یاسمین حبیب کا افسانہ ۔ چیف
Yasmin Habib's story - Chief
چیف
مجھے وہ دِن کبھی نہیں بھولا جِس روز میرا راٹ وائلر کتا "چیف” مجھ سے بچھڑا تھا ۔ وہ میرے ساتھ دو تین ہفتہ کی عمر سے لے کر چھ برس تک رہا تھا مگر مجھے کسی مجبوری کے باعث اُسے کسی اور کے حوالہ کرنا پڑ گیا تھا ۔ اُسے میں نے کسی کے ساتھ سیر کے بہانے سے روانہ کیا تھا اُسے اگر یہ معلوم ہوتا کہ اُسکے ساتھ بیوفائی کی جارہی ہے تو شاید اُسکی وفاداری اُسے میری دہلیز سے کبھی دور نہ ہونے دیتی ۔ ہم دونوں کے درمیان ایک عجیب سا رشتہ تھا ، بہت گہرا تعلق تھا ہمارا ۔ وہ مجھے اپنا مالک نہیں بلکہ اپنی ملکیت سمجھتا تھا اور میں اُسے اپنا محافِظ اور دوست ۔ یوں تو اُسے چار زبانیں آتی تھیں انگریزی ، اردو ، ہندی اور پنجابی مگر ہمارے درمیان ایک ایسی گفتگو کا سلسلہ تھا جو کسی زبان کا مرہون نہ تھا ؛ حرف اور الفاظ اضافی تھے ۔ اُسکی خوبصورت بھوری آنکھیں بولتی تھیں اور مجھے اُس کی ہر بات سنائی دیتی تھی ۔ اُسکا غصہ ،اُسکی شرارتیں ، اُسکا حسد ، اُسکا خوف ، اُسکی ناراضگی ، اُس کی شکایتیں ، اُس کا غم ، اُسکی مجھ سے لڑائیاں ، مجھ سے جراح ، مجھ سے محبت ، مجھے اپنے ساتھ کھیلنے کیلئے اکسانا ، چاکلیٹ مانگنا ، نیا ڈاگ کالر پہن کر اترانا اورمجھ سے باہر جانے کیلئے ضد کرنا ، چاکلیٹ میں چھپائی ہوئی دوا کی گولی نکال کے منہ سے باہر پھینک کر چاکلیٹ کھا جانا اور شرارت بھری آنکھ سے میری جانب دیکھتے ہوئے مجھ سے ڈانٹ کھاتے رہنا ۔ اُسے مجھ سے اور مجھے اُس سے کوئی خوف و خطرہ لاحق نہ تھا ۔ مجھے یقین ہے کہ وہ مجھے اپنی ہی طرح مگر ذرا مختلف ہم جنس سمجھتا ہوگا اور مجھے ……. وہ خود مجھ جیسا ہی دکھائی دیتا تھا ۔ ایک روز کسی انگریزنے پوچھا ، ” کیا اِسکے کھانے وغیرہ کے سلسلہ میں بہت زیادہ اخراجات ہیں ؟” میں نے ہنس کر کہہ دیا کہ نہیں میرا کتا ویجیٹیریئن یعنی سبزی خور ہے ۔ وہ شخص مجھے ایسے حیرت سے دیکھنے لگا جیسے میں اِس کرہ ارض پر کسی اور سیارہ سے اتر آئی ہوں ۔ کبھی کبھار چند احباب نہایت عجیب سے چبھتے لہجہ اور کاٹتی آواز میں پوچھا کرتے تھے ، "سنا ہے تمہارے ساتھ کتا رہتا ہے؟” اور میں اُنکے لہجوں کے بے بنیاد چڑھائو کو اتارنے کی خاطر کہہ دیا کرتی تھی ، ” جی نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے ؛ ہمارے ساتھ کتا نہیں رہتا ، ہم خود کتے کے ساتھ رہتے ہیں ۔” میں نے کبھی سوچا تک نہ تھا کہ ایک روز میں خود اُسے کسی اور کے حوالے کر دوں گی ۔ وہ اُس روز بہت خوش خوش چلا گیا اور میں تمام دِن اور تمام رات روتی رہی ۔ بالکل ایسے لگتا تھا کہ گھرمیں کوئی ماتم ہوگیا ہے ۔ جگہ جگہ چیف کے کھلونے بکھرے پڑے تھے ۔ اُسے نیا پٹہ پہنوا کر بھیجا تھا میںنے کسی کے ساتھ ، اُسکا پرا نا ڈاگ کالر میرے پائوں میں دھرا رہ گیا تھا ۔ اُسکے کھلونے اکٹھے کرتے ہوئے بے اختیار میں اُسکا ڈاگ کالر اپنے گلہ میں پہن کر بیٹھ گئی اور آنکھوں سے دریا بہانے لگی ۔ اگر چیف ہوتا تو میرے آنسو چاٹ کر ، مجھ سے ڈانٹ کھا کر بھی مجھے زبر دستی اپنے ساتھ کھیلنے یا باہر جانے پر مجبور کرتا ۔ اُسے میرا اداس ہونا یا رونا بالکل اچھا نہیں لگتا تھا ۔ میری وہ ساری رات کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے گزر ی تھی ۔ اکیلے میں خوف محسوس ہوتا تھا ، مجھ پر پہلی مرتبہ تنہائی کی حقیقت کھلی تھی ؛ میرے پاس سے میرا محافظ میرا دوست چلا گیا تھا ۔ مجھے سکون نہیں تھا ۔ اگلے روز میں صبح صبح اسے دیکھنے کیلئے چلی گئی ۔ وہ کسی کے گھر کے بیک گارڈن میں کمروں کی جانب رخ کئے ہلکی ہلکی آواز میں مجھے بلا رہا تھا ؛ میں اُسے اُس گھر کی فِنس کے جھروکوں اور دراڑوں میں سے جھانک رہی تھی ۔ اُسکی پیٹھ تھی میری جانب ۔ چند لمحوں کے بعد اُسے شاید میری خوشبو محسوس ہوئی اور وہ سونگھتا سونگھتا بیک گارڈن میں فِنس کے چاروں جانب چلتے ہوئے عین اُس حصہ پر پہنچ کر رُک گیا جہاں میں باہر بیٹھ کر اندر جھانک رہی تھی ۔ چیف وہاںبیٹھ کر میرے لئے رونے لگ گیا اور میں اُسے زیادہ تکلیف نہ دینے کے خیال سے زار و قطار روتی ہوئی واپس لوٹ کر آگئی ۔ میں کئی روز اُسکا پٹہ کبھی گلے میں ڈال کر ، کبھی تزئین کے طور پر دیوار پر لٹکا کے ، کبھی ہینڈ بیگ میں ڈال کر اور کبھی تکیہ کے نیچے رکھ کر سوتے ہوئے اِس فراق کوسمجھنے اور اِسکی شدت کم کرنے کی سعی کرتی رہی مگر دوبارہ چیف کو دیکھنے نہیں گئی ۔ یہ خیال ضرور رہا کہ وہ مجھے بھولا نہیں ہوگا ۔ جہاں راٹ وائلر کتا دیکھتی تھی بے اختیار ہوکر چھونے اور پیار کرنے کیلئے چلی جاتی تھی ۔ اسی طرح کسی نہ کسی طور ایک ہفتہ گزر گیا ، پھر ایک مہینہ تمام ہوا اور اُسکے بعد کئی مہینے گزر گئے ۔ چیف میرے ذہن میں میرے بہت معصوم اور نہایت مربوط رشتہ کی علامت بن کر رہ گیا ۔ مجھے نان وربل کمیونیکیشن ، باڈی لینگوئیج ، سائیکولوجی ، ریلیشن شِپ کونسلنگ ، ڈِسپلِن ، ٹرسٹ ، بیر یو منٹ اور جانے کیا کیا سکھا گیا تھا میرا دوست میرے ساتھ رہ کر اور مجھ سے بِچھڑ کر ۔مگر اِن عنوانوں سے شناسائی کئی برس بعد حاصل ہوئی ۔ اب تو وہ شاید مرچکا ہوگا مگر میرے خیال میں وہ اب بھی زندہ ہے ۔ وہ میری زندگی کا ایک خوبصورت حصہ بن کر رہ گیا ہے ؛ مجھے کسی نہ کسی صورت اسکی جھلک دکھائی دیتی ہے ،اسکی موجودگی کا احساس رہتا ہے مجھے ۔ ا بھی کچھ روز ہی کی بات ہے کہ مجھ سے کوئی مِلنے آیا تھا میرے گھر پر ۔ کھڑکی سے دھوپ اُسکے چہرے پر نچھاور تھی ، اُسکی خوبصورت بھوری آنکھیں مجھ پر مرکوز تھیں اور مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں اِن آنکھوں سے شناسا ہوں ، یہ آنکھیں پہلے بھی میری طرف اسی محبت ، امید ، خلوص اور اعتماد سے دیکھتی رہی ہیں ۔ اِن آنکھوں سے میرا کوئی رشتہ رہا ہے ۔ یہ آنکھیں مجھ سے وابستہ رہی ہیں ۔ مجھ سے رہا نہیں گیا میں نے بے اختیار اُسے کہہ دیا ، ” تمہاری آنکھوں کا رنگ کِتنا خوبصورت ہے ، بالکل میرے چیف کی طرح” ۔ بہر حال چیف سے جدا ہوئے دو برس ہوئے ہونگے کہ ایک روز چیف میرے راستے میں آگیا۔ وہ ایک انگریز بوڑھی عورت کے ساتھ اُسکے گارڈ ڈاگ کی حیثیت سے چل رہا تھا۔ بہت دھیما مزاج ہوگیا تھا اُسکا ، نہ وہ شوخی نہ شرارت ، مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اب بہت سنجیدہ ہوگیا ہے ۔ وہ میری مخالف سمت سے آ رہے تھے ، میرے قدم رک گئے کہ چند لمحوں میں وہ میرے قریب سے ، جگہ کم ہونے کے باعث مجھے تقریباً چھوتے ہوئے گزرے گا ۔ میرا دِل بہت زور سے دھڑک رہا تھا ، تمام کائنات سمٹ کر میرے کتے ی شکل اختیار کر چکی تھی ، مجھے سوائے اُسکے پنجوں کی آواز کے اور کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ۔ ایک مدت کے بعد نظر آیا تھا ، جانے کیا ہونے والا تھا ۔ اور وہ میرے قریب آ کر رک گیا۔ اُس نے لمحہ بھر کو میرا لباس اور میرے پائوں سونگھے ، سر اٹھا کر میرے ہاتھ سونگھے اور آگے روانہ ہوگیا ۔ عرصہ گزر جانے کے سبب وہ مجھے بھول چکا تھا ۔ مگر مجھے اِس خیال سے زیادہ تکلیف نہ ہوئی کہ مجھ سے اور کچھ نہ سہی مگر شاید میرا دوست بھی اپنے جذبات پر گرفت رکھنے اور چہرہ پر مسکان سجا کر اپنا درد چھپانے کا ہنر سیکھ چکا تھا ۔