صارف:Farzzan
ظاہری ہیئت
- ۳ شعر
- شاعر : فرزان فرزان گلِ
- اس کی ادا کو ديکھيئے اقرار ديکھيئے
- اور ساتھ ساتھ پيارا سا انکار ديکھيئے
- ہو زندہ دِل تو اس کی تعريف کيجئے
- آنکھيں اگر ہيں تو عکس رخ يار ديکھيئے
- آےٌ شب وصال وہ اول تو دير سے
- آتے ہی ان کا جانے پہ اصرار ديکھيئے
- شاعر : فرزان فرزان گلِ
- اظہار اگر چہ سب کا ہی والہانہ لگے گا
- مرا طرزِ پذيرائی سب سے جداگانہ لگے گا
- پاس محبت تو فقط احساسِ وفا ہے فرزان
- وہ روٹھے گا بھی تو بے وفا نہ لگے گا
- ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
- 3
- جيسے منصف مجرم کی تعزير بدل ديتا ہے
- خدا يوں ميرے ہاتھ کی لکير بدل ديتا ہے
- گاہے گاہے وہ ظالم اسير بدل ديتا ہے
- عادتاً بھی وہ غم کی تفسير بدل دیتا ہے
- عجب ہرجائی ہے وہ کہ ميرے جاتے ہی
- دل کی ديوار سے تصوير بدل ديتا ہے
- وہ معمار ہےميرے دل کے تاج محل کا
- جب بھی دل کرتا ہے‘ تعمير بدل ديتا ہے
- بڑے اہتمام سے لکھتا ہے اظہار محبت
- پھر بڑے شوق سے تحرير بدل ديتا ہے
- شاعر : فرزان فرزان گلِ
- شاعر : فرزان فرزان گلِ
- 4
- غزل
- کتنا غريب ھو گيا ھوں دوستوں کے شہر ميں
- ايک دوست مانگتا ھوں دشمنوں کے شہر ميں
- فرصت نہيں کسی کو‘ سلام بھی کر سکيں يہاں
- اتنے مصروف ہيں لوگ فرصتوں کے شہر ميں
- یہ الميہ بھی اب عام ھوا جا رہا ہے آج کل
- ھدايت بھٹک رہی ہے ھدايتوں کے شہر ميں
- عمر خضر بھی لے کر‘ نہ مل سکی کہيں پر
- قحط وفا تھی اور وہ بھی محبتوں کے شہر ميں
- عشق دربدر تھا صحرائے فراق ميں کہيں
- نيلام حسن جاری تھا‘ نفرتوں کے شہر ميں
- سر منبر جو دے رہا تھا‘ درس امن سب کو
- وہی شخص مر گيا ‘ حفاظتوں کے شہر ميں
- مثل آفتاب چمک رہا تھا ‘ سر آسمان جو کل
- بے نام مر گيا ‘ آج شہرتوں کے شہر ميں
- اپنی ذات کے کربلا ميں مثل حسينﷻ تھا فرزان
- تشنہ لب تھا ميں ‘ اور بارشوں کے شہر ميں
- شاعر : فرزان فرزان گلِ
- 5
- سنہری دھوپ سے ‘بارش سے واسطہ رکھنا
- ہمارا شيوہ ہے ہر رت سے رابطہ رکھنا
- ميں جانتا ہوں غم ہجر لا دوا ہے ‘مگر
- جو ہو سکے تو ‘ميری جان !حوصلہ رکھنا
- رفاقتوں کا یہ موسم گزر نہ جاے کہيں
- کبھی کبھی کوئی ملنے کا سلسلہ رکھنا
- بہت سے لوگ تمہارے قريب ہيں ‘ليکن
- ہماری ذات کو اوروں سے تم جدا رکھنا
- کہيں ميں بھول نہ جاوٗں تمہارے گھر کا پتہ
- ديا منڈير پہ اپنی تم ايک جلا رکھنا
- ہمارا عشق بھی فرزان ہے پاگلوں جيسا
- کہ خود کو بھول کے دنيا کو آشنا رکھنا
- 6
- غزل
- : فرزان فرزان گلِ
- اتنا ہمارے درمياں بس اختلاف تھا
- وہ مصلحت کا قائل اور ميں خلاف تھا
- جو لب پہ بات تھی وہ کوئی اور بات تھی
- آنکھوں ميں اس کی جھانکتا اک إنحراف تھا
- مضمون اس کی نيچی نظروں نے کہہ ديا
- دل کا معاملہ تھا اور بہت صاف صاف تھا
- دشمن کے سب بياں حمايت ميں تھے مری
- ہاں شہر دوستاں مگر ميرے خلاف تھا
- کيوں مجھ کو ملے غم‘ہجر‘آہ‘جدائی‘آنسو
- راہِ عشق ميں تو سب کو جنوں معاف تھا
- 7
- شاعر : فرزان فرزان گلِ
- پر وانے کی سر ِ محفل جب بھی نمائش ہو گی
- شمع کو عشق سے تمنائے ستائش ہو گی
- موقوف نہيں بس دنيا ميں تيری چاہت
- مر کے بھی اس دل کو تری ہی خواہش ہو گی
- اِغيار پہ اب الزام ميں رکھ نہيں سکتا
- پسِ پشت سے تو اپنوں ہی کی سازش ہو گی
- کب یہ سوچا تھا کہ تم سے بچھڑ جائيں گے
- کب یہ سوچا تھا کہ تم سے بھی رنجش ہو گی
- اسُ وقت سے ڈرتا ہوں عشق ميں جاناں
- جب لب پہ ترے بچھڑنے کی گذارش ہو گی
- جسے دنيا ميری موت سے منسوب کرے گی
- وہ تجھے بھولنے کی ناکام سی کوشش ہو گی
- 8
- شاعر : فرزان فرزان گلِ
- برسوں جو منتظر رہا اک ساعتِ سعيد کا
- جانبر نہ ہو سکا وہ وصالِ نويد کا
- نہ گلُ و نغمہ ‘نہ رنگِ محفل نہ جشنِ خوشبو
- کوئی بہانہ ہی نہيں اب کے تيری ديد کا
- تيرے بن تو ہر خوشی خواب لگتی ہے
- تيرے بن تو زہر لگتا ہے چاند عيد کا
- لب نہ کھلے وقتِ رخصت فرزان
- دامن ميں گر گيا ايک آنسو تاکيد کا
- وہ اک نگاہ ميں دِل کی بات کر گيا
- ميں سوچتا رہا برسوں حرف تمہيد کا
- ميں سر ہتھيلی پہ رکھ کےنہ لاتا تو کرتا
- وہ يقين کر رہا تھا گفتگوئے شنيد کا
- کيسے بھلاؤں ا ُس کو ميں دِل سے اپنے
- وہ چراغ جلا گيا ہے دِل ميں اُميد کا
- ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔