تبادلۂ خیال صارف:Farzzan
نیا موضوع3 جيسے منصف مجرم کی تعزير بدل ديتا ہے خدا يوں ميرے ہاتھ کی لکير بدل ديتا ہے گاہے گاہے وہ ظالم اسير بدل ديتا ہے عادتاً بھی وہ غم کی تفسير بدل دیتا ہے عجب ہرجائی ہے وہ کہ ميرے جاتے ہی دل کی ديوار سے تصوير بدل ديتا ہے وہ معمار ہےميرے دل کے تاج محل کا جب بھی دل کرتا ہے‘ تعمير بدل ديتا ہے بڑے اہتمام سے لکھتا ہے اظہار محبت پھر بڑے شوق سے تحرير بدل ديتا ہے شاعر : فرزان فرزان گلِ شاعر : فرزان فرزان گلِ 4 غزل کتنا غريب ھو گيا ھوں دوستوں کے شہر ميں ايک دوست مانگتا ھوں دشمنوں کے شہر ميں فرصت نہيں کسی کو‘ سلام بھی کر سکيں يہاں اتنے مصروف ہيں لوگ فرصتوں کے شہر ميں یہ الميہ بھی اب عام ھوا جا رہا ہے آج کل ھدايت بھٹک رہی ہے ھدايتوں کے شہر ميں عمر خضر بھی لے کر‘ نہ مل سکی کہيں پر قحط وفا تھی اور وہ بھی محبتوں کے شہر ميں عشق دربدر تھا صحرائے فراق ميں کہيں نيلام حسن جاری تھا‘ نفرتوں کے شہر ميں سر منبر جو دے رہا تھا‘ درس امن سب کو وہی شخص مر گيا ‘ حفاظتوں کے شہر ميں مثل آفتاب چمک رہا تھا ‘ سر آسمان جو کل بے نام مر گيا ‘ آج شہرتوں کے شہر ميں اپنی ذات کے کربلا ميں مثل حسينﷻ تھا فرزان تشنہ لب تھا ميں ‘ اور بارشوں کے شہر ميں شاعر : فرزان فرزان گلِ 5 سنہری دھوپ سے ‘بارش سے واسطہ رکھنا ہمارا شيوہ ہے ہر رت سے رابطہ رکھنا ميں جانتا ہوں غم ہجر لا دوا ہے ‘مگر جو ہو سکے تو ‘ميری جان !حوصلہ رکھنا رفاقتوں کا یہ موسم گزر نہ جاے کہيں کبھی کبھی کوئی ملنے کا سلسلہ رکھنا بہت سے لوگ تمہارے قريب ہيں ‘ليکن ہماری ذات کو اوروں سے تم جدا رکھنا کہيں ميں بھول نہ جاوٗں تمہارے گھر کا پتہ ديا منڈير پہ اپنی تم ايک جلا رکھنا ہمارا عشق بھی فرزان ہے پاگلوں جيسا کہ خود کو بھول کے دنيا کو آشنا رکھنا 6 غزل : فرزان فرزان گلِ اتنا ہمارے درمياں بس اختلاف تھا وہ مصلحت کا قائل اور ميں خلاف تھا جو لب پہ بات تھی وہ کوئی اور بات تھی آنکھوں ميں اس کی جھانکتا اک إنحراف تھا مضمون اس کی نيچی نظروں نے کہہ ديا دل کا معاملہ تھا اور بہت صاف صاف تھا دشمن کے سب بياں حمايت ميں تھے مری ہاں شہر دوستاں مگر ميرے خلاف تھا کيوں مجھ کو ملے غم‘ہجر‘آہ‘جدائی‘آنسو راہِ عشق ميں تو سب کو جنوں معاف تھا 7 شاعر : فرزان فرزان گلِ پر وانے کی سر ِ محفل جب بھی نمائش ہو گی شمع کو عشق سے تمنائے ستائش ہو گی موقوف نہيں بس دنيا ميں تيری چاہت مر کے بھی اس دل کو تری ہی خواہش ہو گی اِغيار پہ اب الزام ميں رکھ نہيں سکتا پسِ پشت سے تو اپنوں ہی کی سازش ہو گی کب یہ سوچا تھا کہ تم سے بچھڑ جائيں گے کب یہ سوچا تھا کہ تم سے بھی رنجش ہو گی اسُ وقت سے ڈرتا ہوں عشق ميں جاناں جب لب پہ ترے بچھڑنے کی گذارش ہو گی جسے دنيا ميری موت سے منسوب کرے گی وہ تجھے بھولنے کی ناکام سی کوشش ہو گی 8 شاعر : فرزان فرزان گلِ برسوں جو منتظر رہا اک ساعتِ سعيد کا جانبر نہ ہو سکا وہ وصالِ نويد کا نہ گلُ و نغمہ ‘نہ رنگِ محفل نہ جشنِ خوشبو کوئی بہانہ ہی نہيں اب کے تيری ديد کا تيرے بن تو ہر خوشی خواب لگتی ہے تيرے بن تو زہر لگتا ہے چاند عيد کا لب نہ کھلے وقتِ رخصت فرزان دامن ميں گر گيا ايک آنسو تاکيد کا وہ اک نگاہ ميں دِل کی بات کر گيا ميں سوچتا رہا برسوں حرف تمہيد کا ميں سر ہتھيلی پہ رکھ کےنہ لاتا تو کرتا وہ يقين کر رہا تھا گفتگوئے شنيد کا کيسے بھلاؤں ا ُس کو ميں دِل سے اپنے وہ چراغ جلا گيا ہے دِل ميں اُميد کا
Farzzan کے ساتھ گفتگو کا آغاز کیجیے
تبادلۂ خیال کے صفحات وہ مراکز ہوتے ہیں جہاں صارفین ویکی کتب پر مواد کو بہتر بنانے کے لیے بات چیت کرتے ہیں۔ نئی گفتگو کا آغاز کریں تاکہ Farzzan کے ساتھ رابطہ قائم کرنے اور مل کر مضمون کی بہتری کے لیے گفتگو کا آغاز کیجیے۔ آپ کی یہاں کی گئی گفتگو سب کے لیے قابلِ مشاہدہ ہوگی۔