قرآن کا سماجی شعور کیا ہے؟

وکی کتب سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

انسان اپنی تخلیق سے لیکر اب تک اپنی تمدنی اور سماجی زندگی میں جن مراحل سے گذرا ہے اس میں اس کی چارفطری حیثیتیں تمام انسانی دنیا میں مسلم رہی ہیں۔ قرآن حکیم نے انسان کی ان چار حیثیتوں کے حدود قرائن کا واضح تعین کیا ہے جس سے وہ اپنی صالح اور کامیاب زندگی کے ساتھ صالح و فلاحی معاشرہ تشکیل دے سکے۔ فرد، خاندان، قوم اور بین الاقوامیت کی ان چار حیثیتوں کی ہیئت ترکیبی کا توازن قرآن کی رو سے اسطرح سامنے آتا ہے:

انسان فرد: شخصیت نفس خاندان: اولاد والدین و اقربا

قوم: شعوب سماج

بین الاقوامیت: اقوام ملت

سماجی زندگی کی پہلی اکائی ۔ فرد قرآن حکیم میں انسانی شخصیت، انسانی شعور اور نفس انسانی کیلئے نفس ہی کی اصلاح استعمال ہوئی ہے۔ انسانی شخصیت انسان اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ لاتعداد مخلوقات میں سے ایک ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی اکثر مخلوقات پر فضیلت دی ہے:

وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیۡۤ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰہُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَرَزَقْنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰہُمْ عَلٰی کَثِیۡرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیۡلًا٪﴿۷۰﴾ (الاسراء۔ ۷۰) “اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ان کو بحر و بیابان میں سواری دی اور پاکیزہ رزق عطا کیا اور اپنی کئی مخلوقات پر فضیلت دی۔” اللہ تعالیٰ نے اپنی اس تخلیق کو کئی اوصاف سے نوازا ہے۔ انسانی شخصیت بنیادی طور پر انہی اوصاف کے مجموعہ کا نام ہے۔ یہ انسان کی شعوری کیفیت ہے جو سوچنے سجھنے ، تدبر کرنے کی صلاحیت یا غور و فکر سے تعبیر ہے، جس سے انسان ایک باشعور مخلوق بنتا ہے۔ انسان کی تکریم میں بحر و بیابان میں سواری کا ذکر انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کی بدولت عظمت انسان کی طرف اشارہ ہے۔ اسلئے حضرت شاہ رفیع الدین انسان کی تعریف یوں کرتے ہیں:

و ما یتفکر و یصنع بالآلات انسان ارضیا ترجمہ: “جو عقل سے سوچتا ہے اور آلات کی مدد سے اشیاءبناتا ہے، وہ اس زمین پر بسنے والا انسان ہے۔” (تکمیل الاذہان ص ۲۵) قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ انسانی شخصیت ایک مستقل اکائی ہے اور وہ دنیا و آخرت میں اپنے کسب کا خود ذمیدار ہے:

كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا کَسَبَتْ رَہِیۡنَۃٌ ﴿۳۸﴾ (مدثر 38) ہر نفس اپنے کسب (اعمال) کے عوض گروی ہے۔ یَوْمَ لَا تَمْلِکُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْأاً وَالْأَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِلَّهِ ۔ (انفطار-19) جس روز کوئی نفس کسی دوسرے نفس کا بھلا نہ کر سکے گا، اس روز صرف اللہ کا حکم ہوگا۔ نفس انسانی قرآن حکیم کے مطابق انسانی شخصیت کا دوسرا حصہ انسانی نفس /نفس ہے۔ یہ دوسرا حصہ انسان کی طرف سے زمین پر اپنے خلافتی کردار کی ادائیگی کیلئے اپنی رضا سے حاصل کردہ امانت ہے جس پر انسان مکمل دسترس رکھتا ہے۔ یہ امانت نفس انسان کو مکمل متوازن حالت میں پیدائش کے وقت عطا ہوتی ہے۔ جو انسان اس امانت کو اللہ کے حضور پہنچانے میں کامیاب رہا اور اس کا توازن بگڑنے نہیں دیا وہ کامیاب و کامران ہوگا۔ اور جس نے اس توازن کو بگاڑ دیا وہ ناکام و نامراد ہوگا۔ اس توازن کے قائم رہنے کا بنیادی انحصار رزق حلال کے حصول اور انسانی نفعے بخشی پر ہے۔ ان دونوں افعال سے نفس انسانی کا توازن برقرار اور مستحکم رہتا ہے۔ جبکہ ظلم سے خواہ اس کی نوعیت کسی بھی قسم کی ہو اس کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ یہ ظلم یعنی خلاف عدل کام کتنا بھی معمولی کیوں نہ ہو کسی نہ کسی درجے میں نفس کے توازن پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہ توازن جتنا زیادہ بگڑتا جائے گا آخرت میں کامیابی کے امکانات اتنے ہی کم ہوتے چلے جائیں گے۔ اسی وجہ سے قرآن مجید میں اہل ایمان کو نفس کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر انسان اعمال صالح کرتا رہے اور رزق حلال پر کاربند رہے تو ایک منزل ایسی آ جاتی ہے جہاں انسان اپنے رب سے اور اس کا رب اپنے بندے سے راضی ہو جاتا ہے۔ یہ منزل قرآن کی اصطلاح میں نفس مطمئنہ کہلاتی ہے جو انسانی زندگی کا منتہا اور مقصود ہے۔

سماجی زندگی کی دوسری اکائی ۔ خاندان قرآن حکیم نے خاندانی زندگی میں اولاد، والدین اور اقرباءکے ساتھ رویوں اور تعلقات کی ضرورت و نفاست پر بہت زور دیا ہے۔ اس میں اولاد اور اقرباءکے ساتھ رویوں اور تعلقات میں صلئہ رحمی کی کے احکامات ہیں۔ لیکن والدین کے ساتھ انتہائی مہربانی اور احسان کا حکم دیا گیا ہے. اولاد یہ رشتہ انسانی فطرت کی گہرائیوں سے جڑا ہوا ہے، اس کے باوجود انسان اس رشتہ میں بھی افراط و تفریط کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہاں تک خوف میں اولاد کے قتل تک تیار ہو جاتا ہے اوردوسری طرف اس کی محبت میں اپنے خالق ور ب سے بیگانہ ہوکر اپنا تعلق کمزور بنا دیتا ہے ۔اس لئے قرآن حکیم میں انسان کو اولاد کے حوالے سے خوف اور محبت کے توازن کی طرف بار بار توجہ دلائی گئی ہے، فرمایا: وَ لَا تَقْتُلُوۡۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَۃَ اِمْلَاقٍؕ نَحْنُ نَرْزُقُہُمْ وَ اِیِّاكُمۡؕ(الاسراء 31) “اور اپنی اولاد کو مفلسی کے اندیشے سے قتل نہ کرو، ہم ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی۔” جو لوگ مفلسی کے ڈر سے اپنی زیادہ اولاد کی پیدائش کو روکتے ہیں یا بیٹوں کیلئے وسائل بچانے کی غرض سے اپنی بیٹیوں کو پیدا ہونے نہیں دیتے، یا قتل کر دیتے ہیں، وہ لوگ انسانیت کے بہت بڑے مجرم ہیں۔ کچھ لوگ مفلسی کے ڈر سے اپنے بچوں کو کام سے لگا دیتے ہیں اور تعلیم و تربیت نہیں دلاتے یہ بھی قتل کے مترادف ہے۔ دوسری طرف فرمایا: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُلْہِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنۡ ذِكْرِ اللہِۚ وَ مَنۡ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْخٰسِرُوۡنَ ﴿۹﴾

(المنافقون-9)

“اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تم کو اللہ کی یاد وفرمانبرداری سے غافل نہ کر پائیں اور جو ایسا کرے گا تو وہی گھاٹے میں پڑنے والے لوگ ہیں۔ “ انسان اپنے مال کو دگنا کرنے کے پیچھے اور اپنی اولاد کے بے کنار مستقبل کے چکر میں دنیاداری کی دلدل میں اس طرح پھنس جاتا ہے کہ اس کو خالق و پروردگار خدا سے اپنا تعلق کمزور پڑتا ہوا دکھائی نہیں دیتا اور اس طرح دلدل میں پھنس کر اپنا خسارہ کر بیٹھتا ہے۔ اس لئے اولاد کیلئے فکرمندی بھی اتنی ہی کرنی ہے کہ جس سے انسان اس چکر میں خدا سے اپنے رشتے توڑ نہ بیٹھے۔

والدین خاندان میں انسان کے اوپر والدین کا احترام و خدمت سب سے پہلا حق ہے اور ان سے احسان کرنے کا حکم ہے۔ وَ وَصَّیۡنَا الْاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ اِحْسٰنًا ؕ حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ كُرْہًا وَّ وَضَعَتْہُ كُرْہًاؕ وَ حَمْلُہٗ وَ فِصٰلُہٗ ثَلَاثُوۡنَ شَہۡرًا ؕ حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیۡنَ سَنَۃًۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیۡۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰہُ وَ اَصْلِحْ لِیۡ فِیۡ ذُرِّیَّتِیۡۚ اِنِّیۡ تُبْتُ اِلَیۡکَ وَ اِنِّیۡ مِنَ الْمُسْلِمِیۡنَ ﴿۱۵﴾ (الاحقاف-15) “اور ہم نے انسان کو حکم دیا ہے کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرے۔ اس کی ماں نے تکلیف کے ساتھ اس کو پیٹ میں رکھا اور تکلیف کے ساتھ اس کو جنا۔ اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینے میں ہوا۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنی پختگی کو پہنچا اور چالیس برس کو پہنچ گیا تو وہ کہنے لگا اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیرے احسان کا شکر کروں جو تونے مجھ پر کیا اور میرے ماں باپ پر کیا اور یہ کہ میں وہ نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو۔ “ یہاں ہر طرح سے خدمت کرنے کی تاکید ہے۔ ایک جگہ فرمایا گیا ہے کہ: وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالْوَالِدَیۡنِ اِحْسَانًاؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنۡدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ اَوْ کِلٰہُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْہُمَا وَقُلۡ لَّہُمَا قَوْلًا کَرِیۡمًا ﴿۲۳﴾ وَ اخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیۡ صَغِیۡرًا ﴿۲۴﴾ رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیۡ نُفُوۡسِكُمْؕ اِنۡ تَكُوۡنُوۡا صٰلِحِیۡنَ فَاِنَّہٗ کَانَ لِلۡاَوَّابِیۡنَ غَفُوۡرًا ﴿۲۵﴾ (الاسراء-23-25) “تو اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بنا ورنہ تو مذموم اور بے کس ہو کر رہ جائے گا۔ اور تیرے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر وہ تیرے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں، ان میں سے ایک یا دونوں، تو ان کو اف نہ کہو اور نہ ان کو جھڑکو اور ان سے احترام کے ساتھ بات کرو، اور ان کے سامنے نرمی سے عجز کے بازو جھکادو اور کہو کہ اے رب ان دونوں پر رحم فرما جیساکہ انہوں نے مجھے بچپن میں پالا۔ تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ تمہارے دلوں میں کیا ہے۔ اگر تم نیک رہوگے تو وہ توبہ کرنے والوں کو معاف کر دینے والا ہے۔ “ اقربا قرآن حکیم نے انسان کی مفید اور مؤثر عملی زندگی کیلئے عدل و احسان کے رویوں کے ساتھ ساتھ اقربا سے صلہءرحمی کا حکم بڑی اہمیت سے واضح کیا ہے: اِنَّ اللہَ یَاۡمُرُ بِالْعَدْلِ وَالۡاِحْسَانِ وَ اِیۡتَآیِٔ ذِی الْقُرْبٰی (النحل-90) “بے شک اللہ حکم دیتا ہے عدل کا اور احسان کا اور قرابت داروں کو دینے کا” آدمی جس طرح اپنے بیوی بچوں کی ضرورت کو دیکھ کر تڑپ اٹھتا ہے اور اس کو پورا کرتا ہے، اسی طرح وہ دوسرے عزیز و اقارب کی ضرورت کے بارے میں بھی حساس ہو۔ ہر صاحب استعداد شخص اپنے مال پر صرف اپنا اور اپنے گھر والوں کا ہی حق نہ سمجھے بلکہ اپنے رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کو بھی وہ اپنی لازمی ذمہ داری میں شامل کرے۔ قرآن نے انفاق کو ایمان کا لازمی حصہ قرار دیا ہے اور جہاں بھی انفاق کے مصرف کا بیان کیا اس میں والدین کے بعد اقربا کو خرچ کے مصارف میں شریک کرنے کا حکم دیا۔ عزیز و اقارب کیلئے ان کی طرف سے طلب اور سوال کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ خود اپنی ذمہ داری سے یہ فرضِ منصبی ادا کرنا چاہیے۔ پھر یتیم، مساکین، مسافروں پر خرچ کرنے کا حکم ہے، اور یہ بھی صلہءرحمی کے درجے میں ہے۔ یَسْئَلُوۡنَکَ مَاذَا یُنۡفِقُوۡنَ۬ قُلْ مَاۤ اَنۡفَقْتُمۡ مِّنْ خَیۡرٍ فَلِلْوَالِدَیۡنِ وَالۡاَقْرَبِیۡنَ وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیۡنِ وَابْنِ السَّبِیۡلِؕ وَمَا تَفْعَلُوۡا مِنْ خَیۡرٍ فَاِنَّ اللہَ بِہٖ عَلِیۡمٌ ﴿۲۱۵﴾ (البقره-215) “لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں۔ کہہ دو کہ جو مال تم خرچ کرو تو اس میں حق ہے تمہارے ماں باپ کا اور رشتہ داروںکا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا۔” فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَ الْمِسْکِیۡنَ وَابْنَ السَّبِیۡلِؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ یُرِیۡدُوۡنَ وَجْہَ اللہِ۫ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوۡنَ (الروم-38) “پس رشتہ داروں کو ان کا حق دو اور مسکین کو اور مسافر کو ۔ یہ بہتر ہے ان لوگوں کیلئے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔” اللہ تعالیٰ نے انسانوں کیلئے فلاح و سلامتی جو محفوظ قلعہ بتایا ہے اس کا راستہ لازمی طور پر خرچ کرنے کی شاہراہ سے گذرتا ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ رزق کی فراوانی ملتی ہی اس بنیاد پر ہے کہ اس میں والدین، یتیموں، مساکین اور مسافروں کا حق ہے۔ جس نے وہ حق ادائگی کی اللہ کی رضا بھی پائیں گے اور اس کی رحمت و برکت سے بھی بہرہ ور ہونگے۔ سماجی زندگی کی تیسری اکائی ۔قوم قوم قوم انسانی سماج کا تیسرا اجتماعی ادارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے تعارف کے لئے اقوام کا وجود اپنی مشیت قرار دیا ہے۔ وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوۡبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا (الحجرات-12) آپ کو قومیں اور قبائل بنایا گیا تاکہ پہچانے جاؤ۔ (ترجمہ امام راغب اصفہانی) انسان کی تمدنی زندگی کے ان دو اداروں قوم اور قبیلہ کے ذریعہ انسان کی پہچان قائم رہنا از بس ضروری ہے۔ لیکن یہ دونوں شناختیں انسان کی تکریم اور عظمت کی بنیاد نہیں ہیں۔ اسلئے فرمایا گیا: ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم ۔ اللہ کے ہاں تم میںسے تکریم والا وہی ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ قرآن نے تمدنی زندگی میں انسانوں کے تیسرے ادارے قوم کی تشکیل کی بنیاد زبانیں بتائی ہیں، فرمایا: وَمَاۤ اَرْسَلْنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَہُمْ (ابراهيم -4) “اور ہم نے جو پیغمبر بھی بھیجا اس قوم کی زبان میں بھیجا” پھر ان زبانوں کا مختلف ہونا بھی اللہ تعالیٰ نے اسطرح کمال قدرت سے اپنے شعائر میں سے شمار کیاہے جس طرح خود زمین و آسمانوں کی تخلیق اس کے کمال قدرت سے تخلیق ہوئی ہے۔ وَ مِنْ اٰیٰتِہٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیۡنَ ﴿۲۲﴾ (الروم-22) اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری بولیوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کو انسانوں کی افرادی آزادی عزیز ہے۔ تاکہ وہ نیکی وبدی اور حق و باطل کے دو راستوں کے انتخاب میں مجاز بن سکیں۔ بلکل اسی طرح اقوام کی آزادی بھی اللہ تعالیٰ کو عزیز ہے تاکہ قومیں کسی جبر و غلامی کے بغیر اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کے فطری طریقوں پر عمل پیرا ہو سکیں۔ اس لئے انسانی تاریخ میں جب بھی افراد و اقوام پر غلامیاں مسلط ہوئیں، اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں اور مصلحین کے ذریعہ ان غلامیوں سے نکالنے کے مواقع عطا کیے۔ تمام انبیاءکی اس جہد کے تفاصیل سے قرآن مجید میں جا بجا ذکر موجود ہے۔ بنی اسرائیل کے اوپرفراعین مصر کی مسلط کی ہوئی غلامی ختم کرنے کیلئے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جو جدوجہد کی پورے قرآن میں اس کا بار بار تذکرہ ہوا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کی دربار میں واشگاف الفاظ میں بنی اسرائیل کی آزادی کا اعلان کیا: فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیۡۤ اِسْرَآءِیۡلَ ﴿۱۰۵﴾ؕ (الاعراف 105) اللہ تعالیٰ کو افراد و اقوام کی یہ آزادیاں آزاد رائے کے فطری حق کے استعمال کیلئے پسندیدہ ہیں تا کہ بہتر شخصیت و سماج کی تشکیل ممکن ہو سکے۔ اس کے بعد ہی افراد اس لائق ہوسکتے ہیں کہ وہ فرد کی حیثیت میں بہتر خاندان اور اقوام کی حیثیت میں بہتر ملت قائم کرنے کے مقاصد حاصل کر سکیں۔


سماج انسانوں کی آبادی جو قبیلوں اور قوموں سے تشکیل پاتی ہے، قرآن حکیم میں اس کے لئے “القریة” یا “القریٰ” کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔ ام راغب اصفہانی مفردات میں لکھتے ہیں:”القریةوہ جگہ ہے جہاں لوگ جمع ہو کر آباد ہو جائیں تو بحیثیت مجموعی ان دونوں کو قریہ کہتے ہیں۔” (ص ۸۴۶)۔ انسانوں کے اجتماع اور ان کی وقوعہ کو انفراداً بھی قریہ بولا جاتا ہے۔ انسانی آبادیوں کو راہِ ہدایت پر چلانے کےلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یکے بعد دیگرے پیغمبر اور مصلح آتے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں وحی کی تعلیم کے ذریعہ انسانی سماج کے تمام افراد، رشتوں، اداروں کو چلانے کیلئے مکمل رہنمائی کی۔ جو معاشرے وحی کی اس تعلیم کو قبول کرتے رہے، انہیں امن، سلامتی اور اطمینان نصیب ہوا۔ لیکن جن معاشروں نے اس تعلیم کو ٹھکرا کر اپنی سرکشی اور مفادات کے تحفظ کیلئے ظلم و ناانصافی کا راستہ اختیار کیا، قدرت نے ان کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ وَکَذٰلِکَ اَخْذُ رَبِّکَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰی وَہِیَ ظَالِمَۃٌؕ اِنَّ اَخْذَہٗۤ اَلِیۡمٌ شَدِیۡدٌ ﴿۱۰۲﴾ (هود-102) “اور تیرے پروردگار کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے جب وہ انسانی آبادیوں کو ظلم کرتے ہوئے پکڑتا ہے۔ یقینا اس کی پکڑ بڑی ہی دردناک، بڑی ہی سخت ہے۔” تمام انسانی آبادیوں اور معاشروں میں ہادی اور نذیر بھیجے گئے۔ ان کو باقائدہ مہلت دی گئی۔ اس کے باوجود جب وہ ظلم و ناانصافی کی تمام حدود پھلانگ گئے تو ہلاکت ان کا مقدر بن گئی۔ وَمَا کَانَ رَبُّکَ مُہۡلِکَ الْقُرٰی حَتّٰی یَبْعَثَ فِیۡۤ اُمِّہَا رَسُوۡلًا یَّتْلُوۡ عَلَیۡہِمْ اٰیٰتِنَاۚ وَمَا كُنَّا مُہۡلِکِی الْقُرٰۤی اِلَّا وَ اَہۡلُہَا ظٰلِمُوۡنَ ﴿۵۹﴾ (القصص-59) “اور (یاد رکھو تمہارے پروردگار کا قانون یہ ہے کہ) وہ کبھی انسانوں کی بستیوں کو (پاداش عمل میں) ہلاک نہیں کرتا، جب تک کہ ان کی مرکزی بستی میں ایک پیغمبر مبعوث نہ کردے اور خدا کی آیتیں پڑھ کر نہ سنادے۔ اور ہم کبھی بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہیں صرف اس حالت میں کہ ان کے باشندوں نے ظلم کا شیوہ اختیار کر لیا ہو۔ “ قرآن حکیم ایسے ظالم معاشرہ کو تبدیل کرنے کی طرف بلاتا ہے۔ وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ ہٰذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ اَہۡلُہَاۚ وَاجْعَلۡ لَّنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ وَلِیًّاۚ وَّاجْعَلۡ لَّنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ نَصِیۡرًا (النساء-75) “ اور تم کو کیا ہوا کہ تم نہیں لڑتے اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کیلئے جو کہتے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور ہمارے لئے اپنے پاس سے کوئی حمایتی کھڑا کر دے اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی مددگار کھڑا کردے۔ “ قرآن حکیم نے مستصعفین اور مستکبرین کے دو طبقے واضح کر کے بتائے ہیں کہ مستکبرین کا طبقہ اللہ کے باغیوں اور سرکشوں کا طبقہ ہے جو اس کے بندوں کو غلام بناکر ان کے وسائل اور محنت کا استحصال کرکے ظلم کرنے والا بن جاتا ہے۔ ایسے میں ان مستصعفین یعنی کمزوروں کی طاقت کو منظم کرکے اس ظالمانہ سماج کو بدل کر انصاف و عدل کا معاشرہ قائم کرنے کیلئے قرآن حکیم کے صاف صاف احکامات ہیں، تاکہ اللہ تعالیٰ کے بندے آزادی، اطمینان اور سلامتی کے ساتھ اس کی اطاعت و رضا کیلئے خود حوالگی کر سکیں۔ ایسا معاشرہ جو طاقت کے زور پر انسانوں اور اقوام کو غلامی و جبر میں رکھے یا کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کو طبقاتی غلامی کے ماتحت لے آئے، ان دونوں صورتوں میں ہر قسم کی مزاحمت کے طریقے اختیار کرنا قرآن کے ماننے والوںکیلئے بیحد ضروری ہیں۔ اور اگر جنگ کے بغیر یہ کسی بھی صورت میں ممکن نہیں تو قرآن نے آیت مذکورہ میںنہ صرف اس آخری اقدام کا مطالبہ کیا ہے بلکہ ظلم کے خلاف اس جنگ کو فی سبیل اللہ ہی قرار دیا ہے۔ جب تک سماج میں ظالمانہ نظام کے تبدیلی کی یہ کوششیں جاری رہتی ہیں اس وقت تک اللہ تعالیٰ پورے سماج کو مہلت دیتے ہیں کہ شاید کبھی یہ لوگ اپنی حالت بدلیں۔ ا س وقت اللہ تعالیٰ کی ذات ان سعادت مندوں کی حفاظت فرماتی ہے جو اس بھلائی کے کام میں سرگرم ہوتے ہیں۔لیکن جب اکثریت کسی بھی صورت میں تبدیلی کیلئے تیار نہیں ہوتی تو پھر قانون خداوندی کے تحت ان کو مجرم ٹھہراکر اپنے انجام سے گذارا جاتا ہے۔ فَلَوْلَا کَانَ مِنَ الْقُرُوۡنِ مِنۡ قَبْلِكُمْ اُولُوۡا بَقِیَّۃٍ یَّنْہَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الۡاَرْضِ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّمَّنْ اَنۡجَیۡنَا مِنْہُمْۚ وَاتَّبَعَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مَاۤ اُتْرِفُوۡا فِیۡہِ وَکَانُوۡا مُجْرِمِیۡنَ ﴿۱۱۶﴾ وَمَا کَانَ رَبُّکَ لِیُہۡلِکَ الْقُرٰی بِظُلْمٍ وَّ اَہۡلُہَا مُصْلِحُوۡنَ ﴿۱۱۷﴾ (هود117-116) “پس کیوں نہ ایسا ہوا کہ تم سے پہلے کے قوموں میں ایسے اہل خیر ہوتے جو لوگوں کو زمین میں فساد کرنے سے روکتے۔ ایسے تھوڑے لوگ نکلے جن کو ہم نے ان میں سے بچا لیا۔ اور ظالم لوگ تو اسی عیش میں پڑے رہے جو انہیں ملا تھا اور وہ مجرم تھے اور تیرا رب ایسا نہیں کہ وہ بستیوں کو ناحق تباہ کردے حالانکہ اس کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں۔ “


سماجی زندگی کی چوتھی اکائی ۔بین الاقوامیت اسلام میں اقوام کا وجود انسانوں کے تعارف کیلئے مثبت اور مشیت خداوندی کا تقاضا ہے۔ لیکن اسلام اقوام کو مستقل درجے دینے کے ساتھ ساتھ ان کو ایک بین الاقوامیت میں عمل گیر رکھنا چاہتا ہے تاکہ اس عمل سے ملت کی صورت میں وسیع انسانی اجتماعیت قائم ہو سکے۔ اقوام اللہ تعالیٰ کو جس طرح اپنے بندوں کی انفرادی غلامی استحصال اور غیر اللہ کی عبدیت پسند نہیں، اس طرح انسانوں کے منظم ترین تمدنی اجتماع “قوم” کی غلامی اور استحصال بھی ہرگز منظور نہیں۔ اس لئے طاقت و جبر کی بنیاد پر جب بھی انسانوں کو محکوم بنایا گیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے بعض کیلئے بعض کے ذریعے مدافعت کرواکے اقوام کی آزادی اور خلاصگی کے اسباب بنائے ہیں۔ قرآن حکیم میں کہا گیا ہے: الَّذِیۡنَ اُخْرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمْ بِغَیۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللہُؕ وَلَوْلَا دَفْعُ اللہِ النَّاسَ بَعْضَہُمۡ بِبَعْضٍ لَّہُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیۡہَا اسْمُ اللہِ کَثِیۡرًاؕ وَ لَیَنۡصُرَنَّ اللہُ مَنۡ یَّنۡصُرُہٗؕ اِنَّ اللہَ لَقَوِیٌّ عَزِیۡزٌ ﴿۴۰﴾ (الحج-40) “اور (دیکھو) اگر اللہ بعض آدمیوں کے ہاتھوں بعض آدمیوں کی مدافعت نہ کراتا رہتا۔ (اور ایک گروہ کو دوسرے گروہ پر ظلم و تشدد کرنے کیلئے بے روک چھوڑ دیتا) تو کسی قوم کی عبادتگاہ زمین پر محفوظ نہ رہتی۔ خانقاہیں، گرجے، عبادتگاہیں، مسجدیں جس میں کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے، سب کبھی کے ڈھائے چکے ہوتے۔ “ قرآن حکیم نے تمدنی زندگی میں اقوام کی شناخت اور تعارف کے ساتھ عدل و انصاف پر عمل پیرا رہنے کی تاکید کی ہے تاکہ کسی طور پر بھی ان کی خواہشوں، ان کے مفادات اور ان کی ضرورتوں کا احتیاج اور طلب اس حد تک نہ پہنچ جائے کہ وہ دوسری قوموں کے ساتھ انصاف کرنا چھوڑ دیں ۔ اسلئے فرمایا: وَلَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤی اَلَّا تَعْدِلُوۡاؕ اِعْدِلُوۡا۟ ہُوَ اَ قْرَبُ لِلتَّقْوٰی۫ وَاتَّقُوا اللہَ۫ اِنَّ اللہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ ﴿۸﴾ (مائده-8) “اور (دیکھو!) ایسا کبھی نہ ہو کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات کیلئے ابھاردے کہ (اس کے ساتھ) انصاف نہ کرو ۔ (ہر حال میں) انصاف کرو یہی تقوے سے لگتی ہوئی بات ہے۔ اور اللہ (کی نافرمانی کے نتائج) سے ڈرو ۔ تم جو کچھ کرتے ہو وہ اس کی خبر رکھنے والا ہے۔” ملت دین الٰہی کی اصل نوع انسانی کی وحدت و اخوت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے جتنے رسول بھی دنیا میں آئے سب نے یہی تعلیم دی تھی کہ تم سب اصلا ایک امت ہو اور تم سب کا پروردگار ایک ہی پروردگار ہے۔ اسلئے تم سب کو چاہئے کہ اسی ایک پروردگار کی بندگی کریں۔ قرآن حکیم کہتا ہے کہ ابتداءمیں تمام انسان قدرتی زندگی بسرکرتے تھے اور ان میں نہ تو کسی طرح کا باہمی اختلاف تھا نہ کسی طرح کی مخاصمت۔ پھر ایسا ہوا کہ نسلِ انسانی کی کثرت اور ضروریات معیشت کی وسعت سے طرح طرح کے اختلافات پیدا ہو گئے اور ان اختلافات میں تفرقہ اور ظلم و فساد کی صورت اختیار کرلی۔ ہر گروہ دوسرے گروہ سے نفرت کرنے لگا اور ہر زبردست زیردست کے حقوق پامال کرنے لگا۔ جب یہ صورتِ حال پیدا ہوئی تو ضروری ہوا کہ نوعِ انسانی کی ہدایت اور عدل و صداقت کے قیام کے لئے وحی الاہی کی روشنی نمودار ہو، چناچہ یہ روشنی نمودار ہوئی اور خدا کے رسولوں کی دعوت و تبلیغ کا سلسلہ قائم ہو گیا۔ کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً۟ فَبَعَثَ اللہُ النَّبِیِۡنَ مُبَشِّرِیۡنَ وَمُنۡذِرِیۡنَ۪ وَ اَنۡزَلَ مَعَہُمُ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْكُمَ بَیۡنَ النَّاسِ فِیۡمَا اخْتَلَفُوۡا فِیۡہِؕ (بقره-213) “ابتداءمیں تمام انسان ایک ہی گروہ تھے (پھر ان میں اختلاف پیدا ہوا) بس اللہ نے(یکے بعد دیگرے) نبیوں کو مبعوث کیا۔ وہ (نیک عملی کے نتائج کی) بشارت دیتے اور بدعملی کے نتائج سے ) متنبہ کرتے۔ نیز ان کے ساتھ “الکتاب” (یعنی وحی الٰہی سے لکھی جانے والی تعلیم ) نازل کی، تاکہ جن باتوں میں لوگ اختلاف کرنے لگے تھے، ان میں وہ فیصلہ کر دینے والی ہو۔ “ قرآن حکیم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شخصیت سے استشہاد پیش کرتا ہے کہ جس طرح وہ دین حق کی راہ پر تمام نوع انسانی کیلئے خدا کی موحدانہ پرستش اور نیک عملی کی زندگی کی مثال تھا، اسے اپنے لئے حجت بناؤ۔ وَقَالُوۡا كُوۡنُوۡا ہُوۡدًا اَوْ نَصٰرٰی تَہۡتَدُوۡاؕ قُلْ بَلْ مِلَّۃَ اِبْرٰہٖمَ حَنِیۡفًاؕ وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیۡنَ (البقره-135) “اور یہودی کہتے ہیں یہودی ہو جاؤ، ہدایت پاؤگے۔ نصاریٰ کہتے ہیں نصرانی ہو جاؤ، ہدایت پاؤگے۔ (اے پیغمبر) تم کہو نہیں! (اللہ کی عالمگیر ہدایت تمہاری ان گروہ بندیوں کی پابند نہیں ہو سکتی) ۔ ہدایت کی راہ تو وہی حنیفی راہ ہے جو ابراہیم کا طریقہ تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔ “ قرآن حکیم نے امت واحدہ کی تشکیل کے لئے امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ ذمیداری عائد کر دی کہ وہ انسانیت کو معروف (سلامتی کے اقدار) سے بہرہ ور کریں اور منکر (ہلاکت کے مظاہر) سے بچائیں۔ كُنۡتُمْ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالْمَعْرُوۡفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنۡکَرِ وَتُؤْمِنُوۡنَ بِاللہِؕ (آل عمران 110) “تم بہترین امت ہو جس کو لوگوں کے واسطے نکالا گیا ہے کہ تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ “ انسان کو زمین پر خلیفہ بنا کر نیابت الٰہی عطا کی گئی ہے۔ نیابت الٰہی کی ذمیداریوں کا تعلق انسان کی اپنی انفرادی زندگی سے زیادہ اجتماعی زندگی سے ہے، اس لئے قرآن حکیم نے انسانوں کی اجتماعیت کو قائم رکھنے کیلئے وحدت انسانیت اور وحدت دین کوہرحال میں برقرار رکھنے کی تلقین ہے۔ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّكُمُ الَّذِیۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیۡرًا وَّنِسَآءًۚ وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِیۡ تَسَآءَلُوۡنَ بِہٖ وَالۡاَرْحَامَؕ اِنَّ اللہَ کَانَ عَلَیۡكُمْ رَقِیۡبًا (نساءِ-1) “اے انسانو! اپنے پروردگار (کی نافرمانی کے نتائج) سے ڈرو۔ وہ پروردگار جس نے تمہیں اکیلی جان سے پیدا کیا (یعنی باپ سے پیدا کیا) اور اسی سے اس کا جوڑا بھی پیدا کیا (یعنی جس طرح مرد کی نسل سے لڑکا پیدا ہوتا ہے، لڑکی بھی پیدا ہوتی ہے) پھر ان دونوں کی نسل سے مردوں اور عورتوں کی بڑی تعداد دنیا میں پھیلا دی (اور رشتوں اور قرابتوں کا بہت بڑا دائرہ ظہور میں آگیا)۔ پس دیکھو جس کے نام پر ایک دوسرے سے (مہر و الفت کا) سوال کرتے ہو۔ قرابت داری کے معاملہ میں بے پرواہ نہ ہو جاو¿۔ یقین رکھو کہ اللہ تم پر (تمہارے اعمال کا) نگہبان ہے۔” قرآن نے انسانیت کی اس وحدت کو قائم رکھنے کے لئے ایمان کے مرکزی نکات اور عمل کیلئے “المعروف” اور “المنکر” کی تفاصیل بھی بیان کردی ہیں۔ معروف عرف سے ہے جس کے معنی پہچاننے کے ہیں۔ پس “معروف” وہ بات ہوئی جو انسانوں کی سلامتی و فلاح کیلئے جانی پہچانی بات ہو۔ “منکر” کے معنی انکار کرنے کے ہیں۔ یعنی ایسی بات جس سے انسانی ہلاکت کے محرکات و مظاہر کے طور پر انکار کیا گیا ہو۔ قرآن نے نیکی اور برائی کیلئے یہ الفاظ اس لئے اختیار کیے کہ وہ کہتا ہے دنیا میں عقائد و افکار کا کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو لیکن کچھ باتیں ایسی ہیں جن کے اچھے ہونے پر سب کو اتفاق ہے اور کچھ باتین ایسی ہیں جن کے برے ہونے پر سب متفق ہیں۔ مثلاً اس بات میں سب کا اتفاق ہے کہ سچ بولنا اچھا ہے، جھوٹ بولنا برا ہے۔ اس میں سب کا اتفاق ہے۔ دیانتداری اچھی بات ہے، بددیانتی برائی ہے۔ اس سے کسی کو اختلاف نہیں کہ ماں باپ کی خدمت، ہمسایہ سے سلوک، مسکینوں کی خبرگیری، مظلوم کی داد رسی انسان کے اچھے اعمال ہیں اور ظلم اور بدسلوکی برے اعمال ہیں۔ گویا یہ وہ باتیں ہوئیں جن کی اچھائی عام طور پر جانی بوجھی ہوئی ہے اور جن کے خلاف جانا عام طور پر قابل انکار و اعتراض ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب، دنیا کے تمام اخلاق، دنیا کی تمام حکمتیں دنیا کی تمام جماعتیں دوسری باتوں میں کتنا ہی اختلاف رکھتی ہوں، لیکن جہاں تک ان اعمال کا تعلق ہے سب ہم آہنگ و ہم رائے ہیں۔ اسلیے انسانیت کی ان سچائیوں پر وحدت انسانیت قائم کی جائے، تا کہ انسانیت کی فوزفلاح کے اعلیٰ مقاصد حاصل ہوسکیں۔ قرآن کہتا ہے انسانیت کی سچائیوں پر مشتمل یہی راہ عمل نوع انسانی کیلئے خدا کا ٹھہرایا ہوا فطری دین ہے۔ یہی سیدھا اور درست دین ہے جس میں کسی طرح کی کجی اورخامی نہیں۔ یہی “دین حنیف” ہے، جس کی دعوت حضرت ابراہیم نے دی تھی۔ اسی کا نام قرآن کی اصطلاح میں “الاسلام” ہے۔ یعنی خدا کے ٹھہرائے ہوئے قوانین کی فرمانبرداری۔ قرآن حکیم نے دین کیلئے “الاسلام” کا لفظ اس لئے اختیار کیا ہے کہ “الاسلام” کے معنی کسی بات کے مان لینے اور فرمانبرداری کرنے کے ہیں۔ وہ کہتا ہے دین کی حقیقت ہی ہے کہ خدا نے جو قانون سعادت انسان کیلئے ٹھہرایا ہے اس کی ٹھیک ٹھیک اطاعت کی جائے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ بات صرف انسان کے لئے ہی نہیں بلکہ تمام کائنات ہستی اسی اصل پر قائم ہے۔ سب کی بقا و قیام کیلئے خدا نے کوئی نہ کوئی قانون عمل ٹھہرا دیا ہے اور سب اس کی اطاعت کر رہے ہیں۔ اگر ایک لمحے کیلئے بھی روگردانی کریں تو کائنات ہستی درہم برہم ہو جائے۔ خدا پرستی کا رشتہ ایک ایسا رشتہ ہے جو انسانیت کا بچھڑا ہوا گھرانہ پھر آباد کرسکتا ہے۔ یہ اعتقاد کہ ہم سب کا پروردگار ایک ہی ہے اور ہم سب کے سر اسی ایک چوکھٹ پر جھکے ہوئے ہیں، وحدت انسانیت کا ایسا جذبہ پیدا کردیتا ہے کہ ممکن نہیں انسان کے بنائے ہوئے تفرقے اس پر غالب آسکیں۔