دیوان ناصر کاظمی

وکی کتب سے

:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
Nuvola apps important.svg امیدوار براۓ حذف شدگی
تجویز کنندہ کے نزدیک یہ مضمون حذف کر دیا جانا چاہیے کیونکہ چونکہ یہ ناصر کاظمی کی شاعری ہے، اس کی موزوں جگہ وکی ماخذ (wikisource) ہے۔ مگر چونکہ اس کے جملہ حقوق محفوظ ہیں، اس لیے وہاں بھی منتقل نہیں کی جا سکتی۔
اگر آپ کے خیال میں اسے حذف نہیں ہونا چاہیے تو دیوان ناصر کاظمی کے صفحہ تبادلۂ خیال پر رائے دیجیۓ۔
مضمون کی بقا کیلیے کوئی ٹھوس وجہ نہ دیے جانے کی صورت میں یہ مضمون مجوزہ تاریخ یعنی
{{{دن}}} {{{ماہ}}} {{{سال}}}ء کو حذف کردیا جاۓ گا۔

نوشتۂ حذف شدگی





=====فہرست=====

آرائشِ خیال بھی ہو دل کشا بھی ہو

نیتِ شوق بھر نہ جائے کہیں

ممکن نہیں متاعِ سخن مجھ سے چھین لے

پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئے

مسلسل بے کلی دل کو رہی ہے

ناصر کیا کہتا پھرتا ہے کچھ نہ سنو تو بہتر ہے

سناتا ہے کوئی بھولی کہانی

رہ نوردِ بیابانِ غم صبر کر صبر کر

دکھ کی لہر نے چھیڑا ہوگا

گل نہیں مے نہیں پیالہ نہیں

اس سہمے ہوئے شہروں کی فضا کچھ کہتی ہے

اپنی دھن میں رہتا ہوں

گلی گلی مری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چل

شہر سنسان ہے کدھر جائیں

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی

اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی

پھول خوشبو سے جدا ہے اب کے

دفعتاً دل میں کسی یاد نے لی انگڑائ

سرِ مقتل بھی صدا دی ہم نے

دھوپ نکلی دن سہانےہو گئے

تو اسیر بزم ہے ہم سخن تجھے ذوقِ نالۂ نےَ نہیں

جب تک لہو دیدۂ انجم میں ٹپک لے

پھر نئی فصل کے عنواں چمکے

زندگی بھر وفا ہمیں سے ہوئی

بدلی نہ اس کی روح کسی انقلاب میں

موسمِ گلزارِ ہستی ان دنوں کیا ہے نہ پوچھ

تم آگئے ہو تو کیوں انتظارِ شام کریں

اس دنیا میں اپنا کیا ہے

تو ہے یا تیرا سایا ہے

دل کے لیے درد بھی روز نیا چاہیئے

شعلہ سا پیچ وتاب میں دیکھا

جو گفتنی نہیں وہ بات بھی سنادوں گا

درد کانٹا ہے اس کی چبھن پھول ہے

تجھے کہنا ہے کچھ مگر خاموش

چھپ جاتی ہیں آئینہ دکھا کر تری یادیں

میں ہوں رات کا ایک بجا ہے

گا رہا تھا کوئی درختوں میں

کہیں اجڑی اجڑی سی منزلیں کہیں ٹوٹے پھوٹے سے بام و در

رات ڈھل رہی ہے

کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے

دل میں اور تو کیا رکھا ہے

چہرہ افروز ہوئی پہلی جھڑی ہم نفسو شکر کرو

حسن کہتا ہے اک نظر دیکھو

ہنستے گاتے روتے پھول

درد کم ہونے لگا آؤ کہ کچھ رات کٹے

ایسا بھی کوئی سپنا جاگے

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے

جرمِ انکار کی سزا ہی دے

قصے ہیں خموشی میں نہاں اور طرح کے

صبح کا تارا ابھر کر رہ گیا

اب اُن سے اور تقاضائے بادہ کیا کرتا

دیارِ دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا

کب تک بیٹھے ہاتھ ملیں

ایک نگر میں ایسا دیکھا دن بھی جہاں اندھیر

کل جنہیں زندگی تھی راس بہت

یہ خوابِ سبز ہے یا رت وہی پلٹ آئی

دل میں آؤ عجیب گھر ہے یہ

یہ رنگِ خوں ہے گلوں پر نکھار اگر ہے بھی

پھر لہو بول رہا ہے دل میں

جبیں پہ دھوپ سی آنکھوں میں کچھ حیا سی ہے

سو گئی شہر کی ہر ایک گلی

شعاعِ حسن ترے حسن کو چھپاتی تھی

برف گرتی رہے آگ جلتی رہے

کُنج کُنج نغمہ زن بسنت آگئی

کہاں گئے وہ سخنور جو میرِ محفل تھے

کیا لگے آنکھ پھر دل میں سمایا کوئی

چند گھرانوں نے مل جل کر

بنے بنائے ہوئے راستوں پہ جانکلے

جنت ماہی گیروں کی

D کوئی اور ہے نہیں تو نہیں مرے روبرو کوئی اور ہے

غم ہے یا خوشی ہے تو

دیس سبز جھلیوں کا

دھواں سا ہے جو یہ آکاش کے کنارے پر

کچھ یادگارِ شہر ستمگر ہی لے چلیں

رقم کریں گے ترا نام انتسابوں میں

گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ

زباں سخن کو سخن بانکپن کو ترسے گا

وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے

متفرق اشعار