چو دھر ی ، عبد الر شید آف بو ڑ ، چو دھر ی ولا یت علی آف رجپال ، او ر پیر علا ئو الد ین صدیقی سے جو مذہبی بحثیں رہیں وہ کون فر امو ش کر سکتا ہے ۔ مشر قی پاکستان کے مو لا نا وقا ر الد ین جو مو لا نا سر دا ر احمد لا ٹلپور ی مر حو م کے ہمد ر س رہے ان سے ملا قا ت مغتنما ت میں سے ہے ۔ بر یڈ فو رڈ کے مشہور مذہبی کا رکن مستری خا دم حسین کو کو ن بھو ل سکتا ہے ۔پھر را و لپنڈی کے مو لا نا محمد رضا صا حب بھی اپنی رفا قت کی نا قابل فرا مو ش یا دیں بطو ر اما نت میرے حو الے کر گئے۔ اے خدا ئے بز ر گ و بر تر ان احبا ب کو عز ت ، صحت اور سلا متی ئِ ایما ن سے نوا ز او ر مجھ گنہگا ر کو تو فیق دے کر تیرے حبیب �ö کے نقش قدم پر چل سکو ں

اگر با و نر سید ی تمام بو اللہبیست کیونکہ اے پر و ر د گا ر تیرا ہی فر ما ن ہے لقد کان لکم فی رسو ل اللہ اُسو ۃ حسنہ ________________






دو سرا سفرِ حج

پیر صا حب کی اس سفر میں رو انگی 19 دسمبر 1972 �÷ کو ہو ئی اور واپسی 20 جنو ر ی1973 �÷ کو ہو ئی۔ زیا رت کے تما م مقا ما ت پہلے سفر حج کے تفصیلی ذکر میں آگئے ہیں اس سفر میں بعض مقا مات کی دو با ر ہ زیا رت کی عبا دا ت پر زیا دہ زور رہا انکی کو شش رہی کہ ایسے علما ئِ عا لم سے ملا قا تیں ہو ں جن کے دل درد مند ہو ں اور اختلا ف و افترا قِ امت پر خو ن کے آنسو رو تے ہوں ۔ شکر ہے کہ اس سفر میں یہ حسر ت پو ری ہو ئی ۔ ایسے احبا ب مل گئے جو حج کے مقصد ِ خا ص سے آشنا تھے جن کی رو حیں بیقرا ر تھیں اور دل اشک با ر تھے جو ملت کے سچے غمگسا ر تھے اورچا ہتے تھے کہ ا متِ مسلمہ کی نشأۃِ ثا نیہ ہو۔ مسلما ن ایک دفعہ پھر میدا ن میں آکر ٹھو کر یں کھا تی ہو ئی انسا نیت کو پیغمبر ِ رحمت کے در و ازے پر لیجا نے کی سبیل سو چیں کہ اس در و ا زے کے بغیر کو ئی ایسا در و ا زہ نہیں جہا ں انسا نیت کے زخمو ں کا علا ج ہو سکے  �ò
وہی دیر ینہ بیما ری ، وہی نا محکمی دل کی                علاج اس کا وہی آبِ نشا ط انگیز ہے سا قی

خدا کے فضل سے بہت سے سر کر دہ علما ئ کا اجتما ع ہو گیا سب یہی کہہ رہے تھے �ò سبب کچھ اور ہے تو جس کو خو د سمجھتا ہے زوا ل بند ئہ مو من کا بے زر ی سے نہیں بے زر ی اور افلا س کیسا کہ محمد پا ک �ö کے خدا نے جز یر ئہ عر ب کے صحرا ئو ں کو سیا ل اور منجمد سو نے سے بھر رکھا ہے اور یہاں کے لو گو ں کو اتنی دو لت عطا کر دی ہے کہ انہی کی دو لت سے یو رو پ اور امر یکہ کے بینک چل رہے ہیں اور وہ مزید کر م کے با دل بھیجتا چلا جا تا ہے شر ط یہ ہے کہ �ò کی محمد (ص) سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہا ں چیز ہے کیا لو ح و قلم تیرے ہیں اسی سفر مین ورلڈ اسلامک مشن کا قیا م عمل میں آیا جو صر ف حضرت معر و ف شا ہ صا حب کی زند گی ہی نہیں پو ر ی تا ریخ دعوت و عز یمت میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ورلڈ اسلامک مشن کی تفا صیل اپنے مقا م پر آرہی ہیں۔

تیسرا سفرِ حج اس سفر میں حضرت پیر صا حب 23 ما رچ 1979 �÷ کو جد ہ پہنچے۔ 25 ما رچ کو کچھ کتا بیں خر ید یں اور مد ینہ منو ر ہ چلے گئے ۔محمد یو نس نو شا ہی ہمرا ہ تھے ۔ایک ضر و ر ی چیز جس کا تذ کر ہ پہلے نہیں آیا یہ ہے کہ حضرت پیر صا حب جس سفر پر جہا ں بھی گئے انکی تو جہ کا مر کزِ خصو صی کتب خا نے اور کتب فروشو ں کی دکا نیں رہیں ۔ مد ینہ منو ر ہ پہنچے تو تین کتب خا نے دیکھے ۔23 سو ریا ل کی کتا بیں خر ید یں اور پھر احبا ب سے ملا قا تیں کر تے رہے پھر بعض مقا ما تِ زیا ر ت پر دو با ر ہ حا ضر ی دیتے رہے ۔3 اپر یل کو پھر مکہ مکر مہ کی طر ف رو انہ ہو ئے ۔ مکہ شر یف سے پھر کتا بو ں کی خر یدا ری ہوئی اور پا نچ بنڈ ل بنا کر بر یڈ فو ر ڈ ارسا ل کر دیے۔ 15 اپر یل بر و ز منگل منٰی میں خیمو ں میں آگ لگ گئی۔ پیر صا حب کے سا تھ طا ر ق مجا ہد نو شا ہی تھے اس وقت جب مصیبت زدہ لو گ جا ن بچانے کی فکر میں انتہا ئی افرا تفر ی کے عالم میں بھا گ رہے تھے ۔ پیر صا حب اور انکے سا تھی لو گو ں کا سا ما ن اٹھا تے اور جس حد تک ممکن تھا لوگوں کی مد د کر تے رہے اپنے قا فلے والو ں سے بچھڑگئے تھے را ت پہا ڑ پر گز ا ر ی جہا ں ہر طر ف ویرا نی کا عالم تھا جنگلی جا نورو ں کا خو ف تھا بھیڑ یو ں نے وہا ں بھیڑ یں وغیر ہ پھا ڑ رکھی تھیں طا ر ق مجا ہد نو شاہی کا بیا ن ہے کہ اس ویر ان اور خو فنا ک جگہ پر پیر صا حب یکسو ئی سے عبا د ت کرتے رہے ۔ہا ں اگر انہیں پر یشا نی تھی تو یہی کہ اگر جا ں چلی گئی تو کو ئی با ت نہیں مگر لو گو ں کی جو اما نتیں انکے پا س ہیں کہیں ان کے پیچھے ان میں خیا نت نہ ہو جا ئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کر م سے حفا ظت فر ما ئی صبح پہا ڑ سے اتر کر اپنے قا فلے والوں سے جا ملے وہ سب لو گ پر یشا ن تھے کہ کہیں حضرت صاحب او رانکے سا تھی طا ر ق صا حب شعلو ں کی لپیٹ میں نہ آگئے ہو ں ۔ پیر صا حب کو اور انکے سا تھی کو صحیح سلا مت وا پس آتے دیکھا تو سب کی پر یشا نی دو ر ہو ئی۔ پیر صا حب نے انہیں وا قعات سنا تے ہوئی بتا یا کہ بیچا ر ی عو ر تیں جو اس بد حو اسی اور افرا تفر ی میں اپنے قا فلو ں سے بچھڑ گئی تھیں سو یر ے بہت پر یشا ن تھیں ہم انہیں قا فلوں تک پہنچا کر آپ لو گو ں کے پا س آئے ہیں سب نے اللہ کا شکر ادا کیا ۔


چو تھا سفرِحج

16 مئی 1993 �÷ کو شر و ع ہو ا ور بخیرو عا فیت 15 جو ن 1993 �÷ کو اختتا م پذ یر ہو ا۔





سفرِ عرا ق اس وقت تک حضرت پیر معر و ف شا ہ صا حب تین با ر عرا ق جا چکے ہیں خو اجہ خو اجگا ن شیخ الکل پیر محبو ب سبحا نی حضرت شیخ عبد القا در جیلا نی کے مزار کی زیا ر ت ایک حسر ت بنکر اہل سنت کے ہر فر د کے دل میں ہمیشہ مو جو د رہی ہے اور پیر صا حب کا تو تعلق بھی اسی خا نوا دہ سے ہے جسے سلسلہئِ عا لیہ قا دریہ کہتے ہیں۔ اس لیے انہیں تو بچپن سے یہی خو اہش تڑ پا رہی تھی ، اللہ تعا لیٰ نے سا ما ن بھی پیدا کر دییاس لیے کشاں کشاں عراق گئے یہاں صر ف شیخ عبدالقا د ر جیلا نی کا ہی مز ا ر نہیں یہاں تو قد م قد م پر آفتا ب و ما ہتا ب دفن ہیںاس لیے انہو ں نے کو شش کی کہ تما م زیا ر ا ت سے مشرّ ف ہو ا جا ئے ۔ پیر صا حب نے عرا ق کے تینو ں سفر ڈا ئر ی میں قلمبند کئے ہیں ہم نے انہیں یکجاکر کے یہ با ب مر تب کیا ہے اور چو نکہ الفا ظ زیا دہ تر انہی کے ہیں۔ اس لیے انہیں خو د نو شت سفر نا مہ کی صور ت دے دی ہے ۔ خیا ل رہے کہ حضرت پیر صا حب کا ہر سفر محض اسلا م کی خا طر رہا ہے ۔ یو نہی سی سیر و سیا حت مقصو د نہیں تھی اس لیے انہوں نے شہر و ں کے دیگر تاریخی مقا ما ت پر اعا ظم و اکابر کے مقبرو ں کی زیا را ت کو تر جیح دی ہے ۔ اس لیے کہ یہ سفرنامے او لیا ئ کے مقا بر کی زیا رات کے لیے ایک گا ئیڈ بک بھی ہیں اور دنیا پر آخر ت کو مقد م ٹھہر ا نے والے نفو س قد سیہ کے تذ کا ر جلیلہ کا مر قعِ نُو ر بھی ، انہو ں نے کہیں کہیں بعض مسا ئل پر بھی اپنے دلکش اور دلنشین انداز میں رو شنی ڈا لی ہے یوں ان سفر نا مو ں کی اہمیت اور بھی بڑ ھ جا تی ہے کیو نکہ وہ قا ر ی کو بھی اس سفر میں شر یک کر لیتے ہیں۔ اور اسے سمجھا تے بھی جا تے ہیں کہ اسلا م کیاہے اور وہ ہم سے کیا کیا مطا لبے کر تا ہے۔ ان سفر نا مو ں میں کہیں بھی فر قہ وا را نہ تعصب کی کو ئی علامت نہیں ملتی وہ تما م مسلما نو ں کے سا تھ کشا دہ دلی اور خند ہ جبینی سے با ت کر تے ہیں۔ اپنی اور ہما ری معلو ما ت میں اضا فہ کے لیے بڑی وسیع الظر فی سے دو سر ے فر قو ں کے اکا بر کی تعظیم کر تے اور انکی با تو ں سے مستفید ہو تے ہیں۔ ایک سچے اور کھر ے مسلما ن کی طر ح ﴿خُذ�: مَا صَفَا دَ ع�: مَاکَدِرْ ﴾ان کا اصو ل ہے اور یہی اصول سفر نا مو ں میں انکے پیش نظر رہا ہے۔ ان کی زبا ن صا ف ہے اور تحر یر سا دہ کیو نکہ انکے ذہن میں کوئی گنجلک پن نہیں کو ئی گنجھل نہیں۔ انہو ں نے اپنے محسو سا ت بھی بڑی سلیس اور رو اں زبا ن میں بیا ن کر دیے ہیں۔ انہیں سیا ست میں پڑ نے کی عا د ت نہیں، وہ جا نتے ہیں کہ سیا ست انسا نی حقو ق کے حصو ل کی کو شش ہے اور جب انسا ن کو اپنے حقوق وفر ائض کا علم حاصل ہو جا ئے تو سیا ست خو د بخو د پا کیز ہ را ہو ں پر گا مز ن ہو جا ئے گی ۔ اس لیے ان کا ہر سفر اور ان کا ہر سفر نا مہ انکے تبلیغی مشن سے ہم آہنگ ہے اور انکا تبلیغی مشن یہی ہے کہ دل و نگا ہ مسلما ن تو کچھ بھی نہیں







سفر نامۂ عراق

ہما را پہلا سفر عرا ق جو رفیق محتر م مو لا نا لیا قت حسین نو شا ہی کی معیت میں ہو ا ۔حکو متِ عراق کی طر ف سے الا قصیٰ کا نفر نس میں شر کت کی دعو ت پر ہو ا۔ ہم 20 جون 1987 �÷ بروز ہفتہ بغدا د پہنچے وزا ر تِ اوقا ف کی طر ف سے دو آدمی ہمیں لینے کے لیے آئے ہو ئے تھے ۔ منسٹر ی کے لو گو ں نے ہمارے لیے پر و گرا م تر تیب دے رکھا تھا ہم نے پر و گرا م میں کچھ تبد یلیا ں تجو یز کیں جو منظو ر کر لی گئیں۔ ہمیں زیا ر ا ت پر لیجا نا وزار تِ اوقا ف کے لو گو ں کے ذمہ تھا جنہو ں نے اپنی ذمہ دا ر ی بطر یقِ احسن نبھائی ۔ ہم پہلے اما م مو سیٰ کا ظم اور اما م محمد جو ا د کے مز ارات پرگئے۔جن لو گو ں نے تا ریخ کا مطا لعہ کیا ہے ،بخو بی جا نتے ہو نگے کہ سید نا اما م جعفر صا د ق کی ذا ت با بر کا ت اسلامی تا ریخ میں خا صی اہمیت کی حامل ہے شیعہ اما میہ اثنا عشر ی، انہیں اپنے مذہب کا مد و ن خیا ل کر تے ہیں۔ صو فیا ئ ان کو مشا ئخ طر یقت میں شیخ الشیو خ کا اعلیٰ تر ین مر تبہ دیتے ہیںان کے شا گر دو ں کی فہر ست بڑی طو یل ہے مختلف شعبہ ہائے علم کے لو گ ان سے کسب فیضِ حا صل کر تے رہے۔ بتا یا جا تا ہے کہ اہل سنت کے اما م اعظم ابو حنیفہ اور جنا ب اما م ما لک بن انس فقہ میں انکے شاگر د تھے، ان کے سا تھ ہی تصو ف اور علم کیمیا ئ کے مصر وف عالم و عا مل جا بر بن حیا ن بھی انہی کے فیض یا فتہ تھے ۔ ان کے علا وہ کثیر مشا ہیر کو ان کے تلا مذہ میں شما ر کیا جاتاہے ۔ان میں سے کسی کا نسبِ تلمذ صحیح ہو یا غلط ، یہ بہر حا ل ثا بت ہے کہ حضرت اما م جعفر صا د ق اپنے ہم عصر لو گو ں پر بہت اثر انداز ہو ئے۔ خواجہ فر ید الد ین عطا ر نے اپنی کتا ب تذ کر ہ الا ولیا ئ کا آغا ز تبر کا ً و تیمنا ً انہی کے ذکر سے کیا ہے۔ علا مہ شہر ستا نی نے اپنی کتا ب ’’ الملل و النحل ‘‘ میں ان کے کما لا ت اور زہد و تقوٰی کا بڑی شا ن سے ذکر کیا ہے۔ غر ض مسلما نوں کے تمام فر قے اس با ت پر متفق ہیں کہ و ہ زبر دست شخصیت کے ما لک تھے شیعہ اما میہ اپنے شر عی معاملا ت میں ان سے استناد کر تے ہیں۔ باطنیہ اپنے عطا ئبا ت کو ان سے منسوب کر تے ہیں۔ جابر بن حیان، حضرت ذو النو ن مصر ی اور دیگر ممتا ز صو فیا ئ انہیں اسرارِ خفی و جلی کا معلم قرا ر دیتے ہیں۔ دیگر علوم عجیبہ کے سا تھ قرآن حکیم کی با طنی تاویل جس کا اسمعٰیلی اور صو فی روا یا ت میں ذکر آتا ہے اسی طر ح حر و ف و اعدا د سے مستقبل کے حا لا ت معلو م کر نے کاوہ طر یقہ جسے علم ِ جعفرکہا جا تا ہے ۔ ان دو نو ں کا ما خذ بھی سید نا جعفر صا دق کی ذ ات کو ہی تسلیم کیا جا تا ہے ۔ اما م مو صو ف زند گی بھر فر قہ وا را نہ سیا ست سے با لا تر رہے ان کے دو فر ز ند نا مو ر ہیں۔ مو سی ٰ کا ظم اور اسمعیل ۔ثا نی الذکر کی وا لد ہ حضر ت اما م حسن (رض) کی پو تی تھیں ۔کہتے ہیں کہ اما م جعفر صا دق نے پہلے اسمعٰیل کو اپنا وصی نا مز د کیا تھا مگر ان سے ناخوش ہو کر جنا ب مو سیٰ کا ظم کو وصی مقر ر کر دیا ۔ جمہو ر کہتے ہیںاسمعٰیل حضرت اما م جعفر صا دق کی زند گی میں ہی فو ت ہو گئے تھے اس لیے مو سیٰ کا ظم و صی اور اما م ہیں۔ اسمعیل مذکو ر سے آگے اسمعٰیلی فر قہ چلا ۔ ہمیں ان بحثو ں سے کوئی مطلب نہ تھا ہم اما م مو سیٰ کا ظم اور امام محمد جو اد کے مزا ر ات پر اپنی محبت کے تحت حا ضر ہو ئے ۔یہ کئی کنا لو ں پر پھیلے ہوئے میدان میں ہیں۔ چا ر و ں طر ف شا ند ر حو یلی ہے صحن میں سفید سنگِ مرمر لگا ہو ا ہے دروا زو ں پر گنبد و ں پر سو نا لگا ہو ا ہے ۔کئی لوگ مزار کے خا دم ہیں الشیخ ا لفا ضل علی الکلیدا ر، رو ضے کے امو ر کے انچا ر ج تھے بڑے عالم آدمی تھے ان سے بڑی دیر تک گفتگو رہی ۔ بہت سے مو ضو عا ت زیر ِ بحث آئے ان سے ہی معلو م ہو ا کہ عباسی علو ی اور فا طمی علوی کے درمیا ن نکا ح ہو تے ہیں اور یہ سب اہل بیت نبو ی شما ر ہو تے ہیں ان میں با ہمی تعصب یہا ں بہت کم ہے ۔انہو ں نے ایک اور بات بتا کر ہما رے علم میں اضافہ کیا کہ علوی اور سا دا ت مو سو ی سیا ہ پگڑ ی با ندھتے ہیں ۔ سا دات حسنی و حسینی سبز اور عم رِسول حضرت عبا س کی اولا د سفید پگڑی استعمال کر تی ہے ۔ اسکے بعد ہم حضرت اما مئِ ا عظم ابو حنیفہ کے مزا ر پر گئے۔ یہ محلہ با ب الشیخ سے تقر یبا ً 8 کلو میٹر دو ر دجلہ کے پل کے اس طر ف وا قع ہے۔ اس محلہ کا نا م اعظمیہ ہے اور یہا ں کے لو گو ں کو اعظمین کہتے ہیں ۔لب سٹر ک کما ن نما د یوار ہے تین شا ندا ر کما نیں بنتی ہیں اندر وسیع صحن ہے جس کے کنارے پر بہت شا ند ر ٹا ور ہے۔ یہ بہت اونچا ہے اس میں چاروں طر ف گھڑ یا ل نصب ِ ہیں جو دو ر سے نظر آتے ہیں دو سرے کنا رے پر مینار ہے جس پر گو ل دا ئر ہ کی شکل میں ٹیوبیں نصب ہیں مینا ر کی چو ٹی پر نیلی ٹیو بو ں سے بہت جلی حرو ف میں ’’ اللہ ‘‘ بنا یا گیا ہے۔ کئی در و ا زے طے کر کے امام صا حب کے مزا ر تک پہنچتے ہیںمز ا ر کے گر د چا ند ی کا کٹہر ا ہے اس میں اما م اعظم کی قبر شر یف ہے ۔یہ قبر ایک بڑے ہا ل کے کمر ہ میں ہے کمرہ بھی بہت خو بصو ر ت ہے۔ امام اعظم کی قبر شریف قبو لیت دعا کے با عث مر جعِ خلا ئق ہے۔ یہا ں اما م شا فعی بھی اپنی حا جت رو ائی کے لیے آتے تھے شا ید ہی کسی عالم کا مزا ر اتنا پر شو کت ہو ۔یہا ں ایک ہیبت اور دبد بہ سا ہے۔ یہ علم و حکمت کا رعب ہے جو اند ر دا خل ہو نے والے کے دل پر طا ر ی ہو جا تا ہے ۔ یہا ں وہ اما م سو رہا ہے جس نے حد یث میں رو ایت کے سا تھ در ایت کا معیا ر بھی دیا ۔ علم ِ فقہ کی شمعیں روشن کیں اور کتاب و سنت پر مبنی قو انین تر تیب دیے۔مزا ر کے سا تھ ہی عظیم الشا ن مسجد ہے یہا ں کے انچا ر ج اما م اور خطیب کئی کتا بو ں کے مصنف ڈ اکٹر شیخ عبدالغفا ر سے ملا قا ت ہو ئی ۔بڑ ے ملنسا ر اور خو ش اخلا ق آدمی ہیں ۔اللہ انہیں سلا مت رکھے ۔ سا تھ ہی دجلہ کا پل ہے ۔اس پل کو جسرِ آئمہ کہتے ہیں کیو نکہ کہ یہاں کئی آئمہ کے مزا ر قر یب قریب ہیں ۔اسی پل کے کنا رہ پر حضرت اما م احمد بن حنبل کا مزا ر بھی تھا ۔ جو ا ب در یا بر د ہو کر بہہ گیا ہے۔ ایک کنا رہ پر اما م اعظم دو سرے پر کنا رے پر اما م ابو یو سف ، اما م مو سیٰ کا ظم اور اما م محمد جوا د ابن اما م رضا کے مز ار ہیں۔ ہم یہا ں سے آگے بڑ ھے دجلہ کا پل پا ر کیا تو سامنے کا ظمین شر یف ہے بڑی شا ندا ر عما ر ت ہے یہا ں زا ئر ین کا بے پنا ہ ہجو م رہتا ہے ۔ اس عمارت کے چا ر مینا ر اور دو خو بصو رت گنبد ہیں اندر تما م دیوا ر و ں اور چھتو ں پر شیشے نصب ہیں ہم ذکر کر آئے ہیں کہ اند ر اما م مو سیٰ کا ظم اور امام محمد جو ا دبن ر ضا کی قبر یں ہیں۔ اس عما ر ت کے با ہر محقق نصیر الد ین طو سی کی قبر ہے یہاں سے نکلیں تو با ئیں طر ف اما م اعظم کے مشہو ر شا گر د اور فقہ حنفی کے ستو ن اما م ابو یو سف کا مزا ر ہے یہاں ایک شا ندا ر مسجد ہے۔ مسجد کے با ئیں جا نب ابو یو سف کے مز ار کا قبہ ہے۔ مسجد سے متصل ایک کتب خا نہ ہے جسے مکتبہ ابو یو سف کہا جا تا ہے ۔یہا ں کے امام نے بکما ل نو از ش ہمیں کچھ کتا بیں تحفہ کے طو ر پر دیں۔ یہا ں ایک وضا حت کر تا چلو ں کہ حضرت اما م اعظم کے مز ار سے ملحقہ مسجد میں ہم نے ظہر کی نما ز ادا کی اور اذا ن سُنی ، اذا ن کے بعد مؤ ذ ن نے درو د شر یف پڑ ھا اور بلند آواز سے الصلوٰ ۃ وا لسلا م علیک یا رسو ل اللہ کہا اس مسئلہ پر پاکستان میں اور دیگر مسلما ن مما لک میں ہو نے والی اختلافی معر کہ آر ائیا ں یا د آگئیں اور پھر سعو د ی عر ب میں جتنی شد ت ہے وہ یا دآئی عجیب بات ہے سعو دی حکو مت حنبلی المسلک ہے مگر میں نے ’ ’ ا لفقہ علی المذ اہب الا ربعہ ‘‘ جیسی مستند اور جد ید ترین تحقیقی کتا ب میں پڑ ھا ہے کہ با ب الا ذا ن میں اما م ابو حنیفہ ، اما م مالک ، اما م شا فعی کے مسا لک میں اذا ن کا طریقہ بتا یا تو اذا ن کے الفا ظ لکھ دیے اور بس مگر اما م احمد بن حنبل کا طر یقہ بتا یا تو اذا ن کے الفا ظ بتا کر لکھا ’’زاد الصلوٰ ۃ بعدالا اذان‘‘ ﴿اذا ن کے بعد صلو ٰۃ یعنی درود کا اضا فہ کیا جا ئے﴾ اور وہی حنبلی کہلا نے والے اذا ن کے ،بعد الصلو ۃ و السلام علیک یا رسو ل اللہ کہنے پر مر نے مارنے پر آما دہ ہو جا تے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم مسلما نو ں کو معا ف فر ما ئے ،ہم نے اتحا د و اتفا ق کی تو کوئی با ت نہ سو چی اختلا ف ،افتراق کی لا کھوں باتیں نکا ل لیں اور سر پھٹو ل کر نے لگے۔ برا بر میں با ئیں جا نب ایک قبر ستا ن ہے۔ اسکے آخر ی کنا رہ پر شیخ شبلی (رح) کا مزا ر ہے۔ وہاں ایک خا دم جس کا نا م طا ر ق تھا بہت سی قبر و ں سے گزار کر لے گیا ۔در با ر بند تھا صر ف جمعرا ت کو کھو لا جا تا تھا ۔ ہما رے لے کھو لا گیا وہا ں فا تحہ پڑھنے کی سعا د ت حا صل کی ۔ جنا ب بشر حا فی کے مز ار پر حا ضر ی دی ۔ ابو الحسن نو ر ی کے مز ار کی زیا ر ت کی ۔ پھر حضرت شیخ شہا ب الد ین سہرور دی المعر وف شیخ عمر کے مز ا رپر گئے ۔ یہا ں ایک عظیم الشا ن مسجد ہے ۔مسجد کے گو شے میںحضرت شیخ کا مز ار ہے ۔جا لیو ں کے کٹہر ے میں مز ا ر شر یف ہے ۔ یہ جگہ بغدا د میں ہی ہے اور باب الشیخ سے چا ر میل کے فا صلہ پر ہے۔ شا رع رشید کے متصل ہے ۔یہا ں سے رخصت ہو کر حضرت معر و ف کر خی (رح) کے مزا ر پرُ انوار پر حاضر ی دی۔ یہ مز ار بڑے کشا دہ اور وسیع قبر ستا ن میں ہے۔ قبر ستا ن کی وسعت کا اند از ہ اس سے لگا ئیے کہ اس کے در میا ن ایک پختہ سڑ ک ہے ۔ جس پر موٹریں چلتی ہیں اس سڑ ک کو پا ر کر کے ہم خلیفہ ہا رو ن الر شید کی نا مو ر نیک دل اور پاکباز ملکہ زبیدہ کے مزا ر پر گئے۔ یہ وہی ملکہ ہے جس کا ایک بڑ ا اور سعا د تمند ا نہ کا ر نا مہ یہ ہے کہ اس نے نہر کے ذر یعہ مکہ مکر مہ میں پا نی پہنچا یا ۔ یہ نہر منٰی ، مزد لفہ ، عر فا ت ہر جگہ مو جو د ہے اور اسے نہر زبیدہ ہی کہا جا تا ہے ۔افسو س اب اس نہر کی قرا ر وا قعی دیکھ بھا ل نہیں کی جا رہی ۔ ملکہ کی قبر بڑی اونچی جگہ ہے۔ بر جی پر دو سر خ رنگ کے بلب روشن ہیں قبر کے اردگر د نجا ست دیکھ کر ہمیں بہت افسو س ہوا جو لو گ اپنے پُر کھو ں کے سا تھ یہ بے رحمی اور نا انصا فی کر تے ہیں انہیں کسی طرح بھی معاف نہیںکیا جا سکتا۔ یہا ں فا تحہ پڑ ھی اور آگے بڑھے، قر یب ہی ایک قبر ستا ن ہے ،جسے قبر ستا نِ شو تز یہ کہتے ہیں۔ یہ پرا نے شہر کی کچی آبادی کا ویرا ن علا قہ ہے ۔راستہ بھی کچا ہے ۔ایک بڑے گیٹ سے اندر داخل ہو ئے جہا ں کچھ کھجو ر کے در خت تھے یہاں حضرت جنید بغدادی کا مزا ر ہے ۔مزا ر بڑ ا پر و قا ر ہے ۔یہا ں صفا ئی کا انتظا م بہت بہتر ہے مقبر ے کے با ہر بو رڈ لگا تھا جس پر لکھا تھا ۔ ’’مر قد شیخ الجنید بغدا دی قد س اللّٰہ سرہ العزیز‘‘زیا رت اور فا تحہ خو انی سے مشر ف ہو ئے۔ قر یب ہی سید نا شیخ بہلو ل دا نا کا مزا ر ہے ۔سا تھ ہی حضرت دا ئو د الطا ئی (رح) کا مز ار ہے وہا ں حا ضر ی دی ، حضرت سر ی سقطی(رح) اور ابو المحفوظ حضرت معر و ف کر خی(رح) کے مزار ات کی زیا ر ت کی۔ حضرت معر و ف کر خی (رح) کے مزا ر سے متصل مسجد میں دا خل ہو ں تو دائیں ہا تھ پر ایک قبر ہے۔ یہ قبر پنجا بی کے مشہو ر شا عر اورداستان یو سف زلیخا کے مصنف غلام رسول کی ہے۔ مو لو ی غلام رسول صا حب کی سفرِ حج سے واپسی کے دوران عراق میں وفا ت ہوئی تھی قبر دیکھی تو ذہن میں انکا ایک شعر گو نجنے لگا �ò جیں کُو ں دلبر وِ کد املے تھے قیمت ہو وے پَلّے اس دے جیڈ نہ طا لع کوئی اس دے بخت سَو لے ﴿جس آدمی کو یہ مو قع ہا تھ آئے کہ محبو ب بیچا جا رہا ہو اور اسکی قیمت بھی اس آدمی کے پا س ہو تو اس آدمی جیسا خو ش نصیب کو ئی نہیں یو ں سمجھو اس کے بھا گ جا گ اٹھے ہیں ﴾ لو ح ِ مز ا ر پر تا ریخ وفا ت 10 رجب1331 �÷ ھ درج ہے ۔ اسی در و ازے کے بائیں ہا تھ پر علا مہ محمو د آلو سی کی قبر ہے جن کی تفسیر ’’ رو ح المعا نی ‘‘ کو بڑ ی شہر ت حاصل ہے ۔ ان کا سنِ وفا ت لو حِ مزا ر پر 1220 ہجر ی در ج ہے ۔ حضرت حبیب العجی کے مزار پر فا تحہ پڑ ھنے کی سعا د ت حا صل کی۔ حضرت ابو بکر شبلی (رح) کی اولادمیں آخر ی فر د جو اس وقت بقیدحیا ت ہیں ایک ما ئی صا حبہ ہیں ۔مز ا ر کی چا بیا ں انہی کے پا س رہتی ہیں ان کی زیا ر ت نصیب ہو ئی ۔ سید حسن بن عبد اللہ بن عبا س بن علی کے مز ار پر حا ضر ی دی حضرت حمز ہ بن حسن بن عبداللہ بن ابو الفضل عبا س بن علی (رح) کے رو ضہ کی زیا ر ت نصیب ہو ئی ، حضر ت سیف الد ین بن سید کا ظم بن اما م جعفر صا د ق (رح)، حضرت زبیر بنت الحسن بن علی ، قا سم بن عیسیٰ ، سید حمد بن جعفر بن الحسن بن امام مو سیٰ ، کاظم بن اما م جعفر صادق ، اما م احمد الحا د ث بن اما م مو سیٰ کا ظم بن اما م جعفر صا د ق کے مزارات پر فا تحہ خو انی کا شر ف حا صل ہو ا ، طا ہر بن اما م محمد بن با قر بن علی بن اما م حسن کے مزا ر پر حا ضر ی دی حضور غو ث پاک سید عبد القا در جیلانی کی در گاہ شر یف کے سا منے جو سڑک ہے اس کے کنا رہ پر کچھ ہو ٹل ہیں ان سے آگے بڑ ھیں تو ایک قبر ستا ن ہے۔ اس قبر ستا ن میں کھجوروں کے بہت سے در خت ہیں در میان میں حجۃ الاسلام اما م غز ا لی کا رو ضہ ہے رو ضہ شر یف پر بو سید گی کے آثا ر ہیں اکثر بند رہتا ہے زیارات کے مو قع پر مجا ور کھول دیتا ہے ۔ہما رے لیے بھی کھولا گیا اند رجا کر دیکھا کہ بو سید ہ ہے، صفا ئی کا بھی خا ص انتظا م نہیں ہے، پرانا پھٹا ہو ا غلاف پڑ ا ہے بہت افسو س ہو ا اسلا م کی بنیا د وں سے ٹکرا نے والے یو نا نی فلسفہ کے سیل بے پنا ہ کا رُخ پھیر دینے والا اما م اس حا لت میں پڑ ا ہے۔ لو گو ں کی علم سے بے رغبتی اور عا لمو ں کے بے وقتی کا یہ منظر دیکھ کر دل بہت رنجید ہ اور ذہن بہت پر یشا ن ہو ا ۔حضرت سید عبد العز یز کی اولا د میں سے حضرت عبدا لر حمن قاد ر ی اور حضرت سید الر حمن قادری سے ملا قا ت ہو ئی ۔ بغدا د شر یف کا ذرہ ذر ہ زیا ر ت گا ہ ہے ۔ اور ہم نے خو ب زیا ر ات کیں ۔اسی سلسلہ میں شیخ حما د ، شیخ ابر اہیم خوا صی ، منصو ر حلا ج ، شیخ سر اج الدین، شیخ صد ر الد ین ، سید احمد ،فا عی ، ابو شیبہ بد وی کے مزا رات پر بھی حا ضر ی دی ۔




در با ر غو ثِ صمد انی ، محبو ب سبحا نی جنا ب شیخ عبدا لقا د ر جیلا نی (رح)

یو ں تو ہم جب بھی بغدا د گئے ،سب سے پہلے غو ث پا ک کے در با ر میں حا ضر ی دی مگر ہم اسے زیا ر ات کے آخر میں لکھ رہے ہیں اس لیے اس میں کچھ تفا صیل آجا ئینگی ۔ غو ث پا ک کا مز ا ر در یا ئے دجلہ سے تقر یبا ً ایک میل دو ر پر انے شہر میں ہے ،رو ضے کا کمر ہ تقر یبا ً تیس30 فٹ لمبا اور اتنا ہی چوڑا ہو گا۔ قبر پانچ فٹ اونچی ہے اس پر سبز رنگ کی چادر چڑ ھی ہو ئی ہے، اندر و نی دیو ار وں پر شیشہ لگا ہو ا ہے اور چھت پر فا نو س بھی مو جو د ہیں ۔یہا ں با قا عدہ لنگر خانہ ہے ۔جہا ں غر یبوں کو کھا نا تقسیم ہو تا ہے ۔غو ث پا ک نے اپنی زند گی میں یہ لنگر جا ری کیا تھا آج ایک ہز ا ر بر س سے یہ لنگر تقسیم ہو تا چلا آرہا ہے۔ طو فان ہو با ر ش ہو غو ث پاک کے در و ازے پر بھو کو ں کو کھانا ضر ور مل جا تا ہے ۔ ہم یہا ں حا ضر ہو ئے تو دل دما غ کی عجیب حا لت تھی ۔بہت سے لو گ چیخ رہے تھے ،رو رہے تھے ۔ آنکھیں بہہ رہی تھیں اور کتنے آنسو ئو ں میں دل کے ٹکڑے بھی بہ رہے ہو نگے ۔ہم کہ رہے تھے چورو ں کو قطب بنا نے والے ہم بھی چور ہیں اللہ کے حقوق رہ گئے ، بند و ں کے حقوق رہ گئے ۔اللہ کے چو ر ہیں،بند وںکے چورہیں۔ احسا س ندا مت سے چُو ر آپ کے در و ازے پر آئے ہیں۔ ڈو بی ہو ئی کشتیو ں کو ابھا رنے اور سلا متی سے کنارے لگانے والے ہما رے بیڑے پا ر لگا کہ یہ بھی ڈو ب رہے ہیں ہا تھ پھیلا ئے کھڑ ے ہیں آپ ہی نے تو کہا تھا �ò قف علی با بی اذا سد کل با ب ﴿ جب سب در و ا زے بند ہو جائیں تو میرے در و ا زے پر آجا نا ﴾

سو آگئے ہیں، اے سخی دا تا ۔ ابھی ہو نٹو ں پر اضطر ا ب کی سسکیا ں تڑ پ رہی تھیں کہ ذہن کو یو ں محسو س ہو ا جیسے کوئی ریشم پیر ٹکا تا ہو ا د ل کے فر ش پر محو ِ خر ام ہو، آ رہا ہو، دکھ مٹا نے زخمو ں کو مندمل کر نے رو ح کا قلق دھو نے اور دل ہشا ش بشا ش ہو گیا، سکون کی چا در تن گئی، انوا ر و تجلیا ت کی وہ بارش ہوئی کہ ر وح میں اند ھیر ا نا م کو نہ رہا اندر دو ر دو ر تک رو شنی ہو گئی کوئی شہد بھر ی آواز کا نو ں میں رس گھو لنے لگی ’’ مُر ید ی لا تخف ‘‘ میری بر کتیں تیرے سا تھ ہیں جا خد انے تیر ی سا ری مشکلیں آسا ن کر دیں۔ رحمتہ اللعا لمین نے تجھے آغوش رحمت میں لے لیا ۔ 

اللہ کے کلمہ ئِ حق کو سا ری دنیا میں پھیلا دے ۔ میں آپ کو کیسے یقین دلا ئو ں کہ میں سب کچھ سُن سکتا تھا ۔ سُن رہا تھا بلکہ آج بھی جب تنہا ئی میں ہوتا ہو ں، آنکھیں بند کر کے ذہن میں وہ منظر بسا لیتا ہو ں تو وہی آواز بہشت گو ش ہو نے لگتی ہے ۔ یو ں اللہ والو ں کی قبر یں زند ہ ہو تی ہیں میر ی طر ح سینکڑو ں ہزا ر و ں صا حبا ن دِل کو یہ تجر با ت ہو ئے ہو نگے اور ہورہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تما م مسلما نو ںکو اولیا ئ کی محبت عطا کر ے تا کہ وہ انکی بر کا ت سے اخذِ فیض کر یں۔ رو ضہ شر یف کے د ا ئیں ہا تھ دو مسجد یں متصل ہیں۔ مسجد حنفی ، مسجد شا فعی۔ شا فعی مسلک کے لو گو ں کی الگ جما عت ہو تی ہے اور حنفی مسلک کے لو گو ں کی الگ ۔ تہجد کے لیے بھی اذا ن ہو تی ہے اور لو گ تہجد پڑ ھنے جو ق در جو ق آتے ہیں۔ ساتھ ہی آپ کے فر ز ند عبد الجبا ر اور صا لح گیلانی کے مز ا را ت کی بھی زیا ر تیں تھیں۔ غو ث پاک کی در گا ہ میں مد ر سہ بھی ہے، جسے مد رسہ قا د ر یہ کہتے ہیں ،مگر اس میں تعلیم و تد ر یس کا کو ئی معقول انتظا م نہیں کوئی خا ص نصا ب بھی مقرر نہیں اور با قا عد ہ امتحا ن کا نظا م بھی نہیں۔ مد رسہ کے ملحق ایک کتب خا نہ ِ یا لا ئبر یر ی ہے اس کا نام ہے۔ مکتبہ مد رسہ قا در یہ ، یہا ں کئی اچھی اور نا یا ب کتا بیں ہیں اور ہر لا ئبر یر ی کی طر ح یہا ں بھی یہی ضا بطہ ہے کہ وہیں بیٹھ کر مطا لعہ کر و ۔ ادھر ادھر کتب فر و شو ں کی دکا نیں ہیں ۔اپنے فطر ی ذوق و شوق کی بنیا د پر ہم تقر یبا ً ہر بڑی دکان پر گئے لیکن یہ دیکھ کر نہا یت افسو س ہو ا کہ یہاں محبوب سبحانی پیرا ن پیر جنا ب شیخ عبدا لقا در جیلا نی (رح) کے ذا تی احو ال و کو ائف پر مستند اور جا مع کتا بیں نہیں مل سکیں۔ ویسے بھی اس موضو ع پر ابھی بہت کچھ لکھنے کی ضر و ر ت ہے ۔صو فیا ئ اولیا ئ میں عام طو ر پر علما ئ کے خلا ف جذ با ت پا ئے جا تے ہیں اور وہ اس لیے کہ اس تعصب کی ابتدا ئ علما ئ ہی کی طر ف سے ہو ئی جنہو ں نے دین کو صر ف ظو اہر تک محد و د کر دیا ۔ صو فیا ئ بالعمو م طر یقت اور شر یعت میں حد یں کھینچنے لگتے ہیں حضرت شیخ عبدالقا د ر جیلا نی بہت بڑے عا لم بھی تھے اور سر تا ج الاولیا ئ بھی ، انہو ں نے یہ حد یں مٹا دیں، شر یعت اور طر یقت کو ملا دیا اور سمجھا دیا کہ طر یقت شر یعت سے الگ نہیں۔ یوں یہ حقیقت سا منے لے آئے کہ �ò خلا فِ پیمبر کسے راہ گز ید کہ ہر گز بمنز ل نخو اہد رسید اسی محلہ میں آگے سبز ی منڈی ہے۔ اس منڈی کے در میا ن میں حضرت شیخ سرا ج الد ین ابو حفص عمر بن علی مقر ی کا مزار ہے۔ وہ حضرت محبو ب سبحا نی کے استاد تھے ۔





سلما ن پاک

بغدا د شر یف سے تیس میل جنو ب مشر ق میں ایک بستی ہے جس کا نام سلما ن پاک ہے ۔یہا ں حضرت سلما ن فا ر سی (رض) کا مز ار ہے جو معرو ف صحا بی ہیں۔ بہت بڑی وسیع عما ر ت ہے بڑ ا خو بصو ر ت اور عظیم الشا ن گیٹ ہے۔ اندر ایک کشا دہ صحن ہے اور شا ند ار قبہ ہے جس کے اند ر جا لیو ں میں حضرت سلما ن (رض) فا ر سی کا مز ا رہے۔ اس کے با ئیں طر ف ایک اور مقتد ر صحا بی حضرت حذیفہ (رض) بن الیما ن کا مر قد ہے ، بر ابر میں در وا زہ ہے۔ اس میں ایک اور عظیم صحا بی حضرت جا بر بن (رض) عبد اللہ انصا ری اور حضرت محمد طا ہر بن امام زین العا بد ین مد فو ن ہیں۔ ان دونو ں حجرو ں کے در میا ن چھو ٹی سی مسجد ہے ۔یہا ں کی زیا رات سے فا رغ ہو کر ہم ایک اور تاریخی یا د گا ر گئے اور وہ ہے قصرِ کسرٰ ی ، یہ کسرٰ ی شا ہ ایرا ن کا محل ہے جو متذ کر ہ با لا مزاروں سے صر ف ایک فر لا نگ کے فا صلہ پر وا قع ہے ۔ حضو ر سر و ر ِ عالم �ö کی ولا دت با سعا د ت پر اسی قصر میں زلزلہ آیا اور اس کے چو د ہ کنگرے گر پڑ ے ۔ چو دہ کنگر ے اور پھٹی ہو ئی دیوا ر کو تا ریخی یا د گا ر کے طور پر محفو ظ کر لیا گیا ہے ۔ یہ محل دیکھ کر بے اختیا ر حضور سر ور ِ کا ئنا ت �ö کا تصو را و ر انکی پو ر ی زند گی ذہن میں تا زہ ہو جا تی ہے ۔یہ قصرِ کسر ٰ ی کے چو دہ کنگر ے نہیں گر ے تھے، ملو کیت کے تخت الٹ گئے تھے اور ملو کیت پر مہر ِ اختتا م ثبت ہو گئی تھی۔ سلطا نی ٔ جمہو ر کا آغاز ہو گیا تھا اور جس جمہو ر یت کے آج چر چے ہو رہے ہیں ۔اسکی خشتِ اول رکھ دی گئی تھی۔ ہو ائی اڈہ کے سا تھ ہی بغدا د شر یف کا بڑ ا سٹیشن ہے جسے محبط العا لمی کہتے ہیں۔یہا ں سے ریل گا ڑی مو صل ، شا م ، تر کی ہو تی ہوئی اور بہت سے ملکو ں سے گز ر تی ہو ئی سید ھی لند ن پہنچتی ہے ۔ را ستہ میں چا لیس میل سمند ر پڑتا ہے یہا ں ایک بڑے جہا ز پر ریلو ے لا ئن بنی ہوئی ہے۔ ٹر ین اسی سے گز رتی ہے اس سے پہلے اور اس کے بعد تو سا را سفر خشکی کا ہے ۔ آٹھ روز کے طو یل سفر کے بعد یہ ٹر ین لند ن پہنچتی ہے ۔ ریلو ے سٹیشن بغدا د شر یف کا ایک قا بل دید مقا م بن گیا ہے۔ ٹر ین کے ڈبے بھی بہت خوبصورت اور آرام دہ ہیں عرا ق میں قبلہ جا نبِ جنو ب ہے ۔







اے کر بلا کی خا ک

غر یب و سادہ رنگیں ہے داستانِ حر م نہایت اسکی حسین (رض) ابتدائ ہے اسمٰعیل (ع) بغدا د شر یف سے کر بلا کی جا نب رو انہ ہوئے۔ جنو ب کی طر ف 34 میل کے فا صلہ پر فلو ح آبا د ہے۔ بڑ اآبا د شہر ہے ۔اسکے ایک طر ف در یا ئے فرات ہے ۔فرا ت کا پا نی بہت گد لا ہے ۔ذا ئقہ میں پھیکا ہے۔ پا نی اوک میں بھر لیا اور آنکھوں سے بھی پا نی بہنے لگا، سو چنے لگے ،اسی پانی کے لیے تاریخ کا سب سے بڑ اظلم ہو ا ،اور خدا کی را ہ میں سب سے بڑی قر با نی دی گئی کسی کا شعر یا د آگیا ہے �ò خا ک ہو جا خا ک ہو کر ، خا ک میں مل جا فرا ت خاک تجھ پر دیکھ تو سو کھی زبانِ اہل بیت فرا ت پر بڑ ا خو بصو ر ت پُل بنا ہو اہے۔ سا تھ ہی ہو ٹل ہیں آگے ایک دو ر اہا آتا ہے جہا ں سے ایک سڑ ک دمشق کو جا تی ہے، دو سری کر بلا ئے معلی کو ، ہم کر بلا ئے معلی کی سڑ ک پر چل پڑ ے کچھ فا صلہ طے کیا تو ایک لق و دق ریگستان شر و ع ہو گیا ہر طر ف ریت ہی ریت ۔ فر ا ت کے کنارے ایک معمو لی سی بستی مسیب ہے ۔یہا ں سے سڑ ک چھو ڑ کر دو میل کچی سڑ ک پر جا ئیں تو امام مسلم (رح) کے فرز ند ان ِ معصو م حضرت عو ن اور حضرت محمد کے مز ا ر ات ہیں۔ بڑی سی عما ر ت ہے اس میں دو چھوٹے چھو ٹے سبز گنبد ہیں جو ایک دو سرے کے سامنے ہیں ۔در گا ہ کے در وازہ پر تصو یریں بنی ہو ئی ہیں۔ حا رث نے مسلم کے لعلوں کے منہ پر پٹیا ں با ند ھ رکھی ہیں ۔ایک کو ذبح کر رہا ہے ،خو ن بہتا دکھا یا گیا ہے دو سر ا بند ھا ہو ا اپنے قتل کا انتظا ر کر رہا ہے۔ بڑی گر یہ آور تصو یر یں ہیں سسکیا ں نکلنے لگتی ہیں۔ یہا ں سے فا ر غ ہو کر ہم پھر پختہ سڑ ک پر آگئے۔ دو ر سے ہی دو سبز گنبد دکھائی دے رہے تھے۔ ایک جنا ب ِ اما م حسین (رض) کا اور دوسرا جنا ب عبا س علمدار کا ہے ۔ کر بلا بہت بڑ ا شہر ہے ۔بغدا د شر یف سے جا نب جنو ب ہے۔ کھجو ر کے با غا ت ہیں خو بصو ر ت دلکش با ز ا ر ہے۔ حضرت سید الشہد ا کے مز ا ر کے گنبد پر سو نے کا پترا چڑ ھا ہو ا ہے۔ بڑی محرا ب پر بھی سو نے کا پر ت ہے۔ اس مزا ر کے دو سرے قبہ میں دو حصے ہیں ان میں حضرت علی اکبر ا ور معصوم علی اصغر کے مزا رہیں اسی عما رت میں قر یب ہی سید ابر اہیم حجاب بن اما م مو سیٰ بن جعفر کی قبر ہے ۔کچھ آگے حبیب بن مظا ہر کی قبر ہے۔ ذر ا آگے حضرت قا سم بن حسن کا مزا ر ہے ۔آگے گنجِ شہیدا ن ہے یعنی بہتر شہید ائے کر بلا کے مزا ر ہیں۔ حضرت علی بن امام مو سیٰ کا ظم بھی اسی رو ضہ میں ابد ی نیند سو رہے ہیں۔ حضرت قا سم کا جسد مبا رک یہا ں دفن ہے۔ انکا سر مبا ر ک شیرا ن تہر ان میں دفن بتا یا جا تا ہے ۔ اسی عما ر ت میں ایک مضبو ط حجر ہ بنا ہو اہے۔ اس کے اندر گہرا تہہ خا نہ غا ر کی طر ح کا ہے۔ اس کے منہ پر مضبو ط جا لی لگی ہوئی ہے ۔جا لی پر مضبو ط در و ا زہ ہے۔ یہ در و ازہ اٹھا کر جھا نکیں تو نیچے حضرت اما م حسین کی قتل گا ہ ہے۔ اب زمین بہت او نچی ہوگئی ہے ،اس لیے یہ جگہ بہت نیچے ہے ۔اسکی زیا ر ت بڑے اہتما م سے کرائی جا تی ہے۔ کچھ دو ر جا کر حضرت عبا س علمدا ر کی شہا دت گا ہ اور قبر ہے ۔اس مزا ر کا گنبد بہت بڑا ہے ہر رو ضے کے اندر شیشہ لگا ہو اہے۔ کربلا کے کنا رہ پر 45 میل لمبی جھیل ہے ۔ کر بلا ئے معلی سے تین میل دور کچی سڑ ک پر حضرت حُر بن یز ید ریا حی کا مقبر ہ ہے۔ اس پر بھی بہت شاندار گنبد ہے ۔مقبرہ کے در و ا زے پر بڑے بڑے تصو یری چو کھٹے نصب ہیں ایک تصو یر میں حُر حضرت اما م حسین کے آگے تو بہ کر رہے ہیں۔ حضرت اما م کا دستِ مبا رک حُر کے سر پر ہے اور وہ اسے تسلی دے رہے ہیں ، دو سری تصو یر میں جنگ کا نقشہ دکھا یا گیا ہے۔ حُر حا لتِ پیکا ر میں ہیں اور انکا گھو ڑا یز ید ی لا شو ں کو رو ند رہا ہے اردگر د سر کٹے پڑ ے ہیں۔ ہما رے پو چھنے پر معلو م ہو اکہ کر بلا ئے معلی میں سنیوں کے بھی سو ڈیڑ ھ سو گھر ہیں۔ انکی اپنی الگ مسجد بھی ہے۔ یہ اہل سنت زیا دہ تر مالکی مسلک کے ہیں ۔پو چھنے پر معلو م ہو ا کہ یہا ں شیعہ سنی میں کو ئی کشید گی نہیں۔ دو نو ں آزا دی سے اپنے مذہبی کا م سر انجا م دیتے ہیں ۔یہا ں کے خر بوز ے بھی بڑے لذیذ ہیں مگر تر بو ز بہت شیر یں ہو تے ہیں ۔شکل میں یہ لمبے ہو تے ہیں یہاں با ز ا ر بھی بہت ہیں، صر ا فہ با زا ر بھی الگ سے ہے ۔یہاں ریلوے سٹیشن بھی ہے چھو ٹی ٹرین چلتی ہے ۔یہ ریلوے لا ئین خا لقین یعنی سر حدِ ایرا ن سے آتی ہے۔بغدا د ، کر بلا سے ہو تی ہو ئی بصر ہ کی طر ف نکل جا تی ہے ۔


نجف اشر ف اور کو فہ

اقبا ل نے کہا تھا �ò سر مہ ہے میری آنکھ کا خا کِ مدینہ و نجف ، مد ینہ تو مدینہ ہے کہ �ò گفت معشو قے با عا شق کا ئے فتیٰ اے کہ بہر ِ ما تو دید ی شہر ہا پس کد ا مے شہر شہرا ں خو شترا ست گفت آں شہر ے کہ درو ے دلبراست ﴿معشوق نے عا شق سے کہا! اے جوان تو نے ہما رے لیے بہت سے شہر دیکھے۔ پس ان شہر وں میں سب سے اچھا شہر کو نسا پا یا۔ عا شق نے کہا وہی شہر سب شہرو ں سے اچھا ہے جس میں دلبر رہتا ہو﴾ مدینہ تو مدینۃ النبی ہے۔ نجف کو شر ف جناب علی المر تضٰی نے بخشا ۔ یہا ں حضرت علی المر تضیٰ کا رو ضہ مبا رکہ ہے ۔سبز گنبد دور سے نظر آتا ہے ۔ یہاں بہت خو بصو رت چھتا ہو ا بازا ر ہے۔ جنا ب علی المر تضیٰ (رض) کا روضہ مبا رکہ بڑ اہی مز ین اور خوبصو ر ت ہے۔ قبر شر یف سبز جا لیو ں کے اند ر ہے۔ مز ا ر شریف پر کئی من سو نا لگا ہو ا ہے ۔چا ند ی کا تو حسا ب ہی نہیں۔ اسی رو ضہ کے با عث یہ شہر نجف آبا د ہوا۔ قبر ستان بہت بڑ ا ہے کیونکہ امیر شیعہ لوگوں کی لا شیں دو سرے ملکو ں سے بھی یہا ں لا کر دفن کی جا تی ہیں ۔ کو فہ یہا ں سے قر یب ہے ۔بڑ اسر سبز و شا دا ب علا قہ ہے۔ ہر طرف ہر یا لی ہی ہر یا لی ہے ۔کو فہ شہر کے کنا رے پر بہت بڑی مسجد ہے ۔دیوا ر ِ قبلہ کے وسط میں خو بصو ر ت محرا ب ہے جوسنہر ی جا لی دا ر کواڑو ں سے بند ہے یہی وہ جگہ ہے ،جہاں اسد اللہ الغا لب حضرت علی ابن ابی طا لب کو شہید کیا گیا۔ یہیں شقی ازلی عبدالر حمن بن ملجم خا رجی نے آپ پر وار کر کے آپ کو زخمی کیا تھا ۔ مسجد کا وسیع و عر یض صحن ہے جس میں چا ر محرا بیں ہیں۔ یہ چا رمصلے ّ کہلا تی ہیں۔ ۱﴾ مصلیٰ جبر یل ۲﴾ مصلیٰ آدم ۳﴾ مصلیٰ زین العا بد ین ۴﴾ مصلیٰ خضر ۔ ان کے متعلق عجیب و غر یب رو ایا ت بیان کی جا تی ہیں۔ مصلیٰ جبر یل کی وجہ تسمیہ بیان کر تے ہوئے ہمیں بتا یا گیا کہ ایک روز جنا ب علی المر تضیٰ یہا ں تشر یف فر ما تھے ارد گرد بہت سے لو گ جمع تھے۔ جنا ب با ب العلم حضرت علی (رض) نے فر ما یا’’ میں یہاں بیٹھا ہو ں اور عرش و فر ش میری نگا ہ میں ہیں ۔ اور ہر چیز میرے علم کی گر فت میں ہے حا ضر ین میں شمر ذی الجو شن بھی مو جو د تھا اس نے پو چھا ‘‘ ’’ پھر بتا ئیے میرے سر میں کتنے سفید با ل ہیں ؟ ‘‘ آپ (رض) نے فر ما یا ’’ اکتیس 31 ہیں اور ہر با ل کے نیچے کفر و نفا ق چھپا ہوا ہے ‘‘ ایک اور شخص نے پو چھا ’’ بتا ئیے اس وقت جبر یل کہا ں ہیں‘‘ آپ تھوڑی دیر کے لیے مر اقبہ میں چلے گئے ’’ فر ما یا آسمان ، زمین میں نہیں ، اپنے آشیا نے سدرہ میں بھی نہیں ، کسی اور کو نے میں نہیں بلکہ اسی مجمع میں ہے اور وہ تم ہی ہو اے سا ئل تم یہاں شکل اِنسا نی میں بیٹھے ہو ‘‘ کہتے ہیں اسی روز سے اس جگہ کا نام مصلیٰ جبر یل پڑ گیا ۔ ان چا ر محرا بو ں کے علا وہ دو ا ور محرا بیں بھی ہیں۔ ایک کا نام دا ر القضا ئ ہے یہا ں بیٹھ کر امیر المؤ منین علی المر تضیٰ عد الت کر تے اور دو سرے محراب جو محکمہ کے نا م سے مشہو ر ہے۔ وہا ں بیٹھ کر آپ احکام صا د ر فر ما تے تھے ۔ یہ بھی بتا یا گیا کہ جنا ب علی المر تضیٰ کے رو ضہ میں حضرت آدم اور جنا ب نوح علیہ السلام کے مزا ر بھی ہیں۔ اس صحن میں ایک وسیع گہر ا غا ر ہے اسے آہنی جنگلے نے گھیر ا رکھا ہے۔ نیچے اتر نے کے لیے سیڑ ھیا ں لگی ہو ئی ہیں بتا یا جا تا ہے کہ یہی وہ تنور ہے جہاں سے نو ح علیہ السلام کے زما نہ میں پا نی ابلنا شر و ع ہو ا تھا جو طو فا ن نِو ح (ع) کا سبب بنا تھا ۔ مسجد کے گر د مشر قی دیوا ر میں ایک بہت وسیع کمرہ ہے اس پر بھی سبز رنگ کا گنبد ہے یہ حضرت اما م مسلم (رح)کی قبر شر یف ہے جا لی کے اند ر بڑی خوبصو ر ت قبر ہے ۔ اس کے سا منے مغر بی دیوا ر میں بھی ایک سبز گنبد والی عما ر ت ہے اس میں حضرت ہا نی بن عر وہ کی قبر ہے یہ وہی ہا نی بن عروہ ہیں جنہو ں نے اہل ِ کو فہ کی بے وفا ئی کے بعد حضرت اما م مسلم کو اپنے گھر میں جگہ دی اور آپ کی حفا ظت میں خو د شہید ہو گئے۔ اس حجر ہ سے ملا ہوا ایک گو شے میں ایک اور حجر ہ ہے اس میں مشہو ر تا ریخی کر دا ر مختا ر بن عبید کی قبر ہے۔ یہ وہی مختا ر بن عبید ہے جس نے وا قعہ کر بلا کے بعد شیعان علی کے جذبا ت سے فا ئد ہ اٹھا یا ، انہیں ابھا ر کر حضرت حسین پر ظلم کا بد لہ یزید یو ں سے لیا ابنِ زیا د کو قتل کر ایا مگر بعد میں مشہو ر روا یت کے مطا بق خود مد عی نبو ت ہو گیا اور امو ی با د شا ہ عبد الملک بن عمرا ن نے اسے قتل کر دیا اس طرح یہ مر تد ہو کرما را گیا مگر شیعہ حضرا ت دشمن یز ید ہو نے کے باعث اسکی قبر کا احترا م کر تے ہیں یہا ںسے تھوڑ ے فا صلہ پر دا ر لقضا ئ ہے ۔یہ وہ جگہ ہے جہا ں ابنِ زیا د کے سامنے حضرت اما م حسین کا سر لا یا گیا پھر اسی جگہ مختا ر بن عبید کے سا منے ابن زیا د کا سر لا یا گیا پھر عبد الملک کے سا منے مختا ر بن عبید کا سر لا یاگیا ۔ عبد الملک نے یہا ں قا ئم شدہ عمار ت کو منحو س سمجھ کر گرا دیا تھا۔ اب وہ جگہ ویرا ن پڑ ی ہے وہا ں کوئی نشا ن مو جو د نہیں۔ اب کو فہ کا پرا نا شہر ایک بستی کی طر ح ہے۔ یہا ں سے واپس بغدا د دو سرے را ستے سے جا ئیں تو لبِ دریا ئے فرا ت ایک مقا م آتا ہے جس کے متعلق مشہو ر ہے کہ یہا ں مچھلی نے یو نس علیہ السلام کو اپنے شکم سے با ہر اگل دیا تھا ۔ آگے حُلّہ آجا تا ہے۔ یہا ںخو بصو ر ت پل ہے، پختہ سڑ ک سے فا صلہ پر کچی سڑ ک ہے جو فر ا ت کے کنا رے کنا رے جا تی ہے اس پر ذرا آگے جا ئیں تو فرا ت کے کنا رے پر ایک جگہ کو مقا مِ ایو ب (ع)کہتے ہیں۔ وہا ں ایک گنبد ہے۔ اسی گنبد میں ایک کٹہر ے میں گھر ی ہوئی حضرت ایو ب (ع) کی زوجہ محتر مہ ’’ رحمت ‘‘ کی قبر ہے ۔سا منے برآمد ہ ہے۔ ایک خا دم بھی یہاں رہتا ہے۔ اسکے پیچھے دو چشمے ہیں جو اب کنو ئو ں کی شکل اختیا ر کر گئے ہیں۔ سا منے دو غسل خا نے ہیں ۔ایک مر دانہ ایک ز نا نہ ، یہ حجر ہ وہ ہے جس کے متعلق بتا یا جا تا ہے کہ یہاں ایو ب علیہ السلام نے اپنا زما نۂ علالت گزارا اورآپ کی زو جۂ محتر مہ رحمت نے صبر و شکر سے آپ کی خد مت کی ۔یہ دو چشمے وہی بتا ئے جا تے ہیں جو آپ کی ایڑ ی کی رگڑ سے پیدا ہو ئے۔ ان چشمو ں کا ذکر قرآنِ حکیم میں بھی آیا ہے ’’ھٰذا غسل و ھذا مغتسل‘‘ ایک چشمہ غسل کے لیے ہے اور دو سرا پینے کے لیے ۔ یہاں بہت سے بیما ر لو گ آتے اور لائے جا تے ہیں۔ ایک چشمے کے پا نی سے نہا تے ہیں اور دوسرے کا پا نی پیتے ہیں جو چشمہ پینے کے پانی کا ہے اس کا پانی شیر یں اور ٹھنڈا ہے ۔ انکے ارد گرد کچھ کھجو رو ں کے در خت بھی ہیں۔ ایک کھجو ر کے ایک پر ا نے در خت کے متعلق مشہو ر ہے کہ یہ حضرت ایو ب علیہ السلام کے زمانہ کا ہے۔ لو گ اسکی چھا ل لے جا تے ہیں اسے گھس کر بیما ر کے ضما د کرتے ہیں اور مشہو ر ہے کہ شفا بھی پا تے ہیں۔ حُلہ شہر میں ریلو ے سٹیشن بھی ہے ۔یہ بغدا د سے بصر ہ جا نے والی گا ڑی کی گزر گا ہ پر ہے۔ اچھا خو بصو ر ت سٹیشن ہے۔ حُلہ سے کچھ دو ر کچی سڑک پر شہر با بلین تھا ۔ یہی نمر ود کی تخت گا ہ یا دا ر السلطنت تھا۔ یہیں حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کے لیے نمر ود نے آگ بھڑ کا ئی تھی جو خدا نے گلزا ر بنا دی۔ اب یہاں کوئی آبا دی نہیں۔ کہیں کہیں کھنڈر ہیں جو کچھ کہا نیا ں سنا تے ہیں ۔ ایک با ت اور کہ کر بلا ئے معلی سے نجف اشر ف تک کوئی آبا دی نہیں۔ نجف اشر ف کے کنا رے پر ایک پرا نا وسیع قبرستا ن ہے جس میں پتھروں کی قبر یں ہیں ۔دو قبر و ں پر سبز قبے ہیں ۔ہمیں بتا یا گیا کہ یہ حضرت صا لح علیہ السلام اور حضرت ہود علیہ السلام کے مزا ر ہیں۔ اسی قبر ستان میں رسول اللہ �ö کے مقتد ر صحا بی حضرت ابو مو سی ٰ اشعر ی کا مزا ر بھی ہے ۔





بصر ہ

بصر ہ بغدا دشریف سے بہت د ور ہے یہا ں سے تقر یبا ً دو گھنٹے کے سفر پر صفوا ن کی چیک پو سٹ ہے جو عرا ق کی آخر ی سر حد ہے ۔اس کے بعد کویت کا علا قہ شر و ع ہو جا تا ہے ۔ بصر ہ ہی میںجنگ جمل پیش آئی تھی اورفتنہ پسند و ں نے اُم المؤ منین عا ئشہ صد یقہ (رض) اور امیر المؤ منین حضرت علی ابن ابی طا لب کے درمیان جنگ بپا کر ائی تھی ۔ اس لیے یہا ں صحا بہ رضوا ن اللہ علیھم اجمعین کی قبر یں ہیں۔ بصر ہ کے را ستے میں بہت ہی ظا لم اور خو فنا ک ریگستا ن ہے۔ یہاں تیل کثر ت سے نکلتا ہے ۔پائیپ لا ئنو ں کے جال بچھے ہوئے ہیں یہاں دجلہ اور فرا ت مل کر بہتے ہیں۔ اور آگے جا کر سمند ر میں گر جاتے ہیں ۔بصر ہ انتہا ئی کا ر آمد اور اہم بند ر گاہ ہے۔ یہاں دنیا بھر سے ما ل بردار جہا ز آکر ٹھہر تے ہیں۔ سا ما ن لا تے اور لے جا تے ہیں ۔ یہا ں زیارت گا ہیں بھی بڑی اور اہم ہیں اور ہم جیسے لو گ یہا ں قد م قدم پر آنسو بہا تے اور ثوا ب سمیٹتے ہیں۔ ان میں سے چند کا ذکر کیا جا تا ہے۔

۱:۔حضرت طلحہ (رض) کا مزار بصر ہ سے کچھ فا صلہ پر جنو ب کی سمت میں وا قع ہے۔ چٹیل میدا ن میں ٹو ٹا ہو ا گنبد نظر آتا ہے اس گنبد میں حضور �ö کے صحا بی کی قبر مبا رک شکستہ حا لت میں نظر آئی۔ شا ید کسی نے عر صہ سے مر مت نہیں کر ائی ۔ قبر کے ارد گر د چٹا ئیا ں پڑ ی ہیں صفا ئی وغیرہ کا بھی کوئی انتظا م نہ دیکھا۔ قبر بہت لمبی اور اُو نچی ہے اسکی اتنی لمبا ئی حیرا ن کُن ہے ۔قبر کا رنگ بھی بہت جگہ سے اکھڑا ہوا ہے۔ ۲:۔حضرت زبیر بن عوا م حضور �ö کے رشتہ میں بھا ئی ہیں ۔حضور �ö اور حضرت زبیر (رض) دو نو ں ہی حضرت صدیق اکبر (رض) کے دا ما د ہیں۔ حضرت زبیر (رض) کے گھر حضرت صدیق (رض) کی بڑ ی صا حبز ادی حضرت اسما ئ تھیں اور حضور �ö کے گھر حضرت صدیق (رض) کی چھو ٹی صاحبزادی ام المؤ منین عا ئشہ صد یقہ (رض) تھیں۔ انہی حضرت زبیر (رض) کے فر زند حضرت عبداللہ بن زبیر تھے ۔ حضرت طلحہ (رض) اور حضرت زبیر (رض) د ونو ں جنگ جمل میں شہید ہوئے ۔دو نو ں ام المؤ منین حضرت عائشہ صد یقہ (رض) کے سا تھی تھے ۔حضرت طلحہ (رض) کے مزا ر سے تقر یبا ً ایک میل کے فا صلہ پر ایک اچھا خا صا قصبہ آبا د ہے ،جس کا نام شیبہ ہے ۔یہا ں بڑ ی مسجد ہے اور مسجد کے جنو ب مغر ب میں اند ر کی طر ف حضرت زبیر (رض) کی قبر مبا ر ک ہے۔ قبر پر غلاف ہے آس پاس لکڑ ی کی جا لی ہے زا ئر ین کے لیے قا لین بچھا ہوا ہے یہا ں صفا ئی وغیر ہ کا اچھا انتظا م ہے حضرت طلحہ (رض) اور حضر ت زبیر (رض) دونوں جنگ جمل میں شہید ہو ئے اور یہ بھی بتا تا چلو ں کہ دو نو ں اُن اصحاب کر ام میں سے تھے جن کو حضور �ö نے جنت کی بشا ر ت دی تھی اس طرح دو نو ں ان دس صحا بہ میں شا مل تھے جنہیں عشرہ مبشر ہ کہتے ہیں۔ ۳:۔اسی مسجد میں حضرت زبیر (رض) العوام کے قر یب ہی حضرت عقبہ بن (رض) عز وا ن کی قبر بھی ہے ۔ایک شیشہ کی کھڑ کی لگی ہے جس سے مزا ر صاف نظر آتا ہے ۔ ۴:۔حضرت حسن بصر ی تا بعین میں بلند مقام رکھتے ہیں۔ حضر ت علی المر تضیٰ (رض) کے خلیفہ ہیں صو فیا ئ کے تین سلسلے قادر یہ ، چشتیہ ، سہرور دیہ انہی سے چلے ہیں ۔ولی ٔ کا مل بھی تھے اور عالم با ِ عمل بھی ، آپ کا مزا ر جنا ب زبیر(رض) کے قر یب قبر ستا ن میں ہے او پر قبہ ہے، قبر کے ارد گر د قا لین بچھے ہیں ۵:۔حضرت خو ا جہ حسن بصر ی کے سا تھ ہی اسی قبہ میں حضرت محمد بن سیر ین کی قبر مبا ر ک بھی ہے۔ یہ اما م بخاری اور اما م مسلم کے استا د ہیں۔ ۶:۔حضرت را بعہ بصر یہ عد و یہ بصر ہ کی مشہو ر مجذ وبہ جو بہت معر و ف ہیں، اُن کا مزا ر بصر ہ میں نہیں ،بغدا د میں ہے ۔ہم لکھ آئے ہیں کہ یہاں در یا ئے دجلہ اور دریا ئے فر ات مل کر بہتے ہیں ۔انہی کو شط البحر بھی کہتے ہیں ۔یہا ں بہت سی مو ٹرلانچیں کھڑ ی ہو تی ہیں جنہیں لو گ کر ایہ پر لیتے ہیں اور شط البحر کی سیر کر تے ہیں۔








سفرِ عرا ق کے تا ثر ات

ہم لکھ چکے ہیںکہ عر اق کا یہ سفر الا قصیٰ کا نفر نس میں شر کت کی غر ض سے ہوا تھا لیکن اس سفر کی ہمیں مد تو ں کی حسر ت تھی اور اس سے ہمارے ار ما ن پو رے ہو گئے ۔ عراق انقلا ب کی سر ز مین ہے یہاں کے ذرے لہو ما نگتے رہتے ہیں اللہ اب اس زمین کو بچا ئے رکھے یہا ں بڑے پاکیزہ خو ن بہہ چکے۔ الا قصیٰ کا نفر نس میں شر کت سے بہت کچھ حاصل ہو ا ۔ سب سے بڑی با ت تو یہ کہ یہا ں شد ت سے احسا س ہو ا کہ مسلما نو ں کا اصل مسئلہ کم ما ئے گی نہیں ،دو ں ہمتی ہے۔ انکے مقا بلہ میں اسر ائیل کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں دنیا کی سپر پا ور ز کو یہ آج بھی سر نگو ں کر سکتے ہیں۔ تیل جیسی طا قت انکے ہا تھ میں ہے دو لت انکے پاس ہے افرا دی قو ت انکے پا س ہے اور یہ افرا د ی قو ت ایسی نہیں کہ گنتی پو ری کر نے والے کا غذی سپا ہی ہیں ،نہیں جو ش و ولولہ سے بھر ے ہوئے مسلما ن جو ان ہیں۔ مسلما ن لا کھ بے عمل ہو ں، ضعیف الا عتقا د ہو ں یہ جذبہ ان میں ہمیشہ زند ہ رہا ہے کہ جب اسلا م کے نام پر انہیں بلا یا جا ئے تو صف درصف آتے ہیں۔جو ق در جو ق آتے ہیںاور اپنی جا نیں ہتھیلی پر رکھ کر آتے ہیں شرط صر ف یہ ہے کہ بلا نے ولا مخلص ہو اور اسکے جذبا ت سچے ہو ں۔ الا قصیٰ کا نفر نس نے میرے اپنے تبلیغی مشن میں بھی مجھے بڑھا وا دیا اور میرے اند ر نئی رو ح پھونک دی یہاں اپنی ہی سو چ رکھنے والے بہت سے احبا ب سے ملا قا تیں ہو ئیں امتِ مسلمہ کے دکھو ں کی چا رہ سا زی مل بیٹھ کے سو چتے رہے ، خا ص طو ر پر گیلا نی محمود را مز سے کئی ملاقا تیں رہیں انہو ں نے آکسفو ر ڈ یو نیو ر سٹی سے تعلیم حاصل کی ہے بڑی صلا حیتو ں کے حا مل ہیں یہاں انہیں خا صی شہر ت بھی حا صل ہے ۔زیا ر ات کے ساتھ وزا ر تِ او قا ف کی لائبر یری دیکھی۔ بڑی لا ئبر یری ہے کئی کتا بو ں کے قلمی نسخے مو جو د ہیں قر آن ِ حکیم کے کئی نا یا ب قلمی نسخے بھی اس لائبر یر ی کی زینت ہیں۔ شا م اور حلب کے مشا ئخ پر بھی کتا بیں مو جو د ہیں۔ وز یر ا وقا ف سے ملا قا ت ہو ئی۔ انکا اسم گرامی سید عبدا للہ ہے ۔ان سے مذہب اور سیا ست کے مو ضو عا ت پر گفتگو ہو تی رہی ۔میں نے انہیں شیخ شبلی کے مزا ر اور بعض دیگر مزارا ت کی زبو ںحا لی پر بھی تو جہ دلا ئی۔ طلبہ کے و ظائف کے لیے بھی کہا۔ یہ وظا ئف دراصل پاکستان اور بر طا نیہ سے عراق کی یو نیو ر سٹیو ں میں حصو ل تعلیم کی خا طر آنیوالے طلبہ کے تھے۔ انہوں نے ان امو ر کی طر ف خصو صی تو جہ دینے کا وعد ہ کیا ۔ عرا ق کی عا م معا شر تی زند گی میں مغر بی تہذ یب کے اثرا ت نما یا ں ہو نے لگے ہیں۔ سینما ،کلب وغیر ہ عا م ہیں۔ نا چ گا نے کا رو اج بھی ہے اور بڑ ھ رہا ہے ۔علم و ادب کے محا ذ پر بھی اسلامی طر زِ فکر رکھنے والے لو گ محجو ب سے نظر آتے ہیں۔ یہ کچھ اچھے آثا ر نہیں۔ ایک اور با ت جو میں نے خا ص طو رپر نوٹ کی یہاں پاکستان کے مقا بلہ میں بھا رت کا پر و پیگنڈا زیا دہ ہے، اسکا سکہ بھی یہا ں مقبول ہے، اہل پاکستا ن کو اس طرف خصو صی تو جہ دینی چا ہیے ۔ یہاں بلکہ تمام عرب مما لک میں بیدا ر دما غ اور متحر ک سفیر بھیجنے چا ہییں۔ کچھ اور چیز یں جنہیں معلو م کر کے مجھے بے انتہا مسر ت ہو ئی یہ ہیں کہ اس وقت تک شیعہ سنی تعصب زیا دہ نہیں اسی طر ح ما لکی ، شافعی ، حنبلی ، حنفی مسالک کے لو گ بھی با ہمی تکفیر کے تشد د پسند انہ رجحا نا ت نہیں رکھتے ۔ یہ معلو م کر کے بھی خو شی ہو ئی بلکہ خو شی کی انتہا نہ رہی کہ عراق میں میلا د النبی سر کا ر ی طور پر منا یا جا تا ہے اس طر ح شب معرا ج ، شب ِ قدر شبِ برات کے ایا م بھی منا ئے جا تے ہیں۔ بز ر گا نِ دین کے عر س بھی مقا می طو ر پر سر کا ری سر پر ستی میں منا ئے جا تے ہیںاور محکمہ اوقا ف خا صا سر گر م رہتا ہے۔ عرا ق کے بڑ ے شہر و ں میں جہا ں تہا ں لا ئبر یریا ں بھی ہیں، تیل والے علا قو ں میں لو گ فا ر غ البا ل ہیں اور مہنگا ئی بھی ہے ۔با لعمو م لو گو ں کی معا شی حا لت اچھی ہے۔ ان عر ب علا قو ں میں ایک اور با ت دیکھنے میں آئی کہ یہاں دا ڑھی کا رو اج کم اور نہ ہو نے کے برا بر ہے ۔مسجد کے اما م اور خطیب بھی بے ریش ہو تے ہیں۔ خطیب جمعہ پڑھا نے آتے ہیں تو تا زہ شیو کر کے آتے ہیں۔ مسجد کا احترا م بھی ایسا نہیں جیسا ہم برصغیر کے مسلما نو ں میں ہے ۔صحنِ مسجد میں جو تو ں سمیت پھر تے ہیں جب نماز پڑ ھنے کے قا لین کے قر یب آتے ہیںتو جو تے اتا ر تے ہیں۔







اُردن کا سفر

اردن کا سفر بھی کا نفر نس کے سلسلہ میں تھا ۔ 6 جنور ی 1991 �÷ئ کو ہم ارد ن پہنچے کانفر نس میں کئی مما لک کے علما ئے کر ام آئے ہو ئے تھے۔ خو ب خوب ملا قا تیں ہو ئیں اجتما عا ت میں شر کت کی سا تھ ہی زیارات کا سلسلہ بھی جا ری رکھا ۔ مقام بنی شعیب پر گئے ۔یہاں حضرت شعیب علیہ السلام کا مزا ر دیکھا اور ذہن اُس قو م کی طرف چلا گیا ۔جو نا پ تو ل میں کمی کر تی تھی اور جس کا ذکر کر تے ہو ئے۔ قر آن حکیم نے ’’ صلوٰۃ‘‘ کا جا مع مفہو م وا ضح کر دیا اُس قو م کے لو گ بھی یہی نظر یہ رکھتے تھے جو آج کے رو شن دو ر کے صا حب علم و دا نش کہلا نے والے رکھتے ہیں کہ مذہب خدا اور بندے کا پرا ئیو یٹ تعلق ہے۔ انہو ں نے کہا تھا ۔ یشعیب اصلٰو تُک تأ مُرْ کَ اَن نتْرُ کَ ما یعبدُ اٰ بَا ؤُ نا اَ و اَنْ نَّفْعَلَ فی اموالنا ما نشؤُ ا ط ﴿ اے شعیب (ع) کیا تیر ی نما ز تجھے یہ بھی حکم دیتی ہے کہ ہم انکی پر ستش چھو ڑ دیں جنکی پر ستش ہما رے آبا ئو اجدا د کر تے تھے اور ہم اپنا مال حا صل کرنے کے لیے اپنی مر ضی استعمال نہ کر یں﴾ یعنی یہ عجیب نماز ہے جو ہمیں اپنے آبا ئ و اجدا د کے معبو د وں سے روکتی ہے اور ہما رے تر از و ئوں کو پکڑ لیتی ہے کہ ہم ڈنڈی نہ ما ریں۔ تو اپنے انداز کی پر ستش کر ہمیں اپنے اندا ز کی پر ستش کر نے دے ۔سیکو لرا ز م پر دو نو ں عمل کر یں اور یہ کیا کہ تیری نماز مسجد سے نکل کر ما رکیٹ میں آجا تی ہے۔ ہا ں یہ اس شعیب علیہ السلام کا مزا ر ہے جنہیں خدا نے مو سی ٰ علیہ السلا م جیسا دا ما د عطا کیا جو سا لہاسا ل تک آپ کا شبا ن ﴿گڈریا ﴾ رہا آپ کی بھیڑ یں چرا تا رہا اور جسے اللہ تعالیٰ نے اولو العز م بنا دیا اقبال نے کہا تھا �ò اگر کوئی شعیب آئے میسر شِبانی سے کلیمی دو قدم ہے اردون کا پرا نا شہر دیکھے رومتہ الکبٰری کے عظیم تمد ن کی کھنڈر ہو تی ہو ئی عما ر ات دیکھیں ۔ ’’فَاْ عتبُِرِوْاَیاْ اُوِلی اْلا لالباب‘‘ ﴿عبر ت حا صل کر اے آنکھو والو ﴾ اصحا ب کہف کے غا ر دیکھے ۔وہی اصحا ب کہف جو بر سوں ان غا ر وں میں چھپے رہے اور جن کے سِکے پر انے ہو گئے تھے ۔مجھے خیا ل آیا کہ ہمیں بھی لو گ اصحا ب کہف ہی خیا ل کرتے ہیں اور ہم پر ہنستے ہیں کہ ہم اس دو ر میں چو دہ سو سال پر انی با تیں کر تے ہیں ۔ہم اپنے ہی معاشرے میں اجنبی ہیں ۔یہ خیال آیا تو ایک قو لِ رسو ل �ö ذہن میں ابھرا اور قلب و رو ح شا د کا م ہو گئے۔ ’’ بدئَ الا سلام غریباً سیعو دالی الغر با فطو بیٰ للغربا‘‘ ﴿اسلام آیا تو اُسے اجنبی سمجھا گیا وہ جلد ان لوگو ں کی طرف لو ٹ جائے گا جنہیں اپنے معا شرہ میں اجنبی سمجھا جائے گا پس بشا ر ت اور خو شخبر ی ہے ان لو گوں کے لیے جنہیں اجنبی سمجھا جائے گا ﴾ عبد اللہ الفاصل ، ڈاکٹر شریف اور عد نا ن سے ملا قا تیں ہو ئیں۔ اردو ن کا دا ر الخلا فہ، عما ن ہے۔ پہا ڑ وں میں گھر ا ہوا خو بصو ر ت شہر ہے ۔یہا ں کے لو گ بھی بڑے خوبصورت خو ش اور اخلا ق و شیریں مقال ہیں ۔شہر نشیب و فرا ز میں ہے کچھ گھر بہت بلند ی پر ہیں توکچھ پستی میں۔ یہاں با د شا ہی محل اور جا معہ حسینیہ قا بل دِید مقا ما ت ہیں۔ قصرِ شاہی کو وسیع اور انتہا ئی خو بصور ت با غ اپنی گو د میں سمیٹے کھڑا ہے۔ یہ شا ہ حسین کا محل ہے ۔ ’’ جا معہ حسینیہ ‘‘ جس کا نام جنا ب حسین (رض) کے تقد س کے سا تھ ۔شا ہ حسین کے نام کی شا ن و شو کت بھی رکھتا ہے ۔عما ن کے آخر ی سرے پر خو بصو ر ت تین منزلہ عما ر ت ہے۔ تعمیر میں سفید او ر سیا ہ سنگِ مر مر استعما ل ہو اہے۔ پہلی منزل میں مد رسہ ہے اوپر کی دو منز لو ں میں مسجد ہے۔ مر دو ں کے لیے الگ خو اتین کے لیے الگ ۔اس کے با نی حسین بن طلا ل ہیں ۔یہاں طالب علم انگر یز ی لبا س میں ملبو س رہتے ہیں ۔مؤذن اور اما م بھی ایسے ہیں۔ با لعمو م ننگے سر ہی اذا ن وغیر ہ ہو تی ہے۔ جا معہ حسینیہ 1961 �÷ ئ میں مکمل ہوئی۔ عما ن میں اکثر یت مسلما نو ں کی ہے مگر یہاں عیسا ئی بھی ہیں۔ جا معہ حسینیہ سے کچھ فا صلہ پر عیسا ئیوں کا گر جا ہے۔ عما ن سے بیت المقدس تک پختہ اور شا ند ار سڑ ک ارد گر د سر سبز پہا ڑ یا ں ہیں جنکے دا من میں ہر ا بھر ا میدا نی علا قہ دوتک چلا جا تا ہے، تیس میل کے فا صلہ پر ایک بستی نا عو ر ہے۔ آگے نہر اردن ہے۔ اس پر خو بصو ر ت پُل ہے ،پُل کے اس طر ف اردن کا علاقہ ہے اور دو سری طرف فلسطین کا۔ گو یا پل پا ر کر یں تو فلسطین آجاتا ہے جو اردن سے بھی زیادہ سر سبز و شا د ا ب ہے۔ عما ن سے 55 کلو میٹر پر بحیر ہ لو ط ہے۔ اسے بحیر ہ ا لمیت بھی کہتے ہیں۔ا س کا پانی انتہا ئی کھاری ہے، چکھیں تو جیسے زبا ن کٹ جا تی ہے۔ اسی پا نی کو خشک کر کے نمک بنا یا جا تا ہے۔ یہاںکنا رے کا میدا نی علاقہ گو یا اسی نمک کے کھیت ہیں ۔وہا ں نمک بنا یا جا رہا ہے۔ بحیر ئہ لو ط کے پا نی کی ایک خا ص با ت یہ ہے کہ یہا ں آدمی ڈو بتا نہیں۔ یہاں سے آگے اور بیت المقد س سے تقر یبا ً 28 کلومیٹر پہلے مو سیٰ علیہ السلام کا مزا ر ہے، جس کے دروا زہ پر قرآن پاک کی یہ آیت لکھی ہے ’’وَکَلَّمَ اللّٰہُ مُوْ سٰی تَکْلیِماَ‘‘ یہا ں مسلما نو ں کا قبضہ ہے یہودی نہیں جا سکتے ۔

سفرِ شا م

حدو د ِ شا م میں دا خل ہو تے ہی تا حدِ نظر سبز ہ ہی سبز ہ نظر آنے لگتا ہے اور آنکھو ں میں طر ا وت تیر نے لگتی ہے جن علا قو ں کو ہم نے دیکھا وہ سا رے کے سا رے اردن اور فلسطین سے بھی زیا دہ سر سبز و شا د ا ب تھے۔ دمشق شا م کا دا ر الخلا فہ ہے ۔ یہا ں فر و ٹ بہت عا م اور سستے ہیں یہا ں کا لوکاٹ اتنا میٹھا اور لذیذ ہے کہ اس سے پہلے ہم نے کبھی نہیں چکھا تھا، منہ میں ڈا لو تو جیسے شہد کا گھو نٹ پی لیا ،گٹھلی فو را ً الگ ہو جا تی ہے ۔ سیب بھی الگ ذا ئقہ رکھتے ہیں۔ انکی خو شبو بھی مشا م ِ جا ں کو معطر کر دیتی ہے۔ بڑے نر م اور انتہا ئی شیر یں ہو تے ہیں۔ لبنا ن کے سیب بھی مشہو ر ہیں مگر یہاں کے سیب بھی ،ان سے کم لذیذ نہیں۔ یہاں کا لباس عمو ما ً انگر یز ی ہے مگر انگر یز ی زبا ن کا زیا دہ رو اج نہیں۔ کیلنڈ ر فر نچ کا چلتا ہے ۔ پاکستان کے مقا بلہ میں انڈیا کا پر و پیگنڈ ا یہا ں بھی زیا دہ ہے۔ یہا ں کے لو گ بڑ ے خو ش اخلا ق ہیں، لیکن دکا ندا ر کچھ فر یب کا رہیں۔ دمشق کا پر انا شہر دیکھا ۔عجیب با ت ہے کہ دمشق دیکھ کر طبیعت بہت ہی منغّض ہوئی ۔سبب سمجھ نہیں آیا خفقا ن سا ہو نے لگا۔ آنکھوں کے آگے اند ھیرا سا چھا نے لگا ۔رفیق ِ سفر سے ذکر کیا تو انہو ںنے کہا کہ دمشق ہی یزید کا پا یۂ تخت تھا۔ یہیں جنا ب حسین (رض) کا کٹا ہو ا سر مبا ر ک اور یہیں اہل بیت اطہا ر کا قا فلہ قید یو ں کی صورت میں لا یا گیا۔ وہ بیبیا ں بے پر دہ لا ئی گئیں جنکی جھلک چشم فِلک نے بھی نہیں دیکھی تھی۔ شا ید رو ح پر اسی کا اثر ہوا اور ہم سمجھ گئے کہ و ا قعتا یہی سبب ہوگا ۔ وہ خفقا ن جس نے دل کو گھیر لیا تھا ،وہ حضرت زینب (رض) کے کھُلے با لو ں اور رو تی آنکھو ں کا دُکھ تھا اور وہ اند ھیرا آنکھو ں پر چھا گیا تھا ۔وہ شا مِ غر یبا ں کا اند ھیرا تھا ۔سا را منظر ذہن میں گھو منے لگا ۔پوری فلم با طن میںچلنے لگی اور آنکھیں بہنے لگیں۔ بہتی رہیں بہتی رہیں پھر جیسے جھڑی برس کر کُھل جا تی ہے۔ اسی طرح با طن صا ف ہو گیا ۔دل کو سکو ن سا محسو س ہو ا۔ یہ آنسو شا م غِر یبا ں کا قر ض تھے ،قرض ادا ہو گیا تو مقر و ض کی پریشا نی ختم ہو ئی اور دو سرے رو ز زیا ر ات شر و ع کیں۔ محلہ صا لحیہ سے نکلیں تو پہلے مو لا نا خا لد غو ث دمشقی کا مزا ر آتا ہے جو کرا د میں وا قع ہے۔ بہت بلند ی ہے اس پر جا ئیں تو نیچے پو را دمشق یو ں نظر آتا ہے جیسے اپنے ہا تھ کی ہتھیلی پر رکھا ہو ۔ وہ پہاڑ بھی نظر آتا ہے جہا ں چا لیس ابدا ل دفن ہیں اور جسے کو ہ چیل ابدا ل بھی کہتے ہیں ۔خا لد غو ث اپنی اولاد سمیت یہا ں مد فو ن ہیں۔ سا تھ ہی مسجد ہے اور حلقہ ٔذکر کی جگہ بھی جہا ں ہر سو موا ر کو نقشبند ی سلسلہ کے علما ئ جمع ہو کر ذکر نقشبند یہ کر تے ہیں۔ محلہ صا لحیہ میں شیخ اکبر الد ین ابن عر بی کا مزا ر ہے۔ یہ وہی فصوص الحکم کے مصنف ابنِ عر بی ہیں جنہیں اقبال نے ’’ وحد ت الو جو د کا انتھک مفسر ‘‘ کہاہے اور جنکا نظر یہ و حد ت الو جو د مشر ق سے مغر ب تک چھا یا ہو ا ہے۔ مزا ر مسجد میں ہے قبر کے گر د جا لی وا لا کٹہر ا ہے۔ یہ قبر نیچے تہ خا نہ میں ہے ۔آ گے آپ (رح) کے صا حبز ادے شیخ عبد القا د ر الجز ا ئمر ی کا مزا ر ہے۔ ان سے آگے حضرت شا ہ عبد الغنی نا بلسی اور ان کے فر ز ند ِ جلیل جناب مصطفی نا بلسی کے مزا ر ہیں آگے جا ئیں تو محلہ برا مکہ میں سلطا ن سلیم کا مز ار ہے آگے دمشق کا پر ا نا قبر ستا ن شر و ع ہوتا ہے ۔ یہیں جنا ب ِ حسین (رض) کی تین صا حبز دیاں بی بی سکینہ، بی بی زینب اور امِ کلثو م کا مقبر ہ ہے۔ یہا ں حا ضر ی دی تو حضرت سکینہ کا قید خانے میں گر یہ کر نا یا د آگیا اور ہما ری آنکھیں سا و ن کے بادل کی طر ح بر سنے لگیں ۔ دو ر کعت نفل پڑ ھے ،فا تحہ پڑ ھنے کا شر ف حا صل کیا۔ اسی قبر ستا ن میں تھوڑے فا صلہ پر مؤذن ِ رسو ل حضرت سید نا بلا ل (رض) اور حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کے مز ا ر ہیں ۔اسی قبرستا ن کے با لمقا بل سڑ ک سے اُس پا ر دو سرا بڑ ا قبرستا ن ہے، جہاں بہت سے اہل بیت اطہا ر دفن ہیں ۔ان پر بڑ ا گنبد بنا ہو ا ہے، وہا ں حا ضر ی دی ِ ام المؤمنین حضر ت صفیہ (رض) ، ام لمؤ منین حضرت حبیبہ (رض) اور ام المؤ منین حضرت سلمیٰ (رض) کے مزا ر پر گئے۔ دو نو ں مؤ خر الذ کر مزا ر متصل بنے ہو ئے ہیں۔ حضرت امِ کلثو م بنت علی(رض)، حضرت اسما ئ زوجہ حضرت جعفر طیار ، حضرت میمو نہ بنت حسن بن علی ، حضر ت حمیدہ بنت مسلم بن عقیل کے مزا ر وں پر حا ضر ی دی گئی۔ حضرت فا طمہ دختر اما م حسن (رض) کے مزا ر پر فا تحہ پڑھی ۔غا زیٔ اسلام اور صلیبی جنگو ں کے مشہو ر فا تح سلطا ن صلا ح الد ین ایو بی کے مزار پر حاضر ی دی مگر شر م سے سر جھکائے ہو ئے کہ جو جنگ انہو ں نے بڑی شا ن سے جیتی تھی، اُسے بعد کی نسلیں سنبھا ل نہ سکیں۔ حضرت زینب بنت حضرت علی المر تضیٰ (رض) کا مز ا ر دمشق سے دس کلو میٹر کے فا صلہ پر ہے ۔ادھر رو نہ ہو گئے را ستے میں ایک جگہ غو طہ ہے یہ بڑا سر سبز مقام ہے اور زتیو ن کے با غا ت سے لبر یز ہے۔ حضر ت زینب (رض) جنا ب علی المر تضیٰ اور حضرت فا طمۃ الز ہرا (رض)کی و ہ عظمت ما ٓ ب دختر ہیں جنہو ں نے میدا نِ کر بلا میں بڑے صبر و سکو ن سے اپنے شہید ہو جا نے والو ں کو رخصت کیا۔ جنا ب سید الشھد ائ حضرت اما م حسین (رض) کو گھو ڑے پر سوار کر ایا پھرلُٹے ہوئے قا فلہ کو سنبھا ل کر لے گئیں اور یز ید کو بڑی جر أ ت سے جوا ب دیئے۔ بعد میں بچے کھچے خا ندا ن کو سنبھا لے رکھا اور بڑ ے حوصلہ سے حا لا ت کا مقا بلہ کیا ۔ حضرت زینب (رض) کے مزا ر پر بڑ ا وسیع اور عظیم الشا ن قبہ بنا ہوا ہے۔ اسی مز ار کی وجہ سے یہا ں اچھی خا صی آبا دی ہو گئی ہے اس آبا دی کا نام محلہ سبطیہ ہے ۔شا ید یہ نا م سبطِ رسو ل کی منا سبت سے مشہو ر ہوا وسیع و عر یض احا طہ ہے اور احا طہ کے در میا ن میں یہ مزا ر ہے۔ دروازہ پر چا ر وں طر ف چا ند ی کا مضبو ط کٹہرا ہے۔ اندر بڑ ی خو بصو ر ت جالی ہے۔ یہا ںہر وقت زا ئر ین کا ہجو م رہتا ہے اس قبہ کے در واز ہ پر ہر طرف اہل بیت اطہا ر پر سلام لکھے ہیں ۔یہا ں نو افل پڑ ھے فا تحہ پڑ ھی۔ خو ب آنسو بہا ئے سسکیاں نکل رہی تھیں۔ ہچکی بند ھنے لگی تھی کہ مجھے ایسا معلوم ہوا جیسے قبر سے آواز آرہی ہے ’’واللّٰہ الُمستعانُ علی ما تصفون فصبر’‘ جمیل‘‘ ﴿ اور اللہ ہی مد د گا رہے اور صبر جمیل ہما را سر ما یہ ہے﴾ حوصلہ آگیا دل پر کسی نے اپنا ٹھنڈ ا ہا تھ رکھ دیا، ر وح پر سکون ہو گئی پھر دمشق کی طر ف وا پس ہوئے ۔را ستے میں حضور �ö کے صحا بہ حضرت مقداد (رض) بن اسو د اور حضرت ابی (رض) بن کعب کے مزا ر و ں پر حا ضر ی دی اور فا تحہ خو انی کا شر ف حا صل کیا۔ پھر حضرت خو لہ (رض) بنت الا زور کے مزا ر پر حاضر ی دی ۔یہ وہی خو لہ بند الا زور ہیں کہ ایک غز وہ میں مجا ہد ین کے سا تھ کچھ خو اتین بھی تھیں۔ اور خوا تین سا تھ ہو ا کر تی تھیں تا کہ زخمیو ں کو پانی پلا ئیں او ر سنبھا لیں یہ خوا تین حضور �ö نے ایک جگہ بٹھا دیں اور شا عرِ در با ر ِ نبو ت حضرت حسا ن (رض) بن ثا بت کو انکی حفا ظت کے لیے کھڑ ا کر دیا ۔کچھ دشمن ادھر آنکلے حضرت حسا ن (رض) نے کچھ کم ہمتی دکھا ئی۔ حضرت خو لہ(رض) نے ایک لکڑ ی سے حملہ کر دیا ۔ایک کا فر کا سر کھول دیا اور وہ لو گ بھا گ گئے حضور سید کائنا ت �ö نے بعد میں یہ سنا تو بہت خو ش ہو ئے اس بہا در خا تو ن کا مزار شہر کے ایک کنا رہ رپر ہے۔ یہا ں فاتحہ پڑ ھی شہر میں دا خل ہو نے لگیںتو حضر ت رقیہ بنت حسین (رض) کا مزا ر ہے۔ چھوٹی سی قبر بڑی خو بصو ر ت بنی ہوئی ہے۔ پھر ہم شہر میں پہنچ گئے یہاں سو ق حمید یہ کے آخر ی کنا رے پر جو مسقف با ز ا ر ہے۔ یہا ں جا مع امو ی ہے ۔بنو امیہ کی بنا ئی ہو ئی بہت کشا دہ اور خو بصو ر ت مسجد ہے۔ مسجد میں بڑے شا ندا ر قا لین بچھے ہیں۔ اس مسجد کے محر ا ب کے قر یب اند ر خو بصو ر ت قبہ ہے۔ جس کا گنبد مسجد کے اند ر ہے۔ اس میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کی قبر مبا ر ک ہے ۔ یہا ں نوا فل ادا کئے اور فاتحہ پڑ ھی ۔قبر سطحِ زمین سے آٹھ فٹ اونچی ہے اوپر چادریں پڑی ہیں۔ لو حِ مز ا ر پر سبز پگڑ ی ہے ۔مسجد کے مشر قی جانب سبحنِ اہل بیت ہے یہاں اہل بیت قید یو ں کا مقد س قا فلہ ٹھہر ا یا گیا تھا۔ اس کے قر یب ہی وہ جگہ ہے جہا ں یز ید در با ر لگا تا تھا ۔ یہیں جنا بِ حسین (رض) اما م الشھد ائ کا سر مبا ر ک اس کے سا منے رکھا گیا تھا ۔ اسی مسجد کے ایک حصہ میں سر مبا ر ک دفن ہے۔ کچھ آگے جا ئیں تو سلطا ن نو را لد ین کا مزا ر ہے یہ وہی سلطا ن نورا لد ین ہیں جن کے دور میں عیسا ئی حضور �ö کے رو ضہ ئِ مبارکہ کی طرف سر نگ بنا ر ہے تھے کہ لحد سے حضور �ö کا جسدِ اطہر چر الے جا ئیں گے اور پھر کہیں گے ،دیکھ لو اس قبر میں تو کچھ بھی نہیں۔ حضور �ö نے سلطا ن نو ر الد ین کو خو ا ب میں خبر دی۔ سلطا ن نے بڑی بیدا ر دماغی سے انہیں پکڑ کر پھا نسی پر لٹکا دیا اور قبر ِ انو ر کے اردگرد پا نی تک سیسہ پگھلا کر بھروا دیا ۔ اسکے بعد ہم نے جا مع ابو الد ر (رض) دا ئ کی زیا ر ت کی۔ بتا یا جا تا ہے کہ مشہو ر صحا بی حضرت ابو الد رد ائ (رض) کی قبر یہاں ہے مگر وا ضح نہیں۔ البتہ مسجد موجو د ہے ۔ دمشق میں ہی یز ید کی قبر ہے ۔جہا ں ایک شخص نے سیسہ پگھلا نے کی بھٹی بنا رکھی ہے ۔ قصر وایوا ن ویر ا ن کھنڈر ہو چکے ہیں ۔ حضرت امیر معا ویہ(رض) کے مزا ر پر بھی گئے اور فا تحہ پڑ ھی۔ یہ مز ا ر کچی کو ٹھڑ ی میں ہے ۔یہ بھی دمشق میں ہے ۔ہم حمص کے شہر میں بھی گئے۔ شہر کے عین درمیان میں ایک کشا دہ جگہ پر حضرت خا لد(رض) بن ولید کا مزا ر ہے ۔ اس کے سا تھ مسجد ہے ۔ مسجد کے کونے میں حضرت عبد اللہ (رض) بن عمر فا روق (رض) کی قبر ہے یہاں بھی حا ضر ی کی سعا د ت حا صل کی۔ حضرت ہا بیل علیہ السلام کے مزا ر پر بھی حا ضری دی۔ یہ مزا ر دمشق شہر سے چا لیس کلو میٹر دور ایک پہا ڑ ی پر ہے۔ اس پہا ڑی کی چو ٹی پر قتل ہا بیل کی جگہ ہے۔ یہ پہلا انسا نی قتل ہے جو اپنے بھا ئی قا بیل کے ہا تھو ں ہوا اور جس کا ذکر قرآن ِ حکیم نے کیا ہے ۔ اسی پہا ڑی پر چہل ابد ال کے مصلے ہیں۔ ہم حلب شہر میں بھی گئے یہاں۔ ذکر یا علیہ السلام کا رو ضہ ہے۔ اسکی زیا ر ت سے مشر ف ہو ئے اور فا تحہ کی سعا د ت حا صل کی ۔ حضرت حجر بن عد ی کے مزا ر پر حا ضر ی دی۔ اسی طر ح حضرت اویس قر نی (رض)کے مزا ر کی بھی زیا ر ت کی۔ درود فا تحہ کا شرف حا صل کیا۔ پیر صا حب نے عرا ق کا تین با ر سفر کیا۔ پہلی با ر جو ن 1987 �÷ ئ میں دو سری با ر 1991 �÷ ئ جنور ی میں اور تیسر ی با ر فر و ر ی 2000 �÷ ئ میں ، ان تینو ں وقتو ں کے سفر کی زیا ر ات یکجا کر دی گئی ہیں ﴿مر تب﴾ ’’ استنبول بغدا د کے تیسر ے سفر میں تھو ڑے سے وقت کے لیے جا نا ہوا مگر یہ تھو ڑا سا وقت بھی بہت ثمر آور ثا بت ہوا کہ ہم نے رسو ل �ö کے عظمت ما ٓ ب صحا بی حضر ت ایو ب (رض) انصا ر ی کا مزا ر اور انکے نا م پر بنی ہو ئی مسجد دیکھ لی۔




اند لس کا سفر

حضرت پیر معر و ف شا ہ صا حب کے سفر دو حصو ں میں تقسیم کئے جا سکتے ہیں۔ ایک تو خا لص وہ سفر ہیں جو عباد ت میں شا مل ہیں یا اسلام کی عظمتِ رفتہ کے آثا ر و نشا نا ت کی یا د یں تا زہ کر نے اور مستقبل کا لا ئحہئِ عمل طَے کر نے کے سلسلہ میں کئے گئے مکہ ، مدینہ ، عر ا ق و کر بلا اور اند لس کے سفر اسی قبیل میں آتے ہیں دو سرے وہ سفر ہیں جو وقتا ً فو قتا ً تبلیغی مقا صد کے لیے کئے گئے ہم نے ثا نی الذ کر قسم کے سفر الگ کر دییہیں اور انہیں ’’ورلڈ اسلا مک مشن ‘‘ کے قیا م کے بعد لکھیں گے۔ اند لس یا سپین ایک ہی ملک کے دو نام ہیںمؤ ر خ اس طر ف ما ئل ہیں کہ اس ملک کو مسلما نو ں کے دو ر میں اند لس کہا جا تا تھا اس لیے اس عہد کی تاریخ لکھی جا ئے تو اسے اند لس لکھا جا ئے اور مسلما نو ں کے بعد کے ادوار میں اسے سپین لکھا جا ئے۔اور یہ با ت در ست بھی ہے۔ اسلا م یورپ پر کس طر ح اثر اندا ز ہو ا ؟ اس مو ضو ع پر جب بھی لکھا جا ئے ایک بڑ ا اور ضخیم با ب اند لس پر لکھا جائے گا ۔ اند لس یا سپین ایک دا ستا نِ عبرت ہے ایک مسلما ن جب اند لس میں قد م رکھتا ہے تو اچا نک اسکی بصیر ت کی آنکھیں کھل جا تی ہیں اور وہ اس دا ستا نِ عبر ت کا حر ف حر ف پڑھنے لگتا ہے ۔ حضر ت معر و ف شا ہ نو شا ہی قا د ری کے سفر نا مۂ سپین سے پہلے ہم ضر و ری سمجھتے ہیں کہ اند لس کی مختصر تا ریخ لکھ دیں ۔اندلس کی یہ تاریخ ہم نے فرانس کے مشہو ر ما ہر تمد ن و عمرا نیا ت ڈا کٹر گستا ولی با ن کی کتا ب ’’ تمد نِ عر ب ‘‘ کی مد د سے مر تب کی ہے جس کا اردو تر جمہ ڈا کٹر سید علی بلگرا می نے کیا تھا اور جو پہلی مر تبہ 1936 �÷ میں شا ئع ہو اتھا ۔ یو ں یہ تا ریخ ایک غیر متعصب عیسا ئی کے بیا نا ت پر مشتمل ہے جس پر یہ الزام کسی طر ح چسپا ں نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے مسلمانو ں کے لیے جا نبد اری بر تی ہے ۔








اند لس کا تا ریخی پس منظر

اس ملک کے قد یم با شند ے سلٹ قو م سے تھے اور یہ قوم فر انس سے یہا ں وا ر د ہو ئی تھی پھر یہا ں آئی بیر ی اور لگو ر ی آ ئے۔ اسکے بعد فنیقی آئے پھر یو نا نی ، ان کے بعد قر طا جنہ اس ملک کے فا تح ہو ئے ۔قر طا جنہ کی اس شا خ کا نا م کا ر تھیجین ہوا ۔ پھر پیو نک جنگیں شر و ع ہو ئیں۔ جنگیں رو میوں اور قر طا جنو ں کے درمیان شر و ع ہو ئی تھیں ۔ اس سلسلہ کی پہلی جنگ 264 �÷ قبل مسیح سے 241 �÷ قبل مسیح تک جا ری رہی ۔دو سری جنگ 218�÷ قبل مسیح سے 202 �÷ قبل مسیح تک اور تیسری جنگ جس میں قر طا جنہ با لکل بر با د ہو گئے۔ 149 �÷ قبل مسیح سے 146 �÷ قبل مسیح تک جا ری رہی ۔ اند لس دو سر ی پیو نک جنگ میں ہی قر طا جنہ کے ہا تھو ں سے نکل گیا تھا اور رو میوں کے زیر تسلط آگیا تھا ۔ رومیوں نے یہا ں پا نچو یں صد ی عیسو ی تک حکو مت کی۔ ان کے عہد حکو مت میں ملک سر سبز شہر و ں سے آبا د ہو گیا ۔ اور کئی ایسے ہیر و پیدا ہو ئے جنہیں قو م کے لیے قا بل ِ فخر سمجھا جا تا تھا۔ مثا ل کے طو ر پر 4 �÷ قبل مسیح میں پیدا ہو نے والا معر و ف فلسفی سینکا جو شہنشا ہ نیر و کا استاد تھا کثیر کتا بو ں کا مصنف تھا اور جو مسئلہ ئِ تو حید کے قر یب پہنچ گیا تھا ۔ یا لو شن جس نے خیا لی مکا لما ت لکھے۔ یا مشہو ر شا عر ما رشل ، ادھر بادشاہو ں میں ٹر یجن ، ہیڈر ین مارکس ،آ ر یلیس اور تھو ڈو سیس جیسے لو گ سا منے آئے جنہو ں نے انتظا م ملکی میں اپنی قا بلیت کے جو ہر دکھا ئے ،پھر جر من و حشی قو میں وینڈ ل آلن اور سوا یو نے جب فر انس کو تہ وبا لا کر دیا تو اند لس پر بھی قبضہ کر لیا ۔یہ وحشی بہت جلد ان لا طینی اقوا م کے سا تھ مل گئے جو پہلے سے اند لس میں مو جو د تھیں۔ اب لا طینی ا نکی زبا ن ہو گئی اور انہو ں نے اپنے دیو تا ئوں کو چھو ڑ کر عیسا ئی مذہب اپنا لیا۔ یہی لو گ اس وقت بھی اند لس پر قا بض تھے جب مسلمانوں نے اند لس پر حملہ کیا ۔ 711 �÷ عیسو ی میں دو بڑے امر ا ئے اندلس کو نٹ جو لین اور اشبیلیہ کے رئیس الا سا قفہ کی حما یت پاکر عر ب اند لس پر حملہ آور ہو ئے۔ بار ہ ہزا ر کے اس فو جی دستے کا قا ئد طا رق بن زیا د تھا ۔ یہ حملہ اسی مقا م سے ہوا جسے آج بھی فا تح جر نیل کے نام پر جبل الطا ر ق جبر الٹر کہا جا تا ہے یہیں وہ تاریخی وا قعہ پیش آیا جو تا ریخ اسلام بلکہ مسلما نو ں کے ادب کا بھی ایک جز و بن گیا ۔وہ یہ کہ بہا در جر نیل نے کشتیا ں جلا دینے کا حکم دیا تا کہ سپاہیوں کی یہ امید یں ہی ختم ہو جا ئیں کہ شکست کی صو ر ت میں گھر و ں کو وا پس ہو جا ئینگے ۔انہیں یقین ہو کہ انہیں مر نا ہے یا فتح حا صل کر نا ہے۔ اقبال نے بھی اِسے ایک مختصر سے وا قعا تی قطعہ میں نظم کیا ہے جس کا آخر ی شعر کچھ یو ں ہے کہ اعتر اض کر نے والو ں کے اعتراض پر طارق خند ید و د ستِ خو یش بہ خنجر زدہ و گفت ہر ملک ملکِ ما ست کہ ملکِ خدا ئے ما ست

     ﴿ہنسا اور اپنے ہا تھ میں خنجر بلند کر کے کہا ہر ملک ہما را ہی ملک ہے کیو نکہ سب کچھ ہما رے خدا کا ہے ﴾
        افر یقہ کے بر برو ںکو زیر تسلط لا نے میں عربو ں کو تقر یبا ً پچا س سا ل لگ گئے تھے ۔اُن کا خیا ل تھا کہ یو روپ کے لو گو ں میں بھی ویسی ہی آزا دی سے محبت شجا عت ہو گی لیکن یہا ں رعیت حکمر انو ں سے نا لا ں تھی۔ اس لیے طا رق   کی فو ج نے با ٓ سا نی میدا ن ما رلیا اور مسلما ن اند لس میں دا خل ہو گئے۔ اندلس کی آب و ہوا، یہا ں کی زمین کی زرخیز ی سب کچھ افر یقہ کے تپتے ہو ئے صحرا ئو ں سے مختلف تھا۔وہ آگے بڑ ھتے گئے ۔مو سیٰ بن نصیر بھی بیس ہزا ر فو ج لے کر اپنے ما تحت جر نیل طا ر ق بن زیا د سے آملا تا کہ فتح کی تکمیل کر ے فتح نہا یت ہی سر عت کے سا تھ اتما م کو پہنچی قرطبہ   ، ما لقہ   ، غر نا طہ   اور طلیطلہ   اشبیلیہ جیسے بڑے شہر گو یا انہو ں نے بغیر مزا حمت کے لیے اس وقت بھی اندلس میں زر اعت اور فلا حت بڑ ی حد تک عرو ج پر تھی یہاں کے فو جی سر برا ہ نے دمشق میں بیٹھے خلیفہ کو اپنے خط میں لکھا ۔ 

’’ آسما ن اور زمین کی خو بصو ر تی میں یہ ملک شا م ہے۔ آ ب و ہوا کی لطا فت میں یمن ، پھو لو ں اور عطر یا ت میں ہند ہے ۔زر خیز ی میں مصر ہے اور بیش بہا فلز ا ت میں چین ‘‘ عر بو ں نے یہا ں کے لو گو ں کے سا تھ بھی وہی فیا ضا نہ اور ہمدردا نہ سلو ک کیا جو اسلامی تمد ن کا خا صہ رہا ہے یہاں کسی کے مذ ہب میں کوئی مداخلت نہ کی گئی روا دا ر ی، مسا وا ت اور انصا ف کا سلو ک کیا گیا اور لو گ جلد ہی اپنے نئے حکمر انو ں کے گر و ید ہ ہو گئے۔ اند لس کو فتح کر نے کے بعد مو سیٰ کا ارا دہ تھا کہ فر انس اور جر منی سے ہو تا ہو ا قسطنطنیہ کو لیتا ہو ا شام پہنچ جا ئے لیکن کو تا ہ اند یش خلیفہ نے اسے واپس دمشق طلب کر لیا اور وہ اپنا ارادہ پورا نہ کر سکا۔ اگر ایسا ہو جا تا تو یو ر وپ اُس عہدِ مظلمہ ﴿DARK AGES﴾سے بچ جا تا جس میں وہ عر صۂ در ا ز تک گر فتا ر رہا اند لس پر مسلما نو ں کا عہد ِ حکمر انی سو بر س کو محیط ہے ۔ فتو حا ت سے فا رغ ہو نے کے مسلما نو ں نے اند لس کو با مِ عر و ج پر پہنچا نے کی کوشش شر وع کر دیں ۔غیر مز رو عہ زمینیں قا بل کا شت بنا ئی گئیں اور زیر کا شت لا ئی گئیں ۔اجڑ ی بستیا ں آبا د ہو گئیں دو ر دور تک کے مما لک کے سا تھ تجا ر تی تعلقات قا ئم ہو ئے۔ دنیا بھر سے سا ما ن تجا ر ت اند لس میں آنے لگا ۔ کا ر و با ر بڑھے ، آبا دی بڑھی ، عا لیشا ن عما را ت تعمیر ہو نے لگیں ۔علم و ادب میں بے انتہا تر قی ہو ئی ۔ یو نا نی ، لا طینی اور دیگر علمی زبا نو ں کے تر اجم ہو ئے، دا ر العلو م قا ئم ہو ئے اور یہی دا ر العلو م عر صۂ درا ز تک علم و دانش کی رو شنی پھیلا تے رہے ۔ مر کز میں جب خلا فت امو یو ں کے ہا تھو ں سے نکل کر عبا سیو ں کے ہا تھ میں آئی تو عبد الر حمن اول اند لس میں پہنچ کر اس کا حکمر ا ن ہو ا وہ امو ی تھا اس نے عبا سیو ں کی خلا فتِ بغدا د سے قطع تعلق کرلیا اور قر طبہ میں اپنی خلا فت قا ئم کر لی ۔756 �÷ عیسو ی میں عر بو ں کے تمد ن کا عروج شر و ع ہوا اور تین صد یو ں تک قر طبہ علو م کے لحا ظ سے تما م عا لم کے شہر و ں کا سر تا ج رہا ۔ مسجد ِ قر طبہ تعمیر ہو ئی جو ہر لحا ظ سے عجا ئبا تِ عا لم میں شما ر ہو تی تھی۔ اند لس پر سکو ن تھا لو گ خو شحا ل تھے دنیا بھر سے دو لت کھچی کھچی اند لس پہنچ رہی تھی زمینو ں کی سر سبز ی و شا دابی کما ل عر و ج پر تھی ، زمین بلا شبہ سو نا اگل رہی تھی ۔ عبد الر حمن اول اور اسکے بعد آنے والے خلفا ئ کو جنگ میں دو لت نہیں جھو نکنا پڑ تی تھی۔ ملک امن و اما ن کا گہوا رہ تھا اس لیے انہو ں نے تما م و سا ئل ملکی تر قی میں صر ف کئے علو م و فنو ن اور ادب کو بے انتہا تو جہ ملی اور انتہا ئی فر و غ حا صل ہو ا ، ہند سہ ، ہیئت ، طبعیا ت کیمیا اور طب و حکمت میں قا بل قِدر تر قی ہو ئی اور قر طبہ کی یو نیو ر سٹی سے فا ر غ التحصیل ہو نا سا ری دنیا میں قا بل فخر سمجھا جا نے لگا ۔ صنعت و حر فت اور تجا ر ت میں بھی اند لس کو مما لک پر فو قیت حا صل ہو گئی۔معد نیا ت کے دفا ئن بر آمد ہو ئے۔ بے انتہا مصنو عا ت تیار ہو نے لگیں وہ سا رے ذرا ئع آبپا شی جو اس وقت بھی کسی نہ کسی حا لت میں مو جو د ہیں مسلما نو ں ہی کی یا د گا ر ہیں زمین سے قسم قسم کی پیدا وار حاصل کی جا نے لگی گنا ، چا ول ، کپا س مختلف قسم کے پھل سب کچھ اند لس میں تھا اور فی الوا قع اند لس دنیا کی بہشت تھا ۔مسلما نو ں با لخصو ص عر بو ں کی مستعد ی علو م و فنو ن اور صنعت و حر فت کے تما م شعبو ں پر چھا ئی ہو ئی تھی ان کی تعمیرا ت عا مہ کا بھی جو ا ب نہ تھا سٹر کیں ، پل ، شفا خا نے ، مسا فر خا نے ، مسا جد جو صر ف مسا جد نہیں مدا ر س بھی تھے ہر طرف بکثر ت تھے ۔ قر طبہ کا دا را لخلا فہ علو م و فنو ن کا عظیم تر ین مر کز تھا تجا رت کا مرکز تھا، ذہا نت کا مر کز تھا ۔ چند صد یو ں میں عربو ں نے اند لس کو علمی اور مالی تر قی میں با لکل بد ل دیا اسے یو ر پ کا سر تا ج بنا دیا ۔یہ تغیرصر ف علمی و اقتصا دی نہ تھا بلکہ اخلا قی بھی تھا ۔ مر و ت ، انسا نی ہمدرد ی ، مذہبی و نظریاتی روا دا ر ی اور کشا دہ ظر فی اور دو سرے مذا ہب کے لیے نر می اورحسنِ سلو ک میں وہ رو شن مثا لیں قا ئم ہو ئیں جو آج تک تا ریخ کے ما تھے کا جھو مر ہیں ۔ اگر مسا جد بن رہی تھیں تو کلیسا ئو ں کی تعمیر کی بھی کھلے عا م اجا زت تھی اور اسا قفہ کو مذہبی مجا لس منعقد کر نے پر کوئی پا بند ی نہ تھی ۔ تجا رت عر و ج پر تھی تو ذر ائع رِسل و رسا ئل اور وسا ئل نقل و حمل کو بھی بے انتہا تر قی ہوئی ۔خشکی کے را ستے بہتر ہوئے بد امنی نا م و نشا ن کو نہ تھی۔ راستے ما مو ن تھے۔ بحری سفر کے لیے جہا ز را نی کو بے انتہا تر قی اور وسعت حاصل ہو ئی ۔تمام یو ر و پ ایشیا ئ اور افر یقہ کے سو احل تجا ر تی لحا ظ سے مربو ط ہو گئے تھے اور مد تِ درا ز تک سا را بحرِ متوسط مسلما نو ں ہی کے قبضہ میں تھا ۔ مسلما نو ں کی بلند اخلا قی کا ہی اعجا ز تھا کہ بہت سے عیسا ئی مسلما ن ہو گئے مگر یہ کا م انہو ں نے خو ف سے نہیں کیا ۔خو ف کا تو ان کے دو ر میں نا م و نشا ن بھی نہ تھا ۔ہر ایک پو ر ی مذہبی آزا دی حا صل تھی۔ لَا اِکْراَ ہَ فِی الد ین جس قوم کا ما ٹو ﴿MOTTO﴾ہو جس کا نعر ہ ہو ’صر ف سو چو اور سید ھی راہ کا فیصلہ کر و ‘ ’وھدینٰہُ النجدین‘ ہم نے دو را ہیں دکھا دی ہیں۔’’امّا شاکرًاوّامَّا کَفُورًا‘‘جورا ستہ مر ضی آئے اختیا ر کرلو ۔ اس میں کبھی دین حق کو تلو ار کے زور سے منوا نے کی کوشش نہ کی گئی نہ ہی اسکی ضر و رت سمجھی گئی ۔ اند لس میں یہو د ، نصا ریٰ اور مسلما ن سبھی کے لیے تر قی کی را ہیں یکسا ں کھلی تھیں چنا نچہ سا رے یو ر و پ میں اند لس ہی وہ ملک تھا جہا ں یہو د یو ں کو اما ن ملی تھی اور وہ بکثر ت یہا ں جمع ہو گئے تھے ۔ عر بو ں میں وحشت و بر بر یت کو بہا د ری نہیں سمجھا جا تا تھا ۔ دنیا کا اصو ل تھا ۔ ALL IS FAIR IN LOVE AND WAR ﴿محبت اور جنگ میں سب کچھ جا ئز ہے﴾ اسلا م نے جنگ میں بھی عد ل و انصا ف کی تعلیم دی تھی ۔

’’وَلاَ یَجْرِ مَنَّکُمْ شَنَا نُ قَوْمٍ عَلیَ اَلاَّ تَعْد لُوْا اِعْدِ لُوْا ھُوَ اَقْرَبُ لِلٰتَّقْوَی‘‘ ﴿کسی قو م کی دشمنی تمہیں اس پر آما د ہ نہ کر ے کہ عد ل کا دا من ہا تھ سے چھو ڑ دو عد ل کر و یہی تقو ٰی کے قر یب ہے ﴾ مسلما نو ں نے بہا در انہ اخلا ق کی ایک مخصو ص تعر یف متعین کی تھی ان کے نز دیک کوئی شخص بہا د ر کہلا نے کا مستحق اس وقت سمجھا جا تا تھا جب اس میں یہ دس اوصا ف موجود ہوتے ہیں :۔ ۱﴾ نیکی ۲﴾ شجا عت و حو صلہ ۳﴾ خو ش اخلا قی ۴﴾ ملکہ ٔشا عری ۵﴾ فصا حت ۶﴾ قو تِ جسما نی ۷﴾ شہسوا ری ۸﴾ نیزہ با زی ۹﴾ شمشیر زنی ۰۱﴾ تیر اندازی اندلس کی تا ریخ اس قسم کی دا ستا نو ں سے لبر یز ہے جن سے معلو م ہو تا ہے کہ وہا ں کے لو گو ں میں یہ خصا ئص اپنی انتہا ئی صو ر ت میں مو جو د تھے مثلا ً جس وقت 1139 �÷ عیسو ی میں والی ئِ قر طبہ نے طلیطلہ کا محا صر ہ کیا تو وہا ں ایک خا تو ن حکمر ان تھی جس کا نا م بیرا ن ژیرتھا شہزادی قلعہ بند ہو گئی اس نے قا صد کے ذر یعہ کہلا بھیجا ’’ عو ر تو ں پر حملہ کر نا بہا در و ں کا شیو ہ نہیں عر ب سالار نے فو را ً محا صر ہ اٹھا لیا ۔ اند لس میں مسلما نو ں کا عرو ج اندلس کا عر و ج تھا ۔اندلس کے عو ام کا بلا تمیز مذہب و ملت عر و ج تھا اور انسا نیت کا عرو ج تھا، علم و دا نش کا عرو ج خو شحا لی و فا ر غ البا لی کا عر و ج تھا، زرا عت کا عرو ج تھا ،صنعت و حر فت کا عر و ج تھا لیکن ان کا یہ عرو ج اپنی اصل حا لت میں قائم نہ رہ سکا اور زوال کا شکا ر ہو گیا ۔ اس زوا ل کے بہت سے اسبا ب تھے لیکن سب سے بڑ ا سبب خو د مسلما ن قوم کے آپس کے اختلا ف تھے جن کے با عث خا نہ جنگیا ں شر و ع ہو گئی تھیں۔ ان خا نہ جنگیو ں نے اُن عیسا ئیوں کو مو قع دے دیا جو شما ل میں جا چھپے تھے چنا نچہ 1085 �÷ ئ میں قسطیلیہ اور لیان کا با د شا ہ بڑ ھتا چلا آیا یہا ں مسلما ن عر بو ں کی حکو مت کمز ور ہو چکی تھی ۔ انہو ں نے مر ا کش کے بر بریو ں سے مددمانگی۔ وہ پہلے تو دو ست اور مد د گا ر بن کر آئے مگر فو را ً بعد ہی دعو یٰ دار حکو مت ہو گئے پھر انکے ما بین خا نہ جنگی شر و ع ہو گئی اور اند لس چھو ٹی چھو ٹی ریا ستو ں میں بٹ گیا ۔بہت سے بر بری خا ندا ن المر ا لبطین اور المو حد ین وغیر ہ یکے بعد دیگر ے حکو مت کر تے رہے ۔عیسا ئی زور پکڑ تے گئے اور کئی چھو ٹی چھوٹی ریا ستو ں پر قا بض ہو تے گئے ۔تیرھویں صدی کے آخر تک عر بو ں کے پا س صر ف غر نا طہ رہ گیا۔ ار غو ن کے با د شا ہ فر ڈ یننڈ نے قسطیلیہ کی خا تو ن حکمرا ن ازا بیلہ سے شا دی کر کے دو نو ں ریا ستو ں کو ملا لیا اور 1492 �÷ میں غر نا طہ کا محا صر ہ کر کے اس آخر ی اسلا می ریا ست پر بھی قبضہ کر لیا یو ں اندلس پر مسلما نو ں کی حکمر انی کا عہد ِ زریں ختم ہو گیا یا یو ں کہیے کہ اند لس ختم ہو گیا اور سپین وجو د میں آگیا۔ اب یہا ں وہ تبا ہی کا دو ر شر و ع ہو ا جس پر عربی کا شا عر ابن بد رو ں چیخ اُٹھا ۔ ’’ وقا ر خا ک میں مل گئے غر تیں لُٹ گئیں۔ انسا نیت کو در ند گی نے پھا ڑ کھا یا۔ ایک ایسی مخلو ق آگئی جو در ندوں سے بد تر تھی ۔ بے شر م آسما ن تو ٹو ٹ کر گر ا کیو ں نہیں۔ بے رحم زمین تیرا سینہ پھٹ کیو ں نہیں گیا ؟ ‘‘ اسی نو حہ اور اسی شہرا ٓ شو ب کا ذکر کرتے ہو ئے اقبا ل (رح) نے لکھا تھا �ò آسمان نے دولتِ غرناطہ جب برباد کی ابنِ بدروں کے دلِ ناشاد نے فریاد کی فر ڈ نینڈ نے ازرو ئے معا ہد ہ عر بو ں کو زبا ن اور مذہب کی آزا دی دینے کی ضما نت دی تھی مگر 1499 �÷ ئ سے مظا لم شر و ع ہو گئے اور ان مظا لم کا ہدف یہ تھا کہ مسلما ن کہلا نے والا کوئی شخص بھی سپین میں نہ رہنے پا ئے۔ ایک ہی صدی میں مسلما نو ں کو نیست و نا بو د کر نے کا عمل تکمیل کو پہنچا دیا گیا ۔ ظلم و ستم کے عجیب طر یقے استعمال کئے گئے جنہیں دیکھ کر ابلیس بھی شر مند ہ ہو گیا ۔ پہلے مسلما نو ں کو بہ جبر عیسا ئی بنا یا گیا پھر انکو زیشن ﴿ INQUISITION ﴾ کے نام سے وہ رسو ائے زما نہ عد التیں، 1400 �÷ئ میں قائم کی گئیں جب مسلما ن بہ جبر عیسائی بنا ئے جا تے تو اس بہا نے کہ وہ عیسا ئی ہیں ۔اس ’’ مقدس مذہبی عد الت ‘‘ کے سامنے لا ئے جا تے۔ اس عدالت نے انہیں جہا ں تک ممکن ہو ا آگ میں جھو نکا ۔1481 �÷ میں اس عد الت کے حکم سے تین ہزا ر مسلما ن جلا دیے گئے ۔پھر محسو س ہوا کہ یہ طریقہ سُست رفتا ر ہے اور ویسے بھی لاکھو ں آدمیو ں کو جلا دینا مشکل تھا ۔انہو ں نے مسلما نو ں سے سپین کو پاک کر نے کی ایک اور تر کیب سو چی۔ طلیطلہ کے رئیس الا سا قفہ نے جو اس ’’ مذہبی عد الت ‘‘ کا میر مجلس تھا یہ تجو یز پیش کی کہ تما م عیسا ئی نہ ہو نے والے مسلما ن قتل کر دیے جا ئیں۔ عورتوں اور بچو ں تک کو ختم کر دیا جا ئے۔ ایک را ہب بلیڈ انے کہا مسلما ن اگر عیسا ئی ہو تے بھی ہیں تو یقین نہیں کہ وہ صد قِ دل سے عیسائی ہیں، اس لیے تمام مسلما نو ں کو قتل کر دیا جا ئے۔ قیا مت کے روز خدا خو د فیصلہ کر لیگا کہ کو ن دو زخی ہے اور کو ن جنتی ہے۔ اگر چہ پا در یو ں نے اس تجو یز کی بھر پور تا ئید کی لیکن حکو مت کو خیال ہوا کہ شا ید مسلما ن یہ اجتما عی ظلم بر دا شت نہ کر سکیں، چنا نچہ 1610 �÷ئ میں یہ اشتہا ر پھیلا دیا گیا کہ تما م مسلمان سپین سے نکل جائیں۔ مذکو رہ صد ر راہب بلیڈ انے بڑ ے فخر سے بیا ن کہا ہے کہ جن مسلما نو ں کو نکال دیا گیا تھا، ان میں سے تین چو تھا ئی راہ میں ما ر دیے گئے ۔ایک مہا جر ت جس میں ایک لا کھ چا لیس ہز ار لو گ افر یقہ جا رہے تھے ۔ایک لا کھ را ستے میں ما ر دیے گئے ۔اکثر مؤر خین اندا ز ہ لگا تے ہیںکہ فر ڈ نینڈ کی فتح سے لے کر مسلما نو ں کے مکمل اخرا ج تک اند لس سے تیس لا کھ لو گ نکل گئے۔ جو تعداد ما ر دی گئی وہ الگ ہے ۔ یہ دیس نکا لا مسلما نو ں کا تو تھا ہی اس سے سپین سے علم و دانش بھی جلا و طن ہو گئے۔ انہی مذہبی عدالتو ں نے ان تمام عیسا ئیو ں کو بھی تہ تیغ کر ا دیا جنہو ں نے مسلما نو ں سے کچھ سیکھا تھا اور شعو ری رو شنی کی با ت کر تے تھے۔ اس کا نتیجہ کیا ہو ا۔ وہ اند لس جسکی تر قی زند گی کے ہر میدا ن میں ستار وں کو چھو رہی تھی ،جہا لت کا تا ریک غاربن گیا جس کا نا م سپین ہوا، زمینیں ویرا ن ہو گئیں۔ شا د ابیاں رو ٹھ گئیں، منڈ یا ں تبا ہ ہو گئیں، شہرو ں کی آبا دیا ں گھٹ گئیں ۔ڈا کٹر لی با ن اپنے وقت کی با ت لکھتا ہے کہ طلیطلہ جس کی آبا دی مسلما نو ں کے دو ر میں دو لا کھ تھی۔ اب ستر ہ ہز ار ہے۔ قر طبہ جہا ں دس لا کھ آدمی تھے ۔اب بیا لیس ہزا ر ہیں یہ تو بڑ ے شہرو ں کی بات ہے چھو ٹے سے شہر تو اکثر نیست و نا بو د ہوگئے ہیں۔ فر ڈ نینڈ کے دو ر میں طلیطلہ کا رئیس الا سا قفہ زمی نیز نے فتح غِر نا طہ کے بعد غر نا طہ کی لا ئبر یر ی جلا د ی تھی۔ جس میں اسی ہزا ر کتب تھیں ۔اس نے سمجھا تھا کہ وہ مسلما نو ں کا خا تمہ کر رہا ہے لیکن وہ بد بخت سپین کی قسمت کا چراغ بجھا رہا تھا اور یہ چر اغ بجھ گیا۔ اندلس کی تمد نی تر قی کے بانی مسلما ن تھے۔ اس لیے اس تر قی کے تما م مرا کز صنعت و حرفت ، تجا ر ت ، جا معا ت غر ض یہ کہ سب کچھ مسلما نو ں کے ہا تھ میں تھا، یہا ںآنے والے عیسا ئیوں کو مذہبی تعصب کے سا تھ ما دی محرو میوں نے بھی مسلما نو ں سے نفر ت پر ابھا را۔وہ جہا ں بھی نظر ڈا لتے مسلما ن چھا ئے ہو ئے دکھا ئی دیتے اس وجہ سے بھی انہو ں نے عر بو ں کے اخر اج کا جا ہلا نہ فیصلہ کیا وہ وسا ئل رِز ق پر خو د قا بض ہو نا چا ہتے تھے۔ مسلما نو ں کے اخر اج کے بعد اند لس کا تنز ل فو ر ی طو ر پر شر و ع ہو گیا علو م و فنو ن ، زرا عت ، تجا ر ت ، اچا نک ختم ہو جا نے سے معیشت تبا ہ ہو گئی۔ زمین میں فلا حت و زرا عت ختم ہو گئی۔ اس لیے زمینیں بنجر ہو ئیں ۔صنعت و حرفت نہ رہی تو شہر و یرا ن ہو ئے میڈ رڈ کی آبا دی بقول ڈا کٹر لی با ن چا ر لا کھ سے گھٹ کر دو لا کھ پر آگئی اشبیلیہ میں جہا ں سو لہ سو کا ر خا نے تھے اور ان سے ایک لا کھ تیس ہزا ر افر اد اپنے کنبو ں کا رزق حا صل کر تے تھے ،اب وہ کا ر خا نے گھٹ کر تین سو رہ گئے ۔اسی کا اثر آبا دی پر پڑ ا جو ایک چو تھا ئی رہ گئی ۔ طلیطلہ میں کپڑ ے کے پچا س کا ر خا نو ں کے بجا ئے تیر ہ رہ گئے۔ ریشمی کپڑ ے کے کا ر خا نے جن میں چالیس ہزا ر آدمی کا م کر تے تھے، با لکل بند ہو گئے ۔سا رے ملک کا یہی حا ل ہو گیا ۔قر طبہ ، سقو بیہ اور بر گا س جیسے بڑے شہر با لکل و یرا نے ہو گئے۔ چند حر فتیں جو مسلما نو ں کے بعد با قی رہ گئیں تھیں، وہ بھی جلد تلف ہو گئیں۔ ملک کی حر فت اس قدر تبا ہ ہو گئی کہ اٹھا ر و یں صد ی کے او ائل میں جس وقت سقوبیہ میں کپڑ ے کا کار خا نہ کھو لا گیا تو کا ر ی گر و ں کو ہا لینڈ سے لا نا پڑ ا ۔ ایسا ملک کہا ں چل سکتا تھا اور مذہبی جنو نی اسے کہا ں چلا سکتے تھے کہ وہ تو تبا ہی و بر با دی کے شیطا ن تھے آبا دی کیا جا نتے۔ نتیجہ یہ ہو ا کہ ملک دو سر و ں کے حو الہ کر نا پڑ ا۔ با د شاہی ، نظا م مِلکی ، صنعت و حر فت ، تجا ر ت، فر ا نسیسیو ں ، اطایویوں ، جر منو ں کے ہا تھ آگئی ایک دو دفعہ اہل علم اور اہل فن با ہر سے لا کر ملک میں عا ر ضی چہل پہل کر لی گئی۔ مر دو ں کا یو ں زند ہ کر لینا کب ممکن ہو ا ہے جو سپین ایک دفعہ پھر اند لس ہو سکتا ۔ اند لس میں با شند ے تو رہ گئے تھے لیکن ان میں ایک بھی انسان نہ تھا۔ علم نا م کو نہ تھا صر ف مذہبی کتا بیں رہ گئی تھیں۔ بڑی سی بڑی کو ششیں بھی اس بد بخت ملک کو آج تک اسکی بر با د شدہ جو انی واپس نہیں دے سکیں۔ سپین کی حا لت پر مشہو ر انگریز مؤ رخ بکل Buckle نے کیا سچی با تیں لکھی ہیں۔ ’’ سپین کا ملک زما نہ سے بے خبر غفلت کی بے ہو شی میں ڈو با ہوا پڑ ا ہے نہ اس پر دنیا کا کچھ اثر پڑتاہے اور نہ یہ خو د دنیاکو دیکھ سکتا ہے یہ ملک یو ر وپ کی پیٹھ پر ایک بہت بڑا بے حس و حر کت اور بے معنی پشتارہ ہے جو اپنے خیالات اور امنگوںکے لحاظ سے زمانہ متوسطہ ﴿Middle Ages ﴾ کا قائم مقا م ہے اور سب سے زیا دہ افسو س یہ ہے کہ یہ ملک اپنی اسی حالت پر قا نع بھی ہے۔ اس ملک کی سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ جہل مر کب میں مبتلا ہے یورپ کی تما م قو مو ں میں یہ قوم سب سے پیچھے ہے مگر خو د فر یبی کی انتہا یہ ہے کہ یہ اپنے آپ کو سب سے آگے سمجھتی ہے جن چیز و ں پر اسے شر ما نہ چا ہییے یہ ملک ان پر نا ز کر رہا ہے اِسے اپنے بو سید ہ خیا لا ت ، مذہبی تعصب ، اعتقا دت کے استحکا م پر اپنی طفلا نہ سر یع الا عتقا دی پر اپنی مذہبی اور اخلا قی نفر ت پر ، غیر مذہب کے لو گو ں کی عد اوت پر فخر ہے ‘‘

              تمدن عرب صفحہ۰۳۵

غر ضیکہ اند لس ایک مر ثیہ ہے اس مسلما ن قو م کا بھی جس نے یہا ں اپنے عر و ج و زوا ل کی کہا نی لکھی اپنے زو ال کے اسبا ب لکھے او ر بتا یا کہ مسلما ن کیا تھے اور کیا ہو گئے؟ حضرت پیر عا رف شا ہ صا حب نے سپین کے سفر میں یہی کہا نی اپنی آنکھو ں سے اسی سر زمین کے صفحہ سے حر ف حرف ، لفظ لفظ اور ور ق ورق پڑ ھنے کے لیے یہ سفر اختیا ر کیا ان کے سفر نا مہ ئِ سپین سے معلو م ہوتا ہے کہ میں ، آپ اور ہم سب اس سفرمیں انکے سا تھ ہیں۔



اقبال اور مسجد ِ قر طبہ

با لِ جبر یل میں علا مہ اقبال کی ایک شا ہکا ر نظم مسجد قر طبہ ہے اسکی بحر ہی ایسی ہے کہ پڑ ھو تو صو تی طو رپر وہی پر درد اور مقد س فضا موجود ہو جا تی ہے پھر لفظ لفظ میں پورا ما حو ل بولتا محسو س ہو تا ہے تر کیبیں ، بند ش ، رِدھم ، ہر اعتبا ر سے نظم بے مثا ل ہے ۔نہ معلو م کن لمحو ں میں یہ نظم تخلیق ہو ئی کہ دعو ٰی سے کہا جا سکتا ہے اقبال دو با رہ خو د بھی ایسی کوئی نظم نہیں کہہ پاتے۔ غا لبا ً میری یہ با ت بڑ ی حد تک درست ہے کہ ہم برصغیر کے لو گو ں کو اند لس سے شنا سائی اور اسکی تا ریخ تک رسا ئی بھی اسی نظم کے تو سط سے ملی اور اند لس کی تا ریخ پر جتنی کتا بیں بھی اردو میں لکھی گئیں۔ اس نظم کے بعد ہی لکھی گئیں۔ میں نے پیر صا حب کا سفرِ سپین پڑ ھا تو مجھے جگہ جگہ اقبا ل ان کا ہمسفر نظر آیا ۔ اس لیے مجھے خیا ل آیا کہ ان کے سفر نامہ کا دیبا چہ اقبال اور مسجد ِ قر طبہ ہے۔ میں چا ہتا ہو ں کہ یہی دیبا چہ ضبطِ تحر یر میں لے آئو ں تو آئندہ کے صفحا ت میں آنے والا سفر نامہ بھی مکمل ہو جائیگا اور کچھ ایسی با تیں بھی سا منے آجا ئینگی جو اقبال پر لکھنے والو ں نے زیب دِا ستا ن کے طو ر پر شا مل کر دی ہیں یو ں اقبال پر ایک نیا موضو ع بھی پیدا ہو جائے گا ۔ اقبال غا لبا ً 5 یا 6 جنو ری 1933 �÷ ئ کو پیر س سے میڈر ڈ پہنچے ۔ میڈ رڈ میں اقبال کے میز بان پر وفیسر آسین پیلا کیو س تھے جنہو ں نے ڈا نٹے کی مشہو ر کتا ب ’’ طر بیہ خد اوند ی ‘‘ ﴿ DIVINA COMMEDIA ﴾ او ر اسلام پر ایک کتا ب لکھی تھی اور بتا یا تھا کہ اس کتا ب پر واقعہئِ معرا ج اور شیخ محی الد ین ابن عر بی کے کیا اثر ا ت ہیں انہو ں نے اقبال کو دعو ت دی تھی کہ وہ میڈ رڈ آکر یو نیو رسٹی میں کچھ لیکچر دیں ۔ اقبال پہلے ہی سے اس سفر کے لیے تیا ر تھے کیو نکہ وہ تو لا ہو ر سے یہی تہیہ کر کے چلے تھے کہ اس دفعہ سپین ضر ور جا ئینگے ۔ پر و فیسر مذ کو ر کی دعو ت نے اس شو ق کو مزید مہمیز کیا ہو گا میڈر ڈ پہنچتے ہی اقبال کی ملا قا ت سپین کے وزیرتعلیم سے ہو ئی۔ میڈر ڈ ہی میں انکی ملا قا ت مشہو ر محقق محمو د خضیر ی سے ہوئی جو ان دنو ں فقہئِ اسلامی پر ریسر چ کر رہے تھے ۔ 24 جنو ر ی 1933کواقبال نے ’’ سپین اور فلسفہ ئِ اسلام ‘‘ کے مو ضو ع پر میڈ رڈ یو نیو رسٹی کی نئی عما ر ت میں لیکچر دیا۔ اجلا س کی صدا رت پر و فیسر آسین پیلا کیو س نے ہی کی تھی۔ ’’اقبال نے سپین میں اپنے تین ہفتو ں کے ٹو ئر ﴿ Tour ﴾ میں قر طبہ ، غر نا طہ اشبیلیہ ، طلیطلہ وغیر ہ کی سیر کی اور سب کچھ دیکھا جسے دیکھنے وہ گئے تھے لیکن جو عمار ت ان کے دل ،دما غ اور با طن کی گہر ائیوں میں اتر گئی وہ مسجد قر طبہ تھی اقبال پر لکھنے وا لو ں نے جیسے دیگر مو ضو عا ت پر طر ح طر ح کی کہا نیا ں لکھ ما ری ہیں اور انہیں اقبال سے منسو ب کر کے اقبا لیا ت کا حصہ بنا دیا ہے اسی طرح اس مو ضو ع پر بھی افسا نو ں کے طو ر ما ر کھڑ ے کر رکھے ہیں ۔ اقبا ل نے مسجد قر طبہ میں ’’ تحیتہ المسجد ‘‘ کے معمو ل کے نو افل ادا کئے اس نماز کے متعلق بھی بڑی کہا نیا ں بنی ہوئی ہیں ۔ سید امجد علی دعو ٰ ی کر تے ہیں کہ اقبال نے اس نماز سے پہلے اذا ن بھی کہی تھی ۔ ﴿سر گز شتِ اقبال از عبد السلام خو رشید صفحہ 419 ﴾ عبد المجید سا لک کہتے ہیں ’’ اقبا ل مسجد کی شا ن و شو کت سے اس قدر متا ثر ہو ئے کہ ان کا دل بے اختیا ر نما ز پڑ ھنے کو چا ہا چنا نچہ انہوں نے گا ئیڈ سے پو چھا وہ کہنے لگا میں بڑے پا دری سے پو چھ کر آتا ہو ں ادھر وہ پو چھنے گیا ادھر اقبا ل نے نیت با ند ھ لی اور اس کے واپس آنے سے پیشتر ادا ئے نماز سے فا رغ ہو گئے‘‘ ﴿ ذکر اقبال صفحہ182﴾فقیر سید وحید الد ین لکھتے ہیں ’’ اقبال نے سا ت سو سا ل بعد پہلی با ر مسجد قر طبہ میں اذا ن دی اور نماز پڑ ھی ‘‘ ﴿رو ز گا ر ِ فقیر ج ا صفحہ 148﴾ سر ما لکم ڈار لنگ بیان کر تے ہیں۔ ’’ اقبال نے مجھے اپنے قیا م سپین کی بڑی خو بصو رت کہا نی سنائی انہو ں نے بتا یا کہ وہ قر طبہ کی عظیم الشا ن مسجد دیکھنے گئے تھے انہو ں نے گا ئیڈ سے اس جگہ نماز ادا کر نے کی اجا ز ت طلب کی کیو نکہ یہ کسی زمانہ میں مسجد رہ چکی تھی اور اب کلیسا میں تبد یل ہو چکی ہے گا ئیڈ نے کہا کلیسا کے راہب اس پر خو ش نہ ہونگے لیکن انہو ں نے اسکی پر و ا نہ کی اور مصلّٰے بچھا دیا۔ اتنے میں ایک پا در ی احتجا ج کے لیے وہا ں آنکلا اقبا ل نے کہا گائیڈ سے کہا کہہ دو کہ ایک با ر مد ینہ میں عیسا ئیوں کا ایک وفد کچھ مطا لبا ت لے کر رسو ل پا ک �ö سے ملنے آیا حضور �ö نے مسجد نبوی میں انہیں ٹھہرا یا جب عبا د ت کا وقت آیا تو عیسا ئی مترد د تھے کہ آیا وہ مسجد کے اند ر اپنے عقید ہ کے مطا بق عبا د ت کر سکیں گے جب سر ور ِ کائنات کو اس کا علم ہوا تو آپ نے انہیں بخو شی عبا د ت کی اجا زت مرحمت فر ما ئی ۔ ’’جب ہما رے نبی (ص) نے عیسائیوں کو اپنی مسجد میںعبا د ت کی اجا ز ت دے دی تھی تو میں اس جگہ جو کسی وقت مسجد ہی تھی کیا نما ز ادا نہیں کر سکتا ۔پا در ی سے اس کا کوئی جواب نہ بن پڑا اور اقبا ل نے نماز شر وع کر دی ۔جب اقبال نے نماز ختم کی تو کیا دیکھتے ہیں کہ اس کلیسا کے تما م پادری اس منظر کو دیکھنے کے لیے جمع ہو چکے ہیں بلکہ ان میں سے ایک نے تو اس منظر کی تصو یر بھی لے لی۔ اسکے بعد اقبال نے کہا غا لبا ً میں واحد مسلما ن تھا جس نے گذ شتہ چا ر سو سال میں یہا ں پہلی با ر نماز ادا کی تھی ‘‘

                             ﴿بحوا لہ نو ائے وقت 10 مئی1959 �÷ مضمو ن: لند ن میں یو مِ اقبال﴾

اسی سلسلہ میں ایک مضمو ن کسی محمود الر حمن صا حب نے روز نامہ جنگ را و لپنڈی مؤرخہ 21 اپر یل 1974 �÷ میں شا ئع کر ا یا تھا اس میں محمود الر حمن صا حب بحوا لہ امتیا ز محمد خان لکھتے ہیں ۔ ’’قیا م لند ن سے ہی اقبا ل کا ارادہ مسجد قر طبہ کی زیا ر ت اور کسی نہ کسی طر ح وہا ں نماز ادا کر نے کا تھا مگر مسجدگر جا بنا ئی جا چکی تھی اور وہا ں اذا ن و نماز دو نو ں کی مما نعت تھی اس لیے انہو ں نے اپنے استا د پر و فیسر آر نلڈ کی طرف رجو ع کیا اور پر و فیسر آر نلڈ کی کو شش سے انہیں مسجد قر طبہ میں نماز ادا کر نے کی اجا ز ت اس شر ط پر ملی کہ جب وہ مسجد کے اند ر دا خل ہو جا ئیں تو در وا ز ہ بند کر دیا جائے اور اس پر قفل لگا دیا جا ئے چنا نچہ ایسا ہی ہوا ۔ اقبال حسبِ قرا ر داد مسجد میں داخل ہو ئے آپ نے آواز کی پو ری شد ت سے اذا ن دی ۔ کہتے ہیں میں اس جذبے ، سر و ر اور کیفیت کو کبھی فرامو ش نہیں کر سکتا جو اس وقت مجھ پر طا ر ی تھی ۔4سو سا ل کے بعد مسجد کے اندر پہلی مر تبہ اللہ اکبر کی آواز محرا ب و منبر سے ٹکر ا ٹکر ا کر گو نج رہی تھی اذا ن سے فا رغ ہونے کے بعد اقبال نے مصلّٰے بچھا یا اور نماز ادا کر نے لگے دورا نِ نماز ان پر اس قدر رقت طا ر ی ہو ئی کہ سجد ے میں گر تے ہی بے ہو ش ہو گئے اس دورا ن عا لمِ رو یا میں دیکھا کہ ایک بز ر گ تشر یف لا ئے ہیں اور مجھے مخا طب کر کے کہہ رہے ہیں اقبال تم نے میری مثنوی کا بغو ر مطا لعہ نہیں کیا اسے مسلسل پڑ ھتے رہو اور میرا پیغا م دو سر وں تک پہنچا ئو اور جب اقبال ہو ش میں آئے تو دل کو سکون اور اطمینان حاصل ہوچکا تھا ‘‘

 ﴿اقبال ریو یو جو لا ئی ۔ اکتوبر 1977 نیز ’’اوراق گم گشتہ‘‘ ازرحیم نجش شاہین صفحہ332 ﴾

آپ دیکھ رہے ہیں کہ اب افسا نے میں پر اسرار رنگ آگیا ہے اور وہ جا سو سی افسا نو ں کی طر ح مزید دلچسپ ہو گیا ہے ،مگر اسکی افسانویت عیا ں ہے۔ ا س میں بتا یا گیا ہے کہ اقبال کو اس مسجد میں جانے کی خصو صی اجا ز ت اُنکے معرو ف استا د پر و فیسر آر نلڈ نے دلا ئی تھی ، مگر محمو د الر حمن کو کو ن بتا تا کہ کہا نی میں ایک بڑ ا جھول آگیا ہے کیو نکہ اقبال کا سفر ِ سپین 1933 �÷ میں ہے مگر اقبال کے وہ شفیق استاد پر و فیسر آرنلڈ صاحب اس سے قبل 1930 �÷ میں فو ت ہو چکے تھے ۔کہا نی کا آخر ی حصہ دیکھئے اقبال کو بے ہو شی میں جو مر دِ بز رگ ملتے ہیں ہم سمجھ رہے تھے وہ جناب سر و ر عا لم �ö ہو نگے مگر وہ مو لا نا رو م نکلے ۔نا معلو م مسجد ِ قر طبہ میں وہ کیا کر نے گئے تھے ؟ یہی بتا نے کہ ’’ اے اقبال تو نے میری مثنو ی کا بغو ر مطا لعہ نہیں کیا‘‘ اگر اقبال نے مثنو ی کا بغو ر مطالعہ نہیں کیا تھا تو پھر کس نے کیا ہو گا ۔ خو د اقبا ل نے سیاحتِ اسپین کے واقعات بیا ن کر تے ہوئے مسجد قر طبہ کے سلسلے میں جو کچھ بتا یا وہ بقول محمد عبد اللہ قر یشی یہ کچھ تھا ۔ ’’ میری را ئے میں اس سے زیا دہ خو بصو ر ت اور شا ند ار مسجد رو ئے زمین پر تعمیر نہیںہوئی عیسائیوں نے بعد فتح قر طبہ اس مسجد میں جا بجا چھو ٹے چھو ٹے گر جے بنا دیے تھے جنہیں اب صا ف کر کے مسجد کو اصل حا لت میں لانے کی تجو یز کی جا رہی ہے۔ میں نے ناظم آثا ر ِ قدیمہ کی معیت میں جا کر بہ اجا زت خا ص اس مسجد میں نماز ادا کی۔ قر طبہ پر عیسا ئیوں کے تسلط کے بعد جسے کم و بیش سا ڑھے چا ر سو بر س گز ر چکے ہیں اس اسلامی عبا د ت گا ہ میں یہ پہلی اسلا می نماز تھی ‘‘ ﴿آئینہئِ اقبال مر تبہ عبد اللہ قریشی صفحہ 18-19﴾ عبد الر شید طا ر ق کی رو ایت کے مطا بق اقبا ل نے کہا! ’’ میں نے ہسپا نیہ میں مسلما نو ں کے تا ریخی مقا ما ت کا معا ئنہ کیا ، مسجد قر طبہ میں جس کی فضا صدیو ں سے بے اذا ن پڑ ی ہے ،حکا م کی اجا ز ت لے کر نماز ادا کی سجد ے میں گر کر خدا کے حضور گڑ گڑ ا یا کہ ’’ اللہ یہ وہ سر زمین ہے جہا ںمسلما نو ں نے سینکڑو ں بر س حکومت کی یونیورسٹیاں قا ئم کیں اور یو رپ کو علم و فضل سکھا یا جن کے دبد بے سے شیروں کے دل دہلتے تھے اور جن کے احسا ن کے نیچے آج تما م فر نگستا ن دبا ہو ا ہے ۔ آج میں اسی قو م کا ایک فر د انہی کی تعمیر کر دہ مسجد میں اغیا ر کی اجا ز ت لے کر نماز پڑ ھ رہا ہو ں ‘‘ ﴿ملفو ظا تِ اقبال مر تبہ ڈا کٹر ابو اللیث صد یقی صفحہ 274﴾ اقبال کے فر ز ند ار جمند جنا ب ڈا کٹر جا وید اقبال نے انتہا ئی حقیقت پسند ی سے کا م لیتے ہو ئے لکھا ہے ۔ ’’ اقبال حکو متِ ہسپا نیہ کی اجا ز ت خا ص کے تحت ،نا ظم آثا ر ِ قدیمہ کی معیت میں نماز ادا کر نے کی خا طر گئے تھے۔ اس لیے مصلّٰے سا تھ لے کر گئے اور عین ممکن ہے کہ یہ انتظا م ﴿اجا ز ت وغیر ہ حا صل کر نے کا ﴾ انہو ں نے قیا م میڈر ڈ کے دو را ن پر و فیسر آسین پیلا کو س یا وزیر تعلیم حکومت ہسپا نیہ کے ذر یعہ کر ایا ہو ان کے ہمرا ہ فو ٹو گرا فر بھی تھے جنہو ں نے نماز کی ادا ئے گی کے دو ر ان اور بعد میں انکی کئی تصو یر یں مسجد کے اندر کھینچیں جو کئی با ر اخبا رات میں شا ئع ہو چکی ہیں اور خاصی مقبول ہیں ‘‘

            ﴿زندہ رود ج 3 صفحہ218﴾
اب تک ہم نے جو کچھ لکھا ہے یہ سمجھ لیجئے کہ وہ حضرت پیر معر و ف شا ہ صا حب کے سفر نا مہ ئِ سپین کا ایک طر ح کا آغا ز یہ تھا اب اس کے بعد ان کا سفر نا مہ شر و ع ہو تا ہے ۔ جیسا کہ سفر نا مہ ئِ حجا ز اور سفر نا مہ ئِ عرا ق کے سلسلہ میں ہم وضاحت کر تے آرہے ہیں یہا ں بھی یہ وضا حت ضروری سمجھتے ہیں کہ ان کے یہ سفر نا مے ہم نے انکی ڈا ئریو ں سے تر تیب دیے ہیں ،یو ں الفا ظ ان کے اپنے ہیں تحر یر انکی اپنی ہے وا قعا ت کے سلسلہ میں یا بعض مقا ما ت کی زیا ر ات کے سلسلہ میں کہیں تقد یم و تا خیر کر دی گئی ہے اور یہ تقد یم و تا خیر خو د حضرت صا حب کے ایما ئ پر کی گئی ہے۔ 

جہا ں ہم نے وضا حت کی ضر و ر ت محسو س کی ہے وہاں اپنی طر ف سے اگر کچھ اضا فہ کیا ہے تو اسکی نشا ند ہی کر دی گئی ہے۔ کہیں اگر کسی کتا ب کا اقتبا س اصل صو ر ت میں دیا گیا تھا مگر پورا حو الہ در ج نہیں تھا تو کتا ب کا مکمل حوالہ بھی تحر یر کر دیا گیا ہے، تاکہ سفر نامہ میں کسی با ت کی تشنگی محسو س نہ ہو ۔اب آئیے حضرت پیر صا حب کے سفر نا مہ ٌٔ سپین میں انکی رفا قت کا شر ف حا صل کیجیے۔

قلم ہے سر بسجد ہ لکھ رہا ہو ں

مطا لعہ ٔ اقبال میں جب با ل ِ جبر یل کی نظم ’’ مسجد ِ قر طبہ ‘‘ تک پہنچا تھا اور اسے قلب و ذہن میں اتا را تھا تو دل نے تڑ پ کر دعا کی تھی ’’ اے اللہ ا س عا جز طا لب علم کو بھی یہ سعا د ت عطا فر ما کہ وہ تیر اکعبہ ، تیر ے نبی کا مدینہ اور شوکت اسلام کا یہ مزا ر جسے مسجد قر طبہ کہا جا تا ہے دیکھ سکے اور اپنی رو ح شادکام کر سکے ‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا پو ری کی پوری منظو ر فر ما لی حر مین شر یفین کا دیدا ر کئی با ر کیا۔ 1982 �÷ میں سپین جا نے کی حسرت بھی پو ری ہو ئی۔ 27 دسمبر 1982 �÷ کو سفرِ سپین کا آغا ز ہو ا۔ مد تِ مدید سے یہ بے تا ب کن تمنا حر زِ جان بنی ہو ئی تھی کہ مسجد قر طبہ کو دیکھا جا ئے اور وہاں بیٹھ کر اقبال نے جو کچھ محسو س کیا تھا وہ اپنے اوپر وا رد کر نے کی کو شش کی جا ئے۔ خیا ل تھا کہ اُسکی نظم وہیں بیٹھ کر پڑ ھی جا ئے ممکن ہے وہ روحا نی وار دات مجھے بھی نصیب ہو جا ئیں جنہو ں نے اقبا ل کو سر اپا جذب و سوز بنا دیا تھا اور وہ چا ہنے لگے تھے کہ ہر صا حبِ دل اس مسجد کی زیا ر ت کر ے چنا نچہ انہو ں نے مو لا نا غلا م رسول مہر کو لکھا تھا ۔ ’’ مر نے سے پہلے قر طبہ ضر و ر دیکھو‘‘ ﴿گفتا رِ اقبال مر تبہ محمد رفیق افضل صفحہ165﴾ انہو ں نے اپنے بیٹے کو قر طبہ سے تصو یر ی کا رڈ ار سا ل کیا تھا اور لکھا تھا ۔ ’’ میں خدا کا شکر گزا رہو ں کہ اس مسجد کو دیکھنے تک زندہ رہا۔ یہ مسجد تمام دنیا کی مسا جد سے بہتر ہے خدا کر ے تم جوا ن ہو کر اس عما ر ت کے انوا ر سے اپنی آنکھیں رو شن کر و ‘‘ ﴿خطو طِ اقبال مر تبہ رفیع الد ین ہا شمی صفحہ223﴾ سپین کے سفر میں ہما ری اصل خو اہش یہی تھی کہ مسجد قرطبہ کو دل کی آنکھو ں سے دیکھا جا ئے اور اسکی دیواروں میں بسی ہوئی وہ آوازیں گو ش ِ نصیحت ہو ش سے سُنی جا ئیں جو صدیو ں پہلے کی مقد س اما نتیں ہیں اور جنہیں ان دیو ا رو ں نے اپنی چھا تی سے لگا یا ہوا ہے۔ مسجد قر طبہ کو خلیفہ عبدا لر حمن نے 780 �÷ ئ میں شر و ع کیا تھا ۔ یہ عما ر ت حر مین شر یفین کے بعد معزز و محتر م گنی جانے والی چند مسا جد میں سے ایک ہے۔ خلیفہ نے اسکی تعمیر کا سنگِ بنیا د اس عز م سے رکھا تھا کہ اسکی تعمیر میں دنیا بھر کا حسن جمع کر دے ۔یہ رومی ، ایرا نی ، گا تھک ، دمشق و بغداد اور دیگر تما م تعمیر ی صنعتو ں کا مر قع ہو ۔اس میں وہ گلکا ر یا ں دکھا ئی جا ئیں کہ ہیکل سلیما نی کی داستا نیں فر امو ش کر دی جائیں اور فی الوا قع دنیا بھر کا تعمیر ی حسن اس میں جمع ہو گیا تھا ۔ اس کا مینا ر زمین سے اکہتر 71 گز بلند تھا اس کے گنبد کے نیچے تر شی ہو ئی لکڑی کا منطقہ تھا، چھت مختلف رنگوں کے سنگِ مر مر کے ایک ہزا ر تر انو ے ستو نو ں پر قا ئم تھی۔ یہ ستو ن شطر نج کی بسا ط جیسے مر بعو ں میں نصب تھے اور ایک مر بع میں پانچ ستو ن آتے تھے۔ ان ستو نو ں سے طو ل میں انیس 19 گلیا ں اورعر ض میں پہلی گلیو ں کو قطع کر تی ہوئی اڑ تیس38 گلیا ں بن گئی تھیں ۔مسجد کا جنو بی حصہ مشہو ر در یا کا ڈل کو ئید ر یعنی رود الکبیر کی جا نب وا قع تھا ۔یہ وہی الکبیر ہے جس کا ذکر اقبال کی نظم میں یو ں آیا ہے �ò آبِ روا نِ کبیر تیرے کنا رے کوئی دیکھ رہا ہے کسی اور زما نے کے خوا ب اس جنو بی ر وکے یا دیوا ر میں انیس در و ا زے تھے جن پر نہا یت با ر یک کا م کی ہوئی کا نسی کی پتر یا ں چڑ ھی ہو ئی تھیں لیکن در میا نی در و ازے پر کانسی کی بجا ئے سو نے کی پتر یا ں تھیں ۔مشر ق او ر مغر ب کی دیوا ر وں میں بھی اسی طر ح کے نو نو در وا زے تھے ۔ مسجد کی چھت ستو نو ن پر قا ئم تھی اور ان کی تر تیب اس اند ا ز سے ہو ئی تھی کہ دو نو ں طر ف متوازی راستے بنتے گئے تھے اِن ستو نو ں پر منقش نعل ایسی محرا بیں قا ئم تھیں چھت زمین سے تیس 30 فٹ بلند تھی اس لیے قد یم گا تھک کلیسا ئو ں کی سی تاریکی اس مسجد میں نہیں تھی۔ غر ضیکہ اس کی تعمیر ی خو بصو ر تی نے اسے اپنے دو ر کی عما ر تو ں میں ممینر کر دیا تھا اور بڑی جد ت عطا کر دی تھی مسجد قر طبہ فی الوا قع اُن عجا ئبا ت میں سے ہے جن پر انسان عش عش کر اٹھتا ہے ۔ جب عیسا ئی اند لس پر قا بض ہو ئے تو مسجد قر طبہ بھی ان کی دسترس سے محفوظ نہ رہ سکی۔ مسجد کے اندر اس کے لا تعداد ستو نو ں کے درمیان جگہ گھیر گھیر کر بیسیوں چھو ٹے چھوٹے گر جے بنا ئے گئے جو دنیا بھر کے احتجا ج کے با وجو د پو ر ی طر ح صا ف نہیں کئے گئے البتہ مسجد کا حسین تر ین حصہ محر اب وا لا حصہ ہے جس پر ستو نو ں سمیت سو نے کے جڑ ائو کا کام کیا گیا ہے۔ اور خو ش قسمتی سے وہ ابتک اپنی اصل شکل میں محفوظ ہے۔ مسجد کے با ہر اسکے عا لیشا ن اکلو تے مینار پر جوا ذا ن کے لیے مخصو ص تھا اب گھنٹہ آویزاں ہے اسے رو من کیتھو لک عقیدہ کے مطا بق دن میں خا ص خاص اوقا ت پر بجا یا جاتا ہے ۔ مسجد قر طبہ مسلما نوں کی دیگر مسا جد کی طر ح رو شن اور تا بند ہ رکھی جا تی تھی چرا غ جلا نے کے لیے تیل کا سا لانہ خر چ314 من اور مو م بتیا ں جلا نے کے لیے 3 1/2 من مو م اور 34 سیر سو ت ہر سا ل صر ف ہو تا تھا۔ لیکن اب عیسا ئیوں کی عبادتگا ہو ں کی طر ح اسکی فضا ئیں تا ریک ہیں اور اس کے اند رسے ابھر تی ہو ئی بھا ری آرگن کی کر خت مو سیقی کے پس منظر میں اسکی ویرا نی اور بیکسی سے خو ف آتا ہے۔ را ت کو اسے دیکھیئے اور اسکے اندر سے گھنٹے کی آو از سنیئے تو پو ری عما ر ت آسیب زدہ محسو س ہو تی ہے ۔ مسجد قر طبہ تقر یبا ً 24 بیگھہ﴿ 96 کنال ﴾ زمین پر پھیلی ہو ئی ہے۔ یہ تو وہ تفا صیل ہیں جو مختلف کتب تا ریخ میں ملتی ہیں اور ان میںسے کچھ اُن آنکھوں سے بھی دیکھی جا سکتی ہیں جو آدمی کی پیشانی کے نیچے چسپا ں ہیں سیا ح انہی کو دیکھتے ہیں تو بے کسی و کسمپر سی کی حا لت میں رو تی ہو ئی ایک عمارت انہیں دکھا ئی دیتی ہے۔ جن لو گو ں نے کچھ تا ریخ کا مطا لعہ بھی کیا ہے وہ اس پر دو چا ر آنسو بھی بہا دیتے ہیںکچھ آہیں بھی بھر لیتے ہیں۔ اور پھر آگے چل پڑتے ہیں تا کہ اس گمشد ہ تہذ یب کے کچھ اور کھنڈ ر دیکھ لیں کچھ اور آنسو بہا لیں کچھ اور سسکیا ں بھر لیں۔ مگر ایک اور مسجد قر طبہ بھی ہے جو اس کی فضا ئوں میں اب تک اپنی اصلی حالت میں مو جود ہے اور جو بصیرت کی آنکھو ں سے دیکھنے والو ں کے دل میں اتر جا تی ہے وہ اقبال کی وہی نظم ہے جو با لِ جبر یل کے صفحا ت پر سُلگ رہی ہے اور ہم نے مسجد قر طبہ ہی کے فر ش پر بیٹھ کر با ل ِ جبر یل کے وہ صفحا ت کھو ل لیے اور پڑ ھنے لگے آپ بھی ہما رے ساتھ پڑ ھیں۔






مسجد قر طبہ

﴿ہسپا نیہ کی سر زمین با لخصو ص قر طبہ میں لکھی گئی﴾

سلسلہئ روز و شب نقش گرِ حادثات

سلسلہئ روز و شب ‘ اصلِ حیا ت و مما ت سلسلہ ئ روز و شب ‘ تا رِ حر یرِ دو رنگ جس سے بنا تی ہے ذا ت اپنی قبا ئے صفا ت سلسلہ ئ روز و شب سا زِ ازل کی فغا ں جس سے دکھا تی ہے ذا ت زیر و بمِ ممکنا ت تجھ کو پر کھتا ہے یہ ‘ مجھ کو پر کھتا ہے یہ سلسلہ ئ روز و شب ‘ صَیر فیِ کائنات تو ہو اگر کم عیار ‘ میں ہوں اگر کم عیار مو ت ہے تیر ی بر ات ‘ مو ت ہے میر ی برا ت تیرے شب و روز کی اور حقیقت ہے کیا ! ایک زمانے کی رو ‘ جس میں نہ دن ہے نہ ر ات آنی و فا نی تمام معجز ہ ہا ئے ہنر ! کا ر ِ جہا ں بے ثبا ت! کا ر ِ جہا ں بے ثبا ت اول و آخر فنا ‘ با طن و ظا ہر فنا نقشِ کہن ہو کہ نَو ‘ منزل آخر فنا ! ہے مگر اس نقش میں رنگ و ثبا تِ دو ام جس کو کیا ہو کسی مردِ خدا نے تمام مر دِ خدا کا عمل عشق سے صا حب فر و غ ! عشق ہے اصلِ حیا ت ‘ مو ت ہے اس پر حرا م تُند و سبک سیر ہے گر چہ زما نے کی رَ و ! عشق خود اک سیل ہے ‘ سیل کو لیتا ہے تھام عشق کی تقو یم میں عصر رو اں کے سوا اور زما نے بھی ہیں جن کا نہیں کو ئی نا م عشق دمِ جبر ئیل ، عشق دل ِ مصطفی! عشق خدا کا رسول ‘ عشق خدا کا کلا م عشق کی مستی سے ہے پیکر ِ گل تا بنا ک عشق ہے صہبا ے خا م ‘ عشق ہے کا س الکرا م عشق فقیہ ِ حر م ‘ عشق امیر جنو د ! عشق ہے ابن السبیل ‘ اس کے ہزا رو ں مقا م عشق کے مضر اب سے نغمہ ئ تا ر حیا ت عشق سے نو ر ِ حیا ت عشق سے نار حیا ت اے حر م قر طبہ ! عشق سے تیرا وجو د عشق سر ا پا دوام جس میں نہیں رفت و بود رنگ ہو یا خشت و سنگ ‘ چنگ ہو یا حرف و صو ت معجز ہ ئ فن کی ہے خو نِ جگر سے نمو د ! قطر ہ خو نِ جگر ‘ سل کو بنا تا ہے دل خو نِ جگر سے صدا سوز و سرور و سرود تیری فضا دل فروز میری نوا سینہ سوز تجھے سے دلو ں کا حضور ‘ مجھ سے دلو ں کی کشو د عر شِ معلی سے کم سینہ ئ آدم نہیں گر چہ کفِ خا ک کی حد ہے شہر کبو د ! پیکر ِ نُوری کو ہے سجدہ میسر تو کیا اس کو میسر نہیں سوز و گداز سُجو د کا فر ِ ہند ی ہو ں میں ‘ دیکھ مرا ذو ق و شو ق دل میں صلو ۃ و درود ‘ لب پہ صلو ۃ و درود شو ق مری لے میں ہے‘ شو ق مر ی نے میں ہے نغمہ ئ اللہ ہو میرے رگ و پے میں ہے تیر ا جلا ل و جما ل ‘مردِ خدا کی دلیل ! وہ بھی جلیل و جمیل تو بھی جلیل و جمیل ! تیر ی بنا پا یدا ر ‘ تیرے سُتو ں بے شما ر شا م کے صحرا میں ہو جیسے ہجو مِ نخیل! تیرے در و بام پر وا دی ایمن کا نُو ر تیر ا منا رِ بلند جلو ہ گہِ جبر ئیل مٹ نہیں سکتا کبھی مر دِ مسلما ں ‘ کہ ہے اس کی اذانو ں سے فا ش سرِ کلیم (ع) و خلیل(ع) اس کی زمیں بے حدود ‘ اس کا اُفق بے ثغو ر اس کے سمند رکی مو ج‘ دجلہ و دنیو ب و نیل اس کے زمانے عجیب ‘ اس کے فسا نے غر یب عہد کُہن کو دیا اس نے پیا م رحیل! سا قی ار با ب ذو ق ‘ فا ر سِ میدا نِ شو ق ! با دہ ہے ا س کا ر حیق تیغ ہے اس کی اصیل مر د سپا ہی ہے وہ اس کی زر ہ لا الہ سا یہ ئ شمشیر میں اس کی پنہ لا الہ تجھ سے ہوا آشکا ر بند ئہ مو من کا راز ! اس کے دنو ں کی تپش ‘ اس کی شبو ں کا گداز اس کا مقا م بلند ‘ اس کا خیا ل عظیم اس کا سر و ر اس کا شو ق ‘ اس کا نیا ز ‘ اس کا ناز ہا تھ ہے اللہ کا بند ئہ مو من کا ہا تھ ! غا لب و کا ر آفر یں‘ کا ر کُشا ‘ کا ر سا ز خا کی و نو ر ی نہا د ‘ بندہ ئ مو لا صفا ت ہر دو جہا ں سے غنی‘ اس کا دل بے نیا ز اس کی امید یں قلیل ‘اس کے مقا صد جلیل اس کی ادا دل فر یب‘ اس کی نگہ دل نواز نر م دمِ گفتگو ‘ گر م دِم جستجو ! رز م ہو یا بز م ہو ‘ پاک دل و پا کبا ز ! نقطہ ئ پر کا ر حق ‘ مر دِ خدا کا یقیں اور یہ عالم تمام وہم و طلسم و مجاز عقل کی منزل ہے وہ ‘ عشق کا حاصل ہے وہ حلقہئ آفاق میں گرمیِ محفل ہے وہ کعبہئ اربابِ فن! سطوتِ دینِ مبین تجھ سے حرم مرتبت اندلسیوں کی زمیں ہے تہ گردوں اگر حسن میں تیری نظیر ! قلبِ مسلماں میں ہے اور نہیں ہے کہیں آہ وہ مردان حق! وہ عربی شہسوار! حاملِ ’’خلقِ عظیم‘‘ صاحب صدق و یقیں جنکی حکومت سے ہے فاش یہ رمز غر یب سلطنتِ اہل دل فقر ہے‘ شا ہی نہیں! جنکی نگاہوں نے کی تربیت شرق و غرب ظلمتِ یورپ میں تھی جنکی خرد راہ بیں جن کے لہو کے طفیل آج بھی ہیں اندلسی خوش دل و گرم اختلاط ‘ سادہ و روشن جبیں! آج بھی اس دیس میں عام ہے چشم غزال اور نگا ہوں کے تیر آج بھی ہیں دل نشیں بوئے یمن آج بھی اس کی ہوا ئوں میںہے رنگ حجاز آج بھی اس کی نوائوں میں ہے دیدہئ انجم میں ہے تیری زمیں آسماں! آہ! کہ صدیوں سے ہے تیری فضا بے اذا ں کون سی وادی میں ہے‘ کون سی منز ل میں ہے عشقِ بَلاخیز کا قافلہئ سخت جاں! دیکھ چکا المنی‘ شورشِ اصلاح دیں جس نے نہ چھوڑے کہیں نقشِ کُہن کے نشا ں! حرفِ غلط بن گئی عصمتِ پیرِ کُنشت اور ہوئی فکر کی کشتیئ نازک رواں چشمِ فرانسیس بھی دیکھ چکی انقلاب جس سے دِگر گوں ہوا مغربیوں کا جہاں ملت رومی نژاد کہنہ پر ستی سے پیر لذتِ تجدید وہ بھی ہوئی پھر جواں روحِ مسلماں میں ہے آج وہی اضطراب رازِ خدائی ہے یہ کہہ نہیں سکتی زباں دیکھئے اس بحر کی تہ سے اُچھلتا ہے کیا ! گنبدِ نیلو فری رنگ بدلتا ہے کیا! وادیِ کہسار میں غرقِ شفق ہے سحاب لعلِ بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتاب سادہ و پُر سوز ہے دخترِ دہقاں کا گیت کشتی دل کے لیے سیل ہے عہدِ شباب آبِ روانِ کبیر! تیرے کنارے کوئی! دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب! عالمِ نَو ہے ابھی پردہ تقدیر میں! میری نگاہوں میں ہے اسکی سحر بے حجاب پردہ اٹھا دوں اگر چہرہ افکار سے! لانہ سکے گافرنگ میری نوائوں کی تاب جس میں نہ ہو انقلاب ‘ موت ہے وہ زندگی روحِ اُمَم کی حیات کشمکشِ انقلاب صورتِ شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب نقش ہیں سب ناتمام ‘ خونِ جگر کے بغیر! نغمہ ہے سودائے خام‘ خون جگر کے بغیر۱ ہم دیر تک وہا ں بیٹھے رہے اور اقبال کی نظم کا ایک ایک مصر ع ہم سے محو گفتگو رہا۔ مسجد کے انچا ر ج بڑے متعصب لوگ تھے وہ با ر بار چکر لگاتے اور ہمیں ایسی کھا جا نے والی نظر و ں سے گھو رتے جیسے ہم غیر محسو س طر یقے سے ان ہوا ئوں کو مسمو م کر رہے تھے ۔جن میں سا نسیں لیتے تھے اور اُن فضا ئو ں میں شعلے گھو ل رہے تھے جن میں ان کے آرگن اور انکے گھنٹے و حشیا نہ قہقہے بکھیر تے تھے ۔ آخر ہم یہاں سے دلگیر و افسر دہ اُٹھ کر آئے یہیں ہمیں ایک نو مسلم عبد الما لک مل گیا بڑ ا پیارا ‘ محبت کر نے والا دلآویز و دلبر با آدمی تھا وہ اس بات پر نا زا ں تھا کہ اللہ نے اُسے قبول کر لیا تھا اور وہ دین ِ حق و صدا قت میں دا خل ہو گیا تھا۔ بھا ئی عبد الما لک ہمیں سعو دی عر ب کے خرچ پر چلنے والے ایک سنٹر میں لے گیا ۔ یہاں ایک پاکستانی بھا ئی گلنا ر علی اور اُسکے دو عز یز وں سے ملا قا ت ہو ئی ان عزیز وں کے نام ذہن سے اتر گئے ہیں۔ سپین کی حکومت کو اب ان یا د گا روں کی اہمیت کا کچھ خیا ل آرہا ہے اور اب یہ اتوا ر کو ٹکٹ کے بغیر مگر دو سرے دنو ں میں ٹکٹ پر دکھا ئی جا تی ہے۔ سعو دی عر ب کی حکومت نے سنٹر کے سا تھ مسجد کے لیے زمین لے رکھی ہے لیکن ابھی مسجد کی تعمیر کا کام شر و ع نہیں ہو ا ۔ قر طبہ میں ایک دو مسجد یں احمد یو ں نے بھی بنا رکھی ہیں۔ ہم نے را ت اسی سنٹر میں گز ا ر ی مسجد کے لیے جو زمین لی جا چکی ہے۔ اس سے مسجد کا کا م لیا جا رہا ہے ۔ ہمیں بتا یا گیا کہ اس مسجد کے اما م غبن کے کیس میں ملو ث ہو کر جیل پہنچ چکے ہیں اب جو صا حب اما مت کے فرا ئض پر متعین تھے وہ نماز وں کے پو ر ی طر ح پا بند نہیں ۔ آج بھی فجر کی نماز میں وہ غیر حا ضر تھے ۔ اسلامک سنٹر میں کچھ تبلیغی جما عت والو ں سے بھی ملا قا ت ہو ئی ۔ یہاں ایک چھو ٹی سی لا ئبر یر ی بھی ہے مگر وہ ’’ و ہا بیت ‘‘ کی کتا بو ں سے بھر ی ہو ئی ہے۔ دو سرے روز ہم گلنا ر علی صا حب کے سا تھ پھر مسجد قر طبہ کی زیا رت کو گئے اور انہی کر ب خیز اور در د انگیز کیفیا ت سے دو چا ر ہو ئے جو کل ہم پر طا ر ی ہو ئی تھیں۔ ادھر ادھر پھر کر قر طبہ شہر کی ویرا نیا ں دیکھیں دل کو تھوڑا سکو ن بھی ہوا کہ بے شک قسمت نے ہما را سا تھ چھو ڑ دیا اور ہما ری بد نصیبی نے ہمیں طر ح طرح کے مصا ئب کا شکا ر بنا یا لیکن اند لس کی سر زمین بھی رو رہی ہوگی اور رو رہی ہے کہ اس نے کیا کھو یا او رکیا پا یا ۔ آنے والے سیا ح بھی یہی تا ثر لے کر جا تے ہیں کہ اند لس مسلما نو ں سے محرو م ہو کر اپنے بخت سے محر و م ہو گیا اور اپنی سعادتمند یو ں سے بے نصیب ہو گیا ۔ کبھی ہم نے بھی کی تھی حکمرا نی اہل دنیا پر مگر وہ حکمر انی جس کا سِکہ جا ن و دل پر تھا








قصر زہرا پھر ہم قصر زہرا گئے جو قر طبہ سے چند ہی میل دو ر ہے عبد الر حمن کے اس قصرِ عظمت نشا ن کے اب صر ف کھنڈر رہ گئے ہیں مگر �ò ذرّو ں پہ ثبت عظمتِ جا ہ و جلا ل تھی کھنڈر بتا رہے تھے عما ر ت کما ل تھی یہ طلسمی قصر زہرا کیا تھا ؟ اسکی تفا صیل تا ریخ میں ملتی ہیں ۔مسٹر جیر ار ڈ ﴿M. GIRARD﴾کی ’’ تار یخ اندلس ‘‘ سے تر تیب دییہوئے در جِ ذیل اشا ر ا ت شا ید اسکی عظمتوں کا پر تو سامنے لا سکیں۔ اس عما رت میں چا ر ہز ا ر تین سو ستو ن قیمتی سنگ مر مر کے تھے انکی تر اش بھی غضب کی تھی۔ قصر کے دالا نو ں میں سنگ مر مر کا مر بع فر ش تھا جس میں ہز ا ر قسم کی گلگا ریا ں تھیں دیوا رو ں پر بھی سنگ مر مر کی دست کا ر ی تھی جس پر مختلف رنگو ں کے بیل بو ٹے بنے ہوئے تھے ۔چھتو ں میں بیچ در بیچ سنہر ی اور زنگا ری رنگ آمیز یا ں تھیں ۔چھت کے تختے اور شہتیر صنو بر کی لکٹر ی کے تھے ۔جن پر مہارت سے پھول بنا ئے گئے تھے ۔ادھر ادھر خو ش نما فوا رے چھو ٹ رہے تھے ۔انکی پھوا ریں رنگو ں میں نہا کر حو ضو ں میں گر تی تھیں جس دالان کا نام قصر الخلیفہ تھا ایک سنگ یشب کا حو ض تھا جس کے اوپر قسطنطنیہ کی بے مثا ل دستکا ری کا شا ہکا ر سو نے کا بگلا بیٹھا تھا القصر کے سا منے بڑے دلکشا اور دلر با با غا ت تھے۔ جن میں قسم قسم کے پھلدا ر در خت تھے بڑے با غ کے وسط میں خلیفہ کا کو شک بلند ی پر بنا ہوا تھا اور اس کے ستو ن سفید سنگ مر مر کے تھے جن کا اوپر کا حصہ مطلا تھا۔ کو شک کے وسط میں سنگ سما ق کا مشہو ر حو ض تھا جس میں پانی کی جگہ پا رہ بھر ا ہوا تھا ایک خا ص انداز سے اس میں سو ر ج کی کر نیں بڑا خو بصو ر ت منظر پیش کر تے ہوئے منعکس ہو تی تھیں۔ ان ہی با غا ت میں شا ہی حمام تھے جن میں ہر طر ح کے خو بصو رت قا لین بچھے رہتے تھے۔ ان پر پھول اور پر ندے اس مہا ر ت سے بنے ہوئے تھے کہ اصل کا گما ن ہو تا تھا ۔ سفید سنگ مر مر المر یہ سے آیا تھا اور گلا بی اور سبز مر مر قر طا جنہ اور تیو نس سے ، طلا کا ر شا م سے آیا تھا ۔اس فوا رہ پر انسا نی تصو یر یں بنی ہوئی تھیں جنہیں احمد یو نا نی جیسے معر و ف نقا ش نے بنا یا تھا۔ قصر الخلیفہ کے ہر طر ف آٹھ آٹھ در تھے جنکی محر ابیں ہا تھی دا نت اور آبنو س کی بنی ہو ئی تھیں اور سو نے جو اہر ات سے مر صع تھیں ان محر ا بو ں کے ستو ن مختلف الا لو ا ن سنگ مر مر اور بلو ر کے تھے ۔ ابنِ حیا ن نے بھی قصر زہرا کی ایسی ہی تفا صیل بیا ن کی ہیںمگر اب تو صر ف کھنڈ را ت ہیں۔ حکو مت نے ان کو دیکھنے کے لیے ٹکٹ لگا رکھا ہے ۔ یہا ں کی انچا ر ج ایک عو ر ت تھی جس نے بہت سے کتے رکھے ہو ئے تھے یہ مختلف نسلو ں کے تھے اور یہ کھنڈ ر انکی آرا م گا ہیں بن گئے تھے ۔ خدا کی شا ن ہے جن ایو انو ں میںکبھی سو ر ج کی شعا عیں بھی احتر ام سے دا خل ہو تی تھیں اور ہوا ئو ں کو بھی بہ احتیا ط قد م دھر نا ہو تا تھا کہ دیکھو شو ر نہ ہو کسی حسین کا خوا ب نا زنیں ٹو ٹ نہ جا ئے ،آج وہا ں ویرا نیو ں کے ڈیر ے ہیں ،انہی کھنڈ رو ں میں خدا کی ابد یت کا جلا ل بھی جیسے جیسے قد م قدم پر ہما رے ذہن پر اپنی ہیبت طا ر ی کر رہا تھا ہم نے وہیں نماز ادا کی۔ وہا ں اور بھی کئی سیا ح پھر ر ہے تھے۔ وہ رک کر تعجب سے ہما ری نماز دیکھ رہے تھے ہم نے سلا م پھیر کر کہا جن آبا ئو اجدا د کی اولا دیںبد گیر ہو ں انکے وار ثو ں اور انکی چھو ڑی ہوئی جا ئید ا دو ں کا یہی حا ل ہوتا ہے ہمیں کیا دیکھتے ہو ہم اپنے عظمت ما ٓ ب اسلاف کے نا خلف فر زند ہیں۔ اپنے بز ر گو ں کے تر کے دیکھتے پھر تے ہیں۔ آنسو بہا تے اور آہوں سے طوفان اٹھا تے پھر تے ہیں ۔


گر الڈ ا اور اشبیلیہ کا قصر

طلیطلہ میں بھی گئے ،طلیطلہ کے گر د مسلما نو ں کی بنا ئی ہو ئی فصیل اور بُر ج اب تک مو جو د ہیں شہر کے در وا ز وں میں بسکر ہ اور با ب الشمس اب تک مو جو د ہیں یہ با لتر تیب نو یں اور دسو یں صد ی عیسو ی کی یا د گا ر یں ہیں ۔ اشبیلیہ کی سب سے قد یم عر بی عما رت ایک بر ج ہے جسے گِر ا لڈا کہتے ہیں یہ سر خ اینٹو ں کی بنی ہوئی ایک خو بصو ر ت مکعب شکل کی عمار ت ہے یہ او ر و نس کے بر ج سینٹ ما رک سے کچھ مشا بہت رکھتی ہے ۔ اسے ایک الگ عما ر ت نہیں سمجھنا چا ہیے۔ اصل میں یہ اس مسجد کا مینا ر ہے جسے خلیفہ المنصو ر نے 1195 �÷ ئ سے تعمیر کر ایا تھا۔ گر الڈا کے باہر کی جا نب پتھر کی ترا شی ہو ئی جا لیا ں اور جا بجا کھٹر کیا ں ہیں، جن میں سے بعض کی محرا بیں پھیلی ہو ئی ہیں اور بعض پھو لدا ر نکیلی ہیں ۔ اشبیلیہ میں القصر بھی مسلما نو ں کی ایک عظیم یا د گا ر ہے۔ اصل عما ر ت گیا ر ھو یں صد ی عیسو ی میں شر و ع ہو ئی لیکن اس کا بہت بڑا حصہ تیر ھو یں صد ی عیسو ی میں مکمل ہوا ۔ اس میں عیسائی با د شا ہ بھی آکر رہے اس لیے انہو ں نے بھی اسکی تکمیل میں حصہ لیا لیکن ان کے دو ر کی بھی کا ر ی گر ی غما زی کر رہی ہے کہ یہا ں اصل عما ر ت کو بگا ڑ کر وحشی ہا تھو ں نے اپنی کا ر گز ا ر ی دکھا ئی ہے ۔ اس وقت اند لس کے شہر و ں میںاشبیلیہ ہی زند ہ اورکسی حد تک مہذ ب شہر ہے ۔ ہم ان علا قو ں سے سر سر ی گز ر گئے ۔ اور غر نا طہ کی طر ف پلٹ آئے کیو نکہ یہا ںہمیں ابھی ’’الحمرائ‘‘ کا قصر دیکھنا تھا جسے مسلما ن ’’ قلعہ الحمرا ئ ‘‘ بھی کہتے تھے ۔


الحمرا ئ یہ قصر شہر کے کنا رے ایک ٹیلہ پر وا قع ہے جو سیرا نوا ڈا کی بر ف سے ڈھکی ہو ئی چو ٹیو ں کے نیچے اور بہتر ین جا ئے وقو ع پر تعمیرہوا ہے۔ ٹیلے کے نیچے سے الحمرا ئ کے مر بع شکل کے سر خ بر مو ں کی چو ٹیا ں نیلگو ں آسمانی زمین پر نظر آتی ہیں ان کا نیچے کے حصہ سبز ہ زار میں چھپا ہوا ہے اگر ہم اسکے پر انے در ختو ں کی قطا ر وں میں چلیں جن پر قسم قسم کے پر ندے چہچہا رہے ہیں اور جنکی دو نو ں جا نب چشمے روا ں ہیں تو ہم تھوڑی ہی دیر میں اس قصرِ عظیم کے در و ا زہ پر پہنچ جا تے ہیں ۔اسکی ثنا خوا نیو ں میں بہت سے شعر ائ رطب اللسا ں رہے ہیں کتا ب اور ی اینٹا ل کے مصنف نے بھی اسکی تعر یف میں اشعا ر لکھے ہیں ہم سید علی بلگرا می کاکیا ہو ا منظو م تر جم نقل کر رہے ہیں۔

کیا جنا ت نے آرا ستہ جس قصر ِ شا ہی کو بنا یا جس کو گھر ہر رنگ کی نغمہ سر ائی کا نظر آتا ہے عالم خوا ب کا سا را طلسماتی وہ الحمرا ئ ہے الحمرا ئ نہیں جس کا کوئی ہمتا ہزا ر افسو س تیر ی بیکسی اور زا ر حالت پر کہ تو اب منہد م ہو نے لگا ہے حسرتا دردا تر ا وہ قلعہ اور کنگو ر ے دا ر اسکی وہ دیوا ر یں جو اب گر نے لگی ہیں‘ ہے سما ں جن میں تنز ل کا جہا ں کا نو ں میں جا دو کی صد ائیں شب کو آتی ہیں جہا ں شا ید ہے تیر ی عظمت و شوکت کا ہر ذرا جہا ں چا ند ا پنی نو را نی شعا عو ں سے بصد خو بی تر ے دیو ار و در کو عمد گی سے آکے ہے دھو تا سما ں وہ بھی ہے تیر ا دیکھنے کے لا ئق و قا بل نہیں الفا ظ میں جس کا بیان لطف آسکتا الحمرا ئ کے حسن اور اسکی شا ن و شوکت پر ہر زبان میں بڑ ا لٹر یچر مو جو دہے میںاس پر کو ئی اضا فہ نہیں کر سکتا اور اسے دہرا نا تحصیل حاصل سمجھتا ہوں اس لیے انیس کے ہمز با ں ہو کر کہے دیتا ہو ں �ò بھلا تر در ِ بیجا سے ان میں کیا حاصل اٹھا چکے ہیں زمیندا ر جن زمینو ں کو دنیا کے اس دو لھا کے سا تھ و حشی عیسا ئیو ں نے کیا کیا ؟ اس کا جو ا ب در ج ذیل تفا صیل میں ملیگا ۔ جو ہم نے نہیں ایک منصف مزا ج عیسا ئی نے لکھی ہیں۔ ڈا کٹر گستا ولی با ن لکھتے ہیں ۔ ’’ کل صناع اور اہل کما ل جنہو ں نے الحمرا ئ کو دیکھا ہے اند لس کے نصا ر یٰ کی اس عجیب و غریب وحشیا نہ حر کت کو افسو س کے سا تھ بیا ن کر تے ہیں جوا ن سے اس قصر کو بر با د کر نے میں سر زد ہوئی ہیں ۔چا رلس پنجم نے تو اس کا ایک حصہ اس غر ض سے تو ڑہی ڈا لا تھا کہ اس کے مسالہ سے ایک دو سری بے ڈھنگی عما ر ت بنا ئے لیکن اور حکومتو ں نے بھی اس کو محض ایک ویرا نہ سمجھ لیا جس کی اشیا ئ دو سرے کا مو ں میں مستعمل کی جا سکیں ‘‘

            ﴿’’تمد ن عِرب ‘‘ اردو تر جمہ از سید علی بلگرامی ص 271﴾

مؤ ر خ اند لس ڈیو ی لا ئنرز ﴿DAVILLIERS﴾اپنی کتا ب ’’ اند لس ‘‘ میں لکھتے ہیں ۔ ’’ وہ خو بصو ر ت چینی کی تختیا ں جو قصر کے دالا نو ں میں نصب تھیں چند سا ل قبل پیس کر چو نا بنانے کی غر ض سے فر وخت کر دی گئیں۔ مسجد کا کانسی کا در وا زہ پر انے تا بنے کے نا م سے بکا اور وہ لکٹر ی کے کندہ کئے ہو ئے بیش بہا در وا زے جو دار بنی سرا ج میں لگے ہوئے تھے ایند ھن کے طو ر پر کا م میں لا ئے گئے جو چیز یں اس قصر میں سے بِک سکتی تھیں بیچ دی گئیں اور پھر یہ محل بڑی جیل کے طو ر پر کا م میں لا یا گیا پھر اس میں فو جی رسد کا کا ر خا نہ بنا یا گیا صفا ئی کی آسا نی کی غر ض سے تما م نسخی آرا ئشیں اور گلکا ر یا ں اس طر ح مٹا ئی گئیں کہ ان پر چو نے کا پلستر کر دیا گیا ‘‘ ﴿بحو الہ تمد نِ عرب صفحہ 272 ﴾ ایک مدت تک سیا ح شا عر اور دو سرے دلدا دگا نِ فنو ن لطیفہ اس کا روا ئی پر رو تے رہے اور عیسا ئی حکمرا نو ں اور عو ام کے کا ن پر جو ں تک نہ رینگی لیکن پھر آہستہ آہستہ احسا س ہو گیا کہ وہ قیمتی ہیرو ں کو گیند بنا کر ہا کی کھیلتے رہے تھے انہو ںنے ادھر ادھر سے کا ریگر اور ما ہر ین بلا کر اپنی بر با د کر دہ اشیا ئ کی مر مت کا کا م شر وع کیا بہر حال جو لشتم پشتم آگے بڑ ھ رہا ہے مگر ویسے شا ہکا ر ا ب کہا ں تشکیل جد ید حا صل کر کے اصل بن سکتے ہیں۔ الحمرا کی مسجد اب چر چ آف سینٹا ما ریا ﴿SANTA MARIA﴾ہے ۔ بہر حا ل ہم نے قصر الحمرا ئ دیکھا آنسو بہا ئے اپنے مسلما ن بھا ئیوں کی بد عملی پر افسو س کیا اور ان عیسا ئیو ں پر بہت زیا دہ افسو س ہو ا جو اپنے آپ کو تر قی ، رو شن خیا لی اور بے تعصبی کا مر قع سمجھتے ہیں مگر عملا ً وحشیو ں اور جا ہلو ں سے بہت پیچھے ہیں۔ خیا ل پیدا ہوا کہ مسلما نو ں کی جو تھوڑ ی بہت آبا دی اس وقت مو جو د ہے کچھ ان سے ملا ملا یا جا ئے اور حا لا ت معلو م کئے جا ئیں اسی سلسلہ میں PALSA COLON نا می ایک کا ر پارک میں گئے یہا ں مر اکش کے ایک مسلما ن جنر ل نے انچا س سا ل قبل ایک چھوٹی سے مسجد بنو ائی تھی ۔ جس کی چا بی ایک پاکستانی بھا ئی جان محمد کے پا س رہتی تھی معلو م ہو ا کہ وہ اکثر مسجد مقفل رکھتا ہے۔ وہا ں سے ہم شیخ عبد القادر کے زا ویہ میں گئے شیخ صا حب کے نو مسلم مر ید عبد البصیر سے ملا قا ت ہوئی ۔ یہ صا حب سپین ہی کے رہنے والے ہیں اور یو نیو ر سٹی میں پر و فیسر ہیں ۔ یہی ان د نو ں زا ویہ کے انچا ر ج بھی ہیں۔ سلمان اور ابو ہر یر ہ سے ملا قا ت ہوئی ۔ دو نو ں نو جوا نو ں نے داڑ ھی رکھی ہو ئی ہے سپین میں سات سا ل قبل جنا ب شیخ عبد القا در نے تبلیغی کا م کی بنیا د رکھی اور کام کا آغا ز کیا انکی مسا عی سے اب تک با ئیس آدمی مسلما ن ہو چکے ہیں یہ سنٹر یا زاویہ انہو ں نے تین سا ل قبل قا ئم کیا تھا یہا ں مسجد و مد رسہ میںبھی با قا عد ہ عر بی کلا سیں ہو تی ہیں۔ ایک نو مسلم عز یز نے بتا یا کہ اس شہر میں دو سو مساجد تھیں جو سب کی سب گر جو ں میں بد ل دی گئی ہیں ایک قرطبی مسلما ن سے ملا قا ت ہوئی جو حسر ت سے کہہ رہا تھا اس ملک میں سا ری مسجد یں گر جے بنا دی گئیں ۔ اس سفر میں حاجی عد الت خا ن نو شا ہی ، محمد شر یف نو شا ہی ‘ محمد ر شید نو شا ہی اور محمد صدیق نو شا ہی سا تھ رہے ۔ جنو ر ی 83 �÷ میں واپسی ہوئی ۔




سفر نا مو ں کی خصو صیت قا رئین نے ان سفر نا مو ں میں ایک خا ص با ت محسو س کی ہو گی ہم بھی اس کی طر ف اشا رہ کئے دیتے ہیں وہ خا ص با ت یہ ہے کہ یہ سفر نا مے دو سرے سفر نا مو ں سے مختلف ہیں سفر نامہ نگا ر جس شہر میں جا تے ہیں وہا ں کی مو جود معا شر ت اور ما حو ل تک ہی اپنے قلم کو محد ود کئے رکھتے ہیں ۔ان سفر نا موں میں یہ با تیں بہت کم کی گئی ہیں ’’ زیا رات ‘‘ کو زیا دہ اہمیت دی گئی ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ سفر نامہ نگا ر ’’ گھر سے گھر تک ‘‘ کا مسافر نہیں وہ ’’ گھر سے با لا تر تک ‘‘ جا تا ہے اسے نقو شِ پا اکٹھے کر نے ہیں ایسے نقو ش پا جو سید ھے مد نی کے در تک جا تے ہیں اور وہا ں سے عرش تو بس دو قدم ہے۔ وہ ان تما م مسا فرو ں کے نشا نا ت پا کھو جتا پھر تا ہے جو اس سے پہلے ان راہو ں پر چلے ہیں یو ں یہ سفر نا مے ایک قسم کے ’’روحانی سفر نا مے ‘‘ ہیں۔ اِن سفر نا مو ں میں آپ نے یہ بھی دیکھا ہو گا کہ سفر نامہ نگا ر ایک عا ر ف ِ راہ سلوک ہی نہیں ایک مبتحر عالم شر یعت بھی ہے اور طریقت کو سا تھ لے کر چلتا ہے عار فِ شیرا ز حا فظ شیرا زی نے شا ید اسی کے لیے یہ بہت بڑا شعر کہا تھا �ò در کفے جا مِ شر یعت ‘ در کفے سند انِ عشق ہر ہو سنا کے ندا ند جا م و سند ا ں با ختن آپ محسو س کر ینگے کہ حضرت پیر صا حب کی نر م و گر م انگلیا ں آپ کی نبضو ں پر ہیں وہ جہاں کہیں کوئی اعترا ض ، کوئی سو ال دھٹر کتا محسو س کر تے ہیں آپ کے پو چھے بغیر اس کا جو ا ب حا ضر کر دیتے ہیں۔ اس طر ح یہ سفر نا مے دو سرے سفر نا مو ں سے خا صے مختلف ہیں جن لو گو ں نے ’’ سفر نا مہ ابن بطو طہ ‘‘ پڑ ھا ہے ۔وہ جا نتے ہیں کہ اس سفر نامہ کا پہلا حصہ بھی محض خانقا ہو ں کی زیا رت تک محد ود ہے اس طر ح حضرت پیر صا حب کے سفر نا مے ’’ سفر نا مہ ابن بطو طہ ‘‘ کے حصہ اول سے ہم آہنگ بھی ہیں مگر مختلف بھی کیو نکہ ’’ا بن بطو طہ‘‘ خانقا ہ میں اپنا قیا م بتا تا ہے اپنے محسو سا ت نہیں بتا تا یا شا ید بتا ہی نہیں سکتا اور شا ید اس کا دل خانقا ہو ں کے کیف زا رو ں اور نشا ط کد وں کے انوا ر میں پہنچ ہی نہیں پا تا تھا مگر پیر صا حب اس میدا ن کے بھی شہسو ا رہیں اس لیے وہ یہاں بھی اپنی انفر ا دیت دکھا جا تے ہیں۔ اولیا ئ کے مزا رو ں کے سا تھ خا نقا ہیں کیو ں ہو تی ہیںاور یہ خا نقا ہیں کیا تھیں ؟ اگلے صفحا ت میں ہم اس کی مختصر و ضا حت سا منے لا رہے ہیں ۔







خا نقا ہیں صو فیا ئ کا ذکر ہو اہے اور صو فیا ئ کے سا تھ خا نقا ہوںکا قر یبی تعلق ہے۔ اس لیے ہم ضر و ری سمجھتے ہیں کہ خا نقا ہو ں کا مختصرا ً تذ کر ہ کر دیا جائے ۔ اصل لفظ ’’ خا نگا ہ ‘‘ ہے جب اسے عربی ٹچ ﴿TOUCH﴾ دیا گیا تو خا نقا ہ بنا دیا گیا کیو نکہ ’’ گا ف کا حرف عر ب میں نہیں تھا ۔ خانگاہ میں لفظ ’’ خا ن ‘‘ کے سا تھ گا ہ لا حقہ ہے جیسے ’’ عید گا ہ ‘‘ میں ہے۔ خان کا لفظ تا تا ری سے تر کی میں آیا اسکے لغو ی معا نی ’’ سہا را ‘‘ ہیں خاندان میں بھی اور خا نو ادہ میں بھی ’’ دا ن ‘‘ اور ’’ وا دہ ‘‘ لا حقے ہیں اسی ’’ سہا را ‘‘ کا مفہو م با قی رکھتے ہو ئے قبیلہ کے سر دا ر پھر بڑے سر دا ر کے لیے ’’ خا ن ‘‘ کا لفظ استعما ل ہو نے لگا ’’ خا ندا ن ‘‘ کا مطلب ہے ایک ایسا انسا نی اجتما ع جس میں لو گ ایک دو سرے کا سہا ر ا بنتے ہیں۔ خا نگا ہ کا مطلب ہے ایسا گھر جس میں لو گ ایک دو سرے کا سہا را بنتے ہیں اور جہاں سے لو گو ں کو سہا را ملتا ہے ۔ مسا جد میں ذکر ہو چکا ہے کہ حضو ر �ö کی مسجد نبو ی وسیع المقا صد تھی ۔ خلفا ئے را شد ین کے دو ر میں بھی مسا جد کی یہی حیثیت باقی رہی لیکن ملو کیت کے دو ر میں اختلا ف و افترا ق نمو دا ر ہوا۔ مسا جد میں تبرا اور لعنت شر و ع ہوئی مسجد یں سیا سی اکھا ڑے بننے لگیں اور وہی صور ت حال پیدا ہو نے لگی جو ’’ مسجد ضرا ر ‘‘ کی تھی جس کی تفا صیل قر ان حکیم نے بیا ن کرکے تعمیر مسا جد کا مقصد اولیٰ بھی بیا ن کر دیا قر آن حکیم میں ہے۔ ’’وَ الّذیْنَ اتَّخَذُ وْ مَسْجِداً ضر َارً ا وَّ کُفْر اً وَّ تَفْرِ یْقاً بَیْنَ اَلْمُؤ مِنیِْن اِرْ صَا د اً لّمَِنْ حَا رَ بَ اللّٰہَ وَ رَ سُوْ لَہ‘ مِنْ قَبَلُ وَلَیَحْلِفَنَّ اِنْ اَرَدْ نَااِلاَّ الْحُسْنیٰ وَ اللّٰہ ُ یَشْھَدُ اَنّھُمْ لَکٰذِ بُو ْ نoلَا تَقُمْ فِیْہِ اَبَدًا‘‘ ﴿جن لو گو ں نے اس غر ض سے مسجد تعمیر کر ائی کہ اس سے ملت اسلا میہ اور خو د دین کو نقصا ن پہنچا یا جا ئے اور کفر کی حما یت کی جا ئے یا کفر کی رو ش اختیا ر کی جا ئے اور اس غر ض سے کہ مسلما نو ں میں تفر قہ پیدا کیا جا ئے ﴿یہ مسجد نہیں ﴾ بلکہ یہ وہ کمین گاہ ہے جس میں بیٹھ کر وہ شخص جو اس سے پہلے ہی اللہ اور رسو ل کا دشمن تھا ۔اپنی سر گر میاں جا ری رکھے۔ یہ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ اس مسجد کی تعمیر سے ہما را ارا دہ بجز بھلا ئی کے اور کچھ نہیں ﴿آپ انکی با توں میں نہ آ جا نا ﴾ خدا گوا ہ ہے کہ یہ یکسر جھو ٹے ہیںآپ اس نام نہا د مسجد میں کبھی قد م بھی نہ رکھیں ﴾ ﴿9/ 107-108﴾ آگے فر ما یا کہ ایسی عما رتیں مسا جد کہا ں ہیں یہ عما رتیں تو دو زخ کے کنا رے پر کھڑ ی ہیں جس نے انہیں بنا یا اور جو ان میں دا خل ہوئے وہ ان سب کو لے کر جہنم کے عمیق گڑ ھو ں میں جا گر یںگی ﴿ 9/109 ﴾ حضور �ö نے مسجد ضرار کو منہد م کر ا دیا تھا ۔ بہر حا ل جب مسا جد میں یہ صو ر ت حا ل پیدا ہو گئی تو اس وقت کے علما ئ نے ضر و ر ی سمجھا کہ مسا جد سے سیا ست اور با ہمی اختلا ف و افترا ق کی با تو ں کو الگ رکھا جا ئے اور یہاں صر ف عبا د ت کی جا ئے اور بس ، اس طر ح وہ تما م مقا صد جو مسا جد سے حا صل تھے۔ بند ہو گئے اس وقت صو فیا ئ آگے بڑھے اور انہوں نے خا نقا ہیں قا ئم کیں اور وسیع اغرا ض و مقا صد ان سے وا بستہ ہو ئے۔ یہ مسلما نو ں کا مکمل سہا را بن گئیں ،خا نقا ہو ں میں عبا د ت کے لیے مسجد بھی ہوتی تھی۔ ولی اللہ لو گو ں کے دکھ درد سُنتے دعا ئیں کر تے ،انکی چا رہ جو ئی کر تے ، ان خا نقا ہوں میں مدا رس بھی ہوتے ،جہا ں شر یعت کی تعلیم و تد ریس ہو تی ،سا تھ ہی رو حا نی تر بیت ہوتی یہاں در و یش ہو تے جو طر یقت اور رو حا نیت کے مدا رج اپنے مر شد کی نگر انی میں طے کرتے، یہاں لنگر خانے ہو تے جہا ں غر یب نا دا ر لو گ اور مسا فر مفت قیا م و طعا م کر تے ۔در و یش مفت انکی خد ما ت سر انجا م دیتے اور یہ سارا نظا م بلا تمیز کا فر و مؤمن چلتا اور لو گو ں کے ما لی تعا و ن سے چلتا اس طر ح خا نقا ہیں وسیع المقا صد ادا رے بن گئیں اور لو گ انہیں ملجا ئ و ما وٰی سمجھنے لگے یہ تبلیغ کا بہت بڑا ذریعہ بن گئیں اور ان پر حا جتمند و ں اور اللہ والو ں کا ہجو م رہنے لگا یو ں اولیا ئ اللہ دلو ں پر حکمر انی کر نے لگے اور وہ صو رت حال ہو گئی کہ �ò ہے دل کی سلطنت پہ تسلط فقیر کا اجسام ناتواں پہ فرمانروا ہے میر خا نقا ہو ں کی یہ حیثیت کم ظر ف سلا طین و ملو ک کو کھٹکنے لگی اور کئی المنا ک حا دثا ت رو نما ئ ہوئے ۔تصا دم ہو تا رہا حتیٰ کے خو اجہ نظا م الد ین محبو ب الاولیائ جیسی ہستی سے بھی شا ہا نِ وقت ٹکر اتے رہے۔ سلا طین و اولیا ئ کے اس تصا دم میں در با ر ی علما ئ سلا طین کے ہتھیا ر بنے ہیں۔ اولیا ئ پر کفر کے فتوے لگائے گئے اور کئی قلند رو مجذوب شہید کئے گئے۔ خا نقا ہ کے سا تھ ہی پیر کی تشر یح ضر و ر ی ہے کیو نکہ یہ لا زم و ملز وم ہیں ۔ پیر فا رسی لفظ ہے اور اس کے معنی بو ڑھا آدمی ہے یہ عربی لفظ ’’شیخ‘‘ کا لفظی تر جمہ ہے عربی میں شیخ بھی بوڑھے آدمی کو کہتے ہیں۔ جب زکر یا علیہ السلام کی زو جہ محتر مہ کو فرشتہ آکر بشا ر ت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں فر ز ند عطا کر یگا تو وہ بڑھا پے کے با عث حیر ان ہو کر کہتی ہیں کیا اس عمر میں میرا بیٹا پیدا ہو گا ؟ جبکہ ’’اَناَ عُجُوْ ز’‘ وَھٰذَا بَعْلِیْ شَیْخا ً‘‘ ﴿میں سا لخوردہ بڑ ھیا ہو ں اور یہ میرا خا وند بو ڑھا ہے﴾ خا ند ان میں بوڑھا آدمی چو نکہ بز رگی کی بنا ئ پر قا بل احتر ام سمجھا جا تا ہے او ر اسکی با تو ں کو تجر با ت کا نچو ڑ اور انتہائی دا نشمندا نہ سمجھا جاتا ہے خا ندا ن میں اسی کا احترا م ہو تا ہے اور اسی کا حکم چلتا ہے اس لیے شیخ کا لفظ ہا دی اور رہنما کے لیے استعمال ہو نے لگا۔ استا ذ اور مر شد کے لیے بھی یہی لفظ شیخ استعمال ہوتا ہے عجم میں اس کی جگہ پیر کا لفظ استعمال کر لیا گیا ۔



ور لڈ ا سلامک مشن

یہ مدینہ منورہ کی ایک بر کتو ں بھر ی را ت کا قصہ ہے پیر سید معرو ف حسین شا ہ نو شا ہی حر م نبو ی میں بیٹھے ہوئے تھے یا دِ الٰہی کی پاکیز ہ ساعتیں تھیں را ت کا آخر پہر تھا کہ ان کے دما غ میں امتِ مسلمہ کی زبو ں حا لی کا خیال لہرا گیا اور اس کے اسباب سو چنے لگے فکر ونظر کا مرکز ی نقطہ یہ بن گیا کہ مسلمان دنیا میں ناکا م مرا د کیوں ہیں۔ ﴿بقول محمد اشفاق چغتائی مر حوم﴾ وہ دن بھی تھے کہ جہا ں میں تھی سر بر آ ور د ہ ایک قوم جو عصر کہن میں رہتی تھی خو شا وہ دو ر کہ عشق رسول کی قو ت ہما رے باز و ئے با طل شکن میں رہتی تھی یہ شر ق و غرب تھے میرا ث میرے آبا ئ کی کہ کا ئنا ت کی تسخیر من میں رہتی تھی وہ دن تھے زیر فلک سر اٹھا کے جیتے تھے رگو ں میں بر ق ، تب و تا ب تن میں رہتی تھی تھی ایک جسم کی صو ر ت یہ ملتِ مر حوم جہا ں میں ایک بڑے با نکپن میں رہتی تھی سجی ہوئی تھی جو بس نام سے محمد �ö کے ہر ایک شمع اسی انجمن میں رہتی تھی وہ وقت تھا کہ قیا مت کی کو ئی حر کت سی ہما رے عشق کی مستی بدن میں رہتی تھی ہزا ر حیف کہ ہم سے اب آشنا ہی نہیں کبھی جو صبح دل آر اچمن میں رہتی تھی سسک رہی ہے وہ بستر پہ مو ت کے ڈر سے جو سر فر و ش تھی ملت، کفن میں رہتی تھی وطن پر ستی کے جا دو سے ہوگئی تقسیم نبی (ص) کی قوم کبھی اک وطن میں رہتی تھی اور ان کے اند ر سے یہ صدا ئے صدق خیز بلند ہوئی کہ اگر کو شش کی جا ئے تو ملت اسلامیہ پھر ایک ہو سکتی اور اس مقصد کے لیے علما ئے امت کو ایک مر کز پر جمع کر کے اس کا م کو شر و ع کیا جا سکتا ہے اورپھر اس کا آغا ز یہی ہو نا تھا کہ در با رِ مصطفو ی (ص) پر حا ضر ی کے دو را ن لبو ں پر یہ التجا ہو نی تھی ۔ حضور پا ئو ں میں رکھ لیجئے خیا ل و خوا ب بھٹکتے پھر تے ہیں قلب ِ و نگا ہ امت کے دعا کو قبو لیت کا شر ف ملا او ر انہو ں نے اس مقصدپر ثواب کے لیے اردا ہ با ند ھ لیا اور یہ خوا ہش ان کی نگا ہِ پر اعتما د میں تھی ۔ سلسلہ تقسیم در تقسیم کا تبد یل ہو عالم اسلا م کا جغر ا فیہ تبد یل ہو

ایک ہو ں اشفا ق ہم اسم محمد (ص) کے طفیل اب یہ مٹی با نٹنے کا سلسلہ تبد یل ہو اور پھر انہو ں نے ﴿ایک ہو ں مسلم حر م کی پا سبا نی کے لیے ﴾ کی صد ائے با ز گشت اپنے اندر سنی اور علما ئے کر ام سے را بطے کر نے شروع کر دیئے۔ حج کے دوران مکہ مکر مہ میں علما ئے امت اور پیرا نِ عظا م سے ملا قا تیں کیں انہیں اس مقصدِ عظیم کی طر ف متو جہ کیا اس سلسلہ میں پہلی میٹنگ منیٰ میں رکھی گئی مگر اس میں شر یک ہو نے والے علما ئے کر ام کی تعدا د کچھ کم تھی سودو سری مجلس کا پر و گرا م تر تیب دیا گیا دو سری مجلس بھی منیٰ میں ہی بلا ئی گئی اور اس میں بھی علما ئے کر ام کی شر کت بھر پو ر انداز میں نہ سو سکی مگر پیر صا حب نے ہمت نہ ہا ری اور تیسری میٹنگ کے لیے کوشش کی اس مرتبہ پیر صا حب نے علما ئے کر ام کو اپنی رہا ئش گاہ پر بلا یا اور اپنے مقصد میں کا میا ب ہوگئے ۔ ہفتہ 20 جنور ی 1973 کی را ت کا آغاز تھا عشا ئ کی نما ز ہو چکی تھی سید معرو ف حسین شا ہ کی رہا ئش گاہ نیکیو ں کی روشنی سے منو ر تھی دنیا کے مختلف گو شو ں سے مکہ مکر مہ آئے ہو ئے علما ئے کر ام اور مشا ئخ کی ایک عالمی تنظیم پر غو ر ہو تا ر ہا اور وہ تنظیم وجو د میں آئی جسے دنیا ور لڈ اسلامک مشن کے نام سے جا نتی ہے ۔ اس مجلس میں ہند وستان ، پاکستان ، بر طا نیہ ، اور آزا د کشمیر کے علا وہ بہت سے ممالک کے علما و مشا ئخ نے شرکت کی جن میں اہم تر ین شخصیا ت کے اسم گر امی یہ ہیں’’ پیر سید معروف حسین شا ہ نو شاہی۔ محمد مد نی اشر فی جیلا نی کچھو چھا شر یف ۔ علامہ مصطفی الا ہز ی۔ مو لا نا عبدا لستا ر خان نیا زی ۔ حضرت مجا ہد ملت مو لا نا حبیب الر حمن مو لا نا محمد اقتدا ئ احمد نعیمی ۔ سید محمد ہا شمی اشر فی جیلا نی ۔ شا ہ اسر ا لحق فقیر محمد عظیم فیضی ۔ محمد اسما عیل رضو ی ، علامہ ارشد القاد ری ، علامہ عبد البا ری ، الحا ج طالب حسین ،صو فی محمد الیا س ۔ علا مہ اسما عیل عر جی ۔ پیر سید محمد نورا نی ، علا مہ عبد البا قی اشر فی اس اجلا س کی کا روا ئی جو علا مہ ارشد القا دری نے اپنے دست ِ مبا رک سے تحر یر فر ما ئی تھی ۔ جس پر تما م علما ئ مشا ئخ کے د ستخط مو جو د ہیں ۔ ’’بسم اللہ الر حمن الر حیم ہفتہ :۔ آج بتا ریخ 17 ذی الحجہ 92 �÷ ھ بعد مغر ب بمقا م مسفلہ مکہ معظمہ ‘ مختلف مما لک سے آئے ہوئے حجا ج کر ام و علما ئ مشا ئخ کی ایک مجلس منعقد ہوئی ، جسکی صدا رت کے فر ائض حضرت مجا ھد ملت مو لا نا محمد حبیب الر حمن صا حب قبلہ نے سر انجا م دیئے۔ آج کی مجلس میں مند رجہ ذیل افرا د شر یک ہو ئے ۔


۱:۔ معرو ف حسین ۲:۔ محمد مد نی اثر فی جیلا نی ، کچھو چھا شر یف ، ضلع فیض آبا د ، یو پی انڈیا ۔ ۳:۔ الازہری ﴿عبد المصطفیٰ الذ ہر ی﴾ دالعلوم امجد یہ کرا چی نمبر3 پاکستان ۔ ۴:۔ عبد الستا ر خا ن نیا زی ، نزد میکلو ڈ روڈلکشمی چو ک لا ہو ر پاکستان ۔ ۵:۔ محمد حبیب الر حمن قا دری ، ڈا کخا نہ دھا نگر ضلع مابعدا ہند ۶:۔ محمد اقتدا ر احمد خا ن نعیمی گجر ا ت ، مغر بی پاکستان ۷:۔ سید محمد ہا شمی اثرفی جیلا نی کچھو چھا شر یف ضلع فیض آبا د یو ۔ پی ۔ ہند و ستا ن ۔ ۸:۔ سید شا ہ اسرار الحق صدر آل انڈ یا مسلم متحد ہ محاذ ، کو ٹہ KOTA را جستھا ن ﴿انڈیا﴾ ۹:۔ فقیر محمداعظم فیض شا ہ جما لی مہتمم دا ر لالعلوم عر بیہ گلز ار یہ شا ہ جمالہہ بڈی شر یف ضلع ڈیر ہ غا زی خا ن ۔ ۰۱:۔ محمد اسما عیل رضو ی ، خادم دا ر العلو م امجد یہ کرا چی نمبر 5 ۔ ۱۱:۔ ارشد القا در ی ، مد رسہ فیض العلو م ، جمشد پو ر بہا ر ہند ستا ن ۔ ۲۱:۔ عبد البا ری بشو دیو ر با زار جمشید پو ر انڈ یا ۔ ۳۱:۔ اسما عیل عر جی محلہ پٹیل زنگا ر ضلع بھر د نج ہند ۔ ۴۱:۔ عبد البا قی الشر قی کڑی پختہ آنو لہ ضلع بریلی یو پی ہند و ستا ن ۔ ۴۱:۔ عبد البا ر ی، بشو دیور بازار جمشید پو ر انڈیا ۔ ۵۱:۔ پیر سید محمد نو را نی حید ر علی بھر د نج گجر ات ہند و ستا ن۔ آج کی مجلس میں مند رجہ زیل امو ر زیر بحث آئے اور طے پائے ۔ ۱:۔ مو لانا ارشد القا دری نے مجلس کے انعقا د کے اغرا ض پر رو شنی ڈا لتے ہو ئے سب سے پہلے حضرت مو لا نا پیر سید معر و ف حسین صا حب کا شکر یہ ادا کیا جنہو ں نے کئی دن کی لگا تا ر جد و جہد کے بعد مختلف مقا ما ت پر ٹھہر ئے ہو ئے علما ئے اہل سنت کوایک جگہ مجتمع کیا ، اس کے بعد مو لا نا نے فر ما یا کہ آج کی مجلس کے انعقادکے دو اہم مقا صد ہیں۔ پہلا مقصد تو یہ ہے کہ اکثر افراد اسلامی اور مختلف ملکو ں میں مسلک و اعتقا د کے لحا ظ سے بھاری اکثر یت میںہو نے کے با وجو د ہما را اپنے ہم مسلک بھا ئیو ں سے کوئی را بطہ نہیںہے۔ اس لیے شد ت سے یہ ضر ورت محسو س کی جا رہی ہے کہ دینی و تبلیغی سطح پر اہل سنت کی کوئی ایسی عا لمی تنظیم برئو ے کا ر لا ئی جا ئے جس کے ذر یعے مختلف ملکو ں میں رہنے ولے سنی بھا ئیوں سے ہم را بط قائم کر سکیں۔ اور اپنے مسلک و اعتقا د کے تحفظ و استحکا م کے لیے ہم ایک دو سرے کے سا تھ تعاون کی راہ ہموا ر کر یں، جملہ شر کا ئے مجلس نے اہل سنت کی اس مذہبی ضر و رت کا خیر مقد م کر تے ہوئے یہ تجویز منظو ر کی کہ عالمی سطح پر ایک ایسی تنظیم ضر و ر عمل میں لا ئی جا ئے ، جس کا دا ئر ہ عمل مسلک اہل سنت کی تبلیغ و اشا عت تک محدود ہو ۔ ۲:۔ تنظیم کے نام کے سلسلے میں کا فی دیر تک بحث و تمحیص کے بعد حضرت مو لا نا ، عبد الستا ر خا ن نیازی کا پیش کر دہ نام آل ورلڈ اسلامک مشن منظو ر کر لیا گیا ۔ ۳:۔ مولا نا عبد الستا ر خا ن نیا زی نے تنظم کے رکن کی حیثیت سے حضرت مو لا نا پیر معرو ف حسین صا حب کا نام پیش کیا جسے ، اتفا ق آرا ئ جملہ شر کا ئ مجلس نے منظو ر کیا ۴:۔ تنظیم کے لیے مر کزی دفتر کے قیام کے سو ال پر متعد د ملکو ں کے نا م پیش کئے گئے لیکن حضرت مولا نا عبد المصطفیٰ الازہری کی یہ ر ائے سب نے پسند فر ما ئی کہ تنظیم کا مر کزی دفتر وہیں ہونا چا ہیے جہاں کنو ینٹرسکو نت پذیر ہو ، لہذ ا اس بنیا دی دفتر کے قیا م کے لیے بریڈ فو رڈ انگلینڈ کا نام منظو ر کیا گیا ۔ ۵:۔ مولا نا عبدالستا ر خا ن نیا زی کی تجو یز کے مطا بق حضرت مو لانا پیر سید معر و ف حسین صاحب کو خاص طو ر پر اس تنظیم کا کنوینٹر منتخب کیا گیا اور انہیں اختیا ر دیا گیا کہ وہ مسلم آبا دی والے ملکو ں سے را بطہ قا ئم کر نے کے لیے وہا ں کے با شند و ں میں سے کسی منا سب شخص یا اشخا ص کو کنو ئیر نا مز د کر کے وہاں تنظیم کی شاخ قائم کر وا ئیں اور تنظیم کے کام کو آگے بڑ ھا ئیں۔ ۶:۔ جنا ب پیر سید معرو ف حسین صاحب کو اس با ت کا بھی اختیا ر دیا گیا کہ وہ عصر حا ضر کی مذہبی ضروریا ت اور بین الا سلامی اقدا ر کو سامنے رکھ کر تنظیم کے لیے ایک جچا تلا اور جا مع دستو ر مر تب کر نے کے لیے جد وجہد کر یں، پہلے مقصد پر گفتگو تمام ہو جا نے کے بعد مو لا نا نے دو سرے مقصد کی تشر یح کر تے ہو ئے بتایا کہ موسم حج میں اہل سنت کی یکجا رہا ئش کے لیے اگر کوئی ربا ط تعمیر کی جا ئے تو مختلف حیثیت سے وہ ہما ری جما عتی تنظیم اور مسلک و اعتقا د کے استحکام کا ذر یعہ بنے گی اس مو ضو ع پر کا فی دیر تک بحث و تمحیص کے بعد حضرت مولا نا عبد الستا ر خا ن نیا زی کی یہ تجو یز منظو ر کی گئی کہ چو نکہ ابھی ہم کسی عما رت کی تعمیر کی پو زیشن میں نہیں ہیں اس لیے منتقلی ربا ط تعمیر کر نے کی بجا ئے مو سم حج میںوسیع زمین کر ایہ پر حا صل کر کے اس پر شا میانے لگا دییجا ئیں،یہ خد مت بھی آل ور لڈ اسلامک مشن کے سپرد کی گئی ، تقر یبا ً 12 بجے شب کو یہ نو را نی مجلس دعا ئو ں پر تما م ہوئی۔ ارشد القا در ی اس اجلا س کی ایک اور رپو رٹ جو الحاج محمد الیا س ناظم اشا عت مکہ مکر مہ نے لکھی انہو ں نے رپو رٹ میں لکھا ہے۔ ’’ ۲۹ /۶۸۷ مکہ مکرمہ میں حج کے مبا رک مو قع پر آل ور لڈ اسلامک مشن کا قیام

20 جنو ر ی1973 بر و ز ہفتہ بعد نماز عشائ پیر سید عارف نو شا ہی کی رہا ئش گاہ محلہ مسفلہ مکہ مکر مہ سعو د ی عر ب میں دنیا کے مختلف گو شو ں سے آئے ہوئے ،علما و مشا ئخ کا ایک ایم اجلا س منعقد ہوا ، شرکا ئ حا فظ نو ر محمد مو سیٰ ، مو لا نا عبد المصطفیٰ الازہری مو لا نا عبد الستا ر خا ن نیا زی ،مفتی اقتدا ر احمد، سید محمد مد نی کھو چھو ی ، مو لا نا ارشد القاد ری، مجا ہد ملت مو لا نا حبیب الر حمن ، سید ہاشمی کچھو چھو ی ، پیر سید عا رف نو شا ہی، مو لا نا شا ہ اسرار الحق ، الحا ج طا لب حسین اور صو فی محمد الیا س کے اسما ئ قا بل ذکر ہیں ، تما م دنیا کے مسلمانوں میں اسلامی عملی رحجا ن پیدا کر نے اور غیر مسلمو ں میں منظم طو رپر تبلیغ اسلام کا فر یضہ انجام دینے کے لیے اجلا س میں مسلما نو ں کی ایک فعال عالمی تنظیم کے قیام کے با رے میں غو ر کیا گیا ، مو لا نا عبدالستا ر خان نیازی نے تنظیم کا نام آل ورلڈ اسلامک مشن تجو یز کیا جو متفقہ طو رپر منظو ر ہوا۔

اجلا س نے تنظیم کے متحر ک پیر عا ر ف نو شا ہی کو آل ور لڈ اسلامک مشن کا کنو ینٹر مقر ر کیا ، اور انکے ذمہ آئین بنا نے اور دنیائے اسلام کے علما ئ مشائخ سے رو ابط قا ئم کر کے تنظیمی کا م کو آگے بڑ ھا نے کے فر ائض سپر د کئے گئے ۔ آل ورلڈ اسلامک مشن کا صدر دفتر 68/69 SOUTHFIELD SQUARE BRADFORD میں مقر ر کیا گیادین اسلام کی تبلیغ و اشا عت سے دلچسپی رکھنے والے عامیت المسلمیں او ر علما ئ و مشا ئخ سے تنظیم کے کنوینئر سے مکمل تعا ون کر نے کی در خوا ست کی گئی۔ مولا نا ارشد القا در ی نے ابتدا ئ میں آل ورلڈ اسلامک مشن کی ضر و رت و اہمیت پر مفصل سے رو شنی ڈا لی اجلا س کی صد ا رت سید عار ف نو شاہی نے کی اجلا س کی کا رو ائی اڑ ھا ئی گھنٹے بعد دعا ئے خیر کے سا تھ اختتام پذ یر ہو ئی ۔‘‘

سعو دی عرب ان دو نو ں رپو ٹو ں میں اختلا فی با ت صر ف اتنی ہے کہ اس اجلا س کی صدا رت علا مہ ارشد القا د ری کے الفاظ میں مجا ہد ملت حبیب الر حمن نے کی اور الحا ج محمد الیا س کی رپو ر ٹ کے مطا بق پیر سید عا ر ف نو شا ہی قا د ری نے فرما ئی۔ اس سلسلے میں جب پیر معر و ف حسین شاہ عار ف نو شاہی سے پو چھا گیا تو انہو ں نے بتا یا ، میں نے اس اجلا س کی صد ا ر ت کے لیے مجا ھد ملت حضرت حبیب الر حمن سے در خوا ست کی تھی مگر انہو ں نے کہا تھا کہ نہیں چو نکہ اس مجلس کا انعقا د آپ نے کرا یا ہے ۔اس لیے آپ ہی اسکی صد ارت کر یں، میرے پر زور انکا ر کے با وجود انہو ں نے انکا ر کر دیاتھااور کہاتھا مجھے اس مجلس کی صدا رت کر نے کا حق نہیںپہنچتا ، چو نکہ ہم نے سب سے آخر میں مجا ہد ملت حضرت حبیب الرحمن سے اس مجلس میں گفتگو سمیٹنے کی در خوا ست کی تھی، اس لیے علا مہ ارشد القا د ر ی نے اپنی رپو ر ٹ میں مجلس کے صد ر کے طو ر پر ان کا نام لکھا ہے، میرا بھی ذا تی طو ر پر یہی خیا ل ہے کہ اس مجلس کی صدا ر ت مجا ہد ملت حضرت حبیب الر حمن نے فر ما ئی تھی مگر چو نکہ الحا ج محمد الیا س صا حب بھی مجلس میں مو جو د تھے، اس لیے انکی با ت کو بھی جھٹلا یا نہیں جا سکتا ۔دو نو ں رپو رٹو ں میںیہ اختلا ف درا صل ایک دو سرے کی تکر یم کی وجہ سے سا منے آرہا ہے ، اور یہ کوئی ایسی اہم بات بھی نہیں، میرے لیے مجا ہد ملت حضرت حبیب الر حمن کی ذا ت گرا می نہا یت ہی وا جب احترا م ہے ،پیر حضرت سید معر و ف حسین شا ہ عار ف نو شاہی نے بر یڈ فو رڈ پہنچے ہی ورلڈ اسلامک مشن کا کام شر وع کر دیا ۔ سب سے پہلے انہو ں نے علا مہ ارشد القاد ری کو انگلستان بلا یا تا کہ وہ ان کے معا و ن کنو ینئر کے طو ر پر ان کے سا تھ کا م کر سکیں، ا س سلسلہ میں انہو ں نے جمعیت تبلیغ الا سلام کے پیڈپر جو پر یس ریلیزجا ر ی فر ما ئی تھی، اس پر یس ریلز میں لکھا گیا تھا۔


مکہ معظمہ میں ایک عالمگیر دینی تحر یک کا قیام گذ شتہ سا ل حج کے مو قع پر مکہ معظمہ میں مختلف ملکو ں کے علما ئ مشا ئخ کا ایک اجتما ع ہوا تھا ، جس میں ’’ آل ور لڈ اسلامک مشن ﴿الا دار الاسلا میۃ العا لمیہ ﴾ کے نام سے ایک عا لمگیر دینی تحر یک کا قیا م عمل میں آیا ، مختلف سہو لتو ں کے پیش نظر اس تحریک کا مر کز بر یڈ فو ر ڈ انگلستا ن نا مز د کیا گیا ، اہل اسلام کی عام فلاح و بہبو د کے سوال پر داخلی اور خا رجی تقا ضو ں کو سامنے رکھتے ہو ئے تحر یک تو مندر جہ ذیل اغرا ض و مقا صد کے ساتھ مر بو ط کیا گیا ۔ ۱۔ مسلما نو ں میں دینی زند گی کی لگن اور عشق رسو ل کا جذ بہ پیدا کر نا ۔ ۲۔ عیسا ئیت اور دوسری ملحدا نہ تحر یکو ں کے اثر سے اسلامی نسل کو محفو ظ رکھنا ۔ ۳۔ غیر مسلمو ں کو اسلام سے متعا رف کر انا اور انہیں کلمہ ئ حق کی دعو ت دینا ۔ ۴۔ رو ئے زمین کے جملہ مسلما نو ں کے در میان اخو ت اسلامی کے جذ بے کو فر وغ دینا ۔ ۵۔ ما دیت پر ستی کے خلا ف مسلما نو ں میں رو حا نی زند گی کا ذوق پیدا کر نے کے لیے اسلامی تصو ف کو رو اج دینا ۔ اس دینی تحر یک کو عملی جا مہ پہنا نے کے لیے ہند و ستا ن کے مشہو ر فا ضل علا مہ ارشد القا د ری صا حب جو 3 دسمبر کو انگلستان تشر یف لاچکے ہیں اور تحر یک کے ابتدا ئی تعا رف کے لیے بر طا نیہ کے اسلامی حلقو ں کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس دینی تحر یک کی منصوبہ بند ی کے لیے مو لانا موصوف جنو ر ی کے آخر ی ہفتے میں ایک عظیم اسلامی کا نفر نس کے انعقا د کی تیا ری کر رہے ہیں، کانفر نس کے ایجنڈے اور مقا م و تار یخ کا اعلا ن جلد ہی کیا جا ئے گا ، پیر سید معرو ف حسین کنو ین،ر اس سلسلہ میں پیرسید معرو ف حسین شا ہ عا ر ف نو شا ہی نے پہلی ور لڈ اسلامک مشن کا نفر نس کا انعقا د کر ا یا ، یہ کا نفر نس 21 اپر یل 1974 کو ہو ئی یہ کانفرنس پیر صا حب نے بر یڈ فو رڈ سب سے بڑ ا ہا ل سینٹ جا رج ہا ل میںمنعقد کر ائی جہا ں اٹھا رہ سو سے زا ئد افرا د آسکتے ہیں ۔







دی ورلڈ اسلامک مشن جنو ر ی 1973 میں حج کے مو قع پر مکہ مکر مہ میں مختلف مما لک کے مذھبی رہنما ئوں کا ایک اجلا س ہوا ، جس میں لا دینیت کی یلغا ر کو روکنے اور مسلما نو ں میں دین کا احترا م اور اسلامی زند گی کا جذبہ بیدا ر کر نے پر کئی دن تک گفت وشنید ہو تی رہی۔ اس اجلا س کے انعقا د میں کچھ اور اہم مذہبی شخصیا ت کا کر دا ر بھی ہے مگر پیر سید معرو ف حسین شا ہ نو شا ہی نے اس سلسلے میں بنیا دی کر دا ر ادا کر تے ہو ئے تمام علما ئے کر ام کو ورلڈ اسلامک مشن کے قیام پر متفق کیا۔ اس تنظیم کا عربی زبا ن میں نام الاد عو ۃ اسلا میہ العا لمہ رکھا گیا اور انگر یزی زبا ن میں دی ورلڈ اسلامک مشن تجو یز رکھا گیا ۔ پیر سید معر وف حسین شا ہ نے اس تنظیم کے پہلے کنو نشن کی ذمہ دا ر ی قبول کر نے کا اعلا ن کیا ، سو اس مجلس میں یہ با ت طے پائی کہ پہلا کنو نشن بر ید فو رڈ میں کیا جا ئے گا اور چو نکہ بنیا دی کر دا ر پیر سید معرو ف حسین شا ہ نو شا ہی کا تھا اور انہو ں نے آگے چل کر بھی ورلڈ اسلامک مشن کیلئے بہت کچھ کر نا تھا ، اسی لیے ور لڈ اسلامک مشن کا مر کز انہی کے شہر بریڈ فو رڈ کو بنانے کا فیصلہ کیا گیا اور پیر سید معر و ف حسین شا ہ نو شا ہی کو ور لڈ اسلامک مشن کا کنو ینئر بنایا گیا ، بریڈ فو رڈ میں 21 اپریل 1974کو پیر صا حب نے ور لڈ اسلامک مشن کا پہلا کنو نشن منعقد کر ایا ، جس میں پاکستان ہندو ستان ، عراق ، یمن، بر طا نیہ ، افر یقہ ، یو ر پ اور دیگر اسلامی ممالک سے تقر یبا ً پانچ ہز ار مند و بین شر یک ہو ئے ، ورلڈ اسلامک مشن کا صد ر شا ہ احمد نو را نی کو بنا یا گیا ، پیر سید معرو ف حسین شا ہ نو شا ہی نا ئب صدر چنے گئے اور علامہ ارشد القا د ری جنرل سیکرٹیر ی نا مز د کئے گئے۔ پیر صا حب نے مولا نا نو را نی اور علا مہ ارشد قاد ری کو نا مز د کیا اور انہو ں نے پیر صا حب کو نامزد کیا ، اغرا ض و مقا صد یہ طے پا ئے۔ قران و حد یث کی تعلیمات کے مطا بق مسلم معا شرہ میں دینی زند گی کی تر ویج ، غیر مسلم اقدا م میں اسلام کا مؤثر اور دل نشیں تعارف، مسلما نا ن عالم کے در میان را بطہ، اخو ت اسلامی کا استحکا م، گمر اہ کن افکا ر و تحر یکا ت سے نسل اسلامی کا تحفظ مختلف زبانو ں میں اسلام کا تبلیغی لٹر یچر تیا ر کر انے کے لیے دا رالمصنفین اور پر یس کا قیا م ، اسلامی آثا ر او ر مقا ما ت مقدسہ کے تحفظ کے لیے مؤ ثر جد وجہد تبلیغ و ارشا د کی قا ئدانہ صلا حتیں پیدا کر نے کے لیے تر بیتی مرا کز کا قیام، مو جو دہ دو ر کے لیے مسائل پر اسلام کا نقطہ نظر وا ضح کر نے کے لیے ایک ادا رہ تحقیقا ت کا قیام،پیر سید معرو ف حسین شا ہ نو شا ہی کی کوششوں سے ورلڈ اسلامک مشن کی جو بنیا دپڑی ۔ اس پر ایک عظیم الشا ن عما ر ت بہت ہی کم وقت میں کھڑ ی ہو گئی اور دنیا بھر میں ورلڈ اسلامک مشن پھیلتا چلا گیا ۔بر یڈ فو رڈ سے پیر صاحب کی زیر نگرانی اسلامک مشنری کالج کا قیا م عمل میں آیا ، تبلیغی لٹر یچر کی اشا عت شر و ع ہوئی ، الدعو ۃ الا سلامیہ کے نام سے ما ہنا مہ میگز ین نکا لا گیا ، تبلیغی دوروں کا اہتما م کیا گیا، دینی تربیتی کیمپ لگا ئے گئے ، عالمی دا ر الا فتا کا قیا م عمل میں آیا،پیر صا حب نے ور لڈ اسلامک مشن کے پہلے کنو ئیر کے طو ر پر پہلے کنو نشن کا جو دعو ت نامہ جا ری کیا اس میں لکھا گیا تھا ، ’’ یہ خبر آپ کے لیے با عث مسر ت ہو گی کہ گذ شتہ سال حج کے مو قع پر مکہ معظمہ میںورلڈ اسلامک مشن ﴿ الدعو ۃ الا سلامیۃ العا لمیۃ﴾ کے نام سے جس تبلیغی ادا رے کی بنیاد رکھی گئی تھی اس کا عالمی مر کز 12 دسمبر 1973 کو انگلستا ن کے مشہو ر شہر بر یڈ فو رڈ میں قا ئم کر دیا گیا اب عالمی سطح پر اس کے اصو ل و ضو ابط اور طر یقہ کا ر کی منصو بہ بند ی کے لیے 21 اپر یل1974 کو بر وز اتوار 10 بجے دن بمقا م سینٹ جا رج ہا ل بریڈ فورڈ میں اسکی پہلی تنظیمی کا نفر نس منعقد ہو رہی ہے جس میں مشر ق وسطی، افر یقہ امریکہ ، پاکستان اور دیگر مسلم مما لک کے علمی و مذہبی مفکر ین کو مد عو کیا گیا ہے، اس دعو ت نامے پر کنو ینئرکے طو ر پر پر سید معروف حسین نو شا ہی کا نام در ج ہے یہ دعو ت نامہ انگریز عربی ، ہند ی اور اردو زبان میں شا ئع شد ہ ہے۔ پیر صا حب نے ورلڈ اسلامک مشن کے زیر اہتما م ایک جو بہت اہم کام پا یہ تکمیل تک پہنچا یا وہ اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بر یلوی کے ترجمہ القران کنزالا یما ن کا انگر یز ی میں تر جمہ ہے ۔اُن کی کوششوں سے کنزا لا یما ن کا انگریزی زبا ن کا تر جمہ اس وقت بر طا نیہ میں عام دستیا ب ہے ۔ قر آن حکیم کے یو ں تو بے شما ر تر اجم مو جو د ہیں مگر اعلیٰ حضرت اما م رضا خا ن نے قر آن حکیم کا جواردو زبان میں تر جمہ کیا ہے اس کے با رے میں تما م اہل علم اس با ت پر متفق ہیں کہ قر آن حکیم کا اس سے بہتر اردو زبا ن میں اور کوئی تر جمہ نہیں اور انگر یز ی زبان میں قران حکیم کے زیا دہ تر ترا جم ایسے ہیں جو اردو یا فا ر سی زبا ن سے انگر یزی میں تر جمہ ہوئے ہیں۔ اس لیے یہ بڑ ا ضر و ر ی امر تھا کہ وہ بچے جو ا ردو زبا ن پڑ ھنا نہیں جانتے یا وہ لوگ جنہیں حرف انگر یز ی زبا ن آتی ہے انکے لیے قر ان حکیم کا انگر یز ی میں ایسے تر جمہ ہو نا چا ہیے جس سے انہیں قران حکیم کے حقیقی معنو ں تک پہنچنے میں کوئی دقت نہ ہو اس لیے کنز الا یما ن کا تر جمہ پیر سید معرو ف حسین شا ہ نو شا ہی کا ایک بہت بڑا کا ر نا مہ ہے ۔ ڈاکٹر فاطمی پیر معروف صا حب کے مر ید تھے۔ انہوں نے یہ ترجمہ کیا ہے انہوں نے اعلیٰ حضرت کی کتاب الدولۃ المکہ کا تر جمہ بھی انگر یزی زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ پیر صا حب نے جر منی میں بھی ورلڈ اسلامک مشن کے سلسلہ میں کا م کیا وہا ں با قا عدہ تنظیم وجو د میں آئی۔ پیر صا حب نے 1979 میں بر انچ قا ئم کی اس وقت ورلڈ اسلامک مشن کا مر کزی آفس بر یڈ فو رڈ سا ت میں تھا ۔جر منی کی بر انچ کے ممبر شب کا ر ڈ میں بریڈ فو رڈ کا پتہ در ج ہے ، اس سے پہلے ورلڈ اسلامک مشن کا مر کزی دفتر سا وتھ فیلڈ سکو ائر میں ہی ہو تا تھا ۔ ورلڈ اسلامک مشن کی جر منی کی شا خ کا زیا دہ تر کام جر منی زبا ن میں ہو تا تھا ، وہا ں چو نکہ ضر و رت اس امر کی تھی ، کہ جرمن لو گو ں میں اسلام کی تبلیغ کے لیے جر من زبان میں اسلام کو منتقل کیا جا ئے اس لیے اس شا خ نے اشا عت کے میدا ن میں اردو کے سا تھ سا تھ جر من زبا ن میں بھی کا م کیا اسلامی کیلنڈر تک جر من زبا ن میں شا ئع کر ائے ، جر من،ہالینڈ اور فرانس میں با قاعدہارجسٹر یشن ہوئی۔ بر طا نیہ کے چپے چپے میں کا م ہو ا لیکن دنیا کے با قی ممالک میں اس تنظیم کے پھیلانے کا کام ،مولانانورانی۔ مو لا نا عبد الستا ر نیازی اور ارشد القا دری نے اپنے اپنے انداز میں آگے بڑھایا۔جر من زبا ن کے علاوہ انگر یز ی ، ڈچ اور فرنچ زبا ن جا ننے والو ں کے لیے بھی اسلامی کیلنڈر تیا ر کئے گئے ، ورلڈ اسلامک مشن کی ہا لینڈ اور فر انس کی بر انچو ں نے یہ کیلنڈر شا ئع کر ائے تھے، ان کیلنڈر و ں سے ایک اور با ت یہ ثابت ہو تی ہے کہ جمیعت تبلیغ اسلام اور ورلڈ اسلامک مشن کا آپس میں بہت گہر ا رابطہ رہا ہے کیو نکہ ان اسلامی کیلنڈروں کے اوپر جمیعت تبلیغ الا سلام کی زیر تعمیر جا مع مسجد کا نقشہ پر نٹ ہوا ہو اہے۔




خِشت اوّل کہنے والے نے بڑ ی سچی با ت کہی تھی �ò خشتِ اول چوں نہد معمار کَج تاثر یامی رود دیوار کج ﴿معما ر اگر پہلی اینٹ ہی ٹیڑ ھی رکھ بیٹھے تو پو ر ی دیوا ر ٹیڑ ھی چلی جا تی ہے چاہے اسے ثر یا تک اٹھا دو ﴾ ورلڈ اسلامک مشن بلا شبہ ایک کثیر المقا صد ادا ر ہ ہے بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ ایک کثیر ا لمقاصد تحر یک ہے ادا رے تو روز بنتے اور بگڑ تے رہتے ہیں لیکن تحریکیں کبھی کبھی بپا ہو تی ہیںاور ہر لمحہ اپنے اثرا ت ادھر ادھر منتقل کر تی رہتی ہیں ۔ ’’ روشنی ‘‘ بلا شبہ ایک ادارہ ہے لیکن سو ر ج ایک تحر یک ہے ۔ ادارہ کو وجو د میں لا نے کے لیے دما غ کی ضر و ر ت ہے ۔تخیل کی زر خیز ی کی ضر و ر ت ہے لیکن تحر یک کو ایک پو را جسم اور پورا زند ہ وجو د در کا ر ہے جس میں دما غ بھی ہے اور قوت عمل بھی یہاں سو چ اورعمل ہم آہنگ ہو کر چلتے ہیں، طویل پتہ ما ری ، مسلسل مشقت ، متواتر جد وجہد ، شب وروز کی بے قر ار محنت۔ حضور �ö کی پوری زند گی ایک نو را نی تحر یک ہے۔ اس کا ایک ایک لمحہ اپنے اوپر طا ر ی کیجئے تو تحر یک کے سا رے مفا ہیم اجا گر ہو جا ئینگے اسی لیے تو حکم ہوا تھا کہ زند گی گزا ر و تو ویسے جیسے ہما رے محبو ب �ö نے گز ا ر ی کہ ’’ لَقَد کَا نَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْ لِ اللّٰہ اُسْوَ ۃ’‘ حَسَنَۃ’‘

یَاَ یُّہا الْمُزّمِّلْ‘‘اے رفقا ئے انقلا ب تیا ر کر نے والے زمیل اس سا تھ کو بھی کہا جا تا تھا جو کجا وہ میں وز ن بر ابر رکھنے کے لیے دو سرے پلڑ ے میں بٹھا یا جا تا تھا آج کی جد یدعربی میں بھی کلا س فیلو کو ’’ زمیل ‘‘ کہا جا تا ہے تو اے مز مل یعنی اے رفقا ئے انقلا ب کی تر بیت کر نے والے قُمِ اللَّیل ﴿را ت کا قیام اپنی عا دت بنا لے ﴾ اِلا قلیل ﴿تھوڑی دیر کا قیام ﴾ 

’’ نِصفَہْ اَوِ انقُصْ مِنْہُ قلیلاً اَوْزِدْ عَلَیہْ وَرَتِّلِ اْلقُر آَ نَ تَرْ تِیِلاً‘‘ ﴿یہی کوئی آدھی را ت یا اس میں کچھ کمی بیشی کر لے اور قرآن عظیم ٹھہر ٹھہر کر اور سمجھا سمجھا کر سا تھیوں کے ذہن نشین کرا ﴾ ’’اِنَّ لَکَ فِی النَّھا رِ سَبْحاً طَوِیلاً‘‘ ﴿ویسے دن کو تو تیرے سامنے فر ائض کی طو یل فہر ست پڑ ی ﴾ یعنی سب سے پہلا کا م رفقا ئے انقلاب کی تیا ری ہے اور یہ تیا ری ’’ صلو ٰۃ ‘‘ سے ہو گی پھر صلو ٰۃ کے لیے ایک مر کز چاہیے جہا ں سا تھی مقر ر وقت پر جمع ہو جا ئیں اس جگہ کو ’’ مسجد ‘‘ کہا گیا ۔ سو تبلیغ و اشا عتِ اسلام کے لیے خشتِ اول مسجد ہے۔ یہ تحر یک کا مرکز ہے اور یہیں سے سب کچھ شر وع ہو تا ہے اور یہیں پر ختم ہوتا ہے ۔ حضرت پیر معر و ف شا ہ کے شا نو ںپر جب ورلڈ اسلامک مشن کی ذمہ د اریا ں ڈا لی گئیں تو انتخا ب کر نے والی نگا ہو ں نے کوئی غلط فیصلہ نہیں کیا تھا کیو نکہ ورلڈ اسلامک مشن انہی کی سو چ کا نتیجہ تھا اور وہی اس سلسلہ میں مستعد ذہن اور فعال قوتِ عمل رکھتے تھے۔ تحریکیں بپا کر نے والے لو گ سوچ کے ساتھ لگن ، ولو لو ں اور امنگو ں کا خز ینہ بھی ہو تے ہیں، انہیں اپنے کا م سے جنو ن کی حد تک عشق ہوتا ہے اور وہ اس جنو ں میں سب کچھ قربان کر دینے کا حو صلہ رکھتے ہیں �ò پختہ ہو تی ہے اگر مصلحت اند یش ہو عقل عشق ہو مصلحت اندیش تو ہے خام ابھی بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق عقل ہے محوِ تماشا لبِ بام ابھی حضرت پیر معرو ف شا ہ صا حب انگلینڈ میں ایک غر یب مِل مز دو ر کی حیثیت سے وار د ہو ئے تھے ۔را ت کی شفٹ میں کام کر نے کو تر جیح دی۔ رات کی شفٹ میںکام کر نے والے دن کو سو تے ہیں تا کہ صحت بر قر ار رہے مگر یہ مز دو ر عجیب تھا کہ را ت کو روزی کما نے کے لیے بے خوابی کی اذیت بر دا شت کر تا تھا اور دن کو ان لَکَ فِی النَّھا رِ سبَحًا طَوِ یلًا ہ کے فر ائض نبھا نے کے لیے تگ و تا ز شر وع کر دیتا تھا ۔ایک سے دو اور دو سے چا ر کر نے کے لیے سا تھی تلا ش کر نے اور ان میں انقلا ب کی روحِ عمل بید ار کر نے کے لیے ۔ لو گو ں نے کہا ’’ صحت تبا ہ ہو جا ئے گی ‘‘ کہا ’’ جس کا کام کررہا ہو ں صحت اسی کے ہا تھ میں ہے کہ واذا مرضت فھو یشفین اور شا فی ئِ مطلق اور محافظ جسم و جا ں نے اپنی ضما نت ادا کر نے میں کمی کہا ں چھو ڑ ی ؟ اس طر ح یہ دیو انہ ئِ مصطفی شب و روز مشقت کر تا رہا ۔ کس کے لیے ؟ خدا کے لیے ، مصطفی کے لیے �ò واپس نہیں پھیر ا کوئی فر ما ن جنو ں کا تنہا نہیں لَو ٹی کبھی آواز جَر س کی خیر یت ِ جا ن ، را حت تن ، صحتِ داماں سب بھول گئیں مصلحتیں اہل ہوس کی تاآنکہ ورلڈ اسلامک مشن وجو د میں آگیا ۔ مِل کا ایک مز دو ر اور ’’ ورلڈ اسلامک مشن ‘‘ کی گر انبا ر ذمہ دا ر یا ں۔ مگر یہ سب کچھ تو ہو نا تھا کیونکہ سب سے بڑے منصو بہ سا ز کی سکیم ہی کچھ ایسی تھی ۔وہ پلا ننگ کر نے والا جس نے موسیٰ (ع) ٰکو صند و ق میں بند کر اکے نیل کی مو جو ں کے سپر د کیا پھر اس صند وق کو فر عو ن کے محل میں پہنچا یا ۔اس کے قصر میں پر وا ن چڑ ھا یا پھر کنعا ن کے بو ڑھے کے پاس بھیج دیا کہ تر بیت نبو ت بھی حاصل کرے پھر مصر پہنچا یا اور فر عون کو نیل کی مو جو ں میں غر ق کیا،وہی منصو بہ سا ز اس غر یب اور جو انسا ل و نا تجر بہ کا ر مز دو ر کو ایک گا ئو ں سے اٹھا کر دو ر درا ز کے ایک چکا چو ند ملک میں پہنچا رہا تھا اور اس کے شعور میں مدو جز ر پیدا کر رہا تھا ۔ بہر حا ل حضرت پیر معرو ف شا ہ صاحب نے پیغمبر وں جیسی جگر کا وی اور مشقت سے کام شر و ع کیا اور خشتِ اول کے طو رپر سو چا کہ مساجد کا قیا م کیا جا ئے ۔’’ مسا جد ‘‘ کیا ہیں اورکس طر ح ایک مسجد بنا کر بہت سے مقا صد حا صل کئے جا سکتے ہیں اس کے لیے ہم ذرا تفصیل میں جا رہے ہیں








مسا جد معبد کا ہر قو م اور ہر مذہب میں مر کز ی مقا م ہو تا ہے۔ اسلام نے اپنی عبا د تگا ہ کو مسجد کا نام دیا ہے۔ یہ بڑا وسیع المفہو م لفظ ہے سجد ہ مکمل انقیا د اور پوری طر ح ‘ من کل الو جو دہ اطا عت کو کہتے ہیں۔ کا ئنا ت کا ذر ہ ذر ہ اطا عتِ خدا و ند ی میں سرگرم عمل ہے ۔اللہ ہی کے قوانین کے تحت ذرو ں کے اتصال سے پتھر بنتے ہیں پتھر وں میں کوئی لعل و زمر د اور ہیرے مو تی بنتے ہیں کچھ اور صور تو ں میں ظہو ر پذ یر ہو تے ہیں۔ذر وں ہی کے اتصال سے زمین بنی زمین میں قو ت نمو آئی پودے بنے ، پیٹر بنے ، پتے اُگے ، پھل پھول آئے اور خدا کا قا نو ن ربو بیت اپنی بے مثا ل قو ت سے نا فذ العمل رہا ، سور ج ، چا ند ، ستار ے سب ایک نظا م میں بند ھے ہوئے ہیں ۔سب کے را ستے مقر ر ہیں اور گر دش انتہا ئی محتا ط ہے کوئی چیز اگر اپنے راستے سے ایک انچ بھی سر ک جا ئے تو نظا م کائنات در ہم بر ہم ہو جا ئے ۔کتنا طا قتو ر ہے وہ ہا تھ جس کے جبر و ت و جلا ل نے سب کو تھا م رکھا ہے ۔جمادات و نبا تا ت کے بعد حیوا نا ت کی دنیا میں بھی اس کا قا نو ن پو رے جلا ل کے سا تھ بر سر ِ عمل ہے اور ہر جا ندا ر ایک مقرر اور لگے بندھے نظام کے تحت پیدا ہو رہا ہے۔ گر د شِ حیا ت مکمل کر رہا ہے اور پھر اپنی عمر کو پہنچ کرفنا ہو رہا ہے پھر اگلی نسل پید ا ہو جا تی ہے اور زند گی آگے بڑ ھنے لگتی ہے ،انہی را ستو ں پر جو فطر ت نے اس کے لیے مقر ر کر رکھے ہیں ۔اس عظیم نظا م تخلیق و ربو بیت کی پا بند ی کو لفظ’’ سجد ہ ‘‘ میں سمیٹ دیا گیا ۔ ’’وَ لِلّٰہ یَسْجُدُ مَا فیِ السَّمٰوٰتِ وَمَا فیِ الْا َ رْض ‘‘ ﴿اور زمین و آسمان میں جو کچھ بھی ہے سب اللہ کے آگے سر لسجود ہے ﴾ انسا ن کو اللہ تعالیٰ نے اختیا ر و ارادہ سے نوا زا ہے پھر انبیا ئ و رسل کے ذر یعے اسے رہنما ئی فر اہم کی ہے کہ زندگی کیسے گزار ی جا ئے۔ اطا عت کی زند گی کا مرا نی و فیر وز مند ی ہے اور نا فر ما نی کی زند گی خو دانسا ن کے حق میں ہلا کت خیز ہے ۔ ہر دین کی پکا ریہی تھی کہ ’’ اے خدا وند تیر ی مر ضی جس طر ح آسما نو ں میں پو ری ہو رہی ہے اسی طر ح زمینو ں میں بھی پور ی ہو ‘‘ اسی اعلان کے لیے تما م معا بد وجو د میں آئے لیکن انسا نو ں نے خدا سے نا فر ما نی کی اور اپنی زند گی کا بٹو ا ر ہ کر لیا۔ عبا دت کو پو جا پا ٹ بنا لیا۔ دن میں کچھ وقت پو جا پا ٹ کے لیے مخصو ص کیا گیا اور با قی سا را وقت اپنی مر ضی پو ر ی کر نے کے لیے اپنے زیر تصر ف رکھا ۔ اسلام نے کہا نہیں اللہ سجد ہ مانگتا ہے ۔اپنی مر ضی سے اللہ کی مکمل غلامی ما نگتا ہے۔ اپنی خو شی اور رضا سے اپنی محبت اور اپنے شوق سے اُسی کے آگے سر خم کئے رہو اور پو ری زند گی اسی کے حو الے کئے رکھو۔ سر جھکے تو اس سے پہلے دل جھک جا ئے ۔اسلام نے اطا عت کا مطالعہ کیا ۔اطا عت کا لفظ ’’طو ع‘‘ سے بنا ہے جس کے معنی اپنی خو شی اور رضا کے ہیں ۔اس میں صر ف سر نہیں جھکتے دل بھی جھکتے ہیں۔ غلا میٔ محض نہیں محبت اور عشق و شو ق کی سپر د گی ہے �ò مقا م ِ بند گی دیگر ‘ مقا مِ عا شقی دیگر زنُو ر ی سجد ہ می خو اہی ‘ زخا کی بیش ازیں خوا ہی اسلام سجد ہ ما نگتا ہے ،زند گی ما نگتا ہے ،پو ر ی کی پو ری زند گی ۔ زند گی کو تقسیم نہیں کر تا کہ اتنا حصہ خدا کے لیے با قی اپنی ذات کے لیے ،نہیں ہر معا ملہ میں اور ہر عمل میں خد اکے احکا م پر عمل کیا جا ئے۔ یہ ہے اسلام کا مطا لبہ اور اسی کو ’’ سجد ہ ‘‘ کہتے ہیں مسجد جا ئے سجد ہ ہے۔ یہ وہ مر کز ی مقا م ہے جہا ں مسلمان ایک ہی دن کے مختلف حصو ں میں آکر اس اقرا ر کی تا ئید اور تجد ید کر تا ہے کہ ’’ اے اللہ ہما رے دل تیرے آگے جُھکے ہوئے ہیں۔ ہم حساب دینے کے لیے حا ضر ہو ئے ہیں کہ اس مختصر وقفہ میں جس میں ہم ’’ مسجد ‘‘ سے با ہر رہے ہم نے جتنے بھی کا م کئے، تیر ی محبت کی سر شا ری میں کئے۔ ایک عمل میں بھی تیر فر ما نبر دا ر ی میں کوتا ہی نہیں ہو ئی۔ ہم نے حلال کما یا حلا ل پر خر چ کیا ، ہم نے اپنے فر ض میں کوئی کو تا ہی نہیں کی ، ہم نے لین دین میں ایما ندا ری بر تی ، ہم نے کسی چیز پر نا جائز نفع نہیں کما یا ہم نے نا پ تو ل میں کوئی کمی نہیں کی ہما ری زبا ن کھُلی تو سچ کے لیے کھلی ہم نے کسی معا ملہ میں بھی جھوٹ نہیں بولا ، ہم نے حا جتمند وں کی بقدر ِ استطا عت حا جت پو ری کی ، کسی نے را ستہ پو چھا تو ہم نے اُسے منز ل تک پہنچنے میںپو ری پو ری مد د فر اہم کی ، ہم نے کسی بھی را ستے پر کوئی ایسی چیز نہیں پھینکی جو دو سرو ں کے لیے اذ یت کا با عث ہو۔ ہم نے جہا ں سٹر ک پر اذیت کا باعث بننے والی کوئی چیز دیکھی ۔اُسے را ستے سے ہٹا دیا ، ہم نے ذمہ دا ر شہر ی کی طر ح اپنے سا ر ے فر ائض سر انجا م دیے،ہم نے اپنی بیوی اور بچو ں کے حقو ق میں کو تا ہی نہیں ہم نے انسا نو ں کے حقو ق کی ادا ئے گی میںکوئی کمی نہیں آنے دی اور یوںوہ اپنی صلوٰۃ میں پچھلے وقت کا حساب دے کر آگے کے لیے عہد کر تا ہے کہ وہ اسی طر ح اطا عت کر تا رہے گا ۔ اس طرح مسجد اس بڑے با د شا ہ کا در با ر ہے جہا ں مسلما ن کو احتسا ب اور تجد ید عہد کے لیے دن میں پانچ مر تبہ آنا ہو تا ہے ۔ مسجدمیں آکر اس کے اس نظر یہ کی تجد ید بھی ہو تی ہے کہ وہ ایک اجتما عیت کا ملت کا ایک حصہ ہے �ò فر د قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں مو ج ہے در یا میں اور بیر و ن در یا کچھ نہیں اور جب ایسا ہے تو افرا دِ ملت کا فر یضہ ہے کہ وہ دکھ سکھ میں خو شی غمی میںایک دو سرے کے سا تھ جڑ ے رہیں۔ایک کا دکھ سب کا دُکھ ہو ۔ مسجد ہی اس سبق کی تجد ید کا با عث بنتی ہے جس میں حضو ر �ö نے فر ما یا ، ’’ تما م مسلما ن ایک ملت ہیں ایک جسم ہیں اور ایک جسم کے اعضا ئ ہیں جس طر ح جسم میں کسی عضو کو کو ئی تکلیف ہو تی ہے تو سا را جسم بے قر ار ہو جا تاہے اور بے خوا بی و بخا ر میں مبتلا ہو جا تا ہے اسی طر ح ایک مسلما ن کی مصیبت تما م ملت کو تڑ پا دیتی ہے‘‘ بنی آدم اعضائے یک دیگراند کہ درآفرینش زیک جو براند یہ عضوے بدرداوزد روز گار دگر عضو ہارا نما نَد قرار مسجد تعلیم دیتی ہے کہ اس امت کے سب افرا د برا بر ہیں۔ اس میں مسا وا ت ہے کوئی بڑ ا چھو ٹا نہیں کوئی امیر غر یب نہیں کوئی تمیز شا ہ و گدا نہیں ایک ہی صف میں کھڑ ے ہو گئے محمو د و ایاز نہ کوئی بند ہ رہا اور نہ کوئی بند ہ نواز بند ہ و صاحب و محتا ج و غنی ایک ہوئے تیر ی سر کا ر میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے ٹھیک ہے ایک شخص صفو ں کے آگے کھڑا ہوتا ہے اور اسے اما م کہتے ہیں مگر وہ حقو ق کے لحا ظ سے بڑ ا نہیں فر ائض کے لحاظ سے بڑا ہے اس پر ذمہ دار یا ں بڑی ہیں مسجد ہی یہ تصو ر دیتی ہے کہ مسلما نو ں کی قوم اپنی ہیئت تر کیبی میں با لکل عجیب ہے یہاں حقو ق کے لحا ظ سے تو سب یکسا ں ہیں مگر فرا ئض اُسکے زیا دہ گر انبا ر ہیں جس کا منصب بڑ اہے ۔حضور �ö کا فر ما ن ہے ۔ سید القو م خا د مھم ﴿قو م کا سر دا ر قو م کا خا دم ہو تا ہے ﴾ افر اد ِ ملت تو میٹھی نیند سو ر ہے ہیں مگر عمر فا رو ق گلیوں میں پھر رہا ہے کہ کہیںکسی گھر میں کوئی تکلیف تو نہیں وہ سا ری را ت گلی کو چوں میں پھر پھر کر فجر کی نماز مسجد میں آکر ادا کر تا ہے سب لو گ تو احتسا ب میں گو یا یہ کہہ رہے ہو تے ہیں اے اللہ ہم نے عشا ئ کی نماز مسجد میں ادا کی اور پھر مزسے سے سوئے رہے اور امر المؤ منین کہہ رہا ہو تا ہے ۔ ’’ میرے مو لا میں حا ضر ہو ں سا ری را ت دو ڑ تا بھا گتارہا ہو ں میرے مالک تیرے نبی �ö کی بستی میں را ت کو کوئی بھو کا نہیں سو یا ، کوئی مریض بے دو ا نہیں رہا ‘‘ جنا ب فا ر وق کا ہی فر ما ن ہے ۔ ’’ القا ئد و ن کا لعیو نالبا کیہ‘‘ ﴿قو م کے سر دا ر و رہنمارونے والی آنکھیں ہیں﴾ اور آنکھ کیا ہو تی ہے یہ اقبال سے پو چھیئے وہ آپ کو بتا ئیگا ۔ مبتلا ئے درد کوئی عضو ہو رو تی ہے آنکھ کسی قدر ہمد رد سا رے جسم کی ہو تی ہے آنکھ مسجد اسلامی حکومت میں بڑ ی اہمیت کی حا مل رہی۔ حضور �ö نے اسی لیے ہجر تِ مقد سہ کے بعد مد ینہ ئِ مطہر ہ میں جو سب سے پہلا کا م کیا وہ مسجد ِ نبو ی کی تعمیر تھی اس لیے کہ مسلما نوں کی الگ اجتما عیت قائم ہو گئی تو مر کز اجتما عیت کو ہو نا ضر و ری تھا ۔ مسجد نبو ی بہت سے مقا صد کی جا مع تھی ۔یہ صلو ٰۃ عبا د ات کا مر کز بھی تھی، عد الت گا ہ بھی تھی ، دا ر الشور ٰ ی یاپار لیمنٹ ہا ئو س بھی تھی، ایون صد ر بھی تھی با ہر سے آنے والے و فو د یہیں آتے تھے ، در با ر نبوی بھی تھی، اورپھر یہ کہ مسجد نبو ی اللہ کی عبا د ت کا وہ گھر تھی جسے صر ف مسلمانوں کیلئے مخصو ص نہیں کیا گیا تھا آپ کی اجا ز ت سے یہا ں دیگر مذاہب کے لو گ اپنی عبا د ت بھی اپنے طر یقہ پر کر سکتے تھے نجران کے عیسائیوں کا وفد آیا تو حضور �ö نے اُسے مسجد نبوی میں ہی ٹھہر ا یا اور نہ صر ف ٹھہر ایا بلکہ انہو ں نے اپنی عبا دت کے لیے اجا ز ت طلب کی تو آپ (ص) نے انہیں یہ اجا ز ت بھی مرحمت فر ما دی کہ اپنے طر یقہ کے مطا بق عبا د ت کر یں۔ بخا ری و مسلم کی ایک دو سرے کی تکمیل کر نے والی رو ایت میں ام المؤ منین عا ئشہ صد یقہ (رض) بیا ن فر ما تی ہیں کہ مسجد نبو ی میں حبشیو ں کا ایک طا ئفہ اپنے کر تب دکھا رہا تھا اور حضور �ö کے کہنے پر آپ (رض) نے وہ کر تب اسطر ح دیکھے کہ آپ (رض) کی ٹھو ڑی حضور �ö کے کند ھے پر تھی۔ اس سے معلو م ہو تا ہے کہ مسجد نبو ی کا صحن کلچر ل سنٹر کے طو ر پر بھی استعمال ہوا ۔ پھر قر آنِ حکیم کی تعلیم و تد ر یس کا بڑا مر کز بھی مسجد نبو ی ہی تھی۔ اصحا ب ِ صفہ کا قیا م بھی مسجدِ نبو ی کے حجرو ں میں ہی تھا ۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ مسجد جیسے وسیع المقا صد مر کز کا قیا م خدا کے نز دیک کتنا قا بلِ قدر ہو گا۔ کعبہئِ مکر مہ کو بھی اللہ کا گھر کہا جا تا ہے اور مسجد کو بھی ۔ پس کتنے سعد تمند ہیں۔وہ ہا تھ جو خدا کا گھر تعمیر کر نے میں سر گر م ہو تے ہیں اور اس شخص کی خوش نصیبیوں کا تو ذکر ہی کیا جوتعمیر مساجد کے لیے زندگیا ں وقف کر دیتا ہے ڈا کٹر گستا ولی با ن نے بڑی سچی با ت کہی ہے کہ ’’ مسجد ایک خا مو ش مبلغ ہے ۔ جو ہر لمحہ جا گتا اور تبلیغ کر تا رہتا ہے‘‘ ۔دو سرے مذہب کے معا بد میں اور اسلام کی مسجد میں ایک اور واضح فر ق ہے ان میں اکثر شر ک کے سا ئے تھر تھر اتے رہتے ہیں مگر اسلام کی مسجد صر ف اور صر ف اللہ کی و حد نیت کا شا ہکا ر ہے ۔ تما م معا بد خا لق و ما لک کی محبت اور عشق میں تعمیر ہو تے ہیں اس لیے انسا ن ان میں انتہا ئی حسن اور رعنا ئی پیدا کر نے کی کوشش کرتے ہیں ۔ہرہر نقش اور تعمیر و سا خت کی ہر ہر اینٹ میں اپنی عقید تو ں کے شا ہکا ر سمو تے ہیں۔ تما م قو مو ں نے اپنے اپنے انداز کے مطا بق اپنے معا بد کو تعمیر کا شا ہکا ر بنانے کی کو شش کی۔ اسلام چو نکہ دیگر مذاہب کے مقا بلہ میں جد ید تر ین ہے اس لیے اس نے تعمیرا ت کے تما م محا سن منتخب کر کے مسا جد کو بے مثا ل حسن عطا کیا ۔ ما ہر ین تمد ن و عمرا نیا ت کہتے ہیں کہ عما ر ات اور ادب کسی زما نہ کی پو ر ی تا ریخ سمیٹ کر بیا ن کر دیتے ہیں ۔قو مو ں کے ایک خا ص دو ر میں خیالات اور مذاق کی پو ری نشا ند ہی عما رات میں بھی ہو جا تی ہے اور عبا د ت گا ہو ں میں تو اور زیا دہ ہو تی ہے مسلما نو ں نے قو تِ متخیلہ ، رو شنی ، صفا ئی ،آرائش اور با ریک سے با ریک کا م میں خو ش سلیقگی کا مظا ہر ہ کر کے مسا جد کی شکل میں بے انتہا شا ہکا ر نظیر یں چھو ڑ ی ہیں آج بھی حضرت عمر کے فر ما ن پر بنا ئی ہو ئی مسجد اقصیٰ، عمر و بن العا ص کی تعمیرکر ائی ہوئی ۔ مسا جد قا ہر ہ ، مسجد طو لو ن ، مسجد از ہر، مسجد حسن ، مسجد المو ید ، مسجد ابا صو فیہ ، مسجد قر طبہ ، شا ہی مسجد ،آج بھی فنِ تعمیر کا اعجا ز سمجھی جا تی ہیںمسلما نو ں نے مسجد یں تعمیر کر کے ہر جگہ لا کھوں خا مو ش اور دو امی مبلغ چھو ڑے ہیں شہروں ، قصبو ں ، گا ئو ں بلکہ شا ہر اہوں اور عا م گزرگا ہو ں پر بھی یہ مبلغ مسلسل تبلیغ میں مصر وف ہیں۔



تحر یک تبلیغ الاسلام

جن لو گو ں نے بر طا نیہ میں اسلام کو ایک اخو ت و مسا و ات کی تحر یک کی حیثیت سے متعا رف کر ایا ان میں حضرت پیر صا حب کو امتیازی مقا م حا صل ہے وہ نصف صد ی سے بیدا ر دماغ اور مستعد قوتِ عمل سے شب و روز تبلیغ اسلام میں مصر و ف ہیں بر طا نیہ کے غیر متعصب اور انصا ف پسند انگر یز صحا فیو ں نے ہمیشہ انہیں اپنے قلم سے خر اجِ عقید ت پیش کیا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ورلڈ اسلامک مشن بھی انہی کی سو چ کا عملی اظہا ر ہے لیکن بحیثیت ایک تنظیم بہت بعد میں وجو د پذیر ہوئی پیر صا حب کا کام تو اس روز شر و ع ہو گیا جس روز انہو ں نے برطانیہ کی سر زمین پر اپنا پہلا قدم ٹکا یا ۔ حضرت پیر معرو ف شا ہ صا حب کا اپنا تعلیمی پس منظر یہ ہے کہ انہو ں نے پاکستان میں میٹر ک پاس کر نے کے بعد دینی تعلیم کے مراحل مختلف مدا ر س سے حا صل کی دستار ِ فضیلت اور سندِ فر اغ حا صل کر نے کے بعد وہ درس ِ نظا می پر ایک اتھا ر ٹی کی حیثیت حا صل کر گئے تصوف تو انکی گھٹی میں پڑا تھا کہ وہ حضر ت نو شہ گنج بخش کے خا نوا دہ سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ خا نوا دہ شر یعت و طر یقت میں ہمیشہ سے قیا دت و سیار ت کے منصب پر فا ئز چلا آتا تھا ۔ وہ 20 اپر یل 1961 کے روز بر طا نیہ میں بظا ہر تلا ش رِز ق میں آئے انکا قیا م اپنے دو ست اور خا نوا دہ ئِ نو شا ہی کے دیر ینہ عقید ت مند چو دھر ی فر ما ن علی کے ہا ں ہو ا انہو ں نے فیکٹر ی مز دو ر کے طو ر پر روز گا ر کے حصو ل کا سفر شر و ع کیا ۔ را ت کی شفٹو ں کو تر جیح دی دن کو انہو ں نے سا تھ کے گھر و ں کے مسلما ن بچو ں کو اپنی قیا م گا ہ پروا قع بر یڈ فو رڈ میں نا ظر ہ قر ان حکیم پڑ ھا نے اور ابتدا ئی اسلامی با تیں تعلیم کر نے کا کام شر و ع کر دیا ۔ اس علا قہ کے لو گو ں کو یہ کا م بہت پسند آیا انہو ںنے پیر صا حب سے تعا و ن شر و ع کر دیا اور کام کی رفتا ر تیز ہو گئی ۔ جب لو گ زیا دہ قر یب آئے اور انہو ں نے دیکھا کہ حضرت صا حب کا عز ائم بہت بلند ہیں اور اُن میں اللہ تعالیٰ نے وہ اوصا ف بدرجہ ئِ اتم و دیعت کئے ہیںجو اوصا ف ایک پیرِ طر یقت اور رہبر شر یعت کے لیے ضر و ر ی ہیں تو وہ معا و ن کی حیثیت سے بڑھ کر عقید تمند و ں کی صف میں دا خل ہوگئے اس طر ح سا ٹھ عقید تمند و ں کیسا تھ جمعیت تبلیغ الا سلام کے بنیا د رکھ دی گئی۔ بر طا نیہ کے لو گو ں کا بلکہ یو ر پ میں تما م مسلما ن با شند و ں کا مسئلہ یہ ہے کہ انکی اولا دیں سیکو لر سکو لو ں میں تعلیم حا صل کر تی ہیں معاشرہ سیکو لر ہے اور خا ص طو ر پر اسلامی اقدا ر سے بیگا نہ ہے وہ اسی سو سا ئٹی میں جو ا ن ہو کر اپنا دینی وا بستگی کا اثا ثہ کھو بیٹھتی ہیں پیر صا حب نے اپنے مقد س کا م سے ان کے مسئلہ کے حل کی طر ف انکی رہنما ئی کر دی تھی ۔ اس لیے وہ چا ہنے لگے کہ پیر صا حب کے کا م میں توسیعی صو ر ت اختیار کی جا ئے ۔ ضر و ری سمجھا گیا کہ ایک سنٹر قا ئم کیا جا ئے جہا ں لو گو ں کو اسلام کی تعلیم دی جا ئے ایسے سنٹر کو ہی اسلام نے ’’ مسجد کے پاکیز ہ لفظ سے تعبیر کیا ہے چنا نچہ پیر صا حب کی تحر یک پر سب لو گو ں نے مل کر پیر صا حب کی قیا مگا ہ کے عین سا منے دو پر انے خر ید لیے۔ 1967 �÷ میں پلا ننگ پر مشن PLANNING PERMISSION حا صل کر لی گئی اس طر ح 68-69 سا ئو تھ فیلڈ سکو ائر جمعیت تبلیغ الا سلا م کی مر کزی مسجد بن گئی یہاں سے کا م کا آغا ز ہو ا جو اللہ کے فضل سے پھیلتا چلا گیا۔ 986 �÷ ئ میں ’’ بر طا نیہ اور اسلام ‘‘ پر جو تحقیقی مقا لمے انگر یز صحا فیو ں کی طر ف سے سا منے آئے ان میں وضا حت کی گئی تھی کہ بر طا نیہ میں اسلام کے تما م فر قو ں کے لو گ مو جو د ہیں انہو ں نے اپنی اپنی مسا جد بھی بنا رکھی ہیں ۔ ان فر قو ں میں اہل حد یث ، شیعہ ، وہا بی دیو بندی تبلیغی جما عت ۔ جما عت اسلا می ۔ بر یلو ی اور احمد ی ﴿جنہیں اب اسلامی فر قہ نہیں شما ر کیا جا تا ﴾ سب شا مل ہیں خیا ل رہے کہ مقا لمہ نگاروں نے وہا بیو ں کی دو قسمیں کی ہیں ایک اہل حد یث دو سرے دیو بند ی پھر تبلیغی جما عت اور جما عت اسلامی کو دیو بند ی کی ہی ذہلی شا خیں شما ر کیا گیا ہے۔ بر یلو یو ں میں جمعیت تبلیغ الا سلام کی نما یا ں کیا گیا ہے اور بتا یا گیا ہے کہ سب سے زیا دہ مسا جد انہی کی ہیں جمعیتہ تبلیغ الاسلام کی اس وقت گیا رہ مسا جد تھیں جنکی تفصیل یہ دی گئی ہے۔ ۱۔ راکسی بلڈنگ ۔ با ر ک رینڈ رو ڈ ۔ بر یڈ فو ر ڈ 3 تفصیل میں بتا یا گیا ہے۔ کہ یہ مسجد لمبے عرصے تک تلخ تنا زعا ت کی آما جگا ہ رہی اور کئی دفعہ پولیس کو بلا نا پڑ ا۔ اسے جمعیت تبلیغ الا سلام نے 1981 �÷ میں خر یدا اور اسکی پو ر ی قیمت 33 ہزا ر پو نڈ ادا کر دی گئی اپنے فلو ر سپیس ﴿FLOOR SPACE﴾کے اعتبا ر سے یہ شہر کی سب سے بڑی مسجد ہے ۔ یہ نچلی منز ل پہلے ایک سینا ہا ل کی تھی اس لیے فر ش ڈھلو انی صو رت ﴿SLOPING FLOOR﴾میں ہے اس لیے یہاں نماز نہیں پڑ ھی جا تی تا ہم اسے کبھی کبھی جنا زہ گا ہ کے طو ر پر استعما ل کیا جا تا ہے۔ اب انتظا میہ یہی سو چ رہی ہے کہ فر ش کو صحیح کر دیا جا ئے ۔ مسجد کے جو حصے اس وقت زیا دہ تر زیر استعمال رہتے ہیں وہ یہ ہیں۔ بڑا در وا ز ہ جو پرا نے سینا ہا ل میں کھلتا ہے بند رہتا ہے اور عام طو ر پر استعمال نہیں کیا جا تا دا خلہ پیچھے کی طر ف وا قع چھو ٹے در وا زے سے ہو تا ہے دو چھو ٹے سا ئیڈ رو م میںجہاں اما م اور مد رس رہا ئش رکھتے ہیں پچھلے چھو ٹے در وا زے کے سا تھ ایک چھو ٹا سا ہال ہے جہا ں جو تے اتا رے جا تے ہیں۔ سٹیج کی طر ف سے آتے ہوئے پر انے سینا ہال سے گز ر کر آئیں تو دو کمر ے ہیں یہ نماز کی ادا ئے گی کیلئے استعمال ہو تے ہیں۔ سا تھ ہی وہ جگہ ہے جو وضو کے لیے استعما ل ہو تی ہے۔ پر انے سینا ہا ل کی نسبت نما ز کے کمر ے زیا دہ رو شن، سجے ہو ئے اور گر م ہیں ان میں قا لین بچھے ہیں ایک پر انا سر خ دروا زہ محر اب کے طو ر پر استعمال ہو تا ہے ۔ نماز کے کمر ے دو سری مسا جد کے بر عکس بڑ ے سجے ہوئے ہیں قمقمے اور جھنڈیا ں لگی ہیں دیوا ر وں پر مقد س مقا ما ت کی تصو یر یں بڑے سلیقہ سے آرا ستہ ہیں نماز کے کمرو ں میں سے ایک اصل کمر ہ ہے جو نیچے ہے دوسرا اوپر ، اسکے لیے لکڑی کی سیڑ ھی لگی ہو ئی ہے یہاں محرا ب نہیں دو لا ئو ڈ سپیکر ہیں جن سے اما م کی آواز یہاں پہنچتی ہے۔ اس مسجد میں بڑ ا مد رسہ ہے جو پو را ہفتہ بغیر کسی روز کی چھٹی کے روز انہ شام کو 4 1/2 بجے سے 7 سا ت بجے تک کا م کر تا ہے۔ جو طا لب علم حفظ ِ قر ان کی کلا س میں ہیں وہ روزانہ صبح 6 چھ بجے سے 8 آٹھ بجے تک حا ضر رہتے ہیں ۔ ۲۔ دو سری مسجد 21 ایبر ڈین پلیس بر یڈ فو رڈ ۔ 7 میں ہے ۔ ۳۔ تیسر ی مسجد 13 جیسمنڈ ایو ینیو بریڈ فو ر ڈ ۔ 9 میں ہے۔ ۴۔ چو تھی مسجد وہی ہے جسے مر کزی مسجد کہا جا تا ہے اور وہ 68/69 سا ئو تھ فیلڈ سکو ائر بر یڈ فو رڈ 8 میں ہے۔ ۵۔ اس سلسلہ کی پانچو یں مسجد 1-3 بر نٹ پلیس میں ہے۔ ۶۔ چھٹی مسجد 84 بیمز لے رو ڈ شپلے میں ہے۔ ۷۔ سا تو یں مسجد 2 ۔ بر ئو ننگ سٹر یٹ بر یڈ فو رڈ ۔ 3 میں ہے۔ ۸۔ شیئر بر ج بر یڈ فو رڈ میں جمعیتہ تبلیغ الا سلام کا ’’ اسلامک مشنر ی کالج ‘‘ ہے ۔ یہ کثیر ا لمقا صد جگہ ہے جہا ں مسجد بھی ہے اور کا میا ب طلبہ کی دستا ر بند ی کے اجلا س بھی یہیں ہو تے ہیں۔ یہا ں باقاعدہ طا لب علمو ں کے سا تھ تعلیم با لغا ں کی کلا سز بھی ہو تی ہیں۔ ۹۔ اس سلسلہ کی نو یں مسجد 87-89 ریا ن سٹر یٹ میں ہے۔ ۰۱۔ دسو یں مسجد 564-A تھا ر نٹن رو ڈ بر یڈ فو رڈ 8 میں ہے۔ ۱۱۔ گیا ر ھو یں مسجد سینٹ لیو کس چر چ ہا ل بر یڈ فو رڈ 9 میں ہے ۔ 1986 �÷ تک کی سر و ے ر پو ر ٹ میں یہ صو ر ت حا ل تھی اسکے بعد کا م مسلسل آگے بڑ ھ رہا ہے 1989-90 �÷ تک یہ تعداد 15 تک پہنچ گئی مساجد کے سا تھ تعلیم و تد ریس کا انتظا م بھی ہے اور لا ئبر یر ی کا بھی ۔ دو بڑے مرا کز پاکستان میں ہیں چک سو ار ی میں 11 کنا ل رقبہ پر پھیلی ہوئی مسجد اور دا ر العلوم ہے۔ حضرت پیر معر و ف شا ہ صا حب کے متعلق ہم عر ض کر چکے ہیں کہ وہ تبلیغ کو فر ض کے سا تھ عبا د ت سمجھ کر ادا کر تے ہیں اس لیے اپنے کا م سے کبھی تھکتے نہیں اور نہ کبھی مطمئن ہو تے ہیں کہ اب فر ائض کی تکمیل ہو چکی کا م پو را ہو گیا ہم بتا چکے ہیں کہ انہیں اس کا م سے عشق ہے اور عشق کی انتہا ہو تی ہی نہیں عشق کی انتہا چا ہنا تو حما قت ہے �ò تر ے عشق کی انتہا چا ہتاہو ں میر ی سا دگی دیکھ کیا چا ہتا ہو ں یہا ں تو کل جتنا آ گے بڑ ھتا ہے اسی رفتا ر سے منزل بھی آگے بھا گتی ہے غا لب نے کیا خو بصو رت با ت کہی تھی �ò ہر قد م دُو ر ی ئِ منزل ہے نما یا ں مجھ سے تیر ی رفتا ر سے بھا گے ہے بیا باں مجھ سے یہ بتا نے کی ضر و ر ت نہیں کہ ہر مسجد کے سا تھ مد ر سہ بھی سر گر مِ عمل رہتا ہے اور تبلیغی مقا صد بطر یق احسن پو رے ہورہے ہیں۔





جا مع حیثیا ت شخصیت

حضرت پیر معر وف شا ہ صا حب ایک و سیع الجہا ت شخصیت کے ما لک ہیں اور اپنی شخصیت کی ہر جہت کے متعلق انہو ں نے مید انِ عمل منتخب کر رکھا ہے اور ہر میدا ن میں ہمہ وقت سر گر م عمل نظر آتے ہیں۔ وہ بہت بڑ ے عالم دین ہیں اور اپنے اس علم کا اظہا ر زبا ن و قلم سے کر تے رہتے ہیں انکی تقر یریں سنیں تو آپ سمجھیںگے کہ علم کا سمند ر بادل بن کر بر س رہا ہے۔ہر مو ضو ع پر مشر ق و مغر ب کی مختلف زبا نو ں میں اظہا ر ِ خیا ل کر سکتے ہیں۔ اور کر تے رہتے ہیں ۔ قلم میں قو ت بھی ہے اور رو انی بھی ، جہا ں ضر و ر ت ہو تی ہے قلم کو حر کت میں لاتے ہیں اور حکمت و دانش کے سا تھ وسعتِ مطا لعہ کی دھا ک بٹھا تے چلے جا تے ہیں۔ ان کا علم کبھی با سی نہیں ہو تا کیونکہ وہ اسے ہر وقت تا ز ہ اور اپ ڈیٹ رکھنے کی دُھن میں رہتے ہیں۔ عر بی ، فا ر سی ، اردو ، انگر یز ی وغیر ہ زبا نوںمیں جو کتا ب تا زہ ما رکیٹ میں آتی ہے، اُسے اپنی لا ئبر یر ی کی زینت بنا نے میں مستعدی دکھا تے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کی لا ئبر یر ی بہت بڑی ہے ۔ پھر یہ کہ وہ ہر مو ضو ع پر مطا لعہ کر تے ہیں علم و ادب ، تا ریخ ، ثقا فت ، سا ئنس غر ضیکہ مختلف شعبہ ہا ئے علو م میں سے ہر شعبہ پر انکی گر فت رہتی ہے ۔ دینی علوم میں بھی ہر شعبہ انکی دستر س میں ہے تفسیر ، حد یث ، فقہ اسما ئ الر جا ل کوئی جہت ایسی نہیں جو انکی با لغ نظر ی کہ شہا دت فر اہم نہ کرکے پیر صا حب ایک عالمِ با عمل کے ساتھ پیر و مر شد اور ہا دی ٔرا ہِ سلوک بھی ہیں وہ اپنے مر ید وں کی رو حا نی تر بیت کر تے ہیں۔ تصو ف ، متصوفین ، صو فیا ئ و اولیا ئ کے سو ر نح وغیر ہ علو م پر بھی انکی لا ئبر یر ی ہر سالکِ راہِ طر یقت کی علمی تشنگی بجھا تی ہے اور انکی ذا تی رہنما ئی بر و قت ہدایت فر اہم کر تی ہے جسما نی کے سا تھ رو حا نی علا ج بھی تعو یذ و اور اد وغیر ہ سے کر تے رہتے ہیں۔ اس طر ح بھی ان کا آستا نہ دکھیا رو ں کی امید گا ہ ہے۔ وقتا ً فو قتا ً محافلِ ذکر بھی بر پا ر ہتی ہیں، وہ ایک بہت بڑے مبلغ بھی ہیں انہیں دیگر مذ اہب پر پو را پورا عبو ر ہے اور ادیا نِ عا لم کے تقا بلی مطا لعہ ﴿COMPARATIVR STUDY OF RELIGIONS﴾پر انتھک بو ل اور لکھ سکتے ہیں ان میں ایک صحیح اور سچے مبلغ کے اوصاف مو جو د ہے انکی تبلیغی تقر یر ہیں۔ ’’اُدْعُ اِلیٰ سَبِیْل ِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَا لْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ‘‘ ﴿اللہ کے را ستے کی طر ف حکمت و دا نش اور خو بصو ر ت نصیحت و مو عظمت سے بلا یا کر و ﴾ کی بھر پو ر عکا سی کر تی ہیں۔ اور وہ میدا ن ِ تبلیغ کے بھی شہسوار ہیں۔ وہ ایک مصلحِ قو م اور ریفا ر مر بھی ہیں وہ ہر وقت انسا ن کی بھلا ئی سو چتے اور استطا عت کے مطا بق کر تے رہتے ہیں۔ یو ر پ میں مسلما نوں کو جب بھی کسی مشکل کا سا منا ہو پیر صاحب ہی آگے بڑھ کر اُسے آسان کر نے کی کوشش کر تے ہیں انفرا دی طورپر بھی وہ لو گو ں کی حتی الامکان مد د اور رہنما ئی فر ما تے ہیں وہ سیا سی طو ر پر بھی مسلما نو ں کے حقو ق کے لیے ہمہ وقت آما دۂ جہا د ر ہتے ہیں۔ وہ اس قد ر وسیع الجہا ت اور جا مع حیثیا ت شخص ہیں کہ ان کے کسی ایک پہلو اور ایک ہی جہت کا احا طہ کر نابھی مشکل معلو م ہو تا ہے ۔ کجاکہ انکی سا ری حیثیا ت زیر ِ قلم لا ئی جا سکیں ۔ پیر صا حب اس وقت بھی مختلف تنظیمیں چلا رہے ہیں ۔تبلیغ الا سلام ، ور لڈ اسلامک مشن ، بز مِ نو شاہی مسلما نان کشمیر کا اتحا د مسلما نا نِ اہل سُنت کا اتحا د ﴿فیڈ ر یشن آف مسلمز اہل سنہ ﴾ بر یلو ی مسلک کے علما ئ کا اتحا د ، پھر ایک اور با ت بھی قا بل ذکر ہے کہ یہ تما م کا م صر ف بر طا نیہ میں نہیں سا تھ سا تھ اپنے ملک پاکستان میں بھی وہ اسی طر ح سر گر م عملِ ہیں اور وقتا فو قتا ًپاکستا ن جاتے رہتے ہیں۔


’’ بر یلو یت‘‘ ’’ بر یلو ی ‘‘ اور ’’دیو بند ی ‘‘ بر صغیر میں اصطلا ت کی شکل اختیا ر کر چکے ہیں اور انہیں مسلما نو ں کے فر قو ں میں شمارکیا جا تا ہے۔ ’’بریلی‘‘ اور ’’دیو بند‘‘ بر صغیر کے دو شہر ہیںدیو بند میں مو لا نا رشید احمد گنگو ہی کے شا گر د مو لا نا قا سم نا نو تو ی نے مد رسہ قا ئم کیا جو دیو بند شہر میں تھا۔ اسکا نام ’’ دا ر العلوم ‘‘ دیو بند رکھا گیا ۔ بر یلی سے ایک بڑے عا لم دین امام احمد رضاخا ن کا تعلق ہے آپ وہیں پیدا ہوئے اور وہیں سے تعلیم و ارشاد کا سلسلہ شر و ع کیا ۔ ہم تصو ف کی تا ریخ کے سلسلہ میں بڑی وضا حت سے بتا چکے ہیں کہ کچھ علما ئ شر یعت کے ظا ہر پر زو ر دیتے تھے اور کچھ کہتے کہ حکم کی ظاہر ی صو ر ت نہ دیکھو اسکی علت دیکھو یعنی اگر حد یث میں دانتو ں پر مسواک کر نے کا حکم آیا ہے تو یہ ضر و ری نہیں کہ ہم در خت ’’ جا ل ‘‘ کی وہی جڑ دا نتو ں کی صفا ئی کے لیے استعمال کر یں جو حضور �ö کر تے تھے ہمیں حکم کی علت کو دیکھنا چاہیے اور وہ ہے دا نتو ں کی صفا ئی پس دا نت جس چیز سے بھی صا ف کئے جا ئیں گے۔ سنت کا تقا ضا پو را ہو جائے گا ہا ں اگر میڈیکل سا ئنس ثا بت کر دیتی ہے کہ وہی رو ایتی مسوا ک ہی بہتر ہے تو اچھا ہے کہ وہی استعما ل کیا جا ئے لیکن ضر و ری نہیںمطلب دا نت صا ف کر نے سے ہے، دو سرا گر وہ ظا ہر پر ست تھا ۔اُس نے اسی پر زور دیا کہ وہی مسواک ضر و ری ہے غر ضیکہ اس طر ح کا اختلا ف پیدا ہوا جو آگے چل کر شر یعت اور طریقت کے دو با ہمد گر مخا لف طبقا ت پیدا کر گیا ۔ وقت بد لتا ہے حا لا ت بد لتے ہیں علم کی دنیا میں نِت نئے انکشا فات ہو تے ہیں۔ معاشرہ میں تغیر آتا ہے نئے نئے مسائل پیدا ہوتے ہیں اگر ہم ظا ہر کو پکڑ کر بیٹھ جا ئیں تو شر یعت ایک جا مد چیز بن جا تی ہے جس کا زما نہ کے ساتھ ہر قد م پر تصا دم ہو تا ہے اگر ہم علتِ حکم کو دیکھ کر چلیں تو کوئی تصا دم نہیں وقت اور اسکے پیدا کردہ مسا ئل کو اسلام کی اصل بنیا د اور احکا م شر ع کی علت کو مد نظر رکھ کر ان مسا ئل کا حل تلا ش کیا جا سکتا ہے اسی کو تفقہ فی الد ین کہا جا تا ہے اور اسی کو علم فِقہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہا ں سے دو گر وہ پیدا ہوئے جن میں سے ایک گر وہ فقہ کا قائل تھا اور دو سرا اگر وہ اپنے آپ کو اہل حد یث کہنے لگا پھر اول الذ کر اپنے آپ کو اہل سنت کہنے لگے۔ اہل سنت مقلد بھی کہلا ئے کہ وہ فقہ کے ائمہ اربعہ اما م ابو حنیفہ(رح) ، اما م ما لک (رح) ، امام شا فعی (رح) اور امام احد (رح) بن حنبل میں سے کسی ایک کی فقہ کی تقلید کر نے لگے ا س طرح حنفی ، مالکی ،شا فعی اور حنبلی فر قے پیدا ہوگئے۔ بر یلو ی او ر دیو بند ی دونو ں اپنے آپ کو اہل سنت بھی کہتے ہیں اور حنفی بھی صو فیا ئ و اولیا ئ میں سے اکثر کسی نہ کسی فقہی مسلک سے وا بستہ تھے کچھ آزا د خیا ل بھی تھے۔ صو فیا ئ اور او لیا ئ کا سلسلہ ئِ مقدسہ سا ری دنیا میں اشا عتِ اسلام کا با عث بنا انہو ں نے اپنے حسنِ اخلاق اور شیر یں بیا ن سے لوگو ں کو را م کیا اور اسلام کا مطیع بنا یا۔ انہو ں نے مقا می لو گو ں کے تمد ن کو زیا دہ نہ چھیڑ ا صر ف ان رسو م بِد کا استصیال کیا جو شرک کی طر ف لے جا تی تھیں۔ اس طر ح وہ عو ام النا س میں مقبول ہو تے گئے۔ انہو ں نے حضو ر �ö کی سیر ت اپنا تے ہوئے اس قو ل پر عمل کیا کہ مر یض سے نفر ت نہ کر و مر ض سے نفر ت کر و۔ کا فر سے نفرت نہ کر و اسکے فعل کفرِ سے نفر ت کر و۔ انہو ںنے انسان سے پیا ر کیا اور کو شش کی کہ پیا را اور محبت سے اُسے سمجھا یا جائے کہ وہ گمر اہی چھو ڑ کر صر اطِ مستقیم پر آجا ئے ۔ یو ں میرا پیغا م محبت ہے جہا ں تک پہنچے کہنے والے یہ محبت بھر ے لوگ مقبو ل سے مقبول تر ہو تے چلے گئے۔ اسلام پھیلتا چلا گیا اور اولیا ئ کا حلقہ ئِ اثر وسیع تر ہو تا گیا۔ آج سب دانشوراس با ت پر متفق ہیں کہ سلطان محمو د (رح) غز نو ی کے ستر ہ حملو ں کے مقا بلہ میں دا تا گنج بخش (رح) کے ستر ہ دنو ں نے اسلام کی زیا دہ اشا عت کی۔ جب عو ام النا س میں ہر جگہ اولیا ئ زیا دہ مقبو ل ہو نے لگے تو خو د مسلما ن با د شا ہ کھٹک گئے انہیں احسا س ہو ا کہ ان کے حکم سے زیا دہ لو گ گد ڑ ی پو ش فقیر کا حکم ما نتے ہیں لو گ انہی فر قہ پو شو ں کی طر ف ر جو ع کر تے ہیں اور انکے اشا رو ں پر سر کٹا نے کو تیا ر ہوجا تے ہیں �ò ہے دل کی سلطنت پر تسلط فقیر کا اجسا مِ ناتواں پہ ہے فر ما ں روا امیر با د شا ہو ں کے پا س دو لت کے انبا ر تھے ان کے آگے جھکنے والو ں پر انعا م و اکرا م کی با ر ش ہو جا تی تھی مگر لو گ کھچے کھچے فقیر وں کے پاس جا تے تھے کیو نکہ کو ئی ان کے گو ش ِ دل میں یہ سر گو شی پھو نک رہا تھا �ò تمنا درد دل کی ہوتو کر خدمت فقیروں کی نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں نہ پوچھو ان خرقہ پوشوں کی عدادت ہو دیکھ ان کو یدِ بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینو ں میں اور لو گ اسی صد ا پر لبیک کہتے ہوئے قصرِ شا ہی کی بجا ئے فقرِ خا نقا ہی کی طر ف رجو ع کر تے اور کشا ں کشا ں فقیر کی با ر گا ہ میں پہنچتے جہا ں کو ئی حا جب و در بان نہیں تھا۔ امیر فقیر سب برا بر تھے۔ سب کو ایک ہی نظر سے دیکھا جا تا اور دعا ئو ں کا ابر ِ کر م سب پر بر ستا ما دی طو ر پر دکھو ں کا مدا وا ممکن ہو تا تو وہ بھی کر دیا جا تا اور رو حا نی بر کا ت کی شعا عیں بھی ہر ایک پر جلو ہ فگن رہتیں۔ با د شا ہو ں کو فقیر و ں کی یابا ت بھی نیز ے کی طر ح چبھتی رہتی کہ یہ فقیر لوگ اپنے زا ویو ں میں قطب کی طر ح جمے رہتے ہیںکبھی اپنی احتیاجا ت کے ہا تھو ں مجبو ر ہو کر با دشا ہ کے در و ازے پر نہیں آتے۔ ان کے پاس خراج اور محا صل لا ے اونٹ نہیں آتے مگر را ت دن ان کے لنگر چلتے رہتے ہیں۔ یہ با تیں با د شا ہو ں کو ستاتی تھیں انہیں کیا خبر کہ لو گو ں کے دماغو ں میں تو یہ معیا ر مبنی بر صداقت ہے کہ �ò قوموں کی تقدیر وہ مرد درویش جس نے نہ ڈھونڈی سلطاں کی درگاہ با دشا ہ اپنے مقا بلہ میں اپنی ہی سلطنت کے اندر دو سرے با د شا ہ کر بر دا شت نہیں کر سکتے تھے ۔وہ در و یشو ں پر عر صہ ئِ تنگ کر نا چا ہتے تھے مگر اس کے لیے انہیں کسی نہ کسی جوا ز کی تلا ش ہو تی۔ یہ جوا ز اُن علما ئے ظا ہر سے مل سکتا تھا جو وا بستگا ن دربا ر ہو کر تے تھے چنا نچہ ان کے فتو و ں سے اولیا ئ مستحق ِ دا ر ٹھہر ے کسی کو پھا نسی دی گئی کسی کی کھا ل کچھو ائی گئی ۔ صو فیا ئ کا قتلِ عام ہو تا رہا مگر را ہِ سلوک ویرا ن نہ ہو ئی۔ اس پر چلنے والو ں کی بھیڑ لگی رہی اور انکے پر وا نو ں کے ہجو م بھی بڑھتے گئے وہ مر گئے تو انکے مزا ر مر جعِ عوا م بن گئے۔ علما ئے ظا ہر بھی یہ سب کچھ بر داشت نہ کر سکے اور ان اولیا ئ کے خلا ف صف آرا ئ ہو گئے شر ک و بد عت کے معا نی میں نا روا تو سیع کی گئی مزاروں پر جا نے والو ں کو قبر پر ست، مشر ک ، بد عتی مر تدا ور واجب القتل گر دا نہ گیا ۔ لمحہ بہ لمحہ اس مخالفت میں مخا صمت کی شد ت آتی گئی ، اہل حد یث اور حنبلی مسلک کے ابن تیمیہ جیسے متشد د لو گ جو ش غیظ و غضب سے تمتما تے اور فتو وں کے انبا ر لگا تے گئے۔ آخر نجد میں محمد بن عبد الو ہا ب پیدا ہوا جس نے ’’کتا ب التو حید ‘‘ میں ہر طر ف سے تو جہ ہٹا کر ان ہی لو گو ں کو ہد فِ ملا مت و تکفیر بنا یا جنہیں اولیا ئ سے محبت تھی انکے مز ارو ں کو سجا تے انکے عر س منا تے اور انکے جا نشینو ں کا احترا م کر تے تھے ۔ اس نجد میں سلطا ن سعو د پید اہوا جس نے اسی مسلک کو آگے بڑ ھایا ’’ عبد الوہا ب ‘‘ کے اس مسلک کے لیے اسی زما نہ میں ’’ وہا بیت ‘‘ کی اصطلا ح وضع ہو ئی۔ حجاز مقد س پر تر کو ں کی حکو مت تھی اور تر کو ں نے ہی شر یف مکہ کو حا کم مقر ر کر رکھا تھا۔ سلطا ن سعو د نے اُسے شکست دی ۔آل سعو د عرب پر قا بض ہوئی جس نے عرب کو ’’ سعو د ی عرب ‘‘ کا نا م دے دیا۔ وہی لوگ ابھی تک قا بض چلے آتے ہیں۔ ان لوگو ں نے صحا بہ اکرا م کی قبر یں بے نشا ن کیں۔ ہر جگہ قبے گرا ئے۔ مزا رو ں کی تو ہین کی۔ انتہا ئی شدت سے اپنے مسلک کو رو اج دینے کی کوشش کی مگر دنیا جا نتی ہے کہ اکثر یت کد ھر ہے۔ اب انکی شد ت پسند ی میں کچھ کمی آگئی ہے۔ رو ضہئِ رسول کی جا لیوں کو بو سہ دینے والوں پر کو ڑے بر سا نے والے اب کچھ نر م پڑ نے لگے ہیں۔ بہر حا ل محمد بن عبد ا لو ہا ب کی وہا بیت کو برصغیر میں بھی پنا یا گیا سید احمد بر یلو ی نے یہی مسلک اپنا یا شاہ اسمعیٰل انکے مر ید ہوئے یہاں کے اہلحد یث میں بھی چند نے ساتھ دیا ۔آخر سکھو ں کے خلا ف ہر کام جنگ لڑ کر کام آئے ۔ شا ہ اسمعیل نے ’’ کتا ب التو حید‘‘ کی اتبا ع کر تے ہوئے ’’ تقو یر الا یما ن ‘‘ نا م کی کتا ب لکھی اور تکفیر کی رہی مہم چلا ئی۔ اہلحد یثِ حضر ا ت لفظ وہا بی کہلانے سے بد کتے ہیں ۔چنا نچہ مو لو ی محمد حسین بٹا لو ی نے انگر یز گو ر نر سے نوٹیفیکیشن جا ری کر ایا کہ اہل حد یث کو وہا بی نہ کہاجا ئے ۔ یہاں تک تو چلو ٹھیک ہے لیکن یہا ں ایک اور فر قہ پیدا ہوا جسے آج وہا بی اور دیو بند ی کہا جاتا ہے۔ دیو بند کے دا ر العلوم کی بنیا د مو لا نا قا سم نا نو تو ی نے رکھی اور ظا ہر یہی کہا گیا کہ اسلامی علو م اور اسلامی تہذ یب کے تحفظ کے لیے یہ مد رسہ قائم کیا جا رہا ہے چنانچہ سب طر ح کے لو گو ں نے اس میں داخلہ لیا بعد میں اس دا ر العلوم کے اربا بِ کا ر نے پر پر زے نکالے اور وہا بیت کے عقا ئد کی تبلیغ شر و ع ہو گئی۔ اس پر اما احمد رضا خا ن بر یلو ی نے انکی تحر یر وں پر گر فت کی اوربتا یا کہ انکی تحر یر یں اہل سنت کے عقا ئد کے خلا ف ہیں اس پر ’’ بریلو یت ‘‘ اور ’’دیو بند یت ‘‘ کی اصطلا حیں وجو د میں آئیں پہلے بعض علما ئے دیو بند نے شد ت اختیا ر کی اُن کے ذہنوں پر شا ہ اسمعٰیل کی تقو یر الا یما ن چھا ئی ہو ئی تھی ۔ د ونو ں طر ف سے علما ئ نے اس جنگ میں حصہ لیا گر ما گر م لڑ یچر تیا ر ہوا اما م احمد رضا خا ن بر یلو ی نے ان علما ئے دیو بند کی تحر یر یں جمع کیں اور حر مین شر یفین کے علما ئے کرا م کو بصو ر ت استفتا ئ بھیجیں وہا ںسے فتو ٰ ی آگیا کہ ان تحریر وں میں بیا ن کر دہ عقا ئد کفر یہ ہیں ان سے تو بہ کرنی چاہیے ۔یہ فتوٰ ی جو پو ری ایک کتا ب ہے ’’ حسا م الحر مین ‘‘ کے نام سے اما م احمد رضا خان نے شا ئع کرا دیا جو با ر با ر شا ئع ہوا اور ابتک شائع ہو تا چلا آ رہا ہے ، اس کتا ب کا خا طر خواہ اثر ہوا اکا بر دیو بند نے اُن عقا ئد سے برأ ت کا اظہا ر کیااور ’’ مہند ‘‘ کے نام سے کتا ب شا ئع ہوئی جس میں کہا گیا علما ئے بند کے عقا ئد وہ نہیں جو حسا م الحر مین میں ہد ف تنقید بنا ئے گئے ہیں ’’ مہند ‘‘ میں ’’ بر یلو یت ‘‘ اور ’’ دیوبندیت ‘‘ ہر دو مسلک کے عقا ئد قر ار دیے گئے۔ علما ئے دیو بند جو ذہنی طور پر وہا بیت سے قر یب ہیں ،عجیب مخمصے کا شکا ر رہے ہیں۔ وہ جو کہتے ہیں ،کر تے نہیں اور جو کر تے ہیںکہتے نہیں اب ہم اُن چند عقا ئد کا ذکر کر تے ہیں جو ما بہ النز اع سمجھے گئے ۔

۱۔حیا ت النبی �ö:۔ بر یلو ی اور دیو بند دو نو ں اس با ت پر متفق ہیں کہ رسو ل �ö ظا ہر ی مو ت کے بعد بھی زند ہ ہیں ۔دیو بند ی کہتے ہیں زند ہ ہیں مگر اپنی قبر میں زند ہ ہیں وہاں اگر درود شر یف پڑ ھا جا ئے تو وہ سنتے ہیں۔ بر یلو ی حضرا ت کہتے ہیں آپ ہر جگہ سے درود شر یف سُنتے ہیں۔ ورنہ ہمیں یہ حکم نہ ہو تا کہ ہم نماز میں السلام علیک ایھا النبی پڑھتے۔ یہیں سے حا ضر نا ظر کا مسئلہ پیدا ہوا۔ بر یلو ی حضرا ت کے نز دیک حضور �ö ہر وقت ہر جگہ حا ضر نا ظر ہیںاور ہما رے اعما ل دیکھ رہے ہیں۔ وہ قر آن حکیم کی اس آیت سے استدلا ل و استشہا د کرتے ہیں ۔ وکذلک جعلناکم اُمَّۃً وَّ سَطاً لِّتَکُونوْ ا شُھَدَا ئَ عَلیَ النَّا سِ وَیَکُوْ نَ الرَّ سُوْ لُ عَلَیْکُمْ شَھِیْداً‘‘ ﴿تم اعتدا ل پسند امت ہو ﴿اور ایسا تمہیں اس لیے بنا یا گیا ہے کہ ﴾ تم نسل ِ انسا نی کے اعما ل و کر دا ر کے نگرا ن رہوا اور رسو ل (ص) تمہا رے اعمال و کردار کا نگرا ن ہو ﴾ آج کے دیو بند ی اس کے خلا ف ہیں ۔درود ،سلام اور یا رسو ل اللہ کہنے پر بھی اسی لیے جھگڑ ا کر تے ہیں یعنی جو چیز نماز میں پڑ ھتے ہیں ویسے پڑ ھ دیں تو شرک ہو جا تا ہے۔ استغفر اللہ ۔ ۲۔استمدا د لغیر اللہ:۔اب دیو ند ی حضرات کہتے ہیں کہ غیر اللہ سے مد د ما فو ق الا سبا ب طلب کر نا شر ک ہے جبکہ بریلو ی ایسا عمل جا ئز سمجھتے ہیں بلکہ اکا بر دیو بند بھی اسے جا ئز سمجھتے اور ایسا کر تے تھے صو فی امدا د اللہ مہا جر مکی کی نعتیں پڑ ھ لیجئے اس سے بھی بڑ ی با ت یہ ہے کہ خو د مو لا نا قا سم نا نو تو ی با نی دا ر العلوم دیو بند لکھتے ہیں �ò مدد اے کرم ِاحمدی کہ تیرے سوا نہیں ہے قاسم بیکس کا کوئی حامیئِ کار اس شعر میں مو لا نا قا سم نا نو تو ی نے حضور �ö کو حا ظر نا ظر جا ن کر مخا طب بھی کیا ہے اور اُن سے مد دبھی ما نگی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور �ö کابھی فیض جا ری ہے اور وہ بے کسو ں کی پکا ر سُن کر انکی مد د فر ما تے ہیں۔ ۳۔سما عِ مو تیٰ :۔سما ع مو تیٰ یا مُر دو ں کا سننا ایک اور اختلا فی مسئلہ ہے ۔اکا بر دیو بند سما ع مو تی ٰ کے قا ئل ہیں، کیو نکہ بکثر ت روایات سے سما ع مو تی ٰ ثا بت ہو تا ہے ’’ المہند ‘‘ میں بھی تصر یح کی گئی ہے کہ علما ئے دیو بند سما ع مو تی ٰ کے قا ئل ہیں ۔ آج کے دیو بند حضرا ت کہتے ہیں کہ اولیا ئ قبر وں میں سنتے توہیں مگر کچھ کر نہیں سکتے ۔بر یلو ی حضرا ت کہتے ہیں یہ تو اور بھی عجیب با ت ہے ،وہ کر کچھ نہیں کر سکتے تو اللہ تعالیٰ کا انہیں سنا نے کا فعل عبث ٹھہر تا ہے جو شا نِ خدا وند ی کے خلا ف ہے۔ اگر ایک ولی کا بیٹا اسے اپنا دکھڑ ا سنا رہا ہے۔ ولی قبر میں سب کچھ سُنتا ہے مگر کچھ مدا وا نہیں کر سکتا تو اس دُکھ سے وہ بھی دکھی ہو تا رہے گا ۔ یہ عجیب معا ملہ ہو ا کہ ایک نیک آدمی قبر میں جا کر اپنے بچو ں کو دکھ سُن کر مبتلا ئے اذیت رہے ۔ اصل میں میرے ﴿ را قم منصو آفاق نے ﴾ ضلع میا نو الی میں ایک قصبہ واں بھچرا ں ہے۔ وہا ں ایک عالم مو لا نا حسین علی صا حب پیدا ہوئے ۔وہ کہلا تے تو اپنے آپ کو دیو بند ی تھے مگر ان کے عقا ئد زیا دہ تر کتاب التو حید والے محمد بن عبد الو ہا ب نجد ی سے ملتے تھے ۔ مو لا نا غلا م اللہ خا ن ادا رہ تعلیم القرا ن را ولپنڈی والے اور دیگر کئی حضرا ت اُن کے شا گر د تھے۔ مو لانا حسین علی صا حب نے اس وقت کے علما ئے بر یلی اور علما ئے دیو بند سے اختلا ف کر تے ہو ئے، سما ع ِ مو تی ٰکا انکا ر کیا اچھی اردو نہیں لکھ سکتے تھے، پنجا بی ملی گلا بی اردو لکھتے تھے۔ انہوںنے عجیب اردو میں ’’ بلغتہ الحیرا ن ‘‘ کا نا م سے ایک تفسیر قران بھی لکھی تھی ۔انہوں نے سما ع مو تی ٰ اور نبی کے علم غیب کے انکا رپر اپنی اسی گلا بی اردو میں ایک مختصر سا رسالہ چھپوا یا تھا۔ سکی تر دید میں میرے ضلع کے ہی ایک عالم دین مولا نا حکیم محمد امیر علی شا ہ نے ایک ضخیم کتا ب ’’ تحقیق لاریب فی اثبا ت علم غیب ‘‘ لکھی اس کتا ب میں بڑی تحقیق سے پہلی دفعہ ان ستر صحا بہ (رض) کے اسما ئے گر امی کہ فہر ست دی تھی جو سماعِ مو تی ٰ کے قائل تھے۔ بہر حا ل بتا نا مقصو د تھا کہ بکثر ت صحا بہ سے سما ع مو تی ٰ کا اقرا ر ثا بت ہے۔ اس لیے علما ئے دیو بند سما ع موتی ٰ کے قا ئل تھے ۔ مو لا نا حسین علی اورا ن کے متو سلین مو لا نا غلام اللہ خان، قا ضی شمس الدین وغیر ہ نے شد و مد سے اس کا انکا ر کیا۔ یہ حضرا ت بھی اس وقت دیو بند ی کہلو اتے تھے۔ اس لیے ایسا مر حلہ آیا کہ ان کی آپس میں جنگ چھڑ گئی با لا ٓخر فیصلہ ہوا کہ یہ حضرا ت دیو بند یت سے خا ر ج ہیں۔ اب یہ گر وپ یعنی حسین علی صاحب والا گر و پ اپنے آپ کو مو حد کہتا ہے اور انہوں نے ’’ اشا عتِ تو حید و سنت ‘‘ کے نام سے اپنا الگ گر و پ قائم کر سکا ہے۔ حضور �ö کی میلا د پر اور اولیا ئ کے عر س پر بھی اختلا ف کر تے ہیں، اور دیو بند ی حضرا ت متشد د ہو جا تے ہیں۔ بر یلوی یا اہل سنت حضرا ت کی سب سے بڑی خصو صیت یہ ہے کہ وہ محبت رسو ل (ص) میں ڈوبے ہوئے ہیں انکا ر ایما ن کہ �ò محمد کی محبت دین حق کی شر طِ اول ہے اسی میں ہو اگر خا می تو سب کچھ نامکمل ہے اما م احمد رضا بر یلو ی محبت رسو ل (ص) کو ہی اصل عبا د ت سمجھتے تھے اور یہی چیز مخالف فر یق کے نز دیک شر ک قرار پا ئی ۔ مسلما ن چا ہے دنیا کے کسی کو نے میں ہو ں اکثر یت محبت رسول میں وہی مسلک رکھتی ہے جسے بر صغیر مسلک بر یلو یت کہا گیا ۔ اللہ کے رسو ل ، صحا بہ کرام اور اولیا ئ عظا م کی محب بر یلویت سمجھی گئی اور مسلما نو ں کی اکثر یت اسی سے وابستہ ہے لیکن انکی کمز وری یہ ہے کہ ان میںیکجہتی نہیں تنظیم واتحا د نہیں کچھ مذہبی سیا سی لیڈر و ں نے بھی انہیں تقسیم کر رکھا ہے ۔ ور لڈ اسلامک مشن میںبھی یہ طے ہو اتھا کہ مسلک اہل سنت کے مسلما نو ں کو وحد ت میں پر و یا جا ئے اور س تنظیم کے قیا م سے پیشتر بھی جنا ب پیر معرو ف شا ہ صا حب نے اسی کو مطمح نظر بنا رکھا تھا ۔ وہ شب و روز اسی اتحا دد کو شا ں ہیں ۔ بر یلو یت یا مسلکِ اہل سنت سے وابستہ مسلمان چو نکہ سر اپا محبت ہو تے ہیں اس لیے یہ کہیں بھی ہو ں فتنہ پسند نہیں ہوتے یہ اولیا ئ کے عقید تمندوں کا گروہ ہے اس لیے ان میں غیر مسلمو ں کے سا تھ رو اداری اور حسن سلو ک کے اوصاف نما یا ں ہو تے ہیں کسی فتنہ اور شرو فسا دمیں اس مسلک کا آدمی کبھی ملوث نہیں ہوا ۔لاٹھی کی بجا ئے منطق ان کا ہتھیا ر ہے پیر صا حب کا یہ نصب العین بھی ہے کہ غیر مسلمو ں پر و اضح کر دیں کہ جب وہ مسلما نو ں کے متعلق کوئی نظر یہ قا ئم کر نے لگیں تو اس اکثر یتی فر قہ کے خصا ئص ضر و ر مد نظر رکھیں۔

معا شرہ کو در پیش مسا ئل اقبال جس تصو ف اور خا نقا ہیت کے مخا لف ہے وہ تصو ف میں ایسا نقطہئِ فکر و عمل اپنا نا ہے جو تصو ف کو رہبا نیت کے قریب لے جا تا ہے۔ دنیا سے تعلق ہو جا ئو سا رے فر ائض حیا ت کو پس پشت ڈا ل کر غا ر وں اور جنگلو ں میں چھپ کر اللہ اللہ کر تے رہنا اور دنیا کے ابلیس اور چیلو ں کے حوا لے کر دینا صحیح اسلامی تصو ف نہیں رہبا نیت ہے جس کے متعلق اللہ نے فر ما یا ’’وَ رَ ھْبا نَیَّۃَنِِ ابْتَدَ عُوْ ھَا مَا کَتَبْنٰھَا‘‘ ﴿رہی رہبا نیت تو وہ انہوں نے خو د گھڑی ان پھر ہم نے نہیں ڈا لی تھی ﴾ اللہ کے پاک رسو ل �ö نے معا شر ہ سے فرا ر اختیا ر نہیں کیا اسی معا شرہ میں رہے۔ شا دیا ں ‘ کیں بچے پیدا ہوئے گھر و الو ں کے حقو ق نبھا ئے پڑ وسیوں کے حقو ق پو رے کئے جنگیں لڑیں معا شرہ کی ارتقا ئی جد وجہد میں شامل رہے اور آخر معاشرہ کو بد ل کر رکھد یا �ò اس پہ کیا فخر کہ بد لا ہے ، زما نہ نے تمہیں مر د وہ ہیں جو زما نہ کو بد ل دیتے ہیں حضرت پیر معرو ف شا ہ نو شا ہی سیر ت نبو ی پر عمل کر تے ہوئے معا شرہ میں جا ندا ر کر دا ر ادا کر تے ہیں۔ انہو ں نے برطا نیہ میں مسلما نو ں کو پیش آنے والے مسائل میں حا لا ت کا رُخ بد لنے کے لیے بھر پو ر کر دا ر ادا کیا مسلما نو ں کو منظم کیا ان کے مسائل سمجھے اور اربا بِ کا ر کو سمجھا ئے۔ انہو ں نے ہمیشہ مسائل کے حل کے لیے امن پسند ی اور افہا م و تفیہم کا را ستہ اختیا ر کیا اور آخر مسئلہ حل کر لیا ۔ اگلے صفحا ت میں ہم ان کے کر دا ر کی اسی جہت پر ایک دو مثا لیں پیش کر ینگے



بر طا نیہ میں مسلما ن لڑ کیوں کی تعلیم یہ شا ید 1974 کے قریب کی با ت ہے ، بر طا نیہ کے محکمہ تعلیم نے لڑ کیوں کے علیحدہ سکولو ں کا سسٹم ختم کر نے کا فیصلہ کیا اور مخلو ط طریقہ تعلیم تو رائج کر دیا ۔ پیر سید معرو ف حسین شا ہ نو شا ہی کی نگا ہ ، دو رمیں فو را ً انداز ہ ہو گیا کہ یہ صو رت احوا ل مسلما ن بچیو ں کی تعلیم کے لیے قطعا ً در ست نہیں انہیں سخت تشو یش لا حق ہوئی، انہو ں نے جمعت تبلیغ الا سلا م کے پلیٹ فا ر م پر اس سلسلہ میں جد وجہد کا آغا ز کیا ، بر طا نیہ کے مسلما نو ں کو اس با ت کا احسا س دلا یا کہ حکومت بر طا نیہ کا یہ فیصلہ درست نہیں، کئی میٹنگ ہو ئیں ، عقل اور حقیقت کی روشنی میں اس مسئلہ کا جا ئز ہ لیا گیا اور پھر حکومت بر طا نیہ کو مسلما نو ں کی بے چینی کی معقول وجہ بتا ئے کے لیے چند تجا ویز دی گئیں اس سلسلہ میںمر کز ی جمیت تبلیغ الا سلا م نے ایک کتا بچہ شائع کیا جس میں لکھا گیا ۔ ’’ اپنی جگہ پر یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ دنیا کی ہر قدم اپنی جدا گا نہ تہذیب اپنے مخصو ص ضابطہ ئ اخلا ق اور اپنی مذہبی رو یا ت کے بل پر دنیا کی دو سری قو مو ں کے درمیاں اپنی انفرا دیت بر قرا ر رکھتی ہے چنا نچہ مسلما ن قوم بھی کسی خا ص گھر انے یا قبیلے میں پیدا ہونے والے افرا د کا نام نہیں ہے بلکہ اس قو م کا نام ہے جو دا ئرہ اسلام میں داخل ہو کر ایک جدا گا نہ تہذ یب ایک مخصو ص ضا بطہ اخلا ق اور ایک منفر د طر یقہ زندگی اپنا لینے کے بعد تشکیل پا تی ہے، اسلام نے جہا ں میں ایک جدا گا نہ طر یق عبا دت کی تعلیم دی ہے وہاں اس نے ہمیں مخصو ص نظا م معا شرت بھی عطا کیا ہے جس کے ذریعہ ہم زندگی گز ار نے کے طر یقے ، انفرا دی سیر ت و کر دا ر کے آداب ، سو سا ئٹی کے حقو ق ، خا ند انی زندگی کے ضا بطے ، مرد و زن تعلقا ت اور اہل و عیا ل کی پر و رش وپر دا خت کی ذمہ دا ر یو ں سے واقف ہو تے ہیں۔ نا محر م مر دو ں سے نو جوا ن لڑ کیو ں اور عو ر تو ں کا پر دہ بھی اسی نظا م معا شر ت کا ایک قا نو ن ہے جو اسلا م نے ہم پر نا فذ کیا ہے اور مسلمان ہو نے کی حیثیت سے ہم پر اسکی پا بند نا گزیر ہے ۔اور مذہبی کمز ریو ں کے با وجو د آج بھی دو سر ی قو مو ں کے در میا ن پر دے کا یہ سسٹم مسلم معا شرے کی ایک واضح علا مت سمجھا جا تا ہے یگا نہ مرد و زن کی مخلو ط سو سائٹی کو وہ اسلام کیو نکر بر دا شت کر ے گا جو خا ندا ن ان ممبر و ں سے بھی اپنی عو رتو ں کا پردہ کر ا تا ہے جو رشتہ کے اعتبا ر سے محر م نہیں ہیں، جذبا تی کمز وریو ں کی آرا ئش سے معا شرہ کو پاکیز ہ رکھنے کے لیے اسلام کا یہ قا نو ن فطر ت انسا نی کے گہرے مطا لعہ کا آئینہ دا ر ہے، اس سے بر طا نیہ کے مسلما نو ں میں مخلو ط تعلیم کے خلا ف اگر بے چینی ہے تو بجا طو ر پرانہیں اپنی بے چینی کا حق پہنچتا ہے کہ بیگا نہ لڑ کو ں کے سا تھ وہ اپنی لڑ کیو ں کا اختلا ط اپنی قو می تہذ یب اوراپنے مذہب کی ہدا یا ت کے خلا ف سمجھتے ہیں، علا وہ از یں اخلا قی نقطہ نظر سے بھی اکر ہم مخلو ط تعلیم کے نتا ئج کا جائز ہ لیں تو وا قعا ت کی رو شنی میںیہ مخلو ط تعلیم گا ہو ں کی جنسی بے را ہ روی ، شہو انی تحر یکا ت اور آزا دانہ معا شقے کے لیے ایک سا ز گا ر ما حو ل کتنا زیا دہ پسند کر یں گے ۔اس لیے کہ دیا جا ئے کہ مخلو ط تعلیم کے ذریعے انسا نی ذات کو حیوا نو ں کی سرزشت اختیا ر کر نے پر مجبو ر کر نا انسا نیت کی کھلی ہو ئی توہین ہے۔ اس مسئلہ میں دو سری قو مو ں کا نقطہ ئِ نظر کیا ہے۔ اس کے متعلق ہم کچھ نہیںکہہ سکتے لیکن ایک غیر ت مند مسلما ن کبھی ایسے گوارا نہیں کر سکتا کہ اسکی بچی کو ایک حیا سوز ما حو ل میں چند لمحو ں کے لیے بھی دا خل کیا جا ئے، غا لباً اسی غیر ت قومی کا ثبو ت دیا ہے ، اس مر دِ مو من نے جس نے صر ف اس لیے بر طا نیہ کو خیر آبا د کہہ دیا ہے کہ وہ اپنی بچی کو شر م و حیا کے مقتل میں بھیج کر زند ہ در گو نہیں کر نا چا ہتا تھا۔ وہ اپنے مثا لی کر دا ر کے ذریعہ یہاں کے مسلما نو ں کے لیے جو نقش چھو ڑ گیا ہے ہمیں امید ہے کہ وہ ہما ری قو می غیر ت کو ضر و ر بیدا ر کر ئے گا۔آخر میں حکومت بر طا نیہ کے دانشو رو ں کی تو جہ ہم اس نکتہ کی طر ف مبذ ول کر وا نا چا ہتے ہیںکہ پاک و ہند کے مسلما نو ں کا قومی اور مذہبی مز اج اُن سے مخفی نہیں ہے ایک طو یل عر صہ تک انہیں ہما رے قر یب رہ کر ہمیں سمجھنے کا موقع ملا ہے ۔اپنے دیرینہ تجر با ت کی رو شنی میں وہ اچھی طر ح جا نتے ہیں کہ ہما رے یہا ں لڑ کیو ں کی تر بیت اور ان کے رہن سہن کا مسئلہ کیا ہے۔ اس لیے اپنے ملک میں ایک معزز شہر ی کی حیثیت سے انہو ں نے جن مسلما نو ں کو رہنے کی اجا ز ت دی ہے ہمیں امید ہے کہ وہ ان پر کوئی ایسی شر ط مسلط نہیں کر یں گے جس سے ان کے قو می اور مذہبی جذبہ کو ٹھیس پہنچے اور وہ عبو ر ہو کر یہاں سے فر ار کا راستہ اختیا ر کریں، پاک وہند میں آج بھی انگلستان کے جو شہر آبا دہیں ، انہیں جبر ی قا نون کے ذریعہ ہر گز اس کے لیے عبو ر نہیں کیا جا تا کہ وہ اپنی قومی تہذ یب اور اپنی مذہبی رو ایا ت سے دستبر دا ر ہو جا ئیں ۔ اس پے ہم امید کر تے ہیں کہ بر طا نیہ کے وسیع فر ما ں روا مخلو ط تعلیم کے مسئلہ کا اس ر خ سے اگر جا ئز ہ لیں کہ اسے با خیر نا فذ کر نے سے ایک قو م کی تہذ یبی رو ایت مجرح ہوتی ہے تو ہمیں یقین ہے کہ ہما ری دشواریوں کا کوئی نہ کوئی حل ضر و ر نکل آئے گا آخر آج سے چند سال قبل سکھو ں کی پگڑی کے خلا ف حکو متِ بر طا نیہ نے جو سر کلر جا ر ی کیا تھا، وہ صر ف اس بنیاد پر وا پس لیا گیا کہ اس سے ایک قو م کے مذہبی جذبہ کو ٹھیس لگتی تھی، مخلو ط تعلیم کے سو ال پر بر طا نیہ کے مسلما نو ں کی بے چینیوں کے ازا لے کے چند تجا ویز مر کزی جمیت تبلیغ الا سلام بر یڈ فو رڈ کی طر ف سے پیش کی جا رہی ہیں اگر ان میںسے کوئی قا بل قبول ہو تو ہمد ر د ی کے جذبہ کے سا تھ اس پر غو ر کیا جا ئے۔ تجا ویز :۔ ۱۔ مخلو ط تعلیم کے بجا ئے لڑ کیوں کی جدا گا نہ تعلیم کا سلسلہ جا ری رکھا جائے جیسا کہ عہد قد یم سے آج تک کا سسٹم چلا آرہا ہے، ۲۔ اگر یہ تجو یز قا بلِ قبول نہ ہو تو مسلما نو ں کو اپنی لڑ کیوں کا علیحدہ سکو ل کھولنے کے لیے معقول گر انٹ دی جا ئے ۔ پیر سید معرو ف حسین شا ہ عا ر ف نو شاہی کے زیر سر پر ستی پیش کی جا نے والی دو سری تجو یز کو حکو مت بر طا نیہ نے اخلا قی طور پر تسلیم کر لیا اس میں کوئی شک نہیں کہ بر طا نیہ مسلما ن لڑ کیوں کے علیحدہ سکول کے بننے کا عمل اس تجو یز کے بہت دیر کے بعد سا منے آیا لیکن الحمد اللہ اس وقت بر طا نیہ مسلمان لڑ کیوں کیلئے علیحد ہ سکول مو جو د ہے۔








اسلامک مشنر ی کالج کا قیا م پیر سید معرو ف حسین شا ہ عا ر ف نو شاہی نے بر طا نیہ کے قیا م کے در ران ایک با ت کو خا ص طو ر پر محسو س کیا کہ ہما رے پا س تبلیغ اسلام وہ نظا م موجو د نہیں جو غیر مسلمو ں میں اسلام پھیلا نے کے لیے مفید ثا بت ہو سکے، کیونکہ عربی درسگا ہوں سے عام طو رپر علما ئے کر ام فا رغ ہوتے ہیں انہیں دنیا کی دو سری زبانیں نہیں آتی کہ وہ دوسرو ں قو م کے سا تھ افہام و تفہیم کا رابطہ قائم کر سکیں، اور انگر یز ی کا بچو ں اور یو نیو ر سٹیو ں کے تعلیم یا فتہ افرا د اس میں کوئی شک نہیں کہ دو سری زبا نو ں بھر پو ر قدر ت رکھتے ہیں مگر ان کے پاس دین کا اتنا علم نہیں ہو تا کہ وہ اسکی صحیح انداز میں وکا لت کر سکیں، سو پیر صا حب نے محسوس کیاکہ ایک ایسے ادا رے کا قیام عمل ہی لا یا جا ئے جہا ں علما ئے اسلام کو بین الا قو امی زبا نو ں میں سے کسی ایک زبا ن میں لسا نی تر بیت دی جا ئے اور اسے اس قا بل بنا یا کہ وہ غیر مسلم اقوم میں دین اسلام کے فر و غ کیلئے کا م کر سکیں،اس مقصد کیلئے ورلڈ اسلامک مشن کے زیر اہتما م اسلامک مشنر ی کا لج کا قیام پیر صا حب کی ایک بہت بڑ ی کا میا بی تھی ، 14 اگست1974 اس کا لج کا افتتا ح ہو ا، کویت کے الشیخ محمد سلیمان نے اس کا افتتا ح کیا ۔ اس سے پہلے کہیں بھی اس طر ح کا کوئی ادا رہ اور پھر خا ص طو ر پر یو رپ میں ایسے کسی ادارے کے قیا م کے متعلق سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا لیکن پیر صاحب کی کوشش اور بے پنا ہ اس مشکل تر ین کا م کو ممکن بنا دیا۔اس مقصد کے لیے بریڈ فو رڈ میں بر یڈ فو ر ڈ یو نیو رسٹی کے با لکل سا منے، پتھر کی ایک عما ر ت چا لیس ہز ار پو نڈ میں خر ید لی گئی جس میں اٹھا رہ چھوٹے بڑے کمر وں کے علا وہ دو وسیع تر ین ہا ل بھی مو جو د ہیں، اور اس میں دا خل ہو نے والے طا لب علمو ں کے متعلق یہ طے کیا گیا کہ دنیا کے کسی بھی خطے سے صر ف وہی مسلم طلبہ کا لج میںداخل کئے جا ئیں گے جو صحت ، ذہا نت ، دیانتدا ر ، طبعی اوصا ف اخلا قی محاسن اور عمل و تقو ی کے اعتبا ر سے کالج مطلو بہ معیا ر پر پو رے اتر تے ہو ں، کالج کی طر ف سے طلبہ کو رہا ئش علاج، اور درسی کتب کی سو لتوں کے علاوہ حسب استطاعت و طا ئف دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ۔ اسلامک مشنر ی کالج کے اغرا ض و مقا صد میں دو بنیا دی با تیں رکھی گئیں، ایک یہ کہ جد ید عربی ، انگر یز ی ، فرنچ ، ، ڈچ اور دنیا کی دو سری لٹر یر ی زبا نو ں میں علما ئے اسلام کو تحر یر و تقر یر ی کی تر بیت دنیا اور انہیں دعو ت و تبلیغ کے فکر ی او ر عملی وسا ئل سے مسلح کر کے اس قابل بنا نا کہ وہ غیر مسلم اقوام میں تبلیغ اسلام کا فر یضہ سر انجام دے سکیں، اور دو سری با ت یہ رکھی گئی کہ افر یقہ ، یو ر پ اور امر یکہ کی مسلم آبا دیوں میں جا بجا دینی تعلیم کے مرا کز قا ئم کر نا اور ما حو ل کی ضر و ر ت کے مطا بق ہر ملک کے لیے دینی تعلیم کا ایسا نصا ب تیا ر کر نا جو وہا ں کے مسلما ن بچو ں اور نو جوا نو ں کو اسلام سے مر بو ط رکھ سکے۔ تعلیمی نظام دو طر ح کے نصا ب پڑ ھا ئے جا نے کا فیصلہ کیا گیا پہلا نصا ب تعلیم ان ملکو ں میں رہنے والے مسلما ن بچو ں کے لیے ہوگا، جہا ں پانچ سا ل سے لے کر سو لہ سا ل کی عمر تک جبر ی تعلیم کا قانو ن نا فذ ہے یہ یو میہ دو گھنٹے کا پا ر ٹ ٹا ئم کو رس ہو گا ، جو مختلف مر احل سے گز ر تا ہوا دس سال میں مکمل ہوگا دو سرا نصا ب تعلیم جسے کا لج لیو ل کا نصا ب کہا جا ئے گا ان علما ئ کے لیے ہو گا جو کسی بھی مستند عر بی دا ر العلوم سے در جہ فضلیت پاس کر چکے ہو ں گے ، اس کو ر س کو مر حلہ ئِ تحقیق ﴿ڈاکٹر یٹ آف فلا سفی﴾ کے نام سے مو سوم کیا جا ئے گا۔ ڈاکٹر یٹ آف فلا سفی کا کو رس عر بی ، انگر یز ی ، فر نچ سوا جسلی اور ڈچ زبا ن سے کسی ایک زبا ن میں تین سا ل کے اند ر مکمل کیا جا سکے گا ۔ یہ کو رس پانچ فیکلٹز پر مشتمل ہو گا، فیکلٹی آف اسلامک مشنر ی لٹر یچر ، فیکلیٹی آف اسلامک مشنر ی آرٹ فیکلٹی آف اسلامک مشنر ی سا ئنس، فیکلٹی آف اسلامک مشنر ی فلا سفی، فیکلٹی آف اسلامک مشنر ی ایڈ منسٹر یشن ، پر فیکلٹی کے طا لب علم کے لیے اختیا ر ی مضا مین کے علا وہ نو عد د لا زمی مضا مین بھی ہو نگے۔ ۱۔ لند ن یو نیو رسٹی کا اولیول اور اے لیول کو ر س، ۲۔ ایک زبا ن سے دو سری زبا ن میں کتا بو ں اور مضا مین کے تر جمے ۳۔ مختلف مو ضو عا ت پر انشا بر دا ر ی و مضمو ن نگا ر ی ۴۔ مختلف عنوا نا تپر بر خستہ تقر یر وں کی مشق ۵۔ زندگی میںپیش آنے والے مسائل پر بحث و مذ اکر ہ ۶۔ دنیا کے مختلف ادیا ن و تحر یکا ت کا تقابلی مطا لعہ ، ۷۔ تبلیغی ،تنظیمی اور اثطا می امو ر کی عمل مشق ۸۔ تر بیتی سفر اور نئے ما حو ل کو متا ثر کر نے کا تجر بہ ۹۔ معلوما ت عا مہ او مشا ہد ۔ اس کالج کی انتظامیہ مغر بی اور مشر قی علوم کے ما ہر ین پر مشتمل دو مجا لس کی صو ر ت میںبنا ئی گئی، ایک گو ر ننگ با ڈی اور دو سری اکیڈ مک بو ر ڈ ، اکیڈ مک بو ر ڈ میں دنیا بھر کے مختلف حصو ں سے قدیم و جد ید علوم کے ننا نو ے دانشو رو ں کا انتخا ب کیا گیا اور گورننگ با ڈی میں پیر سید معر و ف شا ہ عا ر ف نو شاہی کے سا تھ در ج ذیل شخصیا ت شا مل تھیں۔ ۱۔ ڈاکٹر حنیف اختر کا ظمی پی ایچ ڈی ﴿لند ن﴾ ڈی آئی سی بیر سٹر ایم آئی ای ایف﴿انسٹ﴾ پی سی﴿رنگ﴾ بی ای ﴿وڑٹنگ پر و فیسر کو یت یو نیو رسٹی﴾ ۲۔ علامہ الحا ج ارشد القا دری ﴿فاصل در س نظا میہ مبا رک بورڈ﴾ ۳۔ الحاج راجہ محمد عارف ۴۔ الحاج غلام السید یں ﴿ایم اے چا ر ٹر ڈا کاونٹنٹ ﴿لندن﴾﴾ ۵۔ علامہ قمر الزما ن اعطمی مصباجی ﴿فاصل علوم ﴾ ۶۔ الاکتو ر محمد عو نی الطا ئی البعدا د ی ﴿ڈی آرک لندن﴾ ۷۔ علامہ ابو المحمود ﴿نشتر﴾ ایم اے فا صل عر بی اسلامک مشنری کالج کے زیر اہتما م ہر سال ایک تعلیمی کا نفر نس کا انعقا د کیا جا تاتھا جس میں طا لب علمو ں کو اسنا د عطا کی جا تی تھیںاسلامک مشنر ی کا لج میں جو اسا تذہ کرام اس وقت پڑ ھا تے ہیں ان کے نام در ج ہیں۔ حضرت علامہ محمد سعید احمد سعید ی، حضرت علامہ حا فظ محمد اسلم حضرت مفتی عبداللہ قادری حضرت علامہ علی اکبر سجا د حضرت علامہ منصو ر احمد میرپو ری حضرت علامہ عبد لطیب کا شمری حضرت مو لانا محمد بو ستان نا فر مو لانامسعو د احمد میر پو ری مولاناگل نوا ر چشتی سید ظہور الحسن شا ہ علامہ محمد حنیف قمر ڈاکٹر علی عراقی اسلامک مشنری کالج کی چھٹی سا لانہ تعلیمی کا نفر نس جوپیر سید معر و ف حسین شا ہ عار ف نو شاہی کی زیر نگرا نی ہو تی اس کے اشتہا ر سے پتہ چلتا ہے کہ اس مو قع پر قر آن مجید حفظ کرنے والے پند رہ طلبا ئ کی دست بندی کی گئی،


﴿اشتہا ر کا عکس﴾


اسلامک مشنر ی کا لج کے زیر اہتما م دینی تر بیتی کیمپ بھی لگا تے جا تے تھے، اس سلسلہ میں پیر صا حب نے بر یڈ فو ر ڈ میں چا لیس روزہ دینی تر بیتی کیمپ کا اہتما م کر ایا ، ان تر بیتی کیمپو ں کی ضر ورت اس لیے محسو س کی گئی کہ یو رپ کے جن مما لک میں مسلمان رہتے ہیں، وہا ں کی سو سا ئٹی مسلما ن بچو ں اور نو جوا نوں کے لیے بہت تبا ہ کن ہے، سو اس با ت کی ضر و ر ت تھی کہ نئی نسل کو فکر ی اور اخلا قی طو ر پر اسلام کے سا تھ مر بو ط رکھا جا ئے اس لیے انہوں نے چا لیس روزہ دینی تر بیتی کیمپ کا اہتمام کیا کہ نو جو ان چا لیس دن ایسی رو حانی اور فکر ی تر بیت گا ہ میں گزا ر یں ، جہا ں با ہر کی دنیا سے انکا کوئی تعلق نہ ہو تا کہ وہ خا لص دینی ما حو ل کا اثر آسانی سے قبو ل کر لیں، ان چا لیس دنو ں میں علمی اور عملی طر یقو ں سے انہیں دینی زند گی سے اسقد ر ما نو س کر دیا جا ئے کہ وہ نا سا ز گا ر ما حو ل میں بھی اپنا اسلامی تشخص بر قر ار رکھ سکیں اس سلسلے میں جو کو ر س تر تیب دیا گیا تھا وہ اسلامی انداز کی شخصیت کی تعمیر کیلئے بہت جا مع اور بنیا دی تھا۔


اشتہا ر جلسہ دستا ر بند ی ، اسلامک مشنر ی کا لج چا ر طالب علمو ں کے حفظ کر نے پر اشتہا ر 19 اگست1981 تقر یبا ًوہی اسا تذہ ہیں علما ئے کر ام میں مفکر اسلام پر سید عبد القا درشا ہ صاحب گیلا نی ، حضرت پیر زا ہد حسین صاحب رضو ی صا حبزادہ محمد امدا د حسین چشتی زیر سر پر ستی ، پیر سید ابو الکما ل بر ق نو شا ہی

چھٹی سالانہ کا نفر نس کے ﴿اشتہا ر﴾ کی تفصیلا ت اسلامک مشنر ی کا لج بر یڈ فو رڈ 26 اکتو بر 1986 چھٹی سا لا نہ تعلیمی کا نفر نس زیر صدا ر ت ، ڈا کٹر سید حنیف اختر کا ظمی چیئر مین اسلامک مشنر ی کا بر یڈ فو رڈ زیر نگر انی سید پیر معر و ف حسین شا ہ نو شاہی بانی دی ورلڈ اسلامک مشن

مر کز ی جمیت تبلیغ اسلام ،

و ائس چیئر مین ۔ اسلامک مشنر ی کا لج بر یڈ فو رڈ ۔ مہما ن علما ئے کرام / حضر ت علا مہ قمر الز ما ن صا حب اعظمی ، مفتی غلام رسول صاحب شیخ ﴿الحدیث﴾ ، سید محمد مظہر شا ہ لا ہو ر ی، مو لا نا غلا م رسو ل خطیب چکسورا ی، مو لا نا حا فظ محمد فا ر وق چشتی ، علا مہ خا لد حسین نو شاہی ، علا مہ غلام مر تضیٰ صا بر نو شا ہی ، مو لا نا قا ر ی غلام یسٰین صا حب، حضرت مو لا نا قا ری محمد اقبا ل نو شاہی ، علامہ محمد بشیر صا حب سیا لو ی، مو لا نا سید کو ثر حسین شا ہ نو شاہی، مو لا نا سید طا ہر شا ہ ابر ار ، صا حبزادہ سید قطب شا ہ ابدال ۔

درس نظا می کی تعلیم دینے والے اسا تذ ہ ۱۔ علامہ محمد سعید احمد صا حب سعید ی ۲۔ حضرت علامہ حا فظ محمد اسلم صا حب ۳۔ حضرت مفتی محمد عبداللہ صا حب قادری ۴۔ حضرت علامہ علی اکبر سجاد ۵۔ علامہ مقصو د احمد میر پو ری ۶۔ علامہ عبد الطیف کاشمیر ی ۷۔ مولا نا محمد بو ستان نا صر ۸۔ مو لا نا مسعو د احمد میر پو ری ۹۔ مو لا نا گل نوا ز چشتی ۰۱۔ سید ظہو ر الحسن شا ہ ۱۱۔ علامہ محمد حنیف قمر ایم اے ۲۱۔ ڈاکٹر علی عراقی

اشتہا ر اسلامک مشنر ی کالج 13 طا لب علم کے حفظ کر نے پر انکی دستا ر بند ی کا جلسہ زیر صد ارت :۔ صا حبز ادہ سلطا ن پیر فیا ض الحسن، زیب آستانہ عالیہ ، سلطا نیہ قا دریہ جھنگ مہما ن خصوصی:۔ پیر سید ابو الکمال بر ق نو شا ہی ، سجا دہ نشین ، آستانہ عالیہ ، نو شا ہیہ قا در یہ گجرا ت 17 اگست 1983بروز اتوار علمائے کرام :۔ استا زالعلما ئ حضرت علامہ مفتی گل رحما ن بر منگھم مو لا نا حا فظ محمد عظیم نو شاہی ، مو لا نا غلا م مر تضیٰ صا بر نو شاہی ، مو لانا حافظ محمد فا رو ق، حضرت مو لانا محمد طفیل اظہر ، نازش خطا بت ، مو لانا غلام رسول خطیب چکسوار ی ، حضرت مو لاناقار ی محمدابرا ہیم ، مو لا نا پیر سید کو ثر حسین شاہ ، مو لا نا محمد وز یر احمد خا ن، نو شا ہی۔ اسا تذہ کر ام میں وہی نا م جو پہلے اشتہا ر میں در ج ہیں۔







کنز الایما ن کسی ایک زبا ن کی عبا ر ت کو دو سر ی زبا ن میں منتقل کر نا انتہا ئی مشکل کا م ہے اور اگر یہ عبا ر ت شعر ی و ادبی انداز کی ہو تو یہ مشکل اور بھی سنگین ہو جا تی ہے۔ متر جم لاکھ کو شش کر ے اصل عبا ر ت کی فصا حت و بلا غت پو ر ی طر ح دو سری زبا ن میں منتقل نہیں کر سکتا تر جمہ میں اول تو وہ حسن بر قر ار نہیں رکھا جا سکتا جو اصل میں تھا ۔ پھر یہ کہ دو سر ی زبا ن میں اصل زبان کے الفا ظ کا صحیح بدل اور متبا دل تلا ش کر نا بہت مشکل ہے یہ مشکل مز ید کئی گنا بڑ ھ جا تی ہے جب اصل عبا ر ت ایک انتہا ئی وسیع زبا ن میں ہو اور جس زبا ن میں تر جمہ کر نا ہے وہ محدود ہو ۔ سا ری دنیا جا نتی اور ما نتی ہے کہ عر بی زبا ن انتہا ئی وسیع زبا ن ہے اس میں ایک چیز کے لیے بہت سے الفا ظ استعما ل ہو تے ہیں۔ مثلا ً علامہ حمزہ نے مصیبت ﴿دَا ھِیَۃ﴾ کے لیے عربی میں استعما ل ہو نے والے الفاظ جمع کر نے کی کو شش کی تو وہ چا ر سو الفا ظ تک پہنچ کر تھک گیا اس کے لیے اتنے الفا ظ آئے کہ ما ہر ین لغت نے استقصا ئ کی کوشش کی تو تھک کر کہہ دیا ’’ مصیبت کے لیے آنے والے الفا ظ نے تو ہمیں مصیبت میں ڈا ل دیا ﴿فجر الا سلام صفحہ 162 ﴾ ایک ہی زبا ن میں اتنے سا ر ے الفا ظ کو لو گ عا م طو ر پر مترا د فا ت کہ دیتے ہیںیعنی ہم معنی الفا ظ ہیں لیکن ایک زبا ن میں جب پہلے سے ہی کو ئی لفظ مو جو د تھا ۔ تو کسی کو کیا پڑ ی تھی کو وہ دو سرا لفظ اُسی زبا ن میں وضع کر نے کا تر دد کر ے نہیں ان تما م الفا ظ میں تھو ڑا تھوڑا فر ق ضر ور ہو تا ہے ۔ عرب بد و جنکی سا ر ی زند گی زیا دہ تر مصا ئب میں بسر ہو تی تھی انہو ں نے مصا ئب اور اس کی بہت سی قسموں کے لیے الگ الگ الفا ط وضع کئے ظا ہر ہے مصا ئب کئی قسم کے ہیں مثلا ً ذہنی صد مہ ہے جسما نی صد مہ ہے پھر انہو ں نے ذہنی صد مو ں کی ہر قسم کے لیے الفا ظ وضع کئے محبو بہ کی طر ف سے بیو فا ئی کا صد مہ ، بھا ئیو ں کی طر ف سے بیو فا ئی کا صد مہ اولا د کی طر ف بیو فا ئی صد مہ جسمانی صد مے ہزا ر قسم کے ہیں مو سم کی مصیبت با دسمو م چل پڑ ی با ر ش زیا دہ ہوئی اور خیمے بیکا ر ہو گئے ، با ر ش نہ ہو ئی اورجا نو ر وں کی گھا س ختم ہو گئی گھر اکھا ڑ نا پڑ ا، بجلی گر گئی ، ژالہ با ری سے نخلستا نو ں کو نقصا ن ہوا ، جسم کے صد مو ں میں زخم ہیں چو ٹ لگی، چو ٹ سے زخم آیا، یا جسم پر ہی نیل پڑ گیا ، ہڈی ٹو ٹ گئی ، تلو ار کا زخم ، نیز ے کا زخم کلہا ڑی بھا لے کا زخم غر ضیکہ ایسے تما م حا لا ت اور تما م کیفیا ت جن کیلئے ہم ایک پو رے جملہ میں مفہو م ادا کر پا تے ہیں عر ب ایک لفظ استعما ل کر تے ہیں ﴿ONE WORD﴾ ۔ اور اسی چیز کو وسعت زبان کہتے ہیں۔ عر بی زبان میں ایک چیز ہے ’’با ب ‘‘ اسکے بد ل جا نے سے معا نی میں تھوڑا فرق آ جا تا ہے با ب اٹھا رہ ہیں اور ہر با ب ایک ہی لفظ سے مشتق الفا ظ کے معا نی کو دو ر تک لے جا تا ہے قرآن کے متر جم با لعمو م اس کا خیال نہیں رکھتے پھر عر بی میں ایک اور چیز ہے جسے لغتِ اضدا د کہتے ہیں یعنی بعض الفا ظ ایسے ہیں کہ انکے دو معنی ہیں اور دونو ں ایک دو سرے سے متنا قض اور متضا د، جیسے ’’ اشترٰی ‘‘ کا لفظ ہے کہ اس کے معنی خر ید نا اور بیچنا بھی ، ہیں لفط اپنے محل ِ استعما ل سے اپنے معا نی واضح کر تا جا تا ہے ۔ قر آن کا تر جمہ کر نے والے کو اس کا بھی خیا ل رکھنا پڑ تا ہے۔ پھر ایک ہی لفظ ہے جو عر ب کے مختلف علا قو ں میں مختلف معا نی میں استعما ل ہو تا تھا جیسے ’’ لبن‘‘ کا لفظ حجا ز میں دو د ھ کے معنو ں میں استعما ل ہو تا تھا اور اس سے مختلف ابوا ب کے تحت مختلف الفاظ وضع ہو ئے تھے ۔ ’’ لبین ‘‘ ’’لبانہ‘‘ لبنی ‘‘ وغیر ہ اور سب میں بنیا دی لفظ لبن کے معنی یعنی ’’ دود ھ ‘‘ مو جو د تھا ۔ نجد میں دود ھ کے لیے حلیب کا لفظ استعمال ہوتا تھا ۔ اور پتلے دہی ﴿جو لسی کی حا لت کے قر یب ہو ﴾ کے لیے لبن کا لفظ بو لا جا تا تھا ۔ آج جب نجد یو ں کی حکو مت عر ب پر آئی تو بڑ ے افسوس کی با ت ہے کہ انہو ںنے اپنے علا قہ کی زبا ن کو عربی پر حا وی کر نے کی مہم شر و ع کر دی ۔ یو ں عربی ئِ مبین کو فنا کیا جا رہا ہے ۔ اب وہ ’’ حلیب‘‘ اور ’’لبن ‘‘ کو اپنے معنو ں میں استعما ل کر رہے ہیں وہ یہ نہیں سو چتے کہ اس طر ح وہ عر بی کے بہت سے الفاظ کو بے معنی کر رہے ہیں ۔ مثلا ً ’’ لبینہ ‘‘ زیا دہ دو د ھ والی بکر ی کو کہتے تھے تو کیا آج اس کے معنی زیا دہ لسی یا دہی دینے والی بکر ی کے معنی لیے جا ئیں گے خیر یہ الگ بحث اور بہت بڑا مو ضو ع ہے۔ قرآن حکیم عر بی ئِ مبین میں نا زل ہو ا قرآن حکیم کا تر جمہ کر تے ہو ئے اس با ت کو بھی دیکھا جا نا چا ہیے کہ نزول قرآن کے وقت عربی مبین میں اسکے کیا معنی تھے۔ ایک با ت اور بھی ہے اور وہ یہ کہ ایک ہی لفظ کے سا تھ حر فِ جا ر ﴿Proposition﴾آکر لفظ کے معنی بد ل دیتا ہے ۔ مثلا ً ’’ ضر ب‘‘ کے سا تھ ’’ ب‘‘ کا حر ف جا ر آئے تو اسکے معنی کسی چیز کے تو سط سے کسی چیز کو ما رنے کے ﴿TO BEAT WITH یا TO STRIKE WITH ﴾ ضرب کے سا تھ ’’ ل ‘‘ آئے تو اسکے معنی بیا ن کر نے کے ہیں یعنی صر ب لھم ﴿اس نے انکو بتا یا ﴾ ضر ب کے بعد فی آگیا تو ضر ب فی الارض کے معنی ہو گئے وہ سفر کے لیے نکلا ۔ اسی طر ح ضر ب علی کے معنی بند کر دینے کے حروف جا ر بد لنے سے لفظ کا اصل مفہو م بد ل جا تا ہے یہ با ت صر ف عربی یا انگر یز ی زبا ن میں ہے انگر یز ی میں بھی MAKE UP کے معنی ہیں کمی پو ر ی کر نا MAKE OUT کے معنی ہیں سمجھ لینا GET UP کے معنی اٹھنا ، جا گ اٹھنا GET AT رسا ئی حاصل کر نا GET OUT کوئی جگہ چھو ڑ کر نکل جا نا GET ON سوار ہو نا وغیرہ ۔ اس مو ضو ع پر ایک انتہا ئی جا نفشا نی سے مر تب کی جا نے والی کتاب ’’ معنی اللبیت ‘‘ ہے ۔ قرآن کے متر جم کو اس پر بھی عبو ر ہو نا چاہیے ۔ عربی کے بعض الفا ظ کثیر ا لمعا نی ہیں محل استعمال کو دیکھ کر معا نی کا تعین ہو جا تا ہے قرآن حکیم کے تر جمہ میں اس کا خا ص خیال رکھنا چاہیے۔ زندہ زبا نو ں کا ایک خا صہ یہ ہو تا ہے کہ وہ دو سری زبا نو ں کے الفا ظ ہضم کر تی جا تی ہیں اور اپنی لغت میں وسعت پیدا کر لیتی ہیں مثا ل کے طو ر پر ’’ سجیل ‘‘ کا لفظ قرآن پاک میں استعمال ہوا مگر یہ عربی لفظ نہیں جو الفا ط عر بی نے دو سری زبا نو ں سے لیے ہیں اور تھوڑ ی تبد یلی سے اپنا لیے ہیں انہیں معرب کہتے ہیں ’’ سجیل ‘‘ بھی معرب ہے یہ فا ر سی لفظ ’’ سنگ ِ گِل ‘‘ مٹی سے بنا ہوا پتھر ﴿یا سنگر یز ہ﴾ سے معر ب کر ایا گیا ہے قرآنِ کے متر جم کو اسیے الفا ظ کے سا تھ یہ بھی معلو م ہو نا چاہییکہ وہ لفظ اپنی اصل زبا ن میں کن معنوی میں مستعمل تھا۔ بعض ایسے الفا ظ ہو تے ہیں جو ایک زبا ن سے دو سری زبا ن میں منِ و عن اپنی اصل صو ر ت میں چلے جا تے ہیں مگر ان کا مفہو م ساتھ نہیں جا تا بلکہ کسی اور مفہو م میں استعما ل ہو نے لگتے ہیں اب اگر متر جم اس لفظ کو دیکھے اور یہ سمجھے کہ میری زبا ن میں بھی لفظ مو جو د ہے اور وہی لفظ استعما ل کر تے تو بھی مفہو م پر بہت اثر پڑ تا ہے مثا ل کے طو ر پر ’’ رَ قِیب ‘‘ عربی زبا ن کا لفظ ہے جس کے معنی ’’ نگر ان کا ر ‘‘ ہیں یہ لفظ اللہ کے صفا تی نا م کے طو ر پر قرآن ِ حکیم میں بھی استعما ل ہوا فا ر سی اور اردو میں یہ لفظ اپنی اصل حالت میں مو جو د ہے مگرا س کے معنی کچھ اور ہو گئے ہیں ایک محبو ب کے دو چا ہنے والے ایک دو سرے کے رقیب کہلا تے ہیں ۔ انہیں ایک دو سرے کا دشمن سمجھا جا تا ہے فا رسی اور اردو شا عری کا بڑا حصہ رقیب روسیا ہ کو گا لیا ں دینے پر مشتمل ہے اگر ہم تر جمہ ئِ قرآن میں بھی اسی طر ح یہ لفظ استعمال کر دیں تو مفہوم اور کا اور ہو جا تا ہے ۔ یا مثلا ً ’’ مکر ‘‘ کا لفط یا ’’ کید ‘‘ کا لفظ عر بی میں خفیہ تد بیر کے معنو ں میں استعمال ہو تا ہے اردو میں مکر کا لفظ مو جو د ہے مگر یہ انتہا ئی مکر وہ معنو ں میں استعما ل ہو تا ہے ادھر قرآن حکیم نے یہ لفظ خدا کے استعمال کیا ہے اور تر جمہ کر نے والو ں نے یہاں احتیا ط ملحوظ نہیں رکھی۔ فصیح و بلیغ زبا نو ں میں ’’ محا ورا ت ‘‘ استعمال ہو تے ہیں اور انکا استعما ل حسن بیا ن سمجھا جا تا ہے محا ورہ میں الفا ط اپنے حقیقی معنو ں کی بجا ئے مجا زی معنوی میں استعمال ہو تے ہیں اس لیے انکا لفظی تر جمہ بہت بڑی حما قت ہے کیو نکہ اس سے مطلب ’’ غتر بو د ‘‘ ہو جا تا ہے مثا ل کے طو ر پر ’’ با غ با غ ہونا‘‘ اردو زبا ن کا محا ورہ ہے جس کے معنی بہت خو ش ہو نا ہیں اب اگر ایک ادمی ’’ وہ با غ با غ ہو گیا ‘‘ کا فا رسی زبا ن میں یو ں تر جمہ کر ے ’’ او گلز ار گلزارشُد ‘‘ یا انگر یز ی زبا ن میں یہ تر جمہ کر ے HE BECAME GARDEN ANDD GARDEN تو کیا آپ کو اس کے پاگل پن کا یقین نہیں ہو جائے گا ۔ عربی بری فصیح و بلیغ زبا ن ہے اس میں ہزارو ں لاکھو ں محا ورا ت مو جو د ہیں قرآنِ حکیم نے انہیں استعما ل کیا کیونکہ تو فصیح تر ین کلا م ہے مگر متر جمین قرآن نے با لعمو م اس کا خیا ل نہیں رکھا اور وہی BECAME GARDEN AND GARDEN والی صو رتِ حا ل پیدا کر دی ۔ ایک اور با ت جس کا متر جم قرآن کو خیا ل رکھنا چا ہیے وہ ایک زبا ن کا اندازِ بیا ن ہے ظا ہر ہے ہر زبان میں بیا ن کا انداز اور پیر ایہ دوسری سے قدرے مختلف ہو تا ہے تر جمہ نگا ر کواس با ت کا خا ص خیا ل رکھنا چا ہیے اسے اصل زبا ن کے اندازِ بیان اور جس زبا ن میں وہ بات کو منتقل کر رہا ہے اس کے اندازِ بیان میں پو ری مہا ر ت ہو مثا ل کے طو ر پر قرآن ِ حکیم کی یہ آیت مبا رکہ د یکھئے۔ ’’اِنَّا نَحْنُ نَزَّ اْنَا الِذَ کْرَ اِنَّا لَہُ لَحَا فِظُوْ ن‘‘ اس آیت میں ’’ ہم ‘‘ کا لفظ چا ر دفعہ استعمال ہو ا ہے اور صر ف اس لیے کہ کلا م میں زور پیدا کیا جا ئے اب اگر تر جمہ کر نے والا لفظی ترجمہ کر تے ہوئے یو ں لکھ دیتا ہے ’’ بے شک ’’ ہم ‘‘ نے ’’ ہم نے ‘‘ ’’ہم نے ‘‘ نا زل کیا قرآن کو اور اس کی حفا ظت کر نے ہیں ۔ تو متکلم کے کلا م میں وضا حت معلو م نہیں ہو گی۔ قرآن حکیم میں ضر ب الا مثا ل تلمیحا ت اور اصطلا حا ت بھی ہیں اور جب تک انکی تشر یح نہ ہو لفظی تر جمہ سے با ت سمجھا ئی نہیں جا سکتی اس لیے علما ئے اسلام اور مشر قین اس با ت پر متفق ہیں کہ قرآن حکیم کا لفظی تر جمہ ہو ہی نہیں سکتا اسکی تر جما نی کی جا ئے اور تفسیر ی نکا ت کو سمیٹ کر اس ترجما نی میں ضم کیا جا ئے۔ اسی لیے کہا جا تا ہے قرآن حکیم کا لفظی تر جمہ تفہیم قرا ن میں مشکلا ت پیدا کر سکتا ہے۔ یہ تھیں وہ مشکلا ت جن کے پیش نظر عر صہ ئِ دِرا ز تک علما ئ اس امر پر مصر رہے کہ کسی دو سری زبا ن میں قرآنِ حکیم کا تر جمہ کیا جا ئے۔ قرآن فہمی کا طا لب عر بی زبا ن میں مہا ر ت حا صل کر ے اور پھر قرآن پر غو ر و فکر شر و ع کر ے لو گ اس پابند ی کوآ ج اُن علما ئ کی تنگ نظر ی اور علم دشمن خیا ل کر تے ہیں مگر ہما رے نز دیک ان لو گو ں کا اپنے دو ر کے مطا بق یہ فیصلہ درست تھا بلکہ آ ج بھی بڑی حد تک در ست ہے جب تک متر جم کو ان تمام امو ر میں مہا ر ت نہ ہو جو ہم نے بیا ن کئے ہیں اسو قت تک وہ تر جمہ قرآن کے کام میں ہا تھ نہ ڈا لے ۔ قر آن حکیم کا سب سے پہلا تر جمہ فا ر سی زبا ن میں شیخ سعد ی شیرا زی نے کیا اسی تر جمہ کو سا منے رکھ کر پھر فا ر سی میں شا ہ ولی اللہ دہلوی نے تر جمہ کیا اسکے بعد اردو میں شا ہ عبد القا در اور شا ہ رفیع الد ین کے تر جمے آئے پھر مختلف لو گو ں نے تر اجم کئے۔ ان تر اجم کی خا میوں کو دیکھ کر اما م احمد رضا خا ن کو تحر یک ہو ئی اور انہو ں نے کنز الا یمان کے نام سے قرآن حکیم کا تر جمہ کیا جو ایک طر ح کی تر جما نی ہے کہ اس میں تفسیر کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے ۔ اما م احمد رضا خا ن کی ولا دت بر یلی شر یف کے محلہ جسو لی میں 10 شوال 1272 �÷ ہجر ی بمطا بق 14 جون1856�÷ ئ ہوئی آپ کا سن ولا دت قرآن حکیم کی اس آیت مبا رکہ سے نکا لا گیا ۔ ’’اُ و لٰئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْ بِھِمْ الایْماَن وَ اَیَّد َ ھُمْ بِرُوْ ح ٍ مِّنْہُ‘‘ ﴿یہ وہ لو گ ہیں جن کے دلو ں میں اللہ نے ایما ن رکھ دیا اور اپنی طر ف کی رو حا نیت سے ان کی مد دکی ﴾ آپ کے والد بز ر گوار کا نا م مو لا نا محمد نقی علی خا ن تھاآپ نے تقر یبا ً تمام کتا بیں اپنے والد بز ر گوار سے پڑ ھیں عربی ادب ، تفسیر ، حدیث ، فقہ اور اپنے زما نہ کے دیگر علوم میںمہا ر ت نامہ حا صل کی اور مسند افتاد پر فا ئز ہو ئے آپ نے تقر یبا ً ہر دینی مو ضو ع پر بے شما ر کتب تصنیف کیں اور بہت سے مسا ئل میںجا مع و مفصل فتو ے دیئے۔ آپ کے بے پنا ہ دینی کا م کی تفاصیل اس وقت ہما را مو ضو ع نہیں اس وقت ہما را مو ضو ع کنز الا یما ن ہے ۔ ’’ کنز الا یما ‘‘ اور دیگر تر اجم قرآن کا تقابلی مطا لعہ بہت بڑ ا مو ضو ع ہے اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا اور لکھا جائے گا ۔ میں زیا دہ تفصیل میں نہیں جا سکتا صر ف چند اشا را ت پر اکتفا ئ کر تا ہو ں ہمیں قرآن حکیم کھو لتے ہیں ہی چند مقا ما ت پر رُکنا پڑ تا ہے سورہ فا تحہ ایک دعا ہے اور اس دعا کا جو ا ب پورا قرآن حکیم ہے دعا میں دعائیہ کلما ت کہے جا تے ہیں خبر نہیں دی جا تی مگر یہ کیا اللہ کی تعر یف سے با ت شر وع کی گئی ما لک یو م الد ین تک تعریف ہوئی آگے یہ کلمہ آیا ۔ ’’اِیاَّ کَ نَعْبُدُ وَ اِیّا کَ نَسْتَعِیْن‘‘ اب اسکے تر اجم دیکھئے۔ ترا می پر ستیم وا ز تو مد د می طلبیم ﴿شا ہ ولی اللہ ﴾ ﴿یعنی ہم تجھے پو جتے ہیں اور تجھ سے مد د ما نگتے ہیں﴾اس تر جمہ میں ایک تو وہ حصر ا اور تخصیص نہیں جو لفظ اِیّا ک َ میں ہے دو سرے خبر ہے دعا نہیں اب اور تر اجم دیکھئے ۔ ’’تجھ ہی کو عبا د ت کر تے ہیں ہم اور تجھ ہی سے مد د چا ہیتے ہیں ہم ﴿شاہ رفیع الد ین صا حب﴾ ’’ ہم آپ ہی کی عبا د ت کر تے ہیں اور آپ ہی سے در خو است اعا نت کر تے ہیں‘ ‘﴿اشر ف علی تھا نو ی صا حب ﴾ ان ترا جم میں ’’ تجھ ہی‘‘ اور ’’آپ ہی ‘‘ کے الفا ظ سے حصرا ور تخصیص آگئی ہے اور وہ ایک اعترا ض دو ر کر دیا گیا ہے جو ہم نے شا ہ ولی اللہ صا حب کے تر جمہ میںاٹھا یا تھا مگر دو سرا اعترا ض اسی طر ح با قی ہے یعنی یہ تو خبر دی گئی ہے کہ ’’ہم تجھی کو پو جتے ہیں اور تجھی سے طلبگا ر ِ اعا نت ہو تے ہیں ‘‘ یہ دعا کے الفا ظ نہیں پھر جب کہنے والے عبا د ت بھی خدا کی ہی کر رہے ہیں اور مد د بھی اسی سے ما نگنے کے عا دی ہیں تو یہی تو صر اطِ مستقیم ہے پھر وہ آگے صر اطِ مستقیم کو نسا ما نگتے ہیں وہ تو پہلے ہی صر ا طِ مستقیم پر ہیں۔ ان اعترا ضا ت کو ذہن میں رکھیئے اور اب اعلی حضرت اما م احمد رضا خا ن کا ترجمہ دیکھئے۔ ’’ہم تجھی کو پو جیں اور تجھی سے مد د چا ہیں ‘‘﴿کنز الا یما ن﴾ سو چیے تو اب دونوں اعترا ض دو ر ہو گئے ’’تجھی‘‘ میں حصرا ور تخصیص بھی آگئی اورالفاظ بھی دیا کے ہیں اس سے اگلی آیت دیکھئے۔ ’’اِھْدِ نَا الصِّرا طَ الْمُسْتَقِیْم‘‘ ﴿بنما ما را راہِ راست﴾﴿شاہ ولی اللہ صاحب﴾ دکھا ہم کو ر اہ سید ھی ﴿شا ہ رفیع الد ین صا حب﴾ بتلا دیجیے ہم کو را ستہ سیدا ھا ﴿اشر ف علی تھا نو ی صا حب﴾ لفظ تھو ڑے بد ل گئے ہیں مگر تر جمہ ایک ہی ہے اسی تر جمہ پر ہمیں ایک تو وہی اعترا ض ہے جو پچھلی آیت کے تر جمہ سے منسلک ہے کہ جب قا ئل عبا ر ت اور دعا صر ف اللہ سے مخصو ص کر تا ہے وہ مشر ک سے ہٹ گیا اور یہی صر اطِ مستقیم ہے پھر وہ کو نسا صر اطِ مستقیم دیکھنا چا ہتا ہے ۔ دو سرا اعترا ض یہ ہے کہ سید ھا را ستہ دیکھنے کی تمنا اور التجا ایک غیر مسلم تو کر سکتا ہے مگر ایک مسلما ن ہر نماز میں یہ کیوں پڑ ھتا ہے ’’ دکھا ہم کو سید ھی را ہ ‘‘ اولیا ئ (رح) و صحا بہ (رض) بلکہ خو د حضو ر �ö بھی یہی کہتے رہے اور زند گی کی آخر ی سا نس تک کہتے رہے ’’ دکھا ہم کو سید ھی راہ ‘‘ تو کیا معاذ اللہ حضور بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﴿جملہ آپ سمجھو گئے ہم لکھنے کی گستا خی نہیں کر سکتے ﴾ ان کے مقا بلہ میں اعلیٰ حضرت لکھتے ہیں۔ ’’ چلا ‘‘اور ’’دکھا ‘‘ میں جو نا زک فرق ہے اسے آپ بخو بی سمجھ سکتے ہیں مگر ہم بھی کچھ وضا حت کئے دیتے ہیں اِحدِ فعل امر ہے جو التجا اور در خو است کے لیے بھی آتا ہے اور حکم کے لیے بھی ، ظا ہر ہے یہاں التجا کے لیے ہے امر دو قسم کا ہو تا ہے ایک وقتی اور ہنگا می دو سرے دو امی اور استمر ا ری جیسے اُدْ ع ﴿بلا اور بلا تا رہ یا بلا تا چلا جا ﴾ دو نو ں معنی دے گا ۔ ’’دکھا ‘‘ کا مفہو م ہنگا می اور وقتی ہے ’’ دکھا ہم کو سید ھی را ہ ‘‘ کہنے والے نے کہا مجھے فلا ں کے گھر جا نا ہے را ستہ دکھا ئیں آپ نے اسے دکھا دیا کہ یہ سٹر ک چلے جا ئو پھر وہا ں تک جا ئو اور اتنے نمبر پر فلا ں ہا تھ پر اسکا گھر آجائے گا بس آپ فا رغ ہو گئے۔ لیکن ’’ چلا ‘‘ میں استمرا ر اور دو ام آجا تا ہے کہ ’’ اے خدا ہمیں صر اطِ مستقیم پر ہی چلا تا جا ‘‘ ہدا یت کے تین درجے ہیں پہلا در جہ ہے صر ف رہنما ئی یعنی رستہ دکھا دینا ’’ اِنّا ھَدَ یْنٰہُ النجد ین‘‘ ہم نے دو راستے دکھا دیے۔ دو سرا در جہ ہے ’’را ہبر ی‘‘ کس نے آپ سے کسی کے گھر کا را ستہ پو چھا آپ اسکے سا تھ چل پڑ ے اور اسے مطلو بہ گھر تک پہنچا دیا ۔ یھد ی بہٰ کثیرا ﴿بہت سے لو گو ں کو اللہ اس قرآن کے ذر یعہ سے منزل پر پہنچا دیتا ہے﴾ اور ہد ایت کا تیسرا در جہ ہے انعا ما ت کی با ر ش کر نا ۔ ’’اِنِّیْ لَغَفَّا ر ’‘ لِمْنْ تَا بَ وَ آ مَنَ وَ عَمَلً صَا لِحاً ثُمَّ اھْتَدٰ ی ‘‘ ﴿یقینا میں بہت زیا دہ مغفر ت کر نے والا ہو ں اسکی جس نے تو بہ کی پھر ایما ن لا یا پھر اعما ل صا لحہ کی پھرہدا یت پا ئی ﴾ ظاہر ہے کہ تو بہ کے بعد ایما ن لا کر اعما لَ صا لحہ کر تے رہنے کے بعد ’’ہد ا یت‘‘ حا صل ہونے کے معنی ہیں انعا مات کی بارش ہدا یت کے ان تین در جوں کے لیے اعا ظم مفسر ین یہ الفا ظ استعمال کر تے ہیں ۔ ۱۔ ارا ۃ الطر یق ﴿را ستہ دکھا دینا ﴾ ۲۔ ایصا ل الی المطلوب ﴿مطلو ب تک پہنچا دینا ﴾ ۳۔ اتما مِ نعمت ﴿نعمت کی تکمیل ، انعا ما ت کی با ر ش ﴾ قر آن حکیم ھُدً ی لِلنَّا س بھی ہے یہ ہدا یت پہلے در جہ میں ہے ھَد َ ی اللہ الّذِ یْنَ اْ مَنُو لہ یہ دو سرے در جہ کی ہد ایت ہے اور ھُدً ی لّلمُتِقین تیسرے در جہ کی ہد یت ہے ۔ ’’ ہم کو سید ھا را ستہ چلا ‘‘ میں چلا کا لفظ یہ تما م مفہوم سمیٹے ہو ئے ہے ۔ ایک اور آیت یو نہی اوراق الٹنے پر سا منے آگئی آپ بھی دیکھئے ۔ ’’وَ لَماّ یَعْلَمَ اللَّہُ الَّذِ یْنَ جَا ھَدُ و ا مِنْکُمْ‘‘﴿آل عمرا ن 142 ﴾ ﴿وہنوز تمیز نسا ختہ رست خدا آنر ر کہ جہا د کر دہ اندراز شما ﴿شا ہ ولی اللہ ﴾ ابھی معلو م نہیں کئے اللہ نے تم میں سے جو لو گ لڑے ہیں ۔ ﴿شا ہ عبد القا در﴾ اور حا لا نکہ نہیں جا نا اللہ نے ان لو گو ں کو کہ جہا د کر تے ہیں تم میں سے ﴿شا ہ رفیع الدین﴾ ان ترا جم سے ظا ہر ہو تا ہے کہ لغو ذ با للہ اللہ ابھی تک یہ نہیں جا نا سکا کہ مسلما نو ں میں سے کون جہا د گر ینگے یہاں سے اللہ کی رو علمی ثا بت ہو تی تھی تر جمو ں کی اس کمزور ی کو بعد کے متر جمین نے محسو س کیا اور اسے دو ر کر نے کے لیے ہا تھ پا ئو ں ما رے اور اپنی طر ف بر یکٹیں ڈا ل کر معا ذ اللہ خد ا کی با ت کا نقص دو ر کر نے کی کوشش کی ذرا یہ نا کا م کو ششیں بھی دیکھئے۔ ’’ حا لانکہ اللہ نے ﴿ظا ہر ی طو ر پر﴾ اُن لو گو ں کو تم میں سے جا نا ہی نہیں ‘ ‘﴿عبد الما جد دریا آبا دی گو یا بعض چیز یں با طن میں اللہ جا نتا ہے ظا ہر طو ر پر نہیں جا تا نعو ذ با اللہ ۔ ظا ہر ی طو رپر وارد بر یکٹی نکتہ عبد الما جد در یا آبا دی صا حب نے اپنے مر شد اشر ف علی تھا نو ی صا حب سے اُڑا یا اب انکا تر جمہ ملا حظہ فر ما ئیے ۔ انہو ں نے ’’ یعلم ‘‘ کو ’’دیکھا ‘‘ سے بد ل کر اللہ میاں کو ﴿نعوذ بااللہ ﴾ با ت کر نے کا طر یقہ سکھا یا تھا ۔ ’’ حا لا نکہ ہنوز اللہ تعالیٰ نے ﴿ظا ہر ی طو ر پر ﴾ ان لو گو ں کو تو دیکھا ہی نہیں جنہو ں نے تم میںسے ایسے مو قعو ں پر جہا د کیا ‘‘ ﴿اشر ف علی تھا نو ی ﴾ یہ ’’ دیکھا ‘‘ والا نکتہ تھا نو ی صا حب نے الحد یث متر جم قرآن ڈپٹی نذیر احمد دہلو ی سے اڑا یا ڈپٹی صاحب قرآن حکیم کے تر جمہ میں خو اہ مخوا ہ اردو کے محا و ر ے ٹھو نسنے کی کوشش کیا کر تے ہیں انکا تر جمہ دیکھئے۔ ’’ اور ابھی اللہ نے ان لو گو ں کو ٹھو نک بجا کر دیکھا تک نہیں جو تم میں سے جہا د کر تے ‘‘ ﴿ڈپٹی نذ یر احمد دہلو ی﴾ لیکن اس قدر ہا تھ پائوں ما رنے کے با وجود کچھ نہیں بن سکا تھا ۔’’اللہ علم نہیں رکھتا ‘‘ یا اللہ کسی ایک چیز کو دیکھ نہیں پایا گر دن کے پیچھے سے ہا تھ گھما کر نا ک کو پکڑنے والی با ت تھی اعترا ض اسی طر ح اپنی جگہ پر تھا ۔ اس لییمحمو د الحسن دیو بند ی نے ’’ یعلم ‘‘ کو نئے معنی پہنا نے کے بجا ئے پھر با ت وہیں پہنچا دی جہا ں سے چلی تھی ۔ اس نے پہلے متر جمین جیسا تر جمہ لکھ دیا یعنی ۔ ’’ اور ابھی تک معلو م نہیں کیا اللہ نے جو لڑ نے والے ہیں تم میں ‘‘ ﴿محمو د الحسن دیو بند ی ﴾ یعنی با قی لو گو ں کی طر ح اللہ کو بھی یہ با ت تب معلوم ہو گی جب تم لڑ و گے ۔ اصل میں یہ سا ر ا مغا لظہ اس وجہ سے پیدا ہوا کہ بیچا رے متر جمین ’’علم ‘‘ کے صر ف ایک معنی جا نتے ہیں یعنی ’’ جا ننا ‘‘ حالا نکہ علم کے معنی جاننا بھی ہیں اور ظا ہر کر نا بھی اب اما م احمد رضا خا ن کا تر جمہ دیکھئے ۔ ’’ ابھی اللہ نے پہچا ن نہیں کرا ئی ان کی جو تم میں سے جہا د کر یں گے‘‘﴿کنز الا یما ن﴾ لیجیئے متر جم چو نکہ لغت پر عبو ر رکھتے تھے اس لیے مو قع محل کے مطا بق معنی لکھ کر سا ر ے اعترا ضا ت دور کر دییاور ہمیں اللہ کے حضور گستا خی کرنے یا گستا خانہ سو چنے سے چھٹکا ر ادلا دیا ایک اور چھو ٹی سی مثا ل در ج کر تے ہیں اور وہ بھی قر آن حکیم کی ابتدا ئی آیا ت سے ۔ ’’ذٰلِکَ الِْکتٰبْ لَا رَیْتَ فِیۃِ‘‘ اس کتا ب میں کچھ شک نہیں ﴿شاہ عبدا لقا در﴾ یہ کتا ب نہیں شک بیچ اس کے ﴿شا ہ رفیع الد ین ﴾ یہ کتا ب ایسی ہے جس میں کو ئی شبہ نہیں ﴿اشر ف علی تھا نو ی ﴾ اب اعلیٰ حضر ت کا تر جمہ دیکھیئے۔ ’’ وہ بلند رتبہ کتا ب کو ئی شک کی جگہ نہیں ’’ ﴿کنز الا یما ن﴾ اب ذر اتر جمو ں میں فر ق دیکھیئے عربی کا ابتدا ئی طا لب بھی جا نتا ہے کہ ذٰلِکَ اسم اشا رہ بعید ہے اس کے معنی ’’ وہ ‘‘ ہیں ’’ یہ ‘‘ نہیں مگر متر جمین کو معلوم نہیں کیا مجبو ری ہے کہ بالاتفا ق یہ لکھ دیتے ہیں ۔ بیچا رو ں پر یہ مجبو ر ی سوا ر ہے کہ کتا ب تو ہا تھو ں میں ہے اس کے لیے اسم اشا رہ قر یب آنا چا ہیے وہ خد ا کو تو صا ف طو ر پر کہہ نہیں سکتے تھے کہ ’’ اللہ میا ں کم از کم اسم اشا رہ بعیداور اسم اشا رہ میں فر ق تو کیا کر یں ‘‘ ہا ں ہولے سے اردو جا ننے والے قا ر ئین کو بتا دیا یہاں اللہ میا ں ’’ ذٰلِک اور تِلک ‘‘ میں فر ق نہ کر سکے اس لیے ’’ ذ ٰ لِکَ‘‘ کے معنی ’’یہ‘‘ سمجھ لیجئے۔ اگر ان حضرا ت نے گر امر کو غو ر سے پڑ ھا ہو تا اور اگر پڑ ھا تھا تو اسے تر جمہ قرآن میں پیش نظر رکھتے تو انہیں معلو م ہو جا تا کہ اہل عرب جب قر یب کی چیز کی عظمت اور شا ن بیا ن کر نا چا ہیں تو اس کے لیے اسم اشا رہ بعید استعما ل کر تے ہیں اسی لیے اعلیٰ حضرت نے یہا ں ذلک َ کے معنی کئے ہیں ’’ وہ بلند رتبہ ‘‘ گو یا اللہ بتاتا ہے کہ تم نے ہد ایت طلب کی ﴿اھد نا الصر اط المستقیم ﴾ جوا ب آیا ’’ شک کا مقا م ہی نہیں وہ بلند مر تبہ اور پر عظمت کتا ب یہی تو ہے جو تقوٰ ی اختیا ر کر نے والو ں پر انعا ما ت کی با ر ش بر سا دیتی ہے‘‘۔ یہ تو ہم نے ابتدا ئ سے ہی ’’ مشقے نمن از خر وارے ‘‘ کے طو ر پر کچھ الفا ظ لے لیے ہیں پو را تر جمہ ئِ قرآن متر جم کی عربی لغت اور عربی گرامر پر گر فت کے سا تھ احتر ام ِ خدا وند ی اور احترام پیغمبر انسا نیت �ö وا ضح کر نے کا حسین تر ین شا ہکا ر ہے ابھی آپ نے دیکھا کہ ہمارے متر جمین شا ہ ولی اللہ سے لیکر عبد الما جد در یا آبا دی تک معا ذ اللہ اللہ کو اسکے اپنی آیا ت کے تر جمہ سے ہی بتا رہے تھے کہ وہ عالمِ الغیب بعض با تو ں کو جا نتا نہیں ’’مَا قَد ُ رو اللہ حقَّ قَدْ رِہٰ ‘‘یہ لو گ وہ ہیں جو کہتے ہیں بر یلو ی اللہ کی عظمت کا خیا ل نہیں رکھتے رسول اللہ �ö کی شا ن بڑ ھا دیتے ہیں ۔ خدا کے متعلق ہی دیکھ لیجئے انہو ں نے کیا تر جمہ لکھ کر اسکی شا ن میں گستا خی کر دی یہ لو گ تو ’’ امکا ن ِ کذبِ با ری ‘‘ کے بھی قائل ہیں اور کہتے ہیں ’’ خدا جھو ٹ بو ل سکتا ہے ‘‘ رسو ل اللہ �öکی شا ن میں گستا خیا ں تو انکے ہا ں بہت ہو ئی ہیں اور محض اس ضد میں کہ بر یلو ی کو بحث میں شکست دے دیں خیر اس مو ضو ع کو جا نے دیجیے سر دست انکی بے علمی کی ایک مثا ل اور دیکھ لیجئے اللہ جناب رحمتِ عالم �ö پر اپنے احسانات گِناتے ہو ئے فر ما تا ہے ۔ ’’روز رو شن اور شب تا ریک گواہ ہیں کہ اللہ نے کبھی آپ کو تنہا نہیں چھو ڑا اور بے شک آپ کی زند گی کا ہر اگلا لمحہ پچھلے لمحہ سے بہتر رہا اور عنقر یب اللہ تعالیٰ آپ کو اتنا کچھ عطا کر یگا کہ آپ را ضی ہو جا ئینگے ۔ کیا ایسا نہیں ہوا کہ آپ کو یتیم پا یا تو اپنی پنا ہ میں لے لیا ‘‘ اس میںبا ت صا ف ہے کہ اللہ نے اپنی نگرانی اور نگہبا نی میں ہمیشہ آپ کو رکھا کسی لمحہ بھی یہ نگہبانی ٹو ٹی نہیں اس کے بعد یہ آیت آتی ہے اسے دیکھئے اور مختلف مترا جم بھی دیکھتے جا ئیے۔ ’’وَ وَ جَدَ ک ضَآ لاً فَھَدٰ ی ‘‘ ’’اور پا یا تجھ کو بھٹکتا پھر راہ دی ‘‘ ﴿شا ہ عبد القا د ر ﴾ ’’ اور پا یا تجھ کو بھو لا ہوا پس را ہ دکھا ئی ‘‘ ﴿شا ہ رفیع الدین﴾ ’’ ویا فت تر ار اہ گم کر دہ پس را ہ نمو د ‘‘ ﴿شا ہ ولی اللہ ﴾ ’’ اللہ نے آپ کو شر یعت سے بے خبر پا یا سو آپ کو شر یعت کا رستہ بتلا دیا‘‘﴿اشر ف تھا نو ی ﴾ ’’ ضا لا ‘‘ کے معنی ’’ راہ گم کر دہ ‘‘ بھی ہیں ۔ ’’ بھو ل جا نے والا ‘‘ بھی ہیں۔ ’’ تلا ش حقیقت میں گم ہو جا نے والا‘‘بھی ہیں اور محبت میں ’’ خو د رفتہ ‘‘ و ’’ وار فتہ ‘‘ بھی ہیں اعلیٰ حضرت میں حضور �ö کے شا یا ن ِ شا ن تر جمہ کیا ہے ۔ ’’ آپ کو اپنی محبت میں خو د رفتہ پایا تو اپنی طر ف راہ دی ‘‘ ﴿کنز الا یما ن﴾ اس مو ضو ع پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور لکھا جا تا رہے گا ہم نے ’’ کنز الا یما ن‘‘ کا ہلکا سا تعا ر ف اس لیے ضر و ر سمجھا کہ ’’ کنز الا یما ن ‘‘ کی اشا عت میں حضرت پیر معر و ف شاہ نے بے پنا ہ خدما ت سر انجا م دی ہیں ۔ سعو دی عر ب میں اور اس کی دیکھا دیکھی ایک آدھ اور عر ب ریا ست میں جنا ب احمد رضا خا ن صا حب کے سلسلہ میں ایسا تعصب حکومت سعو دیہ کے ذہن میں پہنچا یا گیا ۔ کہ حکومت نے تر جمہ ئِ قر آن ’’ کنز الا یما ن‘‘ پر بھی پابند ی لگا دی ایک حکومت کی طر ف سے اس قسم کا اقدا م فی الوا قع قا بلِ مذمت تھا حضرت پیر صا حب نے اس کے خلا ف احتجا ج کیا اور حکو مت تک بر یلو ی مسلما نو ں کے جذبا ت پہنچا نے کے سلسلہ میں سعی ِ بلیغ کی با ر با ر مر اسلات بھیجے گئے علما ئ سے را بطے کئے گئے علما ئے کر ام اور مشا ئخ عِظا م نے پیر صا حب سے تعا ون کیا تب کہیں جا کر سعو دیہ حکومت کی متشددانہ پالیسی میں نر می آئی ۔ پیر صا حب نے بر منگھم میں ایک بہت بڑ ی تقر یب کی جس میں مقتدر علما ئ مشا ئخ نے شر کت کی اس کا نفر نس کا نام ہی ’’ کنز الا یما ن کا نفر نس ‘‘ تھا ۔ اس میں ’’ کنز الا یمان ‘‘ کو فو کس کیا گیا اور مقر رین نے سا معین کو اس تر جمہ ئِ قرآن کے گو نا گو ں اوصا ف سے متعا رف کر ایا ۔ پیر صا حب ورلڈ اسلامک مشن کے بانی ہیں ۔ اس مشن کے اغر اض و مقا صد میں ایک بڑ ا مقصد اما م احمد رضا خا ن کی تعلیما ت کی وسیع پیما نے پر اشا عت، بر یلو ی مکتب ِ فکر کے مسلما نو ں کا اتحا د اور کنز الا یما ن کو گھر گھر پہنچا نا تھا ۔ پیر صا حب نے انہی اغر اض و مقا صد کی تکمیل کے سلسلہ میں ضر و ری سمجھا کہ ’’ کنز الا یما ن ‘‘ کا انگر یزی میں تر جمہ کر ایا جا ئے ۔ اس مقصد کے تحت انہو ں نے اپنے سا تھی اور سلسلہ ئِ عا لیہ قادر یہ نو شا ہیہ سے وا بستہ ایک سکا لر پر و فیسر سید محمد حنیف اختر فا طمی قادر ی نو شا ہی کو آما دہ کیا کہ وہ یہ تا ریخ سا ز کا م سر انجا م دیں ۔ حنیف قادری صاحب کا مختصر تعا رف یہ ہے۔ سید محمد حنیف قادر ی 1933 �÷ میں یو پی ﴿بھا رت ﴾ کو مقا م ’’ با ر ی ‘‘ میں پید ا ہوئے وہ شاہ فضلِ رحما ن گنج مراد آبا د ی کے خا ندا ن سے ہیں جو حضرت اما م احمد خا ن کے مدا حِ خا ص تھے ۔ سید محمد حنیف نے ابتدا ئی تعلیم اپنے خا ند انی مد رسہ میں حا صل کی پھر مسلم یو نیو ر سٹی علی گڑھ کے طا لب علم رہے انہو ں نے قا نو ن کی تعلیم اِنز آف کو ر ٹ سکو ل آف لا ئ سے حا صل کی سا ئنس اور ریا ضی کی تعلیم امپیر یل کا لج لندن سے حا صل کی ۔ با ر میں پر یکٹس کے علا وہ وہ ملتا ن ، کر اچی ، کو یت ، ریا ض، سند ھ اور لند ن کی یو نیو ر سٹیو ں میں پڑ ھا تے رہے ۔ اسلامک مشنر ی کا لج بر یڈ فو ر ڈ کی روحِ روا ں وہی ہیں جمعیت تبلیغ الا سلام کی تحر یک میں بھی سر گر م کا ر کن ہیں اور بر یڈ فو رڈ کی بڑی اور عظیم الشا ن سنی مسجد کے قیام میں ان کا بھر پو ر تعا و ن شا مل رہا یہ وہی بڑی مسجد ہے جس کے سا تھ کمیو نٹی سنٹر اور اسلامک سکول بھی ہے۔ انہو ں نے ’’ کنز الا یما ن‘‘ کے انگر یز ی ترجمہ کا آغا ز 1975 �÷ میں کیا جو دو سا ل کی محنتِ شب و روز کے بعد بفضل خدا وند ی 1977 �÷ میں مکہ مکر مہ میں اختتا م کو پہنچا ۔ یہ تر جمہ پیر صا حب کے لیے اور سید محمد حنیف قادری کے لیے فی الوا قع تو شہئِ آخر ت ہے۔ پیر صاحب کی اعلی حضرت احمد رضا خان بریلوی سے محبت کے وسیلے پر مجھ پر ایک اعلی حضرت احمد رضا خان کی منقبت وارد ہوئی ۔ درج کر رہا ہوں دشت ِکُن میں چشمہ ئ حمد و ثنا احمد رضا صبح دم شہرِ مدنیہ کی ہوا احمد رضا حمد کی بہتی کرن وہ نعت کی اجلی شعاع

مدحتوں کے باغ کی باد ِصبااحمد رضا

زندہ و جاوید رکھتا ہے انہیں عشقِ رسول عشق کی بابت فنا نا آشنا احمد رضا یہ سرِ فہرست عشاقِ محمدمیں ہے کون ؟ پوچھنے والے نے پھر خود ہی کہا احمد رضا خانہ ئ تاریک میں بھر دے اجالے لفظ سے فیض کا سر چشمہ ئ صدق و صفا احمد رضا کنزالایماں سے منور صحن ِ اردو ہو گیا آیتوں کا اختتام ِ ترجمہ احمد رضا روک دیتے ہیں بہارِ حکمت و عرفان سے بد عقیدہ موسموں کا سلسلہ احمد رضا آسماں کی بے کراں چھاتی پہ روز حشر تک صبح نے کرنوں سے اپنی، لکھ دیا، احمد رضا جل اٹھے ان سے سبھی علمِ عقائدکے چراغ راستی کاروشنی کا راستہ احمد رضا صاحب ِ علم الکلام و حامل ِ علم شعور حاصلِئ عہدعلوم ِ فلسفہ احمد رضا عالم ِ علم لدنی ، عامل ِ تسخیرِ ذات روح و جاں میں قربِ احساسِ خدا احمد رضا وہ صفاتِ حرف کی رو سے مخارج کے امیں محرم ِ احکام ِ تجوید و نوا احمد رضا بابت ِ تفسیر قرآں جانتے تھے ایک ایک معنی و تفہیم ِ الہام ِ الہ احمد رضا وہ روایت اور درایت آشنا شیخ الحدیث علم ِ احوال ِ نبی کے نابغہ احمد رضا مالکی وشافعی ہوں یا کہ حنفی حنبلی فقہ اربعہ پہ حرف انتہا احمد رضا علم ِ استخراجیہ ہویا کہ استقرائیہ دیدہ ئ منطق میں ہے چہرہ نما احمد رضا علم ہندسہ و ریاضی کے نئے ادوار میں موئے اقلیدس کی اشکال و ادا احمد رضا علم ِجامع و جفر کی ہر ریاضت گاہ میں جو ہرِ اعداد کی صوت و صدا احمد رضا وہ بروج فلکیہ میں انتقال شمس ہیں صاحب ِعلم ِ نجوم و زائچہ احمد رضا وقت کی تاریخ ان کے ہاتھ پر تحریر ہے جانتے ہیں سرگزشتِ ماجرا احمد رضا روشنی علمِ تصوف کی انہی کی ذات سے کثرتِ جاں میں لب ِ وحدت سرا احمد رضا حرف ِ آخر تھے وہی عربی ادب پر ہند میں والی ئ تختِ علوم عربیہ احمد رضا علمِ جاں ، علم ِ فضائل ِ علم ِ لغت ،علم سیر در علوم ِ خیرتجسیمِ ضیا احمدرضا آسمان ِ معرفت ، علم ِ سلوک وکشف میں منظرِبدرالدجیٰ ، شمس الضحیٰ احمد رضا صبح ِ عرفان ِ الہی ، عابد شب زندہ دار مسجدِ یاد خدا و مصطفی احمد رضا عجز کا پندار ہے میرے قلم کی آنکھ میں جو کچھ لکھا میںنے، کہیں اُس سے سوا احمد رضا ٹوٹے پھوٹے لفظ تیری بارگاہ پیش ہیں گرقبول افتدزہے عزوعطااحمد رضا اعلی حضرت اہل ِ سنت کے امام و پیشوا اک نگہ مجھ پہ کرم کی اک نگہ احمد رضا





بزمِ نو شا ہی اگر چہ پیر صا حب اپنے برا در بز رگ جنا ب ابوالکما ل بر ق نو شاہی کی وفا ت کے بعد 1985 �÷ میں سلسلہ عالیہ قا دریہ نو شاہیہ کے شیخ ِ طر یقت کی حیثیت سے سجا دہ نشین ہوئے لیکن انہو ں نے بر طا نیہ وار د ہو تے ہی 1961 �÷ میں بز مِ نو شا ہی قا ئم کر دی تھی۔ یہ بز م پیر صا حب متصو فا نہ زندگی کی نقیب ہے۔ پیر صا حب تصو ف کے اس خا نو ا دہ سے تعلق رکھتے ہیں جو شر یعت کو الگ نہیں سمجھتے اور یہی پیغمبر انہ شیو ہ کی تقلید ہے طر یقت کو شر یعت سے الگ سمجھنے والے صو فی دنیا سے لا تعلق ہو کر رہبا نیت کے قر یب پہنچ جا تے ہیں وہ انفرا دی اشتعا ل میں ڈو ب جا تے ہیں علامہ اقبال نے اپنا ایک خطبہ ان الفا ظ سے شر و ع کیا ہے ’’ محمد عر بی فلک الا فلاک تک پہنچ کر واپس آگئے بخدا اگر میں وہا ںتک پہنچ جا ئو ں تو کبھی وا پس نہ آئو ں ، یہ الفا ظ ایک مشہو ر صو فی بز ر گ عبد القدو س گنگو ہی کے ہیں ایک صوفی اور نبی میں یہی فر ق ہے صو فی کچھ انوار و تجلیا ت میںگم ہو کر اپنے آپ کو کھو دیتا ہے جبکہ ایک نبی حقیقت کو بچشم ِ خو یش دیکھتا ہے اور دنیا کی طرف پلٹتا ہے تاکہ جو کچھ اس نے دیکھا ہے وہ کچھ اوروں کو بھی دکھلا دے ‘‘ ﴿RECONSTRUCTION OF RELIGIOUS THOUGHTS IN ISLAM﴾ شر یعت اور طر یقت کو ہم آہنگ سمجھنے والے صو فیا ئ بھی ہر دم اپنے آپ کو حکم دیتے ہیں ۔ دیکھا ہے جو کچھ تو نے اوروں کو بھی دکھلا دے یہی وہ چیز ہے جسے کہتے ہیں پیمبری کر دو پیمبر نتوا ں گفت یعنی اس نے پیغمبر ی کی لیکن اُسے پیغمبر نہیں کیا جا سکتا کیو نکہ پیغمبر ی تو جنا ب سر و ر ِ کا ئنا ت �ö پر ختم ہو چکی ہے ۔ یہ لو گ ہمہ وقت انفرا دی اصلا ح کے سا تھ اجتما عی اصلا ح میں بھی منہمک رہتے ہیں عنبر دعوت و تبلیغ بھی سنبھا لنے ہیںاور مسند ار شا د بھی ، انکی خلو تیں بھی منور ہو تی ہیں اور جلو تیں بھی سور ج بد ست ، اور جب وہ اس طرح اپنی ذا ت کو اللہ کے کا م میں کھو دیتے ہیں تو قد سی صفا ت ہوجاتے ہیں ۔ اسی حد یث قدسی کے عین مطا بق جس میں کہا گیا ہے کہ ’’ بندہ نوا فل کے ذر یعے یعنی اپنی خو شی سے کی جا نے والی عبا دت کے ذریعہ میرا تقر ب حاصل کر تا جا تا ہے حتیٰ کہ میرے پائوں اس کے پائو ں ہو جا تے ہیں ، میری آنکھیں اسکی آنکھیں ہوجا تی ہیں میرے کا ن اسکے کے کا ن ہو جا تے ہیں ، میر ے ہا تھ اس کے ہاتھ ہو جا تے ہیں ‘‘ ﴿صحیح بخا ری﴾ ہا تھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہا تھ غا لب و کا ر آفر یں کا ر کشا و کا ر سا ز ہم آپ سو چتے ذہن شل کر بیٹھتے ہیں کہ ایک آدمی اتنی ڈھیر سا ری ذمہ دا ر یو ں سے کس طرح عہد ہ بر آہو سکتا ہے ۔ یہ کیسے ہے کہ وہ ایک زند گی کو کئی زند گیو ں میں ڈھا ل دیتا ہے ہم سے اپنے فر ائض پو رے نہیں کئے جا تے اور وہ دنیا جہا ن کے فر ائض اپنے سر لیے پھر تا ہے جو بھی وعد ے تھے کسی کے سب و فا میں نے کئے قر ض تھے اوروں کے لیکن وہ ادامیں نے کئے پیر صاحب کے ایسے ہی فر ائض میں بز مِ نو شاہی بھی ہے اسلامی تصو ف عشقِ الہیٰ کے لیے وہ تڑ پ ہے جس میں بند ہ معرفت ذا ت حا صل کر تا ہے اور جب معرفت ذات حاصل ہو جا ئے تو پھر معر فت ِ رب بھی حا صل ہو جا تی ہے ۔ کہ ’’ من عرف نفسہ عرب ربہ‘‘ معرفت حا صل کر نے کے لیے اہلِ تصو ف نے تر بیت ِذا ت کے مختلف مر احل مقر ر کر رکھے ہیں ۔ یہ تر بیت صو فیا ئ کے سلسلہ میں اپنے اپنے انداز سے کر تے ہیں ۔ چشتیہ ، قا دریہ ، سہر ور دیہ ، نقشبندیہ کا اپنا اپنا انداز ہے۔ راستہ کوئی بھی ہو مقصد معر فتِ رب کی منزل پر لیکن اس میں بنیا دی چیز پیر و مرشد کی نگر انی اور رہنائی ہے رہبر کے بغیر راستے طَے نہیں ہو تے اور منز لیں نہیں ملتیں ایک مر شد ِ کے ہا تھ پر بیعت کی جا تی ہے بیعت کا مطلب یہ ہو تا ہے کہ مر ید نے اپنے آپ کو پیر کے حو الے کر دیا ہے اب وہ اس کے احکا م کی اطا عت کر تا جائے گا ۔ اور جس راہ پر وہ چلا ئیگا اس پر چلتا جائے گا ۔ اس را ہ میں سب سے بڑ ا زا دِ سفر اخلا ص ہے ہر پیر طر یقت کسی کا خلیفہ ئِ مجا ز ہو تا ہے ۔ اور پیر ی مر ید ی سلسلہ بہ سلسلہ چلتی ہے چرا غ سے چراغ جلتا جا تا ہے حضرت پیر معرو ف شا ہ صاحب اپنے برادر ِ بز ر گ کے خلیفہ ئِ مجا ز تھے ’’ بز مِ نو شاہی ‘‘ کی بنیا دیں پڑ گئیں بعد میں وہ خو د زیب ِ سجا دہ ہوئے بز م نو شا ہی کا سلسلہ آج بھی چل رہا ہے اور تر قی پذ یر ہے۔ بز م ِ نو شا ہی کے قیا م کے اغر اض و مقاصد میں اصل مقصد تو ایک ہی ہے کہ بندے کا اللہ سے تعلق قا ئم کیا جا ئے آج کا انسا ن ما دی لحاظ سے انتہائی عر و ج پر پہنچ چکا ہے ، مگر اسکی محرو می پھر بھی ختم نہیں ہو ئی ۔ وہ بے چین ہے، بے قرا ر ہے، بے سکو ن ہے، سا ئنسد ان نے اُسے بے پنا ہ قو ت فراہم کر دی بے شما ر آسا ئشا ت اور تعیشا ت دے دییمگر پھر بھی دنیا کے ہر انسان کا مسئلہ ڈپیر یش ہے ذہنی بے سکو نی نے اعصا ب تبا ہ کر دییہیں اقبا ل نے پو ن صد ی پہلے کہا تھا �ò ڈھونڈ نے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا زندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکا اقبال اور اقبال جیسے بہت سے دانشو رو ں نے حکمت شنا سا نِ مغر ب کو اس حقیقت کی طرف با ربار متو جہ کی دا نا یانِ مغر ب نے اور زیا دہ زور لگا یا بہت سی نئی آسا ئشا ت ایجا د کر لیں مگر اصل مسئلہ حل نہ ہو ا ، اور ہر آدمی کی بے سکو نی بڑھتی گئی آج بمشکل ایک دو فیصد آدمی ہو نگے جو کہہ سکیں کہ انہیں کوئی ڈپیر یشن نہیں اور وہ ایک دو فیصد بھی کون ہو نگے پاگل یا بچے وگر نہ ہر آدمی بے سکون ہے ایک آدمی ڈھیرو ں دولت کا مالک ہے ہر طر ح کی آسا ئشیں گھر میں مو جو د ہیں مگر نیند کیو ں را ت بھر نہیں آتی خوا ب آور گو لیا ں نگلتا ہے تو سو سکتا ہے نہیں تو مخمل ور یشم کا بستر کا نٹو ں کا بستر بنا ہو ا ہے ۔ یہ سب کچھ کیوں ہے؟ آخر کمی کیا ہے ؟ کیا چیز ہے جو اسے میسر نہیں اسے اطمینا نِ قلب کیو ں نہیں حاصل ہو تا ۔ قرآن کہتا ہے اطمینا ن ِ قلب تو صر ف ایک چیز سے نصیب ہوتا ہے اور وہ کیا ہے ’’ ذکر الٰہی ‘‘ ’’اَلاَ بِذِکر اللّٰہِ تِطْمَئنَّ الْقُلُوْ ب‘‘ ﴿قلو ب صرف ذکر الٰہی سے اطمینا ن پا تے ہیں ﴾ بزمِ نو شاہی محا فل ذکر کا اہتما م کر تی ہے یہ محا فل ذکر ہفتہ وار اور مہینہ وار مختلف مقا ما ت پر ہوتی ہیں تبلیغ الا سلام کی مسا جد میں انکا اہتما م ہو تا ہے اب تو بفضل خدا وند ی ہا لینڈ اور فرا نس میں بھی ذکر سر کل قا ئم ہو چکے ہیں ، یو ں چک سوار ی کا یہ سید زا دہ یو رپ کی اضطر اب گا ہو ں میں سکونِ قلب کی دو لت نا یا ب با نٹتا پھر تا ہے مگر نصیبو ں والے ہی یہ دو لت پا تے ہیں ۔ O YOU, O THE PEOPLE, O, MAN KIND, I HAVE BROUGHT THE SUN BUT YOU ARE BLIND. ﴿لو گو! میں تو سور ج لے آیا ہو ں مگر تمہا رے اند ھے پن کا کیا علا ج ﴾

مر کزی بز مِ نو شا ہی کا ایک اور بڑا کا م، محا فل میلا د النبی اور اولیا ئ کے عر سو ں کا انعقا د ہے میلا د النبی بڑی شا ن و شو کت سے منا ئی جا تی ہے اجلسہ کے سا تھ جلو س بھی نکا لا جا تا ہے۔ 

حضرت پیر صاحب کی مصر و فیا ت میں ایک اور مصر و فیت لوگو ں کی رو حانی مد د ہے مختلف رو حا نی اور جسما نی مصا ئب میں گھر ے ہوئے لو گ پیر صاحب کی ذا ت کو مر جع اِمید سمجھتے ہیں اور انکے در وازے پر آتے ہیں۔ ’’ تَو سّل الی اللہ ‘‘ یعنی اللہ سے اپنی دعا منظو ر کر انے کے لیے اللہ کے نیک بند و ں کا وسیلہ پکڑ نا ایک ایسا عمل ہے جو تقر یبا ً دنیا کے ہر مذہب میں مو جو د ہے اسلام میں بھی یہ عمل مو جو د ہے لوگ اپنی تکا لیف میں حضور �ö کے پاس حا ضر ہو کر طا لب دعا ہوتے اسی طر ح لوگ اولیا ئ واصفیا ئ کی با ر گا ہ میں آکر التجا کر تے کہ اللہ سے انکی مصیبت دور کر نے کی دعا کر یں۔ بر یلوی حضرا ت کا عقید ہ ہے کہ وفا ت کے بعدبھی اولیا ئ کے مزا ر پر حا ضر ہو کر انکے اعما ل صا لحہ کو وسیلہ بنا کر اپنی حا جا ت اللہ کے حضور پیش کی جا ئیں تواللہ صاحب مزار کے اعما ل حسنہ کے وا سطہ سے دعا منظو ر فر ما تا ہے دیو بند ی حضرا ت تیتر ہیں نہ بٹیر انہوں نے بھی اپنے پیر و مر شد بنا رکھے ہیں اشر ف علی تھا نو ی صا حب اور حسین احمد مد نی صاحب وغیر ہ با قاعدہ مر ید و ں سے بیعت لیتے رہے اور انکا بھی بر یلو یو ں کی طر ح پورا نظا م چلتا ہے صا حب قبر کے سلسلہ میں بھی وہ کہتے ہیں کہ لو گ قبر و ں پر جا کر کہتے ہیں ’’گھن ککڑ تے ڈے پتر‘‘ ﴿یعنی اے صا حب قبر مرغا لے اور لڑ کا دے﴾ یا کہتے ہیں ’’ گھن بکرا تے ڈے بچڑا ﴿یعنی بکر الے اور فر زند دے دے ﴾ اس طر ح وہ گو یا صا حب قبر ہی کو حا جت روا اور مشکل کشا بنا لیتے ہیں اور یہ شر ک ہے اگر وہ کہیں ’’ اے فلا ں میرے لیے اللہ سے دعا کر ‘‘ تو ان کے نز دیک جا ئز ہے وہا بی اسکے بھی خلا ف ہیں کیو نکہ وہ سما ع مو تیٰ کے قا ئل ہیں۔ حا جتمند لو گ دن را ت حضرت پیر صا حب کے پا س حا ضر ہو تے رہتے ہیں کسی کا کو ئی کا م رُکا ہو ا ہے اور کسی طر ح پور ا نہیں ہو رہا ایسے لوگ حضرت صا حب کو پاس دعا کر انے کے لیے حا ضر ہو تے ہیں پیر صاحب دعا کر تے ہیں حل مشکلا ت کا کوئی وظیفہ بتا تے ہیں یا کوئی تعویز دیتے ہیں اسی طر ح مختلف بیما ریوں میں بھی لو گ ان کی طر ف رجو ع کر تے ہیں دم کر اتے یا تعویز لیتے ہیں اللہ تعالیٰ انکی مشکلا ت دور کرتا ہے اس لیے وہ با ر با ر انکے آستا نہ پر حا ضر ی دیتے ہیں یہ ایک اور مستقل مصر و فیت ہے جو پیر صا حب کا بہت سا وقت لے لیتی ہے اولیا ئ اللہ کی یہ مشغو لیت اللہ کے بند و ں کی مخلصا نہ خد مت ہے فیض جا ریہ ہے پیر صاحب بے لو ث و بے غر ض یہ خد ما ت سر انجا م دیتے رہتے ہیں ۔ لاکھ مخا لفتو ں کے با وجو دلو گ اولیا ئ کے در و ازے پر حا ضر ہو تے اور مرا دیں پا تے رہتے ہیں بے اولا دو ں کو اولا د یں ملتی ہیں ، بیما ر یو ں سے نجات حاصل ہو تی ہے اور طر ح طر ح کی حا جا ت پو ر ی ہو تی ہیں ۔ ان خد ما ت کے سا تھ اولیا ئ و صو فیا ئ کے معمول کے مطا بق اور درود و ظا ئف میں بھی بہت سا وقت صر ف ہو تا ہے پیرصا حب اپنے یہ معمو لا ت بھی بطریق احسن سر انجا م دیتے ہیں۔ اور اد’و ظا ئف اور نوا فل کے سلسلہ میں بعض افرا د بڑ ی سخت محنت کر تے ہیں پیر معرو ف شا ہ صاحب کے پاس جب ان کے بھائی اور مرشد پیر سید ابو الکمال برق نوشاہی آئے تو انہوں بھی برطانیہ بلکہ یورپ بھراپنی روشنی سے منور کیا وہ حضر ت پیر معرو ف شا ہ صا حب کی طر ح کثیرا لمصر و فیا ت نہیںتھے اس لیے اپنا سا را وقت ریا ضت میں صر ف کر تے ہیں اور اسی حا لت میں سو تے ہیں بہت کم کھا تے ہیں او سا را وقت عبا د ت و ریا ضت میں گز ار تے ہیں اور اسی حا لت میں شب زند ہ دا ر ی کرتے ہیں بتا یا جا تا ہے کہ انہیں اللہ تعا لیٰ نے خا ص طور پر مہلک بیما ریو ں کا جڑ ی بو ٹیو ں سے علاج کرنے کی صدا قت و دیعت کی ہو ئی ہے۔ حضرت پیر معرو ف صا حب کے پا س بعض ایسی ہی بیما ریو ں کے مر یض آتے ہیں تو وہ انہیں اپنے اس بھائی کی طر ف بھیج دیتے ہیں۔ اسلا می تصو ف کے میدا ن میں جو بھی قد م رکھتا ہے بنیا دی طور پر اس پر دو شرا ئط عا ئد ہو جا تی ہیں ۱۔ صد ق مقا ل یعنی جو با ت بھی کر سچ بو لے ۔ ۲۔ اکلِ حلا ل یعنی حلا ل کی رو ز ی کھا ئے جب وہ یہ شر ائط پو ر ی کر تا ہے تو وہ ان پر موا ظبت کر تا ہے تو اس پر اگلی را ہیں کھل جا تی ہیں ۔ پیر صا حب کی ہدا یت اور نگہبا ئی میں بہت سے لوگ تصو ف کی منا زل طے کر چکے اور بہت سے طے کر رہے ہیں غر ضیکہ حضرت پیر صا حب جا مع الصفا ت ہیں اور انکی ایک حیثیت یہ بھی ہے کہ علوم دین کی طر ح وہ را ہِ سلوک میں بھی منبع رشد و ہد ایت ہیں۔










تنظیمی و تبلیغی سفر پاکستان میں پاکستا ن حضر ت پیر معر و ف شا ہ صا حب کا وطنِ ما لو ف ہے اوراس میں وہ آتے رہتے ہیں ۔ ایک پر دیسی کا وطن آنا بظا ہر ایسی کو ئی بڑی با ت نہیں کہ اسے کسی کتا ب کا جز و بنا یا جا ئے لیکن جن لو گو ں نے اپنی زند گی اللہ کیلئے وقف کر رکھی ہو انکا ہر لمحہ ایک اما نت بن جا تا ہے ۔ اس لیے جہاں تک ممکن ہو اس اما نت کو محفو ظ کر لینے کی کوشش کی جا نی چا ہیے میں نے کو شش کی ہے کہ پا کستا ن کے سفر میں جو چیز یں انہوں نے قا بل اعتنا سمجھ کر ڈا ئر ی میں در ج کیں انہیں کتا ب میں شامل کر لو ں۔ پہلا سفر پاکستان 18 ما ر چ 1968 �÷ سے یکم جون 1968 �÷ تک رہا ۔ ادا ئے گی ئِ حج کے بعد تشر یف لا رہے تھے آپ کو لالہ مو سیٰ سے ایک عظیم الشا ن جلو س کی صو ر ف میں معرو ف منز ل در با ر نو شاہی تک لا یا گیا ۔ سلیم صاحب اور حا جی محمد حنیف ہمرا ہ تھے ۔ قیا م پاکستان کے دورا ن لا ہو ر گئے ’’ حز ب الا حنا ف ‘‘ اہل سنت کا مشہو ر تعلیمی ادا رہ ہے جو عر صہ ئِ درا ز سے مو لا نا ابو الحسنا ت اورمولانا ابو بر کا ت کی سر کر دگی میں دینی تد ریس کی خد ما ت سر انجا م دے رہا ہے اور در س ِ نظا می کے فا ضل تیا ر کر رہا ہے پیر صا حب وقتا ً فو قتا ً اس کی ما لی امدا د کر تے رہتے ہیں اسو قت مو لا نا ابو البر کا ت صا حب فر اش تھے اور انکے فر زند علامہ محمو د احمد رضو ی یہ ادا رہ چلا رہے تھے پچھلے سال جو ما لی مد د بھیجی گئی تھی رضو ی صاحب کی طر ف سے اسکی رسید نہ بھیجی جا سکی استفسا ر پر انہو ں نے بتا یا کہ اپنے وا لد بز ر گوا ر کی مسلسل علالت کے با عث وہ پر یشا ن رہے اور یہ سستی ہو گئی ۔ لاہور میں قیا م کے دورا ن مفتی محمد حسین نعیمی صا حب سے بھی ملا قا ت کی مختلف مو ضو عا ت پر گفتگو ہو تی رہی ۔ جا معہ تبلیغ الا سلام ﴿گجرا ت﴾ کے قیا م کے سلسلہ میں گجرا ت کے مشہو ر عا لم ِ دین مفتی احمد یا ر خا ن نعیمی گجر اتی سے مو لانا محمد اسلم نقشبندی چک سوا ری کے معزز احبا ب اور دو لت نگر گجر ات کے سرکر دہ احبا ب سے ملا قا تیں رہیں۔ 2 فر ور ی 1973 �÷ کو دو سر اسفر پاکستان پیش آیا ۔ لاہور میں جامعہ نعیمیہ میںمفتی محمد حسین نعیمی سے ملے پھر پنجا ب یو نیو ر سٹی کی لا ئبر یر ی میں قا ضی عبدالنبی کو کب گجر اتی سے ملا قا ت کی لا ئبر یر ی میںشامل علمی کتب کی فہر ست دیکھی گھر پہنچے تو مو لانا بو ستان آئے ہو ئے تھے انہو ںنے بتا یا کہ پا سپورٹ بنوا لیا ہے ۔ اس سفر کااہم وا قعہ یہ ہے کہ ’’ جا معہ تبلیغ الا سلام ‘‘ کے لیے زمین خر ید ی اور ابتدا ئی تعمیر ی معا ملا ت پر احبا ب سے مشو رے کئے 15 8/76 تیسرے سفر پاکستا ن کے سلسلہ میں آمد ہو ئی۔ وزیر آبا د میں اہل سنت کے معر و ف حق پر ست عالم دین علامہ عبد لغفو ر ہزا ر و ی کے زیر تعمیر روضہ کا جا ئز ہ لیا ۔ علا مہ ابو المحمو دنشتر کی معیت میں حضرت دا تا گنج بخش کے مز ار پر حا ضر ی دی عشا ئ کی نماز وہیں ادا کی پھر مو لا نا عبد الستار خا ن نیا زی سے ملاقات کی حکیم محمد مو سی ٰ امر تسر ی سے ملے مجلس رضا کے معا ملا ت ان سے ڈسکس کئے اور انہیں مشو رہ دیا کہ وہ اعلیٰ حضرت احمد رضا خا ن بر یلوی کی مستند سو انحعمر ی کسی ثقہ عالم اور صاحبِ قلم عالم سے لکھو ائیں ۔ ورلڈ اسلامک مشن کے سلسلہ میں بھی احبا ب سے گفتگو ہو تی رہی آزا د کشمیر میں ور لڈ اسلامک مشن کے کنو ئیر تنو یر سے ملا قا ت کی تنظمی امو ر کے سلسلہ میں انکی رہنما ئی فر ما ئی۔ اسی سلسلہ میں چک سوار ی میںایک میٹنگ تر تیب دی گئی اور پیر صاحب نے جمعہ کے مو قع پر خطا ب کیا ۔ خطا ب کا مو ضو ع ’’ مسلما نو ں کے اجتما عی ز وردل تھا ‘‘ پیر صاحب نے بڑی جا معیت سے مسلما نوں کے کل او آج کا موازنہ کیا بتا یا کہ کل سا ری دنیا ان کے قد مو ں میں تھی اور آج وہ دنیا کے قد مو ں میں ہیں اند ازِ بیان اتنا اثر انگیز تھا ۔ کہ سا معین کی سسکیا ں نکلتی رہیں۔ پاکستان کا چو تھا سفر 16 ما رچ 1981 �÷ کو پیش آیا اس میں صر ف جا معہ تبلیغ الاسلام کے تعمیر ی مر احل دیکھے خا ندا نی مصر وفیا ت رہیں اور کوئی قابل ذِکر وا قعا ت پیش نہیں آئے ۔ 16 ما ر چ 1981 �÷ سے 13 اپر یل 1986 �÷ ئ تک اگلا سفر در پیش ہوا ۔ یہ سفر حضرت سید ابو الکما ل بر ق نو شا ہی قا دری کے پہلے سا لانہ عرس کی تقر یبا ت منعقد کرا نے کے لیے تھا ۔ اہل خا نہ کے علاوہ حضرت سید ابو الکما ل بر ق نوشا ہی کے صا حبز ا دے سیدتصو ر حسین شا ہ نو شا ہی اور با رہ سا لہ بچہ وقا ر رحمن بھی سا تھ تھا ۔ بہت سے احبا ب استقبال کے لیے آئے تھے ۔ سید عبا س علی شا ہ کا کتب خا نہ دیکھا اور بہت خوش ہو ئے اور قد یم شجر ہ ئِ طر یقت بھی نظر سے گزرا پھر گجر ا ت سے نو شہ گنج لا ہو ر پہنچے صا حبز ا دہ فضل الر حمن نو شاہی سے ملا قا ت ہوئی ۔ 23 ما رچ کو حضرت سید ابو الکما ل بر ق نو شاہی کا اما نتا ً دفن شدہ تا بو ت 18سا ل کے بعد نکا لا گیا اور مد فن جد ید کو بھجوا یا گیا ۔ صدر مد رس جا معہ نعیمیہ سے طو یل ملا قا ت ہوئی۔ ’’ ختم نبو ت اکیڈیمی ‘‘ کے مو ضو ع پر تفصیلی گفتگو ہو ئی نیلسن ہو ٹل لا ہو ر میں پیرصاحب کو استقبا لیہ دیا گیا تھا ۔ اس تقریب میں شیخ رو حیل اصغر ایم پی اے اور ایک دو سرے رکن قو می اسمبلی بھی شر یک ہو ئے پیرصاحب کا مو ضو ع تھا ۔ ’’ بر طا نیہ میں مسلما نو ں کے مذہبی حا لا ت ‘‘ پیر صاحب نے کھل کر با ت کی بر طانیہ میں مسلما نو ں کے مختلف فر قو ں کی سر گر میوں سے حا ضر ین کی متعا رف کر ایا اسی سلسلہ میں ’’ تبلیغ الاسلام ‘‘ کا بھی ذکر آیا ۔ انہوں نے کھل کر اپنی تنظیم کا کر دا ر بیان کیا اور بتا یاکہ کن نا منا سب حا لا ت میں کام کاآغا ز کیا گیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کر م جنا ب رسالتما ب �ö تا ئید رحمت اور بزر گو ں کی نظر ِ کرم سے سا تھی ملتے گئے کا رو اں سنتا گیا ار کام پھلیتا گیا ۔ کفر زا رو ں میں کلمہئِ حق و صدا قت بلند ہو ا تو جیسے پیا سی زمین پر رحمت کے با دل بر س گئے مسلما ن اور بالخصو ص اہل سنت بھا ئی جو ش و خر و ش سے کام میں ہا تھ بٹانے لگے اور وا قعی اقبا ل نے صحیح کہا تھا �ò نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویرا ں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت ذر خیز ہے سا قی جمعیت تبلیغ الاسلام کی تحر یک قیا م مسا جد کے نتا ئج سے حا ضر ین کو آگا ہ کیا ۔ یو ں یہ پر نو ر خطا ب جس میں تحر یکی زند گی کی روح رہی تھی ۔ بخیر و خوبی اختتا م پذ یر ہوا پاکستانی مسلما نو ں کے چہرے امید کی رو شنی سے تمتما رہے تھے ۔ اور ہر زبان پر یہی دعا تھی کہ اللہ تعالیٰ پیر صا حب کی عمر دراز کر ے کہ وہ تا دیر اسلام کی خدمت کرتے رہیں۔ بعد میں حضر ت سید ابو الکما ل بر ق نو شا ہی کے شا گر د رشید قا ری محمد یو نس کے مد رسہ کا افتتا ح کیا بد ھ 2 اپر یل 1986 �÷ کو حضرت سید ابو الکما ل کا عر س مبا رک شر و ع ہوا ۔ علمائے کر ام نے مر حوم کی زند گی پر اپنے اپنے انداز میں روشنی ڈا لی۔ 3 اپر یل جمعرا ت کو عشا ئ کی نماز کے بعد نو شہ پیر کا ختم شر یف پڑ ھا گیا ۔ 14 اپر یل کو اہم الحسنات فا طمہ کاختم شر یف ہوا ۔ اسی رو ز دن کو در سگا ہ میں جا مع مسجد نو شاہیہ کا سنگ بنیا د رکھا گیا۔ 6 اپر یل کو نشہ پیر کے دربا ر عالیہ کی طر ف رو انگی ہوئی بڑ ی دیر تک در با ر میںحا ضر ی رہی پھر مز ا ر کے ساتھ کی مسجد کے اما م و خطیب سے ملا قا ت ہوئی یہاں سے فا ر غ ہوئے توحسب عا د ت مختلف کتب خا نو ں پر جا کر بڑی تعداد میںکتابیں خریدیں 8 اپر یل بروز منگل چک سوار ی میں نو شہ گنج بخش قادری (رح) کے عر س کی تقریبا ت کا آغا ز ہو ا۔ صاحبز ادہ سید تنو یر حسین شا ہ نو شاہی ابن حضرت چن پیر شا ہ نو شا ہی سے ملا قا ت ہو ئی اور بھی علما ئے کر ام سے ملا قا ت ہوئی۔ مختلف علما ئے کر ام نے تقا ریر کیں، حضر ت پیر صا حب نے بھی عر س کے مو ضو ع پر اظہا ر خیا ل کیا ۔ خطا ب بڑ دلنشیں تھا با ت یہاں سے شر و ع کی گئی کہ ’’ ہما رے دو ست اپنے لو ا حقین کی سا لگر ہیں با ہر تھر ڈے منا تے ہیں بڑ ی دھو م دھا م کر تے ہیں کیک تیا ر کر ائے جا تے ہیں نام لکھایا جاتا ہے کا ر ڈ چھپوائے جا تے اور تقسیم کئے جا تے ہیں دو ر نز دیک سے اَحبائ ، اعز ہ واقر با ئ آتے ہیں اور رنگو ں کی بر سا ت میں ہیپی برتھ ڈے ٹو یو گا یا جا تا ہے ، سا لگر ہوں کی یہ تقر یبا ت صر ف مسئر و ں کے گھر و ں میں نہیں مو لا نا ئو ں کے گھر و ں میں بھی ہو تی ہیں ہیپی بر تھ ڈے ٹو یو نہ گا یا جا تا ہو ’’ آج میرے منے کی سا لگرہ ہے ‘‘ تو جا تا ہے یہ سب کچھ جا ئز ہ کسی ما تھے پر شکن نہیں پڑ تی کسی فتٰو ی با ز کی زبا نِ طعن دراز نہیں ہو تی لیکن یہ کیا ہے کہ جب ہم فخر مو جو د ا ت ، آ قا ئے کا ئنات سر ورِ عالم �ö کی میلا د منا تے ہیں تو اچا نک پیشا نیو ں پر بل پڑ جا تے ہیں اور جو لو گ خدا کے محبو ب کا کلمہ پڑ ھ کر مسلما ن ہو ئے او ر اپنے مسلما ن ہو نے پر فخر کر تے ہیں وہی شور مچا دیتے ہیں شر ک ہو گیا دین خطر ے میں پڑ گیا ۔ با لکل اسی طر ح یہ لوگ اپنے عز یز وں کی بر سیا ں منا تے ہیں مگر جب ہم عر س منا تے ہیں تو نا ک بھو ں چڑ ھا نے لگتے ہیں ‘‘ غر ضیکہ بڑا پر لطف اور حکیما نہ خطا ب تھا اہل دل کا ایما ن تا زہ ہو گیا ۔ پاکستان کا سا توا ں سفر 4 جنو ر ی 1989 �÷ کو شر و ع ہوا اور 13 اپر یل 1989 �÷ کو واپسی ہوئی پہلے عبد الر حمن پاک نو شا ہی مو ضو ع تھا فر ما یا’’ مکہ کی گلیو ں میں اسلام قبول کر نے والو ں پر ظلم ہو رہے تھے کسی کو کا نٹو ں میں گھسیٹا جا رہا تھا کسی کو تپتی ریت پر لٹا دیا جا تا اور سینے پر بھاری پتھر رکھ دیا جا تا خو د حضور سر و ر ِ عا لم �ö پر تشدد کی انتہا ہو تی رہی ۔ مسلما نوں کی انتہا ئ کو پہنچی ہو ئی تھی اللہ تعالیٰ نے کہا مصا ئب برداشت کئے جا ئو اور صبر و سکو ن سے نما ز پڑ ھے جا ئو استعنیو ابا لصبر و الصلو ۃ چنا نچہ مسلما ن اپنا یہی کا م کر تے رہے اور ’’اِذَا جَا ئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَ الْفَتْحُ رَ اَیْتَ النَّا سَ یَدْ خُلُوْ نَ فِی دِیْنِ اللّٰہِ اَفْو اَ جاً‘‘ ﴿اور جب آگئی اللہ کی مد د اور فتح نصیب ہوئی تو آپ نے دیکھا کہ لو گ اللہ کے دین میں فو ج در فو ج دا خل ہو گئے ﴾ اور حکم ہو ا اب بھی نماز پڑ ھے جا ئو پہلے اللہ سے مد د ما نگنے کے لیے پڑ ھتے تھے اب اللہ کی مد د آجا نے پر شکر ادا کر نے کے لیے پڑ ھو یہی نماز ہی نسخہ ئِ کیمیا یہی سب بیما ریو ں کا علاج ہے بے سر و سا ما نو ں کا سا ما ن ہے اور کمز ورو ں کی قو تَ آج مسلما ن کمز ور ہیں ہر جگہ شکست اور ظلم سے دو چا رہیں کہیں کشمیر ر و رہا ہ کہیں فلسطین ، علا ج ایک ہی ہے ’’فا سْتَعِیِنُوْ ا بِا لصَّبْرِ وَالصَّلَو ۃ‘‘ وہی دیر ینہ بیما ری وہی نا محکمی دل کی علاج اس کا وہی آبِ نشا ط انگیر ہے سا قی منگلا میں پیر صا حب کو ایک استقبا لیہ دیا گیا وہا ں آپ نے اپنے خطبہ میں مسلمانو ں کو ’’ وا پس قرآن کی طر ف ‘‘ ﴿BACK TO QURAN﴾کے مو ضو ع پر خطا ب کیا اور فر ما یا مسلما ن دنیا پر غا لب آئے جہا ں بھی گئے فتح و نصر ت انکی رکا ہیں تھا م کر چلی اب ادبا ر اور زوال کی گھٹا ئو ں نے تما م آفا ق انکے لیے اند ھیر ے کر رکھے ہیں تا ریکیا ں انکا مقدر بن رہی ہیں ذلت اور پسما ند گی انکے ما تھے پر لکھی ہو ئی ہے ایسی بلندی اور پھر ایسی پستی اتنا تفا وت ، اتنا فر ق کیوں ؟ صر ف ایک وجہ سے �ò وہ زما نے میں معزز تھے مسلما ں ہو کر اور تم خوار ہوئے تارکِ قراں ہو کر شیخو پو رہ میں تشر یف لے گئے وہا ں عقید تمند وں نے جا مع مسجد میں گیا ر ھو یں شر یف کی تقر یب میں شر کت کی دعو ت دے رکھی تھی اور خطا ب کا پر و گرا م بھی رکھا ہو اتھا محبوب سبحا نی پیر عبدا لقا د ر جیلا نی کی بر کا ت مو ضو ع بحث ہو ں اور حضرت پیر معرو ف شا ہ کی زبا ن �ò پھر دیکھیے انداز ِ گل افشا نی ئِ گفتا ر رکھ دے کوئی پیمانہ ئِ صہبا مرے آگے سٹیج پر آئے تو تقر یر کی ابتدا ئ میں یہ اشعا ر پڑ ھے �ò اند ھیر ے چھا رہے شر ق کے ہر ایک ایو اں پر چمک اٹھ مہر جیلا ں غر ب سے اس محشر ستاں پر ’’ مُر ِ یْدِ ی ْ لَا تَخَفْ ‘‘ وہ کہ گئے ہیں خوا ب میں آکر مرا دل خند ہ ہو نے لگا ہر ایک طو فاں پر پھر جنا ب غو ث حمد انی کی کچھ کر امات بیا ن کر کے وضا حت کی کہ گیا ر ھو یں شر یف جس مقصد کے تحت منا ئی جا تی ہے وہ بڑ اپا کیز ہ ہے ہم اولیا ئ اللہ سے محبت کر تے ہیں انکی پنا ہ میں آتے ہیں ہم بہا نے ڈھو نڈے ہیں کہ کوئی مو قع ہا تھ آئے کہ ہم خد اکے پیا رو ں کا ذکر کر یں کسی کے پیارے کا ذکر کیا جائے اسکی تعر یف کی جا ئے تو سُننے والا خوش ہو تا ہے کہ اسکے پیا رے کی تعر یف ہو رہی ہے جب ہم رب کے پیا ر و ں کی تعریف کر تے ہیں تو ہما را رب خوش ہو تا ہے ان ہی کے متعلق تو خدا کہتا ہے ۔ ’’اَلاَ اِنَّ اَوْلِیَا ئَ اللّٰہِ لاَ خَوْ ف’‘ عَلَیْھِمْ وَلاَ ھُمْ یَحْز نُوْ ن‘‘ ﴿آگا ہ رہو کہ اللہ کے پیا رو ں کو کسی طر ح کا خو ف و حزن نہیں ﴾ اور ہما را پیر گیا ر ھو یں والا اپنی مشہو ر نظم میں ہمیں کہتا ہے مُرِ یْد یْ لاَ تخف ﴿میرے مر ید ڈر نہیں ﴾ خدا اسے اپنی پنا ہ میں رہتا ہے اور خو ف سے مامون کر دیتا ہے وہ ہمیں اپنی پنا ہ میں لیتا ہے اور خو ف سے ما مو ن کر ددیتا ہے ‘‘ اسی سفر میں اُچ شر یف ’’ جا نا ہو ا ہم اسی کتا ب میں لکھ آئے ہیں کہ ‘‘ اُچ شر یف کسی زما نہ میں اولیا ئ اللہ کا مرکز رہا ہے سلسلہ ئِ قا دریہ کے اولیا ئ وہا ں مد فو ن ہیں وہا ں ایک محلہ قا دریہ کے نا م سے مشہو ر تھا وہا ں قد م قدم پر اولیا ئ اللہ دفن ہیں �ò مقدور ہو تو خا ک سے پوچھوں کہ اے لیئم تونے وہ گنجیا ئے گرا نما یہ کیا کئے حضر ت پیر صا حب مزا ر ات کی زیا ر ت کر تے رہے اور اخذِ فیض کر تے رہے پھر سلسلہ ئِ قا دریہ کے مو جو دہ سجا دہ نشین سے ملا قا ت کی اور تا دیر اہل اللہ کا ذکر ہو تا رہا ۔ اسی سفر میں غلا م شا ہ صا حب سچیا ر نو شاہی کے مز ار پر بھی فا تحہ خوا نی کی۔ دامن کوہ ٹلہ میں مو لا نا محمد شفیع اختر چشتی سے ملا قا ت کی انکی لا ئبر یر ی دیکھی بعض نا در و نا یا ب کتا بو ں کے قلمی نسخے دیکھے انہیں کہا کہ وہ کسی طر ح ان کی نقول فر اہم کریں۔ رو ہتا س میں شا ہ محمد شہید رو ہتا سی کے مز ا ر انوار پر بھی تشر یف لے گئے ۔ اگلے سا ل 1990 �÷ میں پھر پاکستا ن کا سفر در پیش تھا ۔ پاکستان میں 6 نو مبر تا 2 دسمبر قیا م رہا ۔ 9 11/90 بر وز جمعہ بعد از نما ز ِ فجر محمد منشا ئ خا ن ولد بشیر آف 42 سیکٹر E-3 میر پو ر آزا د کشمیر نے بیعت کی اور حلقہ ئِ ارادت میں داخل ہو ئے ۔ 11 11/90 اتوا ر کا دن تھا حلقہ ئِ ارادتمند ان میں بیٹھے تھے ذکر اتوا ر کا چل پڑ ا فر ما نے لگے اہل یو نا ن ہر دن کو ایک خا ص ستارے کے تا بع سمجھتے تھے انہو ں نے ہفتے کے دنو ں کے نام انہی ستا ر وں کے نام پر رکھے تھے اتوار کو وہ سو ر ج کے تا بع سمجھتے تھے ا س لیے اس کا نام SUNDAY تھا سوموا ر چا ند کے تا بع سمجھا جا تاتھا اسے MOONDAY کہتے تھے جو MONDAY ہو گیا اسی طر ح با قی ستا رو ں کے نام بھی دنوں کے نام میں شامل ہیں انگر یز ی میں یہ تما م نام منتقل نہیں ہوئے انہو ں نے با قی ستا رو ں کے نام لا طینی سے لیے دنو ں کے نام وہی رہ گئے یہو دیو ں کے ہا ں یو م سبت یعنی سینچر کا دن خدا کا دن سمجھا جا تا تھا اس میں وہ عبا د ت کر تے اور کو ئی کا م نہیں کر تے تھے اللہ نے بھی اسے انکی چھٹی کا دن قرار دیا تھا عیسا ئیو ں کے لیے اتوار کے دن چھٹی کا اور عبا دت کے لیے مخصو ص ہو ا مسلما نو ں کی پو ری زندگی عبا د ت ہے اس لیے ان پر چھٹی کا کو ئی خا ص دن مقر ر نہیں کیا ہا ں جمعہ کو بر کت زیا دہ دی گئی لیکن یہ ضر و ر ی نہیں کہ اس روز کا م بند کر دیا جائے قرآنِ حکیم میںجہاں جمعہ کی نماز میں شمو لیت کا حکم دیا گیا فر ما یا گیا ۔ ’’فَا سْعَوْ اِلیٰ ذِکْرِ اللّٰہ وَ ذَرُ و الْبَیْع‘‘﴿جمعہ﴾ یعنی جب جمعہ کی اذا ن سُنو تو نما ز کے لیے فو را ً حا ضر ہو جا ئو اور خر ید و فر و خت چھوڑ دو مطلب یہ کہ پہلے خرید و فر وخت ہورہی تھی صر ف نما ز کے وقت کیلئے حا ضر ہو کر یہ کارو با ر اتنی دیر کے لیے چھوڑنا ہے اسکے بعد بتایا گیا ہے کہ جب نماز سے فا ر غ ہو جا ئو تو اپنے کا م پر نکل جا ئو ۔ اسی روزعتیق الر حمن ولد ڈاکٹر محمد اکر م آف الگڑہ رو یوا ل ضلع گجر ا ت مر ید ہو ئے اسی طر ح کشمیر کا لو نی کے سید خا دم حسین شا ہ بخاری اور سید سہیل محمد شہز ا د نے بھی بیعت کی 12 11/90 بر وز سو موا ر چو دھر ی محمد دین نو شا ہی اور محمد حنیف صاحب محیا ں ضلع جہلم ملا قا ت کے لیے آئے میر پو ر کے مو لا نا افتخا ر علی نقشبند ی بھی ملا قا ت کو آئے ۔ 13 11/90 پنڈ ور ی ضلع جہلم میں محمد یو نس نو شاہی کی صا حبز ا دی کی شا دی میں شر کت کی 14 11/90 مولا نا محمد ایو ب ہزا ر وی صا حب اور قا ری علا ئو الدین صا حب ملا قا ت کے لیے آئے ۔ 15 11/90 میر پو ر کے محمد شو کت حلقہ ئِ ارا دت میں داخل ہو ئے 28 11/90 ۔ مفتی سیف الر حمن ہز ا ر و ی ملا قا ت کے لیے آئے را و لپنڈی میں محلہ نصیر آبا د میں ایک مذہبی تقریب میں خطا ب فر ما یا دعا کے بعد 24افرا د حلقہ ارادت میں داخل ہوئے ۔ 29 11/90 جا معہ تبلیغ الا سلام ڈو گر شر یف میں جلسہ دستا ر بند ی میں صد ا ر ت فر ما ئی اور حفظِ قرآ ن کی سعا دت حا صل کر نے والو ں کی دستا ر بند ی فر ما ئی ان خو ش نصیب افرا د کے نام یہ ہیں حا فظ محمد شفیع نو شاہی حا فظ افتخا ر احمد نو شاہی ، حا فظ محمد اقتدا ر نو شاہی ، جلسہ میں ارد گر د کے دیہات کے لو گ بکثر ت حا ضر تھے فضا ئل قرآن پر گفتگو فر ما ئی ۔ بعد میں 4افراد سلسہ ئِ نو شاہی میں شا مل ہوئے ۔ 30 11/90 محمد عبد الر شید نو شاہی کے گھر دعوت تھی دو خوا تین نے بیعت کی 2 12/90 مولانا عبد لقد وس صا حب کے گھر تشر یف لے گئے انہوںنے آپ کے دست حق پر بیعت کی وا پسی پر وزیر آبا د میں دو آدمیوں نے بیعت کی ۔ 5 12/90 کل 6 12/90 حسبِ اعلان عرس غو ث الا عظم دن کے با رہ بجے شر و ع ہو نا تھا مہما نو ں کو دو پہر کا کھا نا کھلا نا تھا اس کے لیے یہ فیصلہ فر ما یا کہ گو شت رو ٹی اور چا ول دییجا ئیں گے چنا نچہ در و یشو ں اور وا بستگان در با ر کو تما م با تیں سمجھا دیں اور ہر ایک کی دیو ٹی لگا دی کہ کون کیا کام کر یگا ۔ حضرت پیر معر و ف شا ہ صا حب میں اور اوصا ف کے علا وہ انتظامی خو بیا ں بھی بدر پائی جا تی ہیں ہر معاملہ میں آپ کو بہتر ین منتظم پا یا گیا ۔ آپ کی اپنی زند گی بھی پو ر ی منظم ہے اور دو سر و ں کو بھی آپ اسی طرح بنا دیتے ہیں ۔ 18 11/90 میر محمد چتر پڑ ی کے ایک سا تھی حلقہ ئِ بیعت میںآئے مولا نا محمد اور رنگ زیب جہلمی تشر یف لائے اور حضرت پیر صاحب کی ہدایات کی مطا بق عر س غو ث الا عظم کا اشتہا ر تر تیب دیا 12/90 عر س غوث الاعظم کے مو قع پر جلسہ ئِ عا م ہوا قا ر ی عبدا لقیوم الفت نوشاہی ، قار ی عا بد حسین نو شاہی اور قا ری محمد رفیق نو شاہی نے تلا وت کلا م مجید کا شر ف حا صل کیا ۔ کئی نعت خوا ن سٹیج پر آتے اور حضور سرور عالم �ö کے حضور ہد یہ ئِ عقید ت پیش کر تے رہے مولا نا محمد طفیل اظہر ، مو لا نا عبد الخا ق ، مو لا نا محمد ایو ب ہز ا ر و ی اور مو لانا عبد القد و س نو شا ہی نے خطا ب کیا مو لانا محمد صدیق مفتی سلیما ن اور دیگر کئی علما ئے کر ام نے شر کت کی بہت بڑا جلسہ تھا لو گ بھا ری تعد اد میں حا ضر ہوا حضر ت غو ث الاعظم کی ذا ت پر حضرت پیر معرو ف شا ہ جب بھی بو لتے ہیں والہانہ عقید ت سے بو لتے ہیں آپ نے آخر میں چند جملے کہے مگر لفظ نہیں تھے ہونٹو ں سے لعل و گہر جھڑ رہے تھے اس جلسہ کے بعد دو افرا د نے بیعت کی اور سلسلہ ئِ اقد س میں داخل ہو ئے ۔ 8 12/90 میر پو ر اور دینہ میں پر و گرا م ہوئے ایک آدمی حلقہ ئِ ارا د ت میں داخل ہوئے 8 12/90 بر صغیر کے علما ئ میں علامہ عبد الحکیم سیا لکو ٹی بہت بڑ ی شخصیت تھے جب ذر ائع رسل و رسا ئل نا پید تھے اسو وقت بھی آپ کی شہر ت پو رے عالم اسلام میں پہنچ چکی تھی منطق ، فلسفہ اور علم کِلا م میں آپ کی تصا نیف بہت بڑا سر ما یہ خیا ل کی جا تی تھیں اور در س ِ نظامی میں داخل رہیں ۔ آپ نے فلسفہ و کلا م کی جن کتا بوں کی شر و ح لکھیں ان میں مقلد انہ نہیں مجتہد نہ شا ن ہے اس طر ح وہ شر و ح نہیں اپنی تخلیق بن گئی ہیں۔ آج حضرت پیر صا حب کو خیا ل آیا اور سیالکوٹ پہنچ کر علامہ عبد الحکیم کے مزا ر پر حا ضر ی دی فا تحہ پڑ ھی اور قبر کے پا س دیر تک سر جھکا ئے بیٹھے رہے ۔ 10 12/90 راولپنڈی میں محلہ قا سم آبا د میں علامہ محمد اورنگ زیب قا دری کی مسجد میں عظیم الشا ن جلسہ ئِ عام سے خطا ب کیا موضوع تھا ’’ فضا ئل صِد یق اکبر (رض) ‘‘ تا جدا ر ِ جنا ب صد یق اکبر (رض) کی زند گی پر بڑ ے منفر د انداز میں رو شنی ڈا لی۔ بعثت سے پہلے حضور �ö کے سا تھ وابستگی و پیو ستگی پر بو لتے رہے وضا حت سے بتا یا کہ کس طر ح غلا م مسلما نو ں کو خر ید کر آزا د کر تے اور انہیں کفا ر کے مصا ئب سے نجات دلا تے رہے پھر ہجر ت کا سفر ’’ ثا نی ئِ غا ر و بدر وقبر ‘‘ کی زند گی کے ہر با بر کت لمحہ کو اپنی تقر یر میں سمو لیا مجمع مسحو ر ہو کر سنتا رہا ۔ جلسہ کے مو قع پر دو افرا د حلقہ ئِ ارا دت میں دا خل ہو ئے ۔ 11 12/90 کو پاکستان سے انگلینڈ واپسی ہوئی ۔ اس سال کی ابتدا ئ میںبھی آپ پاکستان تشر یف لا ئے تھے نو شہ پو ر میں جلسہ معر اج النبی �ö سے خطا ب فر ما یا تھا ۔ اس سفر میں سر گو دھا اور اسکے گر د و نوا ح کے علا قو ں میں تبلیغی دو ر ہ بھی ہو ا جس میں الحا ج عد الت خا ن نو شاہی اور دیگر کئی عقیدتمند ہمسفر رہے چک نمبر 116 شمالی میں کئی افرا د داخل سلسلہ ہو ئے۔ دارالعلوم جا معہ اسلامیہ چک سوار کے انتظا می اور تعلیمی معا ملا ت کو در ست اور معیا ری سطح پر لانے کے سلسلہ میں کئی با ر چک سوا ر ی تشر یف لے گئے ۔ مختلف دینی اجتما عا ت کی صدا ر ِت فر ما ئی ۔ لا ہو ر سے نئی اور پر انی کتا بیں مختلف مو ضو عا ت پر برا بر خر ید تے رہے حا فظ محمد عابد نو شا ہی کو اپنے اخرا جا ت پر حصو ل عِلم دین کے لیے ما مو ر کیا لا ہو ر ، را ولپنڈی اور قر ب وجوا ر سے کئی نا مو ر علما ئ ملا قا ت کے لیے آتے رہے دربا ر نو شا ہی کا کام تیز ی سے تکمیلی مر احل کی طر ف بڑ ھ رہا تھا اور آپ اس کی نگر انی میں ہمہ جہت مصر وف تھے لیکن ان مصر و فیا ت کے باوجو د تصنیف و تا لیف کی طر ف بھی دھیا ن دیتے رہے آ پ کے پنجا بی اشعا ر کا مجمو عہ زا ر ستا ن نو شاہی مر تب ہوا اسکی کتا بت اور پر و ف ریڈ نگ ہو ئی پر نٹ کر ائی ، اسی طرح ملک مر و لدین اور خضر نو شا ہی کی پرنٹنگ بھی کرائی اور یہ کتا بیں علما ئے کرا م اپنے متو سلین و مر ید ین میں مفت تقسیم کیں۔ اس سفر کے دو ر ان بیسیوں بیما رو ں اور حا جتمند و ں کو اپنی طر ف سے ما لی معا و نت بھی کر تے رہے ۔ کئی علما ئے کر ام کو جمعیت الاسلام کے خر چ پر بر طا نیہ آنے کا بند و بست کیا جن میں مولا نا طفیل اظہر لا ہو ر، مولانا منیر صا حب آف کنا رہ سرا ئے عا لمگیر وغیر ہ شا مل ہیں بہت سے لو گ بیعت سے مشر ف بھی ہوئے 28 نو مبر 1991 �÷ ئ کو پھر پاکستان جا نا ہوا 23 جنور ی 1992 تک قیا م رہا ۔ اس سفر میں آپ کے سا تھ سیدہ ام الر ضا نو شاہی ، حافظ وز یر نو شاہی اور محمد ہا رو ن نو شاہی تھے در با ر نو شاہی کا تعمیر ی کا م ہو رہا تھا اس لیے زیا دہ تر قیا م در با ر نو شاہی نو شہ پور شر یف کشمیر کا لو نی جہلم میں رہا اور چک سوا ر ی شر یف مزا ر اقد س پر بھی حا ضر ی ہو تی رہی چند جگہو ں پر جا نا ہو ا مگر بہت قلیل مختلف شعبہ ہائے ز ندگی سے تعلق رکھنے والے لو گ زیا ر ت کیلئے اور اپنے مسا ئل کے حل کے لیے حا ضر ہو تے رہے در با ر نو شاہی پر علما ئے کر ام اور قا ر یا ن عظا م بکثر ت حا ضر ہو تے رہے انہی میں حضرت علا مہ مفتی عبد القیو م صا حب رضو ی بھی تھے میر پو ر سے کئی علما ئ حلقہ ئِ ارا د ت میںدا خل ہوئے حا فظ محمد بشیر سا گر ی والے، حا فظ محمد فا ضل نو شاہی اور دیگر حفا ظ اکثر حا ضر ی میں رہے ۔ پاکستان سے واپس آتے ہوئے حضرت صا حب فیصل مسجد بھی تشر یف لے گئے ۔ در با ر کی تعمیر کا کام تیز ی سے جا ری تھا ادھر سے مطمئن ہو کر واپسی کا سفر اختیا ر کیا ۔ یہ تو ایک لحاظ سے آپ کا معمو ل کا سا لا نہ سفر تھا اس سے پیشتر 24 جون 1991 �÷ کو بھی پاکستان کا ہنگا می سفر اختیا ر کرنا پڑ ا۔ آپ کے برا در ِ بز ر گ حضرت سید عالم شا ہ نو شاہی کی شد ید بیما ری کی اطلا ع پاکر آپ پاکستان آئے اور کشا ں کشا ں بھائی صا حب کے پاس پہنچے زیا ر ت سے شا د کا م ہوئے اس وقت پیر سید عالم شا ہ کی حالت کچھ سنبھلی ہو ئی دکھائی دی فر مایا ’’ اللہ کے فضل و کر م سے اب تو آپ کو صحتمند دیکھتا ہو ں ‘‘ بھا ئی صاحب مسکر ائے اور بولے وہ تمہا رے اردو والے شا عر نے کیا کہا تھا �ò ان کے دیکھنے سے جو آجاتی ہے منہ پر رونق وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کاحال اچھا ہے کچھ رو ز دو نو ں بھا ئیوں میں را ز نیا ز کی با تیں ہوتی رہیں بیما ری شد ت اختیا ر کر تی گئی نقا ہت غا لب آتی گئی مگر اس حا ل میں بھی انہوں نے نماز اور اپنے اور ادو و ظا ئف کا سلسلہ نہ چھو ڑا جب ہو ش میں آتے کلمہ ئِ شہا دت اور درو د شر یف پڑ ھنے لگتے جس روز وفا ت ہوئی طبعیت خا صی سنبھلی ہوئی نظر آتی تھی حضرت پیر معر وف شا ہ صا حب کو پاس بیٹھ جا نے کا اشا رہ کیاوہ سر کے قر یب آنکھوں کے سامنے آکر بیٹھ گئے کمز ور اوردوبتی ہو ئی آواز میںکہا ’’ مسا فر اپنے وطن کو واپس جا رہا ہے میں خو ش قسمت ہو ں کہ میرے سا رے پیا رے میر ے پاس ہیں جو نہیں وہ ابھی ابھی نیند میں مجھے مل کر گئے ہیں کچھ بلا نے آئے تھے ‘‘ پیر معرو ف شا ہ صا حب نے کہا ’’ بھائی ما یو سی کی با تیں نہ کیجئے ‘‘فر ما یا ’’ ما یو سی کیسی ؟ یہ تو حقیقت کا اظہا ر ہے ‘‘ پھر کلمہ ئِ شہا دت پڑ ھا درو د شریف پڑ ھنے لگے ہو نٹو ں پر مسکر اہٹ بکھر گئی اور دائیں ہا تھ سے اشا رہ کیا جیسے کسی کو پاس بلا رہے ہوں ‘‘ پیر صا حب کہتے ہیں میری چھٹی حس نے کہا بھائی صا حب فر شتہ ئِ اجل کو بلا رہے ہیں اور خو ش ہو رہے ہیں یہی کیفیت تو مو لا نا رومی پر طا ر ی ہو ئی تھی جب فر شتہ ئِ اجل کو دیکھ کر کیا تھا۔

پیشترآ، پیشترآ، جانِ من پیکِ بابِ حضرت سِلطانِ من ﴿اے میرے با د شا ہ کی طر ف سے آنے والے پیا رے آجا ، قریب تر آجا اور مجھے اپنے با د شا ہ کے پا س لے چل ﴾

بھا ئی صا حب نے جا ن جا ںآفر یں کے سپر د کر دی آخر ی لمحہ آیا اور جھپا کے سے گز ر گیا مسا فر چلا گیا اس کے ہو نٹو ں پر تبسم بکھر ا تھا جیسے در و د شریف کا ایک ایک لفظ تبسم کی کر نو ں میں منجمد ہو کر لبو ں پر ٹھہر گیا مجھے اقبال کا شعر بیسا ختہ یا د آگیا ہے  �ò 

نشانِ مردِ مومن باتوگو یم چو مرگ آید تبسم ب رلبِاوست جنا زہ میں پورا علاقہ اور اسکے قرب و جوا ر کے لو گ شر یک ہو ئے جہا ں جہا ں خبر پہنچی لو گو ں نے پہنچنے کی کوشش کی با مو ر مذہبی و سیا سی شخصیا ت اور عوام النا س نے جنا ز ہ میں شمو لیت کی بہت بڑا جنا زہ تھا۔ پھر پاکستان کے طو ل و عر ض سے لو گ تعز یت کے لیے آنے لگے صا حبز ادہ پیر عتیق الرحمن آف ڈھا لگر ی شریف ، علامہ محمد بشیر مصطفو ی آف میر پو ر ، چو دھر ی محمد شر یف اور لا ہو ر اور اسلام آبا د اور کئی اضلا ع سے عقید تمند وں کے ہجو م آتے رہے فا تحہ خوا نی ہو تی رہی جو دور درا ز تھے اور نہیں آسکتے تھے انہوں نے خطو ط کے ذر یعے تعز یت کی ۔ اس طر ح کا فی دن حضرت صاحب اسی جگہ مقیم رہے قرآن پاک کے کئی ختم ہوئے درو د شر یف بکثر ت پڑ ھا گیا اور ایصا ل ثِو ا ب ہو تا رہا ۔ آنے والو ں میں ایسے لوگ بھی آئے جنہو ں نے پہلے بیعت کا شر ف حا صل نہیں کیا تھا انہو ں نے بیعت کا اس طر ح سلسلہ میں کئی نئے لو گ داخل ہو ئے ۔ 17 فر و ری 2001 �÷ سے 25 ما ر چ 2001 �÷ تک بھی پاکستان میں رہنے کا اتفا ق ہوا ۔ پر و یز اقبا ل ڈ و یا ل حاجی محمد اقبال جہلمی اور انکی اہلیہ اور شمشیر جنگ اس سفر میں آپ کے ہمر اہ تھے یہ سب سلسلہ عالیہ نو شاہیہ سے وا بستہ حضر ا ت تھے ۔ دیگر مما لک کے سفر کی طر ح پاکستا ن کے سفر میں بھی آپ کا سب سے بڑ ا کا م کتابوں کی خر یدا ر ی ہو ا کر تا ہے بلکہ پاکستان میں یہ کام کچھ زیا دہ ہو تا ہے کیو نکہ یہا ں اللہ کے فضل سے اسلام اور اسلامی مو ضو عا ت پر اردو اور انگر یز ی میں لکھنے والے بکثر ت ہیں نیز یہ کہ پاکستان میں ابھی کتا ب کی محبت با قی ہے دیگر مما لک میںعربی فا رسی انگر یز ی وغیر ہ میںجو کتب ان مو ضو عا ت پر سا منے آتی ہیں پا کستان کے کتب فر و ش منگا لیتے ہیں ۔ اس طر ح پاکستان میں آپ کا جس شہر میں جا نا ہو کتا بو ں کی دکا نیں ضر و ر دیکھ لیتے ہیں پاکستان کے زیرِ نظر سفر میں یہ کچھ زیا دہ ہو ا کیونکہ جامعہ نو شاہیہ کی لا ئبر یر ی کو شا د ا ب اور زر خیز کو نا مطلو ب تھا ۔ چنا نچہ 19 فر ور ی 2001 کو ایک کا ر اور ایک ویگن سا تھ لی اور اکوڑ ہ خٹک اور پشا ور رو نہ ہوئے اکو ڑہ خٹک پشتو کے مشہو ر شا عر خو شحا ل خا ن خٹک کا شہر ہے اور علم کے شو ق سے لبر یز ہے 60ہز ار کی کتا بیں اکوڑہ خٹک سے خر یدیں اور تقر یبا ً 90 ہز ا ر کی کتا بیں پشا و ر سے خر ید یں ان علا قو ں میںچو نکہ عر بی مدا ر س بکثر ت ہیں اس لیے عر بی کی کتا بیں بکثر ت ملتی ہیںصو بہ سر حد میں دیو بند ی خیا ل کی جمعتیہ العلما ئے اسلام کا کا فی اثر ہے جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں یہ ’’ کھٹ مٹھے ‘‘ مو لو ی ہیںآدھا تیتر آدھا بیٹر والے بر یلو یو ں کے پیر وں کے مخا لف ہیں اپنے پیر ڈھا ل اور پال رکھے ہیں ان پیر وں کے معا ملہ میں وہ سب کچھ کر لیتے ہیں جو بریلوی حضر ا ت کر تے ہیں تو انہیں شر ک لگتا ہے عقا ئد میںکہیں اہلحد یث کیطرف جھک جا تے ہیں کہیں بر یلو یوں کی طرف علما ئے اہل سنت کو اس علاقہ کی طر ف بھر پو ر تو جہ دینی چاہییاور انکی دو گلی پالیسیوں سے پر دہ اٹھا نا چا ہیئے۔ عوا م النا س مذہب سے بہت لگا ئو رکھتے ہیں مزا را ت کا احترا م کر تے ہیں منت ما نتے ہیں نذ ر نیا ز دیتے ہیں جمعیتہ العلما ئے اسلام کا سیا سی حر بہ یہ ہے کہ یہ مسا جد پر قا بو پالیتے ہیں اپنے مسلک کا مولوی بٹھا دیتے ہیں یہ عو ام کے عقا ئد میںزیا دہ دخل نہیں دیتا اس طر ح مذہب پر ست لو گو ں کا معتمد بنا رہتا ہے اور وہ لو گ اسی کے کہنے پر ووٹ دیتے ہیں ۔ یہ ہے سیا ست یعنی مسجد پر قبضہ کر لو تو عوا م تمہیں مقتدا ئے مذہب سمجھنے لگیں گے اس کے بعد انکے جذبا ت سے کھیلتے رہو ۔ 25 فر و ری کو جا معہ نو شاہیہ کے سلسلہ میں علما ئے کر ام کا مشا ور تی اجلا س طلب کیا گیا اس اجلا س میں 20 سے زاہد علما ئ نے شر کت کی مفتی محمد یو نس چک سوا ر ی شر یف ، مو لا نا منیر احمد نو شاہی ، مو لا نا انوا ر الا سلام ، مو لا نا خا دم حسین نو شا ہی ، سید محمد شا ہ نو شاہی حا فظ محمد اسلم آف دھتیا لہ ، مو لا نا عبد اللطیف قا در ی اور دیگر علما ئ نے شمو لیت کی کئی امو ر زیر بحث آئے ، جا معہ کی نگرا نی کو ن کر یگا یعنی ایڈمنسٹر یشن کسی کے ہا تھ میں ہو گی ۔ ابتدا ئی طا لب علمو ں کی تعلیم و تد ریس میں پڑ ھنے کے سا تھ لکھنا سکھا نے کی طر ف خصو صی تو جہ دینے کے لیے پر صا حب نے خا ص طو ر پر متو جہ کیا آپ نے فر ما یا علما ئے اہل سنت کی ایک کمز ور ی یہ رہ گئی ہے کہ انہو ں نے علم و فضل تو حا صل کر لیا تقر یر میںبھی مہا ر ت رکھتے تھے لیکن تحریر کی طر ف بہت کم تو جہ دی گئی حا لا نکہ تقر یر ہنگا می اور وقت چیز ہے اور تحر یر ہمیشہ رہ جا نے والی چیز ہے اس میدا ن پر دیو بند یو ں اور جما عت مِو دو دی نے قبضہ کر لیا جس مو ضو ع پر دیکھو یہی لو گ چھا ئے ہوئے ہیں ۔ طالب علم انہی کی کتا بیں پڑ ھتے ہیں اور انہی کو عینِ اسلام سمجھ لیتے ہیں جا معہ نو شاہیہ کو یہ چیز خا ص طو ر پر مد ِ نظر رکھنی چاہییکہ اسے صر ف مقرر ہی نہیں ادیب و انشائ پر واز بھی پیدا کر نے ہیں جو آگے جا کر ، صحا فت اور نثر نگا ری میں مہا رت رکھنے کی وجہ سے ذر ائع ابلا غ سنبھا ل سکیں۔ آپ نے یہ بھی وضا حت کی کہ جن علوم کو زما نہ مر دہ قر ار دے چکا مثلا ً یو نا نی منطق وغیر ہ انہیں نئے نصا ب سے خا رج کر دینا چا ہیے اور جد ید علوم کی طرف بھر پو ر تو جہ دینی چا ہیے آج زند گی اور اس کے مسا ئل بہت پیچید ہ ہو گئے ہیں ان مسا ئل کے حل ’’ ایسا غو جی اور ملا حسن ‘‘ جیسی یو نانی منطق کی کتا بو ں میں نہیں جد ید علوم میں ہے معا شر ت ، تمد ن عمر انیا ت معا شیا ت ، جد ید فلسفہ ، سا ئنسی علوم کی تما م شا خیں غر ضیکہ کیا کہا کچھ علوم پید اہو چکے ہیں پس جا معہ نو شاہیہ کے لیے وہ نصا ب ہو جوا ن علوم ر حا وی ہو اور چو نکہ یہ سا رے علوم انگر یز ی زبا ن میں ہیں اس لیے انگر یز ی زبان پر خصو صی طو ر پر عبو ر حا صل کر نا چا ہیے حضور �ö کا یہ قو ل بہت بڑی را ہِ عم متعین کر نا ہے کہ ’’ حکمت اور دانا ئی مو من کی گم شدہ چیز ہے پس وہ جہاں بھی ملے اسے چا ہیے کہ وہ ایسے اپنا لے ‘‘ آپ نے یہ بھی فر ما یا کہ زبا ن جو بھی پڑ ھا ئی جا ئے اس طر ح پڑ ھا ئی جا ئے کہ لکھنے اور بو لنے میں مہا ر ت حا صل ہو جائے ہما رے کتنے ہی علما ئ ہیںجو فا ر غ التحصیل ہو جا ئے ہیں در س نظا می سے سند فر اغ حاصل کر تے اور دستا ر ِ فضیلت سر پر سجا لیتے ہیں لیکن عربی زبا ن میں ایک مختصر خط نہیں لکھ سکتے عربی میں گفتگو نہیں کر سکتے جا معہ میں اردو ، عر بی انگر یز کی تعلیم اس طر ح دی جا ئے کہ تما م زبا نو ں میں تحر یر و تکلم کی مہا ر ت پیدا ہو جا ئے جا معہ میں عربی علوم کے سا تھ سکو لو ں ، کا لجو ں کے در سی مضا مین بھی پڑ ھا ئے جا ئیں اور طلبہ کے امتحا نا ت میں بٹھا یا جا ئے تاکہ وہ دینی اور دینو ی دو نو ں طر ح کی اسنا د لے کر میدا نِ حیا ت میں اتر یں۔ اس مجلس مشا ور ت میں علما ئ کے سا تھ جد ید علوم کے ما ہر ین بھی شامل تھے ۔ چنا نچہ را جہ طا ہر محمو د خا ن ایڈ و وکیٹ جہلم حا فظ نیاز احمد اے سی ضلع جھنگ اور حا فظ ابو سفیا ن بھی شر یک ہوئے ۔ اکوڑ ہ خٹک اور پشا ور سے کتابیں خر ید ی گئی تھیں مگر حضر ت پیر صا حب مطمئن نہیں تھے اور تشنگی محسو س کر رہے تھے چنانچہ مختلف کتب خانو ں کی مطلبو عہ فہر ستیں دیکھیں کتابیں نشا ن زد کیں چو دھر ی نثا ر احمد نو شاہی ، قا ر ی منو ر حسین نو شا ہی ، مو لا نا امیر بخش سیا لو ی ، مو لا نا منیر احمد نو شاہی اور چند دیگر سا تھیو ں کو لا ہو ر بھیجا کہ وہ نشا ن زدہ کتا بیں اوراپنی صو ابد ید کے مطا بق ،اور کتا بیں جو مناسب سمجھیں خر ید لا ئیں اس طر ح پو نے دو لا کھ رو پے کی مز ید کتابیں خر ید کر لائیں گئیں۔ یہاں ہم پاکستان کے سفر کا با ب ختم کر تے ہیں ۔ یہ با ب ڈا ئر یو ں سے تر تیب دیا گیا ہے اور کہیں کہیں جو تفاصل دی گئی ہیں وہ پیر صاحب سے زبا نی طو ر پر حا صل ہو ئیں۔




یو ر پ میں تبلیغ سفر فر انس ﴿فر انس اور اسلام ،تا ریخی پس منظر ﴾ فر انسیسی ما ہر تمد ن و عمر انیا ت ڈا کٹر گستا ولی بان کا خیال ہے کہ عر ب ممالک کو فتح کر تے تو دیکھتے ہیں انکی آب و ہوا اور جغر ا فیا ئی ما حو ل کیسا ہے پھر وہ فیصلہ کر تے کہ یہ ملک انکے رہنے کے قا بل ہے یا نہیں اگر وہ اسے مسلما نو ں کی رہا ئش کے قا بل سمجھتے تو وہاں اپنا مستقل تسلط قا ئم کر تے اور وہاں کے تمد ن پر اپنے اثر ا ت چھو ڑ تے ۔ وہ لکھتے ہیں ۔ ’’ اندلس کو فتح کر نے کے بعد عر بو ں نے فر انس پر کئی حملے کئے لیکن یہ معلوم نہیں ہو تا کہ انہو ں نے کبھی اس ملک میں اقامت کا قصد کیا ہو ۔ ظا ہر اً اس ملک کی سر د اور نم آلو د آب و ہوا انہیں اقا مت سے ما نع ہو ئی عرب یو ر پ کے جنو بی حصو ں میں ہی نشو و نما پاسکتے تھے کیو نکہ ان کی آب و ہوا معتد ل تھی فر انس کے جن حصو ں میں وہ زیا دہ عر صہ رہے وہ وہی تھی جنکی آب و ہوا گر م تھی ‘‘ ﴿تمد ن عرب صفحہ 285﴾ اب ہم تا ریخی پس منظر ڈاکٹر گستا ولی بان کی تفاصیل سے اخذ کر تے ہیں اور وہ اس لیے ایک تو وہ فر انسیسی ہیں دو سرے ان میں اتنا تعصب نہیںجتنا دیگر ا بتدا ئی مستشر قین میں ہے۔ آٹھو یں صد ی عیسوی میںجب عر بوں نے فر انس پر حملہ کیا تو فر انس پر ان با د شا ہو ں کی حکومت تھی جنہیں مؤ ر خین IDLE KINGS یعنی سلاطین کا ہل الو جو د کہتے ہیں جا گر دا روں اور امرا ئ کے مظا لم اور سلب و نہب سے ملک کی حالت بہت خر اب تھی اسی لیے وہ بآسا نی عر بو ں کے ہا تھ آگیا اور انہوں نے معمو لی مز احمتو ں کے بعد جنو بی شہرو ں پر قبضہ کر لیا سب سے پہلے فتح ہو نے والا شہر لا نگے باک میں نا ر با ن تھا 721 �÷ئ میںعربو ں نے ایکی ٹین کے دا ر الحکو مت ٹو لو س کا محا صر ہ کیا مگر کا میا ب نہ ہو سکے ۔ پھر انہو ں نے یکے بعد دیگرے فرا نس کے صو بے نیم لیان ، ما کان ، او تو ن، وغیر ہ فتح کئے اور در یا ئے رو ن کے صو بہ جا ت ڈا فینے اور فر انس کا آدھا ملک دریا ئے لوا ر ا کے کنا رے سے فر انش کا نٹے تک بتد ریج مسلما نو ں کے قبضہ میں آگیا ۔ انہوں نے بڑے بڑے مرا زک پر فو جی تسلط قا ئم کر لیا تا کہ یہا ںسے دو سرے شہر و ں پر حملہ آور ہو سکیں۔ 732 �÷ میں امیر عبد الر حمن نے دریا ئے گا ر ان عبو ر کیا ایکی پٹن اور اسکا ن میں معمو لی مز احمت ہوئی مگر وہ یہاں کے سا لا ر ڈیو ک بو ڈ کو شکست دیتا ہو ا بو ز ڈو پر قا بعض ہو گیا اور پائی ٹیرس کی طر ف بڑھا ڈ یو ک بو ڈ نے اسٹر ا سیا اور نبو سٹر یا کے با د شا ہ چا رلس مائل سے مد د طلب کی چا رلس ما ئل نے جر منی ، فر انسیسی اور بر گا ن کے سپا ہی اکٹھے کئے پا ئی ٹیر س ﴿PITARIS﴾کے سامنے جنگ ہوئی اس میں ایک جنگلی چا ل سے مسلما ن فو جیں شکست کھ اکر پسپا ہوگئیں ارو نار با ن میں آرکیں چا رلس نے اس شہر کا محا صر ہ کر لیا لیکن کا میا ب نہیں ہوا اس زما نہ کی عام روشن کے مطا بق اس نے ارد گر د کے شہر و ں میں لو ٹ ما ر شر وع کر دی اسکی چیر ہ دستہوں سے تنگ آکر عیسا ئی سر دا ر عر بو ں سے مل گئے اور چا رلس کو ما ر کر بھگا دیا۔ مسلما ن تھو ڑے ہی دنو ں میں ما ر ئل کی شکست سے سنبھل گئے جو مقا ما ت انہو ںنے پہلے فتح کر لیے تھے ان پر قا بض رہے اور دو سو بر س تک انکا قد م فر انس کے بعض علا قو ں پر جما رہا ۔ 737 �÷ ئ میں ما ر سیلز کے حا کم نے ا ن سے پر و ڈانس لے لیا انہوںنے دو سری طر ف بڑ ھکر اُزل پر قبضہ کر لیا 935 �÷ئ تک وہ والے اور سو ئٹز ر لینڈ تک پہنچ گئے تھے ۔ متعصب مؤ ر خین نے چا رلس ما ئل کو بطو ر ہیر و پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر اس نے مسلما نو ں کا راستہ نہ رو کا ہو تا تو عرب فرا نس لے لیے اور تہذ یب و تمدن کو تبا ہ و بر با د کر دیتے بلکہ پو را یو ر پ تہس نہس ہو جا ت اور تہذیب کی شمعیں گل ہو جا تیں۔ ایک نظر ان لو گو ں کا انداز، بیان بھی دیکھ لیجئے ۔ ہنر ی ما ر ٹن جو اپنے آپ کو سچ کا بڑا نما ئند ہ سمجھتا ہے ۔ ا س طر ح تعصب کا زہر اگلتا ہے۔ ’’ چا رلس مائل نے دنیا کی تا ریخ کا فیصلہ کر دیا اگر فر نسیسی شکست کھا جاتے تو سا ری دنیا مسلما نو ں کے ہا تھ آجا تی اس طر ح یو رپ اور تما م دنیا کی تر قی کا ستیا نا س ہو جا تا کیو نکہ وہ جذبہ جو انسا نو ں کو تر قی کا باعث بنتا ہے مسلما نو ں میںبالکل نہیں بلکہ ان کی فطر ت میں ہی نہیں انہیں بس یہی زعم ہے کہ وہ خدا کی طرف سے آئے ہیں مسلمانوں کا خدا جو دنیا کو پیدا کر نے کے بعد اپنی شا ن اور اپنی وحدانیت کے بستر پر لیٹ کر آرا م کر رہا ہے انسا ن کے اند بھی آگے بڑھنے اور تر قی کر نے کی ہمت پیدا نہیں کر تا ‘‘

﴿HISTORY OF FRANCE P.NO 35﴾

اس کا پہلا جو اب تو یہی ہے کہ مسلمان آگے بڑ ھ کر پورا یو ر پ لینا ہی نہیں چا ہتے تھے کیو نکہ وہا ں کی آب و ہوا انہیں پسند نہیں تھی وہ سر د اور مرطوب خطو ں سے نفرت کر تے تھے ۔ اس لیے جہا ں تک معتد ل آب و ہوا تھی وہا ںتک وہ گئے اور انہوں نے ان علا قو ں پر دو سو سال تک اپناقبضہ کسی نہ کسی صو ر ت میں بر قر ار رکھا اہی ہسٹری ما ر ٹن کی یہ با ت مسلما نو ں میں تر قی کر نے کا جذ بہ نہیں اور یو ر پ کو بر با د کر کے وہ دنیا کو مہذب و متمد ن ہو نے سے روک دیتے تویہ اس مؤرخ کی سب سے بڑی اور تعصب آفر یدہ جہا لت ہے مسلما ن جہا ں جہا ں گئے تہذ یب و تمدن کے سو ر ج طلو ع کر تے گئے اندلس اسکی بڑی مثال ہے مسلما نو ں نے اسے کہا ں پہنچا یا اور متعصب عیسا ئیوں نے اسے کس طر ح تباہ و بر با د کیا جس یو ر پ کی تہذیب پر اس نا ز ہے اس یو ر پ کو یہ سا را علم مسلمانو ں کے ما یہ ئِ ناز مفکر ین نے دیا ہے اور ہر مؤر خ اس کو کھلے عام ابد ی صد اقت کے طو ر پر پیش کر تا ہے ۔ چنا نچہ ما ر ٹن کی متذ کر ہ با لا با ت کا جو ا ب دیتے ہوئے ڈا کٹر گستا ئولی با ن کہتے ہیں ۔ ’’شمال فر انس کی آب و ہوا سر دی اور نمی کی وجہ سے عربو ں کو بالکل ناپسند تھی اگر یہ اند لس کی طر ح ہو تی اور عرب اسے زیر نگیں لے آتے تو یہاں وہی کچھ ہو تا جو انہو ں نے اند لس میں کیا تھا عر بو ں ہی کی وجہ سے اندلس کو اس قد ر عظیم الشا ن تمد ن نصیب ہوا اور جب اندلس کے تمد ن کا آفتا ب نصف النہا ر پر تھا اس وقت یو ر پ شدید و حشیا نہ حا لت میں تھا اگر عرب یو ر پ پر اپنا تمکن قا ئم کر لیتے تو ہم کہ سکتے ہیں کہ یہ یو رپ کی خو ش بختی ہوتی اسلام رحمت کاپیغام تھا اور یہ پھیل جا تا تو اقوام مغر ب اخلا ق میں نر قی پیدا ہوتی وہ انسا نیت سیکھ جا تیں اور یو ر پ اس قتل عام سے بچ جا تا جو سینٹ بر تھا لیمو نے بر پا کیا وہ خوفنا ک مذہبی عدا لتوں کو علم دشمنی سے بچ جا تا کوئی گلیلیو اذتیوں سے دو چا ر نہ ہوتا کسی بر ینو کو نہ جلا یا جا تا اور یو ر پ میں خو ن کے وہ دریا نہ بہا ئے جا تے جنہوں نے یو ر پ کی زمیں کو لہو لہا ن کئے رکھا ‘‘ مسٹر لی بر ی LE BIRE لکھتے ہیں ’’ اگر عربو ں کا نام تا ریخ سے نکا ل دیا جا ئے تو یو ر پ کی علمی نشا ۃِ ثا نیہ کئی صدیو ں تک پیچھے ہٹ جا تی ‘‘ ﴿تمد ن عرب ص 514 ﴾ بہر حا ل جنو بی فر انس میں مسلما ن قا بض رہے لیکن یہاں انہیں چین سے بیٹھنا کبھی نصیب نہ ہوا کہیں نہ کہیں سے وحشی ان پر حملہ آور ہو جا تے اور انہیں ہر وقت ان حملو ں سے بچا ئو کی تد بیر و ں منہمک رہنا پڑ تا ۔ اس لیے انہوں نے یہاں اپنے تمدن کے وہ تا بند ہ نقو ش نہ چھو ڑے جو دو سرے مقا ما ت پر وہ چھو ڑ گئے اور جنہو ں نے تا ریخ کو ایک نئے اور روشن را ستے پر ڈا ل دیا۔ اس کے با جو د عر بو ں نے فرا نس میں اپنے کچھ نشا نا ت ضر و ر چھو ڑے ہیں۔ ایک اثر تو زبان پر ہے ڈاکٹرلی با ن لکھتے ہیں ’’فر انس میں بھی عربی زبا ن نے بڑ ا اثر چھو ڑ ا ہے مو سو سعر یِ لو بالکل صحیح لکھتے ہیں اوورن اور لمو ژ ین کی زبان عربی الفا ظ سے معمو ر ہے اور ان کے نا مو ں کی صو رت بھی با لکل عربی ہے ‘‘ یہی مصنف آگے چل کر لکھتا ہے یہ امر نہا یت قر ین قیا س ہے کہ بحر ی انتظام اور جہا ز را نی کے متعلق اکثر الفا ظ عر بی ہیں جو فرا نسیسی اور اطالو ی زبا نو ں میں مستعمل ہیں آلہ قطب نما غلطی سے چینیوں کی طر ف منسوب کر دیا گیا ہے یہ بھی عر بوں ہی کے تو سط سے یہاں آیا ہے ۔ یہ امر بھی قرین قیا س ہے کہ جس وقت با قا عدہ اور مستقل فو جیں قا ئم ہوئیں تو افسرو ں کے عہد ہ وا ر نا م اور لڑ ائی میں نعرے تک عر بو ں سے ہی لپٹے گئے اور انتظا م مملکت کے متعلق اصطلا حا ت بھی بغدا د اور قر طبہ سے اخذ کی گئیں ۔ فر انس کے طبقہ ئِ ثا لث کے سلا طین پو ری طر ح عر بو ں کے مقلد تھے اور اسی وجہ سے شکا ر کے متعلق اکثر الفا ظ عر بی الا صل ہیں ٹو ر نا منٹ کا لفظ مد طین نہیں عر بی ’’دوران‘‘ کی ہی دو سری شکل ہے یہ ایک قسم کی فو جی و رز ش تھی جس میں فو ج ایک دا ئرہ کی شکل میں گھو متی تھی۔ ہما ری زیا دہ تر علمی اصطلا حا ت عربی میں ہیں ہما را علم ہئیت ان عربی اصطلا حا ت سے معمو ر ہے ادویہ کے نام بھی عربی سے ماخو ذ ہیں‘‘ ﴿تمد نِ عرب صفحہ 404﴾ ہم تفصیل میں نہیں جا سکتے نہیں تو ایسے الفاظ جمع کر نے کی کو شش کر تے جو عربی سے یو ر پ کی زبانو ں میں آئے ہم صر ف ڈا کٹر لی بان کی یہ با ت نقل کر دیتے ہیں ۔ ’’فی الو اقع وہ الفا ظ جو عر بی سے یو رپ کی زبا نو ں میں آئے ان سے عربو ں کے تمد ن تسلط کا پورا ثبوت ملتا ہے اگر یہ کل الفا ظ مع انکی پو ری تشر یح کے ایک جگہ جمع کئے جا ئیں تو ایک معقول مجلد تیا ر ہو جا ئے ‘‘ ﴿تمد ن عرب صفحہ 658﴾ ڈاکٹرلی با ن نے مغر ب میں احیا ئے علوم اور اشا عت علوم کے سلسلہ میںعربو ں کے پر بحث کر تے ہو ئے لکھا ہے ۔ ’’ پند رھو یں صد ی تک کسی ایسے مصنف کا حو الہ نہیں دیا جا تا تھا جس نے عر بو ں سے نقل نہ کیا ہو راجر بیکن ، پیسا کا لیو نا ڈ ، ایما نڈل ، سینٹ ٹا مس ، ربرٹ اعظم ، یہ سب یا تو عر بو ں کے شا گر د تھے یا ان کی تصنیفا ت قتل کر نے والے موسیو ر ینا ں لکھتا ہے البر ٹ اعظم نے جو کچھ پایا ابن سینا سے پایا اور سینٹ ٹامس کو سا را فلسفہ ابن رشد سے ملا ‘‘ ﴿تمدن عرب صفحہ 515﴾

اس کے علا وہ فر انس کے بعض حصو ں میں معلوم ہو تا ہے کہ ان فر نسیسیو ں کے خو ن میں بھی عر بو ں کے اثرا ت موجو دہیں یہ معلو م ہو تا ہے جہا ں جہا ں مسلما ن فو جیں موجو د تھیں ان علا قو ں کے قر ب و جوا ر میں کچھ مسلما ن آبا د ہوگئے تھے انہو ں نے وہا ں زرا عت یا حر فت شر و ع کر دی تھی ۔ کا شتکا ر ی اور زرا عت کے چند مخصو ص اصو ل جو وہ اند لس سے اپنے سا تھ لائے تھے انہی کے تحت زرا عت شر و ع کر دی تھی اسی طر ح حر فت میںقا لین با فی بھی عربوں کے پا س تھی اب رو بو سان میں وہ صنعت اسی انداز پر مو جو د ہے معلو م ہو تا ہے یہ مسلما ن جو زرا عت پیشہ یا مزدوری پیشہ تھے یہا ںکے اصل با شند و ں کیسا تھ مل جل گئے آہستہ آہستہ وہ اپنے مذہب سے اسو وقت دو ر ہو نے لگے جب مسلما نوں کی فوجیں یہاں سے نکل گئیں یہ عام بے علم لو گ ہو نگے یہ آخر دو سرے مذہب کی اکثر یت میں ڈو ب گئے لیکن ان کی نسل با قی رہ گئی ڈا کٹر لی بان لکھتا ہے ۔ 

’’ اتنی صد یو ں کے بعد بھی فر انس کے بعض حصو ںمیں عر بو ں کی نسل کا پتہ لگتا ہے کر و ز کے صو بہ میں ہو ت آلپ میں اور بالخصو ص ان مقا ما ت میں جو مو نٹ مو ر ﴿یعنی جبل المسلمین﴾ کے ارد گر د ہیں نیز بین کے صو بہ میں اور لا ند و ر وزیان ، ولا نگے ڈا ک اور بیر ن کے قصبو ں میں عر بو ں کی تعداد بآسا نی پہچانی جا تی ہے ۔ ان کا گند می رنگ ، سیاہ آبنو سی با ل، خمدا ر ٹا ک ، بیٹھی ہو ئی چمکدار آنکھیں با قی آبا دی کے لو گو ں سے با لکل الگ ہیں انکی عو ر تو ں کا رنگ سا نو لا ، قدد لمبا ، بڑی بڑی سیا ہ آنکھیں بھر ے ہوئے ابر و وغیر ہ ان کا عربی انسل ہو نا ثا بت کر تی ہیں ۔ علم الا نسان کے قو ا عد کے مطا بق ان خصو صیا ت کا بر قر ا ر رہنا اور دیگر با شند و ں کے سا تھ مل کر تلف نہ ہو جا نا ثا بت کر تا ہے کہ ان مقامات میں جہا ں یہ لو گ پا ئے جا تے ہیں عربو ں نے بطو ر خو د چھو ٹے چھوٹے قا ئم کر رکھے تھے اور دو سرے با شند و ں کے سا تھ ازدوا ج و امتز اج کو جا ری نہیں رکھا تھا ‘‘ ﴿تمد ن عرب صفحہ 290 ﴾ بلا شبہ وہ لو گ اپنے مذہب سے دور رہو گئے لیکن انہو ں نے اپنی نسل کو با قی رکھا ۔ تمد ن و عمر انیا ت کے اور علم الا نسا ن کے ابتدا ئی طالب علم بھی جانتے ہیں کہ اکثر ایسے لو گ ہیں جو مذہب چھو ڑ بیٹھے ہیں لیکن اپنی نسل کو با قی رکھنے میں خا صے محتا ط رہے ۔ ہند و ستان میں ذا ت پا ت کی یہ تمیز بنیا دی حیثیت رکھتی تھی ہندو ئو ں میں ابتدا ئ سے ہی یہ چیز آگئی تھی ان میں سے کئی خا ندا ن مسلما ن ہو گئے مگر اسلام کی تعلیم مسا وا ت کے با وجود انہو ں نے ذا ت پا ت کی وہی تمیز با قی رکھی ۔ اور یہا ں بعض ذا تیں اصل میں جیسے را جپو ت وغیر ہ با قی رہ گئیں بعض کے نام تبد یل ہو گئے مگر شادی بیا ہ کے معا ملہ میں وہ دو سری ذا ت سے امتز اج نہ کر سکے پٹھا ن، را جپو ت ، سید وغیر ہ آج بھی اپنی ذا ت سے با ہر شا دی نہیں کر تے بیٹیاں دینے کا تو با لکل رو اج نہیں اگر کوئی مر د بھی دو سری ذا ت میں شا دی کر بیٹھتا ہے تو اس عو ر ت اور اسکی اولا د کوو مر د کے خا ندا ن سے نفر ت کے سو ا کچھ نہیں ملتا ۔



فر انس کا عہد جد ید اور مسلما ن

جو نا تھن فر انس سنٹر فا ر پو ر و پین سٹڈ یز ہا ر و رڈ کی رپو رٹ کے مطا بق 2001 �÷ کے اختتام تک فر انس میں مسلما نو ں کی مجمو عی تعدا د اکیا لیس لاکھ پچپن ہز ا ر تھی ۔ دو سری جنگ عظیم کے بعد فرا نس کی تبا ہ شدہ حا لت کا تقا ضا تھا کہ نیا فر انس تعمیر کر نے کے لیے محنت کر نے والے لو گ زیا دہ سے زیا دہ تعد اد میں ہو ں چنا نچہ ادھر ادھر سے بہت سے لو گ تلاش رزق میں فر انس پہنچے ان میں زیادہ تر الجیر یا کے تھے ، متذ کرہ رپو ر ٹ میں مسلما ن آبا دی کی تفا صیل یو ں ہیں۔ الجیر یا 1550000 = ﴿پند رہ لا کھ پچا س ہزا ر ﴾ مر اکو 1000000 = ﴿دس لا کھ ﴾ ٹیو نس 350000 = ﴿تین لا کھ پچا س ہزار ﴾ بلیک افر یقہ 250000 = ﴿دو لاکھ پچا س ہز ا ر ﴾ تر کی 315000 = ﴿تین لاکھ پند رہ ہزار﴾ نو مسلم 40000 = ﴿چالیس ہزا ر ﴾ ایشیا 100000 = ﴿ ایک لاکھ ﴾ دیگر 10000 = ﴿ایک لا کھ ﴾ غیر قا نو نی تا رکین وطن انداز اً تین لا کھ پچا س ہز ار اسی رپو رٹ کے مطا بق فر انس میں 1558 ایسے مقا ما ت ہیںجہا ں نماز اجتما عی طو رپر پڑ ھی جا تی ہے اور جنہیں مسجد کے طور پر استعما ل کیا جا تا ہے لیکن ان میں سے اکثر میں بمشکل 150 آدمی سما سکتے ہیں ہیں 20 جگہیں ایسی ہیں جن میں سے ہر ایک می