مندرجات کا رخ کریں

یاسمین حبیب کی رپورتاژ۔withdrawl symptoms

ویکی کتب سے
Yasmin Habib's Reportage.: withdrawal symptoms

زندگی کی کتاب اُٹھا کر دیکھنے کی کوشِش میںکئی بوسیدہ ، مسخ شدہ صفحات کِسی گیلے tissue paper کی طرح ہاتھ میں بھُر بھُرا کر رہ گئے ہیں ۔ کتاب کافی ضخیم ہے۔۔۔ کئی باب پرائے ہوچکے ہیں۔۔کئی انتہائی فضول سے ہیں۔۔نظرِ ثانی کے منتظر۔۔۔کئی تائسف کا شاہکار۔۔ کئی حادثوں کا شکار۔۔۔۔مگر میں اِس حقیقت سے منکر نہیں ہوں کہ اِس کتاب میں میری زندگی بِکھری ہوئی ہے ۔۔شاید۔۔ خود زندگی ہی اِسے سمیٹتی بھی جارہی ہے۔۔میرے پاس اِتنا وقت نہیں ہے کہ میںتقدیر و تدبیر کی بحث میں کھو دوں ۔ بہت عرصہ سے یہ کتاب کسی غیرمرئی شِلف پر دھری میری توجہ کیلئے اپنے حسرت بھرے اوراق پھڑپھڑا رہی تھی ۔ اِس شور نے آخر آج مجھے مجبور کر ہی دیا ہے اور ہاتھ میں ڈسٹر لئے میں یاسمین حبیب اپنے فلیٹ کے لائونج کی کھِڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے ۔۔۔فلیٹ کے اندراپنے اثاثوں کا جائزہ لے رہی ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ سوچ میں ہوں کہ زندگی کے pavlova کو اگر کوئی چیز مزید سنوار سکتی ہے تو icing سے بنے رنگ برنگ کے گلابوں کی صورت میں یہی چند اثاثے ہیں۔

ایک پنسل سے آڑھی تِرچھی لکیروں والا ۔۔۔زرد ہوتا ہوا ۔۔کسی پُرانےpractical journal کا صفحہ ۔۔۔ایک سیمنٹ۔۔ پتھر ۔۔ریت ۔۔ اینٹ اور بجری کا مرکب کسی تعمیر کا graffiti زدہ چھوٹاسا ٹکڑا ۔۔ ایک جاہ و حشمت کے زوال کی یادگار میری دیوار پر آراستہ Nefertiti کا سنہری اور کالی دھات سے بنا مجسمہ۔۔ ایک کالی دھات سے بنا اپنے ring پر ایستادہ معصوم ساکارٹون جِس کے ہاتھ میں ایک سفید سا بورڈ ہے جِس پر be happy don’t worry کندہ ہے ۔۔ایک مرکب شکل کے تتلیوں والے کالے see throughفریم میں ایک چھوٹی سی بچی کی تصویر ہے ، ایک رنگین کاغذ سے بنی تکونی ٹوپی ۔۔ ایک کارک اور ۔۔۔۔ شاید اور تو۔۔۔ کچھ بھی نہیں ہے میرے پاس ۔۔۔کہ جِسے اثاثہ کہا جاسکے۔ ۔۔۔ نہ سوکھے پھول ۔۔۔ نہ سونے والوں کی طرح ۔۔۔جاگنے والی آنکھیں ۔۔

اب سوال یہ ہے کہ کتاب کا آغاز کہاں سے کیا جائے ۔ چلیں کل کی بات کرتی ہوں۔۔۔۔ تقریباً اُنیس برس تنہا زندگی گُزارنے کے بعدایک روز اچانک نہایت حادثاتی طور پر منصور آفاق سے نہ صرف ملاقات ہوگئی بلکہ ہم و نوں بِلا اِرادہ باقاعدہ رشتہ ازدواج میں بھی مبتلائ ہوگئے۔۔ ۔ہاںیہ ابھی کل ہی کی بات محسوس ہوتی ہے ۔۔۔۔اتنا بروقت اور موئثر حادثہ اور کسی زمرے میں آئے یا نہ آئے اِسے قسمت کی فہرست میں فائِل ضرور کیا جاسکتا ہے ۔ جِس طرح ہم دونوں خود حیران تھے اِس اچانک ڈیویلپمنٹ پر اِسی طرح یار دوست بھی اپنی اپنی جگہoming to terms cکے مراحل سے گُزر رہے تھے ۔ جہاں مثبت اظہارِ خیال تھاوہاں منفی آرائ کے حقوق کا استعمال بھی جاری و ساری تھا۔

بہر حال حالات کے خاصے ٹھہرے ہوئے ٹھنڈے پانی میں بہت اُبال اُٹھ رہا تھا۔ ہم دونوں کا اپنا اپنا مسئلہ تھا سو ہم باہر کے اُتار چڑھائو میں نہایت پُر خلوص دِلچسپی رکھنے کے باوجود بھی اُس کے ساتھ انصاف کے تقاضے پورے کرنے سے قاصر تھے ۔ آخر اُنیس برس کیsolitary confinement کوئی معمولی بات تو نہیں ، طویل عرصہ ہوتا ہے ۔ عادت ہو جاتی ہے اپنے ماحول کی ، اپنی کمپنی کی ، اپنی تنہائی کی ، اپنی ذات میں ہجوم کی، اپنی خود اعتمادی کی ، اپنی جرائتوں کی ، اپنی حسرتوں کی، اپنے رتجگوں کی، اپنے بستر کی اور اپنے زخموں کو اُدھیڑ اُدھیڑ کر چاٹتے رہنے کی ۔ یہ احساس ہی نہیں رہتا کہ کوئی اور بھی ساتھ چل سکتا ہے، کوئی اور بھی کما کر لا سکتا ہے ، کوئی اور بھی مارگیج کی ادائیگی میں حصہ لے سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر تو یہ کہ گھر کا دروازہ اندر سے بند کرنے کے بعد اپنے علاوہ کوئی اور زندہ بدن بھی گھر میں رہ سکتا ہے۔ آپ کے ساتھ بات کرسکتا ہے۔۔۔ غرض یہ کہ rude awakening کے ایک سلسلے کا آغاز تھا ہم دونوں کیلئے ۔ اگرچہ ہم دونوں ہی ایک learning curve پر تھے مگر مجھے اِس بات کا اعتراف ہے کہ منصور کا لرنِنگ کروخاصا steep تھا ۔

قسمت نے ہم دونوں کو ملکیت میں آئے ہوئے ایک دو کمروں کے کونسل زدہ فلیٹ کی چھت کے نیچے اکٹھا تو کیا تھا مگرتابناک مستقبل کیلئے strategies کی تشکیل سے نظر چُرا کر یہ پیچیدہ کام بھی ہمارے سپرد کر دیا تھا۔تنہا رہتے رہتے اِس فلیٹ میں سِوائے اپنے اور اپنے موبائیل فون کے کسی اور موبائِل جاندار کا دندناتے پھِرنا میری طبیعت پر بو جھ کی طرح تھا لہٰذا ہر مکڑی ، مکھی۔۔ wasp۔۔ moth وغیرہ مجھے غیر قانونی تارکِ وطن کی طرح محسوس ہوتے تھے جنہیں میں اپنی رحم دِلی کے عروج میں کبھی پردے کے پیچھے سے چھُپ کر ، کبھی صوفے پر لرزتے پیکر کے ساتھ ہاتھ میں کوئی تولیہ یا broom لئے اپنی حدود سے بے دخل کرنے کی کوشِش میںنِت نئے اقدامات تشکیل کیا کرتی تھی ، جب رحم دِلی سے کام نہ بنتا تو وار کرنے پر اُتر نا پڑتا تھا اور آخری حربے کے طور پر کمرے میں کوئیfly killer فلائی کِلر سپرے کرنے کے بعد کمرے کا دروازہ بند کرنے کے پورے ایک گھنٹے کے بعد پنجوں کے بل خاموشی کے ساتھ ڈرتے ڈرتے کمرے میں داخل ہوتی تھی کہ اِس جنگ کی casualties یاdead bodies اُٹھا کر ٹوائِلٹ کے فلش میں بہا دوں۔ گھر کی ہر چیز صاف سُتھری اور پالِش شدہ اپنی اپنی جگہ پر دھری رہتی تھی ۔۔ اپنی جگہ بدلنے کیلئے صرف میری مرہونِ منت۔ ۔۔ایک مرتبہ ایک راٹ وائیلر کُتا پالا تو تھا کچھ عرصے کیلئے مگر اُس نے مجھے sit and stay کا ایسا تعویذ ازبر کروا دیا تھا کہ اب تو میرے گھر والے اگرکبھی مجھ سے مِلنے کی سالانہ جر ات کر ہی لیتے تھے تو یوں سانس روک کے بیٹھے رہتے تھے کہ اُنکی بیچارگی پر خود مجھے بھی ترس آجاتا تھا ۔ کبھی کبھار کوئی مصرع سرزد ہوجاتا تھا لہٰذا مشاعرے وغیرہ سے متعارف تھی مگر جاتی صرف اپنی مرضی سے تھی وہ بھی سالوں میں کبھی ایک یا دو مرتبہ۔ کہا جاسکتا ہے کہ بہت حد تک مردم بیزار ہوچکی تھی ۔ مجھے بِلا وجہ روز روز کی سماجی سرگرمیاں تمام بدن پر rash کا تحفہ دے جاتی تھیں ۔ میں باہر کی دُنیا سے اب بھی خاصی الرجِک ہوں ۔۔۔ پتہ نہیں ملازمت پر کیسے اب تک جاتی ہوں ۔ اِس میں شاید ضرورت کادخل زیادہ ہے لہٰذا وجہ پیدا ہوجاتی ہے یہاں ۔ میری روٹین کے برعکس منصور کی زندگی خاصی ہنگامہ خیز رہی ہے۔۔۔ منصور کے دِن کے چوبیس گھنٹوں میں سے بائیس گھنٹے لکھنے لِکھانے ۔۔لوگوں کے ساتھ مِلنے مِلانے۔۔ فون پر رابطوں اور مختلف تقریبات منعقد کرنے اور اُن میں حصہ لینے کی نذر ہوجاتے رہے ہیں ۔ ۔۔چوپال نہ لگے تو منصور ڈِپرشن کا شکار ہونے لگتے ہیں ۔۔۔کئی لوگوں کو شاعر بنا بیٹھے ہیں، جنسِ مخالف کے مقامی یعنی ولایتی اور بین الاقوامی بڑے ، چھوٹے ناموں کی ملکیت کئی مسّودے ﴿یہ شاید ناموزوں لفظ ہے یہاں﴾ اِن کی درازوں میں موجود ہیںکہ یہ "ٹھیک” کردیں گے ویسے یہاں صرف جنسِ مخالف کا تذکرہ کرنا جائز نہیں ہے کیوں کہ بہت سے ناموں کا رشتہ تذکیر سے بھی ہے ۔ کئی نسوانی آوازیں منصور کی لکھی ہوئی غزلیں خود اپنی غزلوں کے طور پر مشاعروں میں سُنا سُنا کر داد کے بورے آنکھوں ہی آنکھوں میںاپنے دونوں ہاتھوں سے سمیٹ سمیٹ کر اپنی پلکیں نچا نچا کر نہایت دیدہ دلیری سے گھر لے کرجاتی رہی ہیں

منصور سے شادی کے بعد تو میری حیرانیاں شمار میں نہیں آسکتیں۔ میری آنکھوں کے سامنے عجیب و غریب حقائِق روشن ہوتے جارہے ہیں۔۔ ۔ اچانک ایسے رازوں سے پردے اُٹھنے لگے ہیں کہ وہ خواتین بہت منجھی ہوئی اُستادانہ غزلیں سُنا سُنا کر محفلیں کیسے لوٹنے لگ گئی ہیں جو پہلے کبھی کبھار مجھے اپنی نوزائیدہ تخلیق کے راگ الاپتے ہوئے مجھ سے تصحیح کی درخواست کیا کرتی تھیں اور میں سوچا کرتی تھی کہ تصحیح تو کسی تخلیق کی ہوسکتی ہے ۔۔۔ اب لفظوں کے انبار کو re – write کرنا یا اپنے الفاظ میں نئی غزل کہہ کر اُسے اُن کی تصحیح شدہ تخلیق کی سند دینا تو میرے بس کی بات نہیں ہے۔۔۔ اب توبہت سی شاعرات کے راتوں رات شاعرہ بن جانے کے نُسخے واضح ہونے لگے ہیں مجھ پر کیونکہ میری نظرسے پہلے اتفاقاً اُن ہی کی قلم زدہ تحریریں گزر چکی ہیں یا ٹیلیفون پر کلامِ "شاعرہ” سُننے کا بہ زبانِ "شاعرہ” شرف حاصل ہوچکا ہے ۔ خیر یہ تو ضمنی باتیں ہیں ۔۔۔۔۔ بہر حال جب منصور بریڈفورڈ میں اکیلے رہتے تھے تب یہ سب باتیں ایک قدرتی عمل تھا کہ انسان کے خمیر میں بنیادی طور پر ایک سرِشت اُسکا social animal ہونا بھی شامِل ہے ۔ اب خُدا نے منصور کو صورت بھی اچھی دے رکھی ہے۔۔ دماغ بھی کسی سے کم نہیں دیا اور باتیں تو یہ خود ہی خوب کرلیتے ہیں لہٰذا میرے لئے یہ سب اُن کی پرسنیلِٹی کے پیکیج کا ایک حصہ تھا اور میں یہ پیکیج خود بریڈفورڈ سے اُٹھا کر اپنے گھر لے آئی تھی کہ آہستہ آہستہ کھولتی رہوں گی اور wrappers کو garbage bagمیں پھینکتی رہوں گی تو زیادہ گند بھی نہیں پھیلے گا اور منصور کا اپنا ذہنی load بھی کم ہوتا جائے گا۔ ۔۔لہٰذا میں منصور کی درازوں میں اُڑسے ہوئے مسوّدے نکال نکال کر دیکھتی رہی جِن پر کام کیا جاسکتا تھا۔۔۔کام ہوتا رہامگر بیشتر اِس قابِل ہی نہیں تھے کہ انہیں شاعری کی drawer میں محفوظ کیا جاسکتا ۔رفتہ رفتہ فضول کاغذtrash میں بدلتے رہے ۔۔ تصویریں راکھ ہوتی رہیں ۔۔ خیال مرتے رہے۔۔ خوابوں کی کرچیاں بِکھرتی رہیں۔۔۔

ایک روز درازوں میں سے پُرانی فائلیں نکال نکال کر دیکھ رہی تھی تو اپنی بھی کُچھ پُرانی کتابیں اور فائلیں نظر آئیں ۔ منصورنے شاید اپنے روزمرہ کے مطالعہ میں ایک اورخاص مضمون کامطالعہ بھی شامِل کررکھا ہے اور وہ مضمون ہے یاسمین حبیب۔ میر ی کوئی پُرانی ڈائری ہو یا محفوظ کئے ہوئے کاغذات ۔ منصور اُن پر اپنی نظر دوڑائے بغیر اُنہیں پھینکنے نہیں دیتے کہتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی اچھی تحریر ضائع ہوجائے ۔ ویسے اچھاہے منصور کاہر چیز کو اِس طرح سے دیکھنا کیونکہ مجھے اپنی بہت سی ایسی غزلیں، افسانے اور انگریزی ، اردو میں نظمیں وغیرہ مِلی ہیں جو مجھے تو یاد بھی نہیں تھیں کہ میں نے کبھی لِکھی بھی تھیں مگر سالوں بعد مجھے اپنی ہی فراموش کردہ تحریر دوبارہ پڑھ کر عجیب سا محسوس ہوتاہے۔ ۔ کئی افسانے تو مختلف جرائِد میں چھپے ہوئے بھی نِکل آئے ہیں ۔gosh کیاکیا اور کتنا فضول بھی لِکھ رکھا تھا میں نے مگر ایسے مجھ پر خود میرا انکشاف بھی ہورہا تھا ۔ اِسی طرح ایک دِن ایک فائِل میں سے ایک خاصا مدقوق ساتہہ لگایا کاغذ میری گود میںآگِرا ۔ منصور نے کھول کر دیکھا تو مجھے کہنے لگے یہ کہاں سے مِلا ہے تمہیں اور تم نے اِسے ابھی تک فائِل میں کیو ںرکھا ہے۔۔۔ ۔ قدر کرناسیکھو فریم میں لگا کر محفوظ کرواِسے یہ تمہیں دوبارہ نہیں حاصل ہوگا۔۔۔۔میں خود اِس کاغذ کو نہایت احترام سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ ایک نوعمر ، لاپرواہ، ٹام بوائے کی طرح چھتوں اور درختوں پر چڑھتی ، پتنگیں اُڑاتی ، کرکٹ کھیلتی ایک شرارتوں کی پوٹلی لڑکی وابستہ تھی اِس کاغذ کے ساتھ ۔۔۔آج بھی آنکھوں میں شرارت بھرے ۔۔۔ تہہ میں سے نکل کر باہر آگئی تھی۔۔۔

میں اُن دِنوں BSc میں تھی اور ہمارے کالج نے صادقین کو بلایا تھا اپنے مہمان کے طور پر شاید ایک ہفتہ یا چند دِنوں کیلئے ۔۔۔۔ اِس عرصہ میں صادقین کی تمام تخلیقات کی کالج کی طر ف سے نمائِش اور شاید اِنکم جنریشن income generationنما کوئی تقریب رکھی گئی تھی۔ تمام طلبائ کو سختی سے کہا گیا تھا کہ صادقین کو ہرگز تنگ نہ کیا جائے ۔ مجھے بھی شوق چُرایا کہ دیکھوں تو سہی یہ صادقین کیا چیز ہے ۔ کئی مرتبہ دیوار پر چڑھ کر ہال کے روشن دان میں سے جھانکنے کی کوشِش میںاپنے بازو اور ٹانگیں چھِلا بیٹھی تھی مگر سِوائے ایک کاغذ پرجھُکی پُشت اور پنسل یا کبھی برش تھامے ایک ٹیڑھی سی اُنگلیوں والے ہاتھ کے کچھ اور کبھی نظر نہیں آیا تھا۔ ایک دِن ہال کا دروازہ کھُلا دیکھ کر میں فوراً اندر چلی گئی ۔ پریکٹیکل کی بِل بج چکی تھی وہاں بھی بھاگ کر جاناتھا ۔ ۔۔۔صادقین نے مسکرا کر میری طرف دیکھا تو میں نے کہا ، ’جی مجھے آپکا آٹو گراف چاہئے ‘ وہ پوچھنے لگے کہ میرے پاس کوئی ڈائری کوئی کتاب کوئی چیز۔۔ کچھ ہے کہ جِس پر وہ مجھے آٹوگراف دیں۔ میرے پاس سِوائے کالج کے کورس کی کتابوں سے بھرے بستے کے اور تو کچھ نہیں تھا۔۔ ۔ہاتھ میں جرنل تھاما ہوا تھا میں نے فوراً وہی آگے کر دیا اور صادقین نے جلدی اُس پر پنسِل سے آڑھی ترِچھی لکیریں کھینچ کر اپنا نام لِکھ دیا۔گھر آکر دیکھا تو وہ آڑھی تِرچھی لکیریں دراصل ایک صورت تھی۔ ۔۔پھر میں نے جرنل کے اُس صفحے کو احتیاط کے ساتھ اپنی ایک فائِل میں تہہ کرکے محفوظ کرلیا اور آج برسوں پُرانا وہ صفحہ میری گود میں سے منصور کے ہاتھ میںآگیا تھا اور میری گود میں وہ لڑکی ، وہ شرارتیں ، وہ کالج،وہ کتابوں سے بھرا بستہ ، وہ دھوپ چھائوں ، وہ سڑکیں ، وہ آسمان اور وہ زمین دھرنا مار کر بیٹھے بار بار میری قمیض کا دامن کھینچ رہے تھے ۔

میں فرش پر بیٹھی تھی یکایک بوجھ محسوس ہونے پر ٹانگوں میں pins and needles کا احساس ہوا تو کھڑی ہوگئی ۔۔۔ منصور تمہیں اِس صفحے میں کیا صرف صادقین ہی دِکھائی دے رہے ہیں اور کچھ بھی نہیں ؟ ۔۔۔ میں نے بھرائی آواز میں پوچھا تو وہ کہنے لگے کہ تم اِس لئے نہیں نظر آرہیں اِس میں کہ تم یہاں میرے سامنے ’آج‘ میں ہو اور تمہارے ساتھ صادقین بھی موجود ہیں۔۔۔ کہا تھا نا میں نے کہ منصور باتیں بھی خوب کرتے ہیں ۔۔۔۔۔میں نے صادقین کا وہ آٹوگراف فریم کروا کر اپنے لائونج کی دیوار پر آویزاں کر دیا ہے ۔۔۔۔۔ کبھی کبھار دیوار ، پنسل کی لکیریں اور میری آنکھیں خاموش گفتگو کیا کرتے ہیں آپس میں۔۔۔ بس یہی ایک بہت بُری بات ہے مجھ میں ۔۔۔ کہاں سے کہاں چلی جاتی ہوں۔۔۔ ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ شروع میں منصور برمِنگھم تو آگئے مگر روزگار کے حوالے سے اِن کے پاس کوئی ایسا دفتر نہیں تھا کہ جہاں روزانہ صبح جائیں اور شام کو گھر واپس آجائیں۔ منصور اِتنے مقبول تھے ۔۔۔ اب بھی ہیں ۔۔۔ خاص طور پر خواتین میں ۔۔۔ کہ ابھی میں گھر میں صبح دفتر جانے کیلئے تیار ہو رہی ہوتی تھی کہ کسی نہ کسی خاتون کا فون آجاتا تھا منصور کی خیریت کادریافت کرنے کیلئے ۔ ۔۔ ویسے کافی غور طلب حقیقت ہے کہ ایسے وقت کا انتخاب کرکے فون مِلایا جاتا تھا کہ جب اِس بات کا پورا یقین ہو کہ فون کے جواب میں میری آواز نہیں سُنائی دے گی ۔۔۔۔یہاں تک تو خیر ایک بات تھی اور مجھے ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی دخل د ر معقولات کی مگر ایک روز اچانک ایک خاتون نے گھر پر فون کیا اور منصور کو رو رو کر جب یہ داستان سُنائی کہ اب اُنہیں نیند نہیں آتی تو میں نے اُنکے منہ بولے بھائی کو پیغام دے دیا کہ وہ اپنی بہن کا علاج وغیرہ کروائیں وگرنہ وہ اگر چاہیں تو میں خود اُن کے شوہر کے ساتھ بات کروں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ اِس اِنگلینڈ میں ڈِپرشن کی یہ علامت عام ہے کہ نیند نہیں آتی اور جب نیند کا آنا بالکل ختم ہورہے تو انسان باقاعدہ ذہنی عارضوں میں مبتلائ ہوکر mental health کامریض ہو کر رہ جاتا ہے ۔ بس اُس کے بعد اُن کی طرف سے اِس قسم کا فون نہیں آیا۔۔۔ ۔ غالباً کسی فعال معالج سے رجوع ہوگیا ہوگا۔۔ یہاں علاج بھی تو بہت موئثر ہوتا ہے نا۔۔۔۔۔ یاد آیا کہ خواتین صرف یہاں سے ہی نہیں سات سمند پار سے بھی خاص طور پر منصور کو سلام بھیجا کرتی تھیں اور مجھے سُنایا بھی کرتی تھیں کہ دیکھو ہم منصور سے براہِ راست صرف اِس لئے بات نہیں کرتے کہ تم کہیں مشکوک نہ ہوجائو مگر اُسے ہمارا سلام ضرور پہنچادیا کرو اور میری سمجھ میں یہ آج تک نہیں آیا کہ وہ مجھے کونسا نکتہ سمجھانے کی کوشِش کرتی تھیں۔ بر سبیلِ تذکرہ ایک اور بات بھی یاد آگئی ہے کہ ایک مرتبہ تو مجھے لوگوں کی desperation کے اتنے کھلم کھلے مظاہرے کا تجربہ ہوا کہ کیا کہوں ۔ اِن ہی میں سے ایک خاتون رات کے پچھلے پہر اِتفاق سے میری کار میں بیٹھ کر میرے فلیٹ کی جانب روانہ تھیں ۔۔کار میں ڈرائیو کر رہی تھی۔۔ وہ میرے ساتھ پیسنجر سیٹ پر بیٹھی تھیں۔۔ منصور بیچارے پیچھے بیٹھے تھے ۔ ۔بیچارے اِس لئے کہ وہ میری تھری ڈور کار میں جب پیچھے بیٹھتے تھے تو انہیں اپنے آپ کو خاصا تہہ در تہہ لگانا پڑتاتھا تب کہیں جاکر اُنکی ٹانگیں سمٹ کر کار کے اندر آتی تھیں ۔۔ ہم نے اب اپنی کار ہی بدل لی ہے فائیو ڈور five door سِٹرن سی تھری ہے اب ہمارے پاس ۔۔۔ بہت سی جگہ ہے اِس میں ۔۔۔ اب جانے ڈِسپیریشن کی کتنی اِنتہائیں دیکھنے کو ملیں گی ۔۔۔ بہرحال خاتون کی باڈی لینگوئیج سے میں دِل ہی دِل میں اُن کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کر رہی تھی۔

منصور پر سے اُن کا نشانہ بار بار چوک رہا تھا اور منصورکسی مچھلی کی طرح اُن کے ہاتھ میں سے پھِسل پھِسل جارہے تھے ۔۔۔اُن کی ہر کوشِش کے باوجود۔ ۔ منصور اُن کے نشانے کی زد پر نہیں تھے ۔۔۔۔ how sad ۔۔ اچانک وہ بات کرتے کرتے اپنا پورا بدن پیچھے کی جانب موڑتے ہوئے منصور سے پوچھنے لگیں ۔۔ "کیا تم نے مشاعرے میں مجھے دیکھا تھا‘‘ منصور بولے ، ’’شاید نظر پڑ ہی گئی ہوگی” فوراً پُر اشتیاق لہجے کا ایکس رے بھی سامنے آگیا”کیا مجھے پیار سے دیکھا تھا”‘۔۔ میرے لئے یہ سب کچھ نیا تھا میرا دِل تو یہی چاہتا تھا کہ اپنی کار فوراًروک دوں اور اُن صاحبہ سے کار میں سے اُتر جانے کی درخواست کروں۔۔۔۔منصور کے کچھ کہنے سے پہلے ہی میں بول اُٹھی for God’s sake woman you are offending me ۔۔۔۔انہوں نے جب مجھے یہ کہتے سُنا تو فوراً چہکتی ہوئی اِترا کر بولیں "ارے یار ہم تو دوست ہیں ناں تو دوستوں کی باتوں سے توoffend نہیں ہوا کرتے” ۔ اُس کے بعد کافی عرصے تک مجھے یقین سا رہا کہ اُس رات اُن کا میری کار میں بیٹھنا بظاہر اتفاق نظر آتا تھا مگر شاید ایسا نہیں تھاشاید بہت سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایسے حالات پیدا کئے گئے تھے کہ وہ اتنی رات گئے ہمارے ساتھ بیٹھیں۔ ۔۔۔جاتے جاتے وہ منصور کو یہ بھی ھدایت کر گئیں۔ اور وہ بھی میرے ہی سامنے ۔۔۔۔کہ اب خدارا کم از کم یاسمین کا دِل تو نہ توڑنا۔۔۔ اُن کا دعویٰ تھا کہ وہ لوگوں کو بہت اچھی طرح سمجھ جاتی ہیں مگر مجھے اور منصور کو اُن کا دعویٰ ذرا بھی متائثر نہ کرسکا۔

مجھے شدت سے احساس ہوا کہ اگرچہ وہ خاتون اپنے بڑے بڑے تجربات اور محفلوںکے قصوں پر مبنی گفتگو کے علاوہ اپنی عمرِ رفتہ کے تمام بڑے بڑے اور بھار ی بھرکم بابوں سے بھرے بکسے اور پیٹیاںاِس انتہائی مختصر سے وقت میں ٹھونسنے کی سعی کرتی رہی تھیں مگرانہیں یہ خبر نہیں تھی کہ میں نے اور منصورنے اپنی زندگی کی فلائیٹ میں اپنے allowed baggage کے علاوہ اپنے ساتھ کسی قسم کا زائد وزن گھسیٹتے رہنے کا ارداہ نہیں کر رکھا تھا اور نہ ہم اِس extra weight کو carry یا storeکرنے میں دِلچسپی رکھتے تھے ۔

ویسے مجھے اب بھی وہ خاتون قابلِ رحم اور معافی محسوس ہوتی ہیں ۔جانے ابھی کِس چیز کی کمی ہے اُن کے یہاں اور جانے کب تک وہ اپنی تلاش کا سلسلہ جاری رکھیں گی مگر انہیں پہلے یہ تو طے کرلینا چاہئے تھا کہ وہ کِس چیز کو تلاش کررہی ہیں اور وہ انہیں کِس مارکیٹ میں دستیاب ہوگی ۔۔۔ ان کی ضرورت مستقل ہے یا عارضی طور پر کھلونے جمع کرنے کا شوق ہے انہیں۔۔۔ ِیہ دیکھنے کی ضرورت بھی تھی انہیں کہ اُن کیلئے کونسا پراڈکٹ موزوں رہے گا اور وہ کِنinstalments پر دستیاب ہوسکتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بکائو کیا ہے اور کونسا مال for sale نہیں ہوا کرتا۔ چلو الائونس دے دیتی ہوں انہیں۔ خود ہی سمجھ جائیں گی کسی روز۔ سچ ہے یہ خرید و فروخت اب اتنی آسان کاروائی بھی نہیں ہوتی کہ پلک جھپکتے ہی سمجھ میں آجائے۔۔ بہت عرصہ لگتا ہے یہ سیکھنے میں کہ صحیح مال کہاں سے مِلتا ہے، کیسے خریدا جاتا ہے اور اُس کے صحیح دام کیسے چُکائے جاسکتے ہیں بلکہ یہ کہ آیا چکائے بھی جاسکتے ہیں یا نہیں۔اب مجھے ہی دیکھ لیں آج تک گروسری کی دکان پر جاکر یہی کہتی ہوں کہ دو آدمیوں کیلئے گوشت دے دو ، یا دو آدمیوں کیلئے آلو دینا۔دوکاندار کے بچے بیچارے چھوٹے چھوٹے سے لڑکے تھے تب سے مجھے پہچانتے ہیں اب تو بڑے ہوگئے ہیں اور اُن کی شادیاں بھی ہوچکی ہیں مگر دکان پر میری شکل دیکھتے ہی خود ہی سالن بنانے کی تمام چیزیں ناپ تول کر لے آتے ہیں ، پکانے کیلئے ھدایات اپنی اپنی بیویوں سے دِلوادیتے ہیں مگرسودا میرے حوالے کرتے وقت یہ پوچھنا نہیں بھولتے کہ سامان دو آدمیوں کیلئے ہے مجھے کہیںزیادہ لوگوں کیلئے ضرورت تو نہیںہے چیزوں کی۔ ۔۔۔

ہاں تو کہاں پہنچی تھی میں ۔۔۔۔کہ اسی طرح کسی نہ کسی بہانے مجھے کوئی نہ کوئی نسوانی آواز سُننے کو مل ہی جاتی تھی ٹیلیفون پر بہرحال آہستہ آہستہ ٹیلیفون آنے کا یہ سلسلہ ختم ہوگیا۔ یا تو سب کی سب بہت مصروف ہوگئی ہیں یا شاید اُنہیں اِس بات کا شِدّت سے احساس ہوگیا ہے کہ منصورکی زندگی میںسلام و پیام کے اِنتظار کی جگہ خالی نہیں رہی ۔ مجھے کبھی کبھار افسوس ہوتا ہے کہ میرے ساتھ شادی کے بعدبیچارے منصور نے اِس حوالے سے اپنی market value کھو دی ہے ۔ہم بھی کتنے عجیب سے لوگ ہیں جِسے جب چاہیں ٹوٹ کر چاہنے لگیں جب چاہیں نظر سے گِرا دیں ۔۔۔ بدلتی رہتی ہے مارکیٹ ویلیو ہم سب کی۔

میرے اثاثوں میں سے ایک سیمنٹ۔۔ پتھر۔۔ ریت ۔۔ اینٹ اور بجری کا مرکب کسی تعمیر کا graffiti زدہ چھوٹاسا ٹکڑا بھی ہے ۔۔ یہ مجھے کئی برس پہلے کسی نے تحفہ میں یہ کہہ کر دیا تھا کہ ’تم بھی تو پتھر ہو۔۔ سو تمہاری دُنیا میں تمہارے ساتھ کیلئے ایک اور پتھر‘ تو میں نے سوچا تھا لو بھلا اِس میںتحفہ والی ایسی کیا بات ہے ۔۔ ۔بہت خوبصورت سے بکس میں ایک نوٹ کے ساتھ پیک کیا گیا تھا یہ ٹکڑا۔۔۔ کسی روز مریخ کی مٹی بھی اِسی ٹکڑے کی حالت میں اِسی طرح سے دسترس میں ہوگی شاید ۔۔مگر اُس میں ابھی دیر ہے ۔۔ ہاں تو اِس تحفہ کے ایک ایک ذرے سے پابندی۔ محرومی۔ سختی ۔ حسر ت ۔تخریب۔ بغاوت۔ شکست۔ تقسیم ۔ سنگ دِلی ۔ جنگ ۔ حسد۔ تعّصب۔ سیاست۔خون اور نفرت کی تاریخ جھلکتی ہے۔۔۔ مجھے راتوں کو اِس میں سے چیخوں کی گونج، کراہیں ، سِسکیاں ، آہیں ،اور گولیوںکی آوازیں سُنائی دیتی ہیں ۔۔۔ اِس میں سوکھے آنسوئوں کا انبار نظر آتا ہے مجھے۔۔۔۔ زندگی اور زندہ رہنے کی کبھی پوری نہ ہونے والی خواہشوں کا ڈھیر ہے اِس چھوٹے سے ٹکڑے میں۔۔۔۔ لاشیں گِرتی ہیں اِس میں سے ۔۔ ڈھانچے رینگتے ہیں اِس میں ۔۔ مگر مجھے یقین ہے کہ لوگوں نے اِسے تبرک کا درجہ دے کر منہ مانگے داموں خریدا ہوگا۔۔۔یہ برلن وال کے گِرنے پر اُس کی یادگار کے طور پر اُس کے ملبے rubble میں سے ایک ٹوٹا ہوا ٹُکڑا ہے ۔ ۔ اور اِس کی مارکیٹ ویلیو کا اندازہ صرف اِتنی سی بات سے بھی خوب کیا جاسکتا ہے کہ میں نے اِسے اپنی فائر پلیس کے اوپر سجا وٹ کے طور پر رکھا ہے اور اِسے روزصاف بھی کرتی ہوں ۔۔۔ یہ اب میرے گھر میں میری ذات کا ایک حصہ بن چکا ہے ۔۔۔۔ ایک بیش قیمت ملکیت ہے میری ۔۔۔۔۔اگر اِس اعتبار سے دیکھا جائے تو منصور کی مارکیٹ ویلیو بھی کم نہیں بلکہ بہت بڑھ گئی ہے ۔

بہرحال اِس طرح سے میری اور منصور کی زندگی کے ابتدائی روز و شب lose ends کو باندھتے باندھتے گزرنے لگے ۔۔ منصور کیلئے ایک ڈِسِپلین کے تحت دِن رات گُزارنا کسی جوئے شیر نکالنے سے کم نہ تھا اور یہاں تو ملٹری کیمپ تھا ۔ اِس فلیٹ میں صبح اُٹھنا ، غسل کرنا، باتھ کو دوسرے انسان کے استعمال کے قابِل چھوڑ کر آنا ، میلے کپڑے واشِنگ مشین میں ڈالنا، اپنے کپڑے استری کرنااورجوتے پالِش کرنا وغیرہ تو روزمرہ کی عبادت کا ایک حصہ ہے ۔ شاید منصور اِس درجہ بِکھر چُکے تھے کہ اب انہیں سِمٹنے کیلئے یہی تھیریپی درکار تھی ۔ ہم دونوں کو اکثر اوقاتparacetamol کا سہارا بھی لینا پڑتا تھا مگر ہم دونوں ہی ایک دوسرے سے کچھ سیکھنے لگ گئے۔ منصور پبلِک ریلیشنز اینڈ کمیونیکیشنز آفیسر اور مینیجنگ ایڈیٹر کی حیثیت سے برسرِ روزگار ہوگئے اور زندگی بحران سے نِکل کر ایک سلسلے میں آتی گئی۔ بہت جلد ہمیں ایک دوسرے کی عادت ہوگئی اور ایک دوسرے کی غیر موجودگی کھٹکنے لگی ۔ ہم نے اِک دوجے میں کافی حد تک سکون پالیا تھا ۔ اب تو شادی پروبیشن کی مدت سے ہوکر semi permanant کی حدود میں داخل ہو رہی تھی ۔ ویسے یہ شاید مبالغہ آرائی ہے میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ شادی میں probation period کبھی ختم نہیں ہوتا اور ایک دوسرے کو سمجھتے سمجھتے بھی مکمل طور پر سمجھا نہیں جاسکتا۔ ۔۔خیر ابھی تو آغاز ہی تھا ۔۔سفر کی ابتدائ تھی ابھی کاہے کا فکر کیسی سوچ ۔۔ ابھی تو اطمینان کے چند سانس مقدر میں تھے ۔ ۔۔۔منصور اگرچہ سست روی سے بدل رہے تھے مگر مجھے پورا یقین تھا کہ دفتر اور گھر کی ذمہ داریوں کے چکرمنصور کو پنچایتیں لگانے کی روایت سے ضرور دورکردیں گے ۔۔میرا خیال تھاکہ ایک مرتبہ جب اِنہیں باقاعدگی کے ساتھ ہر دوسرے تیسرے روز گروسری وغیرہ کی خریداری کیلئے جانا پڑا تو آٹے دال کا بھائو معلوم ہوجائیگا ۔۔

تیل اور تیل کی دھار کو دیکھنا آجائے گا ۔۔ خود ہی لوگوں کو ہتھیلی پر سرسوں جمانے کے مشغلے کو ترک کرنے کا مشورہ دینا شروع کردیں گے کہ صاحب آپکا رات گئے یہ سوچ کر کہ میں علی الصبح آپ کی بزم کیلئے ایک بین الاقوامی پروگرام منعقد کردوں۔۔۔یہ میرے لئے جان جوکھوں کا کام ہونے کے علاوہ دردِسر کی ہزاروں وجوہات پیدا کردیتا ہے۔۔ ۔ ویسے بھی اب ہم دونوں کوئی teen agers تو تھے نہیں کہ اندھا دھند عشق کی جھیل میںکود کر اِس خیال میں باقی کے دِن ایک دوسرے کی ہمراہی میں گزاردیتے کہ پانی میں اِک دوجے کی وجہ سے بن جانے والے دائرے کے محیط سے باہردنیا ختم ہوجاتی ہے ۔۔۔۔منصور کے مزاج کی اپنی ضرورتیں تھیں اور میری عادات کی اپنی مجبوریاں ۔live and let live کی تفسیر سے نئی نئی آشنائی ہورہی تھی خاصا پیچیدہ معاملہ تھا مگر اِک عجیب سے اطمینان کا احساس بھی قائم تھا ۔

اِن باتوں کو تحریر کا پابند کرنا کوئی میڈل حاصل کرنے کے مترادف تو نہیں ہے اور یہ تفصیلات قلم کی گرفت میں شاید کبھی نہ آتیں اگراُس روز منصور نے دفتر سے واپس آکر مجھے یہ نہ کہا ہوتا۔”میں جشنِ فراز کرنا چاہتا ہوں ” ۔ چھن چھن چھن کرتے ہوئے ، میرے ہاتھ سے چینی کے ان دیکھے برتن زمین پر گرے اور چِکناچور ہوگئے ۔ اوہ میرے خُداہمارے ساتھ کو تقریباً دو برس ہونے والے ہیں اور منصور اب تک ذرہ بھربھی نہیں بدلے ۔ انہیں معلوم نہیں کہ چھوٹا سا فلیٹ ہے ، لوگ آئیں گے ۔۔ شور ہوگا۔۔ دُنیا کے ہر کونے سے ٹیلیفون آنے شروع ہوجائیں گے ۔۔ فراز جانے کیسا شخص ہے۔۔ پتہ نہیں اُس کیلئے کیا کیا پاپڑ بیلنے ہونگے ۔۔ دفتر سے گھر آتے ہی کیا خبر کہاں کہاں نہیں جانا پڑے گامجھے ۔۔۔ رات گئے تک بیٹھنا پڑے گا۔۔ صبح دفتر کیلئے آنکھ کیسے کھُلے گی۔۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی تو لوگوں نے بُلایا تھا فراز کو یہاں۔۔ ۔ اللہ جانے احمد فراز کے پائوں کِس متحرک مٹی سے بنے ہیں ایک جگہ ٹِک کر بیٹھ ہی نہیں سکتا یہ آدمی ۔۔۔ کہتے ہیں بہت نخرے کرتا ہے ۔۔ دِن رات شراب میں ڈوبا رہتا ہے ۔۔ ایسی بھی کیا خوبی ہے اُس میں کہ بار بار بُلایا جائے اُسے ۔۔اِک ذرا شاعری ہی تو کرتا ہے ۔۔ یہ کونسی بڑی بات ہے ۔۔ کئی بار مجھ سے خود کافی اچھے مصرعے موزوں ہوجاتے ہیں اور میں نے دِل ہی دِل میں جل تو جلال تو آئی بلا کو ٹال تو کا ورد کرتے ہوئے پچاس باتیں احمد فراز کو سُنا دیں اور اُس سے دُگنی منصور آفاق کے حصے میں آگئیں ۔ میری آنکھوں کے سامنے وہ سب لوگ میرا منہ چڑانے لگے جوہماری شادی سے پہلے منصور کے بارے میں مجھے محتاط رہنے کا مشورہ دیا کرتے تھے ۔ تو کیا منصور سے شادی ۔۔۔۔۔۔ طرح طرح کے سوالیہ فِقرے خود بخود تشکیل ہوتے گئے ۔۔۔۔۔ہر ایک پہلو پرover worked نظرِ ثانی دوڑا ئی جانے لگی ۔

مجھے تو اب تک عجیب سا لگتا ہے کہ میرے گھر کا وہ پتہ جو کبھی کسی کو نہیں دیا تھا اور وہ فون نمبر جِسے میں نے ایکس ڈائرکٹری کروا رکھا تھا اب زبان زدِخاص و عام ہو کر رہ گیا ہے ۔ ہر ٹام ڈِک اور ہیری کے پاس گھر کا فون نمبر ہے ۔ جب بھی فون کی گھنٹی بجتی ہے کوئی نہ کوئی منصور کا ہی پوچھ رہا ہوتا ہے ، وہ دو ایک فون کالز جو صرف میرا حال دریافت کرنے مہینے میں ایک آدھ بار آجایا کرتی تھیں اب تو وہ بھی نہیں آتیں ۔ بیٹھے بِٹھائے زندگی کی زمین کسی بھونچال کے آجانے سے اُتھل پتھل ہوکر رہ گئی ہے ۔ کیا کیا emotional tsunami کے دھارے کیسی کیسی سوچ اپنی لپیٹ میں لاتے رہے۔ پہلے ہی بہت کاوِش سے سیکھا تھا "ہمارا” کہنا ۔ میرا گھر ، میری کار، میرا کیمرہ ، میری کتابیں اب ہمارا گھر ، ہماری کار ، ہمارا کیمرہ اور ہماری کتابیں ہوچکا تھا ۔ ابھی کل ہی تو ہفتوں اور مہینوں کی ریہرسل کے بعد زبان نے بڑی ہی مشکل سے my husband کہنا سیکھا تھا ۔ ابھی کل ہی تو "نیند کی نوٹ بُک”کا کام نمٹایا تھا مسّودہ منصورہ احمد کو بھیجا تھا، اِدھر اُدھر پھیلے ہوئے کاغذوں کا انبار سنبھالا تھا ، پورٹریٹ اور سرِورق کا فیصلہ ہوا تھا ، رات گئے تک منصور کو ایک ایک غزل پر second opinion دینے کا اوور ٹائم خدا خدا کرکے ختم ہوا تھا ، Unquote کا اشفاق بھائی نمبر مکمل ہوا تھا ، یہ سب کچھ ابھی کل ہی کی بات تو تھی ۔ آخر زندگی اِس کا نام تو نہیں ہے کہ ایک ادبی پراجیکٹ ختم ہوتے ہی دوسرے کا آغاز ہوجائے ۔ مجھے بے طرح اپنا ہی ایک شعر یاد آگیا ۔۔ اِک دِل میں تھا ، اِک سامنے دریا اُسے کہنا ممکن تھا کہاں پار اُترنا اُسے کہنا

اللہ اللہ میں نے تو سوچ رکھا تھا کہ اب شادی کے بعد کم از کم تنہائی کی پریشانی تو ختم ہوئی مگر میلے پر میلے کا انتظار تو نہیں تھا مجھے ۔ خیال تھا کہ منصور کی کتاب کی اِشاعت کے بعد ذرا فُرصت مِلتے ہی میں اور منصور اپنے فلیٹ میں ڈی وی ڈی پرJulia Robert کی تمام فِلمیں ساتھ بیٹھ کر دیکھیں گے ۔ مجھے اُس کی فلم pretty women اتنی پسند تھی کہ میں نے سوچ رکھا تھا کہ کبھی کوئی ساتھ ہوا تو اُس کی ہر فلم سینیما ہائوس میں جاکر دیکھوں گی ۔ دو ایک ایکٹرسیں ہی تو پسند ہیں مجھے ۔ منصور کوMaryl Streep کی فلمیں بھی دِکھانے کا پروگرام تھا ہر وقت Matrix اور جانے لڑائی جھگڑوں سے بھرپور شاہکار فلمیں کیوں دیکھتے رہتے ہیں کم از کم زندگی میں کچھ رومانس کچھ حقیقت تو در آئے گی ۔ تو کیا ایسا نہیں ہوسکے گا ؟ کیا ہم عام میاں بیوی کی طرح کسی super market میں شاپِنگ نہیں کرسکیں گے ؟ بغیر وجہ لمبی لمبی ڈرائیو پر نہیں نِکلا کریں گے ؟ منصور میرے ساتھ وِنڈو باکس میں کبھی پلانٹس نہیں لگائیں گے؟ تو کیا مجھے محتاط رہنا چاہئے تھا ؟ اُس لمحے مجھے منصور اور احمد فراز دونوں ہی بہت بُرے لگنے لگے اور عطا الحق قاسمی تو اب تک باقاعدہ منصور کے دوستوں کی میرے خلاف کسی کیمپیئن کا ایک ایکسکلوسِوexclusiveکردار ثابت ہوچکے تھے کیونکہ وہ احمد فراز کے دوست ہیں اور منصور نے احمد فراز کے اعزاز میں ایک جشن منانے کا سب سے پہلے اُن ہی کے گوش گزارکیا تھا ۔

میں غصے میں کِچن میں جاکر بیٹھ گئی ۔سموکِنگ صرف یہاں کی جاسکتی تھی ۔۔۔کسی بھوکے فقیر کی طرح سامنے دھرے سگریٹ کے پیکٹ پر ٹوٹ پڑی ۔۔۔وہ تمام دوست یاد آنے لگے جو اپنی اپنی بولیوں میں منصور کے ایک بہت ہی خراب آدمی ہونیکی ہجو در ہجو لکھ رہے تھے اور مختلف اخباروں میں بھیج بھیج کرکبھی چھپ جانے پر اپنی طویل قامتی کا یقین کر بیٹھتے تھے اور نہ چھپنے پر منصور کا قصور گردانتے ہوئے لوگوں کو منصور کی بُرائیوں پر مبنی لمبی لمبی فہرستیں دِکھایا کرتے تھے ۔ ویسے یہ مشق اب بھی جاری و ساری ہے poor blessed little imps۔ ہاں تو میں کیا کہہ رہی تھی کہ مجھے اُس وقت وہ سارے دوست اپنی اپنی زبان پر منصور کے خلاف سچ کا سنہرا حرف سجائے ہاتھوں میںسبز ہلالی جھنڈا لہراتے ہوئے حق پر مر مِٹنے والے جاں باز دِکھائی دے رہے تھے ۔ کسی چمنی کی طرح میرے ناک اور منہ سے دھوواں نِکلتا رہا اور دِل کی ساری جلن بیچارے سگریٹ کی سلگتی tip میں سمٹتی رہی ۔جب آنکھیں جلنے لگیں تو خیال آیا کہ کچن دھوئیں سے بھرا ہوا ہے ، سامنے گھڑی پر نظر گئی تو مجھ یہاں بیٹھے ہوئے آدھا گھنٹہ ہو چکا تھا ۔ایش ٹرے سگریٹ کے ٹُکڑوںسے لبالب تھا۔ یہ منصور کہاں چلے گئے ۔۔۔ یہاں کیوں نہیں آئے مجھے دیکھنے کیلئے ۔ ہاں بھلافراز کا بھوت سر سے اُترے تو خیال آئے نا گھر والوں کا۔۔۔ مگر یہ رشتہ داری تو نئی نئی ہے اصل رشتہ تو ادیبوں اور شاعروں سے ہے اِن کا۔میں نے بے دھیانی میں کچن کی کھڑکی میں دھرا سجاوٹی آئینہ ہاتھ میں لیا اوراُس میں دیکھتے ہوئے اپنا منہ بنابنا کرتمام ادبی clanکو”سنہرے "الفاظ میں یاد کرنے لگی ۔۔کیا غالب اور کیا میر ، سب ہی حزبِ مخالف میں کھڑے تھے۔ جب آئینے میں اپنا چہرہ دھندلانے لگا تو احساس ہوا کہ باہرتو اندھیرا ہوچکا ہے ۔۔ ۔ رات ہوگئی تھی ۔۔ ارے یہ منصور کہاں ہیں ۔۔۔ کہاں چھُپ سکتے ہیں اِس فلیٹ میں ۔۔۔ حد ہوگئی ۔۔۔میرا احساس تک نہیں اِن کو۔۔۔۔میں کِچن میں سے دانت پیستی ہوئی تیزی سے لائونج کی جانب بڑھی منصور کی آواز سُنائی دے رہی تھی بند دروازے سے ۔۔۔ ارے تو کیا یہ اب اپنے آپ سے باتیں کرنا سیکھ گئے ہیں ۔۔۔ خودکلامی سے کام لینے لگے ہیں اب۔۔ اچھا ہے کوئی اور آپ کو آپ کی غزل سُن کر داد نہ دے تو خود ہی یہ کام کرلیا جائے ۔۔۔ کیا بُرائی ہے ۔۔۔۔۔

جانے کیا کیا سوچ کر میں نے غصے میں لائونج کا دروازہ کھولا تو منصور کا چہرہ کھِلا ہوا تھا اور وہ نہایت محبت اور خلوص کے ساتھ کسی سے بات کررہے تھے۔۔ ۔ ’’نہیں نہیں آپ بے فکر رہیں ہمیں کسی طرح سے کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔۔۔ آپ کا شکریہ ۔۔۔ بہت محبت ہے آپ کی‘‘ میں اپنا ہاتھ اور آنکھیں نچا نچا کرمنصور سے اشاروں میں پوچھنے لگی کہ کِس کے ساتھ گل چھرے اُڑائے جارہے ہیں ۔۔۔ ’’فراز صاحب یہ یاسمین ، میری وائِف بھی آپ کو سلام عرض کہہ رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔جی میں دیتا ہوں انہیں فون ‘‘ اور اِس سے پیشتر کہ مجھے ہوش آتا میرے ہاتھ میں فون کا ریسیور تھا اور چہرے پر اِس طرح مسکراہٹ تھی کہ جیسے منہ میںکوٹ ہینگر رکھا ہوا ہے ۔۔۔بتیسی باہر تھی ۔۔۔ ’’فراز صاحب اسلام و علیکم ۔۔آپ کب تشریف لارہے ہیں ۔۔۔بہت انتظار ہے آپ کا۔۔۔‘‘ بس اور تو کچھ اِس وقت یاد نہیں آرہا مگر یہ یاد ہے کہ وہ تمام غصہ کسی بھاپ کی طرح اُڑ چکا تھا ۔۔۔منصور کا شمار دُنیا کے خوش قسمت ترین لوگوں میں ہوچکا تھا کہ وہ اتنی دیر سے فراز صاحب سے بات کررہے تھے ۔۔۔ منصورکے چہرے پر حیرت کا نقشہ بنا ہوا تھا کہ انسان کو بدلنے میں کچھ دیر تو لگتی ہے ۔۔۔ اور میرے ذہن کے پرت پرت سے مصرع پر مصرع چھن چھن کر زبان پر آرہا تھا ، نئے نئے شعر بن رہے تھے ، نئی نئی زمینیں وضع ہورہی تھیں ۔۔۔ نئے خیالات کا جنم ہورہا تھا ۔۔۔ چاروں طرف شاعری ہی شاعری رقصاں تھی ۔ ۔۔فضائ مترنم تھی ۔۔ ’رنجِش ہی سہی ، دِل ہی دُکھانے کیلئے آ‘۔

احمد فراز کے ساتھ یہ میری پہلی مرتبہ گفتگو ہوئی تھی۔ مختصر سے دو جملوں میں احمد فراز کے ساتھ فون پر غائبانہ ملاقات اور منصور کی اُن کے ساتھ باتیں جِن کا شماراحمد فراز کے حوالے سے میری سنی سنائی باتوں میں ہوسکتا تھا یقیناً اتنی اثر انگیز نہیں ہوسکتی تھیں کہ ذرا سی احمد فراز کی آواز سُنائی دے اور انسان کسی مقناطیسی کشِش کے حصار میں آجائے ۔۔۔۔ یہ کچھ اور تھا کہ جِس میں احمد فراز کی آواز ارتعاش پیدا کرگئی تھی۔ مجھے اپنے بدلتے تائثر پر حیرت بھی تھی اور اِس کی وجہ تلاش کرنے کی جستجو بھی اپنے عروج پر تھی ۔ ذاتی طور پر میں یہ نہیںسمجھتی کہ مجھے یہاں یعنی مغرب کے اُن مداحین میں شامِل کیا جاسکتا ہے جو اپنے فنکار ستاروں پر اپنی جاں نثاری کے اظہار میں اپنے جسم کا لباس تک نوچ کر سٹیج پر پھینک آتے ہیں ۔۔ نہ ہی میرا ادبی مطالعہ اُس حد تک ہے کہ مجھے فراز کے حق میں تمام مثبت پہلوئوں پر عبور حاصل ہو ۔۔۔ فراز کی آواز بھی اِس درجہ جادو اثر نہیں ہے کہ” شعلہ سا لپک” جائے۔ آخر ایسی کون سی بات تھی کہ فراز کے ساتھ پہلی مرتبہ بات کرنے پر بھی بالکل ایسا محسوس نہیں ہوا کہ جیسے میں فرازکوپہلے سے نہیں جانتی تھی ۔ ۔۔ میں اپنے اِس یکایک بدلتے ردِعمل پر خود بھی بہت زیادہ حیران تھی ۔۔۔کان قریب لائیے آپس کی بات ہے ۔۔۔دراصل میں تو قریب سے شاعر لوگوں کو بالکل نہیں جانتی ۔۔۔لہٰذا پہچانتی بھی نہیںہوں۔۔۔اور تو اور۔۔۔ میں نے انہیں پڑھا بھی نہیں زیادہ ۔۔۔۔ اگر بے ادبی نہ سمجھیںتو آگے بھی بتادوں ۔۔۔۔۔

وہ ہوا یوں کہ ایک مرتبہ برمنگھم میں ڈاکٹر رحمان کے گھر میں پروین شاکر اور چند اور بڑے شعرائ کو بلایا گیا تھا ، مشاعرہ تھا شاید ۔۔۔۔ ڈاکٹر رحمان مجھ سے بہت محبت کا سلوک کرتے ہیں مجھے خاص طور پر وقت کی پابندی کا کہہ دیا تھا انہوں نے ۔ میں جب اُن کے گھر پہنچی تو سامنے والا کمرہ لوگوں کے اُترے ہوئے جوتوں سے بھرا ہوا تھا ، میں بھی اپنے جوتے اُتارنے لگی ، اُس زمانے میں میں باقاعدہ سٹائیلِٹوز پہن کر گھوما کرتی تھی اب تو جوتے کاتلہ دو ملی میٹر کابھی ہو تو یوں محسوس ہوتا ہے کوئی پہاڑ پہن کر چل رہی ہوں ۔۔۔ ہاں تو ایسے ہوا کہ ابھی میں ہال میں جانے کیلئے اپنے جوتے اُتار ہی رہی تھی کہ اچانک سامنے ہال کے دروازے سے ایک نہایت petite ، گورے سے رنگ کی ، کھُلے لمبے بالوں والی سادہ سی خاتون وارد ہوئیں ، میں وہاں ڈاکٹر رحمان اور اُن کے کنبے کے علاوہ زیادہ تر لوگوں سے واقف نہیں تھی۔۔۔ انہوں نے جب میری طرف مسکرا کر دیکھا تو میں نے ازراہِ تکلف پوچھ ہی لیا کہ کیا آپ بھی یہاں مشاعرے کیلئے تشریف لائی ہیں ، انہوں نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔ اب میں دوسرا جوتا اُتار رہی تھی اور وہ وہاں اپنا جوتا تلاش کر رہی تھیں ۔۔۔۔ میں اچھی خاصی باتونی ہوا کرتی تھی اُس وقت۔۔۔۔

جب ہماری آنکھیں دوبارہ ملیں تو میں نے اُن سے پھر پوچھ لیا کہ کیا آپ شاعری بھی کرتی ہیں ، جب انہوں نے میرا سوال نظر انداز سا کردیا تو میں نے انہیں براہِ راست سوال داغا ’’کیا آپ بھی شاعرہ ہیں‘‘ ۔۔۔ وہ مسکرا دیں کہنے لگیں ’’یونہی کبھی کبھار کچھ موزوں ہو ہی جاتا ہے‘‘ پھر مجھ سے پوچھنے لگیں ’’کیاآپ بھی کچھ لکھتیں ہیں‘‘ تو میں نے بھی اسی انداز میں کہا ’’ جی ہاں یہاں بھی کبھی کبھار اِسی طرح کچھ موزوں ہوجاتا ہے‘‘ ۔۔۔ اُس روز جب مشاعرے کے تقریباً اختتام پر پروین شاکر کو دعوت دی گئی تو مجھے بہت شرم محسوس ہوئی ، میں جِن خاتون سے پوچھ رہی تھی کہ کیا وہ شاعرہ ہیں وہ خود پروین شاکر تھیں جِنہوں نے اُس وقت تک دنیا میں اپنی شاعری کا سکہ جمایا ہوا تھا اور اُن کی کئی کتابیں منظرِ عام پر آچکی تھیں ۔۔۔۔۔ یہ توحال ہے میرا ۔۔۔اب آپ خود ہی اندازہ کیجئے۔۔۔ فراز کیلئے میرا اِس طرح سے متوجہ ہوجانا ۔۔۔خاصا حیران کُن تھا میرے قریبی جاننے والوں کیلئے ۔۔۔۔

خیر چھوڑئیے ۔۔۔ فراز ہی کی باتیں کرتے ہیں ۔۔۔۔ آخر کیا بات ہے اِس احمد فراز میں کہ لوگ پاگل ہوئے جاتے ہیں اِس کیلئے ۔ ہر جگہ ہر خاص و عام کی زبان پر احمد فراز ہوتا ہے ۔ آخر کیوں ؟۔۔۔۔ میں اِس آخر کیوں کے اُڈھیڑ بُن میںیہ بھی دیکھ نہ پائی کہ منصور اپنافون ختم کرنے کے بعد صوفے سے اُٹھ کر میرے کندھوں پر ہاتھ دھر کر بہت خوشی سے مجھے بتارہے تھے کہ احمد فراز فلاں تاریخ کو یہاں تشریف لارہے ہیں ۔ ویسے تو میں نے احمد فراز سے ٹیلیفون پر کہا تھا کہ بہت انتظار ہے آپ کا مگر اِس وقت فرق یہ تھا کہ منصور کے ساتھ ساتھ میں بھی احمد فرازکے یہاں آنے کی درحقیقت منتظر ہوچکی تھی ۔کافی دیر تک سوچتی رہی تو مجھے کرِس کوپر یاد آگیا ۔ کرِس ایم بی اے میں میرا کورس کو اورڈینیٹربھی تھا اور مارکِٹنگ اینڈ انٹرنیشنل مارکِٹنگ مضامین کا پروفیسر بھی ۔ کرِس کے یاد آتے ہی مجھے مرسیڈیز بنز، کوکاکولا، مِکڈانلڈز، شِنیل ،لوٹس ، بیٹلز، سپائِس گرلز، باڈی شاپ ، کیڈبریز ، تھورنٹنز، فرورا روشے اور نہ جانے کتنے ہی brand names یاد آگئے ۔ مجھے احمد فرازشاعری اور ادب کے حوالے سے پاکستان کا ایک ایسا برانڈ محسوس ہوا جِسے بین الاقوامی سطح پر ایک غیر مشروط کسٹمر لائِلٹی حاصل ہے ۔میری آنکھوں کے سامنے گلوبل مارکیٹ اورproduct کی کامیاب لانچ کیلئے سٹریٹیجیز ، ٹِسٹ مارکیٹ ، cash cows، پریمیئم پرائِس اور کمپیٹیشن جیسے موضوعات اپنے اپنے پھریرے لہرانے لگے ۔

تو کیا احمد فراز کے سامنے کسی کمپیٹیشن کا سوال کبھی نہیں پیدا ہوا ، کوئی مقابِل نہیں ہے احمد فراز کے ؟ وہ کیا بات ہے کہ شاعروں میں احمد فراز کے سب سے زیادہ شعر زبان زدِخاص و عام ہیں ۔ وہ کیا خاصیت ہے کہ مائوں نے اپنے بچوں کا نام فراز رکھا ہے ۔ کوئی بات ایسی ضرور ہے فراز میں جو دوسروںمیں نہیں ہے۔ مجھے فراز کا انتظار اِس تحقیقی پہلو سے بھی تھا ۔ میں اپنی آنکھوں سے یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ جیسے میریلین مونرو یا شہزادی ڈائینا ہمیشہ نوجوان رہیں گی ، اُن کا ذکر جب بھی ہوا اُنہیں اُسی خوبصورت انداز میں یاد کیا جائے گا جیسی وہ اپنی زندگی میں تھیں۔۔۔ اُن کے بُڑھاپے کا تصور کسی کے دماغ میں کبھی نہیں آئے گا یا جیسے کلارک گیبل کے ساتھ Gone with the wind یا ڈاکٹر ژواگو کے ساتھ عمر شریف ایک عجیب و غریب طلسماتی حیثیت اختیار کرچکے ہیں ۔۔اِسی طرح احمد فراز بھی کبھی بوڑھا نہیں ہوسکتا ۔۔وہ بھی مقبولیت کے عروج کی ایک طلِسماتی حیثیت میں اپنے تئیں ایک کبھی نہ ڈوبنے والے ستارے کی شکل میں تبدیل ہوگیا ہے۔۔ ۔ آخر احمد فراز ہے کون؟ کِس چیز کا نام ہے احمد فراز ؟ ایک جانب تو یہ حالات تھے اور دوسری جانب حالاتِ حاضرہ یہ ہوچکے تھے کہ فراز کے آنے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل چکی تھی ۔

بڑے بڑے طرم خان اپنے اپنے حواریوں کو یقین دِلارہے تھے کہ وہ منصور کے جشنِ فراز کو اِس طرح ناکام کریں گے کہ منصورر دوبارہ کبھی کسی مشاعرہ کاسوچے گا بھی نہیں ۔ دو اور دو پانچ کئے جارہے تھے کہ دو ہفتے کے دوران اِس جشن میں اتنے مشاعرے تو ہوںگے ہی ، اِس حساب سے فراز کے اخراجات کا متحمل منصور تو ہوہی نہیں سکتا لہٰذا یہ کوئی اور پارٹی ہے منصور کے پیچھے کہ جو منصور کے پروگرام کی فائِننشل سپورٹ ہے ۔ مگر منصور بھی تو منصور ہیں ۔۔۔۔جب دِل سے اور نیک نیت سے کوئی فیصلہ یا خواہِش کرتے ہیں تو ضرور کامیاب ہوجاتے ہیں ۔ کم از کم میں نے اِن کے ساتھ اِس مختصر سی مدت میں یہی دیکھا ہے ۔ اب یہی ہماری شادی ہی کو دیکھیں تو کہاں میں اور کہاں منصور آفاق بھلاکبھی سوچا بھی جاسکتا تھا کہ ایسا ہوسکتا ہے۔ مگر اِن کے دِل سے نکلے فیصلے پر میرے محترم اور بہت پیارے دوست ساقی صاحب نے یوں مہر لگائی تھی، ” یاسمین منصور ایک ایسی اِنرجی ہے کہ جِس کا flow مشرق میں تھا اور تمہاری انرجی مغرب میں تیررہی تھی ، تم دونوںنے آپس میں مِلنا تھا اور تم جہاں بھی مِلتے تم دونوں نے ایک ساتھ مِل کر بہنا ہی تھا”۔ جشنِ فراز دراصل خود میرے لئے بھی سیکھنے کے بہت سے مواقع فراہم کرگیا ہے۔ انگریزی زبان کے دو الفاظ اپنی مکمل تفسیر کے ساتھ میرے سامنے آئے ہیں ایک تو determination ہے اور دوسرا commitment ہے ۔ یہ دونوں صِفات ضروری تھیں اِس ماحول میں جشنِ فراز منانے کیلئے اور یہ دونوںصفتیں منصور میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہیں۔

عطاالحق قاسمی پہلے تشریف لائے تھے اور اُن کا مختصر قیام عاشور کاظمی کی قیام گاہ پر کیا گیا تھا ۔ عاشور صاحب نے مہمانوں کے آرام کیلئے اپنے دِل کی طرح ایک اور بڑا سا فلیٹ بھی محفوظ کر رکھا ہے۔ پردہ داری بھی قائم رہتی ہے اور مہمانداری بھی اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہے ۔ویسے کھانے بڑے مزے مزے کے ہوتے ہیں اُن کے یہاں۔ اُن کی بہن شبانہ بھی بھیا بھیا کہتے نہیں تھکتیں۔ عطا صاحب یہاں پہلے اِس لئے بھی تشریف لے آئے تھے کہ کچھ تو منصور کا ہاتھ بٹائیں گے اپنی تجربے سے لبریز ھدایات وغیرہ کے ذریعے سے اور کچھ حالات کا لٹمس ٹِسٹ بھی ہوجائیگا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ فراز صاحب کے آنے سے پہلے منصور اور اِن کے دوستوں کے ساتھ ساتھ عطا صاحب بھی موجودہونگے اُن کو خوش آمدید کہنے کیلئے ۔ پروگرام تو یہ تھا کہ احمد فراز جہاں قیام کرنا چاہیں گے وہاں جائیں گے اور کچھ آرام کے بعدایک روز اُنکے اعزاز میں ابتدائیہ فنکشن ہوگا ، چارعدد مشاعرے مختلف شہروں میں ، کچھ دوست اُن کا انٹرویو وغیرہ کرنا چاہتے تھے اور ایک جنگ فورم مصدقہ تھا ۔ مشاعروں کیلئے تمام متعینہ شہروں میںمعینہ پارٹیاں تیار تھیں ، venues ریزرو ہوچکے تھے اور وہاں سے جو انکم جنریٹ ہونی تھی وہ بھی مقرر کی جاچکی تھی ۔ اخراجات کا اندازہ کیا جاچکا تھا ۔ جِن پہ تکیہ تھا وہ اپنی اپنی جگہ سینہ تانے ہوئے تھے کہ come what may ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں ۔ لہٰذا سبھی کچھ اپنے آغاز سے تکمیل تک بغیر کسی جھول کے مکمل تھا۔ hunky – dory ۔ اِس جشن کی کامیابی یا ناکامی سے بہت سے ایسے لوگوں کو لائم لائیٹ مِلنے کی اُمید تھی جو بلب کے ساتھ ساتھ کیبل تک اُٹھالیجانے کیلئے تیار بیٹھے تھے ۔ غزلیں پالِش ہورہی تھیں ، نظموں پر سفیدی پھیری جارہی تھی ، پُرانی مدقوق تحریریں فراز کیلئے بِچھائے جانے والے خیالی سُرخ قالین کے نیچے چھُپائی جارہی تھیں ۔ مقامی ریڈیو سے اعلان کیا جارہا تھا پروگرام کی ترتیب اور اوقات کے بارے میں ۔ عطا صاحب کے ساتھ انٹرویوز ہورہے تھے۔ منصور کولوگوں کے فون آرہے تھے فراز کے پروگرام کے متعلق۔ غرض کے اُن کے یہاں آنے پر تو جو ہوتی سو ہوتی فراز صاحب کے آنے سے پیشتر بھی ایک ہنگامہ خیز ڈائری تھی۔ ہماری روٹین تو تیز تھی ہی مگر اللہ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ہمارے ۔۔۔خاص کر منصور کے ۔۔۔ دوستوں کو جِن کی منصور کو ناکام کرنے کے سلسلے میں تیز رفتاریاں رخشِ ابد خرام کو شرمانے کی ضِد پر تُلی ہوئی تھیں ۔۔۔ خبر رساں اپنا اپنا کام کر رہے تھے ۔۔۔۔ منصور کے کئی ایسے دوست جِن کا منصور کے ساتھ کافی مدت سے کوئی رابطہ نہیں تھااب منصور پر جاں تک نِچھاور کرنے کو تیار تھے۔۔۔۔ موسم بھی اچھا تھا ۔ ۔ ۔ عطا صاحب بھی خوش تھے ۔۔۔ احمد فراز بھی اگلے ہی روز آنے والے تھے ۔۔۔ کامیابی کی دہلیز قریب تر ہوتی جارہی تھی ۔۔۔ مجھے بھی مشاہدے یا پھر یوں کہہ لیجئے bird’s eye viewکیلئے ایک ایسا بیش قیمت موقع میسر ہوچکا تھا جو چند سال پہلے مجھے اگر کہیںپلیٹ میں سجا سجایا بھی مِل جاتا تو میں وہاں سے سر پر پائوں رکھ کر بھاگ جاتی۔ ۔۔خیراب تو کچھ کچھ خودمجھے بھی مزہ آنے لگا تھا ۔۔۔ اِس ساری گیم میں دِلچسپی پیدا ہوگئی تھی ۔۔۔ میں آہستہ آہستہ سیکھتی جارہی تھی ۔۔ بالکل اُسی طرح جیسے کبھی میں نے ایک challenge کے طور پرایک گھنٹہ میں ہیchess کھیلنا سیکھ لیا تھا ۔۔۔سب کو ہرا دیا تھا میں نے گھر میں ۔۔۔ کیا بھائی اور کیا کزنز۔۔ سب حیران بیٹھے تھے کہ ابھی تو اِسے پیادے کی چال تک کی سمجھ نہیں تھی یہ اچانک check mate تک کیسے پہنچ گئی۔۔۔۔۔کہا تھا نا زندگی بِکھری ہوئی ہے اِس کتاب میں ۔۔ ۔۔۔

رات کا پچھلا پہر تھا ، میں اور منصور جاگ رہے تھے ۔ منصور نے سوچا کہ چلو فراز صاحب کو فون کر دیکھتے ہیں کہ فلائیٹ وغیرہ ٹھیک ہے ناں ۔۔۔ فون ملایا تو اسلام آباد ایئرپورٹ پر فراز صاحب کے ساتھ رابطہ قائم ہوگیا ۔” منصور یہ عطا وہاںپہلے کیوں چلاگیا ہے ۔۔۔یہ میرا جہاز وقت سے پہلے کیوں روانہ ہوگیا ہے؟” فراز صاحب کافی اپ سِٹ تھے کیونکہ وہ اپنے ٹکٹ کے مطابق ایئرپورٹ جِس وقت کو دیکھ کرپہنچے تھے وہ دراصل اُن کا فلائیٹ نمبر تھا ، جہاز نے صبح کے سوا چھ بجے نہیں بلکہ سوا تین بجے اُڑ نا تھا۔اب فراز صاحب اگلے روز کی بجائے اُس سے اگلے روز پہنچنے والے تھے اور مجھے اب فراز صاحب کے شاعر ہونے کیلئے اور کسی ثبوت کی ضرورت نہیں رہی تھی۔اگلے روز مارکیٹ میں یہ خبر عام تھی کہ منصور کا پروگرام ناکام کردیا گیا ہے۔۔۔۔ ۔ فراز صاحب نہیں آرہے بلکہ یہ سب کچھ ایک gimmick تھا وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔ میںخود ہر دس منٹ کے بعد منصور سے پوچھ رہی تھی کہ فراز سے کوئی بات ہوئی ہے ابھی یا نہیں۔ ہمارے گھر میں تو فراز فرازہو ہی رہا تھا یہاں تو برطانیہ بھر میں گونج تھی ۔۔۔۔ منصور کے فراز کے ساتھ جشن منانے کی ۔۔۔۔ اِن سب باتوں کا اثر مجھ پر بھی ہونا تھا ۔۔۔ بیساختہ ایک شعر ہوگیا ہمیں فراز سا کُچھ ہوگیا ہے کل سے فراز فراز ہم سے محبت کبھی تو کی ہوتی پھر ایک اور شعرکہہ دیا گماں نہ ہوتا تکلف پہ مخلصی کا کبھی نہ ہاتھ مِلتے کسی سے نہ دوستی ہوتی غرض کہ اگر پہلے شعر کو مقطع تصور کرلیا جاتاتو اُمید تھی کہ فراز کے یہاںآنے سے پہلے ہی غزل مکمل ہوجائے گی اور ایسا ہو ہی گیا مگر غزل سراسر سکینڈلس scandalousمحسوس ہوتی تھی ۔

منصورفراز کے پہلے پروگرام پر حتمی غور کر رہے تھے ۔ میں نے اُنہیں اپنی غزل کے متعلق ابھی نہیں بتایا تھا ۔ مجھ سے کہنے لگے کہ اگر تم فراز کیلئے کچھ کہنا چاہو تو تمہیں بھی پروگرام میں شامِل کرلوں ۔ میںنے پوچھا کہ پروگرام کیا ہے ۔ کہنے لگے کہ عطا الحق قاسمی کا مضمون ہے۔لندن سے روزنامہ جنگ کے ایڈیٹر جناب ظہور نیازی صاحب فراز کے سلسلے میں اپنے خیالات کا اظہار کریں گے ۔ بی بی سی ورلڈ سروِس سے خاص طور پر تشریف لائیں گے وسعت اللہ خان اپنا مقالہ پڑھنے کے لئے۔۔عاشور کاظمی صاحب کچھ کہیں گے۔۔۔ منصور کی اپنی تشکیل کردہ تنظیم ’سوچ ‘ Society of Culture & Heritage جِس میں انہوں نے خورشید احمد صاحب کو صدر کے عہدے کی ذمہ داری سونپ رکھی ہے سووہ ایڈریس کریں گے۔۔۔ انجم رِضوی صاحب ایک مضمون پڑھیں گے اور اگر کسی اور نے کچھ نہ کہا تو میں فراز کی نذر کچھ منظوم کہوں گی ۔۔۔۔

میں نے فوراً بتایا کہ منصور میں نے ایک غزل کہی ہے فراز کیلئے ۔ انہوں نے بھی اشتیاق سے اور حیران ہوکر کہا کہ سنائو ۔۔۔ حیران ہوکر اِس لئے کہ میں کسی خاص مضمون یا فرد پر کچھ تخلیق نہیں کرتی ۔۔۔ مصنوعی لگتا ہے ۔۔ زبردستی کی کاوِش ۔۔ مگر یہاں تو بات ہی کچھ اور تھی شعر خود بخود زبان سے جاری ہورہے تھے ۔۔۔۔ انہیں غزل سنائی تو کہنے لگے کہ پاگل اِس میں اگر ادب وغیرہ کے حوالے سے دو ایک شعر شامِل کردو تو چل جائے گی وگرنہ سُننے والے تمہارے جذبے کے اخلاص کو نظر انداز کرکے تمہاری غزل کا ایک سکینڈل بنالیں گے ۔۔۔۔۔ ویسے مجھے اِس بات کاخود بھی اعتراف تھا کہ میری غزل کو سکینڈلس ہونے کا اعزاز مِل سکتا تھا ۔۔۔۔ میں نے اُس میں دو ایک شعروں کا اضافہ کر تو لیا مگر اُس پروگرام میں اپنی غزل نہیں سُنائی ۔۔۔۔ منصور نے اپنی کہی ہوئی ایک نظم فراز کیلئے پیش کی۔۔۔۔ حالانکہ اب غور کرتی ہوں تو احساس ہوتا ہے وہاں تو ہر ایک شخص فراز کے ساتھ ایک سکینڈلس حد تک محبت میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔۔۔ فراز صرف مجھے ہی نہیں ہوگیا تھا ۔۔۔۔۔۔ ہر شخص فراز میں مبتلائ تھا ۔

فراز کے یہاں آنے سے پہلے اُن کے دوستوں کا ایک حلقہ منصور سے اُن کے پروگرام کی تفصیلات دریافت کررہا تھا۔ اُن میں سے اُن کے ایک دوست بدر صاحب ہیں برمنگھم میں جہاں فراز صاحب اکثر قیام کرتے ہیں ۔ میری بھی اُن سے اتنی سلام دعا تو ہے کہ اُن کے گھر جب بھی کوئی محفل ہوئی انہوں نے بہت محبت سے مجھے بھی دعوت دی ۔ ابھی چند سال ہی کی بات تو ہے کہ میں اُن کے یہاں ضیائ محی الدین کی کسی ’آفٹر ڈنر پرفارمِنس ‘ پر موجود تھی ۔ دِل کی بات کہوں تو خدا جانے بدر صاحب کے گھر کی تزئین و آرائِش کا کمال ہے یا اُن کے خلوص کا معجزہ ہے کہ میری اُن کے ساتھ ہر ملاقات میں کہیں سے کبھی بچپن میں کسی افسانے میں پڑھا ’چھمیا جان‘ کا کردار اپنے پورے کردوفر کے ساتھ آدھمکتا ہے ۔ ویسے بدر صاحب کے گھر میں فیض اور فراز کی قدِ آدم تصاویر بدر صاحب کی اُردو کے ساتھ والہانگی کی دلیل ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ یار لوگوں کو بھی اِس وقت بدر صاحب کی چھت پراردو کا لہراتا ہوا پرچم ذرا زیادہ ہی دِکھائی دے رہا تھا۔ کوئی انہیں اِدھر کی سنا رہا تھا کوئی اُدھر کی اور وہ منصورکے ساتھ مسلسل رابطہ قائم کئے ہوئے تھے ۔۔۔فراز یہ کہہ رہے ہیں ۔۔۔ فراز یہ کر رہے ہیں ۔۔۔۔ فراز نے یوں کیا ۔۔۔۔۔ فراز کو یہ پسند ہے ۔۔۔۔۔ فراز کہاں جاسکتے ہیں کہاں نہیں ۔۔۔ فراز کب پیتے ہیں ۔۔۔۔کیا پیتے ہیں ۔۔۔ کھاتے کیا ہیں غرض یہ کہ بدر صاحب کے پلو میںبندھیں فراز سے متعلق تمام ھدایات کسمسا کسمساکر باہر آنے کی کوشِش کررہی تھیں ۔ اُن کی ایکسائیٹمنٹ بھی دیکھنے والی تھی ۔ بھئی کیوں نا ہو۔۔۔ فرض کرلیں کہ فراز اِس جشن کے دولہا تھے تو اُن کاشہ بالائ سرِدست بدر صاحب سے بہتر کوئی دِکھائی نہیں دے رہا تھا ۔ ویسے بدر صاحب کو معلوم تھا کہ فراز صاحب کے بھارت کے دورے کے دوران اُن کے سفری کاغذات شاید اِدھر اُدھرہوگئے تھے اور فراز نے خاص منصور کے پروگرام کیلئے وفاقی سیکریٹری ِخارجہ سے ذاتی طور پر ملاقات بھی کی تھی تاکہ کاغذات کا وقت پر بندوبست ہوسکے اور منصور کو بتا بھی دیا تھا کہ منصور کو اُن کے آنے کا یقین ہوجائے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ بدر صاحب اپنے اور فراز کے درمیان تقدیر کی جانب سے اچانک آجانے والے منصور جیسے رقیب ِ برملاکو بھی برداشت کئے ہوئے تھے ۔۔۔۔

اگلا روز بہت جلدی طلوع ہوگیا حالانکہ جب انتظار ہوتا ہے تو لمحہ لمحہ طویل محسوس ہوتا ہے اور یہاں تومصروفیت کا یہ عالم تھا کہ سب کام کرنے کیلئے چوبیس گھنٹے کا ایک دِن بہت مختصر ثابت ہورہا تھا ۔ دفتر سے میری دو ہفتوں کی رخصت دراصل دو تین روز کے بعد شروع ہونی تھی ۔ آج صبح میں نے دفتر جانا تھا اور منصور نے فراز کو ریسیو کرنے برمنگھم ایئر پورٹ جانا تھا ۔منصور جہاں بعض آنکھوں میں کھٹکتے ہیں وہاں اِنکے ساتھ محبت کرنے والوں کی تعدادبھی کہیں زیادہ ہے ۔ پروگرام یہ تھا کہ میں انہیں فائیو ویز پر ڈراپ کردوں جہاں سے انصر اور انجم رِضوی انہیں مِل جائیں گے اور یہ لوگ برمنگھم ایئر پورٹ چلے جائیں گے جہاں منصور کو عطا الحق قاسمی بھی مِل جائیں گے عاشور کاظمی کے ساتھ۔ اب میرے جی میں تھا کہ پورے ملٹری بینڈ کے ساتھ فراز کو خوش آمدید کہا جائے اور منصور کے پاس تو پھولوں کا ایک گلدستہ تک نہیں تھا۔

"منصور خدا کیلئے چار پھول ہی رکھ لو ہاتھ میں ۔۔۔ آخر فراز کی آمد ہے۔۔۔ کم از کم اُسے یہ محسوس تو ہوگا کہ جشن سے مُراد واقعی جشن ہے ۔” میری بے چینی اور اشتیاق دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا جب کہ منصور جو فراز کے یہاں آنے سے پہلے اِس درجہ mercuric تھے کہ دس سیکنڈ کیلئے بھی کسی جگہ ٹِک کر نہیں بیٹھ سکتے تھے اُنہیں خدا جانے اِس وقت اتنی پُر سکون اور مطمئِن طبیعت کہاں سے حاصل ہوگئی تھی ۔ میں نے اپنے لوکل نیوزایجنٹ سے پھولوں کا ایک گلدستہ لے دیا منصورکو اور اپنے دِل ہی دِل میں یہ سوچتی ہوئی کہ اگرتین روز پہلے ہی چھٹی بُک کروائی ہوتی تو کیا تھا میں انصر کی کار کو ڈھونڈ رہی تھی ۔ منصور کو چھوڑ کر میں نے مخالف سمت میں کم از کم دس میل کی ڈرائیو پر اپنے آفِس جانا تھا ۔ کچھ تو اِس بات کی جلدی تھی اور کچھ یہ کہ فوراً پتہ چلے کہ فراز آگئے ؟ سفر کیسا رہا اُن کا؟ کیسے لگ رہے تھے ؟ خوش تھے یا نہیں ؟ منصور سے کیسے مِلے تھے ؟ کہاں ٹھہرنا پسند کیا ہے انہوں نے؟ یہاںکب تک رہیں گے وغیرہ وغیرہ۔۔۔ خیر خدا خدا کرکے انصر کی گاڑی نظر آئی انجم رِضوی پر نظر پڑی تو اُس وقت وہ باقاعدہ ایئر فورس کے بہت سینئر افسر لگ رہے تھے مجھے ذرا تسلی ہوئی نہ سہی آرمی بینڈ ، یہ ایئر فورس میں نہیں مگر وہاں سے متعلق تو ہے ’’گو واں نہیں پہ واں سے‘‘ چلے گا ۔میں نے منصور کو اُتارا اور ابھی کارڈرائیو کرنے ہی والی تھی کہ خیال آیا منصور خالی ہاتھ اُتر گئے ہیں گاڑی سے ، فوراً ہارن بجا بجا کر منصور کو واپس بُلایا اور گلدستہ اُن کے ہاتھ میں تھما کر آخرِکار میں بھی دفتر کی جانب روانہ ہوگئی ۔۔۔۔

ذرا دِل نہ لگا دفتر میں ۔۔۔ بھئی اب صرف فراز ہی تو نہیں تھے نا۔۔۔ میرے پلے میں میرے دفتری کلائِنٹس بھی تو تھے نا۔۔۔۔اب age concern یا social services کو کیا معلوم کہ فراز کون ہے۔۔۔ وہاں تو میلز آن وہیلز ، ڈے کیئر اور comprehensive assessment کے عملی کمال کے سامنے شاعری کی کیا مجال جو ذرا بھی دم لے۔۔۔ یہ شناخت کھو جانا بھی کِتنی اذےّت کا باعث ہوتا ہے ۔۔۔ میںمنہ لٹکا کر کسی بھی طرح وقت کاٹنے لگی۔۔یہ وقت بھی کیسا ہے کہ کٹ بھی جاتا ہے اور کاٹ بھی جاتا ہے ۔۔۔ ایک زمانے میں سوچا کرتی تھی کہ ویک اِنڈ کے اڑتالیس گھنٹے کا وقت بہت ہوتا ہے ۔۔۔ گھر کے سارے کام کاج کے بعد آرام بھی ہوجاتا تھا۔۔۔ پھر بھی کچھ لمحے ایسے ضرور نکل آتے تھے کہ جِن پر اپنا نام لِکھ سکوں۔۔۔ گو چُبھتے بہت تھے مگر خواب بھی دِکھا جاتے تھے۔ ۔ ۔ اُڑتی ہوئی ریت میںسِتارے ہی ستارے بھرے نظر آتے تھے۔۔۔درد کی دھنک بِکھر جاتی تھی۔۔۔پھر گھائو پر اپنے ہی پپڑی زدہ لبوں کے مرہم سے مسیحائی کا منظر بھی میسر آجاتا تھا ۔۔۔ اب تو یہ حال ہے کہ ساری زندگی ہی مختصر ہوگئی ہے ۔۔۔ شارٹ کٹ سے کام لینا پڑتا ہے ۔۔۔ شارپ ایگزِٹ کی بیساکھیاں سہارا دیتی ہیں۔۔۔ خواب کہیں بھاپ کی طرح اُڑ چکے ہیں اور تعبیریں چٹخ گئی ہیں۔۔۔اِتنے سارے کام رہ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ذہن سے اُتر جاتے ہیں۔۔ دماغ بوڑھا ہوگیا ہے شاید۔۔۔آنکھیں کمزور ہوگئی ہیں ۔۔۔ اور بدن تھک گیا ہے۔۔ وقت کا دھارا کوئی پہلو کاٹتا ہوا گُزرگیا ہے ۔۔۔ ذات میںشگاف پڑگیا ہے ۔۔۔۔۔ مگر دُنیا ہے کہ وہیں رُکی ہوئی ہے جہاں سے چلی تھی ۔۔۔۔۔ آگے بڑھنا اگر یہی ہے تو پھر ۔۔۔۔ پیرانویاparanoia اپنے اثرات دِکھا رہا تھا۔۔۔دفتر میں تمام دِن جیسے تیسے گزر ہی گیا ۔۔۔۔

منصور نے فون کر دیا تھا کہ فراز آچکے ہیں ۔۔۔ کافی رات ہوگئی تھی منصور ابھی تک نہیں آئے تھے ۔۔۔۔ لندن سے فون آگیا کہ اُن کا وینیو جِن تاریخوں میں ہمارے لئے بُک تھا وہ تاریخیں کسی اور کو دے دی گئی ہیں لہٰذا پروگرام کے مطابق لندن میں ہونے والے مشاعرے کی طرف سے کوئی اُمید قائم نہیں رکھی جاسکتی تھی۔ سوچا کہ منصور کو بتا دوں۔ منصور کا موبائےِل نمبرملایا توکہنے لگے کہ اگر تم مجھے یہاں سے اپنے ساتھ لے چلو تو میں جلدی فارغ ہوسکتا ہوں ۔ ہوا یوں تھا کہ فراز صاحب نے آتے کے ساتھ ہی سب کے سامنے منصور کو کہا تھا کہ بھئی میں تو آپ کی گٹھڑی ہوں آپ مجھے جہاں رکھنا چاہیں رکھ دیں۔۔۔ ۔

بدر صاحب فراز کو اپنے ساتھ اپنے گھرلے کر جانا چاہتے تھے ، منصوربھی یہی چاہتے تھے کہ بدر صاحب کا دِل نہ ٹوٹے وگرنہ ہم نے فراز کیلئے ہر آرام دہ مقام پر انتظام کررکھا تھا اور اگر فراز پسند کرتے تو خود ہمارا فلیٹ بھی موجود تھا ۔ وہاں پہنچ کر فراز صاحب کو آرام کرنے کیلئے کچھ دیر کیلئے چھوڑ دیا اب سرپرائِز شروع ہوگئے’چھمیا جان‘ ضرورت سے زیادہ چھمیانے لگیں ۔ بدر صاحب بے چارے لوگوں کی باتوں میں آتے آتے بھی رہ جاتے رہے ۔ لوگوں کے نشانے چُوکتے رہے اور جشن کا سلسلہ جاری رہا ۔ سب سے پہلا سرپرائِز تو ریڈیو ایکس ایل پر شبانہ کا فراز اور عطا کے ساتھ انٹرویو تھا جِسے میں نہیںسُن سکی ۔ میںشاید کار میں تھی یا شاید مجھے ریڈیو ٹیون کرنا نہیں آتا تھا ۔ اُسکے بعد فراز صاحب اور باقی دوست احباب قریب ہی کسی عام سے پبلِک ہائوس میں ذرا باتیں کرنے ایک دوسرے کے ساتھ متعارف ہونے اور ریلیکس کرنے کیلئے بیٹھ گئے ۔منصور بتا رہے تھے کہ وہ پبلِک ہائوس اِتنا اچھا تو نہیں تھا کہ فراز کے مزاج کا ہوتا مگر فراز اتنے خوش تھے اور اتنی محبت سے مِل رہے تھے کہ انہیں کسی درخت کے نیچے کسی کھُری چارپائی پر بِٹھا کر اُن کے ساتھ محفل لگائی جاتی تو اُنکے ماتھے پر ذرا بھر شِکن نہ آتی ۔۔۔۔

اُس روز میں منصور کو بدر صاحب کے گھر کے باہر سے ہی واپس لے آئی تھی ، کچھ تو میں بہت زیادہ تھک چکی تھی ، کچھ سردی بہت تھی شاید بارش بھی ہورہی تھی اور کچھ میرا جی چاہتا تھا کہ مصنوعیت کو جہاں تک دور رکھا جاسکتا ہے رکھوں ۔ اگرچہ مجھے فراز کے بارے میں منصور نے کچھ ذرا سا بتایا تھا مگر مجھے عجیب سا احساس تھا کہ مصنوعیت میں فراز بھی ضرور گھُٹن محسوس کرتے ہونگے ۔ ایک آدمی جب ببانگِ دہل یہ کہے ” تُو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کیلئے آ” تو اُسے صاف دِل نہ سمجھا جائے تو کوئی اور کیا سمجھے ۔۔۔۔ مجھے منصور کی گٹھڑی یاد آنے لگی ۔۔۔۔ ہائے منصور ادبی جواہرپاروں سے بھری اپنی اطلسی اور کمخوابی گٹھڑی کہیں محفوظ ہاتھوں میں تو چھوڑ ی ہے نا ۔۔۔۔ منصور نے میری طرف ایک نظر دیکھا اور کہا کہ تم کیوں فکرمند ہو میری گٹھڑی ایک درویش کی گٹھڑی ہے اگر وہ کہیں چلی بھی گئی تو اُس کا دِل نہیں لگے گا اور لے کر جانے والوں کے پاس اِس گٹھڑی کو رکھنے یا چھپانے کیلئے جگہ کم پڑ جائے گی لہٰذا دونوں ہی صورتوں میں دیکھنا میری گٹھڑی میری ہی رہے گی ۔۔۔۔ ہاں منصور یاد آگیا ۔۔۔۔ وہ کسی کا فون آیا تھا لندن سے انہیں وینیو تمہاری تاریخوں پر نہیں مِلے گا ۔۔۔ منصور خاموش تھے ۔۔۔ مجھے فکر ہو رہا تھا ۔۔۔۔ منصور کچھ کہتے کیوںنہیں ۔۔۔ اب کیا ہوگا ۔۔۔ ارے تم تو ذرا ذرا سی بات پر پریشان ہوجاتی ہو ۔۔۔ میں اسی لئے تمہیں ایسی باتیں نہیں بتا رہا تھا ۔۔ یہ تو ایک فون کال آئی ہے ابھی نیو کاسل سے اور اولڈھم سے بھی اسی طرح کی کالز یا خبریں آئیں گی۔۔۔۔ منصور نے نہایت اطمینان سے bomb کو ڈِفیوز بھی کردیا ۔ مگر وہ سب توتمہیں زبان دے چکے تھے میں نے جھِلا کر پوچھا ۔۔۔ اررے کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔ وہ جو تم پوچھ رہی تھیں نا کہ میں نے مشاعرے تو چار کروانے کا اِرادہ کر رکھا ہے مگر بندوبست آٹھ کا کیا ہوا ہے ۔۔۔ وہ یہی بات تھی مجھے معلوم تھا کہ بظاہر سب کچھ ٹھیک ہے مگر ایسا ہوگا نہیں ۔۔۔ میں نے اسی لئے پہلے سے بندوبست کر رکھا تھا ۔ اُسی لمحے منصور کے موبائیل فون کی گھنٹی بجی۔۔۔ خبر مِلی کی نیو کاسل والوں کو فنڈنگ نہیں ملی ۔۔۔ اور آخرِ کار اولڈھم والے بھی اپنی زبان سے مکر گئے۔۔۔۔ ایسا chain reaction تھا اوپوزیشن کا کہ برمنگھم میں تو گھر گھر جاکر لوگوں کو کہا جارہا تھا کہ منصورکے مشاعرے میں نہ جائیں ۔۔۔اولڈھم والوں پر اُن لوگوں کا دبائو تھا جو اپنی ضرورت پر منصور کو لمبے لمبے فون کرکے اُسے اپنے سگوں سے بھی زیادہ قریب اور کھرا بتاتے ہیں۔۔۔ ۔ لندن میں بعض ایسی پارٹیاں سرگرداں تھیں جِن کے پیندے اِس ماحول کی تیزابیت کھا چکی تھی اب اُن بیچاروں کا کیا قصور تھا۔۔۔ اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر لڑھکتے پھِررہے تھے ۔۔۔۔ مجھے نہ جانے کیوں اِس وقت پاکستان اور بھارت کی تقسیم کا منظر دِکھائی دینے لگا ۔۔۔ لوگوں کے نعرے سُنائی دے رہے تھے ۔۔۔۔ بجائے اِس کے کہ میرے کانوں میں’ لے کے رہیں گے پاکستان ‘کی آواز آتی مجھے چاروں جانب سے ترنم کے ساتھ ’’منصور کو ہرائیں گے۔۔ پراوگرام فلاپ کروائیں گے ‘‘ کا الاپ سنائی دے رہا تھا۔۔۔ میں نے اپنے دِل میں ٹھان لی ۔۔۔ منصور تو منصور ہے اگر مجھے بھی میدان میں آنا پڑا تو میں خود فراز کے اعزاز میں دس مشاعرے رکھوالوں گی چاہے مجھے اپنا فلیٹ ہی ری مورگیج کیوں نہ کروانا پڑے ۔

منصور کسی ڈھابے کی کچی دیوار پر خاموش لٹکا ہوا کوئی پنجابی فلم ایکٹریس کی تصویر والا بہہ جانی والی سیاہی سے بنا ہوا پوسٹر تو کبھی بھی نہیں تھے ۔۔۔ جہاں بھی گئے جِس فیلڈ میں پائوں دھر ا اپنا نام engrave کیا ۔۔۔۔ اب تو منصور اکیلے بھی نہیں ہیں ۔۔۔۔ اِن کے ساتھ اِن کے دوست ہوں یا نہ ہوں میں تو ہوں ۔۔۔۔۔اب منصور عالمگیرہیں ۔۔۔ دیکھ لیں گے کیا ہوگا۔۔۔میں نے خیالوں ہی خیالوں میں منصور کو کسی بادشاہ کی طرح اپنے دربار میں اپنے تخت پر براجمان لوگوں کے نعروں کے جواب میں نہایت بردباری سے اپنا ہاتھ ہلاتے ہوئے دیکھا۔ اور نہایت بے خیالی میں اپنے ڈریسِنگ گائون کی sleeve سے دیوار پر آویزاں Nefertiti کے مجسمے کو اور چمکانے میں لگ گئی ۔ اُس کے کسی کنارے سے رگڑ کر اُنگلی پر خراش آگئی ذرا سا خون نکل آیا ۔۔۔ کچن میں plaster لینے گئی تو اپنے بھائی کا خیال آیا ۔۔۔اللہ کرے وہ ٹھیک ٹھاک ہو۔۔۔ ویسے تو یہیں اِنگلینڈ میں رہائِش ہے اُس کی اور ہم دونوں کے شہر بھی قریب قریب ہیں مگر مصروفیت کچھ اِتنی سِوا ہے کہ ملاقات کا وقت ہی نہیں نکلتا ۔۔۔ کبھی کبھار عید، شب برات کے موقع پراپنے بیوی بچوں کے ساتھ آتا ہے اور میرے لئے کوئی نہ کوئی چیزلے آتا ہے تحفے میں۔۔۔۔ اب تو میرے ساتھ منصور بھی ہیں ۔۔۔ لاکھ منع کرتی ہوں اپنے بھائی کو کہ تم مجھ سے چھوٹے ہو میرے لئے کچھ مت لایا کرو بلکہ مجھ سے لے کر جایا کرو مگر ہماری شادی کے بعد اُس نے اپنے گھر میں ہم دونوں کیلئے نہ صرف ایک زبردست پارٹی کا اہتمام کیابلکہ مجھے اور منصور کو بالکل اُسی طرح زیور کپڑوں وغیرہ کے تحائِف سے لاد دیا جیسے کو بڑا بھائی اپنی بہن کو رخصت کرتے ہوئے تمام رواج اور رسمیں پوری کرے ۔۔۔۔۔ منصور اور میرے بھائی میں بہت دوستی بھی ہے اور دونوں آپس میں بیٹھ کر میری سخت طبیعت اور صفائی کے جنون کے قصے بھی چسکے لے لے کر سُناتے رہتے ہیں ایک دوسرے کو۔۔۔۔ اِن دونوں کے نزدیک میں ایک انتہا درجے کا پاگل اور بیوقوف آدمی ہوں جِس کا ہر ایکشن غیر متوقع سرپرائِز ہوتا ہے۔۔۔ یہ مجسمہ مجھے میرے اِ سی چھوٹے بھائی راحیل نے مصر سے واپسی پر تحفہ میں دیا تھا ۔۔۔۔ وہ شادی کے بعد اپنی دُلہن کے ساتھ شاید ہنی مون کیلئے گیا تھا کہیں اور واپسی کے راستے میں مصر میں چند گھنٹوں کیلئے ٹرانزِٹ تھا۔۔۔۔ اُس نے یہ مجسمہ وہاں سے خاص طور پر صرف میرے لئے خریدا تھا۔۔۔۔ مجھے کہنے لگا کہ جونہی میں نے اِسے دیکھا مجھے ایسے محسوس ہوا کہ یہ بنایا ہی صرف تمہارے گھر کیلئے گیا ہے اور تمہیں بہت پسند آئے گا ۔۔۔۔ نہایت خوبصورت اور مختلف انداز کا یہ چمکتا ہوا مجسمہ مجھے ایک اثاثے سے کم نہیں محسوس ہوتا۔۔۔۔ اِس میں میرے سب سے چھوٹے بھائی کی میرے لئے چاہت اُمڈتی دِکھائی دیتی ہے ۔۔۔ وہ زبان کا تو کھُردرا ہے مگر اُس کے کہنے کا یہی انداز ہے۔۔۔ جاہ و حشمت کے اِس زوال کی نشانی میں مجھے بہت معصوم سی محبت کا عکس دِکھائی دیتا ہے۔

ایسی ہی محبت میرے be happy don’t worry والے کارٹون سے بھی جھلک اُٹھتی ہے ۔ یہ مجھے امریکہ سے میری چھوٹی بہن نیلوفر سید نے بڑے پیار سے بھِجوایا تھا mummy کے ہاتھ۔ کوئی تین سال پہلے جب میری والدہ مجھ سے مِلنے یہاں آئی تھیں چند روز کیلئے تو ایک روز اپنے سوٹ کیس میں سے میرے لئے لائے ہوئے اِتنے سارے تحفے نکالتے ہوئے جب اِس کارٹون پر آئیں تو کہنے لگیں "بیٹے واشنگٹن میں یہ سب سے پہلی خریداری کی ہے تیری چھوٹی بہن نے اور خاص تیرے لئے "۔ وہ کہتی تھی کہ جب "بے بی ” اِسے دیکھے گی تو اُسے اُداسی میں بھی کچھ تسلی ہوجایا کرے گی کہ اور تو اور یہ کارٹون بھی اُسے مسکرانے کیلئے کہہ رہا ہے۔‘ اُسی روز سے میں نے اِس تحفہ کو اپنی آنکھوں سے لگا کر رکھا ہوا ہے ۔ یہ میری مُنی سی بہن نے امریکہ میں قدم رکھنے کے بعدپہلی خریداری کی تھی اور وہ بھی میرے لئے ۔۔۔ وہ منی سی بہن جو میرے دیکھتے ہی دیکھتے اِتنی بڑی ہوگئی ہے کہ کل رات میں اُس کے ساتھ مِشی گن کے شہر لین سِنگ کے ایک ہوٹل میں بات کر رہی تھی جہاں وہ سٹیٹسن یونیورسٹی میں ایل ایل ایم کرنے کے بعدبار کے امتحان کیلئے گئی ہوئی ہے ۔۔۔۔اور اب وہ مجھے اِس طرح سے logic پر مبنی باتیں سُناتی ہے کہ بالکل ایسے محسوس ہوتا ہے کہ میں عدالت کے کٹہرے میں کھڑی ہوں ایک بہت بڑے عالی جناب جج کے سامنے ۔۔

ویسے حقیقت بھی ہے کہ جب میں اور منصور آپس میں گھمسان کی لڑائی کرنے کے بعد ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے اور اِس خاموشی کو ایک آدھ گھنٹہ ہوچکا ہوتا ہے تو منصور فوراً امریکہ میری والدہ سے فون مِلاتے ہیں ۔۔ امی ذرا جج صاحبہ سے بات کروادیں ۔۔۔ میری تمام شکایات وہاں پہنچاکر فون میرے کان کے ساتھ لگا دیتے ہیں ۔۔۔جج صاحبہ لیں اب دوسرے فریق کا بیان لے لیجئے ۔۔۔۔ میں بھی اُسے سارا قصہ سُنا دیتی ہوں اور وہ منی سی بہن ہمارے مقدمے کا فیصلہ کیا کرتی ہے ۔۔ ۔ ہماری لڑائی عام طور سے صفائی وغیرہ پر ہوجاتی ہے ۔۔۔ لوگ کہتے ہیں کہ مجھے صفائی کا جنون ہے ۔۔۔ برستی بارش میں بھی صحن دھولیا کرتی تھی۔۔ ۔ہاں تو مقدمہ کا فیصلہ کچھ یوں ہوتا ہے۔۔۔ عام طور پر منصور سے کہتی ہے ’منصور بھائی آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں بے بی کو پتہ ہی نہیں چلتا پاگل ہے اُسے آپکو اِتنا تنگ نہیں کرنا چاہئے صفائی کیلئے ۔۔ کچھ آرام ضروری ہے آپ دونوں کیلئے‘۔ ۔۔مجھ سے بات کرتی ہے تو میری طرف داری میں ۔۔جب پوچھو تو کہہ دیتی ہے کہ جج میں ہوں یا آپ۔۔۔بھئی آپ ہی ہو مگر ۔۔ تو یہ مگر وگر نہیں جج نے جو فیصلہ کردیا سو کردیا۔۔ اب آپ دونوں کچن میں جائو ، چائے بنائو اور ایک دوسرے کے سامنے بغیر بات کئے بیٹھ کر پی لو۔۔ اپنا اپنا کپ خود دھونا ہے بعد میں ۔۔ ۔اور ہاں بات بالکل نہیں کرنی آپس میں۔۔ اور جب ہم ایسا کرنے بیٹھیں تو ہنسنے لگ جاتے ہیں ۔۔ اللہ اللہ خیر صلا ۔۔۔ کیسی لڑائی۔۔۔ کون سی لڑائی۔ میری ممی نے پاکستان سے امریکہ ہجرت کرتے وقت مجھے ایک چھوٹی سی بچی کی تصویر بھیجی تھی کہ بیٹے اِسے سنبھال کر رکھنا کہیں کھو نہ جائے ۔۔ خدا جانے کہاں کہاں جانا ہوگا ۔۔۔ مجھے یہ بھی بتایا تھا کہ بیٹے جب ہم کراچی رہا کرتے تھے تو ہمارے صحن میں پپیتے کا ایک درخت تھا ۔۔ یہ چھوٹی سی بچی جب صحن میں کھیلا کرتی تھی تو اِس درخت کا تنا اپنے دونوں بازوئوں میں لے کر اِس کے گردجھولتی رہتی تھی ۔۔۔ جب شام کو کمرے میں بلاتے کہ اندر آئو اور کھانا کھالوتو کہا کرتی تھی کہ میں اندرکیسے آئوں۔۔ باہر میرا درخت بالکل اکیلا رہ جائے گا۔۔ ایک روز اِسی طرح جھولتے ہوئے ہم نے اُس کی تصویر بنا لی۔۔ بیٹے وہ بچی آج تک بڑی نہیں ہوئی ۔۔ یہ کہتے کہتے میری والدہ کی آواز بھّرا گئی تھی۔۔ اُس بچی کی ماں بھی آج تک بڑی نہیں ہوئی بیٹے۔۔۔وہ بچی میں ہوں ۔۔۔ گھر والے آج تک مجھے بے بی کہہ کر پکارتے ہیں ۔۔۔ میرا نام میرے نانا نے یاسمین رکھا تھا۔۔میری نانی کے نام شاہین کی مناسبت سے ۔۔ لوگ مجھے یاسمین حبیب کے نام سے پہچانتے ہیں۔۔ منصور مجھے بیگم صاحبہ بھی کہا کرتے ہیں اور یاسمین بھی ۔۔۔ ناموں سے کیا فرق پڑتا ہے۔۔میں نے اُس تصویر کو ایک رنگ برنگی تتلیوں والے فریم میں سجا کر بڑے نرم ہاتھوں سے احتیاط کے ساتھ وہیں فائر پلیس پر رکھ دیا ہے۔۔

جب مجھے خود کو دیکھے بہت دِن ہو جاتے ہیں تو فائِر پلیس کے پاس چلی جاتی ہوں ، تتلیوں کے حلقے میں اپنا اصل اور فائر پلیس کے اوپر دیوار پر لگے بڑے سے آئینے میں اپنی موجودہ نقل دیکھ کر بہل جاتی ہوں ۔۔کبھی کبھار اپنا حال بھی پوچھ لیتی ہوں آئینے میں ۔۔ یاسمین ۔۔ اچھی تو ہو۔۔ کیا حال ہے تمہارا ۔۔ اورمجھے اُس تصویر میں سے آواز آتی ہے ۔۔ میرا کیا پوچھتی ہو ۔ اپنی کہو۔۔ تُم کیسی ہو۔۔۔میں کیسی ہوں ۔۔ اِس کا کیا جواب دوں ۔۔غور سے دیکھوں تو چہرہ پہچان میں نہیں آتا ۔۔۔ دراڑیں پڑ گئی ہیں میرے عکس میں۔۔۔آئینہ شاید مجھ سے جھوٹ بولنے لگ گیا ہے ۔۔۔ شاید صاف نہیں رہا۔۔۔ شاید گرد جم گئی ہے اُس پر۔۔۔توکیا منصورہ احمد نے میرا ہی آئینہ دیکھ کر کہا تھا چہرہ جو سورج جیسا دہکا کرتا تھا دھند کے مرغولوں میں جیسے ڈوب گیا ہے اِک بڑھیا کی آنکھوں میں پیوست ہوا ہے آئینوں پر دیکھو کتنی گرد جمی ہے کیسے اِتنی گرد ہٹائیں گیلا کپڑا آئینوں میں اور لکیریں بھر دیتا ہے ہر چہرے کو دھجی دھجی کر دیتا ہے استقبالیہ کی تقریب ڈڈلی میں اِدارے کے جناح حال میں ہوئی ۔ ’سوچ‘ کے صدر محترم خورشید احمد صاحب پیش پیش تھے ۔ یہاں یہ کہتی چلوں کہ اب SOCH کو ایک بین الاقوامی حیثیت حاصل ہوچکی ہے حال ہی میںخورشید صاحب نے اپنے پاکستان کے دورے کے دوران اکیڈمی ادبیات میں’ سوچ‘ کا پاکستانی wing لانچ کروایا ہے جِس میں شامِل ہونے والے وزرائ سے لیکر ادبائ تک اپنی اپنی فہرست میں ایک دوسرے سے بڑھ کرتھے ۔ آج کی یہ تقریب میرے لئے خاص طور پر بہت اہم تھی ۔ آج میری پہلی بار احمد فراز کے ساتھ بہ نفسِ نفیس ملاقات بھی ہورہی تھی اور مجھے میرے ایک دیرینہ دوست وسعت اللہ خان سے بھی بہت عرصے کے بعد مِلنے کا موقع ہاتھ آیا تھا ۔ ذہن میں کئی سوال اُبھر رہے تھے اور دماغ کی سلیٹ پر سے کئی بنے بنائے جواب پھسل پھسل کر میرے سامنے آرہے تھے اور مجھے اپنی موجودگی کااحساس دِلا رہے تھے ۔ بالکل اُس دِن کی طرح محسوس ہورہا تھا جِس روز میں عبیداللہ علیم مرحوم سے ملاقات کیلئے گئی تھی۔۔۔۔ مرحوم لکھتے ہوئے بہت تکلیف ہوئی ہے ۔۔۔۔۔ ابھی کل ہی تو میری اُن کے ساتھ بات ہوئی تھی ۔۔۔ اب اِسے حسنِ اتفاق ہی کہا جاسکتا ہے ۔۔۔ اُن کے ساتھ محترم ملک فضل حسین صاحب کے گھر میں ہونے والی ایک چھوٹی سی نشِست میں ملاقات ہوئی تھی میری ۔۔۔۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ اِس نشِست میں مہمانِ خصوصی کون ہے ۔۔۔ خواتین دوسرے کمرے سے شریک تھیں اور مرد حضرات ہال کمرے میں تھے اوردرمیان کا دروازہ کھول دیا گیا تھا ۔ اُس روز مجھ پر یہ بھی انکشاف ہوا کہ نصیر شاہ صاحب ۔۔۔جو یہاں کی ادبی نشِستوں میں بہت پیش پیش ہیں وہ بھی تخلیق کے میدان میں کود چکے ہیں اور صنفِ غزل اُن کے قلم کی زدسے بچتے بچتے رہ گئی ہے ۔ نصیر شاہ صاحب سے پرانی سلام دعا ہے ۔ وہ نشِست عبیداللہ علیم کے اعزاز میں تھی ۔ یعنی وہ مہمانِ خصوصی تھے۔

میں نے اُس زمانے میں سُرخ رنگ کی ووکس ویگن پولوشو روم سے نِکلوائی تھی اور ایسے محسوس ہوتا تھاکہ جب کار میں بیٹھتی ہوں تو وہ یکایک ہوائی جہاز میں بدل جاتی ہے۔ دو ایک سال زنگ آلودہ اور سا ل خو ردہ کاروں سے کام چلانے کے بعد جب نئی گاڑی خریدو تو پھِر ایسا ہی ہوتاہے شاید۔ جی میں آتاتھا لمبی لمبی ڈرائیو پر جایا کروں مگر موٹر وے پر جاکر پہلے ایگزٹ سے واپس آجایا کرتی تھی۔ جب علیم صاحب نے بتایا کہ اُن کا قیام نارتھ میں ہوگا ۔۔ شاید مانچسٹر کے نواح میں کوئی جگہ تھی۔۔۔ مجھے اپنا فون نمبر دیا اور کہا کہ وہاںمِلیں گے تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ وہ تو شاید ازراہِ تکلف کہہ گئے تھے مگر میں نے اگلے روز گاڑی نکالی اور بغیر کسی روڈمیپ سے مدد لئے ہوا کے دوش پر وہاںپہنچ گئی ۔ سارے سفر میںاپنے تئیں ایک عجیب سی خصوصیت اور خوشی کا احساس ہورہا تھا۔ آخر اپنی نئی کار میں علیم صاحب سے مِلنے کیلئے جارہی تھی ۔ وہ بھی حیران رہ گئے ۔ واپس لوٹنے سے پہلے ہم ایک ریسٹورانٹ میں رات کے کھانے کیلئے چلے گئے وہ شاید new year nightتھی ۔ ہم بھی رنگین کاغذی ٹوپیاں پہن کرایک ہجوم میں شامِل ہوگئے۔ رات کے بارہ بجے علیم صاحب نے مجھے اور میں نے اُنہیں نئے سال کی مبارکباد دی اور واپسی کا سفر اختیار کیا ۔ لوٹتے وقت میں وہ کاغذ کی ٹوپی ایک یادگار کے طور پر اپنے ساتھ لے آئی تھی ۔ پھر علیم صاحب جب بھی برطانیہ میں تشریف لائے انہوں نے میرے ساتھ رابطہ ضرور قائم رکھا ۔ وہ ٹوپی آج بھی میرے پاس ہے ۔۔۔بلکہ اب تو اُس ٹوپی کے ساتھ ایک کارک cork کا اضافہ بھی ہوچکا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ آج بھی جب اُس ٹوپی پر نظر پڑ جاتی ہے علیم صاحب کے ساتھ گُزرا ہوا وہ وقت اور منظر جیسے اپنے آپ re- wind ہوکر خود ہی re -play ہوجاتا ہے ۔ آج بھی ایسے محسوس ہوتا ہے کسی روز فون کی گھنٹی بجے گی اور دوسری طرف سے آواز آئے گی ،’’سنو تمہارے پاس مجھے سُنانے کیلئے کوئی خوشخبری ہے؟ اگر نہیں تو میرے پاس تمہیں سُنانے کیلئے ایک اچھی خبر ضرور ہے۔‘‘

ملک فضل حسین صاحب ویسے تو بہت پُر خلوص اِنسان ہیں مگر کبھی کبھار اُنکے اصول نہایت یک طرفہ سے محسوس ہوتے ہیں ۔ غیبت کرنے والوں کو تو ملک صاحب اپنی فیاض طبیعت کے طفیل معاف کرتے ہوئے بہت سی وجوہات کی بِنا پر اُن کے ساتھ اپنا تعلق اور اُن کا بھرم بنائے رکھتے ہیں ۔۔۔اور وہ بھی ایسے لوگ کہ جِن سے ہر روز ہی’ متھے لگنے‘ کا خطرہ رہتا ہو۔۔۔ مگر بعض معاملات میں اِتنا شدید رویہ کرلیتے ہیں کہ کبھی کبھار زندگی میں قسمت سے ہاتھ آجانے والے سیکھنے اور اپنے علم میں اضافہ کرنے کیلئے جو گِنے چُنے موقعوں پر دھرنا مار کر بیٹھا جاسکتا ہے اُس سے بھی اپنا رُخ موڑ لیتے ہیں ۔۔۔۔اب بتائیں نقصان کِس کا ہوتا ہے۔۔۔سوال بہت آسان ہے۔۔۔خیر کیا کہیں اپنے دوست ہیں ۔۔۔۔ وہ بھی برسوں سے۔ یہ میں اِس لئے کہہ رہی ہوں کہ پہلے کبھی کسی انجمن کی دعوت پر فراز یہاں آئے ہونگے اور حسبِ عادت اپنے ساتھ سیاہ لیبل وغیرہ چسپاں رکھا ہوگا اور اُس پرظلم یہ کہ ’اب رسولوں کی کتابوں ‘والا شعر بھی کہیں سُنا دیا ہوگا ۔۔۔۔ ہوگیا نا غضب۔۔۔ بس وہ دِن گیا اور آج کا آیا کہ ملک صاحب کو فراز کے پروگرام میں شِرکت سے احتراز رہا ہے ۔۔۔۔ منصور سے کہہ رکھا تھا انہوں نے کہ وہ جشنِ فراز میں اِن وجوہات کے باعث شریک نہیں ہونگے۔

خلوص اور ایمانداری کی اِس انتہا کے بعد مروت اور فرمانبرداری کی انتہا بھی تو ملک صاحب پر ہی ختم ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔ ایک روز اُن کا فون آگیا ، منصور تو فراز کے ساتھ مصروف تھے مگر میں گھر پر ہی تھی ۔۔۔ ملک صاحب نے بعض لوگوں پر نہایت رنجیدہ خاطر ہوکر بتایا کہ وہ کہیں مِلنے مِلانے گئے تھے اور وہاں تین چار لوگ مجھے اور منصور کو ’شرابی‘ کہہ رہے تھے تو ملک صاحب کو بہت غصہ آگیا اور انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے اُن کے سامنے کبھی شراب کو ہاتھ نہیں لگایا لہٰذا جب ہم اُن کے سامنے ایسا کریں گے تو وہ اُن لوگوں کی باتوں کو صحیح تصور کریں گے وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ فتویٰ لگانے والوں میں شہر کے ادبی اعتبار سے بزعمِ خود سند یافتہ بڑے بڑے ایسے شرفائ شامِل تھے جو اپنے فُرصت کے اوقات میں نہ صرف اپنی لگائی ہوئی بیٹھکوں میں اِتنی پائے کی غیبتوں میں منہمک تھے بلکہ اُن دِنوں اُن کے موسمی جہاد کا یہ تقاضہ بھی تھا کہ روزانہ جگہ جگہ منصور کے خلاف بے بنیاد فسانے گڑھتے رہنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے گھروں میں جاکر یا اُن کو ٹیلیفون پریہ تنبیہ کرناکہ وہ احمد فراز کے سلسلے میں منصور آفاق کے کسی مشاعرے میں نہ جائیں ۔۔

بیچارے ملک صاحب گھر سے نماز وغیرہ سے فارغ ہوکر شاید بے خیالی میں اسی قسم کی کسی بیٹھک کے چنگل میں آکر اپنی معصومیت کا خود شکارہوگئے تھے ۔۔۔میں نے کہا ملک صاحب آپ نے کہہ دینا تھا کہ تم لوگ شاید زیادہ جانتے ہو خوامخواہ کی بات پرکیا جھگڑا ۔ مگر ملک صاحب کو کون سمجھائے کہ اگر وہ اُدھر جانے کی بجائے اِدھر آجاتے تو اتنی دِل شکنی نہ ہوئی ہوتی اُن کی اور کئی مناظر نئی دھوپ کی روشنی اور نئے رنگوں کی سوچ میں دُھلے ہوئے نظر آتے۔ ربّ کی ربّ ہی جانے۔

ڈڈلی کے جناح ہال میں سرِ شام ہی ایک ہجوم اِکٹھا ہوگیا تھا ۔شاید لوگ سچ ہی کہتے ہیںکہ احمد فراز بہت خوبصورت شاعر ہے ۔ عطا صاحب تشریف لا چکے تھے عاشور کاظمی کے ساتھ کچھ دیر میںبدر صاحب کے ساتھ ڈڈلی مسلم ایسوسی ایشن کے ہال میں احمد فراز بھی آگئے ۔ میں نے اپنی آنکھوں سے کُرید کُرید کر اُن کی طرف دیکھا اور مجھے وہاں صرف احمد فراز ہی نظر آئے ، ٹائی کے بغیر، ہاتھ میں سگریٹ ، نپے تُلے قدم اور چہرے پر ذہین مسکراہٹ ، جاگتی اورمناظر کو اپنے ذہن میں محفوظ کرتی ہوئی زندہ آنکھیں ، دلچسپ جملے اور نہایت ذمہ دارانہ گفتگو۔ مجھ سے رہا نہ گیا ، ’فراز صاحب مجھے یاسمین حبیب کہتے ہیں‘ میں نے اپنا تعارف خود ہی کروا دیا ، ’ہاں مجھے معلوم ہے‘ مختصر جواب تھا مگر اپنائیت کے ساتھ۔ ہلکے پھلکے مزاح کے بعد پروگرام کا آغاز ہوا ۔ جب عطا الحق قاسمی فراز کے بارے میںاپنے مضمون کے اُس حصے پر پہنچے کہ اُنہیں یقین ہے کہ یا تو احمد فراز کی تمام تر کامیابی اور مقبولیت کا راز کوئی کالا علم یا تعویذہے وگرنہ عطا الحق قاسمی خود بھی خوش شکل ہیں اور شعر بھی اچھے کہتے ہیں ۔ مجھے معلوم نہیں کہ لوگوں نے اِس مزاحیہ مضمون سے کیا کیا لطف نہیں اُٹھایا ہوگا مگر میں نے جب غور سے عطا صاحب کو دیکھا تو مجھے احساس ہوا کہ اب وہ ڈائیٹنگ کے بعد اچھے خاصے قاعدے کے نظر آرہے تھے مگر دُنیا تھی کہ احمد فراز کے دائرے سے باہر دِکھائی ہی نہ دیتی تھی۔ وہاں موجود لوگوں میں کون نہیں تھا کہ جِس کی زبان پر فراز نہیں تھا ۔ کیا مقامی مساجد کے مولوی اور کیا سیاسی لیڈر ، چاروں طرف عوام جِن میں اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ خواتین بھی شامِل تھیں اور حضرات بھی ، احمد فراز کے نام پر ہر شخص وہاں موجود تھا۔ و تو عِِزّومن تشائُ مگر مجھے عطا الحق قاسمی کی بات بھی دِل کولگتی محسوس ہوئی ۔ واپسی پر میں منصور سے کہہ رہی تھی کہ کیا پتہ عطا کوزیادہ معلوم ہو، وہ احمد فراز کے دوست ہیں نا۔ اور مجھے احساس ہے کہ منصور اپنے سر کو پیٹنے کا سوچ رہے ہونگے اُس وقت۔

ہمارے ایک اور دوست کا ذکر ضروری ہے جوتمام ادبی فرقہ بندی سے بغاوت کرتے ہوئے جشنِ فراز میں منصورکے ساتھ ساتھ رہے ۔ شاید کسی کو اندازہ ہوگیا ہو۔۔۔ میںاسمِ با مصفائ مروّت حسین صاحب کی بات کر رہی ہوں ۔ ویسے تو وہ انجمنِ ترقی ئ اردو ﴿برمنگھم﴾کے روحِ رواں بھی ہیں مگر اِس انجمن کو اُردو کے اِس بڑے اور مقبول شاعر سے زیادہ شاید اپنی مقبولیت اور بقائ کا سوال درپیش تھا ۔ بے چاری انتخابات اور بعد از انتخابات اور ممبران کے چنائو کی دلدل سے باہر نکل نہیں پائ رہی تھی ویسے مجھے یقین ہے کہ’ انجمن‘ اپنے گھونگھٹ کی اوٹ سے مروت حسین صاحب کو سراہ ضرور رہی ہوگی۔ ایک ہی تو بہادر ہے وہاں جو بول بھی سکتا ہے وگرنہ باقی تو بے چارے کبھی اپنی اپنی تنگ چادروں کے پیچھے سے اور کبھی چھُپ چھُپ کر اپنے اپنے کنوئوں کی منڈیروں سے باہر جھانکنے کی کوشِش میں اپنے محدود نظریات کے بوجھ کے نیچے اپنی زبان کے ساتھ ساتھ خود بھی دبتے چلے جارہے ہیں ۔ جِن کی زبانیں ہیں وہ منہ میں دبائے پھِرتے ہیں ۔ آخر پُرانی دوستیاں بھی تو نِبھانی ہوتی ہیں بے چارے کیا کریں۔ اور میں بھی کیا کروں۔۔

ایک زمانے سے انجمن کی یہ فلم پردہ پر چل رہی ہے اور میںنہ چاہنے کے باوجود بھی دیکھتی چلی جارہی ہوں۔ شاید مجھے بہت پہلے خود ہی اپنی نظرکے سامنے سے پردہ ہٹا دینا چاہئے تھا ۔۔۔۔ ہاں تو پروگرام کے اختتام پر احمد فراز کو بھی دعوت دی گئی کچھ کہنے سُننے کی۔ میں نے جو کچھ اُن کے بارے میں لوگوں سے سُن رکھا تھا اُس کے مطابق تو اِس وقت تک احمد فراز کو لڑکھڑاتے قدم لئے آدھے آدھے جملے لُڑھکاتے ہوئے مِنبر کا سہارا لیتے ہوئے مشکل سے لٹکتے ہوئے کھڑے ہونے کا ڈھونگ رچاتے ہوئے ہونا چاہئے تھا۔ مگر احمد فراز نہ صرف ہر ایک بات کو غور سے سُن رہے تھے بلکہ اب تک پروگرام کے دوران ہونے والی جو باتیں مجھے یاد بھی نہیں تھیں وہ سب باتیں اُنہیں یاد بھی تھیں اور اُن سے متعلق مختلف نظریات بھی اُن کے مشاہدے میں آئے ہوئے تھے۔ نہایت خبردار تھے احمد فراز اور نہایت دیانت داری کے ساتھ ہر ایک پہلو پر بات کر رہے تھے ۔ آخر میں جب انہوں نے حسبِ معمول جان کر کچھ سُنانا چاہا تو منصور نے اُن سے کہا کہ آج آپ کے سُنانے کی باری نہیں ہے ہاں تبرک کے طور پرکچھ کہئے تو اور بات ہے ۔ آج مشاعرہ نہیں ہے کل ہوگا ۔ پروگرام کے بعد بدر صاحب اور احمد فراز مروت کے ریسٹورانٹ ’موسیقی‘ میں مدعو تھے۔اب تک تولوگوں کی زبان سے ہوتے ہوتے’ فراز‘ میری زبان پر بھی رواں ہوچکا تھا۔ ابھی تو صرف تعارف ہوا تھا فراز کے ساتھ ابھی تواور بھی نشِستیں اور مواقع دسترس میں تھے مگر یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ دو ہفتے کیلئے جشنِ فراز کی مدت خاصی مختصر تھی ۔ اُدھر بریڈفورڈ میںیہی حال اسد ضیائ کا بھی تھا۔ اسد بریڈفورڈ میں رہتے ہیں اور منصور کے بہت اچھے دوستوں میں ہوا کرتے تھے ۔۔۔۔۔ کم از کم میرا تو یہی خیال ہے کیونکہ اب وہ میرے بہت اچھے دوستوں ﴿گِنتی کے﴾میں شامِل ہوگئے ہیں۔ ہماری شادی کے بعدمیرے فقیرانہ اثاثوں میں اسد اوراُن کے بڑے بھائی ظفرتنویر نے شامِل ہوکر مجھے پراپرٹی انشورِنس پالیسی لینے پر مجبور کردیا ہے ۔۔۔مگر یہ اثاثے فائر پلیس پر نہیں رکھے جاسکتے۔

خدا خدا کرکے جشنِ فراز کا پہلا فنکشن نہایت کامیابی کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچ چکا تھا ۔ دوسرا پروگرام برمنگھم میں ایک مشاعرے کا اہتمام تھا۔ سائوتھ برمنگھم کالج ڈِگ بِتھ میں سہی تاہم شہر کے مرکز میں ہی قائم ہے وہاں کمیونٹی اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ سے ہمارے چند نوجوان اور مخلص دوستوںانصر ، فاروقی، منیر ، واجد جِسے پیار سے ختم کہتے ہیں ، فتح اور سیف وغیرہ نے بڑا ہال ریزرو کروا رکھا تھا اِس مشاعرے کیلئے۔ آخر اُن کا بھی تو احمدفراز وہاں آرہا تھا۔ کمپیوٹرائزڈ لائِٹ ایفِکٹس light effects اور ہمارے ایک اور جاں نثار انجم رِضوی کی نظامت ۔ چاندی کے ورق سے سجا اور روح کیوڑے کا ذائقہ لئے مشاعرہ ہوا، اب صرف چار چاند ہی کیوں گِنے جاتے ہیں بھلا محاورے میں ۔ یہاں میرے لئے تو یہ مشاعرہ ہزار چاند لگاتھا۔ صبح عطا صاحب ہماری طرف آگئے تھے ۔ میں نے منصور اور عطا کو تو مشاعرہ گاہ میں وقت پر چھوڑ کرآنا تھا مگر خود وہاں سے گھر واپس آکر تیار ہوکر مشاعرہ اٹِنڈ کرنا تھا۔ بہت ٹریفِک کا وقت تھا اور مجھے اِس بات کی جلدی کہ فوراً منصور اور عطا وہاں پہنچ جائیں ۔ بات ہورہی تھی کار میں اپنی اپنی بیویوں اور شوہروںکی، نتیجہ یہ نِکل رہا تھا کہ عطا صاحب کی بیوی سمیت منصور کی بیوی بہت اچھی خاتون ہے اور عطا صاحب کی بیگم کے شوہر سمیت منصور کی بیگم کے شوہر بھی بہت اچھے انسان ہیں ۔ میں دِل ہی دِل میں سوچ رہی تھی کہ اِن دونوں کو یہ ذرا بھی احساس نہیں ہے کہ ابھی مجھے گھر میں واپس آکر غسل وغیرہ کرنا ہے اور پھر مشاعرے میں شِرکت کرنی ہے اگر میں وقت پر نہ پہنچی تو غضب ہوجائے گا۔ لوگ فوراً یہ کہیں گے کہ جی ہم نے کیا کرنا تھا مشاعرے کا بائیکاٹ منصور کی بیوی نے تو خود بھی منصور کے مشاعرے کا بائیکاٹ کر رکھا تھا۔ اِسی tension کی حالت میں فراز کی شاعری بھی سُننے کو مِل رہی تھی ۔ منصور اور عطا دونوں ہی ایک سے بڑھ کر ایک شعر سُنا رہے تھے فراز کا۔ مجھ سے ایک شعر سر زد ہوگیا اور میں نے عطا اور منصور دونوں کو سُنا بھی دیا ہمیں تو زعم تھا ہم ہی ہیں اور کوئی نہیں سُنا ہے تم بھی غزل ٹھیک ٹھاک کہتے ہو عطا صاحب خوب محظوظ ہوئے اور ہنستے ہوئے مجھ پر یہ فرمان جاری کردیا کہ میں آج برمنگھم کے مشاعرے میں یہ شعر ضرور سُنائوں گی اور میں نے بھی اُن کی حکم عدولی نہیں کی۔مگر اِس بات کا افسوس ضرور رہے گا کہ میں مشاعرے میں بہت دیر سے پہنچی تھی اور مشاعرے سے پہلے فراز صاحب کے ہاتھ سے منصور کی کتاب ’نیند کی نوٹ بُک‘ کے اِجرائ میں شامِل نہیں ہوسکی۔ بہرحال یہ تو ہماری باتیں تھیں دوسری طرف یہاں شہر کی ادبی سیاست بھی اوج پر تھی ۔ لوگوں کے گھروں میں جا جاکر اُن سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ منصور آفاق کے مشاعرے میں نہ جائیں اور اِنہیں ہدایت یافتہ لوگوں میں سے بیشتر وہاں موجود تھے کہ اگر کسی نے پوچھا تو کہہ دیں گے کہ بھئی ہم منصور آفاق کے مشاعرے میں تو نہیں گئے تھے ہم تو احمد فراز کے مشاعرے میں شریک ہوئے تھے۔ مشاعرے کے بعد ہمارے دوست عاشور صاحب نے اپنی محبت کی انتہا کا مظاہرہ اپنے گھر میں ایک بے پناہ دعوت کے اہتمام کی صورت میں کر رکھا تھا۔

مشاعرے کے اختتام پر ظفر تنویر کی گاڑی میں فراز اور بدر صاحب اور ہماری کار میں ہم دونوں میاں بیوی باقی گاڑیوں میں دوسرے مہمان وغیرہ ایک طائفے کی صورت میں عاشور صاحب کے گھر کی طرف روانہ ہوئے ۔ میونسپلٹی والے اِن دنوںسو فیصدی غیروں کے ساتھ مِلے ہوئے تھے لہٰذا اُنہوں نے یہ جاننے کے باوجود کہ مجھے عاشور صاحب کے گھر جانے کیلئے سِوائے ایک ہی جانے بوجھے راستے کے اور کوئی راستہ نہیں آتااُس بیچارے راستے کی نہ صرف کھُدائی کررکھی تھی بلکہ اُسکے اِرد گِرد کی سڑکوں کو بھی بند کررکھا تھا۔ اب ظفر بھائی ہماری گاڑی کو follow کر رہے تھے اوریہ بالکل نہیں جان پا رہے تھے کہ اُنہیں یہ بار بار دائروں میں جو ہماری گاڑی کے پیچھے گھومنا پڑ رہا ہے وہ عاشور صاحب کے گھر کا مروجہ راستہ نہیں ہے دراصل اُن کے گھر کی راہ کی تلاش کی سعی کا سلسلہ ہے۔ مجھے دِل ہی دِل میں عاشور صاحب پر غصہ آرہا تھا کہ بھئی ایسی جگہ رہائِش ہی کیوں اختیار کی جائے کہ جہاں گھر کا صرف ایک راستہ ہو ۔ چلیں یوں ہی سہی کہ جہاںمجھے صرف ایک راستے سے شناسائی ہو ۔ منصور اور ظفر بھائی مسلسل اپنے اپنے موبائیل پر ہم کلام تھے۔ شاید احمد فراز صاحب کچھ بے آرامی محسوس کرنے لگ گئے تھے بار بار چکر کھا کر، لہٰذا طے یہ پایا کہ قریب ترین یعنی پہلے پبلِک ہائوس کے آتے ہی گاڑیاں ذرا روک دی جائیں اور عاشور صاحب سے بات کی جائے کہ وہ کوئی راہ نکالیں ۔۔۔ میں خود بھی کار چلا چلا کر تھک گئی تھی لہٰذا جوں ہی ایک عمارت پر pub کی چھاپ دِکھائی دی فوراً کار روک دی۔ باقی طائفہ بھی وہاں پہنچ گیا۔ ۔۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ Soho Road پر واقع یہ پب اِتنا پُر ہنگام ہوگا۔ مفلوج الحواس لوگوں کیلئے زیادہ موزوں تھی یہ جگہ اور ہم تو کچھ زیادہ ہی حساس طبیعت شاعروں کا ٹولا تھے جِس پر دو ایک غیر شاعر صاحبان بھی کسی غیر ضروری inverted commas کی صورت میں زبردستی چسپاں تھے۔ ناک اور بھوں اور کسی کی کیا چڑھتی میرے بالکل سامنے بدر صاحب تھے اُنہیں یہاں کا ماحول اِتنا کھل رہا تھا کہ وہ رہ نہ سکے اور کہہ اُٹھے ماتھے پر ہاتھ دھر کے ،’مجھے تو گھر جاکر غسل کرنا پڑے گا اِس گندگی کو اُتارنے کیلئے تب کہیں جاکر طبیعت بہتر ہوگی‘۔ ۔۔۔فراز صاحب نے فوراً جملہ کس دیا ،’ اندر سے گندگی تو پھر بھی نہیں جائے گی‘۔ ۔۔ مجھے بارش میں اپنا صحن دھونا یاد آگیا۔۔۔تو کیا صحن دھل جاتا تھا اِس طرح۔۔۔ ہاں شاید ۔۔۔ مگر اندر کے صحن کیلئے تو شاید کِسی اور لیبل کے ساتھ ۔۔کسی اور ہی طرح کی بارش کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ اُس بارش کے بادل شاید ہر اندر کے آسمان سے نہیں برستے ۔۔۔ مجھے پہلی بار فراز کے live and light hearted humour honest, کا شدت کے ساتھ احساس ہوا۔ ۔ ۔

میں نے بہر حال بدر اور فراز صاحب سے معذرت کی کہ مجھے ابھی تک پبلِک ہائوسز کا کوئی خاص تجربہ نہیں ہے اگلے برس تک "پبیائے ” جانے میں کچھ بہتری پیدا ہوجائے گی شاید۔ بہرحال وہاں سے کسی طرح اور خاصی تاخیر سے عاشور صاحب کے گھر پہنچے۔ ابھی فراز صاحب اور بدر صاحب کے ساتھ میں اُن کے سِٹنگ روم میں بیٹھنے بھی نہ پائی تھی کہ بدر صاحب کی وائِف اُن سے اِس تاخیر کا سبب اور اُن کے احوال دریافت کرنے میں لگ گئیں اور وہ کمرے سے باہر چلے گئے ۔ پب میں جانے کا ناخوشگوار ذائقہ ابھی تک میرے اور فراز صاحب کے دِماغ میںاُبل اُبل کر اطراف میں چھینٹے اُڑا رہا تھا کہ اُس پر”فراز بھیا کب پسند کریں گے کھانا؟” کا بگھار لگ گیا۔ عاشور صاحب کی بہن شبانہ کا یہ کہنا تھا کہ فراز صاحب کے غصے کا پیمانہ جو جانے کب سے لبریز تو یقیناًہو ہی چکا تھا مگر چھلک یہاں اُٹھا ۔ غالباً کوئی بات اُس پبلِک ہائوس سے زیادہ گراں تھی فراز کیلئے۔ ’تمہیں کئی مرتبہ کہا ہے کہ بھیا بھیا کی رٹ نہ لگائو ، بھئی سیدھا سا نام ہے میرا احمد فراز، یہ فرازبھیا کیا ہوا ۔نام لو سیدھی طرح سے مِرا‘۔ ۔ ویسے تو میں نے بھی کئی مرتبہ نوٹ کیا ہے کہ شبانہ کاظمی کی زبان پر عاشور صاحب کو بھیا بھیا کہنا اِتنا چڑھا ہوا ہے کہ اب وہ سبھی مردوں کو بھیا یا بھائی جان کہہ کر پکارتی ہیں اور خواتین کو ’باجی‘ بُلاتی ہیں۔۔ ۔مجھے اب تک یاد ہے کہ وہ جب انگلینڈ میں نووارد تھیں تو دو ایک مرتبہ مشاعروں میں عاشور صاحب کے ساتھ مجھ سے ملاقات ہوئی تھی شبانہ کی۔ اچھا خاصا یاسمین کہہ کر بُلایا کرتی تھیں مگر جوں جوں یہاں اُن کا قیام طویل ہوتا گیا میں یاسمین سے یاسمین باجی ہوگئی۔۔ ۔ممکن ہے کہ یہ شبانہ کی اپنائیت کے اِظہار کا ایک طریقہ ہو وہ بہت محبت والی خاتون ہیں اور اُنہیں پورا حق ہے کہ وہ اپنی اپنائیت کے اِظہار کیلئے اپنا ہی پسندیدہ طریقہ اختیار کریں۔۔۔ ۔ سوچتی ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو وہ روز کب آئے گا جب میں یاسمین باجی سے یاسمین آنٹی کی سیڑھی پر چڑھوں گی ۔

ابھی میں غور کرنے ہی لگی تھی کہ آخر کیا بات ہے فرازصاحب اِتنے غصے میں کیوں آگئے ہیں اور اپنے احساسات میں اچھی طرح اُلجھ بھی نہ پائی تھی کہ شبانہ فراز سے پوچھنے لگیں ’بدر بھیا کو بدر بھیا کہہ لیا کروں؟‘ ’آخر کیوں ؟ کیا بدر کا اپنا نام نہیں ہے؟ یہ بھیا بھیا کی رٹ کیا لگائی ہے؟‘ فراز نے باقی بھڑاس بھی نکال لی۔ مجھ پر اِس وقت تک فراز کی کئی کیفیتیں کھُل چکی تھیں ، اُن کا غصہ ، اُن کا مزاح ، اُن کی شاعری اُن کا لحاظ، اُنکا مشاہدہ اور میں اب فراز کو خاص طور سے پڑھنے میں مصروف ہوچکی تھی۔ نہایت دِلچسپ شخصیت سامنے آرہی تھی ، زندہ دِل اور ذہانت سے بھرپور مگر اِظہارِ رائے کا حق چھین کر لینے اور ایماندارانہ انداز میں اپنے نکتہ نظر کو روبرو کرنے والی شخصیت ۔ میں تو شبانہ کے استقلال کی بھی داد دئے بغیر نہیں رہ سکتی کہ وہ ذرا نہیں گھبرائیں فراز کی ڈانٹ ڈپٹ سے۔ ۔اُسی طرح مسکرا تی رہیں۔۔ ۔فراز کا ڈانٹنا بُرا بھی کب محسوس ہوسکتا ہے پھِر بھی اگر اُنکی جگہ میں ہوتی تو بھاں بھاں کرکے رونا ضرورشروع کردیتی اب تک ۔ مگر وہ ریڈیو پر کام کرتی ہیں نا شاید اِسی وجہ سے اُن کی برداشت بہت زیادہ ہے اپنے اندر کے جذبات کو بہت کامیابی کے ساتھ دبالیتی ہیں شاید یہی وہ بات ہے جو مجھ سے نہیں ہوتی بالکل۔ خیر میں اپنی تو کیا کہوں میرا خیال ہے کہ یہ مہارت منصور میں تو رتی بھر نہیں ورنہ ایک زمانہ اُن کے ساتھ چل رہا ہوتا اُن کی باہوں میں باہیں ڈالے۔ ویسے آپس کی بات ہے لوگ تواُن کے ساتھ اب بھی ہیں کیا فرق پڑتا ہے اگرمنہ بنا ہوا ہے سب کاجب اُن کا موڈ ہوگا تو منہ ٹھیک کرلیں گے وگرنہ بنا بھی رہے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔۔۔ کم از کم اصلی چہرہ تو دیکھنے کو مِل جاتاہے۔

یہ تو مجھے بعد میں عطا صاحب نے بتایا کہ دراصل فراز صاحب اور عطا صاحب کے ساتھ شبانہ نے ریڈیو ایکس ایل پر ایک انٹرویو نُما پروگرام کیا تھا جِس میں وہ اِن دونوں کو مسلسل بھیا بھیا کہہ کر پُکارتی رہی ہیں حالانکہ فراز نے اُن کو ٹوکا بھی تھا۔ سو فراز صاحب کا پہلا تجربہ کچھ ایسا خوشگوار نہیں ہوا تھا ۔ ویسے عطا صاحب نے بعد میں شبانہ کو ریڈیو اور گھر کا فرق سمجھاتے ہوئے بتایا تھا کہ فراز صاحب یا عطا خود ریڈیو پر بھیا نہیں بلکہ احمد فراز اور عطا الحق قاسمی ہوتے ہیں ۔ اب بات میری سمجھ میں کُچھ کُچھ آنے لگی تھی۔ پہلا تجربہ ریڈیو کا، دوسرا ہماری کار کے پیچھے چکر لگانے کا اور تیسرا اُس pub میں جانے اور وہاں کی فضول فضائ میں survival کا اور چوتھا وہی پہلے تجربے کے دہرائے جانے کا تجربہ ، موڈ کافی خراب ہوچکا ہوگا اب تک تو فراز کا ۔خود میرے سر میں درد بھی سِوا تھا اور بھوک بھی لگی تھی۔ ویسے میرا جی تو بہت چاہا تھا کہ میں عاشور صاحب کے گھر سے کھاناکھانے کے بعد نکلتی مگر فراز دراصل منصور کے مہمان تھے لہٰذا منصور یہ بالکل نہیں چاہتے تھے کہ فراز صاحب کی مرضی کے برخلاف کچھ کیا جائے۔ یہ تو مجھے بہت بعد میں اندازہ ہوا تھا کہ جشن کے آغاز میں احمد فرازکا رویہ اور برمنگھم سے شمال میں رہائِش کے دوران اُن کا رویہ دو مختلف لوگوں کے رویوں جیساکیوں محسوس ہوتا تھا۔ یہاں برمنگھم میں فراز سے مِل کر اُنکے بندھے ہوئے ہونے کا احساس ہوتا تھا ۔ انہیں خود بات کرنے کا موقع کم مےّسر ہوتا تھااور اُنکی نمائندگی زیادہ ہوتی تھی۔ میری تو اُن سے نئی ملاقات تھی میں سمجھتی تھی فراز صاحب شاید اِسی طرح سے communicate کرتے ہیں شایدمگر بریڈفورڈ میں جب ظفر بھائی اور اسد کے ساتھ فراز سے ملاقات ہوئی تو وہ مجھے اِس درجہ relaxed اور original نظر آئے کہ جیسے کوئی فینسی ڈریس پارٹی کے بعد اپنا لباس تبدیل کرکے آ جائے ۔

بہرحال ، ہمیں عاشور صاحب کے گھرسے مروّت نے اپنے ریسٹورانٹ میں بُلا لیااور ہم فراز کے ساتھ کھانا کھائے بغیر ’موسیقی‘ میں چلے گئے ۔ ہم یہاں ذرا تاخیر سے پہنچے تھے ۔بدر صاحب اور فراز پہلے سے موجود تھے اور احمد فراز وہی احمد فراز تھے اسد ضیائ ، ظفر تنویر ، مروّت اور انصر وغیرہ کے ساتھ محوِ گفتگو ۔ اِتنے منہمک ہونے کے باوجود بھی اُنہوں نے مجھے اور منصور کو نہ صرف آتے ہوئے دیکھا بلکہ ہمیں بیٹھتے ہوئے اور مروّت کے ریسٹورانٹ کے خوبصورت ماحول کی خوبصورت مہمانداری اور میزبانوں کے mineral water لانے تک کو بھی دھیان میں رکھا۔ اُس رات میں نے توپہلی مرتبہ فراز کی صحبت میں جانے کتنا وقت گُزار دیا تھا کہ رات کے دو تین بجنے کا مجھے پتہ ہی نہیں چل رہا تھا مگر منصور ، اسد ، ظفر بھائی اور مروّت نے بھی جیسے اپنی اپنی گھڑیاں فراز کے نام کررکھی تھیں ۔

اُس رات کو عطا صاحب تو نہیں آسکے تھے ہمارے ساتھ مگر فراز صاحب کے جشن کا اگلا پروگرام اُن کے اور ہمارے مشترکہ دوست نصیر شاہ صاحب کے دولت خانے میں فراز کے ساتھ ایک گفتگواور مختصر سے مشاعرے کا تھا۔اب واقعہ کچھ یوں ہوچکا تھا کہ شاید گذشتہ برس کی بات ہے کہ فراز صاحب کے دوستوںاور نصیر شاہ صاحب کے درمیان کسی اختلافِ رائے کی وجہ سے نصیر شاہ صاحب کے گھر میں فراز کے ساتھ متوقع مشاعرے میں کچھ گرج چمک اور بوندا باندی بھی زبردستی شامِل ہوگئی تھی جِس کا نصیر شاہ صاحب کو شدید رنج تھا۔ معمولی سی بات کو ہمارے مشترکہ چاہنے والوں نے اِس قدر بڑھا دیا تھا کہ فاصلہ نہ ہوتے ہوئے بھی خلیج بنادیاگیا تھا ۔ موسیقی ریسٹورانٹ سے واپسی پرجب ظفر بھائی اور منصور کار پارک سے اپنی اپنی گاڑیاں نکال کر لا رہے تھے تو میں ، مروّت اور اسد فراز صاحب اور بدر صاحب کے ساتھ انتظار کررہے تھے ۔فراز صاحب کوکہیں مسلسل سُنایا جارہا تھا کہاگر وہ نصیر شاہ صاحب کے گھر گئے تو یہ اُن کی ہتک ہوگی۔ میرے علم میں کوئی بات نہیں تھی۔جب میں نے اِن سب کو کسی خاص موضوع پر نہایت سنجیدگی کے ساتھ مصروفِ گفتگو دیکھا تو میں نے اور قریب ہوکر سُننے کی کوشِش کی کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو فراز سے پوچھ لیا کہ بتائیے کیا بات ہے۔۔ انتہا درجے کی معصومیت سے وہ کہنے لگے ، ’دیکھو نا یاسمین یہاں میری کسی سے لڑائی ہے تومجھے وہاں نہیں جانا چاہئے نا‘ ۔ میں نے کہا کہ آپ سے کون کہہ رہا ہے وہاں جانے کیلئے تو وہ کہنے لگے کہ کل وہاں پروگرام رکھا ہوا ہے منصور نے۔۔ فراز نے تو مختصر کو بہت جانا مگر اِس سلسلے میںمزید فصاحت و بلاغت بدر صاحب کے حصے میں آئی۔ اُنہوں نے پچاسوں گِلے کر دئے۔ ۔۔۔

منصور نے فراز کو پروگرامز کی لِسٹ اور ٹائم نہیں دیا ہوا لہٰذا فراز بندھے ہوئے ہیں کہیں کسی کے ساتھ مِلنے نہیں جاسکتے۔۔ منصور نصیر کے گھر پروگرام کا اہتمام کر رہے ہیں جب کہ احمد فراز کو وہاں نہیں جانا چاہئے وغیرہ وغیرہ اور فراز ساتھ ساتھ کسی پُتلی کی طرح سر کو ہلاتے ہوئے اُن کی ہاں میں ہاں مِلا رہے تھے۔ جب منصور گاڑی لے آئے تو میں نے اُنہیں بتایاوہ کہنے لگے اِس وقت تو بہت دیر ہوگئی ہے صبح عطا سے بات کروں گااگر نصیر شاہ کے گھر میں پروگرام نہیں ہوا تو میں جشنِ فراز ہی کینسل کردوں گا ۔ مجھے منصور کا پتہ ہے کہ جب وہ اپنی آئی پر آتے ہیں تو پھر اُنہیں کسی کی بھی پرواہ نہیں ہوتی ۔میں نے اُنہیں صبح تک اِنتظار کیلئے کہا۔ اگلے روز صبح ہی صبح عطا صاحب کا خود فون آگیا اور اُنہوں نے کہا کہ احمد فراز سے بات ہوچکی ہے آپ اُن کے ساتھ نصیر کے گھر پہنچیں تو ہم بھی وہاںپہنچ کر مِلتے ہیں۔ ۔۔ ہمارا خیال تھا کہ شاید احمد فراز تنہا ہی آئیں گے نصیر شاہ والے مشاعرے میں کیونکہ ابھی کل رات ہی کی بات ہے کہ بدر صاحب اِس مشاعرے سے کچھ اِس درجہ اختلاف رکھتے تھے کہ مجھے یقین تھا کہ اگر وہ خود شاعر ہوتے تو یقیناً نصیر شاہ کا گھر قیامت تک کیلئے اُن کے شعروں سے محروم ہوچکا ہوتا۔ ویسے آپس کی بات ہے خدا نا اِنصاف بھی نہیں اور ناخن بھی دیکھ بھال کر دیتا ہے۔ہم بدر صاحب کے گھر پہنچے ۔ہماری تواضع لیچی کے شربت اور کبابوں سے ہوئی۔ منصور نے اُنہیں ساری صورتِ حال بتاتے ہوئے پروگرام تو سُنا دیا مگر اِس میں بھی تبدیلی کی گنجائِش کا لحاظ رکھنے کیلئے بھی کہا۔ احمد فراز سمیت سبھی کو یہ اندازہ بخوبی ہوچکا تھا کہ فراز کے پروگرام کوjeopardise کرنے کیلئے کتنے عناصر متحرک تھے۔ خیر بات چیت کے بعدبدر صاحب بھی اپنا کرتا پاجامہ بدل کر تیار تھے نصیر کے گھر جانے کیلئے۔ کوئی گلہ ۔۔ کوئی شکوہ۔۔ کوئی تقاضا۔۔ کوئی خمیازہ۔۔ کوئی تماشا۔۔ کوئی دِلاسا ۔۔۔کچھ بھی تو نہیں تھا۔ مجھے تو یوں محسوس ہورہا تھا رات ’موسیقی ‘ میں جو کچھ ہوا تھا وہ شاید حقیقت میں نہیں ہوا تھا۔۔۔ ہم سب ایک خواب کی حالت میں تھے اور میں سوچ رہی تھی کہ بدر صاحب اور فراز کا تو خواب کی حالت میں ہونا سمجھ میں آتا ہے مگر دُور رکھی ہوئی بوتلیں مجھ پرکِس طرح حملہ آور ہوسکتی ہیں ۔ کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ سمندر پُرسکون تھا تو ساتھ اِدھر اُدھر گِرے چھینٹے بھی بھاپ بن چُکے تھے۔

ہماری سِٹرون سیکسو تھر ی کھِل کھِلا رہی تھی ۔۔ منصورتو فراز صاحب کے احترام میں کسی طرح سے اپنے آپ کو تہہ کرکے گاڑی کی پِچھلی سیٹ پر براجمان اور بدر صاحب اُن کے پہلو نشین ہو چکے تھے ۔ فراز صاحب اگلی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ مجھے بدر صاحب کی نفاست پسند طبیعت کا اندازہ اُس پبلِک ہائوس میں اُن کی غیر ہوتی ہوئی حالت سے ہوچکا تھا۔ کار بہت گندی تھی ہماری ۔ ۔۔کسی گیر ج یا آٹو واش میں جانے کیلئے وقت ہی نہیں مِل رہا تھا ۔۔۔۔کیا کریں ہم دونوں اِس درجہ مصروف رہتے ہیں کہ ہمارے پاس زندگی کے روز مرہ کاموں کیلئے وقت نکل آنا کسی سوغات سے کم نہیں۔۔۔۔میں نے ازراہِ ہمدردی بدر صاحب سے معذرت کر لی کہ اُمید ہے اُنہیںبُرا نہیں محسوس ہوگا کہ ہماری کار کو غسل کیلئے وقت نہ نکال کر ہم نے اُس کےmechine rights کی voilation کے مرتکب ہوئے ہیں۔ مگر بدر صاحب اور منصور کے بیچ شاید زیادہ ہی دلچسپ گفتگو کا سلسلہ جاری تھالہٰذا میری معذرت فراز صاحب کے علاوہ کسی اور نے نہیں سُنی اور اُنہیں کار صاف ہی دِکھائی دے رہی تھی۔ ممکن ہے کہ میں خود ہی ضرورت سے زیادہ خیال کررہی تھی صفائی وغیرہ کا۔ معلوم نہیں کیوں مجھے اپنا آپ اب بھی مجرم محسوس ہورہا تھا اُس pub میں سب کو لے جاکر۔

ایک نہایت خوبصورت سفر کے بعد نصیر شاہ صاحب کے گھر پہنچے۔ اُن کے بڑے سے پورچ میں ہماری گاڑی کے آتے ہی اُن کے صدر دروازے سے نصیر شاہ صاحب اِس اشتیاق کے ساتھ ہماری طرف بڑھے کہ مجھے خوامخواہ ہی اپنی اہمیت کا احساس ہونے لگا۔ شاید کار کے ڈرائیور کی حیثیت سے نصیر کی دیرینہ تمنا بر آنے میں میرا بھی بہت بڑا حصہ تھا۔ نصیر کے گھر خواتین اور حضرات کی نشِستیں مختلف حصوں میںتھیں ۔ریکارڈِنگ کا بھی انتظام تھا، منصورنے اپنے پروگرامز کی پرائیویٹ ریکارڈِنگ کا باقاعدہ انتظام کر رکھا تھا۔ نصیر کے گھر میں بہت خوبصورت اور ایک یادگارمحفل ہوئی۔ فراز سے سوال و جواب کا سلسلہ بھی تھا ۔ میں پردے میں خواتین کے ساتھ بیٹھی تھی۔ خواتین فراز سے سوال پوچھنے کے بارے میں مشورہ کررہی تھیں ۔ مجھےfinal approvalکیلئے رکھا ہوا تھا کہ میری رضامندی کے بعد فراز سے سوال دریافت کیا جائے گا۔ایک خاتون مجھ سے پوچھنے لگیں کہ کیا فراز سے یہ پوچھ لیں کہ اِس وقت اُنہیں سب سے زیادہ کیا اچھا لگ رہا ہے۔۔۔ ۔ میں نے اُن سے کہا کہ اگر فراز صاحب نے جواب میں کہہ دیا کہ ’آپ‘ تو تیار رہئے گا۔۔۔۔ فوراً گھبرا کر کہنے لگیں ۔۔۔ہاں ہاں یہ تو غلط سوال ہوجائے گا۔۔۔۔اچھا یہ نہیں تو اُن سے ذرا تم خود ہی کہہ دو کہ مہدی حسن نے جو گائی ہوئی ہے نا۔۔۔ارے وہی والی۔۔ وہ کیا نام ہے اُس کا۔۔۔۔ہاں وہ کتاب کے سوکھے پھولوں والی غز ل وہ سنائیں۔ اُس کے بعد وہاں خواتین میں آہستہ آواز میں اِس موضوع پرکچھ زوردار مگر مختصر بحث کا دور بھی ہوا کہ آیا وہ غزل مہدی حسن نے زیادہ اچھی طرح گائی ہے یا غلام علی نے۔۔۔۔ دونوں غزل سرائوںکے مداحین موجود تھے وہاں۔۔۔۔

فراز کے ساتھ اِس درجہ خوبصورت، معصوم اور اِتنی گہری نسبت تھی وہاں کہ ادب اور ادبی حلقوں سے دور وہ پردہ دار خواتین جنہیں شعر کہنا نہیں آتا تھا شعر کی نسبت سے فراز کی پہچان ضرور رکھتی تھیں۔۔۔ فراز ایک اِتنا بڑا نام اور حوالہ تھااُن کیلئے کہ میرا جی چاہتا تھا کہ تمام پردوں کی حدود پار کرکے اگر احمد فراز وہاں خواتین میں آجائیںاور اُنہیں وہ تمام غزلیں سُنائیں جو وہ کہیں اور اُن تمام بچوں والے سوالات کا جواب دیں جو وہ پوچھیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ عہدِ حاضر کے دوسرے بڑے بڑے شعرائ کے ساتھ ایسا کبھی ہوا ہوگا۔۔۔ اُنہیں اِس درجہ اور معصوم عوامی محبت سے واسطہ پڑا ہوگا کبھی۔۔۔ شاید نہیں۔ ۔۔۔فراز کے پاس لوگوں کے دِلوں میں گھر کرنے کا کوئی talisman ہے ۔ مجھے اب بھی عطا صاحب کے تحریر کردہ مضمون میں سچ کی ملاوٹ محسوس ہورہی تھی۔ ۔۔ سچ آخر سچ ہی ہوتا ہے ۔۔ چھُپا تو نہیں رہ سکتا نا ۔ مجھے ایک ایسی خاتون یاد آگئی ہیں یہاں کہ جِنہیں شعر و شاعری سے بے انتہا رغبت تھی اور وہ اپنی عمر۔۔۔ ضعیفی اور معذوری کی پرواہ کئے بغیر مشاعروں میں جانا پسند کرتی تھیں ۔۔۔میںسوچ رہی تھی کہ اگر وہ ہوتیں یہاں تو ضرور آتیں فراز کو سُننے کیلئے ۔ وہ میری جاب کے سلسلے میں میرے ہی قائم کئے گئے ایک ڈِس ایبلڈ پیپلزگروپ فار ایلڈرلی کی ممبر تھیں اور اپنے دِل سے خاص طور پر ہمت کرکے آیا کرتی تھیں ۔ ۔ ۔ مجھے بہت پسند کرتی تھیں ۔۔۔ شاید کینیا یا فی جی سے آئی ہوئی تھیں ۔۔۔۔اپنی شادی سے لے کر اپنے پہلے حج تک ۔۔۔ تمام داستان سُنا رکھی تھی انہوں نے مجھے ۔۔۔ مجھ سے کبھی کبھار شعر بھی سُنا کرتی تھیں ۔۔۔۔باتیں بہت خوبصورت تھیں اُن کی ۔۔۔۔ ایک روز کہنے لگیں ’یاسمین سونا آخر سونا ہی ہوتا ہے ۔۔۔کیچڑ میں پڑا ہو تو بھی چمکتا ہے ‘۔۔۔۔ فراز کی چمک آنکھیں چندھیا رہی تھی۔۔۔

محفِل کے اختتام پر کھانے کا انتظام تھا اور خواتین کی خواہِش تھی کہ میں اُن کے پاس بیٹھ کر کھانا کھائوں۔ ابھی میرے سامنے کھانے کے برتن رکھے ہی جارہے تھے کہ اچانک کمرے کے دروازے سے نصیر شاہ صاحب تقریباً آدھے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے براہِ راست مجھ سے مخاطِب تھے ’’تُم نے ضرور کھانا کھانا ہے یہاں۔ وہ باہر فراز صاحب وغیرہ اِنتظار کررہے ہیں تمہاری کار کے پاس۔ بھئی جلدی باہر جائو اُنہیں اِنتظار تو نہ کروائو ناں یاسمین۔ جلدی کرو۔‘‘ اور میں نصیر کے اضطراب کو پوری طرح سمجھتے ہوئے وہاں سے اُٹھ کر جب باہر آئی تو فراز صاحب واقعی میری کار کے پاس کھڑے تھے اُن کے ساتھ منصور اور بدر صاحب بھی تھے۔ میں نے کار کھولی جب ہم چاروں کار میں بیٹھ گئے تو میں نے فراز صاحب سے کہا، ’ آخرمیرے بھی تو کچھ fans ہیں فراز صاحب اُن کے اصرار پر اُن کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھ گئی تھی‘۔ فراز صاحب مسکرا دئیے ۔میں نے نصیر کے گھر سے بائیں جانب ایک خوبصورت شاہراہ پر کار موڑ دی ، میرا اِرادہ تھا کہ فراز صاحب کو کہیں گھمانے کے بعد میں اور منصور اپنی طرف سے کسی اچھی سی جگہ انگریزی کھانے کیلئے لے جائیں ۔ دِن چھوٹے چھوٹے تھے شام جلدی ہوجاتی تھی اُن دِنوں ۔ سردیوں کا آغاز تھا۔ میں نے دِل میںسوچ رکھا تھا کہ وہاں Merryhill شاپِنگ سینٹر میں جاتے ہیں ، یورپ کا بڑا مرکز ہے خریداری کا ، وہاں سے ڈھونڈ کر کسی ایسی سِلیکٹڈ inn یا motel وغیرہ میں جاتے ہیں جہاں فراز صاحب کو اپنا پہلا پبلِک ہائوس کا تجربہ یاد نہ رہے۔۔۔۔خزاں کے رنگوں سے لِپٹی خوبصورت شام تھی۔۔۔ ۔ بڑی کھُلی شاہراہ۔ مجھے یہ راستہ بہت پسند ہے۔۔۔ ۔ ہمارے دفتر کیلئے اگرچہ یہ رستہ اختیار کرنا طویل ہوجاتا ہے مگرمیں اور منصور اکثر دفتر سے واپس اِسی راستے سے آتے ہیں ۔ گھنے درختوں سے گھِرا۔۔ ٹھنڈا ٹھنڈا ۔۔ میٹھا میٹھا ۔۔ تیز رفتار راستہ ۔۔ کہیں درمیان میں کٹے ہوئے پھولوں کے گلدستے بیچنے والے کا سٹال بھی ہے ۔۔۔ دور سے سرخ۔۔ زرد۔۔ نیلے اور ہرے رنگ دِکھائی دیتے ہیں۔۔۔ صبح اور دوپہر کے وقت quick food یعنی برگر اور سینڈوِچ والے کا سٹال بھی ہوتا ہے یہاں۔ ۔۔۔ایک طرح سے mini motorway ہے۔۔۔ منصور سے پہلے ۔۔۔اِس اے روٹ سڑک کی کولتار کے نیچے۔۔۔ میرے اکیلے سفر کی داستان کا ۔۔کہیں دبا ہواڈھانچہ بھی ہے جو ۔۔۔ اب تک کبھی کبھی سانس لیتا ہوا باہر نِکلنے کی کوشِش کرتا رہتا ہے۔۔۔ بہر حال آج منصور کا ساتھ تو تھا ہی ۔۔احمد فراز بھی میری ہی رفتار سے میرے ہم سفر تھے اِس وقت۔۔۔۔وقت کیسے بدل جاتا ہے یہ تو کوئی ایسا شخص ہی بتا سکتا ہے وقت جِس پر چلتے ہوئے بدلا ہو۔۔۔۔۔ میں اپنے ذہن میں جانے کیا کیا سوچتی ہوئی گاڑی ڈرائیو کر رہی تھی اور اندر کی آنکھ کسی اور ہی سفر پر رواں تھی کہ اچانک میری باہر کی آنکھ اِس شاہراہ کے دوسری طرف واقع ایک خوبصورت عمارت اور اُس کے گرد چراغاںپر رُک گئی۔ ہم اپنی گاڑی واپس موڑ کر اِس عمارت کی طرف گئے ، کار پارک کرنے کے بعد اندازہ ہوا کہ باہر اِتناخوبصورت ماحول تھا تو اندر جاکر بھی دِل خوش ہوگا۔ ایک ٹیبل پر کھِڑکی کے پاس بیٹھ گئے ہم چاروں ۔۔۔۔ بھئی بدر صاحب بھی تو ہمارے ساتھ تھے ناں ۔ ۔۔۔۔ میں نے فراز سے ازراہِ مذاق کہا ، ” دیکھئے آپ کیلئے ہم نے چاروں طرف چمکتی ہوئی بتیاں لگوا دی ہیں”۔ فراز نے فوراً جواب دیا ، ” مگر اِن میں اُس شعر جیسی چمک نہیں ہے ’ہوا چمکنے لگی‘ ” ۔ میرا bottom jaw ڈراپ ہوتے ہوتے بچا۔ ۔۔۔تو کیا فراز نے دوسرے شعرائ کو بھی سُنا اور یاد رکھا ہے ۔۔۔۔ میں نے تو سُنا تھا کہ داد دینے کے معاملے میں فراز خاصے کنجوس ہیں ۔ ۔۔۔۔وہ میرے سامنے میرے ہی ایک شعر کا حوالہ دے رہے تھے جو میں نے مشاعرے میں سُنایا تھا اور اب اِتنی دیر ہوچکی تھی اِس بات کو کہ مجھے خود بھی اب یاد نہیں رہا تھا کہ کِس نے کیا سُنایا ہے ۔ ۔۔شعر تھا کہ ہوا چمکنے لگی یوں بدن سنہرا ہوا وہ شخص سونے کا پانی چڑھا گیا جیسے میں فراز کو جیسے جیسے پڑھتی چلی جارہی تھی میری نظر سے ہر با رایک نیا دِلچسپ chapter گزرتا جارہا تھا ۔ مجھے کئی بڑے بڑے شعرائ کے مشاعروں میں حصہ لینے کا شرف حاصل ہوا ہے مگر کسی کو اِس طرح پڑھنے کو جی کبھی نہیں چاہا ۔ ابھی کل ہی کی بات لگتی ہے کہ عدیم ہاشمی مرحوم کو میںنے اپنی گاڑی پرکافی لمبے سے سفر کے بعد Solihul برمنگھم میں اُنکے کسی دوست کے پاس اُتارا تھا ، سفر تو وہ بھی بہت خوبصورت تھا اور عدیم ہاشمی نے مجھے اپنی بہت سی غزلیں سُنائی تھیں میری غزلیں سُنی تھیں، ڈھیروں باتیں کی تھیں میرے ساتھ اُنہوں نے ۔دوبارہ اِنگلینڈ آنے پر اپنی انگریزی کی شاعری کی کتاب کے اجرائ کیلئے خاص طور پر مجھ سے کہا تھا کچھ لِکھنے کیلئے اور جب مجھے میرے دفتر میں کسی نے فون پر جب مجھے یہ بتایا کہ عدیم ہاشمی صاحب امریکہ میں وفات پا گئے ہیں تو مجھ سے پتھر کی آنکھوں سے غیر اِرادی طور پر آنسو نِکل پڑے تھے یقین نہیں آتا تھا ۔ اُن کے ساتھ بھی اُن کی بہت سی کہانیاں اور داستانیں وابستہ تھیں مگر کبھی خیال ہی نہیں آیا تھا کہ اِس حوالے سے پیکٹ کو کھول کر دیکھا جائے ۔ مگر فراز ۔۔۔جیسے کسی جاسوسی ناول کی طرح سے محسوس ہورہے تھے کہ اِنسان جب تک مکمل طور پر نہ پڑھ لے سوچتا ہی رہے کہ انجام کیا ہوا ہوگا ۔

یاد آیا اُس موٹِل کا نام شاید baggers sett تھا ۔ ۔۔خیر ہم بیٹھ تو گئے اب میں سوچ میں تھی کہ منصور آرڈر دیں یا میں خود کائونٹر پر جائوں ۔ اب اِتنا عرصہ تنہا گُزارا ہے کہ اکثر اوقات فیصلے خود ہی کرنے بیٹھ جاتی ہوں ۔ ابھی میں اُٹھنا ہی چاہتی تھی کہ منصور نے مجھے اِشارے سے بتایا کہ وہ اپنا کوٹ نصیر کے گھر میں بھول کر آگئے ہیں اور اُن کا والٹ وغیرہ وہیں رہ گیا ہے ۔ منصور کو میرے ساتھ رہتے ہوئے مجھ جیسی عادتیں بھی ہوگئی ہیں اور اُن میں سے ایک یہ ہے کہ میں اپنے پاس دس یا پندرہ پائونڈ سے زیادہ کیش نہیں رکھتی بلکہ کبھی کبھار تو نوبت فقط دو چار پائونڈ کے چینج تک پہنچ جاتی ہے ۔ اخراجات کیلئے کریڈٹ اور ڈیبِٹ کارڈز جو موجود ہیں ہمارے پاس ۔ اِس لائِف سٹائِل کو میں lastic survival کہا کرتی ہوں ۔ اب صورتِ حال یہ تھی کہ اگر منصور بھی آرڈر دیتے تو مجھے payment کیلئے خود جانا پڑتا۔

میں کافی حد تک برابر کے حقوق کی قائِل ہوں اور میرے نزدیکas long as زندگی میںvariety موجود رہے اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آرڈر کون دے رہا ہے اور ادائیگی کون کر رہا ہے ۔۔۔ کم از کم طعام گاہوں میں تو قطعاً غیر اہم بات ہے یہ۔ ۔۔ اور مجھے ڈبل سٹینڈرڈز میں بھی سانس لینا خاصا دُشوار محسوس ہوتا ہے ۔۔۔ حبس آخر حبس ہے چاہے خیالات کا ہوگھُٹن توخود بخود ہوتی ہے ۔۔۔ بہر حال میں جب کائونٹر کی طرف گئی تو مجھے یہ خیال آیا کہ مجھے مدد کی ضرورت ہے اور پہلی مرتبہ یہ اندازہ ہواکہ میں آزاد خیال ہونے کے باوجود مغربی مشروبات سے بہت نابلد ہوں ۔۔پینے پِلانے کے لحاظ سے خالص مشرقی روایات کی پابند ہوں۔۔۔۔ چائے یا جوس وغیرہ تک کا اہتمام کرلیتی ہوں ، زیادہ سے زیادہ لسی یا milk shake کا تیر چل گیا اِس سے زیادہ کا مجھے خاص تجربہ نہیں ہوا اور ویسے بھی کوئی خاص شوق نہیں اِس سلسلے میں۔۔۔۔ ہاں یہ قسم نہیں اُٹھائی جاسکتی کہ زبان ذائقے کے تجربے سے محروم رہی ہے ۔۔۔میں نے کائونٹر پر کھڑی خاتون سے کہا کہ وہ جو آمنے سامنے دو حضرات بیٹھے ہیں ۔۔ ﴿منصور دراصل ٹیبل کی سائیڈ پر بیٹھے تھے﴾ ۔۔۔ اُن میں سے ایک بہت بڑے Poet Laureate ہیں اور میرے خاص مہمان ہیں جنہیں ہم خاص طور پر آپکے موٹل میں لے کر آئے ہیں ۔ میں نے اُن کیلئے نہ صرف ڈرنک بلکہ کھانے کا آرڈر بھی کرنا ہے لہٰذا سب سے بہترین مشروبات نِکالو مگر مجھے اِس معاملے میں بالکل آرڈر دینا نہیں آتا لہٰذا مجھ سے مت پوچھنا البتہ کھانے کے معاملے میں مجھے خود scampi وغیرہ پسند ہے اوریہ ویسے بھی صحت کیلئے اچھی غذا ہے ۔۔۔۔ اُس نے نہایت مرعوب ہوکر فراز صاحب کی طرف دیکھا اور میرا شکریہ ادا کیا کہ اِتنے بڑے شاعر کو میں نے اُن کی موٹِل سے متعارف کروایا ہے اور کہنے لگی تم فکر نہ کرو ہم اِن کی بہترین خدمت کریں گے اور کھانے میں سکیمپی ڈِنر ہی سرو کریں گے ۔۔ اُس میں جیکٹ پوٹیٹو ، سلاد اور مشی پیزہوگا ۔۔۔ مگر تم لوگ اگرڈائِننگ روم میں بیٹھنا پسند کرو تو وہاں زیادہ اقسام کا کھانا موجود ہے۔ میں نے کہا کہ یہیں بار میں کھانا کھائیں گے ۔ فراز ، بدر اور منصور اپنی ادبی اور سیاسی بحث میں اِس طرح مشغول تھے کہ اگر اُنہیں وہاں رات بھر بغیر کسی کھانے کے بھی بِٹھادیا جاتا تو اُنہیں احساس تک نہ ہوتا۔۔۔ ابھی میں کائونٹر پر ہی تھی کہ اُس نے مجھ سے ڈبل یا سِنگل ڈرنک کے بارے میں پوچھا ۔۔ مجھے ہرگِز معلوم نہیں تھا ۔۔ ہاں جب سے فراز آئے تھے اور بدر صاحب سے ملاقات رہی تھی تب سے اب تک مجھے بلیک لیبل سُنتے سُنتے یہ ضرور معلوم ہوچکا تھا کہ یہ برانڈ دونوں کو مرغوب ہے ۔۔۔ ۔ویسے میں نے کبھی اپنے ورک کولیگز وغیرہ یا مغربی دوستوں کو اپنے ڈرنکس کا آرڈر brand name سے دیتے ہوئے نہیں سُنا ۔۔۔ خیر اپنی اپنی عادت ہے ۔۔۔ میں نے اُسے کہا کہ مجھے صرف یہ پتہ ہے کہ اگر تم بلیک لیبل کی بوتل لا کر دو تو وہ خوش ہوجائیں گے ۔۔۔ وہ کہنے لگی کہ ہمارے پاس اِس نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور نہ کبھی کسی کسٹمر نے ہم سے اِس کا پوچھا ہے دوسرے یہ کہ ہم بوتلیں نہیں فراہم کیا کرتے صرف پیگز دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔ اور مجھے درجہ بدرجہ احساس ہورہا تھا کہ یاسمین یہ کِس کام میں پڑ گئی ہے رے ۔۔۔ نہ تو تجھے یہ کام ہی کرنا آرہا ہے سلیقے سے اور نہ ہی تُجھے اِس کام میںرضاکار کی طرح کودنا چاہئے تھا۔۔۔ بہرحال اب جو ہوگیا سو ہو گیا ۔۔۔ حساب بیباق کر اُس دِن اُس فضول سی جگہ پر لے جانے کا ۔۔۔۔ بُلا بدر صاحب کو کہ وہ بتائیں۔۔۔ اُن کے اور فراز کیلئے کیا منگوایا جائے ۔۔۔۔ میں کائونٹر سے واپس مُڑ کر اپنی ٹیبل پر پہنچ گئی ۔۔۔

میں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ کام کرنا نہیں آتا لہٰذا بدر صاحب میری مدد کریں ۔۔۔ فراز صاحب کو اِس کام کیلئے بُلانا اچھا نہیں محسوس ہوتا تھا کیونکہ وہ بہر حال مہمان تھے ۔ ۔۔۔ بدر صاحب اور فرازاکو اپنی محفل سے میری غیر موجودگی کا احساس دراصل ہوا ہی اب تھا ۔۔۔۔وہ تینوں اِتنے انہماک سے باتوں میں مشغول تھے۔۔۔۔۔بدر صاحب کائونٹر کی طرف آئے اور تمام سر کے بل کھڑی بوتلوں کا معائنہ کرنے لگے ۔۔۔ وہ لڑکی اُن کی مدد کر رہی تھی آخرِ کار چار و ناچار ایک کو پسند کیا اور ڈبلز کا آرڈر دیا۔۔۔ میں نے بھی اپنے اور منصور کیلئے cuppacino کا آرڈر دے دیا اور پیمنٹ کرنے کیلئے اپنا کارڈ نِکالا ۔۔۔ بار والی لڑکی نے کھانے کی پیمنٹ بعد میں کرنے کو کہا لہٰذا میں نے صرف ڈرنکس کی ادائیگی کی اور اُس لڑکی کو ڈرنکس بناتے ہوئے دیکھنے لگی ۔۔۔ اُس نے ایک ڈھکنے جیسا چھوٹا ننھا سا کپ نِکالا اور اُس میں بدر صاحب کی پسند کی ہوئی بوتل الٹائی ۔ اُس میں دو گلاسوں کیلئے ڈرنک نہیں تھا۔ وہ مجھ سے کہنے لگی کہ مجھے نیچے celler میں جاکر دیکھنا پڑے گا کہ ہمارے پاس اور بوتل ہے یا نہیں وگرنہ کچھ اور سرو کرنا پڑے گا ۔۔۔۔۔ اُس نے ایک کپ ایک گلاس میں اور دوسری بوتل سے ایک اور کپ دوسرے گلاس میں اُلٹایا اور ہمارے ٹیبل کی طرف جانے لگی ۔۔۔ میں بہت حیران تھی کہ بدر صاحب نے ڈبلز کا آرڈر کیا تھا مگر اُس خاتون نے صرف ایک ڈھکنا فی گلاس ڈالا تھا ۔۔۔۔ میں نے یہ بات دِل میں رکھی اور اُس کے ساتھ اپنی ٹیبل پر گئی۔۔۔ وہاں بدر صاحب اور فراز صاحب دونوںمجھے کہنے لگے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تم شاید خود پر کسی بات کا بوجھ محسوس کر رہی ہو بھئی اِس تمام اہتمام کی کیا ضرورت تھی ، خاموشی سے لوٹ کر گھر جاتے اب تک پہنچ بھی گئے ہوتے وہاں آرام سے کھانا وغیرہ کھاتے اتنے تردّد کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔۔ میں نے کہا کہ میرا بھی جی چاہتا تھا کہ آپ میرے بھی مہمان ہوں ۔۔ابھی بار میڈ واپس گئی ہی تھی اور فراز صاحب اور بدر صاحب کا ہاتھ اپنے اپنے گلاس کی طرف بڑھا ہی تھا کہ میں نے اُنہیں کہا ’ ہمارے ساتھ دھوکا ہوگیا ہے ، بدر صاحب آپ نے ڈبلز کیلئے کہا تھا مگر اُس خاتون نے دونوں گلاسوں میں صرف ایک ایک ڈھکنا اُنڈیلا ہے دو نہیں ‘۔۔۔۔ جب مجھے پتہ چلا کہ دراصل وہ ڈھکنا ڈبلز کے سائِز کا تھا تو مجھے بہت ہنسی آئی ۔۔۔۔ دِل میں سوچا کیا سوچتے ہوں گے دونوں ۔۔۔ پھر خیال آیا کہ کم از کم اِتنا تو ضرور جان گئے ہونگے کہ میں جو کچھ بھی کہہ رہی تھی وہ ٹھیک ہی کہہ رہی تھی ۔

ہم چاروںکافی دیر تک وہاں باتیں کرتے رہے ۔۔۔ کھانے وغیرہ کا پروگرام تو فراز صاحب نے کینسل کروا دیا ۔۔۔مگر اُس روز بھی فراز کو اور قریب سے دیکھنے کا موقع مِلا۔۔۔ بعد ازاں رات گئے جب ہم واپسی کے سفر پر روانہ تھے تو احساس ہورہا تھا کہ کار میں قدرے خاموشی ہے ۔۔۔ شاید سبھی نہایت مطمئِن تھے ۔۔۔ شاید اب اور باتیں نہیں رہی تھیں کہنے کیلئے ۔۔۔ شاید کار میری توقع اور علم سے زیادہ آرام دہ تھی ۔۔۔ یا شاید۔۔۔۔۔ شاید ڈرنک کا اثر تھا۔۔۔ میں نے تنگ آکر منصور سے بات کرنے کی کوشِش کی اور بیک ویو مرر میں دیکھا تو منصورنے اپنے ہونٹوںپر انگلی رکھتے ہوئے مجھے خاموش رہنے کا اِشارہ کیا۔۔۔وہ چاہتے تھے کہ فرازآرام کریں۔۔۔ میں خود حیران ہوتی تھی کہ فراز صبح ہی صبح اُٹھ کر اپنی تمام faculties قائم رکھتے ہوئے لوگوں سے مِلنا، ٹیلیفون پر باتیں ، انٹرویوز، مشاعرے، بحث و مباحثے کرتے کرتے بیزار کیوں نہیں ہوجاتے ۔۔۔ تھک کیوں نہیں جاتے۔۔۔ میں خود تنگ آجاتی ہوں ذرا سے مشاعرے یا ملاقات کی طوالت سے۔ اِس خاموش سفر کے بعد بدر صاحب کا دولت کدہ آگیا ۔ میں نے کار روک دی ۔۔۔پہلے فراز صاحب اُترے پھر پچھلی سیٹ سے منصور اور آخر میں بدر صاحب باہر آئے۔۔۔۔۔ واجبی شکریے اور سلام وغیرہ کے بعد فراز اور بدر صاحب اپنے گھر کے گیٹ کی طرف جانے لگے۔۔۔۔ میں کیا کروں مجھ سے رہا نہیں جاتا کہے بغیرکہ جب وہ اپنے گھر کی سمت چل کر جارہے تھے تو مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ۔۔۔ دونوں ۔۔۔تھکے ہارے۔۔۔ سکول ختم ہونے کے بعد۔۔۔ بستہ اٹھا کر گھر کو جاتے ہوئے کسی فرمانبردار طالبِ علم کی طرح سر کو جھکائے اپنے خیالوں میں غرق۔۔۔ خاموشی سے رواں تھے ۔ میں نے منصور سے کہا ’منصور ایسے نہیں لگتا تمہیں کہ جیسے دو پرائمری سکول کے چھوٹے چھوٹے بچے ابھی ابھی کلاس ختم کرکے گھر واپس جارہے ہیں ہوم ورک کی فکر میں۔ منصور مسکرا دئیے ۔

جشنِ فراز کا سلسلہ جاری تھا ۔۔۔ روز ہی کوئی نہ کوئی نیا تجربہ ہورہا تھا ۔۔۔ غیر متوقع تو کیا ہوتا مگر بعض اِتفاقات ایسے بھی ہوئے کہ جی چاہتا ہے کہ اکثر ہوا کریں ۔۔۔۔ فراز نے مروّت سے کہہ رکھاتھا کہ اپنے ریسٹورانٹ کا نام تو تم نے ’موسیقی‘ رکھا ہوا ہے مگر یہاں محفل نہیں ہوئی ۔۔۔ مروّت نے منصور کے جشنِ فراز کے ایک حصے کے طور پر اِس مرتبہ ایک موسیقی کا پروگرام بھی طے کر رکھا تھا ۔۔۔فراز صاحب چاہتے تھے کہ صرف چند مخصوص لوگ ہی شامِل ہوں اِس پروگرام میں۔۔۔ اُس روز اِتفاق سے میری سالگرہ کا دِن بھی تھا ۔۔۔ میرااور میرے والد کی سالگرہ کا دِن ایک ہی ہے۔۔۔ میں اور منصور پہلے تو اپنے والد کے پاس اُنہیں وِش کرنے چلے گئے ۔۔۔ واپسی پر موسیقی میں پہنچے تو وہاں پروگرام شروع ہوچکا تھا ۔۔ سادہ سادہ سا اِنتظام ۔۔۔ اندھیرے اُجالے کے اِمتزاج میں ۔۔۔ خوبصورت ماحول۔۔۔ مروّت کا خلوص اور محبت ۔۔۔فراز کی صحبت۔۔۔ میری سالگرہ ۔۔۔ مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جیسے منصور مجھے سرپرائز دے رہے ہیں ۔۔۔ یہ سارااِنتظام دراصل فراز کیلئے نہیں بلکہ میرے لئے کیا گیا ہے۔۔۔ فراز ابھی مجھے وِش کریں گے ۔۔۔۔مگر یہ بات وہاں کسی کو نہیں معلوم تھی کہ اُس روز میری سالگرہ بھی ہے ۔۔۔۔۔ فرازاور بدر صاحب سامنے صوفے پر تھے ۔۔۔ ہارمونیم اور طبلے کی دھنوں کو فراز کی غزلوں نے کچھ زیادہ ہی سُر تال میں کردیا تھا ۔۔۔۔میں نے تو پہلی مرتبہ اِس طرح سے اِتنی خاص محفل دیکھی تھی۔۔۔ سر دھُنے جارہے تھے ۔۔۔ فراز کے چہرے کے اُتار اور چڑھائو سے اُن کے لفظوں کی سچائی کا اندازہ ہورہا تھا ۔ ۔ ۔ بدر صاحب کے ہاتھ ہوا میں لہرا رہے تھے ۔۔۔۔ ایک فلم وہاںبن رہی تھی۔۔۔ اور ایک میرے ذہن کے پردے پر چل رہی تھی ۔۔۔۔ ابھی چند سال کی بات ہے ۔۔ اِسی طرح میری سالگرہ کا روز تھا ۔۔۔ ویسے تو ایسی کوئی خاص بات نہیں ہوتی اِس روز میں۔۔مگر۔۔شاید مغرب کی تنہائی میں مستقل اور طویل رہائِش کے بعد خوامخواہ حساس سی ہوکر رہ گئی ہوں۔۔۔خاص طور پر اپنے برتھ ڈے کے سلسلے میں۔۔۔

اُس روز سردی بہت تھی۔۔۔۔ میں جاب ختم کرکے گھر آئی تو اپنے والد صاحب کو فون کیا اور مبارکباد دی سالگرہ کی ۔۔۔۔ میں نے انہیں ایک کارڈ اور تحفہ بھیجا ہوا تھا جو اُنہیں پہلے ہی مِل چکا تھا ۔۔۔ اُن کا کارڈ مجھے ابھی نہیں مِلا تھا۔۔۔ کچھ کارڈز میری چھوٹی بہن اور والدہ کی طرف سے آئے ہوئے تھے ۔۔۔ اور دو ایک کارڈز مجھے دفتر سے مِلے تھے ۔۔۔ میں نے سب کارڈز کمرے میں سجا دئیے ۔۔۔رات گئے کچن میں جاکر فرِج کی تلاشی لی تو مجھے ایک پُرانا۔۔ چیز cheeseکیک کا ٹکڑا مِل گیا۔۔ میں نے اپنی bone china کی پلیٹ نِکالی ۔۔کِچن کی بتی بُجھا کر ۔۔اچھا سا ٹیبل لیمپ روشن کر دیا۔۔۔ اُس چیز کیک کے ٹُکڑے پر ایک موم بتی جلاکر رکھی ۔۔۔ پھر اپنی پھونک سے بجھا کر اپنے لئے happy birthday to you گایا ۔۔ایک سگریٹ پیا ۔۔۔ cupboardکے کباڑ میں سے شاپنگ کے ایسے کئی بیگز بھی مِل گئے جو ابھی کھولے ہی نہیں تھے ۔۔۔ مجھے یاد بھی نہیں تھے ۔۔ اُن میں سے ایک نیا سوئیٹر مِل گیا ۔۔۔ میں نے ربن باندہ کر ایک گِفٹ ریپ بناکر اُسے کھولا۔۔۔ اور thank you yasmin کہتے ہوئے ٹیبل لیمپ بُجھاکر ٹیوب لائیٹ جلا دی ۔۔۔ میں بھی خوش ۔۔ سالگرہ بھی ہوگئی ۔۔۔ دِن بھی گُزر گیا ۔۔۔ تحفہ بھی مل گیا ۔۔۔ مگر تنہائی بہت تھی ۔۔۔ اور آج۔۔۔ مجھے تو یقین نہیں آرہا تھا ۔

پروگرام ختم ہونے کے بعد مروّت نے دنبہ چاول کا انتظام کر رکھا تھا ۔۔۔ کہیں فراز نے کبھی کہا تھا کہ اُن کی طرف اِس طرح سے دنبہ چاول کی ڈِش ہوتی ہے ۔۔۔۔ اب فراز کہہ دیں اور مروّت نہ مانیں ۔۔۔ مروّت تو اپنے ہر دوست اور عزیز کی خواہش کا احترام کیا کرتے ہیں تو پھر یہ تو فراز تھے ۔۔۔۔ احمد فراز۔۔۔۔ اتنے میں بارہ بجے کا وقت قریب آگیا ۔۔۔ شیمپیئن کھولی گئی ۔۔۔ مجھے سالگرہ کی مبارکباد دی گئی اور فراز کے ساتھ اِتنی حسین باتیں ہوئیں ۔۔۔ اتنی خوبصورت شام گُزری کہ جی چاہتا ہے ۔۔۔ اِس سال بھی ایسا ہی ہو۔۔۔وہیں جب شیمپیئن کی بوتل کھولی جارہی تھی تو اُس کا کارک اُڑ کر فراز کی پیشانی سے ٹکرا گیا ۔۔۔ فراز نے کارک اُٹھایا اور میز پر رکھ دیا ۔۔۔سب کہنے لگے کہ یاسمین یہ تمہاری سالگرہ کا یادگار کارک ہے ۔۔۔۔ ایسا ویسا ۔۔۔میں نے اُس یادگار کارک پر تاریخ لِکھ کر اُسے اپنے بیگ میں ڈال لیا اور اُسے وہیں اُس کاغذ کی تکونی ٹوپی کے ساتھ رکھ دیا ۔۔۔ جہاں باقی سارے اثاثے پڑے ہوئے ہیں ۔۔۔

میں نے دفتر سے چھٹی لے رکھی تھی اور منصور تو اپنے گھر سے بھی ۔۔۔فراز کیلئے مکمل چھُٹی پر تھے ۔کھُلی چھُٹی تھی اُنہیں ۔۔۔ جہاں بھی جائیں ۔۔ جب بھی واپس آئیں ۔۔۔ ہمارے عطا صاحب نے تو اپنے کالم میں منصور کی گھر سے چھُٹی کا تذکرہ بھی کردیا تھا ۔۔۔ عطا الحق قاسمی کو شاید لندن میں اپنے کچھ دوستوں سے مِلنا تھا ۔۔ وہ نصیر شاہ صاحب والے مشاعرے کے بعد لندن چلے گئے تھے تھے ۔۔۔میری طرح ۔۔۔ آخر اُن کے بھی تو کچھ fans ہونگے ۔۔۔ اِس میں ہنسنے کی کیا بات ہے بھلا۔۔۔۔ کیوں کیا اُن کے فین نہیں ہوسکتے ۔۔ ۔۔۔۔ ویسے اگر وہ رات موسیقی کی محفل میں موجود ہوتے تو اور بھی اچھا ہوتا ۔۔۔میں اُن سے کئی باتیں پوچھ لیتی ۔۔۔ اور کئی باتیں بتا بھی دیتی ۔۔۔۔عطا صاحب دراصل مجھے ادبی سیاسی حالات کے اُفق پر اُمڈ کر آنے والے چھوٹے چھوٹے اور سورج کی پہلی کرن سے ہی بھاپ بن کر اُڑ جانے والے بادلوں کا تمام تاریخ اور جغرافیہ کھول کھول کر نہایت آسان لفظوں میں سمجھا دیتے ہیں۔۔۔ اُن کی باتیں بھی میری سمجھ میں آجاتی ہیں ۔۔۔ یہ منصور تو پہیلیاں بُجھوا بُجھوا کر اِنسان کو تھکا ہی دیتے ہیں ۔۔ اب اگر یہ مجھے پہلے سے سمجھا کر رکھتے کہ اُنہوں نے کیوں ضرورت سے زیادہ تعداد میں تقریبات کا انتظام کر رکھا تھا۔۔۔ تو کم از کم میرے لئے بھی حالات کو سمجھنا آسان ہو جاتا اور منصور کے لئے بھی گھریلو عدالت سے باعزت بری ہوجانا سہل ہوتا ۔ ۔۔۔ ویسے عطا صاحب کا مشاہدہ اور تجزیہ ۔۔۔ دونوں ہی بے مثال ہیں ۔۔۔اب میں نے سوچ لیا ہے ۔۔۔ آئندہ بھی ادبی موسم کا حال عطا صاحب سے پوچھا کروں گی ۔۔ سو فیصد نہ سہی کم از کم پچاسی فیصد صحیح حال تو ہوگا ۔۔۔۔ اگر اُنہوں نے کہا کہ تیز جھکڑ چلنے کی اُمید ہے ۔۔۔ تو زیادہ سے زیادہ اور کیا ہوگا ۔۔۔ آندھی ہوگی یا ٹورنیڈو آجائے گا ۔۔۔ مگر غیر متوقع تو نہیں ہوگا نا۔۔۔۔۔ ہلکی پھُلکی بوندا باندی کا کہیں گے ۔۔۔ تومون سون کے ریلوں ۔۔۔ طوفانِ باد و باراں یا سیلاب سے بڑھ کر تو نہیں ہوگا کچھ ۔۔۔ ایک منصور ہیں ۔۔۔ جب کہتے ہیں کہ موسم گرم ہے تو باہر برف گِرنے لگتی ہے اور جب کہتے ہیں کہ موسم سرد ہے تو بدن جل کر کوئلا بن گیا ہوتا ہے ۔۔۔مگر منصور کو شایدادبی موسم کے حال میں کوئی دِلچسپی ہی نہیں ہے ۔۔۔

منصور نے فراز کیلئے لندن میںایک’ جنگ فورم‘ کا انتظام بھی کر رکھا تھا جشنِ فراز کی ایک تقریب کے طور پر ۔۔ رات گئے پتہ چلا کہ پاکستان میں فراز صاحب کے گھر پرفوجیوں نے قبضہ کر لیا ہے ۔ بدرصاحب کو اور تمام لوگوں کو پورا یقین تھا کہ فراز صاحب پاکستان چلے جائیں گے ۔۔۔ اِس ہنگامی صورتِ حال میں ۔۔۔ اور منصور ۔۔۔ اُن کا کیا کہنا ۔۔۔۔ مجھے تشویش ہورہی تھی کہ جشنِ فراز کے باقی پروگرام کا کیا ہوگا ۔۔۔ مجال ہے کہ منصور کے کان پر کوئی جوں تک رینگی ہو ۔۔۔۔ تم کیوں پریشان ہو ۔۔۔ اگر فراز صاحب نے جانا ہوگا تو خود بتا دیں گے مجھے ۔۔۔ اب حالات پر کون گرفت رکھ سکتا ہے ۔۔۔ اب نہیں تو آئندہ ہو جائے گا اُن کا پروگرام ۔۔۔ مگر فراز نے اب تک جو مجھ سے رابطہ قائم نہیں کیا تو کچھ اور سوچ رکھا ہوگا اُنہوں نے ۔۔۔ منصور نے اِنتہائی بردباری کے ساتھ۔۔۔ روز کی طرح ۔۔۔بڑے اطمینان سے ۔۔۔ مجھے اپنے وربل ٹرینکولائزر verbal tranquilizer کے حوالے کر دیا ۔۔۔ کہا ہے نا میں نے کہ منصور ہر موسم کیلئے تیار رہتے ہیں ۔۔۔ اِنہیں فراز کافکر بھی تھا ۔۔۔ فراز کے ساتھ بات ہوئی تو طے یہ پایا کہ جنگ فورم سے پہلے ایک پریس کانفرنس کا انتظام ہونا چاہئے ۔۔۔ منصور نے فوراً بی بی سی سمیت سارے media کو بُلا لیا لندن میں ۔۔۔۔تھک ہار کررات گئے جب منصور گھر واپس آئے تو میں نے پھرپوچھا کیا فراز جا رہے ہیں ۔۔۔۔ارے ۔۔ تم سے کہا ہے نا ۔۔۔ جشنِ فراز مکمل ہوجائے تو پھر جائیں گے احمدفراز۔۔۔ میں سوچنے لگی کہ منصور کِس مٹی کے بنے ہیں۔

جشنِ فراز کی اگلی تقریب سٹوک آن ٹرِنٹ میں تھی ۔ ۔۔۔وہاں سے چھپنے والے ’رابطہ‘ نے نارتھ سٹیفورڈ شائر نسلی مساوات کونسل کے تعاون کے ساتھ ہِنلی میوزیم کے تھیٹر میں ایک نہایت پُروقار پروگرام رکھا ہوا تھا ۔۔۔۔ مجھے بھی اُن کا انتظام بہت پسند آیا تھا ۔۔۔ میوزیم کے ریسیپشن میں آرائشی شِلف اور الماریوں میں بہت خوبصورت ہینڈی کرافٹس کو نمائِش کے طور پر سجا کر رکھا ہوا تھا ۔۔۔ مجھے خاص طور پر کرسٹل اور گلاس سے بنی ہوئی چیزیں پسند ہیں ۔۔۔ ہال کی روشنی شیشے کے ٹکڑوں سے ٹکرا ٹکرا کر میرے چہرے پر رنگین دائرے بنا رہی تھی ۔۔۔ہر دائرہ اپنی جگہ ایک زمانہ تھا ۔۔۔ ایک کائنات تھا ۔۔۔۔ میں ۔۔ ستاروں سے اٹی ہوئی تھی ۔۔۔۔کہکشائوں میں سے گزر رہی تھی۔۔۔ چراغ در چراغ جل اُٹھی تھی ۔۔۔۔ جیسے میرے تمام بدن پر آنکھیں اُگ آئی تھیں ۔۔۔ دیکھتے دیکھتے ۔۔۔ایک چھوٹاسا پیس میری آنکھیں پکڑ کر بیٹھ گیا۔۔۔ میں نے وہاں انگریز گارڈز سے پوچھا کہ کیا کوئی اِس وقت خریداری کرسکتا ہے یہاں سے ۔۔ میوزیم کا تمام عملہ جاچکا تھا ۔۔۔ رات کے گیارہ۔۔۔ بارہ بجے کا وقت ہوگا ۔۔مجھے علم نہیں کہ وہ میرا اِشتیاق تھا ۔۔۔ میرا اُن سے نہایت مخلصانہ درخواست کرنا تھا ۔۔۔ میرا چہرہ تھا ۔۔۔ فراز کے متعلق اُنہیں یہ بتانا تھا کہ وہ International poet Laureate ہیں ۔ ۔ ۔۔ یا میری تمنا کی شِدّت تھی ۔۔۔ کہ اُنہوں نے میرے لئے خاص طور پر اپنی الماری کے تالے کھول کر ۔۔۔ اپنی till کھولی ۔۔۔ اُس چھوٹے سے پیس کو ۔۔۔ کاغذ میں بڑی خوبصورتی کے ساتھ لپیٹ کر مجھے دے دیا ۔۔۔ اُس رات شاید سٹوک آن ٹرِنٹ کے میوزیم کیلئے یہ بھی ایک تاریخی واقعہ سے کم نہیں تھا ۔۔۔۔یہ تحفہ میں نے فراز کیلئے خریدا تھا ۔۔۔ پتہ نہیں مجھے کیوں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ۔۔۔ شاید فراز بھی ۔۔۔ کبھی کبھی اپنے اثاثے شمار کرتے ہونگے ۔۔۔ پتہ نہیں۔۔۔ شاید۔۔۔

جشنِ فراز کے سلسلے میں بریڈفورڈ میں آخری پروگرام رکھا ہوا تھا ۔۔۔۔ فراز صرف مجھ کو نہیں اسد اور منصور کو بھی ہوچکا تھا ۔۔۔ احمد فراز بریڈفورڈ میں کچھ روز پہلے ہی آگئے تھے ۔ ۔۔۔ میں نے جب مشاعرے میں اور مشاعرے کے بعد اُنہیںوہاں دیکھا اور سُنا ۔۔۔ تو مجھے احساس ہوا ۔۔۔ پرندے آزادی اور صاف فضائ میں ہی اُڑتے اچھے لگتے ہیں ۔۔۔شاہین کا بسیرا ۔۔ صرف پہاڑوں کی چوٹیاںہیں۔۔۔ ریت کے ٹیلے نہیں ۔۔۔فراز بہت خوش تھے ۔۔۔ بڑی مزے مزے کی باتیں ہورہی تھیں ۔۔۔اسد جو عام طور پر مجھ سے بہت احترام سے بات کیا کرتے ہیں ۔۔۔ اُن پر بھی فراز اور فضائ اثر انداز ہوچکی تھی ۔ ۔ حوروں اور قیامتوں کے تذکرے تھے ۔۔۔ سب لوگ شاید ۔۔اپنی اپنی ۔۔۔ جُدائی کی مسلسل شِدتوں سے گھبرا کر ۔۔۔پہلی بار ۔۔۔اپنے آپ سے ۔۔۔بیوفائی نہیں کر رہے تھے۔۔ ۔عطا اور فراز کے ساتھ تصویریں بن رہی تھیں ۔۔۔۔ رات گزرتی جارہی تھی ۔۔۔۔ اگلے دِن صبح ہی صبح عطا اور فراز کی لندن سے واپسی کی فلائیٹ تھی ۔۔۔۔ بریڈفورڈ سے اُنہیں آج ہی رات کو لندن روانہ ہوجانا تھا ۔۔۔۔ ظفر بھائی کے گھر میں بھر پور محفل ہورہی تھی ۔۔۔۔ جِس کو جہاں جگہ مِل رہی تھی وہیں براجمان تھا ۔۔۔۔ظفر بھائی کی بہت پیاری سی وائِف ۔۔۔ بڑے ہی پیار کے ساتھ کھانا تیار کر رہی تھیں ۔۔۔۔ ظفر بھائی دراصل ایک فارم ہائوس میں منتقل ہوگئے ہیں۔۔۔ ایک تو اُن کا گھر ۔۔۔ دوسرے مسحور کُن ماحول ۔۔۔ پھرفراز۔۔۔

کاش تمام زندگی سمٹ رہتی اِس حسن میں ۔۔۔۔ مگر فراز کو تو واپس جانا ہی تھا ۔۔۔میں نے فراز سے رخصت ہوتے وقت کہا تھا ،’ اچھا فراز صاحب ۔۔۔ اب کے ہم بِچھڑے تو شایدکبھی ‘۔۔۔۔۔فراز نے فوراً روک دیا تھا ۔۔۔۔ ایسا تونہ کہو ۔۔۔فراز اور عطا چلے گئے ۔۔۔ ہم بھی واپس ہولئے ۔۔۔وہ بھی ۔۔۔اور ہم بھی ۔۔۔۔ دونوںہی موٹر ویز پر تھے۔۔۔۔ وہ شاید M1 پر اور ہم شاید M6 پر ۔۔۔ دونوں کیلئے یہ سفر مختلف تھا۔۔۔۔ اُن کا شاید ہزاروں میل کے بعد ختم ہونا تھا ۔۔۔ ہمیں شاید ڈیڑھ سو میل کا فاصلہ طے کرنا تھا ۔۔۔۔ ہمارے سفر اب بھی جاری ہیں ۔۔۔ ایسی مسافتوں کی منزلیں۔۔۔اگر ہوتی ہیں۔۔۔ تو جانے کہاں ہوتی ہیں۔۔۔ کبھی آتی بھی ہیں ۔۔۔یا۔۔۔جانے دیں ۔۔۔منصور نے بتایا ہے کہ فراز پھر یہاں آرہے ہیں ۔۔۔۔ اور میں ۔۔۔۔ بڑے اشتیاق سے پوچھ رہی ہوں ۔۔۔۔کب آئیں گے ؟ کتاب کے حسرت بھرے پھڑ پھڑاتے اوراق۔۔ میں نے جھاڑ پونچھ کر ۔۔۔ اُسی غیر مرئی shelf پر رکھ دئے ہیں ۔۔۔ جہاں سے اُٹھائے تھے ۔۔۔ کتاب بند کر دی ہے ۔۔۔جانے کتنوں کی دِل آزاری کا سامان ہوجائے ۔۔۔۔ جانے کتنے نئے فتوے تشکیل پائیں ۔۔۔۔ جانے کتنی آستینیں چڑھائی جائیں ۔۔۔ جانے کتنے سر زخمی ہوجائیں ۔۔۔۔۔۔ جانے کہیں کوئی حرف زیادہ بولنے لگ جائے ۔۔۔خاموشی گونجتے گونجتے ۔۔۔ شور میں بدلتی جارہی ہے۔۔۔ اثاثے صاف کرتی جاتی ہوں ۔۔۔ ڈسٹر کے ساتھ۔۔۔ اور سوچ میں ہوں ۔۔۔ کتنا اچھا ہوتا۔۔۔ اگر میں یہاں ۔۔۔یہ کہہ سکتی کہ۔۔۔ یہ ایک کہانی ہے ۔۔۔اور ۔۔۔ اِس کے تمام کِردار فرضی ہیں ۔۔۔۔ کسی بھی طرح۔۔کوئی بھی مماثلت ۔۔۔۔ محض اِتفاق کے علاوہ ۔۔۔۔ اور کچھ نہیں ۔۔۔مگر کیسے کہہ دوں ۔۔۔ ۔۔ فرازتو فرضی نہیںہیں ۔۔ ۔ ۔۔ mea maxima culpa ۔۔۔ mea culpa۔۔۔ mea culpa ۔۔۔

﴿معاصر2006﴾