میٹھی دوزخ
میٹھی دوزخ
[ترمیم]ناول نگار
صابر رضا
[ترمیم]اردو ترجمہ ۔
==محمد عمیر ==
پہلا باب
یہ سفر ایسا ہے جس میں موسم بدلتے رہتے ہیں—کبھی آسان، کبھی کٹھن—مگر مسافر کو قدم تو بہرحال اٹھانے ہی پڑتے ہیں۔ چاہے جی چاہے یا نہ چاہے، راستے سارے طے کرنا مقدر ہوتے ہیں۔ کہیں کہیں سہارے بھی مل جاتے ہیں، لیکن اکثر اوقات انسان کو اکیلے ہی سب کچھ سہنا پڑتا ہے۔
ہم جالندھر میں تھے۔ کچھ عزیز پہلے ہی لائل پور جا بسے تھے، مگر ہمارا اپنا کنبہ 1947ء کی تقسیم کے ہنگام اپنے گاؤں کی سمت پلٹا۔ کوئی چالیس خاندان ہوں گے—ایک ساتھ بندھے ہوئے۔ میں، میرے تین بھائی، تین بہنیں، ماں جی، چچیاں، مامیاں کے گھرانے اور کچھ اور ہم دیہاتی ہم سفر۔ تین گھوڑے تھے جن پر فوجی وردیوں میں سوار جوان تھے۔ دو بندوقیں اور ایک پستول—یہی کل اسلحہ—اور حفاظت دراصل ایک سو دس جانوں کی۔ باقی کبھی بیل گاڑیوں پر، کبھی پیدل۔
راہ میں کہیں رکتے، کہیں گھوڑ سوار آگے جا کر سراغ لیتے کہ سامنے امن ہے یا گھات۔ ان تین میں دو مسلمان تھے، تیسرا سِکھ—وریام سنگھ۔ ہم بچے چپ چاپ تڑپتی لو میں “اللہ اللہ” کرتے رہتے۔ جوان تھکن میں بھی ڈھارس بندھاتے۔ بزرگوں کے چہروں پر گہرا سکوت، آنکھوں میں اندیشے۔ صبح چلے تھے، شام ڈھلی تو محض سات میل طے ہوا تھا۔ رات ہم ایک ایسے گاؤں پہنچے جہاں مسلمان، ہندو اور سکھ آبادی میں تقریباً برابر تھے۔
وہاں کے کئی مسلمان گھروں کو تالے لگا چکے تھے، کچھ سامان باندھ کر بیٹھے تھے، کچھ بضد کہ “ہم نہیں جائیں گے—یہیں تو پاکستان ہے۔” سکھوں اور ہندوؤں کی آنکھوں میں شرم و حیا اور اداسی تھی؛ صدیوں کے ہم نفس اب جدا ہونے کو تھے۔ فضا پر ایک خاموش سوگواری چھائی ہوئی تھی۔ بچے سوئے تھے، بزرگ جاگتے۔ اچانک ہڑبونگ مچ گئی—بچوں کے رونے کی آوازوں نے سب کو جگا دیا۔ ماموں نے خبر دی: “لاہور جانے والی ایک ریل کہیں روکی گئی—سب مسافروں کو قتل کر دیا گیا—لاشوں کی بے حرمتی ہوئی—کچھ عورتیں اور بچیاں اٹھا لی گئیں۔”
پھر وہی کہرام—مسلمان، ہندو، سکھ سب ایک دائرے میں۔ کوئی کہتا افواہ ہے، کوئی کہتا خدا نہ کرے سچ ہو۔ رات بھر کسی کی آنکھ نہ لگی۔ مرغ اذان کے وقت ہمیں ویسے ہی جاگتا پایا۔
کہو تو یہی اس آزادی اور ہجرت کی کہانی کا آغاز تھا۔ میں بچہ تھا، مگر اتنا نادان بھی نہیں۔ ہم بڑے زمیندار نہیں تھے؛ تھوڑی زمین، کچھ مویشی، بس اتنے میں بڑے گھر کی گاڑی چلتی تھی۔ جھگڑے کم، محبت زیادہ۔ ہر ایک دوسرے کا تھا، چاہے مسلمان ہو، ہندو ہو، سکھ ہو یا عیسائی۔ عید ہو یا میلہ، خوشیاں سانجھی تھیں؛ سوگ بھی مشترک۔ گاؤں کا ہر بچہ سب کا بچہ تھا اور ہر دختر گاؤں کی عزت۔
آج ہم اسی پاک وطن میں آزاد ہیں، مگر نہ کسی کو کسی کا خیال رہا، نہ رشتوں کا پاس۔ ہر شخص دوسرے سے خائف۔ جب اپنا ہمسایہ بھی خوف بن جائے تو پھر “پنجاب کی دھرتی”، “آزادی” اور “محبت”—یہ سب لفظ ہی رہ جاتے ہیں؛ اصل روح تو ہم پیچھے چھوڑ آئے تھے۔
اگلے دن ہم پھر چلے تو وارث شاہ، بلھے شاہ، بابا فرید اور شاہ حسین کی دھرتی کے ریشے ٹوٹنے لگے۔ سکھ اور ہندو سرداروں کی آنکھوں میں پہلے خوف جھلکا، پھر کہیں آگے ایک جنگل آیا۔ فوجیوں نے ہاتھ اٹھا کر کہا: “ٹھہرو، ہم دیکھ آئیں۔” رات والے گاؤں سے چند جوان اور جتھے میں شامل ہوئے—ایک رائفل، ایک پستول، کچھ لاٹھیاں، گھر کی کلہاڑیاں، چھریاں۔ ایک سپاہی آگے گیا۔ گھنٹہ گزرا، وہ نہ لوٹا۔ بے قراری نے ہجوم کی سانسیں دبا دیں۔ دوسرا جوان گیا—چند ہی لمحوں میں پستول کی آواز۔ عورتیں اور بچے درمیان، مرد گرد بکتر بن کر کھڑے۔ وقت وہیں ٹھہر گیا—نہ پیچھے جا سکتے تھے نہ آگے۔
بالآخر پہلا سپاہی دکھائی دیا—ساتھ دوسرا جوان، گھوڑا پیچھے رہ گیا تھا، ایک زخمی بھی تھا۔ 47ء کا خوف آج کے خوف سے جدا تھا۔ ہم اپنے بزرگوں کے بنائے آسروں سے اٹھ کر ایک ایسی صبح کی طرف نکلے تھے جو قربانی مانگتی تھی، اور لوگ تیار تھے—ورنہ ہمیں اپنے گاؤں میں کوئی کمی نہ تھی۔
ہمارے بڑے لیڈر کہا کرتے تھے کہ گوروں نے ہمارے دیس کو لوٹا اور جاتے جاتے لڑائی کی چنگاری چھوڑ جائیں گے۔ پنجاب پر پنڈتوں اور بنیا شاہی کی حکمرانی بیٹھے گی۔ جو خطہ پاکستان کا ہونا تھا، وہ بھی سودے بازی میں ادھر جا لگا۔ بات شاید درست تھی، مگر دیہاتی دل نے کب ان باریکیوں کو جانچا؟ فیصلہ ہوتے ہوتے وقت ختم ہو چکا تھا—اب سامان باندھو اور “اللہ رکھے” کہو۔ 47ء میں پنجاب کا قتل ہوا تھا—سب سے بڑا قتل۔ کہتے ہیں قائداعظم نے سرداروں کو کہا تھا: “پنجاب بانٹ دو، تمہاری ہر چیز سانجھی ہے”—مگر لالچ اور خوف نے سرداریوں کو اور بھڑکا دیا۔
٭…٭…٭
رومی کہتے ہیں: “اے وہ جو طالب نہیں، آ جا، تاکہ تو بھی اس باوفا یار سے طلب کرے۔” اور یہ بھی کہ “جہاں سب کچھ سونا ہو، وہاں تحفے میں سونا لے جانا حماقت ہے۔” ذرہ سورج کے سامنے جیسے گم ہو جاتا ہے؛ ربِ قدیر کی تجلی کے آگے سورج کا مقام بھی ایک ذرے سے زیادہ نہیں۔ اسی رب نے ہمیں عقل دی، علم دیا—اٹم دکھایا۔ مگر جب انسان کی نیت منفی ہو تو اس کے عمل میں رب نہیں بولتا، شیطان سرگوشی کرنے لگتا ہے—اور بڑی باریکی سے ہاتھوں سے غلط کام کروا لیتا ہے۔
گھنٹی بجی۔ بابا جی اٹھے: “شاید کوئی آیا ہے۔” ہم اجازت کو اٹھے تو انہوں نے کہا: “بیٹھو شاہد بھائی، دیکھتا ہوں کون ہے۔” لوٹ کر آئے تو ساتھ دو عورتیں اور ایک مرد۔ سلام دعا کے بعد تعارف ہوا—“یہ میرے دوست ہیں۔”
عورت بولی: “ہمیں بہن نے بتایا تھا کہ آپ نیک آدمی ہیں۔ چھ برس پہلے اس کی مشکل آپ نے حل کی تھی۔ ہم لندن سے آئے ہیں—میں راشدہ، یہ میرا شوہر صغیر، بیٹی صغریٰ—اور میری بہن آسیہ، جس کے کام آپ نے کیے تھے۔”
بابا جی نے شفقت سے پوچھا: “صغریٰ، کیا پریشانی ہے؟”
باپ نے کہا: “سات ماہ سے بچی پر جیسے دباؤ آتا ہے—آنکھیں الٹتی ہیں، سر چکراتا ہے، کبھی پاگلوں کی طرح شور، کبھی بالکل خاموش۔ گلے کو دباتی ہے۔ ہم بہت پریشان ہیں۔”
بابا جی نے وضو کیا، مصلیٰ بچھایا، کچھ پڑھا، پھر ماں اور بیٹی کا نام پوچھا، آنکھیں بند کر کے زیرِ لب تلاوت… کچھ دیر بعد ہولے سے پکارا: “صغریٰ!”
وہ چونکی: “بابا… بابا جی؟” کشمیری پنجابی لہجے میں بولی۔
بابا جی نے سر اٹھایا: “بیٹا، یہ جنوں سے گھبرانے کی بات نہیں۔ پہلے حاجی صاحب سے بات کر لوں—وہ میری مدد کرتے ہیں—عمر بارہ سو برس ہے ان کی!”
ماں باپ کے چہروں پر اعتماد کی روشنی آگئی۔ بابا جی پھر خاموشی سے ڈوب گئے—“ہاں جی… جی حاجی صاحب…”—اور چہرے کی رنگت بدلتی گئی۔ پھر صغریٰ کی طرف متوجہ ہوئے:
“بیٹی، تم دو تین برس پہلے پاکستان گئی تھیں؟”
“جی، تین سال پہلے—خالہ کے ہاں چکسواری۔”
“یہ ‘اشتیاق’ کون تھا؟”
لڑکی کی آنکھیں پھیل گئیں—ماں باپ چونک اٹھے۔ “خالہ کا بیٹا… اس سے محبت ہو گئی تھی۔ منگنی بھی ہو گئی۔ میں لندن لوٹی تو نوکری چلی گئی، پیپرز میں اٹک گئی۔ رابطہ کم ہوا تو اس نے کہا ‘تم کسی پرانے یار کے پاس چلی گئی ہو’—میں نے غصے میں لعنت کہہ دی۔ پھر اس طرف سے خاموشی… اب ہسپتال میں نوکری مل گئی ہے، مگر حال بدحال—خواب میں لگتا ہے کوئی بستر میں ساتھ ہے، میرا گلا گھونٹتا ہے، نظر دُھندلا جاتی ہے…”
بابا جی نے پھر پڑھا—ایک زور کی پھونک—اور لڑکی کی آواز بدل گئی۔ ایک بھاری، مردانہ آواز: “کون ہو تم؟ کیوں بلایا ہے؟ تمہاری طاقت کیا ہے؟”
بابا جی نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا: “تو کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟ اسے کیوں ستاتا ہے؟”
آواز غرّائی: “میں غلام ہوں… مجھے کسی نے باندھا ہے… نام منگتا مسیح… پاکستان سے آیا ہوں… پڑھائی بند کرو—میں خود سب بتا دوں گا۔”
“اس لڑکی سے نکل جا!”
“نہیں نکل سکتا… مجھے آزاد کراؤ… پھر چھوٹ جاؤں گا۔”
“کس نے باندھا ہے؟ نام بتا!”
“نہیں… وہ مجھے جلا دے گا…”
“کتنے ہو تم؟”
“میں اکیلا ہوں…”
بابا جی پڑھتے رہے—آواز کراہ اٹھی: “مت پڑھو… اگر میں اس کے اندر جل گیا تو؟”
آخر کار ٹوٹ کر بولا: “مجھے آزاد کراؤ—ورنہ یہ بچ نہ سکے گی۔”
بابا جی نے کہا: “آزادی کے بعد کیا کرو گے؟”
“اسے تم نورانی عمل سے نہیں نکال سکتے—میں تمہیں ایک ‘عمل’ بتاؤں گا—پھر تم نور سے اسے پاک کر دینا—مگر وعدہ کہ مجھے آزادی ملے گی!”
حاجی صاحب کی تائید کے ساتھ بابا جی نے آمین کہی۔ منگتا نے “نسخہ” بتایا:
“سر کے بالوں میں سے اکیس بال جڑ سمیت نکالو—سات سات کر کے تین کاغذوں پر نشان لگا کر لپیٹو—سات ثابت مرچیں—اور یہ عمل اکیس دن…”
بابا جی نے پورا طریقہ سمجھایا۔ صغریٰ کے چہرے پر جیسے بادل چھٹ گئے ہوں—سانس ہموار، آنکھوں میں شُکر کی نمی۔
مہمان رخصت ہوئے تو بابا جی نے میری طرف دیکھا: “شاہد بھائی، یہ ہمارا آبائی کام ہے—لوگ آتے ہیں، ہم جتنا بن پڑے مدد کر دیتے ہیں۔ حکمت بھی ہے ساتھ۔”
میں نے کہا: “بابا جی، کوئی کہانی سنائیں۔”
وہ ہنسے: “سن لو—یہ ہمارے دادا کو ایک بزرگ نے سنائی تھی—میں تب بچہ تھا، مگر لفظ اب بھی تازہ ہیں۔
ہمارے گاؤں کا ایک آدمی تھا—خوشی محمد۔ درمیانہ سا کاشتکار۔ بیٹی کی شادی نزدیک آئی تو خریداری کو شہر جا پہنچا۔ کپڑے، زیور، چاندی کا سیٹ—بہت سی دکانیں گھومیں۔ ایک آرڈر پر دکان دار نے کہا: ‘دو تین گھنٹے بعد لیجیے گا۔’ خوشیا نے باقی سامان دو گٹھڑیوں میں باندھا، نوشہرا روڈ کے اسٹاپ پر رکھ دیا، نلکے پر منہ دھویا، پانی پیا، اور یکایک یاد آیا—وہ خاص سوٹ! گھبراہٹ میں قریب ایک جوان دکھائی دیا—کپڑے صاف ستھرے، کندھے پر بیٹھا، چوکنا۔
خوشیا نے کہا: ‘پہلوان پتر! ذرا گٹھڑیاں سنبھال لے—مجھے ایک کام یاد آ گیا ہے۔’
جوان نے مسکرا کر کہا: ‘بابا جی، فکر نہ کریں—لے آئیے۔’
خوشیا تانگے میں بیٹھ شہر لوٹ گیا۔ آرڈر تیار ہوا تو مغرب ڈھل چکی تھی۔ تانگہ مشکل سے ملا۔ راستے بھر دل دھک دھک کرتا رہا—‘وہ لڑکا کیا سوچتا ہوگا!’ چوک پر پہنچے تو تانگے والا چونکا: ‘بابا جی، یہاں تو مغرب کے بعد کتا بھی نہیں بھونکتا—یہاں کے بدمعاش مشہور ہیں!’ خوشیا ہنسا: ‘سانوں کی؟’ پھر بھی دل کی دھڑکن تیز۔
وہی جوان گٹھڑیوں پر بیٹھا ملا—بلکل اسی طرح، جیسے کہا تھا۔ نہ کھولا، نہ ہلایا، نہ پوچھا۔ خوشیا نے شکریے کے لیے کچھ پیسے دیے—اس نے لینے سے انکار کیا—‘دوسرے دن بھی نہ آتے تو میں یہیں بیٹھا رہتا—بابا جی، خدا حافظ—بہن کے بیاہ میں ہمیں بلانے کی ضرورت نہیں، بھائی بلاوے کا محتاج نہیں ہوتا!’ اور چل دیا۔ بس میں بیٹھا خوشیا دیر تک سوچتا رہا: ‘جسے دنیا بدمعاش کہتی ہے، وہ آج میرا نگہبان نکلا—کس بے لوثی سے اس نے امانت کی پاسداری کی—دو گھنٹے نہیں، آدھی رات…’
کچھ عرصے بعد خبر آئی—وہی جوان دشمنوں کی گولی سے مارا گیا۔ خوشیا اس طرح رویا جیسے اس کا اپنا جوان بیٹا مر گیا ہو۔ کہتا تھا: ‘اگر کوئی مجھ سے اس “جوئیّہ” بدمعاش کے بارے میں پوچھے تو میں ہاتھ جوڑ کر کہوں گا—وہ میری نظر میں ایماندار آدمی تھا۔ حر کی طرح غیرت مند—امانت اس نے گَّھر تک نہیں جانے دی…’”
بابا جی خاموش ہو گئے۔ کھڑکی کے باہر ہوا نے ذرا سا پردہ ہلایا۔ میں نے دل میں سوچا: یہ ملک بھی اسی امانت کا نام تھا—جسے ہم نے منزل تک پہنچانا تھا۔ راستے میں جوئے، لٹیرے، “بدمعاش”—سب ملے؛ کچھ نے لوٹا، کچھ نے نگہبانی کی۔ اصل کسوٹی تو یہی رہی: آپ نے امانت کھولی کہ سنبھال رکھی؟
ہجرت کی اس کائی جمی داستان کے بیچ مجھے اپنی مٹی کی خوشبو پھر آنے لگی—وہی اداسی، وہی حوصلہ، وہی خفیف سی روشنی۔ اور میں نے جانا کہ سچ تو آخرکار اپنے آدمی کو ڈھونڈ ہی لیتا ہے—خواہ وہ جنگل کی گھات میں ہو، عدالت کے اندھیرے میں یا اسٹاپ پر رکھی دو گٹھڑیوں کے پاس۔
یہ سب لکھتے ہوئے میں نے اک ذرا دیر کو آنکھیں موند لیں—اور اندر کہیں ایک آہستہ سا جملہ بجا:
“مسافر کا کام چلتے رہنا ہے—اور امانت کا کام سلامت رہنا۔”
دوسرا باب
کون سی خوشبو ہے جو میرے کمرے میں نام لیے بغیر پھیل جاتی ہے؟ چراغ جلا کے خوابِ گم گشتہ ڈھونڈتا پھرتا ہوں… استاد جی نے ہنس کر کہا، “اللہ کسی کا پتا نہ کھرچے، بیٹا—آدمی پتا نہیں کب کس کا ہو جاتا ہے۔” پھر میری طرف رخ کیا: “شاہد، اور باتیں چھوڑ، پہلے وہی کیسٹ لگا دے—شاہ حسین کی کافیاں۔ باقی بکواسیں رستے بھر ہوتی رہیں گی۔” ہم دونوں مانچسٹر سے جرمنی کو نکل رہے تھے۔ دسمبر کی یخ رات، گھڑی ایک بجا رہی تھی۔ گاڑی کے اندر حرارت تھی اور باہر سڑتی ہوا کی سوئی۔ تین ہفتے پہلے استاد کے پِتے کا آپریشن ہوا تھا، مگر دوستی بھی کیا چیز ہے—کمزور بدن، لمبا سفر، پھر بھی عزم۔ کام اصل میرا تھا، مگر ہم دونوں کے لیے یہ سفر مشترک ہو گیا۔ کیسٹ چل پڑی—“مائے نی، میں کنوں آکھاں…”—اور کچھ دیر ہم دونوں خاموش رہے۔ موٹروے پر آئے تو استاد نے سگریٹ نکالی، ایک مجھے تھمایا، ایک خود ہونٹوں میں دبائی۔ “شاہد، سفر کتنے گھنٹے کا ہے؟” “چار گھنٹے—پھر فیری۔ دیکھتے ہیں چھ یا سات بجے کی مل جائے۔ فیری کے بعد فریینکفرٹ تک چھ گھنٹے اور۔” “اچھا دوستا—اتنے لمبے سفر میں باتیں ہونی چاہییں۔ سچ جھوٹ ملا کے۔ پرانی وارداتیں۔ سچی محبتیں، جھوٹی شیخیاں… دوستوں کو متاثر کرنے کے قصے۔ اور ہاں—پاسپورٹ سنبھال رکھے ہیں نا؟” میں مسکرایا: “بڑی مشکل سے ملے۔ میری بیوی کو ضروری کاغذ والٹیوں میں گھسانے کا شوق ہے۔” استاد ہنسا: “اور ہماری گھر والی تو ضروری کاغذ سنبھالتی یوں ہے جیسے خزانہ ہو۔ تیرے ہاں تو ابنِ خلدون کا ‘مقدمہ’ بھی تین کمروں میں بکھرا پڑا ہوتا ہے۔ پوچھو تو کہتی ہے: چور آ گیا تو کم از کم دو چار کتابیں بچ جائیں گی!” ہم دونوں کھلکھلا دیے۔ میں نے پوچھا: “استاد جی، آپ مظفر آباد کے داماد اور خود میرپور کے؟ رشتہ کیسے ہوا؟ بھابھی یہاں تھیں یا آپ تھے؟” استاد نے دھواں چھوڑا: “میں یہاں تھا۔ ہائیڈ کی کچن فیکٹری میں کام کرتا تھا۔ پہلے لندن، پھر ہالی فیکس، پھر یہیں ٹھکانا۔ تنخواہ، شراب… اور میری۔” میں چونکا: “شراب اور میری کا آپس میں کیا رشتہ؟” “وہی تو! گھر کی مالکن۔ چار کمروں کا ڈھابہ سا مکان تھا—دو اوپر، دو نیچے—دس لوگ رہتے تھے۔ جمعے کو تنخواہ ملتی، نہا دھو کر ذرا سنورتے، پھر میری آ دھمکتی—پہلے کرایہ، پھر بوتلیں کھلتیں، اور پھر ‘کِنّے کِنّے آنا میری دے کمرے وچ’… وہ بستر پر نیم دراز اخبار پڑھتی رہتی۔ ایک ایک پاؤنڈ رکھ کے لوگ آتے جاتے۔ جس کے پاس نہ ہو، اسے ادھار بھی۔ آخر میں چادر سنبھالتی، ‘سی یو نیکسٹ ویک، دوستو!’—اور کھڑکھڑ کرتی سیڑھیاں اتر جاتی۔” استاد نے پرانی فیکٹریوں کا دھواں یاد کیا، جب حلال گوشت راچڈیل کی ایک ہی دکان سے ملتا، ویک اینڈ پر وہاں دھاوا بولتے۔ ٹی وی کا نام و نشان نہیں، بس ایک خراش زدہ ریڈیو جس پر انگریزی خبریں اور پرانے نغمے۔ سب اپنی اپنی شفٹوں میں، اپنے اپنے بستر پر—اور تنخواہ ملے تو ہفتہ بھر کی ‘عیاشی’: گرم پانی، چکن کڑاہی، سستی بوتل، یا کسی اور شہر میں سنگیوں سے ملنا۔ سکون کی زندگی تھی، اگرچہ جیب ہلکی رہتی۔ پاکستان سے مہینے بھر بعد خط آتا تو دل پر بوجھ سا پڑ جاتا—اور سب خطوط کا مضمون ایک جیسا: “راس کی کمی ہے… دو ہزار جو پکڑے تھے، تنگ کر رہے ہیں… بہنیں جوان ہو رہی ہیں… جلدی کچھ بھیج، سودخور سے گھر چھڑائیں…” پھر کمرے میں COLT-45 کی مشترکہ بوتل کھلتی، غم تھوڑی دیر کو بہہ جاتے، اور اگلی صبح پھر کام۔ برمنگھم سروس ایریا آیا تو گاڑی اندر موڑ دی۔ غسل خانے، کافی، پھر مخملی خاموشی۔ میں نے راستہ بدلنے کی بات کی تو استاد نے کندھے اُچک دیے: “ڈرائیور تم ہو—تمہاری مرضی۔ بس ڈوور پہنچ جانا ہے!” ڈوور کی بکنگ کھڑکی پر پاسپورٹ دکھائے، ننانوے پاؤنڈ کی ریٹرن ٹکٹیں، اور گاڑی ایفری کے پیٹ میں۔ اوپر جا کر بیٹھ گئے۔ بھوک نے آ گھیرا۔ ریستوران میں ٹرے بھر کر لائے: انڈے، ساسیج، سلاد، کافی، جوس۔ ایفری کی گھنٹی بجی، جہاز ہلا، اور ہم بھی ذرا آنکھ لگا گئے۔ جب دوبارہ گھنٹی بجی تو اعلان ہو چکا تھا: “ڈرائیور حضرات اپنی گاڑیوں میں تشریف لے جائیں۔” ہم نیچے اترے، گاڑی سٹارٹ، رمپ کھلا اور سامنے فرانس کی بندرگاہ کیلے۔ میں نے یاد دلایا: “اب الٹی سمت میں چلنا ہے—لیفٹ ہینڈ ڈرائیو۔ بار بار یاد کراتے رہنا!” استاد نے ‘اوکے’ کہا اور میں ڈنکرک کی جانب موٹروے پر چڑھ گیا۔ تھرمس کی چائے نے ہمیں جھپکیوں سے نکالا۔ روشنی پھیل رہی تھی۔ ای-45 سے بیلجیم، پھر برسلز—یورپ کا دل—اور استاد کی آواز: “بادشاہت ہو یا سرمایہ داری—غلامی کی صورتیں بدلتی رہتی ہیں۔ ایک دن یہ نظام بھی ٹوٹے گا۔” میں نے کہا: “سوشلزم بھی تو ٹوٹا تھا، استاد!” وہ بولا: “اسے چلنے ہی نہ دیا گیا، دوستا۔ پیسے کی کشش بڑی ظالم شے ہے۔” پرانا بارڈر اوشان کے پاس—آرام دہ سروس ایریا—منہ ہاتھ دھوئے، میں نے غسل بھی کر لیا۔ پھر جرمنی کی سمت بڑھتے ہوئے استاد نے سگریٹ جلائی۔ میں نے سائن پڑھتے ہوئے بتایا: “واپسی پر کوئلن اور بون سے نکلیں گے، ابھی فرینکفرٹ کی موٹروے۔ پندرہ میل بعد رکیں گے—بیگم کھانا پکا کر دی ہیں—لنچ وہیں ہو جائے گا۔” استاد نے کیس کی بابت پوچھا تو میں نے کڑوا سفر کھول دیا: نوّے کی دہائی کے ٹیکسٹائل آرڈر، ساؤتھ افریقہ پر پابندیاں اٹھیں تو نئے برانڈز انگلینڈ آ بسے، برانڈڈ مال کے تین کنٹینر—تین لاکھ ڈالر—سیمپل پاس، معیار اچھا، مگر اسٹورز پر لیبلنگ کی ‘پاکستانی’ غلطیاں: ایکس ایل کو ‘سمال’ کا ٹیگ، کہیں رنگ میں ہلکی فرق، اور کمپنی نے ہاتھ کھینچ لیا۔ ایل سی کی ادائیگی رک گئی۔ نہ پیسے ملے نہ مال واپس بیچ سکتے—برانڈ لیبل آڑے آ گیا۔ پھر ہم ڈسلڈورف، پھر کوئلن—ایک انڈین ورکر انیل کے ذریعے ‘ٹونی’ سے رابطہ—سیالکوٹ نژاد، جالندھر میں سیٹ، ریسٹورنٹ ‘تاج محل’ سے جان پہچان۔ ٹونی نے ہمیں بون کے قریب سیگ برگ اپنے گھر اتارا—بھرجائی ایرانی، خود کاغذی مسلمان—مگر کام کا بندہ۔ اس کے ہاتھ سے کچھ آرڈر نکل آئے۔ دو ایل سی: ڈوئچے بینک اور ایک ترکی کے انٹر بینک کی۔ کل ایک لاکھ بیس ہزار ڈالر۔ پھر دھندلاہٹ: شینکر کارگو نے کاغذات بینکی رسید کے بغیر کمپنی کو پکڑا دیے، پیمنٹ اٹک گئی، اور اب ہائی کورٹ میں دھینگا مشتی۔ کوئلن پہنچ کر وکیل فریڈرک سے ملے۔ “کیس مضبوط ہے،” اس نے کہا، “غلطی کارگو اور بینک کی ہے۔ مگر جرمن ہائیکورٹ غیر ملکیوں سے کتراتی بھی ہے، سو دعا ساتھ رکھیں۔” کاغذات تھمائے، ہوٹل میں سامان رکھا، اور رات کو استاد نے آنکھ دبا کر کہا: “چلو ذرا شہر کی رونق دیکھ آئیں—کل زندگی کا فیصلہ ہے، مگر آج… تھوڑی آہٹِ حیات!” پہلے ایک ترک ریسٹورنٹ میں کھانا۔ پھر روشنیوں کی گلیاں—بلڈنگوں کے در، ایک ایک سیڑھی چڑھتے، دروازے کھٹکھٹاتے—“ہاﺅ مچ؟”—“سوری، نو مسلمز!”—در دھڑ سے بند۔ استاد بڑبڑایا، آگے بڑھے۔ ایک در کے پیچھے پولینڈ کی لڑکی—سرو قد، برف سا رنگ، کالی برا اور کالی نِکر—گھڑی کی نئی سوئی کی طرح چمکتی۔ “ففٹی مارک فل، تھرٹی منہ والا”—ہم “شکریہ” کہہ کر ہنس دیے اور آگے۔ چالیس پچاس در کھٹکھٹائے—استاد نے کمروں کی گنتی کی—اندازہ لگایا کہ پانچ سو کے قریب لڑکیاں ہوں گی، رات بھر ‘کام’۔ ایک کوسٹر میں لڑکیاں بھریں تو استاد نے سونگھ کر کہا: “یہ دلّے ہیں—پک اینڈ ڈراپ۔ بڑا کاروبار ہے، دوستا!” ہوٹل لوٹے، کافی، اور نیند۔ چراغ گُل ہونے سے پہلے استاد نے کروٹ میں کہا: “وہ پولش لڑکی… کمال کی تھی۔ کاش پِتے کا معاملہ نہ ہوتا تو…!” اور بات خراٹوں میں تحلیل ہو گئی۔ صبح عدالت۔ بیرونی بینچوں پر بے قراری۔ ہمارا نمبر آیا۔ وکیل نے کیس چلا—میں کٹہرے میں کھڑا—“سر، ہمارے ساتھ سیدھا فراڈ ہوا۔ نہ رقم ملی نہ مال۔ شینکر نے بینک رسید سے پہلے ڈاکیومنٹس کمپنی کو دے دیے۔ UBL اور انٹر بینک کی ذمہ داری بھی ہے۔ ہم سپلائرز کو بھی پیسے دینے ہیں۔ بازار بیٹھ گیا۔ ماں کی بیماری اور پھر وفات…” میری آنکھیں بھیگ گئیں۔ عدالت کی فضا بھاری ہو گئی۔ مخالف وکیل نے کندھے اچکائے: “جو اتھارٹی لیٹر دینے والا تھا، اب کمپنی میں نہیں—ترکی جا چکا۔” جج صاحبان نے وقفہ کیا۔ ہم باہر آئے—دل ڈوبتا گیا۔ دوبارہ اندر بلایا تو فیصلہ سنایا گیا: “شینکر کارگو پر فیصلہ نہیں ٹھہرتا—کیس UBL اور انٹر بینک کے مابین ہونا چاہیے تھا—کارگو کمپنی کو چھوٹ ہے، اتھارٹی دینے والا فرد کمپنی میں موجود نہیں…” میری ٹانگوں سے جان اتر گئی۔ “انا للہ…” زبان پر خود بخود آ گیا۔ وکیل نے دلاسہ دیا: “اپیل کریں گے—فیصلے کا ترجمہ فیکس کر دوں گا۔” استاد خاموش تھا۔ میں لڑکھڑاتی آواز میں بولا: “استاد جی، شاید زندگی ہمیں اس سے بڑے دکھ بھی دکھائے گی…” استاد نے شانے پر ہاتھ رکھا: “نہیں دوستا—حوصلہ رکھ۔ موسم ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔” ہوٹل سے سامان اٹھایا۔ موٹر وے کی طرف نکلے۔ برف اتری ہوئی تھی۔ سڑکیں سفید چادروں میں لپٹی تھیں—صرف جہاں جہاں ٹائروں نے راستہ بنایا، وہاں سیاہ دھاریاں۔ ہم اے-2 پر آ نکلے—گھنی برف میں بہت کم گاڑیاں—تیس چالیس میل کی احتیاطی رفتار۔ سہ پہر کے تین تھے۔ میں نے تھکے لہجے میں گنگنایا: “اج اکھاں وارث شاہ نوں…” استاد نے ٹیپ بند کر دی: “امرتا پریتم بھی کیا کمال شاعرہ تھی۔ تقسیم کے زخم اس نے جیسے اپنے بدن پر جھیل رکھے تھے…” کچھ دیر بعد استاد نے سگریٹ جلائی: “اگلی سروس پر رکنا ہے۔” میں نے سائن ڈھونڈے—پٹرول پمپ کا نشان آیا تو رفتار کم کی—مگر عمارت زیرِ تعمیر نکلی۔ گاڑی ढلوان پر تھی، ریورس مشکل—برف جم چکی تھی، ٹائروں نے سِلپ شروع کی۔ ہم پل کی سمت اتر آئے—پل موٹر وے کے نیچے تھا اور دائیں طرف سڑک پینتالیس درجے پر نیچے کو ڈھلتی تھی۔ چاروں طرف لمبے درخت یونیفارم پہنے کھڑے تھے—سفیدی کی وردی۔ “روک، پہلے میں فارغ ہو لوں”—استاد گاڑی سے اتر کر ایک گوشے میں کھڑا ہوا، پھر برف سے ہاتھ جھاڑ کر نیچے کی طرف دیکھنے لگا۔ اچانک اس کی آواز میں سنسناہٹ در آئی: “شاہد… سامنے نیچے… کوئی بندہ کھڑا ہے!”
تیسرا باب
“ویکھو بھائی، زندگی میں کبھی کبھی یوں بھی ہو جاتا ہے…” نعیم بھائی نے بات شروع کی تو آواز میں وہی بوڑھا سا تجربہ تھا جو چٹکی بجا کر فیصلے نہیں کرتا، ذرا ٹھہر کر سمجھاتا ہے۔ رحیم کے چہرے پر جھرجھری سی دوڑی۔ “بھائی، میرے بچے اکیلے رہ جائیں گے۔ ساری بات اردو میں ہو رہی تھی، میرے لیے کچھ کرو۔ تم تو ایک ہی گھر میں رہتے ہو… میرے سسرال والے بھی ادھر ہی ہیں۔” اس نے ہولے سے راز کھولا: “میری شادی جب فہیم سے ہوئی، وہ پہلے سے شادی شدہ تھا—طلاق یافتہ—اور ایک بیٹی بھی ہے۔ تم جانتے ہو نا؟ تم بھی شادی شدہ ہو رحیم… پھر ایسی کلفت کی وجہ کیا ہے؟ دیکھو، تم خاموشی سے گھر ٹھیرو، میں کسی نہ کسی طرح تمہاری ساس سے بات کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ پہلے تو تم سفید انڈے سے بھی زیادہ چِٹّے تھے—اب یہ روکھا پن کیوں؟” وہ آہ بھر کر بولا: “مسئلہ یہ ہے کہ جن دنوں صلح کی بات کرنے جاتے ہیں، کوئی خواب میں آ کر میری بیوی کے دل میں نئی کہانی چھیڑ دیتا ہے۔ میں تو جان چھڑانا چاہتا ہوں بس—بچّے کسی طرح مجھے مل جائیں۔ تمہاری طلاق ہم نہیں چاہتے، یہ کوئی اچھی بات نہیں۔” زبان پر فیصلہ آیا: “چلو، فہیم سے ملتے ہیں۔ پوچھتے ہیں اسے کیا تکلیف ہے۔ تو اپنا کام کر کے سیدھا گھر جا—ہفتے کی رات اپنی ساس کو بھی بلا لینا۔ میں بھابھی سے کہہ دوں گا۔ میں اور اُستاد دونوں آ جائیں گے، بیٹھ کر بات چیت کی کوئی صورت نکالتے ہیں۔” “ٹھیک ہے”—کہہ کر رحیم چل دیا۔ اس نے فون اٹھا کر اُستاد کا نمبر ملایا۔ “جی اُٹھ گئے؟ ہاں دوستا، رحیم آیا تھا، اس کے گھر کا مسئلہ ہے… ہاں، بہو اور ساس نے مجھے بھی فون کیا تھا۔ میں کہتا ہوں ویک اینڈ پر چلتے ہیں۔” “ٹھیک ہے، پھر رات کو ملاقات”—شاہد نے کہا اور فون رکھ دیا۔ باغ کے راستے پر دو لڑکیاں شوخی سے چہل قدمی کر رہی تھیں۔ نوشی نے شیلا کی طرف دیکھا: “اے لڑکی، تُو تو روز نئی لگتی جاتی ہے۔ اتوار ہے مگر لگتا ہے آج تُو ہیر ہے—بال کھلے، آنکھیں مسکان سے بھری ہوئی۔ کہتی تھی نا—پاکستان سے کوئی نیا نیا آیا ہے، باس کا بھائی ہے۔ تو کیا… عشق کے پنگھوڑے کو تھوڑا سا ہلایا بھی ہے؟” شیلا نے آنکھ بچا کر ہنس دیا: “چل ہٹ، تُو خوابوں میں رہتی ہے۔” “میں تیری کزن بھی ہوں، سب سے پیاری سہیلی بھی۔ میرے راز تیرے اور تیرے راز میرے۔ مگر ایسے پکّے راز ساتھ اٹھا کر گھروں کو واپس کیسے جائیں؟” وہ دونوں کھلکھلا دیں۔ ہنسی میں جلدی ہی ایک خاموشی گھل گئی—وہ خاموشی جس کے عقب میں پہلی بار دل کے دروازے وا ہوتے ہیں۔ شیلا نے جیسے دل کھول دیا: “پہلے پہل اسے انگریزی کم آتی تھی۔ پاکستان سے پڑھا ہوا تھا مگر لہجے کا مسئلہ۔ میرے سامنے آ کر خاموش کھڑا رہتا، ہونٹوں کے کنارے پر ہلکی سی مسکراہٹ۔ دو تین دن گزرے، ماموں آ گئے—مجھے دیکھ کر سیدھے دفتر گئے، باس آیا تو انہیں بلا لے گیا۔ آئرن (Forelady) نے چائے بنائی—وہی دیسی بھاپ جس میں گھروں کی مہک شامل ہوتی ہے۔” دھوپ میں ایک دروازہ کھلا اور ماموں کے ہاتھ میں کرکٹ کٹ تھی—بیگ اور بیٹ۔ سب چونکے۔ شیلا کے اندر کہیں نرم سی چنگاری جلی: “میں اٹھارہ کی ہوں… وہ بیس سال کا، پتلا، لمبا، کرکٹر، بڑی آنکھیں، بالوں میں ہلکا سا کنڈل… مجھے یوں لگا جیسے ہوا نے نام لے کر میرے کان میں کہا ہو—شاہد!” پہلا اوور شاہد کے نام—گام بھرتا آیا۔ “نو بال… وائڈ… پھر ایک چیختا باؤنسر… رِچی (ویسٹ انڈین اوپنر) سنبھل نہ سکا۔” چوتھی گیند چوکا۔ پانچویں گیند اندر آتی—ان سونگ—اور سلپ میں کیچ۔ شور اٹھا۔ شیلا کی دل کی دھڑکن نے پہلی بار اپنی موجودگی کا اعلان یوں کیا جیسے سینے میں کوئی ننھا پرندہ پاؤں رکھ کر چلنے لگے۔ شاہد نے اس روز چار وکٹیں اڑا دیں۔ میچ کے بعد جب وہ سیڑھیاں اتر رہا تھا، شیلا قریب گئی۔ اسے دیکھ کر شاہد نے ہنستے ہوئے پوچھا، “کیسا لگا؟” کہیں دور سے بھابھی کی آواز آئی، “چلو چلیے!”—اور اس پہلی چوٹ کی نمی آنکھوں میں رہ گئی۔ نوشی، جو جان لینن کے گیتوں میں رہتی تھی اور خیالوں کی کسی دوسری بستی کی باشندہ لگتی تھی، ہنس کر بولی: “محبت ایک لمحہ ہے۔ ایک چھینٹا جو لگ جائے تو بدن کے اندر کچھ بدل جاتا ہے—پتا نہیں کیا—مگر بدل جاتا ہے۔” شیلا نے آہستہ کہا: “رات دن اس کا خیال… خوابوں میں اس کے ہاتھوں کا لمس—جیسے سُروں کی مٹھی سے کوئی روح نکلی ہو اور میرے بدن میں جا بسی ہو۔” ہفتے والے اگلے میچ میں شاہد نے پانچ وکٹیں لیں، چالیس رنز بھی جوڑے۔ ٹیم جیت گئی۔ پویلین کے باہر جب وہ ایمبرز کی سی شان سے نکلا تو لوگوں نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔ چینجنگ روم، شاور، پھر باہر آ کر نارنجی جوس کے دو گلاس۔ باتیں تھوڑی، چپ زیادہ۔ پارکنگ تک آئے تو رات بھیگی ہوئی تھی۔ شاہد نے آہستہ سے کہا: “تم اتنی دور سے آئی ہو… رات کو واپس جاؤ گی؟ شکریہ۔” اور پھر وہ جملہ جس نے دو زندگیاں ملا دیں: “سمجھ لو… میں… میں شاک میں ہوں۔” شیلا کے ہونٹوں سے ہلکی سی ہنسی پھسل گئی—ساتھ دھڑکتے ہوئے “ہاں” کی نمی۔ HOLMFIRTH کے قریب، جھیل کنارے، سوزوکی جیپ خاموش کھڑی تھی۔ چاند کی روشنی میں پانی کے ماتھے پر دھندلی تصویریں ابھر آتی تھیں۔ شاہد نے کہا: “میں نے کبھی نہ سوچا تھا کہ پردیس میں، انگلینڈ کی اس ٹھنڈی ہوا میں، مجھے وہ آنکھیں ملیں گی جن کی سیلن مجھے نتھیا گلی کے پل کے نیچے بہتے چشمے میں پہلی بار محسوس ہوئی تھی۔” شیلا نے جھیل میں جھانکا—اپنا عکس نہیں، دونوں کی رفاقت کا نقشہ دیکھا۔ “یہ میری زندگی کی پہلی محبت ہے… اور شاید آخری بھی۔” وقت چونکا—11:30۔ وہ جیپ میں بیٹھ گئے۔ شیلا نے مسکرا کر کہا: “جس دن محبت ملتی ہے، اسی دن دنیا اتنی خوبصورت ہو جاتی ہے کہ آئینہ بھی پیار کرنے لگتا ہے۔” نوشی نے سر پر دعا کی دستار رکھی: “زمانے کی نظر نہ لگے۔” تقدیر کے درمیان جا بجا سیزن بریک ستمبر کے آخر تک شاہد واپس جانا تھا۔ امید تھی کہ دو مہینے میں لوٹ آئے گا۔ باس راضی، ذمہ داریاں بڑھتی ہوئی، فیکٹری کی سیڑھیوں پر قدم مضبوط۔ خواب اور حقیقت کے بیچ ایک لکیر تھی جس پر دونوں ننگے پاؤں چل رہے تھے—محبت اپنے موسم مانگتی ہے مگر ہجرت کا کیلنڈر الگ ہوتا ہے۔ راستہ بدلتا ہے—بیانیہ بھی۔ قصہ اب تاریخ کے ایک اجڑے باغ میں داخل ہوتا ہے جہاں بابا اسماعیل اپنی سفید مونچھوں کے سائے میں گاؤں کی آنکھ بنے پھرتے ہیں—صبح کی بانگ کے ساتھ اٹھتے، ڈھیروں کی پگڈنڈیوں پر قدم گنتے، اور شام کے ڈھلے پنچایت کی کرسی بن جاتے۔ انہی دنوں پریتو—گاؤں کی لمبی، ہنستی لڑکی—سوئیے کی نہر تک گئی اور تقدیر نے وہاں ایک قدموں کی جوڑی اس کے قدموں کے برابر رکھ دی: تاجو—سندھو قبیلے کا جوان، گھوڑوں کا شہ سوار، پہلوانی کے مٹی کے گیت سا۔ پیار نے خاموشی سے ہاتھ اٹھایا اور دونوں کے سر پر دعا پڑھ دی۔ مگر گھر کی دیواریں نقوشِ آبرو سے تعمیر ہوتی ہیں؛ بلونت سنگھ غضب ناک—برچھی کی نوک پر غیرت، زبان پر خون کی قسم۔ بابا اسماعیل پنچ سے باپ ہو گئے، دروازے پر دستک دی، اور کہہ دیا: “یہ لڑکی میری پوتی ہے۔ اگر اس پر ہاتھ اٹھا تو تمہاری برچھی تمہاری اپنی چھاتی جلا دے گی۔” پریتوں کو آنگن میں بٹھایا گیا—“ابھی اس حویلی سے باہر قدم نہیں رکھنا۔” بابا کے لہجے میں محبت کی وہ سختی تھی جو آشیانہ بھی بناتی ہے اور طوفان کو دروازے سے واپس بھی کرتی ہے۔ دو دن بعد بابا سندھوؤں کی حویلی جا پہنچے۔ چائے کے بھاپ میں انہوں نے نسل، زمین اور ذات کے سارے ترازو الٹ دیے: “بابا فرید اور بابا نانک ایک ہی روٹی کے مسافر ہیں۔ روکھی سہی مگر رزق وہی ہے جس میں دل شاد رہتا ہے۔” تاجو کے دادا نے سانس بھری اور کہا: “میرا اسماعیل مجھے آج پھر نیا کر گیا۔” یوں نکاح کی صدا دونوں دھرموں کی سرحد پر بیٹھ کر ہوائی ہوئی—پریتوں کی رخصتی بابا کے گھر سے، عزت کے دو ہاتھوں کے بیچ۔ وقت پلٹا—قافلہ نکلا۔ عورتیں بچے، مرد، چند نوجوان محافظ، کندھوں پر خوف، آنکھوں میں واہمے۔ جنگل نے رات بھر کہانی سنائی؛ کہیں قدموں کی چاپ، کہیں ٹالیوں کے جھنکار، کہیں کتے بھونکے تو کہیں بندوق نے ہولے سے دو گولیاں چلائیں اور خاموش ہو گئی۔ سبح کی پہلی اذان نے جسموں میں تھوڑی حرارت اتاری۔ وضو کے پانی سے ہجرت کی تھکن دھلی اور قافلہ پھر آگے بڑھا۔ راستے میں پندرہ بیس لوگ دوڑتے آئے—عورتوں کے سر ننگے، بچے گود میں، مرد ہانپتے ہوئے۔ “ہم پر حملہ ہوا… عورتیں اٹھا لے گئے… مرد ذبح…” بوڑھے بزرگوں نے دیگیں چڑھوائیں—دال چاول، لسی۔ کسی نوجوان نے شک کیا: “زہر نہ ہو!” بابا نے ہنس کر کٹورا سونگھا—“یہ وہی دہی ہے جو زندگی کو اپنی خوشبو سے بسانا جانتا ہے۔ پنجاب کے کنویں کا پانی بانٹا ہوا ہے، زہر کسی کے حصے میں نہیں آئے گا۔” اور پھر سب نے مل کر کھایا—دشمنیاں جیسے چاول کے ہر دانے میں گل کر نرم ہو گئیں۔ رات مشکل تھی مگر گزری؛ صبح تھی مگر پوری نہ تھی۔ شیلا اور نوشی باغ میں پھر ٹہل رہی ہیں۔ شاہد کے جانے میں چند دن۔ وعدے دل کے تکیے پر رکھے ہوئے۔ نوشی بولی: “محبت مشرق میں ہو یا مغرب میں، شیشے کی طرح نازک ہوتی ہے مگر اسی میں آسمان کی تصویر آتی ہے۔” شیلا مسکرائی: “ہم نے اپنی اُڈاری لے لی ہے۔ جہاں بھی ہوں گے—اک دوسرے کے۔” کہیں دور رحیم اپنے بچوں، اپنے گھر، اپنی ساس کی گرہیں کھولنے کی فکر میں اُستاد اور شاہد کا منتظر ہے۔ کہیں قریب بابا اسماعیل تاریخ کے پیڑ کے نیچے بیٹھ کر نئی نسل کو بتا رہے ہیں کہ زمینیں تقسیم ہو جاتی ہیں، رزق نہیں؛ سرحدیں کھینچی جاتی ہیں، انسان نہیں۔ اور ان دونوں کہانیوں کے بیچ—ایک کرکٹ بال کی سی چمک ہے، جس میں شام کی دھوپ، باغ کی مہک، اور جھیل کی چاندنی محفوظ ہے۔
چوتھا باب
“بھائی جی، تہاڈی عمر کِنّی اے؟ اسیّ کے آس پاس ہوئے گی نا؟” بوڑھے نے ہنس کر سر ہلایا۔ “لو جی، پوچھنا ایہ سی کہ اس عمر میں بھی شادی سوچ رہا واں؟” “بیوی کو گئے بارہ برس ہو گئے، بچے اپنے گھروں میں خوش۔ کونسل نے نیا فلیٹ دے دیا—اکیلا رہتا ہوں۔ صبح کبھی بچوں کے ہاں، کبھی شہر میں پھرتا ہوں؛ شام گھر لوٹوں تو تنہائی یوں کاٹ کھاتی ہے جیسے سرد ہوا کھڑکی کے شگاف سے اندر اتر آئے۔ گناہ سے ڈرتا ہوں؛ کچھ جمع پونجی ہے، بھوکا نہیں۔ مقصد لہو ول کھیلنا نہیں—بس کوئی ساتھ ہو جائے تو آدمی کچھ جوان سا لگتا ہے۔” منشی صاحب نے چشمہ درست کیا: “پہلے بات تو طے ہونے دیں۔” دوسرے دن ایک چھوٹے سے ریستوراں میں ملاقات طے ہوئی۔ منشی صاحب خلافِ معمول سلیقے سے دراز—سوٹ، چمکتے جوتے، کلائی میں گھڑی۔ بابا جی زیرِ لب مسکرائے: “جناب، ابھی تو بات ہونی ہے!” “میڈم صاحبہ کے مطابق خاتون کی عمر باسٹھ ہے، سرکاری نوکری، اولاد نہیں، طلاق یافتہ۔ باقی وہیں دیکھ لیں گے۔” چار کرسیوں والی میز۔ دو عورتیں داخل ہوئیں۔ بابا جی انہیں پہچانتے تھے، اس لیے احتراماً اٹھ کر ملے۔ تعارف ہوا—“یہ زبیدہ ہیں، سوشل کیئر میں کام کرتی ہیں۔” زبیدہ نے نرمی سے پوچھا: “آپ کب سے یہاں ہیں؟” منشی صاحب کی آواز میں عمر بھر کی گرد تھی: “باسٹھ میں آیا تھا، برسوں گلاسگو میں رہا، پھر ادھر آ بسا۔ بیوی کو گزرے بارہ سال—اس کے بعد بس اکلاپا۔ سوچا، زندگی باقی ہے تو کسی کے ساتھ بانٹ لوں۔” کھانا آیا تو گفتگو کے وقفوں میں نظروں کے چھوٹے چھوٹے پل بھی بننے لگے۔ منشی صاحب غسل خانے گئے، لوٹے تو اچانک بولے: “اور آپ؟ عمر؟ شوہر، بچے…؟” “میں اٹھاون کی۔ شوہر کی وفات، اولاد نہیں۔ لوگوں کے رشتے جوڑتی ہوں تو اپنے حصے کی تنہائی بھی بڑھی جاتی ہے۔” منشی صاحب نے آہستگی سے کہا: “جو دوسروں کے لیے کرتے ہیں، اپنے لیے بھی سوچیں۔ تنہائی آدمی کو کھا جاتی ہے۔” بابا جی دل ہی دل میں حیران تھے کہ یہ منشی صاحب کے لہجے کو کیا ہوا—مگر خاموش رہے۔ طے ہوا کہ دو دن بعد فلیٹ پر ملاقات ہوگی۔ وقت آیا تو “رضیہ” اکیلی چلی آئی۔ بابا جی نے کھڑکی سے جھانک کر پوچھا: “میڈم صاحبہ؟” منشی صاحب نے بےنیازی دکھائی: “معاملہ انہی سے ہے۔” رضیہ نے سہمے اعتماد کے ساتھ کہا: “آپ کی بات دھیان میں رہی۔ عمر انہی کاموں میں گزر جائے گی—سوچا اپنا گھر بھی بسا لوں۔ پھر لوگوں کے رشتے کراؤں گی۔” کچن میں چائے گرم ہوئی۔ ہنسی کے جھونکے۔ رضیہ آج کچھ بنی سنوری تھی—قد لمبا، بدن بھرا بھرا مگر ستھرا۔ منشی صاحب بھی رنگین مزاج سے وجیہہ بنے بیٹھے، خضاب سے داڑھی کالک سی۔ بابا جی دالان میں ان سب کو دیکھتے اور سوچتے رہے کہ یہ قربت دو دن میں کہاں سے اگ آئی۔ کھانا بچھا—میز پر گفتگو کا قندیل سا روشن ہوا۔ رضیہ بولی: “آپ کو دیکھ کر لگا عمر تو ایک عدد ہے، آدمی کے دل کی عمر الگ۔ ریسٹورنٹ میں آپ نے جو باتیں کیں—میں ٹوٹ گئی۔ جوڑیاں آسمانوں پر بنتی ہیں؛ میں آپ کی باندی بن کر رہ لوں گی۔” منشی صاحب شاید عمر بھر میں پہلی بار اس درجہ تعریف سن رہے تھے۔ لپک کر بولے: “انیس صاحب، کلمہ پڑھا دیو؟” انیس (بابا جی) نے مسکرا کر روک لیا: “دو گواہ کر لیں، بچوں کو بھی خبر ہو۔” منشی کے ہاں ذرا اداسی سی اتر گئی، مگر جاتے جاتے رضیہ کو گھر کی چابی تھما دی: “یہ آپ ہی کا گھر سمجھیں—جب چاہیں آئیں۔” دو دن بعد منشی کے بڑے بیٹے اور بیٹی آئے—اُلٹے سیدھے سوال، “بڑھاپے میں یہ کیا بچے اٹھائے ہیں؟” انیس نے دھیمے لہجے میں کہا: “فیصلہ انہی کا ہے؛ میں بس مشورہ دے سکتا ہوں۔” یہ بات شاید منشی کے دل تک جا پہنچی، اس لیے کچھ دن خاموشی رہی۔ اچانک انیس کی طبیعت بگڑی۔ بائیں جانب سنسناہٹ، سینہ بھاری۔ ہسپتال لے جائے گئے۔ خون میں انفیکشن نکلا، اینٹی بائیوٹک چلا، پھر انجیوگرافی—دل کے والو تھکے ہوئے۔ دو ہفتے بستر نے اُن سے باتیں کیں۔ منشی صاحب عیادت کو آئے تو پرانی بات چھیڑ دی: “رضیہ کی ماں کا انتقال پاکستان میں ہو گیا، شاید وہ لوٹ آئی ہو۔ ہسپتال سے فارغ ہوں تو چلیں، اس کا بھی کوئی سوچ لیں۔” انیس کے چہرے پر ہلکی سنجیدگی: “میرے خیال میں آپ نے بچوں کے دباؤ پر یہ بات خود تھام دی تھی۔” منشی ادھ موہومی مسکراہٹ کے ساتھ بولا: “زندگی میری ہے—اللہ اُنہیں خوش رکھے۔” پھر یکدم کاروباری ہو گیا: “ریسٹورنٹ کھولتے ہیں۔ اوپر گھر، نیچے ٹیک اوے۔ رضیہ کاؤنٹر سنبھال لے گی۔ میں اور آپ سرمایہ ڈالیں گے۔” اسی لمحے فون بجا—رضیہ کی کال۔ لائن ٹوٹی، پھر بند۔ منشی صاحب کی آنکھوں میں ایک بچوں جیسی چمک جاگی: “بس ہسپتال سے جلدی نکلیں!” کچھ دن بعد منشی صاحب نے راز کھولا—آواز میں شرمندگی اور ایک عجیب سی فتح: “ایک دن وہ آئی اور کہنے لگی: منشی صاحب، آپ کی بات میرے لیے الہام ہے—میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ میں نکاح کے لیے تیار ہوں۔ کلمہ یاد ہے آپ کو؟ میں نے پڑھنا شروع کیا تو وہ میرے ساتھ ساتھ دہراتی گئی۔ ختم پر گلے لگ گئی—کہنے لگی مبارک ہو۔ پھر… پھر زمانہ اپنے راستے چل پڑا، اور وہ پاکستان چلی گئی۔ میں نے دو ہزار پاؤنڈ دیے تھے—پھر کبھی نہ لوٹی۔” بات ادھوری رہ گئی—فلک میں کوئی چراغ بجھا، کوئی جل اٹھا۔
وہ خوبصورت جھیل کے کنارے اپنے فلیٹ کی بالکونی میں بیٹھا یوں لگتا تھا جیسے اپنے ہی اندر سے باتیں سن رہا ہو۔ “زندگی ایک اسٹیج ہے—سب اپنے مکالمے بول کر پردہ گرا دیتے ہیں۔ میں کیوں رُک گیا؟ کون سا در کھلا رہ گیا کہ جسے بند کرنے کو اتنی نمازیں، اتنے وظائف، اتنے مزار بھی کم پڑ گئے؟” صنعتی شہر جہاں ہر شخص ایک دوسرے کو جانتا تھا؛ اس قربت میں بھی کچھ عمل ایسے ہوتے ہیں جو صرف دل کے کمرے میں کیے جاتے ہیں۔ چھ سات برس کی عمر ہی میں جان گیا تھا کہ وہ سب سے مختلف ہے۔ کتابیں اس کی پناہ ہوئیں—منٹو، عصمت، قراۃ العین—اور پھر ایک دن امریکہ۔ اسٹون وال کی گلیاں، آزادی کا پہلا نعرہ—“جس محبت کا نام لینے کی کسی کو جرأت نہ تھی”—اور اس محبت کا پہلی بار بے خوف اعتراف۔ اسے یاد آیا فیصل آباد کی ایک گلی، جہاں “وہ” لوگ—جنہیں دنیا ہنسا کرتی ہے—پولیس کی گرفت میں تھے۔ ناانصافی کا پہلا منظر شاید وہیں دل میں ٹھہر گیا تھا۔ امریکہ نے اسے لفظ دیا: GAY۔ لفظ نے اسے پہچان دی، مگر تنہائی کی کھال پھر بھی موٹی ہی رہی۔
شیلا کام پر جا رہی تھی۔ موسم کے ماتھے پر ہلکی سردی، دل کی ہتھیلی پر نئی حرارت۔ گیٹ شاہد نے کھولا—تھکا ہوا مگر روشن۔ پروین کی تیز نظر نے سوال چن لیا: “شاہد، شیلا تجھ سے کچھ زیادہ قریب نہیں ہو گئی؟” شاہد نے ہنس کر ٹال دیا—“میں اس سے انگریزی سیکھتا ہوں، وہ مجھ سے پنجابی۔” جون میں شیلا کی سالگرہ تھی—شاہد کی طرف سے CHANEL کی خوشبو نے پورے فلور پر چہ مگوئیاں چھیڑ دیں۔ شیلا کے بھائی کی پیشانی پر شکن—مگر بات ہنس ہنس میں ٹل گئی۔ شاہد کی کرکٹ سیزن اپنی آب و تاب پر تھی: چونسٹھ وکٹیں، چار سو انسٹھ رنز۔ کلب نے اعزاز کے ساتھ رخصت کیا اور اگلے سال کا کنٹریکٹ بھی دے دیا۔ جھیل کے کنگرے پر دونوں نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر عہد کیا: “یہ جھیل گواہ ہے—زندگی نے جہاں جہاں ہمیں لے جانا ہے، ہم رُخ ساتھ موڑیں گے۔” “میں ہفتے میں جا رہا ہوں، دسمبر میں لوٹ آؤں گا۔” شیلا کی آنکھ بھیگی، پھر مسکرا کر بولی: “میں تمہاری کتاب ہوں—جہاں رہو گے، میرا ورق تمہارے ساتھ ہوگا۔” ہیتھرو کے راستے میں بھائیوں نے پرس میں تین سو پاؤنڈ رکھ دیے۔ شاہد نے روانگی سے پہلے شیلا کو فون کیا—سفر کا احوال، بھائیوں کی محبت، اور وہ مبہم سا جملہ: “واپسی پر وہ میرے لیے رشتہ دیکھیں گے۔” جہاز نے پرواز کی—ماسکو میں عارضی توقف، اور شاہد خواب میں کھو گیا: وہی دن جب اُسے اسی ایئرپورٹ کے قریب ڈیپورٹ ہاسٹل میں ٹھہرایا گیا تھا۔ رینا—برازیلی لڑکی—پیکڈ سکرٹ، لال بیگ، سگریٹ کے دھوئیں میں بھی روشن۔ پھر ڈاکٹر زیدی کی آواز: “شاہد، اب جنگلہ پار کر لیا ہے تو لوٹنا نہیں—ہر دن حساب دینا پڑے گا، محنت کرنا۔” صبح اسلام آباد۔ بھائی اور پرانا دوست اسٹیشن پر منتظر۔ شہر کی سڑکیں لمبی، دل میں نیند کی چادر۔ شام ڈاکٹر زیدی کے ہاں—سگرٹ کے دھوئیں میں یادیں، ہنسی، سوال: “ادھر کی وکٹیں کیسی ہوتیں؟” دروازے پر گھنٹی—منظر کی آواز میں یکایک سندھی لب و لہجہ۔ “ڈرامہ کیا ہے بھئی؟” شاہد نے دل میں سوچا—بعد میں جانا کہ کہانیوں کا یہ کردار بھی کسی ملاوٹ زدہ سچ کا مسافر ہے۔
پانچواں باب
اگست کے مہینے میں جب باجرے اور مکئی کی کونپلیں کندھے نکالتی ہیں اور کھیتوں پر سبزہ اپنی جوان عمر کی پہلی قہقہہ لگاتا ہے، ہم نے ہل اور درانتییں ایک طرف رکھ دیں۔ نئی فصل کے دن تھے مگر ہم فصل نہیں—ایک وطن کاٹنے نکلے تھے۔ جولائی میں بویا تھا، ڈھائی مہینے میں پک کر لہلہاتا کھڑا تھا، پر دل میں ایک اور سرسبزی جاگ اٹھی تھی: ایک ایسا ملک جہاں اذانیں زمین کے مساموں میں اترتی ہوں، جہاں درود کی روشنائی گلیوں کے نکڑوں سے لپٹ کر گھروں میں جا بیٹھے۔ سود کی چمڑی سے جان چھوٹے، انصاف ہماری دہلیز پہ رہتا ہو۔ ہم نہیں جانتے تھے وہاں کیا ملے گا—بس یہ یقین کہ یہ “ہمارا” ہوگا۔
قافلہ چلا تو بابا جی ساتھ تھے؛ سر پر کسا ہوا عمامہ، ہاتھ میں سوئی جیسا عصا، اور چہرے پر وہ سکوت جو صرف بہت زیادہ چلنے والے چہروں پہ آتا ہے۔ بیمار تھے، سانس چڑھی ہوئی، مگر حوصلہ ہمارے قدموں کے برابر۔ میں نے سلام کیا تو بولے: “پتر، لگدا اے ایہہ بیماری مینوں مار چھڈّے گی۔”
ہم نے جھٹ کہا: “بابا جی، تہاڈا ساتھ ساڈا حوصلہ اے—اسی اسٹیشن تک پہنچیئے، ٹرین مل جاوے گی۔”
بابا جی ہنس کر آگے بڑھ گئے۔ اور پھر دو راتیں ایسی آئیں کہ اندھیرا ہمارا نام لے لے کر پکارنے لگا۔ کبھی خبر آتی کوئی قافلہ لوٹا گیا، کبھی کوئی ہم دم شامل ہو جاتا۔ شام ڈھلتے ایک دھچکا—چودہ برس کی لڑکی اور سولہ برس کا لڑکا غائب۔ جن ماؤں نے گھر چھوڑتے آخری بار دہلیز کو چوما تھا، ان کے کلیجوں سے چیخ نکلی۔ ہم نے سب کو تھمیا، گھوڑ سوار جنگل کے کنارے دیکھ آئے، مگر پتہ نہ چلا۔
رات گئی تو گیارہ بجے ایک جیپ کی بتیاں ہمارے خیموں پر چمکیں۔ دلوں نے بندوقیں تھام لیں—اور پھر یہ اللہ کی مدد نکلی۔ تھانیدار، دو سپاہی، دو گھڑسوار—اور جیپ میں وہی لڑکی۔ ماں نے جیپ چلانے والے کے چہرے کو چوم لیا۔ لڑکی ہکلاتی آواز میں بولی: “میں پانی لینے مسجد کے پشتے تک گئی تھی… چار سکھ گھوڑے ڈھال کے اٹھا لے گئے… کہیں سے فائر ہوا، ایک گرا، باقی بھاگے… یہ لوگ مل گئے تو… ”
لڑکے کا باپ خاموش رہا، پھر آسمان کی طرف دیکھ کر کہنے لگا: “جس رب نے ایک پتر دیا اے، اوہہی لبھاوے گا۔” قافلہ پھر چل دیا۔
بابا جی جب تھکتے تو شعیبِ ابی طالب کی گھاٹی یاد دلاتے—“پتر، مدینہ ہجرت دیوے تاں دکھ ساری رات رہندے نیں؟ صبح تہمتوں سے زیادہ روشنی لاتی ہے۔” ان کے لہجے میں سیرت کی چھاؤں اترتی اور ہمارے قدم تیز ہو جاتے۔ “اللہ اکبر”—ایک نعرہ اٹھا، پھر “پاکستان زندہ باد”—اور یوں لگا جیسے منزل ہم سے دو ہاتھ کے فاصلے پر آ ٹھہری ہو۔
رات کے تیور بدل گئے۔ برف کی ایسی تھر تھر کہ سڑک کا نشان مٹ گیا۔ ہماری گاڑی ڈھلوان کے کنارے سرک کر نالی میں پھنس گئی۔ درختوں کی اوٹ میں کہیں دور گھروں کی مدھم لائٹیں ٹمٹما رہی تھیں—اور اوپر چاندنی برف پر ایسی بچھل رہی تھی جیسے کسی نے چاند کا دودھ انڈیل دیا ہو۔ فون پر جرمن ریکوری والوں کو مقام سمجھانا بھی ایک امتحان۔ لہجے کی اونچ نیچ، زبان کی لڑکھڑاہٹ—پر رابطہ ہو گیا۔ اتنے میں باہر جھانکا تو درختوں کے بیچ چار لومڑیوں کی آنکھیں چمکیں۔ استاد نے آہستہ سے کہا: “لومڑ کدھی اکیلے حملہ نئیں کردے… اکّھے ہو کے آؤندے نیں۔ اندر ہی رہئیے—گرمی تے دعا دی کمبل بچھاؤ۔” ہیلی کاپٹر کی دور کی گھوں گھوں سنائی دی، فلڈ لائٹس کے پھیر درختوں کے سروں پہ لہریں بنانے لگے—لومڑیوں نے ہٹ کر دائرہ بڑھا لیا۔ میں بیس بال کا بیٹ پکڑے موٹر وے کے اشارہ بورڈ تک برف توڑتا گیا، نمبر پڑھا، ریسکیو کو بتایا، اور آخرکار دو جیپیں اور برف ہٹانے والے دو ٹریکٹر آ پہنچے۔ ہمیں اوپر پل تک لایا گیا، گاڑی نالی سے کھینچ نکالی گئی—ایک جیپ بھی پھنس گئی مگر ٹریکٹر والوں نے وہ بھی کھینچ ماری۔ جب ہم ہوٹل کے لابی تک پہنچے، ریسکیو والی “کیری” مسکرا کر بس اتنا بولی: “آج کی رات یہیں رہو—ٹائر آپ کے گرمی کے ہیں، سردی ان سے لڑائی جیت جاتی ہے۔” کیری، گرم کمرہ اور ایک خاموشی جو آہستہ سے سانس لیتی ہے تین بیڈوں والا کمرہ، سینٹرل ہیٹنگ کی مٹھاس، باہر برف کا ایک مسلسل جھومتا رقص۔ کیری نے چابی دی، کہا: “کچن بند کرنے لگی ہوں، چاہو تو کافی بنا لیں۔” کچھ دیر بعد وہ خود واپس آئی—گھر نہیں جا سکتی تھی، آگے کی سڑک بند۔ میں نے کہا: “کمرہ خالی ہے، صوفے پر سو جاؤ، کمبل رکھ دیتا ہوں۔” ہنسی—ہلکی، سانس کی کنپٹی پر رکھ دی گئی ہنسی—اور پھر سب کچھ خاموش۔ رات کے کسی پل جب نیند کی ڈوری کمزور ہوئی تو مجھے لگا میرے بستر میں کوئی اور سانس لے رہا ہے۔ صبح استاد نے کمرے کے دروازے پر دستک دی—“ہنی مون ختم! نو بج گئے نیں”—اور کیری آملیٹ، ٹوسٹ اور مسکراہٹ کے ساتھ ڈائننگ میں منتظر تھی۔ جاتے ہوئے میں نے کارڈ تھما دیا: “کبھی انگلینڈ آؤ تو ضرور ملنا۔” باہر اب بھی برف تھی، مگر ہماری گاڑی کے ٹائروں کے نیچے راستہ بننے لگا تھا۔
کولون کی گلی میں صدیوں پرانا چرچ، اور رائن کا بہتا پانی۔ استاد نے ہاتھ جیب میں ڈالے کہا: “دیکھ پتر—جرمن جنگ ہار گئے، پر ہمت نئیں ہاری۔ کارخانے پھر جاگ اٹھے، سڑکیں نئی، شہر نویں۔ اسی نے بھی تو آزادی لی تھی—ہم کہاں کھڑے ہیں؟” بات دور نکل گئی—ہٹلر، نسل پرستی، بوسنیا، عراق، افریقہ—اور وہ سب سوال جن کے جواب صرف کتابوں میں ٹھہرتے ہیں، زمینی زندگی میں نہیں۔ بھوک اور سرمایہ—دونوں کی آنکھیں ایک جیسی چمکتی ہیں۔ ہم نے بحث وہیں چھوڑی جہاں بھوک اور بحث اکثر چھوٹ جاتی ہے: پلیٹ کے کنارے پر۔
انیل نے دروازے پر انڈین رکشہ ٹانگ رکھا تھا، اندر مسکراہٹ اور چائے کی خوشبو۔ ہم کھانے پر تھے کہ معاملہ کاروبار کی طرف مڑ گیا۔ ٹونی—وہی جس کے ذمے سترہ دو لاکھ پاؤنڈ کے برابر ادائیگی تھی—کولون میں چیک دے کر غائب۔ صبح بینک، دوپہر فون، شام دروازہ—کوئی جواب نہیں۔ رات گئے پولس اسٹیشن، اسٹیون نامی نیک دل افسر—“میں لبھ لوں گا اگر وہ جرمنی میں ہوا تو”—اور میں واپس ہوٹل۔ صبح ہوئی، دن ڈھلا—اور اچانک خبر: ٹونی جلندر چلا گیا ہے۔ فون پر معافی، باپ کے ہارٹ اٹیک کا بہانہ، جمعے کو واپسی کا وعدہ۔ ہم نے آنکھ بند کر کے “ٹھیک اے” کہا، کہ انسان امید کے بغیر کتنی دیر سانس لیتا ہے؟
کولون کے اسٹیشن پر چند لڑکے مل گئے—سہیل اور اس کے دوست۔ سیاسی پناہ کے عارضی گھروں میں رہتے تھے: خالی کنٹینر، ہوا کے دروازے، اور دال کی دیگ جو اجنبی شہر میں بھی گھر جیسی خوشبو دے۔ “بھرا جی، ہوٹل چھوڑو، ساڈے نال چلو۔” میں ان کے ساتھ ہو لیا۔ راتیں گزریں، جمعہ آیا—اور جمعے کے انتظار میں کٹتی ہوئی رگوں جیسا دن۔ فلائٹ کی لسٹیں چیک ہوئیں—اسٹیون نے بتایا: “Harish Kumar نام کا کوئی مسافر اس پر نہیں۔” میں دیوار کے سہارے بیٹھ گیا۔ موبائل نے انگلینڈ سے مسڈ کال دکھائی—بیٹری کمزور۔ آہٹ سی ہوئی: دل نے پسینہ چھوڑ دیا۔ گھر فون کیا—باپ کی بھاری مگر ٹوٹی آواز، اور پھر امی کی آواز ابا کی زبان سے: “تِرڈی ماں… دل بند ہو گیا اے… فوراً آجاؤ—” میں وہیں بیٹھ گیا جہاں دنیا بیٹھ جاتی ہے: مٹی پر۔
یاد نے پردہ اٹھایا—بھائی آئ سی یو میں، ماں متھے کو بوسہ دے رہی ہیں، پاؤں تھام کر ایک ایسی دعا مانگتی ہیں جس کی زبان صرف ماؤں کو آتی ہے: “یا رب، اس دی عمر میری عمر نال بدل دے… ” بھائی بچ گیا تھا، ماں نے تب واپسی پر الماری سے کہا تھا: “میرے پرانے کپڑے کسی غریب کو دے دیو—میں ہُن بس۔” ہم نے ہنس کر ٹال دیا تھا—“سردیاں بعد آ جائیں گی اماں!”—اور وہ خاموشی سے ہمارا کندھا تھپتھپا کر رہ گئی تھیں۔ آج وہی خاموشی میرے سامنے کھڑی تھی۔ میں نے سہیل کی طرف دیکھا—وہ بھی رو پڑا۔ رات کنٹینر میں گزر گئی—عجیب کہ غم میں بھی لوگ انسان کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں، چاہے وہ کسی بھی زبان کے ہوں۔ صبح کی پہلی فلائٹ بک ہوئی۔ انیل کا فون، اسٹیون کی تسلی—اور میں مانچسٹر کے لیے روانہ۔
مانچسٹر اترتے ہی بھائی نے خبروں کی سرخی کی طرح مجھے تھاما—ابا اور بڑا بھائی دوسرے ٹرمینل سے پاکستان جا رہے تھے۔ میری ٹکٹ الگ تھی، میرے کندھے پر ایک خاموش ذمہ داری۔ میں جنازے تک نہ پہنچ سکا—دل میں ایک پھوڑا ایسا جو وقت سے نہیں، صرف مٹی سے بھر سکتا ہے۔ استاد نے بس اتنا کہا: “پتر، کچھ نقصان ہوندے نیں جو کبھی پورے نہیں ہوندے—اور کچھ فیصلے ایسے لگدے نیں جیسے کسی اور نے کیے ہوں۔ تو صبر والا اے—رب صدا خوش رکھے۔”
چھٹا باب
مہندی کے ہال میں جگمگ کرتی زرد بتیوں کے نیچے شیلا نے نوشی کا ہاتھ تھاما اور مسکرا کر بولی، “چنگا ہویا تُو وی آ گئی ایں—کہندے سن نہیں آ سکدی!” پھر دونوں ہال کے شور سے الگ، اُس کونے میں جا بیٹھیں جہاں پردوں کے پیچھے ہنسی ذرا دھیمی پڑ جاتی ہے۔ “یاد اے؟” شیلا نے آہستہ کہا، “اُس پارکنگ کے پاس وہ پرانا سا ‘WELCOME’ بورڈ… جس پہ ‘میوزک روم’ لکھا رہتا تھا۔ ہمیں تو لگتا تھا شہر کی پہلی تار وہیں سے چھیڑی گئی تھی۔ کبھی کسی نے اس پر آگ بھی لگانے کی کوشش کی تھی۔” نوشی ہنس دی، “ہم تو اُس پارک میں 74ء سے جا رہے ہیں۔ تب اوپر پہاڑ برف پہنے ہوتے، نیچے وادیاں سانس لیتی تھیں۔ دنیا کے لوگ بعد میں آئے—ہم پہلے سے مقیم تھے۔” باتوں سے ہوا نرم ہوئی، یادوں کے پنکھ کھلے۔ پھر اچانک شیلا رُک گئی—دل کہیں اور چلا گیا تھا؛ وہاں جہاں ایک نام تھا: شاہد۔
گھر لوٹ کر دل کی دھڑکنوں سے الجھتی رہی۔ فون کی گھنٹی بجی تو جون لینن کا گیت رُک نہ سکا؛ جب دوڑتی پہنچی تو لائن مُردہ۔ پلٹ کر بیٹھی ہی تھی کہ آپریٹر کی آواز آئی—اور اگلے لمحے شاہد تھا، وہی بےتاب سانس، وہی اپنے پن کی گونج۔ “ہیلمٹ میں نے کبھی پہنا ہی نہیں…” شاہد نے ہنستے ہنستے بتایا، “باؤنسر ناک پر لگا، خون بہت نکلا۔ زیدی صاحب نے روئی ٹھونسی، میں پھر بھی ستاون بنا آیا۔ شاید ناک کا معمولی آپریشن ہو—دو دن میں کھڑا ہو جاؤں گا۔ اگر سیمی جت گئے تو بائیس دسمبر سے پہلے پہنچ بھی سکتا ہوں… تُو بس خط لکھتی رہنا۔” شیلا کی آواز میں ٹھہری ہوئی گھبراہٹ تھی: “میں تیری سانسوں میں ہوں، اور یہی کافی ہونا چاہیے—پر سُن، راتوں کو دریا کنارے مت جانا۔ ملنگ کی باتیں اچھی ہیں، لیکن عشق میں خودکشی نہیں کی جاتی، وعدہ کر!” شاہد نے مسکرا کر کہا، “ایک رات ضرور—رخصت سے پہلے۔ وہ بزرگ دعا دے دیتے ہیں۔ چِلّہ کا مفہوم آ کر سمجھا دوں گا۔”
اور پھر وہ رات آئی جب چناب کا پانی کہانی بن گیا۔ شاہد اور منظر جھونپڑی تک پہنچے تو پرانا ملنگ غائب تھا؛ ایک نیا چہرہ، آنکھوں میں عجب بیداری۔ کہنے لگا: “وہ اپنے مرشد کے حکم پر چلا گیا—اور جاتے جاتے اپنا سویٹر رکھ گیا۔ کہہ گیا، ‘بابو ضرور آئے گا—یہ کسی غریب کو دے دینا’۔” ہوا میں عجیب سا تناؤ تھا۔ دریا کی لہریں جیسے کسی نام کو پکارتی ہوں۔ شاہد نے پلٹتے ہوئے بس اتنا یاد رکھا کہ عشق کی منزلیں ‘فنا’ سے گزرتی ہیں—پر زندگی اپنا حصّہ مانگتی ہے۔
جہاز نے لاہور کی ہوا پیچھے چھوڑ دی۔ کھڑکی سے دیکھے گئے بادل سوتی روئی جیسے لگ رہے تھے۔ شاہد تھکن کی دھجیاں اوڑھ کر سو گیا۔ خواب میں ملنگ بابا اسی لہروں پر ہنستا ہوا کہتا رہا، “حد کوئی نہیں… مگر منزل ہو تو پورا اتر کے جانا!” مانچسٹر میں اتر کے دنیا ایک بار پھر اپنے حساب مانگنے لگی۔ بھائی نے فیکٹری کے دروازے پر کندھے تھپتھپائے، مشینوں کی سانسیں بے چین تھیں؛ کرسمس نزدیک، آرڈرز بھاری۔ شیلا نے آتے ہی آفس کی نگاہوں سے بچ کر اسے سینے سے لگا لیا—روئی نہیں، بس پل بھر کو سانس روکی، پھر مسکرائی اور ہال میں گم ہو گئی۔
فیکٹری میں ‘کرسمس ایو’ کی دوپہر رنگین تھی۔ لڑکیاں سُرخ و عنابی لباس پہنے، گالوں پر برف جیسی سفیدی؛ لڑکے کاغذی ٹوپیاں۔ جمی نے مذاقاً شیلہ کو “دلہن” کہا تو وہ ہنس کر رہ گئی—شاہد کو وہی عنابی سوٹ پہنے دیکھ کر جسے وہ پاکستان سے لایا تھا، اس کے گالوں پر گرمی دوڑ گئی۔ پھر ہال خالی ہوا تو ‘فرینڈشپ پب’ بھر گیا؛ دھواں، شور، اور گلاسوں سے چھلکتی ہوئی بےفکری۔ شاہد نے کوک منگوائی—مگر کسی نے کچھ ملا دیا تھا۔ چند ہی لمحوں میں قدم ڈگمگائے؛ لڑکیاں “میری کرسمس” کہہ کر گال چومتی گزریں؛ ضمیر نے گردن تھامی—اور وہ باہر نکل آیا۔ برف تھی، تھرتھراتی ہوا تھی، اور پھر پیٹ کا بوجھ ایک طرف۔ وہ گرنے والا تھا کہ دو ہاتھوں نے تھام لیا—شیلا! “میرے ولّ ویکھ!” اس نے چشم تر سے کہا۔ “وعدہ کر—آئندہ شراب کے پاس نہیں جانا۔” “کبھی نہیں”—شاہد نے ہچکچاتے ہوئے کہا—اور اپنی مہر اُس کے ہونٹوں پر ثبت کر دی۔ جِمی نے دروازہ کھٹکھٹایا تو دونوں ہوش میں آئے۔ وہ انہیں گھر چھوڑ گیا۔ رات، اپنے سارے سوالوں سمیت، خاموش ہو گئی۔
اگلے دن ‘ڈَو لیک’ کی پارکنگ میں برف کے اوپر بطخیں اپنے نقش بناتی رہیں۔ شیلا نے تھرمس سے کافی ڈالی، بیگ سے سموسے نکالے۔ شاہد ہنسا، “آج کی ہیر سموسے لے آئی—اور رانجھے نے چاکلیٹ کو ہی عشق سمجھ لیا!” ہنسی چھنک کر رہ گئی۔ دور سفید پہاڑ، قریب شفاف پانی، اور درمیان میں دو لوگ جنہیں دنیا سے بس چند وعدے چاہیے تھے۔ بات فلسفے پر جا ٹھہری۔ روحِ رحمانی اور روحِ حیوانی، فطرت اور تربیت کے بین—استاد کی آواز یاد آئی: “نبی اسی لیے نور رہتے ہیں کہ حیوانیت اُن پر غالب نہیں آ سکتی۔ ہمارے حصے میں پیروی آئی ہے—اور وہی زندگی سیدھی کرتی ہے۔” شیلا نے آہستہ کہا، “رب کو محبت سے محبت ہے—بس باقی تقدیر۔” شاہد نے سر رکھا، “پھر میں تقدیر سے پہلے تیرا ہو لوں؟” اور خاموشی نے ہاں کہہ دی۔
چند دن بعد سڑکیں پیرس کی طرف ڈھلنے لگیں۔ رستے میں ہوا نے بتایا کہ یہ شہر ملٹی کلچرل ہے—جیسے لندن، مگر اپنے قرنوں کی خوشبو کے ساتھ۔ ‘گار دو نورد’ کے قریب روشن نے ہوٹل میں کمرہ دلوایا؛ دو گھنٹے بعد شانزایلیزے کی روشنیوں میں ٹہلتے رہے، پھر لوور میں ‘مونا لیزا’ کے سامنے دیر تک کھڑے۔ روشن نے نوسترادامس کا حوالہ دیا—پیش گوئیاں، ایک ذہن، اور وقت کے ساتھ ہوتی ہوئی تحقیق۔ واپسی پر گفتگو نسل پرستی کی طرف مڑ گئی۔ استاد کے لہجے میں ماہرانہ کڑواہٹ تھی، “ہٹلر نے نیشنل ازم کا نعویٰ لگا کے ایک ‘خالص نسل’ گھڑی—پھر اُس پاگل پن نے ہولوکاسٹ کے غار کھود دیے۔ مگر کہانی یہیں نہیں رکی؛ طاقت نے کپڑے بدل کر کیپٹل ازم پہن لیا—اور دنیا کو تیسرا شریک کبھی پسند نہیں آیا۔” شاہد نے بس اتنا کہا، “ہم پردیسی ہیں—رزق کی تلاش میں نکلے، مگر جہاں جہاں گئے، وہاں کی کتاب بھی پڑھ لی، وہاں کے دکھ بھی سن لیے۔ یہی شاید ہمارا پاسپورٹ ہے—دل کا۔” رات گئے ہوٹل کے کمرے میں کھڑکی کے پار سین کی ہوا سرد تھی، مگر کمرا گرم۔ شاہد کے فون پر شیلا کی آواز آئی—وہیں کی، ویسی ہی۔ “بس جلدی آ جا—باقی سب میں سنبھال لوں گی۔” “میں آ رہا ہوں”—اس نے دھیرے سے کہا—“اور اس بار صرف سامان نہیں، اپنے سارے وعدے ساتھ لاؤں گا۔” باہر برف پڑنے لگی—آہستہ، ایسے جیسے کسی نے آسمان کے کان میں ایک نرم دعا کہہ دی ہو۔ اندر دو دل سکون سے سو گئے—اور ان کی نیند کے سرہانے ‘وعدہ’ بیٹھ کر پوری رات جگتا رہا۔
ساتواں باب
صبح کے عین بیچ میں فون کی گھنٹی نے خواب کی گرہ کھولی۔ گھڑی دوپہر کے بارہ بجا رہی تھی۔ گھر سنّاٹے میں ڈوبا تھا؛ باہر دیکھا تو دوسرے بھائی کی جیپ بھی نہ تھی۔ بھابھی کی آواز لائن پر نرم دھوپ جیسی اتری: “میں اماں کے ہاں ہوں، روٹیاں پکا کے رکھ گئی ہوں، سالن فریج میں ہے۔ بھائی جان نیویارک پہنچ گئے، سب خیر۔ اگر ادھر آنا ہو تو اولڈھم چلے آنا۔” ٹی وی پر کرسمس کی چھٹیوں والی پرانی فلمیں چل رہی تھیں—Ten Commandments کی نیلی روشنی میں آنکھیں بوجھل ہوئیں اور صوفے ہی پر نیند آ گئی۔ دروازے کی بیل نے چونکا دیا—لالہ کھڑے مُسکرائے: “کاکا روٹی کھا لی اے یا نئیں؟” اور پھر بات چلی تو کرکٹ اور رشتوں پر جا ٹھہری۔ لالہ نے ہنستے ہنستے کانا پھوسی کی: “لگدا اے میرے سوہرے ہُن تیرے لئی وی راضی ہو جان… پر انکار نال میرے گھر لڑائی نہ کرواویں۔ نویں سال وچ گل چھیڑ دیواں گا—بس تُو ہتھ ہولا رکھیں۔” اسی میں قریشی صاحب کا فون—ان کی کار برف میں اٹک گئی تھی۔ دونوں بھائی جیکٹ پہن کر نکلے۔ سردی نے سڑکوں کو سفید سانسوں میں لپیٹا ہوا تھا۔ قریشی کی گاڑی کا غم سادہ نکلا—پیٹرول ہی ختم۔ جیپ کے کین سے تیل ڈالا، دھکا لگایا، انجن نے جان پکڑی۔ گھر آ کر بھابھی کی چائے نے انگلیاں گرم کیں۔ قریشی کا آئرش ڈلیوری بوائے پیٹر—جو پنجابی گالیاں ہم سب سے پہلے سیکھا تھا—یاد آ کر ہنسی چھوٹ گئی۔
ہفتے کی صبح ٹاؤن سینٹر کی طرف نکل گئے۔ برفانی دنوں میں بازار جیسے سانس روک لیتے ہیں—چند سٹال، مارکس اینڈ اسپنسر کی روشنی، اور میکڈونلڈز کی بھاپ۔ فِلے—او—فِش اور کوک لیے ہی تھے کہ آواز آئی: “تُسی ایتھے او؟” شیلا تھی—چھوٹی بہن خالہ کے ہاں جا رہی تھی، مگر دل ادھر نہ لگا تو بھاگتی یہاں۔ دونوں نے ایک ہی وقت کا ایک ہی خواب سنایا—“تُسی خواب ویکھ رئے سی… تے میری اکھ کھل گئی”—اور پھر خاموشی سے قریب بیٹھ گئے۔ باہر گوروں کی نظریں، اندر دلوں کے فیصلے۔ پارکنگ کی چھت پر جیپ میں جا بیٹھے—اتفاق سے بھابھی کی جیپ بھی وہیں سے گزری، بچوں سمیت۔ شیلا نے ہنستے ہنستے ٹشو سے کالر پر لگے لپ اسٹک کے دھبّے صاف کیے: “بھرجائی نے دونوں نوں اکٹھا ویکھ لیا اے—ہُن شاید تہانوں شرم آ جاوے!” لالہ والی بات بھی کہہ دی۔ “جنوری میں دروازہ کھلے گا، ان شاء اللہ—سب اچھا ہو جائے گا।” “چلو پھر سنیپ پاس لیک چلیں”—شیلا نے آسمان کی طرف دیکھا۔ آج چاند کا دِل جھیل پر تصویریں بناتا تھا۔ راستہ خاموش، برف کی چادر، سانسوں کا بھاپ بنتا دکھائی دینا—اور ایک لومڑی ہیڈلائٹس کے کنارے سے گزر گئی۔ واپسی پر سڑکیں سنّاٹی تھیں؛ دلوں میں ہلکی سی ہنسی، “مذاق دا رنگ تیرے وچ وی اے”—اور جیپ شہر کی گرمی میں واپس گھل گئی۔
“میں امریکہ اترا تو یوں لگا نیویارک انتظار کر ریا سی۔ پاکستان وچ جو ہم چھپ چھپا کے رہندے ساں، اتھے پہلی سانس ہی آزاد ملی۔ نسل پرستی کے موسم آئے تو میں سہم کے نہیں بیٹھا—پولیس والوں سے بات کی، جلوس نکالا—ایشین، بلیک، گورے—سب اکٹھے ہوئے۔ اخباروں کی سرخیاں آئیں—پر میں نے یہ خود کو منوانے کو نہیں کیا؛ یہ میرا فرض سی۔ سوسائٹی میں رَل کے رہو، اپنی اقدار بچا کے—اور جہاں ہو وہاں کے اچھے رنگ چن لو۔” پھر اس نے ابنِ رشد، دربار کی فتووں والی تاریخ، عقل و نقل کی کشمکش چھیڑی—اور ہنس کے بات بدل دی: “چلو رانا نے گھر بلایا اے—اُتھے تہاڈا چنیوٹ وی ملے گا!” واقعی، کمرے میں شہر کی گُفتگو دیر تک ابلتی رہی—محمود بٹ، چودھری نعمت، میاں صاحب کا تذکرہ—اور رات گزر گئی۔ بالکونی میں بعد ازاں درشن کی داستان کھلی—ٹیکسی بیس، امریکی بیوی، دو بچے، مقدمے، شکست، جج کی سخت نظروں کے آگے ہاتھ خالی۔ “کورٹ توں باہر آیا—جیب وچ پچاس ڈالر—زندگی اک دم اجنبی۔ اوہدوں زلفی دی مرسڈیز رُکی—‘کتھے جارئے او؟’… تے میں اسی دن اس دے فلیٹ آ گیا۔ دو بِلّیاں، دو یار، تیرہ سال اک چھت تلے۔ خون کے رشتے ضروری نہیں، محبت واسطے دل کافی اے، شاہد بھائی!”
“میں برسوں بعد گیا تھا وطن—جب ابا کا جنازہ ہوا تھا، پھر بہن کی شادی۔ محلے کا ڈیرہ یاد آیا—جہاں راتیں سُنتے سناتے گزرتی تھیں، سلام اور حیا راستوں پر سایہ کرتے تھے۔ اب وہاں دولت کے نئے ڈیرے ہیں—آوازیں بدل گئیں، لہجے خالی ہو گئے۔” استاد نے اپنی کمزوری کا قصہ بھی سنایا—ٹانگیں جواب دینے لگیں تو میرپور کا ایک مالشی روز آتا رہا، جسم کو پھر سے اٹھنا آ گیا۔ “باپ کے ادھورے کام نمٹا کے جہاز میں بیٹھا تو لگا—کچھ کام ہمیشہ ادھورے رہتے ہیں؛ اگلی نسلوں کے لیے۔ ہُن فیر چلئیے؟ نئیں، اس بار دھرتی ماں سے اجازت لے آیا واں کہ شاید اب ملاقات کم ہو۔”
اور پھر بات ہجرت پر جا ٹھہری—ایک استعارہ، ایک رستہ، جو پستی سے بلندی تک لے جاتا ہے۔ آدمؑ کی جنت بدری، نوحؑ کی کشتی، ابراہیمؑ کی کوچہ گردی، یعقوبؑ کے بیٹوں کی نقل مکانی—مشقتیں، صبر، شکر۔ مکّے میں رسولِ کریم ﷺ کا کردار پہلے پہچانا گیا، پھر اعلانِ حق ہوا تو اپنے بھی پرائے ہو گئے۔ حکمِ الٰہی پر ہجرت ہوئی—اور تاریخ کی نبض سیدھی ہو گئی۔ “ہم عام لوگ بھی ہجرت کرتے ہیں—شہروں، ملکوں، پیشوں کی۔ اور دیکھو—جب انسان پچھلا بوجھ رکھ کے نئے کام میں لگتا ہے تو رزق کھلتا ہے، طبیعت بدلتی ہے، اور رفتہ رفتہ جگہ کی مٹی اپنا لیتی ہے۔” استاد نے مسکرا کے کہا، “زلفی سے پھر بیٹھیں گے—جنوری کے آخر میں آئے گا۔ ہجرت کی سچائی اسی کے قصے میں بھی تو ہے—ٹوٹنے کے بعد جُڑ جانا۔” گھر لوٹ کر شاہد نے اجازت مانگی اور اپنے در کی دہلیز پار کر لی۔ برف دھیما دھیما گر رہی تھی؛ کہیں دور جھیل کی سطح پر چاند پھر سے تصویر بناتا رہا—اور اندر ایک فیصلہ چپ چاپ روشن ہوتا رہا: اگلا دروازہ اب ہم خود کھولیں گے۔
آٹھواں باب
نئے سال کی چھٹی ختم ہوئی تو فیکٹری پھر وہی روزِ اوّل… سب منہ ہلاتے، ایک دوسرے کو مبارک دیتے، اور مشینیں “بیک ٹو نارمل” کی کھڑکھڑاہٹ میں جاگ اٹھیں۔ انہی دنوں بڑے بھائی یا خاندان میں کوئی خاص گفت و شنید نہیں ہوئی تھی۔ شیلا کبھی اداس دکھائی دیتی، مگر زیادہ تر اس کے چہرے پر ایک نئی سی روشنی، ایک بے ساختہ سی مسکراہٹ تھی۔ ایک روز آئرین نے شوخی سے شیلا کا بازو تھاما، اور سامنے کھڑے شاہد کو دیکھتے ہوئے بولی: “میری جان، آج تم مذاق ہی مذاق میں شیلا سے بھی زیادہ سندر لگ رہی ہو۔ کہیں کوئی نیا دوست تو نہیں بنا لیا؟ چہرے کی رنگت اور بولنے میں اتنا اعتماد… خوشی کی خبر لگتی ہے!” “میں، جیکی اور جیکی کی ماں ریسٹورنٹ میں تمہاری ہی باتیں کر رہے تھے—سن رہی ہو؟” وہ تیز تیز بولتی رہی، پھر سوال پر سوال۔ اسی میں شیلا کی خالہ آ دھمکیں: “اب تو یہ کسی کے گھر بھی نہیں آتی، تین مہینے سے میرے ہاں قدم نہیں رکھا۔ پہلے تو ہر ہفتے آ جاتی تھی۔ بہن سے پوچھا تو اس نے کہا شیلا بہت مصروف ہے!” شیلا خاموشی سے سب سنتی رہی۔ خالہ نے پل بھر کو سانس لی تو وہ بہانہ کر کے باتھ روم کی طرف کھسک گئی۔ ادھر سب اپنے اپنے کام میں جت گئے۔ شاہد نے ہلکی سی سختی میں کہا: “آنٹی پروین! آپ ذرا اپنی جگہ رہیے، مجھے پیکنگ مکمل کرنی ہے، آرڈر بنانا ہے اور انوائس بھی۔ پلیز جلدی کیجیے!” شیلا لوٹی تو تیز ہاتھوں سے آرڈر لکھتے ہوئے آئرین کے کان میں بس یہ کہا: “ہاں… مگر خالہ کو مت بتانا!” شاہد چونکا، ایک نظر اس پر ڈالی—اور خاموش ہوگیا۔ اتنے میں بھائی دفتر سے باہر آئے اور شاہد کو ہدایت دی: “پیکنگ ختم کر کے آفس آؤ، انوائس بنا کر جہانگیر کو دو—ڈیلیوری لے کر جا رہا ہے۔” برف پگھل چکی تھی، مگر جنوری فروری کی سردی تو سردی ہے۔ آئرین نے آواز دی: “سب ٹھیک، شاہد؟” “ہاں، ڈیلیوری نکل رہی ہے!” بریک ہوئی تو شاہد نے اجازت لی اور جمی کے ساتھ لائبریری کی طرف نکل گیا۔ جمی لنچ لینے چلا گیا—“بیس منٹ میں ملتے ہیں!”—اور لائبریری کے پرسکون گوشے میں شیلا اس کا انتظار کرتی مل گئی۔ دونوں بیٹھ گئے۔ شیلا بولی: “آئرین میری اچھی دوست ہے۔ اسے میں نے کچھ نہیں بتایا، بس وہ پہلی ہی روز سے میرے ساتھ بہت مہربان رہی۔ یہ لوگ ہوتے ہی ایسے ہیں—سوال کا جواب مل جائے تو پیچھا نہیں کرتے، ہماری طرح ٹوہ میں نہیں رہتے۔” پھر اچانک ہنستے ہنستے سنجیدہ ہوگئی: “شاہد، سچ بتاؤ—میں تم سے مل کر کتنی بدل گئی ہوں؟ لوگ پوچھنے لگے ہیں۔ بُری ہو گئی ہوں یا… اچھی لگنے لگی ہوں؟” شاہد نے شرارت سے کہا: “افریقہ میں سکھوں کے بیچ رہ کر تمہاری پنجابی کبھی کبھی بہت پکی ہو جاتی ہے!” “نہیں، تم بتاؤ نا!” وہ جھجکی۔ “ویک اینڈ پر ملیں گے تو بتاؤں گا۔” وہ ہنس دی، اور دونوں واپس اپنے اپنے کام میں جُت گئے۔ آئرین اصل بات پھر بھی نہ سمجھ سکی تھی۔ وہ مشین پر واپس بیٹھی تو شیلا سامنے موجود نہ تھی۔ اسی دم شیلا کی خالہ پروین نے آ کر شاہد سے پوچھ لیا: “بیٹا، شیلا نے کیا کہا تھا؟ میں سن نہ سکی۔” شاہد چونک کر سیدھا بولا: “آنٹی، مجھے نہیں معلوم—ان کا آپس کا مذاق ہوگا۔” وہ بے نیازی سے اپنی کرسی پر جا بیٹھیں۔ شاہد کے دل میں ایک خلش سی جاگی—“یہی فرق ہے ہمارے اور ان کے مزاج میں۔ مولا، خیر رکھ، راہ دکھا!” پیچھے سے جمی ہنس کے بولا: “آمین۔ اور جناب، آپ کو کیا ہوا ہے؟” “کچھ نہیں!” جمی نے کہا: “ہفتے کی رات وقت نکالنا—میرے گھر فلم دیکھیں گے، پھر شیڈز نائٹ کلب چلیں۔ شارن اور مارگریٹ بھی ملیں۔” شاہد نے ہنستے ہوئے ٹال دیا: “دس بجے تک گھر ہونا ہوگا—دیکھتا ہوں!” شاہد نے دل ہی دل میں طے کر رکھا تھا کہ بات اب تیز بڑھنی چاہیے۔ ہفتے کی دوپہر بازار میں ملنے کا وعدہ ہوا، چار بجے کے بعد۔ اس نے اپنے کرکٹ کپتان مارٹن کو کال کی—اگلے سیزن کی پلاننگ میٹنگ ہفتہ ہی کی شام رکھ لی گئی۔ گراؤنڈ کے پب میں، جو سردیوں میں عام بند رہتا ہے۔ مارٹن نے ہمیشہ کی طرح پوچھا: “حلال کھانے کے لیے دو بندوں کا حساب رکھوں؟ اور ساتھ کون آئے گا؟” “ہاں، دو ہی رکھیے…” شاہد نے مسکرا کر جواب دیا۔ اگلے روز فیکٹری میں شیلا کو خبر دی تو وہ کھل اٹھی۔ “رات دیر ہو جائے گی—بہانہ؟” “شاید پہلے لوٹ آئیں…” شاہد نے اس کی آنکھوں کی چمک دیکھی اور خاموش رہا۔ “اچھا… دیکھتے ہیں!” وہ ہنس دی۔ ہفتے کی صبح شیلا نے بال کٹوائے، ٹاپ شاپ سے ایک نیا بلاؤز لیا، پھر گھر آ کر آنے والی شام کے خیال میں گم بیٹھی تھی کہ نوشی آ دھمکی—“میں بھی چلوں گی، اور اگر دیر ہو گئی تو ماں کو میں کہہ دوں گی کہ ہم لیسٹر میں نئی آئیرش فلم دیکھنے جا رہے ہیں—رات بارہ تک، پھر میں خود شیلا کو چھوڑ آؤں گی۔” ماں نے کچھ نہ کہا۔ نوشی نے اپنے طور پر راستے بھی نکال لیے—“میں تو سہیلیوں کے ساتھ مانچسٹر فلم دیکھنے جا رہی ہوں، تم بھی کھسک جانا، رات ہمارے گھر سو رہیں گی، کسی کو خبر نہ ہوگی!” شیلا نے ہنستے ہنستے جھڑکا: “فضول باتیں چھوڑ، تین بجے نکلتے ہیں!” مارکیٹ میں اسے شاہد کی دونوں بھابھیاں اور بھتیجے ملے۔ برف باری کے باعث لوگ دھیرے دھیرے چل رہے تھے۔ اس نے سلام کیا اور آگے بڑھ گئی—کہ ظاہر ہے شاہد ان کی موجودگی میں سامنے نہ آتا۔ وہ مارکس اینڈ اسپینسر کے پاس والی گلی سے وولوَرتھ کی سمت مڑی کہ سامنے “بوٹس” کے شو کیس کے پاس شاہد منتظر کھڑا تھا—آج کچھ اور ہی سمارٹ۔ “چلو، پہلے میرے گھر سے بیگ لیتے ہیں!” شیلا نے لپک کر کہا۔ سنو گھٹ چکی تھی مگر سردی تیز تھی۔ ہڈرزفیلڈ کی سمت چلتے ہوئے دونوں کچھ دیر خاموش رہے۔ اپرمِل کے قریب شاہد نے بتایا کہ کلب کے پائپ جم گئے تھے۔ “ہڈرزفیلڈ سے ذرا پہلے روڈ پر ایک بڑا پب ہے—میٹنگ وہیں ہے۔” شیلا نے چھوٹا سا طنز کیا: “یہ بھاگ نکلنے والی باتیں کب کی تھیں؟” شاہد ہنسا: “وہ تو میں مذاق میں کہتا تھا… جو بھی کریں گے ڈنکے کی چوٹ پر!” “یہ کس فلم کا ڈائیلاگ ہے جناب؟” “اس بار سنجیدہ ہوں!” وہ ہنسا۔ “ویسے تمہارا فر کوٹ بہت خوب ہے، گرمی نہیں لگتی؟” “میٹنگ کے بعد اتار دوں گی—کہیں میٹنگ درمیان میں ہی منسوخ نہ کر دیں!” وہ آنکھ دبا کر بولی۔ میلٹھم کے بورڈ کے ساتھ پیلی انتباہی لائٹس جل رہی تھیں—سڑک پر بلیک آئس کا دھوکا تھا۔ شاہد نے رفتار دھیمی رکھی، ٹیپ پر گانا لگا دیا— “نہ سونا، نہ چاندی—میں کیا دے سکوں گا…” شیلا نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ “گولکر کا سائن نظر آئے تو بتانا—نزدیک پہنچ جائیں گے۔” “گول کر کا مطلب بھی بتاؤ گے؟” “بعد میں… ابھی تو یہ قصبہ ‘گولکر’ ہے!” “اچھا، جانی، ‘گول’ بھی کرا لیں گے—پہلے میٹنگ تو نمٹا لو!” وہ ہنس دی۔ پب پہنچے تو وقت سے پہلے تھے۔ گاڑی میں دونوں سر سے سر جوڑے اونگھ گئے۔ دروازہ بجا تو شاہد کی آنکھ کھلی—مارٹن مسکرا رہا تھا۔ اندر ہال میں کافی ملی، تعارف ہوا: “یہ شیلا ہے—منگیتر۔ کرکٹ بھی سمجھتی ہے۔” سب خوش۔ سیزن کی باتیں طے ہوئیں۔ کھانا آیا۔ باہر برف پھر تیز ہو چکی تھی۔ کپتان نے کہا: “رات دس بجے تک برف، پھر بارش—چاہو تو یہیں بیڈ اینڈ بریک فاسٹ ہے، میں ادائیگی کر دوں گا—صبح نکل جانا۔” دونوں نے ہاں کر دی۔ کمرہ گرم تھا—فرج میں جوس، چائے، بسکٹ۔ ایک ڈبل بیڈ، دو کرسیوں کا سکوت، ساتھ باتھ روم۔ دونوں چپ۔ ٹی وی پر “دی بِچ” چل رہی تھی—شاہد پہلے دیکھ چکا تھا۔ کچھ دیر بعد شیلا بولی: “رات بہرحال گزرنی ہے… کپڑوں سمیت سوئیں تو گھر والوں کو کیسے سمجھائیں گے؟” اس نے کوٹ اتارا۔ شاہد نے ہونٹوں پر مسکراہٹ کے ساتھ اس کے بلاؤز، اس کی جوانی کی خوشبو اور چہرے کی روشنی دیکھی تو ٹھٹک گیا۔ وہ دونوں بازو کھول کر کھڑی ہو گئی: “کیوں رکے ہوئے ہیں؟ میں صرف آپ کی ہوں۔ اس رات کو محبت میں بدل دیں—جی بھر کے ایک دوسرے کو دیکھیں!” وہ دوڑ کر اس کے سینے سے جا لگی۔ باہر سردی، کمرے میں حرارت، دو دل جو اپنا سب کچھ ایک دوسرے پر نچھاور کرنے کو آمادہ—اور بس محبت کا موسم… “ایکسکیوز می!” کہہ کر وہ باتھ روم گئی، پھر بڑے تولیے میں لپٹی لوٹی تو شاہد نے حیرت سے اسے دیکھتے ہی دیکھا۔ وہ مسکرائی: “آئیے جناب!” اور پھر وہ رات ان کی پہلی سہاگ رات بن گئی۔ جذبات کے ہنگامے تھمے تو نیند آ گئی۔ گھڑی نے ایک بجایا تو دونوں کھڑکی پر جا کھڑے ہوئے—اب بارش ہو رہی تھی۔ شاہد نے کہا: “واپس چل سکتے ہیں…” کپڑے بدلے، چائے پی، گاڑی نکالی۔ شیلا کو گھر اتارتے ہوئے وہ جھکی اور بولی: “کاش یہ رات ہزار راتوں جتنی لمبی ہوتی!” شاہد نے نرمی سے کہا: “پرسوں ملیں گے!” اگلی صبح لالہ بھائی نے طنز کیا: “ہر ویک اینڈ کو دیر سے آتے ہو—کل رات چار بجے آئے ہو!” “برف میں پھنس گیا تھا—ہڈرزفیلڈ سے موٹروے پر آ جاتا، ایک لین کھلی رہتی ہے—خیر اگلی بار…” شاہد نے بات ٹال دی۔
صبح کے دس بجے تھے۔ شاہد نے دکان سات پر کھولی تھی، گیارہ پر بند کرنا تھا۔ فون بجا—زلفی تھا۔ دوسری طرف غصہ دہک رہا تھا: “میں اسے گھر سے نکال دوں گا!” پیچھے سے پارٹنر کی آواز سنائی دی: “میری کوئی غلطی نہیں، بس یہ اکتا گیا ہے!” زلفی چیخا: “غلطیاں ہو جاتی ہیں—خدا بننے کی ضرورت نہیں! مگر میرے دونوں بِلّے بھوکے رہیں تو برداشت نہیں—شیرو بیمار ہے، ڈاکٹر نے کہا کمزوری ہے بھوک سے!” شاہد نے تھم تھم کر کہا: “زلفی، مائیک بند کرو… اچھا، اب بولو!” “وہ اپنے کمرے میں چلا گیا ہے… بھرا جی، غلطی ہو گئی، مگر رویہ ٹھیک نہیں۔ مجھے سڑک سے اٹھایا، احسان اس کا… مگر لفٹ میں لوگوں کے سامنے مجھے برا بھلا کہنے لگا—یہ تو حد ہے!” “ٹھیک ہے، اسے منا کر، معافی لے کر مجھے اطلاع دینا۔” “مہربانی، بھرا جی!” فون بند ہوا تو شاہد دیر تک سوچتا رہا—“زلفی کیسا آدمی ہے! دو بلیاں—‘شیرو’ اور ‘ببلو’—اور ان کا دکھ اس کے دل تک اتر آتا ہے۔ ہم انسانوں کی غلطی نہ بھی ہو تو بھی ایک دوسرے کو معاف نہیں کرتے۔ ایک ہی تھال میں کھا کر بھی دل تنگ رہتے ہیں۔ اور جانور—گھر میں باندھ کر رکھتے ہیں، مگر ضرورت پوری نہیں کرتے… ” وہ آہستہ آہستہ کام میں لگ گیا۔ کیری آ گئی—وہی کیری جو پانچ گھنٹے روز دکان سنبھالتی۔ “شاہد! وہ نسلی تعصب والا لڑکا دوستوں سمیت آیا تھا۔ میں نے صاف کہہ دیا تھا دکان کے اندر قدم نہیں۔ دھیان رکھنا—یہ سارے علاقے میں مشہور نسل پرست خاندان ہے۔ کاؤنٹر کے پیچھے کچھ نہ کچھ رکھ لینا۔ ممکن ہو تو پولیس سے بھی بات کر لو۔” “شکریہ، کیری!” تھوڑی دیر میں سلطان بھائی آ گئے—تین سے گیارہ تک کی شفٹ انہی کی تھی۔ دونوں نے مشورے سے ایک ہاکی اسٹک کاؤنٹر کے پیچھے، اور ایک دفتر میں رکھ دی۔ کام چل نکلا۔ ایک وین رکی، باقاعدہ گاہک آئے، دن بھاگتا رہا۔ رات کے دس بجے اُستاد اور خواجہ صاحب سلام علیکم کہتے داخل ہوئے۔ ساتھ والی گلی میں ٹیک اوے بھی شاہد ہی کا تھا۔ سلطان نے کہا: “کھانا میں پکا دوں گا!” اور اندر چلا گیا۔ باتوں میں زلفی کا ذکر چھڑا— “یار نہایت اچھا آدمی ہے!” خواجہ صاحب نے بیئر کا کین کھولا: “اتنے بڑے جوتے والا عام طور پر اتنا عقلمند نہیں ہوتا—تم وہاں رہ آئے ہو، بہتر جانتے ہو!” کچھ دیر میں کیری بھی آ گئی—بچے، چھوٹی بہن ساتھ۔ بہن سلم اور اتھلیٹ تھی—شاہد اکثر صبح اسے فٹ پاتھ پر دوڑتے دیکھتا۔ سلطان نے آواز دی: “کیری، آج خاص ڈِش بن رہی ہے—گیارہ بجے آ جانا!” “ضرور، میں بھی اوپر فلیٹ آ جاؤں گی—گلی والی ہمسائی بھی ساتھ لاؤں گی!” دکان جب شاہد نے خریدی تھی تو یہی محلہ تھا—چودھری اعظم کی ناکام دکان۔ پہلا دن—چابی دیتے ہوئے ایک سفید بالوں والا رابرٹ بھی آ نکلا تھا اور یہ کیری بھی—“دیکھوں تو سہی کون یہ سونی دکان خرید رہا ہے!” چودھری اعظم نے رابرٹ کا تعارف خوب کیا اور کیری کے کان میں جاتے جاتے دبا کر کہا: “اس سے بچنا—یہ نسل پرست ہے!” پھر کیری بچوں کو چھوڑ کر لوٹی—صفائی میں ہاتھ بٹایا، دل بھی۔ وقت گزرا—اب وہی کیری شاہد کے لیے دوست بھی تھی اور کاریگر بھی۔ عمر قریب تیس، قامت موزوں، جسمانی توازن ایسا کہ جیسے خدا نے نقشے پر بیٹھ کر بنایا ہو۔ خواجہ صاحب نے چٹکی لی: “شاہد، کیری بھی کیا قسمت سے ملی—اوپر سے دوہری چوپڑی!” شاہد ہنس دیا: “دنیا میں جینے کو اچھا ماحول بنانا پڑتا ہے، خواجہ صاحب! کام اپنی جگہ، دوستی اپنی جگہ—اور کیری اپنے خاندان کی لڑکی ہے، یہاں کی۔ تین بہنیں، تین بچے، تینوں مختلف باپوں سے… فی الحال کوئی بوائے فرینڈ نہیں—لہٰذا وعدہ نبھانے آ جائے گی!” اُستاد نے موضوع بدل دیا: “چودھری اعظم نے اسے نسل پرست کہا تھا؟ بکواس! انہی کی بدولت محلے کے لوگ بھی نرم ہو گئے ہیں—بس آپ خود کو ڈھال لیں؛ کپڑے صاف، زبان رواں، انداز سادہ۔ ورنہ شلوار قمیض میں گرد آلود دکانداری کر کے آپ صرف ‘چودھری’ رہیں گے، دکاندار نہیں!” تھوڑی دیر بعد کیری اپنی دوست مشل کو بھی لے آئی۔ اُستاد اور خواجہ کی گفتگو سیاست تک جا پہنچی—ٹوٖنی حکومت، لیبر کی پالیسیاں۔ کیری نے ہاتھ اٹھا کر روکا: “آج رات سیاست نہیں—کوئی فلم، کوئی میوزک!” فضا ہلکی ہو گئی۔ سلطان کچھ دیر بیٹھ کر کل کا کہہ کے چل دیا۔ کیری کے دو تین پیگ کے بعد آنکھ جھپکی، مشل ٹھیک ٹھاک رہی۔ خواجہ صاحب کو کچھ عرصہ پہلے اسٹروک ہوا تھا؛ اُستاد مشل سے گپ لگاتے رہے، شاہد بھی بیچ بیچ میں شامل۔ آخر دیکھا تو سب وہیں کے وہیں—گہری نیند۔ شاہد نے چپ چاپ برتن سمیٹے، کچن میں جا کر دھونے لگا۔ کچھ دیر میں مشل آ گئی—دونوں نے کمرہ سنوارا، میزیں صاف کیں، اور برابر والے کمرے میں لیٹ رہے۔ صبح کے قریب چھ بجے کیری جاگی، شاہد کو ہلا کر کہا: “میں بچوں کو تیار کرنے جا رہی ہوں—مشل میرے ساتھ!” شاہد نے ناشتہ بنا کر دوستوں کو جگایا—اب سوال یہ تھا کہ باتھ روم پہلے کون جائے!
بابا فریدؒ کی صدا کہیں اندر سے ابھری— “میرے کپڑے پج پج جاون، ربّا اپنی رحمت دی بارش وسا!” میں نے تو محبوب سے ملنے ضرور جانا ہے—محبت کے بندھن کو ٹوٹنے نہیں دینا۔ وہ خود کو ایک جنگل میں پایا—ہاتھ میں لکڑی کی لاٹھی، راہیں اجنبی۔ سامنے ایک قدیم عمارت ابھری—دروازے پر کھڑا کوئی سایہ، قریب پہنچا تو پتھر کا بت۔ دروازہ پار کیا تو حیرت نے آ گھیرا—حجرے، فوارے، پانی کے گرنے سے ایک لطیف دھن، اور درمیان میں پتھر کی بینچ۔ وہ بیٹھا اور پلک جھپکتے نیند نے آ لیا۔ سر پر کسی کے ہاتھ تھے—ایسے سکینت بخش کہ دل گھٹنے لگا۔ آنکھ کھلی تو کوئی نہ تھا—دروازے کی سمت دیکھا؛ وہی بت ہنستا محسوس ہوا۔ اٹھا، دروازہ پار کیا—اب چال میں لرزش تھی۔ کچھ دور جا کر پلٹا تو کھنڈر غائب—جیسے لاہور کی ایک گلی میں آ نکلا ہو۔ اچانک آنکھ کھلی—انگلینڈ کے اپنے کمرے میں، بیڈ پر۔ پانی پیا اور سوچتا رہ گیا—“یہ خواب کے اندر خواب کیا تھا!” تعبیر کی کتابیں الٹیں—سر نہ پکڑا۔ شاہد کو فون کیا—“دوستا، ملنا لازم!” “آج رات ہی چھوڑ آؤں گا—سلطان آئے تو میں شاپنگ کر لوں گا۔” رابرٹ آ دھمکا—پولینڈ کا یہودی بوڑھا۔ اس کے دادا دادی اور ننہالی کئی لوگ ہٹلر کے گیس چیمبروں میں مارے گئے تھے۔ جنگ کے بعد یہ اکیلا رہ گیا۔ ستتر برس کی عمر میں بھی مونچھیں تر و تازہ رکھتا، زیادہ تر ہنس مکھ، کبھی کبھی تند۔ کہا کرتا—“اسرائیل کو مذہبی ریاست کہنا غلط ہے۔ خالی زمین کو مذہب کے نام پر بدمعاشوں کو سونپ دیا گیا—یہودی صدیوں سے امریکہ، برطانیہ اور دنیا بھر میں بسے ہوئے تھے، ان کا اُس سرزمین سے کیا رشتہ!” پھر غصہ بڑھ جائے تو کہتا: “ٹھنڈا پانی دے، کافی بنا!” آج وہ آیا تو بولا: “کونسل والے آئے تھے—کہہ گئے اپنی پراپرٹی چھوڑ دو، آکسفورڈ میں میرے بیٹے نے مجھے اولڈ فُولک ہوم میں شفٹ کرنا ہے۔ تم یاد آؤ گے—اپنے بچوں سے کہنا دادا اب نہیں ملے گا—بہت دور چلا جائے گا…” آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔ شاہد نے پانی پکڑایا۔ جاتے جاتے ایک بات کہہ گیا: “شاہد! یہ کام تیرے مزاج کا نہیں—تیری اولاد بہت کامیاب ہوگی—مجھے یاد کر لینا… کبھی… کبھی!” اور وہ چلا گیا۔
اس برس سردی نے حد کر دی—ہوا ایسی کہ شکاگو کی یاد آ جائے۔ دسمبر آیا تو زلفی نے لپک کر کہا: “جی چاہتا ہے برطانیہ آ جاؤں—مگر کرسمس پر ٹکٹ مہنگے ہیں، جنوری کے آخر میں آؤں گا۔ لائل پور کی بات بھی بنی ہے—پاکستان ساتھ چلیں گے۔ لاہور میں آغا سے ملنا ہے۔” پھر ہنسا: “تمہارا وہ دوست جس سے ایمسٹرڈم میں ملاقات ہوئی تھی—ملنگ سا معلوم ہوا تھا—آج کل ایل اے میں ہے۔ جانے سے بتایا بھی نہیں—میں فکر میں پڑ گیا، گھر چکر لگائے تو سنّاٹا۔ پھر خط آیا—گرینڈ کینین سے! لکھتا ہے: ‘غروبِ آفتاب کے وقت سرخ روشنی کا سمندر لہراتا ہے—مجھے یوں لگا جیسے میرا دوست—سرخ لباس میں، سرخ آبنوسی چھڑی تھامے—اس سمندر میں منزل ڈھونڈتا پھر رہا ہو…’ ” زلفی ہنسا: “کیا شاندار فلسفی ہے تمہارا استاد! خیر آؤ تو گپیں ہوں گی—وہ راتوں کو جاگنے والا آدمی ہے، میری راتوں کا ساتھی!” اُستاد پھر بھی اداس تھا—“شاہد، خواب کے اندر خواب سمجھ نہیں آ رہی۔ دروازے پر ہنستا بت—اندر فوارے—پھر واپسی پر سب غائب۔ میں نے تو کبھی ایسا خیال بھی نہ بُنا تھا۔ صحت ٹھیک، گھر کی فضا اچھی، بچے اپنے اپنے پیروں پر۔ بیوی دن بھر رشتے داروں سے سستی کالوں پر باتیں کرتی رہتی ہے۔ تو پھر…؟” شاہد نے چائے اٹھا کر دی: “اُستاد جی، کبھی کبھی خواب بس آئینہ ہوتے ہیں—آدمی ایک سفر کرتا ہے، دکھ اور خوشی کے موڑ بدلتے ہیں۔ آپ کی زندگی الحمدللہ اچھے موڑ پر ہے۔ ہم نے جتنا ہو سکا اپنے بچوں کے لیے کیا—آپ نے حکمت سے، میں نے کاروبار سے۔ اب اچھا ہے کہ موسم کی طرح وقت بھی ان کے ہاتھ دے کر رخصت ہو جائیں—ہوا کے سپرد!” اُستاد نے لمبی سانس لی—“ٹھیک کہا، دوست… سمجھ آ گئی ہے!”
آخری باب
شعیلا، میں چند دن کے لیے پاکستان جا رہا ہوں… شاید ایک مہینہ لگ جائے۔
یہ سنتے ہی اس کے چہرے کی چاندنی بجھ گئی۔ جس موسم میں اس نے امیدوں کے چراغ جلائے تھے، وہاں یکایک سنّاٹا اتر آیا۔ وہ ہولے سے بولی، مجھے چھوڑ تو نہیں جاؤ گے؟
پاگل نہ بنو، زندگی یوں ہی چلتی ہے۔ تمہیں چھوڑ کیسے سکتا ہوں۔ کچھ ضروری کام ہیں—اور ہاں، فیکٹری میں بیٹھ کر بات نہیں کریں گے۔
وہ کلبلاتی آنکھوں کے ساتھ بے آواز بیتھ روم میں چلی گئی۔ کچھ دیر بعد پروین خالہ نے آ کر شاہد سے پوچھ لیا، کیا کہہ دیا اسے؟ رو پڑی تھی۔
کچھ نہیں، بس ایک بات کی تھی—اور اب مجھے کام کرنے دو، آنٹی۔ پروین کڑوا سا منہ بنائے اپنی جگہ جا بیٹھی۔
جمعے کی رات وہ دونوں اس جھیل کے کنارے پہنچے جہاں کئی شاموں کی سانسیں پڑی تھیں۔ چاندنی اتری ہوئی تھی، خاموشی کی نمی میں ان کے قدم ڈوبتے جاتے تھے۔ وہ کچھ کہتے، پھر چپ ہو جاتے۔ دور سے ایک ہیڈلائٹ ابھری تو شیلا لپک کر شاہد سے لپٹ گئی، ہمیں کوئی جدا نہیں کر سکتا—تم نے یہی کہا تھا نا؟
آج بھی کہتا ہوں۔ آؤ، گاڑی میں بیٹھ جائیں، سردی تیز ہے۔
الفاظ جیسے راستہ بھولتے تھے۔ کبھی بات چلتی، پھر ٹھہر جاتی۔ شاہد نے کیبن لائٹ جلائی تو دونوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں اپنے اپنے سوال دیکھے۔ شیلا نے بلاوز کے بٹن کھولتے ہوئے کہا، پہلے یہ سب وہم اور فاصلے ختم کریں… پانچ دن سے خدشوں نے گھیر رکھا ہے۔ پھر وہ سب بھول گئے—جسم اور روح ایک ہی روشنی میں گھل گئے۔ شیشوں پر سانس کی بھاپ جم گئی۔ رات اور سردی دونوں بے بس ہو کر رہ گئے۔ ایک ٹرک کی گڑگڑاہٹ نے ہوش دلوایا۔ کپڑے درست ہوئے۔
میں جلد واپس آنے کی کوشش کروں گا، شاہد نے آہستہ سے کہا۔
آپ کی مرضی، شیلا نے مسکرا کر آنسو پونچھ دیے۔
اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر اکبر ڈرائیور اور مناظر دوست منتظر تھے۔ سیدھا گھر جا سکتے تھے مگر شاہد نے سکیسر کا رُخ کیا—وہی ڈھلانیں، وہی ہوا کی مہک اور نوجوانی کی ہنسی۔ نوید ککّو کے ساتھ گزری بسیں، بھلوال کی مٹھاس، سادہ دل لوگ، اہلِ بیتؑ سے محبت کی مٹیالی گرمی—سب ایک ایک کر کے لوٹ آئے۔
گھر میں رونق تھی۔ ماں نے سینے سے لگایا، بھائیوں نے حال پوچھا۔ ڈاکٹر زیدی کے یہاں چائے پر گفتگو چھڑ گئی۔ کتابیں، سیاست، زمانہ—زیدی نے نرمی سے سمجھایا، زندگی کے راستے اب الگ الگ کھلیں گے۔ فیصلے ضد سے نہیں، مصلحت سے جیتے جاتے ہیں۔ مناظر نے بھی کہا، خاندان سادہ ہے، کاروباری مزاج—ایسے گھرانے بہو کو گھر کے کاموں میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ سوچ سمجھ کر قدم رکھنا۔ ماں نے آخری بات کہی، پتر، ویاہ کے بارے سوچ—ہر بات میں ضد اچھی نہیں ہوتی۔
مانچسٹر لوٹے تو زلفی آ دھمکا۔ کالی پوشاک، سفید قمیص، کانوں میں بالنیں، سر پر ہیٹ اور دل میں پرانی چبھتی یادیں۔ استاد راضی سے سامنا ہوا تو پہلے شکوے، پھر گرماہٹ، پھر تین گھنٹے کے بعد گلے مل کر صلح۔ سب لیک ڈسٹرکٹ نکل گئے۔ برف نے وادی کو شیشے کی گھنٹی میں سجا رکھا تھا۔ استاد کے فلسفے، زلفی کے امریکہ کے قصے، آغا کے چٹکلے، شاہد کی خاموشی۔ واپسی پر ایک پب کی میز پر ہاتھ پھیرتے ہوئے شاہد نے کہا، یہیں میں اور شیلا نے زندگی کے نقشے بنائے تھے… پھر اچانک جھیل کی سمت اشارہ کیا—یوں لگا جیسے وہ پانی کے بیچ کھڑی کچھ کہہ رہی ہو، مگر انجن کی آواز میں بات دب گئی۔
رات ڈیرے پر آدم و ابلیس کی پرانی کہانی پھر سے کھلی۔ انسان کے اندر رحمانی اور حیوانی رگوں کا تناؤ—اشرف المخلوقات ہونے کی شرط کہ روشنی کو راہ دے دو، ورنہ خواہشیں مٹی میں گاڑ دیتی ہیں۔ استاد نے کہا، جو اپنے اندر کے چراغ کو جلائے رکھے، اس کے لیے آسمان بھی مختصر پڑ جاتے ہیں۔
فیکٹری میں آئرین نے کافی دی۔ پروین خالہ پاس سے گزریں۔ بھائی بینک سے لوٹ آئے۔ کنایوں، نظروں، سوالوں کا شور پھیل گیا۔ بات گھر پہنچی تو برسوں پہلے والا رشتہ پھر سے جاگ اٹھا—بڑے بھائی کے سسرال کی لڑکی۔ اس بار سب ہاں میں تھے۔ منگنی ہو گئی۔ تصویریں بنیں۔ جمی چپکے سے شیلا کے ہاتھ میں فوٹو رکھ آیا۔
بڑی سوہنی جوڑی اے—مبارک ہو، اس نے ہونٹ بھینچ کر کہا اور باتھ روم میں آنسو دھو آئی۔ چند ہفتوں میں اس نے فیکٹری چھوڑ دی—کالج میں داخلہ لے لیا۔ پروین نے بس اتنا بتایا: وہ بدل گئی ہے، اب کم ہی ملتی ہے۔
اسٹیمفورڈ پارک کی پارکنگ میں وہ پھر ملے۔ دیر تک فقط ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ شیلا نے دھیرے سے کہا، فیکٹری میں ہمارے ذکر چلنے لگے ہیں۔ خالہ نے کرکٹ گراؤنڈ والی بات بھی اڑادی۔ میں نے کسی سے کچھ نہیں کہا۔
شاہد نے سب بتا دیا—گھر کا دباؤ، منگنی، بے بسی۔ شیلا نے لرزتی آواز میں کہا، ہم ایک ہیں اور ایک رہیں گے—شاید شہر بدلنا پڑے۔ ابھی مجھے اتار دو، جلد فیصلہ کرنا—وقت تیز بھاگتا ہے۔
جمعے کو جمی نے 135 پاؤنڈ اس کے ہاتھ پر رکھ دیے۔ لیسٹر میں کزن، کمرہ، نوکری کی امید—سب طے کر دیا۔ شاہد نے پاسپورٹ سمیٹا، چھوٹا بیگ گاڑی میں رکھ دیا۔
جھیل کنارے شیلا پہلے سے کھڑی تھی—چھوٹا سوٹ کیس، سیاہ پرس، آنکھوں میں اطمینان۔
یہ وہی سوٹ ہے جو تم نے شادی کے لیے دیا تھا، اس نے ہنستے روتے کہا۔ پرس کھولا—دھیر سارے نوٹ، رسیدیں، چند تصاویر، برتھ سرٹیفکیٹ، پاسپورٹ اور اٹھارہ تولے سونا۔
یہ سب میری کمائی کا ہے—تمہاری فیکٹری کی تنخواہ سے لیا۔ میں سب چھوڑ آئی ہوں—صرف تم رہ گئے ہو۔
شاہد نے سامان واپس بیگ میں رکھا، دونوں دیر تک روئے۔ سنڈوچ کھائے، سافٹ ڈرنک پی، ہیٹر کی حرارت میں ہاتھ تاپے۔ شیلا نے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی، آج میری بات سنو—بیچ میں مت بولنا۔ محبت ہمیشہ پا لینے کا نام نہیں۔ کچھ محبتیں اپنی پوری عمر یاد بن کر جیتی ہیں—انہیں ہار مت سمجھنا۔ ہم دوسرے شہر جا سکتے ہیں، گھر بنا سکتے ہیں—مگر کل جب ہمارے بچے اپنے دادا دادی پوچھیں گے تو سچ چھپ نہ سکے گا۔ میں نہیں چاہتی تم اپنے لوگوں سے کٹ جاؤ۔
اچانک وہ دروازہ کھول کر اندھیرے میں پہاڑی کی طرف دوڑی۔ شاہد نے پکڑ کر واپس بٹھایا۔ وہ ہچکیوں میں کہہ رہی تھی، آج آخری ملاقات سمجھ لو۔ یہ میری ہار نہیں، میری محبت کی جیت ہے۔ میں دعا میں تمہارے ساتھ رہوں گی—اور تم مجھے کتاب میں زندہ رکھ لینا۔ نام بدل دینا، قصہ وہی رکھنا۔
شاہد نے آنسو پونچھے—ٹشو پر لپ اسٹک کی ایک لکیری خوشبو رہ گئی۔ دیر تک وہ خوشبو ساتھ چلتی رہی۔
زلفی امریکہ لوٹ گیا—جھگڑے سلجھا کر، دوستیوں کی درزیں پُر کر کے۔ جاتے جاتے بولا، زندگی جب تمہیں بھی میری طرح توڑ دے گی، تب یہ باتیں خود سمجھ آ جائیں گی۔ استاد نے رات کی ٹھنڈ اور وٹامن ڈی کی گولیوں کا ذکر کیا، عمر کی آخری ڈھلان پر درد اندر اتر آتے ہیں مگر قدم رکتے نہیں۔
شاہد نے دکان سنبھالی۔ کیری کے ساتھ شیلفیں بھر دیں۔ سلطان بھائی نے بتایا، زلفی بات رکھتا ہے—وقتِ ضرورت زخم پر مرہم رکھ دیتا ہے۔
رات وہ سب شیفیلڈ جانے والی سڑک پر نکلے۔ پہاڑیوں پر برف کی سفیدی، چاند کی روشنی، مکیش کی آواز، اور وہ خاموشی جس میں دل اپنے آپ سے باتیں کرتا ہے۔ شاہد نے ایک خوبصورت جھیل کے کنارے گاڑی روکی۔ سامنے پب تھا، اندر بیٹھ کر وائن اور وہسکی کے گھونٹوں میں پرانی باتیں گھلتی رہیں۔ واپسی پر وہ پھر جھیل کی طرف دیکھ کر ٹھٹکا—یوں لگا جیسے وہ بیچ پانی کھڑی کچھ کہہ رہی ہو… مگر ہوا کی سائیں سائیں میں الفاظ سنائی نہ دیے۔
گھر میں منگنی کی تصویریں آ لگیں۔ شیلا کا پورا خاندان آیا، مگر وہ نہیں آئی۔ دو ماہ بعد شاہد پاکستان چلا گیا۔ لوٹا تو خبر ملی—شیلا نے فیکٹری چھوڑ دی، کالج جا رہی ہے، اب کم دکھائی دیتی ہے۔
زلفی کی فلائٹ تھی۔ اس نے گلے مل کر کہا، وقت اچھا گزرا—یاد رکھنا، استقلال سے جینا ہی اصل فلسفہ ہے۔ آغا بھی اپنے وقت پر رخصت ہوا۔ استاد نے آہستہ سے کہا، ہم اپنی بات کو حرفِ آخر سمجھ بیٹھتے ہیں، حالانکہ سچ ہر دم کسی اور کی دلیل میں بھی سانس لیتا ہے۔
دو چار دن بعد اسٹیمفورڈ پارک کی پارکنگ میں ایک آخری منظر ٹھہرا۔ شیلا نے کہا، فیکٹری میں اب بھی سوال اٹھتے ہیں۔ میں نے سب سے کچھ نہیں کہا۔ تم نے کہا تھا گھر میں بات ہو—میں نے کی تھی۔ شاید اسی لیے سب جلدی میں راضی ہوئے۔ مگر تم میری بات سن لو—میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی، پھر بھی ایک بات مان لو… تمہارے بڑے بھائی کی سالی اچھی ہے۔ میں نے خواب میں دیکھا تھا۔
صبح ہو گئی—مجھے خوشی خوشی گھر اتار دو۔ زندگی میں کچھ حقیقتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں مان لینا چاہیے۔ ہم ایک دوسرے سے ہمیشہ پیار کرتے رہیں گے—شاید جسمانی طور پر نہیں، مگر اپنی خوبصورت یادوں میں۔ تم اپنے بچوں کے بیچ بیٹھ کر جب ان دنوں کو یاد کرو گے تو افسوس نہیں ہوگا؛ میں دعا میں تمہارے ساتھ رہوں گی۔ تم مجھے چھاپ دو—نام بدل دینا، ذکر ضرور رہنے دینا۔
شاہد چونک کر جاگا—دوست واپس آتے دکھائی دیے۔ ٹشو سے آنکھیں پونچھیں تو لپ اسٹک کی لکیر اب بھی تھی—وہی وداعی بوسے کی مہک۔ زلفی نے مسکرا کر کہا، یار، تمہارے کچھ بال سفید ہو گئے ہیں۔
وقت بہہ گیا۔ منگنی ہو گئی۔ تصاویر بنیں۔ جمی نے ہنسی میں زخم دکھایا۔ شیلا نے تصویروں پر نگاہ ڈالی—بڑی خوبصورت جوڑی ہے، مبارک ہو—اور خاموشی سے چلی گئی۔ شاہد نے بس اتنا جانا کہ کچھ محبتیں پا کر نہیں، چھوڑ کر پوری ہوتی ہیں۔ وہ انہیں لکھ دیتا ہے—نام بدل دیتا ہے، قصہ نہیں۔