یاسمین حبیب کا افسانہ کتھارسز
Yasmin Habib's story Catharsis
کیتھارسِس (catharsis) !!!
اعتبار شاید گئے وقت میں کوئی ڈائینوسور(dinosaur)تھا، بھروسہ کسی شاہی دفینے میں بڑے قرینے سے رکھی کوئی ممی (mummy)تھی، اعتماد قرنوں پہلے کا کوئی موسم ہوگا جو اب اِس گلوبل وارمِنگ کے زمانے میں لوٹ کر نہیں آسکتا، عشق آتشِ نمرود تک محدود تھا، محبت دماغی حالت کے مخدوش ہوجانے کو کہتے ہیں شاید، احساس کسی ببول کے کانٹوں سے لپٹنے سے متعلق ہے، تعلق نیم کے درخت کے کڑوے سیرپ کے تلخ ذائقے کے زبان میں سرایت کرجانے کو کہتے ہیں ، پیمان یعنی oath صرف عدالتی کارروائیوں کا حصہ ہوتے ہیںاور زندگی فقط سانس لینے کانام ہے۔ وہ ہر روز اپنے آپ کو سمجھاتی رہتی تھی۔مگر روز مینو طور کے دھڑ سے آدمی کا سر نکل آتا تھا
وہ ایک مال گاڑی میں سفر کر رہی تھی۔یہ ایک ڈبے والی بغیر انجن کی مال گاڑی اس کے اپنے ذہن کا اختراع تھی۔ مال گاڑی راکٹ کی رفتار سے اُڑتی جارہی تھی۔اِس ایک ڈبے کو اس نے بہت سجا بنا کر رکھا تھا۔کہیں رشتوں کی تازہ اور پرانی لاشیں کھڑی تھیں، کہیں خوش فہمی کے ٹکڑے ایک کے اوپر ایک۔ کسی ایبسٹرکٹ (abstract)آرٹ کے نمونے کی صورت میں دھرے تھے، کہیں کوئی بھرم ،جاں کنی کی حالت میں رفاقت کی چادر اوڑھ کر منہ چھپائے آخری سانسیں لے رہا تھا، کہیں آنکھ کے سمندر کی پتھرائے ہوئے کنارے کو اس نے ٹکڑے ٹکڑے کرکے کسی چٹان کی طرح اِس ڈبے کے ایک کونے میں تہہ در تہہ بچھا رکھاتھا۔ بہت وسعت تھی اِس چھوٹے سے ڈبے میں اس نے چھت سے اپنے ڈھیروںتازہ اور پرانے زخم چپکائے ہوئے تھے۔ ان سے روز بوند بوند ٹپکتے اوربوند بوند جمتے لہو کی جا بجا لہراتی پٹیاں گھور اندھیرے میں بھی کسیtinsel کی طرح چمکتیں تو ایک سماں بندھ جاتا تھا۔ اِس نظارے کو قائم رکھنے کے لئے وہ اپنے دیرینہ قدرے بھرے زخموں کو بھی اپنے ناخنوں سے پھر سے کھرچ دیتی تھی اور یہ بوند بوندروشنی کا سلسلہ جاری رہتاتھا۔ اپنے تئیں وہ اِن رنگین لہراتی پٹیوں کودائم رکھنے کی سعی میںکبھی کبھار خود اذیتی کے عمل سے گزر کر اپنے جسم پر خود بھی بعض نوکیلے اور تیز دھار لفظوں کے جنجر پیوست کرتی رہتی تھی۔ وہ تنہا خوداپنے ہی بنائے ہوئے کاروان کے ساتھ منزلوں سے مبرائ مسافتیں طے کر رہی تھی۔ اِسے مشغلہ تو نہیں کہا جاسکتا تھا تاہم اسے ایک عادت سی ہوگئی تھی مال گاڑی کے ڈبے کو سجاتے رہنے کی ۔۔۔۔اِس سفر کی۔۔۔۔۔۔۔ اور حرفوں کے وار سے طلوع ہونے والے نئے نئے زخموں کی۔و ہ اپنے زخموں کو نوچتے ہو ئے بگلے سے زیادہ بہتر انداز میں اپنے زخموں کو نوچ لیتی تھی۔۔۔
رات گئے جب باہر کے تمام مناظر تاریک ہوجاتے تو وہ اپنے مال گاڑی کے ڈبے میں بچھائے پتھر کے سمندر کی تہوں پر لیٹ کر اپنی آنکھ کا پردہ کھول دیتی تھی۔ اس کے اندر کے تمام مناظر اِس پردے پر بڑی ادا کے ساتھ آجاتے تھے ۔اس کی کنپٹیوں پرحرفوں، لفظوں اور جملوںکے audio کا شورکسی ہتھوڑے کی طرح برسنے لگتاتھا۔ اسے دھڑ، دھڑ، دھڑناقابلِ برداشت آوازیں سنائی دیتیں تو وہ مال گاڑی کے ڈبے کا دروازہ کھول کر اپنا سر باہر نکال دیتی تھی، آندھی نما تاریک ہوا کے جھونکوں میں اس پر غنودگی طاری ہونے لگتی تھی۔ اس کا دماغ کمپیوٹر کے کسی ایسے پروگرام کی طرح corrupt ہوتا جارہا تھاجسے ہونے اورنہ ہونے کا کوئی خیالی virus چاٹتاجارہا تھا۔وہ منہ ہی منہ میںجانے کہاں سے سنے ایک جملے کو بڑ بڑاتی تھیwhen the heart breaks it does’nt break evenاور سونے کی کوشِش کرتی تھی۔اسے خواب میں ان گنت سانپ دکھائی دیتے تھے، وہ اسے ڈستے رہتے تھے اور اس کی ساری طاقت سلب ہوجاتی تھی۔وہ انہیںہٹا نہ سکتی تھی۔ جان سے مار دینا تو اس نے سیکھاہی نہ تھا۔ اس کی آنکھ کھل جاتی تھی اور اسے تمام بدن میں زہر سرایت کرتا محسوس ہوتاتھا۔ وہ رات بھر چونک ، چونک کر ہڑبڑا کر اٹھتی رہتی تھی۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ کسی رات اسے کوئی بھیانک خواب نہ دکھائی دے اور وہ جی بھر کر کبھی توبس ایک ہی رات سکون سے سوجائے۔ مگر اس کی خواہش پوری نہیں ہوتی تھی۔ وہ روز بہ روز زہریلی ہوتی جارہی تھی۔ اِتنا زہر بھرتا جارہا تھا اس میں کہ وہ کسی نشے کی طرح اس کی عادی ہوگئی تھی۔ وہ جیسے اپنی مال گاڑی کے ڈبے میں نہیںسانپوں سے بھری ایک کھائی میں تھی۔ اس کے چاروں طرف سانپ تھے۔ کبھی کبھی تو اسے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے اس کے بھی پھن نکل آئیں گے۔اسے رات میںخواب کے علاوہ دن میں بھی جابجا اینا کونڈا نظر آتے تھے۔
یہ بھی کیا تک ہے بھلا۔ وہ سوچا کرتی تھی۔ میںنے تو کبھی زندگی کے کسی کردار سے دھوکہ نہیں کیا۔ سب ہی کردار نبھائے ہیں اور اپنی نیت کے خلوص کے ساتھ۔محبوبہ سے لے کر، بیوی، ماں ، بہن ، بیٹی، دوست، نرس ، ڈاکٹر، counsellor، samaritan ، ملازمہ،دھوبن، nanny وہ کونسا کام ایسا تھا جو اس نے نہیں کیا تھا ۔ اس نے جیسے بیمار ، لاعلاج جانوروں کے لئے ایکrefugeسا کھول رکھا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ تمام زخمی جانور بس مرہم پٹی تک اس کے ساتھ ہیں، علاج ہونے کے بعدسب چلے جائیں گے۔ فرق صرف اتنا سا تھا کہ اس sanctuaryمیں جانورنما انسانوں کا بسیرا ہوا کرتا تھا۔اسے یاد نہیں تھا کہ اس نے کبھی اپنے کسی کردار کے ساتھ فریب سے کام لیا ہو۔ ہاں ایک مرتبہ اپنے .”چیف” کو ضرور سیر کے بہانے سے کسی اور کے حوالے کردیا تھا۔ وہ اس کا rottweiler تھا جسے اس نے پانچ ہفتے کی عمر سے گود لیا تھا اور چھ برس کی عمر میں خود سے جدا کردیا تھا۔ تو کیا چیف نے مجھے بد دعا دی تھی؟ اس نے جھر جھری لے کر سوچا۔ نہیں نہیں وہ ایسا نہیں کرسکتا تھا۔ وہی تو ایک وفادارتھا۔ وہ ضرور مجھے اسی طرح یاد کرتا رہا ہوگا جیسے میں نے اس کیلئے برسوں آنسو بہائے تھے۔ جیسے آج بھی اس کی بھوری آنکھیں مجھ سے بچوں کی طرح کسی sweet کیلئے تقاضا کرتی رہتی ہیں۔ اور اس کا ڈاگ کالر اب بھی میں نے سنبھال کر رکھا ہوا ہے ۔ یہ فریب کہاںتھا کہ اسے کسی اور کے پاس بہتر زندگی کے لئے بھیج دیا تھا میں نے ۔ وہ اپنے کئے کو substantiate کرتی رہتی تھی۔ کتنا possessive اور territorial تھا وہ ۔ رونے کب دیتا تھا مجھے وہ۔ اپنے خوبصورت شیر کی طرح پنجوں سے میرے پائوں چھو کر مجھے احساس دلاتا رہتا تھا اپنے ہونے کا۔ وہ مسکراتی what a price to be disloyal? ۔ وقتی طور پر وہ اپنی مال گاڑی کے ڈبے سے اتر کر چیف کے ڈاگ کالر کو اپنی گردن میں کسی necklace کی طرح پہن کر آئینہ دیکھنے لگ جاتی تھی ۔ اس کا دماغ مائوف ہونے لگتاتھا۔شاید وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بھی کوئی جانور اتر آیا تھا۔۔۔
عجیب زندگی تھی اس کی ۔ وہ تمام جغرافیائی حدود سے باہر کششِ ثقل سے نکل کر کائنات میں معلق ہوکر رہ گئی تھی۔اس میں ایک ہی بات ایسی تھی کہ جسے فی زمانہ ترک کردینا بہتر تھا۔مگر وہ کیا کرتی بہت احتیاط سے کام لے کر بھی وہ اپنی مجبور ی سے لاچارہو ہی جاتی تھی۔ وہ کسی اور کے ساتھ جھوٹ نہیں بول سکتی تھی اور اسے جھوٹ سے نفرت تھی۔ اسے حقیقت چاہے جتنی بھی تلخ ہو قبول تھی ۔ دروغ تو اس نے صرف خود اپنے لئے patent کروا رکھا تھا جیسے۔
لوگ اسے کبھی bohemian، کبھی ملنگنی تو کبھی ’سودین‘ سمجھتے بلکہ بعض تو اسے اس نام سے بلاتے بھی تھے۔کہا کرتے تھے ’سودین تو جمعرات کو لنگر پر نہیں آئی تیرا رات تک انتظار ہوتا رہا ہے‘۔ اسے بہت کچھ یاد آنے لگا۔تقریباً بیس ، پچیس برس کے بعد ایک روز کسی کے ساتھ فون پر بات ہوئی تھی۔long distanceکال تھی والدہ کی کوئی دوست اس کے ساتھ بات کررہی تھیں۔وہ اسے بچپن سے جانتی تھیں۔ اسے بیک گرائونڈ میںان کی آواز گونجتی محسوس ہوئی ۔’مجھے تو آج بھی تیری آنکھیں یاد ہیں۔ سب کچھ ظاہر کر دینے والی بولتی ہوئی خاموش بڑی بڑی آنکھیں۔ تیری آنکھوں میں حیرانی دوڑتی پھِرتی ہے۔ تو اب بھی ویسی ہی ہے کتنی پیاری ہے ، تو کتنی اچھی ہے‘۔۔جانے اور کیا کچھ کہہ رہی تھیں وہ مگراس کے ذہن کے کسی گوشے میں اس کی وہ بچپن کی تصویر منہ چڑا چڑا کراس کاا مذاق اُڑا رہی تھی ۔ وہ حیران تھی کہ بعض لوگوں کو کیسے وہ اب بھی اُسی طرح سے یاد تھی جیسے وہ کبھی ہوا کرتی ہوگی۔ تو کیا میری آنکھیں سب کچھ ظاہر کر دیا کرتی تھیں؟ اگر ایسا ہی تھا تو کسی موڑ پر کسی نے مجھے روک کر میری آنکھوں میں لکھی تمام تحریر پڑھ کر کیوں نہیں سنا دی تھی؟ ،مجھے کیوں نہیں بتا دیا تھا کہ سامنے کھائی آنے والی ہے، خلیج سے بچنا، بہت بڑا کہسار ہوگا راستے میں، بالکل عمودی اورستواں۔۔۔ اورتمہیں اُسے سر کرنا بھی شرط ہوگا، کیوں نہیں کسی نے بتایا تھا کہ یہ جو سامنے سُراب ہے یہ چمکتا تو پانی کی طرح سے ہے مگر تمہیں ننگے پائوں اِس کے ایک ایک ذرے کو چن چن کر اِسے اِس طرح پار کرنا ہوگا اور اطرح کہ چِلچِلاتی دھوپ میں پائوں پر آبلے بھی نہ بنیں اور بدن بھی نہ جلے، پیاس بھی نہ لگے، نیند بھی نہ آئے اور صحرائ عبور بھی ہوجائے ۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔ سب ہی مہر بلب تھے۔ صحرائ عبور کرلیاتو سامنے سمندر در سمندر کیسے پار کروں گی ، مجھے تو تیرنا بھی نہیں آتا اور میرے پاس تو کاغذ کی کشتی تک نہیں۔۔۔۔۔۔۔ور پھر اگر یہ سب سمندر پارہو بھی جاتے تو بعد میں آنے والا وہ تاریک بھیانک خوابوں کا جنگل کیوں نہ دیکھ سکا کوئی میری آنکھوں میں اور پھر وہ کھولتا ہوا دہکتا ہوا آتش فشاں جِس نے میرا راستہ روکنا تھا۔۔۔۔۔ وہ جانے کیا کیا پوچھتی رہتی تھی اپنے آپ سے۔وہاں فرشتے بھی نہیں تھے کہ ان سے ہمکلام ہوتی۔
سوچتی تھی کہ اس نے خود اپنی آنکھوں میں جھانک کر وہ سب کچھ کیوں نہ دیکھ لیا جواوروں کو نظر آتا تھا حالانکہ تب تو اس کی آنکھیں زندگی سے بھرپور تھیں، بڑے حسین مستقبل کے آئینے دیکھا کرتی تھیں، چھوٹا سا گھر ہوگا، شاید کبھی کوئی پارٹنر بھی اگر دِل نے مانا تواور بہت تیرمار لیا توممکن ہے کہ ایک آدھ بچہ بھی بیچارہ مجھے بھگتنے لگ جائے گا۔ تو کیا آنکھوں میں لکھا ہوتا ہے یہ سب؟ وہ اُٹھ کر اپنے لائونج کے سب سے قیمتی آئینے کی طرف رُخ کرتی کہ یہی وہ واحد آئینہ تھا جو اس کے ساتھ جھوٹ بھی بولتا تو وہ اس سے بدگمان نہ ہوتی ۔ مگراس کا یہ آئینہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا تھا ۔۔۔ دو سرخ سرخ چندھی چندھی سی آنکھیں، پنسل سے بڑی کاوِش سے بنائے ابرو، سوجے ہوئے پپوٹے، ویرا ن صورت تو کیا وہ سفر در سفر اپنی پہچان ۔۔اپناچہرہ بھی کہیں کھو آئی تھی ۔ کیایہ اُس معصوم سے خواب کا ہرجانہ تھا جو اس نے کبھی بچپن میں دیکھا تھا۔ وہ خود سے خاموش ہمکلامی کا سلسلہ شروع کردیتی۔۔۔۔ وہ سب کھائیاں جو میرے سفر کا حصہ تھیں وہ میری آنکھوں اور رخساروں پر کیوں اُتر آئی ہیں؟۔۔۔۔۔ وہ سب سمندر جو میںنے عبور کرلئے تھے ڈوبتے اُبھرتے وہ میری سوکھی آنکھوں سے پھوٹا کیوں کرتے ہیں، وہ سب سنگ جو میں نے سر پر سنبھال لئے تھے وہ اب تک میرا تکیہ سرخ کیوں کئے ہوئے ہیں،؟۔۔۔۔۔ وہ میرے خوابوں کے لاشے جو میں جگہ جگہ دفن کرتی آئی تھی وہ میرے پیکر میں اپنے اپنے ڈھانچوں کے ساتھ زندہ زندہ سے کیوں لگتے ہیں ، ؟۔۔۔۔یہ اپنے ساتھ مجھے کسی اور کی سانسیں کیوں سنائی دیتی ہیں؟ ۔۔۔۔ یہ میرے ساتھ ایک ہجوم کا شور کیوں ہے ؟ ۔۔۔۔یہ نا تمام مسافت اور پھر اس کی کوئی وجہ بھی تو ہو؟
وہ خود پر ایک کرب بھری نظر ڈالتی۔ اس کے مخمل سے پائوں اِتنے کھردرے ہوچکے تھے کہ اسے اپنے پائوں ہی نہیں لگتے تھے، اپنا بدن اسے کسی کاریگر کاحنوط شدہ شاہکار سا لگتا تھا کہ جِس کا چہرہ تو تھا مگر اُس پر کوئی تاثر نہیں تھا،جِس کی آنکھیں کھلی تھیں مگر وہ دیکھ نہیں سکتا تھا،، جِس کے کان تھے مگر وہ سُن نہیں سکتا تھا، تو کیا اُس میں روح کا عنصر بھی ہے یا نہیں؟ وہ سوچتی ۔دِل پر ہاتھ رکھتی تودھڑکتا تو محسوس ہوتا تھا ، مگر گھڑی سے بھی تو ٹِک ٹِک ٹِک کی آواز آتی رہتی ہے ۔ اسے اپنا آپ ایک رہٹ سے بندھے بیل سا محسوس ہوتا۔ وہ ایک مشین بن کر رہ گئی تھی۔ اسے اپنے ادا کردہ کردار ایسے یاد آنے لگتے گویا وہ اب بھی وہی کردار ادا کر رہی تھی۔وہ جیسے ایکشن replay میں چلی جاتی اور پردے پرشایدکسی اورکی زندگی کی فلم چلنے لگتی تھی۔را ت بھر نیند آئے یا نہ آئے صبح اُٹھتی غسل کرکے تیار ہوکر بچوں کو سکول لے کر جاتی تھی، شوہر کو اُس کے دفتر چھوڑتی ہوئی اپنے دفتر جاتی تھی اور سوائپ کارڈ سے ہیڈ آفس کا دروازہ کھولنے سے پہلے جیسے کوئی کوٹ ہینگر منہ میں چھپا کر ایک مستقل لمبی سے مسکراہٹ چہرے پر سجا کر دفتر کی سیٹ پر اِس طرح جابیٹھتی تھی کہ گویا کوئی برسوں کا متلاشی اسکا عاشق اسے گود میں بِٹھانے کیلئے بے چین سا تھا۔ دفتر کا کام پورا کرتی عین ایک خاص وقت پر دفتر چھوڑ کر شوہر کے دروازے پر جاتی اُسے اُٹھاتی پھر چلتے چلتے اس کی ٹیکسی نما کار چھ بجے بچوں کے سکول پر جاپہنچتی اُنہیں آفٹر سکول کلب سے اُٹھانے کیلئے۔گھر میں وہی معمول کے کام اور پھر نئے دِن کی تیاری۔ وہ تلخی سے مسکرائی۔ اسے یاد آیا کہ ان دنوں وہ بستر پر اُس وقت جاتی تھی جب اسے یہ محسوس ہو تا تھاکہ اب نہ گئی تو پائوں چلنے سے اِنکار کردیں گے زمین پر گِر جائے گی وہ۔ اسے بستر سے خوف محسوس ہوتا تھا اور اسے ڈر کے مارے سکون سے نیند بھی نہیں آتی تھی ۔
اُن دنوں ایک عرصے تک اسے اپنے اطراف میںڈرائونی ڈرائونی شکلیں دِکھائی دیتی تھیں اندھیرے میں بھی اور دن کی روشنی میں بھی۔ کسی کے پر ہوتے تھے کسی کی چونچ، کوئی بغیر پروں کے ہی کسی آسیب کی طرح اِدھر سے اُدھر اچھل رہی ہوتی تھیں۔ جب وہ بہت بے زار ہوجاتی تو سائیڈ ٹیبل پر دھرے لیمپ کو جلا جلا کر بار بار گھڑی پر وقت دیکھا کرتی کہ کہیں صبح بچوں کو سکول پہنچانے میں دیر نہ ہوجائے یا کہیں وہ اپنے دفتر دیر سے نہ پہنچے۔ اِس مشینی کاروائی میں وہ خود کو ڈھونڈتی پھِرتی کہ وہ اس تمام منظر سے نکل کرخود کہاںچلی گئی تھی۔ اگر وہ اپنے جسم سے نکل کرمفرور ہوچکی تھی تواسے خبر کیوں نہ ہوئی اوراگر یہ اب وہ خود نہیں ہے تو پھر اس میں کون سرایت کرگیا ہے؟ وہ تصویر کیا ہوئی بڑی بڑی تازہ آنکھوں میں بھرے بھرے روشن خوابوں سے بھر پور۔ اسے اپنی تلاش تھی کہ وہ کہاں تھی اور اگر چلی بھی گئی تھی تو واپس لوٹ کر کب آئے گی۔ اسے اپنا انتظار سا رہنے لگا تھا۔
کیا میرے ساتھ ہیولے رہتے ہیں؟ میں کِس قفس میں ہوں؟ کیا کوئی ہے میری آواز سُننے والا؟ مگر یہ قفس تو وہ تھا کہ جِس کے اندر آنے کا راستہ تو ضرور تھا مگرباہر جانے کا نہیں اور اس کی دیواریں سائونڈ پروف تھیں، آواز تک باہر نہیں جاسکتی تھی۔ وہ خود کو کہاں سے جاکر ڈھونڈ کر لائے ؟ اسے بے چینی ہونے لگتی۔ وہ اپنے آپ سے ملنے کیلئے ایک اضطرابی کیفیت سے گزرنے لگتی۔ کوئی ہے ؟ ارے کوئی ہے کہیں ؟ ارے خدارا کوئی تو میری آواز سن لو یہ’ Alcatraz‘ میرے لئے بہت تنگ ہوتا جاتا ہے۔ مجھے نکال دو یہاں سے میرا دم گھُٹا جارہا ہے۔کتنا طویل transit تھا۔وہ تلخی سے مسکراتی۔
اسے کچھ کچھ یاد آتا جارہا تھا۔اس بچپن کی تصویر سے نکل کروہ جوں جوں بڑی ہوتی گئی اُس کی حیرانیوں کے سمندروں کی طغانیا ں اُسے کبھی ایک کنارے پر لا پٹکتی تھیں کبھی دوسرے کنارے پر ۔ وہ پتھر ہوتی جا رہی تھی ہر احساس سے عاری ۔ برسوں تنہائی سے بھرپور زندگی اُسے اِتنا کُچھ سِکھا گئی تھی کہ اُس کے پاس دو پوسٹ گریجوئیٹ ڈِگریوں کی تعلیم فقط حروفِ ابجد تک محدود ہوچکی تھی ۔ یہ اکیڈیمِک کوالیفیکیشنز (academic qualifications)اور حقائِق کی یونیورسٹی کےmodules اِتنے مختلف ہوتے ہیں یہ اِنکشاف اُس پر لمحہ لمحہ مر مر کر اور لمحہ لمحہ جی اُٹھنے کے کٹھِن اسباق سے گزر کر عمر کے اُس دور میں ہوا تھاکہ جب وہ لڑتے لڑتے خود اپنے آپ سے ہار کرزبردستی اپنے تئیں خود کو جیتے ہوئے کھِلاڑیوںمیں شمار کرتے ہوئے ا پنے ہاتھ سے اپنے گلے میں فتحمندہونے کا تمغہ پہن کر سر اُٹھا کر چلنا سیکھ رہی تھی۔ اُس کا بچپن گڑیا گڈے کا کھیل کھیلتے ہوئے تو نہیں گزرا تھا۔ ہاں پتنگیں اُڑاتے ہوئے خود کوآسمان میں ہوا کے دوش پر لہراتی رہتی تھی۔ گھٹن کے لغوی معنی تو وہ شاید جانتی ہوگی مگر حقیقت میں وہ اِس تجربے سے نا شناس آزاد فضائوں میں رہا کرتی تھی۔ سکول سے واپس آکر گرمیوں کی راتوں میں صحن میں بِچھے پلنگ پر آسمان کی چھت پر چمکتے ستاروں میں اپنا گھر ڈھونڈا کرتی تھی۔ ہنگاموں سے دور، قمقموں سے روشن ، خاموش پُرسکون گھر ۔ اِسی گھر کے تصور نے اُسے زندہ رکھا ہوا تھا۔ وہ جوان ہوئی تو ایک broken family سے متعلق ہوگئی۔ والدین میں علیحدگی نے اُس کے تحفّظ کو ایک ایسی برچھی سے تیرہ تیرہ کردیاتھا کہ وہ بالوں کی چاندی کو cosmetic effects کے رنگین پیکیج میں قیدکرنے کے موڑ پر بھی انجانے میں شایدایکfigure father ہی کو تلاش کرتی جارہی تھی۔
وہ رفتہ رفتہ گونگی اور بہری بن کر رہنے لگی تھی مگر اندھی وہ کبھی نہیں ہوئی تھی ۔وہ منظر بھی دیکھ سکتی تھی اور پسِ منظر بھی۔ اس کے باوجود وہ جھوٹے حرفوں کے orbits میں دراصل خود اپنے ہی محور کے گرد گھومتی رہتی تھی۔ فادر فگرز پر اعتبار نہ کرتے ہوئے بھی اُنہیں بار بار benefit of doubt دیتی رہتی تھی۔ ایک مکڑی کی طرح خود اپنے گرد ایک سنہری طلسمی جال بنتے ہوئے وہ عارضی ساتھ کی ساعتوں سے عمر کے برسوں کشیدکرنے کی سعی میں اپنے آپ کو خود اپنی ہی جھوٹی تسلیوں کے جھولے جھلاتی رہتی تھی ۔ اُسے معلوم بھی ہوتا تھا کہ کسی ہی آن میں bone china سے بنے پیکرحالات کے چھوٹے سے کنکر سے چکنا چور ہوجائیں گے مگر شاید یہ اُس کی روح کی تنہائی تھی جو اُسے خود سے جھوٹ بولنے پر اُکساتی رہتی تھی۔ ممکن ہے کو وہ اپنے تئیںخود کو قناعت پسند سمجھتی ہو مگر نفسیاتی پہلو مدِ نظر رکھا جائے تو شاید وہ کسی حد تک sadist ہوچکی تھی۔ اُسے ہر نئی چوٹ سے لگے زخم کو برسوں چاٹ چاٹ کر مندمِل کرنے کی عادت سی ہوگئی تھی ۔ وہ مستقل ساتھ سے خوف زدہ تھی۔ وہ اپنے رقبے میں کسی اور ذی روح کے مستقل ہونے کے تصور سے وحشت زدہ تھی،وہ اپنے ہی متعین کردہ فاصلوں سے کمزور نسبتوں میں اپنے لئے ہنگاموں سے دور، قمقموں سے روشن پُرسکون گھر تلاش کرتی رہتی تھی۔
اُسے مکان کی نہیں گھر کی ضرورت تھی ۔ وہ والدین کے مکان سے نِکل کر ایک اور مکان کی کمزور دیواروں کا ملبہ بھی دیکھ چکی تھی۔ اُس مدفن میں اُس کی تمام خواہشیں ، حسرتیں، رت جگے، حیرتیں اور کاوشیں زندہ درگور ہوگئی تھیں۔ اب بھی کبھی کبھار کسی نہ کسی خواہِش کا دم توڑتا ہوا لاشہ ، کسی حسرت کی آخری ہچکی، کسی حیرت کا بے جان جسم اُس کے ساتھ کسی آسیب کی طرح چِمٹ جاتا تھا اور وہ اپنی ذات سے باہر کسی خوف زدہ پرندے کی طرح اپنی روح کو کبھی ازل اور کبھی ابد کے منجمدسفر پر روانہ کر دیا کرتی تھی ۔ کبھی کبھی اُسے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ ادھوری رہ گئی ہے اُسے اپنے کھوئے ہوئے حصوں کی تلاش ہے اور کبھی کبھار وہ اپنے آپ کو اتنا مکمل سمجھ لیتی تھی کہ کئی روز کے لئے اُس کا ناطہ باہر کی دُنیا سے کٹا رہتا تھا۔ وہ کسی برہم سمندر میں دور دراز جزیرے کی طرح ہست کی زمینوں سے کٹ کرایک اور ہی دُنیا میں رہا کرتی تھی ۔ اُسے اپنی ذات کے اُلجھے ہوئے ریشم کو سُلجھاتے ہوئے اور اُلجھانا پسند تھا۔وہ اب بھی شایداپنے ہی بنائے ہوئے شیشے کے تابوت میں لیٹ کر آنکھیں بند کرکے بچپن میں سُنی کہانی کے شہزادے کی منتظر تھی کہ وہ اُسے اِس تابوت سے نکالے گا اور کہانی happily ever after کے موڑ پر اختتام کو پہنچ جائے گی۔مگر reality تو کہانی نہیں ہوتی۔ دردتو صرف اسے محسوس ہوتا ہے جِسے زخم آئے اور گھائو توصرف اور صرف وقت کے ساتھ بھرتے ہیں وہ بھی اگر بھریں تو۔ وہ زخمی زخمی سوچا کرتی کہ شایداپنے کمائے ہوئے زخم بہت قیمتی ہوتے ہیں۔
وہ خود کو توڑ توڑ کرجوڑنے کی ناکام سعی سے تھک جاتی تو کبھی اس کے ذہن میںاس کی زندگی کے سرسری کردار بھی جاگ اٹھتے تھے۔ ایک روز اسے اچانک مسز سمرفیلڈیاد آگئی۔ ان دنوں وہ ایک دو کمروں کے مکان میں کرایہ دار کی حیثیت سے رہتی تھی ۔ ایک ٹوٹی پھوٹی گاڑی بھی تھی اس کے پاس۔ بیس برس کی بات ہوگی کہ وہ حادثاتی طور پر اِس clairvoyant کے دروازے تک چلی گئی تھی۔ عجیب پراِسرار سا بڑا سا گھر تھا جِس کے درودیوار سے وحشت سی ٹپک رہی تھی۔ دروازے پر ایک آسیب سی ، کھچڑی بالوں والی پکی عمر کی خاتون نے بڑی محبت سے خوش آمدید کہا۔ وہ دراصل کسی کی درخواست پر اس کا ساتھ دینے کے لئے وہاں گئی تھی۔ کاریڈور میں جابجا نصب سیاہ رنگ کے شیلف عیسائیت کے ہر icon کے relics سے سجائے گئے تھے۔ مسزسمرفیلڈ کے ساتھ ملاقات کا وقت دراصل اس نے لیا تھا وہ جس کے ساتھ ازراہِ مروت گئی تھی۔ مسز سمرفیلڈ کو اصولاً اسے بالکل نظر انداز کرکے اپنی تمام تر توجہ صرف اپنے اصل کلائنٹ پرمرکوز رکھنی چاہئے تھی ۔ مگروہ بار بار اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ اس نے ان دونوں کو ایک کمرے میں انتظار کے لئے بٹھا دیا اور کہنے لگی میں آپ سے آدھ گھنٹہ میں ملوں گی ۔ مجھے اپنے آپ کو tune کرنا ہے۔ اسے بتایا گیا تھا کہ وہ ایک white witchتھی۔
وہ سمجھی یہ بھی فقیروں اور نجومیوں کی طرح سے کوئی شخصیت ہوگی جسے ماننے والے اس کے پاس اپنے مستقبل کا حال پوچھنے آتے ہیں۔ کمرے سے باہر جاتے ہوئے مسز سمرفیلڈ اپنے کلائنٹ کو بالکل اس تمام منظر سے نکالتے ہوئے اس کے ساتھ براہِ راست مخاطب ہوتے ہوئے بولیI see you in a brand new car and very soon۔ وہ دل ہی دل میں ہنس دی۔ سوچنے لگی یہ تو ایک honey trap ہے۔ مسزسمرفیلڈ نے دروازے سے باہر اس کی ٹوٹی پھوٹی کار دیکھ لی ہوگی۔ وہ شاید اسی بہانے اسے بھی اپنے ماننے والوں کے حصارمیں لا رہی ہے۔وہ ان دنوں برسرِ روزگار نہ تھی اور جاب سینٹر کے چکر لگا لگا کر کوئی ملازمت تلاش کر رہی تھی۔ اس کاواحد جینز کا ٹرائوزر گھٹنوں سے تار تار ہوچکا تھا اور پھٹے ہوئے پائنچوں کو اس نے خود ادھیڑ کرسب دھاگے نکالے ہوئے تھے ۔ صاف دکھائی دے رہا تھا کہ اسے کسی sound income کی ضرورت تھی ۔ ظاہر ہے کہ مسز سمرفیلڈکے لئے یہ سب کچھ دیکھ لینا کچھ مشکل نہیں تھا لہٰذا یہ مستقبل کے سبز باغ کا مژدہ اسے بالکل متائثر نہ کرسکا۔
مسزسمرفیلڈ کے کمرے سے باہر جانے کے بعد اس کے ساتھ آنے والی شخصیت نے اسے بتایا کہ اس کی کہی بات کو مصدقہ جان لوں کیونکہ ایک بار اس نے اسی طرح کمرے میں اسے بٹھاتے ہوئے بھی کبھی کہا تھا I see you surrounded by Sycamore treesاور یہ بات دو تین ہفتے میں اس طرح سچ ثابت ہوئی تھی کہ نہ صرف اس کا نیا بزنس Sycamore roadپر قائم ہوا تھا بلکہ اس نے نیا گھر بھی sycamore avenueپر ہی خریدا ہواتھا۔ تاہم وہ اسے پیر بڑا یا یقین سمجھتے ہوئے خاموش رہی۔ بھلا غیب کا علم کوئی اور کہاں جان سکتا ہے اور وہ بھی ایک انسان؟ بہرحال جب وہ وہاں آہی گئی تھی کیا کرسکتی تھی سوائے مزید انتظار کے ۔ ابھی مسز سمرفیلڈ نے spirits کو بلا کر اپنے کلائنٹ کی destiny کی فل ریڈنگ کرنی تھی۔ اس نے بور ہوکر اطراف کا جائزہ لینا شروع کیا۔ کھڑکی سے باہر فرنٹ گارڈن خود رو بوٹیوں سے بھرا ہوا تھا ، کیاریوں میں لگے پودے کیاریوں سے باہر گر رہے تھے۔ باغ کیا تھا اچھا خاصا ویران قبرستان سا دِکھائی دے رہا تھا۔ ٹھنڈا یخ ماحول، زندگی کی روشنی سے عاری صرف موم بتی نما چھوٹے چھوٹے سے بلب جل بجھ رہے تھے۔ کھڑکیاں اور دروازے بھی سیاہ رنگ کے تھے۔ اسے مسز سمرفیلڈ کا گھر روحوں اور بھوتوں کا مسکن محسوس ہورہا تھا۔دیواروں پر جگہ جگہ نہ دکھائی دینے والی آنکھیں اسے گھورتی ہوئی نظر آرہی تھیں۔ وہ شاید خوف زدہ سی لگ رہی تھی۔ اسے ساتھ لے کر آنے والے نے اسے حوصلہ دیا کہ گھبرائو نہیں اگر مسز سمرفیلڈ تم پر توجہ دے رہی ہیں تو شاید ان کی spirits انہیں تمہارے بارے میں کچھ بتا رہی ہیں۔ تم دھیان سے سن لو تمہارا کیا جائے گا۔ مسز سمرفیلڈ کے انتظار میں آدھ گھنٹہ اسے بہت طویل لگنے لگا۔ خدا خدا کرکے وہ دروازے پر آئیں اور اسے کہنے لگیں کہ میں اپنے کلائنٹ کے سیشن کے بعد تمہارے ساتھ بھی ایک free reading session کرنا چاہتی ہوں۔ تم یہاں پر بیٹھ کر میرا انتظار کرو۔ وہ اپنے کلائنٹ کو لے کر اسے اکیلا چھوڑ کردروازہ بند کرکے چلی گئیں۔
جانے کتنی دیر بعد اسے دروازے میں جنبش محسوس ہوئی ۔ مسز سمرفیلڈ اپنے کلائنٹ کو کمرے میں بٹھا کر اسے وہاں سے دوسرے کمرے میں لے گئیں۔ کمرہ کیا تھا چھوٹا سا ایک تاریک حجرہ سا تھا ۔جس کے ایک کونے میں چھت سے لٹکے گہرے سرخ رنگ کے پردے نے ایک چھوٹی سی میز اور کرسی چھپارکھی تھی۔ دیوار پر موم بتی نما بلب تھے جنہیں اور مدھم کردیا گیا تھا۔ وہ پردے کے پیچھے جاکر اپنی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولیں کہ اگر تمہیں میرا چہرہ اور ہتھیلیاں سرخ ہوتی ہوئے نظر آئیں تو بھی ایک لفظ کہے بغیر خاموش بیٹھی رہو، یہ معمول کا ایک حصہ ہے۔ مجھے تمہارے لئے آئی ہوئی spitits نے مجبور کردیا ہے اس ریڈنگ کے لئے۔ جب تک میں آنکھیں بند کرکے بولتی رہوں تمہیں آواز نکالنے کی اجازت نہیں ہے۔ جب میں آنکھیں کھول کر تم سے سوال کرنے کے لئے کہوں تب تم مجھ سے کچھ بھی پوچھ سکتی ہو۔ اگر تم نے مجھے درمیان میں disturb کردیا تو میں spirit worldسے واپس لوٹ نہیں سکوں گی اور یہ میرے لئے ایک خطرناک بات ہوگی۔ وہ جیسے ایک trance میں تھیں اور ان کے ساتھ ساتھ اسے بھی ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ بھی کسی hypnotic عمل کے زیرِ اثر تھی۔
مسز سمرفیلڈ نے سرخ پردے کو درمیان میں سے دونوں اطراف کی جانب سرکا دیا۔ باقی کمرے میں اندھیرا ہوگیا بس ان کا کونہ صرف اتنا روشن تھا کہ اسے مسز سمرفیلڈ کا چہرہ اور ہاتھ دکھائی دے رہے تھے۔ان کی آنکھیں بند ہوگئیں اور وہ جیسے کسی گہرے غار میں سے گویا ہوئیں۔’تمہاری چھوٹی بہن جو اس دنیا میں آتے ہی spirit world میں منتقل ہوگئی تھی اپنے ہاتھوں میں سنہرے رنگ کے سونے کے پھول لے کر آئی ہے اور تم پر نچھاور کرتے ہوئے تمہیں بتا رہی ہے کہ وہ تم سے بہت محبت کرتی ہے اور تمہارا مستقبل ان پھولوں کی طرح سنہرا ہے۔‘ اس کا منہ کھلا رہ گیا کیونکہ یہ بات سوائے اس کے اپنے کنبے کے کوئی اور نہیں جانتا تھا کہ اس کی ایک چھوٹی بہن بھی پیدا ہوئی تھی جو صرف چند گھنٹوں کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوگئی تھی ۔ اب اس نے مسز سمرفیلڈ کی جانب دلچسپی سے دیکھنا شروع کردیا۔’شاید یوسف ہے یا Josephوہ تم سے معذرت کررہا ہے کہ وہ تمہیں ایئرپورٹ پر لینے نہیں آسکا کیونکہ اس وقت وہ spirit world میں چلا گیا تھا‘۔اس کی آنکھیں حیرانی سے ابل کر باہر آنے لگیں۔ جوزف ان کا ہمسایہ تھا اس کی عمر کوئی بارہ یا تیرہ برس کی ہوگی۔ وہ اس کے چھوٹے بھائی کا دوست تھا۔ ایک مرتبہ جب وہ فیملی کے ساتھ گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کے لئے کہیں گئے تھے تو وہ ایئر پورٹ تک انہیں رخصت کرنے کے لئے آیا تھا اور اس نے کہا تھا واپس جلد آجانا میں تمہیں لینے کے لئے بھی آئوں گا ۔ ان کے واپس آنے پر معلوم ہوا کہ اسے پھیپھڑوں کا کوئی جان لیوا مرض صرف ایک ہی ہفتے میں اس کی زندگی کا خاتمہ کرگیا ہے۔ وہ واپس آکر اس کی ماں کے ساتھ اس کی قبر پر condolence کے لئے گئے تھے۔ جوزف کا تو کبھی تذکرہ تک نہ ہوا تھا کسی کے ساتھ۔ وہ اندھیرے کمرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگی کہ شاید کہیں جوزف نظر آجائے۔
مسز سمر فیلڈ کا چہرہ اور ہتھیلیاں اس طرح سرخ ہونے لگے کہ جیسے ان میں سے ابھی لہو رسنے لگے گا۔ اس نے اپنی بند آنکھوں سے اسے ایک سرخ گلاب والے کے اس کے دروازے پر آنے کی خبر دی تھی اور کہا تھا کہ تمہارا ایک semi detached چھوٹا سا خوبصورت گھر ہوگا جسے تم بہت سجاکر رکھو گی اور وہاں تمہیں تمہارا soul mate ملے گا ۔ وہ اپنے ہاتھ میں ایک سرخ گلاب کا پھول لے کر آئے گا اور تمہارا سارا گھر سرخ گلابوں سے بھر دے گا ۔ پھر تم تمام عمر اپنے گھر کے گلدان سرخ گلابوں سے بھرتی رہو گی ۔ اس کے بعد مسز سمرفیلڈ نے آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھول دی تھیں اور اسے کچھ پوچھنے کے لئے کہا تھا۔ مگر وہ تو کچھ بھی پوچھنے کے لئے وہاں نہیں گئی تھی۔ اس کے پاس تو پوچھنے کے لئے کچھ تھا ہی نہیں۔ سیشن ختم ہوا اور وہ مسزسمرفیلڈ کے ساتھ ان کے حجرے سے باہر آگئی۔
اسے بتایا گیا تھا کہ مسز سمرفیلڈکا کہا کبھی جھوٹ نہیں ہوتا۔ اسے نہ جانے کیوں آج وہ یاد آگئی تھیں۔مسز سمر فیلڈ سے ملاقات کے صرف چند روز بعد ہی اسے ایک جاب کا اپوائنٹمنٹ لیٹر آگیا تھا۔ شاید تین یا چار ہفتے ہی گزرے ہوں گے کہ اس کے پاس ایک نئی گاڑی بھی آچکی تھی۔ وہ سوچنے لگی کہ اگر مسز سمرفیلڈ کا کہا سچ تھا تو کیا مجھ سے بھی محبت کرنے والا کوئی تھا جو ابھی سفر میں تھا۔ اسے جانے میرے front door تک پہنچنے میں کتنے زمانے لگ جائیں۔تو میں اورانتظار کروں؟ مگر کب تک؟ اس پر تعلق کے نام سے ہی ایک عجیب سا لرزہ طاری ہوجاتا تھا۔ وہ ڈر جاتی تھی ۔ وہ اب اعتبار دریدہ نہیں ہونا چاہتی تھی۔ اس کے بدن اور روح پر اب اور زخموں کی گنجائش نہیں رہی تھی۔ وہ اپنی تسلی کے لئے سوچتی کہ اسے تو اب اس کی اس مال گاڑی میں کوئی ڈھونڈ بھی نہیں سکتا تھااس نے خیال ہی خیال میںاس کے باہر چاروں طرف ایک دیوار بھی بنا رکھی تھی ۔ اونچی سی دیوار کہ جسے کوئی عبور نہ کرسکے۔تاہم دنیا سے اتنا سا تعلق ضرور جوڑ رکھا تھا اس نے کہ وہ اپنے ساتھ اپنا mobile فون بھی رکھا کرتی تھی جو اس نے کبھی استعمال تو نہیں کیا تھا بس ایک نمبر ضرور تھا اس کا اور وہ بج بھی سکتا تھا۔
شاید وہ ابھی تک زندہ تھی۔ شاید اس میں کہیں کسی اعتبار سے کوئی بجھتا ہوا ، راکھ میں دبا شرارہ اب بھی لو دے رہا تھا۔ شاید وہ تصویر والی خواب سے بھری بڑی بڑی آنکھیں اب بھی اسی طرح تھیں۔ شاید وقت وہیں ٹھہرا ہوا سا تھا جہاں وہ منتظر تھی اپنے خوابوں کے تعبیر ہونے کی۔ شاید کوئی تھا جو ابھی راستے میں تھا۔ شایدکہیں کوئی سرخ گلاب کا پھول اُگا رہا تھا اسے دینے کیلئے۔ شایدمسز سمرفیلڈکا کہا کبھی سچ ہونے کو تھا ۔ شاید اس کی مال گاڑی سے سارا سامان اُتر جا نے کو تھا۔ وہ خوف سے تھرانے لگی۔ وہ اب زندگی کے اس موڑ پر لٹنا نہیں چاہتی تھی۔ اسے اب صرف اپنا یااس رات کا انتظار تھا کہ جب وہ ایسے سوجائے کہ اسے بھی محسوس ہو کہ کھلی آنکھوں میں ریت کی طرح چبھتی نیند بند آنکھوں میں مخملیں کیسے ہوجاتی ہے۔ وہ کسی روز اپنی مال گاڑی کو خود اپنی مرضی سے کسی اونچی سی چٹان سے گرا دینا چاہتی تھی۔ اسے اب اور صحرائ، سمندر، جزیرے نہیں کھوجنے تھے۔ وہ سر سے پائوں تک اور بدن سے روح تک زخم زخم تھی ۔ وہ سوچتی مسیحائی تو کار پیمبری ہے اور پیمبر ؟
وہ جانے کیسے کیسے خود سے نبرد آزما رہتی۔ر اکھ میں دبا شرارہ جب ذرا سی لو دیتا تو اپنے آپ پر طنز کرتے ہوئے خود سے کہتیmost of the people love me and the rest are in the process of doing so۔مگر سب کچھ کرنے کے باوجود اس کی مال گاڑی کا ڈبہ سجا رہتا اور سفر جاری۔ مکان و زماں کا سلسلہ اسی طرح تھا اور وہ بھی ۔ ایک روز اسے اپنی مال گاڑی کے ڈبے میں تعفن سا محسوس ہوا۔ اٹھ کر دیکھا تو احتیاط سے سجائے اور سنبھال کر رکھے سارے لاشے سڑنے لگے تھے۔ اس نے ڈبے کا دروازہ کھول دیا۔ باہر لو چل رہی تھی ۔ جلتی ہوئی ہوا سے بدبو کے بھبھکے اسے مجبور کررہے تھے کہ وہ مال گاڑی روک کر انہیں دفن کردے اور گاڑی سے اتر جائے ۔مگر اسے یہ ساتھ چھوڑنا گوارہ نہ تھا۔ اسے migraine رہنے لگا۔مگر وہ اپنی مال گاڑی سے نہ اتری۔
ٹرن ۔۔۔ ٹرن۔۔۔ ایک روز اسے ایسا محسوس ہوا کہ اس مال گاڑی میں چھکا چھک کی بجائے کوئی اور آواز بھی آرہی تھی۔ اس نے دھیان نہیں دیا کہ اس کے کان بج رہے ہونگے۔ بھلا اتنے زمانے کے سفر اور اس درجہ شدید تعفن میں اس کی ذ ہنی حالت ٹھیک رہ سکتی تھی کیا۔ آواز آنی بند ہوگئی۔ ٹرن ۔۔۔۔۔ ٹرن۔۔۔۔۔ آواز پھر آرہی تھی۔ اسے یاد آیا کہ اس کا ایک موبائل فون بھی تو تھا۔ اس نے دیکھا تو اسی پر کوئی callتھی۔ ہیلو۔ اس نے بڑی کاوش سے کہا۔ اس نے سوچا شاید کوئی wrong number ہے مگر یہ کال تو اسی کے لئے تھی۔ ایک آواز آئی،’آپ کو میں ایک گُر کی بات بتائوں۔‘ کہئے! اس نے سوچا جانے کون ہے اور اب مجھے بھلا کیا سمجھائے گا۔’اپنے آپ کوسب سے زیادہ اہم جانیں‘۔ اس کا bottom jaw ڈراپ ہوگیا۔ پھر تو کالز کا ایک سلسلہ سا شروع ہوگیا۔’دنیا کو سامنے سے پکڑتے ہیں وگرنہ دنیا پیچھے سے وار کرجاتی ہے‘۔ ’کبھی defensive ہوکر مت رہنا‘۔’جب لاشہ نیا نیا ہو تو تعفن چھوڑتا ہے پھر تو وہ ہڈیوں کا پنجر بن جاتا ہے‘۔ وہ سوچنے لگی goshیہ کیسی آواز ہے کہ وہ خود کو روکنے کے باوجود کالز کا انتظار کرنے لگی ہے۔یہ مجھے فون کے ذریعے اتنا اندر سے کیسے دیکھ رہا ہے کوئی۔ ایک دِن آواز آئی ’مجھے سانپ پالنے کا شوق ہے ۔ مجھے سانپوں کو رسی بھی بنانا آتا ہے اور رسی کو سانپ بھی۔ میں نے تو اپنی آستین میں بھی بہت سے سانپ پال رکھے ہیں۔ سانپوں کو اگر ماریں نہیں تو وہ اوروں کو ڈس لیتے ہیں۔‘ ’مگر مجھ سے دشمنی نہیں ہوتی ‘ اس نے بیچارگی سے کہا۔’دشمنی کے لئے میں جو ہوں‘ آواز آئی ۔اسے ایسا محسوس ہوا کہ اس کے اپنے جسم سے لپٹے ہوئے سانپ کچھ سرکتے جارہے تھے۔وہ سوچنے لگی۔ کیا یہ آواز میرے بدن سے زہر نکال سکتی ہے؟ کیا اب میں زہریلی نہیں رہوں گی؟ ایک دو راتیں تو وہ ٹوٹتی جڑتی نیند بھی نہ سو سکی۔ اس نے محسوس کیا کہ اسے اب خواب میں سانپ بھی نہیں دکھائی دے رہے تھے۔
اسے پورا یقین تھا کہ یہ آواز کسی اور مال گاڑی کے ڈبے سے آرہی تھی ۔ ہاں اور کیا۔ وہ خود کو سمجھاتی ۔ کسی روز اس کے موبائل کی گھنٹی نہ بجتی تو وہ اسے اٹھا اٹھا کر دیکھتی کہ کہیں سوئچ آف نہ کردیا ہواس نے بے خیالی میں۔ اس کے برسوں کی کاوشوں سے ٹھہرائے ہوئے سمندر میں اِس آواز کے ارتعاش سے بھنور پیدا ہونے لگے اور اس کا جی چاہا کہ وہ ہر بھنور میں کود جائے کہ اس کے جلتے ہوئے زخموں کو ٹھنڈک ملے ۔ اس کے آگ اگلتے موسموں پر silver lining والے ہلکے سرمئی بادلوں کا سایہ ہونے لگا۔ اس آواز نے بتایا تھا کہ اسے بھی جھوٹ سے نفرت تھی۔ اس کا بھروسہ ایک انگڑائی لے کر بیدار ہونے لگا۔ اس کے زخموں پر اب بھرنے کے آثار نمودار ہونے لگے۔ رفتہ رفتہ کالز معمول کا حصہ ہوگئیں۔ اس کی مال گاڑی میں تہہ در تہہ چٹان بنابچھا یاہوا سمندر آہستہ آہستہ آبی بخارات میں تبدیل ہوتے ہوتے تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گیا۔اس کی مال گاڑی کے ڈبے کی چھت سے لٹکتے tinsel کے فیتے گرنے لگے تھے۔ اسے وحشت سی رہنے لگی۔ کہیں اسے نسبت کی کوئی اور dead body تو نہیں سنبھالنی پڑے گی۔ ابھی تو مال گاڑی میں دھرے لاشے ذرا ذرا ڈھانچوں میں تبدیل ہوئے ہیں۔
وہ ایک عجیب منجدھار میں بہنے لگی۔ اور پھر اس نے سوچنا بند کردیا۔ اسے رفتہ رفتہ آرام آنے لگا۔ نیند تو اس کی ابھی ویسی ہی تھی مگر اب وہ جب آنکھوں میںچٹان کی کرچیوں کی صورت چبھتی تو اسے ایک تعلق کا احساس ہوتا جیسے کوئی دامن کھینچ کر کہہ رہا ہو’میں ہوں‘۔ وہ ہونے اور نہ ہونے کے بیچ لکیر نہیں کھینچ سکتی تھی۔ کبھی کبھی تو اسے ایسا محسوس ہوتا کہ جو ہے وہ نہیں ہے اور کبھی ایسا کہ جو نہیں ہے وہ ہے۔ اور ایک روز وہ اپنی مال گاڑی کے ڈبے سے زیادہ تیز رفتار ہوگئی۔ اس کی مال گاڑی کا مقبرے نما ڈبہ اس سے چھوٹ گیا۔ وہ بہت دور نکل آئی۔ ۔۔ ۔۔ ٹرن۔۔۔۔ ٹرن۔۔۔۔ٹرن۔۔۔۔۔ اس کا موبائیل بھی مال گاڑی میں ہی رہ گیا تھا شاید۔اس نے ہاتھ لمبا کیا اور میلوں دور پڑے ہوئے موبائل فون کو اٹھا لیا۔موبائل کے سپیکر میں گلتی ہوئی لاشوں کی سرانڈ بول رہی تھی۔اس نے جیسے ہی ہیلو کہا ساری لاشیں رفتاری سے تروتازہ ہو گئیں۔پھررفتہ رفتہ گھوڑے کے ڈکراتے ہوئے حلق سے نکلتا ہوا انسانی سر زخم نوچتے ہوئے بگلے میں تحلیل ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔